بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اصل موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ولی کس کو کہتے ہیں اور کرامت کا کیا مطلب ہے؟ علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عقائد کی مشہور درسی کتاب شرح عقائد میں فرماتے ہیں: ’’ولی اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا عارف ہو، ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعتوں میں مصروف رہتا ہو، گناہوں سے بچتا ہو اور لذتوں اور خواہشات میں محو ہونے سے گریز کرتا ہو‘‘ (شرح عقائد، عربی، صفحہ۱۰۵) ایسے ہی حضرات کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے:
اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ کَانُوْا یَتَّقُوْنَ (یونس:۶۵) ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا‘‘
یعنی ولایت کی دو ہی بنیادیں ہیں، ایمان اور تقویٰ۔ لہٰذا جو شخص ایمان دار نہیں ہے یا ایمان تو رکھتا ہے لیکن اعمال صالحہ سے عاری ہے، وہ کچھ اور ہو تو ہو، ولی نہیں ہو سکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کرامت کسے کہتے ہیں؟ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: ’’ولی سے صادر ہونے والا وہ خلاف عادت امر جس کے ساتھ نبوت کا دعویٰ نہ ہو‘‘
نبوت کا دعویٰ نہ ہونے کی شرط اس لیے لگائی تا کہ کرامت اور معجزہ کا فرق ظاہر ہو جائے، کیوں کہ معجزہ نبی سے ظاہر ہوتا ہے اور کرامت سچے امتی سے ظاہر ہوتی ہے۔
کرامت کو سمجھنے کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ مریض کو ڈاکٹر کے پاس لے جaya گیا، ڈاکٹر نے اسے دوائیں دیں اور وہ مریض تن درست ہو گیا تو یہ کوئی خلاف عادت واقعہ نہیں ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے دواؤں کو سبب عادی بنایا ہے صحت کے لیے۔ جب کہ ایسا ہی ایک مریض اللہ تعالیٰ کے ولی کے پاس لے جایا گیا، اس ولی نے مریض کو پھونک ماری تو وہ بھی تندرست ہو گیا۔ ایک مریض ڈاکٹر کے علاج سے تندرست ہو گیا اور دوسرا ولی کے پھونک مارنے سے تندرست ہو گیا تو دوسری صورت کو کرامت کہیں گے۔ کیوں کہ پھونک مارنا صحت کے لیے سبب عادی نہیں ہے، ورنہ ہمارے پھونک مارنے سے بھی مریض تندرست ہو جائیں۔
اَب یہ دیکھنا ہے کہ کیا اولیاء کرام سے کرامات صادر بھی ہوتی ہیں یا نہیں؟ سب سے قوی اور سب سے اہم دلیل قرآن پاک ہے، آئیے فرقان حمید کی چند آیتیں تلاوت اور سماعت کریں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیاء کرام سے کرامات کا ظہور ہوا:
وَ کَفَّلَھَا زَکَرِیَّا کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْھَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقًا قَالَ یٓا مَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذَا قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (آل عمران:۳۷)
حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم رضی اﷲ عنہا کے بارے میں مفسرین فرماتے ہیں کہ وہ بچپن میں حضرت زکریاعلیہ السلام کی کفالت میں تھیں، حضرت زکریاعلیہ السلام دیکھتے کہ ان کے پاس گرمیوں میں سردیوں کے پھل موجود ہیں اور سردیوں میں گرمیوں کے۔ آپ نے پوچھا، یہ پھل تمہارے پاس کہاں سے آتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی جناب سے آتے ہیں۔
حضرت مریم رضی اﷲ عنہا نبیّہ نہیں تھیں، صدّیقہ تھیں، ان کی کرامات کا سلسلہ بچپن سے شروع ہوا، بے موسم پھل ملے، جوانی میں بغیر شوہر کے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بنیں، دیکھنے سننے والے انگشت بدنداں رہ گئے، طعن و تشنیع میں زبانیں دراز ہوئیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گہوارے میں لیٹے ہوئے فرمایا: ’’میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا‘‘
انھوں نے اس طرح اپنی والدہ ماجدہ کی عفت و پاک دامنی کی نا قابل تردید گواہی دی کہ مخالفین اور معترضین کی زبانیں گنگ ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے کھجور کے تنے کو اپنی طرف حرکت دی تو اس سے تر و تازہ کھجوریں گرنے لگیں:
وَ ھُزِّیْ اِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسَاقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا (۱۹:۲۵)
یہ سب حضرت مریم رضی اﷲ عنہاکی کرامتیں ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے انہیں بطور اعزاز عطافرمائیں۔دوسری آیت ملاحظہ ہو:
فَضَرَبْنَا عَلٰی آذَانِھِمْ فِی الْکَھْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاo ثُمَّ بَعَثْنٰھُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰٰی لِمَا لَبِثُوْا اَمَدًاo (۱۸:۱۲،۱۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک جابر بادشاہ دقیانوس تھا، بت پرستی سے انکار کرنے والوں کو قتل کرا دیتا، شہر افسوس کے سات ایمان دار افراد، اپنا ایمان بچانے کے لیے، آبادی چھوڑ کر پہاڑ کی ایک غار میں پناہ گزیں ہو گئے، بادشاہ نے اس غار کے آگے دیوار تعمیر کروا دی تا کہ وہ غار ہی ان حضرات کا قبرستان بن جائے۔ اصحاب کہف تین سو سال تک اس غار میں سوئے رہے، اس عرصے میں انہیں نہ کھانے کی حاجت پیش آئی، نہ پینے کی، یہ ان کی کرامت ہی تھی کہ تین سو سال تک کھائے پیے بغیر زندہ رہے۔ زمین اور زمینی کیڑوں مکوڑوں نے ان کے جسم کو کوئی نقصان نہ پہنچایا، تین سو سال بعد جب منظر عام پر آئے، تو لوگوں کو ماننا پڑا کہ جو رب اتنا عرصہ انہیں سلانے کے بعد جگانے پر قادر ہے، وہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ان کی کرامت اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حشر و نشر کی کھلی دلیل بن گئی۔ تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانd کے وزیر ’’آصف بن برخیا‘‘ کی روحانی قوت اور کرامت کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا:
قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ (النمل:۴۰) ’’جس کے پاس کتاب کا علم تھا، اس نے کہا، میں آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس آپ کے پاس لے آؤں گا‘‘
اللہ اکبر! یہ کتنی بڑی کرامت ہے کہ ایک لمحے میں ملک سبا سے ملکہ بلقیس کا تخت لا کر پیش کر دیا، جس کی لمبائی اسی گز اور چوڑائی چالیس گز تھی۔
کرامت حدیث شریف کی روشنی میں
دلائل شرعیہ میں سے دوسری دلیل حدیث شریف ہے، آئیے حدیث مبارکہ کی روشنی میں کرامت کی اہمیت سمجھنے کی کوشش کریں، امام بخاری، حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جس شخص نے میرے ولی سے دشمنی رکھی، میرا اس کے لیے اعلان جنگ ہے، میرے بندے نے فرائض سے بڑھ کر کسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کیا، (فرائض ادا کرنے کے بعد) میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں (یعنی میرے نور کا جلال) اس کے کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں، جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں، جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں ہوتا ہوں، جس کے ساتھ وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں ضرور اسے عطا کرتا ہوں اور اگر میری پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دوں گا‘‘ (صحیح بخاری، طبع کراچی، جلد۲، صفحہ۹۶۳) اللہ تعالیٰ اس ولی کی آنکھیں اور کان بن جاتاہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کثیر عبادت و اطاعت کے ذریعے، اللہ تعالیٰ کے جلال کا نور اس کی آنکھیں اور کان بن جاتا ہے۔ امام فخر الدین رازی اس حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جب اللہ تعالیٰ کے جلال کا نور، ولی کے کان بن گیا تو وہ قریب و بعید کو دیکھے گا اور جب وہ نور اس کا ہاتھ بن گیا تو وہ مشکل اور آسان کام اور قریب و بعید میں تصرف کر سکے گا‘‘ (فخر الدین رازی، امام، تفسیر کبیر، (طبع جدید، مصر)، جلد۲۱، صفحہ۸۹۱)
یاد رہے کہ جو صاحب ایمان فرائض، واجبات اور سنتوں پر عمل پیرا ہو اور حرام کاموں سے بچے وہ ولی ہے۔ لیکن حدیث شریف میں بیان کردہ مقام ہر ولی کو حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اولیاء کاملین میں سے بھی منتخب حضرات کو حاصل ہوتا ہے۔ اس حدیث کی وضاحت ترمذی شریف کی ایک حدیث سے ہوتی ہے، جس میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ (ترمذی، کتاب التفسیر) ’’مومن کی فراست سے بچو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے‘‘
خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کی کرامات
امام علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد آنے والے اولیاء عظام سے منقول واقعات، کرامات کی حقانیت کی دلیل ہیں، مثلاً:
- حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے (وفات سے پہلے وصیت کرتے ہوئے) حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو فرمایا: ’’تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، انہوں نے عرض کیا کہ محمد اور عبد الرحمن میرے دو بھائی ہیں، دو بہنیں کون سی ہیں؟ میری تو ایک ہی بہن ہے، حضرت اسماء۔ امام ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا، دوسری بہن تمہاری والدہ بنت خارجہ کے پیٹ میں ہے، میرے دل میں القاء کیا گیا ہے کہ وہ لڑکی ہے، چناں چہ حضرت اُم کلثوم پیدا ہوئیں‘‘
- حضرت سیدنا عمر فاروقh نے حضرت ساریہh کے واقعہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
یَا سَارِیَۃُ اَلْجَبَلَ اَلْجَبَلَ
’’اے ساریہ! پہاڑ کی پناہ لو، پہاڑ کی‘‘
حضرت ساریہ رضی اﷲ عنہ (مدینہ منورہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار میل کے فاصلے پر) مقام ’’نہاوند‘‘ میں (مصروف جہاد) تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کا پیغام حضرت ساریہ رضی اﷲ عنہ کو سنا دیا۔ اسی طرح دریائے نیل خشک ہو چکا تھا، حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے دریا کے نام ایک مکتوب لکھا، جس کی برکت سے دریا جاری ہو گیا۔
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی کرامت یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اﷲ عنہ انہیں سلام کرنے کے لیے حاضر ہوئے، بلوائیوں نے محاصرہ کر رکھا تھا، سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ’’میں اپنے بھائی کو خوش آمدید کہتا ہوں، مجھے اس کھڑکی میں رسول اللہ ﷺکی زیارت ہوئی، آپ ﷺنے فرمایا، عثمان! بلوائیوں نے تمہارا محاصرہ کر رکھا ہے، عرض کیا جی ہاں، فرمایا، انہوں نے تمہیں پیاسا رکھا ہے؟ عرض کیا جی ہاں، آپ ﷺنے ایک ڈول میری طرف لٹکایا، جس میں پانی تھا، میں نے پیٹ بھر کر پانی پیا، یہاں تک کہ مجھے اس کی ٹھنڈک سینے اور کندھوں میں محسوس ہو رہی ہے، پھر فرمایا، اگر چاہو تو تمہیں ان کے خلاف امداد دی جائے اور اگر چاہو تو ہمارے پاس افطار کرو، میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے پاس افطار کرنا چاہتا ہوں، چناں چہ اسی دن شہید کر دیے گئے‘‘ (الحاوی للفتاویٰ، (طبع بیروت) ،جلد۲، صفحہ۲۶۲)
اسد اللہ الغالب حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی کرامات حد شمار سے باہر ہیں، خیبر کے دن نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
لَاُعْطِیَنَّ ھٰذِہِ الرَّاْیَۃَ غَدًا رَجُلًا یُفْتَحُ عَلٰی یَدَیْہِ
’’ہم کل یہ جھنڈا اس شخص کو دیں گے جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح، کراچی، صفحہ۵۶۳)
چناں چہ آپ نے حضرت علی المرتضی رضی اﷲ عنہ کو جھنڈا عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔ انہوں نے خیبر کا دروازہ اکھیڑ کر پھینک دیا، آپ نے فرمایا:
وَ الـلّٰہِ مَا قَلَـعْتُ خَیْبَرَ بِقُوَّۃٍ جَسَدَانِیَّۃٍ وَ لٰــکِـنْ بِقُوَّۃٍ رَبَّانِیَّۃٍ (تفسیر کبیر، (طبع مصر)، جلد۲۱، صفحہ۹۱)
’’اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے خیبر (کا دروازہ) جسمانی طاقت سے نہیں بلکہ ربانی قوت سے اکھیڑا تھا‘‘ حضرت امام ابن ابی شیبہ راوی ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ گئے تو انہیں کہا گیا کہ آپ زہر سے بچیں، یہ عجمی آپ کو زہر پلا دیں گے، انہوں نے فرمایا: زہر لاؤ، زہر لائی گئی، آپ نے اپنے ہاتھ میں پکڑی اور بسم اللہ پڑھ کر پی گئے، زہر نے انہیں کچھ نقصان نہ دیا۔(شیخ بلال حلاق، منارا لہدی، (بیروت) شمارہ۴۱، صفحہ۲۹)
حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ روم کے علاقے میں لشکر سے بچھڑ گئے، دشمن نے انہیں قیدی بنا لیا، کسی طرح قید سے نکل بھاگے، راستے میں ایک شیر مل گیا، آپ نے فرمایا: اے ابوالحارث! (شیر کی کنیت) میں رسول اللہ ﷺکا مولیٰ (غلام) ہوں، شیر دم ہلانے لگا اور لشکر تک پہنچا کر واپس چلا گیا۔(مشکوٰۃ شریف (عربی)، صفحہ۵۴۵)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے ایک جگہ ہجوم دیکھا، وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ راستے میں ایک شیر بیٹھا ہوا ہے، اس لیے آمد و رفت منقطع ہے، آپ نے اس کے قریب جا کر ڈانٹ پلائی تو وہ دم دبا کر بھاگ گیا۔(حجۃ اللّٰہ علی العالمین، جلد۲، صفحہ۸۶۶)
صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ کی ظاہری حیات میں حاضر ہو کر فیضان نظر حاصل کیا، ولایت عظمیٰ کے مقام پر فائز ہوئے اور دل و جان سے اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب مکرم ﷺکی اطاعت کی اور اس جاں نثاری کا مظاہرہ کیا کہ عشق و محبت کی تاریخ میں امر ہو گئے۔ ان کی استقامت علی الدین ہی ہر کرامت سے بڑی کرامت ہے۔
اس امت کے اولیاء کرام رضی اﷲ عنہم
پہلی امتوں کے ولی حضرت آصف بن برخیا رضی اﷲ عنہ کی کرامت کا اس سے پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ انہوں نے ایک لمحہ میں تخت بلقیس لا کر حاضر کر دیا، اس امت کے اولیاء کاملین کی کیا شان ہو گی، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
’’تم بہترین امت ہو، جنہیں تمام انسانوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے‘‘ حضرت محبوب سبحانی، قطب ربانی شیخ عبد القادر جیلانی رضی اﷲ عنہ کی کرامات تو شہرہ آفاق ہیں، یہاں تک کہ شیخ الاسلام عز الدین بن عبدالسلام اور ابن تیمیہ نے تسلیم کیا ہے کہ حضرت شیخ کی کرامت حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ (ابو الحسن علی ندوی، تاریخ دعوت و عزیمت، (کراچی)، جلد۱، صفحہ۲۵۸)
سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:
اَفَلَتْ شُمُوْسُ الْاَوَّلِیْنَ وَ شَمْسُنَا
اَبَدًا عَلٰی اُفُقِ الْعُلٰی لا تَغْرُبٗ
’’پہلوں کے سورج غروب ہو گئے اور ہمارا سورج ہمیشہ بلندیوں کے افق پر رہے گا اور غروب نہیں ہو گا‘‘ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں: سورج سے مراد ہدایت و رہنمائی کے فیض کا آفتاب ہے اور غروب ہونے سے مراد فیض کا ختم ہو جانا ہے۔ جب حضرت شیخ تشریف لائے تو آپ ہی رشد و ہدایت کے پہنچنے کا واسطہ بنے، جب تک فیض کا سلسلہ جاری رہے گا آپ ہی کے واسطے سے ہو گا۔(شیخ احمد سرہندی، امام ربانی، مکتوبات فارسی، (طبع ترکی)، جلد۲، صفحہ۵۸۵)
حضرت شیخ سید احمد رفاعی کبیر رضی اﷲ عنہ کی مشھور کرامت ہے کہ جب وہ مدینہ منورہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا:
فِیْ حَالَۃِ الْبُعْدِ رُوْحِیْ کُنْتُ اُرْسِلُھَا
تُقَـبِّلُ الْاَرْضَ عَنِّیْ وَ ھِیَ نَائِبَتِیْ
وَ ھٰذِہٖ دَوْلَۃُ الْاَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ
فَامْدُدْ یَمِیْنَکَ کَیْ تَحْظٰی بِھَا شَفَتِیْ
’’میں ظاہری دوری کی حالت میں اپنی روح کو بھیجتا تھا جو میری نیابت میں زمین کو چومتی تھی، اب میں جسمانی طور پر حاضر ہوا ہوں، آپ اپنا دست اقدس بڑھائیں تاکہ میرے ہونٹ اسے چومنے کی سعادت حاصل کریں‘‘
حاضرین نے سر کی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ سرکار دوعالم ﷺکا دست اقدس ظاہر ہوا اور حضرت شیخ نے اسے بوسہ دیا۔ (الحاوی للفتاوی، عربی، (بیروت)، جلد۲، صفحہ۲۶۱) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں: ’’مشائخ نقشبندیہ کے عجیب تصرفات ہیں، وہ اپنی ہمت اور توجہ کسی مراد پر مرکوز کر دیتے ہیں تو وہ پوری ہو جاتی ہے، وہ طالب کی طرف توجہ کرتے ہیں تو بیمار کی بیماری دور ہو جاتی ہے، گنہگار کو توبہ کی توفیق مل جاتی ہے، وہ لوگوں کے دلوں میں تصرف کرتے ہیں تو ان کے دل محبت و تعظیم سے لبریز ہو جاتے ہیں۔(شفاء العلیل، صفحہ۶۱) عقائد اہل سنت کی مشہور درسی کتاب عقائد نسفی میں امام نجم الدین عمر نسفی فرماتے ہیں: ’’اولیاء کی کرامتیں بر حق ہیں، مثلاً تھوڑے سے وقت میں طویل فاصلہ طے کرنا، بوقت حاجت طعام، مشروب اور لباس حاصل ہونا، پانی پر چلنا، ہوا میں پرواز کرنا، جانور اور پتھروں کا کلام کرنا، ان کی طرف توجہ کرنے والے سے مصیبت کا دور ہونا اور دشمن کے خطرے کا ٹل جانا‘‘۔(عقائد مع شرح، (طبع دہلی)، صفحہ۱۰۶)
اہل سنت و جماعت کرامات اولیاء کے قائل ہیں، جب کہ معتزلہ منکر ہیں، انہوں نے کیوں انکار کیا؟ اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے علامہ تفتازانی کا ایک ارشاد پڑھیے، فرماتے ہیں: ’’اولیاء کرام کی کرامتیں تقریباً اتنی ہی مشہور ہیں جس قدر انبیاء کرام کے معجزے مشھور ہیں۔ اہل بدعت اور بد مذہبوں کی طرف سے کرامت کا انکار کرنا کچھ عجیب نہیں ہے، کیوں کہ انہوں نے نہ تو اپنی کرامتیں دیکھی ہیں اور نہ ہی اپنے ان بڑوں کی کرامتیں دیکھی ہیں، جو گمان کرتے تھے کہ ہم بھی کسی مقام پر فائز ہیں، حالاں کہ وہ عبادتوں کے ادا کرنے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے تھے، انہوں نے کرامتوں والے اولیاء پر اعتراض کیا، ان کی کھال نوچنے کی کوشش کی اور ان کا گوشت چبایا (یعنی ان کی غیبت کی) اور انہیں جاہل صوفیوں کے لقب سے یاد کرتے ہیں‘‘ (مسعود بن عمر تفتازانی، علامہ، شرح مقاصد، (لاہور)، جلد۲، صفحہ۲۰۴)
اس اقتباس سے یہ امر واضح ہو گیا کہ اصحاب کرامات اولیاء کرام صرف اہل سنت میں ہوئے ہیں، منکرین کے اکابر اس دولت اور سعادت سے محروم تھے۔
توسل اور استعانت
انبیاء کرام اور اولیاء سے مدد مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم جل شانہ کی بارگاہ میں اس کے پیاروں کا وسیلہ پیش کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بندوں کی مرادیں پوری فرماتا ہے۔ سراج الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ {اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعَیْن} کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے اس طرح مدد مانگنا کہ انسان اس مخلوق پر بھروسہ کرے اور اسے اللہ تعالیٰ کی امدادا کا مظہر نہ مانے تو یہ حرام ہے اور اگر توجہ محض اللہ تعالیٰ کی امداد کی طرف ہو اور اللہ تعالیٰ کے نظام اسباب اور حکم کو دیکھتے ہوئے اس مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی امداد کا مظہر جانے اور ظاہری طور پر اس سے مدد مانگے تو دل معرفت سے دور نہیں ہے اور یہ شریعت میں جائز ہے۔ مخلوق سے ایسی استعانت انبیاء اور اولیاء نے بھی کی ہے، در حقیقت یہ استعانت اللہ تعالیٰ ہی سے ہے، نہ کہ اس کے غیر سے‘‘ (عبد العزیز محدث دہلوی، شاہ، تفسیر عزیزی، فارسی، (دہلی)، جلد۱، صفحہ۸)
شیخ المحدثین حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں: ’’حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ جس بزرگ کی زندگی میں اس سے مدد طلب کی جاتی ہے، وفات کے بعد بھی اس سے مدد طلب کی جائے گی، میں نے چار مشائخ کو اپنی قبروں میں اسی طرح تصرف کرتے ہوئے دیکھا، جس طرح وہ اپنی زندگی میں تصرف کرتے تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ ایک حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اﷲ علیہ اور دوسرے شیخ سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ ۔ اس کے علاوہ دو اور بزرگوں کا ذکر کیا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف یہی چار بزرگ اپنی قبروں میں تصرف کرتے ہیں، بلکہ جو کچھ انہوں نے دیکھا وہی بیان کر دیا۔ تحقیق آیات و احادیث سے ثابت ہے کہ روح باقی (اور زندہ) ہے۔ اسے زائرین اور ان کے احوال کا علم اور شعور ہوتا ہے، کاملین کی روحوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب اس طرح ثابت ہے جس طرح زندگی میں تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، تاہم یہ ان کی روحوں کے لیے ثابت ہے اور ان کی روحیں باقی ہیں، حقیقی تصرف کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اور سب کچھ اس کی قدرت سے ہے، اولیاء کرام زندگی میں اور وفات کے بعد بھی اس کے جلال میں فنا ہوتے ہیں‘‘ (اشعۃ اللمعات، فارسی، جلد۱، صفحہ۷۱۵)
آخر میں مخالفین کے ایک عالم کا حوالہ بھی سن لیں، سید احمد بریلوی کے بھتیجے کا بیان ہے، وہ لکھتے ہیں: آدھی رات کے وقت ہم مقام سرف میں پہنچے جہاں ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اﷲ عنہا کا مزار ہے، عجیب اتفاق ہے کہ اس دن میں نے کچھ نہیں کھایا تھا، بھوک کی شدت کی وجہ سے میری طاقت جواب دے چکی تھی، روٹی حاصل کرنے کی بہت کوشش کی مگر کہیں سے نہ ملی، مجبوراً زیارت کے لیے حجرئہ مقدسہ میں گیا، میں نے مزار شریف کے سامنے فقیرانہ ندا کی کہ اے جدہ محترمہ! میں آپ کا مہمان ہوں، کھانے کے لیے کچھ عنایت فرمائیں اور اپنے الطاف کریمانہ سے مجھے محروم نہ فرمائیں۔ اس کے بعد میں نے سلام کیا، سورئہ فاتحہ اور سورئہ اخلاص پڑھ کر ان کی روح پرفتوح کو ایصال ثواب کیا، میں نے بیٹھ کر سر آپ کی قبر پر رکھا ہوا تھا کہ رزاق مطلق اور دانائے بر حق کی طرف سے تازہ انگور کے دو گچھے میرے ہاتھوں میں آ گئے۔ عجیب ترین بات یہ تھی کہ سردیوں کا موسم تھا اور کہیں بھی تازہ انگور میسر نہ تھے۔ میں حیران رہ گیا، ایک گچھا تو میں نے وہیں کھا لیا، حجرے سے باہر آ کر ایک ایک دانہ ساتھیوں میں تقسیم کر دیا اور میں نے یہ اشعار کہے:
یافت مریم گر بہ ہنگام شتا
میوہ ہائے جنت از فضل خدا
ایں کرامت در حیاتش بود و بس
بعد فوتش نقل نہ نمود است کس
بعد فوت زوج ختم المرسلین رضی اﷲ عنہا
رفتہ چندیں قرنہا اے دور بین
بنگر از وے ایں کرامت یافتم
مایہ صد گونہ نعمت یافتم
’’اگرچہ حضرت سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو سردی کے موسم میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جنتی میوے ملے، تاہم یہ کرامت صرف ان کی زندگی میں تھی، ان کی وفات کے بعد کسی نے یہ کرامت نقل نہیں کی۔ اے دور تک دیکھنے والے! حضور خاتم المرسلین ﷺ کی زوجہ محترمہ رضی اﷲ عنہا کی وفات کو کئی صدیاں گزر گئی ہیں، دیکھ کہ میں نے ان کی یہ کرامت پائی اور سو قسم کی نعمت کا سرمایہ حاصل کیا‘‘
فلسفۂ کرامت
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَ لِـــلّٰہِ الْــــعِزَّۃُ وَ لِــــــرَسُــــوْلِہٖ وَ لِــلْـمُـؤْمِنِـیْنَ وَ لٰـــکِــــنَّ الْـــمُـنَافِـــقِـیْنَ لا یَعْلَمُوْنَ (المنافقون:۸)
’’اللہ تعالیٰ کے لیے عزت ہے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے، لیکن منافقین نہیں جانتے‘‘ غور فرمائیں کہ ایک بندئہ مومن کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو اس کی دیت پچاس اونٹ ہے، جب کہ دس درہم چوری کرنے پر چور کا پورا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، فرق یہی ہے کہ وہ فرماں بردار بندہ ہے، اس کے ہاتھ کی قیمت پچاس اونٹ ہے اور چور اللہ تعالیٰ کا نا فرمان ہے، اس لیے اس کے ہاتھ کی قیمت صرف دس درہم۔ اللہ اکبر! جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عام بندئہ مومن کی یہ قدر و قیمت ہے تو اس کی بارگاہ میں اولیاء اللہ کی کیا قدر و قیمت ہو گی جو اپنی تمام زندگی اور تمام خواہشات رضاء الٰہی کے حاصل کرنے کے لیے قربان کر دیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے:
انَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰہِ مَن لَّوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَبَرَّہٗ [مشکوۃ، صفحہ۳۰۰]
’’بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قسم دے کر عرض کریں تو وہ ان کی قسم کو پورا کر دے گا‘‘
کرامات کے سننے اور سنانے کا فائدہ؟
اولیاء کرام کی عبادت و ریاضت، دینی اور تبلیغی خدمات اور ان کی کرامات کا تذکرہ اگرچہ بجائے خود ایک مقصد ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نازل ہونے کا باعث ہے، اولیاء کرام فرماتے ہیں:
تَنَزَّلُ الرَّحْمَۃُ عِنْدَ ذِکْرِ الصّٰلِحِیْنَ
’’اولیاء کرام کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے‘‘ تا ہم صرف یہ مقصد نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ان کی حیرت انگیز کرامات سن کر ذہنی طور پر لطف اندوز ہوں اور بس۔ دراصل امت مسلمہ کے اولیاء کرام کی کرامتیں نبی اکرم ﷺکے معجزات ہیں، جو آپ کی صداقت اور آپ کے دین کی عالم گیر حقانیت کی دلیل ہیں، لہٰذا کرامات اولیاء کے سننے اور بیان کرنے کے مقاصد یہ ہونے چاہئیں:
- اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت غالبہ پر ایمان مضبوط ہو۔
- نبی اکرم ﷺکی سچائی اور آپ کے دین کی صداقت کا یقین پختہ ہو۔
- اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہم پر نازل ہوں۔
- اس امر کا یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے اور اپنے حبیب ﷺ کے محبین اور فرماں برداروں کو نوازتا ہے اور بے حساب نوازتا ہے۔ آج کی حکومتیں فوجی جاں بازوں کو گولڈ میڈل، ہلال جرأت اور نشان حیدر سے نوازتی ہیں، تو کیا اللہ تعالیٰ جو خالق کائنات ہے، شاہوں کا شاہ ہے، اپنی راہ میں سب کچھ قربان کرنے والوں کو کوئی اعزاز نہیں دیتا؟ حاشا و کلا، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ سنیے! رب کریمد ارشاد فرماتا ہے:
مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لا یَحْتَسِبُ (۶۵:۳)
’’جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے، اللہ تعالیٰ اس کو نکلنے کا راستہ عطا فرمائے گا اور ایسی جگہ سے اسے رزق دے گا کہ اسے گمان بھی نہیں ہو گا‘‘