اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ َاَمّابَعْدُ فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
عام طور پر یہ مغالطہ دیا جاتا ہے کہ نورانیت اور بشریت میں منافات ہے، دونوں کا ایک جگہ اجتماع نہیں ہوسکتا، حالانکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
فَأَرْسَلْنَا إِلَیْْہَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَراً سَوِیّاً (سورۃ مریم۔ آیت ۱۷)
تو اس(مریم) کی طرف ہم نے اپنا روحانی(جبریل امین) بھیجا، وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا۔
ظاہر ہے کہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نوری مخلوق ہیں، جب حضرت مریم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے سامنے بشری صورت میں جلوہ گر ہوئے ، تو اس وقت بھی وہ حقیقت کے لحاظ سے نوری ہی تھے، لیکن ان کا ظہور بشری لباس میں ہوا، اگر نوروبشر میں تضاد ہوتا حضرت جبرائیل علیہ السلام کبھی بشری صورت میں تشریف نہ لاتے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور سروردوعالم ﷺ حقیقت کے اعتبار سے نور اور صورت کے اعتبار سے بے مثل بشر ہیں۔ علامہ سید محمود آلوسی بغدادی فرماتے ہیں :
’’بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ چونکہ نبی اکرم ﷺ کی دو حیثیتیں ہیں، ایک جہتِ مَلکَیت جس کی بنا پر آپ فیض حاصل کرتے ہیں اور دوسری جہتِ بشریت جس کی بنا پر فیض دیتے ہیں، اس لئے قرآن کریم آپ کی رُوح پر نازل کیا گیا، کیونکہ آپ کی روح ملکی صفات کے ساتھ متصف ہے جن کی بناء پر آپ رُوح الامین سے استفادہ کرتے ہیں‘‘۔(علامہ سید محمود آلوسی : تفسیر روح المعانی، طبع بیروت، ج۱۹، ص۱۲۱)
غزنوی خاندان کے مشہور غیر مقلد عالم پروفیسر ابوبکر غزنوی نے بڑی فیصلہ کن بات کی ہے، مولانا محمد انور جیلانی کے رسالہ’’بشریت ورسالت‘‘ پر تقریظ میں لکھتے ہیں :
’’ بعض لوگوں نے کہا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بشر تھے اور نور نہ تھے، اور بعض نے کہا کہ وہ نور تھے بشر نہ تھے، یہ دونوں باتیں افراط وتفریط کی ہیں ، قرآن مجید کہتا ہے کہ وہ بشر بھی تھے اور نور بھی تھے(اس کے بعد نورانیت اور بشریت سے متعلق دونوں آیتیں نقل کی ہیں) اور صحیح مسلک یہی ہے کہ وہ بشر ہوتے ہوئے از فرق تا بقدم نور کا سراپا تھے‘‘۔ (تحریر ۱۴؍ دسمبر ۱۹۷۱ء)
(پروفیسر ابوبکر غزنوی : تقریظ ،رسالہ بشریت ورسالت، ۱۹۸۷ء، ص۱۷)
ٍ لیجئے اَب تو اختلافات ختم ہوجانا چاہئے، اہل سنت وجماعت کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ بے مثل بشر بھی ہیں اور نور بھی۔
سرکار دوعالم ﷺ کی بشریت کا مطلقاً انکار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں :
’’جو مطلقاً حضور سے بشریت کی نفی کرے، وہ کافر ہے : قال تعالیٰ ’’ قل سبحان ربی ھل کنت الا بشراً رسولا‘‘ ۔
( اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی: فتاویٰ رضویہ، مطبوعہ مبارکپور، انڈیا، جلد۶، ص۶۷)
احسان الہٰی ظہیر(غیر مقلد) کا کہنا کہ نبی اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کے زمانوں کے کفار، نبوت اور بشریت میں منافاۃ کا عقیدہ رکھتے تھے اور انبیاء کرام کی نبوت کا اس لئے انکار کرتے تھے کہ وہ بشر ہیں اور بشر رسول نہیں ہوسکتا۔
اس کے بعد بریلویوں پر طعن وتشنیع کرتے ہوئے کہتے ہیں :
’’یہ لوگ چونکہ اسلامی معاشرے اور مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے ہیں، اس لئے انبیاء کی نبوت کا تو انکار نہیں کرسکتے، لیکن ان کا عقیدہ بعینہٖ وہی ہے کہ نبوت اور بشریت میں منافاۃ ہے، اس لئے انہوں نے انبیاء اور رسل کی بشریت کا انکار کردیا ہے‘‘۔
( احسان الٰہی ظہیر : البریلویۃ (عربی)، ص۱۰۲۔ ۱۰۱)
بلا شبہ یہ مجرمانہ خیانت ہے، قارئین کرام ! ابھی امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ کی تصریح ملاحظہ کرچکے ہیں کہ ’’جو مطلقاً حضور کی بشریت کا انکار کرے، وہ کافر ہے ‘‘اس کے باوجود اس غلط بیانی کا کیا جواز ہے؟
ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ بشر ضرور ہیں، لیکن افضل البشر اور سیّد الخلق ہیں، امام الانبیاء اور مقتدائے رسل ہیں اور مخلوق کی طرف اﷲ تعالیٰ کا بھیجا ہوا نور ہیں۔ ظہیر صاحب نے محض یہ ثابت کرنے کے لئے متعدد آیتیں نقل کی ہیں کہ کافروں نے انبیاء کرام کی نبوت کا انکار محض اس لئے کیا کہ وہ بشر ہیں، حالانکہ اگر مطلب ثابت ہو جائے، تو اس کے لئے ایک ہی آیت کافی ہے، اور مطلب ثابت نہ ہو تو پانچ سو آیتیں پیش کرنا بھی بے فائدہ ہے۔ یہی صورت ظہیر صاحب کو پیش آئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں اﷲ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اور عاد وثمود کا یہ قول بیان فرمایا ہے :
إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا(سورۃ ابراہیم : آیت ۱۰) ۔
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کافروں نے رسولانِ کرام علیہم السلام کی رسالت کا انکار صرف اس بناء پر نہیںکیا تھا کہ وہ بشر ہیں جیسے کہ ظہیر صاحب ثابت کرنا چاہتے ہیں، بلکہ اس لئے انکار کیا کرتے تھے کہ وہ ہم جیسے بشر ہیں، کفار اگر سمجھ لیتے کہ ظاہری طور پر ہم جیسے بشر دکھائی دینے والے حضرات در حقیقت ہم سے کہیں بلندوبالا ہیں، تو وہ راہِ کفر اختیار نہ کرتے، بلکہ ایمان لے آتے، یہی وہ نکتہ ہے، جیسے اہل سنت وجماعت کے مخالفین نہیں سمجھ پاتے۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہٗ السامی فرماتے ہیں :
’’جیسے کہ کفار نے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات کو دوسرے انسانوں کے رنگ میں جان کر، نبوت کے کمالات کا انکار کیا ہے‘‘۔
( مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی: مکتوبات(فارسی)، دفتر اوّل، حصہ دوم، ص۱۱۴)
غیر مقلدین اور علماء دیوبند کے مسلم پیشوا شاہ اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں :
’’ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اولیاء، انبیاء، امام وامام زادہ، پیر، شہید یعنی جتنے اﷲ کے مقرب بندے ہیں، وہ سب انسان ہی ہیں اور بندے عاجز اور ہمارے بھائی، مگر اﷲ نے ان کو بڑائی دی، وہ بڑے بھائی ہوئے، ہم کو اُن کی فرماں برداری کا حکم کیا ہے، ہم ان کے چھوٹے بھائی ہیں‘‘۔
(شاہ اسمٰعیل دہلوی، تقویۃ الایمان، مطبع فاروقی، دہلی، ص۶۰)
کیا اس کا صاف مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہم جیسے بشر ہیں؟ اور کیا یہ اس بات کے قریب نہیں ہے، جو کفار اپنے زمانے کے رسولوں کو کہتے رہے ہیں؟
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں :
’’کسی بزرگ کی تعریف میں زبان سنبھال کر بولو اور جو بشر کی سی تعریف ہو سو وہی کرو، ان میں بھی اختصار کرو‘‘۔ (شاہ اسماعیل دہلوی : تقویۃ الایمان،مطبع فاروقی، دہلی، ص۶۳)
اس عبارت سے صاف ظاہر ہوگیا کہ دہلوی صاحب کو اتنا بھی گوارا نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے کسی محبوب کی اتنی تعریف بھی کی جائے ، جو بشر ہی کے شایانِ شان ہو، بلکہ اس میں بھی اختصار کا مشورہ دیتے ہیں۔
محبوبانِ بارگاہ الٰہی کے بارے میں اسی خطرناک ذہنیت کے مسموم اثرات زائل کرنے کے لئے علماء اہل سنت نے اﷲ تعالیٰ کے حبیب ﷺ اور دیگر مقربانِ بارگاہ کی شان میں وہ گلہائے عقیدت پیش کئے کہ ایمان والوں کے ایمان تازہ ہوگئے۔
قرآن پاک میں حضور نبی اکرم ﷺ کے بشر اور نور ہونے کی تصریح ہے، کسی مسلمان کے لئے نہ تو آپ کی بشریت کے انکار کی گنجائش ہے، اور نہ ہی نور ہونے کی نفی کی مجال ہے، حیرت ان لوگوں پر ہے جو توحیدورسالت کی گواہی دینے کے باوجود سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نور ہونے کا انکار کرتے ہیں، اﷲ تعالیٰ کا فرمانِ اقدس ہے :
قَدْ جَاء کُم مِّنَ اللّہِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُّبِیْن(سورۃ المائدہ: آیت ۱۵)
’’تحقیق تمہارے پاس اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نور آیا اور کتاب مبین‘‘۔
اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ملتے ہیں :
اوّل : نور سے مراد نبی اکرم ﷺ اور آپ کا نور ہے، اور کتاب سے مراد قرآن پاک ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے’’نُور‘‘ کی تفسیر ’’رسول‘‘ سے کرنے کے بعد فرمایا :
یعنی ’’ محمدً ا‘‘ (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم)
( محمد بن یعقوب فیروز آبادی : تنویر المقیاس، مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر، ص۷۲)
امام رازی علیہ الرحمہ نے نور کی تفسیر میں متعدد اقوال بیان کئے، پہلا قول یہ ہے کہ
نور سے مراد محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں ۔
(امام محمد بن عمر بن حسین رازی : تفسیر کبیر، مطبوعہ المطبعۃ البہیۃ، مص، ج۱۱، ص۱۸۹)
امام محمد بن جریر طبری رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :
یعنی بالنور محمد ًا (ﷺ) ، نور سے مراد محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔
(امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری : جامع البیان فی تفسیر القرآن، مطبوعہ میمنیہ، مصر، ج۶، ص۹۲)
تفسیر جلالین میں ہے :
اس نور سے مراد حضور نبی اکرم ﷺ کا نور ہے۔
(امام عبدالرحمن بن ابو بکر سیوطی : تفسیر جلالین، اصح المطابع، دہلی، ص۹۷)
جلالین کے حاشیہ تفسیر صاوی میں ہے :
حضور نبی اکرم ﷺ کا نام اس لئے نور رکھا گیا کہ آپ بصیرتوں کو منور فرماتے ہیں اور انہیں راہِ راست کی ہدایت دیتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ ہر حسی اور معنوی نور کی اصل ہیں۔
(علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی: حاشیہ تفسیر جلالین ، مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر، ج۱، ص۲۵۸)
تفسیر خازن میں ہے :
نور سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، اﷲ تعالیٰ نے آپ کا نام اس لئے نور رکھا کہ آپ کے ذریعے ہدایت پائی جاتی ہے، جیسے روشنی کے ذریعے اندھیروں میں ہدایت پائی جاتی ہے۔
( علامہ علاء الدین علی بن ابراھیم بغدادی: تفسیر خازن، مطبوعہ مکتبہ تجاریہ، مصر، ج۲، ص۲۳) تفسیر مدارک میں :
دوسرا احتمال یہ ہے کہ نور، محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، کیونکہ آپ کے ذریعے ہدایت حاصل کی جاتی ہے،جس طرح آپ کا نام سراج رکھا گیا۔
(علامہ عبداﷲ بن احمد نسفی: تفسیر نسفی، مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، ج۶، ص۲۷۶)
دوم : نور اور کتاب دونوں سے قرآن پاک مراد ہے، یہ جبائی اور زمحشری کا قول ہے، یہ دونوں معتزلی ہیں، ان پر یہ سوال وارد ہوا کہ عطف مغایرت کو چاہتا ہے، جب دونوں سے مراد قرآن پاک ہے تو مغائرت کہاں رہی؟ اس کا انہوں نے جواب دیا کہ عطف کے لئے ذاتی طور پر متغائر ہونا ضروری نہیں ہے، تغایر اعتباری ہی کافی ہے اور وہ یہاں موجود ہے۔
سوم:نور اور کتاب دونوں سے مراد حضور نبی اکرم ﷺ ہیں، اس پر اگر یہ سوال اُٹھایا جائے کہ عطف تغایر کو چاہتا ہے، تو اس کا جواب وہی ہوگا جو جبائی وغیرہ نے دیا کہ تغایر اعتباری کافی ہے۔
علامہ آلوسی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:
میرے نزدیک یہ امر بعید نہیں ہے کہ نور اور کتاب مبین دونوں سے نبی اکرم ﷺ مراد ہوں، عطف کی وہی توجیہ کی جائے جو جبائی نے کی ہے، اس میں شک نہیں کہ نبی اکرم ﷺ پر نور اور کتاب مبین دونوں کا اطلاق صحیح ہے، ہو سکتا ہے کہ عبارۃ النص کے اعتبار سے تمہیں اس کے قبول کرنے میں توقف ہو تو اسے اشارۃ النص کے قبیلے سے قرار دو۔
( علامہ سید محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی، طبع بیروت، ج۶، ص۹۸) حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری فرماتے ہیں :
اس امر سے کون سی چیز مانع ہے؟ کہ نور اور کتاب مبین دونوں نبی اکرم ﷺ کی صفتیں ہوں، کیونکہ آپ نور عظیم ہیں اور انوار کے درمیان کامل ظہور رکھتے ہیں اور آپ اس لحاظ سے کتاب مبین ہیں کہ آپ تمام اسرار کے جامع، احکام، احوال اور بھلائیوں کے ظاہر کرنے والے ہیں۔
( علامہ علی بن سلطان قاری: شرح شفاء، طبع مدینہ منورہ، ج۱، ص۱۱۴) تقریباً تمام اہل سنت وجماعت مفسرین کرام نے یہ احتمال ضرور بیان کیا ہے کہ نور سے مراد نور مصطفیٰ ﷺ ہے اور بعض تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کتاب سے مراد بھی آپ ہی کی ذات اقدس ہے۔ اب کون ہے ، جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہے اور حضور نبی اکرم ﷺکے نور ہونے کا بھی انکار کرے؟۔
حدیث نور
۲۸؍ ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ کو مولوی نور الدین احمد نے گوالیار سے امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ کی خدمت میں استفتاء ارسال کیا اور دریافت کیا :
’’یہ مضمون کہ حضور سیّد عالم ﷺ اﷲ تعالیٰ کے نور سے پیدا ہوئے، اور ان کے نور سے باقی مخلوقات کس حدیث سے ثابت ہے؟ اور وہ حدیث کس قسم کی ہے؟
اس کے جواب میں امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ نے فرمایا : امام اجل سید نا مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے شاگرد اور امام اجل سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے استاذ اور امام بخاری وامام مسلم کے استاذ الاساتذہ، حافظ الحدیث، احد الاعلام عبدالرزاق ابوبکر بن ہمام(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) نے اپنی مصنف میں حضرت سیدنا وابن سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، وہ فرماتے ہیں :
میں نے عرض کی : یارسول اﷲ !ﷺ میرے ماں باپ حضور پر قربان، مجھے بتادیجئے کہ سب سے پہلے اﷲ عزوجل نے کیا چیز بنائی ؟ فرمایا :
یا جابر ان اﷲ تعالیٰ قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہٖ
اے جابر ! بے شک بالیقین اﷲ تعالیٰ نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبی (ﷺ) کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔
(امام احمد رضا بریلوی : مجموعہ رسائل (نوروسایہ)، مطبوعہ رضا فائونڈیشن، لاہور، ص۷۔۸)
اس کے بعد پوری حدیث نقل کی۔
یہ حدیث کس قسم کی ہے ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
یہ حدیث امام بیہقی نے بھی ’’دلائل النبوۃ ‘‘ میں بنحوہٖ روایت کی … اجلہ ائمہ دین مثل امام قسطلانی ’’مواہب اللد نیہ‘‘ اور امام ابن حجر مکی ’’افضل القریٰ‘‘ اور علامہ فاسی’’مطالع المسرات‘‘ اور علامہ زرقانی’’شرح مواہب‘‘ اور علامہ دیار بکری’تاریخ الخمیس‘‘ اور شیخ محقق دہلوی’’مدارج النبوۃ‘‘ وغیرہا میں اس حدیث سے استناد اور اس پر تعویل واعتماد فرماتے ہیں۔
بالجملہ وہ تلقی اُمت بالقبول کا منصب جلیل پائے ہوئے ہے، تو بلا شبہ حدیث حسن صالح مقبول معتمد ہے، تلقی علماء بالقبول وہ شئے عظیم ہے جس کے بعد ملاحظۂ سند کی حاجت نہیں رہتی بلکہ سند ضعیف بھی ہو تو حرج نہیں کرتی ’’کما بیناہ فی منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین‘‘ لا جرم علامہ محقق عارف با ﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہٗ القدسی ’’حدیقہ ندیہ شرح طریقۂ محمدیہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’وقد خلق کل شی ئٍ من نورہٖ صلی اﷲ علیہ وسلم کما وردبہ الحدیث الصحیح ‘‘۔
بے شک ہر چیز نبی اکرم ﷺ کے نور سے بنی جیسا کہ صحیح حدیث اس معنی میں وارد ہوئی۔
(امام احمد رضا بریلوی : مجموعہ رسائل(نور وسایہ) ، رضا فائونڈیشن، لاہور، ص۹۔۸)
یہ جواب بڑا متین ، مدلل اور معقول تھا، لیکن تعصب اور عناد اسے قبو ل کرنے کے لئے تیار نہیں، اس پر چند اعتراض کئے گئے ہیں، ان کا جواب ملاحظہ ہو ۔
پہلا اعتراض
احسان الٰہی ظہیر نے اس پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا ہے :
اگر اُمت سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان کی طرح جہالت اور گمراہی اور کج روی کے پیرو کار ہیں، ہمیں نقصان دہ نہیں اور اگر اُمت سے مراد علماء اور حدیث کے ماہرین ہیں، تو اس امر کا وجود نہیں ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو قبول کیا ہے۔ (احسان الٰہی ظہیر : البریلویۃ (عربی) ، ص۱۰۳)
امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ نے اس حدیث کے روایت اور نقل کرنے والوں کا نام بنام ذکر کیا ہے، اس کے باوجود ان سب کو جاہل اور گمراہ قرار دینا ائمہ دین کی شان میں وہ کھلی گستاخی ہے، جو ناقابل معافی ہے اور ان لوگوں کا پرانا شیوہ ہے۔
ذیل میں ہم حدیثِ نور کے چند حوالے تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں :
آپ دیکھیں کہ احسان الٰہی ظہیر نے کتنے جلیل القدر ائمہ کو جاہل اور گمراہ قرار دیا ہے ؟
۱۔ امام بخاری ومسلم کے استاذ الاساتذہ امام عبدالرزاق نے مصنف میں اس حدیث کو روایت کیا، اس سلسلے میں چند گزارشات آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں ۔
۲۔ امام بیہقی نے یہ حدیث روایت کی ، امام زرقانی فرماتے ہیں :
امام بیہقی نے یہ حدیث کسی قدر مختلف الفاظ سے روایت کی ہے۔
(شرح زرقانی علی المواہب، ج۱، ص۵۶۔ تاریخ الخمیس، ج۱، ص۲۰)
۳۔ تفسیرنیشا پوری میں آیت مبارکہ’’وانا اوّل المسلمین‘‘ کی تفسیر میں ہے :
’’کما قال اوّل ما خلق اﷲ نور‘‘
جیسے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ! سب سے پہلے اﷲ تعالیٰ نے میرا نور پیدا کیا۔
(نظام الدین حسن نیشا پوری : (متوفی ۷۲۸ھ)، تفسیر غرائب القرآن، مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مص، ج۸، ص۶۶)
۴۔ عارف باﷲ شیخ عبدالکریم جیلی(متوفی ۸۰۵ھ) اپنی کتاب ’’الناموس الاعظم والقاموس الاقدم فی معرفۃ قدر النبی ﷺ ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
اے جابر ! اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کی روح کو پیدا فرمایا۔
(علامہ یوسف بن اسمٰعیل نبہانی، جواہر البحار، مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر، ج۴، ص۲۲)
۵۔ مواہب لدنیہ میں ہے کہ امام عبدالرزاق رحمہ اﷲ تعالیٰ اپنی سند سے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی ہیں کہ سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا :
یا جابر اِن اﷲ تعالیٰ قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہٖ۔
اے جابر ! بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔
(احمد بن محمد بن ابی بکر قسطلانی(متوفی ۹۲۳ھ)، مواہب لدنیہ مع شرح زرقانی، ج۱، ص۵۵)
۶۔ سیرت حلبیہ میں نقل کرکے فرماتے ہیں :
وفیہ انہ اصل لکل موجودٍ واﷲ تعالیٰ اعلم ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور نبی اکرم ﷺ ہر موجودگی کا اصل ہیں، واﷲ تعالیٰ اعلم۔
(امام علی بن برھان الدین حلبی شافعی : (متوفی ۱۰۴۴ھ/۱۶۳۵ء) ، ’’سیرت حلبیہ‘‘ مکتبہ اسلامیہ، بیروت، ج۱، ص۳۱)
۷۔ ’’کشف الخفاء‘‘ میں یہ حدیث ان ہی الفاظ میں نقل کی گئی ہے۔
(علامہ اسماعیل بن محمد عجلونی(متوفی ۱۱۶۲ھ)، ’’کشف الخفاء ومزیل الالباس‘‘، مکتبہ غزالی، بیروت، ج۱، ص۲۶۵)
۸۔ علامہ خرپوتی نے شرح قصیدہ بُردہ میں یہ حدیث مفہوماً نقل کی ہے۔
(عمر بن احمد الخرپوتی(متوفی۱۲۹۹ھ/۱۸۸۲ء) ’’عصیدۃ الشھدۃ شرح القصیدۃ البردۃ‘‘، مطبوعہ نور محمد ، کراچی، ص۷۳)
’’الحد یقۃ الند یہ‘‘ میں ہے:
حضور نبی اکرم ﷺ صاحب الجمعیۃ الکبریٰ ہیں، کیوں نہ ہو، جب کہ ہر شے آپ کے نور سے پیدا کی گئی ہے، جیسے کہ اس بارے میں یہ حدیث صحیح وارد ہے۔
(امام عبدالغنی نابلسی(متوفی ۱۱۴۳ھ/ ۱۷۳۰ء) ، الحدیقۃ الندیہ،مکتبہ نوریہ، فیصل آباد، ج۲، ص۳۷۵)
۱۰۔ علامہ حسین بن محمد بن حسن دیار بکری(متوفی ۹۶۶ھ)
( تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس ، موسستہ الشعبان، بیروت، ج۱، ص۹۱)
۱۱۔ امام علامہ شرف الدین بوصیری کے قصیدہ ہمزیہ کی شرح میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔
(علامہ سلیمان الجمل(متوفی ۱۲۰۴ھ) صاحب تفسیر الجمل’’الفتوحات الاحمدیہ بالمخ المحمدیہ‘‘ ،ادارہ محمد عبدالطیف حجازی، قاہرہ، ص۶)
۱۲۔ امام علامہ ابن الحاج فرماتے ہیں :
فقیہ خطیب ابوالربیع کی کتاب ’’شفاء الصدور‘‘ میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے نور مصطفیٰ ﷺ کو پیدا فرمایا اور اس نور سے تمام اشیاء کو پیدا کیا … پس نور عرش ، نور مصطفیٰ ﷺ سے ہے، نور قلم، نور مصطفیٰ ﷺ سے ہے ، لوحِ محفوظ کا نور، نور مصطفیٰ ﷺ سے ہے، دن کا نور، نور مصطفیٰ ﷺ سے ہے، معرفت کا نور، شمس وقمر اور آنکھوں کا نور، نور مصطفیٰ ﷺ سے ہے۔ (ترجمہ ملخصاً)
(ابن الحاج : المدخل، دارالکتاب العربی، بیروت، ج۳، ص۳۴)
۱۳۔ علامہ ابوالحسن بن عبداﷲ البکری فرماتے ہیں :
حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اﷲ تعالیٰ موجود تھا اور کوئی شئے اس کے ساتھ موجود نہ تھی ، اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے حبیب ﷺ کا نور پیدا کیا، پانی، عرش، کرسی، لوح وقلم، جنت، دوزخ، حجاب اور بادل ،حضرت آدم اور حضرت حوا(علیہما السلام) سے چار ہزار سال پہلے۔
(ابوالحسن بن عبداﷲ البکری:’’ الانوار فی مولد النبی محمد‘‘ ، نجف اشرف، ص۵)
اس سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے نور مصطفیٰ ﷺ کے پیدا کئے جانے کی روایت صرف حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی نہیں ہے بلکہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے۔
۱۴۔ علامہ سید محمود آلوسی فرماتے ہیں :
حضور نبی اکرم ﷺ کا سب کے لئے رحمت ہونا اس اعتبار سے ہے کہ آپ ممکنات پر نازل ہونے والے فیض الٰہی کا ان کی قابلیتوں کے مطابق واسطہ ہیں، اسی لئے آپ کا نور سب سے پہلی مخلوق تھا، حدیث شریف میں ہے : اے جابر ! اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا، یہ بھی آیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ عطا فرمانے والا اور میں تقسیم کرنے والا ہوں۔
(سید محمود آلوسی(متوفی ۱۲۷۰ھ) ، تفسیر روح المعانی، طبع بیروت، ج۱۷، ص۱۰۵) ایک جگہ حدیث
’’ اوّل ما خلق اﷲ نوری‘‘ نقل کی ہے۔
(تفسیر روح المعانی، ج۸، ص۷۱)
۱۵۔ علامہ شامی کے بھتیجے سید احمد عابدین شامی (متوفی ۱۳۲۰ھ تقریباً) نے علامہ ابن حجر مکی کے رسالہ’’النعمۃ الکبریٰ علی العالم‘‘ کی شرح میں یہ حدیث نقل کی ہے۔
(علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی، جواہر البحار، مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر، ج۳، ص۳۵۴)
۱۶۔ علامہ محمد مہدی الفاسی نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیث نقل کرنے کے علاوہ ایک دوسری حدیث بھی نقل کی کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
’’اوّل ماخلق اﷲ نوری ومن نوری خلق کل شیئٍ‘‘ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا نور پیدا کیا اور میرے نورسے ہر چیز پیدا کی۔
اس کے بعد فرماتے ہیں :
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ تمام مخلوقات سے پہلے اور ان کا سبب ہیں۔
(محمد مہدی بن احمد فاسی(متوفی ۱۰۵۲ھ/۱۶۴۲ء) ، مطالع المسرات، شرح دلائل الخیرات، المطبعۃ التازیہ، ص۲۲۱)
۱۷۔ علامہ احمد عبدالجواد دمشقی نے یہ حدیث امام عبدالرزاق اور امام بیہقی کے حوالے سے نقل کی ہے۔
(علامہ احمد عبدالجواد دمشقی، السراج المنیر و بسیرتہ استنیر، طبع دمشق، ص۱۴۔۱۳)
۱۸۔ محدّث جلیل حضرت ملا علی قاری نے ’’المورد الروی‘‘ میں ’’مصنف عبدالرزاق‘‘ کے حوالے سے سیّدنا جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی حدیث نقل کی ہے۔
(علامہ علی بن سلطان محمدالقاری(متوفی ۱۰۱۴ھ) ، المورد الروی فی المولد النبوی، تحقیق محمد بن علوی مالکی، اڈیشن ۱۴۰۰ھ/۱۹۸۰ء، ص۴۰)
۱۹۔ مکہ مکرمہ کے نامور محقق فاضل سیّد محمد علوی مالکی لکھتے ہیں :
حدیث جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی سند صحیح ہے، اس پر کوئی غبار نہیں ہے، چونکہ متن غریب ہے، اس لئے اس میں علماء کا اختلاف ہے، اس حدیث کو امام بیہقی نے کسی قدر مختلف الفاظ سے روایت کیا ہے۔
(علامہ سید محمد بن علوی مالکی حسنی، حاشیہ’’المورد الروی‘‘ ، ص۴۰)
اس جگہ علامہ مالکی نے تفصیلی نوٹ دیا ہے، جس میں حضور سیّد عالم، نبی اکرم ﷺ کی نورانیت ، احادیث مبارکہ کے حوالے سے بیان کی ہے۔
۲۰۔ فتاویٰ حدیثیہ میں ہے:
’’وانما الذی رواہ عبدالرزاق انہ صلی اﷲ علیہ وسلم قال ان اﷲ خلق نور محمد قبل الاشیاء من نورہٖ‘‘
عبدالرزاق نے جو حدیث روایت کی ہے، وہ یہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ! بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے اپنے نور سے نورِ مصطفیٰ ﷺ پیدا کیا۔
( امام ابن حجر ہیتمی مکی(متوفی ۹۷۴ھ)، فتاویٰ حدیثیہ، مطبوعہ مصطفیٰ البابی ، مصر، ص۲۴۷)
۲۱۔ مولانا عبدالحی لکھنوی فرنگی محلی’’ الآثار المرفوعہ‘‘ میں امام عبدالرزاق کے حوالے سے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت نقل کرنے کے بعد تنبیہ کا عنوان دے کر لکھتے ہیں :
عبدالرزاق کی روایت سے نور محمدی کا پیدائش میں اوّل ہونا اور مخلوق سے پہلے ہونا ثابت ہے۔
(علامہ عبدالحی لکھنوی: الآثارالمرفوعۃ فی الاخبارالموضوعۃ، مکتبہ قدوسیہ، لاہور، ص۳۳۔۳۴)
۲۲۔ علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی فلسطینی: حجۃ اﷲ علی العالمین، (مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ۲۸)
۲۳۔ مدارج النبوۃ میں ہے :
درحدیث صحیح وارد شدہ کہ’’ اوّل ما خلق اﷲ نوری‘‘
(شیخ محقق عبدالحق محدّث دہلوی(متوفی۱۰۵۲ھ) مدارج النبوۃ، فارسی، مکتبہ نوریہ رضویہ، سکھر، ج۲، ص۲)
فرض کیجئے کہ کسی محفل میں یہ تمام علماء، عرفاء اور محدّثین تشریف فرما ہوں اور اس حدیث کو بیان کررہے ہوں اور اس کی تصدیق وتوثیق کررہے ہوں ، تو کیا کوئی بڑے سے بڑا علامہ یہ کہنے کی جرأت کرسکے گا کہ یہ سب جھوٹے ، جاہل اور کج روہیں؟
مخالفین کی گواہی
۲۴۔ غیر مقلدین کے مشہور عالم نواب وحید الزماں لکھتے ہیں :
اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے نورِ محمدی کو پیدا کیا، پھر پانی ، پھر پانی کے اوپر عرش کو پیدا کیا، پھر قلم اور دوات، پھر عقل کو پیدا کیا، پس نورِ محمدی آسمانوں زمین اور ان میں پائی جانے والی مخلوق کے لئے مادۂ اوّلیہ ہے۔
حاشیہ میں لکھتے ہیںکہ قلم اور عقل کی اوّلیت اضافی ہے(یعنی یہ دونوں دوسری چیزوں سے پہلے ہیں، یہ نہیں کہ سب سے پہلے ہوں ۱۲ ق ن)
(وحید الزماں، ہدیۃ المہدی، طبع سیالکوٹ، ص۵۶)
۲۵۔ علمائے دیوبند کے حکیم الامت نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت بحوالہ امام عبدالرزاق رحمہ اﷲ تعالیٰ نقل کی اور اس پر اعتماد کیا۔
(مولوی اشرف علی تھانوی، نشرالطیب، تاج کمپنی، لاہور، ص۶)
۲۶۔
غیر مقلدین اوردیوبندیوں کے امام شاہ محمد اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں :
چنانچہ روایت’’اوّل ما خلق اﷲ نوری‘‘ برآں دلالت می دارد
جیسے کہ روایت’’اوّل ما خلق اﷲ نوری‘‘ اس پر دلالت کرتی ہے۔
(محمد اسماعیل دہلوی، یک روزہ، طبع ملتان، ص۱۱)
۲۷۔ فتاویٰ رشیدیہ میں ہے :
سوال : اوّل ما خلق اﷲ نوری اور لولاک لما خلقت الافلاک… یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں یا وضعی؟
جواب : یہ حدیثیں صحاح میں موجود نہیں، مگر شیخ عبدالحق رحمہ اﷲ تعالیٰ نے ’’اوّل ما خلق اﷲ نوری‘‘ کو نقل کیا ہے کہ اس کی کچھ اصل ہے۔
(مولوی رشید احمد گنگوہی ، فتاویٰ رشیدیہ، مبوب، طبع محمد سعید کمپنی کراچی، ص۱۵۷)
اس سے پہلے مدارج النبوۃ کی عبارت گذر چکی ہے جس میں شیخ محقق نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، جبکہ گنگوہی صاحب کہہ رہے ہیں کہ شیخ کے نزدیک اس کی کچھ اصل ہے… فیا للعجب
تطبیق احادیث
اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا کیا؟ اس سلسلے میں مختلف روایات ملتی ہیں، مثلاً نبی اکرم ﷺ کا نور ، عقل یا قلم۔ آئیے ذرا دیکھیں کہ ائمہ محدّثین اور اربابِ مشاہدہ نے ان روایات میں کس طرح تطبیق دی ہے؟
۲۸۔ حضرت شیخ سیّدعبدالقادرجیلانی حنبلی رحمہ اﷲ تعالیٰ جن کا نام ابن تیمیہ بھی احترام سے لیتے ہیں، فرماتے ہیں :
اﷲ عزوجل نے فرمایا : میں نے محمد مصطفیٰ ﷺ کی روح کو اپنے جمال کے نور سے پیدا کیا، جیسے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے میری روح کو پیدا فرمایا اور سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا، سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، ان سب سے مراد ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے حقیقتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰہ والسلام، اس حقیقت کو نور اس لئے کہا کہ وہ جلالی ظلمات سے پاک ہے، جیسے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :
’’قد جاء کم من اﷲ نو و کتاب مبین ‘‘
عقل اس لئے کہا کہ وہ کلیات کا ادراک کرنے والی ہے ، قلم اس لئے کہا کہ وہ علم کے نقل کرنے کا سبب ہے۔
(سیّد غوث اعظم عبدالقادر جیلانی، سر الاسرار فی ما یحتاج الیہ الابرار، طبع لاہور، ص۱۴۔ ۱۲)
۲۹۔ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں مختلف روایات نقل کیں کہ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا ، ایک روایت میں ہے کہ نوروظلمت کو پیدا کیا اور ایک روایت میں ہے نور مصطفیٰ ﷺ کو پیدا کیا، اس کے بعد فرماتے ہیں :
ان روایات میں تطبیق یہ ہے کہ اوّلیت اضافی امر ہے، اور جس چیز کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اوّل ہے، تو وہ مابعد کے لحاظ سے ہے۔
(علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی(متوفی ۸۵۵ھ) ، عمدۃ القاری، طبع بیروت، ج۱۵، ص۱۰۹)
۳۰۔ محدّث جلیل حضرت ملا علی قاری رحمہ اﷲ تعالیٰ مختلف روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
’’معلوم ہوگیا کہ مطلقاً سب سے پہلی شئے نورِ محمدی ہے، پھر پانی، پھر عرش، اس کے بعد قلم، نبی اکرم ﷺ کے ماسوا سب میں اولیتِ اضافی ہے‘‘۔
(علی بن سلطان محمد القاری : الموردالروی :ص۴۴)
۳۱۔ حضرت ملا علی قاری ’’مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’علامہ ابن حجر نے فرمایا ، اوّل مخلوقات کے بارے میں مختلف روایات ہیں اور ان کا حاصل جیسے کہ میں نے شمائل ترمذی کی شرح میں بیان کیا ہے کہ سب سے پہلے وہ نور پیدا کیا گیا ، جس سے نبی اکرم ﷺ پیدا کئے گئے، پھر پانی، اس کے بعد عرش‘‘۔
(المرقاۃ شرح مشکوٰۃ : طبع ملتان :ج۱، ص۱۴۶)
۳۲۔ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں :
’’اوّل حقیقی نور محمدی ہے جیسے میں نے ’’المورد للمولد‘‘ میں بیان کیا ہے‘‘۔
(المرقاۃ، ج۱، ص۱۶۶)
۳۳۔ پھر مرقاۃ کے صفحہ ۱۹۴ پر فرماتے ہیں :
’’ہمارے نبی ﷺ کا ذکر پہلے کیا گیا، اس لئے کہ آپ رتبے میں پہلے ہیں یا اس لئے کہ آپ وجود میں پہلے ہیں… نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے : ’’ اوّل ما خلق اﷲ نوری اور کنت نبیا وآدم بین الروح والجسد‘‘ ( اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا …اور میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم (علیہ السلام) روح اور جسم کے درمیان تھے) ‘‘۔
۳۴۔ ایک جگہ مختلف روایات میں تطبیق کا دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’اولیت امور اضافیہ میں سے ہے، لہذا تاویل یہ کی جائے گی کہ امور مذکورہ (قلم، عقل، نوری، روحی، عرش) میں سے ہر ایک اپنی جنس کے افراد میں سے پہلے ہے، پس قلم دوسرے قلموں سے پہلے پیدا کیا گیا اور حضور سید عالم ﷺ کا نور ، تمام نوروں سے پہلے پیدا کیا گیا‘‘۔
(المرقاۃ : ج۱، ص۱۶۷)
یہی امام جلیل رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’رہا نبی اکرم ﷺ کا نور، تو وہ مشرق و مغرب میں انتہائی ظاہر ہے اور سب سے پہلے اﷲ تعالیٰ نے آپ ہی کا نور پیدا کیا، اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کا نام نور رکھا، اور نبی اکرم ﷺ کی دعا میں ہے اللھم اجعلنی نوراً اے اﷲ مجھے نور بنادے(اس کے بعد چند آیات مبارکہ نقل کی ہیں) لیکن اس نور کاظہور اہل بصیرت کی آنکھ میں ہے، کیونکہ(صرف) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، لیکن سینوں میں دل اندھے ہو جاتے ہیں‘‘۔
(موضوعات کبیر : مطبوعہ مجتبائی دہلی، ص۸۶)
اس کے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں کی بصیرت کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہیں، ان کی طرف ہمارا روئے سخن ہی نہیں ہے۔
۳۶۔ علامہ نجم الدین رازی رحمہ اﷲ تعالیٰ(متوفی۶۵۴ھ)… احادیث نقل کرنے کے بعد مختلف روایات میں تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’قلم، عقل اور روح تینوں سے مراد ایک ہی ہے ، اور وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی روح ہے‘‘۔
(علامہ نجم الدین رازی : مرصاد العباد، طبع ایران، ص۳۰)
۳۷۔ حضرت امام ربانی، مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ حقیقت محمدیہ علیہ افضل الصلوات واکمل التسلیمات ظہور اوّل ہے، اور بایں معنی حقیقۃ الحقائق ہے کہ تمام حقائق خواہ وہ انبیاء کرام کی ہوں یا ملائکہ کی، اس حقیقت کے لئے سائے کی حقیقت رکھتی ہیں اور حقیقت محمدیہ تمام حقیقتوں کی اصل ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اوّل ما خلق اﷲ نوری(سب سے پہلے اﷲ تعالیٰ نے میرا نور پیدا کیا) اور یہ بھی فرمایا: خلقت من نور اﷲ والمومنون من نوری(میں اﷲ تعالیٰ کے نور سے پیدا کیا گیا اور مومن میرے نور سے) لہذا آپ اﷲ تعالیٰ اور تمام حقیقتوں کے درمیان واسطہ ہیں، کسی بھی شخص کا آپ کے واسطے کے بغیر مطلوب تک پہنچنا محال ہے‘‘(فارسی سے ترجمہ)۔
(امام ربانی شیخ احمد سرہندی : مکتوبات فارسی، مطبوعہ مکتبہ سعیدیہ لاہور، حصہ نہم، دفتر سوم، ص۱۵۳)
۳۸۔ عارف باﷲ علامہ عبدالوھاب شعرانی رحمہ اﷲ تعالیٰ(متوفی ۹۷۳ھ) فرماتے ہیں :
’’اگر تو کہے کہ حدیث میں وارد ہے کہ سب سے پہلے میرا نور پیدا کیا گیا ، اور ایک روایت میں ہے، اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا، ان میں تطبیق کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ان دونوں سے مراد ایک ہے، کیونکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حقیقت کو کبھی عقلِ اوّل سے تعبیر کیا جاتا ہے اور کبھی نور سے‘‘۔
(امام عبدالوھاب شعرانی : الیواقیت والجواہر، مطبوعہ مصر، ج۲، ص۲۰)
۳۹۔ حضرت شیخ عبدالکریم جیلی علیہ الرحمہ(متوفی۸۰۵ھ) نے بھی یہی تطبیق دی ہے کہ عقل، قلم اور روح مصطفیٰ ﷺ سے مراد ایک ہی چیز ہے صرف تطبیق کا فرق ہے۔
(علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی (لبنان)،جواہر البحار، ج۴، ص۲۲۰)
۴۰۔ تاریخ خمیس میں ہے :
’’محققین کے نزدیک ان احادیث سے مراد ایک ہی شئے ہے، حیثیتوں اور نسبتوں کے اعتبار سے عبارات مختلف ہیں، پھر’’شرح مواقف‘‘ سے بعض ائمہ کا یہ قول نقل کیا ہے :
’’عقل، قلم اور روحِ مصطفیٰ ﷺ کا مصداق ایک ہی ہے‘‘۔
(علامہ حسین بن محمد دیارالبکری ، تاریک الخمیس، ج۱، ص۱۹)
(دیار البکر، موصل (عراق) کے قریب ایک علاقہ کا نام ہے)
۴۱۔ امام المناطقہ میر سید زاہد ہروی، ’’ملا جلال‘‘کے حوشی کے منہیہ میں فرماتے ہیں :
’’علم تفصیلی کے چار مرتبے ہیں، پہلے مرتبے کو اصطلاحِ شریعت میں قلم، نور اور عقل کہتے ہیں، صوفیاء اسے عقلِ کل اور حکماء عقول کہتے ہیں‘‘۔
(میر زاہد ہروی، حاشیہ ملا جلال، مطبع یوسفی لکھنؤ، ص۹۶)
۴۲۔ علامہ اقبال رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :
لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب گنبدِ آبگینہ رنگ، تیرے محیط میں حباب
(کلیات اقبال (اُردو)، مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنزز، لاہور، ص۴۰۵)
اگر زحمت نہ ہو تو ایک مرتبہ پھر ان حوالہ جات پر طائرانہ نظر ڈال لیجئے اور پوری دیانت داری سے بتائیے کہ کیا کوئی صاحب علم، ہوش وحواس کی سلامتی کے ساتھ ان حوالوں کو یہ کہہ کر رد کرسکتا ہے کہ یہ حضرات جاہل اور گمراہ تھے، اگر اب بھی کوئی شخص یہ کہنے پر مصر ہے تو اسے اپنا دماغی معائنہ کرانا چاہئے۔
دوسرا اعتراض
احسان الٰہی ظہیر نے لکھا ہے :
’’یہ کس نے کہا ؟ کہ اُمت کا کسی حدیث کو قبول کرلینا اس درجہ تک پہنچا دیتا ہے کہ اس کی سند کی طرف نظر ہی نہیں کی جائے گی‘‘۔ (احسان الٰہی ظہیر : البریلویہ : ص۱۰۳)
جواب
آئیے آپ کو دکھائیںکہ علماء اُمت کے کسی حدیث کو قبول کرنے کا کیا مقام ہے؟
(۱) عمدۃ المحدثین حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ امام بخاری اور مسلم کی روایت کردہ حدیث، خبرواحد ہونے کے باوجود یقین کا فائدہ دیتی ہے، کیونکہ اس میں صحت کے کئی قرائن پائے گئے ہیں، ان میں سے ایک قرینہ یہ ہے کہ علماء اُمت نے ان کی کتابوں کو قبول کیا ہے، اس گفتگو کے بعد علامہ ابن حجر مکی فرماتے ہیں !
’’وھذا التلقی وحدہ اقوی فی افادۃ العلم من مجرد کثیرۃ الطرق القاصرۃ عن التواتر‘‘
یقین کے لئے تواتر سے کم درجہ کثرت طرق کے مقابلے میں علماء اُمت کا قبول کرنا زیادہ مفید ہے۔
(امام احمد بن حجر عسقلانی، نزھۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر، طبع ملتان، ص۲۵۔۲۴)
غور فرمایا آپ نے؟ مطلب یہ ہے کہ کسی حدیث کی سندوں کی کثرت(جب کہ تواتر سے کم ہو) اس قدر مفید یقین نہیں، جس قدر علماء اُمت کا کسی حدیث کو قبول کرلینا مفید یقین ہے ۔
(۲) حضرت علی مرتضیٰ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے ایک شخص نماز کو حاضر ہوا اور امام ایک حال میں ہو تو مقتدی اسی حال کو اختیار کرے۔
امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ کسی نے اس حدیث کو کسی دوسری سند سے روایت کیا ہو، اس کے باوجود امام ترمذی نے فرمایا :
’’والعمل علی ھذ ا عند اھل العلم‘‘ اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے۔
امام نووی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔
حضرت ملا علی قاری رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :
فکان الترمذی یرید تقویۃ الحد یث بعمل اھل العلم
گویا امام ترمذی اہل علم کے عمل کے ذریعے اس حدیث کو تقویت دینا چاہتے ہیں۔
(علامہ علی بن سلطان محمد القاری، مرقاۃ المفاتیح، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ج۳، ص۹۸)
حضرت سیدنا جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت کے بارے میںہم چند حوالے اس سے پہلے پیش کرچکے ہیں، تو کوئی وجہ نہیں کہ اس حدیث کو یک لخت ردّ کردیا جائے اور اس کے بیان کرنے کو ناجائز اور گناہ قرار دیا جائے۔
ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ لاہور کے مدیر حافظ صلاح الدین یوسف(غیر مقلد) کا ناروا انداز ملاحظہ ہو، لکھتے ہیں:
’’صاحب المواہب علامہ قسطلانی(متوفی۹۲۳ھ) نویں دسویں صدی ہجری کے بزرگ ہیں، ان کے اور رسول اﷲ ﷺ کے درمیان نو سو سال کا طویل فاصلہ ہے، جب تک درمیان کی یہ کڑیاں مستند سلسلہ سے نہ جوڑی جائیں گی، اس وقت تک موصوف کی بے سند نقل کردہ روایات پایہ اعتبار سے ساقط سمجھی جائے گی، اس اعتبار سے سوال میں مذکورروایت بالکل بے اصل ہے، اس کو بیان کرنا بہت بڑا گناہ ہے‘‘۔
(حافظ صلاح الدین یوسف، ہفت روزہ الاعتصام، لاہور، شمارہ ۲۳؍ مارچ ۱۹۹۰ء، ص۸)
امام قسطلانی نے یہ حدیث ’’مصنف عبدالرزاق‘‘کے حوالے سے بیان کی ہے، صرف انہوں نے ہی نہیں ، بلکہ بہت سے جلیل القدر محدثین اور اصحاب کشف بزرگانِ دین نے بھی اسے روایت کیا ہے، تفصیل اس سے پہلے گزر چکی ہے، اتنے جلیل القدر ائمہ کرام کو بہت بڑے گناہ کا مرتکب قرار دینا، جیسے الاعتصام کے مدیر نے کیا ہے، خود گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔
حیرت ہے کہ مصنف عبدالرزاق کو تو معتمد کتاب تسلیم کیا جاتا ہے اور جب ثقہ محدثین اور اہل علم اس کے حوالے سے حدیث بیان کریں تو کہا جاتا ہے یہ حدیث تب مقبول ہوگی، جب تم اپنی پوری سند بیان کروگے، یہ ایسے ہی ہے جیسے آج کوئی شخص بخاری شریف کے حوالے سے حدیث بیان کرے اور اسے کہا جائے کہ تمہارے اور امام بخاری کے درمیان صدیوں کا فاصلہ حائل ہے، تمہارا حوالہ اُس وقت تک قابل قبول نہیں، جب تک تم اپنی سند امام بخاری تک بیان نہ کرو بلکہ بقول صلاح یوسف(غیر مقلد) چودہ سو سالہ درمیانی کڑیاں ملانا پڑیں گی اور ظاہر ہے یہ مطالبہ قابل قبول نہیں ہے۔
تیسرا اعتراض
احسان الٰہی ظہیر ، امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’انہوں نے اپنے رسالہ’’صلاۃ الصفا‘‘ میں ایک موضوع اور باطل روایت درج کی ہے اور اس کی نسبت کہا ہے کہ حافظ عبدالرزاق نے اسے مصنف میں بیان کیا ہے، حالانکہ وہ روایت مصنف میں نہیں ہے‘‘۔(احسان الٰہی ظہیر : البریلویہ(عربی)، ص۱۰۲)
اس سے پہلے متعدد حوالوں سے بیان کیا جا چکا ہے کہ اس حدیث کو عالم اسلام کے جلیل القدر علماء، محدثین اور ارباب کشف وشہود نے بیان کیا ہے، اور اس سے استدلال کیا ہے، اس کے باوجود اس حدیث کو موضوع اور باطل قرار دینا قطعاً غلط ہے، رہا یہ سوال کہ اس حدیث کے سلسلے میں عبدالرزاق کا حوالہ دیا جاتا ہے، مصنف عبدالرزاق چھپ چکی ہے اور اس میں یہ حدیث نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال اس وقت صحیح ہوتا جبکہ ناشرین کو مکمل نسخہ دستیاب ہوا ہوتا، وہ تو خود تسلیم کررہے ہیں ہمیں مکمل نسخہ کہیں سے نہیں مل سکا، اس کتاب کے مرتب اور ناشر نے کتاب الطہارۃ کی ابتدا میں یہ نوٹ دیا ہے :
’’اس جلیل دفتر(مصنف) کی طباعت اور تیاری کے سلسلے میں جن نسخوں پر ہمیں آگاہی ہوئی ہے یا ہم نے مخطوطے یا فوٹو کاپی کی صورت میں حاصل کئے ہیں، ان کی تفصیل آپ مقدمہ میں پائیں گے ان شاء اﷲ! وہ سب ناقص ہیں، ہاں آستانہ(ترکی) کے کتب خانہ میں ملا مراد کا نسخہ کامل ہے لیکن اس کی ابتدا میں طویل نقص ہے اور اصل کی پانچویں جلد بھی ابتداء سے ناقص ہے‘‘۔
(حبیب الرحمن اعظمی : مصنف عبدالرزاق،طبع بیروت، ج۱، ص۳)
اب یہ فیصلہ تو ناظرین ہی کریں گے کہ جن لوگوں کے پاس مصنف کا مکمل نسخہ ہی موجود نہیںہے، ان کا یہ کہنا کس طرح قابل قبول ہوسکتاہے؟ کہ چونکہ یہ حدیث مصنف میں موجود نہیں ہے، اس لئے موضوع ہے، جب کہ دوسری طرف تاریخ اسلام کے نامور اور مستند علماء اسے مصنف کے حوالے سے بیان کررہے ہیں، بدیہی بات ہے کہ ان کا بیان ہی قبول کیا جائے گا۔
امام علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں :
’’جس شخص کو علم اور لوگوں کی روایت کے ساتھ تھوڑا سا تعلق بھی ہے، وہ اس امر میں شک نہیں کرے گا کہ اگر امام مالک اسے بالمشافہہ کوئی خبر دیں تو وہ یقین کرلے گا کہ امام نے سچی خبر دی ہے‘‘۔
(امام احمد بن حجر عسقلانی، شرح نخبۃ الفکر، طبع ملتان، ص۲۷)
یہی بات ہم بھی کہتے ہیں کہ علم ودیانت سے تعلق رکھنے والا ہر شخص باور کرے گا کہ عا لم اسلام کی نامور شخصیات، جن کے حوالے اس سے پہلے گزر چکے ہیں، اگر بالمشافہہ اسے بیان کریں کہ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی حدیث امام عبدالرزاق نے مصنف میں بیان کی ہے، تو وہ اس بیان میں یقیناً سچے ہوں گے۔
چوتھا اعتراض
غیر مقلدین کے ایک امام مولوی محمددا ئود غزنوی نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت پر اعتراض کیا ہے !
’’ لیکن یہ کہنا نبی اکرم ﷺ، اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کے ذاتی نور سے پیدا ہوئے، نہ صرف یہ کہ جہالت ہے، بلکہ صریح کفر ہے، اس لئے کہ اس کا معنی یہ ہوگا کہ ذاتِ الٰہی کا نور، مادہ ہوا، آپ کی پیدائش کا، گویا آپ ذاتِ الٰہی کے جز ہیں… العیاذ باﷲ اور یہ عقلاً وشرعاً غلط ہے… نیز اگر اﷲ سبحانہ وتعالیٰ وتقدس نے اپنے نور کا ایک حصہ الگ کرکے آپ کے وجود تیار کیا، تو معاذ اﷲ ! معاذ اﷲ ! اﷲ جل شانہٗ کے ذاتی نور کا ایک جزو کم ہوگیا‘‘۔
(محمددائود غزنوی : ہفت روزہ الاعتصام، لاہور، شمارہ ۲۳؍ مارچ ۱۹۹۰ء، ص۱۱)
’’نور نبیک من نورہٖ‘‘، غزنوی صاحب نے سمجھا کہ لفظ ’’من‘‘ تبعیضیہ ہے، لہذا یہ معنی کشید کیا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے نور کا ایک حصہ الگ کرکے آپ کے وجود کو تیار کیا، یہ خیال نہ کیا کہ لفظ ’’من‘‘ کئی دوسرے معنوں کے لئے بھی آتاہے، درس نظامی کی ابتدائی کتاب’’ما ٔ تہ عامل‘‘ میں وہ معانی دیکھے جاسکتے ہیں، اس جگہ لفظ ’’من‘‘ ابتدائیہ اتصالیہ ہے، جس کا مفاد یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے نور سے کسی چیز کے واسطے کے بغیر آپ کا نور پیدا کیا، اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔
ارشاد ربانی ہے :
’’ وَکَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلَی مَرْیَمَ وَرُوحٌ مِّنْہُ‘‘(سورۃ النساء، آیت ۱۷۱)
علامہ سید محمد آلوسی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
’’ کلمہ من مجازاً ابتدائِ غایت کے لئے ہے، تبعیضیہ نہیں ہے، جیسے کہ عیسائیوں نے گمان کیا، کہتے ہیں کہ ہارون الرشید کے دربار کا ایک ماہر طبیب عیسائی تھا، اُس نے ایک دن علامہ علی بن حسین واقدی مروزی سے مناظرہ کیا اور کہا کہ تمہاری کتاب(قرآن پاک) میں ایک آیت ہے ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، اﷲ تعالیٰ کے جز ہیں اور یہی آیت پیش کی(وروح منہ)، علامہ واقدی نے یہ آیت پیش کی :
’’وسخر لکم ما فی السمٰوٰت وما فی الارض جمیعا منہ‘‘
(اور تمہارے لئے وہ سب چیزیں مسخر کیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب اس کی طرف سے ہیں)
کہنے لگے کہ تمہاری بات مان لی جائے تو لازم آئے گا کہ سب چیزیں اﷲ تعالیٰ کی جز ہوں، عیسائی لا جواب ہو گیا اور اسلام لے آیا، ہارون الرشید بہت خوش ہوا اور واقدی کو گراں قدر انعام سے نوازا‘‘۔
(علامہ سید محمود آلوسی، تفسیر روح المعانی، طبع ایران، ج۶، ص۲۳)
عیسائی طبیب کی سمجھ میں بات آگئی اور وہ اسلام لے آیا، اَب دیکھئے منکرین اور معترضین کی عقل میں یہ بات آتی ہے اور وہ تسلیم کرتے ہیں یا اپنے انکار پر ہی ڈٹے رہتے ہیں ؟ دیدہ باید!
علامہ زرقانی فرماتے ہیں :
’’ ای ! من نور ھو ذاتہ لا بمعنی انھا مادۃ خلق نورہ منھا بل بمعنی تعلق الارادۃ بہ بلا واسطۃ شیئٍ فی وجودہ‘‘
( امام محمد عبدالباقی زرقانی: شرح مواہب لدنیہ، ج۱، ص۵۵)
’’یعنی اس نور سے پیدا کیا جو ذاتِ باری تعالیٰ کا عین ہے، یہ مطلب نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات مادہ ہے، جس سے نبی اکرم ﷺ کا نور پیدا کیا گیا، بلکہ آپ کے نور کے ساتھ کسی چیز کے واسطے کے بغیراﷲ تعالیٰ کے ارادے کا تعلق ہوا‘‘۔
اس وضاحت کے بعد غزنوی صاحب کے دونوں اعتراض اُٹھ جاتے ہیں۔
امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں :
’’حاش ﷲ ! یہ کسی مسلمان کاعقیدہ کیا گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ نور رسالت یا کوئی چیز معاذ اﷲ ! ذاتِ الٰہی کا جز یا عین و نفس ہے، ایسا عقیدہ ضرور کفرو ارتداد ہے‘‘۔
(اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی ، مجموعہ رسائل نوروسایہ، طبع لاہور، ص۳۶)
پانچواں اعتراض
احسان الٰہی ظہیر لکھتے ہیں :
’’ قرآن و حدیث کی نصوص سے نبی اکرم ﷺ کی بشریت ثابت ہے اور یہ حدیث اپنے ظاہر کے اعتبارسے ان نصوص کے مخالف ہے۔
واقع بھی اس حدیث کے خلاف ہے، آپ کے والدین تھے، حلیمہ سعدیہ نے آپ کو دودھ پلایا، آپ نے اُمہات المؤمنین سے نکاح کیا، آپ کی اولاد تھی، آپ کے رشتہ دار اور سسرال تھے‘‘۔ (ترجمہ ملخصاً)
(احسان الٰہی ظہیر: البریلویہ، عربی، ص۱۰۳)
یہ عبث گفتگو اس مفروضے پر مبنی ہے کہ اہل سنت وجماعت(بریلویوں) کے نزدیک حضور نبی اکرم ﷺ صرف نور ہیں اور بشر نہیں ہیں ، حالانکہ ہمارا یہ عقیدہ ہر گز نہیں ہے، جیسے کہ اس سے پہلے بیان ہوا۔
چھٹا اعتراض
پرتگال کے ایک صاحب نے اوّل مخلوق کے بارے میں وارد احادیث کے درمیان تطبیق دینے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ : صحیح حدیث میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے پانی پیدا کیا، حدیث نور ثابت ہی نہیں ہے ، تو تطبیق کی کیا ضرورت اور گنجائش ہے؟ ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تطبیق ہم نے نہیں دی، ہم تو ناقل ہیں ، پوچھنا ہو تو سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ، شیخ عبدالکریم جیلی، علامہ عبدالوہاب شعرانی، ، علامہ حسین بن محمد دیار بکری، علامہ بدرالدین محمود عینی اور حضرت ملا علی قاری رحمہم اﷲ تعالیٰ سے پوچھئے، جنہوں نے تطبیق دی ہے اور اوّل مخلوق حضور نبی اکرم ﷺ کے نور کو قرار دیا ہے، ان کے نزدیک حدیث نور ثابت نہ ہوتی تو تطبیق ہی کیوں دیتے؟ حوالے اس سے پہلے دیے جاچکے ہیں۔
پرتگال کے اسی علامہ کا خیال ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے پانی پیدا کیا، اس دعوے پر بطور دلیل یہ آیت پیش کی :
وجعلنا من المآ ئِ کل شیئٍ حیٍ
اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔
ان کے خیال میں حدیثِ نور اس آیت کے خلاف ہے اور تطبیق کی ضرورت نہیں، کیونکہ حدیث نور ثابت ہی نہیں ہے۔
اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ آیت مبارکہ میں مطلق موجودات کا ذکر نہیں کیا گیا ، بلکہ اجسام اور خصوصاً حیوانات کا ذکر ہے۔
علامہ سید محمود آلوسی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
’’یعنی ہم نے پانی سے ہر حیوان کو پیدا کیا، یعنی ہر چیز کو جو حیاتِ حقیقیہ سے متصف ہے، یہ تفسیر کلبی اور مفسرین کی ایک جماعت سے منقول ہے، اس کی تائید اس آیت کریمہ سے ہوتی ہے :
واﷲ خلق کل دابۃٍ من مائٍ اﷲ تعالیٰ نے ہر چوپائے کو پانی سے پیدا کیا۔
(علامہ سید محمود آلوسی : تفسیر روح المعانی، طبع ایران، ج۱۷، ص۳۴)
ظاہر ہے کہ آیت وحدیث میں مخالفت ہی نہیں ہے، آیت مبارکہ میں حیوانات کو پانی سے پیدا کئے جانے کا ذکر ہے اور حدیث نور میں کسی حیوان اور جسم کا ذکر نہیں ہے، بلکہ ایک مجرد کا ذکر ہے جو تمام اجسام بلکہ تمام انوار سے پہلے پیدا کیا گیا اور وہ تھا نور مصطفیٰ ، (حضور نبی اکرم ﷺ)۔
لطیفہ
احسان الٰہی ظہیر کہتے ہیں کہ ایک بریلوی نے اُردو میں یہ شعر کہا ہے : ؎
وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہوکر اُتر پڑا ہے مدینہ میں مصطفیٰ ہوکر (احسان الٰہی ظہیر، البریلویہ، ص۱۰۵)
اﷲ اکبر! اجلّہ علماء کرام کی ایک جماعت نے مصنف عبدالرزاق کے حوالے سے عظمت مصطفیٰ ﷺ کو ظاہر کرنے والی ایک حدیث بیان کی، تو اسے یہ لوگ بے سند کہہ کر رد کردیتے ہیں اور اس طرح انکار حدیث کا دروازہ کھولتے ہیں، دوسری طرف خود یہ شعر نقل کردیا اور یہ تک نہ سوچا کہ ہم کس منہ سے یہ شعر بریلویوں کے سر تھوپ رہے ہیں، نہ کوئی حوالہ نہ کوئی سند، ہمارے نزدیک یہ شعر اپنے ظاہری معنی کے اعتبار سے غلط ہے۔
بے سایۂ و سایہ بانِ عالم
سایہ کثیف اجسام کا ہوتا ہے، لطیف اشیاء مثلاً ہوا، اور فرشتوں کا سایہ نہیںہوتا، حضور نبی اکرم ﷺ نور مجسم ہیں، اس لئے آپ کے جسم اقدس کا سایہ نہ تھا، امام احمد رضابریلوی قدس سرہٗ نے حدیث شریف اور ائمہ متقدمین کے ارشادات کی روشنی میں یہ مسئلہ بیان کیا، ظاہر ہے کہ جس شخص کا دل نورِ ایمان سے روشن ہوگا، وہ اپنے آقاومولا رحمۃ للعالمین، محبوب رب العالمین ﷺ کے کمالات عالیہ اور فضائل سن کر جھوم جائے گا، اور ’’آمنا وصدقنا‘‘ کہے گا، مخالف یہ کہہ کر دامن نہیں چھڑا سکے گا کہ یہ تو بریلویوں کے خرافات ہیں، کیونکہ اس باب میں جن اکابر کے نام آتے ہیں ان پر بریلویت کی چھاپ نہیں لگائی جاسکتی، یہ تو وہ بزرگ ہیں جو صدیوں پہلے گزر چکے ہی، آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
۱۔ سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں :
’’رسول اﷲ ﷺ کے لئے سایہ نہ تھا اور نہ کھڑے ہوئے آفتاب کے سامنے مگر یہ کہ ان کا نور عالم افروز خورشید کی روشنی پر غالب آگیا اور نہ قیام فرمایا چراغ کی ضیاء میں ، مگر یہ کہ حضور کے تابش نور نے اس چمک کو دبالیا‘‘۔
(امام عبدالرحمن ابن جوزی، کتاب الوفا، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ج۲، ص۴۰۷)
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے ارشاد مبارک سے ثابت ہوا کہ حضور نبی اکرم ﷺ صرف معنوی نورہی نہیں ہیں، حسّی نور بھی ہیں۔
۲۔ امام نسفی رحمہ اﷲ تعالیٰ’’تفسیرمدارک‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضور ﷺ سے عرض کیا، بے شک اﷲ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کا سایہ زمین پر نہ ڈالا کہ کوئی شخص اس پر پائوں نہ رکھ دے‘‘۔
(امام عبداﷲ بن احمد نسفی، تفسیر مدارک، طبع بیروت، ج۳، ص۱۳۵)
۳۔ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے’’خصائص کبریٰ‘‘ میں ایک باب کا عنوان قائم کیاہے :
’’ باب الآیۃ فی انہ صلی اﷲ علیہ وسلم لم یکن یری لہ ظل‘‘
نبی اکرم ﷺ کا یہ معجزہ کہ آپ کا سایہ نہیں دیکھا جاتا تھا، اس باب میں حکیم ترمذی کے حوالے حضرت ذکوان کی روایت لائے ہیں کہ سرور دو عالم ﷺ کا سایہ نظر نہ آتا تھا، دھوپ میں اور نہ چاندنی میں۔ (ترجمہ)
اس کے بعد محدّث ابن سبع کا یہ ارشاد لائے ہیں :
حضور اکرم ﷺ کے خواص میں سے ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا اور آپ نور ہیں، اس لئے جب دھوپ یا چاندنی میں چلتے، آپ کا سایہ نظر نہ آتا تھا، بعض علماء نے کہا اس کی شاہد وہ حدیث ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے اپنی دعا میں عرض کیا کہ مجھے نور بنادے‘‘۔
(امام عبدالرحمن بن ابوبکر سیوطی، خصائص کبریٰ، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ج۱، ص۶۸)
۴۔ علامہ سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ اپنی دوسری تصنیف’’انموذج اللبیب فی خصائص الحبیب‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’نبی اکرم ﷺ کا سایہ زمین پر نہ پڑا، حضور ﷺ کا سایہ نظر نہیںآیا نہ دھوپ میں نہ چاندنی میں…ابن سبع نے فرمایا : اس لئے کہ حضور نور ہیں…امام رزین نے فرمایا کہ حضور کے انوار سب پر غالب ہیں ‘‘۔
(امام عبدالرحمن بن ابوبکر سیوطی، انموذج اللبیب، مطبوعہ الکتاب، لاہور، ص۵۳)
۵۔ امام علامہ قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’حضور اکرم ﷺ کے معجزات میں سے وہ بات ہے جو بیان کی گئی کہ آپ ﷺ کے جسم انور کا سایہ نہ دھوپ میں ہوتا نہ چاندنی میں، اس لئے کہ حضور نور ہیں‘‘۔
(امام قاضی عیاض بن موسیٰ اندلسی،الشفاء عربی ، طبع ملتان، ج۱، ص۲۴۳)
۷۔ علامہ شہاب الدین خفا جی علیہ الرحمہ نے’’شرح شفاء‘‘ میں کسی قدر گفتگوکے بعد اپنی ایک رباعی بیان کی، جس کا ترجمہ یہ ہے :
’’احمد مصطفیٰ ﷺ کے سائے کا دامن ، حضور کی فضیلت وکرامت کی بناء پر زمین پر نہ کھینچا گیا، جیسے کہ محدثین کرام نے کہا ہے، یہ عجیب بات ہے اور اس سے عجیب تر یہ کہ تمام لوگ آپ کے سائے میں ہیں‘‘۔
نیز فرمایا :
قرآن پاک کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نور ہیں اور آپ ﷺ کا بشر ہونا، اس کے منافی نہیں ہے، جیسے کہ وہم کیا گیا ہے، اگر تو سمجھے تو وہ آپ ﷺ’’نور علیٰ نور ‘‘ ہیں‘‘۔
(علامہ احمد شہاب الدین خفاجی، نسیم الریاض، مکتبہ سلفیہ، مدینہ منورہ، ج۳، ص۲۸۲ )
۷۔ علامہ قسطلانی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ :
’’نبی اکرم ﷺ کا دھوپ اور چاندنی میں سایہ نہ تھا، اسے حکیم ترمذی نے ذکوان سے روایت کیا، پھر ابن سبع کا حضور اکرم ﷺ کے نور سے استدلال اور حدیث’’اجعلنی نورا‘‘ سے استشہاد کیا‘‘۔
(علامہ احمد بن محمد قسطلانی، مواہب لدنیہ مع زرقانی، ج۴،۲۵۳)
۸۔ اسی طرح ’’سیرت شامیہ‘‘ میں ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ امام حکیم ترمذی نے فرمایا :
اس میں حکمت یہ تھی کہ کوئی کافرسایہ اقدس پر پائوں نہ رکھے۔
(علامہ محمد بن یوسف شامی، سبل الہدیٰ والرشاد، طبع مصر، ج۲، ص۱۲۳)
۹۔ امام زرقانی نے اس پر تفصیلاً گفتگو کی ہے۔
(علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی، شرح مواہب، ج۴، ص۲۵۳)
۱۰۔ امام علامہ بوصیری کے’’قصیدہ ہمزیہ‘‘ کی شرح مین علامہ سلیمان جمل نے یہی بیان کیا۔
(علامہ سلیمان جمل، فتوحات احمدیہ شرح ہمزیہ، المکتبۃ التجاریۃالکبریٰ، مصر، ص۵)
۱۱۔ اسی طرح’’کتاب الخمیس فی احوال انفس نفیس‘‘ میں ہے۔
( علامہ حسین بن محمد دیار بکری، تاریخ الخمیس، مؤ سسۃ الشعبان، بیروت، ج۱، ص۲۱۹)
۱۲۔ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہٗ فرماتے ہیں :
عالم شہادت میں کسی بھی شخص کا سایہ اُس سے لطیف ہوتا ہے اور چونکہ پورے جہان میں آپ سے زیاہ لطیف کوئی نہیں ہے، تو آپ کا سایہ کس طرح ہوسکتا ہے؟۔
(الف۔ شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی، مکتوبات امام ربانی، فارسی حصہ نہم، دفتر سوم، طبع لاہور، ص۱۵۳) (ب۔ شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی، مکتوبات امام ربانی، اُردو، مدینہ پبلشنگ، کراچی، ص۱۵۵۳)
۱۳۔ شیخ محقق شاہ عبدالحق محدّث دہلوی قدس سرہٗ العزیز نے حکیم ترمذی کی روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا :
حضور نبی اکرم ﷺ کے ناموں میں سے ایک نام نور ہے، اور نور کا سایہ نہیں ہوتا۔
(شیخ محقق شیخ عبدالحق محدّث دہلوی، مدارج النبوۃ فارسی، مکتبہ نوریہ رضویہ، سکھر، ج۱، ص۲۱)
۱۴۔ علامہ عبدالرئوف مناوی(متوفی۱۰۰۳ھ)نے امام ابن مبارک اور ابن جوزی کے حوالے سے سیدنا ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی حدیث نقل کی ہے۔
(علامہ عبدالرئوف مناوی، شرح شمائل ترمذی، مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر، ج۱،ص۴۷)
۱۵۔ تفسیر عزیزی میں سورۃ الضحیٰ کی تفسیر میں ہے :
نبی اکرم ﷺ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔
(شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی، تفسیر عزیزی، فارسی، مسلم بک ڈپو، دہلی، ص۳۱۲)
احسان الٰہی ظہیر نے لکھا ہے :
’’انہوں(مولانا احمد رضا) نے اپنے اماموں سے نقل کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺکا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا اور یہ کہ آپ نور تھے۔
(احسان الٰہی ظہیر، البریلویۃ، عربی، ص۱۰۵)
اہل سنت وجماعت ! مبارک ہوکہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے لے کر امام ربانی مجدد الف ثانی اور شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی تک جن حضرات نے سرکارِ دو عالم ﷺکے سائے کی نفی کی ہے، وہ سب ہمارے امام ہیں، غیر مقلدین کے نہیں، اگر اُن کے امام ہوتے تو یہ کیوں کہا جاتا کہ’’انہوں نے اپنے اماموں سے نقل کیا ہے‘‘ آئیے سرسری نظر سے جائزہ لیں کہ ظہیر صاحب نے کن کن حضرات کو امام ماننے سے انکار کیا ہے ۔
(۱)حضرت ابن عباس(۲)حضر ت عثمان غنی (۳)امام جلال الدین سیوطی(۴)امام نسفی، صاحب مدارک(۵)امام قاضی عیاض(۶)علامہ شہاب الدین خفاجی(۷)جلیل القدر تابعی، حضرت ذکوان(۸)امام ابن سبع(۹)امام حکیم ترمذی(۱۰)علامہ محمد بن یوسف شامی(۱۱)امام احمد بن قسطلانی(۱۲)امام زرقانی(۱۳) علامہ سلیمان جمل(۱۴)علامہ حسین بن محمد دیار بکری(۱۵)امام ربانی مجدد الف ثانی(۱۶)شیخ عبدالحق محدّث دہلوی(۱۷)امام عبدالرئوف مناوی(۱۸)شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی قدس اﷲ تعالیٰ اسرارہم۔