Skip to content

شیعہ کا عقیدۂ امامت

ردِّ شیعتعقائدِاہلسنت

پیش لفظ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم الحمد للّٰہ الذی اصطفیٰ والصلوٰۃ والسلام علی محمدہ المصطفیٰ وعلی آلہ التقی واصحابہ المنقی۔

اما بعد! فقیر اویسی غفرلہ نے مسئلہ امامت عقیدہ شیعہ کی تحقیق رسالہ لفظ امام کی تحقیق میں تفصیل لکھی ۔روح البیان کے ترجمہ کے دوران وجعلنا للمتقین اماماً پر مختصر ساحاشیہ لکھا۔ اسے علیٰحدہ کتابی صورت میں مع اضافہ ہدیۂ ناظرین کیا ہے ۔

وما توفیقی الا باللّٰہ العلیٰ العظیم وصلی اللّٰہ علی حبیبہ الکریم الامین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین ۔

یکم جمادی الاوّل ۱۴۲۴؁ھ بروز جمعرات بعد صلوٰۃ اشراق کراچی باب المدینہ

تمہید

شیعوں میں امام کا وہی تصور ہے جو اہلسنّت کے نزدیک نبی کا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔ جیسا کہ فقیر اویسی غفرلہ نے اپنی کتاب آئینۂ مذہب شیعہ میں تفصیل سے لکھا ہے یہاں بقدرِ ضرورت لکھا جاتاہے ۔

جس امام کا تصور شیعہ نے ظاہر کیا ہے اسے اہلسنّت غلط اوربے بنیاد سمجھتے ہیں کیونکہ جس امام کا تصور شیعہ نے کیا ہے اس کا ثبوت نہ قرآن مجید میں ہے نہ احادیث ِ مبارکہ میں ۔ یہ ابنِ سبا کی پارٹی کا من گھڑت عقیدہ ہے ورنہ جب اس عقیدہ کا مرتبہ عقیدئہ نبوت سے بھی فزوں تر ہے تواس کا تقدس بھی اتنا ہی لازمی ہے پھر جس طرح نبوت کی صفت کا سوائے نبی کریم کے کسی دوسرے پر اطلاق حرام ہے جیسے کہ مرزا قادیانی کے اطلاقِ نبوت پر اسے کافر قرار دے دیا گیا ہے اسی طرح امامت کی صفت کااطلاق بھی سوائے امام معصوم کے کسی دوسرے پر حرام ہوگا۔ حالانکہ آیت ہذا میں امام کا اطلاق ہر نیک نمازی پر ہے اورآیۃ ائمۃ الکفر میں کفار کے لیڈروں پر۔ اب سنیے شیعوں کا عقیدہ۔

عقیدۂ شیعہ

شیعہ کہتے ہیں کہ مسئلہ امامت اصولِ دین میں ہے اوراس مسئلہ کی ایجاد پر ان کو اس قدر ناز ہے کہ اگر ان کو امامیہ کہا جائے توبہت خوش ہوتے ہیں۔

سُنّی عقیدہ

اہلسنّت کہتے ہیں کہ شیعوں کا مفروضہ مسئلہ امامت دینِ الہٰی کی سخت ترین بغاوت ہے کیونکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ۔ ہاں جن دلائل سے یہ لوگ امامت کا عقیدہ ثابت کرتے ہیں وہ ہے خلافت۔ اورخلافت ہمارے نزدیک حق ہے لیکن اس کے وہ شرائط نہیں جو شیعوں نے گھڑے ہیں کیونکہ شیعہ کی بیان کردہ شرائط کا کوئی وجود نہیں۔

شرائط

شیعہ کہتے ہیں کہ رسول کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اگر انہی کا مثل کوئی معصوم دُنیا میں موجود نہ ہواور رسول اللہ ﷺکی طرح اس کی اطاعت لوگو ں پر فرض نہ ہو تولوگوں کو ہدایت کس سے حاصل ہوگی ۔ غیر معصوم کی اتباع میں سوا گمراہی کے اورکیا حاصل ہوسکتاہے ۔کیونکہ غیر معصوم سے ہر وقت خطا کا صادر ہونا ممکن ہے ۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ رسول کے بعد ہر زمانے میں قیامت تک ایک معصوم مفترض الطاعۃ دنیا میں موجود ہو تاکہ سعادت مند لوگ اس سے دین حاصل کریں اور خدا کی حجت بندوں پر قائم رہے ۔ اسی معصوم مفترض الطاعۃ کو جو ہر صفت میں رسول کا مثل اورمانند ہے اما م کہتے ہیں ۔ آنحضرت ﷺکے بعدقیامت تک کے لئے خدا کی طرف سے بارہ امام مقرر ہوچکے ہیں اوربارہویں امام پر دنیا کاخاتمہ ہے ۔

اہلسنّت کا موقف

اہلسنّت کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺکے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ہدایت خلق اللہ اوربندوں پر حجتِ خداوندی قائم رکھنے کے لئے جو چیزیں کافی ہیں اور جو قیامت تک موجود رہیں گی قرآن اورسنت یہی دو ثقلین ہیں جن کے اتباع کا رسولِ خدا ﷺحکم دے گئے اور فرماگئے کہ ان کا اتباع کرنے سے تم میں ہر گز گمراہی نہ آئے گی ۔ یہ بھی فرماگئے کہ دونوں چیزیں قیامت تک موجود رہیں گی ۔ لہٰذا آپ کے بعد نہ کسی کو آپ کا مثل اورمعصوم مفترض الطاعۃ ماننے کی ضرورت اورنہ کسی غیر معصوم کے اتباع کی حاجت۔

قیامِ خلافت اورسُنّی شرائط

ہاں یہ ضرورہے کہ آں حضرت ﷺکے بعدایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو شاہانہ اقتدار کے ساتھ آنحضرت ﷺکا نائب بن کر دین کے ان مہمات کو انجام دیتارہے ۔ جن کی انجام دہی بغیر شاہانہ اقتدار کے نہیں ہوسکتی ۔ مگراس شخص کے معصوم ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ رسول کی طرح دین کا ماخذ نہیں ۔ قرآن وسنت کی پیروی جس طرح اور مسلمانوں پر فرض ہے بالکل اسی طرح اس شخص پر بھی ۔ دین میں ذرہ برابر تغیر وتبدل کرنے کا اس شخص کو اختیار نہیں۔ نہ حرام کو حلال کرسکتاہے نہ حلال کو حرام۔ اس شخص کی اطاعت بھی صرف انہیں باتوں میں ضروری ہے جو قرآن وسنت کے خلاف نہ ہوں ۔ جیسا کہ آیت اولی الامر میں اس کو صاف ارشاد فرمایا ہے ۔ اسی شخص کو خلیفہ یا امام کہتے ہیں ۔

سُنّی وشیعہ کی اختلافی نوعیت

خلیفہ یاامام کا انتخاب بھی اُمت کے ذمہ ہے بالکل اسی طرح جیسے امامِ نماز کا تقرر مقتدیوں کے ذمّہ ہے اگر اُمت کسی نالائق شخص کو خلافت کے لئے منتخب کرے گی تو گنہگار ہوگی جس طرح مقتدی کسی نالائق شخص کواما م بنالینے سے گنہگار ہوتے ہیں ۔

سوال

قرآن وسنّت ہدایت کے لئے کافی نہیں ہیں اس لئے کہ بہت لوگ ایسے ہوں گے جو قرآن وسنت کے مطالب معلوم کرنے کے لئے کسی بیان کرنے والے کے محتاج ہوں گے اوروہ غیر معصوم ہوگا تو لامحالہ ان کو غیر معصوم کی اتباع کرنی پڑے گی اوروہی سب خرابیاں لازم آئیں گی جو غیر معصوم کے اتباع میں ہوتی ہیں۔

جواب

اس چیز کو اگر غیر معصوم کا اتباع قرار دیا جائے تواس سے کسی حال میں مفر نہیں ہوسکتا۔ معصوم کی موجودگی میں بھی یہ کام کرنا پڑتا ہے کیونکہ معصوم کسی ایک مقام میں ہوں گے ۔ اس مقام کے بھی سب لوگ ہرہربات میں معصوم کی طرف رجوع نہیں کرسکتے۔ اوردوسرے مقامات کے لوگوں کا تو ذکر ہی کیا لامحالہ ان کو کسی غیر معصوم سے معصوم کے احکام معلوم کرنا پڑیں گے ، خواہ وہ معصوم کا نائب ہی کیوں نہ ہو۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلافت بھی حاصل ہوئی پھر بھی وہ کوئی ایسا انتظام نہ کرسکے کہ ہر معاملہ میں لوگ ان سے ہدایت حاصل کرتے بلکہ خاص کوفہ میں اُن کی طرف سے ایک غیر معصوم قاضی مقرر تھا جو مقدمات کے فیصلے کرتاتھا۔

شیعہ مذہب میں اختلافاتِ ائمہ

شیعہ نے ایک عذر کیا تھا کہ نبی علیہ السلام کے بعد غیر معصوم لوگوں کا اختلاف ہوگا ہم کہتے ہیں کہ ائمہ کی موجودگی میں بھی اصحاب ائمہ میں باہم دینی مسائل میں اختلاف ہوتاتھا اوروہ اختلاف نزاع کی اس حد تک پہنچتا تھا کہ باہم ترکِ کلام وسلام کی نوبت آجاتی تھی اورکسی طرح اس کا تصفیہ نہ ہوتاتھا ۔ حتی کہ مجتہدین شیعہ کہتے ہیں کہ اصحاب ائمہ پر واجب نہ تھا کہ ائمہ سے یقین حاصل کریں ۔ ائمہ کی موجودگی ہی میں غیر معصوم کااتباع برابر جاری تھا اوراب تو کسی شیعہ کو کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ قدرت نے اس طرح ان کے خانہ ساز مسئلہ امامت کو خاک میں ملایا ہے ۔

شیعہ کے دُوسرے مفروضہ کا جواب

شیعہ کہتے ہیں کہ ہر زمانے میں ایک معصوم کا موجود ہونا ضروری ہے تاکہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں۔ مگر جناب حسن عسکری کے بعد جن کی وفات ۲۶۰ ؁ھ میں ہوئی آج تک کہ گیارہ سوپینتالیس اُوپر کئی سال ہوئے کوئی امام معصوم نہیں ہے اورشیعہ بھی غیر معصومین ہی کااتباع کررہے ہیں اورروایات ہی پران کا بھی عمل ہے اب کوئی پوچھے کہ غیر معصوم کااتباع کرکے تم گمراہ ہوئے یا نہیں ۔اورجب روایات ہی پر عمل کرنا ٹھہرا تو رسول اللہ ﷺکی روایات نے کیا قصور کیا ہے کہ ان کو چھوڑ کر کسی دوسرے غیر نبی کی باتوں پر عمل کیا جائے ۔

شیعہ کی بڑ

شیعہ کہتے ہیں کہ امام معصوم موجود تو ہیں مگروہ نظروں سے پوشیدہ ایک غار کے اندر تشریف فرما ہیں ان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا اورنہ اُن سے ہدایت حاصل کرسکتاہے ۔

ہم اہلسنّت کہتے ہیں کہ جب انہیں کوئی دیکھ بھی نہیں سکتااوران سے ہدایت بھی حاصل نہیں کرسکتا ۔ توپھر ان کا وجود عدم کے برابر ہے ۔ اورپھر اگر ایسا موجود ہونا کافی ہے توہمارے نبی کریم ﷺبھی اپنی قبر انور میں زندہ موجود ہیں اورایسی زندگی کے ساتھ کہ اس عالم کی کروڑوں زندگیاں اس پر قربان ہیں یعنی حقیقی حیات کے ساتھ زندہ ہیں جس میں شیعہ کو بھی اختلاف نہیں اگر بالواسطہ احکام کا اجراء شرعاً جائز ہے توپھراس کے حضور ﷺزیادہ حقدار ہیں کیونکہ آپ ہی اپنے احکام کے ذمہ دار ہیں ۔ پھر یہ کہاں کا اصول ہے کہ نبی علیہ السلام کا در چھوڑ کر سرمن غار غیر معروف مقام کے لئے امام مہدی کو تلاش کرتے پھریں جب کہ شیعہ مذہب میں ان کے وجود کا اقرار ہے باقی فرقے ان کی موجودگی کے قائل ہی نہیں۔

اصل حقیقت

بانیانِ مذہب شیعہ کا مقصود اصلی دینِ اسلام کو خراب کرنا تھا اوروہ اسی لئے مسلمانوں کے لباس میں آکر اپنی کاروائیاں کررہے تھے ۔

لہٰذا انہوں نے ایک طرف تو قرآن کو محرف کہنا شروع کردیا ، دوہزار سے زیادہ روایتیں قرآن میں ہر قسم کی تحریف کی تصنیف کرلیں، اوردوسری طرف قرآن کو معمہ اورچیستان مشہور کیا۔ تیسری طرف تمام صحابہ کرام کوکاذب قرار دیا تاکہ رسولِ خدا ﷺکے معجزات اورتعلیمات جو انہیں صحابہ کرام سے منقول ہیں قابلِ اعتبار نہ رہیں۔ اورچوتھی طرف یہ کاروائی کی کہ رسولِ خدا ﷺکے بعد بارہ شخص آپ کے مثل معصوم اورمفروض الطاعۃ تجویز کیے اوران کے اختیارات یہ بیان کیے کہ:

فھم یحلّون مایشاء ون ویحرّمون مایشاء ون……(اصول کافی ،ص۲۷۰)

یعنی یہ ائمہ جس چیز کو چاہیں حلال کردیں اورجس چیز کو چاہیں حرام کردیں تاکہ مسلمانوں کو رسولِ خدا ﷺسے استغنا ہوجائے۔

یہ وہ باتیں ہیں کہ بانیانِ مذہب شیعہ کے اصلی مقصود کو عالم آشکار کر رہی ہیں ۔ غضب خدا کا کہا تویہ جائے کہ ہم غیر معصوم کے اتباع سے بچنے کے لئے دوازدہ اماموں کو مانتے ہیں اوررسولِ خدا ﷺکی حدیثیں چونکہ غیر معصومین سے منقول ہیں اس لئے نہیں لیتے اورپھر غیر معصومین کا اتباع بھی کیا جائے اورغیر معصومین کی نقل کی ہوئی روایات بھی لی جائیں مگر رسول کی نہیں بلکہ ائمہ کی ۔ فقیر کی بیان کردہ باتوں پر غور فرمائیں ۔ اب دلائل پڑھیے:

قرآن اورامامت

قرآن مجید کو شروع سے اخیر تک کوئی پڑھے تواس کو سینکڑوں آیتیں اس مضمون کی ملیں گی کہ رسول کی اطاعت نجات کے لئے کافی ہے اوررسول ہی کے مبعوث ہونے سے خدا کی حجت قائم ہوتی ہے ۔ خدا کی طرف سے رسول ہی کی اطاعت مخلوق پر فرض کی گئی ہے ۔ قرآن مجید میں سوائے رسول کے اورکسی کی اطاعت کو خدا نے اپنی اطاعت نہیں فرمایا۔ نمونہ کے طور پر چند آیتیں حاضر ہیں باقی آیات مجموعی طور پر فقیر کی کتاب مرأۃ الدلائل میں ہیں۔

  1. قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ ویغفر لکم ذنو بکم ۔

    کہہ دیجئے اے نبی ! اگر تم دوست رکھتے ہو اللہ کو تو میری پیروی کرو محبت کرے گا تم سے اللہ اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔

  2. قل اطیعوااللّٰہ والرسول فان تولوا فان اللّٰہ لایحب الکافرین ۔(پارہ ،۱۸)

    فرمائیے اطاعت کرو اللہ اوراس کے رسول کی پھر اگر منہ پھیریں یہ لوگ تواللہ نہیں پسند کرتا کافروں کو ۔

  3. من یطع اللّٰہ ورسولہ ید خلہ جنت تجری من تحتھا الانھٰرخaldin فیھا وذٰلک الفوزالعظیم ۔ (پارہ،۴)

    جو شخص اطاعت کرے اللہ کی اوراس کے رسول کی تو داخل کرے گا اللہ باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ہمیشہ رہیں گے ان میں اوریہ بڑی کامیابی ہے ۔

  4. وما ارسلنا رسول الا لیطاع باذن اللّٰہ ۔ (پارہ ،۵)

    جو رسول ہم نے بھیجا وہ اسی لئے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے ۔

  5. من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ ۔(پارہ ، ۵)

    جس نے رسول کی اطاعت کی تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔

  6. رسلا مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللّٰہ حجۃ بعد الرسل۔ (پارہ ،۶)

    رسول خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے تاکہ نہ رہے کوئی حجت لوگوں کی اللہ پر رسول کے بھیجنے کے بعد۔

  7. واطیعو االلّٰہ واطیعواالرسول واحذروا۔ (پارہ ،۱۸)

    اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور نافرمانی سے بچتے رہو۔

  8. یامعشر الجن والانس لم یاتکم رسل منکم یقصّو ن علیکم ایاتی وینذر ونکم لقاء یومکم ھٰذا۔ (پارہ،۸)

    اے گروہ جن وانس ! کیا نہیں آئے تمہارے پاس رسول تم میں سے کہ بیان کرتے میرے احکام اورڈراتے تم کو اس دن کے ملنے سے ۔

  9. یابنی اٰدم اِمّا یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیاتی فمن اتقیٰ و اصلح فلاخوف علیھم ولا ھم یحزنون۔(پارہ ،۸)

    اے بنی آدم ! آئیں گے تمہارے پاس رسول جو تمہی میں سے ہوں گے بیان کریں گے تم سے میرے احکام پھر جو لوگ پرہیزگاری کریں گے اوراچھے کام کریں گے ان پر نہ کچھ خوف ہوگا نہ وہ رنجیدہ ہوں گے ۔

  10. یاایھا الذین اٰمنوا اطیعواللّٰہ ورسولہ لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ ۔(پارہ ،۲۱)

    اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی ۔تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی ذات میں اچھی پیروی ہے ۔

  11. ومن یطع اللّٰہ ورسولہ فقد فاز فوزاً عظیما۔(پارہ ،۲۲)

    جو اطاعت کرے گا اللہ کی اوراس کے رسول کی ،تو تحقیق وہ بڑی کامیابی کو پہنچ گیا۔

  12. وقال لھم خزنتھا الم یاتکم رسل منکم۔(پارہ ،۲۴)

    اورکہیں گے ان سے داروغہ جہنم کے کہ کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس رسول تم میں سے ۔

  13. مااتاکم الرسول فخذوہ وما نھا کم عنہ فانتھوا۔(پارہ ،۲۸)

    جو حکم دیں تم کو رسول اس پر عمل کرو اور جو منع کریں اس سے باز رہو۔

قاعدہ کلیہ

قرآن مجید میں ہر جگہ رسول ہی کی اطاعت کا حکم ہے انہی کی اوامر نواہی کو واجب الاتباع قرار دیا گیا ہے انہی کی اطاعت پر فوزِ عظیم اورجنت کا وعدہ ہے ۔ قبر سے لے کر حشر تک انہی کی اطاعت کا سوال ہوگا انہی کی اطاعت بعینہ خدا کی اطاعت قرار دی گئی ہے ۔

مسئلہ امامت کی تاریخی حیثیت

شیعہ مذہب کے عقائد ومسائل کو غور سے دیکھا جائے تو ۹۸ فیصد ایجاد بند ہ ثابت ہوں گے ۔چنانچہ فقیر نے آئینہ شیعہ مذہب میں ان کے ہر عقیدہ ومسئلہ پر واضح ثبوت لکھے ہیں ۔ سویہ عقیدئہ امامت بھی انہی ایجادات سے ہے جہاں تک فقیر اویسی غفرلہ نے کتبِ شیعہ کے مطالعہ سے نتیجہ نکالا ہے کہ امامت کا عقیدہ شیعوں نے تیسری صدی ہجری میں ایجاد کیا ہے اس کے اخفاء میں انہوں نے اورزیادہ کوشش کی اوراس بارے میں تقیہ سے کام لیتے رہے ۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ سُنّی اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ کی تصانیف میں ائمہ پر لفظ علیہ السلام کا اطلاق کرتے تھے اوران کو دوسرے بزرگوں کی طرح لفظ امام سے یاد کرتے تھے ان کو اس کا خیال بھی نہ ہوا کہ ان بزرگوں کے نام کے ساتھ امام اورعلیہ السلام کے الفاظ استعمال کرنے سے شیعوں کا باطل عقیدئہ امامت اہلسنّت میں جگہ حاصل کرے گا۔ شیعہ کے اسلاف اہلسنّت سے اپنے دین کو چھپاتے تھے اورناواقف سُنّیوں میں تدریجاً اپنے عقائد واعمال پھیلاتے تھے ۔

سوال

اسلاف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کے بعد بھی یہ استعمال پایا جاتاہے ۔

جواب

بعد والوں میں اختلاف ہوگیا ان میںجو حضرات بلا تکلف یہ الفاظ استعمال کرتے رہے توانہوں نے بھی اپنے پیشرو اکابر علماء کی پیروی کی اوران الفاظ کا رواج بڑھ گیا مگران حضرات کے حاشیہ خیال میں بھی امامت کے مذکورہ مخصوص معنی نہ تھے بلکہ یہ امام بمعنی مقتدا اور پیشوا استعمال کرتے تھے ۔علیہ السلام بھی محض تبعاً لکھ دیتے تھے جس میں اس لفظ کے لغوی معنی ملحوظ ہوتے تھے جیسے ہر مسلمان کو السلام علیکم کہتے ہیں ۔ اس کا ثبوت ان بزرگوں کے حالات ہیں جن پر نظر کرنے کے بعد کوئی بھی فہیم آدمی ان حضرات کے بارے میں اس قسم کا وہم نہیں کرسکتا۔ یہ حضرات اس معاملے میں معذور تھے ان پر کوئی اعتراض نہیں مگر اس معاملے میں ان کی پیروی نہ کی جائے گی کیونکہ اب یہ واقعہ بالکل واضح ہوچکا ہے کہ ان الفاظ کے استعمال سے شیعوں کے عقیدئہ امامت کو تقویت پہنچتی ہے یعنی اہلسنّت میں اس عقیدئہ باطلہ کی اشاعت ہوتی ہے اوراہلسنّت میں جو لوگ اس سے متاثر ہیں ان کے فاسد عقیدہ کو اس سے قوت حاصل ہوتی ہے اب اس روش کو ترک کرنا لازم ہے ۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ حضرت علی ، حضرت حسن ، حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے اسمائِ گرامی کے ساتھ حضرت یا سیّدنا اوررضی اللہ عنہ لکھنا اور بولنا چاہیے کیونکہ یہ سب حضرات صحابی ہیں ۔ بزرگان مذکورہ میں سے باقی حضرات مثلاً حضرت زین العابدین ،حضرت باقر رحمہم اللہ کے اسماء گرامی کے ساتھ رضی اللہ عنہ یا رحمہ اللہ لکھنا پڑھنا چاہیے تاکہ سُنّی وشیعہ کے درمیان فرق رہے تفصیل فقیر کے رسالہ علیہ السلام میں پڑھئے ۔

فقط والسلام ابو صالح محمد فیض احمد اویسی غفرلہ یکم جمادی الاوّل ۱۴۲۴؁ھ بہاول پور ۔پاکستان