Skip to content

سبق ۲۱ — نماز پڑھنے کا مسنون طریقہ

نماز پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: وضو کرکے پاک صاف کپڑے پہن کر پاک جگہ قبلہ کی طرف منہ کرکے دونوں پائوں کے پنجوں میں چار انگل کا فاصلہ کرکے کھڑے ہو جائو اور نماز کی نیت کرکے دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھائو ، انگلیاں اپنی حالت پررکھو اور ہتھیلیاں قبلہ رخ کر لو، اب اللہ اکبر کہتے ہوئے باتھ نیچے لائو اور ناف کے نیچے دونوں ہاتھ اس طرح باندھو کہ داہنی ہتھیلی کی گدی بائیں کلائی کے سرے پر ہو اور بیچ کی تین انگلیاں بائیں کلائی کی پشت (پیٹھ) پر اور انگوٹھا اور چھنگلی کلائی کے اغل بغل (دائرہ کی صورت) اور ثناء پڑھو پھر تعوذ پھر تسمیہ کہو پھر الحمد شریف پڑھو اور ختم پر آمین آہستہ کہو۔ اس کے بعد کوئی سورت یا تین آیتیں پڑھو یا ایک آیت جو کہ تین کے برابر ہو۔ اب اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جائو اور گھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑو ، اس طرح کہ ہتھیلیاں گھٹنے پر ہوں اور انگلیاں خوب پھیلی ہوئی ہوں، نہ یوں کہ سب انگلیاں ایک طرف ہوں اور نہ یوں کہ چار انگلیاں ایک طرف اور ایک طرف فقط انگوٹھا ہو اور پیٹھ بچھی ہوا ور سر پیٹھ کے برابر اونچا نیچا نہ ہو اور کم سے کم تین بار سبحان ربی العظیم کہو پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو جائو اور منفرد ہو تو اس کے بعد اللھم ربنا ولک الحمد کہو پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدہ میں جائو، یوں کہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھو پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں سر رکھو نہ یوں کہ صرف پیشانی چھو جائے اور ناک کی نوک لگ جائے بلکہ پیشانی اور ناک کی ہڈی جمائے اور بازوئوں کو کروٹوں اور پیٹ کو رانوں اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھو اور دونوں پائوں کی سب انگلیوں کے پیٹ قبلہ رو جمے ہوں اور ہتھیلیاں بچھی ہوں اور انگلیاں قبلہ کو ہوں اور کم سے کم تین بار سبحٰن ربی الاعلٰی کہو ، پھر سر اٹھائے پھر ہاتھ، اور داہنا قدم کھڑے کرکے اس کی انگلیاں قبلہ رخ کرو اور بایاں قدم بچھا کر اس پر خوب سیدھا بیٹھ جائو اور ہتھیلیاں بچھا کر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھو کہ دونوں ہاتھ کی انگلیاں قبلہ کو ہوں۔ پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ اسی طرح کرو پھر سر اٹھائے پھر ہاتھ کو گھٹنوں پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑے ہو جائو۔

دوسری رکعت کیسے پڑھیں؟

جواب: اب دوسری رکعت میں صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر قرات شروع کرو پھر اسی طرح رکوع اور سجدہ کرو۔

تین یا چار رکعت پڑھنا ہوں تو کیسے پڑھیں؟

جواب: اگر دو سے زیادہ رکعتیں پڑھنی ہوں تو دوسری رکعت کے آخر میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑے ہو جائو اور جتنی رکعت پڑھنا چاہو پڑھو، مگر فرضوں کی ان رکعتوں میں الحمد شریف کے ساتھ سورت ملانا ضروری نہیں ہاں نماز سنت یا نفل یا واجب ہے تو یہ دو رکعتیں بھی پہلی دو رکعتوں کی طرح پڑھو یعنی الحمد کے بعد سورت ملائو۔

پچھلی رکعت میں کیا کیا پڑھیں؟

جواب: اب پچھلا قعدہ جس کے بعد نماز ختم کرے گا اس میں التحیات کے بعد درود شریف پڑھے پھر کوئی دعا ئے ماثورہ پڑھے مثلاً:

اللھم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا و انہٗ لا یغفر الذنوب الا انت فاغفرلی مغفرۃ من عندک ورحمنی انک انت الغفور الرحیم

یہ دعا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کو تعلیم فرمائی تھی یا یہ دعا پڑھے:

اللھم ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاٰ خرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار

اور اس کو بغیر اللھم کے نہ پڑھے پھر داہنے شانے کی طرف منہ کرکے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے پھر بائیں طرف۔

امام اور مقتدی کی نمازمیں کیا فرق ہے؟

جواب: یہ طریقہ جو مذکورہ ہوا، امام یا تنہا مرد کے پڑھنے کا ہے۔ مقتدی کے لیے اس کی بعض باتیں جائز نہیں مثلاً امام کے پیچھے فاتحہ یا کوئی اور سورت پڑھنا اور سلام کے بعد سنت یہ ہے کہ امام دائیں یا بائیں طرف مڑ جائے اور داہنی طرف افضل ہے اور مقتدیوں کی طرف منہ کرکے بھی بیٹھ سکتا ہے جب کہ کوئی مقتدی اس کے سامنے نماز میں نہ ہو اور منفرد اگر وہ ہیں دعا مانگے تو جائز ہے اور ظہر، مغرب و عشاء کے بعد مختصر دعائوں پر اکتفا کرکے سنت پڑھے۔ زیادہ طویل دعائوں میں مشغول نہ ہو کہ سنتوں میں تاخیر مکروہ ہے اور سنتیں وہیں نہ پڑھے بلکہ دائیں بائیں آگے پیچھے ہٹ کر پڑھے اور فجر و عصر کے بعد اختیار ہے جس قدر پڑھنا چاہیے مگر امام کو مقتدیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔