بسم اللہ الرحمن الرحیم صلی اللہ علیٰ حبیبہٖ سیّدنا محمد وآلہٖ وسلم
امام ابوالخیرشمس الدین محمد بن محمد بن محمدابن الجزری الشافعی الدمشقی رحمۃ اللہ علیہ(متوفی ۸۳۳ھ) مسنون دعائوں کی مشہور کتاب ’’ الحصن الحصین‘‘ میںحدیث لکھتے ہیں:
وان ارادعونا فلیقل یا عباداللہ اعینونی یا عباداللہ اعینونی یا عباداللہ اعینونی (طبرانی) وقد جرب ذلک (طبرانی)۔
ترجمہ۔ اگر کسی کو مدد کے لئے بلانا ہو تو بلند آواز سے کہے اے اللہ کے بندو میری مدد کرو اے اللہ کے بندو میری مدد کرو اے اللہ کے بندو میری مدد کرو، امام جزری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں یہ عمل آزمودہ ہے ۔(طبرانی الکبیر)
(حصن حصین عربی ،مطبوعہ الکویت ۲۰۰۸ء ، ص ۲۰۹)
اسی حدیث کو امام حافظ ابی القاسم سلیمان بن احمد طبرانی(متوفی ۳۶۰ھ) نے’’ المعجم الکبیر ‘‘ میں عتبہ بن غزوان سے روایت کیا ۔
امام حافظ ابی بکر احمد بن محمد الدینوری المعروف بابن السنی( متوفی ۳۶۴ھ) نے ’’ عمل الیوم والیلۃ‘‘ میں عبداللہ ابن مسعود سے ۔
امام حافظ ابی بکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ( متوفی ۲۳۵ھ) نے ’’ مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ میںابن عباس سے۔
اور امام حافظ ابی بکر احمد بن عمرو بن عبدالخالق البزار(متوفی ۲۹۲ھ)نے ’’البحر الذخارالمعروف مسند بزار‘‘میں ابن عباس سے ۔
امام حافظ ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی (متوفی ۴۵۸ھ)نے ’’شعب الایمان ‘‘ میںابن عباس سے ۔
امام حافظ احمد بن علی بن المثنیٰ التمیمی (متوفی ۳۰۷ھ)نے ’’ مسند ابی یعلیٰ الموصلی‘‘ میںعبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ۔
قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی حدیث طرق متعددہ سے مروی ہو تو وہ حدیث حسن لغیرہٖ ہوجاتی ہے ، اگرچہ ہر طریقہ ضعیف ہی کیوں نہ ہو ، علاوہ ازیں محدثین نے اس حدیث کے حسن ہونے پر تصریح بھی کی ہے ۔
امام احمد بن حنبل کا عمل
محدّث امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ جن کے تقویٰ و پرہیز گاری کا عالم اسلام گواہ ہے ، آپ کے بیٹے عبداللہ بن امام احمد فرماتے ہیں:
۹۱۲۔ حدثنا : قال : سمعت ابی یقول : حججت خمس حجج منھا ثنتین (راکباً)و ثلاثۃ ماشیاً ، او ثنتین ماشیاً و ثلاثۃ راکباً ، فضللت الطریق فی حجۃ وکنت ماشیاً فجعلت اقول : یا عباداللہ دلونا علی الطریق ، فلم ازل اقول ذلک حتی وقعت علی الطریق او کما قال ابی ۔
(مسائل الامام احمد بن حنبل روایۃ ابنہ عبداللہ بن احمد ، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱۹۸۱ء ، ص ۲۴۵)
( یعنی عبداللہ بن امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ! میں نے پانچ حج کئے ہیں دو سواری پر اور تین پیدل ، یا فرمایا: دو پیدل اور تین سواری پر ، چنانچہ راستہ حج مجھ سے گم ہوا اور میں پیدل تھا ، تو میں نے یہ کہنا شروع کیا : یا عباداللہ دلونا علی الطریق : اے اللہ کے بندو مجھے راستہ دکھائو ، میں اسی طرح کہتا رہا حتیٰ کہ صحیح راستہ پر پہنچ گیا یا جیسا کہ انہوں نے فرمایا۔ )
کیا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث پر عمل کرکے ان کلمات کی تصدیق فرمادی ہے یا انہوں نے شرک کیا ؟
اللہ تعالیٰ کے بندوں سے مدد طلب کرنے کو شرک کہنا ، رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے فرار ہے ۔
امام شوکانی کا قول
غیر مقلدین کے امام محمد بن علی الشوکانی (متوفی ۱۲۵۰ھ) ، حصن حصین کی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
اعینونی یا عبا د اللہ ، قال فی مجمع الزوائد رجالہ ثقات ،
وفی الحد یث دلیل علی جواز الاستعانۃ بمن لا یراھم الانسان من عباد اللہ ۔
( یعنی اس حدیث میں اللہ کے بندو ںمیں سے ان انسانوں سے مدد طلب کرنے کے جواز پر دلیل ہے جو کہ دکھائی نہیں دیتے )
( تحفۃ الذاکرین، مطبوعہ موسسۃ الکتاب الثقافیۃ بیروت لبنان۱۹۸۸ء، ص۲۰۲)
امام ابن قیم کا قول
غیر مقلدین کے امام علامہ ابن قیم الجوزیۃ (متوفی ۷۵۱ھ ) لکھتے ہیں:
اذا انفلتت دابۃ احدکم بارض فلاۃ فلیناد یا عباد اللہ احسبوا فان للہ عزوجل حاضراً سیحبسہ
( اگر تمہارا جانور بیابان زمین میں چھوٹ بھاگے تو تمہیں چاہیے کہ بلند آواز سے کہو یا عباد اللہ احسبوا، اے اللہ کے بندو! روکو ، کیونکہ اللہ کا بندہ موجود ہے جو اسے جلد ہی روک دے گا ۔ )
( الوابل الصیب، مطبوعہ دار عالم الفوائد، ص۳۳۵)
نواب صدیق حسن خان بھوپالی کا عمل
نواب صدیق حسن خاں بھوپالی غیر مقلد(متوفی ۱۳۰۷ھ) لکھتے ہیں:
’’ ۱۲۷۵ھ کا ذکر ہے ، میں مرزا پور سے براہ جبل پور، بھوپال آرہا تھا ، ایک سیلاب سے واسطہ پڑا ، بارش کا زمانہ تھا، ندی چڑھ آئی ، اس خیال سے کہ پانی تھوڑا ہے مع گھوڑا سواری اس میں ڈال دیا ، اس کا ڈالنا تھا کہ ندی میں طغیانی آگئی ، قریب تھا کہ ہم سب اس میں ڈوب جائیں ، میں گاڑی سے کود کر پانی میں کود پڑا ، پانی گاڑی کو بہا کر لے گیا ، میں نے فوراً بلند آواز سے تین بار پکارا اے اللہ کے بندو ! میری مدد کرو ، بس یہ کہنا تھا کہ گاڑی پانی سے نکل کر ایک اُونچے پتھر پر آکھڑی ہوئی ، اس موقعہ پر میرے اور کوچوا ن کے سوا وہاں دوسرا شخص کوئی ساتھ نہ تھا‘‘ ۔
( اتحاف النبلاء ، مطبوعہ مطبع نظامی کانپور ۱۲۸۸ھ، ص ۷۳ ، ۷۴ )
نواب صدیق حسن خاں بھوپالی غیر مقلد(متوفی ۱۳۰۷ھ) اپنی کتب ’’ نزل الابرار ‘‘ میںحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ’’ کہ سفر میں کسی کا جانور گم ہو جائے تو پکارے یا عباد اللہ احبسوا یا عباد اللہ احبسوا یعنی اے بندگانِ خدا روکو اس کو ،لکھتے ہیںمیں نے بھی قنوج سے بھوپال کے سفر میں اس کو آزمایا۔ (مفہوماً)
( نزل الابرار بالعلم الماثور من الادعیۃ والاذکار ، مطبوعہ قسطنطنیہ(ترکی)۱۳۰۱ھ، ص۳۳۵)
علامہ قطب الدین خان دہلوی کی شرح
علامہ نواب محمدقطب الدین خاں دہلوی (متوفی مکہ مکرمہ ۱۲۸۹ھ)اپنی کتاب ’’ ظفر جلیل شرح حصن حصین‘‘ میں لکھتے ہیں:
واذا انفلتت دآبۃٌ فلیناد اعینواعباداللہ رحمکم اللہ
اور جب بھاگ جائے جانور کسی کا ، پس چاہئے کہ پکارے، مدد کرو اے بندو خدا کے ، نقل کی یہ بزار نے ، ابن عباس اور ابن ابی شیبہ نے ، اس کے ساتھ لفظ رحمکم اللہ کا بھی زیادہ نقل کیا ہے ، لیکن موقوفاً یعنی یہ قول ابن عباس کا ہے ۔
(ف) مراد بندوں خدا سے رجال الغیب یعنی ابدال یا ملائکہ یا مسلمان جنات(ہیں) ، ابن مسعود نے آنحضرت ﷺ سے روایت کی ہے کہ جب بھاگ جاوے جانور کسی کا جنگل میں پس چاہئے کہ کہے ’’ یا عباد اللہ احبسوا یا عباد اللہ احبسوا یا عباد اللہ احبسوا ، یعنی اے بندگانِ خدا روکو اس کو ، پس تحقیق ، اللہ کے بندے زمین میں ہیں کہ روکتے ہیں ان کو ، پس ایک بزرگ سے منقول ہے کہ جانور اُن کا بھاگ گیا اور وہ یہ حدیث جانتے تھے ، انہوں نے یہ کلمے کہے ، فی الحال اللہ تعالیٰ جانور اُس کا پھیر لایا۔ کذ ا ذکر العلی والفخر۔
وان ارادعونا فلیقل یا عباداللہ اعینونی یا عباداللہ اعینونی یا عباداللہ اعینونی ۔ط (طبرانی)
اور جو چاہے مدد یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی امر میں پس چاہئے کہ کہے اے بندو خدا کے مدد کرو میری ، اے بندو خدا کے مدد کرو میری ، اے بندو خدا کے مدد کرو میری ،نقل کی یہ طبرانی نے ۔
(ف یعنی فائدہ) فرمایا ہے آنحضرت ﷺ نے کہ جب کوئی کچھ خیر کم کرے (یعنی پریشانی میں ہو)یا چاہے مدد ، اور حال یہ (ہو) کہ وہ ایسی زمین میں ہوکہ کوئی انیس و ہم نشین اُس کا نہیں ہے ، پس چاہئے کہ کہے یا عباداللہ اعینونی، پس اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، (انہیں) ہم نہیں دیکھتے ۔ کذ ا ذکر العلی والفخر۔ وَقَدْ جُرِّبَ ذٰلک : ط (طبرانی) ، اور تحقیق آزمایا گیا ہے یہ اَمر، نقل کی یہ طبرانی نے ۔
(ف) یہ قول راوی کا ہے ، میرک شاہ نے بعض علما ثقات سے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے اور محتاج ہیں طرف اس کے سب مسافر ، اور مشائخ سے روایت کی گئی ہے کہ یہ مجرب ہے اس مقدمہ میں اور نزدیک ہے ساتھ اس کی فتح مقصود پر۔ کذ ا ذکر العلی والفخر۔
( ظفر جلیل شرح حصن حصین‘‘ مطبوعہ دہلی ۱۲۸۸ھ، ص ۱۹۳، ۱۹۴ )
ملا علی قاری کی شرح
ملا علی القاری الہروی رحمۃ اللہ علیہ ( متوفی ۱۰۱۴ھ)اپنی کتاب ’’ الحرز الثمین‘‘ میں یہ حدیث’’ و ان ارادعونا فلیقل یا عباداللہ اعینونی یا عباداللہ اعینونی یا عباداللہ اعینونی ‘‘ (جب مدد لینا چاہے تو کہے کہ اے اللہ کے بندو میری مدد کرو ، اے اللہ کے بندو میری مدد کرو ، اے اللہ کے بندو میری مدد کرو ) ، اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
واذا انفلتت دابتہ احدکم بارض فلاۃ فلیناد یا عباداللہ احسبوا
یعنی جب جنگل میں کسی کا جانور بھاگ جائے تو آواز دو کہ اے اللہ کے بندو اسے روکو۔
عباداللہ کے ما تحت فرماتے ہیں:
المراد بھم الملائکۃ ، او مسلمون من الجن ، او رجال الغیب المسلمون بابدال
یعنی بندوں سے یا تو فرشتے یا مسلمان جن یا رجال الغیب یعنی ابدال مراد ہیں۔
پھر لکھتے ہیں:
(وقد جرب ذلک ) ای : وذالک مجرب محقق ۔
قال بعض العلما الثقات : ’’ حدیث حسن یحتاج الیہ المسافرون و روی عن المشائخ انہ مجرب قرن بہ النجح ‘‘ ، ذکرہ میرک
( یہ حدیث حسن ہے ، مسافروں کو اس حدیث کی ضرورت ہے اور یہ عمل مجرب ہے ، ذکر کیا اس کو میرک شاہ نے )
( الحرز الثمین للحصن الحصین، مطبوعہ مکتبۃ الملک الفہد الریاض (سعودی عرب)۱۴۳۴ھ، ص ۹۳۳ ،تا،۹۳۶ )
مولوی کرامت علی جونپوری کا قول
مولوی کرامت علی جون پوری (متوفی۱۲۹۰ھ ) ، سید احمد رائے بریلی کے مرید و خلیفہ اورمولوی اسماعیل دہلوی کے پیر بھائی تھے ۔ ( تذکرہ مولانا کرامت علی جونپوری، مطبوعہ سید احمد شہید اکیڈمی رائے بریلی ۲۰۰۹ ء)
مولوی کرامت علی جونپوری لکھتے ہیں:
’’ جب کوئی کچھ چیز گم کرے یا ایسی زمین میں جا پڑے کہ اُس کا کوئی انیس وہم نشین وہاں نہ ہو اور وہ اللہ تعالیٰ ک جانب سے مدد چاہے کسی امر میں تو چاہیے کہ کہے یا عباداللہ اعینونی یا عباداللہ اعینونی یا عباداللہ اعینونی ،(ترجمہ۔ اے بندو خدا کے مدد کرو میری اے بندو خدا کے مدد کرو میری اے بندو خدا کے مدد کرو میری ، اس طرح مدد چاہنا شرک نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اس کام پر مقرر ہیں کہ ہم اُن کو دیکھتے نہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ یہ بندے خدا کے جو ایسے مکان میں مسلمانوں کی مدد کے واسطے مقرر ہیں ، ان کے سوا اور دوسرے سے اس طرح مدد نہ چاہے ، حصن حصین میںلکھا ہے کہ یہ امر آزمایا گیا ہے یعنی اس طرح پکارنے سے غیبی مدد ہوتی ہے ۔
(ذخیرہ کرامت ، حصہ دوم ، مطبوعہ مطبع قیومی کانپور ۱۳۲۲ھ، ص ۱۴۵)
حوالہ جات اور عکس





























