Skip to content

سراج الھند حضرت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی

ردِّ بدمذہبشخصیاتعقائدِاہلسنت

دیباچہ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمد ہ ونصلی علی رسولہ الصادق الامین الکریم

حجۃ اﷲ، سراج الہندحضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ابن شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی ابن شاہ عبدالرحیم دہلوی قدس سرہما، ۲۵؍ رمضان المبارک ۱۱۵۹ھ/۱۷۴۶ء کو جمعہ کے دن دہلی میں پیدا ہوئے، تاریخی نام غلام حلیم ہے، جس کے ۱۱۵۹ ؛ اعداد بنتے ہیں، آپ کا سلسلہ نسب ۳۴ واسطوں سے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تک اس طرح منتہی ہے۔

مولانا شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم بن وجیہہ الدین شہید بن معظم بن منصور بن احمد بن محمودبن قوام الدین عرف قوازن بن قاضی قاسم بن قاضی کبیر عرف قاضی بدھا بن عبدالملک بن قطب الدین بن کمال الدین بن شمس الدین المفتی عرف قاضی پران بن شیر ملک بن عطا ملک بن ابوالفتح ملک بن عمرو الحاکم مالک بن عادل ملک بن فاروق بن جرجیس بن احمد بن محمد شہر یار بن عثمان بن ہامان بن ہمایوں بن قریش بن سلیمان بن عفان بن عبداﷲ بن محمد بن عبداﷲ بن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین۔

( نواب مبارک علی خاں، کمالات عزیزی، مرتبہ مولوی سید ظہیر الدین احمد ولی اللَّہی دہلوی نبیرئہ مولانا شاہ رفیع الدین محدث دہلوی، سن تالیف ۱۲۸۹ھ/۱۸۷۲ء، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱۹۸۲ء ، ص۸)

قرآن کریم حفظ

آپ نے بچپن ہی قرآن کریم حفظ کرلیا تھا، پہلے سال جب قرآن مجید سنایا، نماز تراویح ختم ہوئی تھی کہ ایک سوار بہت خوب زرہ بکتر وغیرہ لگائے برچھا ہاتھ میں لئے تشریف لائے اور کہا حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کہاں تشریف رکھتے ہیں؟ جو لوگ وہاں بیٹھے تھے سب اٹھ کر دوڑے اور اس سوار کو گھیر لیا اور پوچھا کہ حضرت یہ آپ کیا فرمارہے ہیں اورآپ کا نام کیا ہے؟، انہوں نے فرمایا ! ابوہریرہ، جناب سید عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہم عبدالعزیز کا کلام مجید سننے چلیں گے، پھر مجھے ایک کام کے واسطے بھیج دیا، اس لئے میں دیر سے پہنچا ہوں، اتنی بات کی اور غائب ہوگئے۔( نواب مبارک علی خاں ، کمالات عزیزی، مرتبہ مولوی ظہیر الدین ولی اللّٰہی، مطبوعہ کراچی ۱۹۸۲ء، ص۱۹)

تعلیم

پندرہ سال کی عمر میں اپنے والد ماجد حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ (متوفی ۱۱۷۶ھ/۱۷۶۲ء) سے تمام علوم عقلیہ ونقلیہ اور کمالات ظاہری وباطنی سے فراغت حاصل کی، بعض کتب حدیث کی سنداپنے والد ماجد کے اجل تلامذہ حضرت شاہ محمد عاشق پھلتی رحمتہ اﷲ علیہ۔

حضرت شاہ محمد عاشق پھلتی

(شاہ محمد عاشق بن شاہ عبیداﷲ بن شاہ محمد صدیقی رحمہم اﷲ تعالیٰ ، ۱۱۱۰ھ میں پھلت( ضلع مظفر نگر، یوپی،ہندوستان)میں پیدا ہوئے، آپ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی کے ممیرے بھائی تھے، آپ کے والد شاہ ولی اﷲ کے حقیقی ماموںاور آپ کے دادا شاہ محمد، شاہ ولی اﷲ کے حقیقی نانا اور شاہ عبدالرحیم کے خسر تھے، آپ شاہ ولی اﷲ سے چار سال بڑے تھے، آپ شاہ ولی اﷲ کے نسبتی بھائی بھی تھے ، شاہ ولی اﷲ کا پہلا عقد آپ کی حقیقی بہن سے ہوا تھا، جن کے بطن سے شاہ ولی اﷲ کے سب سے بڑے فرزند شاہ محمد اور ان کی دو بہنیں تھیں، آپ کو شاہ ولی اﷲ سے مصاہرت کا تعلق بھی تھا، آپ کے دو فرزندوں شاہ عبدالرحمن اور شاہ عبدالرحیم فائق کے عقد علی الترتیب شاہ ولی اﷲ کی دو صاحبزادیوں(امتہ العزیز اور فرخ بی) سے ہوا تھا، آپ کو بچپن ہی سے علم حاصل کرنے کا شوق تھا، شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی سے علوم ظاہری وباطنی کی تکمیل کی، ۱۱۴۴ھ میں حج وزیارت سے فارغ ہوکر شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ کے ساتھ حرمین میں شیخ ابو طاہر کردی مدنی علیہ الرحمہ سے حدیث پڑھی اور شیوخ حجاز سے صحیح بخاری اور سنن دارمی کے درس میں شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے شریک رہے۔

آپ نے دوران تعلیم شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ سے بیعت کرلی تھی اور مسجد الحرام میں میزاب رحمت کے نیچے بیعت ثانیہ بھی کی، علم ومعرفت میں آپ نے وہ مقام حاصل کیا جو شاہ ولی اﷲ کے شاگردوں میں کسی اور کو حاصل نہیں ہوسکا، آپ کا مستقل قیام پھلت ہی میں رہا ، مگر تحصیل علم کے عہد کے علاوہ بھی بکثرت دہلی آتے جاتے رہے، ہر سال ماہ صیام میں دہلی آکر شاہ صاحب کے ساتھ معتکف رہتے تھے، شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ سے مسلسل مراسلت کرتے رہتے تھے، شاہ صاحب کے مسودات کی تبییض کے علاوہ ان کے مختلف شذرات کی جمع وترتیب بھی عمر بھر بڑے اہتمام اور ذوق وشوق سے کرتے رہے، شاہ صاحب کے مکاتیب کو محفوظ رکھتے تھے، آپ شاہ صاحب کے اداشناس اور اسرار ورموز کے ترجمان وامین تھے، شاہ ولی اﷲ صاحب بھی آپ سے خصوصی محبت کرتے تھے، کہیں ان کواعزاخوان واجلہ خلّان کہیں سجادہ نشین اسلاف کرام، کہیں وعاء علمی وحافظ اسراری وناظور کتبی والباعث علی السوید اکثر منہا والمباشر لتبییضہ (میرا ظرف علم، میرے اسرار کے امین، میری کتابوں کے نگران، میری اکثر کتابوں کے سبب تالیف میرے مسودات کو صاف کرنے والے ) لکھا ہے ۔ شیخ ابوطاہر کردی مدنی علیہ الرحمہ نے جو سند شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ کو عطا کی تھی ، اس میں شیخ محمد عاشق کے متعلق لکھاانہ مرأۃ کمالہ وخدین جمیل خصالہ یعنی موصوف ان کے کمال کا آئینہ اور ان کے خصائل نیک کا رخسار ہیں`۔شاہ ولی ان کو مخاطب فرماکر کہتے ہیں!

یحدثنی نفسی بانک واصل

الی نقطتہ قصواء وسط المرکز

وانک فی تیک البلاد مفخم

یکفیک یوماً کل شیخ وناھز

آپ کی تصانیف سبیل الرشاد، (فارسی زبان میں تصوف پر نہایت اچھی اور مبسوط کتاب )شرح خیر الکثیر، (شاہ ولی اﷲ کی کتاب الخیر الکثیر کی شرح)، درایات الاسرار، شرح اعتصام الامین، کشف الحجاب، تذکرۃ الواقعات، مکاتیب شاہ ولی اﷲ اور القول الجلی فی ذکر آثار ولی (فارسی زبان میں شاہ ولی اﷲ کے حالات پر نہایت قدیم تالیف ہے، اب دہلی سے اس کے مخطوطہ کا عکس شائع ہوگیا ہے اور خانقاہ کاکوری ضلع لکھنؤ سے اردو ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے)مشہور ہیں، آپ کی وفات ۱۱۸۷ھ میں ہوئی۔(ماخوذ۔ القول الجلی کی باز یافت از حکیم محمود احمد برکاتی، مطبوعہ رضا اکیڈمی لاہور ۱۹۹۱ء، ص۱۲،۱۳۔ نزھتہ الخواطر ،از عبدالحی حسنی، جلد۶، ص۳۲۸، ۳۳۰)اور خواجہ امین اﷲ کشمیری رحمتہ اﷲ علیہ سے لی( خواجہ امین اﷲکشمیری، شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے، شاہ صاحب نے بعض رسالے ان کی خاطر تصنیف کئے، ۱۱۸۷ھ میں وفات پائی۔(نزھتہ الخواطر،از عبدالحی حسنی، جلد۶، ص۲۸۶)، علم فقہ اپنے خسر مولوی نور اﷲ علیہ الرحمہ سے حاصل کیا۔آپ تمام علوم ظاہری وباطنی کے جامع تھے، صاحب زہدوتقویٰ تھے، اﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ (رحمن علی ، تذکرہ علمائے ہند : ترجمہ و حواشی و تکملہ ، پروفیسر محمد ایوب قادری ، کراچی ، پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی ، ۱۹۶۱ء،ص ۳۰۲)

بیعت حضرت سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم

ایک مرتبہ عالم رویاء میں آپ کو حضرت اسد اﷲ الغالب سیدنا مولیٰ علی المرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی حضوری حاصل ہوئی، آپ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بیعت کرکے فیض یاب ہوئے، حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا (اے عبدالعزیز) فلاں شخص نے ایک کتاب ہماری مذمت میں پشتو زبان میں لکھی ہے، اس کے باپ کا نام، مقام سکونت اور کتاب کا نام بھی ظاہر فرمایا، آپ نے عرض کی،حضور! میں پشتو زبان نہیں جانتا، حضرت امیرالمومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ! کچھ مضائقہ نہیں، آپ خواب سے بیدار ہوئے، بعد تلاش کتاب دستیاب ہوئی تو آپ نے اس کا جواب پشتو زبان میں لکھ کر پھیلایا۔ ( مبارک علی خاں،نواب، کمالات عزیزی :مرتبہ،مولوی سیدظہیرالدین احمد، کراچی، ۱۹۸۲ء۔ ص۱۶)

کشفِ باطن

کشف باطن آپ کا ایسا تھاکہ جب نما ز جمعہ کے واسطے جامع مسجد(دہلی) میں تشریف لے جاتے تو عمامہ آنکھوں پر رکھ لیتے، شیخ فصیح الدین جو کہ اکثر آپ کی خدمت میں رہتے تھے، عرض کیا! کہ حضرت اس کی کیا وجہ ہے جو آپ اس طرح رہتے ہیں، آپ نے اپنی کلاہ اُتار کر ان کے سر پر رکھ دی، وہ فوراً بے ہوش ہوگئے، جب دیر بعد افاقہ ہوا تو عرض کیا کہ سو، سوا سو لوگوں کی شکل آدمی کی تھی باقی کوئی ریچھ، کوئی بندر اور کوئی خنزیر کی شکل تھا، اس وقت مسجد میں پانچ چھ ہزار آدمی تھے، حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے فرمایا! میں کس کی طرف دیکھوں، اسی باعث نہیں دیکھتا۔( مبارک علی خاں،نواب، کمالات عزیزی : مرتبہ ، مولوی سیدظہیر الدین احمد، کراچی،۱۹۸۲ء۔ ص۲۱)

علمی خدمات اور اثر

آپ کی ذات سے برصغیر پاک وہند میں علوم اسلامیہ خصوصاً تفسیر وحدیث کا بڑا چرچا ہوا، سرسید احمد خاں نیچری علی گڑھی لکھتے ہیں!

علمائے متبحر اور فضلائے مفضی المرام باوجود نظر غائر اور احاطۂ جزیات مسائل کے، جب تک اپنا سمجھا ہوا حضرت کی خدمت میں عرض نہ کر لیتے تھے، اس کے اظہار میں لب کو وا نہ کرتے تھے اور اس کے بیان میں زبان کو جنبش نہ دیتے تھے، حافظہ آپ کا نسخۂ لوح تقدیر تھا، بارہا اتفاق ہوا کہ کتب غیر مشہورہ کی اکثر عبارات طویل اپنی یاد کے اعتماد پر طلباء کو لکھوا دیں اور جب اتفاقاً کتابیں دستیاب ہوئیں تو دیکھا گیا کہ جو عبارت آپ نے لکھوادی تھی اس میں من وعن کا فرق نہ تھا۔(پانی پتی ، محمد اسماعیل(مرتب) ، مقالات سرسید(شانزدہم) :لاہور، مجلس ترقی ادب، ۱۹۶۵ء ،ص ۲۷۵)

تلامذہ

جب آپ مسند وتدریس پر رونق افروز ہوئے تو شائقین علم نے دور دور سے آکر آپ سے اکتساب علم کیا، آپ کا سلسلہ تلمذ بہت وسیع ہوا، چند نام یہ ہیں:

شاہ رفیع الدین دہلوی (متوفی ۱۲۳۳ھ)

شاہ عبدالقادر دہلوی (متوفی ۱۲۳۰ھ)

شاہ محمداسحاق دہلوی(متوفی ۱۲۶۲ھ)

مولانا ظہور الحق پھلواروی(متوفی ۱۲۳۴ھ)

شاہ عبدالرؤف نقشبندی(متوفی۱۲۴۹ھ)

شاہ ابوسعید دہلوی(متوفی۱۲۵۰ھ)

شاہ عبدالغنی پھلواروی(متوفی۱۲۷۲ھ)

شاہ مخصوص اﷲ دہلوی(متوفی۱۲۷۳ھ)

شاہ احمدسعیدمجددی دہلوی(متوفی۱۲۷۷ھ)

مولانافضل حق خیرآبادی(متوفی۱۲۷۸ھ)

شاہ سلامت اﷲ کشفی بدایونی(متوفی۱۲۸۱ھ)

شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی(متوفی۱۳۱۳ھ)

مفتی صدرالدین آزردہ دہلوی(متوفی۱۲۸۵ھ)

مخدوم سید آل رسول مارہروی(متوفی ۱۲۹۶ھ)[۹]

(قادری ، محمود احمد، تذکرہ علمائے اہل سنت : مظفر پور، ۱۳۹۱ھ ،ص۲۲۔

اہل سنت کی آواز(مجلہ سالنامہ) : (خانقاہ برکاتیہ،مارہرہ۔ضلع ایٹہ،یوپی) ، شمارہ اکتوبر۱۹۹۹ء ، ص۱۶۷)

تصانیف

آپ کی تصانیف میں سے چند کے نام یہ ہیں:

۱۔تفسیر فتح العزیز۔ ۲۔تحفہ اثنا عشریہ۔ ۳۔سرّ الشہادتین۔۴۔بستان المحدثین۔۵۔عجالہ نافعہ۔۶۔حاشیہ القول الجمیل۔۷۔سر الجلیل فی مسئلہ التفضیل۔۸۔وسیلۂ نجات۔۹۔عزیز الاقتباس فی فضائل اخیار الناس۔۱۰۔رسالہ فیض عام۔۱۱۔اصول مذہب حنفی۔۱۲۔ حاشیہ صدرا۔۱۳۔حاشیہ میر زاہد امور عامہ۔۱۴۔ تحقیق الرویاء۔۱۵۔ میزان البلاغت۔۱۶۔ میزان العقائد۔۱۷۔ حاشیہ علی المقدمہ السنیہ۔۱۸۔ مایجب حفظہ للناظر۔۱۹۔ الاحادیث الموضوعہ۔۲۰۔ فتاویٰ عزیزی۔۲۱۔ ملفوظات عزیزی۔۲۲۔ تضمین قصیدہ شاہ ولی اﷲ وغیرہ۔

(برکاتی ،حکیم محمود احمد، شاہ ولی اﷲ اور ان کا خاندان:لاہور، مجلس اشاعت اسلام ،۱۹۷۶ء، ص۱۵۳)

تصانیف میں تحریفات

بعض لوگوں نے آپ کی زندگی ہی میں آپ کی کتابوں میں تحریف کردی تھی، چنانچہ شاہ ولی اﷲ دہلوی خاندان پرتحقیق میں سند کا درجہ رکھنے والے مشہور اہل علم حکیم محمود احمد برکاتی لکھتے ہیں!

’’شاہ عبدالعزیز نے ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ کی تالیف ۱۲۰۴ھ/۱۷۹۰ء میں مکمل کی اور اس کی اشاعت ۱۲۱۵ھ/ ۱۷۹۹ء میں کلکتہ سے ہوئی تھی اور اس فوراً بعد تحفہ کی عبارات میں تحریف کے سلسلے کا آغاز ہوگیا، ایک معتقد نے لکھنؤ سے ایک ایسی محرفہ اور خلاف عقیدہ اہل سنت عبارت’’تحفہ‘‘ کے ایک نسخہ میں دیکھ کر شاہ صاحب کی خدمت میں عریضہ لکھ کر خلش دور کرنے کی درخواست کی تو شاہ صاحب نے جواب میں تحریر فرمایاکہ! ’’وتعریضات درباب معاویہ رضی اﷲ عنہ ازیں فقیر واقع نشدہ اگر نسخہ از تحفہ اثنا عشریہ یافتہ شد الحاق کسے خواہد بود کہ بنا بر فتنہ انگیزی وکید ومکر کہ بنا مذہب ایشاں یعنی گروہ رفضہ از قدیم برہمیں امور است ایں کار کردہ باشد چنانچہ بسمع فقیر رسیدہ کہ الحاق شروع کردہ اند اﷲ خیر حافظا وایں تعریضات در نسخ معتبرہ التبتہ یافتہ نخواہد شد‘‘۔

(فضائل صحابہ واہل بیت مع مقدمہ پروفیسر محمد ایوب قادری طبع لاہور)

(برکاتی ،حکیم محمود احمد، شاہ ولی اﷲ اور ان کا خاندان:لاہور، مجلس اشاعت اسلام ،۱۹۷۶ء، ص۵۷)

ترجمہ۔ اور حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ پر چوٹیں میں نے نہیں کیں، اگر تحفہ اثنا عشریہ کے کسی نسخے میں ایسی عبارتیں ہیں تو وہ کسی نے اپنی طرف سے بڑھا دی ہوں گی، کیونکہ روافض کے مذہب کے مذہب کی بنیاد ہی شروع ہی سے فتنہ انگیزی اور مکرو قید پر ہے، یہ کام بھی انہوں نے کیا ہوگا، چنانچہ میں نے سنا ہے کہ تحفہ میں بھی انہوں نے الحاق شروع کردیا ہے۔

قاری عبدالرحمن پانی پتی(متوفی ۱۳۱۴ھ/ ۱۸۹۶ء) شاگرد رشید شاہ محمد اسحاق دہلوی( متوفی۱۲۶۲ھ/ ۱۸۴۵ء) اپنی کتاب ’’کشف الحجاب‘‘ میں لکھتے ہیں !

’’اور ایسا ہی ایک اور جعل( غیر مقلدین) کرتے ہیں کہ سوال کسی مسئلہ کا بنا کر اور اس کا جواب موافق اپنے مطلب کے لکھ کر علمائے سابقین کے نام سے چھپواتے ہیں، چنانچہ بعض مسئلے مولانا شاہ عبدالعزیز کے نام سے اور بعض مسئلے مولوی حیدر علی کے نام سے علی ہذا القیاس چھپواتے ہیں ‘‘۔

(قاری عبدالرحمن پانی پتی، کشف الحجاب: لکھنؤ ،۱۲۹۸ھ، ص۹) (چند سال ہوئے اس رسالہ کو مرکزی جماعت القراء پاکستان، کراچی نے حکیم محمود احمد برکاتی کی تقدیم کے ساتھ شائع کردیا ہے)

علامہ ابوالحسن زید فاروقی دہلوی (متوفی۱۹۹۳ء) کتاب ’’القول الجلی‘‘ کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں ! ’’ افسوس مولوی اسماعیل کے پیروان اس کام میں بہت بڑھ گئے ہیں، حضرت شاہ ولی اﷲ، حضرت شاہ عبدالعزیز کی تحریرات ومکتوبات، حضرت شاہ عبدالقادر کا ترجمہ قرآن اور ان کی کتابیں، حضرت مجدد الف ثانی، ان کی اولاد، حضرت شاہ غلام علی، حضرت شاہ علم اﷲ رائے بریلوی اور دیگر اکابرین کے احوال میں بہت سی تحریفات کرکے محمد بن عبدالوہاب نجدی اور مولوی اسماعیل کا ہمنوا سب کو قرار دیا، اﷲ تعالیٰ اس کتاب’’القول الجلی‘‘ کو ان لوگوں سے محفوظ رکھے اور یہ کتاب بلا کسی تصرف کے چھپے‘‘۔

(شاہ ابوالحسن زیدفاروقی،مقدمہ القول الجلی:دہلی،شاہ ابوالخیراکادمی ،۱۹۸۶ء،ص۵۵۲ )

شاہ ولی اﷲ دہلوی کے خاندان کے ایک فرد اور ان کی تصانیف کے مشہور ناشر ظہیر الدین سید احمدولی اللّٰہی ، نبیسۂ شاہ رفیع الدین دہلوی ، جنہوں نے شاہ ولی اﷲ دہلوی کی تصانیف کی بڑی تعداد طبع وشائع کرکے وقف عام کی ہے، انہوں نے سب سے پہلے اس کی طرف توجہ دلائی، چنانچہ وہ شاہ ولی اﷲ صاحب کی ایک کتاب’’تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبیاء‘‘ کے آخر میں لکھتے ہیں !

’’بعد حمدوصلوٰۃکے بندہ محمد ظہیر الدین عرف سید احمد اوّل گذارشکرتا ہے بیچ خدمت شائقین تصانیف حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب ومولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ وغیرہ کا آجکل بعض لوگوں نے بعض تصانیف کو اس خاندان کی طرف منسوب کردیا ہے اور درحقیقت وہ تصانیف اس خاندان میں سے کسی کی نہیں، اور بعض لوگوں نے جو ان کی تصانیف میں اپنے عقیدے کے خلاف بات پائی تو اس پر حاشیہ جڑا اور موقعہ پایا تو عبارت کو تغیّر وتبدیل کردیا، تو میرے اس کہنے سے یہ عرض ہے کہ جو اب تصانیف ان کی چھپیں، اچھی طرح اطمینان کرلیا جائے جب خریدنی چاہیں‘‘۔

(محمد ایوب قادری، شاہ ولی اﷲ کی منسوب تصانیف: مشمولہ : الرحیم (ماہنامہ) : حیدرآباد ، شمارہ ،جون ۱۹۶۴ء، ص۲۰۔بحوالہ ’’تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبیاء‘‘ از شاہ ولی اﷲ دہلوی، مطبوعہ مطبع احمدی، کلاں محل متعلق مدرسہ عزیزی دہلی، باہتمام ظہیر الدین ولی اللَّہی،سن طباعت ندارد۔)

حضرت شاہ رئوف احمد رافتؔ نقشبندی مجددی مصطفیٰ آبادی رحمتہ اﷲ علیہ(شاہ رئوف احمد رافتؔ ابن شاہ شعور احمد ۱۴؍ محرم الحرام ۱۲۰۱ھ/۱۷۸۶ء کو رام پور (یو،پی۔ہندوستان)میں پیدا ہوئے، ظاہری علوم کی تحصیل شاہ عبدالعزیز دہلوی سے کی، خرقۂ خلافت شاہ غلام علی دہلوی سے پایا اور بھوپال میں مقیم ہوگئے، اردو میں قرآن مجید کی تفسیر لکھی، جس کا آغاز ۱۲۳۹ھ میں ہوا اور ۱۲۴۸ھ میں اختتام ہوا، اپنے مرشد کے ملفوظات’’درالمعارف‘‘ کے نام سے فارسی میں لکھے، دیوان رافت(ہندی،فارسی)، مثنوی اسرار غیب، مراتب الوصول، معراج نامہ، مثنوی یوسف زلیخا، جواہر علویہ، رسالہ صادقہ مصدوقہ، سلوک العارفین، شراب رحیق، ارکان اسلام،آپ کی تصنیف ہیں، آپ مفسر، محدث اور فقیہ تھے، آپ شاہ ابوسعید دہلوی(متوفی۱۲۵۰ھ) کے خالہ زاد بھائی تھے، بھوپال سے حج کے لئے گئے تو یلملم کے قریب ۱۲۴۹ھ/۱۸۳۳ء میں وصال ہوا، درالمعارف فارسی مطبوعہ ترکی اور حدائق الحنفیہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی میں تاریخ وصال ۱۲۵۳ھ لکھی ہے، تفصیلی حالات کے لئے دیکھئے،تذکرہ علماء ہند از مولوی رحمن علی، مطبوعہ کراچی۱۹۶۱ء، اور تذکرہ کاملان رام پور از مولوی احمد علی ،مطبوعہ پٹنہ ۱۹۸۶ء۔) حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہٗ کی اولاد میں سے تھے اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے شاگرد تھے، آپ نے تفسیر عزیزی کی ایک عبارت کو الحاقی قرار دیا، لکھتے ہیں!

’’جانا چاہئیے کہ تفسیر فتح العزیز میں کسی عدو نے الحاق کردیا ہے اور یوں لکھا ہے کہ اگر کسی بکری کو غیر کے نام سے منسوب کیا ہو تو بسم اﷲ اﷲ اکبر کہہ کر ذبح کرنے سے وہ حلال نہیں ہوتی اور غیر کے نام کی تاثیر اس میں ایسی ہوگئی کہ اﷲ کے نام کا اثر ذبح کے وقت حلال کرنے کے واسطے بالکل نہیں ہوتا، سو یہ بات کسی نے ملادی ہے۔

خود مولانا ومرشدنا حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کبھی ایسا سب مفسرین کے خلاف نہ لکھیں گے اور ان مرشداور استاد اور والد حضرت مولانا شاہ ولی اﷲ صاحب نے ’’فوذالکبیرفی اصول التفسیر‘‘ میں’’ما اھل‘‘ کا معنی ’’ماذبح‘‘لکھا ہے، یعنی ذبح کرتے وقت جس جانور پر بت کا نام لیوے، سو حرام اور مردار کے جیسا ہے ، اور بسم اﷲ، اﷲ اکبر کہہ کر ذبح کیا، سو کیوں کر حرام ہوتا ہے۔

بعضے نادان تو حضرت نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مولد شریف کی نیاز، حضرت پیران پیر کی نیاز اور ہر ایک شہداء، اولیاء کی نیاز فاتحہ کے کھانے کو بھی حرام کہتے ہیں اور یہ آیت دلیل لاتے ہیں کہ غیر خدا کا نام جس پر لیا گیا، سو حرام ہے، واہ واہ کیا عقل ہے، ایسا کہتے ہیں اور پھر جاکر نیاز فاتحہ کا کھانا بھی کھاتے ہیں‘‘۔ (شاہ رئوف احمدرافت ، تفسیر رئوفی[ج۱] :بمبئی ،مطبع فتح الکریم، ۱۳۰۵ھ/ ۱۸۸۷ء،ص۱۳۹)

مشہور محقق حکیم محمود احمد برکاتی صاحب لکھتے ہیں!

’’مولوی سید احمد ولی اللّٰہی نے شاہ عبدالعزیز کے ملفوظات مطبوعہ میرٹھ کو جعلی بتایا ہے۔( انفاس العارفین مطبوعہ مطبع احمدی دہلی، صفحہ آخر) ہماری ناقص رائے میں مولوی سید احمد کی یہ رائے کلیتہً تو صحیح نہیں ہے، ملفوظات شاہ صاحب کے ہی ہیں، مگر ان میں الحا ق ضرور ہوا ہے اور بعض فحش اشعار اور فحش واقعات درج کردئیے گئے ہیں‘‘۔(حکیم محمود احمدبرکاتی، شاہ ولی اﷲ دہلوی اور ان کا خاندان : لاہور،مرکز اشاعت اسلام،۱۹۷۶ء، ص۵۷)

اولاد

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی اولاد میں تین صاحبزادیاں تھیں، آپ کے ہاں کوئی نرینہ اولاد پیدا نہ ہوئی، تینوں صاحبزادیاں آپ کی زندگی میں وفات پاگئیں تھیں، سب سے بڑی بیٹی کا عقد شاہ رفیع الدین کے بڑے بیٹے مولوی محمد عیسیٰ سے ہوا، دوسری بیٹی کا عقد شیخ محمد افضل محدث لاہوری سے ہوا، ان سے دو بیٹے مولانا محمد اسحاق اور مولانا محمد یعقوب پیدا ہوئے، تیسری صاحبزادی کا عقد آپ کی بیوی کے بھتیجے مولای عبدالحی بڈھانوی سے ہوا، لیکن ان سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔( ثریا ڈار،ڈاکٹر ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور ان کی علمی خدمات:لاہور ، ادارہ ثقافت اسلامیہ ۱۹۹۱ء، ص۱۲۱ )

وفات

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے ۷؍ شوال ۱۲۳۹ھ/ ۱۸۲۴ء کو وفات پائی، پچپن با نماز جنازہ پڑھی گئی، ترکمان دروازہ کے باہر قبرستان مہندیاں میں اپنے والد ماجد شاہ ولی اﷲ قدس سرہٗ کے پہلو میں دفن ہوئے، حکیم مومن خاں مومنؔ دہلوی نے تاریخ وفات کہی۔

دست بیداد اجل سے بے سروپا ہوگئے

فقر دیں، فضل وہنر، لطف وکرم، عمل وعلم

ق ی ن ط ر ل م ۳۹ ھ ۱۲

(چشتی،عبدالحلیم، فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ:کراچی ، نور محمد کارخانہ، ۱۳۸۳ھ/۱۹۶۴ء، ص۲۷۶۔ اکرام،شیخ محمد ، رود کوثر: لاہور، ادارہ ثقافت اسلامیہ ، ۱۹۸۷ء، ص۵۹۵۔رحمن علی، تذکرہ علمائے ہند: مترجم ، پروفیسر محمد ایوب قادری ،کراچی ، پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی ،۱۹۶۱ء، ص۳۰۲ ۔برکاتی ،حکیم محمود احمد شاہ ولی اﷲ اور ان کا خاندان : ص۱۵۱ )

مسلک شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی

استعانت

ایاک نستعین کے تحت فرماتے ہیں!

دریں جاباید فہمید کہ استعانت از غیر بوجہے کہ اعتماد برآں غیر باشد داد را مظہر عون الٰہی نداند حرام است واگر التفات محض بجانب حق است و اُو را یکے از مظاہر عون دانستہ ونظر بکار خانۂ اسباب و حکمت او تعالیٰ دراں نمود بغیر استعانت ظاہر نمائد دور از عرفاں نخواہد بود و در شرع نیز جائز و روا است و انبیاء واولیاء ایں نوع استعانت بغیر کردہ اند ودر حقیقت ایں نوع استعانت بغیر نیست بلکہ استعانت بحضرت حق است لا غیر

( محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، تفسیر عزیزی[ج۱] :دہلی ،مطبع مجتبائی ۱۳۴۸ھ ، ص۸)

ترجمہ۔ اس جگہ یہ سمجھنا چاہئیے کہ غیر سے اس طرح استعانت حرام ہے کہ اعتماد اس غیر پر ہو اور اُسے اﷲ تعالیٰ کی امداد کا مظہر نہ جانے، اور اگر توجہ محض اﷲ تعالیٰ کی طرف ہواور اسے اﷲ تعالیٰ کی امداد کا مظہر جانے اور اﷲ تعالیٰ کی حکمت اور کارخانۂ اسباب پر نظر کرتے ہوئے اس غیر سے ظاہری استعانت کرے تو یہ راہِ معرفت سے دور نہ ہوگا اور شریعت میں جائز اور روا ہے، اس قسم کی استعانت انبیاء و اولیاء نے غیر سے کی ہے، در حقیقت استعانت کی یہ قسم غیر سے نہیں، بلکہ اﷲ تعالیٰ ہی سے ہے۔

سورۃ عبس، پارہ ۳۰ کی تفسیر میں فرماتے ہیں!

از اولیائے مدفونین و دیگر صلحائے مومنین انتفاع و استفادہ جاری است و آنہارا افادہ و اعانت نیز مقصود

( محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، تفسیر عزیزی[ج۱] :دہلی ،مطبع مجتبائی ۱۳۴۸ھ، ص۵(پارہ عم)

ترجمہ۔ یعنی مدفون اولیائے کرام اور دیگر نیک مامنین سے نفع اٹھانے اور فائدہ حاصل کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور ان کو فائدہ پہنچانے کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔

سورۃ انشقت، پارہ ۳۰ کی تفسیر میں فرماتے ہیں!

بعضے از خواص اولیاء اﷲ را کہ آلہ جارحہ تکمیل و ارشاد بنی نوع خود گردانیدہ اند دریں حالت ہم تصرف در دنیا دادہ و استغراق آنہا بہ جہت کمال وسعت تدراک آنہا مانع توجہ بایں سمت نمے گردد واویسیاں تحصیل کمالات باطنی از آنہا مے نمائندہ و ارباب حاجات ومطالب حل و مشکلات خود از آنہامے طلبند و می پابند و زبان حال دراں وقت ہم مترنم بایں مقالات استمن آیم بجاں گر تو آئی بہ تن

(محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، تفسیر عزیزی[ج۱] :دہلی ،مطبع مجتبائی ۱۳۴۸ھ ، ص۱۱۳)

ترجمہ۔ بعض خاص اولیاء اﷲ جنہیں اﷲ تعالیٰ نے محض اپنے بندوں کی ہدایت وارشاد کے لئے پیدا کیا، ان کو اس حالت میں بھی اس عالم کے تصرف کا حکم ہوا ہے اور اس طرف متوجہ ہوتے ہیں، ان کا استغراق بوجۂ کمال وسعت تدارک انہیں روکتا ہے، اور اویسی سلسلہ کے لوگ باطنی کمالات انہی سے حاصل کرتے ہیں، حاجت مند اور اہل غرض لوگ اپنی مشکلات کا حل انہی سے چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں وہ پاتے بھی ہیں اور زبان حال سے یہ ترنم سے پڑھتے ہیںاگر تم میری طرف بدن سے آئو گے تو میں تمہاری طرف جان سے آئوں گا۔

الحمد ﷲ یہی مسلک حق اہل سنت کا عقیدہ ہے ، آیت ایاک نعبد وایاک نستعینکی تفسیر میں ترجمہ کنزالایمانکا حاشیہ تفسیر خزائن العرفان مطالعہ فرمایا جائے۔

اہل قبور سے استمداد

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلو ی رحمتہ اﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں !

اہل قبور میں سے بعض بزرگ کمال میں مشہور ہیں اور ان کا کمال متواتر طور پر ثابت ہے، ان بزرگوں سے استمداد کا طریقہ یہ ہے کہ اس بزرگ کی قبر کے سرہانیکی جانب قبر پر انگلی رکھے اور شروع میں سورۂ بقرہ سے مفلحون تک پڑھے، پھر قبر کی پائنتیوں کی طرف سے جاوے اور اٰمن الرسول آخر سورۃ تک پڑھے اور زبان سے کہے کہ اے میرے حضرت فلاں کام کے لئے درگاہِ الٰہی میں دُعا والتجا کرتا ہوں، آپ بھی دعا کریں، پھر قبلہ کی طرف منہ کرکے اپنی حاجت کے لئے اﷲ تعالیٰ سے دعا والتجا کرے۔ ( محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، کمالات عزیزی،: مرتبہ ،ظہیر الدین دہلوی، کراچی ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی،۱۹۸۲ء، ص۴۸)

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کو دھاندلی سے اپنا بزرگ بتانے والے ،کیا اہل قبور سے اس طرح کی استمداد کے قائل ہیں؟ ۔ اگر نہیں تواس طریقۂ استمداد بتانے والے حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ پر کیا فتویٰ ہے؟۔

وسیلۂ عظمیٰ

’’ طبرانی نے معجم صغیر اور حاکم اور نعیم اور بیہقی نے حضرت امیرالمومنین عمر بن خطاب(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدم( علیہ السلام) سے یہ لغزش سرزد ہوئی اور ان پر عتاب الٰہی نازل ہوا، توبہ قبول ہونے میں حیران تھے کہ اتنے میں ان کو یاد آیا کہ مجھ کو جس وقت خدا تعالیٰ نے پیدا کیا تھا اور روح خاص میرے اندر پھونکی تھی، اس وقت میں نے اپنے سر کو عرش کی طرف اٹھایا تھا، اس جگہ لکھا دیکھا تھا’’لا الہ الااﷲ محمد رسول اﷲ‘‘، یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قدر کسی شخص کی اﷲکے نزدیک برابر قدر اس شخص کے نہیں ، کہ نام اس کا اپنے نام کے ساتھ برابر رکھا ہے، تدبیر یہ ہے کہ میں بحق اسی شخص کے سوال مغفرت کروں، پس دعا میں کہا ’’ اسئلک بحق محمد ان تغفرلی…‘‘ حق تعالیٰ نے ان کی بخشش کی اور وحی بھیجی کہ محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو کہاں سے جانا تونے، انہوں نے تمام ماجرا عرض کیا، حکم پہنچا کہ اے آدم! محمد( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سب پیغمبروں سے پچھلا پیغمبر ہے اور تیری اولاد میں سے ہے، اگر وہ نہ ہوتے تو میں تجھ کو پیدا نہ کرتا‘‘۔ ( محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، تفسیر عزیزی [ج۱] : کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی، ۱۳۹۷ھ ، ص۳۳۹)

پاک و ہند کے غیر مقلدین ، سعودی وہابیوںکی تقلید میں اعمال صالحہ کے وسیلہ کے توقائل ہیں مگر ذوات کے وسیلہ کا انکار کرتے ہیں کہ کسی بھی بزرگ نیک صالح شخص کی ذات کو وسیلہ ماننا شرک ہے،جو لوگ حج پر جاتے ہیں انہیں حرم پاک میں وعظ کے ذریعے اور لٹریچر کے ذریعے یہی تبلیغ کی جاتی ہے،ان تمام غیر مقلدین کی سند فراغت میں حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کا نام لکھا ہوتا ہے ،شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے حضور نبی کریم کی ذات اقدس کے وسیلہ کی تائید میں مذکورہ بالا حدیث نقل فرمائی ہے،اور انہوں نے اس کی تردید نہیں کی ،کیا غیرمقلدین کا اپنے استاذ الاساتذہ حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے متعلق شرک کا فتویٰ ہے یا آنکھیں ،کان ، منہ بند اور قلم کی حرکت بند؟۔

مسئلہ حاضر وناظر

شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ ’’ویکون الرسول علیکم شہیدا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں!

’’یعنی وبا شد رسول شما بر شما گواہ زیرا کہ او مطلع است بنور نبوت بر رتبہ ہر متدین بدین طورکہ در کدام درجہ از دین من رسیدہ وحقیقت ایمان او چیست و حجابے کہ بداں از ترقی محجوب ماندہ است کدام است، پس اومے شناسد گناہاں شمار او درجات ایمان شما راو اخلاص و نفاق شمارا او لہذا شہادت او در دنیا و آخرت بہ حکم شرع در حقیقت امت مقبول وواجب العمل است‘‘۔ (محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز ، تفسیر عزیزی : لاہور ، مطبع محمدی لاہور، س ن، ص۵۱۸۔پارہ:۲)

ترجمہ۔ یعنی تمہارے رسول تم پر گواہ ہیں کیونکہ حضور(صلی اﷲ علیہ وسلم) نور نبوت سے ہر دین دار کے اس رتبہ پر مطلع ہیں کہ جس تک وہ پہنچا ہوا ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے، اور اس حجاب سے بھی واقف ہیں کہ جس کی وجہ سے رکا ہوا ہے، تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمہارے گناہوں کو اور تمہارے درجات ایمان کو اور تمہارے نیک وبد اعمال کو اور تمہارے اخلاص و نفاق کو جانتے اور پہچانتے ہیں، اسی لئے حضور( صلی اﷲ علیہ وسلم) کی شہادت دنیا وآخرت میں بحکم شرع امت کے حق میں مقبول اور واجب العمل ہے۔

دنیا کے تمام وہابیوں ،نجدیوں تبلیغیوں سے سوال ہے کہ شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے حضور نبی کریم ﷺ کے متعلق جس عقیدہ کا اظہا ر کیا ہے ، کیا ایسا عقیدہ رکھنا ایمان ہے یا کھلا شرک ہے؟۔

وما اھل بہٖ لغیر اﷲ کی تفسیر

بعض لوگ اس آیت کی تفسیر میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی ’’تفسیر عزیزی‘‘ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ ایصال ثواب کی خاطرجس جانور کی نسبت کسی بزرگ کی طرف کردی ہو وہ حرام ہے اگرچہ اسے ذبح کرتے وقت اﷲ تعالیٰ کا ہی نام لیا جائے۔

اس مسئلہ کی وضاحت میں ضیغم اسلام علامہ سید احمد سعید کاظمی امروہوی رحمتہ اﷲ علیہ نے تفسیر عزیزی اور فتاویٰ عزیزی کی داخلی شہادتوں سے ثابت کیا ہے کہ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی علیہ الرحمہ کے نزدیک وہی جانور حرام ہے جس کے ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام لیا گیا ہو، محض کسی بزرگ کی نسبت کردینے سے جانور حرام نہیں ہوجاتا، ذیل میں علامہ کاظمی کے رسالہ مبارکہ’’ تصریح المقال فی حل امر الاہلال‘‘ سے اس بحث کا خلاصہ نقل کیا جاتا ہے۔

’’ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تفسیر عزیزی میں انواع شرک کے تحت مشرکین کے چند فرقے شمار کئے ہیں، ان میں چوتھا فرقہ پیر پرستوں کا ہے، اس کے متعلق محدث دہلوی نے فرمایا! چوتھا گروہ پیر پرست ہے، جب کوئی بزرگ کمال ریاضت اور مجاہدہ کی بنا پر اﷲ تعالیٰ کے ہاں مقبول دعائوں اور مقبول شفاعت والا ہوکر اس جہان سے رخصت ہوجاتا ہے تو اس کی روح کو بڑی قوت و وسعت حاصل ہو جاتی ہے، جو شخص اس کے تصور کو واسطہ فیض بنا لے یا اس کے اٹھنے بیٹھنے کی جگہ یا اس کی قبر پر سجدہ اور تذلل تام کرے( اس جگہ اصل عبارت یہ ہے)

’’ یا در مکان نشست و برخاست او، یا بر گور او سجود و تذلل تام نماید‘‘

تو اس بزرگ کی روح وسعت اور اطلاق کے سبب خود بخود اس پر مطلع ہوجاتی ہے اور اس کے حق میں دنیا و آخرت میں شفاعت کرتی ہے۔(شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، تفسیر عزیزی: دہلی ،لال کنواں ، س ن ، ص۱۲۷۔سورۃ البقرہ)

یہ گروہ واقعی مشرک تھا جو قبروں پر تذلل تام کے ساتھ سجدہ کرتا تھا، علامہ ابن عابدین شامی حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

’’العبادۃ عبارۃ عن الخضوع والتزلل‘‘ (شامی ، ابن عابدین شامی، ردالمحتار[ج۲] : قاہرہ ، س ن ، ص۲۵۷)

ترجمہ۔ خضوع اور تذلل تام کو عبادت کہتے ہیں۔

آج کل کے خوارج کی ستم ظریفی ہے کہ وہ اولیاء اﷲ کے عقیدت مند اہل سنت و جماعت کو پیر پرست کہہ کر مشرک قرار دیتے ہیں، حالانکہ عامۃ المسلمین عبادت اور انتہائی تعظیم صرف اﷲ تعالیٰ کے مانتے ہیںکسی دوسرے کے لئے نہیں، حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کا روئے سخن اُس گروہ مشرکین کی طرف ہے، ان کا طریقہ یہ تھا کہ جانور کی جان دینے کی نذر شیخ سدّو وغیرہ کے لئے مانتے اور اس کی تشہیر کرتے تھے، پھر اسی نیت کے تحت شیخ سدو وغیرہ کے لئے خون بہانے کی نیت سے اسے ذبح کرتے تھے، ظاہر ہے کہ یہ ذبح کسی طرح حلال نہیں ہو سکتا، کم فہم لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت شاہ صاحب نے محض کسی بزرگ کی طرف نسبت کرنے کی بنا پر ان جانوروں کو حرام قرار دیا ہے، حالانکہ یہ قطعاً باطل ہے اور شاہ صاحب پر بہتان صریح ہے۔

شاہ صاحب نے تفسیر عزیزی میں اپنے موقف کی وضاحت کے لئے تین دلیلیں پیش کی ہیں!

پہلی دلیل: یہ حدیث ہے ’’ ملعون من ذبح لغیراﷲ‘‘ ملعون ہے جس نے غیراﷲ کے لئے ذبح کیا، اس حدیث میں صراحتہً لفظ ذبح مذکور ہے۔

دوسری دلیل: عقلی ہے اس میں یہ تصریح ہے’’ وجان ایں جانور ازاں غیر قرار دادہ کشتہ اند‘‘ یعنی اس جانور کی جان غیر کی ملک قرار دے کر اس جانور کو ذبح کیا ہے، اس عبارت میں دو باتیں ہیں۔

۱۔جانور کی جان غیر کے لئے مملوک قرار دی۔

۲۔ اس کو ذبح کیا۔

صاف ظاہر ہے کہ اس جانور میں اس لئے خبث پیدا ہوا کہ اسے غیر کے لئے ذبح کیا گیا ہے۔

تیسری دلیل: تفسیر نیشا پوری کی ایک عبارت ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کسی مسلمان نے کوئی جانور ذبح کیا اور اس ذبح سے غیر اﷲ کا تقرب(بطور عبادت) مقصود ہو تو وہ مرتد ہو گیا اور اس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ ہے۔

اس عبارت میں بھی غیر اﷲ کے تقرب کی نیت سے ذبح کا ذکر ہے، ثابت ہوا کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ محض کسی اﷲ تعالیٰ کے بندے کی نسبت کے مشہور کردینے کو حرمت کا سبب قرار نہیں دیتے بلکہ ان کے نزدیک غیر اﷲ کے لئے ذبح کرنے سے جانور حرام ہوتا ہے اور یہی تمام امت مسلمہ کا عقیدہ ہے۔

حضرت شاہ صاحب ’’اُھل‘‘ کا ترجمہ اگرچہ اصل لغت کے اعتبار سے یہ کیا کہ آواز دی گئی ہو اور شہرت دی گئی ہو، لیکن اس سے ان کی مراد وہی شہرت ہے جس پر ذبح واقع ہو، چنانچہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سورۂ بقرہ میں ’’وما اھل بہٖ لغیراﷲ‘‘میں ’’بہٖ‘‘ لغیر اﷲ سے پہلے ہے، جب کہ سوۂ مائدہ، سورہ ٔانعام اور سورہ ٔ نحل میں ’’لغیراﷲ‘‘ پہلے ہے اور ’’بہٖ‘‘ موخر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ’’باء‘‘ فعل کو متعدی کرنے کے لئے ہے اور اصل یہ ہے کہ باء فعل کے ساتھ متصل ہو اور دوسرے متعلقات سے پہلے ہو، اس جگہ تو باء اپنے اصل کے مطابق لائی گئی ہے، دوسری جگہوں میں اس چیز کو پہلے لایا گیا ہے، جو جائے انکار ہے۔ ’’پس ذبح بقصد غیر اﷲ مقدم آمدہ‘‘ترجمہ ۔ لہذا غیراﷲ کے ارادے سے ذبح کرنے کا ذکر پہلے آیا ہے۔(محدّث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز،تفسیر عزیزی: دہلی ،لال کنواں ، س ن ، ص ص۶۱۱)

اب اگر ’’اھل‘‘ سے مراد ذبح نہیں ہے تو یہ کہنا کیسے صحیح ہوگا کہ سورۂ بقرہ کے علاوہ باقی سورتوں میں غیراﷲ کے ارادے سے ذبح کرنے کا ذکر پہلے ہے حالانکہ باقی سورتوں میں بھی ذبح کا ذکر نہیںہے بلکہ ’’اُھِلَ‘‘ ہی کا ذکر ہے، ثابت ہوا کہ خود شاہ صاحب کے نزدیک لغیراﷲ کا مرادی معنی غیر اﷲ کے لئے ذبح کرنا ہی ہے۔

مزید تائید کے لئے شاہ صاحب کی ایک اور تحریر ملاحظہ ہو، سوال یہ ہے کہ حضرت سید احمد کبیر کے لئے نذر مانی ہوئی گائے حلال ہے یا حرام؟۔ اس کے جواب میں شاہ صاحب فرماتے ہیں!

’’ذبیحہ کی حلّت اور حرمت کا دارومدار ذبح کرنے والے کی نیت پر ہے اگر تقرب الی اﷲ کی نیت سے یا اپنے کھانے کے لئے یا تجارت اور دوسرے جائز کاموں کے لئے ذبح کرے تو حلال ہے ورنہ حرام‘‘۔ (محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی [ج۱] :دہلی ، مطبع مجتبائی ، ۱۳۲۲ھ، ص۲۱)

غور فرمائیں کہ حضرت سید احمد کبیر کے لئے نذر مانی ہوئی گائے کو انہوں نے حرام نہیں کہا، اگر محض تشہیر اور نذر لغیر اﷲ موجب حرمت ہوتی تو صاف کہہ دیتے کہ حرام ہے، یوں نہ کہتے کہ ذبح کرنے والے کی نیت اور قصد پر دارومدار ہے۔

شاہ صاحب اس جواب میں آگے چل کر فرماتے ہیں!

’’یعنی ان کی نیت تقرب الیٰ غیر اﷲ وقت ذبح تک دائم و مستمر رہتی ہے‘‘۔

(محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی [ج۱] :دہلی ، مطبع مجتبائی ، ۱۳۲۲ھ، ص۲۴)

ثابت ہوا کہ صرف نیت تعظیم لغیراﷲ موجب حرمت نہیں، جب تک کہ وہ نیت وقت ذبح تک دائم وباقی رہے۔

اس مسئلہ میں یہی شاہ صاحب اسی فتاویٰ عزیزی میں فرماتے ہیں!

’’جب خون بہانا تقرب الیٰ غیراﷲ کے لئے ہو تو ذبیحہ حرام ہو جائے گا، اور جب خون بہانا اﷲ کے لئے ہو اور تقرب الیٰ غیر کھانے اور نفع حاصل کرنے کے ساتھ مقصود ہو تو ذبیحہ حلال ہوجائے گا‘‘۔(محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی [ج۱] :دہلی ، مطبع مجتبائی ، ۱۳۲۲ھ، ص۴۷)

دیکھئے حلت وحرمت ذبیحہ میں کتنا روشن فیصلہ ہے، اس کے باوجود بھی اگر یہ کہا جائے کہ شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ محض تشہیر لغیراﷲ کو جانور کے حرام ہونے کی علّت قرار دیتے ہیں، تو ایسا کہنا یقیناً شاہ صاحب پر افتراء عظیم ہوگا، ان کے نزدیک آیۂ کریمہ’’وما اھل بہ لغیراﷲ‘‘ کے مرادی معنی قطعاً یہی ہیں کہ جس جانور پر’’عندالذبح اہلال لغیر اﷲ‘‘ کیا جائے۔

ایک شبہ کا ازالہ

آخر میں ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت شاہ صاحب عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اولیاء کے لئے کوئی جانور نذر مانے ، ان سے کہا جائے کہ اس جانور کی بجائے گوشت لے کر اپنی نذر پوری کردو، اگر وہ راضی ہو جائیں تو وہ اپنے اس قول میں سچے ہیں کہ ہماری نیت غیراﷲ کے لئے خون بہانے کی نہ تھی، ورنہ سمجھ لینا چاہئیے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان کی نیت یہی ہے غیر اﷲ کی تعظیم کے لئے خون بہایا جائے، شاہ صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کے اس فرمان کے مطابق اس زمانے میں بھی اسی معیار پر جواز و عدم جواز کا حکم لگانا چاہئیے۔

اس شبہ کا ازالہ یہی ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کا مقرر کردہ معیار مذکور ان لوگوں کے حق میں تو درست ہوسکتا ہے جو قبور کی عبادت کرتے تھے اور خودحضرت شاہ صاحب رحمتہ اﷲ علیہ نے انہیں گروہ مشرکین میں شمار کیا ہے، جیسا کہ اس سے قبل تفسیر عزیزی جلد اول صفحہ ۱۲۷ کی عبارت ہم نقل کرچکے ہیں ،لیکن مسلمانوں کے حق میں یہ معیار کسی طرح درست نہیں ہوسکتا، نہ ہی حضرت شاہ صاحب رحمتہ اﷲ علیہ نے مومنین کے لئے یہ معیار بیان فرمایا ہے، اس لئے مومن از روئے قرآن شریف اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ’’لن تنالو البر حتیٰ تنفقون مما تحبون‘‘(تم ہر گز نیکی نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ اور محبوب چیز اﷲ کی راہ میں خرچ نہ کرو) اور ظاہر ہے کہ پالے ہوئے جانور سے جو محبت ہوتی ہے، وہ خریدے ہوئے جانور یا گوشت سے نہیں ہوسکتی، اس لئے جو نیکی اور ثواب پالے ہوئے جانوروں کو ذبح کرکے ایصال ثواب کرنے سے حاصل ہوگا ، وہ اس کے علاوہ دوسری چیز سے نہیں ہوسکتا۔

علاوہ ازیں اس میں شک نہیں کہ ہر ذبیحہ خواہ وہ اپنے کھانے کے لئے ذبح کیا جائے یا بیچنے کے لئے یا قربانی کے لئے اس کے حلال اور پاک ہونے کی شرط یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا نام لے کر اس کا خون خالص اﷲ تعالیٰ کی تعظیم کے لئے بہایا جائے اور ظاہر کہ اﷲ کا ذکر اور اس کی تعظیم کے لئے جو کام کیا جائے وہ نیکی اور اطاعت ہے، لہذا ہر وہ فعل (جس سے تعظیم خداوندی مقصود ہو) نیکی قرار پائے گا، اور ہر مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی نیکی کا ثواب کسی مسلمان کو بخش دے، لہذا صرف گوشت میں محض گوشت کا ثواب اس بزرگ کی روح کو پہنچے گا اور جانور ذبح کرنے میںگوشت کے علاوہ فعلِ ذبح کا جو ثواب ذابح کو ملا وہ بھی اس بزرگ کی روح کو پہنچ سکتا ہے۔

پس اگر ان وجوہات کی بنا پر کوئی مسلمان جانور کے عوض گوشت لینے پر راضی نہ ہو، تو اس سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ یہ مامن معاذاﷲ ولی کی تعظیم و تقرب کے لئے جانور کا خون بہانے کی نیت رکھتا ہے، نیت فعل قلب ہے، جب باطن کا حال ہمیں معلوم نہیں تو ہم کس طرح مسلمان پر معصیت کا حکم لگا دیں، مومن کے حق میں بد گمانی کرنا حرام ہے۔

یہ خلاصہ ہے حضرت غزالئی زماں ضیغم اسلام علامہ سید احمد سعید کاظمی امروہوی محدّث ملتانی قدس سرہٗ(متوفی۱۹۸۶ء) کی تحقیق کا، یاد رہے کہ یہ گفتگو اس وقت ہے جب یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ عبارت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی ہے اور اگر اس عبارت کو الحاقی قرار دیا جائے جیسے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے شاگرد حضرت شاہ رئوف احمد رافت نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ نے فرمایا ، تو پھر اس گفتگو کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

علم غیب

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ ، سورۂ جن، پارہ ۲۹ کی تفسیر میں فرماتے ہیں!

’’مطلع نمی کند بر غیب خاص خود ہیچ کس را کہ رفع تلبس واشتباہ و خطائے کلی برآں اطلاع باشد مگر کسے کہ پسند میکند و آں کس رسول باشد خواہ از جنس ملک و خواہ از جنس بشر مثل حضرت محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام اورا اظہار بر غیوب خاصہ می فرمائید‘‘۔ (محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، تفسیر فتح العزیز=( تفسیر عزیزی) : دہلی،ص۲۶)

ترجمہ۔ اﷲ تعالیٰ اپنے غیوب خاص پر کسی کو اس طرح مطلع نہیں فرماتا کہ بغیر کسی شک و شبہ و خطاء کے یقینی اطلاع اسے ہوجائے مگر وہ شخص جسے اﷲ پسند فرمائے اور رسول ہو، خواہ ملائکہ میں سے ہو، خواہ انسانوں میںسے جیسے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم، اس رسول کو اپنے خاص غیبوں پر مطلع فرمادیتا ہے۔

حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے جانشین بننے والوں وہابی دیوبندیوں سے سوال ہے کہ حضرت شاہ صاحب حضور نبی کریم ﷺ کو اﷲ کے خاص غیبوں پر مطلع ہونا لکھا ہے تو ایسا عقیدہ رکھنے سے وہ مسلمان رہے یا نہیں؟۔

عدم سا یۂ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم

حضرت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں!

’’وسایہ ایشاں بر زمین نمی افتاد‘‘ ۔ ( محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، تفسیر فتح العزیز، پارہ ۳۰، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱۳۴۸ھ/۱۹۲۹ء، ص۲۱۹)

ترجمہ۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا۔

تمام وہابیہ سے سوال ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے حضوراقدسﷺ کا تاریک سایہ نہ مان کرمسلک حق اہل سنت کی تائید کی ہے یا تردید؟۔

حضرت سیدنا علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نذر نیاز

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

’’ حضرت امیر و ذریت ورا تمام امت بر مثال پیران و مرشدان می پرستند و امور تکوینیہ را بایشاں وابستہ می دانند وفاتحہ ودرود وصدقات ونذر ومنت بنام ایشاں…رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء اﷲ ہمیں معاملہ است‘‘۔ (محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، تحفہ اثناء عشریہ : لاہور ، سہیل اکیڈمی ۱۳۹۵ھ/ ۱۹۷۵ء،ص۲۱۴ )

ترجمہ۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کی اولاد پاک کو تمام افراد امت پیروں اور مرشدوں کی طرح مانتے ہیں، امور تکوینیہ کو ان کے ساتھ وابستہ جانتے ہیں اور فاتحہ درودوصدقات اور نذر نیاز ان کے نام کی ہمیشہ کرتے ہیں جیسا کہ تمام اولیاء کا یہی طریقہ ومعمول ہے‘‘۔

( مشہور دیوبندی ناشر نور محمد کارخانۂ تجارت کتب کراچی نے تحفہ اثناء عشریہ کا جو اردو ترجمہ شائع کیا ہے اس میں اس عبارت کا ترجمہ غائب کردیا ہے۔ خلیل رانا)

دیوبندیوں ،وہابیوں اور تبلیغیوں سے سوال ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی نذرونیاز کے بارے میں تمام امت مسلمہ کے جس عقیدے کا ذکر کیا ہے اور شرک کا کوئی فتویٰ نہیں لگایا، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟۔ کیا حضرت شاہ صاحب بریلوی تھے؟۔

فوت شدہ بزرگوں کا وسیلہ

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی مشہور کتاب’’بستان المحدثین‘‘میں علامہ محدث یحییٰ بن یحییٰ مصمودی اندلسی(سپین۔یورپ) علیہ الرحمہ(متوفی ۲۳۴ھ) کے حالات میں لکھتے ہیں!

’’ قبر او در قرطبہ است مردم در وقت قحط بادی استسقاء میکنند و تبرک میخواہند‘‘۔ ( محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، بستان المحدثین : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی ، ۱۹۸۴ء، ص ۳۹،۴۰)

ترجمہ۔قرطبہ میں ان کی قبر ہے، خشک سالی میں ان کے طفیل سے لوگ بارش اور برکت طلب کرتے تھے۔

تمام وہابیوں دیوبندیوں سے سوال ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے تیسری صدی ہجری کے سلف صالحین کے جس عقیدہ کا ذکر کیا ہے ، کیا یہ سب قبر پرست تھے یا صحیح العقیدہ مسلمان تھے؟۔

بزرگوں کے طفیل بلائوں کا دُور ہونا

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ ’’ بستان المحدثین‘‘میں شیخ قاضی حسین بن اسما عیل بن محمد طیبی محاملی بغدادی رحمتہ اﷲ علیہ (متوفی ۳۳۰ھ) کے متعلق لکھتے ہیں!

’’محمد بن الحسین کہ یکے از بزرگان آں عہد بود گفتہ است کہ من من بخواب دیدم کہ گویا گویند می گوید حق تعالیٰ از اہل بغداد ببرکت محاملی بلا را دفع می کنند‘‘۔ ( محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، بستان المحدثین : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی ، ۱۹۸۴ء، ص ۱۹۴)

ترجمہ۔ محمد بن حسین نے جو اس عہد کے بزرگ شخص ہیں ، بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے کہ حق تعالیٰ اہل بغداد پر سے حضرت محاملی علیہ الرحمہ کے طفیل اور ان کی برکت سے بلا کو دفع کرتا ہے۔

وہابیہ دیوبندیہ سے سوال ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے ایک مسلمان بزرگ کو بلائوں کے دفع ہونے کا سبب لکھا ہے، کیا ایسا عقیدہ لکھنا شرک کی تائید ہے یا نہیں ؟حضرت شاہ صاحب نے ایسی بات کیوں لکھ دی؟۔

علم اولیاء اﷲ

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ ’’بستان المحدثین ‘‘ میں لکھتے ہیں!

’’علامہ محدث ابن حجر عسقلانی شافعی مصری (شارح صحیح بخاری)رحمتہ اﷲ علیہ(متوفی۸۵۲ھ)کے والد کی اولاد زندہ نہ رہتی تھی، وہ ایک دن شکستہ خاطر اور رنجیدہ ہوکر مشہور صاحب کرامت ولی اﷲ حضرت صنا قبری رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں پہنچے تو شیخ نے فرمایا! تیری پشت سے ایک فرزند پیدا ہوگا جو اپنے علم سے دنیا کو مالا مال کردے گا‘‘۔ ( محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، بستان المحدثین : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی ، ۱۹۸۴ء، ص ۳۰۴)

وہابیہ ، دیوبندیہ سے سوال ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے محدث ابن حجر علیہ الرحمہ کے والد ماجد کے بارے میں لکھ ا ہے کہ وہ دعا کے لیے ایک بزرگ کے پاس گئے ،کیا اﷲ تعالیٰ ان کی نہیں سنتا تھا؟، پھر ان بزرگ کو کیا پتا کہ پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی؟، امید ہے منکرین اس بارے میں وضاحت کریں گے۔

علم اولیاء اﷲ بعد از و فات

شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی علیہ الرحمہ ’’بستان المحدثین‘‘ میں امام محدّث حُمیدی علیہ الرحمہ کے متعلق لکھتے ہیں!

’’۱۷؍ ذی الحجہ ۴۸۸ھ کو حمیدی کی وفات ہوئی، مشہور شافعی فقیہ ابوبکر شامی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، شیخ ابو اسحاق شیرازی کی قبر کے نزدیک انہیں دفن کیا گیا،وفات سے قبل آپ نے کئی بار مظفر کو جو بغداد کا رئیس تھا ، یہ وصیت کی تھی کہ مجھے بشر حافی علیہ الرحمہ کے پاس دفن کرنا، اس نے کسی وقتی مانع کے سبب سے ان کی وصیت کے خلاف عمل کیا، اس نے خواب میں دیکھا کہ حمیدی اس سے اس امر کا گلہ اور شکایت کرتے ہیں ، ناچار ماہ صفر ۴۹۱ھ میں اس جگہ سے منتقل کر کے حضرت بشر حافی علیہ الرحمہ کے پاس دفن کیا گیا، یہ حمیدی کی کرامت ہے کہ ان کا کفن تازہ اور بدن بالکل صحیح وسالم تھا اور بہت دور تک اس کی اس کی خوشبو مہک رہی تھی‘‘۔(محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، بستان المحدثین : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی ، ۱۹۸۴ء، ص ۲۱۴)

حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے علمی جانشین بننے والے وہابی دیوبندی بتائیں گے کہ امام محدّث حُمیدی علیہ الرحمہ کو وفات کے بعد کیسے پتا چلا کہ وصیت کے خلاف ان کو دوسری جگہ دفن کردیا گیا ہے،حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد اس کی کوئی تردید بھی نہیں کی۔

تصرف واستمداد بعد از وصال

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ’’بستان المحدثین‘‘ میں لکھتے ہیں!

’’حضرت ابوالعباس احمد بن احمد بن محمد بن عیسیٰ برلسی زروق فاسی رحمتہ اﷲ علیہ (متوفی۸۹۹ھ)کا ایک قصیدہ ہے جو کہ قصیدہ جیلانیہ(قصیدہ غوثیہ) کی طرز پر ہے جس کے بعض ابیات یہ ہیں! انا لمریدی جامع لشتاتہٖ اذما سطا جو رالزمان بنکبتہٖ وان کنت فی ضیق وکرب وحشتہ فنادبیا زروق اٰت بسرعتہٖ ترجمہ۔ میں اپنے مرید کی پریشان حالی کو تسلی دینے والا ہوں، جب زمانہ نکبت وادبار سے اس پر حملہ آور ہو،اگر تو کسی تنگی بے چینی اور وحشت میںہو تو ’’یا زروق ‘‘کہہ کر پکار میں فوراً آموجود ہوں گا‘‘۔( محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، بستان المحدثین : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی ، ۱۹۸۴ء، ص ۳۲۲)

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے یہ بات نقل کرکے اس کا رد نہیں کیا ، بلکہ یہ بات شیخ زروق علیہ الرحمہ کے فضائل میں بیان کی ہے، اس عبارت سے صاف طور پرغیراﷲکو پکارنا ثابت ہورہاہے، نداء غیر اﷲ کو شرک قرار دینے والے خاموش کیوں ہیں انہیں شیخ زروق اور شاہ عبدالعزیز دہلوی کے متعلق اپنا روایتی فتویٰ شرک جاری کرنا چاہئیے، نشاندہی ہم نے کردی ہے۔

مزار پر قبہ(گنبد)

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ ’’ بستان المحدثین‘‘ میں لکھتے ہیں!

’’مشہور محدّث شیخ شمس الدین محمد بن یوسف بن علی بن عبدالکریم کرمانی بغدادی شارح صحیح بخاری علیہ الرحمہ (متوفی۷۸۶ھ) نے اپنے زمانہ حیات میں ہی اپنے لئے قبر اور عاقبت خانہ ، حضرت شیخ ابو اسحاق شیرازی بغدادی علیہ الرحمہ کے مزار کے جوار میں بنا لیا تھا اور اس کے اوپر ایک قبہ بھی تعمیر کرالیا تھا، چنانچہ اسی میں دفن کئے گئے‘‘۔ ( محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، بستان المحدثین : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی ، ۱۹۸۴ء، ص ۳۰۱)

شیخ کرمانی شارح بخاری علیہ الرحمہ کی وفات کے بعد ان کے عقیدت مندوں نے مزار پر گنبد نہیں بنوایا بلکہ محدث کرمانی نے اپنی زندگی ہی میں خود قبہ بنوایا ، یہ ہندوستان کے بریلوی بھی نہیں تھے، تو اب بات بات پر فتویٰ داغنے والوںکوشیخ کرمانی علیہ الرحمہ کے متعلق اپنا قلم حرکت میں لانا چاہئیے، یا صرف پاک وہند ہی میں اپنا پیٹ پالنے کے لئے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی ضرورت ہے؟، مسلمانوں کو آپس میں لڑاؤ اور اپنا پیٹ پالو ، کہیں یہ انگریزوں کی پالیسی پر تو عمل نہیں ہورہا؟۔

قبر پر چراغ جلانا

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں !

’’قبر پر چراغ جلانا تزئین اور تشہیر کی غرض سے صحیح حدیث میں منع ہے لیکن اگر اس غرض سے چراغ جلایا جائے کہ وہاں دعا پڑھنا مقصود ہو یا زائرین کے اجتماع کے وقت بقدر ضرورت دو ایک چراغ روشن کئے جائیں تو اس میں مضائقہ نہیں‘‘۔ (محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی، ۱۹۷۳ء، ص۱۸۰)

قبروں پر چراغ جلانے کے متعلق یہی مسلک امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ کا ہے، اس بارے میں آپ کی کتاب’’بریق المنار بشموع المزار‘‘کا مطالعہ کرنا چاہئیے۔ کیا وہابی دیوبندی اس مسئلہ میں حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے حامی ہیں؟

قبروں پر پھُول ڈالنا

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

’’پھول اور خوشبو کی چیز قبر پر رکھنا اس سے ماخذ ہے کہ میت کے کفن میں کافور وغیرہ خوشبو کی چیزیں لگانا شرعاً ثابت ہے اور بعد دفن کے تو میت قبر کے اندر رہتی ہے، البتہ یہ چیزیں قبر ہر رکھنے سے اس میت کی مشابہت جدید میت کے ساتھ ہوتی ہے، تو احتمال ہے کہ خوشبو کی چیز قبر پر رکھنے سے میت کو سرور ہوتا ہے، اس واسطے کہ اس حالت میں روح کو خوشبو سے لذت حاصل ہوتی ہے اور روح تو باقی رہتی ہے، اگرچہ وہ حاسہ جس کے ذریعہ سے خوشبو روح کو زندگی میں پہنچتی ہے، بعد موت کے حالت حیات کے مانند باقی نہیں رہتا، لیکن یہ امر قیاس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعاً ثابت ہے، کہ میت کو بعد موت کے لذت اور خوشی معلوم ہوتی ہے، چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ فیاتیہ روحہا وطیبہا یعنی پہنچتی ہے میت کو سرد ہوا بہشت کی اور خوشبوبہشت کی اور شہداء کے حق میں قرآن میں وارد ہے’’یرزقون فارحین‘‘ یعنی شہداء کو روزی دی جاتی ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں تو اس سے ثابت ہوسکتا ہے کہ قبر پر خشبو رکھنے سے میت کو سرور ہو سکتا ہے‘‘۔ (محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی، ۱۹۷۳ء، ص۱۵۲)

الحمد ﷲ اہل سنت اس مسئلہ میں حضرت شاہ صاحب کے حامی ہیں،مگر دیوبندی وہابی مخالف ہیں،اس مسئلہ کی تفصیل کے لئے صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ کی کتاب’’فرائد النور‘‘ بہترین ہے۔

عرس کا دن مقرر کرنا

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

’’عرس کا دن اگر اس غرض سے مقرر کیا جائے کہ جس بزرگ کا عرس ہو وہ یاد رہیں اور اس وقت ان کے حق میں دعا کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں‘‘۔(محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی : مترجم ، کراچی، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی، ۱۹۷۳ء، ص۱۵۱)

اس مسئلہ میں بھی حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ اہل سنت کی حمایت میں ہیں ،جب کہ وہابی دیوبندی اس مسئلہ میںحضرت شاہ کے سخت مخالف ہیں،بلکہ وہ تو عرس کے ہی مخالف ہیں، دن مقرر کرنا تو بعد کی بات ہے۔

بزرگوں کی فا تحہ

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

’’اگر کوئی شخص مالیدہ اور شیر برنج کسی بزرگ کی فاتحہ کے لئے پکا کر کھلادے اور اس سے اس بزرگ کی روح کو ثواب پہنچانا مقصود ہو تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں یہ جائز ہے‘‘۔

(محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی، ۱۹۷۳ء، ص۱۵۸)

حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کو اپنا بڑا بزرگ بتانے والے حقیقت میںشاہ صاحب کے مخالف ہیں،شاہ صاحب تو فرمائیں کہ بزرگوں کی فاتحہ کھانے پکانے میں کوئی مضائقہ نہیں ، اورجعلی جانشین اس کو حرام بتائیں اور گندی نالیوں میں ڈالیں۔

کھانے پر فا تحہ درود

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

’’ جس کھانے کا ثواب حضرات امامین رضی اﷲ عنہم کو پہنچایا جائے اور اس پر فاتحہ و قل پڑھا جائے وہ کھانا تبرک ہوجاتا ہے، اس کا کھانا بہت خوب ہے‘‘۔ (محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی، ۱۹۷۳ء، ص۱۶۷)

کیا وہابی دیوبندی ، شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے اس فتویٰ پر عمل کرتے ہیں؟۔

مجلس ذکر رسول ﷺ و مجلس شہادت حسین رضی اﷲ عنہ

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

’’سال میں دو مجلسیں فقیر کے مکان پر منعقد ہوا کرتی ہیں، مجلس ذکر وفات شریف اور مجلس شہادت حسین اور یہ مجلس بروز عاشورہ یا اس سے دو ایک دن قبل ہوتی ہے، چار پانچ سو آدمی بلکہ ہزار آدمی جمع ہوتے ہیں اور درود شریف پڑھتے ہیں، اس کے بعد جب فقیر آتا ہے تو لوگ بیٹھتے ہیں اور فضائل حنین رضی اﷲ عنہما کا ذکر جو حدیث شریف میں وارد ہے، بیان کیا جاتا ہیاور پنج آیات پڑھ کر کھانے کی جو چیز موجود رہتی ہے اس پر فاتحہ کیا جاتا ہے اور اس اثنا میں اگر کوئی شخص خوش الحان سلام پڑھتا ہے یا شرعی طور پر مرثیہ پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے تو اکثر حضار مجلس اور اس فقیر کو بھی حالت رقت اور گریہ طاری ہو جاتی ہے، اس قدر عمل میں آتا ہے، اگر یہ سب فقیر کے نزدیک اس طریقہ سے جس کا ذکر کیا گیا ہے ، جائز نہ ہوتا تو ہر گز فقیر ان چیزوں پر اقدام نہ کرتا‘‘۔(محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی : مترجم ، کراچی ، ایچ ایم سعیداینڈ کمپنی، ۱۹۷۳ء، ص۱۷۷)

کیا وہابی دیوبندی اسی طرح مجالس منعقد کرتے ہیں؟یا ان میں شامل ہوتے ہیں؟اگر نہیں تو شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟۔

گیارھویں شریف

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

’’حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کے روضہ مبارکہ پر گیارھویں تاریخ کو بادشاہ وغیرہ شہر جمع ہوتے ، نماز عصر کے بعد مغرب تک کلام اﷲ کی تلاوت کرتے اور حضرت غوث اعظم کی مدح اور تعریف میں منقبت پڑھتے، مغرب کے بعد سجادہ نشین درمیان میں تشریف فرما ہوتے اور ان کے ارد گرد مریدین اور حلقہ بگوش بیٹھ کر ذکر جہر کرتے، اسی حالت میں بعض پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی، اس کے بعد طعام شیرینی جو نیاز تیار کی ہوتی ہے، تقسیم کی جاتی اور نماز عشاء پڑھ کر لوگ رخصت ہوجاتے‘‘۔ (محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز ، ملفوظات عزیزی : میرٹھ ، مطبع مجتبائی، ۱۳۱۴ھ/۱۸۹۶ء، ص۶۲)

شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے بغداد شریف میں گیارھویں کی محفل کا جو معمول بیان کیا ہے اور اس پر کوئی فتویٰ نہیں لگایا ، کیا وہابی دیوبندی بھی اس کو جائز سمجھتے ہیں؟

قبر میں شجرۂ طریقت رکھنا

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

’’ شجرہ قبر میں رکھنا بزرگوں کا معمول ہے اور اس کا دو طریقہ ہے، اوّل یہ کہ مردہ کے سینہ پر کفن کے اندر یا کفن کے اوپر رکھیں اور اس طریقہ کو فقہاء منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مردہ کے بدن سے خون اور ریم بہتا ہے اور اس سے بزرگوں کے نام کے بارہ میں بے ادبی ہوتی ہے ، اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مردہ کے سرہانے قبر میں چھوٹا سا طاق بنا لیں اور اس میں شجرہ کا غذ رکھ دیں‘‘۔(محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی : ص۱۸۱)

کیاکسی وہابی دیوبندی نے بزرگوں کے اس معمول پر عمل کیا ہے؟ اگر یہ عمل بدعت ہے تو شاہ صاحب کے اس فتویٰ کے متعلق کیا خیال ہے؟

وظیفۂ دُ رود شریف

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں !

’’نماز عشاء کے بعد درود شریف چاہے کوئی درود شریف ہو سو مرتبہ مدینہ منورہ کی طرف رُخ کرکے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی صورت مبارک کو حاضر ناظر خیال کر کے پڑھنا چاہئیے‘‘۔(محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی : ص۲۶۴)

کیا شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے جعلی علمی و روحانی جانشین بننے والوں نے کبھی عشاء کے بعد ایسا کیاہے؟۔

قل خوانی

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنے والد ماجد شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی وفات کے بعد تیجہ(سوئم، قل خوانی) کا حال بیان کرتے ہیںکہ تیجہ کے روز آدمیوں کا ہجوم اس کثرت سے تھا کہ شمار میں نہیں آسکتا!

’’ہشتاد و یک ختم کلام اﷲ بشمار آمد وزیادہ ہم شدہ باشد وکلمہ را حصر نیست‘‘ (محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز ، ملفوظات عزیزی : ص۸۰)

ترجمہ۔اکیاسی ختم کلام اﷲ شریف شمار میں آئے اور شاید اور بھی زیادہ ہو گئے ہوںاور کلمہ کی تو کوئی انتہا ہی نہیں۔

وہابی دیوبندی مولویوں مفتیوں سے سوال ہے کہ تیجہ شریف کرنا جائز ہے یا بدعت و گمراہی ہے؟ اگر بدعت ہے تو کیا شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ بدعتی ہیں ؟ ۔ اگر نہیں تواہل سنت کا کیا قصور ہے ؟۔

ردّ و ہا بیہ

حضرت خواجہ دوست محمد قندھاری رحمتہ اﷲ علیہ،(متوفی ۱۲۸۴ھ/ ۱۸۶۷ء)خلیفہ مجاز حضرت شاہ احمد سعید مجددی دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ(متوفی ۱۲۷۷ھ/۱۸۶۰ء) نے اپنے ایک مرید خان ملا خان کو وہابیہ کے مسموم اثرات سے بچانے کے لئے دس مسلمہ رسائل عنایت فرمائے، ان دس رسائل میں نویں نمبر پر شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا رسالہ بھی شامل تھا۔

اصل عبارت کا اقتباس درج ذیل ہے!

’’عرض ایں کہ فقیر دہ عدد رسائل…درباب ردّ اقوال واعتقاد فاسدہ فرقہ محدثہ وہابیہ دست یاب نمودہ بخدمت شریف فرستادہ شد…اوّل حق المبین تصنیف حضرت مرشدی وشیخی قدسنا اﷲ تعالیٰ بسرہ السامی ۔دویم دلیل القوی علی ترک القرأۃ للمقتدی۔سویم زبدۃ المواہب۔چہارم اشباع الکلامفی اثبات المولد والقیام ۔ پنجم تذکرۃ الموتی والقبور۔ ششم رداستفتاء وہابیان۔ ہفتم ہبتہ الطاعات۔ ہشتم درالمنقود فی حکم امراۃ المفقود۔نہم رسالہ شاہ عبدالعزیز۔ دہم رسالہ محتوی بربیان مسائلہافرقہ ناجیہ فقط…درباب قلع فرقہ محدثہ وہابیہ سعی بلیغ بکار برند ومسائل فرقہ ناجیہ اہل سنت وجماعت را رواج دہند، انشاء اﷲ تعالیٰ موجب برکات دارین و سعادت کونین آنجناب خواہد گردید فقط والسلام المرقوم بتاریخ غرہ ربیع الثانی۱۲۸۱ھ۔ (قندہاری ، حاجی دوست محمد، مکتوبات : ملتان ، مطبع صدیقیہ، ۱۳۸۳ھ، ص۹۹)

ردّ تقویت الا یمان

مولانا مخصوص اﷲ دہلوی علیہ الرحمہ(متوفی ۱۲۷۳ھ/۱۸۵۶ء) ابن مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی علیہ الرحمہ(متوفی ۱۲۳۳ھ/۱۸۱۸ء)، مولانا شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ(متوفی ۱۲۸۹ھ/ ۱۸۷۲ء) کے ایک مکتوب کے جواب میں لکھتے ہیں!

’’پانچویں بات کا جواب یہ ہے کہ بڑے عم بزرگوار (شاہ عبدالعزیز) کہ وہ بینائی سے معذور ہو گئے تھے، اس تقویت الایمان کو سنا، یہ فرمایا! اگر بیماریوں سے معذور نہ ہوتاتو اثنا عشریہ کا سا جواب اس کا رد بھی لکھتا‘‘۔

(فاروقی ، شاہ ابوالحسن زید، مولانا اسماعیل اور تقویت الایمان: دہلی ، شاہ ابوالخیر اکادمی، ۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴ء ، ص۱۰۳)

تأ ثرات

شیخ سید محسن بن یحییٰ ترہتی

’’وہ کمال اور شہرت کے ایسے مقام کو پہنچے کہ تم دیکھتے ہو ، لوگ بلاد ہند میں اپنا ان سے انتساب کرنا فخر سمجھتے ہیں، بلکہ اپنے آپ کو ایسے رشتے میں منسلک کرنے میں جو ان کے شاگردوں پر منتہی ہوتا ہے، قابل فخر خیال کرتے ہیں، ان کے خصائل حمیدہ اور اخلاق فاضلہ ایسے ہیں کہ جن میں ان کے عام معاصرین ان سے مقابلہ کی تاب نہیں رکھتے‘‘۔

(ترہتی،محسن بن یحییٰ ، الیانع الجنی فی اسانید شیخ عبدالغنی : دہلی ، ۱۳۴۹ھ ،ص۷۸)

نواب صدیق حسن خاں بھوپالی(غیر مقلد)

’’شاہ عبدالعزیز بن شیخ اجل ولی اﷲ محدث دہلوی بن شیخ عبدالرحیم عمری رحمہم اﷲ ، استاذ الاساتذہ، امام نقاد، بقیتہ السلف، حجتہ الخلف اور دیار ہند کے خاتم المفسرین ومحدثین تھے اور…اپنے وقت میں علماء ومشائخ کے مرجع تھے،تمام علوم متداولہ اور غیر متداولہ میں خواہ فنون عقلیہ ہوں یا نقلیہ، ان کو جو دستگاہ حاصل تھی وہ بیان سے باہر ہے‘‘۔

( قنوجی بھوپالی،نواب صدیق حسن خاں، اتحاف النبلاء : کانپور ،۱۲۷۸ھ،ص۲۹۶)

سرسید احمد خاں علی گڑھی(غیر مقلد)

’’اعلم العلماء ،افضل الفضلاء، اکمل الکملاء، عرف العرفاء، شرف الافاضل، فخر الاماجد والاماثل،رشک سلف، داغ خلف، افضل المحدثین، اشرف العلماء ربانیین، مولانا وبالفضل اولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی قدس سرہٗ العزیز ، ذات فیض سماعت ان حضرت بابرکت کی فنون کسبی ووہبی اور مجموعہ فیض ظاہری وباطنی تھی‘‘۔(پانی پتی،محمد اسماعیل ، مقالات سرسید[شانزدھم] :لاہور، مجلس ترقی ادب،۱۹۶۵ء، ص۲۷۴)

مولوی محمد ابراہیم میر سیالکوٹی(غیر مقلد)

’’بڑے بڑے علماء آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ہیں اور فضلاء آپ کی تصنیف کردہ کتابوں پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں‘‘۔(سیالکوٹی ،محمد ابراہیم میر ، تاریخ اہل حدیث: سرگودھا، س ن، ص۲۸۸)

مولوی عبدالحی حسنی ندوی(دیوبندی)

’’شاہ عبدالعزیز اپنے علم وفضل، آداب، ذکاوت، ذہانت، فہم وفراست اور سرعت حافظہ میں عالم کے اندر یگانہ روزگار علماء میں سے تھے‘‘۔( الحسنی البریلوی،عبدالحی، نزھۃ الخواطر [ج۷] : حیدر آباد (دکن)،۱۳۶۶ھ، ص۲۶۸)

مولوی سرفراز خاں صفدر،(دیوبندی)، گوجرانوالہ(پاکستان)

’’بلا شبہ مسلک دیوبند سے وابستہ جملہ حضرات شاہ عبدالعزیز صاحب کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں، بلا شبہ دیوبندی حضرات کے لئے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کا فیصلہ حکم آخر کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔(صفدر،سرفراز خاں، اتمام البرھان[ حصہ اول] : مکتبہ صفدریہ ،گوجرانوالہ، ۱۹۸۱ء، ص۱۳۸ )