ترتیب وتخریج ۔ خلیل احمد رانا
معلومات
یہ تقریر ’’خانپور‘‘ ضلع رحیم یار خان میںعید میلاد النبی ﷺکے موقع پر جامعہ سراج العلوم کے پانچ روزہ سالانہ جلسہ میں کی گئی۔(جلسہ کی تاریخ معلوم نہ ہوسکی)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
ایمان یہ کہتاہے مِری جان ہیں یہﷺ
عزیزان محترم ! آپ کا ایک ہی مقام ہے اور وہ کیا ہے؟ اﷲتعالیٰ پر، اﷲ تعالیٰ کی توحید پر ، اﷲتعالیٰ کی ذات وصفات پر اور اﷲ تعالیٰ کے وحدہٗ لا شریک ہونے پر آپ کا ایمان ہے، مگر یہ سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ کی توحید ، اس کی وحدانیت، اس کا وحدہٗ لا شریک ہونا اس کا شریک سے پاک ہونا، دین کی بنیاد، دین کی روح، سارا دین، تمام احکامِ خداوندی، تمام اسلامی تعلیمات، پورا قرآن اور تمام شریعت مطہرہ جس دامن سے ملی ہے، اس دامن سے وابستہ رہو، یہ وابستگی تمہارا مقام ہے، اگر اس دامنِ پاک سے وابستگی میں ضعف پیدا ہوگیا تو سمجھ لو کہ کچھ بھی باقی نہیں رہا۔
میرے محترم بھائیو اور میرے پیارے عزیزو! آپ کو یقین کرنا ہوگا کہ ہمارے لئے بے شک خدا کی توحید ، اﷲ کی الوہیت، اﷲ کی وحدانیت، اﷲ کی واحدیت، اس کا وحد ہٗ لا شریک ہونا، یقیناً دین کی بنیاد ہے، مگر آپ یہ دیکھیں کہ اس بنیاد کی بھی تو کوئی بنیاد ہے، دین کا مرکز ہے ؟
میرے دوستو ! قرآن دین کا مرکز ہے، شریعت محمدیہ دین کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے ، اﷲ کے احکام کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے اور تمام آداب، عبادات، معاملات، تمام احکام ،مسائل، دین کا ہر مسئلہ، دین کے اصول اور دین کے فروع سب کچھ ہمارے لئے دنیا وآخرت کی سعادت کے لئے ضمانت ہے، مگر یہ بتائو اس دین کی اصل کیا ہے ؟ میں تمہیں بتا دیتا ہوں۔
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
دین کی اصل تو حضور ﷺ کی ذات مقدسہ ہے، عقیدۂ توحید اﷲ کی واحدیت ، اس کی وحدانیت ، کلام الٰہی، اﷲ کے کلام کا ہم تک پہنچنا اور ساری شریعت کا ہم تک آنا سب کی بنیاد حضور ﷺ کی ذات مقدسہ ہے، اﷲ تو ازل سے ایک ہے، مگر میرے دوستو ! اﷲ کے ایک ہونے کا علم ہمیں کس نے دیا، ہمیں کس نے بتایا ، کیا ہم نے اﷲ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ ہم نے اﷲ کا کلام سنا ہے؟ کیا اﷲ نے ہمارے کان میں قرآن کو نازل کیا ہے؟
میرے دوستو اور میرے محترم عزیزو ! اﷲ کی وحدانیت ، اﷲ کی واحدیت کا اعلان زبانِ نبوت سے کرایا گیا، اﷲ نے قرآن اپنے حبیب ﷺ کی زبان سے کہلوایا اور دین اپنے حبیب کی زبان سے ہم تک پہنچایا، جس زبانِ پاک نے دین ہم تک پہنچایا اور جس زبان پاک سے قرآن ہم تک پہنچا اور جس زبانِ پاک سے اللہ نے اپنی توحید کا عقیدہ ہم تک پہنچایا، ایمان سے کہنا وہ زبان مقدس اور وہ ذاتِ مقدس اﷲ کے نزدیک ، اﷲ کی بارگاہ میں اتنی عظمت والی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ساری کائنات کے لئے توحید کے مسئلے میں ، دین کے مسئلے میں، قرآن کے مسئلے میں ، اس ذاتِ مقدسہ کو ساری کائنات کے لئے قابلِ اعتماد قرار دیا اور معتمد علیہ بنایا۔ اگر حضور ﷺ کو اﷲ تعالیٰ معتمد علیہ نہ بناتا تو نہ توحید پر اعتماد ہو سکتا تھا ، نہ قرآن پر اعتماد ہوسکتا تھا، توحید کا عقیدہ تو حضور ﷺ نے ہم کو بتایا۔
ایک بات عرض کرتا ہوں، کہنے والے کا جب تک اعتبار نہ ہو اور کہنے والے کی زبان کا جب تک اعتبار نہ ہو اور کہنے والے کی ذات پر جب تک اعتماد نہ ہو ، ایمان سے کہنا کیااس کی بات کچھ وزن رکھتی ہے؟ کوئی وزن نہیں رکھتی ، کیوں ؟
اس لئے کہ کہنے والے کی بات کا وزن تو کہنے والے سے ہوگا، اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک جناب محمد رسول اﷲ ﷺ کی ذات مقدسہ کو اتنا وزنی بنایا، اتنا کامل بنایا، اس قدر اکمل اور عظیم بنایا کہ تمام دین کا اعتماد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر ، توحید کے عقیدہ کا اعتماد حضور کی ذات پر ، سارے قرآن کا اعتماد حضور کی ذات پر ، اسی لئے فرمایا قُل ھوا ﷲ ُ اَحَد میرے محبوب میری توحید کا ، میری وحدانیت کا، میری واحدیت کا تو اعلان فرمادے، اگر زبان نبوت کو اﷲ تعالیٰ قابل اعتماد نہ بناتا تو زبان نبوت سے اپنی توحید کا اعلان کیسے کراتا، قرآن اﷲ کا کلام ہے ہمارا ایمان ہے، لیکن ایمان سے کہنا اسی قرآن میں اﷲ نے کیا فرمایا اِنّہ لقولُُ رسولٍ کریم (سورۃ الحاقۃ۶۹:۴۰۔سورۃ التکویر۸۱:۱۹)قرآن تو رسول کریم کا قول ہے ، ارے کلام تو اﷲ کا ہے مگر قول رسول کریم کا ہے۔
یہ( قول) مصدر ہے معنی میں مقول کے ہے یعنی رسول کا کہا ہوا ہے، اگر رسول نہ کہیں تو ہم کو کیا پتہ یہ اﷲ کا کلام ہے، آپ نے غور فرمایا؟ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ رسول کی ذات کو اﷲ نے قابل اعتماد بنایا کہ نہیں ؟
بے شک بنایا، جب اﷲ نے رسول کی ذات کو قابل اعتماد بنایا تو میرے دوستو ! تمہارے دین کی بقا، سارے دین کا استحکام، رسول کی ذات کے استحکام اور قابل اعتماد ہونے پر ہے، اگر اس استحکام میں ذرہ برابر فرق آتا ہے اور رسول کے قابل اعتماد ہونے میں ذرہ برابر فرق آتا ہے تو دین کی ساری عمارت منہدم ہو کر رہ جاتی ہے، عمارت تو بنیادوں پر ہوتی ہے اور سب کی بنیاد زبان نبوت ہے، قرآن کی بنیاد زبان نبوت ہے، عقیدۂ توحید کی بنیاد زبان نبوت ہے ، جب تک رسول کی ذات مستحکم نہ ہو، قابل اعتماد نہ ہو، غلطی سے پاک نہ ہو، عیب سے پاک نہ ہو، خطا سے پاک نہ ہو تو دین کا کوئی جز متحقق نہیں ہوسکتا، سارے دین کا دارومدار حضور ﷺ کی ذات پاک پر ہے۔
میرے دوستو اور میرے پیارے عزیزو ! جب یہ بات آپ کے ذہن نے قبول کرلی تو اب میں ایک بات عرض کرتا ہوں کہ میں آپ کے علاقہ میں جب آتا ہوں تو ایسے ایسے الفاظ میرے سننے میں آتے ہیںاور ایسے سوالات میرے سامنے آتے ہیں ، میں حیران ہوجاتا ہوں کہ یا اﷲ میں کیا دیکھ رہا ہوں اور کیا سن رہا ہوں ۔
ذنبک کی آیت اوراعتراض
پہلا سوال میرے سامنے یہ آیا کہ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے!
إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُّبِیْناً (۱) لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِکَ وَمَا تَأَخَّر۔(سورۃ الفتح، آیت ۱۔ ۲)
ہم نے آپ کو فتح مبین اس لئے عطا فرمائی کہ اﷲ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف کردے ۔
معلوم ہوا کہ رسول سے اگلے گناہ بھی ہوئے اور پچھلے گناہ بھی ہوئے، تو رسول گنہگار ثابت ہوئے کہ نہیں ہوئے ؟ رہا معاف کرنے کا معاملہ ، تو جب اﷲ نے معافی کا اعلان فرمادیا تو گناہ ہوئے یا نہیں ہوئے ایک ہی بات ہے۔
یہ اعتراض میرے سامنے آیا۔
قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ جل مجدہٗ ا رشاد فرماتا ہے ان اﷲ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء (سورۃ النساء ۴:۴۸،۱۱۶) اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ شرک کو تو معاف نہیں کرے گا اور شرک کے علاوہ جس کو چاہے معاف کردے۔
تو صرف معافی سے تو بات نہیں بنتی، ارے معافی تو ہر ایک مسلمان کی ہو سکتی ہے، ہر ایک مومن کی ہو سکتی ہے، خواہ اس نے کروڑوں گناہ کئے ہوں، تو اب معافی کی وجہ سے وہ گنہگاروں کی صف میں تو بہر حال باقی رہے گا، یہ الگ بات ہے کہ معافی ہو جائے ، تو اگر رسول کریم ﷺ کے بارے میں ہم یہی عقیدہ رکھیں کہ ان سے اگلے گناہ بھی ہو ئے اور پچھلے گناہ بھی ہوئے اور اﷲ نے معاف کردئیے ، اﷲ تعالیٰ تو حضور ﷺ کی اُمت کے بہت سے لوگوں کے گناہ معاف کردے گا اور بہت سے لوگوں کو بے حساب جنت میں داخل فرمائیگا، تو پھر بتائیے کہ وہ اُمتی اوررسول تو یکساں ہوگئے، رسول کے بھی گناہ معاف ہو ئے اور ان کے بھی گناہ معاف ہوئے تو پھر کیا فرق رہا رسول میں اور گنہگاروں میں ؟
عزیزانِ محترم ! افسوس صد افسوس میں یہی عرض کررہا تھا کہ میری آنکھیں کیا دیکھتی ہیں اور میرے کان کیا سنتے ہیں میں حیران ہوں!
حقیقتِ گناہ اورذاتِ نبوت
میرا عقیدہ قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کی تو بہت بڑی شان ہے ،ہر نبی اور ہر رسول کے بارے میں میرا یہی عقیدہ ہے کہ جو ذنب ہو، معصیت ہو، گناہ ہو اور اس میں گناہ کی حقیقت پائی جائے ، خدا کی قسم گناہ کی حقیقت، ضلالت کی حقیقت، غوایت کی حقیقت اور ذنب کی حقیقت سے میرے آقا ﷺ بھی پاک ہیں اور تمام انبیاء بھی پاک ہیں۔
میں نے’’ حقیقت‘‘ کی جو قید لگائی ہے اس کی وجہ آپ کو بتاتا ہوں ، نہایت آسانی کے ساتھ سمجھ میں آجائے گی، مقصد تو ہے کہ کہ گناہ کی نجاست سے نبوت کا دامن داغدار نہ ہو ، گناہ تو معصیت ہے، حقیقت معصیت اور حقیقت ذنب سے خدا کی قسم میرے آقاکا بھی دامن پاک ہے اور ہر نبی کا دامن پاک ہے۔ ہاں میں نے حقیقت کی قید اس لئے لگائی کہ بعض افعال انبیاء علیہم السلام سے ایسے ضرور سرزد ہوئے اور سرز د وہ ان سے نہیں ہوئے بلکہ حکمت الٰہیہ کا تقاضہ تھا کہ وہ کام خود انبیاء سے سرزد ہوں ، کیسے کام ؟ حقیقت میں وہ کام گناہ نہیں، حقیقت میں معصیت نہیں، حقیقت میں غوایت نہیں ، لیکن وہ کام صورۃً گناہ کے مشابہ تھے اور صورۃً مشابہت کی وجہ سے کوئی گناہ کی حقیقت ان میں پیدا نہیں ہوئی، معصیت کے کوئی معنی ان میں پیدا نہیں ہوئے، مگر صورۃً ایسے کام کا انبیاء سے سرزد ہوجانا جو منافی ہے غوایت کے، گناہ کے ساتھ صورۃً مماثلت رکھتے ہیں ، لیکن حقیقتاً وہ مماثلت نہیں رکھتے، حقیقت میں وہ گناہ نہیں ہے ، حقیقت میں وہ معصیت نہیں ہے، تو ایسے کام بعض انبیاء سے سرزد ہوئے اور اس لئے سرزد نہیں ہوئے بلکہ سرزد کرائے گئے تاکہ حکمت الٰہیہ کا تقاضا پورا ہوجائے۔
وہ کیا تھا غور سے سنئے!
آدم علیہ السلام کامعاملہ
مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں ، اﷲ تعالیٰ نے آدم وحوا علیہم السلام کو جنت میں رکھا اور ارشاد فرمایا ولا تقربا ھذہ الشجرۃ فتکونا من الظلمین (سورۃ البقرۃ۲:۳۵۔سورۃ الاعراف۷:۱۹) اے آدم وحوا اس درخت کے قریب نہ جانا اگر تم اس درخت کے قریب گئے تو ظالمین میں سے ہو جائو گے، یہ قرآن میں صاف صاف اعلان فرمایا، لیکن ہوا کیا ؟ فاز لھما الشیطان عنھا ، شیطان، آدم اور حوا دونوں کے قدم پھسلنے کا سبب بن گیا،پھر کیا ہوا؟ آدم بھی اور حوا بھی دونوں جنت سے باہر تشریف لے آئے۔
اَب لوگوں نے کہا کہ دیکھئے شیطان نے پھسلا دیا ، یہ گناہ نہیں تو اور کیا ہے، جنت سے باہر آگئے یہ گناہ کی سزا نہیں تو اور کیا ہے؟
میں عرض کروں گا واﷲ باﷲ ثم تا ﷲ یہ گناہ نہیں، یہ معصیت نہیں، گناہ اور معصیت کی تعریف کیا ہے ؟ خوب سمجھ لو گناہ اور معصیت کے معنی یہ ہیں کہ جو کام جان بوجھ کر معصیت کے ارادے سے کیا جائے اسے معصیت کہتے ہیں، اگر جان بوجھ کر معصیت کا ارادہ نہ ہو تو وہ کام معصیت کے مشابہ تو ہو جائے گا مگر معصیت کی حقیقت اس میں نہیں پائی جائے گی۔
روزہ دار کابھول کرکھاناپینا
میں مثال دیتا ہوں بتائیے ! روزہ دار کو روزہ کی حالت میں کھانا پینا کیسا ہے؟ یہ گناہ ہے یا نہیں ؟ اگر روزہ دار روزے کی حالت میں جان بوجھ کر کھا پی لے تو بتائیے اس پر کفارہ ہوگا کہ نہیں ؟ ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے، جان بوجھ کر کھایا پیا تویہ گناہ ہوگا ، اوراگرکسی روزہ دار نے بھول کر کھانا کھا لیا یا پانی پی لیاتو گناہ نہیں ہوگا ، فعل دونوں کا یکساں ہے، فرق یہ ہے کہ ایک جان بوجھ کر کھا پی رہا ہے اور ایک بھول کر کھا پی رہا ہے ، دونوں کا فعل تو ایک جیسا ہے مگر حکم بدل گیا، کیونکہ جوکام اﷲ تعالیٰ کے حکم کے خلاف جان بوجھ کر کیا جائے وہ معصیت ہے اور جو بھول کر کیا جائے وہ معصیت نہیں ہے ، یہ فرق آپ کو سمجھ آگیا۔
حضرت آدم وحوا علیہم السلام دونوں کے متعلق ایک بات عرض کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ولا تقربا ھذہ الشجرۃ اس درخت کے قریب مت جانا، اگر تم گئے تو کیا ہوگا؟ فتکونا من الظلمین توتم ظالمین میں سے ہو جائو گے ، اس کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قصداً جان بوجھ کر بقصد معصیت اس درخت سے کھایا اور اس کے قریب گئے تو یقیناً تم گنہگار ہو جائو گے، ظالم ہوجائو گے، لیکن کیا اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر تم بھول کر بھی گئے تب بھی ظالم ہوجائو گے؟ یہ مطلب تو نہیں ہوسکتا، کیوں ؟
اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے لا یکلف اﷲ نفسا الا وسعھا (سورۃ البقرۃ ۲:۲۸۶) اﷲ تعالیٰ کسی جان کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، کسی کام کو جان بوجھ کرنا یا نہ کرنا یہ تو وسعت میں ہے، مگر بھول کر کرنا یا نہ کرنا یہ تو وسعت نہیں ہے، تو معلوم ہوا کہ ولا تقربا کے معنی یہ ہیں کہ قصداً اس کے قریب مت جانا اگر قصداً گئے تو تم ظالمین میں سے ہو جائو گے۔
اَب قرآن سے پوچھو کہ آدم وحوا علیہما السلام قصداً گئے اور حضرت آدم نے جان بوجھ کر اس درخت سے کچھ کھایا یا بھول گئے ؟ میں نہیں کہتا قرآن کہتا ہے: لقدعھد نا الیٰ ادم من قبل فنسی ولم نجد لہٗ عزماً (سورۃ طٰہٰ۲۰:۱۱۵) ہم نے آدم سے ایک عہد لیا وہ کیا تھا ؟ کہ اس درخت کے قریب مت جانا ، فنسی تو آدم بھول گئے ولم نجد لہٗ عزماً اور ہم نے آدم کا کوئی عزم نہیں پایا، کوئی قصد نہیںپایا وہ بھول گئے، اور بھولنے کا سبب شیطان ہوا، اور فعل کی اسناد کبھی سبب کی طرف کی جاتی ہے، تو فازلھما الشیطان کے معنی یہ ہیں کہ شیطان ان کے بھولنے کا سبب ہوگیا اور بھول کر انہوں نے اُس درخت (کا دانہ) کھالیا، اور بھول کر جو کام کیا جائے وہ اگرچہ قصداً کرنے سے معصیت تھا لیکن جب بھول کر کیا گیا تو خدا کی قسم وہ معصیت نہیں ہوا، تو قرآن نے کہا فنسی ولم نجد له عزماً آدم بھول گئے ہم نے ان کا ارادہ نہیں پایا، اور جو کام بھول کر ہو، ارادے کے بغیر ہو وہ معصیت نہیں ہوتا، وہ گناہ نہیں ہوتا، وہ ذنب نہیں ہوتا۔
اس کے باوجود کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے عصیٰ اٰدم ربہ فغوی (سورۃ طٰہٰ۲۰:۱۲۱) آدم علیہ السلام نے اپنے رب کا عصیان کیا، وہ عصیان حقیقتاً نہ تھا بلکہ صورۃً تھا ، تو پتہ چلا کہ عصیان صورۃً ہوسکتا ہے مگر حقیقتاً نہیں ہوسکتا، اسی طرح ذنب صورۃً تو ہوسکتا ہے مگر حقیقتاً نہیں ہوسکتا اور صورۃً کیوں ہوسکتا ہے ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ جل مجدہٗ بعض اوقات اپنے نبیوں سے ایسا کام سرزد کرادیتا ہے جو حقیقتاً گناہ نہیں مگر مشابہ ہے گناہ کے تاکہ جب نبیوں کی اُمتوں کے اصل گناہ سامنے آئیں گے تو نبیوں کے ان افعال کے دامن میں امتیوں کے گناہ آجائیں گے، اللہ تعالیٰ انبیاء کے ان افعال کے دامن میں ان کو لے لیگا ، کون سے افعال ؟ جو حقیقتاً گناہ نہیں ہیں مگر صورۃً گناہ کے مشابہ ہیں، آپ کے دامن میں اُمت کے حقیقی گناہوں کو اﷲ تعالیٰ لے لیگا اور حقیقی گناہوں کو لے کر اُمت کو بخش دے گا، تو بخشش اُمت کی ہوگی اور نبی سے تو گناہ ہوا ہی نہیں ہے وہاں تو گناہ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اسی طرح ہمارے آقا سرور عالم نور مجسم ﷺ سے بعض ایسے امور سرزد ہوئے جو حقیقتاً گناہ نہیں، ذنب نہیں، معصیت نہیں وہ صورۃ ً مشابہ ہیں گناہ کے ، اور اس لئے کہ میرے محبوب تیرے اس فعل کے دامن میں تیری اُمت کے حقیقی گناہوں کو معاف کر دیا جائے ، کیوں ؟
تاکہ استغفار سنت بن جائے
اس لئے کہ لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنۃ (سورۃ الاحزاب۳۳:۲۱)۔ انبیاء کرام علیہم السلام ایسے کاموں پر استغفار کرتے رہے کہ جو حقیقتاً گناہ نہ تھے صورۃً مشابہ تھے ، اور جب ایسے کاموں پر استغفار کرتے رہے تو اُمت کو حکم تھا کہ جب وہ ایسے کاموں پر استغفار کرتے رہے جو حقیقتاً گناہ نہیں ہیں صرف گناہ کے صورۃً مشابہ ہیں ، تو اے میرے نبیوں کی اُمت والو تم سے جب حقیقی گناہ سرزد ہوں تو تم کیسے استغفار نہیں کروگے، تمہیں استغفار کرنا پڑے گا، تو یہ اُمت کے لئے استغفار کا راستہ بتایا اور اپنے نبیوں کے اس فعل کے دامن میں اُمت کے ان افعال کو اور حقیقی گناہوں کو اﷲ تعالیٰ نے معاف فرمادیا ، تو یہ اﷲ تعالیٰ کی حکمت ہے۔
میں نے ایک کلیہ آپ کے سامنے بیان کردیا، اب جتنے جزئیات آپ لائیں گے اسی کلیہ کے تحت ہوں گے کہ کسی نبی کا کوئی فعل ہر گز گناہ نہیں ہوگا اگر ہوگا تو گناہ کے مشابہ ہوگا اور مشابہ ہونے سے اُس کا حقیقتاً گناہ ہونا لازم نہیںآتا، اور مشابہ اس حکمت کے لئے ہوگا کہ نبی کے ایسے فعل کے دامن میں اُمت کے حقیقی گناہوں کو لپیٹ کر مغفرت فرمادی جائے یہ حکمت تھی۔
اَب میری اس قید کا فائدہ آپ سمجھیں کہ نبی حقیقتاًگناہ سے پاک ہے، ہر نبی معصیت کی حقیقت سے پاک ہے اور کیوں پاک ہے ؟ اس لئے کہ نبوت کے لئے عصمت لازم ہے، اور عصمت کے کیا معنی ہیں؟ کیا یہ معنی ہیں کہ گناہ کئے اور عصمت ہوگئی؟ اگر یہ معنی لیں گے تو میں بڑاحیران ہوتا ہوں کہ یہ لوگ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم لوگ عصمت انبیاء کے قائل ہیں ، ارے اﷲ کے بندو تم عصمت انبیاء کے کہاں قائل ہو ، جب تم صاف صاف کہتے ہو کہ نبی سے پہلے گناہ ہوئے اور بعد کو بھی گناہ ہوئے تو جس سے گناہ ہوں وہاں عصمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو پتہ چلا کہ ماتقدم من ذنبک وما تأخر کی نسبت اگر حضور ﷺ کی ذات پاک کی طرف بھی بالفرض مان لوں تو حضور کے وہ مبارک افعالِ مقدسہ مراد ہیں کہ جن افعال مقدسہ کو ذنب نہیں کہا جائے گا حقیقتاً ،بلکہ ان کے مشابہ ، اس لئے کہ اُمت کے حقیقی ذنب ان کے دامن میں آکر مغفور ہوجائیں گے۔
اعضائے وضو تین بار سے کم کیوں دھوئے؟
اَب میں مثال تو نہیں دیتا مگر ذرا سی بات عرض کئے دیتا ہوں، حضور سرور عالم تاجدار مدنی ﷺ نے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ بھی دھویا ، دو مرتبہ بھی دھویا اور تین تین مرتبہ بھی دھویا(مشکوٰۃ،کتاب الطہارۃ،باب سنن الوضوء،فصل اول،ص۴۶…عن ابن عباس…مرۃً مرۃً…،عن عبداللہ بن زید…مرتین مرتین…،عن عُثمان…ثلاثاثلاثا۔مشکوٰۃ البانی،رقم:۳۹۵،۳۹۶،۳۹۷۔)، تین مرتبہ تو اکمل ہے ، دو مرتبہ کامل ہے اور ایک مرتبہ جائز ہے ، تو حضور نے ایک مرتبہ ہاتھ دھوئے، ایک مرتبہ کلی فرمائی، ایک مرتبہ بینی مبارک میں پانی ڈالا، ایک مرتبہ چہرہ مبارک کو دھویا، ایک مرتبہ کہنیوں تک مبارک نورانی ہاتھ دھوئے اور سر انور کا مسح تو ہوتا ہی ایک دفعہ ہے اور پائوں شریف بھی ایک مرتبہ دھوئے، افضلیت بھی کم ہوگئی اور فضیلت بھی کم ہوگئی محض جواز کا مرتبہ رہ گیا، لیکن حضور ﷺ نے یہ کام کیوں کیا ؟
اس لئے کہ اُمت سے اگر کہیں فروگذاشت ہوجائے تو محبوب کے اس فعل کے دامن میں آکر مقبول ہوجائے، کوئی ایک مرتبہ اعضاء کو دھو لے تو وضو تو پھر بھی ہوجائے گا ، مگر اس کا جواز کیسے ثابت ہوگا ، میرے آقا ﷺ نے بیان جواز کے لئے ایسا کیا اور بیان جواز تو منصب رسالت ہے اور منصب رسالت کی تکمیل تو بہت بڑا ثواب ہے، ہم تین مرتبہ اعضاء وضو دھویں اور حضور ایک مرتبہ دھویں تو حضور کا ایک مرتبہ دھونا ہمارے تین مرتبہ دھونے سے زیادہ ثواب رکھتا ہے جب کہ بیان جواز ہو۔
میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی طرف ذنب کو حقیقتاً منسوب کرنا اور یہ کہنا کہ حقیقتاً نبی سے گناہ ہوا، حقیقتاً نبی سے معصیت ہوئی ، تو یہ نبیوں کی عصمت کا انکار ہے اور عصمت نبوت کے لئے لازم ہے اور لاز م کا انکار ملزوم کے انکار کی طرف منتج ہوگا، تو لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نبوت کے انکار کا مرتکب ہوا، انبیاء علیہم السلام معصوم ہیں، عصمت کے معنی کیا ہیں ،عصمت کسے کہتے ہیں ؟
معصوم کے لئے گناہ پیداہوناشرعاً محال ہے
میں نہیں کہتا’’ مسامرہ‘‘ اُٹھا کر دیکھ لیں ،’’ مسایرہ‘‘ اُٹھا کر دیکھیں،’’ شرح مواقف‘‘ اُٹھا کر دیکھیں، یہ ہمارے علم کلام میں عقائد کی بڑی بڑی کتابیں ہیں، ان کے اندر صاف موجود ہے کہ عصمت کے معنی کیا ہیں، معصوم اسے کہتے ہیں کہ ’’لم یخلق لہ ذنب‘‘(مسایرہ،مسامرہ،شرح مواقف،شرح مقاصد) ارے معصوم وہ ہے جس کے لئے گناہ پیدا ہی نہیں کیا گیا، تو جب اﷲ کی طرف سے گناہ پیدا ہی نہیں ہوا تو اب جو تم کہتے ہو کہ نبی سے گناہ ہوئے تو کیا تم نے پیدا کردئیے ؟
نبی کی شان یہ ہے کہ’’ لم یخلق لہٗ ذنب ‘‘ارے نبی وہ ہے جس کے لئے گناہ پیدا ہی نہیں کیا گیا ، جب اﷲ نے نبی کے لئے گناہ پیدا ہی نہیں کیا تو ’’ما تقدم من ذنبک وما تأخر‘‘ کے معنی کیا ہوں گے؟ کیا یہ معنی ہوں گے کہ نبی نے گناہ کئے ؟ لا حول ولا قوۃ الا باﷲ ، ارے نبی کے لئے تو گناہ پیدا ہی نہیں ہوتا اور جب اﷲ نے پیدا ہی نہیں کیا تو نبی سے گناہ کیسے سرزد ہوئے؟
گناہ پرقادرنہ ہونے اور گناہ کے پیدا نہ ہونے میں فرق ہے
اَب ایک بات عرض کرتا ہوں یہ بڑی باریک علمی بات ہے، اہل علم اگر غور کریں گے تو ان شاء اﷲ سمجھ میں آجائے گی ، علم کلام کی کتابوںمسایرہ، مسامرہ، شرح مواقف، شرح مقاصد میں لکھا ہے کہ عصمت کے معنی ہیں لم یخلق لہٗ ذنب یعنی جس کے لئے گناہ پیدا ہی نہیں ہوا، اس پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب گناہ پیدا ہی نہیں ہوا تو نبی کے اندر گناہ کی قدرت ہی نہیں اور جب نبی کے اندر گناہ کرنے کی قدرت ہی نہیں تو پھر گناہ نہ کرنا یہ کون سا کمال ہوا؟ سیدھی سی بات ہے ،ایک شخص نابینا ہے تو وہ کہے کہ میں نے کبھی کسی کو بری نظر سے دیکھا ہی نہیں ، تو لوگ کہیں گے کہ تم تو دیکھ ہی نہیں سکتے ، یہ نہ دیکھنا تمہارا کوئی کمال نہیں ہے ، کمال تو تب تھا کہ تم دیکھ سکتے پھر نہ دیکھتے، تو یہ جو تم نبوت کیے لئے عصمت کے معنی بتاتے ہو اور معصوم کی تعریف کرتے ہو کہ لم یخلق لہٗ ذنب، تو یہ تو کوئی کمال نہیں ۔
اﷲ اکبر! بھائی بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جب کسی کا ایمان سلب کرتا ہے تو عقل وعلم بھی ساتھ ہی سلب ہوجاتی ہے، میرے دوستو ! اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کسی کے لئے گناہ کا پیدا نہ کیا جا نے سے کیا یہ ضروری ہے کہ اس قدرت کو بھی اﷲ نے سلب کرلیا ہو؟
محفوظ کے لئے گناہ پیدا نہ ہوامگر شرعاً محال نہیں
خدا کی قسم اس کا مطلب یہ نہیں ہے ، ورنہ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوںبتائیے ! ہزاروں اولیاء اﷲ دنیا میں ایسے پیدا ہوئے کہ جنہوں نے گناہ نہیں کیا اور کیوں نہیں کیا؟ جنہوں نے گناہ نہیں کیا ، جو گناہوں سے محفوظ رہے ، یہ بتائیے کہ اﷲ نے ان کے لئے گناہ پیدا کیا تھا یا نہیں کیا تھا ؟
تو میں عرض کروں گا اور صاف صاف لفظوں میں عرض کروں گا کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ نے ان کے لئے گناہ پیدا نہیں کیا تھا ، اگر اﷲ ان کے لئے گناہ پیدا کرتا تو پھر ان سے گناہ کا صدور ضروری تھا ، تو پتہ چلا کہ ان کے لئے گناہ پیدا نہیں کیا گیا ، اَب آپ کہیں گے کہ یہ تو سارے معصوم ہوگئے، تو یہ غلط ہے، کیوں غلط ہے؟
اس لئے غلط ہے کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ جل جلالہ نے جن کے لئے گناہ کو پیدا نہیں کیا ان کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم تو یہ ہے کہ جن کے لئے گناہ پیدا کیا جانا اﷲ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے اور اﷲ تعالیٰ نے قانون بنادیا کہ ان کے لئے گناہ کا پیدا کرنا میری حکمت کے بالکل خلاف ہے، اور کچھ ایسے لوگ ہیں ان کے لئے گناہ کا پیدا نہ کرنا کوئی محال شرعی تو نہیں ہے لیکن اﷲ تعالیٰ نے ان کی نیکی اور پاکی کی بنا پر ان کے لئے گناہ کو پیدا نہیں کیا، لیکن یہ نہیں کہ ان کی شان یہ تھی کہ ان کے لئے گناہ پیدا نہ ہو یاان کے لئے گناہ کا پیدا ہونا کوئی محال شرعی تھا ۔ نبی کے لئے بھی گناہ پیدا نہیں ہوتا اور محفوظ ولی کے لئے بھی گناہ پیدا نہیں ہوتا۔
فرق اتنا ہے کہ نبی کے لئے گناہ کا پیدا ہونا محال شرعی ہے اور ولی کے لئے گناہ کا پیدا نہ ہونا محال شرعی نہیں ہے، آپ فرق سمجھ گئے کہ کسی ولی کے لئے گناہ کا پیدا ہوجانا شرعاً محال نہیں ہے، لیکن نبی کے لئے گناہ کا پیدا ہونا یہ محال شرعی ہے، تو دونوں کے لئے گناہ پیدا نہیں ہوتا، ایک کے لئے اُس کی عظمت وکرامت اور پاکیزگی کی بنا پر اور دوسرے کے لئے اس کی نبوت کی بنا پر، اور یاد رکھو نبوت کی بنیاد پر جس کے لئے گناہ پیدا نہ کیا جائے ، اس کے لئے گناہ کا پیدا ہونا محال شرعی ہے اور ولی سے گناہ کا پیدا نہ ہونا محال شرعی تو نہ تھا مگر اس کی پرہیزگاری اور کرامت کا تقاضا یہ تھا کہ اس کے لئے گناہ پیدا نہ کیا جائے۔
میں نے عصمت کے معنی بیان کئے کہ’’لم یخلق لہٗ ذنب‘‘ معصوم وہ ہے جس کے لئے گناہ پیدا ہی نہیں کیا گیا، اور پیدا کیا جانا اس کے لئے محال شرعی ہے اور یہ تعریف سوائے نبی کے کسی پر صادق نہیں آتی، یہ بات آپ کے ذہن میں آگئی، نبوت اور ولایت کا فرق بھی آپ کے سامنے آگیا ، ہزاروں اولیاء گناہوں سے محفوظ ہیں اور نبی تو گناہ سے محفوظ ہوتا ہی ہے مگر نبی معصوم ہوکر گناہ سے محفوظ ہوتا ہے اور ولی محفوظ ہوکر گناہوں سے بچا ہوا ہوتا ہے، دونوں کے لئے گناہ پیدا نہیں ہوتا، فرق اتنا ہے کہ ولی کے لئے گناہ کا پیدا ہونا محال شرعی نہیں اورنبی کے لئے گناہ کا پیدا ہونا محال شرعی ہے، ولی سے گناہ سرزد ہونا شرعاً ممکن ہے مگر نبی سے گناہ کاسرزد ہونا شرعاً ممکن نہیں ہے۔
یہ امکان شرعی اور امتناع شرعی کا فرق ہے، شریعت مطہرہ نبی سے گناہ سرزد ہونے کو ممتنع قراردیتی ہے اور ولی سے گناہ سرزد ہونے کو محال اور ممتنع قرار نہیں دیتی، نتیجہ یہ نکلا کہ جب ولی گناہ نہیںکرتااس کا گناہ بھی پیدا نہیں ہوتا اور نبی جب گناہ نہیں کرتا اس کا بھی گناہ پیدا نہیں ہوا جب دونوں کا گناہ پیدا نہیں ہوا تو فرق اتنا رہا کہ وہاں استحا لۂ شرعی ہے اور یہاں استحا لۂ شرعی نہیں۔
اَب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ولی کے لئے اﷲ تعالیٰ نے گناہ پیدا نہیں کیا ، بولئے اس میں گناہ کرنے کی قدرت تھی یا نہیں تھی؟ ارے قدرت تو تھی مگر قدرت کے باوجود اﷲ تعالیٰ نے ولی کی عظمت کی بنا پر اس کے لئے گناہ پیدا نہیں کیا، اگر اﷲ گناہ پیدا کرتا تو وہ ضرور مرتکب ہوجاتاکیونکہ جس چیز کو جس کے لئے اﷲ پیدا کرے وہ ضرور اس کا مرتکب ہوتا ہے۔
نبی خالقِ ہدایت نہیں بلکہ قاسمِ ہدایت ہے
اﷲ نے جس کے لئے ہدایت کو پیدا کیا تو اس نے ہدایت کو اختیار کرلیا اور جس کے لئے ہدایت کو پیدا نہیں کیا اس نے کبھی ہدایت کو اختیار نہیں کیا، اس لئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے انک لا تھدی من احببت(سورۃ القصص۲۸:۵۶) میرے پیارے محبوب ہدایت کا پیدا کرنا یہ تیرا کام نہیں یہ میرا کام ہے، میں نے ابوجہل کے لئے ہدایت کو پیدا نہیں کیا اس لئے اس نے ہدایت کو اختیار بھی نہیں کیا، میں نے ابولہب کے لئے ہدایت کو پیدا نہیں کیا اس لئے اس نے ہدایت کو اختیار ہی نہیں کیا، جس کے لئے خدا نے ہدایت کو پیدا نہیں کیا وہ ہدایت سے محروم رہا اور جس کے لئے خدا نے گنا ہ پیدا نہیں کیا وہ گناہ سے پاک رہا، فرق اتنا ہے کہ کسی کا گناہ سے پاک رہنا یہ شرعاً ضروری ہے اور کسی کا گناہ سے پاک رہنا شرعاً ضروری تو نہیں مگر اس کے فضل وکرامت کا تقاضا ہے کہ یہ گناہ سے پاک رہے،انبیاء علیہم السلام کے لئے گناہ مخلوق نہیں ہوا اور ان کے لئے گناہ مخلوق ہونا یہ شرعاً محال ہے کیونکہ عصمت لازمِ نبوت ہے مگر جس طرح گناہ کرنے کی قوت ولی کے اندر تھی نبی کے اندر بھی ہے، گناہ وہاں بھی مخلوق نہیں ہوا، گناہ یہاں بھی مخلوق نہیں ہوا، تو گناہ کے پیدا نہ کئے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ قدرت ہی سلب ہوگئی ، قدرت وہاں بھی ہے، قدرت یہاں بھی ہے، کیونکہ قدرت گناہ نہیں ہے۔
میرے دوستو! گناہ کرنا گناہ ہے، اﷲ تعالیٰ نے پاک کامل ولیوں کو بھی گناہ سے پاک رکھا اور اﷲ تعالیٰ نے اپنے ہر نبی کو گناہ سے پاک رکھااور انبیاء کو اس لئے رکھا کہ ان کے لئے شرعاً ضروری تھا کہ گناہ سے پاک رہیں اور کامل اولیاء اﷲ کو اس لئے پاک رکھا ان کے لئے حفاظت ان کی عظمت وشان کی دلیل تھی، تو نتیجہ یہ نکلا کہ اگر اﷲ نے ان کے لئے گناہ کو پیدا نہیں کیا تو اس سے ان کی قدرت کا سلب ہوجانا لازم نہیں آتا اور قدرت کا سلب ہونا لازم نہیں آتا تو تمہارا یہ اعتراض بھی خاک میں مل گیا کہ جب قدرت ہی نہیں تو پھر گناہ کا نہ کرنا کمال نہیں ہے۔
ارے قدرت ہے، قدرت ہے، قدرت ہے، مگر اس قدرت کو گناہ کے لئے استعمال کرنا نبی کے لئے مخلوق نہیں ہوا اور اس کا مخلوق ہونا شرعاًمحال ہے، یہ دو فرق تھے جو میں نے آپ کو بتادئیے۔
یہ تو علمی رنگ میں مَیں نے مسئلہ کو واضح کیا، اس صورت میں کہ جب’’ذنبٌ‘‘ کی اضافت حضور ﷺ کی طرف واقعی حقیقی ہو، لیکن یہاں ایک اور طریقہ سے عرض کئے دیتا ہوں۔
کرکے’’ تمہارے گناہ‘‘ مانگیں تمہاری پناہ
لیغفرلک اﷲ ما تقدم من ذنبک وما تأخر
ذنب کے اندر تو ’’دو‘‘ اعتبار ہیں ، دو احتمال ہیں، ایک احتمال تو یہ ہے کہ ذنب فقط صورۃً ہو حقیقتاً نہ ہو، وہ تو انبیاء کی شان کے خلاف نہیں ہے، جیسے ابھی میں نے آپ کو بتایا، دوسرا احتمال یہ ہے کہ ذنب واقعی حقیقتاً گناہ ہو ، اگر اس احتمال کو آپ لیتے ہیں اور آپ ذنب کے یہ معنی لیتے ہیں کہ وہ گناہ بخش دیئے جو اگلے گناہ ہیں ، تو پھر یہاں پر مضاف محذوف ہوگا اور معنی یہ ہوں گے’’ لیغفر لک اﷲ ما تقدم من ذنبک ای ماتقدم من ذنب امتک وما تأخر ‘‘ اگر ذنب سے مراد حقیقتاً گناہ ہے اور اگر ذنب کے حقیقی معنی مراد لئے جائیں تو اُمت کے گناہ مراد لینے پڑیں گے کہ اے میرے محبوب میں نے جو فتح مبین عطا فرمائی اس لئے کہ تیری اُمت کے اگلے پچھلے گناہ بخش دوں ، اور اگر ذنب کے حقیقی معنی مراد نہیں ہیں صورۃً ہیں تو وہ انبیاء کی شان کے لائق ہے ، اور وہ اس لئے ہے کہ انبیاء کے اس فعل کے دامن میں اُمت کے حقیقی گناہ معاف کردئیے جائیں ، دونوں صورتوں میں معنی صادق ہیں ’’ لیغفر لک اﷲ ماتقدم من ذنبک‘‘ میرے محبوب تاکہ اﷲ تعالیٰ معاف کردے ان گناہوں کو تیرے غلاموں کے جو تیرے اس ذنب کے دامن میں آگئے جو صورۃً ذنب ہے،حقیقتاً نہیں، اور دوسرے یہ کہ میرے محبوب ہم نے فتح مبین آپ کو عطا فرمائی تاکہ آپ کی اُمت کے اگلے پچھلے گناہوں کو ہم آپ کے لئے معاف کردیں۔
دونوں توجیہیں صحیح ہیں اور کسی توجیہہ کی بنیاد پر حضور ﷺ کی ذات پاک کا گنہگار ہونا ثابت نہیں ہوتا تو حضور کے دامن محمدیت، دامن نبوت ، دامن رسالت اور دامن عصمت پر کسی گناہ کا دھبہ نہیں آتا اور جو لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے یاد رکھو کہ وہ قرآن کو نہیں سمجھتے اور انہوں نے شان نبوت کو بھی نہیں سمجھا، اور اَب میں کو بتا ناچاہتا ہوں یہ جو حقیقت حال آپ کے سامنے واضح ہوگئی تو اَب آیت کریمہ کا مفہوم اپنے ذہن میں خوب پختہ کرلیجئے۔
عصمت کے مفہوم کو آپ کے سامنے ذرا واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام واقعی گناہوں سے پاک ہیں ، حقیقتاً گناہ کا کوئی اثر انبیاء پر نہیں آتا اور ہر نبی کا دامن گناہ کی نجاست سے حقیقتاً پاک ہے اس میں کوئی شک نہیں۔
دیکھئے اگر انبیاء علیہم السلام کو آپ معصوم نہیں مانتے اور انبیاء کے لئے اور آپ ﷺ کے لئے گناہ ثابت کریں گے تو گناہ دو طریقے سے ہوگا، گناہ قول سے ہوگا یا فعل سے ہوگا، گناہ دو ہی باتوں سے ہوگا، کسی نے جھوٹ بولا یہ قول ہے یا نہیں؟ کسی نے غیبت کی یہ قول ہے یا نہیں؟ کسی نے کسی پر بہتان لگایا یہ قول ہے یا نہیں؟ کسی نے لغویات بکے ، تو گناہ یا تو قول سے ہوگا یا فعل سے ہوگا، کسی نے رشوت لی، سود لے لیا، حرام کھالیا، کسی نے بے حیائی کا کام کرلیا، کسی نے شراب پی لی، یہ فعل گناہ ہیں یا نہیں؟ تو گناہ فعل میں ہوگا یا قول میں ہوگا، دونوں سے الگ نہیں ہوسکتا، تو نتیجہ کیا نکلا؟
اگر نبی معصوم نہیں تو حکمِ اتباع واطاعت مستقل کیوں؟
نتیجہ یہ نکلا کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ جل جلالہٗ نے قرآن میں ارشاد فرمایا قل ان کنتم تحبون اﷲ فاتبعونی یحببکم اﷲ (سورۃ آل عمران۳:۳۱)میرے پیارے محبوب ان سے فرما دیجئے کہ اگر تمہیں اﷲ کی محبت کا دعویٰ ہے تو میری پیروی کرو، اَب حضور کی پیروی یا تو قول میں ہوگی یا فعل میں ہوگی، اَب اگر حضور ﷺ سے گناہ سرزد ہونا ممکن ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرے محبوب نے کیا تو تم پر بھی فرض ہے کہ تم گناہ کرو، انہوں نے گناہ کی بات کہی تم بھی گناہ کی بات کہو، انہوں نے گناہ کا کام کیا تم بھی گناہ کا کام کرو، اور یہ بالکل محال ہے، یہ بالکل ممکن نہیں، تو پتہ چلا کہ نبی کا قول بھی گناہ سے پاک ہے ، نبی کا فعل بھی گناہ سے پاک ہے، ورنہ ہم کو کیسے حکم دیا جاتا کہ فاتبعونی میری اتباع کرو ، جب اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی پیروی کو ہم پر فرض قرار دے دیا تو معلوم ہوا کہ وہ گناہ سے پاک ہیں، ان کا قول بھی گناہ سے پاک ہے ان کا فعل بھی گناہ سے پاک ہے۔
سنئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اطیعوا اﷲ واطیعوا الرسول(سورۃ المائدۃ ۵:۹۲۔سورۃ النور۲۴:۵۴۔سورۃ التغابن۶۴:۱۲) لوگو اطاعت کرو اﷲ کی اور اطاعت کرو رسول کی ، اطاعت کے کیامعنی ہیں؟ اطاعت کے معنی ہیں’’فرماں برداری‘‘ یہ بھی دو ہی باتوں میں ہوگی، جو رسول کہیں وہ مان لو اور جو رسول کرکے دکھائیں وہ کرلو، اطاعت بھی قول وفعل میں ہوتی ہے اور اتباع بھی قول وفعل میں ہوتی ہے، اَب مجھے یہ بتائیے کہ اگر رسول کے قول وفعل میں گناہ سرزد ہوا ہو پہلے یا بعد کو ، تو پھر ان کی اطاعت کیسے ہو سکتی ہے؟ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ تم بھی گناہ کرو اور گناہ کرنا فرض ہوگا ، پھر جس بات کا کرنا فرض ہو وہ گناہ کیسے ہوگا آپ ہی بتائیے؟
تو پتہ چلا کہ رسول گناہ سے پاک ہے، شاید آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ یہاں تو تین باتیں ہیں اطیعوا اﷲ و اطیعواالرسول و اولی الامر منکم(سورۃ النساء ۴:۵۹) اﷲ تعالیٰ تو خیر اﷲ ہے، حضور گناہوں سے پاک ہیں، چونکہ معصوم ہیں، نبی ہیں کہ ان کی اطاعت فرض ہے ، تو اگر اطاعت فرض ہونے سے عصمت ثابت ہوتی ہے تو اطاعت تو اولی الامر کی بھی فرض ہے، کیونکہ فرمایا اولی الامر کی بھی اطاعت کرو ، تو مطلب یہ ہوا کہ نبی بھی معصوم اور اولی الامر بھی معصوم۔
حالانکہ عصمت تو انبیاء کا خاصہ ہے اور جب انبیاء کا خاصہ ہے پھر اولی الامر تو معصوم نہیں ہوسکتے، اولی الامر خواہ وہ مجتہدین ہوں یا وہ امراء ہوں کسی صورت میں بھی کوئی معصوم نہیں ہوسکتا۔
اس کا جواب دیتا جائوں، وہ جواب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اطیعوا کا لفظ دو جگہ فرمایا، اطیعوا اﷲ واطیعواالرسول، اطیعوااولی الامر نہیں فرمایا اولی الامر کے لئے اﷲ نے صرف عطف فرمادیا اور دو جگہ اطیعوا فرمایا، کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ اﷲ کی اطاعت بھی مستقل ہے اور حضور ﷺ کی اطاعت بھی مستقل ہے اور اولی الامر کی اطاعت مستقل نہیں ہے اﷲ ورسول کی اطاعت کے معیار پر دیکھ لو اگر صحیح ہے تو کرو، نہیں ہے تو نہ کرو۔
لہذا نبوت کی عصمت ثابت ہوگئی، اولی الامر کی عصمت ثابت نہیں ہوئی، یہ بات آپ سمجھ گئے، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اﷲ (سورۃ النساء ۴:۶۴) ہم نے کوئی رسول ایسا نہیں بھیجا جس کی اﷲ کے اذن سے اطاعت نہ کی جائے، معلوم ہوا کہ ہر رسول مطاع ہوتا ہے اور اطاعت قول وفعل میں ہوتی ہے، تو پتہ چلا کہ ہر رسول قول وفعل میں گناہ سے پا ک ہے، اور اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ومن یطع الرسول فقد اطاع اﷲ(سورۃ النساء ۴:۸۰) جس نے رسول کی اطاعت کرلی تو اس نے اﷲ کی اطاعت کرلی، اطاعت تو قول وفعل میں ہوگی، تو پتہ چلا کہ رسول کے قول کی اطاعت کرنا رسول کے فعل کی اطاعت کرنا یہ اﷲ کی اطاعت ہے۔
اَب اگر رسول کے قول وفعل میں گناہ ہے تو ایمان سے کہنا کہ وہ گناہ کرنا کب اﷲ کی اطاعت ہوگی؟ اس لئے پتہ چل گیا کہ رسول کی اطاعت مستقلاً فرض ہے اور رسول کی اتباع مستقلاً فرض ہے اور جب یہ مستقلاً فرض ہے تو نبی کا قول بھی گناہ سے پاک ہے نبی کا فعل بھی گناہ سے پاک ہے، اور یہ گناہ سے پاک ہونا ایسا ہے کہ گناہ ہونا نبی سے شرعاً محال ہے اور اس کا مخلوق ہونا بھی شرعاً محال ہے، لہذا جس کے گناہ کا مخلوق ہونا شرعاً محال ہو وہی تو نبی ہوتا ہے، اور استحالہ خلق ذنب سے قدرت کا سلب ہونا لازم نہیں آتا، قدرت اپنے مقام پر ہے، ہم انبیاء کی قدرت کے منکر نہیں ہیں، ہاں ہم انبیاء کی معصیت کے منکر ہیں، ان کے گناہ کے منکر ہیں کہ انبیاء سے گناہ نہیں ہوتا، انبیاء سے نافرمانی نہیں ہوتی ، لیکن اﷲ تعالیٰ انہیں قدرت دیتا ہے اور قدرت ہی کمال کا معیار ہے، تو قدرت کی نفی نہیں معصیت کی نفی ہے، یہ بات ذہن میں رکھ لیں، اَب جو بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں آپ اس پر غور فرمائیں۔
بعثت سے پہلے کافروں نے بھی بے گناہ مانا
میرے پیارے دوستو اور محترم عزیزو! آج اسلام کا دعویٰ کرکے ہم رسول کی معصیت ثابت کریں اور رسول کے لئے گناہ ثابت کریں تو ہمیں شرم نہیں آتی، قرآن اُٹھا کر دیکھئے حضور سرور عالم ﷺ نے چالیس سال کی عمر شریف کے بعد جب نبوت کا اظہار فرمایا، نبوت کا دعویٰ فرمایا تو منکروں نے نبوت کا انکار کیا یا نہیں کیا؟ انکار کیا تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا میرے پیارے حبیب یہ تیرے دعویٰ نبوت کا انکار کررہے ہیں، ان کو ایک دلیل بیان کردیجئے، اﷲ تعالیٰ نے فرمایا فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون(سورۃ یونس ۱۰:۱۶) میرے پیارے ان سے کہہ دے کہ اس دعویٰ نبوت کے اظہار سے پہلے اپنی عمر کا چالیس برس کا حصہ تم میں گذار چکا ہوں، میری پیدائش مکہ میں ہوئی پیدائش تم پہ مخفی نہیں ، میرا بچپن مکہ میں گذرا وہ بھی تم پہ مخفی نہیں ، لڑکپن میرا تم میں گذرا ، میری جوانی کے لیل ونہار اور ایک ایک لمحہ تمہاری نگاہوں کے سامنے ہے ، میری چالیس برس کی عمر تم میں گذری، چالیس برس کی عمر ایک معیار ہے، اگر کوئی بھی عیب کسی میں چھپا ہوا ہو تو چالیس برس کی عمر تک وہ ضرور باہر آجاتا ہے ، تو چالیس برس گذر گئے اگر میرا کوئی عیب باہر آیا ہو تو بتائو؟ یہ دشمنوں کو، ابوجہل کو، ابولہب کو، عتبہ کو شیبہ کو، یہودیوں کو نصرانیوں کو، مشرکوں کو، بت پرستوں کو کہاگیا ۔
اَب آپ مجھے یہ بتائیں جب دشمنوں کے سامنے اپنے آپ کو پیش کردیا جائے کہ نکالو کوئی عیب، نکالو کوئی گناہ ہے تو، اگر کوئی گناہ ہو تو دشمن اس کو بیان کرنے سے باز رہے گا؟
لیکن میرے دوستو اور عزیزو! اﷲ نے فرمایا ان دشمنوں کے سامنے چالیس برس کی عمر پیش کردے اور ان سے کہو بتائو کوئی غلطی ہے تو نکالو، کوئی عیب ہے تو نکالو، خدا کی قسم دشمنان مصطفیٰ کو نہ ان کے بچپن میں عیب نظر آیا ، نہ حضور کے لڑکپن میں عیب نظر آیا، نہ حضور کی جوانی میں عیب نظر آیا، چالیس برس تک حضور کی عمر شریف کے کسی لمحہ میں دشمنوں کو عیب نظر نہیں آیا۔
بتائو جن سے اظہار نبوت سے پہلے کوئی گناہ نہیں ہوا وہ اظہار نبوت کے بعد گناہ کے لئے رہ گئے تھے؟ سوچنے کی بات ہے، ارے اظہار نبوت کے بعد تو ان کی ذات پاک سے گناہ کا تصور ہی دور ہوگیا، کیونکہ گناہوں سے تو وہ روکنے آئے تھے اگر آپ گناہ کرنے بیٹھ جائیں تو بتائیے ان کی بعثت کا مقصد کیسے پورا ہوگا اور جو ذات پاک اظہار نبوت سے پہلے گناہ سے پاک ہے خدا کی قسم اظہار نبوت کے بعد تو بطریق اولیٰ گناہ سے پاک ہے، اس لئے یہ کہنا کہ ماتقدم من ذنبک وما تأخر کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف کردیا، ارے وہ اگلے پچھلے گناہوں کا زمانہ تو بتائو کس زمانے میں وہ حضور سے گناہ ہوئے اور کیا گناہ ہوئے؟ارے دشمن میرے آقا کا گناہ نہ پکڑ سکے اور آج اسلام کا دعویٰ کرنے والے میرے آقا کے اگلے پچھلے گناہ کا دعویٰ کررہے ہیں، قرآن کی آیت کا مطلب یہی ہے کہ میرے محبوب ہم نے فتح مبین آپ کو عطا فرمائی تاکہ پیارے حبیب آپ کی اُمت کے گناہ آپ کے لئے ہم بخش دیں۔
یہ اس قابل نہیں کہ ان کو بخشا جائے، تیرے لئے بخشدیں، تیرے سبب سے بخشیں، تیرے لئے بخشیں گے، میرے محبوب تیرے طفیل بخشیں گے، میرے پیارے حبیب ہم تو تیرے لئے بخشیں گے، کیونکہ ہم نے ان کو نہیں دیکھا ہم نے تو تیرا چہرہ پاک دیکھا ہے ہم تو تیرے لئے ان کے گناہوں کو بخشیں گے، تو بتائو یہ میرے آقا کی احسان نہیں؟ کتنا بڑا احسان ہے جن کے لئے ہمارے گناہ بخشے گئے، اس احسان کا ہم نے یہی بدلہ دینا تھا کہ اُن کو ہی گنہگار ٹھہرادیں؟ کتنا غضب ہے اور کتنا افسوس ناک ہے ایسا خیال۔
میں نے آپ کو تمام پہلو بتادئیے اور دلیلوں سے ثابت کردئیے اور بتا دیا کہ کہ نبی معصوم ہے کہ جس کے لئے گناہ پیدا نہیں ہوا ، اور شرعاً گناہ کا پیدا ہونا اس کے لئے محال ہے اور قدرت موجود ہوتی ہے ، ہم قدرت کی نفی نہیں کرتے ہم گناہ کی نفی کرتے ہیں، معصوم وہ ہے جس سے گناہ سرزد نہ ہو ، اور میرے آقا معصوم ہیں ، ہر نبی معصوم ہے ، اور جس نبی کا کوئی گناہ یہ پیش کریں گے تو میں نے اس کا قاعدہ آپ کو بتادیا کہ وہ حقیقتاًگناہ نہیں ہے وہ گناہ کے مشابہ ہے اور مشابہ ہونا اس حکمت کے لئے ہے کہ اُمت کے گناہوں کو اس کے صدقے میں بخش دیا جائے اور اُمت کو استغفار کا حکم دیا جائے ، انبیاء علیہم السلام بغیر حقیقتاً گناہ کے استغفار کررہے ہیں توتم حقیقتاً گناہ کرکے بھی استغفار نہ کرو تو افسوس ہے تم پر، تو نبی سیرت مکمل کرنے کے لئے اور نبی کے دامن میں اُمت کے گناہوں کی معافی کے لئے ، ایک وسیلہ پیدا کرنے کے لئے اس قسم کے افعال نبیوں سے سرزد کرائے گئے جو حقیقتاً گناہ نہیںتھے، ہر نبی حقیقتاً گناہ سے پاک ہے اور میرے آقا پاک ہیں طیب ہیں طاہر ہیں۔
اَب لیغفر لک اﷲ ماتقدم من ذنبک کے معنی تو میں نے آپ کو بتادئیے اور بہت وضاحت کے ساتھ بتادئیے اور تمام کو میں نے مبرھن کردیا، اگر کوئی مانتا ہے تو مانے، نہیں مانتا ہے تو نہ مانے ، میں نے تو حقیقت کا اظہار آپ کے سامنے کردیا۔
آپ ﷺ کی کوئی بات خطانہیں:
اَب اس کے بعد دوسری بات عرض کرتا ہوں وہ تتمہ ہے اسی بحث کا، اور وہ تتمہ یہ ہے کہ کہتے ہیں بھئی دیکھو حدیث میں آیا ہے ، رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا دیکھو جو بات میں تم سے اﷲ کی طرف سے کہوں وہ مان لو اور جو اپنی طرف سے کہوں تو میں تمہاری طرح بشر ہوں ، تو ہو سکتا ہے کہ غلطی ہوجائے، تو اس کا ماننا تم پر ضروری نہیں ہے، جو بات میں تمہیں اپنی طرف سے کہوں، حدیث میں الفاظ ہیں انما انا بشر(مشکوٰۃ،کتاب الایمان،باب الاعتصام والسنۃ،رقم:۱۴۷۔(حدیث تابیرنخل)۔اِذَا اَمَرتُکُم بِشَئی مِن اَمرِدِینِکُم فُخُذُوا بِہ ٖ ،وَاِذَا اَمَرتُکُم بِشَئی مِن رَائِی فَاِنّمااَنَابَشَرٌ۔)، حدیث میں غلطی کا لفظ نہیں ہے، لفظ بشر سے یہ غلطی کے معنی نکال لیتے ہیں ، کہتے ہیں اگر واقعی حضور سے غلطی نہیں ہوئی، کوئی گناہ نہیں ہوا، تو یہ کیوں فرمایا کہ جو بات اﷲ کی طرف سے کہوں وہ مان لو ، اگر اپنی طرف سے کہوں تو میں تمہاری مثل بشر ہوں ، اس حدیث کا کیا مطلب ہوا؟
آج میں اس حدیث کا مطلب سمجھا دینا چاہتا ہوں، عزیزانِ محترم! اَب کیا کہا جائے جس قوم نے تہیہ کرلیا ہو کہ رسول کا کوئی احسان ہی نہیں مانیں گے تو اس قوم کا کیا علاج ہے؟ میرے دوستو! یہ جو حضور ﷺ نے فرمایا یہ اُمت پر بہت بڑا احسان ہے ، اور وہ احسان کیا ہے؟
من جھت الرسالت اور من جھت البشریت، یہ دو جہتیں حضور ﷺ نے بیان فرمادیں، ایک جہت بشریت کی ہے اور ایک جہت رسالت کی ہے، فرمایا رسالت کی جہت سے جو بات کہوں گا، ظاہر ہے وہ تو اﷲ کی وحی سے ہوگی، اﷲ کا حکم ہوگا، اس کا ماننا تمہارے لئے ضروری ہے، لیکن اگر کوئی بات میں اپنی بشریت کی طرف سے کہہ دوں تو اس کا ماننا تم پر ضروری نہیں، اگر تم اس کو نہ مانو اور اس پر عمل نہ کرو تو یہ اور بات ہے کہ تم برکت سے محروم ہوجائولیکن تم گنہگار نہیں ہوگے، دو حیثیتیں میرے رب نے اس لئے عطا فرئیں کہ جو بات میں جہت رسالت سے کہوں اس کی پابندی تم پر لازم ہے ، اگر ہر بات جہت رسالت سے ہو تو جتنی باتیں کہوں گا سب تم پر فرض ہوتی چلی جائیں گی اور جو میںکروں گا سب تم پر لازم ہوتے چلے جائیں گے اور تم حد بندیوں میں مبتلا ہو جائو گے، تم پر بڑی قیدیں آجائیں گی اور جتنی قیدیں بڑھیں گی اسی قدر تمہارے لئے مشکل ہوگی، تم ان قیدوں کو برداشت نہیں کرسکو گے تو پھر گناہ ہوں گے، تم ان پابندیوں سے نکلو گے،نتیجہ کیا ہوگا کہ تم گناہوں میں مبتلا ہو جائو گے، اس لئے تم پر آسانی کے لئے دو جہتیں ہیں، رسالت کی جہت سے جو کام ہے وہ نہیں کروگے تو گنہگار ہوگے، مگر بشریت کی جہت سے کہہ dوں تو نہ کرنے سے گنہگار نہیں ہوگے، رسول اﷲ کا یہ بڑاکرم ہے، بڑا احسان ہے ، تمہارے لئے آسانی کردی، سہولت کردی، تو آسانی اور سہولت کرنے کا یہی نتیجہ ہے کہ حضور ﷺ کے بارے میں ہم یہ کہیں کہ معاذ اﷲ وہ ہم جیسے بشر اور غلط کار ہیں ، ان کو غلطی کا مرتکب قرار دینا احسان کا بدلہ نہیں ہے۔ نعوذ باﷲ من ذالک
میں آپ کو ایک دو مثال دے دینا چاہتا ہوں ، ایک مثال تو حضرت علی کے واقعہ میں ہے اور ایک مثال حضرت حزن کا واقعہ ہے اور یہ دونوں بخاری میں ہیں ۔
بظاہرحُکم مگر حقیقت میں علیhکے عشق کا امتحان
صورت حال یہ ہوئی کہ جب صلح حدیبیہ کا معاملہ آیا ، اس معاملے میں حضور ﷺ نے لکھوایا ھذا ما قضیٰ علیہ محمد رسول اﷲ (بخاری،کتاب المغازی،باب عمرۃ القضاء،رقم:۴۲۵۱۔کتاب الصلح،باب کیف یکتب…،رقم:۲۶۹۹۔مشکوٰۃ،کتاب الجہاد،باب الصلح،فصل ثالث،ص۳۵۵) یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد رسول اﷲ نے مشرکین مکہ سے صلح کی ، تو جب ما قضیٰ علیہ محمد رسول اﷲ اس پارٹی نے دیکھا جو مشرکوں کی تھی ، انہوں نے کہا ہم آپ کو محمد رسول اﷲ مانتے تو جھگڑا ہی کیا تھا؟ ہم آپ کو محمد رسول اﷲ نہیں مانتے، آپ رسول اﷲ کا لفظ یہاں سے کاٹ دیں، آپ یہ لکھیں ھذا ماقضیٰ علیہ محمد بن عبداﷲ یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداﷲ نے صلح کی ہے ، محمد بن عبداﷲ تو ہم آپ کو مانتے ہیں، رسول اﷲ نہیں مانتے، تو لفظ رسول اﷲ کاٹ دیں اور یہ لکھدیں ھذا ما قضیٰ محمد بن عبداﷲ ، سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا تم مجھے رسول اﷲ مانو یا نہ مانو میں تو اﷲ کا رسول ہوں، انہوں نے اصرار کیا کہ لفظ رسول اﷲ کو کاٹ دیں ورنہ ہم کوئی بات نہیں کرتے ، اَب اﷲ کا حکم ایسے ہی تھا کہ میرے پیارے جو یہ کہیں مانتے چلے جائیے، حکمت کا تقاضا یہی ہے۔
چنانچہ اﷲ کے پیارے حبیب نے اﷲ کی وحی کے مطابق ان کی بات مانی اور حضرت علی سے فرمایا اے علی لفظ رسول اﷲ کو یہاں سے محو کردو ’’اُمح رسول اﷲ‘‘ اَب یہ حضور کا کلمہ ہے یا نہیں؟ اُمح امر کا صیغہ ہے ، اَب یہ جو حضور نے امر فرمایا یہ کون سا تھا من جہت الرسالت تھا یا من جہت البشریت تھا ؟ فیصلہ کرو ، یہ جو امر تھا’’ اُمح‘‘ اے علی اس کو محو کردے ، لفظ رسول اﷲ کو mita دے اور یہاں ابن عبداﷲ کا لفظ لکھ دے ، اب’’ اُمح ‘ ‘ جو امر فرمایا اگر اس کو من جہت الرسالت کہو تو پھر حضرت علی کو انکار کرنے کا کوئی موقع ہی نہیں تھا، جو رسالت کی جہت سے حضور کوئی حکم دیں ، کوئی مسلمان انکار کرسکتا ہے؟ نہیں کرسکتا، لیکن حضور نے فرمایا ’’امح یاعلی‘‘ توحضرت علی نے کیا جواب دیا؟ حضرت علی نے عرض کیا ’’لاواﷲ لا امحوک ابداً‘‘(بخاری،کتاب المغازی،باب عمرۃ القضاء،رقم:۴۲۵۱۔کتاب الصلح،باب کیف یکتب…،رقم:۲۶۹۹۔مشکوٰۃ،کتاب الجہاد،باب الصلح،فصل ثالث،ص۳۵۵) میرے آقا میں قسم کھا کر کہتا ہوں لفظ رسول اﷲ کو نہیں مٹائوں گا ۔
اَب آپ مجھے بتائیں کہ اﷲ کے رسول کے حکم کو نہ ماننے کے لئے قسم کھاناکہ لفظ’’رسول اﷲ‘‘ کو نہیں مٹائوں گا کیا یہ ایمان کی نشانی ہے؟ بتائوکیا حضرت علی گنہگار ہوئے؟ نہیں ہوئے، کیوں ؟
اس لئے کہ’’اُمح‘‘کا حکم من جہت الرسالت نہیں تھا من جہت البشریت تھا، آپ سمجھے! اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہہ الکریم نے بے شک بظاہر اس امر کو ، اس حکم کو نہیں مانا، لیکن اس کے پس پردہ حضور کی کمال تعظیم اور حضور کی کمال محبت کار فرما تھی۔
ترکِ امر کی سزا رفعِ برکت
اَب ایک اور بات بتاتا ہوںوہ بھی بخاری میں ہے، سعید بن مسیب ، سعید تابعی ہیں، مسیب ان کے باپ صحابی ہیںاور مسیب کے باپ ہیں’’حزن‘‘، سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں کہ میرے دادا حزن حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضور نے فرمایا مااسمک؟ آپ کا نام کیا ہے، انہوں نے عرض کیا میرا نام حزن ہے، حزن عربی زبان میں کہتے ہیںبڑی سخت زمین کو ، جس میں بڑی سختی ہو اور صعوبت ہو، جب انہوں نے کہا میرا نام حزن ہے تو حضور نے فرمایا انت سھلٌ تو حزن نہیں تو سہل ہے اور سہل کہتے ہیں نرم نرم زمین کو، جب حضور نے فرمایا انت سھل تو حضرت حزن نے جواب دیا لا اغیر اسما سمانیۃ ابی ، (بخاری،کتاب الادب،باب اسم الحزن،رقم:۶۱۹۰۔مشکوٰۃ،کتاب الآداب،باب الاسامی،فصل ثالث،ص۴۰۹)عرض کی حضور میں تو وہ نام نہیں بدلوں گا جو میرے باپ نے رکھا ہے ۔
اَب بتائیے کہ حزن نے کہا میں نام نہیں بدلوں گا، اس پر حزن گنہگار ہوئے ؟ اگر گنہگار ہوتے تو حضور فرما دیتے کہ تو نے میرے حکم کو رد کیا ہے، تو عاصی ہے، گنہگار ہے، جب حضور نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی تو معلوم ہوا اور حدیث تقریری سے ثابت ہوگیا کہ وہ گناہ نہیں تھا، ورنہ ممکن نہیں ہے کہ حضور کے سامنے کوئی گناہ کرے اور حضور گناہ پر انکار نہ فرمائیں، حضرت علی کا انکار کرنا وہ بھی گناہ نہیں تھا، اور اس کی دلیل بھی یہی ہے کہ میرے آقا نے انکار نہیں فرمایا، اور حضرت حزن کا لااغیر کہنا بھی گناہ نہیں تھا کیوں؟
دلیل یہ ہے کہ ان کے اس انکار کو حضور نے گناہ نہیں قرار دیا اور جب حضور نے گناہ نہیں قرار دیا تو معلوم ہوا کہ حضور کا یہ حکم جہت رسالت سے نہ تھا جہت بشریت سے تھا ، حضرت علی نے اگر حضور کے حکم پر عمل نہیں کیا تو حضرت علی کا برکت سے محروم ہونے کا معاملہ بھی نہیں آیا کیوں؟ اس لئے کہ وہاں محبت اور عظمت پس پردہ کار فرماتھی، مگر حضرت حزن نے حضور کا حکم جو بشریت کی جہت سے تھااس کو انہوں نے نہیں مانا ، وہ گنہگار تو نہیں ہوئے کیونکہ وہ حکم جہت بشریت سے تھا جہت رسالت سے نہیں تھا، وہ گنہگار تو نہیں ہوئے مگر حکم نہ ماننے کی وجہ سے بہت بڑی برکت سے محروم ہوگئے اور وہ کیا ہے؟
حضرت سعید ابن مسیب فرماتے ہیں میرے دادا نے کہا کہ حضور یہ حزن نام تو میرے باپ نے رکھا ہے اور جو نام میرے باپ نے رکھا ہے میرے آقا میں اسے بدلنا نہیں چاہتا، تو فرماتے ہیں فما زالت فیناالحزونت بعد اس کے بعد ہمیشہ ہمارے اندر انتہائی سختی اور شدت رہی اور سختی ہم پر چھا گئی ، سختی میں ہم مبتلا ہوگئے اور بڑی شدت ہم پر طاری رہی ، کیوں؟
اس لئے کہ حضور کا حکم انہوں نے انکار کردیا تھا، اگرچہ گنہگار تو نہیں ہوئے کیونکہ وہ حکم من جہت الرسالت نہیں تھا مگر وہ حکم جو من جہت البشریت تھا اس کے نہ ماننے سے بھی وہ اس برکت سے محروم ہوگئے جو برکت ان کو حاصل ہو سکتی تھی، وہ سختی اور صعوبت اور شدت ان کے اندر ہمیشہ باقی رہی ۔
عزیزان محترم! یہ فرق میں نے آپ کو بتادیا کہ یہ کہنا کہ حضور نے فرمایا کہ جو بات میں تمہیں اﷲ کی طرف سے کہوں وہ مانو اور جو اپنی طرف سے کہوں تو میں بشر ہوں ، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضور بشر ہونے کی جہت سے جو کام کریں یا جو بات فرمائیں اس میں حضور سے غلطی ہوتی ہے یا گناہ ہوتا ہے ، یہ مطلب نہیں، مطلب یہ ہے کہ تمہاری سہولت ہوتی ہے، تمہیں گناہ سے بچانا مقصود ہوتا ہے ، ہر بات اگر جہت رسالت سے کہی جائے تو پھر تم بہت جکڑ بندیوں میں مبتلا ہوجائو گے ، بہت سے گناہوں میں مبتلا ہوسکتے ہو، لہذا جو بات میں جہت رسالت سے کہوںوہ تو ضرور تمہارے لئے قبول کرنا ضروری ہے اور جو بات بشریت کی جہت سے کہوں اگر تم اس کو قبول نہیں بھی کرو گے تو کم از کم گنہگار نہیں ہوگے، یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات برکت سے محروم ہوجائولیکن گناہ نہیں ہوگا، یہ تو میرے آقا نے اُمت کو سہولت کے لئے بات ارشاد فرمائی تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ معاذ اﷲ حضور سے غلطی ہوتی ہے۔ استغفر اﷲ
کس جہت سے فرمایا ؟کافیصلہ کیسے
لو بھائی آخری بات کہہ کر میں یہ مسئلہ ختم کردوں ، یہ جو کہتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ جو بات میں رسالت کی طرف سے کروں وہ مانو اور جو بشریت کی طرف سے کروں اس کا ماننا ضروری نہیں ہے، پہلے تو میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ بشریت کبھی رسالت سے الگ ہوتی ہے؟ کوئی ایسا مقام دکھائو کہ رسالت الگ رکھی ہو اور بشریت الگ؟ جب الگ نہیں ہوتی تو اَب یہ فیصلہ کون کرے گا کہ یہ بات رسالت کی جہت سے ہے یا بشریت کی جہت سے ہے؟
بتائیے! ارے حضور ہی کریں گے ناں ، حضرت علی کے بارے میں حضور نے فیصلہ فرمایا ، کیونکہ انکار نہیں فرمایا، یہ حضور کا فیصلہ تھا حدیث تقریری تھی، حضرت حزن کے معاملے میں بھی فیصلہ حضور کا تھا، کیونکہ حضور نے انکار نہیں فرمایا ورنہ حضور فوراً ان کی معصیت کا اظہار فرمادیتے ، تو ہمیں اس بات کا پتہ چل گیا کہ یہ بات جہت بشریت سے ہے، بشریت الگ نہیں، رسالت الگ نہیں، ایک ہی زبان پاک سے حضور اپنی بات فرماتے ہیں اور اسی زبان پاک سے رب کی بات فرماتے ہیں، اَب یہ کیسے پتہ چلے گا کہ حضور نے اپنی بات فرمائی یا رب کی؟ ایمان سے کہنا کہ حضور کی بات سے ہی پتہ چلے گا ناںکہ یہ بات رسالت کی جہت سے ہے اور یہ بات بشریت کی جہت سے ہے، تو پتہ چلا کہ دارومدار تو پھر بھی رسول پر رہا ، تو اگر رسول کی ذات پاک پر اعتماد نہیں ہے تو یہ پتہ نہیں چلے گا کہ یہ بات جہت رسالت سے ہے یا جہت بشریت سے ہے، حضور زبان اقدس سے جو فرمائیں گے اسی پر اعتماد کرنا پڑے گا ۔
بات یہاں ختم ہوتی ہے کہ خدا کی ہستی پر ایمان ہو یا قرآن پر ایمان ہو ، یقین پر ایمان ہو یا شریعت پر ایمان ہو ، ہر ایمان کی بنیاد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ پاک ہے، جب تک مصطفیٰ ﷺ کی ذات پاک کو ہم قابل اعتماد نہیں مانیں گے یعنی ان کی زبان مبارک کو بھی غلطی سے پاک مانیں ، ان کی نظر پاک کو بھی غلطی سے پاک مانیں، ان کے اقوال پاک کو بھی غلطی سے پاک مانیں، ان کے افعال کو بھی غلطی سے پاک مانیں، ان کو معصوم مانیں، ان کو ہر عیب وخطا سے پاک مانیں ، جب تک ہمارا اعتماد اس نوعیت سے رسول پاک کی ذات پر نہیں ہوتا ، نہ توحید کا عقیدہ ہاتھ آتا ہے، نہ قرآن پر ایمان ہاتھ آتا ہے، نہ دین ہاتھ آتا ہے نہ شریعت ہاتھ آتی ہے ، سب کچھ ہاتھ سے جاتا ہے، اگر رسول کی ذات کا اعتماد چلا گیا تو سب کچھ ہاتھ سے چلا گیا، اسی لئے ہم اس پر زور دیتے ہیں، ہم حضور ﷺ کو معاذ اﷲخدا نہیں کہتے، خدا کا شریک نہیں کہتے، خدا کا بیٹا نہیں کہتے، خدا کا جز نہیں کہتے، خدا کی قسم اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو ایسا قابل اعتماد بنایا کہ ہر بات رسول کے حوالے کردی ، پیارے قرآن بھی تیرے حوالے، میری توحید بھی تیرے حوالے، میرے احکام بھی تیرے حوالے، سارا دین بھی تیرے حوالے، میرے محبوب تیری زبان پر اعتماد ہوگا تب ہی ان کو دین نصیب ہوگا، تیری بات پر اعتماد ہوگا، تب میرا کلام نصیب ہوگا، تیری ذات پر اعتماد ہوگا تو تب ان کو توحید کا عقیدہ نصیب ہوگا، اگر تجھ پر اعتماد نہیں ہے تو کچھ بھی نہیںہے۔
اذان کے ساتھ درود وسلام کامسئلہ
اَب رہا یہ سوال کہتے ہیں کہ تم اذان سے پہلے صلوۃ وسلام پڑھتے ہو اور اذان کے بعد بھی پڑھتے ہوتو یہ کہیں حدیث میں ہے؟
حالانکہ دونوں چیزیں حدیث میں موجود ہیں، حدیث سے ظاہرہے کہ ہر نیک کام سے پہلے دُرود پڑھوتو تمہیں ثواب ملے گا(کل امر ذی بال لایبدا فیہ بحمداللہ والصلوٰۃ علی فھو اقطع ابتر ممحوق من کل برکۃ۔(جامع صغیر، امام سیوطیؒ، ج۲ص۹۱ ،رقم:۶۲۸۵۔ کنزالعمال ، رقم:۲۰۵۷)۔ہراہم کام جس سے پہلے حمد وصلوٰۃ نہ پڑھی گئی تووُہ (حمدوصلوٰۃ سے ملنے والے)ہرثواب سے خالی ہوگا۔تقریروتحریر سے پہلے اِس حدیث پر علماء ِ اُمّت کاعمل ہے،اوریہ تلقی بالقبول ہے جس کے بعد سندِصحیح کی ضرورت نہیں رہتی۔(رہاوی،ابن مدینی،ابنِ مندہ وغیرہ نے اپنی سندوں سے یہ مضمون روایت کیا،سندوں میں کمزوری موجودہے۔)ضعیف روایت سے بھی فعل کی فضیلت لی جاتی ہے)، فرض نہیں ہے، واجب نہیں ہے، اَب بتائو اذان نیک کام ہے یا بد کام ہے؟ یقیناً نیک کام ہے تو نیک کام سے پہلے ثواب حاصل کرنے کے لئے دُرود پڑھنے کو تو حضور نے پہلے فرمایا کہ ہر نیک کام سے پہلے دُرود پڑھو۔
آپ کہیں گے کہ یہ تو پہلے کی بات ہے بعد کی کہاں ہے؟ اگر بعد کی بات پوچھتے ہو تو وہ تمام حدیثوں میں موجود ہے، حضور نے فرمایا کہ جب مؤذن اذان ختم کرے تو مجھ پر درود پڑھے پھر دعائے وسیلہ پڑھے (مشکوٰۃ البانی،کتاب الصلوٰۃ،باب فضل الاذان واجابۃ الموذن،رقم:۶۵۷۔مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن: رقم ۸۴۹۔ ابودائود: کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول اذا سمع المؤذن: رقم ۵۲۳۔ نسائی، کتاب الاذان، باب الصلوٰۃ علی النبی بعد الاذان: رقم ۶۷۹ ) مسلم شریف میں حدیث ہے، ابودائود شریف ، ترمذی شریف اورابن ماجہ شریف میں حدیث ہے کہ جب اذان ختم ہو تو فوراً مجھ پر درود پڑھودعا بعد میں مانگو۔
اَب کہتے ہیں ہم اس لئے روکتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ایسا نہیں کیا، صحابہ نے ایسا نہیں کیا۔
جب حضور ﷺ نے فرمادیا کہ ہر نیک کام سے پہلے درود پڑھو تو ثواب ہوگا اور جب حضور نے فرمادیا کہ جب اذان ختم ہو تو دعائے وسیلہ بعد کو مانگو میرے اوپر درود پہلے پڑھو، اَب یہ کہنا کہ نہ حضور سے ثابت ہے اور نہ صحابہ سے ثابت ہے ، تو اس کا مطلب ہے کہ رسول اﷲ کا فرمان صحابہ نے بھی نہ مانا؟
پھر کہتے ہیں کہ بھئی بلند آواز سے نہیں ہوتا تھا، تم بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہو؟
بھئی ہم نے کب کہا کہ بلند آواز سے پڑھنا ضروری ہے، ہم تو بلند آواز سے اس لئے پڑھتے ہیں کہ لوگ بھی سن کر پڑھنے لگیں گے، اگر ہم چپکے سے پڑھیں تو کسی کو پتہ ہی نہیں چلے گا، اگر بلند آواز سے پڑھیں گے تو جس کو آواز پہنچے گی وہ بھی درود پڑھنے لگے گا، تو ہمارا بلند آواز سے پڑھنا دوسروں کے درود پڑھنے کا وسیلہ بن جائے گا، اگر دوسروں کے پڑھنے کے لئے کوئی کام وسیلہ بن جائے تو اس میں کون سی خرابی ہے، ہم یہ نہیں کہتے کہ بلند آواز سے پڑھنا فرض ہے واجب ہے، اگر نہیں پڑھو گے تو گنہگار ہو جائو گے یا تم شریعت کے حکم کے تارک ہوجائو گے، ارے ہم یہ کہتے ہیں یہ مستحب ہے، ثواب ہے، خود بھی بلند آواز سے پڑھ لو تمہاری آواز سن کر کوئی دوسرا مسلمان بھی درود پڑھ لے گا تو بہت اچھا ہوجائے گا، اگر ہم فرض واجب کہیں تو ہم پر الزام لگائو، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہر نیک کام سے پہلے پڑھنا ثواب ہے اور اذان کے بعد درود پڑھنا تو حضور نے حکم دیا ہے، جو بلند آواز کا ہم پر اعتراض کرتے ہیں وہ پست آواز سے بھی حضور پر درود نہیں پڑھتے، ہم کوئی آواز کو ضروری نہیں کہتے، فرض واجب نہیں کہتے ، بس اس کے سوا کچھ نہیں لہذابات ختم ہوگئی۔
اَب رہا یہ کہ اگر اذان سے پہلے درود پڑھنا اذان میں زیادتی ہے، اضافہ ہے ۔
میں کہتا ہوں جو چیز ہر مسلمان کے نزدیک کسی دوسری چیز کا جز نہیں ، اگر دونوں کو ملا کر پڑھ لیا جائے تو کیا وہ ایک چیز دوسرے کا جز بن جائے گی؟ ہر نماز میں الحمد کے ساتھ ثناء پڑھتے ہیں ۔ ملا کر پڑھتے ہیں یا وقفہ کرتے ہیں؟ ملا کر پڑھتے ہیں، اگر آپ ثناء کو سورۃ فاتحہ کیساتھ ملا کر پڑھتے ہیں تو ثناء کو کوئی بھی سورہ فاتحہ کا جز نہیں سمجھتا، سب جانتے ہیں کہ یہ ثناء ہے یہ فاتحہ ہے، تو اگر ثناء سورہ فاتحہ کے ساتھ ملانے سے ثناء سورہ فاتحہ کا جز نہیں ہوگا تو اگر درود اذان کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو کیسے جز ہوجائے گا؟
ایک اور بات پوچھتا ہوں ! تشہد اشھد ان لا الہ الااﷲ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ پر ختم ہوتا ہے، آپ اس کے فوراًبعد درود پڑھتے ہیں یا ٹھہر کے پڑھتے ہیں؟ فوراً پڑھتے ہیں تووہ تو تشہد کا جز ہوگیا،تو کبھی آپ نے یہ سوچاکہ ہم ملا کر پڑھ رہے ہیں، وہ درود ہے یہ تشہد ہے، اگر ملا کر پڑھنے سے درود تشہد کا جز نہیں ہوتا تو دُرود اذان کا جز کیسے ہوجائے گا؟ امام ابوحنیفہ کے نزدیک بسم اﷲ سورہ فاتحہ کا جز نہیں ہے، اعوذباﷲ بھی ملا کر پڑھ دیں تو بھی جز نہیں ہے، ثناء کو ملا کر پڑھ لیں ثنا بھی جز نہیں ہے، التحیات کے بعد فوراً دُرود پڑھ دیں وہ بھی التحیات کا جز نہیں ہے، یہ ساری چیزیں ملا کر پڑھی جائیں تو ایک دوسرے کا جز نہیں بنتیں تو درود وسلام اذان کا جز کیسے بن جائے گا؟ بہ ہرحال کیا تماشہ ہے، یہ سب لیت ولعل ہے ، کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس میں دلیل شرعی کی خلاف ورزی ہو دلیل شرعی موجود ہے کہ نیک کام سے پہلے درود پڑھنے کا حکم موجود ہے اور اذان ختم ہوتے ہی درود پڑھنے کا حکم موجود ہے، عزیزانِ محترم میں نے یہ اس لئے عرض کردیا کہ ہم صلوٰۃ وسلام پڑھتے ہیں ۔
درود ابراہیمی کے سوا کوئی درود نہ پڑھیں؟
ایک سوال اور آیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ درود ابراہیمی کے علاوہ اور کوئی درود نہیں پڑھنا چاہئے۔
عرض ہے کہ پھر تو حدیثوں میں تمام دُرود کاٹ دو، قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کیا یہ درود ابراہیمی ہے؟ ہر حدیث میں قال قال رسول اﷲ کے بعد کیا ہے؟ اگر درود ابراہیمی کے علاوہ کوئی درود جائز نہیں ہے تو پھر ہونا چاہئے عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲ اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید، ہر حدیث میں یہ ہونا چاہئے یا نہیں؟ مگر کسی ایک حدیث میں دکھائو ؟ ہر حدیث میں قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہے، اَب بتائو ’’صلی اﷲ علیہ وسلم ‘‘ درود ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو درود ابراہیمی کے علاو ہ بھی درود جائز ہے، اگر نہیں تو پھر بتائو یہ ’’صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ کیا ہے؟ بخاری پڑھاتے ہو، مسلم وترمذی پڑھاتے ہو، ہر حدیث میں درود ابراہیمی پڑھائو کیونکہ دوسرا درود تو تمہارے نزدیک جائز نہیں، تمام حدیثوں میں یہ درود نکالتے جائو اور درود ابراہیمی لگاتے جائو ۔
یہی تو دلیل ہے میری کہ جس بات کو رسول اﷲ ﷺ نے منع نہیں فرمایا وہ منع نہیں ہے، ارے درود ابراہیمی کے سوا کسی درود کا پڑھنا حضور نے منع نہیں فرمایا لہذا کوئی درود منع نہیںہے، جب میرے آقا ﷺ نے اذان سے اوّل وآخر کو درود سے منع نہیں فرمایا تو وہ کیسے منع ہوجائے؟ وآخر دعونا ان الحمد ﷲ رب العٰلمین ۔