تعارف مصنف
برصغیر پاک و ہند میں بسنے والے فرزند ان اسلام کے لئے انیسویں صدی بڑے دردوکرب کی صدی تھی۔ ہندوستان کی وسیع و عریض مسلم مملکت بیسیوں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ چکی تھی۔ ہر ریاست کا حکمران اپنی ذاتی وجاہت کے لئے یوں از خود رفتہ ہو چکا تھا کہ اسے نہ ملت کا غم تھا۔ نہ ہی قوم کے آفتاب اقبال کے غروب ہونے کا کوئی دکھ تھا۔ مسلمان اب آپس میں دست و گربیان تھے۔ دہلی شہر جو صدیوں سے ہندوستان میں اسلامی سلطنت کا مرکز رہا تھا، اپنے فرمانروائوں کی نااہلی کے باعث اپنا اثر ورسوخ کھوتا جا رہا تھا، اس سے بھی زیادہ المناک بات یہ تھی کہ بندہ مومن کا رشتہ اپنے کریم رب اور اپنے رؤف ورحیم مرشد سے کمزور ہوتا جا رہا تھا عقیدے اور عمل کی مختلف بدعتوں نے اسلامی معاشرہ کو نڈھال کر دیا تھا۔ مسجدیں ویران تھیں، مدرسے بے چراغ تھے۔ خانقاہیں جہاں کبھی اللہ تعالیٰ کے شیر تشریف فرما ہوا کرتے تھے، اب روباہ کیش اور حقیقت اسلام سے بالکل بے بہرہ ملنگوں اور قلندروں کے تصرف میں تھیں۔
نورمعرفت سے منورہ چہرے اور سجدوں کے نشانوں سے تابندہ پیشانیاں خال خال نظر آجاتی تھیں۔ وہ چشمے خشک ہوتے جا رہے تھے جو قدموں کی کشت حیات کو سیراب کرتے ہیں۔ وہ تارے یکے بعد دیگرے ڈوبتے چلے جا رہے تھے جو زندگی کے صحرائوں میں بھٹکنے والے راہرووں کو اپنی منزل کا نشان بتاتے تھے۔
آپ خود سوچئے جہاں امراء ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی سازشوں میں رات دن سرگرم ہوں، جہاں عوام اپنے منبع حیات سے روز بروز دور ہوتے جا रहे ہوں، وہاں عوام کی ذلت ونکبت ، زوال وادبار کے علاوہ اور کس چیز کی توقع کی جاسکتی ہے وہ قوم جو اپنی تعداد کی قلت کے باوجود محض اپنے حسن عمل کے بل بوتے پر اتنے بڑے ملک پر صدیوں سے حکمرانی کرتی رہی تھی آج اس قوم میں وہ خوبیاں قصہ ماضی بن چکی تھیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی حکومت کا آفتاب 1857ء کی ایک شام کو غروب ہو گیا، ان محلات کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی جن میں بسنے والے اپنے خالق کو بھول چکے تھے۔ جن کے رات دن عیش و عشرت میں بسر ہوتے تھے۔ جن کے ایوانوں میں ہر لمحہ ناؤونوش اور رقص و موسیقی کی محفلیں بپارہتی تھیں۔ چھ ہزار میل دور سے آئے ہوئے انگریز نے اپنے خالق کے باغیوں کو بھیڑ بکری کی طرح ذبح کر دیا۔ علماء کرام کو تختہ دار پر لٹکادیا۔ مدرسوں کو مقفل کر دیا گیا۔ علم و حکمت کے قیمتی نوادرات کو نظر آتش کر دیاگیا اور عام مسلمان ، انگریز اور ہندو کی دوہری غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔
ہر طرف مایوسی کا اندھیرا چھایا ہوا تھا امید کی کوئی کرن کسی گوشہ سے بھی جھانکتی نظر نہیں آتی تھی لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب اسلام کا چراغ اس ملک میں دو بارہ روشن نہیںہوگا مسلمان کا وجود حرف غلط کی طرح اس ملک کی تاریخ سے محو کر دیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے انداز بھی بڑے نرالے ہیں۔ جب مایوسیاں چاروں طرف سے گھیرا تنگ کر لیتی ہیں، جب محرومیاں زندہ رہنے کی حسرت بھی دل سے چھین لیتی ہیں۔ عین ا س وقت رحمت الٰہی ایک ایسے آفتاب کے طلوع ہونے کا اہتمام فرما تی ہے جو اس شب دیجور کو صبح سعید سے بہر ہ ور کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کی شعاعوں کو وہ تابشیں مرحمت فرماتا ہے۔ جس کی شوخیوں کو دیکھ کر سارا عالم تصویر حیرت بن کر رہ جاتا ہے۔
پنچاب کے ضلع شاہ کے ایک گائوں کو جس کا نام بھی کسی کو معلوم نہ تھا قدرت نے اپنے ایک مقبول بندے کی پیدائش کے لئے پسند فرمایا۔ ’’سیال‘‘ کی چھوٹی سی بستی میں حضرت میاں محمد یا ررحمۃ اللہ علیہ کے گھر میںایک ایسا چراغ معرفت روشن ہوا۔ جس نے غم و حرماں کی اس تاریک رات میں چراغاں کر دیا۔ گھنے درختوں کے جھرمٹ میں چند کچے کوٹھے تھے۔ اس میں ایک ایسا مرد سعید پیدا ہوا۔ جس نے ایک عالم کے سوئے ہوئے بخت کو بیدار کر دیا اور لاکھوں کی بگڑی ہوئی تقدیروں کو سنوار دیا۔ ماں باپ نے اس فرزندا جمند کا نام شمس الدین تجویز کیا۔ رحمت خدا وندی نے اس کو شمس العارفین کے منصب جلیل پر فائز کیا۔ اس کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہونے والے ذکر اؒلٰہی اور سنت نبوی ﷺ کی پیروی کاذوق فراواں اور اسلام کے پرچم کو پھر اونچا لہرانے کا عزم جواں لے کر واپس لوٹتے۔ چند سالوں میں ملک کے طول و عرض میں ایسی خانقاہوں کا ایک جال بچھ گیا جہاںخود فراموش انسانوں کو خود شناسی اور خداشناسی کی منزل تک پہنچانے کا اہتمام کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پاک ہستی سے احیائے دین اور ملت کی شیراز بندی کا جو کام لیا تو اس کو دیکھ کر زمانہ ماضی کے اولوالعزم اولیاء کرام کے کارناموں کی یاد تازہ ہو گئی۔
حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ کے بعد آپ کے فرزند جلیل حضرت خواجہ محمد دین اپنے والد بزرگ کی خوبیوں کا پیکر جمیل بن کر زینت بخش سجادئہ فقر ہوئے آپ نے اپنے پدر بزر گوار کی اس تحریک کو مزید پختگی اور توانائی بخشی یہ سلسلہ فقر و درویشی رفتہ رفتہ بڑے بڑے شہروں سے گزر کر ان دور افتادہ دیہات تک پھیل گیا جو پہاڑوں اور صحرائوں میں گھرے ہوئے تھے۔
حضرت ثانی غریب نواز علیہ الرحمۃ کے بعد آپ کے فرزند ارجمند حضرت خواجہ ضیاء الملت والدین قدس سرہ نے صرف آستانہ عالیہ سیال شریف کو ہی نہیں صرف سلسلہ چشتیہ نظامیہ کو نہیں بلکہ جملہ سلاسل فقرہ درویشی کو چار چاند لگادئیے اور انگریز کے تسلط اور کفر کے تغلبف کے خلاف اجتماعی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ اسلام کا یہ شیر دل مجاہد جس نے تمام عمر انگریز کے اقتدار کوہر میدان میں للکارا تھا صرف پینتالیس سال کی عمر میں فردوس بریں کو سدھارا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے خلوص کو اس طرح نوازا کہ حضرت شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی قدس سرہ ، جیسا فرزند عظیم مرحمت فرمایا۔ پون صدی تک آپ زندگی کے افق پر چودھویں کا چاند بن کر چمکتے رہے، نور بکھیرتے رہے، ہر قسم کی ظلمتوں کو شکست پر شکست دیتے رہے اور آپ کے وصال پر ساری ملت اشکبار ہے۔ آپ کے نیاز مند مختلف انداز سے اپنی نیاز مندیوں کا اظہار کر رہے ہیں۔
آپ کی ہمہ صفت موصوف شخصیت کے کس پہلو کا ذکر کیا جائے اور کس کا ذکر نہ کرنے پر قناعت کی جائے، اس گلستان جمال و کمال کے گل چینوں کے لئے یہ مرحلہ بڑا صبر آزما ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو ظاہری حسن عطا فرمایا تھا اس کی ہمیں تو کہیں نظیر نہیں ملتی، روشن چہرہ اونچی بینی، چمکتی ہوئی غزالی آنکھیں، جبین سعادت کی کشادگی، داڑھی مبارک کا بانکپن قلب و نظر کو اسیر کر لینے والی تابدار زلفیں، جمال کی رعنائیوں کے باوجود جلال الٰہی کا ایسا پر توچہرے پر ضو فگن رہتا تھا کہ بارگاہ اقدس میں لب کشائی کی ہمت نہ ہوتی تھی۔
جذبہ جہاد رگ و پے میں ہر لحظہ موجزن رہتا تھا جہاد کی تیاری کے لئے جسمانی ورزش اور شکار آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ آپ کو قیمتی اور خوب صورت گھوڑوں سے بڑی محبت تھی۔ انمول نسل کی اپنی پسندیدہ گھوڑی کی پشت پر بیٹھ کر صبح سے شام ہر نوں کے تعاقب میں صحرانوردی آپ کی بہترین تفریح تھی۔ کچھ عرصہ بازوں کے شکار کا بڑا شوق رہا۔ ان تمام مشاغل کے پیچھے خط نفس نام کی کوئی چیز نہ تھی محض جہاد کی تیاری کے لئے جسمانی ریاضت مقصد اولین تھا۔ گھوڑوں سے محبت بھی صرف اس لئے تھی کہ یہ جہاد فی سبییل اللہ کا ذرعیہ ہے۔ بہترین بندوق بہترین رائفل اور بہترین ریوالور سے آپ کا شوق دیدنی تھا۔ بھاگتے ہوئے ہر نوں کو، اڑتے پرندوں کو گولی کا نشانہ بنانا۔ آپ کے نزدیک ایک معمولی بات تھی۔ آپ کا نشانہ خطا ہو جائے یہ ممکن ہی نہ تھا۔
میں یقین سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان تمام سرگرمیوں کی روح کفار اور انگریز کے خلاف جذبہ جہاد تھا جو آخر وقت تک آپ کے دل میں چٹکیاں لیتا رہا۔ اپنے رب کریم کی بارگاہ میں آپ شہادت کے لئے ہمیشہ دست بدعا رہا کرتے۔ جب کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے جہاد شروع ہوا تو آپ نے اپنے عقیدت مندوں کو اس جہاد میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ جو سینکڑوں کی تعداد میں سب سے اگلے مورچوں پر بھارت کی فوجوں سے برسر پیکار رہے، اور ان کے چھکے چھڑا دئیے۔ مجاہدین کشمیر کی مالی خدمت کرنے کے علاوہ آپ نے بے شمار سپاہیوں کو اسلحہ اور باروداپنی گرہ سے خرید کر مہیا کیا اور اس کی کبھی نمائش نہ کی۔ جب 1965ء کی جنگ شروع ہوئی تو آپ نے اپنے کاشانہ اقدس کی تمام خواتین کے تمام زیورات افواج پاکستان کی خدمت میں پیش کر دئیے اور اس بے مثال قربانی کا کبھی اظہار نہ ہونے دیا۔
لنگرشریف میں اللہ تعالیٰ کی بڑی برکت تھی روز و شب سینکڑوں مہمانوں کو کھانا دیا جاتا۔ رقم جمع کرنے کا آپ کو قطعاً شوق نہ تھا جو آیا، خرچ ہو گیا۔ یحییٰ خاں دور میں جب کالے دھن پر قابو پانے کے لئے حکومت نے اعلان کیا کہ فلاں تاریخ تک پانچ پانچ سو اور سو سو کے نوٹ واپس کر دئیے جائیں تو لوگ اپنے نوٹوں کو تبدیل کرنے کے چکر میں رات دن سر گرداں اور پریشان تھے۔ قبلہ حضرت خواجہ صاحب نے خود مجھے بتایا کہ میری جیب میں اس وقت صرف آٹھ آنے تھے اس لئے مجھے قطعاً کوئی فکر نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ کے بندے صرف اپنے دلوں کو ہی نہیں اپنی جیبوں کو بھی دولت سے پاک رکھتے ہیں۔
ملک میں جب کوئی دینی یا ملی تحریک اٹھی اور اس کے لئے جانی مال قربانی کی ضرورت محسوس ہوئی تو اللہ تعالیٰ کا یہ بندہ اپنی ساری بے نیازیوں کے باوصف السابقون الاولون کے زمرہ میں ہمیشہ پیش پیش نظر آتا ہے آپ کا جہاد صرف سیف وسنان کے جہاد تک محدود نہ تھا ، بلکہ قلم و زبان سے بھی آپ حق کی سربلندی کے لئے ساری عمر مصروف عمل رہے باطل کسی روپ میں اور ملک کے کسی کونہ میں اگر سراٹھاتا تو حضرت خواجہ محمد قمر الدین کا ڈنڈا اس کی کھوپڑی پر پٹاخ پٹاخ برسنے لگتا ۔
انگریزی دور میں فتنوں کا سیلاب امڈ کر آگیاکہیں عیسائیت کے نام نہاد، مبلغ، اسلام کی حقانیت پر اپنے طعن و تشنیع کے تیر برساتے، کہیں ختم نبوت کے انکار کا فتنہ، کہیں شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کی ہرزہ سرائیاں ، کہیں صحابہ کرام کی بارگاہ اقدس میں گستاخی کرنے کے لئے منظم سازشیں، کہیں اہل بیت کرام کی عظمت و ناموس پر زباں درازیاں الغرض اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول اللہ ﷺ کا یہ محبوب مجاہد سب سے لڑا۔ سب کے سامنے سینہ سپر ہوا اور سب کو بتائید الٰہی شکست فاش سے دو چار کیا۔
ہندوستان کی آزادی کے لئے جب تحریک چلی تو کانگریس پیش پیش تھی جس کی قیادت متعصب اور تنگ نظر ہندئووں کے ہاتھ میں تھی۔ لیکن ہندومہاشوں کی مکاری نے بہت سے مسلمانوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا تھا۔ بڑے بڑے علماء، زعماء، فضلاء بھی ہندوستانی قومیت کے پرستار اور ہندو لیڈروں کے ہمنوا تھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے ملت مصطفویہ کو انگریزاور ہندو کی غلامی کے شکنجے سے بچانے کے لئے انتظام فرمایا ۔
قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ نے پاکستان کا مطالبہ کیا تو حضور خواجہ صاحب نے اپنے نور فراست سے قائد اعظم کے مؤقف کی حقانیت کو بھانپ لیا اور ملک کے بڑے بڑے دانشور یہ فیصلہ نہیں کر پائے تھے کہ قائداعظم کے دعویٰ میں کوئی مقبولیت ہے یا نہیں، یا یہ قابل عمل بھی ہے یا نہیں۔ آپ نے ڈنکے کی چوٹ پر پورے عزم و یقین کے ساتھ پاکستان کے حصول کے لئے جہاد میں قائداعظم کی رفاقت اور اعانت کا اعلان کر دیا اور تاریخ کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں کہ اس مردحق نے جو قدم اٹھایا وہ اس وقت تک نہیں رکا جب تک منزل نے بڑھ کر قدم نہیں چومے۔
صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کی مہم ازبس خطرناک تھی۔ خان برادر ان کا یہاں طوطی بول رہا تھا وہ گاندھی کے اندھے پرستار تھے اور سرخ پوش تحریک کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ صوبہ سرحد کے ہر شہر اور ہر گائوں میں اس کے سرخ پرچم لہر ا ر ہے تھے اگر اس ریفرنڈم میں مسلم لیگ شکست کھا جاتی تو پاکستان کا خواب تعبیر سے پہلے ہی منتشر ہو جاتا ۔ جن لوگوں کی جو انمردی نے ملت مسلمہ کے لئے سرحد میں کامیابی کے راستے ہموار کئے بلاشبہ ان مجاہدین کی صف اول میں حضرت خواجہ محمد قمر الدین کا چمکتا ہوا چہرہ آپ کو نمایاں نظر آئے گا۔
پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد اگرچہ عرصہ دراز تک موت و حیات کی کشمکش میں رہا۔ جن لوگوں کو اس کی زمام اقتدار سونپی گئی انہوں نے اپنی نااہلی یا خیانت مجرمانہ کے باعث اس نوزائیدہ مملکت کی مشکلات میں اضافہ ہی کیا۔ لیکن 1970ء کا وہ دور ساری ملت کے لئے بے حد تشویشناک تھا۔ اس وقت یہاں ایسی تحریک شروع ہوئی جو اسلام کے بجائے سوشلزم کو ملک کا دستور حیات بنانے کا عزم کرکے اٹھی تھی اس سے قبل جو حکمران آئے انہوں نے بھی اگرچہ نظام مصطفی کے نفاذ کے لئے کوئی قابل ذکر خدمت انجام نہیں دی تھی۔ اور اگر کوئی قدم اس سمت میں اٹھایا بھی تو بڑی بے دلی سے، لیکن یہ دور تو اپنے دامن میں ہنگامہ رستاخیز سمیٹ کر لایا تھا۔
بھٹو کی عیاریوں نے قوم کے ذہنوں میں اشتراکیت کا نقش اس طرح ثبت کر دیا کہ اب عام شاہراہوں پر اسلام مردہ باد کے نعرے سنائی دینے لگے۔ اب خوف آنے لگا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو ملک لاکھوں شہیدوں نے اپنا خون بہا کر اور اپنی رنگ رنگیلی جوانیاں لٹا کر اسلام کی خاطر حاصل کیا تھا۔ اس میں کہیں مار کس اور لینن وغیرہ یہودیوں کا ابلیسی نظام نہ نافذ ہو جائے۔
بھٹو کے ساتھیوں کے نعرے بڑے گرجدار تھے ساری فضا سہمی سہمی تھی۔ بڑے بڑے سیاستدان منقار زیر پر تھے۔ کئی علماء بھی بایں جبہ و دستار اسلام کے (کے نام پہ حاصل کردہ) اس وطن میں سوشلزم کے کانٹے بونے کے لئے بھٹو کا ساتھ دے رہے تھے خوف وہراس ، دہشت ویاس کے اس ماحول میں ایک آواز بلند ہوئی کہ ’’پاکستان سوشلزم کا قبرستان بنے گا‘‘ ساری قوم چونک اٹھی اور بیگانے اس نعرہ لگانے والے کی جرأت وبسالت پر انگشت بدنداں رہ گئے وہ آنکھیں مل مل کر اس جو انمرد کا چہرہ دیکھنے کے لئے بے تاب تھے جس نے اپنی صدائے دلنواز سے ملک بھر میں ہلچل پیدا کر دی تھی۔
وہ نعرہ لگانے والا کون تھا؟
وہ ہم سنیوں کا آقا ہم چشتیوں کا مرشد، حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی تھا۔ اس نعرہ نے صور اسرافیل کا کام کیا۔ اور سوئی ہوئی ملت بیدار ہو گئی اور ا س کے بیدار ہونے کی دیر تھی کہ باطل کے نعروں کی وہ کڑک ختم ہو گئی وہ طلسم ٹوٹ گیا، جس نے ساری قوم خصوصاً نوجوان نسل کو بری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا ۔ ایسے نازک دور میںکا لعدم جمعیت علماء پاکستان کی قیادت اور اسلام کی عظمت کا جھنڈا جب حضرت شمس العارفین کے خانوادے کے اس اولواالعزم مرد حق نے اپنے ہاتھ میں اٹھالیا تو میدان جنگ (عمل) کا نقشہ پلٹ کر رکھ دیا۔ اور بھٹو اور اس کے حواریوں کے وہ ارادے خاک میں مل گئے جو اس گلشن اسلام کو ویران کرکے اسے اشتراکیت کا مرکز بنانا چاہتے تھے۔
غلامان مصطفی علیہ التحیۃ والثناء پہلے انگریز کے خلاف برسرپیکار تھے۔ پھر ہندو سے جنگ آزما ہوئے۔ پھر داخلی فتنوں نے ان کی ساری توجہ اپنی طرف مبذول رکھی۔ اس عرصہ میں فتنہ مرزائیت ہر قسم کی مزاحمت سے بے خوف ہو کر اپنے پائوں پھیلاتا رہا، اپنی بنیادیں مضبوط کرتا رہا۔ انہیں اپنے وسائل کو منظم کرنے ، اپنی سازشوں کو مرتب کرنے کے لئے طویل فرصت مل گئی۔ سول کے محکموں میں پہلے ہی ان کے لوگ کلید آسامیوں پر قابض تھے اس عرصہ میں انہوں نے بری، بحری اور ہوئی افواج میں بھی اپنی پوزیشن مستحکم کر لی۔ یہاں تک کہ پاکستانی فضائیہ کا سربراہ اعلیٰ ایک قادیانی (ظفر چوہدری) بننے میں کامیاب ہو گیا اور اس میں اتنی جرأت پیدا ہوگئی کہ ماہ دسمبر میں ربوہ میں ان کی جو سہ روزہ کا نفرنس ہوئی۔ اس موقع پر اس نے پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کو حکم دیا کہ وہ اس کے جھوٹے نبی جھوٹے خلیفہ کو سلامی دیں۔
انہیںیہ توقع تھی کہ ایک جست میں وہ پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کر لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرم ﷺ کی امت کو انگریزوں کے ان پٹھوئوں، اسلام اور ملت اسلامیہ کے دشمنوں کی خطرناک سازشوں سے بچانے کے لئے ربوہ کے ریلوے سٹیشن پر رونما ہونے والے ایک معمولی سے واقعہ کو اس کا ذریعہ بنا دیا۔ پھر ختم نبوت کی تحریک ملک کے کونہ کونہ میں پھیل گئی۔ یہاں تک کہ حکومت مجبور ہو گئی کہ وہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے ۔ اس وقت بھی حضرت شیخ الاسلام نے جو قائدانہ اور مجاہدانہ کردار انجام دیا وہ محتاج بیان نہیں۔
تحریک نظام مصطفی ﷺ میں بھی آپ کی خدمات تاابد تابندہ و درخشندہ رہیں گی۔
رمضان المبارک کی چودہ تاریخ تھی جمعہ کا دن تھا زائرین کے ہجوم سے آستانہ عالیہ کا کونہ کونہ بھرا ہو ا تھا۔ یہ جمعہ حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسجد میں ادا فرمایا اور اپنے خدام کو اور اپنے پروانوں کو دعائوں کے ساتھ الوداع کیا۔ اس دن خلاف معمول روزہ گھر میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ افطار فرمایا۔ رات سیال شریف میں بسر کی۔ حضرت صاحبزادہ غلام نصیر الدین صاحب کے صاحبزادے علاج کے لئے لاہور گئے ہوئے تھے ان کی مزاج پرسی کے لئے لاہور جانے کا پروگرام بنایا۔ سحری تناول فرمانے کے بعد حضرت غریب نواز نے، حضر ت شمس العارفین کے روضہ مقدسہ پر حاضری دی اور دعائے خیر کے بعد اپنی زندگی کے آخری سفر پر روانہ ہوئے۔
سرگودھا لاہور سڑک (لاہور سے چند میل کے فاصلے) چک نمبر 11کا پل ہے۔ آپ کا عمر بھر کا ڈرائیور غلام حیدر جو پینتالیس سال سے آپ کا ڈرائیور تھا، کار چلا رہا تھا، صبح کے سات بج رہے تھے۔ سورج طلوع ہو چکا تھا ہر طرف روشنی ہی روشنی تھی کہ چک نمبر 11کے پل کے قریب غلام حیدر نے سامنے سے ایک ٹرک آتا ہوا دیکھا وہ غلط سمت سے آرہا تھا محتاط ڈرائیور نے اپنی سابقہ روایات کے مطابق گاڑی کواور بائیں جانب کر لیا، لیکن ٹرک نے اپنی سمت در ست نہ کی تو غلام حیدر نے حضرت کی گاڑی کو کچے راستے پر اتار لیا لیکن ٹرک کا ڈرائیور معلوم نہیں نشہ میں دھت تھا یا سورہا تھا اپنے ٹرک کو کنٹرول نہ کر سکا۔ اچانک ایک دھماکہ ہوا ۔ قیامت خیز دھماکہ، جس نے گاڑی کا کچومر نکال دیا ڈرائیور غلام حیدر اپنے آقا کے قدموں میں نذرانہ جان پیش کر کے وہیں سرخرو ہوا۔
ایک دوسرا خادم اللہ بخش، جس کی چند روز بعد شادی ہونے والی تھی، وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہو ا تھا۔ اس کو شہادت کا تاج پہنا دیا گیا۔ شاید ایسے جان نثار اور جان باز خدام کے لئے ہی حضرت مرزا مظہر جان جاناں رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
بناکر دند خوش رسمے بہ خون و خاک غلطیدن خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
باقی دو ساتھی حاجی محمد نواز جو حضرت کا دیرنہ اور رازدار خادم ہے اس کا بازو کئی جگہ سے ٹوٹ گیا۔ چوتھا ساتھی محمد اسلم بری طرح زخمی ہوا۔
حضرت قبلہ غریب نواز ڈرایئور کے ساتھ پہلی نشست پر تشریف فرما تھے دھماکہ سن کر ارد گرد سے لوگ دوڑے ہوئے آئے۔ حضرت کو باہر نکالا گیا آپ کی دائیں ٹانگ کی پنڈلی کی ہڈی کریک ہوئی تھی۔ چہرہ مبارک اور جسم کے دوسرے حصے بالکل صحیح سلامت تھے آپ کوکار سے نکال کر جب باہر چارپائی پر ڈالا گیا تو ایک آدمی نے پانی پیش کیا۔ آپ نے پینے سے انکار کر دیا۔ فرمایا: میں روزہ سے ہوں۔ پھر ٹرک میں چارپائی بچھا کر لٹا دیا گیا اور ڈسٹرکٹ ہسپتال سرگودھالا یا گیا۔
اس المناک حادثہ کی خبر، جنگل کی آگ کی طرح آناً فاناً پھیل گئی۔ لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ ہسپتال میں جمع ہوگئے۔ بھیرہ میں ہمیں شام کے بعد اس حادثہ کی اطلاع ملی، لیکن اطلاع دینے والے نے ساتھ یہ بھی بتایا: حضور بخیروعافیت ہیں۔ دوسری صبح سویرے عیادت اور زیارت کے لئے میں مع اپنے عزیزوں کے سرگودھا پہنچا۔ اس وقت ڈاکٹر صاحبان مرہم پٹی کر رہے تھے۔ ہسپتال کا سارا کھلا میدان نیاز مندوں اور عقیدت مندوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سب کی زبان پر کلمات شکر تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کریم آقا کو اس جانکاہ حادثہ سے بچالیا ہے۔
ہم لوگ خوش تھے کہ تقدیر کی کمان کا تیر خطا ہوا، لیکن تقدیر ہماری کم نگاہی پر مسکرا رہی تھی۔ دو روز تک آپ ڈسٹرکٹ ہسپتال سرگودھا میں زیر علاج رہے۔ صدر محترم جنرل محمد ضیاء الحق کو جب اس سانحہ کا علم ہوا تو بے چین ہو گئے، ہر دس پندر منٹ کے بعد حضرت کی خبر گیری کے لئے فون کرتے رہے اور ڈاکٹروں کو تاکید کرتے رہے کہ علاج معالجہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
سترہ رمضان المبارک کو ڈاکٹروں نے مشور دیا کہ آپ علاج کے لئے سی ایم ایچ لاہور لے جایا جائے۔ چنانچہ آپ کو وہاں لے جایا گیا وہاں کے ڈاکٹروں نے جب انگلیوں کے ناخنوں کی رنگت دیکھی تو سراپا یاس بن گئے اور کہا کہ بہت لیٹ آئے ہو۔ سی ایم ایچ کے قابل ڈاکٹروں کی جملہ مساعی کے باوجود حکم الٰہی پورا ہوا اور وہ عظیم ہستی جو پون صدی تک چودھویں کا چاند بن کر زندگی کے افق پر نور افشانیاں کرتی رہی تھی۔ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گئی اور دارفانی سے رخت سفر باندھ کر اپنے محبوب حقیقی کی بارگاہ صمدیت میں نعمت حضوری سے شرفیاب ہوگئی۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون
زمانہ اپنی شب غم کو منورکرنے کے لئے ایسے قائد کی تلاش میں سر گرداں رہا، لیکن صد حیف کہ اس کی یہ سعی بار آورنہ ہوئی۔ امت مسلمہ اپنے اس قائد کی یاد کو ہمیشہ سینوں سے لگائے رکھے گی جس نے ہر مشکل مرحلہ پر بڑی جرأت کے ساتھ اس کی راہنمائی فرمائی۔
حلقہ مریدین اپنے شیخ کے نورانی چہرہ کی زیارت کے لئے تڑپتے ہی رہیں گے۔ طالب علموں کے ساتھ محبت کرنے والے ، علماء کی قدر ومنزلت کو پہچاننے والے، اہل بیت نبوت کے ادب واحترام کاحق اد ا کرنے والے، صحابہ کرام کی ناموس کے پاسبان اور شمع جمال محمدی ﷺ کے ایسے دلسوختہ پروانہ، اور ذکر الٰہی سے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ ہونے والے، اہل دل کی آنکھوں کے نور، اہل خرد کے پیشوا اور کاروان عشق و مستی کے قافلہ سالار، شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ بظاہر ہماری آنکھوں سے نہاں ہو گئے، لیکن ان کی عقیدت و محبت کے چراغ ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔
ماخوذ مقالات از حضرت پیر محمد کرم شاہ رحمۃ اللہ علیہ آستانہ بھیرہ شریف
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علٰی رسولہٖ سید المرسلین محمد وعلٰی آلہٖ واصحٰبہٖ اجمعین، اما بعد!
دیباچہ
آج کل خلفائے راشیدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی خلافت راشدہ کے انکار میں جس شور و شر کے مظاہر ے کئے جا رہے ہیں۔ اور امت مرحومہ کی آخرت تباہ کرنے اور اس دنیا میں افتراق وانشقاق اور فتنہ وفساد کی آگ مشتعل کرنے میں جو ہنگامے برپا کئے جا رہے ہیں اور اس تمام فتنہ پردازی اور شر انگیزی پر پر دہ ڈالنے کے لئے محبت وتولی اہل بیت (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور ائمہ معصومین و صادقین (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اجمعین) کی اقتداء اور پیروی کا دم بھرا جاتا ہے۔ اگر اہل بصیرت فرقہ اہل تشیع کے نظریات کا بغور مطالعہ کریں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے ارشادات گرامی اور سلف صالحین کے ایمانی جذبات اور ان کی محیر العقول اسلامی خدمات کی انجام دہی اور ان کی عقل وادراک سے بالا تر قربانیاں بھی مطالعہ کریں تو وہ حضرات نہایت آسانی کے ساتھ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اہل تشیع کے نظریہ اور شریعت اسلامیہ کے درمیان مکمل مخالفت اور مناقضت کی نسبت ہے اور ان کا دعویٰ محبت اہل بیت کرام سراسر بلادلیل ہے۔
نادر اساس
مذہب شیعہ کی ابتداء کیسے اور کب ہوئی اس کے متعلق انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ صفحات میں عرض کیا جائے گا۔ سر دست یہ گذارش کرنا ہے کہ اہل تشیع نے اپنے مخصوص مذہب کی بنیاد ایسی روایات پر رکھی ہے، جو انتہائی محدود ہیں کیوں احادیث کے عینی شاہد یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جن کی تعداد تاریخ کی روسے ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے اور بجز اہل تشیع کے باقی تمام اقوام عالم، پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ ایمان لانے والوں کی تعداد اس سے کم نہیں بتاتے تو اس قدر تعداد میں سے صرف چار یا پانچ آدمیوں کی روایات قابل تسلیم اور باقی تمام کے تمام صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کی روایات ناقابل تسلیم کرتے ہیں۔ دوسرا جن اصحاب اور اماموں سے روایتیں لینا جائز بتاتے ہیں ۔ ان کے متعلق اس ضروری عقیدہ کا دعویٰ کرتے ہیں کہ تقیہ اور کذب بیانی ان کا دین اور ایمان تھا (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ)
ایمان کی بنیاد ، تقیہ
اہل تشیع کی انتہائی معتبر کتاب کافی، مصنفہ (اہل تشیع کے مجتہد اعظم) ابو جعفر یعقوب کلینی ، میں مستقل باب تقیہ کے لئے مخصوص ہے اور اس کو اصول دین میں شمار کیا ہے۔ نمونہ کے طور پر ایک دوروایتیں جو امام ابو عبداللہ جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب ہیں پیش کرتا ہوں۔
عن ابن ابی عمیر الاعجمی قال قال لی ابو عبداللہ علیہ السلام یا ابا عمیران تسعۃ اعشار الدین فی التقیۃ ولا دین لمن لاتقیۃ لہٗ۔
یعنی حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک شیعہ ابن ابی عمیر الاعجمی سے فرمایا کہ۔۔۔ دین میں نوے فیصد تقیہ اور جھوٹ بولنا ضروری ہے اور فرمایا کہ جو تقیہ (جھوٹ) نہیں کرتا وہ بے دین ہے (باقی دس کی کسر بھی نہ رہی)۔
اصول کافی ص۴۸۲اور ص۴۸۳پر بھی کثرت کے ساتھ روایات ہیں جن میں سے دو تین نمونہ کے طور پر پیش کرتا ہوں۔
عن ابی بصیر قال قال ابو عبداللہ علیہ السلام التقیتۃ من دین اللہ قلت من دین اللہ؟ قال ای واللہ من دین اللہ۔
یعنی ابو بصیر جو امام عالی مقام امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وزیر و مشیر تھا اور روایت میں اہل تشیع کا مرکز ہے کہتا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ تقیہ کرنا اللہ کا دین ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ کا دین ہے؟ تو امام صاحب نے فرمایا۔ اللہ کی قسم ہاں تقیہ (جھوٹ) اللہ کا دین ہے۔
عن عبداللہ ابن ابی یعفور عن عبداللہ علیہ السلام قال اتقواعلٰی دینکم واحجبوہ بالتقیۃ فانہٗ لا ایمان لمن لا تقیۃ لہٗ۔
یعنی ابن ابی یعفور جو امام عالی مقام صادق علیہ السلام کا ہر وقت حاضر باش خادم تھا۔ وہ کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اپنے مذہب پر خوف رکھو اور اس کو ہمیشہ جھوٹ اور تقیہ کے ساتھ چھپائے رکھو۔ کیونکہ جو تقیہ نہیںکرتا اس کا کوئی ایمان نہیں۔
اور صفحہ۴۸۴کی روایات میں سے بھی ایک دوروایتیں پیش کرتا ہوں۔
عن معمر ابن خلاد قال سٔالت ابا الحسن علیہ السلام عن القیام للولاۃ فقال قال ابو جعفر علیہ السلام التقیتۃ من دینی و دین آبائی ولا ایمان لمن لا تقیتۃ لہٗ۔
یعنی حضرت امام موسیٰ کاظم کا خاص شیعہ معمر بن خلاد کہتا ہے کہ میں نے امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا کہ ان امیروں اور حاکموں کے استقبال کے لئے کھڑا ہونا جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ امام محمد باقر رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ تقیہ کرنا میرا مذہب ہے اور میرے آباواجداد کا دین ہے (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) اور جو تقیہ نہیں کرتا وہ بے دین ہے۔
اسی طرح اسی صفحہ پر محمد بن مروان اور ابن شہاب زہری کی روایتیں بھی قابل دید ہیں۔ علی ہذا القیاس صفحہ ۴۸۵،۴۸۶ اور۴۸۷ تمام کے تمام یہ صفحات تقیہ، مکروفریب اور کذب بیانی پر مشتمل روایات سے بھرے ہوئے ہیں۔
صفحہ ۴۸۶پر معلی بن الخنیس کی ایک روایت بھی یاد رکھیں۔ کہتے ہیں
عن معلی بن خنیس قال قال ابو عبداللہ علیہ السلام یا معلی اکتم امرنا ولا تذعہٗ فانہٗ من کتم امرنا ولم یذعہٗ اعزہٗ اللہ بہٖ فی الدنیا وجعلہٗ نورا بین عینیہ فی الاخٰرۃ تقودہٗ الی الجنۃ یا معلی ومن اذاع امرنا ولم یکتمہٗ اذلہٗ اللہ بہٖ فی الدنیا ونزع نورا من بین عینیہ فی الاخٰرۃ وجعلہٗ ظلمۃ تقودہٗ الی النار یا معلی ان التقیتۃ من دینی ودین آبائی۔ ولا دین لمن لاتقیتۃ لہٗ۔
یعنی حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا خاص شیعہ اور امام صاحب موصوف سے کثرت سے روایت کرنے والا معلی بن خنیس کہتا ہے کہ امام صاحب نے مجھے فرمایا کہ ہماری باتوں کو چھپائو ان کو ظاہر مت کرو کیونکہ جو شخص ہمارے دین کو چھپاتا ہے اور اس کو ظاہر نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ چھپانے کے سبب سے اس کو دنیا میں عزت دے گا اور قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور پیدا کرے گا۔ جو سیدھا جنت کی طرف اس کو لے جائے گا۔ اے معلی ! جو شخص بھی ہماری باتوں کو ظاہر کرے گا اور ان کو نہ چھپائے گا تو دنیا میں اللہ تعالیٰ اس سبب سے اس کو ذلیل کرے گا اور آخرت میں اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان میں سے نور سلب کرلے گا اور اس کی بجائے ظلمت اور اندھیرا بھر دے گا جو اس کو جہنم کی طرف لے جائے گا۔ اے معلی تقیہ کرنا میرا دین ہے اور میرے آبائواجداد کا دین ہے اور جو تقیہ نہیںکرتا وہ بے دین ہے۔
غرضیکہ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر روایتیں ہیں ۔ کس کس کو لکھیں ۔ اہل تشیع کی تو جس کتاب کو بھی دیکھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ صادقین معصومین کی طرف حق کو چھپانے اور تقیہ اور کذب بیانی پر مشتمل روایات منسوب کرنے کی غرض سے یہ کتاب تصنیف فرمائی گئی ہے۔ چونکہ کتاب ’’ کافی کلینی‘‘ اہل تشیع کی تمام کتابوں کا منبع اور ماخذ ہے اور تمام کتابوں کی نسبت ان کے نزدیک زیادہ معتبر ہے۔ حتی کہ اس کتاب کے شروع میں اس کی وجہ تسمیہ میں جلی قلم سے یہ لکھا ہوا ہے ’’قال امام العصر وحجۃ اللہ المنتظر علیہ سلام اللہ الملک الاکبر فی حقہ ھٰذا کاف لشیعتنا‘‘یعنی اس کتاب کے متعلق امام حجۃ اللہ المنتظر مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہمارے شیعوں کے لئے یہی کتاب کافی ہے۔
تو اسی لئے اس ضروری مسئلہ تقیہ وکتمان حق کے ثبوت میں اسی کافی کی روایات کو کافی سمجھتا ہوں۔ دل تو یہی چاہتا ہے کہ ہر ایک کتاب سے بطور نمونہ ایک ایک روایت پیش کرتا مگر طوالت کے خوف سے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔
عمدہ استدلال
میں یہ کہہ رہا تھا کہ جن اصحاب سے یہ روایتیں کرنا اہل تشیع جائز سمجھتے ہیں یا بتاتے ہیں۔ ان کے متعلق کہتے ہیں کہ تقیہ اور کتمانِ حق ان کا عقیدہ تھا۔ اب اس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ایک انتہا درجہ محب اور علمبردار تشیع جو نہی ان حضرات سے کوئی حدیث سنے گا اور کسی امر کا اظہار معلوم کرے گا تو اس کے لئے یہ یقین کرنا ضروری ہے کہ صحیح اور حق بات تو قطعاً انہوں نے فرمائی ہی نہیں۔ جو بھی ان سے روایت کی گئی ہے سراسر بے حقیقت اور واقعات کے خلاف ہے اور نفس الامر کے عکس ہے وہ بھلا اپنا اور اپنے آبائو اجداد کا دین کیسے چھوڑ سکتے ہیں یا ان کے وہ حاضر باش اور رات دن ان کے خدمت گزار جنت کو چھوڑ کر جہنم کا راستہ اختیار کر सकते ہیں تو لہٰذا جو روایات بھی اہل تشیع کی کتابوں میں لکھی گئی ہیں اور جلسوں اور محفلوں میں بلکہ آج کل تو لائوڈ سپیکروں کے ذریعہ بلند آہنگی کے ساتھ بیان کی جاتی ہے سراسر کذب اور واقعات کے خلاف ہیں کون محب اہل بیت اور کون شیعہ ائمہ طاہرین کے صریح اور واضح وغیرہ مبہم تاکیدی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے دین تاکید حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے دین وایمان وجہنمی اور ذلیل ہونا پسند کرے گا۔اس مقدمہ کو اہل فکر کے غوروخوض کے سپرد کرتا ہوں اور گذارش یہ کرتا ہوں کہ بانیان مذہب تشیع نے اصل اور حقیقت پر مبنی دین اسلام کو ختم کر دینے اور شریعت مقدسہ کو کلیۃً فنا کر دینے کے لئے یہ سیاسی چال چلی۔ کون شخص یہ نہیں سمجھ سکتا کہ حضور اقدس ﷺ ہی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے مابین جس طرح واسطہ ہیں اسی طرح رسول ﷺ اور حضور ﷺ کی قیامت تک آنے والی ساری امت کے درمیان حضور ﷺ کے صحابہ کرام اور رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی واسطہ ہیں۔ انہی مقدس لوگوں نے اﷲ اتعالیٰ کی کلام کی تفسیر اﷲ کے رسول ﷺ سے پڑھی اور ان ہی مقدس لوگوں نے صاحب اسوئہ حسنہ ﷺ کے ارشاداتِ گرامیہ اور اعمال عالیہ اور سیرت مقدسہ کی دولت کو براہ راست حضور کی ذات سے حاصل کیا۔ جس کو ان کے شاگردوں یعنی تابعین نے ان سے حاصل کیا علیٰ ہذاالقیاس وہ مقدس شریعت ہم تک پہنچی۔ اب جبکہ ابتدائی واسطہ یعنی صحابہ کرام ہی کی ذات قدسی صفات کو قابل اعتماد تسلیم نہ کیا جائے یعنی تین چار کے بغیر باقی ظاہری مخالفت کی بناء پر قابل اعتبار نہ رہیں اور یہ تین چار باوجود انتہائی دعویٰ محبت وتولی کے سخت ناقابل اعتماد ثابت کیے جائیں۔ کہ جو بھی ا ن کی روایات ہوں ...
قرآن کے متعلق عقیدہ
اب رہا قرآن کریم تو اس کے متعلق بانیان مذہب تشیع ورازدار ان فرقہ مذکورہ اس قرآن کریم کا صراحتاً انکار کرتے نظر آتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر اسی اصول کافی صفحہ ۶۷۱پر یہ روایت دیکھیں کہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کو جمع کرنے اور اس کی کتابت سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے کہا کہ اللہ عزوجل کی کتاب یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (ﷺ) پر اس کو نازل فرمایا ہے اور میںне ہی اس کو اکٹھا کیا ہے۔ جس پر لوگوں نے کہا کہ ہمارے پاس قرآن شریف موجود ہے ہمیں کسی نئے قرآن کی کیا ضرورت ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم آج دن کے بعد تم اس قرآن کو کبھی نہ دیکھو گے۔ اسی صفحہ پر امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب ایک روایت اور بھی ملاحظہ فرمالیں کہ جو قرآن حضور ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل علیہ السلام لائے تھے اس کی سترہ ہزار (17000)آیتیں تھیں اور غریب اہل السنت والجماعت کے پاس تو صرف چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ (6666)آیات والا قرآن کریم ہے۔ اسی اصول کافی کے صفحہ ۶۷۰پر بھی نظر ڈالتے جائیے اور اگر اس قرآن کریم سے صراحتاً انکار کی شان کسی حد تک تفصیل کے ساتھ دیکھنا چاہیں تو اصول کافی صفحہ ۲۶۱تا۲۶۸،۶۷۱ اور ناسخ التواریخ جلد ۲ صفحہ ۴۹۳و ۴۹۴اور تفسیر صافی جلد اول ص ۱۴ مطالعہ فرمائیں اور بانیان مذہب تشیع کی سیاست کی داددیں کہ کس طرح صراحت اور وضاحت کے ساتھ اسی فرقہ نے سرے سے قرآن شریف ہی کا انکار کیا ہے۔
شاید کہ اتر جائے۔۔۔۔
اے میرے محترم بھائیو! حدیث کا اس طریقے سے انکار اورقرآن کا اس طرح انکار ہو تو کوئی بتائے کہ مذہب اسلام اور شریعت مقدسہ کسی طرح بھی ممکن الوجود ہو سکتی ہے؟ ممکن ہے میری اس تحریر کا جواب یا جوآگے عرض کرنے والا ہوں اس کا رداہل تشیع حضرات لکھنے کی زحمت کریں تو میں سفارش کرتا ہوں کہ اپنے اس رسالہ میں جتنے حوالے میں نے پیش کئے ہیں ان کا مطالعہ فرما لینے کے بعد یہ تکلیف کریں تاکہ اہل علم حضرات بھی صحیح اور غلط کا اندازہ لگا سکیں اور حق و باطل میں تمیز کر سکیں اور اہل تشیع کے ذاکرین صاحبان کی زحمت بھی اکارت نہ جائے جس صاحب کو کتاب کے حوالہ دیکھنے کی ضرورت محسوس ہو تو سیال شریف آکر کتابیں دیکھ کر اپنی تسلی کر سکتا ہے۔
اہل تشیع حضرات کی مذہبی روایات اگرچہ پیش کرنا عقل اور انصاف کے لحاظ سے بالکل بے فائدہ ہے۔ کیونکہ ان کی کسی روایت کا صحیح اور مطابق واقعہ ہونا ممکن نہیں کیونکہ میں یہ نہیں مان سکتا کہ اہل تشیع نے ائمہ کرام کی اصل اور صحیح روایت بیان کی ہو اور اپنے لئے بے ایمانی اور بے دینی منتخب کی ہو اور جہنمی ہونا اختیار کیا ہو۔ بلکہ خود ائمہ کرام نے بھی حسب تصریح اصول کافی وغیرہ کوئی سچی بات ظاہر نہیں فرمائی اور اپنے آبائواجداد کے مذہب کو نہیں چھوڑا تو پھر ایسی روایات لکھنے لکھانے کا کیا فائدہ؟ اور اہل تشیع کے خلاف ایسی روایات ان کے تیار کردہ مذہب کو کیا نقصان پہنچا سکتی ہیں یا ہمیں کیا فائدہ بخش سکتی ہیں مگر میں جو اہل تشیع کی کتابوں سے روایتیں پیش کر رہا ہوں تو میرا مقصد فقط یہ ہے کہ وہ سادہ لوح مسلمان جو ان کی ہنگامہ آرائی اور مجالس میں شرکت کرتے ہیں یا اہل تشیع کے مذہب کو بھی کسی طرح صحیح تصور کرتے ہیں۔ ان کو سوچنے اور غور کرنے کا موقع مل سکے تاکہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں اور چلنے سے پہلے منزل مقصود کا نقشہ ملاحظہ کرلیں۔ اسی غرض کے تحت یہ رسالہ لکھ رہا ہوں اور شروع سے آخر تک تمام کی تمام روایات صرف اہل تشیع کی معتبر ترین ومسلم ترین کتابوں سے لکھ رہا ہوں اور حوالہ دکھانے کا ذمہ دار ہوں۔
مذہب شیعہ کی اساس
خلفاء راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی خلافت کا انکار اور ان مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی اس تبرائی گروہ کا مابہ الامتیاز (امتیازی شان) ہے۔ اور صراحتاً خلفائے راشدین رضوا ن اللہ علیہم اجمعین اور باقی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے حق میں سب و شتم اور حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اور ان کی تمام اولاد طاہرین ائمہ معصومین کی شان میں ارشاۃ وکنایۃً سب و ستم اور کذب بیانی و مکرو فریب اور کتمان حق کی نسبت کرنا اس فرقے کا خاصا لازمہ ہے جو کسی بھی عقل مند انسان سے پوشیدہ نہیں، اس مذہب کا دارومدار جن مسائل پر ہے ان میں سب سے بڑامسئلہ خلفاء راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی خلافت راشدہ کا انکار ہے۔ ان کا مذہب ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین خلفاء برحق نہیں تھے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت غصب کر لی تھی اور حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو ڈرادھمکا کر اپنی بیعت کرنے پر مجبور کر لیا تھا اور تمام عمر اسی خوف کی وجہ سے حضرت علی شیر خدا نے ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں۔ ان کی مجلس شوریٰ کے ممبر بune رہے اور مال غنیمت منظور کرتے رہے وغیرہ وغیرہ۔ قبل اس کے کہ اہل تشیع کی معتبر ترین کتابوں سے یہ ثابت کروں کہ اہل تشیع کے تمام دعوے جھوٹے اور خلاف واقعہ ہیں یہ عرض کرتا ہوں کہ خلافت راشدہ کا زمانہ اقدس آج سے تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال پہلے گزر چکا ہے۔ اس وقت ان کی خلافت پر اعتراض یا اس کی ناپسندیدگی کا شور و غوغا اور بے فائدہ مظاہرے بجز اس کے کہ فتنہ و شرارت پیدا کر سکیں اور ملک کے امن وامان کو متز لزل کریں اور کیا نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے؟ـ ہے کوئی بڑی سے بڑی حکومت یا کوئی بڑی سے بڑی عدالت جوان کے غیر مستحق خلافت ہونے کی صورت میں کوئی تدارک کر سکے اور مستحق کو اس کا حق واپس دلا سکے۔ اگر وہ مقدس ہستیاں مستحق خلافت تھیں یا بقول اہل تشیع مستحق نہیں تھیں۔ بہر صورت وہ خلیفے بنے اور امور خلافت باحسن و جوہ سرانجام دیئے۔ اب ان کی شان اقدس میں سب وشتم گالی گلوچ کیا معنی رکھتا ہے اگر ان تمام لوگوں کو جو خلفائے راشدین کو برحق اور مستحق خلافت یقین کرتے ہیں یک قلم تختہ دار پر کھینچ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے یا خلفائے راشدین کے ساتھ بغض وعداوت غل و غش ، کینہ رکھنے والے اپنے سینے کو پیٹ پیٹ کر اڑ...
نکتہ
یہ بات بھی قابل گزارش ہے کہ جن مقدس ہستیوں نے اللہ اور اس کے سچے رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی اور رضا کیلئے اپنا تن ، من ، دھن قربان کیا اور ایسے میں محبوب کبریا ﷺ کے ساتھ ایمان لائے کہ جب حضور ﷺ کے ساتھ ایمان لانا اور کائنات عالم کی دشمنی مول لینا ایک معنی رکھتا تھا اور ایسے وقت میں حضور کا ساتھ دیا جس وقت حضور کا ساتھ دینے میں مستقبل کی تمام دینوی منزلوں میں غربت اور مصائب وآلام و تکالیف کے سوا عالم اسباب میں اور کچھ نظر نہ آتا تھا تو ایسے حالات میں ان مقدس ہسیتوں نے تمام دینوی تکالیف کو بطیب خاطر برداشت کیا اور اللہ کے سچے رسول ﷺ کے نام پر گھر بار، مال و عیال عزت و ناموس قربان کئے اور حضور ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑا تو ایسی مقدس ہستیوں کے خلوص، ان کے صدق و صفا ان کے ایمان وتصدیق کے متعلق کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں دوسرا کون سا داعیہ ہو سکتا تھا جس کے زیر نظر ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اس قدر دکھ برداشت کئے؟ پھر ایسے جان نثاروں اور وفاداروں کی جان نثاری اور قربانی کا بدلہ جو اللہ ارحم الرحمین کی جنا ب سے ضروری اور لازمی ہے اس کی کیفیت اور کمیت کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔ قرآن کریم کی بیسیوں آیات اللہ کے رسول اللہﷺ کے ساتھ ہجرت کرنے والوں اور انصار و مہاجرین کے حق میں نازل ہوئی ہیں کہ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ان کے لئے جنت کے اعلیٰ وارفع مراتب اور نعمتیںمہیا ہیں۔ ان کو بھی سامنے رکھنا چاہئے اور اس بات کو بھی پورے نظر و فکر کے ساتھ دیکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺکو فرماتا ہے۔ ’’یٰٓایھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم ‘‘ یعنی اے اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی آپ کافروں اور منافقوں کے خلاف جہاد فرمائو اور ان پر سختی کرو۔ اس حکم کے بعد جن مقدس ہسیتوں کو اللہ کے پیارے نبی ﷺ نے اپنا ہمراز و دمساز قرار دیا سفر و حضر، ہجرت و جہاد، ہر معاملہ میں اور ہر حالت میں اپنا ویزو مشیر مقرر فرمایا اور اپنا ساتھی ورفیق قرار دیا۔ ان ہستیوں کی شان میں گستاخی کرنا (معاذ اللہ) اور ان ہستیوں کی طرف کفر و نفاق کی نسبت کرنا کون سی دیانت ہے اور کون سا ایمان ہے۔ ذرا سوچو تو ان مقدس ہستیوں کے صدق و صفا کا انکار براہ راست مہبط وحی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میںگستاخی کو مستلزم نہیں؟ یقیناً ہے۔ محبوب رب العالمین علیہ وآلہ واصحبہ الصلوٰۃ وال...
شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ممدوح
اہل تشیع حضرات کی معتبر ترین تصانیف بھی اگر غور سے مطالعہ کی جائیں تو جھگڑا ختم ہو جاتا ہے ۔ بطور نمونہ چند روایات اہل بصیرت کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اوربغور مطالعہ کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔
(۱) حضرت سیدنا امیر المومنین علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی خلافت کے زمانہ میں خطبہ میں فرماتے ہیں۔
لقد رایت اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فما ارٰی احدا منکم یشبھھم لقد کانوا یصبحون شعثا غبرا قد باتوا سجدا وقیاما یراد حون بین جباھھم وخدودھم ویقفون علٰی مثل الجمر من ذکر معادھم کان بین اعینھم رکب المعز من طول سجودھم اذا ذکر اللہ ھملت اعینھم حتٰی تبل جیوبھم ومادوا کما یمید الشجر یوم الریح العاصف خوفا من العقاب ورجاء للثوابo
’’حضوراقدس ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو میں نے دیکھا ہے میں تم میں سے کسی کو بھی ان کے مشابہ نہیں دیکھتا۔ وہ تمام رات سجدوں اور نماز میں گذارتے صبح کو اس حالت میںہوتے کہ ان کے بال پریشان اور غبار آلودہ ہوتے تھے ، (شب کو) ان کا آرام جبینوں اور رخساروں میں (طویل سجدوں کی وجہ سے) ہوتا تھا۔ اپنی عاقبت کی یاد سے دہکتے ہوئے کوئلے کی طرح (بھڑک) اٹھتے تھے زیادہ اور لمبے لمبے سجدوں کی وجہ سے ان کے ماتھے دنبوں کے گھٹنوں کی طرح ہو گئے تھے۔اللہ کا نام جب (ان کے سامنے) لیا جاتا تو ان کی آنکھیں بہہ پڑتیں یہاں تک کہ ان کے گریبان بھیگ جاتے اور اللہ کے عذاب کے خوف اور ثواب کی امید میں اس طرح کا نپتے جیسے آندھی میں درخت کانپتا ہے۔‘‘ (نہج البلاغۃ خطبہ۹۶ مطبوعہ ایران، تہران)
(۲) حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اپنے زمانہ خلافت میں فرماتے ہیں۔
واعلموا عباد اللہ ان المتقین ذھبوا بعاجل الدنیا وآجل الآخرۃ فشار کوا اھل الدنیا فی دنیاھم ولم یشار کھم اھل الدنیا فی اخرتھم سکنوا الدنیا بافضل ماسکنت واکلوھا بافضل ما اکلت فحظوا من الدنیا بما حظی بہ المترفون واخذوا منھا ما اخذہٗ الجبابرۃ المتکبرون ثم انقلبوا عنھا بالزاد المبلغ والمتجر الرائج اصابوا لدۃ زھد الدنیا فی دنیاھم وتیقنوا انھم جیران اللہ غدا فی اٰخرتھم لا تردلھم دعوۃ ولا ینقص لھم نصیب من لدۃ ۱۲
’’اللہ کے بندو! جان لو کہ متقی پرہیز گار لوگ (وہی تھے جو) دنیا و آخرت کی نعمتیں حاصل کرکے گزر چکے ہیں ، وہ ہستیاں اہل دنیا کے ساتھ ان کی دنیا میں شریک ہوئیں لیکن اہل دنیا ان کی آخرت میں ان کے ساتھ شریک نہ ہو سکے وہ مقدس ہستیاں دنیا میں سکونت پذیر اس طرح ہوئیں جیسا کہ سکونت اختیار کرنے کا حق تھا اور دنیا کی نعمتوں سے کھایا جیسا کہ حق تھا اور دنیا کی ہر اس نعمت سے ان ہستیوں نے حصہ پایا جس سے بڑے بڑے متکبرین اہل دنیا نے حصہ پایا۔ اور دنیوی مال و دولت جاہ و حشمت جس قدربھی بڑے بڑے جابر ین متکبرین نے حاصل کی ہے اتنی ہی انہوں نے حاصل کی، پھر یہ ہستیاں صرف زادآخرت لے کر اور آخرت میں نفع دینے والی تجارت کو ساتھ رکھ کر دنیا سے بے رغبت ہوئے۔ یہ لوگ دنیا کی بے رغبتی کی لذت کو اپنی دنیا میں حاصل کر چکے اور یقین کر چکے تھے کہ کل اللہ سے ملنے والے ہیں۔ اپنی آخرت میں یہ وہ لوگ تھے جن کی کوئی دعانامنظور نہیں ہوتی تھی۔ اور ان کی آخرت کا حصہ دنیاوی لذات کی وجہ سے کم نہیںہوگا۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۲۷)
(۳) حضرت سیدنا ومولانا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اپنے زمانہ خلافت میں فرماتے ہیں۔
فان اھل السبق بسبقھم و ذھب المھاجرون الاولون بفضلھمo
(اسلام اور اعمال صالحہ کے ساتھ) سبقت لینے والے اپنی سبقت کے ساتھ فائز المرام ہو چکے اور مہاجرین اولین گذر چکے۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۷)
صدق اللہ مولانا العظیم والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار والذین اتبعو ھم باحسان رضی اللہ عنھم ورضوا عنہٗ ذلک الفوز العظیمo
اگرچہ اجماعی طور پر مہاجرین اولین اور انصار رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مدح وثنا اور منقبت کے بارے میں اہل تشیع کی تقریباً ہر کتاب میں ائمہ معصومین طاہرین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے خطبات اور ملفوظات موجود ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب اور رفعت شان کے متعلق اہل تشیع کی مسلم اور معتبر کتابوں کی عبارات بھی بطور نمونہ ملاحظہ فرماویں۔
کشف الغمہ کا تعارف
کتاب کشف الغمہ فی مناقب الائمہ مصنفہ عیسیٰ ابن ابی الفتح الاربلی جواہل تشیع کی مستند اور معتبر ترین کتاب ہے اور مصنف مذکور غالی شیعہ ہے جس کے غلوفی التشیع کا نمونہ ہدیہ قارئین کرتا ہوں:۔
ومن اغرب الاشباء واعجبھا انھم یقولون ان قولہٗ علیہ السلام فی مرضہ مروا ابابکر یصلی بالناس نص خفی فی تولیۃ الامر وتقلیدہ امر الائمۃ وھو علٰی تقدیر صحۃ لا یدل علٰی ذٰلک ومتٰی سمعوا حدیثا فی امر علی علیہ السلام نقلوہ عن وجھہٖ وصرفوہ عن مدلولہ واخذوا فی تاویلہٖ با بعد متحملا تہٖ منکبین عن المفھوم من صریحۃ او طعنوا فی راویہ وضعفوہ وان کان من اعیان رجالھم وذوی الامانۃ فی غیر ذٰلک عندھم ھذا مع کون معاویۃ بن ابی سفیان وعمرو بن العاص والمغیرۃ بن شعبۃ وعمران بن حطان الخارجی وغیرھم من امثالھم من رجال الحدیث عندھم وروایاتھم فی کتب الصحاح عند ھم ثابتۃ عالیۃ یقطع بھا ویعمل علیھا فی احکام الشرع وقواعد الدین ومتٰی روٰی احد عن زین العابدین علی بن الحسین وعن ابنہٖ الباقر وابنہٖ الصادق وغیرھم من الائمۃ علیھم السلام نبذوا روایتہٗ واطر حوھا واعرضوا عنھا فلم یسمعوھا وقالوا رافضی لا اعتماد علی مثلہ وان تلطفوا قالو شیعۃ ما لنا ولنقلہٖ مکابرۃ للحق وعدو لا عنہٗ ورغبۃ فی الباطل ومیلا الیہ واتبا عا لقول من قال انا وجدنا آبائنا علٰی امۃ او لعلم راوما جرت الحال علیہ اولا من الاستبداد منصب الامامۃ فقاموا بنصر ذٰلک محامین عنہ غیر مظھرین لبطلانہ ولا معترفین بہٖ استنانا بحمیۃ الجاھلیۃ الخo
’’سب سے زیادہ عجیب وغریب یہ بات ہے کہ یہ لوگ (اہل السنۃ والجماعۃ)کہتے ہیں کہ حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنی حالت بیماری میں فرماناکہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ان کی امر خلافت کیلئے اور حضور ﷺ کی امامت کی امامت وامارات کے لئے نص خفی ہے اس روایت کو اگر سچا بھی مان لیا جائے تو بھی یہ روایت خلافت پر دلالت نہیںکرتی ۔ اور یہ لوگ جب علی علیہ السلام کی خلافت کے بارے میں کوئی حدیث سنتے ہیں تو اس حدیث کو صحیح توجیہ سے ہٹا دیتے ہیں اور اس کے اصل معنے سے اس کو پھیر دیتے ہیں اور اس میں تاویلیں کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس کے بعید تراحتمالات کی وجہ سے اس کو صریح مفہوم سے پھیر دیتے ہیں یا اس حدیث کے راویوں پر اعتراض کرتے ہیں اگرچہ وہ راوی ان کے مشہور رواۃ میں سے ہوں اور باقی روایتوں میں ان کے نزدیک ثقہ اور امانت دارہی کیوں نہ ہوں باوجود اس کے کہ معاویہ ابن ابی سفیان اور عمر و بن عاص ومغیرہ بن شعبہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) اور عمران بن حطان ان کے نزدیک ایک حدیث کے راوی ہیں اور ان کی روایتیں ان کے نزدیک جو صحیح کتابیں ہیں ان میں درج ہیں۔ جن کے ساتھ استدلال کیا جاتا ہے اور شرعی احکام اور قواعد دین میں ان پر عمل کیا جاتا ہے اور جب کوئی امام زین العابدین علی بن حسین اور ان کے صاحبزادے امام محمد باقر اور ان کے صاحبزادے امام جعفر صادق علیہم السلام سے روایت کرتا ہے تو اس کو پھینک دیتے ہیں اور اس سے رو گردانی کرتے ہیں پس وہ نہیں سنتے اور کہتے ہیں کہ یہ راوی رافضی ہے ۔ اس قسم کے راوی پر بھروسہ نہیں اور اگر مہربانی سے کام لیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ راوی شیعہ ہے اس کی روایت نقل کرنے سے ہمیں کیا واسطہ۔ یہ جو کرتے ہیں تو حق سے مقابلہ کرنے اور حق سے روگردانی کرنے اور باطل کی طرف میل و رغبت کرنے کی وجہ سے اور ان لوگوں کی اتباع کرتے ہوئے جنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے آبا کو ایک طریقے پر دیکھا ہے اور ہم انہی کی پیروی کریں گے یا شایدان ان لوگوں نے منصب امامت کے ساتھ ابتداء ہی میں ظلم شروع ہو جانے کو دیکھا تو اسی ظلم کی امامت کے لئے کھڑے ہوگئے ایسی حالت میں اس سے الگ رہنے والے نہیں تھے اور اس کے بطلان کو ظاہر نہیں کرتے تھے اور نہ اس کو تسلیم کرتے تھے۔ (کشف الغمۃ فی مناقب الائمہ ص۸۵ مطبوع دارالطباعۃ کو لائی محمد حسین تہرانی سنۃ۱۲۹۴ہجری)۔
کشف الغمہ کی گواہی
اس عبارت کے بعد کتاب کشف الغمہ کے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت نہیں رہتی کہ اس کا مصنف سخت غالی شیعہ خلافت راشدہ کا منکر ہے اور اہل السنۃ والجماعۃ اس کے نزدیک گمراہ ہیں اور اس کا ایک ایک لفظ اہل السنۃ والجماعۃ پر آتشبازی کی مثال ہے اس دعویٰ کی صداقت یا کذب کے متعلق تواہل فکرو ہوش خود ہی فیصلہ کریں گے۔ اس موقع پر اسی کتاب کے چند حوالے جو حضرت امام عالی مقام زین العابدین علی بن الحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ان کے صاحبزادے امام عالی مقام سیدنا محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے مروی ہیں۔توا س توقع کے ساتھ پیش کرتا ہوں کہ مدعیان محبت وولا تو کسی صورت میں بھی ان کی روایات کو رد نہ فرمائیں گے اور نہ پھینکیں گے اور نہ ہی ان سے رو گردانی فرمائیں گے بلکہ سنیں گے اور سن کر ایمان لائیں گے۔ ذرا بآدب ہو کر سنئے!!
وقدم علیہ نفر من اھل العراق فقالوا فی ابی بکر وعمر و عثمان رضی اللہ تعالٰی عنھم فلما فرغوا من کلامھم قال لھم الاتخبرونی انتم المھاجرون الاولون الذین اخرجوا من دیارھم واموالھم یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا وینصرون اللہ ورسولہٗ اولٰٓئک ھم الصادقون قالوا لا قال فانتم الذین تبووا الدار والایمان من قلبھم یحبون من ھاجر الیھم ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا ویؤثرون علٰی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ قالوا لا قال اما انتم قد تبرا تم ان تکونوا من احد ھٰذین الفریقین وانا اشھد انکم لستم من الذین قال اللہ فیھم یقولون ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین اٰمنوا اخرجوا عنی فعل اللہ بکم ۱۲
اور امام زین العابدین کی خدمت اقدس میں عراقیوں کا ایک گروہ حاضر ہوا۔ آتے ہی (حضرت) ابوبکر(حضرت) عمر (حضرت) عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شان میں بکواس بکنا شروع کر دیا۔ جب چپ ہوئے تو امام عالی مقام نے ان سے فرمایا کہ کیا تم یہ بتا سکتے ہو کہ تم وہ مہاجرین اولین ہو جو اپنے گھروں اور مالوں سے ایسی حالت میں نکالے گئے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضا چاہنے والے تھے۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد و اعانت کرتے تھے اور وہی سچے تھے تو عراقی کہنے لگا کہ ہم وہ نہیں ، امام عالی مقام نے فرمایا کہ پھر تم وہ لوگ ہو گے جنہوں نے اپنے گھر بار اور ایمان ان مہاجروں کے آنے سے پہلے تیار کیا ہوا تھا ایسی حالت میں کہ وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں کو دل سے چاہتے تھے اور جو کچھ مال ومتاع مہاجرین کو دیا گیا تھا اس کے متعلق اپنے دلوں میں کسی قسم کا حسد یا بغض اور کینہ محسوس نہ کرتے تھے اگرچہ وہ خود حاجت مند تھے مگر (پھر بھی) مہاجرین کو اپنے پر ترجیح دیتے تھے؟ تو اہل عراق کہنے لگے کہ ہم وہ بھی نہیں ہیں۔ امام عالی مقام نے فرمایا کہ تم اپنے اقرار سے ان دونون جماعتوں (مہاجرین وانصار) میں سے ہونے کی براۃ کر چکے ہو اور میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ تم ان مسلمانوں میں سے بھی نہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’اور وہ مسلمان لوگ جو مہاجرین وانصار کے بعد آئیں گے وہ یہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ سبقت لے چکے ہیں اور ایمان والوں کے متعلق ہمارے دلوں میں کسی قسم کا کھوٹ، بغض اور کینہ حسد یا عداوت نہ ڈال‘‘۔ (یہ فرما کر امام عالی مقام نے فرمایا) میرے یہاںسے نکل جائو۔ اللہ تمہیں ہلاک کرے۔ (آمین ثم آمین)۔ (کشف الغمۃ ص۱۹۹مطبوعہ ایران)
ایک اور معتبر گواہ
کتاب ناسخ التواریخ جلد۲۔ کتاب احوال امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ۵۹۰ سطر نمبر ۱۳ پر امام الساجدین زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد گرامی بھی ملاحظہ فرمالیں اور الولد سر لابیہ(الحدیث)پر حق الیقین کریں۔
طائفہ از حد معارف کوفہ بازید بیعت کردہ بودند درخد متش حضور یافتہ گفتندر حمک اللہ درحق ابی بکر (الصدق ) وعمر چہ گوئی؟ فرمودہ دربارئہ ایشاں جز بخیر سخن نکنم وزاہل خودنیزدر حق ایشاں جز سخن خیر نشنید ہ ام وایں سخناں منافی آں روایتے است کہ از عبداللہ بن العلا مسطور افتاد بالجملہ زید فرمودایشاں برکسے ظلم و ستم نراند ندو وبکتاب خداوسنت رسول کار کردند۔
’’یعنی کوفہ کے مشہور ترین لوگوں کے ایک گروہ نے جس نے حضرت زید ابن زین العابدین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے بیعت کی ہوئی تھی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اللہ آپ پر رحمت کرے۔ ابوبکرصدیق اور عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما)کے حق میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ میں ان کے حق میں سوائے کلمہ خیر کے اور کچھ کہنے کے لئے تیار نہیں اور اپنے خاندان سے بھی ان کے حق میں سوائے خیر کے میں نے کچھ نہیں سنا۔ (صاحب ناسخ التواریخ کہتے ہیں)عبداللہ بن علاسے جو روایت کی جاتی ہے۔ امام کا یہ فرمان اس روایت کے سراسر خلاف ہے حاصل یہ ہے کہ حضرت زید بن علی نے فرمایا کہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کسی پر بھی ظلم و ستم نہیںکیا اور اللہ کی کتاب اور سنت رسول ﷺ پر کار بند ہے۔
رافضی کون ہیں
کتاب ناسخ التواریخ جلد۲۔ احوال زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ۵۹۱سطر ۱۱تا۱۷کا بھی مطالعہ فرمالیں۔ اور الولد سرلابیہ کی تصدیق فرمادیں۔
بالجملہ چوں مردماں درحق عمر وابوبکر (صدیق) (رضی اللہ عنہما) آں کلمات رااز زید بشنید ند گفتند ہمانا تو صاحب نیستی، امام ازدست برفت و مقصود ایشاں امام محمد باقر علیہ السلام بود۔آنگہ از اطرف زید متفرق شد ندزید فرمود’’رفضونا الیوم‘‘ یعنی ماراامروز گذاشتند و گزشتند و ازاں ہنگام ایں جماعت را رافضیہ گفتند رفض بتحریک وتسکین ماندن چیزے راوبجبر گذاشتن ستوراست ورفیض و مرفوض بمعنی متروک است۔ روافض گروہ ہے راگو ئند کہ رہبر خودراراند ند، وازوے باز گشتند و جماعت ازشیعاں باشند۔ درمجمع البحرین مذکور است کہ رافضہ وروافض کہ در حدیث وارداست۔ فرقہ از شیعہ ہستند کہ رفضوایعنی ترکوازید ابن علی ابن الحسین علیہم السلام راہر گا ہے کہ ایشاں رااز طعن درحق صحابہ منع فرمودوچوں مقالہ اور ابدانستند معلوم ساختند کہ از شیخین تبری نجست او رابگذاشتند وبگذ شتند وازیں پس ایں لفظ درحق کسے استعمال میشود کہ دریں مذہب غلونمایدوطعن دربار ہ صحابہ رانیز جائز بشماردo
(حاصل یہ کہ) جب ان عراقیوں نے حضرت امام زین العابدین کے صاحبزادے حضرت زید کی زبان فیض ترجمان سے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تعریف سنی تو کہنے لگے کہ یقیناً آپ ہمارے امام نہیں ہیں اور امام
(بھی آج کے دن سے) ہمارے ہاتھ سے گیا ان کا مقصود تھا۔ امام محمد باقر علیہ السلام۔ اس وقت زید کی طرف داری سے اور ان کی حاضری سے الگ ہوگئے جس پر حضرت زید نے فرمایا کہ آج سے یہ لوگ رافضی بن گئے ہیں یعنی ہمیں آج کے دن سے ان لوگوں نے چھوڑ دیا اور چلے گئے اس وقت سے اس جماعت کو رافضی کہتے ہیں۔ رَفَض اور رَفْض کا معنی ہے کسی چیز کا رہ جانا اور رِفْض کا معنی ہے سواری کو واگزار کرنا۔ اور رفیض اور مرفوض کا معنی ہے متروک ہونا۔ روافض اس گروہ کو کہتے ہیں جس نے اپنے امام اور رہبر کو چھوڑ دیا اور اس سے منہ پھیر لیا اور شیعوں کی جماعت سے ہو گیا۔ اور مجمع البحرین میں ہے کہ رافضہ اور روافض جو حدیث شریف میں آیا ہے اس سے مراد شیعوں کا فرقہ ہے کیونکہ یہ رافضی بن گئے اور انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرت زید کا انکار کر دیا اور ان کو چھوڑ دیا کیونکہ آپ نے ان کو صحابہ کرام کی شان میں طعن کرنے سے منع فرمایا تھا۔ جب ان لوگوں نے اپنے امام کا ارشاد سمجھ لیا اور معلوم کر لیا کہ وہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کے بارے میں تبرا برداشت نہیں کرتے تو ان لوگوں نے ان کو چھوڑ دیا اور نکل گئے اس کے بعد لفظ رافضی اس شخص کے حق میں استعمال ہونے لگا کہ جو اس مذہب میں غلو کرتا ہے اور صحابہ کرام کے حق میں طعن کرنا جائز سمجھتا ہے۔
بھائیو! جب حضرت امام عالی مقام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام کے حق میں طعن کرنے والوں کو اپنی مجلس سے نکال دیا اور دفعہ کیا اور فرمایا کہ نکل جائو اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کرے تو ان کے صاحبزادے اپنے والد ماجد کی سنت کو کیوں نہ اپناتے اور کیوں نہ سختی کے ساتھ اس پر عمل فرماتے الولد سر لابیہ کا یہی معنی ہے۔ یوں رفض اور تشیع کا ہم معنی ہونا، مصداقاً متحد ہونا تو اہل تشیع کی اس معتبر ترین کتاب نے پوری اور مکمل تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا جو کسی تبصرہ کا محتاج نہیں۔
رہا یہ امر کہ جس حدیث کی طرف اہل تشیع کی معتبر کتاب مجمع البحرین نے اشارہ کیا اور صاحب ناسح التوریخ نے اس کا ذکر کیا وہ کون سی حدیث ہے تو یہ وہی حدیث ہے جس حدیث کے متعلق کافی (کتاب الروضہ) ص۱۶میں حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ان لوگوں نے تو تمہارانام رافضی نہیں رکھا بلکہ تمہارا نام اللہ تعالیٰ نے رافضی رکھا ہے۔ کافی کی بعینہٖ عبارت پیش کرتا ہوں۔ (کافی شیعہ کی معتبر ترین کتاب ہے جس کے متعلق کئی دفعہ حوالے گز ر چکے ہیں)
قال قلت جعلت فداک فانا قد نبذنا نبزا انکسرت لہٗ ظھورنا وماتتہ افئدتنا واستحلت لہ الولاۃ دماء نا فی حدیث رواہ لھم فقھاء ھم قال فقال ابو عبداللہ علیہ السلام الرافضۃ؟ قال قلت نعم قال لا واللہ ما ھم سما کم بل اللہ سما کم ۱
یعنی ابوبصیر نے (جو حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاص الخاص شیعہ ہے) حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ پر قربان جائوں ہمیں ایک ایسا لقب دیا گیا ہے جس لقب کی وجہ سے ہماری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اور جس لقب کی وجہ سے ہمارے دل مردہ ہو چکے ہیں اور اس کی وجہ سے حاکموں نے ہمیں قتل کرنا مباح اور جائز قرار دیا ہے وہ لقب ایک حدیث میں ہے جس حدیث کو ان کے فقہاء نے روایت کیا ہے ابو بصیر کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رافضہ کے متعلق حدیث؟ ابوبصیر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ امام صاحب نے فرمایا کہ خدا کی قسم ان لوگوں نے تمہارا نام رافضی نہیں رکھا बल्कि اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام رافضی رکھا ہے۔
رافضیوں کو قتل کر دو
یہی رافضیوں والی حدیث احتجاج طبرسی مطبوعہ ایران میں بھی موجود ہے ۔ اگرچہ اہل تشیع کی کتاب کافی کی روایت کے بعد اہل تشیع کی خدمت میں اس حدیث کی توثیق کے متعلق مزید شہادت کی ضرورت نہیں علی الخصوص ایسی حالت میں کہ جب امام صاحب اس حدیث کی تفسیر میںا ور اس کی توثیق میں یہ فرمادیں کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام رافضی رکھا ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ مومنین کو خوش کرنے کے لئے بطور استشہاد ایک حدیث پیش کر ہی دیں:۔
عن علی قال یخرج فی آخر الزمان قوم لھم نبز یقال لھم الرفضۃ یعرفون بہٖ ینتحلون شیعتنا ولیسوا من شیعتنا وآیۃ ذٰلک انھم یشتمون ابابکر وعمر اینما ادرکتمو ھم فاقتلو ھم فانھم مشرکون ۱
’’حضرت سیدنا علی المرتضیٰ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک فرقہ نکلے گا جس کا خاص لقب ہوگا جس کو لوگ رافضی کہیں گے۔ اسی لقب کے ساتھ ان کی پہچان ہوگی۔ وہ لوگ ہمارے شیعہ ہونے کا دعویٰ کریں گے درحقیقت وہ ہماری جماعت سے نہیں ہوں گے اور ہماری جماعت سے نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ لوگ ابوبکر (صدیق) اور عمر(فاروق اعظم) (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے حق میں سب بکیں گے تو ان کو قتل کر دینا کیونکہ وہ مشرک ہوں گے۔
اس حدیث کی صحت کے متعلق صرف اس قدر گزارش کافی ہے کہ بعینہ وہی الفاظ اور وہی مضمون جو حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا اور جس کی تصدیق حضرت امام جعفر صادق نے فرمادی۔ اس حدیث میں موجود ہے۔ اس لئے اگرچہ یہ حدیث ہم کتاب کنز العمال سے پیش کر رہے ہیں اور یہ کتاب اہل تشیع کے نزدیک معتبر نہیں مگر اس حدیث کا ان کے نزدیک بھی صحیح ہونا کسی مزید دلیل کی طرف محتاج نہیں۔ جیسا کہ عرض کر یعنی ہوں۔ کنز العمال میں یہ حدیث اور اس کے ہم معنی باقی احادیث ملاحظہ فرمانا ہو تو جلد۶ صفحہ۸۱ پر دیکھیں۔
اب مسلمانوں کے کسی گروہ سے بھی امام صاحب نے جن کو شمار نہیں کیا وہ کون ہیں؟ جن کو امام عالی مقام نے اپنی مجلس سے دفع فرمایا اور ان کے ساتھ وہی سلوک فرمایا جو کفار کے ساتھ کرنا واجب ہے (واغلظ علیھم)ان کا عقیدہ اور مذہب کیا تھا؟ ان کے حق میں یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کرے کس نظریہ کے تحت ہے؟ مدعیان محبت وتولی توامام عالی مقام سید نازین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہ جھٹلائیں کے صاحبزادے امام عالی مقام سیدنا محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زید بن امام زین العابدین کا ارشاد اقدس بھی مشعل راہ بنائیں گے۔
ہاں! وہ صدیق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہیں
امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب اقد س اور آپ کا نظریہ بھی اسی کتاب (کشف الغمہ) کے صفحہ۲۲۰ میں ملاحظہ فرما ویں:۔
وعن عروۃ عن عبداللہ قال سالت ابا جعفر محمد بن علی علیھما السلام عن حلیۃ السیوف فقال لا باس بہٖ قد حلی ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ سیفہٗ قلت فتقول الصدیق؟ قال فوثب وثبۃ واستقبل القبلۃ فقال نعم الصدیق نعم الصدیق نعم الصدیق فمن لم یقل لہٗ الصدیق فلا صدق اللہ لہٗ قولا فی الدنیا ولا فی الاخرۃ۔۱۲
’’امام عالی مقام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک شیعہ صاحب نے مسئلہ دریافت کیا کہ یا حضرت تلواروں کو زیور لگاناجائز ہے یا نہیں؟ امام صاحب نے فرمایا اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ نے اپنی تلوار کو زیور لگایا ہوا تھا ۔ شیعہ صاحب نے عرض کیا کہ آپ بھی ان کو صدیق کہتے ہیں۔ اس پر امام عالی اچھل پڑے اور قبلہ شریف کی طرف رخ انور کرکے فرمایا کہ ہاں وہ صدیق ہیں۔ ہاں وہ صدیق ہیں۔ ہاں وہ صدیق ہیں جو ان کو صدیق نہیں کہتا اللہ اس کے کسی قول کو نہ دنیا میں سچا کرے نہ آخرت میں۔۱۲ (کشف الغمہ ص۲۲۰)
ہے کوئی ذی شعور؟
اب ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ امام عالی مقام کے ارشاد گرامی پر کس کا ایمان ہے اور کون ان کے ارشاد کو نہیں مانتا؟ اہل السنۃ والجماعت غریب تو امام عالی مقام کے ایک دفعہ فرمانے پر آمنا وصدقنا کا نعرہ لگاتے ہیں۔ مدعیان محبت وتولی کے انتظار میں ہیں کہ پانچ دفعہ فرمانے کے باوجود بھی ایمان لاتے ہیں یا نہیں؟
کیوں جناب امام عالی مقام کا نظریہ کیا تھا؟ اور ان کے سچے غلام اور سچے حلقہ بگوش کون ہیں؟ اب رہا یہ امر کہ جو شخص صدیق اکبر ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صدیق نہیںکہتا اس کے متعلق امام عالی مقام کی یہ بددعا کہ ’’اللہ تعالیٰ اس کے کسی قول کو دنیا وآخرت میں سچا نہ کرے‘‘۔ خطا تو جا نہیں سکتی۔ غالباً بلکہ یقیناً یہی تقیہ کی لعنت ہی ہو سکتی ہے۔ جس سے کوئی شخص ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صدیق نہ کہنے والا خالی نہیں۔ غرضیکہ تمام ائمہ معصومین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک ابوبکر صدیق ہیں۔
بہت ممکن ہے کہ مدعیان محبت اہل بیت اپنے عقیدے پر امام عالی مقام کے مذہب اور ان کے عقیدے کو قربان کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیں کہ امام صاحب نے قبلہ روہو کر عمداً جان بوجھ کر خلاف واقعہ فرمایا۔ مگر کوئی مسلمان ان علمبردار ان صدق و صفا کی شان اقدس میں اس قسم کی گستاخی کی جرأت نہیںکر سکتا۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کذب بیانی اور خلافِ واقعہ امر کا اظہار ان کی شان ارفع سے بہت دور سے بلکہ مناقض ہے۔
دوسرا نقل کفر کفر نبا شداگر کذب بیانی یا تقیہ جائز سمجھتے تو کسی مخالف کے سامنے نہ کہ اپنے شیعہ کے سامنے جو منکر خلفائے راشدین تھا۔ بلکہ اہل تشیع کے نظریہ کے تحت تو برعکس تقیہ کرتے کیونکہ ایک ہمراز ودمساز کے سامنے تقیہ کرنا سخت بے محل بات ہوتی ہے اور یہاں الٹا معاملہ تھا۔ شاید شیعہ مذہب میں قسم اٹھا کر ہمیشہ اور ہر بات میںہر جگہ جھوٹ بولنا عبادت ہو؟
صاحب کشف الغمہ
یہ بات بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کا مصنف کوئی معمولی ذاکر ماکر نہیں بلکہ اہل تشیع میں ساتویں صدی کا مجتہد اعظم گزرا ہے۔ مجتہدین ایران نے ان کی منقبت میں جو الفاظ لکھے ہیں ان میں سے چند بطور نمونہ پیش کرتا ہوں۔
شیعوں کے ایک مجتہد اعظم مجد الدین الفضل جو ۶۹۲ہجری میں مصنف سے ملے بھی ہیں ان کے حق میں لکھتے ہیں۔ ’’ملک الفضلاء غرۃ العلماء قدوۃ الادباء نادرۃ عصرہ، نسیح و حدہ المولیٰ الصاحب المعظم فی الدنیا والدین فخر الاسلام والمسلمین جامع شتات الفضائل المبر زفی حلبات السبق علی الآواخر والاوائل ابی الحسن علی بن السعید فخر الدین بن عیسیٰ ابی الفتح الاربلی امداللہ الکریم فی شریف عمرہ‘‘، اسی طرح مجتہد ایران محمد باقر بن محمد ابراہیم خونسازی اور کر بلائی محمد حسین طہرمانی وغیرہ نے ان کو مجتہدا عظم بلکہ ملک الفضلاء غرۃ العلماء کے القاب کے ساتھ لکھا ہے۔
زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ روایات جو آئمہ صادقین سے اس مصنف نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں ان کے متعلق کسی قسم کا تبصر ہ یا رائے زنی کی جرأت نہیں کی۔ اس زمانہ کے مدعیان محبت وتولے کو اپنے دعویٰ محبت و تولی پر بطور دلیل ائمہ طاہرین معصومین صادقین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مذہب کی تقلید اور ان کے فرمان کی تعمیل ضروری ہے ورنہ دعوے بلادلیل کی زندہ مثال اہل تشیع کا ایک ایک فرد ثابت ہو گا۔ جب کتاب کا مصنف مسلم شیعہ ان کا ملک الفضلاء غرۃ العلماء نادرۃ العصران کا مولی معظم ان کا فخر الاسلام والمسلمین جامع شتات الفضائل اور جانے کیا کیا ہے اور کتاب بھی ان کی مسلم حدیث کی ہے جو شروع سے آخر تک آئمہ طاہرین کی روایتیں لاتا ہے اور جہاں کہیں بھی ذرہ برابر گنجائش دیکھتا ہے، تشیع پروری ورفض نوازی سے نہیں چوکتا۔ تو ایسی کتاب کی روایت اور وہ بھی ائمہ طاہرین سے اور پھر ذرہ برابر گنجائش نہ ملنے کے باعث ذرہ برابر اپنی طرف سے کوئی تبصرہ اور کوئی جواب یا کسی قسم کی رائے زنی نہیں کرتا تو برادران وطن بھی ان احادیث کو صحیح توجیہہ سے ہٹانے کی زحمت گورانہ فرمائیں اور اس کے واضح غیر مبہم معنی سے اس کو نہ پھیریں اور بعید از قیاس احتمالات کے ساتھ اس کی تاویلیں کرنے کی بے فائدہ تکلیف نہ فرماتے ہوئے امام کے ارشاد کو بگاڑنے کی ناکام کوشش نہ کریں نہ ہی اس کے راویوں کو ناصبی یا ازراہ رفتہ کہیں۔
معصوم ائمہ پر اعتراض
علم الصدق والصفیٰ سیدنا امیر المومنین علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صریح اور واضح وغیرہ مبہم ارشاد کی شان دیکھئے اور روایت بھی تمام ترائمہ صادقین طاہرین معصومین سے ہے۔ میں انتظار میںہوں کہ محبت و تولے کے دم بھرنے والے اس فرمان پر کہاں تک ایمان لانے کے لئے تیار ہوتے ہیں؟ ایک عجیب وغریب اعتراض بھی اس روایت پر سن لیں جو شیعوں کے محقق طوسی نے یہ روایت اپنی کتاب تلخیص الشافی میں لکھ کر کیا ہے ۔ کہتا ہے کہ روایت بیشک ائمہ کرام سے ہے مگر اس کے راوی ایک ایک ہیں۔ اس لئے اس پر اعتبار نہیں کرنا۔ یعنی امام جعفر صادق صاحب اکیلے اپنے والد امام محمد باقر سے روایت کرتے ہیں اور صرف امام محمد باقر صاحب اپنے والد امام زین العابدین سے روایت فرماتے ہیں اور صرف امام زین العابدین اس روایت کو حضرت علی سے بیان فرماتے ہیںلہٰذا یہ خبر احادا اور ناقابل اعتماد الشیعہ ہے مگر غالباً یہ کہنا بھول گیا کہ صرف حضرت علی خلفائے راشدین کو امام الہدیٰ او ر شیخ اسلام اور مقتدیٰ وپیشوا کہہ رہے ہیں اور صرف وہی ان کو اپنے پیارے فرما رہے ہیں لہٰذا اس پر کیا اعتبار ؟
مگرہم شیعوں کی تسلی کیلئے چودہ آدمیوں سے بیک وقت روایت پیش کرتے ہیں جو کتاب الشافی جلد ۲ صفحہ ۴۲۸مطبوعہ نجف اشرف میں موجود ہے۔
ان علیا علیہ السلام قال فی خطبتہٖ خیر ھٰذہٖ الامۃ بعد نبیھا ابوبکر وعمر وفی بعض الاخبار انہٗ علیہ السلام خطب بذٰلک بعد ما انھی الیہ ان رجلا تناول ابابکر وعمر بالشتیمۃ فدعیٰ بہٖ وتقدم بعقوبتہٖ بعد ان شھدوا علیہ بذٰلک۔۱۲
’’یعنی حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد حضور کی تمام امت میں سے افضل ابوبکر اور عمر ہیں بعض روایتوں میں واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ حضرت شیر خدا حید ر کردار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں اطلاع پہنچی کہ ایک شخص (غالباً کسی شیعہ نے) حضرت ابوبکر (صدیق) اور حضرت عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی شان میں سے سب بکا ہے جس پر امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کو بلایا اور اس کے سب بکنے پر شہادت طلب فرمائی (یعنی باقاعدہ مقدمہ چلایا)اور شہادت گزرنے کے بعدا پنے دست حیدری کے ساتھ اس کو واصل جہنم فرمایا اور مبتلاء عقو بات گردانا۔ (شافی وتلخیص الشافی جلد۲ صفحہ۴۲۸، مطبوعہ نجف اشرف)۔
تو فتنہ باز ہے
اسی کتاب کے اسی صفحہ پر ایک اور روایت بھی ملاحظہ فرمادیں:
وروٰی جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہٖ علیھم السلام قال لما استخلف ابوبکر جاء ابوسفیان فاستاذن علٰی علی علیہ السلام قال ابسط یدک ابا یعک فواللہ لاملانھا علٰی ابی فیصل خیلا و رجلا فانزوٰی عنہ علیہ السلام وقال ویحک یا ابا سفیان ھٰذہٖ من دواھیک وقد اجتمع الناس علٰی ابی بکر ما زلت تبغی الاسلام عوجا فی الجاھلیۃ والاسلام وواللہ ماضر الاسلام ذٰلک شیئا مازلت صاحب فتنۃ۔۱۲
’’امام جعفرصادق اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں اور وہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں اور وہ اپنے والد (اما م زین العابدین) سے روایت فرماتے ہیں کہ جب (حضرت) ابوبکر (صدیق) خلیفہ بنے تو ابو سفیان نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی (اور حاضر ہوا) اور عرض کی کہ آپ ہاتھ بڑھائیں میں آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ خداکی قسم اس علاقہ کو سواروں اور پیدلوں سے بھر دوں گا۔ (اگر حضور خوف کی وجہ سے خلافت کا اعلان نہیں فرما رہے اور تقیۃً خاموش ہیں) یہ سن کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے رو گردانی فرمائی اور فرمایا کہ ابوسفیان تیرے لئے سخت افسوس ہے یہ خیالات تیری تباہ کاریوں کی دلیل ہیں حالانکہ ابوبکر (صدیق) کی خلافت پر صحابہ کا متفقہ اور اجماعی فیصلہ ہو چکا ہے تو تو ہمیشہ کفر اور اسلام کی حالت میں فتنہ اور کجروی ہی تلاش کر تا رہا ہے۔ خدا کی قسم (صدیق اکبر) ابو بکرکی خلافت کسی طرح بھی اسلام کے لئے غیر مفید نہیں ہو سکتی اور تو تو ہمیشہ فتنہ باز ہی رہے گا۔ ۱۲
لیجئے جناب! یہ حدیث بھی امام عن امام عن امام عن امام غرضیکہ اس حدیث کی سند بھی تمام ائمہ معصومین پر مشتمل ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے ساتھ دوسرا شاہد موجود نہیں۔ ورنہ شیعوں کے محقق طوسی ان پر ایمان لا چکے ہوتے کاش! شیعوں کا پیشوا اس بات پر ایمان رکھتا کہ ائمہ ہدیٰ کے ارشاد سے زیادہ اور کوئی چیز قابل یقین اور لائق اعتبار نہیں ہو سکتی۔ اور ان کے ارشاد پر یقین کرنے کئے لئے کسی دوسری شہادت کی ضرورت نہیںہوتی۔
عمربزبان علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا
ایک روایت اور بھی ملاحظہ فرماتے جائیے۔ کتاب الشافی العلم الہدیٰ جلد۲ صفحہ۴۲۸ مطبوعہ نجف اشرف۔
وروی جعفر بن محمد عن ابیہ عن جابر بن عبداللہ لما غسل عمرو کفن دخل علی علیہ السلام فقال صلی اللہ علیہ ما علٰی الارض احب الی من ان القی اللہ بصحیٰفۃ ھذا المستجٰی بین اظھر کم۔۱۲
امام جعفر صادق ، امام محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ جب (امیر المومنین) عمر شہید ہوئے اور ان کو کفن پہنایا گیا ۔ تو حضرت علی المرتضیٰ تشریف لائے اور فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ (رحمتیں وبرکتیں) ہوں تمام روئے زمین پر میرے نزدیک کوئی چیز اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ میں اللہ سے ملوں اور میرا اعمال نامہ بھی اس کفن پوش کے اعمال نامہ کی طرح ہو جو اس وقت تمہارے سامنے موجود ہے۔ ۱۲
سبحان اللہ! مولیٰ مرتضیٰ تو ان کے اعمال نامہ کے ساتھ رشک فرما رہے ہیں اور مدعیان تولی ان کو غاصب اور ظالم کہہ رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کس کی سنیں اور کس کی نہ سنیں؟ مولیٰ مشکل کشاء کو سچا مانیں یا ان مدعیان محبت وتولے کو؟ اس سے زیادہ بھی کوئی تعجب انگیز صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ کہ کتابیں بھی اہل تشیع کی نہایت معتبر اور روایات بھی شروع سے آخر ائمہ صادقین طاہرین معصومین کی اور ان کتابوں کی کتابت بھی تہران یا نجف اشرف میں مشہور غالی شیعوں کی زیر نگرانی اور پھر روایات پر اہل تشیع ایمان نہ لائیں تو کہنا پڑتا ہے کہ فبای حدیث بعدہٗ یومنون۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ سید مرتضیٰ مصنف کتاب شافی کے متعلق ملا مجلسی نے اپنی کتاب حق الیقین صفحہ۱۵۰مطبوعہ ایران میں لکھا ہے کہ ’’از اکابر علمائے امامیہ است‘‘ (یعنی شیعوں کے بہت بڑے علماء میں سے ہے) اور ابو جعفر طوسی کے متعلق بھی تمام مجتہدین شیعہ امام الطائفہ لکھتے ہیں۔ اس کی اپنی کتاب بھی اس کے غالی شیعہ ہونے کی تصدیق کرتی ہیں۔
خلفاء ثلاثہ بزبان ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم
اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب ناسخ التواریخ جلد ۵ کتاب ۲ صفحہ۱۴۳،۱۴۴ (قال ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما) ۔
فی ابی بکر (الصدیق) رحم اللہ ابابکر کان واللہ للفقرآء رحیما وللقرآن تالیا وعن المنکر ناھیا وبدینہٖ عارفا ومن اللہ خائفا وعن المنھیات زاجرا وبالمعروف آمرا وبالیل قائما وبالنھار صائما فاق اصحابہٗ ورعا وکفافا وسادھم زھدا وعفافا فغضب اللہ علٰی من ینقصہٗ ویطعن علیہo اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے ابو بکر(صدیق)پر کہ اللہ کی قسم وہ فقیروں کے لئے رحیم اور قرآن کریم کی ہمیشہ تلاوت کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، اپنے دین کے عالم، اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے،ناپسندیدہ اعمال سے ہٹانے والے، اچھی چیزوں کا حکم دینے والے، رات کو خدا سے لولگانے والے، اوردن کو روزہ رکھنے والے تھے تمام صحابہ پر پرہیز گاری اور تقویٰ میں فوقیت حاصل کر چکے تھے دنیا سے بے رغبتی اور پاکدامنی میں سب سے زیادہ تھے پس جو شخص ان کی شان میں تنقیص کرے یا ان پر طعن کرے تو ان کی شان میں تنقیص کرنے والے پر خدا کا غضب۔۱۲
شان فاروقی میں بھی ایک تصریح ملاحظہ ہو (ناسخ التواریخ جلد۵ کتاب ۲ صفحہ ۱۴۴)
رحم اللہ اباحفص کان واللہ حلیف الاسلام وماوٰی الایتام ومنتھی الاحسان محل الایمان وکھف الضعفاء ومعقل الحنفاء وقام بحق اللہ صابرا محتسبا حتٰی اوضح الدین وفتح البلاد وآمن العباد اعقب اللہ من ینقصہ اللعنۃ الٰی یوم القیامۃo
یعنی اللہ تعالیٰ رحمتیںنازل فرمائے ابا حفص عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر خد کی قسم کہ وہ اسلام کے سچے ہمددر تھے۔ یتیموں کے آسرا تھے۔ احسان کے اعلیٰ مرتبہ پر متمکن تھے۔ ایمان کا مرکز تھے۔ ضعیفوں کی جائے پناہ تھے۔ متقی اور پرہیز گاروں کے ملجاء وماویٰ تھے اللہ تعالیٰ کے حقوق کی حفاظت فرمائی۔ جس میں تکلیفوں اور مصیبتوں پر صبر کرنے والے تھے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہنے والے تھے یہاں تک کہ دین روشن کیا ۔ ملکوں کو فتح کیا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو خوف سے بچا کر امن میں رکھا۔ جو شخص بھی ان کی شان کو گھٹائے وہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق ہے۔ ۱۲
اسی طرح شان ذی النورین سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ملاحظہ فرماویں۔(ناسخ التواریخ جلد ۵ کتاب۲ صفحہ ۱۴۴)
رحم اللہ عثمان کان واللہ اکرم الھفدۃ وافضل البررۃ ھجادا بالاسحار کثیر الدموع عند ذکر النار نھاضا عند کل مکرمۃ سباقا الٰی کل منجیۃ جیبا وفیا صاحب جیش العسرۃ وحموا لرسول اللہﷺ فاعقب اللہ من یلعنہٗ لعنۃ اللاعنینo اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں عثمان(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) پر اللہ کی قسم وہ رسول اللہ ﷺ کے شریف ترین داماد تھے ۔ اور مقدس لوگوں سے افضل تھے۔ بہت تہجد پڑھنے(نماز) والے تھے۔ نار جہنم کی یاد کرتے وقت بہت رونے والے تھے۔ ہر بہترین کام میں، ہر نجات دینے والے پہلو کی طرف سب سے زیادہ سبقت کرنے والے تھے۔ غزوہ تبوک میں اسلامی لشکر کی اعانت کرنے والوں کے سردار تھے اور رسول اللہ کے قریبی رشتہ دار تھے جو ان کی شان میں سبأ کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور ان لوگوں کی لعنت ہے جو لعنت کرنے والے ہیں۔
ذرا غور فرمائیں
محترم بھائیو!میں خدا کو حاضر و ناظر یقین کرتے ہوئے مذہبی تعصب کو درکنار رکھ کر محض حق پسندی اور انصاف سے عرض کرتا ہوں کہ ائمہ طاہرین کی اس قدر واضح اور غیر مبہم تصریحات سے انکار کرنا اور ان کی بعید از قیاس تاویلیں کرنا ان کے اصل مفہوم اور معنی سے انحراف کرکے عقل اور صحیح نظر و فکر کے خلاف توجیہیں کرنا صرف اس شخص سے ممکن ہے جو دل سے ان کے ساتھ ایک رائی کے برابر بھی الفت نہیں رکھتا اور اس کے دل میں ان مقربین بارگاہ صمدی کی ذرہ بھر وقعت نہیں۔ صرف زبانی دعویٰ یا محرم کے چند دنوں میں ہنگامہ آرائی ہدٰی کے واضح تراحکامات اور ان کے حلفیہ بیانات اور قسمیہ تصریحات کو خلاف واقعہ اور جھوٹ یقین کرنے والا محب اور مومن نہیںہو سکتا۔
کافی کتاب الروضہ مطبوعہ لکھنو صفحہ۹۹بھی مطالعہ فرماتے جائیے ۔
ینادی مناد فی اول النھار الا ان فلاں بن فلان شیعتھم ھم الفائزون وینادی اٰخر النھار الا ان عثمان وشیعتھم ھم الفائزونo
یعنی صبح کو ندا دینے والا ندا دیتا ہے کہ ہوش سے خبردار ہو کر سنو کہ فلاں ابن فلاں اور ان کا گروہ وہی ہیں۔ جو فائز المرام ہیں اور شام کو ایک ندا دینے والا یہ ندا دیتا ہے۔ ہوش سے خبردار ہو کر سنو کہ عثمان اور ان کا گردہ وہی ہیں جو فائز المرام ہیں۔
’’فلاں‘‘سے کون مراد ہیں؟ تو اہل تشیع کی عادت ہے کہ امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام نامی اگر ناچار لکھنا پڑ جائے تو ’’فلاں‘‘ لکھ کر سبکدوش ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے سائے سے بھی اس طرح بھاگتے ہیں کہ دوسرا راستہ اختیار کرتے ہوئے فلاں کہہ دیتے ہیں ۔ اہل تشیع نے اپنی کتابوں میں کئی جگہ یہ طرز اختیار کیا ہے۔ مثلاً کتاب نہج البلاغۃ مطبوعہ ایران۔
جزی اللہ فلانا فلقد قوم الاعو جاج و دوٰی الجھل اقام السنۃ وخلف الفتنۃ وذھب نقی الثوب قلیل العیب اصاب خیرھا وسبق شرھا ادی الی اللہ سبحانہٗ طاعتہٗ وتقوٰہہٗ بحقۃ رجل وترکھم فی طرق متشعبۃ لایھتدی فیھا الضال ولا یستیقن المھتدیٰ۔۱۲
یعنی اللہ تعالیٰ ہی جزائے خیر عطافرمائے’’فلانے‘‘ کو جس نے کجروی کو قطعی طور پر درست کیا اور جہالت کی مرض کی دوا کی جس نے سنت کو قائم کیا اور فتنہ کو پیچھے دھکیلا۔ دنیا سے پاکدامن اور بے عیب ہو کر گیا۔ بھلائی اور خیر کو حاصل کیا اور فتنہ شر سے پہلے چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی عبادت کما حقہ، ادا کی۔ وہ رخصت ہو گیا اور لوگوں کو اس طرح پریشان حالت میں چھوڑ گیا کہ گمراہ ہدایت نہیں پا سکتا اور ہدایت یافتہ یقین نہیں کر سکتا۔
حضرت امام الائمہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس خطبے کی شرح میں صاحب بہجتہ الحدائق اور ابن ابی الحدید اور منہاج البراعتہ اور لاھجی اورر ابن میثم تصریح کرتے ہیں کہ ’’فلاں‘‘ سے مراد عمر ہیں البتہ ابن میثم ابوبکر (الصدیق) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بھی کہتے ہیں۔الدرۃ النجفیہ میںہے کہ ابو بکر صدیق مراد ہیں۔
شہید کربلا کی بے خبری؟
نہج البلاغۃ کی یہ شروح متعصب اور غالی اہل تشیع نے کی ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ صاحب بہجتہ الحدائق اس خطبے کی شرح میں آخر میں کہتے ہیں شیر خدا نے بطور ’’تقیہ‘‘ امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس قدر تعریف فرمائی ہے۔ بہرحال ہم نے مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ کی کلام پاک اور ان کا ارشاد گرامی پیش کرنا ہے۔ ان کے مافی الضمیر المنیر کے متعلق خدا جانے اور وہ جانیں شاید امام عالی مقام علیم الصدق والصفا شہید کربلا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تقیہ کرنے کا مسئلہ معلوم نہ ہوگا ورنہ جب گھر میں تقیہ ضروری امر تھا تو غربت و سفر میں علی الخصوص عترت معصومین کے ساتھ تو ضرور وہ بھی تقیہ کرتے اور خانوادئہ نبوت کو شہید نہ کراتے اور بامن دامان مدینہ طیبہ تشریف لے جاتے۔ اہل تشیع کو یہ لدنی اور صدری علوم زندہ جاوید ہستیوں کا ماتم منانے اور مقتد ایانِ امت کے حق میں سب وشتم بکنے سے حاصل ہوگئے۔
نصیب اپنا اپنا
بھائی یہ تو اپنی اپنی قسمت کی بات ہے ۔ اگر باب مدینۃ العلم کا نظریہ ، ان کا مذہب، ان کا عقیدہ ، ان کی رازداری کا شرف اور ان کے باطنی علوم نہ معلوم ہوسکے تو مظلوم کربلا کو اور ان کے افکار واسرارمافی الضمیر کا علم حاصل ہو گیا تو شیعہ کو مگر:
سرد ادند اددست دردست یزید حقا کہ بنائے لاالہٰ است حسین
تقیہ نہ کرنے والے پر جو بے پنا ہ فتوے اوران کی تکفیر اہل تشیع کی ام الکتب یعنی کافی کلینی میں موجود ہیں کہ اس کا مستقل باب باندھا ہے جس کو دیکھ کر الامان والحفیظ بے ساختہ منہ سے نکل جاتا ہے اور اہل تشیع کے صدق وصفا اور ان کی صاف باطنی کی داد دینی ضروری ہو جاتی ہے جس کا نمونہ عرض کر چکا ہوں۔
حضرت امام حسین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے فرزند، ان کے شاگرد، ان کے خلیفہ، ان کے فیض یافتہ اور یہ شیعہ حضرات ان تمام نعمتوں سے محروم تو پھر یہ نعمت عظمیٰ ان کو نصیب ہو گئی کہ باطنی علوم سے صرف اور صرف یہی فیض حاصل کر سکے اور امام (معاذ اللہ)محروم رہ گئے تلک اذا قسمۃ ضیز ٰی۔
بہر حال ہم ظاہربینوں کی مدعیان محبت وتولی کی انتہائی معتبر کتابوں میں ائمہ طاہرین معصومین صادقین کی سند سے جو روایات پہنچی ہیں۔ ہم تو انہی پر اکتفا کرتے ہوئے گزارش کرنے کے اہل ہیں اور امام عالی مقام شہید کربلا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ظاہری طرز عمل اور ان کی ظاہری تعلیم کو اہل بیت کرام کے صدق وصفا کا علم سمجھتے ہیں اور اسی پر قناعت کر سکتے ہیں۔ میدان کربلا کا ذرہ ذرہ ہمیں جس صاف باطنی اور غیر خدا کے خوف سے بے دھڑک ہو کر صدق بیانی کی طرف بلاتا رے گا۔ ہم تو بھائی اسی کو شیر خدا کا نظریہ یقین کرتے رہیں گے اور جب تک روضہ اطہر کو میدان کربلا میں دیکھتے رہیں گے ہماری آنکھیں تو کسی دوسرے صدری علم کو دیکھ نہیں سکتیں۔ اپنی اپنی استعداد ہے۔
شیر خدا بیعت کرتے ہیں
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشادات اور وہ بھی ائمہ معصومین کی سند کے ساتھ۔ آپ ان کا نمونہ تو دیکھ ہی چکے ۔ اب ہم آپ کو شیر خدا کا طرز عمل بھی پیش کرتے ہیں۔ ناسخ التواریخ جلد۲۔ صفحہ۴۳ مطبوعہ ایران۔
’’پس ازہفتاد شب باابوبکر بیعت کو دو برایتے پس از شش ماہ باابوبکر بیعت کرو‘‘
یعنی ستردنوں کے بعد حضرت علی المرتضیٰ نے حضرت ابوبکر کے ساتھ بیعت کی (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) اور ایک روایت میں ہے کہ چھ ماہ کے بعد بیعت کی۔
ہاں جی ضرور کی، اگرچھ سال کے بعد ہی بیعت کرتے تو بھی اس کو بیعت کرنا ہی کہا جاتا۔ اب اس تاخیر کے اسباب تو اس واقعہ کو تیرہ سو سڑسٹھ سال ہو گئے ہیں۔ جو راوی دو ماہ دس دن سے کھینچ تان کر چھ ماہ تک لے جا سکتے ہیں۔ وہ ایک آدھ دن سے دو ماہ تک بھی لے جاسکتے ہیں۔ دوسرا چھ ماہ کے عرصہ تک جس نے کربلا کا سامان مہیا نہیں فرمایا اور آخر پورے غور وخوض کے بعد بیعت ہی کو اختیار فرمایا۔ انہی کی رائے عالی صائب تھی۔
الٹی منطق
تیسرا کتاب شافی لعلم الہدیٰ جو غالی ترین شیعہ کی تصنیف ہے اور کتاب تلخیص جو شیعوں کے محقق طوسی کی تصنیف ہے جن کا حوالہ گزر چکا ہے ان میں صاف صاف روایت امام جعفر صادق، امام محمد باقر سے اور وہ امام زین العابدین سے فرماتے ہیں کہ جب ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے تو ابو سفیان نے ان کی خلافت کو ناپسند کرکے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ مقرر کرنے کی انتہائی کوشش کی۔ جس پر شیر خدا نے ان کو وہ ڈانٹ دی کہ تا قیامت عبرت رہے گی۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کو سراہا۔ اور اس کو برحق تسلیم فرمایا۔ اس واقعہ سے تقیہ یا جبراً بیعت کا سوال ہی اٹھ جاتا ہے۔ جب اس قدر فوج مہیا تھی تو پھر خوف کا ہے کا تھا؟ نیز جبراً بیعت کا فائدہ ہی کیا تھا۔ جب جبراً ووٹ کی پرچی بھی حاصل نہیں کی جاسکتی تو وعدئہ اطاعت وو فاجبراً حاصل کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ اور پھر تقیہ اور جبراً بیعت کرنا بھی انوکھی منطق کا قضیہ ہے۔
بھائی تقیہ کا تو معنی ہی یہی ہے کہ ظاہر میں طر فد ار اور دل سے بیزار ۔ تو پھر مجبور ہونا اور نقل کفر کفر نبا شد، گھسیٹنے کی نوبت آنا اور (معاذ اللہ) گلے میں رساڈلواکر گھسیٹنے کی حالت میں مسجد میں جانا بھی عجیب رضا مندی اور طرف داری کا اظہار ہے۔ دراصل اہل تشیع بیعت نہ کرنے اور ناخوشنودی کے جتنے احتمالات ہو سکتے ہیں بیک وقت پیش کرکے محبوب خداﷺ کے صحابہ میںباہمی اختلافات ثابت کرتے وقت عقل سے بھی تقیہ کر جاتے ہیں اور یہی ایک تقیہ تمامتر شیعہ مذہب کے درد کی دوا ہے شیعوں کی کتاب کافی میں کئی جگہ شیر خدا کا خلفائے راشدین سابقین کے ساتھ بیعت کرنے کا ذکر ہے۔ مگر اکثر مقامات پر یہی لکھا ہوا ہے کہ مجبور ہو کر اور (معاذ اللہ العظیم) گلے میں رساڈلوا کر کشاں کشاں وعدئہ اطاعت کیلئے بیعت کرنے کی خاطر شیر خدا تشریف لے گئے اور شیر خدا نے تقیہ کیا ہوا تھا۔ یعنی ظاہر میں ان کے ساتھ تھے اور اندرنی طور پر بیعت کرنا نہیں چاہتے اہل تشیع کے فضلا سے کوئی پوچھے کہ ظاہراً طرفداری اور جبر واکراہ کی باہمی آمیزش وامتزاج تو سمجھائو کہیں آپ اجتماع نقیضین کی مثال تو نہیں دے رہے؟ یا مانعۃ الجمع کو محقق الوجود تو نہیں بتا رہے ؟ اس جبر واکراہ اور تقیہ کی باہمی امتزاج اور آمیزش کی شان دیکھنی ہو تو ناسخ التواریخ جلد ۲ صفحہ۲۶، ۴۴۹ اور کتاب حملہ حیدری مصنفہ علامہ باذل کا مطالعہ فرماویں۔ کافی کتاب الروضہ مطبوعہ لکھنؤ صفحہ۱۳۹ کی عبارت بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔
عن ابی جعفر علیہ السلام قال ان الناس لما صنعوا اذ بایعوا ابابکر لم یمنع امیر المومنین علیہ السلام ان یدعو الٰی نفسہٖ الا نظر ا للناس وتخوفا علیھم ان یرتدوا عن الاسلام فیعبدوا اوثانا ولا یشھدو ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ وکان الاحب الیہ ان یقرھم علٰی ماصنعوا من ان یرتدوا عن جمیع الاسلام وانما ھلک الذین رکبوا فاما من لم یصنع ذٰلک ودخل فیما دخل فیہ الناس علٰی غیر علم ولا عدواۃ الامیر المومنین علیہ السلام فان ذٰلک لایکفرہٗ ولا یجحد من الاسلام فلذٰلک کتم علی علیہ الالسلام امرہٗ وبایع مکرھا حیث لم یجد اعوانا۔۱۲
یعنی حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیعت کرنا شروع کیا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھ بیعت کرنے کیلئے لوگوں کو اس خوف سے نہ بلایا کہ لوگ مرتد ہو جائیں گے اور بت پرستی شروع کر دیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی شہادت دینا چھوڑ دیں گے اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لوگوں کے مرتد ہو جانے سے زیادہ پسندیہ بات تھی کہ صدیق اکبر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی بیعت کرنے پر لوگوں کو برقرار رکھیں۔ کیونکہ صدیق اکبر کے ساتھ بیعت نہ تو لوگوں کو کافر بناتی تھی اور نہ ہی اسلام سے خارج کرتی تھی اس لئے حضرت علی علیہ السلام نے اپنے امر کو چھپایا اور مجبور ہو کر بیعت کی۔
سوچیں ذرا
سب سے بڑی بات تو شان حیدری کا لحاظ رکھنا ہے کہ وہ شیر خدا کسی خوف یا ڈر کی بنا پر بیعت کرنے والے تھے یا نہ؟ دوسرا امام حسین کا اسی بیعت کے سوال میں سردے دینا اور بیعت کیلئے ہاتھ نہ دینا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ان باپ بیٹے کے نظریات میںخلاف وتضاد تصور نہیں کیا جاسکتا۔ تیسرا شان حیدری کے برعکس اگر تقیہ ومجبوراً بیعت کا انعقاد فرض بھی کر لیا جاوے تو حسب ارشاد مر تضوی (نہج البلاغۃ خطبہ نمبراوناسخ التواریخ جلد۳ حصہ ۲ صفحہ ۳۲، ۴۸ پر جو آگے مذکور ہوگا) کہ زبیریہ خیال کرتا ہے کہ اس نے صرف ہاتھ سے بیعت کی ہے اور دل سے نہیں کی تو بیعت کرنے کا اس نے یقیناً اقرار کیا اور بیعت کرنے والے زمرہ میں داخل ہو گیا الخ۔ چوتھا حضرت زبیر نے جو بیعت کی تھی جس کو حضرت علی صحیح بیعت قرار دے رہے ہیں وہ بھی حسب تصریح ناسخ التواریخ جلد۳، حصہ نمبر۲ صفحہ۷انتہائی جبر واکر اہ کی بنا پر تھی اصل عبارت ناسخ التواریخ۔
از پس اواشترروئے باز بیر کر دفقال قم یا زبیر واللہ لا ینازع احد الاوضربت قرطہ بھذا السیف، گفت اے زبیر بر خیز وبیعت کن۔ سو گند باخدائے ہیچچکس ازمناز عت بیروں نشودالا آنکہ سرش برگیرم پس زبیر بر خواست وبیعت کرد۔ الخ
یعنی حضرت علی کے خادم خاص اشتر نے حضرت زبیر کی طرف منہ کر کے کہا کہ اٹھ اور بیعت کر خدا کی قسم جو شخص بھی بیعت کرنے سے انکار کرے گا تو میں اس کا سر قلم کرکے رکھ دونگا۔ پس زبیرا ٹھے اور حضرت علی سے بیعت کی۔
اب اس جبر واکراہ کے ساتھ بھی بیعت صحیح بیعت کی طرح ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خلفائے راشدین کے ہاتھ پر بیعت کرنا اسی طرح صحیح بیعت ہی تسلیم کر لیا جائے تو کیا مضائقہ ہے۔
اہل بصیرت کے سامنے اس پر تبصرہ تحصیل حاصل ہو گا لیکن سوال یہ ہے کہ حضرت علی کے ساتھ بیعت کرنے سے لوگ (معاذ اللہ)مرتدہو جاتے ہیں اور صدیق اکبر کے ساتھ بیعت کرنے سے نہ اسلام سے خارج تھے اور نہ کافر بنتے تھے یہ کیوں؟
پھر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب یہ جانتے تھے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت سے اگر لوگوں کو ہٹایا جائے تو مرتد ہو جائیں گے تو پھر حسب روایات ناسخ التواریخ وحملہ حیدری وغیرہ چھ ماہ تک یا (بروایت)دو ماہ تک توقف کیوں فرمایا؟ اور جب ارتداد جیسے فتنے کو روکنا تھا۔ تو (نقل کفر کفر نبا شد) ریسماں اندازی(رسہ ڈالنا) اور کشاکشی کی تہمت کیوں لگائی گئی؟ اور جب (حسب روایت ناسخ التواریخ وشافی وغیرہ) ابوسفیان اور ان کے ساتھی ایک بے پناہ لشکر لے کر امداد کے لئے حاضر ہوئے تو مجبوری کا کیا معنی اور بے یارومددگار ہونے کا کیا مطلب؟
مسلمان بھائیو! شیر خدا کی شان ہی جب ان مدعیان تولی کو معلوم نہیں تو اس قسم کی بے سروپار روایات نہ گھڑتے تو کیا کرتے ۔ شاید امام عالی مقام شہید کربلا سے زیادہ شیر خدا بیعت پر مجبور تھے۔(نعوذ باللہ ان نکون من الجاھلین) یا یہ کہ میدان کر بلا میں خانوادئہ نبوت کی شہادت اور گلستان نبوت اور چمنستان رسالت کا (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) نذر خزاں ہونا مجاہد کربلا کی بیعت کر لینے سے روکا نہیں جا سکتا تھا اور معاندین اور شہید کنندگان سید شباب اہل الجنۃ اور حضور کے سارے خاندان عالی شان کو شہید کرنے والوں نے مرتد اور اسلام سے خارج نہیںہونا تھا جن کو کفر اور ارتدادسے روکنا امام عالی مقام شہید کربلا کا اولین فریضہ تھا اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سنت اقدس پر عمل کرنا اپنی جگہ پر ضروری تھا اور ہم خرما ہم ثواب فی حد ذاۃ ایک مصلحت موجود تھی۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام خطوط
اہل تشیع کے علامہ متبحر ابن مثیم شرح نہج البلاغۃ میں حضرت سیدنا امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں جو بصورت کتاب حضرت معاویہ کی طرف ارسال فرمایا اور جس کو جامع نہج البلاغۃ نے بمتقضائے صداقت ودیانت قطع و برید اور تحریف سے خالی نہیں چھوڑا۔ ابن مثیم وہ تمام ارشاد نقل مطابق اصل کرتے ہیں۔ جن کو جامع نہج البلاغۃ (رضی ) نے قطع وبرید کر دیا اور بعض کتاب سے ایمان اور بعض کے ساتھ کفر کی یاد تازہ کی۔
وذکرت ان اجتبٰی لہ من المسلمین اعوانا ایدھم بہٖ فکانوا فی منازلھم عندہٗ علٰی قدر فضائلھم فی الاسلام وکان افضلھم فی الاسلام کما زعمت وانصحھم للہ ولرسولہٖ الخلیفۃ الصدیق وخلیفۃ الخلیفۃ الفاروق ولعمری ان مکانھما فی الاسلام لعظیم وان المصائب بھما لجرح فی السلام شدید یرحمھما اللہ وجزاھم اللہ باحسن ماعملاo
یعنی اے معاویہ تم یہ بیان کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معاون ومدگار مسلمانوں سے منتخب فرمائے اور ان کو حضور کے ساتھ تائید بخشی تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنے مرتبوں میں وہی قدر رکھتے ہیں۔ جس قدر کہ اسلام میں ان کے فضائل ہیں۔ اور ان سب سے اسلام میں افضل اور سب سے اللہ اور اس کے رسول (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا سچا خیر خواہ خلیفہ فاروق(عمر)ہیں۔ جیسا کہ تو خود توتسلیم کرتا ہے اور مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے کہ ان دونوں (خلیفوں) کا رتبہ اسلام میں بہت بڑا ہے اور ان دونوں کی وفات اسلام کے لئے ایک شدید زخم ہے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں پر رحمت فرمائے اور ان کو اچھے اعمال کی جزا بخشے۔ (ابن مثیم شرح نہج البلاغۃ مطبوعہ ایران صفحہ۴۸۸،سطر۵)
حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک اور ارشاد گرامی جو اپنے زمانہ خلافت میں آپ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف مکتوب گرامی میں تصریح فرماتے ہیں۔
انہٗ بایعنی القوم الذین بایعوا ابابکروعمر وعثمان علٰی ما بایعوھم علیہ فلم یکن للشاھد ان یختار ولا للغائب ان یرد وانما الشورٰی للمھاجرین والانصار فان اجتمعوا علٰی رجل وسموہ اماما کان ذٰلک للہ رضی فان خرج من امرھم خارج بطعن او بدعۃ ردوہ الٰی ماخرج منہ فان ابٰی قاتلوہٗ علٰی اتباعہٖ غیر سبیل المومنین وولاہٗ ماتولی الخ(نہج البلاغۃ کتاب)۔
یعنی میرے ساتھ انہی لوگوں نے بیعت کی ہے جن لوگوں نے ابوبکر (صدیق) اور عمر(فاروق)اور (سیدنا)عثمان کے ساتھ بیعت کی تھی۔ پس کسی حاضر کو یہ حق نہیں کہ میرے بغیر کسی دوسرے شخص کو خلیفہ بنائے اور نہ ہی کسی غائب کو یہ حق پہنچتا ہے کہ (ایسی خلافت) رد کرے اور مشورہ دینے کا حق بھی صرف مہاجرین اور انصار ہی کو ہے پس جس آدمی پر ان کا اتفاق اور اجماع ہو جائے اور اس کو امام وامیر کے نام سے موسوم کر لیں تو انہی کا اجماع اور امیر بنانا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا سے ہوتا ہے پس جو شخص بھی ان کے اجماعی فیصلہ پر طعن کرتے ہوئے یا کوئی نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے اس سے الگ ہونا چاہیے تو اس کو اسی اجماعی فیصلے کی طرف لوٹانے کی کوشش کرو۔ اور اگر واپس آنے سے انکار کرے تو اس کے خلاف اس بنا پر جنگ کرو۔ کہ اس نے مسلمانوں کے راستہ کے بغیر کوئی دوسرا راستہ اختیار کر لیا ہے اور جس طرف اس کا منہ پھرا ہے اسی طرف اللہ نے اس کو جانے دیا ہے۔ (یعنی یہ نہ سمجھو کہ وہ کسی صحیح نظریہ کے تحت مسلمانوں سے الگ ہوا ہے)۔
اور ناسخ التواریخ جلد۳ حصہ۲ کی عبارت بھی ملاحظہ کریں:۔
خطبہ امیر المومنین علیہ السلام انکم بایعتمونی علٰی ما بویع علیہ من کان قبلٰی وانما الخیار للناس قبل ان یبایعوا فاذا بایعوا فلاخیار لھم الخ۔
یعنی تم لوگوں نے میرے ہاتھ پر اسی بنا پر بیعت کی ہے جس بنا پر مجھ سے پہلے خلفاء کے ساتھ بیعت کی گئی تھی۔ اور جزایں نیست کہ (یقیناً) لوگوں کو کوئی خلیفہ منتخب کرنے کا اختیار بیعت کرنے سے پہلے ہوتا ہے۔ پس جب وہ بیعت کر چکے تو پھر ان کو کوئی اختیار باقی نہیں کہ وہ کوئی دوسرا راہ اختیارکریں۔
ان ارشادات گرامی پر کسی قسم کا تبصرہ اور اس کی تفسیر لکھنے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ خلافت کا انعقاد اور خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی احقیت خلافت اور مدلل طور پر اس کا ثبوت اور مہاجرین وانصار کے متفقہ فیصلے سے خلفائے راشدین کی خلافت کا ثابت ہونا۔ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنی خلافت کی احقیت پر خلفائے سابقین کی احقیت خلافت کو بطور دلیل پیش کرنا اور مہاجرین وانصار جس شخص کو امام و امیر بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضاء کے مطابق اس کا امام اور امیر ہونا اور حضرت علی المرتضیٰ کا یہ حکم دینا کہ جو ایسے امیر کی خلافت سے انکار کرے وہ واجب القتل ہے۔ یہ سب تصریحات اظہر من الشمس ہیں۔ا ب ان تصریحات اور واضح اشارات کو غلط اور غیر ناشی عن دلیل احتمال اور نامعقول توجہیوں کے ساتھ بگاڑنے کی کوشش نہ فرمائی جائے ورنہ حسب تصریح صاحب کشف الغمہ حق سے روگردانی ہی ہوگی۔ اور آفتاب کو مکڑی کے جالے سے روپوش کرنے کی مثال زندہ ہوگی۔
اخلاق کا نادر نمونہ
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نظریہ اور عقیدہ جو خلفائے راشدین کے متعلق تھا۔ بہت کچھ واضح ہو چکا ہے۔ تاہم حضور کے ایک اور ارشاد کا بھی مطالعہ فرمالیں۔ نہج البلاغۃ خطبہ امیر علیہ السلام نمبر۱۲۸
وقد شاورہٗ عمر بن الخطاب فی الخروج علٰی غزوۃ الروم بنفسہٖ (فقال) وقد توکل اللہ لاھل ھٰذا الذین باعزاز الحوزۃ وستر الغوزۃ والذی نصر ھم وھم قلیل لا ینتصرون ومنحھم وھم قلیل لا یمتنعون حی لا یموت انک متٰی تسرا لٰی ھٰذا العدو بنفسک وتلقاھم بشخصک فتنکب لاتکن للمسلمین کانفۃ دون اقصٰی بلادھم لیس بعدک مرجع یرجعون الیہ فابعث الیھم رجلا مجربا واحفز معہٗ اھل البلاء والنصیحۃ فان اظھر اللہ فذٰلک ماتحب وان تکن الاخرٰی کنت ردء للناس مثابۃ للمسلمینo
یعنی امیر المومنین عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )نے حضرت امیر المومنین علی (کرم اللہ تعالیٰ وجہہ) سے روم کے خلاف جہاد میں خود شریک ہونے کے متعلق مشورہ طلب فرمایا۔حضرت علی المرتضیٰ جواباً فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غلبہ دینے اور ان کی عزت کی حفاظت فرمانے کا کفیل اور ذمہ دارہے۔ وہ ذات (جل جلالہ) جس نے مسلمانوں کو ایسی حالت میں فتح ونصرت عطا فرمائی ہے کہ مسلمان تعداد میں کم تھے (اور کمی کی وجہ سے ) فتح حاصل نہیں کر سکتے تھے اور ان کے دشمنوں کو ایسی حالت میں ان سے رد فرمایا کہ یہ تھوڑے تھے اور خود رد نہیں کر سکتے تھے۔ وہ ذات زندہ ہے فوت نہیں ہوگئی۔ آپ اگر بذات خود دشمن کی طرف جائیں اور بذات خود اس کے خلاف جنگ میں شرکت کریں اور ایسی حالت میں آپ شہید ہو جائیں تو پھر روئے زمین پر مسلمانوں کا کوئی آسرا اور ان کی کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔ آپ کے بعد ان کا کوئی ملجا وماویٰ باقی نہ رہے گا۔ جس کی طرف مسلمان رجوع کر سکیں اور اس کے ساتھ پناہ لیں۔ آپ ایسا کریں کہ کوئی تجربہ کار آدمی دشمن کی طرف روانہ فرمائیں اور اس کے ساتھ جنگ آز مودہ لشکر بھیجیں۔ پس اگر اللہ نے فتح نصیب فرمادی تو آپ کا عین منشا یہی ہے اور اگر (خدانخواستہ) کوئی دوسری بات ہو گئی تو آپ کی ذات تو مسلمانوں کے ملجا و ماویٰ اور ان کے لئے آسرا اور جائے پنا ہ موجود ہوگی۔
ہے کوئی اہل تشیع کے مذہب میں نہج البلاغۃ سے زیادہ معتبر کتاب؟ جس کی تصریحات پر اہل تشیع کا اطمینان ہو سکے۔ بردران وطن اچھی طرح حضرت مولیٰ علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشادات کا مطالعہ فرمالیں اور اس کے بعد اگر یہی ثابت ہو کہ جن ہستیوں کی خیر مولیٰ مرتضیٰ منار ہے ہیں۔ جن کو مسلمانوںکا ملجاوماویٰ قرار دے رہے ہیں جن کو مسلمانوں کا آسرا اور جائے پناہ بیان فرما رہے ہیں۔ جن کے بعد مسلمان بے آسرا و بے یارومددگار یقین فرما رہیں ۔ توان کی خلافت راشدہ سے پھر انکار کیوں؟ ان کی شان اقدس میں سب و شتم کا کیا معنی ؟ہاں اگر یہود ونصاریٰ ان کی شان اقدس میں سب س شتم کریں تو وہ دشمنان اسلام ہیں۔ ان کی سلطنتوں کو دولتِ فاروقی نے تباہ و برباد کیا۔ ان کے گرجوں کو مسجدوں کی شکل بخشی۔ ان کے آتش کدوں کو ٹھنڈا کیا۔ ان کی تمام ہیبت ودبدبے کو اسلام کی چوکھٹ کے سامنے سرنگوں فرمایا تو ان کا حق ہے مسلمان زادوں کو یہ حق کہاں سے پہنچتا ہے کہ شیر خدا کے نظریہ کے برعکس تاریخ عالم کے برخلاف صرف چند روزہ آزادی اور عشرت سے مست ہو کر اپنے بزرگوں اور پیشوائوں کا مذہب چھوڑ کر مقتد ایان اسلام کے حق میں سب و شتم شروع کر دیں۔
ایک اور مثال
اہل عقل ودانش کے لئے اسی کتاب میں سے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک اور ارشاد بھی مطالعہ کے لئے پیش کرتا ہوں ۔ نہج البلاغۃ خطبہ ۱۴۶
وقد استشارہٗ عمر بن الخطاب فی الشخوص لقتال الفرس بنفسہٖ (قال) ان ھٰذا الامرلم یکن نصرہٗ ولا خذ لانہٗ بکثرۃ ولا بقلۃ وھو دین اللہ الذی اظھرہٗ وجندہ الذی اعدہٗ وامدہٗ حتٰی بلغ مابلغ وطلع حیث ماطلع ونحن علیٰ موعود من اﷲ سبحان اﷲ منجز وعدہ وناصر جندہٗ ومکان القیم بالامر مکان النظام من الخرز یجمعہٗ ویضمہٗ فان انقطع النظام تفرق وذھب ثم لم یجتمع بحذا فیرہٖ ابدا والعرب الیوم وان کانوا قلیلا فانھم کثیرون بالاسلام عزیزون بالاجتماع فکن قطبا واستدر الرحٰی بالعرب واصلھم دونک نار الحرب فانک ان شخصت من ھٰذا الارض انقطبت علیک العرب من اطرافھا واقطارھا حتٰی یکون ماتدع و رائک من العورات اھم الیک مما بین یدیک ان الاعاجم ان ینظروا الیلک غدا یقولوا ھذا اصل العرب فاذا اقتطعتم استرحتم فیکون ذٰلک اشد لکلبھم علیک وطمعھم فیک۔الخ
یعنی جب امیر المومنین عمر نے امیر المومنین علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے فارس کے خلاف کے جنگ میں بذات خود شریک ہونے کا مشورہ طلب فرمایا تو حضرت علی المرتضیٰ نے مشورہ دیا کہ مسلمانوں کی فتح و شکست کثرت و قلت افراد کی وجہ سے کبھی نہیں ہوئی۔ یہ اللہ کا دین ہے اس کو اللہ ہی نے غالب کیا ہے اور تیار فرمایا ہے اور اس کو امداددی ہے۔ یہاں تک کہ جہاں اس دین نے پہنچنا تھا پہنچا اور جہاں تک اس نے چمکنا تھا چمکا اور ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ہیں اور اس پر مقرر ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ شانہ اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا ہے اور اپنے لشکر کو فتح دینے والا ہے اور مسلمانوں کے امیر کا مرتبہ ایسا ہے جیسے تسبیح کا رشتہ ہوتا ہے جو اس کے دانوں کو اکٹھا اور اپنے اپنے مرتبے میں رکھتا ہے پس اگر وہ رشتہ ٹوٹ جائے تو پھر تمام دانے بکھر جاتے ہیں پھر وہ اکٹھے نہیںہو سکتے اور اہل اسلام اگرچہ بہ نسبت دشمن کے کم ہیں مگر دولتِ اسلام کی وجہ سے زیادہ ہیں اور اپنے اجتماع کی وجہ سے غالب ہیں۔ آپ قطب بن کر ایک ہی جگہ رہیں اور لشکر اسلام کی چکی کو گھمائیں اور جنگ کی آگ کو اپنے ملک سے دور رکھ کر دشمن تک پہنچائیں۔ اگر آپ بذات خود اس ملک عرب سے چلے گئے تو قبائل عرب (جو دبے ہوئے ہیں) ہر طر ف سے ٹوٹ پڑیں گے۔ پھر مسلمانوں کی عزت و ناموس کی حفاظت آپ کو فارس کے خلاف جہاد کرنے سے زیادہ اہم محسوس ہوگی(اور) عجمی لو گ جب آپ کو میدان جنگ میں کل دیکھیں گے تو یہی کہیں گے کہ عرب کا سردار یہی ہے اسی کو ختم کرو تو پھر خیر ہی خیر ہے پھر یہ بات دشمن کو آپ کے خلاف جنگ کرنے میں سخت حریص کر دے گی۔ اور آپ کے خلاف لڑنے میں ان کے طمع کو بڑھائے گی۔
مسلمان بھائیو! اور نہیں تو اتنا کم از کم سوچو کہ اس قسم کے مشورے دوست اور خیر خواہ دیا اور لیا کرتے ہیں یا دشمن؟ اور لفظ’’قیم بلامر‘‘ پر غور کرو جس کا صاف معنی ’’امیر المومنین‘‘ ہے جو حضرت علی، حضرت عمر کے حق میں فرما رہے ہیں۔
تو پھر شور کیسا؟
اب یہ شور کہ وہ مستحق خلافت نہیں تھے وغیرہ وغیرہ تو اس بات کا قطعی علم آج کل کے ذاکرین شیعہ کو زیادہ ہو سکتا ہے یا جناب مرتضیٰ کو؟ کم از کم یہ خیال کرنا چاہئے کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے حالات کو بچشم خود ملاحظہ فرمانے والے تھے۔ ان کے طرز عمل کو ہر وقت محسوس کرتے تھے اور یہ زمانہ کتنا بعید تر ہے تو بہر صورت عینی شاہد کا بیان ہی قابل قبول ہو سکتا ہے۔ اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب ’’ناسخ التواریخ جلد۲صفحۃ۳۹۵‘‘ میں بھی حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ ارشاد موجود ہے اور حضور کے یہ جملے کہ ’’ونحن علیٰ موعود من اللہ سبحانہٗ ‘‘ (اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہمارے ساتھ غلبہ کا وعدہ کیا گیا ہے) الخ۔ ان کے معنی اور تفسیرمیں صاحب ناسخ التواریخ لکھتا ہے۔
واینک مابروعدہ خداوند ایستادہ ایم چہ مومناں راوعدہ نہادکہ درارض خلیفتی دہد۔ چنانچہ پیشینان راودین ایشاں رااستوار دارد و خوف ایشاں رامبدل بایمنی فرمایدتا برھمہ ادیان غلبہ جو یید و خداوند بوعدہ وفاکند ولشکر خود را نصرت دہد ہمانا فرمان گزار امور رشتہ راماندکہ مہرہابدوپیوستہ شدند الخ۔
یعنی اس وقت ہم اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر کھڑے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ زمین میں ان کو اپنے رسول (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے خلیفے بنائے گا۔ اس طرح جیسا کہ پہلے پیغمبروں کے خلیفے بنائے گئے اور ان کے دین کو تمکنت اور پختگی دے گا۔ ان کے خوف کے بعد اس کے بدلے انہیں امن دے گا۔ تاکہ مذاہب عالم پر غلبہ تلاش کریں اور اللہ تعالیٰ وعدہ کو وفا کرتا ہے اور اپنے لشکر کو فتح و نصرت دیتا ہے جبکہ امر کرنے والے (امیر المومنین) ایسے رشتہ (لڑی) کی مثال ہیں جس کے ساتھ دانے پیوستہ ہیں۔ الخ
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشا د فرمایا ک ہم اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر مقرر ہوئے ہیں۔ صاحب ناسخ التواریخ اسی طرح باقی شراح نہج البلاغۃ حضور کے ان جملوں کی تفسیر میں تصریح کرتے ہیں کہ حضور نے اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ہے۔
وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم وعملوا الصلحٰت لستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضٰی لھم ولیبد لنھم من بعد خوفھم امنا ۱ یعبدو ننی لا یشرکون بی شیئا ومن کفر بعد ذٰلک فاولٰٓئک ھم الفاسقون ۱ تم میں سے مومنین اور صالحین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ان کو زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے پیغمبروں کے صحابہ کو خلیفہ بنایا تھا اور اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ ان کے لئے ان کے اس دین کو استحکام و تمکنت بخشے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے اور ان کے خوف کو امن و سلامتی کے ساتھ بدلے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے اور ان تمام باتوں کے بعد جو انکار اور کفر کریں گے۔ تو وہی فاسق ہوں گے۔
حضرت شیر خدا کے ان جملوں کا مطلب کہ ہم اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر قائم ہوئے ہیں اور مقرر ہوئے ہیں۔ اسی آیت وعدہ یعنی آیت استخلاف (خلیفے مقرر کرنے والی آیت) کے ترجمہ کو پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ اہل تشیع کا مجتہد اعظم علامہ ابن مثیم شرح کبیر نہج البلاغۃ (صفحہ ۳۰۷۰ مطبوعہ ایران) میں انہی ارشادات مرتضوی کی شرح و تفسیر میں تصریح کرتا ہے۔
ویوعداللہ تعالیٰ المسلمین بالاستخلاف فی الارض وتمکین دینھم الذی ارتضیٰ لھم وتبدیلھم بخوفھم امنا کما ھو مقتضی الآیۃ۔۱۲
یعنی سید نا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد کہ نخن علی موعود من اللہ (ہم اللہ کی طرف سے وعدے پر ہیں) دین مقدس اور لشکر اسلام کی فتح مندی کے اسباب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور اعانت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئے گئے وعدہ کو بیان فرما رہے ہیں جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے بعد زمین پر خلیفہ بنانے اور ان کے اس دین کو جس سے وہ راضی ہوا تمکنت اور استقلال بخشنے اور ان کے خوف کو امن کے ساتھ بدلنے کے متعلق فرمایا ہے جیسا کہ آیت کریمہ کا مقتضی ہے۔
خلافت فاروق بزبان علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما
بہر حال صورت تمام شراح نہج البلاغۃ یہی تصریح کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے امیرعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کو اسی آیت استخلاف کے ساتھ برحق ثابت کیا ہے اور ان کے زمانہ خلافت کو اور ان کے دین کو اسی آیت کے مقتضیٰ سے بیان فرمایا کہ وہ برحق ہے اوراللہ تعالیٰ اس پر راضی ہے واقعات بھی اسی امر کے موید ہیں۔ کہ وہ زمانہ جو جزیرئہ عرب میں بھی مخالف قبائل کی آئے دن فتنہ پر دازیوں اور خطرناک سازشوں سے سخت پریشانی اور بے چینی کا زمانہ یقین کیا جاتا تھا اور ہر وقت ان کی طرف سے خوف و خطر مسلمانوں کو لاحق تھا۔ امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں تمام جزیرہ عرب کو یہود و نصاریٰ سے پاک کیا گیا اور تمام مخالف عنصر یا حلقہ بگوش اسلام ہوا یا ختم ہو گیا۔ اور اسلام کی سلطنت نے بہت بڑی (زیادہ)وسعت اختیار کی۔ سلطنت ایران جیسی بارعب اور پر ہیبت حکومت نے اسلام کی چوکھٹ کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ تقریباً افریقہ، مصر، شام، عراق، خراسان اور باقی تمام قبائلی علاقے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اور یوں مسلمانوں کا خوف امن کے ساتھ متبدل (تبدیل) ہوا۔ اور یہ تمام تر آیت کریمہ وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنھم الخ الآیۃ۔کے حرف بحرف مطابق ہوا۔ میرے خیال میں اس آیت کریمہ سے زیادہ احقیت خلافت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے۔ یہ غصب خلافت کے بے بنیادد عوے حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی تصریحات اور آئمہ کرام کی توضیحات اور ان کے طرز عمل کے مقابلے میں کیا وقعت رکھتے ہیں۔
غصب یا رضا
آئیے! اب ہم آپ کو حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کا کھلا فیصلہ سنائیں جس کو اہل تشیع کے مجتہد اعظم یعنی صاحب ناسخ التواریخ نے اپنی کتاب ناسخ التواریخ جلد ۲ صفحہ۵۱۹ میں درج کیا ہے۔
اگر ابو بکر و عمر سزاوارنہ بودند چگونہ بیعت کر دی واطاعت فرمودی واگر لائق بودند من ازشاں فروتر نیستم چناں باش از برائے من کہ از برائے ایشاں بودی۔ فقال علی علیہ السلامoاما الفرقۃ فمعاذ اللہ ان افتح لھا بابا واسھل الیھا سبیلا ولٰکنی انھٰک عما ینھاک اللہ ورسولہٗ عنہ واھدیک الٰی رشدک واما عتیق وابن الخطاب فان کان اٰخذا ماجعلہٗ رسول اللہ لی فانت اعلم بذٰلک والمسلمون ومالی ولھٰذا الامر وقد ترکتہٗ منذحین فاما ان لایکون حقی بل المسلمون فیہ شرع فقد اصاب السھم السغرۃ واما ان یکون حقی دونھم فقد ترکت لھم طبت نفسا ونفضت یدی عنہ استصلاحاo
یعنی (حضرت امیر عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا)کہ اگر ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما خلافت کے مستحق نہ تھے تو آپ نے ان کی بیعت کس طرح کی اور ان کی فرمانبرداری کیوں کرتے رہے؟ اور اگر مستحق خلافت تھے تو میں ان سے کم نہیں ہوں۔ میرے ساتھ آپ اس طرح ہو کر رہیں جیسا کہ ان کے زمانے میں ان کے ساتھ رہے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ تفرقہ اندازی؟ تو اللہ تعالیٰ مجھے اس بات سے بچائے کہ میں تفرقہ اندازی کا دروازہ کھولوں یا فتنہ کا راستہ آسان کروں۔ میں آپ کو صرف اس چیز سے منع کرتا ہوں۔ جس چیز سے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے اور میں آپ کو رشدو ہدایت دکھاتا ہوں۔ لیکن (باقی رہا) ابوبکر صدیق اور عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا معاملہ تو اگر انہوں نے اس چیز کو مجھ سے غصب کیا ہوتا جس کو رسول اللہﷺ نے میرے لئے مختص فرمایا تھا تو آپ اور باقی لوگ اس کو زیادہ جانتے ہوتے اور مجھے اس خلافت کے ساتھ واسطہ ہی کیا ہے حالانکہ میں نے خلافت کے خیال کو ذہن سے نکال دیا ہوا ہے۔ پس خلافت کے متعلق دو ہی احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ حضور ﷺ کے بعد خلافت صرف میرا حق نہ تھا۔ بلکہ سارے صحابہ مساوی طور پر اس میں حق دار تھے۔ تو اس صورت میں جس کا حق تھا اس کو مل گئی اور حق بحق دار رسید۔ دوسری یہ صورت تھی کہ خلافت صرف میرا حق تھا اور باقی کسی کا حق نہ تھا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے اپنی خوشی اور رضا کے ساتھ اور بطیب خاطر ان کو بخش دیا تھا اور صلح صفائی کے ساتھ ان کے حق میں دست بردار ہو گیا تھا۔
لیجئے صاحب!! یہ ہے مولیٰ مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حتمی اور قطعی فیصلہ۔ اب مولا مشکل کشا تو فرمائیں کہ اگر صرف میرا حق تھا تو میں نے صلح و صفائی کے ساتھ اور خوشی اور رضا کے ساتھ امر خلافت ان کو بخش دیا اور ان کی حق میں دست بردار ہو گیا۔ اور آج کل کے ذاکروں کا یہ (ٹوںٹوں) کہ حیدر کرار شیر خدا سے صحابہ کرام نے خلافت چھین لی، غصب کر لی۔ آپ انصاف سے کہئے کہ کس کو صحیح اور درست مانا جائے۔ ذاکر لوگ اپنی لمبی لمبی اذانوں میں وصی رسول اللہ و خلیفتہ بلافصل اور خدا جانے کیا کیا کلمات گانٹھتے چلے جاتے ہیں۔ کیا اس سے حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی صاف صاف تکذیب لازم نہیں آتی۔ منبروں پر چڑھ کر شیر خدا کو جھٹلانا ، ان کی تکذیب کرنا کس محبت اور تولیٰ کا تقاضاہے۔ اگر یہی محبت ہے تو دشمنی کس کو کہتے ہیں؟ اگر زحمت نہ ہو تو وصیت کے بارے میں بھی ایک دو روایتیں ملاحظہ فرمالیجئے۔
خلافت علی کی وصیت
روح کون ومکاں حضور اکرم ﷺ نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے متعلق ہر گز ہر گز وصیت نہیں فرمائی۔ اس کے ثبوت کے لئے شیعہ کی معتبر ترین کتاب تلخیص الشافی مطبوعہ نجف اشرف مصنفہ (شیعوں کے) محقق طوسی امام الطائفہ جلد ۲صفحہ۳۷۲۔
وقد روی عن ابی وائل والحکیم عن علی ابن ابی طالب علیہ السلام انہٗ قیل لہٗ الاتوصی؟ قال ما اوصٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاوصی ولٰکن قال ان اراداللہ خیرا فیجمعھم علٰی خیرھم بعد نبیھم ۔ الخ
یعنی حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے آخری وقت میں عرض کیا گیا کہ حضور اپنے قائم مقام کے لئے وصیت کیوں نہیں فرماتے ؟جواب میں فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ نے (جب ) وصیت نہیں (کی) تو میں کیسے وصیت کروں۔ البتہ حضور ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ فرمایا تو میرے صحابہ کا اجماع میرے بعد ان میں سب سے اچھے آدمی پر ہو جائے گا۔
اسی طرح ایک اور روایت بھی ملاحظہ ہو (یہی کتاب اسی صفحہ پر)
روٰی صعقبۃ بن صوخان ان ابن ملجم لعنہ اللہ لما ضرب علیا علیہ السلام دخلنا علیہ فقلنا یا امیر المومنین استخلف علینا قال لا فانا دخلنا علٰی رسول اللہ علیہ وعلٰی آلہٖ وسلم حین ثقل فقلنا یا رسول اللہ استخلف علینا فقال الا انی اخاف ان تتفرقوا کما تفرقت بنوا اسرائیل عن ھارون ولٰکن ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیرا اختار کمo
یعنی صعقبہ بن صوخان روایت کرتے ہیں کہ جب ابن ملجم ملعون نے حضرت علی علیہ السلام کوزخمی کیا توہم حضرت شیر خدا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور اپنا خلیفہ مقرر فرمائیں تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا یہ ہر گز نہیںہو سکتا۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ کا مرض جب زیادہ ہو گیا تو ہم حضو ر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ہمارے لئے کوئی اپنا خلیفہ مقرر فرمائیں تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہر گز نہیں۔ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر میں خلیفہ مقرر کروں تو تم اختلاف کرو گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل نے ہارون کے متعلق اختلاف کیا تھا لیکن یہ یقین رکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میںبہتری دیکھی تو تمہارے لئے خود ہی بہتر خلیفہ مقرر کر دے گا۔
ایک اور روایت بھی سن لیں۔صفحہ ۱۷۱ (یہی کتاب)
وفی الخبر المروی عن امیر المومنین علیہ السلام لما قیل لہ الاتوصی؟ فقال ما اوصیٰ؟ فقال ما اوصٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولٰکن اذا اراداللہ بالناس خیرا استجمعھم علیٰ خیر کما جمعھم بعد نبیھم علیٰ خیر ھمo(وکذافی الشافی ص۱۷۱)
یعنی حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی گئی کہ حضور آپ وصیت کیوں نہیں فرماتے؟ شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ نے وصیت نہیں فرمائی تھی تو میں کیسے وصیت کروں لیکن جب اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بھلائی کاارادہ کرے گا تو ان کو ان میں سے جو اچھا اس پر اتفاق بخشے گا۔ جیسا کہ نبی کریم کے بعد لوگوں میں سے جو اچھا تھا۔ اسی پر اجماع اور اتفاق بخشا تھا۔
یہی روایات شیعوں کے علم الہدیٰ نے اپنی کتاب شافی مطبوعہ نجف اشرف ص ۱۷۱ میںلکھی۔ اسی طرح ایک اور روایت بھی مطالعہ کیجئے! اسی صفحہ۱۷۱پر ہے۔
والمروی عن العباس انہٗ خاطب امیر المومنین فی مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان یسال عن القائم بالامر بعدہٗ وانہٗ امتنع من ذٰلک خوفا ان یصرفہٗ عن اھل بیتہٖ فلایعود الیھم بداo حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرم ﷺ کی مرض کی حالت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ حضور سے پوچھ لیں کہ حضور ﷺ کے بعد کون امیر المومنین ہوگا تو حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے اس خوف سے نہ پوچھا کہ حضور ﷺ اپنی اہل بیت سے امیر المومنین نہ بنائیں گے (اور اس تصریح کی وجہ سے) پھر کبھی اہل بیت میں خلافت آبھی نہ سکے گی۔
حضرت علی کا جواب
ملاحظہ فرمالیا آپ نے! یہ ہیں وصیت اور خلافت بلافصل کے متعلق نصوص قطعیہ جن کی تکذیب کو نہ ختم ہونے والی اذانوں میں بیان کیا جاتا ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک اور فرمان بھی پڑھ لیجئے جو نہج البلاغۃ خطبہ ۵ میں درج ہے۔ جس میں درج ہے کہ حضرت عباس اور ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی خدمت میں حضور اکرم ﷺ کی وفات کے دن حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ آپ کے ساتھ ہم خلافت کی بیعت کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں مولا علی نے فرمایا:
ایھا الناس شقوا امواج الفتن بسفن النجاۃ وعرجوا عن طریق المنافرۃ وصنعوا تیجان المفاخرۃ افلح من نھض بجناح اواستسلم فاراح (الاستخلاف) ماء آجن ولقم یغص بھا اکلھا ومجتنی الثمرۃ بغیر وقت ایتاء ھا وکالزارع بغیر ارضہ فان اقل یقولوا حرص علٰی الملک وان اسکت یقولوا جزع من الموت ھیھات بعد اللتیا والتی واللہ لا بن ابی طالب اٰنس بالموت من الطفل لثدی امہٖo لوگو! تم فتنوں کی موجوںکو نجات کی کشتیوں کے ذریعے طے کرو اور منافرت و مخالفت کے طریقے چھوڑ دو۔ تکبر کے تاجوں کو پھینک دو۔ جو شخص بال و پر کے ساتھ بلند ہوا۔ وہ فلاح پاچکا ، یا جس نے اطاعت کر لی، اس نے امن وامان حاصل کر لیا۔ مجھے خلیفہ بنانے کی پیشکش ایک مکدرپانی کی طرح ہے یا ایسا لقمہ ہے جو کھانے والے کے گلے میں پھنس جائے میرے خلیفہ بننے کا سوال ایسا ہے جیسے کوئی کچے پھل کو قبل از وقت توڑ لے یا جیسے کوئی دوسرے کی زمین میں کھیتی باڑی کرنے لگے۔ پس اگر میں تمہارے کہنے کے مطابق خلافت کا دعویٰ کردوں تو فتنہ باز لوگ کہیں گے کہ اس نے ملک کے لئے لالچ کیا ہے اور اگر چپ رہوں ۔ تو یہی لوگ کہیں گے کہ موت سے ڈر گیا۔ حالانکہ موت کا خوف وغیرہ میری شان سے کس قدر بعید ہے۔ اللہ کی قسم علی ابن ابی طالب موت کو اپنی ماں کے دودھ کی طرف رغبت کرنے والے بچے سے بھی زیادہ پسند کرتا ہے۔
اس روایت نے بیعت میں توقف کرنے کا تخمینہ بھی اڑادیا۔ اس خطبے کو خلط ملط کرنے کے لئے شیعوں کے مجتہدا عظم نے انتہائی کوشش کی ہے مگر شیر خدا کا یہ واضح ارشاد نہیں چھپ سکا۔ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی خلافت حضور ﷺ کے بعد قبل از وقت کچے پھل توڑنے والے شخص کے مشابہ اور کسی دوسرے شخص کی زمین میں کھیتی باڑی شروع کر دینے والے کی مثل صرف اسی صورت میں ہی مقصود ہو سکتی ہے کہ ابھی ان کی خلافت کا زمانہ نہیں آیا۔ اور ابھی وہ خلافت کے حق دار نہیںہوئے اور ڈر کی وجہ سے بھی بیعت کرنا واضح ہوگیا۔ کہ شیر خدا قسم کھا کر فرما رہے ہیں کہ میں موت سے نہیں ڈر سکتا۔ خدا کے شیر کی شان میں ایک اور خطبہ اسی نہج البلاغۃ کا ملاحظہ فرماویں۔
اترانی اکذب علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واللہ لانا اول من صدقہٗ فلا اکون اول من کذب علیہ فنظرت فی امری فاذا اطاعتی قد سبقت بیعتی واذا المیثاق فی عنقی لغیریo
یعنی تم میرے متعلق یہ گمان کرتے ہو کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولوں۔ خدا کی قسم سب سے پہلے میں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی تھی۔ تو سب سے پہلے حضور ﷺ کو جھٹلانے والا میں نہیں ہو سکتا۔ میں نے اپنی خلافت کے بار ے میں خوب سوچ سمجھ لیا ہے، پس میرے لئے اطاعت کرنا اس بات پر سبقت لے چکا ہے کہ میں لوگوں کو بیعت کرنا شروع کر دوں۔ جبکہ حضور ﷺ کا وعدہ دوسروں کی اطاعت کا میرے ذمہ لگ چکا ہے۔
بیعت صدیق کا وعدہ
اسی خطبہ کی شرح میں اہل تشیع کے علامہ ابن مثیم صفحہ ۱۵۸ پر رقمطر از ہیں۔
فنظرت فاذا طاعتی قدسبقت بیعتی ای طاعتی لرسول اللہ فی ما امرنی بہٖ من ترک القتال قد سبقت بیعتی للقوم فلاسبیل الٰی الامتناع منھا و قولہٗ اذا المیثاق فی عنقی لغیری ای میثاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعھدہٗ الی بعدم المشاقۃ وقیل المیثاق مالزمہٗ من بیعۃ ابی بکر بعد ایقاعھا ای فمیثاق القوم قد لزمنی فلم یمکنی المخالفۃ بعدہٗo
جس بارہ میں رسول اللہ ﷺ نے مجھے امر فرمایا تھا کہ میں حضور ﷺ کے صحابہ کی مخالفت نہ کروں۔ مجھے حضور ﷺ کی اطاعت، اس قوم کے ساتھ بیعت کرنے سے پہلے ہی سے واجب ہو چکی تھی۔ تو مجھے ان کے ساتھ بیعت نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی اور حضرت علی کا یہ فرمانا کہ میرے ذمہ دوسروں کی اطاعت کا وعدہ پہلے ہی سے لگ چکا تھا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ حضور ﷺ نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں حضور ﷺ کے عہد کی مخالفت نہ کروں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیعت کرنے کا وعدہ رسول اللہ ﷺ نے لیا تھا تواس لازم شدہ وعدہ کے بعد تومیرے لئے ممکن نہ تھا کہ میں ان کی مخالفت کروں۔
اب یہ کہنا کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے صرف ہاتھ سے بیعت کی تھی۔ دل سے نہیںکی۔ کس قدر لغو اور بے معنی تاویل ہے کیونکہ اس کا تو یہی معنی ہوگا کہ حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور وعدہ کا ایفاء (معاذ اللہ) دل سے نہیں کیا تو اس سے زیادہ بھی کوئی کفر ہو سکتا ہے؟ کہ شیر خدا کے متعلق اس قسم کے اتہامات گھڑے جاویں اور یہ کہنا کہ شیر خدا نے ڈر کر بیعت کی تھی۔ کس قدر بیہودہ گوئی ہے۔ شیر خدا قسم اٹھا کر کہیں کہ میں نہیں ڈر سکتا۔اللہ تعالیٰ فرمائے ولا تخافوھم وخافون ان کنتم مومنینo (القرآن)یعنی اگر تم مومن ہو تو اللہ کے بغیر کسی سے نہ ڈرو۔اور حضرت علی فرماویں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے فرمان و حکم اور وعدہ کے تحت ان کی اطاعت اور ان کے ساتھ بیعت کر رہا ہوں۔ اور اس کے مقابل میں اس قسم کے ٹوٹکے اور تخمینے شیر خدا کی شیری اور دلیری کو چھپانے کی غرض سے پیش کئے جاویں۔ تو میں حیران ہو ں کہ باوجود اس کے دعویٰ محبت وتولی کس نظریہ کے تحت ہے؟ اگر تھوڑی دیر کیلئے ہم تسلیم بھی کر لیں کہ شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف ہاتھ سے بیعت کی تھی اور دل سے نہیں کی تھی تو اس کا جواب بھی حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی کلام فیض انجام سے سن لیں۔ دیکھئے نہج البلاغۃ خطبہ ۱۰ وناسخ التواریخ جلد ۳ کتاب ۲ صفحہ ۳۳،۴۸۔
یزعم انہ قد بایع بیدہٖ ولم یبایع بقلبہٖ فقد اقر بالبیعۃ وادعی الولجۃ فلیات علیھا بامر یعرف والا فلید خل فی ماخرج منہ الخ۔
یعنی زبیر یہ خیا ل کرتا ہے کہ اس نے میرے ساتھ دل سے بیعت نہیںکی تو یقیناً بیعت کا تو اقرار کیا اور بیعت کرنے والوں کے زمرہ میں داخل ہو گیا۔ پس چاہئے کہ اس پر کوئی ایسی بات پیش کرے جس سے پہچانا جا سکے۔ الخ
سن لیا حضرات! صرف ہاتھ سے بیعت کرنے کی حقیقت ۔ اگر شیر خدا کے نزدیک ہاتھ سے بیعت کرنا اور دل سے نہ کرنا بیعت کے حکم میں نہ ہوتا تو حضرت زیبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ’’وادعی الولیجہ‘‘ کیوں فرماتے ؟ اور اقر بالبیعت کا حکم کیوں لگاتے؟ (یعنی بیعت کند گان کے زمرہ میں داخل ہونے کا اس نے دعویٰ کر لیا اور بیعت کرنے کا اقرار کر لیا) ۔
خلفاء ثلاثہ بزبان حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہم
کتاب معافی الاحبار صفحہ۱۱۰ مطبوعہ ایران مصنفہ ابن بابو یہ قمی کا بھی مطالعہ فرمائیں کیونکہ یہ کتاب بھی مزہب اہل تشیع میں ان کی مایہ ء ناز ہے اوران کے نزدیک بے حد معتبر ہے۔
عن الحسن ابن علی (رضی اللہ عنھما) قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ابابکر منی بمنزلۃ السمع وان عمر منی بمنزلۃ البصر وان عثمان منی بمنزلۃ الفواد۔ (وکذا فی تفسیر الامام الحسن العسکری)
یعنی امام عالی مقام سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ابو بکر بمنزلہ میرے سمع مبارک کے ہے (ابو بکر میرے کان ہیں) عمر بمنزلہ میری آنکھ مقدس کے ہے (عمر میری آنکھ ہے) اور عثمان بمنزلہ میرے دل منور کے ہے (عثمان میرا دل ہے) (اسی طرح امام حسین عسکری کی اپنی تفسیر میں ہے)۔
اب امام عالی مقام امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرمانے والے ہوں اور پیغمبر خدا علیہ السلام ان مقدس اور منور ہستیوں کو اپنے سمع مبارک، بصر مقدس اور دل منو ر کی منزلت بخشیں تو ان مقدس ہستیوں کی شانِ اقدس میں سب و شتم براہ راست رسول خدا کی شان اقدس میں سب وشتم نہیں؟ اور ان کا ادب واحترام اور ان کی محبت براہ راست رسول خدا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ادب واحترام اور حضور ﷺ کی محبت نہیں؟ کچھ تو سوچو۔
واقعہ ہجرت
چونکہ اہل تشیع ائمہ طاہرین کی اس قسم کی تصریحات کو دیکھ کر ہمیشہ سرے سے انکار کے عادی ہیں اور پھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ ائمہ طاہرین سے یہ روایت ثابت نہیں۔ اس لئے امام عالی مقام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک اور روایت بطور نمونہ لفظ بلفظ لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کتاب بھی امام صاحب کی اپنی تفسیر چھپی ہوئی بھی ایران کی۔ یعنی تفسیر حسن عسکری مطبوعہ ایران صفحہ ۱۶۴،۱۶۵۔
ھٰذا وصیۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکل اصحابہٖ وامتہٖ حین صار الی الغار ان اللہ تعالٰی اوحٰی الیہ یا محمد ان العلی الاعلٰی یقرئک السلام ویقول لک ان اباجھل والملا من قریش دبراو علیک یریدون فتلک وامر ان تبیت علیا وقال لک منزلتہ منزلۃ اسحاق الدبیح ابن ابراھیم الخلیل یجعل نفسہٗ لنفسک فداء وروحہٗ بروحک وقاء وامرک ان تستصحب ابابکر فانہٗ ان آنکس وسعدک و آزرک وثبت علٰی ما یتعھدک یعاقدک کان فی الجنۃ من رفقائک وفی غرفاتھا من خلصائک فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلی ارضیت ان اطلب فلا اوجد وتطلب فتوجد فلعلہٗ ان یبادر الیک الجھال فیقتلوک قال بلٰی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضیت ان یکون روحی لروٰحک وقاء ونفسی لنفسک فداء بل رضیت ان یکون روحی ونفسی فداء لک او قریب (لقریب) منک (او) لبعض الحیوانات تمتحنھا وھل احب الحیٰوۃ الا لتصرف بین امرک ونھیک ونصرۃ اصفیاء ک ومجاھدۃ اعدائک ولولا ذٰلک لما احب ان اعیش فی الدنیا ساعۃ واحدۃ فقبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راسہٗ فقال لہٗ یا ابا الحسن قد قرا علی کلامک ھٰذا المو کلون باللوح المحفوظ وقرووا علی ما اعداللہ لک من ثوابہٖ فی دار القرار مالم یسمع بمثل (بمثلہٖ) السامعون ولا رای مثلہٗ الراوون ولا خطرببال المفکرین ثم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لابی بکر ارضیت ان تکون معی یا ابابکر تطلب کما اطلب وتعرف بانک انت الذی تحملنی علٰی ما ادعیہ فتحمل عنی انواع العذاب قال ابوبکر یا رسول اللہ اما انا لوعشت عمر الدنیا اعذب فی جمیعھا اشد عذابا لا ینزل علی موت صریح ولا فرح میخ (مریح) وکان ذٰلک فی محبتک لکان ذٰلک احب الی من ان اتنعم فیھا وانا مالک لجمیع ممالیک ملوکھا فی مخالفتک وھل انا ومالی لی وولدی الا فداء ک فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاجرم ان اللہ اطلع علٰی قلبک ووجد موافقا لما جرٰی علٰی لسانک جعلک منی بمنزلۃ السمع والبصر والراس من الجسد وبمنزلۃ الروح من البدن کعلی الذی ھو منی کذٰلک الخ۔
یعنی جب حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام ہجرت کے موقع پر غار کی طرف تشریف فرما ہوئے تو اپنے صحابہ اور اپنی امت کو یہ وصیت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف جبریل علیہ السلام کو بھیج کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر (صلوٰۃ) سلام بھیجتا ہے اور فرماتا ہے کہ ابو جہل اور کفار قریش نے آپ کے خلاف منصوبہ تیار کر لیا ہے اور آپ کے قتل کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ علی المرتضیٰ کو اپنے بستر مبارک پر شب باشی کا حکم دیں اور فرمایا ہے کہ ان کا مرتبہ آپ کے نزدیک ایسا ہے جیسا کہ اسحاق ذبیح کا مرتبہ تھا (حالانکہ ذبیح اسماعیل ہیں مگر اہل کتاب اسحاق کو ذبیح کہتے ہیں) حضرت علی اپنی زندگی اور روح کو تیری ذات اقدس پر فدا اور قربان کریں گے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ (ہجرت میں) ابوبکر صدیق کو اپنا ساتھی مقرر فرماویں کیونکہ اگر وہ حضور کی اعانت اور رفاقت اختیار کرلیں۔ اور حضور کے عہدو پیمان پر پختہ کار ہو کر ساتھ دیں تو آپ کے رفقاء جنت میں سے ہوں گے۔ اور جنت کی نعمتوں میں آپ کے مخلصین میں سے ہوں گے۔ پس حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت علی کو فرمایا کہ اے علی! آپ اس بات پر راضی ہیں کہ میں طلب کیا جائوں تو (دشمن کو) نہ مل سکوں اور تم طلب کئے جائو تو مل جائو اور شاید جلدی میں تیری طرف پہنچ کر بے خبر لوگ تجھے (شبہ میں) قتل کر دیں۔ حضرت علی(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے عرض کیا کہ میں راضی ہوں یارسول اللہ کہ میری روح حضور ﷺ کے روح مقدس کا بچائوہو اور میری زندگی حضور کی زندگی اقدس پر فدا ہو ۔ بلکہ میں اس بات پر بھی راضی ہوں کہ میری روح اور میری زندگی حضور ﷺ پر اور حضور ﷺ کے بعض حیوانات پر قربان اور فدا ہو۔ حضور ﷺ میرا امتحان لے لیں۔ میں زندگی کو اس لئے پسند کر تا ہوں کہ حضور ﷺ کے دین کی تبلیغ کروں اور حضور ﷺ کے دوستوں کی حمایت کروں اور حضور ﷺ کے دشمنوں کے خلاف جنگ کروں۔ اگر یہ نیت نہ ہوتی تو میں دنیا میں ایک ساعت بھی زندگی پسند نہ کرتا۔ پس حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت علی کے سرمبارک کو بوسہ دیا اور فرمایا کہ اے ابو الحسن تیری یہی تقریر مجھے لوح محفوظ کے موکلین ملائکہ نے لوح محفوظ سے پڑھ کر سنائی ہے اور جو تیری اس تقریر کا ثواب اور بدلہ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں تیرے لئے تیار فرمایا ہے وہ بھی پڑھ کر سنا یا ہے وہ ثواب جس کی مثل نہ سننے والوں...
تحریف کا نادر نمونہ
اگرچہ اس روایت میں فضیلت صدیق اکبر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) روز روشن سے بھی زیادہ روشن اور واضح و ثابت ہے مگر اہل تشیع نے تصرف اور تحریف فی الروایات کی عادت یہاں بھی نہیں چھوڑی۔
اول:۔ یہ کہ حضرت صدیق اکبر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے جب فرمایا گیا تو حرف شرط کے ساتھ یعنی اگر وہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اعانت ومساعدت پر کمر بستہ ہو جائیں تو وہ دنیا اور آخرت میں حضور ﷺ کے رفیق ہیں۔ یہاں جب اللہ تعالیٰ بھی دلی کیفیات اور حالات پر مطلع ہے اور آپ( حضرت صدیق)نے جب علم الٰہی وہی کچھ عرض کی۔ جو حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزدیک بمنزلہ سمع مبارک و چشم مبارک اور روح مقدس ثابت ہوئے تو پھر شرطیہ جملہ صاف تحریف و تصرف فی الروایت پر دلالت کر رہا ہے۔ جو قلبی و غش پر مبنی ہے۔
دوسرا:۔روایت کے آخر میں یہ جملے کہ ’’وعلی فوق ذٰلک لزیادۃ فضائلہٖ و شرف خصالہٖ ‘‘ یعنی علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اس سے زیادہ ہیں۔ کیونکہ ان کے فضائل اور شرف خصال زیادہ ہیں۔
ارے سمع و بصر وراس وروح نبوت پناہ پر کون سی زیادتی متصور ہے۔
بہر صورت اہل تشیع کی معتبر ترین کتب بھی خلفائے راشدین کے فضائل و علو مرتبت کو اپنے اوراق میں جگہ دینے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ والحسن ماشھدت بہ الاعداء (جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے) ائمہ طاہرین کے ارشادات کو ہر حیلے سے ردوبدل کرنے اور توڑ موڑ تصرفات کرنے کی انتہائی کوشش کی۔ مگر خلفائے راشدین کی شان کو آنچ نہ آئی۔
فضیلت والا کون
اگرچہ اہل ایمان اور اہل عقل و درایت کے لئے اس روایت سے زیادہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان اور آپ کا فضل اور کیامتصور ہے مگر مومنین کے دل کو خوش کرنے کے لئے بطور نمونہ ایک دو روایتیں اور بھی خلفائے راشدین سابقین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی فضیلت کے بارے میں اہل تشیع حضرات کی معتبر کتابوں سے پیش کرتا ہوں۔ اہل تشیع کی معتبر کتابوں میں حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی موجود ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : سلمان منا اھل البیت یعنی سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہیں۔
نمونہ کے طور پر کتاب کشف الغمۃ فی معرفہ الائمہ مطبوعہ ایران صفحہ۱۱۶۔
وانت لو فکرت لعلمت انہٗ یکفیہ نسبا قولہٗ صلی اللہ علیہ وسلم سلمان منا اھل بیتo
یعنی تو اگر فکر و ہوش سے کام لے تو یقیناً جان لے گا اور دیکھ لے گا۔ کہ سلمان فارسی کے لئے یہی نسب نامہ کافی ہے جو حضور و کا ارشاد گرامی ہے کہ سلمان ہم میں سے ہے اور اہل بیت میں سے ہے۔
اب ہم اہل نظر و فکر کی خدمت میں فروع کا فی جلد ۲ کی عبارت پیش کرتے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرق مرتبہ کے متعلق وارد ہے۔
ثم من قد علمتم بعدہٗ فی فضلہٖ وزھدہٖ سلمان وابو ذر رضی اللہ عنہما الخ
یعنی پھر وہ شخص جس کے متعلق تمہیں علم ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد جن کا مرتبہ فضل و زہد میںہے تو وہ سلمان فارسی اور ابوزر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) ہیں۔
اب جن کا مرتبہ فضل وزہد میں صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد ہے۔ وہ اہل بیت ہوں اور اول مرتبے والی ہستی کہ جن کو بمنزلہ السمع والبصر والروح بھی فرمایا گیا ہو۔ وہ اہل بیت میں نہ ہو تو یہ کس قدر ہٹ دھرمی اور بے انصافی پر مشتمل ایک غلط نظریہ ہے۔ وانت لوفکرت وتدبرت ذلک لعلمت فضل ابی بکر وزھدہ علی جمیع الصحابۃ ویکفیہ فضلا وکمالا ومرتبۃ قولہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم لا بی بکر رضی اللہ عنہ انت معنی بمنزلۃ السمع والبصر والروح وقد مربیانہ ببیانی۔
عمر، داماد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما
خلیفہ ثانی سیدنا امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت سیدنا امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا رشتہ دینا اور ان کو شرف دامادی بخشنا کوئی کم مرتبہ پر دلیل نہیں۔ اعتبار کریں۔ ورنہ کتاب فروع کافی جلد ۲ صفحہ ۱۱ کی یہ عبارت بروایت امام ابو عبداللہ جعفر الصادق رضی اللہ عنہ پڑھیں۔
عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال سئالتہٗ عن المراۃ المتوفی عنھا زوجھا تعتد فی بیتھا اوحیث شاء ت قال حیث شاء ت ان علیا صلٰوت اللہ علیہ لما توفی عمراتی ام کلثوم فانطلق بھا الٰی بیتہٖo
یعنی حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسئلہ دریافت کیا گیا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے تو وہ اپنے گھر (خاوند کے گھر) عدت بیٹھے یا جہاں مناسب خیال کرے وہاں بیٹھے۔ امام عالی مقام نے جواب دیا کہ جہاں چاہے بیٹھے۔ کیونکہ جب عمر (رضی اللہ عنہ) فوت ہوئے تو حضرت علی علیہ السلام اپنی بچی کو ان کے گھر سے اپنے گھر لے گئے۔
علیٰ ہذاالقیاس کتاب ’’طراز المذہب مظفری‘‘ مصنفہ میر زا عباس قلی خاں وزیر مجلس شوریٰ کبریٰ سلطنتہ ایران جلد اول صفحہ ۴۷تا صفحہ۶۷پر اس نکاح کے متعلق تمام علماء شیعہ کا اتفاق اور ان کے متعلق تصریحات ملاحظہ فرماویں۔ یہ کتاب شاہ ایران مظفر الدین قاچار کی زیر سرپرستی لکھی گئی ہے۔ ۱۲
اس نکاح کا ثبوت تقریباً اہل تشیع کی ہر کتاب میں موجود ہے۔ مگر جن الفاط کے ساتھ اہل بیت کرام کی عقیدت کا دم بھرنے والوں نے اس نکاح کا اقرار کیا ہے مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کوئی ذلیل سے ذلیل انسان بھی اپنے متعلق ان الفاظ کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جن الفاظ کو اہل بیت نبی ﷺ کے متعلق ان مدعیان تولی نے استعمال کیا ہے۔ کوئی شخص ان الفاظ کو دیکھ کر یہ بات تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کہ اس قسم کے الفاظ بدترین دشمن ہی منہ سے نکال سکتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مقبولوں کے متعلق یہ الفاظ استعمال کرنے والا اسی دنیا میں غرق کیوں نہیں ہو جاتا۔ لہٰذا میں یہ جرأت نہیں کرتا اور اپنی عاقبت تباہ نہیں کرتا کہ وہ الفاظ لکھوں۔ اہل تشیع کی ام الکتب یعنی فروع کافی جلد ۲ صفحہ صفحہ۱۴۱ سطر ۷ مطبوعہ لکھنؤ کسی بڑے مدعی تولے ومعتقد اہل بیت سے سنئے۔ نیز ناسخ التواریخ جلد ۲ صفحہ۳۶۳،۳۶۴، سطر ۱ ملاحظہ فرماویں اور میری تمام تر معروضات کی تصدیق کریں کہ شان حیدری میں کس قدر بکواس اور سب و شتم شیعان علی نے کئے ہیں کوئی بڑے سے بڑا بدبخت خارجی بھی ان کے حق میں اس قسم کے کلمات لکھنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں یہ بکواس صرف اس لئے کئے ہیں کہ آپ نے سیدنا امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رشتہ کیوں دیا ہے اور بس۔ کاش میرے بھولے بھالے بردران وطن شیعہ مذہب کی حقیقت سے واقف ہوتے۔
نیاز مندانہ مشورہ
اے سادات عظام خدا کے واسطے کچھ سوچو اور ضرور سوچو۔ جس مذہب کی اس قدر معتبر کتاب میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان اقدس میں اس قسم کے بکواس ہوں جو آپ کسی ذلیل سے ذلیل نوکر کو نہیں کہہ سکتے اس مذہب سے آپ نے کیا پھل پانا ہے؟ خدا رااپنی عاقبت تباہ نہ کرو۔
آئیے ہم اہل سنت آپ کے بردے اور آپ کے گھرانے کے حلقے بگوش ہیں ہم سے اپنے خانوادہ کی عزت وناموس کے متعلق صحیح روایات سنئے اور خانوادہ نبوت کی شان کو ملاحظہ فرمائیے۔ یہی روایت جس کے لکھنے سے میرا دل لرز گیا۔ میرے ہاتھ سے قلم گر پڑا اور اللہ کی قسم میں لکھنے کی جرأت نہ کر سکا۔ اہل تشیع نے اپنی معتبر کتاب ناسخ التواریخ جلد نمبر۲ صفحہ ۳۶۳ سطبر نمبر ۲۹ پر بڑے شدومد کے ساتھ اور ثبوت نکاح میں یہ تمام صفحہ اور ص ۳۶۴علیٰ ہذا القیاس صفحہ۴۳۳ بھی ملاحظہ فرمائیے اس کے بعد اور نہیں تو یہ ہی شیعان علی کو پڑھ کر سنا دیجئے کہ:
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
مگر درحقیقت دوست نمادشمن کے بغیر اہل تشیع کے مذہب کی بناء اور کوئی نہیں رکھ سکتا۔ مذکورہ بالا عبارات کو پڑھ کر یقیناً اہل انصاف میری تصدیق کریں گے۔ ممکن ہے بھولے بھالے برادران وطن کہیں کہ جو لوگ سال بہ سال امام عالی مقام زندہ جاوید کا ماتم کرتے ہیں اور اپنے سینوں کو پیٹ پیٹ کر خون خون کر دیتے ہیں۔ یہ کیسے کسی دشمن کی تقلید میں مذہب تشیع اختیار کر سکتے ہیں یا جس نے یہ مذہب گھڑا ہے وہ کیسے دشمن اہل بیت ہو سکتا ہے؟ اس کا فطر تی جواب (پہلا جواب) صرف اتنا ہے کہ اس قسم کی روایات گھڑنے کی سزا یہی ہو سکتی ہے اور جن مقدس ہستیوں کو امام عالی مقام سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الشریف امام الہدیٰ شیخ الاسلام، حبیب مقتدا اور پیشوا فرما دیں۔ جن کے ہاتھ پر بیعت کریں جن کو بطیب خاطر رشتے دیں۔ ان ہستیوں کی شان اقدس میں علانیہ بکواس بکنے کی دنیا میں سزا یہی ہے کہ اپنے ہاتھ سے اپنے منہ اور اپنے سینوں کو پیٹ پیٹ کر اڑا دیں۔ ورنہ محبت کے تقاضے پر یہ کاروائی مبنی ہوتی تو اس کی ابتداء حیدر کرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شروع ہوتی۔ ان کے بعد یا زدہ ائمہ (گیارہ امام) اس پر عمل فرماتے مگر یاد رکھو یہ کسی زبردست مجرم خدا کی سزا سے شروع ہوئی ہے۔
اے آل حیدر کرار! آپ اپنے جد امجد کی سنت تلاش فرماویں اور اپنے تمام طاہرین کی سنت کی پیروی اختیار کریں۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اس قسم کی روایات گھڑنا اور ان کو رائج کرنا ایک سیاسی کرتب تھا تاکہ بیوقوف اور کم سمجھ لوگ اس قسم کی غلط روایات کے باوجود ہمیں محب سمجھتے رہیں اور ہم آسانی کے ساتھ اپنا مذہب رائج کرتے رہیں۔ آپ دعویٰ محبت کے کوٹ کے اندر دیکھئے اور اس زہر سے بچئے۔ خیر یہ ایک نیاز مندانہ مشورہ تھا جو موضوع سے نکال لے گیا۔
انتظار کس بات کا
ائمہ طاہرین صادقین معصومین کی روایات سے خود اہل تشیع کی کتابوں میں جب یہ بات مل گئی۔ کہ ائمہ طاہرین نے خلفائے راشدین کو صدیق مانا۔ ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کو امام الہدیٰ شیخ الاسلام،مقتداء اور پیشوا تسلیم کیا۔ ان کے حق میں سب بکنے والوں کو قتل کیا۔ سزائیں دیں اپنی مجلس سے نکالا۔ بلکہ خلفائے راشدین کی شان اقدس میں سب بکنے والوں کو مسلمانوں کی جماعت سے بھی خارج فرمایا اور یہ بھی مسلم ہے ک ائمہ طاہرین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس اور مقدس دلوں میں غیر خدا کا خوف نہیں آسکتا تھا اور ولا تخافو ھم وخافون ان کنتم مؤمنین (اگر تم مومن ہو تو میرے بغیر کسی سے نہ ڈرو) پر ان کا پوراایمان تھا۔ اور میدان کر بلا میں اپنے اس ایمان کا ثبوت عملی طور پر بھی دیا تو وہ تمامتر ارشادات جو ائمہ طاہرین نے فرمائے اور تمامتر اخوت ومودت کے جو عملی ثبوت بہم پہنچائے صرف صدق و صفا اور ظاہری باطنی صداقت ہی کی بنا پر فرمائے۔ خلافت خلفائے سابقین کے متعلق جن واضح اور غیر مبہم کلمات طیبات کے ساتھ حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے قطعی فیصلہ ارشاد فرمایا ہے جو پہلے عرض کر چکا ہوں اس کے بعد فتنہ اور فساد پیدا کرنا اور وہ فیصلہ تسلیم نہ کرنا اور خلفائے راشدین کی شان اقدس میں سب و شتم بکنا اور محب علی کہلوانا حضرت علی کو (معاذ اللہ) جھٹلانا اور پھر دعوے تولی (محبت ) کرنا ایمان تو کجا خود کسی معقولیت پر بھی مبنی نہیں ہو سکتا۔
حدیث قرطاس
بے خبر اور ناواقف لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کبھی قرطاس کی روایت پیش کی جاتی ہے کہ حضرت اقدس ﷺ نے اپنی ظاہری حیوۃ طیبہ کے آخری خمیس کو اپنے حرم سرا میں اہل بیت کے مردوں سے کہا کہ لکھنے کے لئے کوئی چیز (دوایت، قلم، کاغذ) لائو میں تمہارے لئے کچھ وصیت لکھوں تاکہ میرے بعد تم صراط مستقیم پر ثابت قدم رہو۔ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے مسجد شریف میں جاکر دوات قلم طلب فرمائی تو امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہمیں قرآن کریم کافی ہے کیا آنحضرت ﷺ ہمیں داغ مفارقت تو نہیں دینا چاہتے؟ اس بات کو سمجھو!!
یہ روایت اہل سنت کی کتابوں میں ہو یا اہل تشیع کی کتابوں میں بہر صورت قرآن کریم کی آیت کریمہ (ولاتخطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلون) یعنی آپ اپنے ہاتھ مبارک سے کبھی اس کو نہ لکھنا تاکہ گمراہ کرنے والے لوگ شک پیدا نہ کرسکیں۔ (کہ حضور ﷺ خود لکھ سکتے تھے اور قرآن کریم بھی خود لکھا ہے خدا کی طرف سے نہیں) اب یہ نفی ہو یا نہی۔ بہر صورت آنحضرت ﷺ کا اپنے ہاتھ مبارک سے لکھنا ممنوع اور محال ہے اور روایت میں ہے کہ میں لکھوں۔ دوسرا بفرض تسلیم اس روایت میں خلافت کا ذکر تک نہیں۔ حضرت علی کی خلافت اور وہ بھی بلافصل اس سے کیسے ثابت ہو گئی۔
تیسرا: اہل بیت کے مردوں میں حضرت علی موجود تھے تو ان کو دوات قلم پیش کرنے کا حکم ہوا۔ جیسا کہ ’’ایتونی‘‘ کا صیغہ جمع مذکراسی امر پر دلالت کرتا ہے۔ فرض کرو کہ حضرت عمر نے حسبنا کتاب اللہ یعنی ہمیں قرآن کریم کافی ہے۔ فرمایا ہو۔ تو سوال یہ ہے کہ حضرت علی نے حضرت عمر کے کہنے پر عمل کرنا تھا رسول اللہ ﷺ کے حکم پر؟ پھر حضرت علی نے کس کے کہنے پر عمل کرتے ہوئے دوات و قلم و کاغذ پیش نہ کیا۔
چوتھا: فرض کریں حضور خلافت ہی لکھتے (جس کا ذکر تک روایت میں نہیں) مگر جب حضور ﷺ پہلے فرما رہے ہیں کہ میرے بعد خلیفہ ابوبکر ہوگا۔ اس کے بعد عمر ہوگا رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے دیکھو تفسیر صافی جلد ۲ صفحہ ۳۲۰۔ اسی طرح تفسیر قمی اس آیت کریمہ کے تحت قال نبانی العلم الخبیرo (پارہ۲۸سورہ تحریم) تفسیر امام حسن عسکری اور باقی تمام اہل تشیع کی معتبر ترین تفاسیر میں حضور اقدس ﷺ سے یہ روایت ثابت ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فرمان کے خلاف اور اپنے ارشاد کے خلاف کوئی دوسری خلافت لکھنے لگے تھے۔
ہم پہلے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واضح اور غیر مبہم خطبات آپ کو سنا چکے ہیں کہ حضرت علی سے جب رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد خلافت کی بیعت کرنے کے بارے میں کہا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میری خلافت کا زمانہ نہیں آیا۔ اس وقت میری خلافت کا سوال ایسا ہے جیسے کوئی قبل از وقت کچے میوے توڑے یا کسی دوسرے کی زمین میںکھیتی باڑی شروع کر دے۔ اور یہ کہ میرے ذمہ یہ ہے کہ میں دوسروں کی اطاعت کروں اور یہ کہ بیعت کرنے پر میرے لئے دوسروں کی اطاعت کا عہد وپیمان مقدم ہے میرے لئے ممکن ہی نہیں کہ ابو بکر کی بیعت کی مخالفت کروں۔ پھر ان کا خود بھی بیعت کرنا۔ یہ تمام تر روایات خلافت علی رضی اللہ عنہ کی تحریک کے منافی بلکہ مناقض ہیں۔
خم غدیر
اسی طرح یہ بھی ابلہ فریبی ہے کہ حضرت علی کی خلافت بلافصل کی دلیل میں خم غدیر کی روایت پیش کی جاتی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے حضرت علی کے متعلق فرمایا کہ ’’ من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘ (یعنی جن کا میں دوست ہوں علی بھی ان کے دوست ہیں)ظاہر ہے کہ قرآن کریم میں مولیٰ بمعنی دوست ہے دیکھو آیت کریمہ ’’قال اللہ ھو مولاہ وجبریل وصالح المومنین‘‘ (یعنی اللہ کے محبوب کا دوست اللہ جل شانہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک بندے ہیں) ’’والملائکۃ بعد ذٰلک ظھیر‘‘ (اس کے بعد فرشتے حضور ﷺ کے امداد کنندہ ہیں) (القرآن)۔
اب مولیٰ کا معنی حاکم یا امام یا امیر کرنا صراحۃً قرآن کریم کی مخالفت ہے اور تفسیر بالرائے ہے اور کون مسلمان یہ نہیں مانتا کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رسول اللہ ﷺ کے دوستوں کے دوست ہیں۔ جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے گھر میں ہجرت میں، غار میں، سفر میں، حتیٰ کہ قبر میں اپنا ساتھی اور رفیق منتخب فرمالیا۔ حضرت علی ان کے دوست ہیں۔ حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کا صاف صاف ارشاد گرامی نہ بھولئے جو حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حق میں فرماتے ہیں کہ ’’ھما حبیبای‘‘ یعنی وہ میرے دوست ہیں (یہ حوالہ گزر چکا ہے) علیٰ ہذا القیاس حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت بلافصل پر غزئوہ تبوک کی روایت کو دلیل بنانا سخت ناواقفی اور بے خبری کی دلیل ہے۔ یعنی غزئوہ تبوک کے موقعہ پر حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حضرت علی کو ارشاد فرمانا’’ اما ترضیٰ ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ‘‘ یعنی اے علی آپ اس بات پر راضی نہیں کہ جو نسبت ہارون کو موسیٰ سے تھی وہی منزلت آپ کو مجھ سے ہوتی ۔ اب اس روایت سے ثابت کرنا کہ حضور ﷺ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بلافصل فرما رہے ہیں کس قدر بے محل ہے۔ اولاً اس لئے کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کی عین حیات میں فوت ہوگئے تھے ۔ اور حضرت موسیٰ کے خلیفہ نہ بلا فصل بune اور نہ بالفصل۔ دیکھو شیعوں کے مجتہدا عظم ملا باقر مجلسی کی کتاب حیات القلوب صفحہ۳۶۸ اور ناسخ التواریخ وغیرہ اور اولڈ ٹسٹامنٹ (بائبل) وغیرہ جہاں صراحۃً موجود ہے کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کی حین حیات میں فوت ہوئے اور یہود نے حضرت موسیٰ پر یہ اتہام لگایا کہ انہوں نے اس کو قتل کیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی برأت نازل فرمائی۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں ان کلمات طیبات کے ساتھ ہے۔ فبراہ اللہ مما قالوا وکان عنداللہ وجیھاo (پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اس اتہام سے بری فرمایا۔ جو کچھ کہ یہود نے ان کے متعلق باندھا تھا اور وہ اللہ کے نزدیک معزز ومحترم تھے) اور تفسیر صافی میں جو اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب ہے۔ بحوالہ تفسیر مجمع البیان جو شیعوں کے مجتہدا عظم کی تصنیف ہے۔ حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے روایت تصدیق کے لئے ملاحظہ فرمائیں۔
عن علی علیہ السلام ان موسیٰ و ھارون صعدا علٰی الجبل فمات ھارون فقالت بنو اسرائیل انت قتلتہٗo
یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ایک پہاڑ پر چڑھے۔ پس حضرت ہارون فوت ہو گئے تو بنی اسرائیل نے کہا کہ اے (حضرت) موسیٰ آپ نے ان کو قتل کیا ہے۔ الخ
حیات القلوب میں یہ واقعہ مفصل موجود ہے تو یہ مشابہت خلافت کے ساتھ قرار دینا کہ جیسے حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے خلیفہ تھے ویسے ہی حضرت علی حضوراقدس ﷺ کے خلیفہ تھے۔ انتہا درجہ تعجب انگیز ہے۔ دلیل خلافت بلافصل اس مشابہت کے ذریعے سے لائی گئی۔ مگر اس مشابہت کی وجہ سے مطلقاً خلافت نہ بلافصل اور نہ بالفصل ثابت ہو سکی۔ خدا کا شکر ہے کہ کسی خارجی منحوس کے کانوں تک اہل تشیع کی خلافت بلا فصل کے متعلق یہ دلیل نہیں پہنچی۔ ورنہ اہل تشیع حضرات کو لینے کے دینے پڑ جاتے۔
ناطقہ سربگریباں ہے۔۔۔۔۔۔۔
ہٹ دھرمی کی بھی انتہا ہے۔ جب حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورسیدنا نا امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت راشدہ کے متعلق ائمہ طاہرین کی سند کے ساتھ حضوراکرم ﷺ کا واضح اور غیر مبہم ارشاد خود اہل تشیع کی معتبر ترین کتابوں سے دکھایا جائے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ کہ ان ابابکر یلی الخلافۃ من بعدیی o یعنی میرے بعد ابوبکر خلیفہ ہیں اور اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب تفسیر امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور تفسیر صافی وغیرہ کی تصریحات پیش کی جائیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد خلیفہ ابوبکر ہیں۔ ان کے بعد عمر ہیں اور اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب نہج البلاغۃ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ان کی خلافت کو تسلیم فرمانا ان کے ہاتھ پر بیعت کرنا۔ ان کے ساتھ مشوروں میں شریک ہونا ثابت کیا جائے اور شیعوں کی معتبر ترین کتاب شافی اور تلخیص الشافی سے ائمہ طاہرین کی روایات کے ساتھ حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کا یہ ارشاد گرامی موجود ہو کہ ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) میرے پیارے ہیں امام الہدیٰ پیشوائے وقت ہیں۔ ہدایت کے امام ہیں، شیخ الاسلام ہیں اور مولا علی کایہ ارشاد خود ائمہ طاہرین کی سند کے ساتھ پیش کیا جائے۔ کہ حضور کی تمام امت سے افضل ابوبکر ہیں اور کتاب کافی سے یہ تصریح پیش کی جاوے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مرتبہ سب صحابہ سے افضل ہے اور اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب تفسیر حسن عسکری اور معافی الاخبار وغیرہ میں یہ تصریحات موجود ہوں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر بمنزلہ میری آنکھ کے ہیں اور عمر بمنزلہ میرے گوش مبارک کے ہیں اور عثمان بمنزلہ میرے دل کے ہیں۔ تو ان روایات کو دیکھ کر اہل تشیع کو خلافت کا یقین نہیںہوتا۔ نہ ہی ائمہ طاہرین کی روایات پرایمان لاتے نظر آتے ہیں۔ اور حضرت ہارون کی مشابہت سے خلافت بلافصل ثابت کرنے کی بڑی دور کی سوجھتی ہے۔ اگر حضرت علی کی خلافت ثابت کرنے کا اس قدر شوق ہے تو پہلے ان کو سچا بھی مانو۔ ان کے ارشادات پر ایمان بھی لائو۔ اور ان کی حدیثوں کو صحیح تسلیم کرو۔ ان معصومین کو جھوٹ مکر اور فریب سے پاک اور منزہ یقین کرو تو ہم جانیں کہ اہل تشیع کو ائمہ طاہرین معصومین کے ساتھ دلی الفت اور محبت ہے۔ حضرت ہارون کے ساتھ مشابہت ایک وقتی طور پر بہت مناسب ہے جیسے حضرت موسیٰ حضرت ہارون علیہماالسلام کو طور سینا پر جاتے وقت اپنے ...
مگر حسب روایت باقر مجلسی کی حیات القلوب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ مدینہ شریف میں رہنا پسند نہ فرمایا اور حضور ﷺ کے ساتھ جانا اختیار کیا اور شامل سفر باظفر ہوئے۔
مگر سوال یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مشابہت حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ حضور کے بعد خلافت کے متعلق موجود ہے یا نہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ چونکہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد خلیفہ نہ بune لک کذلک۔ البتہ ہم اہل السنت والجماعت کے اصول کے مطابق حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ رسول اللہ ﷺ کے چوتھے خلیفہ ہیں۔
اہل تشیع کے دلائل خلافت بلافصل کا نمونہ تو آپ دیکھ چکے جو تصریحات کا انکار، من گھڑت اور غلط توجیہات پر اصرار کا مجموعہ ہیں۔
لطیفہ
ایک دفعہ اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع کے مابین مناظرہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اہل تشیع کے مناظرنے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی خلافت بلافصل ثابت کرنے کے لئے کہا کہ میں قرآن سے ثابت کرتا ہوں میں حیران ہوکر دیکھنے لگا کہ یا اللہ تیری کس آیت سے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت بلافصل ثابت کرے گا تواس نے سورئہ زخرف کی تیسری آیت’’وانہٗ فی ام الکتٰب لدینا لعلی حکیم‘‘ ایک خاص انداز میں پڑھی ۔ کہ علی لوح محفوظ میں حکم لکھے ہوئے ہیں۔ بس پھر نعرہ حیدری بولتے ہوئے سٹیج سے کو دا اور بھاگا۔ مناظر اہل سنت بیچارہ منہ تکتا رہ گیا۔ میں نے انداز ہ لگایا کہ بے چارے بے خبر اور جاہلوں کو اسی طرح خلافت بلا فصل کے دلائل پیش کرکے پھسلایا جاتا ہوگا۔ میں اس مناظرہ میں بحیثیت حکم بیٹھا ہوا تھا۔ مگر فیصلہ سنانے کا موقعہ ہی نہ ملا۔ علماء طبقہ تو شان استدلال اور طرز قلا بازی دیکھ کر دم بخود ہو کر رہ گیا۔ اب وہاں کون تھا۔ جس کو جواب دیا جاتا۔ اور اس دلیل کے متعلق نظر اور فکر کا تجزیہ کیا جاتا۔
برادران وطن! سورئہ زخرف جس سے اس سخت جاہل نے حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت بلافصل ثابت کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کی آیات تلاوت فرماویں۔ حٰمٓ۔ والکتاب المبین۔ انا جعلناہ قرآنا عربیا لعلکم تعقلون ۱ وانہٗ فی ام الکتاب لدینا لعلی حکیم ۱ اس کا ترجمہ خود اہل تشیع کے مقبول ترین مترجم مقبول احمد دہلوی کی تحریر سے دیکھئے۔ ’’قسم ہے واضح کتاب کی بیشک ہم نے اس کو عربی قرآن مقر ر کیا۔ تاکہ تم سمجھو اور بیشک وہ ہمارے پاس ام الکتاب میں ضرور عالیشان اور حکمت والا ہے‘‘ تو شروع سے لے کر آخر تک قرآن حکم کی تعریف ہے۔ مگر اس سے حضرت علی مرادلینے اور پھر اپنے ذہن سے خلافت نکال کر اس کے ساتھ جوڑنے اور جب خلافت کا حلقہ جڑ گیا تو پھر بلافصل کا لفظ جوڑنے میں کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ لہٰذا ثابت ہو گیا کہ حضرت علی کی خلافت اور وہ بھی بلافصل ثابت ہو گئی ۔ (نعرئہ حیدری یا علی)۔
یہ استدلال اور طرز استدلال!
بھلا اس کے مقابل میں رسول خدا ﷺ کا صاف اور واضح ارشاد کہ میرے بعد خلیفہ ابوبکر اور پھر عمر ہوں گے یا حضرت علی کا ابوبکر و عمر کو امام الہدیٰ ومقتدائے امت فرمانا بھی کوئی دلیل خلافت ہو سکتی ہے؟ فما لھٰولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا ۱ (ان جاہلوں کو کیا ہوا بات سمجھتے ہی نہیں)امام حسن عسکری کی تفسیر، تفسیر قمی اور تفسیر صافی جیسی اہل تشیع کی معتبر کتابیں جن میں محبوب کبریا ﷺ کا صاف صاف ارشاد کہ میرے بعد خلفاء ابوبکر ان کے بعد عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہما)ہوں گے اور یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تسلیم نہ کرنا تعجب انگیز دعوے تولی (محبت) ہے۔
خداوندی تعالیٰ کے فرمان اور رسول ﷺ کا صاف صاف ارشاد اور حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور تمام ائمہ معصومین کی واضح غیر مبہم تصریحات کے بالمقابل اہل تشیع من گھڑت تخمینے اور خلافت بلافصل کے ٹوٹل (ٹوٹکے) لگائیں اور اللہ اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام اور تمام ائمہ معصومین کو جھٹلائیں اور ان کے ہر قول و فعل کو جو ان کے من گھڑت مذہب کے مخالف ہو اس کو تقیہ اور فریب کاری پر محمول کریں اور پھر محب بھی رہیں۔ سبحان اللہ!
کیا کہنے اس سوچ کے
اہل تشیع نے اپنے خود ساختہ مذہب کو محفوظ رکھنے کے لئے سوچا خوب ہے کہ جو حدیث اور روایت اس کے مخالف ہوگی۔ خواہ خود اہل تشیع ہی کے مصنفین نے اس کو ائمہ معصومین سے سنا اور ان کی اپنی کتابوں میں اس کو لکھا ہوا اور بانیان مذہب شیعہ نے کسی ایسی کڑی کو اپنے مذہب کے ساتھ منسلک کرنا ضروری خیال کیا ہو جو اس روایت و حدیث کے مخالف ہو تو پھر یہی تقیہ کام میں لایا جاسکے کہ ائمہ معصومین نے ہماری اس خود ساختہ پر داختہ کڑی کے خلاف جو فرمایا ہے اگرچہ وہ روایتیں ہماری کتابوں میں موجود ہیں۔ مگر بطور تقیہ ہیں۔ پس جتنی حدیثیں اور روایات اس مذہب کے خلاف کوئی پیش کرتا چلا جائے گا۔ اہل تشیع میاں مٹھو کی طرح ایک لفظ ’’تقیہ‘‘ بولتے چلے جائیں گے تو گویا تمام احادیث و روایات پیش کرنے والے کے بالمقابل اہل تشیع کا ایک طوطا جس کو صرف ’’تقیہ‘‘ کا لفظ زبان پر چڑھا دیا گیا ہو بطور مناظر پیش کر سکتے ہیں۔ یہ تقیہ امور عامہ سے بھی عام مانا گیا ہے۔ اب اس کے بعد جوچاہیں ائمہ صادقین کی طرف منسوب مذہب کو وسعت دیتے چلے جائیںمگر اتنا تو فرمائیں کہ جب ائمہ صادقین اپنے شیعوں کو ہمیشہ کوئی سچی بات بتانا کفر اور بے دینی (معاذ اللہ) یقین فرماتے تھے جیسا کہ مفصل بیان ہو چکا ہے اور تقیہ کو ایک لمحہ لے لئے بھی ترک فرمانا جائز نہ سمجھتے تھے۔ جیسا کہ مفصل بیان ہو چکا ہے تو پھر یہ تقیہ کے متعلق روایت بھی انہی ائمہ دین کی طرف منسوب ہیں تو پھر ان پر بھی ایمان لانے سے پہلے مسئلہ تقیہ کو ذہن سے خارج نہیں کرنا چاہئے۔ یا پھر تسلسل فی التقیہ پر ایمان रखना چاہئے کم از کم اپنے مذہب کو بچانے کے لئے اتنا تو کہتے کہ ائمہ معصومین سے جو روایتیں اپنے شیعوں کے سامنے بیان کی ہیں وہ سچی تھیں اور ناصبیوں یعنی اہل سنت والجماعت کے سامنے تقیہ اختیار فرماتے تھے مگر اس صورت میں بھی مذہب تشیع کی بنیاد کھوکھلی معلوم ہوتی ہے کیونکہ جتنے حوالے میں نے اس رسالے میں پیش کئے ہیں وہ تمام تر اہل تشیع کی معتبر کتابوں سے دئیے ہیں۔ وہ کتابیں جو بجز کافی کلینی کے تمام تر ایران یا نجف اشرف کی چھپی ہوئی ہیں اور کافی مطبوعہ ایرانی بھی مل گئی ہے۔ اس میں سے بھی کافی کے حوالے دکھانے کا ذمہ دار ہوں۔ اور جتنے حوالے دئیے ہیں وہ ائمہ معصومین طاہرین کی رووایت سے ہیں تو پھر خلفائے راشدین رضوا ن اللہ علیہم اجمعین کی خلافت کا انکار ان کی صدیقیت انکار کیوں؟مولا علی المر...
قرآن کا انکار
آج کل کے اہل تشیع حضرات یا تو اپنی مذہبی کتابوں سے مکمل ناواقفی کی وجہ سے یا کسی ماحول کے باعث بطور تقیہ قرآن کریم کو خدا کا کلام کہتے ہیںمگر بانیانِ مذہب تشیع اور راز داران مذہب تشیع کا ایمان قرآن کریم پر نہیں۔ اس قرآن کریم کو اسی وجہ سے ہر صریح جھوٹ بولتے وقت پھٹ سے سر پررکھ دیتے ہیں اور ایسی حالت میں جھوٹ بولنے میں ذرہ برابر تامل نہیں کرتے۔ جیسے کوئی مسلمان جھوٹ بولتے ہوئے ہندئووں کی پوتھی وغیرہ سر پر رکھ لے۔
شیعوں کے مذہبی پیشوا مطلقاً قرآن کا انکار ظاہر کرتے ہیں بلکہ جو قرآن کریم حضرت امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام حفاظ صحابہ کو طلب فرما کر جمع فرمایا جو آج ہمارے سینوں میں ہے اور مسلمانوں کی ہر مسجد میں جس کو بچے سے لے کر بوڑھے تک پڑھتے ہیں اور جو مسلمانوںکے سات سات سال عمر کے بچوں کو یاد ہے جس کو رمضان المبارک میں نماز تراویح میںختم کیا جاتا ہے جس کے تیس پارے ہیں جو سورئہ فاتحہ س شروع ہوتا اور سورئہ ناس پر ختم ہوتا ہے۔ بانیان مذہب شیعہ نے اس کا انکار کیا اور جب بھی اپنا ایمان قرآن پر ثابت کرتے ہیں تو اپنا موہوم قرآن (ستر گز والا جس نے قیامت سے پہلے لوگوں کو ہدایت کیلئے منہ نہیں دکھانا، حلال و حرام کی تعلیم صرف قیامت کو دے گا) ہی مراد لیتے ہیں تو پھر جس قرآن پر ان کا ایمان نہیں اس کو ہزار دفعہ جھوٹ بولتے وقت سر پر رکھیں۔ ان کے مذہب کو کیانقصان ہوسکتا ہے؟قرآن کریم پر مدعیان تولی کے ایمان کا نمونہ اصل عبارت میں پیش کرتا ہوں۔ تاکہ اہل علم لوگ تصدیق کر سکیں۔
اصول کافی صفحہ نمبر۶۷۱
فقال ابوعبداللہ علیہ السلام (الیٰ ان قال) اخرجہٗ علی علیہ السلام الی الناس حین فرغ منہ وکتبہٗ فقال لھم ھٰذا کتاب اللہ عزوجل کما انزلہ اللہ علٰی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) من اللوحین فقالوا ھوذا عندنا مصحف جامع فیہ القرآن لا حاجۃ لنا فیہ فقال اما واللہ ما ترونہٗ بعد یومکم ھٰذا ابدا انما کان علی ان اخبرکم حین جمعتہٗ لتقرء وہٗo
یعنی حضرت اما م جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی طرف منسوب کر کے) کہتے ہیں کہ جب حضرت علی قرآن کریم کے جمع کرنے اور اس کی کتابت سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے کہا کہ یہ اللہ عزوجل کی کتاب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کو نازل فرمایا ہے اور میں نے دولو حوں سے اس کو اکٹھا کیا ہے۔ جس پر لوگوں نے کہا کہ یہ ملاحظہ فرمالو کہ ہمارے پاس مصحف مبارک جامع موجود ہے جس میں قرآن ہی ہے۔ ہمیں آپ کے لائے ہوئے قرآن کی ضرورت نہیں اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم آج کے بعد تم اس کو کبھی نہ دیکھو گے میرے لئے ضروری تھا کہ جب میں نے اس کو جمع کیا ہے تو تمہیں اس کی خبردوں تاکہ تم اس کو پڑھتے۔
اب حسب روایت اصول کافی امام عالی مقام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب حدیث اور امام عالی مقام سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الشریف کا قسم اٹھانا کہ آج کے دن کے بعد کبھی تم اس کو نہ دیکھو گے۔ تو اس کے باوجود جو قرآن اہل تشیع دیکھتے ہیں اور اہل سنت سے سنتے ہیں جس کواہل سنت یا د کرتے ہیں ۔ تراویح میں ختم کرتے ہیں جس کو امیر المومنین عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمع کیا ہے۔ یہ تو بہر صورت وہ قرآن نہیں ہو سکتا جو قیامت سے پہلے آہی نہیں سکتا۔ اسی اصول کافی صفحہ۶۷۰ پر امام عالی مقام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کے ایک شیعہ صاحب بنام ’’احمد بن محمد‘‘ کہتے ہیں کہ مجھے امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ نے مصحف مبارک عطا فرمایا اور فرمایا کہ اس کو کھول کر مت دیکھنا ۔ میں نے کھولا اور دیکھا اور سورۃ لم یکن الذین الخ پڑھی تو میں نے اس سورت میں قریش کے ستر آدمیوں کے نام بمعہ ان کے آباء کے نام لکھے ہوئے موجود پائے تو امام صاحب نے میری یہ شان تعمیل حکم دیکھ کر میری طرف آدمی بھیجا کہ میرا قرآن مجھے واپس کردو۔ یہ واپسی کاقصہ تو اس ضرورت کے ماتحت گھڑنا پڑا کہ کوئی کہہ دے کہ امام صاحب کا لکھا ہوا قرآن ہمیں بھی دکھائو تو فصاحت وبلاغت قرآن سے ملتی جلتی عبارت کہاں سے پیدا کی جاتی بہر حال وہ قرآن جس کی سورۃ لم یکن الذین میں قریش کے ستر آدمیوں کے نام ہوں اور ان کے آباء کے نام ہوں وہ کوئی اور ہی ہے جس پر اہل تشیع کا ایمان ہے۔ یہ قرآن نہیں ۔ اہل تشیع کے مجتہدا عظم نے اپنی کتاب فصل الخطاب میں تو ایمان بالقرآن کا قصہ ہی ختم کر دیا ہے۔
اصول کافی صفحہ۶۷۱ کی ایک اور روایت بھی ملاحظہ کریں جس کے لفظ بلفظ ترجمہ پر اکتفا کرتا ہوں۔
اہل علم حضرات منطبق فرمالیں’’امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو قرآن حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف جبریل علیہ السلام لائے تھے۔ اس کی ستر ہ ہزار آیتیں تھیں‘‘ اور اہل سنت والجماعت غریبوں کے پاس تو صرف ۶۶۶۶آیات پر مشتمل قرآن حکم ہے اگر کسی قدر تفصیل کے ساتھ اہل تشیع کا قرآن کریم سے انکار دیکھنا چاہیں تو اصول کافی صفحہ۲۶۱تا صفحہ۲۶۸وصفحہ۶۷۰، ۶۷۱کا مطالعہ فرماویں اور ایمان بالقرآن کی داددیں کہ ایک سے دوسری روایت بڑھ چڑھ کر انکار قرآن میں وارد ہے اور کتاب ناسخ التواریخ جلد ۲ صفحہ۴۹۳، ۴۹۴پر تو اس قرآن کریم کے انکار پر شیعوں کا اجماع ثابت ہے اور اس قرآن کریم میں ردوبدل اور اس کی تنقیص میں تو ایک سے بڑھ کر ایک روایتوں کے انبار لگائے گئے ہیں تفسیر صافی جلد اول صفحہ ۱۴میں قرآن کی تحریف اور اس میں ردوبدل ثابت کرنے کے کمال دکھائے گئے ہیں اور مصنف کافی یعقوب کلینی اور ان کے استاد علی بن ابراہیم قمی کا اس بارے میں غلوثابت کیا گیا۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیمo
یہ چند روایتیں بطور نمونہ ہیں ورنہ اہل علم شاہد ہیں کہ اہل تشیع کی معتبر کتابوں میں جس کثرت کے ساتھ قرآن کریم کے انکار پر مشتمل روایات ہیں ان کا نصف بھی یکجا (جمع) کیا جائے۔ تو شرح کبیر لابن میثم کے لگ بھگ ایک مستقل ہوگی۔ مگر اندک دلیل بیسار و مشت نمونہ از خروار ہوتا ہے جو پیش ہے یہ بات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں کہ جب ان لوگوں کو قرآن بھی قیامت سے پہلے دیکھنا نصیب نہیں اور ائمہ طاہرین معصومین کے متعلق قطعی یقین حاصل ہے کہ وہ تقیہ نہ کرنا بے ایمانی اور بے دینی یقین فرماتے تھے۔ ان کے بغیر باقی تمام لوگ ان کے نزدیک اس قابل ہی نہیں کہ ان سے کوئی حدیث بھی قابل تسلیم مانی جاسکے تو پھر یہ مذہب اہل تشیع اور اس کی سچائی اور اس کے عقیدے اور اس کے حلال وحرام کس صداقت پر مبنی اور کس بنا پر قائم ہیں؟ بھائی جب ائمہ کرام خود فرماویں من اذاع علینا حدیثا اذلہ اللہ ومن کتمہٗ اعزہ اللہoیعنی جو شخص ہماری کس بات کو ظاہر کرے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ ذلیل کرے گا اور جس نے ہماری حدیثیں چھپائیں اور ظاہر نہ کیں اس کو اللہ تعالیٰ عزت دے گا اور جو تقیہ نہیں کرتا وہ بے دین ہے (حوالے گذار چکے ہیں) تو اماموں سے کسی حدیث کو ظاہر کرنا یا ان کی کسی بات یا کسی تعلیم کو صحیح طور پر بیان کرنا صراحتاً بے ایمانی، بے دینی ، دارین میں ذلت اور قطعی طور پر جہنمی ہونا ہے (دیکھو کافی باب التقیہ) ۔
اپنوں کی مخالفت کیوں
تو اب اہل تشیع کی تمام کتابیں جو ائمہ صادقین سے روایتوں پر مشتمل نظر آ رہی ہیں، خلافت بلافصل کا عقیدہ سب وشتم کا عقیدہ، باقی متعہ ہو یا تقیہ، وضو کی ترکیب، نماز کے انداز ، باقی کھانے پینے کے حلال و حرام اگر فی الواقع ائمہ طاہرین کی حدیثیں ہیں اور ان کو چھپانے کی بجائے ان کو شائع کیا گیا جلسوں میں لائوڈ سپیکروں کے ذریعہ لوگوں کو سنائی گئیں تو حسب فرمان امام عالی مقام یہ لوگ سخت بے ایمان بے دین اور دنیا و آخرت میں ائمہ کی نظر میں ذلیل اور جہنمی ہیں۔ اور اگر ائمہ کے تاکیدی ارشادات اور حکم کی تعمیل میں اصل حدیثیں اور اصل احکام نہیں لکھے گئے۔ نہ ہی ان کو شائع کیا گیا اور نہ ہی وہ لوگوں کو سنائے جاتے ہیں ۔ بلکہ وہ تو بہر صورت چھپائے ہی جاتے ہیں۔ یہ تمام تر کتابیں اور تقریریں ان کے اصل احکام کے خلاف اور مغائر ہیں۔ یہ تمام اعمال ، نماز ہو یا روزہ، وضوہو یا نماز کی ترکیب اور خاصانِ بارگاہ خدا رسول ﷺ کے حق میں سب وشتم۔ من گھڑت اور خود ساختہ روایات کی بنا پر ہیں تو اس صورت میں اہل تشیع حق بجانب معلوم ہوتے ہیں اور عقل سلیم بھی اسی صورت کو صحیح سمجھتی ہے۔ کیونکہ ائمہ طاہرین کی ایک حدیث اور ایک روایت بھی کوئی مخلص محب شیعہ تو ظاہر کرنے کی جراٌت نہیں کر سکتا۔ تو ان محبوں نے اصل کو چھپانے کیلئے غلط اور غیر صحیح بیان کرنے پر اکتفا کیا۔
مذہب شیعہ کا بانی
انہوں نے اپنی طرف سے کچھ سے کچھ جوڑ کر ایک مذہب بنا ڈالا۔ اسی صورت کا کھوج بھی ملتا ہے اور ذی عقل آدمی تو چور بھی پکڑ سکتے ہیں۔ ملاحظہ ہو اہل تشیع کی نہایت معتبر کتاب ناسخ التواریخ جلد ۲ حصہ۳ صفحہ۵۲۴سطر۶مطبوعہ ایران (اصفہان ) ۱۳۹۵ھ مطالعہ کی سفارش کرتا ہوں تاکہ آپ کو حق الیقین ہو جائے کہ میں جو کچھ عرض کر رہا ہوں مذہب تعصب کی بنا پر نہیں بلکہ واقعات کی روشنی میں اور حق و صداقت پر مبنی یہ معروضات ہیں سب سے پہلے جس شخص نے خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے متعلق غصب خلافت کا قول کیا ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بلافصل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ایک یہودی تھا جس کا نام عبداللہ بن سبا ہے جو امیر المومنین سیدنا عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں تقیہ کرکے مدینہ انور میں آیا۔ اور اسلام ظاہر کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین علی الخصوص خلفائے راشدین سابقین کے خلاف خفیہ طور پر سب بکنا شروع کیا۔ پھر مدینہ اقدس سے نکالا گیا تو مصر میں جا کر ایک گروہ بنا لیا اور سیدنا عثمان کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا یا اور آخر ایسا فتنہ برپا کیا جس میں امیر المومنین شہید ہوئے۔ الخمیں چاہتا ہوں کہ صاحب ناسخ التواریخ کی بعینہٖ عبارت پیش کروں ۔
۳۵ھ میں رجعی مذہب پیدا ہونے کا ذکر
ذکر پد ید آمدن مذہب رجعت درسال سی وپنجم ہجری عبداللہ بن سبامردی جہود بوددر زمان عثمان ابن عفان سلماخا گرفت واواز کتب پیشین ومصاحف سابقین نیک دانا بود چوں مسلمان شد خلافت عثمان در خاطر اوپسندید نیفتاد، پس درمجالس ومحافل بنشستے وقبائح اعمال و مثالب عثمان راہرچہ توانستی باز گفتی، ایں خبربہ عثمان بردند گفت باری ایں جہود کیست و فرمان کرد تااورا ازمدینہ اخراج نمودند۔ عبداللہ بمصر آمد و چوں مردی عالم ودانا بودمردم بروی گرد آمد ندوکلمات اور اباورداشتند۔ گفت! ہاں اے مردم مگر نشیندہ اید کہ نصاریٰ گوئند عیسیٰ علیہ السلام بدیں جہاں رجعت کندوباز آید۔ چنانچہ درشریعت مانیز ایں سخن استوار است۔ چوں عیسیٰ رجعت تواند کرد محمد کہ بیگماں فاضل تر ازوست چگونہ رجعت نہ کندوخداوند نیز در قرآن کریم میفر مائید ان الذی فرض علیک القرآن لر آدک الیٰ معاد ۔چوں ایں سخن ر ادر خاطر ہا جائے گیر ساخت گفت خداوند صدوبیست و چہار پیغمبربدیں زمین فرستاد وہر پیغمبر یراوزیرے و خلیفتی بود چگونہ میشود پیغمبرے ازجہاں برود خاصہ وقتے کہ صاحب شریعت باشد ہ نامبے وخلفیتے بخلق نگمار دوکارامت رامہمل بگز ارد ہمانا محمدراعلی علیہ السلام وصی و خلیفہ بود چنانکہ خود فرمود انت منی منزلۃ ھٰرون من موسیٰ ازیںمتیواں دانست کہ علی خلیفہ محمد است و عثمان ایں منصب راغصب کردہ وباخودبستہ عمر نیز بناحق ایں کار بشوری افگند و عبدالرحمان بن عوف بہوای نفس دست بردست عثمان زددست علی را کہ گرفتہ بود با اوبیعت کند رہا داداکنوں برماکہ درشریعت محمد یم واجب میکند کہ از امر بمعروف ونہی از منکر خویشتن داری نکنیم چنانچہ خدائی فرماید کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر پس بامردم خویش گفت ماراہنوز آں نیر ونیست کہ بتوانیم عثمان رادفع داد واجب مکیند کہ چنداں کہ بتوانیم عمال عثمان راکہ آتش جورو ستم رادامن میز نند ضعیف داریم و قبائح اعمال ایشاں رابر عالمیاں روشن سازیم ودلہائے مردم رااز عثمان واعمال اوبگر دانیم پس نامہا نوشتند واز عبداللہ بن ابی سرح کہ امارات مصر داشت باطراف جہاں شکایت فرستادند ومردم رایک دل ویکجہت کردند کہ در مدینہ گرد آیند و بر عثمان امر بمعروف کنند اورا از خلیفتی خلع فرمایند عثمان ایں معنی راتفرس ہمی کرد ومروان بن الحکم جاسوسان بہ شہر فرستاد تاخبر باز آور دند کہ بزرگان ہر بلد درخلع عثمان ہمد استانند لاجرم عثمان ضعیف وبرکار خود فروماند محصور شدن عثما... ترجمہ: عبداللہ بن سباء ایک یہودی تھا۔ جس نے حضرت امیر عثمان (رضی اللہ عنہ) کے زمانہ میں اسلام ظاہر کیا اور وہ پہلی کتابوں اور صحیفوں کا اچھا عالم تھا۔ جب مسلمان ہوا تو امیر عثمان (رضی اللہ عنہ) کی خلافت اس کے دل کو پسند نہ آئی تو مجلسوں اور محفلوں میں بیٹھ کر حضرت امیر عثمان (رضی اللہ عنہ) کے متعلق بدگوئیاں شروع کرنے لگا اور برے اعمال وغیرہ جو کچھ بھی اس کے امکان میں تھا حضرت امیر عثمان کی طرف منسوب کرنے لگا۔ امیر عثمان کی خدمت میں یہ خبر پہنچائی گئی۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ یہودی ہے کون؟ اور حکم دیا (گیا)تو اس یہودی (عبداللہ بن سبا) کو مدینہ شریف سے نکال دیا گیا۔ عبداللہ مصر پہنچا اور چونکہ آدمی عالم اور دانا تھا۔ تو لوگوں کا اس پر جمگھٹا ہونے لگا اور لوگوں نے اس کو تقریروں پر یقین کرنا شروع کر دیا۔ تو ایک دن اس نے کہا۔ ہاں اے لوگو! تم لوگوں نے شاید سنا ہوگا کہ عیسائی لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس جہان میں رجعت کریں گے (دوبارہ آئیں گے) جیسا کہ ہماری شریعت میں یہ بات محقق ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام دو بارہ آسکتے ہیں تو حضرت محمد ﷺ جو ان سے مرتبہ میں بہت زیادہ ہیں کس طرح دوبارہ تشریف نہ لائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی قرآن میں فرماتا ہے کہ جس ذات نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے۔ یقیناً آپ کو آپ کے اصلی وطن سے لوٹائے گا۔ جب اس عقیدہ کو لوگوں کے دلوں میں پختہ کر چکا تو کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں دنیا میں بھیجے ہیں اور ہر ایک پیغمبر کا ایک وزیز اور ایک خلیفہ تھا۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک پیغمبر دنیا سے رحلت فرمائے علی الخصوص جبکہ وہ صاحب شریعت بھی ہو اور کوئی اپنا نائب اور خلیفہ مقرر نہ فرماوے اور امت کا معاملہ یونہی چھوڑ دے تو اسی بنا پر حضور ﷺ کے وصی اور خلیفہ حضرت علی ہیں ۔ چنانچہ حضور ﷺ نے خود فرمایا ہے۔ انت منی بمنزلۃ ھٰرون من موسیٰ۔ یعنی تو میرے نزدیک ایسا ہے جیسے ہارون موسیٰ(علیہما السلام)کے نزدیک تھے۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ حضرت علی (حضور ) محمد(ﷺ) کے خلیفہ ہیںاور (حضرت) عثمان نے اس منصب کو غصب کر لیا ہے اور اپنی ذات کے ساتھ لگا لیا ہے عمر (رضی اللہ عنہ) نے بھی ناحق منصب خلافت کو مجلس شوریٰ کے سپرد کر دیا ۔ الخ
یہ عبارت نقل کرنے سے چند گزارشات مقصود ہیں:۔
(۱) رجعی مذہب دنیا میں سب سے پہلے جس شخص نے پیدا کیا وہ عبداللہ ابن سبا ہے۔ (۲) خلفائے راشدین (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے متعلق غاصب کہنا اور ان کی خلافت کو ناحق بیان کرنے کی ابتدا۔ اسی عبداللہ بن سبا سے ہوئی۔ (۳) خلافت بلافصل علی(رضی اللہ عنہ) کا سب سے پہلے علمبردار بھی عبداللہ بن سبا ہے۔ عبداللہ بن سبا کے متعلق ائمہ ہدیٰ کی تصریحات سے آئندہ سطور میں کسی قدر تبصرہ ہوگا۔ (۴) سردست اتنا عرض کرنا ہے کہ شیعوں کے مذہب کی بنا اسی عبداللہ ابن سباء نے رکھی شیعوں کے مجتہدا عظم ملابا قر مجلسی نے اپنی کتاب حق الیقین (صفحہ ۱۵۰ مطبوعہ ایران) میں مقصد نہم کو اسی مسئلہ رجعت کے ثبوت میں انتہائی زور و شور کے ساتھ لکھا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ ’’بدانکہ از جملہ اجماعیات شیعہ بلکہ ضروریات مذہب حق فریقہ محقہ حقیقت رجعت است‘‘ یعنی جاننا چاہئے کہ من جملہ ان اعتقادات کے جن پر تمام شیعوں کا اجماع ہے بلکہ ان کے مذہب کی ضروریات میں سے ہے۔ وہ رجعت کے مسئلہ کو حق جاننا ہے۔
اب اہل دانش وبینش کے نزدیک یہ بات روز روشن سے بھی زیادہ واضح ہو گئی کہ مسئلہ رجعت کو ظاہر کرنے والا اور خلافت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو بلا فصل کہنے والا اور خلفائے راشدین (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے متعلق غصب اور ظلم منسوب کرنے والا سب سے پہلے عبداللہ ابن سبا ہے اور باقر مجلسی کی تصریح سے یہ ثابت ہوا کہ یہی عبداللہ ابن سبا کے عقیدے، شیعوں کے ضروریا ت دین میں سے ہیں اور شیعوں کے مجمع علیہ عقائد میں سے ہیں۔ اور کتاب ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ میں ہے کہ ’’ہر کہ ایمان برجعت ندا رداز مانیست‘‘ جو شخص رجعت کا عقیدہ نہیں رکھتا۔ وہ ہم (شیعہ فرقہ ) سے نہیں بھی مدنظر رکھیں۱۲۔
بہت بڑا افتراء پرداز
اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب رجاء الکشی صفحہ ۴۱ پر بھی عبداللہ بن سبا کا بیان ہے چونکہ روایت امام عالی مقام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی ہے لہٰذا لفظ بلفظ مطالعہ کے لئے پیش کرتا ہوں۔
ویل لمن کذب علینا وان قوما یقولون فینا مالا نقولہ فی انفسنا نبرا الٰی اللہ منھم نبرا الی اللہ منھم مرتین (ثم قال) قال علی ابن الحسین (رضی اللہ عنھما) لعن اللہ من کدب علیا علیہ السلام انی ذکرت عبداللہ ابن سبافقامت کل شعر فی جسدہ (وقال) لقد ادعٰی امرا عظیما لعنہ اللہ کان علی علیہ السلام واللہ عبداللہ واخو رسول اللہ مانال الکرامۃ من اللہ الا بطاعتہٖ للہ ولرسولہٖ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) وما نال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الکرامۃ الا بطاعتہٖ (ثم قال) وکان الذی یکذب علیہ فیعمل تکذیب صدقہٖ ویفتری علٰی اللہ الکذب عبداللہ ابن سبا (ثم قال) ذکر بعض اھل العلم ان عبداللہ بن سباء کان یھودیا فاسلم ووال علیا علیہ السلام وکان یقول وھو علٰی یھودیتہ فی یوشع ابن نون وصی موسٰی بالغلو فقال فی اسلامہٖ بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی علی مثل ذٰلک وکان اول من اشھر بالقول برفض امامۃ علی علیہ السلام (الٰی ان قال) ومن ھٰھنا قال من خالف الشیعۃ اصل الشیع والرفض ماخوذ من الیھودیۃo
یعنی امام عالی مقام فرماتے ہیں کہ اس شخص کے لئے جہنم ہے جس نے ہم پر جھوٹے بہتان باندھے ہیں اور ایک قوم ہمارے متعلق ایسی ایسی باتیں گھڑتی ہے جو ہم نہیں کہتے ہم ان سے بری ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ہم ان سے بری ہیں امام عالی مقام نے دو دفعہ فرمایا(اس کے بعد) فرمایا کہ حضرت امام زین العابدین نے فرمایا کہ جس شخص نے حضرت علی کو جھٹلایا اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ میں نے ان کی خدمت میں عبداللہ بن سبا کا ذکر کیا تو اس کا نام سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اس نے بڑی بات کا دعویٰ کیا تھا اور خدا کی قسم علی علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں او ر اللہ کے رسول کے بھائی ہیں۔ ﷺ آپ نے جو بھی کرامت حاصل کی ہے ۔فقط اﷲ اور اسکے رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی وجہ سے حاصل کی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے کرامت حاصل کی ہے۔ (پھر فرمایا) اور جو شخص حضرت علی پر جھوٹے بہتان باندھتا تھا اور آپ کی سچی باتوں کو جھوٹ کے ساتھ تعبیر کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتا تھا وہ عبداللہ بن سبا تھا (اس کے بعد کہا) بعض علماء نے کہا ہے کہ عبداللہ بن سبا یہودی تھا۔ اسلام ظاہر کیا اور حضرت علی کا تولی اور ان کی محبت کا دم بھرنے لگا۔ جب یہودی تھا تو حضرت یوشع بن نون کو حضرت موسیٰ کا وصی (خلیفہ بلافصل )کہنے میںغلو کرتا تھا اور اپنے اسلام کی حالت میں کہتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت علی وصی (خلیفہ بلافصل) ہیں اور سب سے پہلے جس شخص نے رفض کے ساتھ حضرت علی کی امامت بلافصل کا قول کیا ہے۔ وہ عبداللہ بن سبا تھا (پھرکہا) اسی وجہ سے جو شخص بھی شیعہ کا مخالف ہے وہ یہی کہتا ہے کہ تشیع ورفض کی جڑ یہودیت ہے الخ۔
شیعہ منافق ہیں
چونکہ اس تحریر سے میرا مقصد صرف مخلصانہ مشورہ ہے اور اہل بصیرت حضرات کی خدمت میں غور و فکر کرنے کی درخواست ہے۔ اگر اہل تشیع حضرات برانہ منائیں تو ان کو آئمہ معصومین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے چند ملفوظات او ر بھی سنائوں ۔ اور یہ مشوروں کہ ائمہ معصومین چونکہ کذب اور جھوٹ سے مبرا اور منزہ ہیں۔ اس لئے ان کے کلام کو سچا جان کر اس پر ایمان لائیں۔
رجاء الکشی صفحہ ۱۹۳
قال ابو الحسن علیہ السلام ما انزل اللہ سبحانہٗ آیۃ فی المنافقین الا وھی فی من ینتحل الشیعۃ الخ۔
یعنی امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ سبحانہ نے جو آیات بھی منافقین کے بارے میں نازل فرمائی ہیں۔ تو ان منافقین سے مراد صرف وہی لوگ ہیں جو اپنے آپ کو شیعہ بیان کرتے ہیں۱۲۔
درحقیقت تقیہ سے زیادہ وجہ تشبیہ اور ہو ہی کیا سکتی ہے۔ اسی طرح کافی کتاب الروضہ صفحہ۱۰۷ میں ہے۔ امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں اپنے شیعوں کو باقی لوگوں سے جدا کروں تو صرف زبانی وصف کرنے والے ہی پائوں گا۔ اور اگر میں ان کے ایمان کا امتحان لوں تو تمام کے تمام مرتد دیکھوں گا اور اگر میں اچھی طرح چھان بین کر وں تو ہزارمیں سے ایک بھی نہ ملے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ لوگ کہتے ہیں ہم علی کے شیعہ ہیں۔ حقیقتاً علی کا شیعہ وہی ہے جو ان کے قول و فعل کو سچا جانتا ہے اور رجاء الکشی صفحہ ۱۹۴میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم ہے جو گمان کرتی ہے کہ میں ان کا امام ہوں خدا کی قسم میں ان کا کوئی امام نہیں کیونکہ وہ لوگ اللہ کے ملعون ہیں۔ جتنی دفعہ بھی میں نے عزت کا سامان مہیا کیا۔ تو ان لوگوں نے اس کو خراب کیا۔ اللہ ان کی عزت خراب کرے۔میں کچھ کہتا ہوں تو یہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ میری مراد ظاہری الفاظ سے ہے۔ میں صرف انہی لوگوں کا امام ہوں جن لوگوں نے میری صحیح معنی میں تابعدادری کی اور اسی کتاب کے صفحہ ۱۹۸میں ہے کہ امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ رات جو جب میں سو جاتا ہو ں تو سب سے زیادہ دشمن انہی لوگوں کو پاتا ہوں۔ جو ہماری محبت وتولی کا دم بھرتے ہیں۔
قاتلین امام حسین
اب تھوڑا سا غور اس بات پر بھی کر لیں کہ امام عالی مقام سیدنا ابن علی رضی اللہ عنہما کو کن لوگوں نے شہید کیا۔ اور وہ لوگ کون تھے ۔ جنہوں نے مکروفریب کے ساتھ لاتعداد دعوت نامے لکھئے تھے۔
احتجاج طبرسی صفحہ۱۵۷حضرت سیدنا امام زین العابدین کوفیوں کو خطاب کرکے فرماتے ہیں کہ تم نہیں جانتے کہ تم ہی لوگوں نے میرے والد ماجد کی طرف خط لکھے اور تم ہی نے ان سے دھوکا کیا اور تم ہی لوگوں نے اپنی طرف سے عہد و پیمان باندھے، بیعت کی اور تم ہی لوگوں نے ان کو شہید کیا اور ان کو تکلیفیں دیں۔ پس جو ظلم تم نے کمائے ان کی وجہ سے ہلاکت ہے تمہارے لئے اور تمہارے برے ارادوں کے لئے۔ تم نے میر ی آل کو قتل کیا اور میرے خاندان کو تکلیفیں پہنچائیں۔ پس تم میری امت سے نہیں ہو۔ اور کتاب کشف الغمہ صفحہ ۱۸۷ پر اہل کوفہ کے دعوت ناموں کی بعینہٖ عبارت کی نقل موجود ہے۔ ملاحظہ فرماویں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم للحسین ابن علی امیر المومنین من شیعتہٖ وشیعۃ ابیہ امیر المومنین سلام اللہ علیک اما بعد فان الناس منتظروک ولا ارٰی لھم غیرک فالعجل العجل یا بن رسول اللہ والسلام علیکo
یعنی حضرت حسین ابن علی امیر المومنین کی طرف سے ان کے شیعوں کی جانب سے یہ دعوت نامے ہیں۔ آپ پر اللہ تعالیٰ کا سلام ہو۔ اس کے بعد گذارش ہے کہ لوگ آپ کے انتظار میںہیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بغیر ان کی نگاہ کسی پر نہیں پڑ رہی۔ اے اللہ کے رسولﷺ کا خانوادہ جلد از جلد تشریف لائیے (تاکہ یہ انتظار بھی ختم ہو)
کتاب مجالس المومنین صفحہ۲۵۰کی عبارت بھی ملاحظہ ہو کہ کوفہ میں کون لوگ تھے؟ جنہوں نے دعوت نامے بھیجے۔
وبالجملہ تشیع اہل کوفہ حاجت بہ اقامت دلیل ندارد وسنی بودن کوفی الاصل خلاف اصل ومحتاج بدلیل است۔
یعنی اہل کوفہ کا شیعہ ہونا محتاج دلیل نہیں بلکہ بدیہی امر ہے اور اہل کوفہ کا سنی ہونا اصل و نقل کے خلاف ہے۔
اب ذرا ان کو فیوں کے متعلق اور محبت و تولی کے علمبرداروں کے متعلق امام عالی مقام سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ کا دوسرا ارشاد بھی سن لیں۔ کتاب مناقب المعصومین صفحہ ۵۲ مطبوعہ ایران’’ اے شیعان، اے محبان لعنت خدا ولعنت رسول ﷺ پر تمام اہل کوفہ و شام باد‘‘ یعنی اے شیعو! اے محبو! اللہ کی لعنت اور اللہ کے رسول ﷺ کی لعنت تم تمام اہل کوفہ و شام پر ہو۔
غالباً ائمہ کرام جن روایات کو ظاہر کرنا ذلت کا موجب تھا اور جن کے چھپانے کے متعلق بانیان مذہب شیعہ نے تاکیدیں کی تھیں اوراس بارے میں روایتیں گھڑی تھیں۔ وہ یہی ائمہ کرام کی حد یثیں ہیں جن کا نمونہ پیش کر چکا ہوں۔ واقعی اگر ائمہ کرام کے یہ ارشادات لوگوں کو سنائے جائیں تو کون بے وقوف شیعہ مذہب اختیار کرے گا۔
تفسیر قمی صفحہ ۳۴، مطبوعہ ایران میں آیت کریمہ ’’اذ تبرا الذین اتبعوا من الذین اتبعوا ورا واالعذاب وتقطعت بھم الاسبابoوقال الذین اتبعوا لو ان لنا کرۃ فنتبرا منھم کما تبرء وامنآ کذٰلک یریھم اللہ اعمالھم حسرات علیھم وما ھم بخار جین من النارoحضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں اذا کان یوم القیامۃ تبرا کل امام من شیعتہٖ وتبرات کل شیعۃ من امامھاoجب قیامت کا دن ہوگا تو ہر امام اپنے شیعہ سے بری ہوگا اور ہر شیعہ اپنے امام سے بری ہوگا ، اور ان پر تبرا کرے گا۔
اسی طرح یہی روایت حضرت امام جعفر صادق سے اصول کافی صفحہ۲۳۷پر موجود ہے۔ وغیر ذلک مالا تحاط بالحد ولاتنتھی بالعدo
تقیہ کی ضرورت
ظاہر ہے کہ ائمہ صادقین کے یہ ارشادات اور یہ حدیثیں اہل تشیع کے لئے ظاہر کرنا موت کا پیغام تھا تو ان کو چھپانے کے لئے کیوں نہ تقیہ کے باب باندھے جاتے ۔
حضرات ! ان روایات کا نمونہ جو میں نے پیش کیا ہے اس سے اہل تشیع کے مذہب کی ایک جہت سے تائید بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے اماموں کے ارشادات کو خوب چھپایا اور خون ان پر پردہ ڈالا کہ ائمہ صادقین پر اتہام تقیہ لگا کر ان کے کسی قول اور فعل کو یقین کے قابل نہ چھوڑا اوران کے ارشاد واعمال کے خلاف ایک مذہب گھڑ کر ان پر پردہ ڈال دیا۔ مگر جس طرح اہل تشیع کے مذہب میںصحیح اور سچی بات کو چھپانا فرض ہے۔ اسی طرح اہل السنۃ کے مذہب میں صحیح اور سچی بات کو ظاہر کرنا فرض ہے۔ اس لئے مجبوراً ظاہر کی ہیں اور وہ بھی بہت کم تاکہ اہل تشیع حضرات برانہ منائیں۔ ورنہ سخن بسیاراست۔
صاحب کشف الغمہ نے اہل السنت غریبوں کو تو اس اتہام سے کو سا کہ وہ ائمہ طاہرین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے روایتیں نہیںلیتے بلکہ ان کی روایات کو پھینک دیتے ہیں (نفل کفر کفر نباشد) ا س لئے ائمہ طاہرین کی روایات شیعان ومحبان کی مستند ومعتبر کتابوں سے ہی لینا پڑیں تاکہ شیعان اور محبان شیاہ پوشان تو کم از کم ائمہ کرام کے ارشادات اور ان کے فرامین کو سچا مانیں اور ان پر ایمان لا کر صحیح نصب العین مقرر فرمائیں ۔ اور ائمہ طاہرین، معصومین ، صادقین کی تصریحات کے خلاف خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہ اجمعین کے حق میں گھڑت قصے کہانیاں کی بنا پر غاصب یا ظالم کہنا چھوڑ دیں۔
خلفائے راشدین رضوان اللہ علیم اجمعین کے متعلق قطعی اور یقینی علم ہر لحاظ سے ائمہ صادقین ہی کو ہو سکتا ہے۔ ان کے ارشادات کو دیکھیں جو خلفائے راشدین کے مناقب میں خود اہل تشیع کی مستند ومعتبر کتابوں میں حدو حساب سے باہر ہیں جن کا نمونہ عرض کر چکا ہوں۔ جن کے اعمال ناموں کے ساتھ مولا علی رشک فرماویں۔ جن کو حضرت علی امام الہدیٰ اور شیخ الاسلام فرماویں جن کے متبعین کو صراط مستقیم پر پکا یقین فرماویں۔ جن کی اتباع کو سرا سرا ہدایت یقین فرماویں۔ ان تمام ارشادات کے برعکس ان کو ظالم اور غاصب کہنا سراسر حضرت علی المرتضیٰ اور باقی ائمہ کی تکذیب ہی ہے اس کے سوا انصاف سے بتائیے اور کہا ہے؟
باغ فدک
جہلا اور ان پڑھ وناواقف لوگوں کو باغ فدک کے قصے گھڑ کر سنانا اور ان کو ائمہ صادقین کے صریح غیر مبہم اور واضح ارشادات سے منحرف کرنا چھوڑ دو۔
غور سے سنئے فدک کے متعلق اصول کافی صفحہ ۳۵۱
وکانت فدک لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاصۃ لانہٗ فتحھا وامیر المومنین لم یکن معھما احد فزال عنہ اسم الفیء ولزمھا اسم الانفالo
یعنی فدک صرف رسول اللہ ﷺ کا تھا کیونکہ اس کو صرف رسول اللہ ﷺ ہی نے فتح کیا تھا اور امیر المومنین نے جن کے ساتھ اور کوئی نہیںتھا۔ تو اس کا نام فئی نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا نام انفال ہے۔
اب یہ تحقیق کہ اس غزوہ میں حضور اقدس ﷺ کے ساتھ بجز حضرت علی کے اور کوئی صحابی نہ تھا۔ واقف حال حضرات پر چھوڑتے ہیں۔ سردست صرف اتنی گزارش کرتے ہیں کہ کافی کی تصریح سے اتنا تو واضح ہو گیا کہ فدک فئی نہیں تھا۔ بلکہ انفال تھا ۔ تو اب انفال کے متعلق حضرت امام عالی مقام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا واضح اور کھلا فیصلہ ملاحظہ فرمالیں ۔
اصولی کافی صفحہ نمبر ۳۵۲
قال الانفال مالم یرجف علیہ بخیل ولا رکاب اوقوم صالحوا او قوم اعطوا بایدیھم وکل ارض خربۃ اوبطون اودیۃ فھولرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو للامام بعدہٗ یضعہٗ حیث یشآءo اما م عالی مقام انفال کی تعریف اور اس کا حکم بیان فرماتے ہیں کہ انفال وہ ہوتا ہے جس کا حصول فوج کشی کے ساتھ نہ ہو یا دشمن جنگ کی مصالحت پر پیش کرے یا ویسے کوئی قوم کسی حکومت اسلامیہ کو اپنے اختیار سے دے یا وہ زمین جو لاوارث غیر آباد چلی آتی ہو یا دریائوں اور پہاڑی نالوں کا پیٹ ہو تو یہ سب انفال ہیں حضور ﷺ کے زمانہ اقدس میں انفال کے واحد مالک رسول اللہ ﷺ تھے۔ آپ کے بعد جو امام اور خلیفہ ہوگا وہ ہی مالک ہوگا۔ جس طرح چاہے اس کو خرچ کرے۔
اسی طرح فروع کافی صفحہ۶۲۶ملاحظہ فرمائیں اور اصول کافی صفحہ۳۵۱پر بھی فدک کو انفال ثابت کیا گیا ہے۔ تو فدک کا انفال ثابت کیا گیا ہے۔ تو فدک کا انفال ہونا جب تسلیم کر لیا گیا اور انفال کے متعلق یہ تسلیم کر لیا گیا کہ امام اور خلیفہ اس کے تصرف میں مختار عام ہے اور خلفائے راشدین کی امامت بحوالہ شافی وتلخیص الشافی ونہج البلاغۃ وابن میثم وغیرہ ثابت اور محقق ہو چکی ہے اور بحوالہ کشف الغمہ ان کی صدیقیت اظہر من الشمس ہے اور بحوالہ ابن میثم ونہجہ البلاغۃ و کافی وغیرہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ان کے ہاتھ پر بیعت کرنا ثابت ہو چکا ہے اور حضرت امام عالی مقام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے غیر مستحق خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت نہ کرنے کا فتویٰ قیامت تک نہ مٹنے والے نقوش کے ساتھ دے دیا ہے۔ تو پھر ان ائمہ ہدیٰ نے اگر فرض بھی کر لیں کہ حسب ادعاء شیعہ فدک کو تقسیم نہیں فرمایا۔ تو اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ اور ائمہ صادقین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عین مذہب وعین دین کے مطابق عمل فرمایا۔ پھر ظلم اور غصب کے اتہامات کس قدر لغو اور بے معنی ہیں۔ آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اور امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے اور امام عالی مقام سیدناحسن رضی اﷲ عنہ اور اما م سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ نے اوراما م باقر رضی اللہ عنہ اور اما م عالی مقام سیدنا جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے بھی تو یہی سنت اختیار فرمائی اور فدک کا تقسیم کرنا جائز نہ سمجھا۔ اسی طریقے پر عمل در آمد فرمایا جس طریقے پر کہ خلفائے راشدین نے فرمایا تھا۔
یقین نہ آئے تو اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب کشف الغمہ صفحہ۱۴۷سطر ۲۳ملاحظہ فرماویں کہ سب سے پہلے عمر بن عبدلعزیز خلیفہ بنوامیہ کا فدک کو تقسیم کرنا مر قوم ہے۔
راویوں کا تجزیہ
اہل السنت والجماعت پر اعتراض کرنے سے پہلے اہل السنت والجماعت کے مذہب کے متعلق واقفیت ضروری ہے۔ ذاکرین اہل تشیع جب اپنے اصول مذہب سے ناواقف ہیں تو اہل السنت والجماعت کے اصول کیونکر سمجھ سکتے ہیں۔ میاں!! اہل السنت والجماعت کے مذہب کا اصل الاصول یہ ہے کہ حدیث کی صحت یا ضعف، راوی کی صحت یا ضعف پر موقوف ہے۔ اگر حدیث کا راوی صحیح العقیدہ، سچا صحیح حافظہ والا ہے تو اس کی روایت کو صحیح مانا جائے گا۔ ورنہ روایت ضعیف کہلائے گی۔ فدک والی روایت میں ایک شخص محمد بن مسلم ہے جس کو ابن شہاب زہری بھی کہتے ہیں۔ صرف یہی راوی یہ روایت کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ دوسرا کوئی شاید نہیں اور یہ ابن شہاب زہری اہل تشیع کی اصول کافی میں بیسیوں جگہ روایتیں کرتا نظر آتا ہے۔ اور اہل تشیع کی فروع کافی نے تو اس کی روایتوں کے بل بوتے پر کتاب کی شکل اختیار کی ہے تو بھائیو! اہل تشیع کے اس قدر مشہور اور معروف کثیر الروایت آدمی کی روایت سے اہل السنت پر الزام قائم کرنا اور ائمہ صادقین کو جھٹلانا عجیب نظر وفکر ہے۔ اگر اہل تشیع کے راویوں کی روایات اہل السنت کے لئے قابل توجہ ہوتیں۔ تو پھر بخاری ہو یا کافی کلینی اس میں کیا فرق تھا۔ آ پ کی مزید تسلی کے لئے اسی محمد بن مسلم بن شہاب زہری صاحب کو کتاب منتہی المقال یارجال بو علی میں شیعوں کی صف میں بے نقاب بیٹھا ہوا دکھاتے ہیں۔ دیکھو کتاب رجال بوعلی جہاں صاف لکھا ہوا ہے کہ محمد بن مسلم بن شہاب زہری شیعہ ہے تو فدک کا جھگڑا اب تو ختم کرو۔ ہم ابن شہاب زہری کو اچھا سمجھتے۔ اگر گھر کے بھیدی یہ بھید نہ کھولتے۔ اس کے باوجود بھی اس کی روایت پر غور کرتے۔ اگر کوئی ایک دوسرا بھی اس کے ساتھ مل کر شہادت دیتا۔ اہل السنت ولجماعت غریب اس قدر مظلوم ہیں کہ ان کے مذہب کے خلاف اگر کوئی شیعہ اور وہ بھی اکیلا روایت کرے تو اس کو اہل سنت پر بطور الزام پیش کیا جاتا ہے۔ اور اہل تشیع ا س قدر بااختیار ہیں کہ ان کی اپنی کتابوں میں ائمہ معصومین کی سند سے کوئی حدیث بیان کی جائے تو ان کو یہ کہے میں کچھ تامل نہیں ہوتا کہ یہ امام اکیلے روایت کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی دوسرا شاہد نہیں لہٰذا یہ خبر آجز ہے اور قابل اعتبار نہیں دیکھو تلخیص الشافی جلد ۱ صفحہ ۴۶۸مطبوعہ نجف اشرف یہ عبارت گزر چکی ہے
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
اب رہایہ سوال کہ اہل سنت کی کتاب میں شیعہ صاحب نے روایت کو کیسے لکھ دیا تو اس کے جواب میں ہمارا صرف یہ کہنا کہ ہمیں پتہ نہیں چلنے دیا۔ کافی ہو سکتا ہے ۔ میاں! جب پہلے زمانہ میں نہ چھاپہ خانے تھے۔ نہ کاپی رائٹس محفوظ کرائے جاتے تھے۔ قلمی کتابیں تھیں۔ہر شخص نقل کر سکتا تھا۔ علی الخصواص وہ لوگ جن کا مذہب و دین ہی تقیہ و کتمان ہو۔ نہایت آسانی کے ساتھ تشریف لاسکتے تھے اور علمائے اسلام کے نہایت محب بن کر ان کی کتابوں میں حسب ضرورت کا رستانیاں کر سکتے تھے اور اس پر بھی ثبوت کی ضرورت ہو تو قاضی نور اللہ شوستری کی مشہور ترین کتاب مجالس المومنین صفحہ ۲ مطالعہ فرما یں۔ کہ ہم لوگ شروع شروع میں سنی، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی بن کر اہل سنت کے استاذ اور ان کے شاگرد بune رہے۔ ان سے روایتیں لیتے تھے۔ ان کو حدیثیں سناتے تھے اور تقیہ کی آڑ میں اپنا کام کرتے رہے۔ کتاب ایران کی چھپی ہوئی ہے۔ فارسی زبا ن میں ہے ہر شخص مطالعہ کر سکتا ہے۔ تو یہ کیا مشکل تھا کہ اسی آڑ میں کسی غریب سنی کی کتاب میں یہ کار فرمائی بھی کر لی ہو۔
حدیث کو پرکھنے کی کسوٹی
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے کہنا کہ انہوں نے بخاری شریف کی تمام روایات کو برحق اور صحیح ہی تسلیم فرمایا ہے۔ غلط اور جھوٹ ہے۔ شاہ صاحب مرحوم فقط مرفوع حدیث کے متعلق صحت کا دعویٰ کرتے ہیں اور باغ فدک کی تقسیم نہ کرنے کی روایت مرفوع نہیں۔ (مرفوع حدیث صرف وہی ہوتی ہے جو رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہو یا حضور ﷺ کا عمل ہو یا حضور ﷺ نے اپنے زمانہ اقدس میں کوئی عمل ملاحظہ فرمانے کے بعد اس کو جائز اور برقرار رکھا ہو۔ دیکھو فن حدیث شریف کے متعلق علمائے حدیث کی تصریحات ) اور فدک کے متعلق روایات بعد کے واقعات پر مشتمل ہو سکتی ہیں۔ اگر ہم اہل تشیع کے ا س راوی کو سچا بھی مان لیں اور غریب مذہب ہونے کے باوجود اس کی روایت کو اپنی کتاب میں لکھ کر بھی لیں۔ اوریہ بھی تسلیم کریں کہ خود ہم نے اس کی روایت کو اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ تو پھر بھی ہمارے اصول کے مطابق بلکہ اہل تشیع کے اصول کے مطابق یہ روایت قابل حجت نہیں۔ کیونکہ صرف ایک راوی ہے لہٰذا خبر آحاد ہے اور خبر آحا حجت نہیں ہوتی۔ اہل سنت کے اصول کو نظر انداز کرکے خود اہل تشیع کے امام الطائفہ ابو جعفر طولسی کی کتاب تلخیص الشافی جلد ۲ صفحہ۴۲۸کا مطالعہ کریں جہاں صاف لکھا ہے کہ خبر آحاد ناقابل حجت ہوتی ہے۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے اور غریب اہل السنت والجماعت ائمہ کرام کی روایات کو تو سر آنکھوں پر تسلیم کرتے ہیں۔ اور اگر کسی غیر مذہب کی منفرد روایت کو بھی اس طرح تسلیم کریں کہ جس کے تسلیم کرنے سے تمام آئمہ طاہرین کی بھی تکذیب لازم آتی ہو۔ شان رسالمتآب ﷺ کے متعلق بھی برا عقیدہ لازم آتا ہو تو بھائی ہمیں اس کجروی سے معاف رکھئے۔ ہم سے یہ توقع رکھ کر ہم پر الزام قائم نہ کریں ۔ ہمارا اتنا حوصلہ نہیں۔ہم تو اس قصے کو الف لیلیٰ سے زیادہ وقعت نہیں دے سکتے۔ فدک کے متعلق مزید تحقیق دیکھنا چاہیں تو کتاب ’’بنیات‘‘ مولفہ جناب سید محمد مہدی علی خانصا حب تحصیلدار مرزاپور جلد دوم مطالعہ فرماویں۔ یہ حقیقت ہے کہ تحصیلدارصاحب موصوف کے دلائل اور بحث نہایت محققانہ اور فاضلانہ ہے جن دلائل کو اور جس بحث کو صاحب موصوف نے قلمبند فرمایا ہے۔ انہی کا حصہ ہے۔
تحصیلدر صاحب کی وسعت نظر اور ان کی مبصرانہ بحث قابل تحسین ہے۔ میں گزارش کر رہا تھا کہ ائمہ معصومین کی تصریحات کے بالمقابل اس قسم کی روایات گھڑنا اور ان کے صریح ارشادات کے معانی و مطالب میں غلط تصرفات اور نامعقول تبدیلیاں کرنا اور بعید از قیاس مفہومات بیان کرے اللہ کے مقدس گروہ کی شان میں سب وشتم کے لئے منہ کھولنا حددرجہ جسارت اور (گستاخی معاف)۔ حد درجہ بے ایمانی ہے۔ اہل السنت والجماعت کے مذہب کے خلاف اعتراض کرنے اور ان پر کوئی بھی الزام لگانے سے پیشتر یہ ضرور مد نظر رکھا جائے کہ ان کے مذہبی اصول کیا ہیں۔ اہل السنت والجماعت کے سامنے کوئی بھی روایت پیش کی جائے تو سب سے پہلے ان کی نگاہیں سند کو تلاش کرتی ہیں۔ سند کے تمام اشخاص ان کی کتاب اسمائے رجال کی تصریح کے مطابق اگر اہل سنت سچے، راستباز، صحیح حافظہ والے ثابت ہو جائیں تو پھر بے دھڑک ان پر ایسی روایات کو بطور الزام پیش کیا جا سکتا ہے ۔ اور اگر سند میں ایک راوی بھی بدمذہب جھوٹا، سئی الحفظ، دھوکا دینے والا ثابت ہو جائے۔ تو اس روایت کو الزام دینے والے کے گلے میںلٹکادیتے ہیں کیونکہ ان کا مذہب اس قسم کی روایات پر مبنی نہیں۔ فرض بھی کر لیں کہ اس قسم کی روایات اہل سنت کی کتابوں میں کسی تقیہ باز کی کرم فرمائی کی وجہ سے درج ہوں۔ مگر ان کی نگاہ امتیاز سے ہر وقت بچنا چاہئے۔ اتقوا من فراسۃ المومنین فانہٗ ینظر بنور اللہ (مومن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے)بلکہ اہل سنت کے ہاں روایت کی جانچ پڑتال کے لئے علم الاسناد کے علاوہ حدیث متواترہ اور قرآن کریم بھی ہے۔ کہ جو روایت قرآن حکیم اور احادیث متواترہ کے برخلاف ہوگی۔ اس کو ناقابل عمل وناقابل تسلیم کا درجہ دیتے ہیں۔ خواہ ایسی روایت کی سند متعلق کسی قسم کا تبصر ہ نہ بھی کیا گیا ہو۔ غرضیکہ صداقت وسچائی وراست بازی کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ اور اسی کو ہر روایت ودروایت کا مبنی علیہ یقین کرتے ہیں۔ اور اسی پر ان کے مذہب کی بنا ہے۔
کاش اہل تشیع بھی کم از کم ایسے لوگوں کی روایت پر عمل نہ کرتے۔ جن کو ائمہ صادقین نے ان کی اپنی کتابوں میں کذاب (بڑا جھوٹا) وضاع(من گھڑت) روایتیں گھڑنے کا بہت زیادہ عادی ولعنتی وغیرہ کلمات کے ساتھ سرفراز فرمایا۔ تو مجھے یقین کامل ہے۔ کہ شیعہ سنی نزاع دیکھنے میں نہ آتا۔ مثلاً اہل تشیع کی مخصوص روایتوں کے راویوں کو رجاء الکشی وغیرہ میں دیکھئے اور میری اس گزارش کی تصدیق کیجئے جن راویوں کے متعلق ائمہ معصومین نے مذکورہ بالا کلمات نہیں فرمائے۔ تو ان کی روایتیں کلیۃً نہیں تو بالا کثریت اہل السنت والجماعت سے ملتی جلتی ہیں جن کو بغرض خیر خواہی اہل تشیع کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے اور باقی علماء حضرات بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔
نماز جنازہ میں تکبیریں
عقائد کے متعلق تو نمونہ کے طور پر بعض روایتیں پیش کی گئی ہیں۔ اعمال کے متعلق بھی ایک روایت مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے جو نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کے بارے میں فروع کافی جلد ۱ صفحہ ۹۵ پر درج ہے۔
عن محمد بن مھاجر عن امہٖ ام سلمۃ قالت سمعت ابا عبداللہ علیہ السلام یقول کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا صلی علٰی میت کبر وتشھد ثم کبرثم صلی علی الانبیاء و دعا ثم کبر الرابعۃ و دعا للمیت ثم کبروا نصرف فلما نھٰی اللہ عزوجل عن الصلٰوۃ علی المنافقین کبر و تشھد ثم کبرو صلی علٰی النبیین صلی اللہ علیھم وسلم ثم کبر فدعا للمومنین ثم کبر وانصرف ولم یدع للمیتo
یعنی حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے بھانجے حضرت محمد ابن مہاجر، اپنی والدہ ماجدہ سے روایت فرماتے ہیں کہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ’’شروع میں‘‘ جب میت پر نماز جنازہ پڑھتے تھے تو تکبیر کہتے تھے ۔ پھر شہادت پڑھتے تھے پھر تکبیر کے بعد انبیاء علیہم السلام پر درود شریف پڑھتے تھے اور دعا مانگتے تھے۔ پھر چوتھی تکبیر کے بعد میت پر دعا مانگتے تھے۔ پھر پانچویںتکبیر کے بعد سلام پھیرتے تھے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو منافقوں پر نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا تو اس کے بعد ہمیشہ جنازہ میں چار تکبیریں پڑھتے تھے اس ترکیب کے ساتھ کہ پہلی تکبیر کے بعد شہادت دوسری تکبیر کے بعد درود شریف تیسری تکبیر کے بعد مومنین (احیاء و اموات) کیلئے دعا فرماتے تھے ۔ پھر چوتھی تکبیر کہہ کر سلام پھیرتے تھے۔۱۲
اب منافقوں پر پانچ تکبیریں اور مومنین پر چار تکبیریں پڑھا جانا ائمہ معصومین کی روایت سے کس طرح واضح ہے اور امام عالی مقام کی روایت سے روز روشن سے بھی زیادہ واضح ہو گیا کہ جب منافقین پر نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا گیا تو اس کے بعد ہمیشہ چار تکبیریں ہی پڑھی جاتی تھیں۔ منافقوں پر نماز جنازہ پڑھنے سے اس آیت کریمہ کے ذریعہ منع فرمایا گیا۔ ولا تصل علیٰ احد منھم مات ابداً (کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول ﷺ آپ کبھی کسی منافق پر نماز جنازہ نہ پڑھیں ) اب اہل تشیع نے جو پانچ تکبیریں اپنے مذہب میں رائج کر رکھی ہیں اس کی یہی وجہ سمجھ میں آسکتی ہے کہ اہل تشیع کے اسلاف نے اپنے میتوں پر جو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ تو اسی کو اپنا لیا اور جب منافقین پر نماز جنازہ ممنوع ہوئی تو اہل تشیع کے اسلاف حسب ارشاد باری عزاسمہ ولتعرفنھم بسیماھم تقیہ کے پردے میں نہ چھپ سکنے کی وجہ سے غالباًغیر حاضر رہتے ہوں گے۔ اسی لئے جو انہوں نے آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ اس کو جائز نہ سمجھا تاہم ائمہ صادقین کے ارشاد پران کو اورنہیں توتقیۃً ایمان لاناچاہئے تھا اوربظاہر اس پر عمل کرتے ہوئے چار تکبیریں ہی نماز جنازہ میں پڑھتے مگر منشی قضاء و قدر نے ان دو قسموں کی نماز جنازہ کو دونوں فرقوں کی قسمت میں الگ الگ لکھ دیا ہے۔ ورنہ مومنین پر چار تکبیرو الی نماز جنازہ خود اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب کافی میں ائمہ معصومین سے مروی ہے اور اسی پر ہمیشہ کا معمول رہنا فرمایا گیا ہے جیسا کہ امام جعفر صادق کی حدیث میں واضح طور پر موجود ہے جو ابھی بیان ہو چکی ہے اب تقدیر کو تدبیر کیسے بدل سکتی ہے۔
ائمہ معصومین کے صاحبزادوں کے اسماء گرامی
یہ بات بھی غورطلب ہے کہ ائمہ معصومین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اپنے فرزندوں دلبندوں کے نام مبارک ابوبکر، عمر، عثمان رکھے ہیں۔ اور اہل تشیع کی تقریباً ہر کتاب میں جہاں بھی ائمہ معصومین کی اولاد معصومین کا بیان اور ان کے اسمائے گرامی کا ذکر آتا ہے۔ یہ حقیقت واضح ہے۔
جلاء العیون مصنفہ باقر مجلسی میں بالتصریح موجود ہے۔ اور کشف الغمہ صفحہ۱۳۲، ۲۲۴ پر حضرت سیدنا امام عالی مقام علی کرم اللہ وجہہ کے ایک صاحبزادے صاحب کا نام مبارک ابوبکر دوسرے کا نام مبارک عمر، تیسرے کا نام مبارک عثمان، موجود ہے اور یہ بھی تصریح ہے کہ یہ تینوں حضرات اپنے بھائی کے ساتھ میدان کربلا میں شہید ہوئے۔ جلاء العیون میں ہے کہ امام عالی مقام شہید کر بلا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک فرزند کا نام عمر ہے جو علی اکبر کے نام سے مشہور تھے۔ کشف الغمہ صفحہ۱۷۱میں ہے کہ امام عالی مقام سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ایک صاحبزادہ صاحب کا نام مبارک ابوبکر دوسرے کا نام مبارک عمر ہے۔ کشف الغمہ صفحہ۲۰۰میں ہے کہ امام عالی مقام سیدنا علی بن الحسین زین العابدین رضی اللہ عنہم کے ایک صاحبزادے صاحب کا نام مبارک عمر ہے کشف الغمہ صفحہ۲۴۳میں امام عالی مقام ابوالحسن موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے صاحب کا نام مبارک ابوبکر ہے۔ دوسرے کا نام عمر ہے۔
وقت تحریر چونکہ میرے پاس جلاء العیون موجود نہیں ورنہ اس کے صفحات بھی درج کرتا۔ صفحات یا د نہیں ہیں۔ علماء حضرات کتاب دیکھ کر صفحات لگالیں۔
کتاب ناسخ التواریخ میں ہر ایک امام کے فرزندوں کے نام اور ان کے فرزندوں کے فرزندوں کے نام حتی کہ کئی پشتوں تک ابو بکر ، عمر، عثمان ہیں۔
اب جن مقدس ہستیوں نے اپنے دلبندوں کے نام ابوبکر، عمر، عثمان رکھے تھے۔ بہر صورت وہی ہستیاں ان کے مراتب اور فضائل سے زیادہ واقف ہو سکتی ہیں نہ کہ ساڑھے تیرہ سو سال کے بعد آنے والے لوگ (اور اگر گستاخی نہ ہو) تو ایسے لوگ جو قرآن کریم کی کسی آیت کا صحیح ترجمہ کرنا تو کجا خود صحیح تلاوت کرنے سے بھی نابلد ہیں۔ علوم عربیہ پر مہارت تو بڑی دور کی چیز ہے۔ نام کے واقف بھی نہیںتو ایسے لوگوں کو یہ حق کہاں سے پہنچتا ہے؟ کہ ائمہ دین کے واضح طرز عمل کے خلاف ان تصریحات کے مناقض و برعکس خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی اعلیٰ وارفع شان کے متعلق کوئی نظریہ قائم کریں اور اسی من گھڑت عقیدے کے تحت اللہ کے مقبولوں کے نام لے کر ان کے حق میں سب بکنا عبادت تصور کریں تو اتنا تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اپنی اولاد کا نام بہتر سے بہتر رکھا جاتا ہے۔ آئندہ اولاد کی قسمت۔۔۔ نام رکھنے میں تو ایک غریب سے غریب آدمی بھی بچے کا نام شاہجہان रखना ہی پسند کرتا ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا کہ کسی نے بھی اپنے فرزندد لبند کا نام ایسا رکھا ہو جس کو وہ برا مانتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی بڑے سے بڑا محب اپنے لڑکے کا نام ابن زیا دیا شمر، یزید وغیرہ نہیں رکھ سکتا۔ تو تمام ائمہ کرام اپنے فرزندوں، امام زادوں کے نام ایسے کیوں رکھ سکتے تھے جن کو وہ اچھا نہ جانتے ہوں۔ معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک ابوبکر، عمر ، عثمان انتہا درجہ فضل و کمال ، تقدس اور رفعت شان پر فائض ہستیاں تھیںجیسا کہ پہلے اوراق میں ائمہ معصومین کی تصریحات کو بطور نمونہ پیش بھی کر چکا ہوں۔
برے نام سے اجتناب
اگرچہ اہل عقل کے نزدیک ائمہ معصومین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اپنے فرزندوں کا نام ان مقدس ہستیوں کے نام پہ रखना ان کے علو مرتبت ورفعت شان کیلئے بڑی زبردست دلیل ہو سکتی ہے۔ مگر ہم یہ بھی بتائے دیتے ہیں کہ اہل تشیع کی معتبر ترین کتابوں میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ ائمہ طاہرین کے نزدیک کسی ایسے آدمی کا نام اپنی اولاد کیلئے تجویز کرنا جس پر اللہ تعالیٰ خوش نہ ہو یہ ہر گز جائز نہیں۔ مثال کے طور پر کشف الغمہ صفحہ ۲۴۴ جہاں حضرت امام ابوالحسن موسیٰ رضا اور امام جعفر صادق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں اپنے ایک شیعہ یعقوب سراج کو حکم دے رہے ہیں۔ کہ کل جو تو نے اپنی لڑکی کا نام رکھا ہے۔ جلد اس کو بدل لو کیونکہ یہ ایسے آدمی کا نام ہے جس پر خدا خوش نہیں۔ تو جو دوسروں کی اولاد کا نام بدلنے کا حکم دے رہے ہیں وہ اپنے فرزندوں کے نام ایسے کیوں تجویز کرتے جو اللہ کے پیارے نہیں تھے او ر جن کو وہ بہتر نہیں جانتے تھے۔
عجیب لیطفہ
کئی دوستوں نے ایک عجیب لطیفہ سنایا کہ شہر سرگودھا میں ایک آنکھوں کے ڈاکٹر ہیں جن کے پاس جب کوئی ایسا مریض جاتا ہے جس کا نام صدیق یا عمر یا عثمان ہو تو پہلے تو اس کو زیر علاج رکھنے سے ہی انکار کر دیتے ہیں ۔ اور اگر کوئی ناقابل رد سفارش لے جاتا ہے تو پھر اس غریب کو ہمیشہ کیلئے آنکھ کے مرض سے بے نیاز کر دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس قسم کے آئی سپیشلسٹ محب ائمہ معصومین کے زمانہ میں علاج کی خدمات پیش نہ کر سکے ورنہ ان کا نور دیدئہ ائمہ کے ساتھ بھی یہی سلوک ناگریز تھا جو نہی وہ مقدس ہستیاں اپنا نام ابوبکر یا عمر یا عثمان بتاتیں ادھر دستِ محب شان محبت کا مظاہرہ کر گزرتا ۔ ایسے ڈاکٹر صاحب کا یہ نظریہ بھی خارج از حکمت نہیں کیونکہ ابوبکر و عمر، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو آنکھ کے ساتھ نسبت بھی تو ہے۔ دیکھئے اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب معافی الاخبار مطبوعہ ایران صفحہ ۱۱۰ جہاں امام عالی مقام امام حسن رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ابو بکر میری آنکھ ہے عمر میرے گوش مبارک ہیں عثمان میرا دل منور ہے اور تفسیر اما م حسن عسکری علیہ السلام مطبوعہ ایران صفحہ ۱۶۴،۱۶۵ کہ جہاں حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابوبکر بمنزلہ میری آنکھ کے ہے تو ایسی صورت میں محبت و تولی کا سارا مظاہرہ آنکھ ہی کے متعلق پیش کرنا زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
وائے افسوس!
حضرت انتہائی تعجب ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنے روز مرہ مشغلہ کے متعلق بھی تاریخ سے اس قدر بے خبر ہیں کہ ان کو ائمہ معصومین کے نام تک معلوم نہیں ان کے واضح ترین طرز حیات وتصریحات اور لائحہ عمل تو درکنار محض جہالت پر مبنی ایک خود ساختہ دھرم پر کیوں اترآتے ہیں چونکہ صاحب کشف الغمہ نے اہل السنت والجماعت کے متعلق بڑے شدومد کے ساتھ اتہام باندھا تھا۔ کہ وہ ائمہ معصومین کی روایات کو نہیں مانتے۔ اسی خوف سے میں نے اہل تشیع ہی کی معتبر ترین کتابوں کو حاصل کیا اور ان سے صرف وہی روایتیں جو ائمہ طاہرین معصومین سے ہیں اور جن کے متعلق یقین کامل ہے کہ محبت وتولی کا دم بھرنے والے ایسی روایتوں کو سرآنکھوں پر رکھیں گے اور دیکھتے ہی ایمان لائیں گے۔ اہل عقل وانصاف کی خدمت میں پیش کی ہیں۔
یہ رسالہ گویا کلمتہ باقیہ ہے اللہ تعالیٰ منظور فرمائے اور اپنے مقبولین کے طفیل اہل انصاف ودانش کو اس سے ہدایت بخشے اور مجھ غریب کو جزائے خیر سے سرفرازفرمادے۔ آ مین ثم آمین۔
وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیمo
فقیر محمد قمر الدین سیالوی غفر اللہ لہ سجادہ نشین آستانہ اقدس سیال شریف (ضلع سرگودھا) بتاریخ۱۸۔ربیع الآخر۱۳۷۷ھ یوم الاثنین