Skip to content

بد عقیدہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

ردِّ بدمذہبعقائدنماز

بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمد ہ ونصلی علی رسولہ الصادق الامین الکریم

سوالات

اس بارے میں عموماً تین سوال کئے جاتے ہیں :

  1. کئی مرتبہ سیدھے سادھے عوام اہل سنت سے بعض دیوبندی، وہابی لوگوں کو یہ کہتے سنا گیا کہ تمہارے اہل سنت بریلوی جب حج پر جاتے ہیں تو امام کعبہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے، توجب تم اُن کے پیچھے نماز ہی نہیں پڑھتے یا مجبوری سے پڑھ بھی لی تو اُسے دہراتے ہو ، تو تمہارا حج کیسے ہو گیا ؟
  2. اگر سعودی عرب کی حکومت والوں کا عقیدہ درست نہیں تو اﷲ تعالیٰ نے اُن کو وہاں کیوںمسلط کیا ہوا ہے؟ اور اﷲ تعالیٰ کو اپنے گھرپر اُن کی حکومت کس طرح برداشت ہے ؟
  3. جو لوگ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں حج کے موقع پر حرمین طیبین میں ایسے لوگوں کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں, ان کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟

جوابات

پہلا سوال

پہلے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ امام کعبہ کے پیچھے نماز پڑھنا حج کے مناسک میں داخل نہیں ہے، حج تو وقوف عرفات کا نام ہے، حج کی نیت سے جومسلمان مقررہ وقت میں میدان عرفات کی حدود میں پہنچ گیا ، اُس کا حج ہوگیا، لہذا امام کعبہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا حج سے کوئی تعلق نہیں۔

دوسرا سوال

دوسرا سوال بھی اسی طرح جاہلانہ ہے کہ کسی جگہ پر کسی کے قابض ہونے یا حکومت ہونے سے یہ ضروری نہیں کہ وہ حق پر بھی ہو، ایسا سوال کرنے والے یہ بتائیں کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہیں یا نہیں ؟ اگر محبوب ہیں اور یقیناً ہیں تو اﷲ تعالیٰ نے نمرود کو آپ پر کیوں مسلط کیا؟ کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈالا۔

حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہیں ، تو اﷲ تعالیٰ نے یزید پلید کو ان پر کیوں مسلط کیا؟ بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام جاہلین کفار کے زمانہ میں مبعوث ہوئے اور کفار نے ان کو تکالیف پہنچائیں ، اسی طرح حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ یقیناً اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہیں ، اس کے باوجود کفار مکہ کے مظالم کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کا حکم دیا۔

آسان بات یوں سمجھ لیں کہ قبلہ اوّل بیت المقدس پر یہودیوں کا قبضہ ہے ، کیااﷲ تعالیٰ نے اس لئے اُن کو وہاں مسلط کیاہوا ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کو پسند ہیں؟اگر کسی کا قبضہ ہونا حق کی دلیل ہے تو فلسطینی مجاہدین اسرائیل کے خلاف کیوں برسرپیکار ہیں؟ اور سارا عالم اسلام یہودیوں کے قبضہ کی مخالفت کیوں کررہا ہے؟

اگر سعودی حکومت کو حرمین طیبین پر قابض ہونے کی وجہ سے درست قرار دیتے ہو تو جو حکومتیں پہلے تھیں کیا وہ حق پر نہ تھے؟ اگر وہ حق پر نہ تھے تو اُن کی حکومتیں کس وجہ سے تھیں ؟

بات قبضہ یا مسلط ہونے کی نہیں ، بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کعبہ پر لاالٰہ الااﷲ محمد رسول اﷲ کا قبضہ ہے اور جس کا قبضہ ہو حکومت اسی کی ہے، حکومت سے یہاں اشخاص مراد نہیں ہوتے ،کیا آج کوئی لا الہ الااﷲ محمد رسول اﷲ کا انکار کرکے کعبہ پر حکومت کرسکتا ہے؟ جب سے حضور ﷺ نے کعبہ فتح کیا، اُس وقت سے آج تک حضور ﷺ کی حکومت ہے۔

تیسرا سوال

تیسرے سوال کے جواب میں علامہ سیّدی احمد سعید کاظمی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کی تحریر درج ذیل ہے ، حضرت علامہ کاظمی کریم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں !

’’اس سوال کا جواب سمجھنے کے لئے ایک مختصر تمہید عرض کرتا ہوں ، اگر اس تمہید کو غور سے پڑھ لیا تو ان شاء اﷲ نہایت آسانی سے جواب سمجھ میں آجائے گا، تمام اہل اسلام کے نزدیک یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ کسی امام کے پیچھے صحتِ اقتداء کے بغیر نماز درست نہیں ہوسکتی، جس کے لئے مقتدی وامام کے مابین ایک مخصوص رابطہ قائم ہوجانا ضروری ہے ، اس مخصوص رابطہ کے بغیر صحتِ اقتداء متصور نہیں، اس میں شک نہیں کہ یہ رابطہ ظاہری ، مادی اور جسمانی نہیں بلکہ یہ رابطہ صرف باطنی، روحانی اور اعتقادی ہے ، جس کا وجود امام اور مقتدی کے درمیان اصولی اعتقاد میں موافقت کے بغیر ناممکن ہے، شرک توحید کے منافی ہے اور کفروجاہلیت ،اسلام اور ایمان سے قطعاً متضاد ہے، اگر مقتدی جانتا ہے کہ میرا کوئی عقیدہ امام کے نزدیک شرکِ جلی یا کفروجاہلیت ہے، تو دونوں کے درمیان اعتقا دی موافقت نہ رہی، اور اس عدم مواقفت کے باعث صحتِ اقتداء کی بنیاد منہدم ہوگئی، ایسی صورت میں اس امام کے پیچھے اس کی نماز کا صحیح ہونا کیونکر متصور ہوسکتا ہے؟ اس دعویٰ کی دلیل یہ ہے کہ مثلاً کسی منکر ختم نبوت کے پیچھے کسی مسلمان کی نماز نہیں ہوتی، کیونکہ مقتدی ختم نبوت کا اعتقاد رکھتا ہے اور امام ختم نبوت کا منکر ہے، دونوں کے درمیان اعتقادی موافقت نہ ہونے کی وجہ سے صحتِ اقتداء کی بنیاد باقی نہ رہی، لہذا نماز نہ ہوئی ، توضیحِ مدعا کے لئے (فقہ حنفی کی کتاب) ’’ہدایہ‘‘ سے ایک جزئیہ کا خلاصہ پیش کرتا ہوں کہ اگر امام کی جہتِ تحری مقتدی کی جہت تحری سے مختلف ہو اور تاریکی یا کسی اور وجہ سے مقتدی کو اس اختلاف کا علم نہ ہوسکے تو اِس کی نماز درست ہے، اور اگر مقتدی امام کی جہتِ تحری کا علم رکھتے ہوئے اس کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے تو اس کی نماز فاسد ہوگی۔

صاحب ہدایہ نے اس فساد کی دلیل دیتے ہوئے فرمایا لِاَ نَّہٗ اعْتَقَدَ عَلَی الْخَطَائِ یعنی فسادِ صلوٰۃ کی دلیل یہ ہے کہ مقتدی نے اپنے امام کے خطاء ہونے کا اعتقاد کیا، اس سے واضح ہوا کہ نماز درست ہونے کے لئے ضروری ہے کہ کہ مقتدی امام کے خطاء پر ہونے کا معتقد نہ ہو، یعنی مطابقت اعتقاد ضروری ہے بشرطیکہ مقتدی امام کی خطاء سے باخبر ہو، اور اگر وہ امام کی خطاء سے لاعلم ہے تو ایسی صورت میں اس کی نماز ہوجاتی ہے۔

اس مختصر تمہید پر غور کرنے سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ مقتدی جب یہ جانتاہو کہ امام کے اعتقاد میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے اﷲ تعالیٰ کی عطا سے علم غیب ماننا کفروشرک ہے اور امام کے عقیدے میں انبیاء کرام وصالحین علیہم الصلوٰۃ والسلام سے استمداد بلکہ توسل تک شرک ہے اور امام مزارات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ومزارات اولیاء عظام علیہم الرحمۃ والرضوان کے لئے سفر کرنے بلکہ مزارات کی تعظیم وتکریم کو بھی شرک قرار دیتا ہے اور مقتدی ان تمام امور کو توحید اور اسلام کے عین مطابق سمجھتا ہے تو ایسی صورت میں عدم موافقتِ اعتقاد کی وجہ سے صحتِ اعتقاد کی بنیاد مفقود ہے ، پھر نماز کیونکر درست ہوسکتی ہے؟

مقتدی کی تین قسمیں

رہا یہ امر کہ ایام حج وغیرہ میں ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کی نمازوں کا کیا حکم ہوگا؟ تو میں عرض کروں گا کہ ہزاروں لاکھوں مسلمان جن کے اصولی عقائد امام سے مختلف ہیں ان کی تین قسمیں ہیں :

  1. اوّل: وہ جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان اصولی عقائد میں امام کا عقیدہ ہم سے مختلف ہے، ان کا حکم تمہید کے ضمن میں واضح ہو گیا ،ایسے لوگ اپنے علم کے مقتضا کے مطابق یقیناً مجتنب رہیں گے۔
  2. دوم: وہ مسلمان جو یہ جانتے ہیں کہ امام کے بعض عقائد ہمارے عقائد سے مختلف ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ اختلاف اصولی عقائد میں ہے اور ہمارے عقائد امام کے نزدیک کفروشرک ، معصیت وجاہلیت کا حکم رکھتے ہیں، یہ مسلمان محض حرمِ مکہ وحرم مدینہ اور مسجد حرام ومسجد نبوی کی عظمتوں اور عشق و محبتِ الٰہی ورسالت پناہی کے جذبات سے متاثر ہوکر اپنی غلط فہمی کی بنا پر اس امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، ان کی اس خطاء کے بارے میں اﷲ تعالیٰ کی رحمت ورأفت کے پیشِ نظر یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ رب کریم ان کی نمازوں کو رائیگاں نہیں فرمائے گا۔
  3. سوم: وہ مسلمان جنہیں سرے سے امام کے ساتھ اختلاف عقائد ہی نہیں وہ محض سادہ لوح ہیں، عشق ومحبت سے سرشار ہوکر حرم مکہ اور حرم مدینہ حاضر ہوئے اور انہوں نے بحالتِ لاعلمی اس امام کے پیچھے نمازیں پڑھیں ، ان کے متعلق بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے عفو کرم سے ان کی نمازوں کو ضائع نہ ہونے دے گا ، دوم اور سوم قسم کے مسلمانوں کی خطاء قابل عفو ہے، طبرانی میں حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے صحیح مرفوع حدیث مروی ہے رفع عن امتی الخطاء والنسیان وما استکر ھو ا علیہ ، اُٹھالیا لیا گیا میری اُمت سے خطاء اور نسیان کو اور اس چیز کو جس پر وہ مجبور کئے گئے یعنی ان تینوں حالتوں میں ان کا مواخذہ نہ ہوگا۔

مثنوی شریف میں مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور بکریاں چرانے والے ایک گڈرئیے کا واقعہ بطور تمثیل لکھا ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بکریاں چرانے والا گڈریا اﷲ تعالیٰ کی محبت میں کہہ رہا تھا کہ اے اﷲ تعالیٰ اگر تو میرے پاس آئے تو تجھے نہلائوں، تیرے بالوں میں کنگھی کروں ، تجھے دودھ پلائوں، تیرے پائوں دبائوں ، سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے سختی سے ڈانٹا اور ایسی باتوں سے منع فرمایا، اﷲ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ اے موسیٰ ! میرا بندہ میری محبت میں مجھ سے مخاطب تھا، آپ نے اسے کیوں روکا؟

میرا مقصد اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے سے صرف یہ ہے کہ سچی محبت اور سچا عشق اﷲ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں کا موجب ہوتا ہے، اس لئے اگر سچی محبت اور عشق والے مسلمان نے غلط فہمی یا بے خبری میں ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھ لی تو رحمت خدا وندی سے یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ بے نمازی قرار نہیں پائے گا اور اﷲ تعالیٰ اس کا مواخذہ نہ فرمائے گا، مزیدوضاحت کے لئے عرض ہے کہ وہ ہزاروں لاکھوں مسلمان جن کا ذکر سطور بالا میں ہوچکا ہے اور ان کی تین قسمیں بھی بیان کی جاچکی ہیں اور ان تینوں قسموں کا حکم بھی مذکور ہوچکا ہے ، ان تین نمازیوں کی طرح ہیں جن کے پاس نجاست لگا ہوا کپڑا ہے اور اس پر جو نجاست لگی ہوئی ہے وہ قدرے اتنی زیادہ ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے اس کپڑے سے نماز جائز نہیں۔

ایک نمازی وہ ہے جس نے جان لیا کہ کپڑے پر نجاست ہے اور یہ بھی جان لیا کہ اتنی نجاست کے ہوتے ہوئے نماز نہیں ہوسکتی ، ظاہر ہے کہ وہ اپنے اس علم کی بنا پر ایسے کپڑے کے ساتھ نماز پڑھنے سے اجتناب کرے گا۔

دوسرا نمازی وہ ہے جو اس کپڑے کی نجاست کو جانتا ہے مگر غلط فہمی کی بنا پر یہ نہیں جانتا کہ اس نجاست سے نماز نہیں ہوسکتی، اب اگر وہ شخص نماز کی محبت اور کمال شوق الی الصلوٰۃ کی بنا پر اس کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ لے تو رحمت الٰہیہ سے یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس کا مواخذہ نہ فرمائے گا اور اس کے شوق ومحبت کی بنا پر اس کی نماز کو ضائع نہ ہونے دے گا۔

تیسرا نمازی وہ ہے جو سرے سے کپڑے کی نجاست کا علم ہی نہیں رکھتا اور کمال شوق ِ عبادت اور نماز کی محبت میں اس کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ لیتا ہے، فضل ایزی اور کرمِ خداوندی سے اس کے بارے میں بھی یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ اسے اپنے دامن عفو وکرم میں چھپالے گا اور اس کی نماز مردود نہ ہوگی، یہ صحیح ہے کہ جاننے والے ایسے لوگوں کو صحیح بات ضرور بتائیں گے لیکن اس کے باوجود بھی اگر کسی کو صحیح بات نہ پہنچ سکے تو حکمِ مذکور مجروح نہ ہوگا ۔

دیوبندیوں اور وہابیوں کے لئے

راقم الحروف نے بھی دو تین مرتبہ اس بات کو سنااور دیکھا کہ بعض دیوبندی یا وہابی، سادہ لوح اہل سنت کو لوگوں کے سامنے یہ بات کہہ کر پریشانی میں ڈالتے ہیں اور شرمندہ کرتے ہیں کہ دیکھو جی ان لوگوں کی نماز امام کعبہ کے پیچھے نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ۔

ہم یہاں دیوبندیوں اور وہابیوں کے فتوے شائع کرہے ہیں کہ کیا ان کی نماز بھی امام کعبہ کے پیچھے ہوتی ہے یا صرف اہل سنت کو ہی الزام دیتے ہیں؟

مولوی خلیل احمد سہارنپوری (انبیٹھوی) اپنی کتاب’’ المہند‘‘ میںمحمد بن عبدالوہاب نجدی کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں ! ’’ہمارے نزدیک ان کا حکم وہی ہے جو صاحب درمختار نے فرمایا ہے ‘‘ یعنی یہ خارجی ہیں۔

سوال ہے کہ کیا دیوبندیوں کی نماز خارجیوں کے پیچھے ہوتی ہے؟ اگر نہیں ہوتی تو ہمیں کس منہ سے ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا کہتے ہیں؟

اسی طرح دیوبندیوں نے مولانا منصور علی مراد آبادی کی کتاب’’فتح المبین‘‘ چند سال قبل گوجرانوالہ سے شائع کی ہے ، اس کتاب کے صفحہ ۴۵۵ پر مولوی رشید احمد گنگوہی اور محمود حسن دیوبندی ، مولوی یعقوب نانوتوی وغیرہ کا ایک فتویٰ شائع ہے کہ ’’ عقائد اس جماعت(وہابیہ )جب کہ خلاف جمہور اہل سنت ہیں تو بدعتی ہونا ان کا ظاہر ہے اور مثل تجسیم اور تحلیل چار سے زیادہ ازواج کے اور تجویز تقیہ اور برا کہنا سلف صالحین کا فسق یا کفر ہے تو اب نماز اور نکاح اور ذبیحے میں ان کے احتیاط لازم ہے‘‘

دیوبندیوں سے سوال ہے کہ جب آپ کا نماز میں ان وہابیہ کے ساتھ احتیاط لازم ہے تو ہمیں کیوں طعنے دئیے جاتے ہیں کہ جناب یہ امام کعبہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے؟

دارالعلوم کراچی کے مفتی کا فتویٰ ہے کہ :

’’وہابی اماموں کے پیچھے نماز پڑھنا ہمارے نزدیک بھی مکروہ ہے اور حرمین شریفین طیبین میں بدرجۂ مجبوری بہ کراہت کرنا پڑتی ہے جب کہ پاکستان میں اس کی ضرورت نہیں، یہ اس لئے ضروری ہے کہ کہیں اہل سنت رجماعت کے لوگ ہم دیوبندیوں کو بھی وہابی نہ کہنے لگیں جب کہ درحقیقت ہم وہابی نہیںہیں‘‘۔

ابوالحسنات محمد ولی اﷲ فروانی جدونی

فتویٰ : دارالافتاء دارالعلوم، کراچی

(اتحاد بین المسلمین ، از مولانا عبدالستار خان نیازی، مطبوعہ لاہور۱۹۸۴ء، ص۱۳۳ بحوالہ، ہفت روزہ’’الفتح‘‘ کراچی، ۲۸؍ مئی تا ۴؍ جون ۱۹۷۶ء ، ص۲۱)

غیر مقلدین ، وہابیوں کے لئے

اب وہابی غیر مقلدین کی بھی سنئے !

وہابیوں کے شیخ العرب والعجم بدیع الدین شاہ راشدی غیر مقلد کے ایک کتابچہ’’ امام صحیح العقیدہ ہونا چاہئیے‘‘(مطبوعہ کراچی سندھ ۱۹۹۸ء)کے مقدمہ میں صفحہ۳ پروہابی پروفیسر عبداﷲ ناصر رحمانی غیر مقلد لکھتے ہیں کہ ’’حنفی مذہب رکھنے والوں کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی‘‘ ، پھر صفحہ ۸ پر لکھتے ہیں کہ’’ تقلید شخصی شرک ہے ۔ ‘‘

وہابی غیر مقلدین سے سوال ہے کہ جب حنفی اور مقلد کے پیچھے ان کی نماز نہیں ہوتی تو سعودی عرب والے امام کعبہ حنبلی مقلد ہیں، ان کے پیچھے آپ کی نماز کیسے ہوجاتی ہے؟ جب آپ کے نزدیک تقلید شخصی شرک ہے تو مشرک کے پیچھے نماز کیسے ہوجاتی ہے؟

اسی طرح ایک غیر مقلد وہابی اپنے کتابچہ’’ اہلحدیث کی نماز غیر اہلحدیث کے پیچھے‘‘ کے صفحہ ۲ پر لکھتا ہے کہ’’اہلحدیث کی نماز کسی غیر اہلحدیث کے پیچھے کیسے ہوسکتی ہے؟ اہل حدیث حق ، غیر اہل حدیث باطل، باطل حق کا امام کیسے ہوسکتا ہے‘‘ ، پھر صفحہ ۷ پر لکھتاہے کہ’’تقلید خود بدعت ہے‘‘۔

وہابی غیر مقلدین سے سوال ہے کہ جب آپ کی نماز کسی غیر اہل حدیث کے پیچھے نہیں ہوتی ، تو امام کعبہ تو حنبلی اور مقلد ہیںوہ بھی غیر اہل حدیث اور بدعتی ہوئے ، لہذا تمہاری نماز بھی ان کے پیچھے نہ ہوئی ، پھر آپ ہمارے بھولے بھالے اہل سنت کو کیوں پریشان کرتے ہیں اور کس وجہ سے طعنہ دیتے ہیں کہ تم امام کعبہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔