بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’تبلیغی جماعت‘‘ احادیث کی روشنی میں
میں نے اپنی کتاب’’ تبلیغی جماعت ‘‘میں تبلیغی جماعت کے متعلق جتنی تفصیلات سپرد قلم کی ہیں وہ اس بات کا یقین دلانے کے لیے بہت کافی ہیں کہ خیر کے نام پر دین میں فساد پھیلانا اور سادہ لوح مسلمانوں کا عقیدہ خراب کرنا تبلیغی جماعت کی ساری سرگرمیوں کا اصل مُدّعاہے۔ لیکن تھوڑی دیر کے لئے واقعات و تجربات کی ان تمام شہادتوں سے الگ ہٹ کر حقیقت حال کا ایک اور رُخ ملاحظہ فرمائیں تو حیران و ششدر رہ جائیں گے۔ میری کتاب ’’تبلیغی جماعت‘‘کے بکھرے ہوئے صفحات پر نجد کے وہابی فرقے کے ساتھ تبلیغی جماعت کے روحانی اور مذہبی ارتباط اور فکر و اعتقاد کی یکسانیت کا حال آپ نے پڑھ لیا اور یہ بھی معلوم کرلیا کہ جن کتابوں سے نجدی مذہب کے ساتھ تبلیغی جماعت کا ذہنی اور فکری تعلق ثابت کیا گیا ہے وہ خود تبلیغی جماعت کی معتمد کتابیں ہیں۔ اس لئے ایک حقیقت واقعہ کو الزام کہہ کر چھپایا نہیں جاسکتا۔ اتنی بات ذہن نشین کرلینے کے بعد اب محو حیرت ہوکر یہ خبر پڑھئے کہ حضور اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کے سامنے قیامت تک برپا ہونے والے جن مذہبی فتنوں کا تذکرہ فرما دیا ہے ان میں نجد کا یہ ’’فتنۂ وہابیت‘‘ خاص طور پر نُمایاں ہے۔
پہلی حدیث
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے امام بخاری نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ ایک دن حضور انور ﷺ نے شام ا ور یمن کے لیے دعا فرمائی جس کے الفاظ یہ ہیں:
اللّھم بارک لنا فی شامنا اللّٰھم بارک لنا فی یمننا قالوا یا رسول اللّٰہ فی نجدنا۔ قال اللّٰھم بارک لنا فی شامنا اللّٰھم بارک لنا فی یمننا قالوا یارسول اللّٰہ وفی نجدنا فاظنہ قال فی الثالثۃ ھناک الزلازل والفتن وبھا یطلع قرن الشیطان۔ (بخاری جلد ۳، ص۱۰۵۱)
خداوندا ہمارے لئے شام اور یمن میں برکت نازل فرما (دعاکرتے وقت نجد کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے) انہوں نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں یا رسول اللہ ﷺ! اس پر حضور نے ارشاد فرمایا، خداوندا ! ہمارے لئے شام اور یمن میں برکت نازل فرما۔ پھر دوبارہ نجد کے لوگوں نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں یارسول اللہ ﷺ! راوی کا بیان ہے کہ تیسری مرتبہ میں حضور نے فرمایا وہ زلزلوں اور فتنوں کی جگہ ہے اور وہاں سے شیطان کی سینگ نکلے گی۔ عام طور پر ’’قرن الشیطان‘‘ کا ترجمہ ’’شیطان کی سینگ‘‘ کیا جاتا ہے لیکن دیوبند کے مصباح اللغات میں اس کا ترجمہ ’’شیطان کی رائے کا پابند‘‘ بھی کیا گیا ہے۔ بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نجد خیر و برکت کی جگہ نہیں بلکہ فتنہ و شرکی جگہ ہے۔ کیونکہ رحمۃ اللعالمین کی دعائے خیر معلوم ہوجانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ ہمیشہ کے لئے اس خطّے پر شقاوت اور بدبختی کی مہر لگ گئی۔ اب وہاں سے کسی خیر کی توقع رکھنا تقدیر الٰہی سے جنگ کرنا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ وہاں کی خاک سے کوئی ایسا شخص ضرور اُٹھے گا جو شیطان کی رائے کا پابند ہوگا یا جس طرح سورج کی پھیل جانے والی پہلی کرن کو ’’قرن الشمس‘‘ کہتے ہیں اسی طرح شیطان کا فتنہ بھی وہاں سے سارے جہان میں پھیل جائے گا۔
اشارۂ محسوس
نجد و حجاز کا اٹلس (جغرافیائی نقشہ) سامنے رکھئے تو آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا کہ نجد کا علاقہ مدینہ منورہ کے بالکل مشرقی سمت میں واقع ہے۔ مدینے سے سرکارِ مدینہ نے جن الفاظ میں اس سمت کی طرف اشارے کئے ہیں وہ ایک وفادار مومن کو چونکا دینے کے لئے کافی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نگاہِ رسالت پناہ میں نجد کا فتنہ اُمت کے لیے کس درجہ ہولناک اور ایمان شکن تھا۔ اب اس عنوان پر ذیل میں حدیثوں کی قطار ملاحظہ فرمایئے۔
دوسری حدیث
صحیح مسلم شریف میںحضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے:
ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قام عند باب حفصۃ فقال بیدہ نحو المشرق الفتنۃ ھا ھنا من حدیث یطلع قرن الشیطان مرتین او ثلا ثا۔ (مسلم شریف ج ۲ص۳۹۴)
بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضور انور ﷺ ام المومنین حضرتِ حفصہ کے دروازے پر کھڑے تھے وہاں سے مشرق کی طرف اپنے دستِ مبارک سے اشارہ کیا اور فرمایا کہ جگہ یہ ہے، یہاں سے شیطان کی سینگ نکلے گی۔ راوی کو شک ہے یہ الفاظ حضور نے دو بار کہے یا تین بار۔
تیسری حدیث
یہی حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے پھر مسلم شریف میں ہے:
ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ عیلہ وسلم قال وھو مستقبل المشرق ان الفتنۃ ھاھنا ان الفتنۃ ھاھنا ان الفتنۃ ھاھنا من حیث یطلع قرن الشیطان۔ (مسلم شریف ج۲، ص۲۹۳)
بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے مشرق کی طرف رخ کرکے فرمایا کہ فتنہ یہاں سے اُٹھے گا، فتنہ یہاں سے اُٹھے گا، فتنہ یہاں سے اُٹھے گا۔ جہاں سے شیطان کی سینگ نکلے گی۔
چوتھی حدیث
پھر انہی حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مسلم شریف میں تیسری روایت نقل کی گئی ہے:
خرج رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من بیت عائشۃ فقال راس الکفر من ھاھنا من حیث یطلع قرن الشیطان یعنی المشرق۔ (مسلم شریف کتاب الفتن ج۲، ص۳۹۴)
بیان کرتے ہیںکہ ایک دن حضور انور ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حرم سے باہر تشریف لائے اور مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کفر کا مرکز یہاں ہے جہاں سے شیطان کی سینگ نکلے گی۔ غور فرمائیے !ان تینوں حدیثوں میں صرف مشرق کی سمت ہی کا ذکر نہیں ہے کہ اس سے نجد کا خطہ مراد لینے میں کسی احتمال کی گنجائش نکل آئے بلکہ اس کے ساتھ ہر جگہ من حیث یطلع قرن الشیطان (شیطان کی سینگ نکلے گی) کا اضافہ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ مشرق کی سمت سے کوئی دوسرا علاقہ نہیں بلکہ خاص نجد مراد ہے۔ کیونکہ بخاری شریف کی حدیث میں نجد کے نام کے ساتھ نجد کا یہ وصف ذکر کیا گیاہے۔ اس لیے حدیث کی زبان میں مشرقی سمت میں وہ خطہ ہے جہاں سے شیطان کی سینگ نکلے گی۔ نجد کے سوا اور کوئی دوسرا خطہ نہیں ہوسکتا۔
پانچویں حدیث
سیّدی علامہ دحلان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’الدرالسنیہ‘‘ میں کتب حدیث سے حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے:
یخرج ناس من قبل المشرق یقرؤن القران لایجاوز تراقیھم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ لایعودون فیہ حتیٰ یعود السھم الی فوقہ سیماھم التحلیق۔ (الدررالسنیہ، ص۴۹، مطبوعہ مصر)
کچھ لوگ مشرق کی سمت سے ظاہر ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اُترے گا۔ وہ لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتاہے پھر وہ دین میں پلٹ کر نہیں آئیں گے۔ یہاں تک کہ تیر اپنے کمان کی طرف لوٹ آئے۔ ان کی خاص علامت سر منڈانا ہوگی۔
چھٹی حدیث
یہی علامہ دحلان رحمۃ اللہ علیہ یہ حدیث بھی کتبِ حدیث سے اپنی کتابِ مذکورہ میں تخریج فرماتے ہیں کہ حضور انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
یخرج ناس من المشرق یقرؤن القرآن لایجاوز تراقیھم کلما قطع قرن نشاء قرن حتی یکون آخرھم مع مسیح الدجال۔ (الدررالسنیہ، ص۵۰ مطبوعہ ترکی و مصر)
کچھ لوگ مشرق کی سمت سے ظاہر ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اُترے گا۔ جب اُن کا ایک گروہ ختم ہوجائے گا تو وہیں سے دوسرا گروہ جنم لے گا یہاں تک کہ اُن کا آخری دستہ دجال کے ساتھ اُٹھے گا۔
ایک اور سراغ
دیارِ نجد میں بنو حنیفہ کا وہی بدقسمت قبیلہ ہے جہاں سے شیطان کی سینگ طلوع ہوئی اور جس کی خاک سے زلزلوں اور فتنوں نے جنم لیا۔ اب تاریخ کی ایک بڑی ٹریجڈی ملاحظہ فرمائیے کہ یہ دل آزار قبیلہ شروع سے سرکارِ رسالت مآب ﷺ کی روحانی اذیت اور طبعی کراہت کا موجب رہا۔ احادیث میں اس قبیلے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
ساتویں حدیث
علامہ دحلان نے اپنی کتاب میں کتب ِ حدیث سے سرکارِ اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے:
کنت فی مبدأ لرسالۃ اعرض نفسی علی القبائل فی کل موسم ولم یجیبنی احد جواباً اقبح ولا اخبث من ردبنی حنیفۃ۔ (الدررالسنیہ، ص۵۳)
کہ رسالت کے ابتدائی ایام میں ہر موسمِ حج پرباہر سے آنے والے قبائل کے سامنے مَیںاپنی دعوت پیش کیا کرتا تھا۔ بنو حنیفہ کے جواب سے زیادہ قبیح اور ناپاک جواب مجھے کسی قبیلے نے نہیں دیا۔
نوٹ
واضح رہے کہ مسعود عالم صاحب ندوی کی تصریح کے مطابق وادیِ حنیفہ کا دوسرا نام یمامہ بھی ہے۔
آٹھویں حدیث
جامع ترمذی میں حضرت عمران ابن حصین رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے:
قال مات النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وھو یکرہ ثلاثۃ احیاء ثقیف وبنی حنیفۃ وبنی امیۃ۔ (ترمذی)
انہوںنے بیان کیاکہ بنی اکرم ﷺ تین قبیلوں کو تاحیات ناپسند فرماتے رہے۔ ایک ثقیف، دوسرا بنی حنیفہ، تیسرا بنی اُمیہ۔ پہلی حدیث سے لے کر آٹھویں حدیث تک یہ تمام حدیثیں نجد کے فتنے کو مختلف زاویوں سے سمجھنے اور بارگاہِ رسالت میں اس خطے کے مقہور ہونے کی جہت کو واضح کرنے کے لیے بہت کافی ہیں۔ اب ذیل کی حدیثوں میں اس فتنے کے علم برداروں کا اور خدوخال پڑھئے۔
نویں حدیث
مشکوٰۃ شریف میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے:
قال بینما نحن عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ویقسم قسما اتاہ ذوالخویصرہ وھو رجل من بنی تمیم فقال یا رسول اللّٰہ اعدل فقال ویلک فمن یعدل اذلم اعدل قد خبت وخسرت ان لم اکن اعدل فقال عمر ائذن لی اضرب عنقہ فقال دعہ ان لہ اصحابا یحقر احدکم صلوٰتہ مع صلٰوتھم وصیامہ مع صیامھم یقرء ون القرآن لایجاوز تراقیھم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ۔ (مشکوٰۃ ص۵۳۵، بخاری جلد ۲ ص۱۰۲۴)
وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضور انور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اور حضور مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ نام کا ایک شخص ‘جو قبیلہ بنی تمیم کا رہنے والا تھا آیا اور کہا، اے اللہ کے رسول انصاف سے کام لو۔ حضور نے فرمایا، افسوس تیری جسارت پر مَیں ہی انصاف نہیں کروں گا تو اور کون انصاف کرنے والا ہے۔ اگر مَیں انصاف نہیں کرتا تو تُو خائب و خاسر ہوچکا ہوتا۔ حضرت عمر سے جب نہیں رہا گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ حضور مجھے اجازت دیجیے mَیں اس کی گردن ماردوں۔ حضور نے فرمایا، اسے چھوڑ دو، یہ اکیلا نہیں ہے اس کے بہت سے ساتھی ہیں جن کی نمازوں اور جن کے روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر سمجھو گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا (ان ساری ظاہری خوبیوں کے باوجود) وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
دسویں حدیث
یہی واقعہ دوسرے سلسلۂ روایت سے مروی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:
اقبل رجل غائر العینین ناتی لجبھۃ کث اللحیہ مشرق الوجتین محلوق الراس فقال محمد اتق اللّٰہ فقال فمن یطع اللّٰہ اذا عصیتہ قد امننی اللّٰہ علٰی اھل الارض و لا تامنونی فیسال قتلہ فمنعہ فلمّا ولیّٰ قال ان من ضئفیٔ ھذا قوما یقرء ون القران لایجاوز حنا جرھم یمرقون من الاسلام مروق السھم من الرمیۃ فیقتلون اھل الاسلام ویدعون اھل لاوثان۔ (مشکوٰۃ شریف، ص۵۳۵)
ایک شخص آیا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں‘ پیشانی اُبھری ہوئی تھی، داڑھی گھنی تھی، دونوں گال پھولے ہوئے تھے اور سر منڈا ہوا تھا۔ اُس نے زبانِ طعن دراز کی اے محمد ﷺ! اللہ سے ڈرو۔ حضور نے فرمایا میں ہی نافرمان ہوجائوں گا تو اللہ کی فرماں برداری کون کرے گا۔ اللہ نے تو مجھے زمین والوں پر امین بنایا ہے لیکن تم مجھے امین نہیں سمجھتے۔ اسی درمیان میں ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی۔ حضور نے انہیں روک دیا۔ جب وہ شخص چلاگیا تو فرمایا کہ اس کی نسل سے ایک جماعت پیدا ہوگی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق کے نیچے نہیں اُترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بُت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔
گیارہویں حدیث
یہی واقعہ حضرت شریک ابن شہاب رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ اس میں انہوں نے اس گستاخ شخص کے متعلق سرکار رسالت مآب ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے:
ثم قال یخرج فی اٰخرالزمان قوم کانَّ ھٰذا منھم یقرؤن القرآن لا یجاوز تراقیھم یمرقون من الاسلام کما یمرق السھم من الرمیۃ سیماھم التحلیق لایزالون یخرجون حتی یخرج اٰخرھم مع المسیع الدجال فاذا لقیتموھم ھم شرالخلق والخلیقۃ۔ (مشکوٰۃ ص۱۳۰۹)
پھر حضور نے فرمایا کہ آخری زمانے میں ایک گروہ نکلے گا گویا یہ شخص اسی گروہ کا ایک فرد ہے۔ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔ وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔ ان کی خاص پہچان ’’سر منڈا نا‘‘ ہے وہ ہمیشہ گروہ در گروہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری دستہ میسح دجال کے ساتھ نکلے گا۔ جب تم ان سے ملوگے تو انہیں اپنی طبیعت و سرشت کے لحاظ سے بدترین پائو گے۔
بارہویں حدیث
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مشکوٰہ شریف میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے:
عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال سیکون فی امتی اختلاف وفریقۃ قوم یحسنون القیل ویسئیوں الفعل یقرؤن القران لا یجاوز تراقیھم یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیۃ لایرجعون حتی یرتد السھم علیٰ فوقہ ھم شر الخلق والخلیقۃ طوبیٰ لمن قتلھم وقتلوہ یدعون الیٰ کتاب اللّٰہ ولیسوا منھا فی شیئی من قاتھم کان اولی باللّٰہ منھم قالوا یا رسول اللّٰہ ما سیماھم قال التحلیق۔ (مشکوٰۃ ص۳۰۸)
حضور انور ﷺ نے ارشاد فرما یا کہ میری اُمّت میں اختلاف و تفریق کا واقع ہونا مقدر ہوچکا ہے۔ پس اس سلسلے میں ایک گروہ نکلے گا جس کی باتیں بظاہر دلفریب و خوشنما ہوں گی لیکن کردار گمراہ کن اور خراب ہوگا۔ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اُترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ پھر دین کی طرف لوٹنا انہیں نصیب نہ ہوگا یہاں تک کہ تیر اپنے کمان کی طرف لوٹ آئے۔ وہ اپنی طبیعت و سرشت کے لحاظ سے بدترین مخلوق ہوںگے۔ وہ لوگوں کو قرآن اور دین کی طرف بلائیں گے حالانکہ دین سے ان کا کچھ بھی تعلق نہ ہوگا۔ جو ان سے جنگ کرے گا وہ خدا کا مقرب ترین بندہ ہوگا۔ صحابہ نے فرمایا، ان کی خاص پہچان کیا ہوگی یا رسول اللہ ﷺ؟ فرمایا، سر منڈانا۔
تیرہویں حدیث
اس حدیث کی خصوصیت یہ ہے کہ اصل حدیث بیان کرنے سے پہلے حدیث کے راوی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ قسم خدا کی آسمان سے زمین پر گرپڑنا میرے لیے آسان ہے لیکن حضور کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کے بعد اصل حدیث کا سلسلہ یوں شروع ہوتا ہے۔فرماتے ہیں:
ان سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول یستخرج قوم فی اخرالزماں احداث الاسنان سفھاء الاحلام یقولون من خیرقول البریۃ لا یجاوز ایمانھم حنا جرھم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ۔ (بخاری ج ۲، ص۱۰۲۴)
مَیں نے حضور انور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اخیر زمانے میں نو عمر اور کم سمجھ لوگوں کی ایک جماعت نکلے گی باتیں وہ بظاہر اچھی کہیں گے لیکن ایمان ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
چودہویں حدیث
حضرت ابو نعیم نے حلیہ میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
سیکون فی اخرالزمان دیدان القراع فمن ادرک ذلک الزمان فلیتعوذ باللّٰہ منھم ۔ (حلیہ)
اخیر زمانے میں کیڑے مکوڑوں کی طرح ہر طرف ’’ملّانے‘‘ پھوٹ پڑیں گے پس تم میں سے جو شخص وہ زمانہ پائے تو اُسے چاہیے کہ وہ اُن سے خدا کی پناہ مانگے۔ اسی کے ساتھ یہ حدیث بھی پڑھ لیجیے جو مشکوٰۃ شریف میں حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یاتی علی الناس زمان یکون حدیثھم فی مساجدھم فی امر دیناھم فلا تجالسوھم فلیس اللّٰہ فیھم حاجۃ۔ (مشکوٰۃ)
حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ لوگو! ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب کہ لوگ اپنی مسجدوں میں دنیا کی باتیں کریں گے۔ جب ایسا زمانہ آجائے تو تم ان کے سامنے مت بیٹھنا۔ اللہ ایسے لوگوں سے بے پروا ہے۔
پندرہویں حدیث
محدث کبیر امام ابو یعلی نے حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی تخریج فرمائی اور صاحبِ ابریز نے اسے اپنی کتاب سے نقل کیا ہے:
عن انس قال کان فینا شاب ذو عبادۃ وزھد و اجتھاد فسمّیناہ عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلم یعرفہ ووصفناہ بصفۃ فلم یعرفہ فبینما نحن کذالک اذا قبل فقلنا یا رسول اللّٰہ ھو ھذا فقال انی لاری علیٰ وجہہ سفعہ من الیشطان فجاء فسلم فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اجعلت فی نفسک ان لیس فی القوم خیر منک فقال اللّٰھم نعم ثم ولی فدخل المسجد فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من یقتل الرجل فقال ابوبکر انا فدخل فاذا ھو قائم یصلی فقال ابوبکر کیف اقتل رجل ھو یصلی وقد نہانا النبی صلی اللّٰہ علیہ سلم من قتل المصلین فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من یقتل الرجل فقال عمرانا یا رسول اللّٰہ فدخل المسجد فاذا ھو ساجد فقال مثل ما قال ابوبکر و اراد لارجعن فقد رجع من ھو خیر منی فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مہ یا عمر فذکر لہ فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من یقتل الرجل فقال علی انا فقال انت تقتلہ ان وجدتہ فدخل المسجد فوجدہ قد خرج فقال اما واللّٰہ لوقتلتہ لکان اولھم واخرھم وما اختلف فی امتی اثنان۔ (ابریز شریف، ص۲۷۷)
حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ مدینے میں ایک بڑا ہی عابد و زاہد نوجوان تھا۔ ہم نے ایک دن حضور سے اس کا تذکرہ کیا۔ حضور اسے نہیں پہچان سکے۔ پھر اُس کے حالات و اوصاف بیان کیے جب بھی حضور اسے نہیں پہچان سکے۔ یہاں تک کہ ایک دن وہ اچانک سامنے آگیا۔ جیسے ہی اس پر نظر پڑی ہم نے حضور کو خبردی، یہ وہی نوجوان ہے۔ حضور نے اس کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا اس کے چہرے پر مَیں شیطان کی خارش کے دھبّے دیکھتا ہوں۔ اتنے میں وہ حضور کے قریب آیا اور سلام کیا۔ حضور نے اس سے مخاطب ہوکر فرمایا، کیا یہ بات صحیح نہیں ہے کہ تو ابھی اپنے دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ تجھ سے بہتر یہاں کوئی نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا۔ہاں! اس کے بعد وہ مسجد کے اندر داخل ہوا۔ حضور نے آواز دی کہ کون اسے قتل کرتا ہے۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا، مَیں۔ جب اس ارادہ سے مسجد کے اندر گئے تو اپنے دل میں خیال کیا کہ ایک نمازی کو کیسے قتل کروں۔ جب کہ حضور نے نمازی کے قتل سے منع کیا ہے۔ پھر حضور نے آواز دی، کون اسے قتل کرتاہے؟ حضرت عمر نے جواب دیا، مَیں۔ جب وہ مسجد کے اندر گئے تو اس وقت نوجوان سجدے کی حالت میں تھا۔ وہ بھی اسے نماز پڑھتا دیکھ کر حضرت ابوبکر کی طرح واپس لوٹ آئے۔ پھر حضور نے آواز دی کہ کون اسے قتل کرتا ہے۔ حضرت علی نے جواب دیا، مَیں۔ حضور نے فرمایا تم اسے ضرور قتل کردوگے۔ بشرطیکہ وہ تمہیں مل جائے۔ لیکن جب حضرت علی مسجد میں داخل ہوئے تو وہ جاچکا تھا۔ حضور نے ارشاد فرمایا، اگر تم اسے قتل کردیتے تو میری اُمّت کے جملہ فتنہ پر دازوں سے یہ پہلا اور آخری شخص ثابت ہوتا۔ میری اُمّت کے دو افراد بھی آپس میں کبھی نہیں لڑتے۔
حاصلِ مطالعہ
یہ پندرہ حدیثیں آپ کی نظر کے سامنے ہیں۔ مَیں آپ سے درخواست کروں گا کہ ایک بار پھر انہیں غور سے پڑھ جائیے۔ بات پیغمبر ذی شان کی ہے جو غیب کے رموز اور مستقبل کے اسرار سے پوری طرح واقف ہیں۔ اس لیے پچھم کا سورج پورب کی طرف ڈوب سکتا ہے لیکن نبی کی بات کبھی غلط نہیں ہوسکتی۔ مَیں آپ کو غیرتِ حق کی قسم دیتا ہوں! مذکورہ بالا حدیثوں میں ذرا بھی یقین ہو تو ہاتھ میں انصاف و دیانت کا چراغ لے کر تلاش کیجیے کہ آخری زمانے میں جس گروہ کے ظہور کی پیغمبر نے خبر دی ہے آج وہ گروہ کہاں ہے؟ خدا کا شکرہے کہ خبر دینے والے نے اس گروہ کو مختلف نشانیوں کے ذریعے اتنا واضح کردیا ہے کہ اب وہ دوپہر کے اُجالے میں ہے۔ نشانیاں ایسی بتائی گئی ہیں کہ ان کی روشنی میں دین و ایمان کے غارت گروں کا سراغ لگایا جائے۔ مَیں یقین کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص نبی کی خوشنودی کے مقابلے میں اپنی خواہشات کا غلام نہیں ہے تو اس کے لیے فتنے سے نظر بچانا بہت مشکل ہے۔ مَیں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان پندرہ حدیثوں کے درمیان بکھری ہوئی جملہ نشانیوں کو اگر آپ ترتیب کے ساتھ جمع کردیں تو واقعات و مشاہدات کی سطح سے نجدی گروہ یا تبلیغی جماعت کی تصویر اچانک ابھر آئے گی۔ اور زحمت نہ ہوتو تھوڑی دیر کے لیے اپنی نگاہ کا سر رشتہ میری نوکِ قلم کے ساتھ جوڑ دیجیے۔ مَیں حدیثوں کے انبار سے نشانیاں چنتا جارہا ہوں۔ آپ جوڑتے جائیے۔ کچھ ہی دیر میں تبلیغی جماعت کی تصویر نہ بن جائے تو میرے قلم سے اپنا اعتماد اٹھا لیجیے گا۔
نشانیوں کی تلاش
(۱) حدیث ۱؎ تا ۸؎ میں بتایا گیا ہے کہ کفر اور شیطانی فتنے کا مرکز مدینہ کے مشرقی سمت پر واقع ہونے والا نجد کا خطّہ ہے۔ اسی مشرقی خطّے سے مسلمان نام کا ایک گروہ اُٹھے گا جو قرآن پڑھے گا لیکن قرآن اس کے حلق کے نیچے نہیں اُترے گا۔ وہ لوگوں کو قرآن اور دین کی طرف بلائے گا لیکن دین سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اب تجربات کی روشنی میں پرکھ لیجیے کہ سوائے تبلیغی جماعت کے آج وہ کون سا گروہ ہے جس کا کنارہ دہلی میں ہے تو دوسرا کنارہ نجد میں ’’ریاض‘‘ سے ملتا ہے۔ (۲) حدیث ۹؎ تا ۱۰؎ ذوالخویصرہ نامی جس گستاخِ رسول کا واقعہ بیان کیا گیا ہے وہیں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ قبیلہ بنی تمیم کا آدمی تھا اور آخری زمانے میں ظاہر ہونے والا گروہ اسی کی نسل سے ہوگا۔ اب عرب کے مستند مؤرخین کا ایک تازہ انکشاف ملاحظہ فرمایئے۔ مشہور مؤرخ علامہ دینی دحلان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
واصرح من ذلک ان ھذالمغرور محمد بن عبدالوھاب من تمیم فیحتمل انہ عن عقب ذی الخویصرۃ التمیمی الذی جاء فیہ حدیث البخاری عن ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ عنہ ۔ (الدررالسنیہ ص۱۵۱)
اور سب سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ ابن عبدالوہاب نجدی کا سلسلۂ نسب بنی تمیم سے ہے اس لیے کچھ بعید نہیں ہے کہ ذوالخویصرہ تمیمی کی نسل سے ہو جس کے متعلق بخاری شریف میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بھی منقول ہے۔ علاوہ ازیں خوارج کے بارے میں صاحبِ لمعات نے لکھا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ذوالخویصرہ کی نسل سے نہیں تھا۔ ان کی عبارت کے الفاظ یہ ہیں۔ لم یکن فی الخوارج قوم من نسل ذی الخویصرہ۔ (حاشیہ مشکوٰۃ، ص۵۳۵)
اس لیے یہ ماننا پڑے گا کہ حدیث ۹، ۱۰، ۱۱ میں ظاہر ہونے والے گروہ سے نجدی گروہ مراد لینا حقیقت واقعہ کے عین مطابق ہے۔
(۳) حدیث نمبر۱۲ میں اس گروہ کی پہچان یہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو قرآن اور دین کی طرف بلائیں گے حالانکہ دین سے ان کا کچھ بھی تعلق نہ ہوگا۔ اس خبر کی تصدیق کرنا چاہتے ہوں تو تبلیغی جماعت کے حلقہائے درسِ قرآن اور ان کے دعوتی اجتماعات کو دیکھ لیجیے۔ لوگوں کو دین اور قرآن کی طرف بلاتے بلاتے ان کی زبانیں خشک ہوجاتی ہیں لیکن کسی روزنزدیک سے جھانک کر دیکھئے تو یہ ساری نمائش محض اس لیے ہے کہ دین میں فساد پیدا کریں۔
(۴) حدیث ۱۲، ۱۳ میں اس گروہ کی ایک پہچان یہ بھی بتائی گئی ہے کہ اوپر سے باتیں اچھی کریں گے لیکن اندر سے عمل اس کے خلاف ہوگا۔ قول و فعل کا یہ تضاد دیکھنا چاہتے ہوں تو تبلیغی جماعت کو دیکھ لیجیے۔ باتوں کی حد تک وہ کتنے سراپا اخلاص، اسلام دوست اور خوش نما نظر آتے ہیں۔ لیکن کردار دیکھئے تو اب تک لاکھوں خوش عقیدہ مسلمانوں کا ایمان غارت کرچکے ہیں۔ توحید کا نام لے کر رسالت کی تنقیص کرنا اس گروہ کا جماعتی شعار بن چکاہے۔
(۵) حدیث ۱۰ میں اس گروہ کی ایک پہچان یہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کا خون بہائیں گے۔ مشرکین سے کوئی چھیڑ نہیں کریںگے۔ نجدی گروہ کے بارے میں اس خبر کی تصدیق کرنا چاہتے ہوں تو مولانا محمد علی جوہر کا یہ منصفانہ بیان پڑھیے۔ پچھلے صفحات میں مولانا حسین احمد صاحب کا بھی اسی طرح کا بیان گزرچکا ہے۔
’’نجد اور نجدیوں کا یہی کارنامہ ہے کہ مسلمانوں کے خون میں ان کے ہاتھ رنگے ہیں اور غالباً اس وقت بھی یمن کے مسلمانوں پر جنگ کی تیاری ہے۔‘‘ (مقالاتِ محمد علی حصہ اوّل ص۳۷) تبلیغی جماعت اور نجد گروہ کے درمیان چونکہ کوئی خاص فرق نہیں ہے اس لیے یہ نشانی تبلیغی جماعت کا انجام معلوم کرنے کے لئے کافی ہے۔
(۶) حدیث نمبر ۱۵، ۱۱، ۱۲ میں اس گروہ کی ایک خاص پہچان یہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ التزام کے ساتھ اپنا سرمنڈائیں گے۔ گویا یہ فعل ان کا جماعتی شعار بن جائے گا۔ اب اس کی تصدیق کے لیے عرب کے مستند تاریخ الفتوحات الاسلامیہ کے مصنف کا یہ بیان پڑھ لیجیے:
سیما ھم التحلیق تصریح بھذہ الطائفہ لانھم کانوا یامرون کل من اتیعھم ان یحلق راسہ ولم یکن ھذا الوصف لاحد من الخواج و المبتد عۃ الذین کانوا قبل زمن ھولاء۔ (الفتوحات الاسلامیہ، ج۲، ص۲۶۸)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ فرمان کہ ان کی خاص نشانی سر منڈانا ہے۔ یہ نجدی گروہ کے حق میں بالکل صراحت ہے کیوں کہ یہی لوگ اپنی mتبعین کو سر منڈانے کی ہدایت کرتے ہیں۔ سرکار کی بتائی ہوئی یہ نشانی خوارج اور گزشتہ بد دین فرقوں میں سے کسی فرقہ کے اندر موجود نہیں تھی۔ یہ شعار صرف وہابیہ نجدیہ کاہے۔
ایک عجیب نکتہ
لفظ ’’تحلیق‘‘ کی لغوی تشریح کے سلسلے میں بحث و نظر کا ایک گوشہ بہت زیادہ قابل توجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تحلیق کا ترجمہ عام طور پر ’’سرمنڈانا ‘‘کیا جاتا ہے لیکن دیوبند کی معتمد کتاب مصباح اللغات ص۱۴۸ میں اس کے ہم مادہ لفظ کا ترجمہ ’’چکر لگانا‘‘ اور ’’حلقے میں بیٹھنا‘‘ بھی کیا گیا ہے۔ خالی الذہن ہوکر سوچیے تو یہ دونوں ترجمے تبلیغی جماعت پر پوری طرح فٹ ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف ترجمہ اگر ان کی ’’چلت پھرت‘‘ کو بتاتا ہے تو دوسرا ترجمہ ان کے ’’اجتماع ‘‘کی طرف اشارہ کرتاہے۔
(۷) حدیث ۹ میں اس گروہ کی پہچان یہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ نماز اتنی نمائشی پابندی یا اتنے ظاہری اہتمام و خشوع کے ساتھ پڑھیں گے کہ دوسرے لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں حقیر سمجھنے لگیں گے۔ تبلیغی جماعت کا یہ وصف اتنا ظاہر ہے کہ اب اس کے متعلق کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں۔ مثال کے طور پر آپ کو ایسے بے شمار نمازی ملیں گے جنہیں نماز پڑھتے ہوئے چالیس پچاس سال گزر گئے لیکن ان کی پیشانی نمائشی سجدوں کے نشان سے بے داغ ہیں اور یہاں تبلیغی جماعت کے نمازیوں کو جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوپاتے کہ ان کی پیشانیاں داغ دار ہوجاتی ہیں۔ اب اس کی وجہ سوائے اس کے اور کیا تلاش کی جاسکتی ہے کہ یہ لوگ سجدہ نہیں کرتے پیشانیوں کو سجدوں سے داغا کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں پر اپنی نماز خوانی کی دھونس جمائیں۔
(۸) حدیث نمبر۹، ۱۰، ۱۵ میں اس گروہ کی ایک پہچان یہ بھی بتائی گئی ہے کہ اپنی نماز و عبارت کی نخوت میں اپنے سوا سب کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اپنے سے بڑے بڑوں کو بر ملا ٹوکتے پھرنا یہاں تک کہ انبیاء، اولیاء کی بھی تنقیص کرنا اس گروہ کا جماعتی شعار ہوگا۔ تبلیغی جماعت کے حق میںاس نشانی کی تصدیق کرنا چاہتے ہوں تو مولوی عبدالرحیم شاہ دیوبندی کی تقریر کا یہ حصہ پڑھئے: ’’مَیں ہر جمعہ کو حضرت مولانا محمد یوسف صاحب مرحوم کی خدمت میں برابر حاضر ہوتا تھا اور جماعت کے بے ضابطہ مقررین کی شکایت عرض کرتا کہ میں بہت سے موقعوں پر خود سُن چکاہوں کہ یہ لوگ علمائے کرام اور مدارس کا مختلف انداز سے استخفاف ’’تحقیر‘‘ کرتے ہیں۔ آپ حضرات کو جلد از جلد اس کی شدّت سے روک تھام کرنا چاہیے۔ علماء کرام کو سخت شکایات ہیں۔‘‘ (اصولِ دعوت و تبلیغ، ص۴۳)
دوسری جگہ موصوف نے مردم آزار نخوت کا ماتم ان الفاظ میں کیا ہے، لکھتے ہیں: ’’کچھ عجیب سی بات ہے کہ جو تبلیغی جماعت سے جتنا زیادہ قریب تر ہوتا ہے وہ اتنا ہی دوسرے علماء سے بعید تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ آخر ایسا کیوں؟ اور جس نے دوچار چلّے دے دیئے تو پھر اس کی ترقی درجات کے کیا کہنے۔ پھر تو وہ علماء کی بھی کوئی حقیقت اپنے سامنے نہیں سمجھتا۔‘‘ (اصولِ دعوت و تبلیغ، ص۵۰)
اور تبلیغی جماعت کے لوگوں میں تنقیص انبیاء کا جذبہ پید ا کرنے کی کوشش دیکھنا چاہتے ہوں تو بانیِ جماعت مولوی الیاس صاحب کے ایک خط کا یہ حصہ پڑھیے جسے انہوں نے تبلیغی جماعت کے کارکنوں کے نام لکھا تھا۔ لکھتے ہیں:
’’ اگر حق تعالیٰ کسی سے کام لینا نہیں چاہتے تو چاہے انبیاء بھی کتنی کوشش کریں تب بھی ذرّہ نہیں ہل سکتا اور اگر کرنا چاہیں تو تم جیسے ضعیف سے بھی وہ کام لے لیں جو انبیاء سے بھی نہ ہوسکے۔ (مکاتیبِ الیاس، ص۱۰۷)
(۹) حدیث ۱۳ میں اس گروہ کی ایک نشانی یہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ سادہ لوح، بے سمجھ اور نو عمر لوگوں پر مشتمل ہوگا۔ تبلیغی جماعت کے حق میں نشانی کی تصدیق کرنا چاہتے ہوں تو ان کے کسی بھی اجتماع میں پہنچ جائیے۔ وہاں دو ہی طرح کے لوگ آپ کو مل جائیں گے۔ بہت بڑی تعداد ان کم پڑھے لکھے سادہ لوح عوام کی نظر آئے گی جو اپنی خوش فہمی میں دین کا کام سمجھ کر تبلیغی جماعت کے ساتھ ہوگئے ہیں اور دوسرا گروہ اسکولوں، کالجوں، مدرسوں اور مسلم آبادی کے ان پُرجوش نوجوانوں کا ملے گا جو اپنے مذہبی جذبے کی تسکین کا ذریعہ سمجھ کر تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں۔ کوئی اپنی سادہ لوحی اور حماقت مآبی سے فریب کا شکار ہے۔ اور کوئی اپنی نوعمری اور ناتجربہ کاری کے سبب غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ چہرے کا نقاب اُلٹ کر کسی نے بھی اصل حقیقت سے واقفیت بھی پہنچانے کی کوشش نہیں فرمائی ہے۔
(۱۰) حدیث ۱۴ میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں کیڑے مکوڑوں کی طرح صرف مُلّے ہی مُلّے نظر آئیں گے اور مسجدوں کو چوپال بنالیا جائے گا۔ تجربات و مشاہدات کے آئینے میں دیکھئے تو تبلیغی جماعت اس پیشین گوئی کی جیتی جاگتی تصور ہے۔ لاتعداد ایسے افراد اس گروہ میں پھوٹ پڑے ہیں جو تبلیغی نصاب کی چند اُردو کتابیں پڑھ کر ’’مولانا‘‘ بن گئے ہیں اور بڑے بڑے علماء کو بھی اب وہ خاطر میں نہیں لاتے۔ جیسا کہ اس کا شکوہ اب اس گروہ کے علماء بھی کرنے لگے ہیں۔مولوی عبدالرحیم شاہ دیوبندی کے یہ الفاظ پڑھئے۔ ’’غور کا مقام ہے کہ کوئی شخص بغیر سند کے کمپونڈر تک نہیں ہوسکتا مگر (ان) لوگوں نے دین کو اتنا آسان سمجھ لیا ہے کہ جس کا جی چاہے وعظ و تقریر کرنے کھڑا ہوجائے۔کسی سند کی ضرورت نہیں، ایسے ہی موقع پر یہ مثال خوب صادق آتی ہے۔ ’’نیم حکیم خطرئہ جان‘ نیم مُلاّ خطرئہ ایمان۔‘‘ (اصولِ دعوت و تبلیغ ص۵۴)
اس سلسلے میں موصوف کی تقریر کا یہ حصہ بھی پڑھنے کے قابل ہے: ’’میرے بزرگو! جب ناواقف لوگ و نااہل لوگ منصبِ خطابت پر فائز ہوں گے تو وہ اپنے مبلغِ علم کے مطابق ہی نہیں بولیں گے بلکہ اپنے علم سے آگے نکتے پیدا کریں گے ان کو اتنی جرأت ہوگئی کہ وہ لوگ اپنے خطابات میں علماء کو تنبیہات فرماتے ہیں۔‘‘
اور مسجدوں کا حال کیا پوچھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے ان خانہ بدوشوں کی بدولت اب وہ مسجد کے سوا سب کچھ ہیں۔ کھانا پکانے، کھانا کھانے اور لیٹنے سونے سے لے کر زندگی کے دوسرے مشاغل تک سارے دنیوی امور وہیں انجام پاتے ہیں۔ مسجدوں کی بے حرمتی کے ایسے ایسے جگر سوز حالات سننے میں آتے ہیں کہ کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔
(۱۱) حدیث نمبر۶۔ ۱۲ میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ مختلف ناموں اور مختلف رنگ و روپ کے ساتھ ہر دور میں موجود رہے گا۔ یہاں تک کہ اس کا آخری دستہ میسح دجال کے ساتھ نکلے گا۔ تبلیغی جماعت پر یہ دونوں حدیثیں پوری طرح منطبق ہوتی ہیں۔ کیونکہ تبلیغی جماعت جن عقائدِ باطلہ کی علم بردار ہے وہ بالکل وہی ہیں جنہیں ابن عبدالوہاب نجدی، ابن تیمیہ اور ابن قیم سے لے کر معتزلہ اور خوارج تک ہر دور کے باطل پرستوں نے مختلف ناموں، مختلف جماعتوں اور مختلف رنگ روپ کے ساتھ پروان چڑھایا ہے۔ صرف نام نیا ہے باقی ساری گمراہیاں پُرانی ہیں۔
یہیں سے اس تاویل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے جس جماعت کے ظہور کی خبردی تھی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیست و نابود ہوگئی کیونکہ یہاں سوال کسی متعین جماعت کا نہیں بلکہ اس کافرانہ ذہن کا ہے جو اس وقت بھی موجود تھا اور ناموں کے اختلاف کے ساتھ آج بھی موجود ہے اور بدلتے ہوئے ظروف و احوال کے مطابق خروجِ دجّال تک موجود رہے گا۔
(۱۲) حدیث نمبر ۱۱۔۱۲ میں اس گروہ کی ایک نشانی یہ بھی بتائی گئی ہے کہ یہ اپنے مزاج و سرشت کے لحاظ سے بدترین لوگ ہوں گے۔ تبلیغی جماعت کے حق میں اگر آپ اس نشانی کی تصدیق کرنا چاہتے ہوں تو کسی پختہ کار تبلیغی جماعت کو ٹٹول کر دیکھ لیجیے۔
نہایت خشک مزاج، بدخو اور متکبر اُسے آپ پائیں گے۔ روحانی شگفتگی، ذوق لطیف، گداز قلب اور کیف عشق سے وہ یکسر محروم نظر آئیں گے بلکہ نجدیوں کے حق میں شقادتِ قلب کی صاف و صریح حدیث وارد ہوئی ہے۔ تبلیغی جماعت کو بھی اسی قیاس کرلیجیے۔
(۱۳) حدیث نمبر ۵۔۱۲ میں اس گروہ کی ایک نشانی یہ بھی بتائی گئی ہے کہ ایک بار حق سے منحرف ہوچکنے کے بعد دوبارہ حق کی طرف واپسی ان کے لئے ناممکن ہو جائے گی۔ تبلیغی جماعت کے حق میں اس نشانی کی تصدیق کرنا چاہتے ہوں تو کسی بھی سرگرم تبلیغی جماعت کو جانچ لیجیے۔ لاکھ آپ کوشش کریں گے وہ عقیدے کے فساد سے ہٹ جائے رسولِ عربی کے گستاخوں کا ساتھ نہ دے، مقبولانِ حق کی بارگاہوں سے عقیدت رکھے لیکن وہ عشق و ایمان کی طرف کبھی پلٹ کر واپس نہیں آئے گا۔
ذہن کا آخری کانٹا
قبل اس کے مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں آپ تبلیغی جماعت کے متعلق ہوئی فیصلہ کریں مجھے چند لمحے کے الیے اجازت دیجیے کہ مَیں آپ کے احساس کی نبض پر ہاتھ رکھ آپ سے ایک بات کہوں۔
مَیں محسوس کرتا ہوں کہ تبلیغی جماعت کے خلاف کوئی فیصلہ کرتے ہوئے آپ کو جو سب سے بڑی الجھن پیش آئے گی وہ یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت جو لوگوں کو دین کی طرف کی بلاتی ہے۔ نماز اور روزہ کی خود بھی پابند ہے اور دوسروں کو ترغیب دیتی ہے۔ لوگوں کو اچھی باتوں کی تلقین کرنا جس نے اپنا مقصدِ حیات ٹھہرالیا ہے اسے کیوں کر گمراہ اور بے دین قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسی دین پرور جماعت بھی گمراہ اور بے دین ہے تو پھر دنیا میں دین دار اور حق پرست کون ہے؟
مَیں عرض کروں گا کہ تقریباً اسی طرح کی کش مکش حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی اس نوجوان نمازی کے متعلق پیش آئی تھی جسے قتل کرنے کا حکم حضور انور ﷺ نے صادر فرمایا تھا۔ وہ بھی یہ سوچ کر واپس لوٹ آئے تھے کہ ایک نمازی کو کیوں قتل کیا جائے۔ اور پھر حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کو خبر دی تھی کہ اخیر زمانے میں ایک جماعت نکلے گی جو قرآن پڑھیں گے۔ اچھی باتوں کی تلقین کریں گے۔ نماز و روزہ کا اہتمام ان کے یہاں سب سے زیادہ ہوگا اور اس کے باوجود دین سے ان کا کوئی تعلق نہ ہوگا تو اس وقت بھی صحابۂ کرام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ کسی بھی شخص کو دین دار اور پسندیدہ قرار دینے کے لیے یہی ظاہری علامتیں دیکھی جاتی ہیں۔ دل کے اندر کو اُترتا ہے اور جب یہی علامتیں بے دین اور منحرف لوگوں کے لیے بھی حضور قرار دے رہے ہیں تو پھر دین دار نمازی اور بے نمازی کے درمیان کس طرح امتیاز کیا جائے گا؟
غالباً اسی حیرانی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے سب کچھ سن لینے کے بعد پھر یہ سوال کیا کہ وما سیماھم ؟ یا رسول اللہ ﷺ ! ان کی خاص علامت کیا ہے؟ مطلب یہ تھا کہ یہی علامتیں تو خدا پرست اور دین دار مسلمانوں کی بھی ہیں۔ کوئی ایسی علامت بتائیے جو اسی بے دین اور گمراہ جماعت کے ساتھ خاص ہو تو اس کے جواب میں حضور نے ارشاد فرمایا تھا سیماھم التحلیق ان کی خاص علامت سر منڈا نا ہوگی۔
نسخۂ شفاء
اچھا ساری بحث جانے دیجیے کم از کم حدیثوں پر یقین کے نتیجے میں اتنا تو آپ بھی تسلیم کریں گے کہ اخیر زمانے میں ایک جماعت نکلے گی جو مذکورہ بالا اوصاف کی حامل ہوگی اگر وہ تبلیغی جماعت نہیں تو پھر آپ ہی بتائیے کہ دوسری وہ کون سی جماعت ہے جس میں ماسبق حدیثوں کی بیان کردہ علامتیں پائی جارہی ہیں۔
اس لیے ذ ہنی خلجان کا علاج یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کو صرف روزہ، نماز اور چند ظاہری خوبیوں کے رُخ سے نہ دیکھے بلکہ احادیث میں اس بے دین جماعت کی جتنی علامتیں بیان کی گئی ہیں ان ساری علامتوں کے آئینے میں تبلیغی جماعت کا جائزہ لیجیے۔ روزہ، نماز اور دینی دعوت تو ان علامتوں کا صرف ایک حصہ ہے۔ تصویر کا صرف ایک رُخ دیکھ کر پوری شخصیت کا سراپا معلوم کرنا بہت مشکل ہے۔
ضمیر کا فیصلہ
ان حالات میں اب مومن کا ضمیر ہی اس کا فیصلہ کرے گا کہ رسول پاک صاحبِ لولاک ﷺ کی خوشنودی تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہونے میں ہے یا اس سے علیحدہ رہنے میں؟ یہ سوال صرف ان لوگوں سے ہے جنہیں صرف خدا اور رسول کی خوشنودی کا جذبہ تبلیغی جماعت کی طرف کھینچ کر لے گیا ہے باقی رہے وہ لوگ جو کسی مادی منفعت کی لالچ یا مذہبی شقادت کے جذبے میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ہوگئے ہیں توان کے تعلق میں صرف اتنا کہوں گاکہ وہ اپنی خواہش نفس کی پیروی میںجتنی دورجانا چلے جائیں۔احترام نبوت کے قانون کی اب کوئی زنجیران کے اٹھے ہوئے قدموں کو نہیں روک سکتی لیکن صرف اتنی سچائی برقرار رکھیں کہ اپنے نفس کے شیطان کی فرماں برداری کرتے وقت خدا و رسول کی خوشنودی کا نام نہ لیا کریں۔
بہرحال یہ کہتے ہوئے اب اس بحث کا سلسلہ ختم کرتا ہوں کہ جن اوصاف کی وجہ سے لوگ تبلیغی جماعت پسند کرتے ہیں۔افسوس کہ وہی اوصاف ہمیں اس گروہ سے بھی روشناس کراتے ہیں جن کی نشاندہی آج سے تقریباً چودہ سو برس پیشتر خدا کے آخری پیغمبر نے فرمائی تھی اور اپنی وفادار امت کو تاکید کی تھی کہ جب ان نشانیوں کو کوئی گروہ تمہیں ملے تو تم اسے دور رہنا۔
اب جس اُمتی کو اپنے رسول کی خوشنودی عزیز ہو وہ تبلیغی جماعت سے دور رہے اور جو اپنی خواہشِ نفس کا غلام ہو اسے ایک وفادار مومن کی روش اختیار کرنے پر کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔
الوداعی کلمات
اس کتاب کے خاتمہ پر میں آپ سے چند آخری کلمات کہہ کر رخصت ہورہا ہوں۔ اپنی تلاش وجستجو کے بعد تبلیغی جماعت سے متعلق جتنی حدیثیں میری نظر میں تھیں میں نے آپ کے سامنے پیش کردیں۔اب ان پر پُرخلوص جذبے کے ساتھ غور فرمائیں۔
آپ اگر تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہیں تو آپ کی نیت پر حملہ نہیں کروں گا۔ ہوسکتا ہے کہ آخرت کا شوق ہی آپ کو اس طرف کھینچ کرلے گیا ہو لیکن کیا ایک لمحے کے لیے آپ یہ سوچنے کی زحمت گوارا فرمائیں گے کہ مَیں نے اپنی کتاب ’’تبلیغی جماعت ‘‘ میں تبلیغی جماعت کے خلاف جتنے حقائق پیش کیے ہیں کیا وہ سب کے سب یکلخت غلط اور بے بنیاد ہیں؟ فرض کیجیے آپ کے تئیں سارے الزامات غلط ہیں تو کیا ان حدیثوں کو بھی آپ غلط کہد یجیے گا جن کے ذریعہ تبلیغی جماعت سے علیحدگی میں رسولِ پاک کی خوشنودی کا پتہ چلتا ہے۔
بہرحال آپ کے تئیں تبلیغی جماعت میں اگر کچھ خیر کا حصہ ہے تو ازرُوئے انصاف ’’شر‘‘ کا حصہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے تھوڑے سے خیر کے لیے اپنے آپ کو بہت بڑے شر میں مبتلا کردینا نہ اسلام ہی کا مطالبہ ہے اور نہ عقل ہی کا تقاضا۔ تبلیغی جماعت کا ساتھ دینے میں اخروی مضرت کا یقین نہ سہی، اس سوال کا احتمال تو ضرور ہے کہ رسول کی نشاندہی کے باوجود تم نے ایسی جماعت کا ساتھ کیوں دیا؟ لیکن علیحدہ رہنے میں کوئی خطرہ نہیں، نہ دنیا کا نہ آخرت کا۔
اس کتاب کی آخری سطریں لکھتے ہوئے میں روحانی اطمینان محسوس کرتا ہوں کہ اُمت کو ایک عظیم خطرہ سے احادیث پاک کی روشنی میں آگاہ کرنے کا فرض مَیں نے اپنے سر سے اُتار دیا۔ اب انجام کے لیے فیصلے کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جن کے ہاتھوں میں یہ کتاب ہے۔ دعا ہے کہ خدائے قدیر اس کتاب کے ذریعہ اپنے سادہ لوح بندوں کو سلامتی کی منزل کی طرف واپسی کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین