Skip to content

حیات جاودانی

ردِّ بدمذہبعقائدِاہلسنت

بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہٗ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ اجمعین

موت کے بعد زندگی

ارشاد ربانی ہے:

کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ( سورۃ اٰل عمران: آیت۱۸۵)

یہ قطعی اور یقینی حقیقت ہے اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ موت کے بعد انسان میں ثواب کی لذت اور عذاب کی تلخی کے ادراک کی صلاحیت ہوتی ہے یا نہیں، بعض معتزلہ اور روافض کہتے ہیں کہ انسانی جسم ادراک سے محروم اور بے جان لاشہ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔

علّامہ تفتازانی کہتے ہیں:

’’بعض معتزلہ اور روافض نے عذابِ قبر کا انکار کیا ہے کیونکہ میت محض بے جان جسم اور زندگی اور ادراک سے عاری ہے، لہذا اسے عذاب دینا محال ہے‘‘۔

(علامہ مسعود بن عمر تفتازانی: شرح العقائد: مطبع شرکۃ الاسلام، لکھنؤ: ص۷۷)

اہل سنت کے نزدیک اسے ایک قسم کی زندگی دی جاتی ہے جس کے ذریعے وہ ثواب وعقاب کا ادراک کرتاہے۔

علامہ ابن قیم کہتے ہیں:

’’شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ احادیث صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے کہ سوال کے وقت رُوح بدن کی طرف لوٹتی ہے، ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ بے روح جسم سے سوال کیا جاتا ہے لیکن جمہور نے اس کا انکار کیا ہے‘‘۔

( محمد بن القیم الجوزیہ : کتاب الروح(عربی): مطبوعہ حیدر آباد دکن: ص۸۴)

علامہ ابن تیمیہ کہتے ہیں:

’’میّت کا قرأت وغیرہ آوازوں کو سننا حق ہے، امام احمد بن حنبل کے اصحاب اور دیگر علماء نے کہا کہ میّت کے پاس جو گناہ کئے جاتے ہیں اُن سے اِسے اذیّت ہوتی ہے، یہی قول انہوں نے امام احمد سے نقل کیا اور اس بارے میں متعدد آثار روایت کئے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میّت کو تلاوت قرآن اور اﷲ تعالیٰ کا ذکر سننے سے راحت حاصل ہوتی ہے‘‘۔

(علامہ ابن تیمیہ حرانی :اقتضاء الصراط المستقیم : مطبوعہ مکتبہ سلفیہ، لاہور، ص۳۷۹)

قاضی شوکانی کہتے ہیں:

’’مطلق ادراک، علم اور سننا تمام مُردوں کے لئے ثابت ہے‘‘۔

(قاضی محمد بن علی شوکانی : نیل الاوطار: مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر:ج۳: ص۲۸۲)

انہوں نے ہر میت کے لئے علم اور سننے کے ثبوت کو تسلیم کیا ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر، علامہ ابن قیم، سماع موتی پر احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں :

’’نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے کہ جب لوگ دفن کرکے واپس جاتے ہیں تو میت ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، نبی اکرم ﷺ نے اپنی اُمت کو تعلیم دی ہے کہ جب وہ اہل قبور کو سلام دیں تو خطاب کرتے ہوئے سلام دیں اور کہیں السلام علیکم دار قوم مؤمنین تم پر سلام ہو اے مومن قوم کے گھر والو ! اور یہ اس شخص سے خطاب ہے جو سنتا اور جانتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ ایسے ہی ہوگا جیسے کسی پتھر کو خطاب کیا جائے یا ایسے شخص کو خطاب کیا جائے جو موجود ہی نہ ہو‘‘۔

(محمد بن القیم الجوزیہ : کتاب الروح(حیدر آباد، دکن) : ص۴)

ان عبارات سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جاننا اور سننا تمام اموات کے لئے ثابت ہے اور یہ کہ صاحبِ قبر، تلاوت اور سلام کہنے والے کی آواز سنتا ہے، ہمارا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ہر میت کی زندگی دنیا جیسی ہے حتیٰ کہ اسے کھانے پینے کی ضرورت ہو، کیوں کہ جسم کے ساتھ رُوح کے تعلقات کئی قسم کے ہیں۔

علامہ ابن قیم کہتے ہیں:

’’ روح کے جسم کے ساتھ پانچ قسم کے تعلقات ہیںاور ان کے احکام الگ الگ ہیں(تین تعلقات بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں) جسم کے ساتھ روح کا چوتھا تعلق برزخ میں ہے، کیونکہ روح اگرچہ جسم سے الگ ہوچکی ہے لیکن وہ بالکل ہی جدا نہیں ہوگئی،یہاں تک کہ اس کی توجہ بھی جسم کی طرف نہ رہے، ہم نے جواب کی ابتداء میں وہ احادیث اور آثار ذکر کئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جب سلام کہنے والا سلام کہتا ہے تو روح جسم کی طرف لوٹائی جاتی ہے، یہ خاص قسم کا لوٹانا ہے، جس سے یہ لازم نہیں آتاکہ جسم قیامت سے پہلے(مکمل طور پر) زندہ ہوجائے گا‘‘۔

(محمد بن قیم جوزیہ : کتاب الروح : ص۷۱۔۷۲)

ابن قیم’’کتاب الروح‘‘ کی ابتدا میں کہتے ہیں:

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ کیا اصحاب قبور، زندوں کی زیارت اور اُن کے سلام کو جانتے ہیں یا نہیں؟

پھر جواب میں متعدد ایسی حدیثیں لائے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب قبور زیارت کرنے والوں کو پہچانتے ہیں اور ان کے سلام کا جواب بھی دیتے ہیں، اُنہوں نے یہاں تک تصریح کی ہے۔

’’سلف صالحین کا اس پر اجماع ہے اور ان سے تواتر کے ساتھ ایسے اقوال مروی ہیں کہ میت کو زیارت کرنے والے کا علم بھی ہوتا ہے اور وہ اس سے خوش بھی ہوتا ہے‘‘۔ (محمد قیم جوزیہ : کتاب الروح : ص۴)

اولیاء کاملین کے د یکھنے اور سننے کی قوّت

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:

’’ جس نے میرے ولی سے دشمنی رکھی میری طرف سے اس کے لئے اعلان جنگ ہے، میرے بندے نے فرائض سے زیادہ محبوب کسی بھی چیز کے ساتھ میرا قرب حاصل نہیں کیا اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتاہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں، تو میں اس کا کان ہوتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہوتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ ہوتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پائوں ہوتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور اسے دوں گا اور اگر مجھ سے پناہ مانگے تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا‘‘۔

(امام محمد بن اسمٰعیل بخاری : صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضح: ج۲: ص۹۶۳)

امام رازی آیۂ کریمہ

أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْکَہْفِ وَالرَّقِیْمِ (الآیۃ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’اسی طرح انسان جب نیکیوں کا پابند ہوجاتا ہے تو اس مقام کو پہنچ جاتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کے کان اور اس کی آنکھیں ہوتا ہوں، پس جب اﷲ تعالیٰ کے جلال کا نور اس کے کان ہوتا ہے تو وہ دُور اور نزدیک سے سنتا ہے اور جب وہ نور اس کی آنکھ ہوتا ہے تو وہ مشکل اور آسان، قریب اور بعید میں تصرف پر قادر ہوتا ہے‘‘۔

(امام فخر الدین رازی : تفسیر کبیر، مطبوعہ مصر، ج۲۱، ص۸۹۱)

فاضل محقق ملا علی قاری،حدیث شریف ان اﷲ حرم علی الارض اَن تاکل اجساد الانبیاء کی شرح میں فرماتے ہیں :

’’ اسی لئے کہا گیا ہے کہ اولیاء اﷲ مرتے نہیں ہیں بلکہ ایک دار سے دوسرے دار(دنیا سے برزخ) کی طرف انتقال کرتے ہیں‘‘۔ (علامہ علی بن سلطان القاری : مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، طبع ملتان، ج۳، ص۲۴۱)

نیز حدیث شریف وَ صَلُّوْا فَاِنَّ صَلٰوتَکُمْ تَبْلُغْنِیْ کی شرح میں فرماتے ہیں:

’’ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ یہ اس لئے کہ جب پاکیزہ اور مقدس نفوس جسمانی تعلقات سے جُدا ہوتے ہیں تو انہیں عُروج حاصل ہوتا ہے اور وہ عالم بالا سے جا ملتے ہیں اور اُن کے لئے کوئی پردہ باقی نہیں رہتا تو وہ سب کو دیکھتے ہیں جیسے وہ سب چیزیں ان کے سامنے ہوں یا فرشتے انہیں خبر دیتے ہیں اور اس میں ایک راز ہے کہ جسے حاصل ہوتا ہے وہی اسے جانتا ہے‘‘۔ (علامہ علی بن سلطان القاری : مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، طبع ملتان، ج۲، ص۳۴۲)

ایسی ہی تصریح مُحدّث جلیل شاہ ولی اﷲمحدّث دہلوی نے ’’تفہیمات آلہیہ‘‘ کی دوسری جلد میں کی ہے، فرماتے ہیں:

’’شیخ عبدالقادر جیلانی کو تمام جہان میں سرایت کرنے کا شعبہ حاصل ہے اور یہ اس لئے کہ جب اُن کا وصال ہوگیا تو ملآ اعلیٰ کی صفت کے ساتھ موصوف ہوگئے اور تمام جہان میں سرایت کرنے والا وجود ان میں منتقش ہوگیا، اس بنا پر ان کے طریقے میں روح پیدا ہوگئی‘‘۔

(محمد نور الحق علوی : حاشیہ ہمعات: مطبوعہ حیدر آباد، سندھ: ص۶۲)

اہل حدیث کے پیشوا نواب صدیق حسن بھوپالی کہتے ہیں:

’’ اولیاء کو دُنیا میں معزول کئے جانے اور خاتمے کا خوف دامن گیر رہتا ہے لیکن جب وہ ایمان کے ساتھ دُنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں تو صاحبِ ایمان بھی ہوتے ہیں اور صاحبِ ولایت بھی‘‘۔ (صدیق حسن خاں بھوپالی : بغیۃ الرائد فی شرح العقائد : مطبوعہ گوجرانوالہ : ص۸۷، ۸۸)

اِن علماء کے اقوال سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ نے اولیاء کرام کو جو قوتیں عطا فرمائیں تھیں وہ دنیا کی زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتیں بلکہ وصال کے بعد حاصل رہتی ہیں کیونکہ جب اُن کی ولایت باقی ہے تو اس کے آثار بھی باقی ہوں گے۔

حیاتِ شہداء

حیاتِ شہداء قرآن پاک کی نص سے ثابت ہے، ارشاد ربانی ہے:

وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذ ِیْنَ قُتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَاء عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُون ( سورۃ اٰل عمران : آیت ۱۶۹)

وہ لوگ جو اﷲ کی راہ میں قتل کئے گئے انہیں ہرگز مُردہ گمان نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں رزق دئیے جاتے ہیں۔

قاضی شوکانی اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں:

’’ جمہورکے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ شہداء حقیقی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں، پھر ان میں اختلاف ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ قبروں میں اُن کی رُوحیں اُن کی طرف لوٹا دی جاتی ہیں تو وہ نعمتوں سے لطف انوز ہوتے ہیں ، حضرت مجاہد فرماتے ہیں انہیں جنت کے پھل دئیے جاتے ہیں یعنی انہیں اُن کی خوشبو محسوس ہوتی ہے حالانکہ وہ جنت میں نہیں ہوتے، جمہور کے علاوہ بعض علماء نے کہا کہ یہ زندگی مجازی ہے ، مطلب یہ ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے حکم میں جنت کی نعمتوں سے متمتع ہونے کے مستحق ہیں، پہلا قول صحیح ہے اور مجاز کی طرف رُجوع کا کوئی باعث نہیں ہے‘‘۔

(قاضی محمد بن علی شوکانی : تفسیر فتح القدیر، دارالمعرفۃ، بیروت، ج۱، ص۳۹۹)

اﷲ تعالیٰ کے فرمان عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُون کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’ اس جگہ رزق سے مُراد وہی رزق ہے جو عادتاً معروف ہے، یہی جمہور کا مذہب ہے جیسے اس سے پہلے بیان ہوا، جمہور کے علاوہ بعض علماء کہتے ہیں اس سے مُراد اچھی تعریف ہے، حالانکہ کتاب اﷲ میں واقع عربی کلمات میں تحریف، اور بغیر کسی سبب مقتضی کے بعید مجازات پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے‘‘۔

(قاضی محمد بن علی شوکانی : تفسیر فتح القدیر، دارالمعرفۃ، بیروت، ج۱، ص۳۹۹)

حیات انبیاء علیہم السلام

اس سے پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ شہداء کرام حقیقۃً زندہ ہیں اور انہیں معروف رزق دیا جاتا ہے، ماننا پڑے گا کہ انبیاء کرام بھی حقیقۃً زندہ ہیں اور انہیں معروف رزق دیا جاتا ہے کیوں کہ شہید اس بلند مقام اور دائمی زندگی تک اُن کی پیروی کے سبب ہی پہنچا ہے لہذا انبیاء کرام اس زندگی کے زیادہ حق دار ہیں بلکہ ان کی زندگی تو شہداء سے بھی ارفع واعلیٰ ہے۔

قاضی ثناء اﷲ پانی پتی کہتے ہیں:

’’علماء کی ایک جماعت قائل ہے کہ یہ زندگی شہداء کے ساتھ خاص ہے، میرے نزدیک حق یہ ہے کہ یہ زندگی ان کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ انبیاء کرام کی زندگی ان سے زیادہ قوی ہے اور خارج میں اس کے آثار زیادہ ظاہر ہیں یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات سے نکاح جائز نہیں، جب کہ شہید کی بیوہ سے(اس کی عدت کے بعد) نکاح کیا جاسکتا ہے، صدیقین بھی شہداء سے بلند مرتبہ رکھتے ہیںاور صالحین یعنی اولیاء کرام ان کے ساتھ ملحق ہیں جیسے کہ اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان میں موجود ترتیب دلالت کررہی ہے۔ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَ الصِّد ِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَائِ وَالصَّالِحِیْنَ اس لئے صوفیاء کرام فرماتے ہیںہماری روحیں، ہمارے جسم ہیںاور ہمارے جسم ہماری روحیں ہیں، بہت سے اولیاء کرام بتواتر منقول ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی امداد کرتے ہیں اور اپنے دشمنوں کو خائب وخاسر کرتے ہیں، اور اﷲ تعالیٰ جسے چاہے اسے ہدایت دیتے ہیں‘‘۔

(قاضی محمد ثناء اﷲ پانی پتی : تفسیر مظہری، مطبوعہ ندوۃ المصنفین، دہلی، ج۱، ص۱۵۱)

حضرت قاضی ثناء اﷲ پانی پتی نے اس عبارت میں وصال کے بعد انبیاء کرام، صدیقین اوراولیاء کی حیات بھی ثابت کی ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان حضرات کی نصرت واعانت، اﷲ تعالیٰ کے اذن سے جاری ہے۔

قاضی شوکانی کہتے ہیں:

’’شہداء کے بارے میں قرآن پاک کی نص وارد ہے کہ وہ زندہ ہیں، رزق دیئے جاتے ہیں اور ان کی زندگی جسمانی ہے، انبیاء ومرسلین کا کیا مقام ہوگا؟ حدیث میں ثابت ہے کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں، یہ حدیث امام منذری نے روایت کی اور امام بیہقی نے اسے صحیح قرار دیا‘‘۔

(قاضی محمد بن علی شوکانی : نیل الاوطار، مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر: ج۳ : ص۲۸۲)

دوسری بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو معنوی شہادت سے نوازا ہے کیونکہ آپ کا وصال اس زہر کے اثر سے ہوا جو خیبر کی یہودن نے آپ کو کھلائی تھی۔

امام بخاری اور امام بیہقی، اُم المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی ہیں کہ:

’’ نبی اکرم ﷺ مرضِ وصال میں فرمایا کرتے تھے کہ میں نے جو کھانا خیبر میں کھایا تھا اُس کی تکلیف ہمیشہ محسوس کرتا رہا ہوں اور اِس وقت اُس زہر کے اثر سے میری انتڑیاں کٹ گئیں ہیں‘‘۔

(امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی : الحاوی للفتاویٰ: مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت: ج۲: ص۱۴۹)

علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں:

’’نبی اکرم ﷺ کا قبر انور میں زندہ ہونا قرآن سے ثابت ہے یا تو لفظ کے عموم سے یا مفہوم موافقت سے‘‘۔

(امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی : الحاوی للفتاویٰ: مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت: ج۲: ص۱۴۹)

یعنی اگر شہادت معنویہ کا اعتبار کیا جائے تو آپ کی حیاتِ اقدس عموم قرآن سے ثابت ہوگی کیونکہ آپ بھی شہید ہیں اور شہید زندہ ہوتے ہیں اور اگر شہادت معنویہ کا اعتبار نہ کیا جائے تو مفہوم موافقت سے حیات ثابت ہوگی کہ جب شہید زندہ ہوتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ بطریق اولیٰ زندہ ہوں گے۔

امام علامہ عبدالباقی زرقانی، علامہ ابن عقیل حنبلی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم ﷺ قبر انور میں ازواج مطہرات کے ساتھ شب باشی فرماتے ہیں اس پر علامہ زرقانی نے فرمایا ! یہ ظاہر ہے اور اس سے کوئی مانع نہیں ہے۔

(علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی : شرح مواہب لدنیہ: طبع ۱۲۹۲ھ، ج۶، ص۱۹۶)

یاد رہے کہ ابن عقیل حنبلی ان ائمہ میں سے ہیں جن کے اقوال علامہ ابن تیمیہ بطور حوالہ نقل کرتے ہیں۔

حیرت ہے کہ بعض لوگ اس قول پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ حدیث مین ہے کہ قبر، جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا آگ کے گڑھوں میں ایک گڑھا ، اور قرآن پاک میں ہے :

وَلَہُمْ فِیْہَا أَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ (سورۃ البقرہ : آیت۲۵)

’’اور اُن کے لئے باغوں میں ستھری بیویاں ہیں‘‘ ۔

نبی اکرم ﷺ کے روضۂ مقدسہ سے بڑھ کر کس کی قبر، جنت کا باغ ہوگی؟

احادیث مبارکہ

قاضی شوکانی کہتے ہیں: حدیث صحیح میں ہے

اَلْاَنْبِیَائُ اَحْیَائٌ فِیْ قُبُوْرِھِمْ

انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔

امام بیہقی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا اور اس مسئلے پر ایک رسالہ تصنیف کیا۔

(قاضی محمد بن علی شوکانی : نیل الاوطار: ج۵: ص۱۰۸)

حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجو کہ یہ وہ دن ہے جس دن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور مجھ پر جو بھی دۃرود بھیجے گا اس کا دۃرود مجھ پر پیش کیا جائے گا یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوجائے ، فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ وصال کے بعد بھی؟ فرمایا : اﷲ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔

فَنَبِیُّ اﷲ حَیٌُّ یُّرْ زَقُ

(امام محمد بن یزید بن ماجہ: سنن ابن ماجہ،طبع نور محمد ، کراچی ، ص۱۱۸)

’’اﷲ کا نبی زندہ ہے رزق دیا جاتا ہے‘‘۔

اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے کتاب الجنائز کے آخری باب میں روایت کیا، علامہ ابن قیم، امام طبرانی کے حوالے سے حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث نقل کرنے کے بعد روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا !

لَیْسَ مِنْ عَبْدٍ یُّصَلِّیْ عَلَیَّ اِلَّا بَلَغَنِیْ صَوْتُہٗ حَیْثُ کَانَ

(محمد ابن القیم الجوزیہ : جلاء الافہام، مطبوعہ قاہرہ: ص۶۳)

’’ جو بندہ بھی مجھ پر دُرود بھیجے گا اس کی آواز مجھے پہنچے گی چاہے وہ کہیں بھی ہو‘‘۔

قاضی شوکانی کہتے ہیں :

’’احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن نبی اکرم ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنا چاہئے اور درود شریف آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ قبر میں زندہ ہیں‘‘۔

(قاضی محمد بن علی شوکانی : نیل الاوطار:ج۳: ص۲۸۲)

مزید کہتے ہیں :

’’محققین کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ وصال کے بعد زندہ ہیں اور اپنی اُمت کی نیکیوں سے مسرور ہوتے ہیں اور یہ کہ انبیاء کرام کے جسموں کو زمین نہیں کھاتی، جب کہ مطلق ادراک مثلاً اور سننا تمام مُردوں کے لئے ثابت ہے‘‘۔

(قاضی محمد بن علی شوکانی : نیل الاوطار:ج۳: ص۲۸۲)

حضرت ملا علی قاری حدیث شریف فَنَبِیُّ اﷲِ حَیٌُ یُّرْزَقُ کی شرح میں فرماتے ہیں :

’’ نبی اﷲ سے جنس انبیاء بھی مراد ہوسکتی ہے(جو تمام انبیاء کو شامل ہے) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف کامل ترین فرد(نبی اکرم ﷺ)مراد ہوں، پہلا احتمال متعین ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہوئے ملاحظہ فرمایا، اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کو، جیسے کہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں، نماز پڑھتے ہیں، امام بیہقی نے فرمایا: انبیاء کرام کا مختلف اوقات میں متعدد جگہوں میں تشریف لے جانا عقلاً جائز ہے جیسے کہ نبی صادق ْ کی حدیث وارد ہے‘‘۔

( علی بن سلطان محمد قاری : مرقاۃ المفاتیح، مطبوعہ ملتان: ج۳ : ص۲۴۱)

یہ حدیث معراج کی طرف اشارہ ہے جس میں وارد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے ہوئے ملاحظہ فرمایا پھر بیت المقدس میں اور اس کے بعد آسمانوں میں دیکھا۔

شواہد

حدیث، تفسیر اور سیرت کی کتابوں میں اس حقیقت کے بکثرت شواہد ملتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ زندہ ہیں ۔

شیخ محقق شیخ عبدالحق محدّث دہلوی فرماتے ہیں:

’’(تدفین کے وقت) نبی اکرم ﷺ کی قبر انور سے سب سے آخر میں نکلنے والے صحابی حضرت قثم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو قبر میں دیکھا کہ آپ ہونٹ ہلارہے تھے، میں نے سننے کے لئے کان قریب کیا تو آپ کہہ رہے تھے رَبِّ اُمَّتِیْ رَبِّ اُمَّتِیْ ۔(یا اﷲ میری اُمت کو بخش دے)‘‘۔

(شیخ عبدالحق محدّث دہلوی : مدراج النبوۃ (فارسی): مطبوعہ سکھر:ج ۲: ص۴۴۲)

امام ابو نُعیم اصبہانی(متوفی۴۳۰ھ) حضرت سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں :

’’واقعہ حرہ (جب یزید کی فوجوں نے مدینہ طیبہ پر چڑھائی کی) کے موقع پر مسجد نبوی میں میرے سوا کوئی نہیں تھا، جب نماز کا وقت آتا تو میں قبر انور سے اذان کی آواز سنتا تھا، پھر میںتکبیر کہہ کر نماز پڑھتا تھا، اہل شام گروہ در گروہ مسجد میں داخل ہوتے اور کہتے اس بوڑھے مجنون کو دیکھو‘‘۔ (امام ابو نعیم احمد بن عبداﷲ اصبہانی: دلائل النبوۃ: مطبوعہ عالم الکتب، بیروت: ص۲۰۶)

امام دارمی(متوفی۲۵۵ھ) حضرت سعد بن عبدالعزیز سے روایت کرتے ہیں:

’’ حرّہ کے زمانے میں تین دن تک مسجد نبوی میں اذان اور تکبیر نہیں کہی گئی، حضرت سعید بن مسیب مسجد ہی میں رہے ، انہیں نبی اکرم ﷺ کے روضۂ انور سے آواز سن کر ہی نماز کے وقت کا پتا چلتا تھا‘‘۔ (امام عبداﷲ بن عبدالرحمن دارمی: سنن الدارمی: مطبوعہ دارالمحاسن، قاہرہ:ج۱: ص۴۳)

علامہ ابن تیمیہ کہتے ہیں :

’’ایک جماعت نے نبی اکرم ﷺ یا دیگر اولیاء کی قبروں سے سلام کا جواب سنا، اور سعید بن مسیب حرہ کی راتوں میں قبر سے اذان سنا کرتے تھے، یہ اور اس قسم کے دوسرے واقعات یہ سب حق ہیں ہماری ان میں بحث نہیں ہے اور معاملہ اس سے کہیں زیادہ بڑا اور برتر ہے‘‘۔

(علامہ ابن تیمیہ الحرانی:اقتضاء الصراط المستقیم: مطبوعہ مکتبہ سلفیہ، لاہور: ص۳۷۱ )

امام علّامہ نسفی فرماتے ہیں :

’’ایک بدوی نبی اکرم ﷺ کی تدفین کے بعد حاضر ہوا اور اس نے اپنے آپ کو آپ کی قبر انور پر گرادیا اور روضہ اقدس کی خاکِ پاک اپنے سر پر ڈالی اور کہا یارسول اﷲ ! آپ نے فرمایا، اور ہم نے سنا اور آپ پر جو نازل ہوا اس میں یہ بھی تھا، وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ(الآیۃ) اور میں اﷲ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی مغفرت طلب کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، لہذا آپ اﷲ تعالیٰ سے میری مغفرت کی دُعا فرمائیں، اسے قبر انور سے ندا دی گئی کہ تمہیں بخش دیا گیا‘‘۔ (امام عبداﷲ بن احمد نسفی: تفسیر نسفی: مطبوعہ دارالکتب العربی، بیروت: ج۱:ص۲۳۴)

یہی روایت امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں معمولی اختلاف کے ساتھ بیان کی۔

(امام محمد بن احمدالقرطبی: الجامع لاحکام القرآن: دار احیاء التراث العربی، بیروت: ج۵: ص۲۶۵)

امام فخرالدین رازی فرماتے ہیں :

’’ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ایک کرامت یہ ہے کہ جب آپ کا جنازہ روضۂ نبوی کے دروازے پر لایا گیا اور عرض کیا گیا یارسول اﷲ ! آپ پر سلام ہو ! یہ ابوبکر دروازے پر حاضر ہیں، اچانک دروازہ کھل گیا اور قبر انور سے آواز آئی ۔ اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ(حبیب کو حبیب کے پاس لے آئو)‘‘۔

( ابوعبداﷲ فخرالدین محمد بن عمر رازی: التفسیر الکبیر: عبدالرحمن محمد، مصر: ج۲۱:ص۸۶)

ائمۂ اسلام کے ارشادات

نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے بارے میں ائمۂ اسلام کے ارشادات اتنے زیادہ ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا، ذیل میں چند اقوال پیش کئے جاتے ہیں:

امام علامہ ابن الحاج کہتے ہیں :

’’ ہمارے علماء رحمۃ اﷲ علیہم فرماتے ہیں کہ زیارت کرنے والا یہ خیال کرے کہ نبی اکرم ﷺ حیات ہیں اور میں آپ کے سامنے حاضر ہوں کیونکہ آپ کی حیات طیبہ اور وصال فرمانے میں فرق نہیں ہے یعنی اُمت کے مشاہدہ کرنے، ان کے احوال، نیتوں، عزائم اور خیالات کو پہچاننے میں ، یہ سب آپ کے نزدیک ظاہر ہے اس میں کوئی خفاء نہیں ہے‘‘۔

(امام ابن الحاج: المدخل: دارالکتاب العربی، بیروت:ج۱:ص۲۵۲)

علامہ قسطلانی شارح بخاری نے بھی بعینہٖ یہی تصریح فرمائی ہے۔ ( امام احمد بن محمد القسطلانی: موہب لدنیہ شرح الزرقانی: مطبوعہ مصر ۱۲۹۱ھ:ج۸:ص۳۴۸)

امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں :

’’ ان عبارات اور احادیث کے مجموع سے ثابت ہوگیا کہ نبی اکرم ﷺ جسمانی اور روحانی طور پر زندہ ہیں اور آپ تصرف فرماتے ہیں اور اطرافِ زمین اور عالم بالا میں جہاں چاہتے ہیں تشریف لے جاتے ہیں اور آپ اسی حالت میں ہیں جو آپ کے وصال سے پہلے تھی اور آپ کی کسی چیز میں تبدیلی نہیں آئی اور آپ ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں جیسے فرشتے جسمانی طور پر زندہ ہونے کے باوجود نظروں سے پوشیدہ کئے گئے ہیں، جب اﷲ تعالیٰ کسی شخص کو آپ کی زیارت سے مشرف فرمانا چاہتا ہے تو اس کے لئے پردے اُٹھا دیتا ہے تو وہ آپ کی ہو بہو اسی حالت میں زیارت کرتا ہے جو آپ کو حاصل ہے، اس سے کوئی امر مانع نہیں ہے اور یہ کہنے کا بھی کوئی سبب نہیں ہے کہ مثال کی زیارت ہوتی ہے‘‘۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر: الحاوی للفتاویٰ: بیروت:ج۲:ص۲۶۵)

حضرت علامہ ملا علی قاری ، حدیث شریف مَا مِنْ مُّسْلِمٍ یُّسَلِّمُ عَلَیََّّ کی شرح میں فرماتے ہیں :

’’ معنی یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ (اﷲ تعالیٰ کے انواروتجلیات کے مشاہدہ میں) محو ہیں، اﷲ تعالیٰ آپ کی روح شریف کو متوجہ فرماتا ہے تاکہ آپ سلام عرض کرنے والے کے دِلِ ناتواں کی پاسداری کے لئے سلام کا جواب عنایت فرمائیں، ورنہ معتمد عقیدہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی قبر اطہر میں زندہ ہیں جیسے کہ دیگر انبیاء کرام اپنی قبروں میں اپنے رب کی بارگاہ میں زندہ ہیں اور ان کی ارواح مقدسہ کا دُنیا اور عالم بالا سے تعلق ہے جیسے کہ دنیاوی زندگی میں تھا، وہ قلب کے اعتبار سے عرشی ہیں اور جسمانی طور پر زمین پر تشریف فرماہیں‘‘۔

(امام علی بن سلطان محمد القاری: شرح شفاء: دارالفکر، بیروت:ج۳:ص۴۹۹)

علامہ سیّد محمود آلوسی کہتے ہیں :

’’ مکمل حدیث امام طبرانی نے روایت کی ہے کہ جو نبی بھی رحلت فرماتے ہیں تو وہ چالیس صبح اپنی قبر میں ٹھہرت ہیں یہاں تک کہ ان کی روح ان کی طرف لوٹا دی جاتی ہیاور میں شبِ معراج موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے … اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنی قبر میں مقیم نہیں رہتے بلکہ وہاں سے چلے جاتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء دوسرے مُردوں کی طرح چالیس صبح سے زیادہ میّت نہیں رہتے بلکہ اُن کی روح ان کی طرف لوٹا دی جاتی ہے اور وہ زندہ ہوتے ہیں ، اس مطلب کا چالیس دن کے بعد قبر سے نکلنے کے دعوے کے ساتھ کیا تعلق؟ قبر میں زندہ ہونے کو باہر نکلنا لازم نہیں ہے… میں انبیاء علیہم السلام کی حیات کا قائل ہوں‘‘۔

(علامہ سید محمود آلوسی : تفسیر روح المعانی: مطبوعہ ایران: ج۲۲:ص ۳۶)

اس مدت کے سلسلے میں روایات مختلف ہیں :

علامہ سیوطی فرماتے ہیں :

’’امام الحرمین نے نہایہ میں پھر رافعی نے شرح میں فرمایا :

مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ! میں اپنے رب کی بارگاہ میں اس سے زیادہ عزت والا ہوں کہ مجھے تین دن کے بعد قبر میں چھوڑ دے… امام الحرمین نے اضافہ فرمایا … ایک روایت میں کہ دو دن سے زیادہ، ابوالحسن ابن زاغونی حنبلی نے اپنی بعض کتابوں میں بیان کیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کسی نبی کو ان کی قبر میں آدھ دن سے زیادہ نہیں چھوڑتا‘‘۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ:ج۲:ص۲۶۴)

شیخ محقق شاہ عبدالحق محدّث دہلوی فرماتے ہیں :

’’ انبیاء کرام کی زندگی پر اتفاق ہے کسی کا اس میں اختلاف نہیں ہے اور یہ جسمانی، دنیاوی اور حقیقی زندگی ہے، شہداء کی طرح معنوی اور رُوحانی نہیں ہے‘‘۔ (شیخ محقق عبدالحق محدّث دہلوی: اشعۃ اللمعات، فارسی: مطبوعہ سکھر: ج۱:ص۵۷۴)

شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی کہتے ہیں :

’’ میں نے محسوس کیا کہ آپ کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ اپنی روح کو اپنے جسم کی صورت میں قائم کرسکتے ہیں، اسی طرف نبی اکرم ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ انبیاء کو(حقیقی) موت نہیں آتی وہ اپنی قبروں میں ہوتے ہوئے نماز پرھتے ہیں، حج کرتے ہیں اور وہ زندہ ہیں وغیر ذٰلک‘‘۔

(علامہ شاہ ولی اﷲ محدّث دہلویـ: فیوض الحرمین: طبع کراچی: ص۸۴)

امام احمد رضا محدّث بریلوی فرماتے ہیں :

’’ فقیر غفرلہٗ المولی القدیر نے اس رسالہ(حیات الموات) میں یہ التزام بھی رکھا کہ جو آثار واحادیث واقوال علمائے قدیم وحدیث خاص حضور پُرنور سیّدِ عالم حی، باقی، روح مجسم ﷺ کی حیات عالی وعلم عظیم وسمع جلیل وبصر کریم میں وارد انہیں ذکر نہ کرے، تین وجہ سے

اوّلاً : مسلمانوں پر نیک گمان کہ خاص حضور ﷺ کو کوئی کلمہ گو مثلِ سائر اموات نہ جانے گا۔

ثانیاً : واﷲ ! فقیر کو حیا آئی کہ حضور ﷺ کا نام ایسی بحث لا ونعم میں بطور خود شامل کرے، ہاں دوسرے کی طرف سے ابتداہو تو اظہار حق میں مجبوری ہے۔

ثالثاً : وہاں دلائل کی وہ کثرت کہ نطاقِ نطق ، بیان سے عاجز، پھر انہیں اقوال پر قناعت بس کہ جس سرکار کے غلام ایسے، العظمۃ ﷲ ! اس کا پوچھنا ہی کیا ہے؟ آخر انہیں یہ مدارج ومعارج کس نے عطا کئے؟ اسی سرکار ابد قرار نے ﷺ‘‘۔ (امام احمد رضا بریلوی : فتاویٰ رضویہ: سنی دارالاشاعت، مبارکپور، انڈیا: ج۴: ص۳۰۵)

مکہ معظمہ سے

مکہ معظمہ کے جلیل القدر عالم، عظیم محدّث علامہ سیّد محمد علوی مالکی فرماتے ہیں :

’’ برزخی زندگی، حقیقی زندگی ہے، اس پر واضح آیات اور احادیث صحیحہ مشہورہ دلالت کرتی ہیں ۔

یہ حقیقی زندگی اس بات کے منافی نہیں ہے کہ انہیں موت کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے، جیسے کہ قرآن پاک میں ہے ۔

وَمَا جَعَلْنَاس لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ

اے حبیب ! ہم نے تم سے پہلے کسی انسان کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دی ۔

اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ

بے شک تم پر موت آنے والی ہے اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔

(منافاست اس لئے نہیں کہ ہر ذی روح پر ایک دفعہ موت آتی ہے، اس کے بعد اسے زندگی دی جاتی ہے۔ قادری) ہم نے جو کہا کہ برزخی زندگی حقیقی زندگی ہے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ زندگی خیالی یا مثالی نہیں جیسے کہ بعض ملحدین خیال کرتے ہیں جن کی عقلوں میں صرف آنکھوں دیکھی جانے والی چیزوں پر ایمان لانے کی گنجائش ہے ، انسانی تصور سے ماورا ء اُمور غیبیہ پر ایمان لانے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتے اور نہ ہی اﷲ تعالیٰ کی قدرت کی کیفیت کو ماننے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں۔

ہم جو کہتے ہیں کہ حیات برز خیہ، حقیقی زندگی ہے، اس کے مطلب میں معمولی سوجھ بوجھ والا آدمی بھی چند لمحے غور کرے تو اسے ذرہ برابر اشکال نہیں رہے گا، حقیقی زندگی کا مطلب اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ زندگی باطل اور وہمی نہیں ہے، جیسے کہ بعض اوقات عالم برزخ اور عالم آخرت اور دوسرے جہانوں کے احوال، مثلاً حشرو نشر اور حساب کتاب کے احوال کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا ذہنوں میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے … احادیث اور آثار کثیرہ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ میّت خواہ وہ مومن ہو یا کافر، سنتا ہے، محسوس کرتا ہے اور پہچانتا ہے‘‘۔

(علامہ سیّد محمد علوی مالکی: مفاہیم یجب ان تصحح: مطبوعہ دبئی: ص۱۵۹)

علامہ سیّد علوی مالکی تصریح کرتے ہیں کہ انبیاء کرام کی زندگی بلندوبالا ہے اور ہمیں اس کے ثابت کرنے کی حاجت نہیں ہے۔

’’ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ برزخی زندگی، حقیقی زندگی ہے اور نصوص ثابتہ سے معلوم ہوتا ہے کہ میّت ، مومن ہو یا کافر سنتاہے، محسوس کرتا ہے اور جانتا ہے، اور یہ کہ زندگی، رزق اور روحوں کا جنت میں داخل ہونا شہید کے ساتھ خاص نہیں ہے، یہی وہ صحیح مذہب ہے جس کے ائمہ دین اور جمہور اہل سنت قائل ہیں، اس لئے انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگی کا بیان کرنا ضروری نہیں ہے، یہ آفتاب سے زیادہ روشن حقیقت ہے اور محتاج اثبات نہیں ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ بیان کیا جائے کہ ان کی زندگی بلندوبالا اور کامل ومکمل ہے، جیسے کہ روئے زمین پر رہنے والوں لوگوں کی زندگیوں کے مراتب، مقامات اور درجات مختلف ہیں ‘‘۔

(علامہ سیّد محمد علوی مالکی: مفاہیم یجب ان تصحح: مطبوعہ دبئی: ص۱۶۵)

حیات انبیاء علیہم السلام پر دلالت کرنے والی متعدد احادیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

’’ احادیث مذکورہ اور دیگر احادیث سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کرام کی وفات کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہم پر سے غائب کردئیے گئے ہیں اور ہم ان کا ادراک نہیں کرسکتے اگرچہ وہ موجود اور زندہ ہیں ، جیسے کہ فرشتے زندہ اور موجود ہیں لیکن ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے‘‘۔

(علامہ سیّد محمد علوی مالکی: مفاہیم یجب ان تصحح: مطبوعہ دبئی: ص۱۷۱)

علماء د یو بند

المہند ایک مختصر رسالہ ہے جس پر مولوی اشرف علی تھانوی ، مولوی محمود حسن وغیرہ چوبیس اکابر علماء دیوبند کے تائیدی دستخط ہیں، اس میں مولوی خلیل احمد انبیٹھوی لکھتے ہیں :

’’ ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک رسول اﷲ ﷺ اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں اور آپ ﷺ کی زندگی دنیاوی ہے لیکن آپ مکلف نہیں ہیں اور یہ زندگی نبی اکرم ﷺ ، تمام انبیاء صلوٰت اﷲ علیہم اور شہداء کے ساتھ مختص ہے اور برزخی نہیں ہے جو کہ تمام مومنوں بلکہ تمام انسانوں کو حاصل ہے‘‘۔

(خلیل احمد انبیٹھوی : المہند: کتب خانہ رحیمیہ، دیوبند: ص۱۳)

مولوی محمد قاسم نانوتوی ، بانی دارالعلوم دیوبند ، اپنی منفرد تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ حیات نبوی بوجہ ذاتیت قابلِ زوال نہیں اور حیات مؤمنین بوجہ عرضیت قابلِ زوال ہے اس لئے وقتِ موت حیات نبوی صلعم زائل نہیں ہوگی ہاں مستور ہوجائے گی اور حیاتِ مؤمنین ساری یا آدھی تہائی زائل ہوجاوے گی سو در صورت تقابل عدم وملکہ اس استتار حیات میں رسول اﷲ صلعم کو تو مثلِ آفتاب سمجھئے کہ وقت کسوف ِ قمر بے اوٹ میں حسب مزعوم حکماء اس کا نور مستور ہوجاتاہے زائل نہیں ہوتا‘‘۔

(مولوی محمد قاسم نانوتوی: آبِ حیات، مطبع مجتبائی ، پاکستان:ص۹۔۲۰۸)

حرف آخر

بعض معاندین یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ اہل سنت وجماعت کے نزدیک انبیاء کرام علیہم السلام پر موت طاری ہی نہیں ہوتی ، یہ محض افتراء ہے، حقیقت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، غزالیٔ زماں حضرت علاّمہ سیّد احمد سعید کاظمی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

’’ جو شخص انبیاء علیہم السلام کے حق میں موت اور قبض روح کا مطلقاً انکار کرے وہ نصوص قرآنیہ اور احادیث متواترہ کا منکر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے‘‘۔

(علامہ سیّد احمد سعید کاظمی: حیات النبی، مکتبہ فریدیہ، ساھیوال: ص۷۸)

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں :

انبیاء کو بھی اجل آنی ہےلیکن ایسی کہ فقط آنی ہے
پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیاتمثل سابق وہی جسمانی ہے
رُوح تو سب کی ہے زندہ اِن کاجسم پُرنور بھی روحانی ہے
اُس کی ازواج کو جائز ہے نکاحاُس کا ترکہ بٹے جو فانی ہے
یہ ہیں حی ابدی ان کو رضاؔصدقِ وعدہ کی قضا مانی ہے

(امام احمد رضا بریلوی : حدائق بخشش، حامد اینڈ کمپنی، لاہور: ج۲: ص۵۲)