Skip to content

حیات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم

ردِّ بدمذہبعقائدِاہلسنت

دیباچہ

تقریر : غزالی زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی رحمۃ اﷲ علیہ بر مکان قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مہاجر مدنی قدس سرہٗ مدینہ منورہ (اپریل ۱۹۷۸ء)

ترتیب: خلیل احمد رانا

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ

محترم حضرات ! ہم سب اس ارض مقدس پر حاضر ہیں، وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو دیار حبیب ، دیار رحمت اور دربار نبوت میں پناہ گزیں ہیں، اﷲ تعالیٰ جل مجدہٗ اس پناہ کو ہمیشہ قائم رکھے اور انہیں کبھی بھی دیار نبوت سے جدا نہ کرے ، ہم تو اس قابل نہیں کہ دیار حبیب میں زیادہ عرصہ ٹھہر سکیں لیکن سرکار کا کرم ہے ہم جیسے نابکاروں کو بھی یاد فرمالیا، میں جب بھی ارض مقدس پر آتا ہوں تو یہ سمجھتا ہوں:

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا ارے سر کا موقع ہے او جانے والے

میرے لئے یہاں کے آداب بجا لانا میرے ممکنات سے نہیں، اس لئے میں سرکار کی بارگاہ میں عرض کردیتا ہوںکہ سرکار ایمان کے ساتھ رخصتی عطا فرمادیں، پھر ایمان کے ساتھ بُلالیں، پھر ایمان کے ساتھ بھیج دیں، میں مدینے میںپھر آئوں، پھر جائوں ،پھرآئوں، پھر جائوں تمام عمر اسی میں تمام ہو جائے۔

میں اس بارگاہ اقدس میں لب کشائی کی طاقت نہیں پاتا، لیکن اہل مدینہ کا اصرار ہے اور میرا انکار کرنا ممکن نہیں، کیونکہ میں اہل مدینہ کی ناراضگی کسی حال میں برداشت نہیں کرسکتا۔

احسانِ الٰہی

محترم حضرات! میں سراپا خطا اور قصور ہوں، بہ ہرحال میں آپ حضرات سے دست بستہ اس مدینے والے آقا کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ میری کوئی بات ناپسند ہوتو اﷲ کے لئے مجھے معاف کردینا، آپ کی ناراضگی ناقابل برداشت ہے، اس لئے کہ آپ دیار حبیب ﷺ کے رہائشی ہیں۔

عزیزان محترم ! میں آپ کے سامنے قرآن مجید سے ایک آیت پڑھتا ہوں، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَقَدْ مَنَّ اﷲُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ (سورۃ آل عمران، آیت ۱۶۴)

بے شک اﷲ نے بڑا احسان کیا ایمان والوں پر جب اس نے ان میں عظمت والا رسول بھیجا ان ہی میں سے ‘‘اور اس کا احسان یہ ہے کہ ’’یتلو علیھم آیتہ‘‘جو تلاوت کرتا ہے ان پر اس کی آیتیں ’’ویزکیھم‘‘ اور انہیں پاک کرتا ہے ’’ویعلمھم الکتٰب والحکمۃ‘‘ اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ ’’وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین‘‘ اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔ لیکن میرے محبوب نے ان کو ضلالت وگمراہی سے نکال کر ہدایت عطا فرمائی ، ظلمت سے نور میں اور کفر سے ایمان میں لائے، باطل سے نکال کر راہ حق عطا فرما کر خدا کے قرب میں پہنچادیا، اﷲ تعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ نے اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا جنہیں گنا بھی نہیں جاسکتا، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اﷲِ لَا تُحْصُوهَا (النحل، آیت ۱۸)

’’ اور اگر تم اﷲ کی نعمتیں گنو تو انہیں گن نہ سکو گے‘‘۔ ’’واسبع علیکم نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ‘‘ ’’اور اپنی ظاہری وباطنی نعمتیں تم پر پوری کردیں‘‘۔ اﷲ تعالیٰ نے اتنی نعمتیں عطا فرمائیں کہ جن کو ہم گن نہیں سکتے لیکن کسی نعمت پر احسان نہیں جتایا، صرف ایک نعمت پر احسان جتایا، کیا؟ ’’لقد من اﷲ علی المومنین اذبعث فیھم رسولاً ‘‘ قابل غور بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اور نعمتوں کی بنیاد پر احسان نہیں جتایا اور ہمیں بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا ’’ لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذی‘‘ ’’نہ ضائع کرو اپنی خیراتیں احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر‘‘ ۔

احسان کے لوازمات

ہمیں تو احسان جتانے سے روک دیا اور خود احسان جتا رہا ہے، اس احسان عظیم میں تین باتیں قابل توجہ ہیں۔

۱. احسان میں ایک احسان جتانے والا ہوتا ہے ۔ ۲. دوسرا وہ جس پر احسان ہو۔ ۳. تیسری وہ چیز جس کی بنیاد پر احسان جتایا جاتا ہے ۔

ان تین باتوں میں سے ایک بات نہ ہو تو احسان جتانے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے، اب احسان جتانے والا کون ہے؟ ’’ لقد من اﷲ‘‘ اﷲ تعالیٰ جل مجدہٗ احسان جتانے والا ہے اور احسان کن پر ہے؟ ’’علی المومنین‘‘ مومنین پر احسان ہوا ہے، کس نعمت کی بنیاد پر احسان ہوا ؟ ’’ اذبعث فیھم رسولاً ‘‘ وہ نعمت عظمیٰ حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ کی ذات مقدسہ ہے، اور وہ نعمت ہے کیوں؟ اس لئے کہ وہ نعمت باقی ہے، اگر وہ نعمت باقی نہ ہو تو پھر احسان کیسا؟ اگر آپ کسی کو کوئی نعمت دیں اور پھر خود اس سے واپس لے لیں تو کیا آپ کو کوئی احسان جتانے کا حق رہے گا؟ ہر گز نہیں، مثلاً آپ نے مجھے ایک چھوٹا سا رومال دیا اور پھر صبح آگئے اور واپس لے گئے ، آپ پھر تشریف لا کر یہ کہیں کہ بھائی میرا آپ پر بڑا احسان ہے کہ تمہیں رومال دیا تھا، تو ہم کہیں گے کہ بھائی آپ نے احسان تو ضرور کیا تھا مگر آپ نے تو وہ رومال واپس لے لیا اب احسان کس چیز کا ہے؟ احسان کی بنیاد تو ختم ہوگئی تو احسان بھی نہ رہا، نعمت واپس کرنے کے بعد تو احسان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ نعمت کیا ہے؟ ابھی میں نے بتایا ’’لقد من اﷲ علی المومنین اذبعث فیھم رسولاً ‘‘ وہ نعمت رسول اﷲ ﷺ کی ذات پاک ہے، اب اگر ا ﷲ جل مجدہٗ نے رسول ہم سے واپس لے لیا تو پھر اﷲ تعالیٰ احسان کس چیز کا جتا رہا ہے؟

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

اگر آپ یہ کہیں کہ یہ احسان تو صرف انہی لوگوں پر ہے جن میں رسول اﷲ ﷺ موجود تھے، جب تک رسول ان میں زندہ رہے ان لوگوں پر احسان تھا، تو جو لوگ بعد کو پیدا ہوئے ان پر تو کوئی احسان نہیں، اگر کوئی کہتا ہے کہ ہم پر تو کوئی احسان نہیں تو میں کہوں گا کہ ’’ لقد من اﷲ علی المومنین‘‘ اﷲ تعالیٰ نے یہ احسان صرف اولین اورآخرین پر نہیں اور نہ صرف موجودین پر بلکہ احسان تو تمام مومنین پر فرمایا، اب یہ بتائو تم مومن ہو یا نہیں؟ اگر تم کہو کہ ہم مومن نہیں تو تم پر واقعی کوئی احسان نہیں، تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ تم اپنے آپ کو خود ہی مومنین سے الگ کرلو تو تمہاری مرضی، ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ مومنین جمع ہے اور اس پر الف لام داخل ہے، تو جب جمع پر الف لام داخل ہو تو پھر وہ جمعیت کے معنی میں نہیں رہتی ، پھر وہ استغراق کے معنی میں ہوتی ہے، جمعیت باطل ہو جاتی ہے، جمعیت کے باطل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جمع کا اطلاق تین فرد سے کم پر نہیں ہوتا ، لیکن استغراق میں ایک سے لے کر لا متناہی ہوتے ہیں، تو پتہ چلا کہ اﷲ تعالیٰ کا یہ احسان ایک مومن سے لے کر لا متناہی مومنین تک ہے، یعنی قیامت تک جتنے مومن پیدا ہوں گے خدا کا یہ احسان ہر ایک مومن پر رہے گا، یہ نہیں کہ یہ احسان فقط اہل عصر(صحابہ) پر ہو بلکہ یہ احسان سارے مومنین پر ہے اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ’’ان الصلوٰۃ کانت علی المومنین کتاباً موقوتا‘‘(النساء:۱۰۳) ’’ بے شک نماز ایمان والوں پر وقت مقرر کیا ہوا فرض ہے‘‘۔

یعنی نماز مومنین پر ’’کتابا موقوتا‘‘ ہے ، جب وقت آئے نماز فرض، اور یہ نماز کن پر فرض ہے؟ علی المومنین، یعنی مومنین پر، اور یہاں بھی یہ حکم مومنین پر ہے، اب یا تو یہ کہو کہ ہم تو اس زمانہ میں نہیں تھے، اس لئے ہم پر نماز فرض نہیں ہے، اگر تم پر احسان نہیں ہے تو تم پر نماز بھی فرض نہیں ہے، اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ نماز ہم پر فرض ہے تو احسان تم پر پہلے ہے، وہاں بھی ’’علی المومنین‘‘ ہے اور یہاں بھی’’علی المومنین‘‘ ہے،’’ لقد من اﷲ علی المومنین‘‘ اور ’’ان الصلوٰۃ کانت علی المومنین کتاباً موقوتا‘‘ ، اگر نماز سب پر فرض ہے تو احسان بھی سب پر ہے یعنی قیامت تک آنے والے ہر مومن پر احسان ہے۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ احسان تب ہوگا جب نعمت موجود ہو، اگر خدا نے رسول کو واپس لے لیا تو احسان کس بات کا؟ تو پتہ چلا کہ قیامت تک وہ نعمت باقی رہے گی تاکہ یہ احسان برقرار رہے اور اس لئے قرآن نے کہا’’ واعلموا ان فیکم رسول اﷲ‘‘(الحجرات:۷) ’’اور جان لو کہ تم میں اﷲ کے رسول (موجود) ہیں۔

اب جو لوگ کہتے ہیں کہ اﷲ کا رسول ہم میں موجود نہیں یعنی حضور زندہ نہیں، تو میں کہوں گا کہ حضور نعمت ہیں اور حضور موجود ہیں اور موجود تبھی ہو سکتے ہیں جب آپ زندہ ہوں، بغیر زندہ آپ موجود ہو ہی نہیں سکتے، رسالت تو ایک عمل ہے اور رسالت کے معنی پیغامبری کے ہیں کہ اﷲ کا پیغام اﷲ کی مخلوق تک پہنچانا اور یہ پیغام پہنچانا ایک عمل ہے، تو آپ ہی بتائیں کہ مردہ عمل کیسے کرے گا؟ مردہ عمل ہرگز نہیں کرسکتا، پھر اب اگر آپ یہ کہیں کہ اس وقت پیغام لانے کا مسئلہ تھا، تو جب حضور کی وفات ہو گئی تو پیغام لانے کا مسئلہ ہی ختم ہوگیا، اب اگر آپ کی یہ بات مان لیں تو پھر رسالت کا خانہ ہی خالی ہوگیا، کیوں؟ اس لئے کہ جب رسول ہی نہ رہا تو عمل رسالت کیسے جاری رہا؟ تو گویا عمل رسالت بھی نہ رہا تو پھر ہم کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ اس کے کیا معنی؟ اس کے معنی ہیں اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد ﷺ اﷲ کے رسول ہیں، عمل رسالت جاری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہم ہر نماز میں ’’السلام علیک ایھا النبی‘‘ کہتے ہیں۔

رسالت رسول کے بغیر ممکن نہیں

عزیزان محترم ! میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ جب نعمت موجود نہ ہو تو احسان نہیں ہوتا، اور رسول زندہ نہ ہوتو عمل رسالت جاری نہیں رہتا، آقائے مدنی تاجدار حرم کی ذات پاک پر تو خدا نے احسان جتایا کہ میں نے محبوب کی نعمت تم کو دی، اگر نعمت نہ ہو تو احسان ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ نعمت سے صحت احسان ہے یعنی احسان ہے، اگر احسان ہے تو پھر رسول بھی ہیں، اب یہ کہنا کہ رسالت تو موجود ہے مگر رسول نہیں ہیں، یہ تو بڑی عجیب بات ہوئی کہ کوئی صفت موصوف کے بغیر ہو جائے ، صفت تو عرض ہوتی ہے اور موصوف قائم بالذات ہوتا ہے، یعنی صفت موصوف کے ساتھ ہوتی ہے، کہیں آپ نے چراغ کے بغیر روشنی نہیں دیکھی ہوگی اور نہ کبھی آپ نے یہ دیکھا ہوگا کہ روشنی ہو اور چاند نہ ہو، سورج نہ ہو اور سورج کی روشنی ہو ، رسالت ہو اور رسول نہ ہو، یہ ہر گز نہیں ہوسکتا، اگر سورج کی روشنی ہے تو وہ سورج کے وجود کی دلیل ہے، یوں سمجھو کہ روشنی رسالت ہے اور رسول سورج ہے، تو لہذا تمہیں کبھی یہ شبہ ہوا کہ سورج کی روشنی تو موجود ہے ذرا دروازہ کھول کر دیکھ لیں کہ سورج ہے کہ نہیں ہے، اور تمہیں کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا ہوگا ، جب تمہیں یہ خیال نہیں آیا تو رسالت کی موجودگی میں رسول نہ ہونے کا خیال کیسے آگیا؟ تو پتہ چلا کہ جس طرح سورج کے بغیر روشنی نہیں ہوسکتی ، اسی طرح رسول کے بغیر بھی رسالت نہیں ہوسکتی، اس لئے ہمارا یہ ایمان ہے کہ اﷲ کے رسول ہم میں موجود ہیں اور اﷲ کے حبیب آج بھی رسول ہیں، کیونکہ جس طرح چاند، سورج اور چراغ کے بغیر روشنی ممکن نہیں اسی طرح رسول اور نبی کے بغیر رسالت اور نبوت ممکن نہیں۔

ختم نبوت زندہ باد

اب ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانا تب ہی جائز ہوگا جب خاتم الانبیاء کو زندہ مانو گے، حضور کو نعوذ باﷲ مُردہ مان کر ختم نبوت زندہ باد بے معنی ہے، یہ نعرہ تو ہمارا ہے کیونکہ ہم خاتم الانبیاء کو زندہ مانتے ہیں، اس بات کو تو عقل بھی نہیں مانتی کہ رسول نہیں ہیں اور رسالت ہے، نبی نہیں ہیں اور نبوت ہے؟ تو لہذا ماننا پڑے گا کہ خاتم الانبیاء زندہ ہیں تو نبوت زندہ ہے، یقیناً رسول زندہ ہیں تو رسالت ہے، اگر رسول زندہ نہ ہوں اور نعمت رسول نہ ہوںتو احسان کس نعمت کی بنیاد پر جتایا گیا؟’’لقد من اﷲ علی المومنین‘‘ ۔

عزیزان گرامی! یہ بات بھی آپ کو بتادوں کہ حضور تاجدار مدنی جناب محمد مصطفیٰ ﷺ تمام عالموں کے رسول ہیں، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

’’ اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو(اے محبوب) مگر سارے جہانوں کے لئے رحمت‘‘ حضور ﷺتمام عالمین کے لئے رحمت ہیںاور تمام عالمین کے رسول ہیں، مسلم شریف کی حدیث ہے قال رسول اﷲ ﷺ ارسلت الی الخلق کافۃ’میں اس ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘ (مشکوٰۃ شریف، ص۵۲۲، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ، ج۱۱، ص۴۹، صحیح مسلم شریف، ج۱، ص۱۹۹) ، اور قرآن نے کہا:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا

’’ اور (اے محبوب) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر(قیامت تک) تمام لوگوں کے لئے اس حال میں کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے ہیں‘‘۔

تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا

’’ بڑی برکت والا ہے وہ جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب اپنے (مقدس) بندے پر اُتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو‘‘ ۔

وہ تو عالمین کے لئے نذیر ہیں، آپ کا وصف نذارت اور وصف انذار، وصف رسالت اور وصف نبوت سارے عالموں میں چل رہا ہے اور کوئی عمل چل ہی نہیں سکتا جب تک عمل کرنے والا زندہ نہ ہو، عمل خود دلیل حیات ہے اور بے عملی موت، جیسے نبض کا چلنا، دل کا حرکت کرنا، یہ عمل ہیں، اگر نبض کا چلنا بند ہو جائے اور دل کا حرکت کرنا رُک جائے تو پھر موت ہے، عمل سے تو حیات کا پتہ چلتا ہے اور میرے آقا کا عمل رسالت ختم ہو ہی نہیں سکتا، لہذا آپ مردہ ہو ہی نہیں سکتے۔

ایک زبردست شُبہ

آپ کہیں گے کہ قرآن کہتا ہے:

إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ

’’ بے شک آپ پر موت آنی ہے اور یقیناً انہیں بھی مرنا ہے‘‘ اور دوسری جگہ اﷲ تعالیٰ جل مجدہٗ فرماتا ہے:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

’’ ہر جان تو موت کا ذائقہ چکھنے والی ہے‘‘ اور ایک مرتبہ سرکار ﷺ نے خود فرمایا:

أَنَا مُقْبُوضٌ

’’ میں تو قبض کیا جانے والا ہوں‘‘ (امام تقی الدین سبکی شافعی، شفاء السقام(عربی)، مطبوعہ فیصل آباد پاکستان، ص۱۹۱) اور پھر حضرت ابوبکررضی اﷲ عنہ کا وہ خطبہ جو سرکار ﷺ کی وفات شریفہ کے موقعہ پر پڑھا گیا، جب حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے تلوار کھینچ لی کہ جس نے کہا سرکار ﷺنے وفات پائی ، اس کی گردن اُڑادوں گا، ، سرکار ﷺکی وفات شریفہ کے موقع پر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے ہوش وحواس بالکل باختہ ہوگئے تھے، اگر یہ بات ہوئی تو پھر لوگ حضور ﷺ کی وفات کے اعتقاد کو تسلیم نہیں کریں گے اور سرکار ﷺ کی وفات کو مانیں گے ہی نہیں، پھر دین میں ایک بہت بڑا فتنہ پیدا ہوجائے گا، اس لئے کہ’’حی لا یموت‘‘ تو اﷲ تعالیٰ کی شان ہے۔

اس طرح لوگ دین سے دور ہوجائیں گے، ہر ایک کا علم اس کے لائق ہوا کرتا ہے، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا علم بے شک ان کے ظرف کے لائق تھا، ان میں کوئی کمی نہیں تھی اور ان کا کوئی قصور نہ تھا مگر حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے زیادہ شان حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے مقام پر اپنے آپ کو سنبھالا اور مسجد نبوی میں یہ خطبہ جو بخاری اور مسلم اور تمام کتب احادیث میں ہے، پڑھا، میں بخاری شریف سے خطبہ پڑھتا ہوں ، سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے خطبے میں فرمایا:

مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اﷲَ فَإِنَّ اﷲَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ

(الشمائل المحمد یہ، امام ابی عیسیٰ ترمذی، باب وفات النبی ﷺ، ص۱۸۲، مدارج النبوت از شیخ عبدالحق محدّث دہلوی(مترجم) ، ج۲، ص۶۹۵)

’’تم میں سے اگر کوئی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عبادت کرتا ہو تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ پر موت واقع ہو چکی ہے اور اگر تم میں سے کوئی خدا کی عبادت کرتا ہے ہوتو وہ سن لے ان اﷲ حی لا یموت’’ بے شک خدا تو حی لا یموت ہے‘‘ ، اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا حال آہستہ آہستہ تدریجاً حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے مقام پر اُتر آیا۔

محترم حضرات ! یہ ساری باتیں میں نے وضاحت کرکے اس لئے کہی ہیں کہ اس پُر فتن دور میں کہیں آپ کو کوئی پریشان نہ کرے اور آپ کو اس جواب نہ آئے ،تو میں ان سب اعتراضات کا جواب دیتا جائوں۔

اب کوئی ان ساری باتوں کو سامنے رکھ کر یہ کہہ دے کہ اگر رسول اﷲ زندہ موجود ہیں تو یہ آیات و احادیث کہاں جائیں گی؟

اس سے قبل کہ میں آپ کو اس کا جواب دوں تو اپنا عقیدہ بیان کردوں، میرا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ خدا کی قسم کامل حیات کے ساتھ زندہ موجود ہیںبلکہ آپ کا جسد پاک ایک آن کے لئے بھی حیات سے محروم نہیں ہوا، کیونکہ جس وقت جسد پاک حیات سے محروم ہوجائے ، اسی وقت عمل رسالت منقطع ہوجائے اور رسالت کا خانہ خالی ہوجائے، آپ تو رسول ِرب العالمین، نذیر العالمین اور رحمۃ اللعٰلمین ہیں، آپ تو رسول الی الخلق کافۃ کی شان رکھنے والے ہیں، اگر ایک آن کے لئے بھی حیات منقطع ہو جائے تو دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے، ایک آن کے لئے بھی سرکار ﷺ کی ذات پاک حیات سے خالی نہیں ہوئی، ہر مسلمان کا یہی عقیدہ ہونا چاہئے اور میرا بھی یہی عقیدہ ہے، آپ پھر یہی کہیں گے کہ ان آیات اور احادیث کا کیا مطلب ہوگا؟ تو میں آپ کو بات سمجھا دوں، اگر آپ نے میری بات سمجھ لی تو میری نجات ہوگئی۔

حضور ﷺ کا فرمان غلط نہیں ہوسکتا

عزیزان گرامی ! قرآن حق ہے، آمنا وصدقنا اور حدیث حق ہے اور حدیث حق کیوں نہ ہو، وہ حضور ﷺ کی بات ہی کب ہوتی ہے، قرآن نے کہا:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ

’’ اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے‘‘ یعنی وہ اپنی خواہش سے بولتے ہی نہیں۔

إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (سورۃ النجم، آیت۳۔۴)

’’نہیں ہوتا ان کا فرمانا مگر وحی جو(ان کی طرف) کی جاتی ہے‘‘۔

حضرت امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ اس آیت ’’وماینطق عن الھویٰ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں ’’کیف ینطق عن الھویٰ، مالیس ھویٰ، جو خواہش نفس سے پاک ہیں وہ خواہش نفس سے کیسے بولیں گے؟ اس لئے ان کا بولنا ان کا بولنا ہی نہیں، ان کا فرمانا رب کا فرمانا ہے، تو اسی لئے میں کہتا ہوں کہ سارے جہاں کا نظام غلط ہوسکتا ہے مگر خدا کی قسم مصطفیٰ ﷺ کی زبان غلط نہیں ہو سکتی، نظام شمسی وقمری کا غلط ہونا ممکن ہے، نظام ارضی اور سماوی کا غلط ہونا ممکن ہے مگر زبان رسالت کا غلط ہونا ممکن ہی نہیں، اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ کیا وقت ہے، دن ہے یا رات، تو ہم وقت کے لئے گھڑی دیکھیں گے، دن رات کے لئے آسمان پر نظر دوڑائیں گے کہ دن ہے یا رات، کیونکہ واقع جو ہوگا وہی کہیں گے، اگر واقعہ یہ ہے کہ دن ہے تو دن کہیں گے، ، اگر واقعہ میں رات ہے تو رات کہیں گے، گویا ہم واقعہ کے دیکھنے کے محتاج ہیں کہ جیسے واقعہ ہوگا ویسے ہی ہم کہیں گے، مگر خدا کی قسم واقعہ مصطفیٰ ﷺ کا محتاج ہے ، جیسا فرمائیں ویسا ہی واقعہ ہو جائے۔

حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ

عزیزان محترم ! میں بتانا یہ چاہتا ہوںکہ حضور تاجدار مدنی جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کی زبان مبارک بالکل حق ہے اور اس پر میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی حدیث سناتا ہوں، یہ حدیث ابودائود، جلد ثانی کتاب العلم، ص۱۵۷۔۱۵۸ پر موجود ہے، فرماتے ہیں میں حضور کی ہر مجلس میں ہر حدیث لکھ لیا کرتا تھا کہ بعض لوگوں نے کہا ’’ھو بشر یتکلم فی الغضب والرضاء‘‘ وہ بشر ہیں کبھی راضی ہو کر بات کرتے ہیں، کبھی غصے میں بات کرتے ہیں، کبھی بھول کر بات کرجاتے ہیں، ہر بات تو لکھنے کے قابل نہیں ہوتی، تم ہر بات کیوں لکھ لیا کرتے ہو؟ اب حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ فوراً حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :میرے آقا ! میں تو آپ کی ہر ادا اور ہر حدیث لکھ لیتا ہوں لیکن میرے آقا ! قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے یہ کہا کہ ’’ھو بشر یتکلم فی الغضب والرضاء‘‘ حضور کی ہر بات نہ لکھا کرو ، سرکار ! آپ فرمائیں میں آپ کی ہر بات لکھوں یا نہ لکھوں، سرکار ﷺ نے فرمایا:

اكْتُبْ يَا عَبْدَ اﷲِ

اے عبداﷲ میری ہر بات لکھ لیا کر ، اس لئے کہ ’’فوالذی نفسی بیدہ ما یخرج منہ الاحقا‘‘ اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اس دہن (پاک) سے سوائے حق کے کچھ نکلتا ہی نہیں۔

اﷲ اکبر ! تو میرے آقا نے فرمایا ’’انی مقبوض‘‘ میں قبض کیا جانے والا ہوں ، دراصل یہاں جو لفظ ’’انی مقبوض‘‘ ہے یہاں اس کے معنی ہیں میری روح ضرور قبض ہوگی، میرا اور ساری دنیا کا اس پر ایمان ہے کہ حضور تاجدار مدنی ﷺ کی روح ہے ، عبد وہ ہے جس کی روح قبض ہو ، اور معبود وہ ہے جس پر کبھی یہ وقت نہ آئے، حی لا یموت کا یہی مفہوم ہے، ممکن اور واجب، الٰہ اور عبد، رسول اور خدا کا فرق یہی ہے، سرور عالم ﷺ نے کبھی بھی اپنی الوہیت کی تعلیم نہیں دی بلکہ فرمایا ’’الھکم الہ واحد‘‘ تمہا را معبود ایک معبود ہے۔

اﷲ ایک ہے، میں اﷲ نہیں ہوں، میں رسول ہوں، رسول اور اﷲ کا یہی فرق ہے کہ خدا پر کبھی قانون موت کی شکل میں بھی طاری نہ ہونے پائے، اگر رسول پر بھی اسی طریقے سے قانون طاری نہ ہو تو رسول تو رسول نہ رہے وہ خدا ہو گئے، آ پ ﷺ تو پھر ممکن نہ رہے واجب ہوگئے، آپ عبد نہ رہے، معبود ہوگئے، مگر آپ ایسے عبد مقدس ہیں:

عبد دیگر عبدہٗ چیزے دگر او سراپا انتظار ایں منتظر

سرکار ﷺ کی عبدیت کہاں اور ہماری عبدیت کہاں ، ہم بھی عبد ہیں لیکن کیسے عبد ہیں کہ کوئی نماز میں کہے السلام علیکم اور ہم نے کہا وعلیکم السلام تو دونوں کی نماز گئی، اور مصطفیٰ ﷺ بھی عبد ہیں، جب تک نماز میں مصطفیٰ ﷺ سے نہ بولیں تو نماز ہی نہیں ہوتی، جب ریاض الجنۃ اور اصحاب صفہ کے چبوترے پر نماز پڑھتا ہوں تو سامنے مصطفیٰ ﷺ ہوتے ہیں تو السلام علیک ایھا النبی پڑھتے ہوئے بڑا مزہ آتا ہے، سرکار ﷺ کی عبدیت پر ہمارا ایمان ہے سرکار کی عبدیت وہ عبدیت نہیں جیسی ہماری تمہاری عبدیت ہے، حضور تو وہ عبد ہیں کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے!

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (سورۃ الانفال، آیت۲۳)

’’اے ایمان والو اﷲ اور رسول کے بلانے پر(فوراً) حاضر ہوجائو جب تمہیں رسول اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندہ کردے گی‘‘ ،یعنی فوراً میرے رسول کے بلانے پر دوڑتے چلے آئو، خواہ تم نماز کی حالت میں کیوں نہ ہو، چنانچہ ایک صحابی سعید بن معلیٰ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھ رہے تھے، سرکار ﷺ نے بلایا اور دیر ہوگئی، انہیں مسئلہ معلوم نہ تھا، نماز پوری کرکے آئے، سرکار ﷺ نے فرمایا تم نے دیر کیوں کی؟ عرض کیا : حضور نماز پڑھ رہا تھا، آقا ﷺ نے فرمایا تونے یہ آیت نہیں پڑھی یا ایھا الذین امنوا استجیبوا ﷲ وللرسول اذا دعا کم لما یحییکم۔

اب اگر رسول تم سے بولیں اور تم ان سے بولو تب بھی نماز نہیں ٹوٹتی، ہم بھی عبد ہیں اور رسول بھی عبد ہیں لیکن معبود اور عبد میں فرق ہونا چاہئے اور وہ یہی کہ خدا حی لا یموت ہے۔

حیات وموت کی اقسام

موت کی دو قسمیں ہیں اور حیات کی بھی، ایک موت حقیقی اور دوسری موت عادی، اسی طرح ایک حیات حقیقی اور دوسری حیات عادی، اب میں اس کی تفصیل میں جائوں تو بڑا وقت گزرجائے گا، نہایت اجمال کے ساتھ عرض کرتا ہوں ، ایک موت تو عادی ہے ، موت عادی کیا ہے؟ جسم سے روح کا قبض ہونا، یہ موت عادی ہے یعنی عادتاً موت اس طرح آتی ہے کہ جسم سے روح قبض ہوجائے، لیکن موت عادی کے لئے حیات حقیقی کا نہ ہونا ضروری نہیں ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ موت عادی ہو جائے مگر حیات حقیقی موجود ہو، اب جو قرآن میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ’’انک میت وانھم میتون‘‘ اے پیارے حبیب بے شک آپ پر قبض روح کا وقت آئے گااور ’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘ کہ ہر ایک روح قبض ہوگی اور سرکار ﷺ نے یہ بھی فرمایا ’’انی مقبوض‘‘ کہ میری روح (مبارک) ضرور قبض ہوگی اور ’’من کان یعبد محمداً فان محمداً قد مات‘‘ معاذاﷲ محمد رسول اﷲ ﷺ کی عبادت کرنے والو ! حضورپر قانون موت طاری ہوگیا، یعنی حضور ﷺ پر قبض روح کا حال طاری ہوگیا، تو قبض روح کے ہم بھی قائل ہیں، کیونکہ یہ فرق تو عبد ومعبود کا ہے، لیکن قبض روح میں کیا ہوتا ہے؟ یعنی روح بدن سے باہر آجاتی ہے، جب روح بدن سے باہر آتی ہے تو کیا زندگی بدن کے اندر ہوتی ہے یا نہیںہوتی ؟ ۔

بے شک زندگی بدن کے اندر ہوتی ہے، کیونکہ حیات کو پیدا کرنا روح کا کام نہیں ہے، بلکہ حیات کو پیدا کرنا اﷲ کا کام ہے، اﷲ تعالیٰ نے تو ایک عادت بنادی کہ بدن کے اندر روح ہو تو انسان زندہ ہے ورنہ مردہ، یہ تو محض ایک عادی بات ہے اگر اﷲ چاہے تو بدن میں روح کے ہوتے ہوئے بھی مردہ کردے اور اﷲ چاہے تو روح نکال کر بھی بدن کو زندہ رکھے، اس لئے میں حیران ہوں کہ اور باتوں میں کسی شئے کو ثابت کرنا ہو تو ’’ان اﷲ علی کل شیئٍ قدیر‘‘ پڑھتے ہیں یعنی خدا ہر چیز پر قادر ہے، لیکن خدا اس بات پر قادر نہیں کہ قبض روح کے مابعد اپنے حبیب کے جسم اقدس کو زندہ رکھ سکے، روح تو خالق نہیں، خالق تو خدا ہے، روح بدن میں ہو یا نہ ہو، خدا جب چاہے حیات پیدا کرسکتا ہے، اس کی مثالیں بخاری اور مسلم میں موجود ہیں۔

مسعود ، ربیع اور ربعی بن حراش کا واقعہ

مسعود بن حراش، ربیع بن حراش اور ربعی بن حراش تینوں بھائی جو سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے والے تابعی ہیں، ان میں سے مسعود بن حراش نے قسم کھائی کہ جب تک مجھے یہ پتہ نہ چلے کہ میں جنت میں جائوں گا یا دوزخ میں ، تو میں نہیں ہنسوں گا، مجھے دنیا میں ہنس کر کیا کرنا ہے کیونکہ ہنسی توخوشی کے لئے ہوتی ہے، خوشی تو جب ہوگی کہ جب معلوم ہوجائے کہ میں جنتی ہوں ، چنانچہ انہوں نے ہنسنا چھوڑ دیا، اور ربیع بن حراش نے قسم کھائی کہ ہم نہیں بولیں گے جب تک ہمیں یہ علم نہ ہوجائے کہ ہم جنتی ہیں یا دوزخی، چنانچہ انہوں نے بولنا چھوڑ دیا اور ہر قسم کا کلام ترک کردیا، صرف سلام کہتے جو شرعاً ضروری اور واجب ہے، اب تینوں بھائیوں کو اپنے اپنے وقت پر موت آگئی، مسعود بن حراش نے مرنے کے بعد ہنسنا شروع کردیا، غسّال غسل دیتا رہا، کفن پہناتا رہا، اپنا کام کرتا رہااور مسعود بن حراش بھی ہنستے ہی رہے، اسی طرح ربیع بن حراش اور ربعی بن حراش کی روح جب قبض ہوئی تو غسّال نے غسل دینے کے لئے سریر پر لٹایا تو انہوں نے بولنا شروع کردیا، غسّال غسل دیتا رہا اور یہ بولتے رہے، اپنے رب کا انعام واکرام بیان کرتے رہے اور اپنے گھر والوں کو خوشخبریاں دیتے رہے۔ (مسلم شریف، جلداوّل، باب تغلیظ الکذب)

اب میں آپ سے پوچھتا ہوں یہ ہنسنا، بولنا اور اپنے رب کے انعام واکرام بیان کرنا عمل ہیں کہ نہیں ہیں؟ یقیناً عمل ہیں اور ہر عمل دلیل حیات ہوتا ہے، روح قبض ہوچکی ہے یعنی بدن میں روح نہیں ہے، لیکن حیات آچکی ہے، اگر مصطفیٰ ﷺ کے غلاموں کے بدن میں بغیر روح کے حیات ہوسکتی ہے تو مصطفیٰ ﷺ کے بدن مبارک میں کیسے حیات نہیں ہوسکتی؟ ضرور ہوسکتی ہے، اسی کو حیات حقیقی کہتے ہیں، روح کا قبض ہونا موت عادی ہے ، انک میت کے یہی معنی ہیں، اے میرے حبیب! عادتاً آپ پر بھی موت آئے گی اور آپ کی روح قبض ہوگی، مگر یہ نہیں فرمایا کہ آپ کا بدن حیات سے خالی ہو جائے گا۔

ابوجہل اور کنکریاں

عزیزان گرامی ! دو باتیں اور یاد آگئیں، لوگ مولانا روم کی باتوں کو نہیں مانتے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ مثنوی مولوی، معنوی…ہست قرآن در زبان پہلوی ۔ابوجہل اپنے ہاتھ کی مٹھی میں کنکریاں بند کرکے سرکار ﷺ کی بارگاہ میں آیا اور کہا !

اگر رسولی چیست درد ستم نہاں چوں خبر داری راز آسماں

امام بیہقی نے بھی اس واقعہ کو دلائل نبوت میں لکھا، تو سرکار نے فرمایا کہ میں بتائوں تیرے ہاتھ میں کیا ہے، یا تیرے ہاتھ میں جو چیز ہے وہ بتائے کہ میں کیا ہوں، اس نے کہا یہ تو اور زیادہ تعجب کی بات ہے ، سرکار ﷺ نے فرمایا تیرے ہاتھ میں گیارہ پتھر کے ٹکڑے (کنکریاں ) ہیں، اور ان پتھرکے ٹکڑوں سے سن لے کہ میں کیا ہوں؟ تو سب کے سب ٹکڑوں نے کلمہ پڑھنا شروع کردیا اور کہا کہ آپ اﷲ کے رسول ہیں،اب پتھر کے ٹکڑے کلمہ پڑھ رہے تھے، ان کے اندر کوئی روح نہیںتھی ، مگر حیات تھی، پتھر کے اندر روح کے بغیر حیات ہو سکتی ہے تو کیا نعوذباﷲ مصطفیٰ ﷺ کا جسم پاک پتھر سے بھی گیا گزرا ہے، بڑے تعجب کی بات ہے، پتھر تو کہیں ہوں گے اور پتہ نہیں کہاں گئے، لیکن وہ ستون حنانہ (استن حنانہ) کھجور کا ستون تو ابھی تک موجود ہے ، اے مدینہ والو ! استن حنانہ دیکھتے ہو کہ نہیں، میں ابھی زیارت کرکے آیا ہوں اور کل صبح بھی ان شاء اﷲ زیارت کروں گا، آپ کو معلوم ہے کہ وہ کیا ہے؟

استن حنانہ در ہجر رسول

نال میز ہمچوں ارباب عقول

استن حنانہ آپ کے فراق میں صاحب عقل کی طرح فریاد کرتا تھا، مثنوی کی بات تو قرآن و حدیث کا عطر ہے اور یہ حدیث بخاری شریف میںکئی سندوں سے موجود ہے کہ ایک خشک کھجور کی لکڑی کا ستون گاڑ دیا گیا اور سرکار ﷺ اس پر ٹیک لگا کر خطبہ فرماتے تھے، ایک صحابی نے عرض کیاحضور ! میرا ایک غلام نجار ہے، آپ اجازت فرمائیں تو منبر بنوادوں، آپ نے فرمایا !تمہاری مرضی، چنانچہ اس نے منبر بنوا کر پیش کردیا، سرکار ﷺ منبر پر جلوہ گر ہوگئے، استن حنانہ الگ رہ گیا، تو حدیث میں آتا ہے صحابہ فرماتے ہیں کہ وہ استن حنانہ اونٹنی کی سی غمناک آواز سے اتنا رویا کہ قریب تھا کہ ہمارے جگر پھٹ جاتے(بخاری شریف، ج۱،ص۵۰۶۔۵۰۷) ، قاضی عیاض اندلسی مالکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ(کجھور کے تنے کے رونے والی حدیث)متواتر اور مشہور ہے، یہ حدیث مختلف صحابہ کرام سے روایت ہے،(۱) حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ عنہ(۲)حضرت جابر بن عبداﷲرضی اﷲ عنہ(۳) حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ(۴) حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ(۵) حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ(۶)حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ(۷)حضرت بریدہ رضی اﷲ عنہ(۸) حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا(۹) حضرت عبدالمطلب بن ابی دواعہ رضی اﷲ عنہ۔ (مدارج النبوت از شیخ عبدالحق محدّث دہلوی، جلد اوّل، ص۳۵۲۔۳۵۳، البدایہ والنہایہ از ابن کثیر، ص۱۲۵۔۱۲۶۔۱۲۷)۔

محترم حضرات ! قابل توجہ بات ہے کہ استن حنانہ کا یہ رونا کیا تھا؟ اس میں روح انسانی تو درکنار، روح حیوانی اور روح نباتاتی بھی نہیں تھی، یہ محض خشک لکڑی تھی مگر روئی، رونا عمل ہے اور یہ عمل حیات کی دلیل ہے، معلوم ہوا حیات حقیقی اس خشک کھجور کی لکڑی (استن حنانہ) میں تھی ، شارح بخاری امام قسطلانی رحمۃ اﷲ علیہ اسی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ خدا اس بات پر قادر ہے کہ روح کے بغیر بھی بدن میں حیات پیدا فرمادے۔

اے حبیب ﷺ تیری اگلی شان پچھلی سے بہتر ہے

محترم عزیزو ! سرکار ﷺ کی روح ایک آن کے لئے قبض ضرور ہوئی تاکہ عبد ومعبود کا فرق ہوجائے لیکن روح دوبارہ جسم اقدس میں لوٹادی گئی کیونکہ اس سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں، خواہ زمین وآسمان ہوں یا عرش وکرسی، اگر وہ روح اقدس کسی بھی جگہ پر ہوتی تو اصل مقام سے نیچے ہوتی لیکن اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَىٰ (سورۃ والضحیٰ، آیت۴)

’’اور بے شک (ہر) پچھلی (گھڑی) آپ کے لئے پہلی سے بہتر ہے۔ یعنی اے حبیب تیری ہر اگلی شان پچھلی سے بہتر ہے، تو پتہ چلا کہ جب روح مبارک کے قبض ہونے ’’انک میت وانھم میتون‘‘ اور ’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘ کا قانون پورا ہو گیا تو روح اقدس مصطفیٰ ﷺ کے جسم اقدس میں واپس جلوہ گر ہوگئی، کیوں؟ اس لئے کہ کوئی مقام جسم اقدس سے بہتر تو درکنار، برابربھی نہیں ہوسکتا، اس لئے میں صاف صاف کہتا ہوں کہ میرے آقا کی روح پاک آج بھی حضور اقدس میں جلوہ گر ہے۔

زید بن خارجہ کا واقعہ

محترم حضرات ! اب مجھے زید بن خارجہ کا واقعہ یاد آگیا، سنئے اور خوب جھومئیے، زید بن خارجہ تابعی تھے، جن کا انتقال حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے چوتھے سال ہوا، آپ کا جنازہ پڑا ہے کہ اچانک بولنے کی آواز آئی، لوگوں نے ادھر اُدھر دیکھا تو معلوم ہوا کہ زید بن خارجہ بول رہے ہیں، وہ کیا بول رہے تھے؟ فرمارہے تھے ’’احمد فی الکتاب الاول‘‘ ارے احمد کا کیا کہنا وہ تو کتاب اوّل میں احمد مصطفیٰ ہیں اور ابوبکر صدیق کا کیا کہنا وہ تو کتاب اول میں ابوبکر صدیق ہیں اور عمر کا کیا کہنا وہ تو کتاب اوّل میں عمر فاروق ہیں، اس کے بعد فرماتے ہیں ’’چار برس گزر چکے ہیں اور دو برس باقی ہیں، تمہیں پتہ چل جائے گا‘‘(ازالۃ الخفاء ، از شاہ ولی اﷲ (مترجم)، جلد چہارم، ص۹۹۔۱۰۰، جلد دوم، فصل ہشتم، ص۵۳۰ در فضیلت شیخین، البدایہ والنہایہ، ج۶، ص۲۹۲، اس واقعہ کو امام بخاری تاریخ کبیرمیں ، امام حاکم مستدرک میں اور امام بیہقی دلائل النبوت میں لائے ہیں)

لوگ اس بات کو نہ سمجھ سکے کیونکہ اس کا تعلق آنے والے واقعہ سے تھا، چنانچہ چار برس گزر چکے تھے اور دو برس بعد یہ ہوا کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سرکار کی سنت کی یاد تازہ کرنے کے لئے بئر عریض میں پائوں لٹکائے بیٹھے تھے، حضرت مسیّب رضی اﷲ عنہ جو حضور ﷺ کے زمانہ اقدس سے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے زمانہ تک انگوٹھی بردار رہے، انگوٹھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو دیتے یا لیتے وقت کنوئیں میں گر گئی، تو پھر کیا ہوا؟ فتنوں کے دروازے ایسے کھل گئے کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت انہی فتنوں کا نتیجہ ہوئی، دراصل وہ انگوٹھی آقائے مدنی تاجدار ِ حرم ﷺکی تھی، آپ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے پاس آئی ،حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس، فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ سے عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس، تو پتہ چلا کہ سارا نظام اس انگوٹھی کا صدقہ تھا، کیونکہ انگوٹھی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی انگلی مبارک سے مَس ہوئی تھی، جب وہ کنویں میں گر گئی تو خلاء پیدا ہوگیا، جب خلاء پیدا ہوا تو فتنوں کے دروازے کھل گئے، خلافت کے آخری چھ سال حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے نہایت پریشانی میں گزرے، حتیٰ کہ شہید کردئیے گئے۔

اب دیکھئے زید بن خارجہ بولے اور علم کی بات بتائی، جو دنیا والوں کو معلوم نہ تھی، کسی کو بھی پتہ نہ تھا کہ دو سال بعد کیا ہونے والا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ مصطفیٰ کریم ﷺ کو غیب کا علم نہیں، آپ کے غلام مرنے کے بعد غیب کی خبر دے رہے ہیں، زید بن خارجہ کلام بھی فرمارہے ہیںاور غیب کی خبر بھی دے رہے ہیں، مرنے کے بعد کلام فرمانا حقیقت حیات کی دلیل ہے، تو جن کے غلاموں کے مرنے کے بعد حیات کا یہ عالم ہے کہ مرنے کے بعد غیب کی خبر دے رہے ہیں، ان کے آقا کی حیات کا کیا عالم ہوگا؟

حضرت قثم بن عباس رضی اﷲ عنہ والی حدیث

عزیزان گرامی ! اب خود آقا مدنی تاجدار حرم ﷺ کی اپنی بات سنئے، اس حدیث کو شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنی کتاب ’’مدارج النبوۃ‘‘ میں لکھا ہے، آقا ﷺ کا انتقال ہوگیا، قثم بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ جب آقا ﷺ کو قبر انور میں رکھا گیاتو سب سے آخر میں حضور ﷺ کی زیارت میں نے کی، تو میں کیا دیکھا کہ لب مبارک ہل رہے ہیں، جیسے کوئی بول رہا ہو، میرا جی چاہا اور میں بے قرار ہوا کہ سنوں حضور کیا فرمارہے ہیں؟ تو میں نے اپنے کان حضور ﷺ کے منہ کے قریب کردئیے، آپ فرماتے تھے ’’ربیّ اُمتی اُمتی‘‘۔ (مدارج النبوت، اُردو ترجمہ، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی، حصہ دوم، ص۷۵۱)

اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ روح قبض ہو چکی اور آپ ’’ انک میت‘‘ کا مصداق ہو چکے اور پھر آپ کلام فرمارہے ہیں، آپ کا یہ کلام فرمانا کیا ہے؟ یہی کلام فرمانا حیات حقیقی کی دلیل ہے، تو معلوم ہوا کہ میرے آقا کا جسم پاک ایک آن کے لئے بھی حیات سے محروم نہیں ہوا، اس وقت بھی میرے آقا کا جسم زندہ تھا، یہی زندگی تو یہی عمل رسالت ہے، عمل رسالت ایک آن کے لئے بھی منقطع نہیں ہوسکتا، موت سے مراد قبض روح ہے اور قبض روح پر ہمارا ایمان ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ قبض روح مبارک کے ساتھ حضور ﷺ کا بدن مبارک حیات سے خالی ہوا یا نہیں؟ تم کہتے ہو خالی ہوا کیونکہ بغیر روح کے حیات نہیں ہو سکتی، تو پھر بڑے افسوس کا مقام ہے کہ تم نے روح کو خالق مانا اﷲ تعالیٰ کو نہیں۔

خرقِِ عادت

عزیزان محترم ! بعض امور عادیہ ہوتے ہیں، اﷲ تعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ بعض اوقات ان خرق عادات کو ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے تاکہ خدا کی سنت پر دلیل قائم ہوجائے، تو عادت تو یہ ہے کہ روح نکل جانے کے بعد کوئی نہیں بولتا، لیکن خرق عادت یہ ہے کہ اس سے پتہ چل جائے کہ روح کے بغیر بھی خدا حیات پیدا کرسکتا ہے، روحِ حیات کا مرکز قلب ہے، جس کو لوگ ہارٹ(heart) کہتے ہیں، قلب کی حرکت بند ہو جائے توکہتے ہیں کہ ہارٹ فیل ہو گیا تو گویا روح نکل گئی۔

محترم حضرات ! عمل جراحت ان اسباب عادیہ کے ماتحت ہوتے ہیں جو اﷲ نے پیدا کئے ہیںاور ڈاکٹروں کو بڑے بڑے انتظامات کے ساتھ مخصوص آلات استعمال کرنے پڑتے ہیںاور پھر ہر ڈاکٹر بھی قلب کا آپریشن نہیں کرسکتا، آپ نے کبھی بھی نہیں دیکھا ہوگاکہ کسی ڈاکٹر نے کسی چلتے ہوئے انسان کو لٹا کر اس کا قلب نکال لیا ہو اور پھر وہ انسان زندہ رہ گیا ہو، کیونکہ مرکز حیات قلب ہے، حرکت قلب بند ہوگئی تو روح بھی چلی گئی اورپھر آپ کو پتہ ہے کہ حضور ﷺ کا سائنسی زمانہ نہ تھا، کوئی مرہم پٹی اور جراحی آلات نہ تھے، مگر حضور ﷺ کے قلب انور کو چار دفعہ باہر نکالا گیا اور قلب پاک کا شگاف بھی کیا گیا اور آب زم زم کو شرف اور فضیلت بخشنے کے لئے قلب انور سے نسبت دی گئی یعنی قلب انور کو دھویا گیا، نہ کہ نعوذ باﷲ قلب انور میں کوئی خرابی تھی کہ دور کی گئی، پھر قلب انورباہر کیوں نکالا گیا؟ اس لئے تاکہ پتہ چل جائے کہ قلب مبارک باہر ہے یعنی روح حیات باہر ہے اور روح حیات کے بغیر آپ زندہ ہیں، یہ شق صدر حیات بعد الموت کی دلیل ہوگئی کہ میرے محبوب کا جسم اقدس قبض روح کے بعد ایسے ہی زندہ رہے گا جیسے شق صدر کے بعد ، اور معراج کی رات کو بھی شق صدر ہوا اور قلب باہر نکالا گیا تو روح بھی باہر چلی گئی، کیونکہ مرکز حیات قلب انور ہے، مگر کیا ہوا؟ ہوا یہ کہ آپ ﷺ پر کوئی موت طاری نہ ہوئی اور جسم پاک زندہ رہا اور یہ دلیل تھی کہ قلب انور اور روح مقدس باہر ہے مگر جسم پاک زندہ ہے، جب جسم پاک زندہ ہے تو ’’لقد من اﷲ علی المومنین‘‘ خدا کا احسان بھی ٹھیک ہے کہ نعمت موجود ہے اور نعمت مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس ہے، لہذا سرکار زندہ ہیں(یہاں علامہ کاظمی علیہ الرحمہ نے زور دے کر بار بار فرمایا کہ سرکار زندہ ہیں) اور ’’واعلموا ان فیکم رسول اﷲ‘‘ خوب یقین کرلو کہ تم میں خدا کے رسول موجود ہیں (یہاں زور دے کر فرمایاکہ سرکار موجود ہیں)، واجب وممکن، عبدومعبود، خدااوررسول کا فرق واضح کرنے کے لئے’’انک میت وانھم میتون‘‘فرمایا گیا، یہاں’’انک وانھم میتون‘‘ نہیں فرمایا، کیوں؟ اس لئے کہ ان کے لئے موت اور تھی اور دوسروں کے لئے الگ میتون کا لفظ فرمایا، اس لئے کہ ان کی موت اور تھی، آپ ﷺ کے لئے ’’انک میت‘‘ کاالگ لفظ فرمایا ورنہ سب کی موت ایک جیسی ہوجاتی، مصطفیٰ ﷺ کی موت ویسی ہے جیسے آپ خود ہیں، میں تو یہ جانتا ہوں موت نیند کی بہن ہے اور حضور ﷺ کی نیند کیسی تھی کہ سوتے میں جاگتے تھے، بخاری شریف کی حدیث ہے کہ حضور ﷺ سو گئے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے سرکار ﷺ کے سونے کی آواز سنی ، آپ جاگے وضو نہیں فرمایا، نماز کی نیت باندھ لی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہانے عرض کی : میرے آقا ! آپ تو سو گئے تھے سرکار ﷺ نے فرمایا ’’تنام عینی ولا ینام قلبی‘‘ ’’میری آنکھ سوتی ہے، قلب نہیں سوتا‘‘(بخاری شریف، ج۱، ص۵۰۴، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی، مسند امام احمد بن حنبل، ج۶، ص۳۶) ۔

جیسے جس کی نیند ہوتی ہے ویسے ہی ان کی موت ہوتی ہے، جیسے آپ کے سونے میں بیداری تھی ویسے ہی آپ کی موت میں بھی حیات تھی، لہذا آپ قبض روح کے بعد بھی حیات ہیں اور زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے کیونکہ دلیل یہ ہے کہ خدا کا یہ احسان موجود ہے، احسان نعمت پر ہوتا ہے، خدا کے اس احسان کو قرآن سے کوئی نہیں نکال سکتا، یہ ’’لقد من اﷲ ‘‘ کاا حسان قیامت تک رہے گا، لہذا سمجھ لو کہ’’واعلموا ان فیکم رسول اﷲ‘‘۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ