دیباچہ
اََلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اََمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ﷺ بِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّ حِیْمِِ ﷺ
۱۰ سوالات کا جواب
کچھ عرصہ ہوا ملتان کے ایک بوڑھے نجدی غیر مقلد شیخ نور محمد، محلہ وزیر آباد ، گلی نمبر۳، مکان نمبر۱۰۰۴(ملتان شہر)نے ایک ورقی اشتہار بنام''خدا کے سوا کوئی اور مشکل حل کرنے پر قادر ہے؟''شائع کیا تھا، پھر یہ اشتہار غیر مقلدین نے اپنے رسائل وغیرہ میں شائع کرنے کے علاوہ کافی تعداد میں شائع کیا، اب انٹر نیٹ کے ذریعے اس کی اشاعت کی جارہی ہے، لہذا اس کے جواب کی اشاعت ضروری ہے۔
بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو مشکل کشا نہیں کہنا چاہئے، مخلوق میں سے کسی کے لئے ایسا نام درست نہیں جو اﷲ تعالیٰ کے لئے ہو ، کیونکہ اس سے شرک کا شبہ پڑتا ہے۔
عرض ہے کہ ''مشکل کشا'' ایسا نام نہیں کہ جس کا استعمال قرآن و حدیث میں اﷲ تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص قرار دیا ہواور دوسروں کے لئے ایسا نام استعمال کرنا شرک ہو ، نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ یہ لفظ خالق ومخلوق دونوں پر بولا جاسکتا ہے ، البتہ خالق کے لئے استعمال کرنے میں اس کے جو معنی ہوتے ہیں، مخلوق کے لئے وہ معنی مراد نہیں ہوتے ، جس طرح رئوف، رحیم، کریم، سمیع، بصیر، مولیٰ وغیرہ متعدد الفاظ قرآن وحدیث میں خالق ومخلوق دونوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں مگر ہر جگہ معنی الگ الگ ہیں۔
معروف عالم دین مولاناحافظ عبدالقادر روپڑی، سابق خطیب جامع مسجد چوک دالگراں،لاہور (روپڑی کی نسبت، قصبہ روپڑ، ضلع ہوشیار پور، مشرقی پنجاب، بھارت کی وجہ سے ہے)سے کسی صاحب نے سوال کیاکہ قرآن میں لفظ ’’خلق‘‘ کی نسبت اﷲ تعالیٰ کی طرف بھی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بھی ، اس کی وضاحت فرمائیں۔
تو اس سوال کے جواب میں حافظ ثناء اﷲ صاحب مدنی نے ’’لفظ خلق کی اضافت عابدومعبود دونوں کی طرف ہے، دونوں میں کیا فرق ہے؟‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ، جس کا ایک اقتباس درج ذیل ہے :
’’صفات الہیٰہ میں سے بعض ایسی بھی ہیں جو بندوں اور خالق کے درمیان مشترک نظر آتی ہیں، مثلاً علم، سمع، بصر، رویت، یدا وغیرہ وغیرہ لیکن یہ اشتراک صرف ظاہری اور لفظی ہے ورنہ بندے کی طرف ان کی اضافت اس کے مناسب حال عجز کے اعتبار سے ہے اور خالقِ کائنات کی طرف ان کی نسبت اس کے کمال کے اعتبار سے ہے، قرآن کریم میں لیس کمثلہ شییٌ وھو السمیع البصیر، اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا سنتا ہے(اور) انسان کے بارے میں ہے جعلنہ سمیعاً بصیرا تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتابنایا‘‘۔ ( ہفت روزہ تنظیم اہل حدیث، لاہور، شمارہ ۱۵؍ جولائی ۱۹۸۸ء ، ص ۵)
قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
لقد جاء کم رسولٌ من انفسکم عزیزٌ علیہ ما عنتم حریصٌ علیکم بالمومنین رؤف رحیم
(سورۃ توبہ ، آیت ۱۲۸)
انہ لقول رسول کریم
(سورۃ الحاقۃ ، آیت ۴۰)
قرآن نے حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو عزیز، رؤف، رحیم، کریم کہا ، یہ بھی اﷲ تعالیٰ کے نام ہیں، اگر ان ناموں کے اشتراک سے شرک نہیں تو مشکل کشا کے نام سے شرک کیسے ہوگا؟
قرآن مجیدمیں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
قال ابراہیم ربی الذی یحی ویمیت قال انا اُحی و اُمیت
(سورۃ البقرہ، آیت ۲۵۸)
''جب کہ ابراہیم علیہ السلام نے نمرود سے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو نمرود بولامیں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں''۔
قرآن مجید میں دوسری جگہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اﷲ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتٰی باذن اﷲ
(سورۃ آل عمران، آیت ۴۹)
''میں تمہارے لئے بناتا ہوں مٹی سے پرندوں کی سی صورت پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اﷲ کے حکم سے پرندہ ہوجاتی ہے اور مادر زاد اندھے کوڑھی کو تندرست کردیتا ہوں اور اﷲ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں''۔
موت وحیات دینا اﷲ تعالیٰ کا کام ہے، نمرود نے موت وحیات دینے کی نسبت اپنی طرف کی تو یہ شرک ہے، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردوں کو زندہ کرنے کی نسبت عطائے الٰہی سے اپنی طرف کی جو عین ایمان ہے، اگر کوئی مومن حضور نبی کریم ﷺ کوباذن اﷲ مشکل کشامانے تو شرک کیسے ہوگا ؟
اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
ویضع عنھم اصرھم والاغلٰل التی کانت علیھم
(پ۹، سورۃ الاعراف، آیت۱۵۷)
ترجمہ ۔ اور ان کا بوجھ اُتارتے ہیں اور(دور کرتے ہیں ان سے) گلے کے طوق جو ان پر تھے۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
’’کتٰبٌ انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظلمٰت الی النور ‘‘
(پ۱۳، سورۃ ابراہیم، آیت۱)
ترجمہ۔(یہ )کتاب ہے ہم نے اسے آپ کی طرف نازل فرمایا کہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے اُجالے میں لائیں۔
ایمان سے کہیں کہ انسانوں کو ظلمت اور گمراہیوں سے نکال کر راہ ہدایت کی طرف لانا، یہ انسانوں کی مشکل کشائی نہیں تو اور کیا ہے؟ ان آیات میں انسانوں کو مشکل سے نکالنے کی نسبت حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف کی گئی ہے۔
کیا اﷲ کے سوا کوئی اور مشکل حل کرنے پر قادر ہے؟
سوال نمبر ۱
زید کو کسی مشکل کا سامنا ہے، وہ چاہتا ہے کہ میری مشکل دور ہو، وہ اﷲ کے سوا کسی دوسری ہستی کو پکارنا چاہتا ہے جو اس کی مشکل دور کردے ، اب اگر اﷲ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل حل کرسکتی ہے تو بتائیے کہ سائل اور مشکل کشا کے درمیان ہزاروں میل کی دوری پر وہ زندگی میں یا زندگی کے بعد قبر میں آواز سن سکتا ہے؟
جواب:۔ ہر مشکل میںمشکل کشا کو پکارا ہی نہیں جاتا، بلکہ قانون قدرت کا اتباع ضروری ہے، مثلاً زید کو بھوک یا پیاس یا بیماری کی مشکل کا سامنا ہے تو اﷲ تعالیٰ نے ان مشکلات کا حل روٹی ، پانی، دوائی کے سپرد فرمایاہوا ہے، زید کو چاہئے کہ بسم اﷲ شریف پڑھ کر ان چیزوں کو حسب قانون قدرت وشریعت استعمال کرے بمشیتہٖ تعالیٰ مشکل دور ہو جائے گی اور اگر بجائے استعمال کرنے کے ''یا روٹی، یا پانی، یا دوائی'' کہہ کر ان مشکل کشائوں کو پکارتا ہے تو مجنون سمجھا جائے گا، بلکہ اگر ان کی موجودگی میں انہیں استعمال نہ کرے اور صرف مشکل کشائے حقیقی جل مجدہٗ کو''یا اﷲ ، یارب'' کہہ کر پکارنا شروع کردے اور بھوکا پیاسا مرجائے تو حرام کی موت مرے گا، کیونکہ قانون قدرت سے منہ موڑنا جرم وگناہ ہے، اگرچہ'' یا اﷲ '' کہنا عبادت ہے، اور اگر دوائی استعمال کرنے کے باوجود بیمار کو آرام نہ ملے اور وہ''یا ارحم الراحمین'' کہہ کر مشکل کشائے حقیقی کو اور ''یا رسول اﷲ'' (ﷺ)کہہ کر مشکل کشائے عطائی کوپکارے تو یہ طریقۂ علاج درست ہے اور اس سے صاحب نسبت اور خوش عقیدہ تندرست ہوجاتا ہے۔
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے ’’یامحمد ‘‘ کہا تھا اور یکدم تندرست ہوگئے تھے(طبقات ابن سعد، جلد۴، ص۱۵۴۔الادب المفرد، از امام بخاری، اُردو ترجمہ، مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی۱۹۸۳ء، ص۲۸۴۔ تحفۃ الذاکرین، ازامام الوہابیہ محمد بن علی شوکانی ،عربی، مطبوعہ بیروت، ص۲۶۰)
حضور اقدس ﷺکو اﷲ تعالیٰ نے ایسی قوت سماعت مرحمت فرمائی ہوئی ہے کہ ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں میلوں کی دوری سے بھی آپ آواز سن سکتے ہیں۔
مادی ذرائع اور قوت سے تو عام انسان بھی پاکستان میں بیٹھا ہزاروں میل دور امریکہ میں بات کرنے والے کی آواز سن لیتا ہے، اور جس کواﷲ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ روحانی قوت حاصل ہو ، اُس کی قوت سماعت کا کیا اندازہ ہے،کیونکہ روحانیت کی طاقت مادیت سے زیادہ ہے، حضور نبی کریم ﷺنے جنت میں اپنے صحابی ’’نعیم نحام‘‘ (جو کہ زمین پر تھے) کے کھانسنے کی آواز سن لی تھی، اسی بنا پر انہیں’’نحام‘‘ یعنی کھانسنے والا کہا جاتا ہے۔(طبقات ابن سعد، ج۴، ص۱۳۸)
اﷲ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کو ساری مخلوق کی آواز سننے کی قوت عطا فرمارکھی ہے۔(جلاء الافہام، مطبوعہ، مصر، ص۵۲)
حضور نبی کریم ﷺکی حدیث ہے آپ نے فرمایا !’’لیس من عبدی یصلی علی الا بلغنی صوتہ حیث کان قلنا وبعد وفاتک ؟ قال : وبعد وفاتی ، کوئی بندہ (کسی جگہ سے) مجھ پر درود نہیں پڑھتا مگر اس کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے وہ جہاں بھی ہو، (صحابہ نے) عرض کیا، حضور آپ کی وفات کے بعد بھی؟ فرمایا، ہاں ! میری وفات کے بعد بھی۔ (جلاء الافہام، از امام الوہابیہ ابن قیم الجوزیہ، مطبوعہ قاہرہ ،مصر،ص ۶۳)
ہزاروں میل کی دوری سے ہزاروں لاکھوں اُمتی ہر وقت درود شریف پڑھ رہے ہیں اور حضور ﷺان کا درود سن رہے ہیں۔
سوال یہ تھا ’’ بتائیے کہ سائل اور مشکل کشا کے درمیان ہزاروں میل کی دوری پر وہ زندگی میں یا زندگی کے بعد قبر میں آواز سن سکتا ہے؟ تو اس کا جواب مذکورہ حدیث شریف سے ہوگیا‘‘۔
سوال نمبر ۲
بالفرض یہ ثابت ہوجائے کہ وہ اتنے فاصلوں پر آواز سن سکتا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ دنیا کی ہر زبان سے واقف ہے یا نہیں؟ مثلاً سرائیکی والا سرائیکی میں پیش کرے گا، اسی طرح جرمن والا جرمنی زبان میں، انگریز انگریزی میںاور پٹھان پشتو میں آواز دے گا۔
جواب۔ قرآن مجید شاہد ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کو تمام زبانوں کا علم عطا فرمایا گیا تھا(سورۃ البقرہ، آیت۳۱) اور حضور اقدس ﷺکو ہر قسم کی بولنے والی سب قوموں کا نبی بنایا گیا ہے۔(سورۃ الاعراف، آیت۱۵۸۔ سورۃ السبا، آیت۲۸) اوریہ قانون قدرت ہے کہ نبی کو اس کی اُمت کی سب بولیاں سکھائی جاتی ہیں(سورۃ ابراہیم، آیت ۴) بلکہ حضور اقدس ﷺکی نبوت کے وسیع تر احاطہ میں حیوانات وبہائم اور تمام عالمین ارضی وسماوی داخل ہیں (سورۃ الفرقان، آیت۱) تو ثابت ہوا کہ آپ ﷺانسانوں کی سب بولیاں جانتے ہیں اور حیوانات کی بھی، بنابریں احادیث مبارکہ میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ حضور ﷺکی خدمت میں چڑیوں، ہرنیوں، اونٹوں نے حاضر ہوکر اپنی اپنی بولیوں میں فریادیں کیں اور آپ نے سب کی بولیاں سمجھ کر سب کی مشکل کشائی فرمائی۔
سوال نمبر ۳
اگر یہ بات بھی ثابت کردی جائے کہ وہ ہستی ہر زبان سے واقف ہے تو پھر سوال پیدا ہوگا کہ اگر ایک لمحہ میںسینکڑوں یا ہزاروں لوگ اپنی مشکل اس کے سامنے پیش کریں، تو کیا وہ ان سب کی مشکلات اسی لمحہ سُن اور سمجھ لے گا یا اس کے لئے قطار بنانے کی ضرورت پیش آئے گی۔
جواب۔ اﷲ تعالیٰ کے اولوالعزم پیغمبروں کو اپنے آپ پر قیاس کرنا بہت بڑی بد نصیبی ہے، ان کی قوت قدسیہ کا یہ عالم ہے کہ ان منگتو ں کو قطار بنانے کی ضرورت پیش نہیں آتی، بلکہ اﷲ تعالیٰ کے خزانوں سے لے کر اس کے حکم کے مطابق اس کی بخشی ہوئی قوت سے یک دم بھکاریوں کی مرادیں پوری کردینا ان کے لئے کچھ مشکل نہیں، سائل اگر کور چشم نہیں تو ہر روز مشاہدہ کرتا ہوگا کہ سورج سے دنیائے عالم کا ہر ذرہ قطار بنائے بغیر روشنی حاصل کرتا رہتا ہے تو آفتاب نبوت ﷺکا ساری اُمت کو بیک ساعت فیض پہنچانا سائل بد نصیب کو کس اصول کے تحت محال نظر آتا ہے، کیا سائل نے احادیث شفاعت نہیں پڑھیںیا نہیں سنیں؟ بروز محشر ساری کائنات براہ راست مشکل کشائے حقیقی اﷲ تعالیٰ جل مجدہٗ کے حضور حاضر نہیں ہوگی بلکہ مشکل کشائے عطائی جناب محمد رسول اﷲ ﷺکے آستانۂ رحمت پر جبین نیاز جھکائے گی اور آپ قطار میں کھڑا کرنے کے بغیر سب کی مشکل کشائی فرمائیں گے، اندازہ کرلو اُس وقت کتنی مخلوق ہوگی۔
سوال نمبر ۴
کیا اس ہستی کو کبھی نیند بھی آتی ہے یا وہ ہمیشہ جاگتا رہتا ہے ، اگر کبھی نیند آتی ہے تو پھر ہمارے پاس ایک لسٹ ہونی چاہئے کہ کب اس کو نیند آتی ہے اور کب وہ جاگ رہا ہوتا ہے تاکہ ہم اپنی مشکل صرف اسی وقت پیش کریں جب کہ وہ سو نہ رہا ہو ، یا وہ نیند میں بھی سنتا ہے؟۔
جواب ۔ اﷲ تعالیٰ کے مقبول بندوں کی نیند دوسروں کی بیداریوں سے ہزار درجہ بہتر ہے، اسی لئے حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام پر نیند میں بھی وحی اُترا کرتی ہے، یہ جو ہر سال ۱۰، ۱۱، ۱۲ ذی الحجہ کو لاکھوں قربانیاں دی جاتی ہیں، یہ اسی وحی کا نتیجہ ہیں جو حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام پر نیند کی حالت میں اُتری تھی ، اور یہ جو ہرمسجد میں ہر روز پانچ اذانیں دی جاتی ہیں، ان کا حکم بھی نیند ہی میں ملا تھا(مشکوٰۃ، ص۶۴)۔
بنا بریں حضور اقدس ﷺکی نیند ناقص وضو نہیں ، کیونکہ نیند کی حالت میں بھی آپ کا قلب انور جاگتا رہتا ہے(مشکوٰۃ، ص۱۰۶) ۔
آپ ﷺآرام فرمارہے تھے، حضرت بلال جاگ رہے تھے، ان کے پاس شیطان آیا ، اس نے انہیں بچوں کی مانند تھپکیاں دے کر سُلادیا، یہ سارا منظر آپ ﷺنے نیند میں دیکھا اور تھپکیوں کی آواز سُنی پھر اُٹھ کر سب کچھ بیان فرمادیا۔ (مشکوٰۃ، ص۶۰)
ایک دوسرا واقعہ ہے کہ آپ ﷺکا شانۂ رحمت میں آرام فرمارہے تھے، حضرت ابوہریرہ مال زکوٰۃ کی حفاظت پر مامور تھے، تین شب لگاتار چور آتا رہا، ہر بار پکڑا جاتا رہا ، پھر کچھ جھوٹ کچھ سچ بول کر چھوٹ جاتا رہا ، آنحضرت ﷺاس کی سب حرکتوں کو دیکھتے رہے اور اس کی سب باتوں کو سنتے رہے ، جتنا اس نے جھوٹ بولا تھا وہ بھی اور جتنا سچ کہا تھا وہ بھی آپ نے ابوہریرہ کو بتادیا پھر فرمایا وہ چور شیطان تھا، (مشکوٰۃ، ص۱۸۵)
سوال نمبر ۵
ایک شخص بولنے سے قاصر ہے وہ ایسی مشکل میں مبتلا ہے کہ گلہ بند ہوچکا ہے، اگر وہ دل ہی دل میں اپنی مشکل پیش کرے تو کیا وہ اس کی دلی فریاد بھی سُن لے گا؟
جواب ۔ بے شک قرآن وحدیث گواہ ہیں کہ انبیا اور رُسل عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سر کے کان زبان کی باتوں کو ، اور دل کے کان دل کی فریادوں کو سن لیتے ہیںملاحظہ ہو:
۱۔ فرشتے ’’ما تمکرون‘‘ کو یعنی لوگوں کی خفیہ تدبیروں کو لکھ لیتے ہیں جن کا تعلق دل ہی سے ہوتا ہے ۔ (سورۃ یونس، آیت ۲۱)
۲۔ حضور اقدس ﷺکو حکم دیا گیا کہ’’جو لوگ اﷲ کی رضا چاہتے ہیں ان سے اپنی جان مانوس رکھو، اور انہیں اپنے سے دور نہ کرو اور جن کے دل اﷲ کی یاد سے غافل ہیں ان کا کہا نہ مانو ۔ (سورۃ الانعام، آیت ۵۲۔ سورۃ الکہف، آیت ۲۸) اﷲ کی رضا دل ہی سے چاہی جاتی ہے، اور جو غافل دل کو نہ جانتا ہو ، وہ اس سے بچ نہیں سکتا، معلوم ہوا کہ آپ دل کے ارادوں کو ، دل کی غفلتوں کو جانتے ہیں توظاہر ہے دلی فریاد بھی سُن سکتے ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم لوگوں کے سب اعمال ملاحظہ فرماتے رہتے ہیں۔ (سورۃ توبہ، آیت ۹۴)
دل سے اچھی یا بُری نیت کی جائے تو وہ بھی اعمال میں داخل ہے،اس مضمون کی احادیث بے شمار ہیں مگر بنا بر اختصار آیات مبارکہ پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔
سوال نمبر ۶
انسان کو پیدائش سے لے کر موت تک چھوٹی بڑی تمام مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اگر وہ تمام مشکلات اﷲ تعالیٰ حل کرسکتا ہے تو پھر غیر کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر غیر اﷲ ان تمام مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہے تو پھر اﷲ کی کیا حاجت ؟
جواب ۔سائل کی پیدائش سے پہلے اس کی والدہ نے اس کے والد کی طرف رجوع کیا، جو غیر اﷲ ہے، پھر سائل نے شکم مادر میں پرورش پانے کے لئے خون حیض کی طرف رجوع کیا جو غیر اﷲ ہے، پھر سائل کی پیدائش کے وقت اس کی والدہ نے لیڈی ڈاکٹر کی طرف رجوع کیا، جو غیر اﷲ ہے، پھر سائل نے دوسال تک شیر مادر کی طرف رجوع کیا، جو غیر اﷲ ہے، پھر آج تک سائل نے کھانے پینے ، رہنے سہنے، پڑھنے، پہننے اوڑھنے کے سلسلہ میں علاج معالجہ، حجامت بنوانے وغیرہ لاکھوں مرتبہ غیر اﷲ کی طرف رجوع کیا، پھر سائل جب مر جائے گا تو غسّال اور گور کن کی طرف، کفن پہنانے، لاشہ اُٹھانے، دفنانے والوں کی طرف رجوع کرے گا، تعجب ہے کہ اس کثرت سے غیر اﷲ کی طرف رجوع کرنے والا علماء سے پوچھتا ہے کہ’’غیر کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرورت ہے‘‘ خدا معلوم اس خیال کے لوگوں کی عقلیں کیوں ماری جاتی ہیں؟ سائل بے چارے کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ اﷲ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، اسباب کا بھی ، مسببات کا بھی، اس لئے اس کی طرف ہر ایک کو ہر وقت احتیاج رہتی ہے اور اس نے اپنی حکمت سے ایک مخلوق کو دوسری کا محتاج بنا کر پیدا فرمایا ہے، اس لئے غیر کی طرف رجوع کی بھی ضرورت رہتی ہے، جو درحقیقت اُسی کی طرف رجوع ہے کیونکہ اسی نے یہ سلسلہ اسی طرح جاری فرمایا ہے۔ (جل جلالہٗ)
سوال نمبر ۷
اگر غیر اﷲ مشکل کشا تمام مشکلات حل کرنے پر قادر نہیں تو ہوسکتا ہے کہ کچھ مشکلات حل کرنے کا بیڑا خدا نے اُٹھایا ہو اور کچھ مشکلات حل کرنے کے اختیارات کسی غیر کو دے رکھے ہوں، ایسی صورت میں تو ہمارے پاس یہ فہرست ہونی چاہئے کہ کون کون سی مشکلات خدا تعالیٰ حل کرنے پر قادر ہے اور کون کون سی مشکلات غیر اﷲ حل کرسکتا ہے تاکہ سائل اپنی مشکل اسی کے سامنے پیش کرسکے جو اس کے حل کرنے پر قادر ہو۔
جواب ۔ہر مشکل کو حقیقت میں اﷲ تعالیٰ ہی حل فرماتا ہے، اس نے اپنی حکت بالغہ کی بنا پر مخلوقات کی حلّ مشکلات کے لئے صرف ذریعہ اور وسیلہ بنایا ہوا ہے، بھوک ، پیاس، بیماری کی مشکلات کو اﷲ تعالیٰ ہی حل فرماتا ہے، مگر اس نے روٹی پانی دوائی کو اس کے حل کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ، سائل بھی قبض دور کرنے والی دوائی کو قبض کشا (دوسرے لفظوں میں مشکل کشا) ہی کہتا ہے، یونہی کفروشرک، جہل وضلال کی مشکلات کو اﷲ تعالیٰ ہی دور فرماتا ہے مگر اس نے انبیاء ومرسلین واولیاء وکاملین، علماء ربانین(علیہم السلام ورضی اﷲ عنہم) کو ان مشکلات کے حل کا وسیلہ ارشاد فرمایا ہوا ہے، اسی طرح عذاب دنیا ہو یا عذاب آخرت، عذاب نار ہو یا عذاب زمہریر سب کو خدا تعالیٰ ہی دور فرماتا ہے، مگر اس نے ان عذابوں اور مشکلوں سے چھٹکارا پانے کے لئے مقبولین کی شفاعت کو وسیلہ قرار دیا ہوا ہے۔ امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! مژدہ باد اے عاصیو ! شافع شہ ابرار ہے تہنیت اے مجرمو! ذات خدا غفار ہے
معلوم ہوا کہ کوئی مشکل ایسی نہیں جسے اﷲ تعالیٰ حل نہ فرماتا ہو اور کوئی نبی ولی ایسے نہیں جنہیںحل مشکلات کا ذریعہ نہ بنایا گیا ہو۔
سوال نمبر ۸
کیا خدا کے سوا جو ہستی مشکل سے نکال سکتی ہے وہ مشکل ڈال بھی سکتی ہے یا اس کی ڈیوٹی صرف حل کرنے پر ہے؟ اگر وہ مشکل حل کرسکتی ہے تو پھر ڈالنے والاکون ہے؟
جواب۔ حقیقت میں ہر مشکل ڈالتا بھی خدا ہے اور نکالتا بھی خدا ہے، جس طرح وہ اپنی مخلوق کے ذریعہ مشکلات دور فرماتا ہے یوں ہی اپنی بعض مخلوق کے ذریعہ مشکلات ڈالتا بھی ہے ، اگر خدا نخواستہ سانپ، بچھو وغیرہ موذی جانور اذیت پہنچائیں تو اس مشکل میں خدا ہی نے ڈالا ہے، یہ چیزیںصرف ذریعہ بنی ہیں، پھر اگر تریاق وغیرہ اس اذیت کو ختم کردیں تو حقیقت میں یہ تکلیف خدا ہی نے دور کی ہے، تریاق وغیرہ صرف ذریعہ بنے ہیں، حضور اقدس ﷺکی شان میں ابوجہل نے گستاخی کی تو اس کے دل پر کفر کی ابدی مہر لگ گئی، یہ مہر خدا ہی نے لگائی تھی، مگر حضور اقدس ﷺکی گستاخی اس کا ذریعہ بنی اور حضرت ابوبکر صدیق نے غلامیٔ مصطفیٰ ﷺکا حق ادا کردیا تو سب صحابہ پر فضیلت دیئے گئے، یہ فضیلت انہیں اﷲ تعالیٰ ہی نے بخشی، مگر حضور اقدس ﷺکی نگاہ رحمت اس کا وسیلہ قرار پائی (فالحمد ﷲ علیٰ ذالک)
سوال نمبر ۹
بالآخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ خدا تعالیٰ مشکلات ڈالنے والا ہے اور غیر اﷲ مشکل حل کرنے والا، بالفرض ایک ہستی مشکل ڈالنے پر مصر ہو اور دوسری مشکل حل کرنے پر تو دونوں میں سے کون سی ہستی اپنا فیصلہ واپس لے لے گی؟
جواب۔ یہ تقسیم سائل کا اپنا اختراع ہے، اس کا کوئی مسلمان قائل ہے نہ کارخانہ قدرت میں اس کی کوئی گنجائش ہے، جیسا کہ سوال نمبر۸ کے جواب میں بیان ہوا، سائل نے نہ خالق کی قدرت کو جانا ، نہ مخلوق کی حیثیت کو پہچانا اور یونہی جہل مرکب کی وادی میں بھٹکتا پھر رہا ہے، حیرت ہے ان لوگوں پر جو اس جاہل کے سوالوں پر خوش ہیں ۔
سوال نمبر ۱۰
کسی بھی برگزیدہ یا گنہگار ہستی کا جنازہ پڑھنا ہو تو اس کی بخشش کے لئے اﷲ کو آواز دی جائے یا مشکل کشا کو؟
جواب۔ نماز جنازہ میں پست آواز کے ساتھ اﷲ ہی کی بارگاہ میں طلب بخشش کی التجا کی جاتی ہے مگر دعا سے پہلے بارگاہ اقدس ﷺمیں درود وسلام عرض کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ نماز جنازہ پڑھنے والے یقین کرلیں کہ مشکل کشا عطائی پیارے مصطفیٰ ﷺکا نام لئے بغیر اور صلوٰۃ وسلام کا وسیلہ پیش کئے بغیر نہ نماز جنازہ قبول ہوتی ہے اور نہ کوئی مشکل آسان ہوتی ہے، اسی لئے قرآن مجید نے منافقوں کی نماز جنازہ پڑھنے سے روکا ہے(سورۃ توبہ) کیونکہ منافق لوگ وسیلے کے بھی منکر ہوتے ہیں اور مصطفیٰ ﷺکی طرف رجوع کرنے کے بھی ، تو ان کی نماز جنازہ کا انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا ، سائل اس میں فرق نہ سمجھے تو یہ اس کی بددیانتی یا بے بصیرتی ہے۔(والعیاذ باﷲتعالیٰ)