اﷲ کی شان ہے کہ دوسروں سے بات بات پر بخاری ومسلم یا صحاح ستّہ سے صحیح حدیث کا مطالبہ کرنے والوں کے لئے آج نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کی صحیح حدیث کا مطالبہ پورا کرنا پریشانی کا باعث بن گیا ہے اور صحاح ستّہ سے رخصت لے کر ابن خزیمہ (بلکہ زیر ناف ہاتھ باندھنے والے حضرت سفیان ثوری )کے دروازے پر سائل بن کر کھڑے ہیں۔
وہاں سے حدیث ملی جس کی سند یہ ہے
’’ …مؤمل بن اسمٰعیل نا سفیان عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن وائل ا بن حجر رضی اﷲ عنہ قال… ‘‘
اگر یہی سند احناف کی پیش کردہ کسی حدیث میں ملتی تو ہمارے یہ مہربان جرح کرتے ہوئے جامہ سے باہر ہوجاتے، کبھی مؤمل بن اسمٰعیل کے متعلق ذہبی اور ابن حجر وغیرہ کی کتابوں سے منکر الحدیث، سئی الحفظ، کثیر الخطاء کے الفاظ دکھائے جاتے، کبھی سفیان ثوری، عاصم اور کلیب تین عراقی راویوں پر اجتماعی جرح کی جاتی ’’عراقی ہزار حدیث روایت کرے تو اُن میں سے نوسو نوے پھینک دیں اور جو باقی دس ہیں اُن کے بارے میں بھی شک میں رہو۔ (ضعیف اور موضوع روایات، از یحیٰی گوندلوی غیر مقلد، ص۳۲)
کبھی سفیان ثوری پر جرح ہوتی کہ وہ مدلّس ہے اور یہاں عنعنہ سے روایت کررہاہے اس لئے روایت ضعیف ہے۔(ہدیۃ المسلمین، از زبیر علی زئی، ص۳۹)
کبھی عاصم بن کلیب کو اس روایت میں منفرد قرار دے کر حدیث کو ضعیف کہا جاتا۔(ضعیف اور موضوع روایات، از یحیٰی گوندلوی، ص۲۲۶)
کبھی کہتے کہ مؤمل کی حدیث ثوری سے ضعیف ہوتی ہے۔ (توجیہہ القاری، ص۳۲۱ بحوالہ ابن حجر عسقلانی)
کبھی کہتے کہ ثوری کے شاگردوں کی پوری جماعت نے یہ حدیث بیان کی ہے مگر علیٰ صدرہٖ کے الفاظ سوائے مؤمل بن اسماعیل کے اور کسی شاگرد نے بیان نہیں کئے۔(الخلافیات للبیہقی)
لہذا ثوری کی اس روایت میں مؤمل بن اسماعیل کا یہ اضافہ غیر محفوظ ہے، شاذ ہے، مقبول نہیں ہے۔
روایت کا دارومدار صرف مؤمل بن اسمٰعیل پر نہیں تھا کہ اُس کے بارے میں چار پانچ شوشے چھوڑ کر حدیث کو صحیح ثابت کردیا جائے۔
پہلا شوشہ
یہ چھوڑا گیا کہ امام بخاری نے مؤمل بن اسمٰعیل کو منکر الحدیث ہر گز نہیں کہا ، اس طرح ذہبی اور ابن حجر عسقلانی کی نقل کو چیلنج کرکے اُن کی ثقاہت اور صداقت کو مشکوک بنایا گیا تاکہ ذہبی اور ابن حجر کی باقی تمام باتیں بھی بے سروپا معلوم ہوں، اور بنظر غور دیکھا جائے تو مؤمل بن اسمٰعیل کے لفظ ’’اسمٰعیل‘‘اور’’سعید‘‘ میں کاتب سے خطاء ہوئی اور وہ لام کو دال کہ شکل کا لکھ بیٹھا اور ہمارے ان نام نہاد محققین نے اُسی تصحیف کاتب والے نسخے کو شائع کرکے یہ قلعہ فتح کیا، اس کا ثبوت ابن حجر عسقلانی، علامہ ذہبی اور علامہ مزی کی گواہیاں ہیںکہ امام بخاری نے مؤمل بن اسمٰعیل کو منکر الحدیث لکھا ہے، کیا یہ سب گواہ جھوٹے ہیں؟ پھر یہ کہ مؤمل بن سعید کے منکر الحدیث ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ کہ مؤمل بن اسمٰعیل منکر الحدیث نہیں ہے۔
دوسرا شوشہ
یہ چھوڑا کہ امام بخاری اگر اسے منکر الحدیث کہتے تو بخاری کی تعلیقات میں اس کی حدیث نہ لے کر آتے ، یہ شوشہ پہلے شوشے سے بھی کمزور ہے، کیا امام بخاری نے لکھا کہ یہ تعلیق میں مؤمل بن اسماعیل ہی سے لے رہا ہوں، سند تو بعد والوں نے ڈھونڈی، پھر کتنے ہی راوی ایسے ہیں جنہیں امام بخاری اپنی تاریخ کبیر اور صغیر میں ضعیف کہتے ہیں اور صحیح بخاری میں خود ہی اُس راوی سے روایت بھی لے رہے ہوتے ہیں، مثلاً ابراھیم بن اسماعیل انصاری، ثابت بن محمد العابد، حریث بن ابی مطر کوفی وغیرہ، انہیں خود ہی امام بخاری ضعیف کہتے ہیں اور خود ہی صحیح بخاری میں ان سے روایت لیتے ہیںاور کسی بخاری پرست کو جرأت نہیں ہوتی کہ ان راویوں کے ضعف کو بخاری کی تاریخ میں پیوند کاری قرار دے سکے۔
تیسرا شوشہ
یہ کہ مؤمل بن اسمٰعیل ، وائل بن حجر کی اس حدیث میں منفرد نہیںکہ توقف لازم آئے، ھلب کی حدیث اس کی مویٔد ہے، یہ شوشہ نہیں بلکہ اعتراف شکست ہے کیونکہ مؤمل بن اسماعیل کی انفرادی حدیث پر توقف مان لیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مؤمل بن اسماعیل کی یہ روایت ان کے نزدیک بھی قابل عمل نہیں۔
رہ گئی حدیث ھلب سے تائید تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ
اولاً: تو اس حدیث سے پتہ چلتاہے کہ اِدھر اُدھر سلام پھیرا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھا، ظاہر ہے کہ ہم نماز میں قیام کے وقت ہاتھ باندھنے کے مسئلے کی تحقیق کررہے ہیں نہ کہ سلام پھیرنے کے بعد ہاتھ باندھنے کی ،کہ حدیث ھلب سے کام چلایا جاسکے۔
ثانیاً: حدیث ھلب میں سماک بن حرب جیسا راوی موجود ہے جس کے کمزور حافظے اور تلقین قبولی پر کافی کچھ کہا گیا، خود اس سے یہ حدیث لینے والے حضرت سفیان ثوری بھی سماک کو ضعیف کہتے ہیں(کامل ابن عدی، ج۳، ص۱۲۹۹۔احادیث صحیح بخاری ومسلم کو مذہبی داستانیں بنانے کی ناکام کوشش، از ارشاد الحق اثری، ص۴۸)
ثالثاً: اس حدیث کے دیگر راوی علیٰ صدرہٖ نہیں کہتے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں تصحیف کاتب واقع ہوئی جس میں ھذہٖ کو صدرہٖ بنادیا گیا۔
رابعاً: حدیث ھلب اور حدیث وائل بن حجر( بواسطہ مؤمل بن اسماعیل) دونوں روایتوں کا مشترکہ راوی سفیان ثوری نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کی بجائے زیر ناف ہاتھ باندھتا ہے (نووی شرح مسلم، مغنی ابن قدامہ، جلد ۱، ص۴۷۲)
اب اگر سفیان ثوری کو مخالف سنت کہا جائے تو اُس کی یہ دونوں روایتیں غیر معتبر ہوجائیں گی، اور اگر اُسے متبع سنت مانا جائے تو پھر ان روایات میں تاویل کرنا پڑے گی اور کہا جائے گا کہ راوی سفیان ثوری نے سینہ پر ہاتھ باندھنے کی روایت کو یا تو ضعیف اور یا پھر عورتوں کی تعلیم پر محمول کیا ہے، اس لئے خود ان پر عمل نہیں کیا۔
چوتھا شوشہ
یہ ہے کہ چونکہ مؤمل بن اسماعیل کے لئے سئی الحفظ اور کثیر الخطاء کے الفاظ ملتے ہیں لہذا ایسے راوی کی روایت فی نفسہٖ حسن درجہ کی ہوتی ہے، حالانکہ ایسے راوی کی روایت ضعیف شمار ہوتی ہے اور اُس روایت کو فی نفسہٖ حسن کہناکم علمی پر مبنی ہے ،( حدیث ھلب کی تائید کا تجزیہ اوپر ہوچکا)۔
پانچواں شوشہ
کہ مؤمل بن اسماعیل کی تعدیل بھی تو کی گئی ہے ، تو جواباً عرض ہے کہ مولوی سلطان محمود غیر مقلد آپ کے اصول حدیث میں لکھ چکا ہے کہ ’’جب جرح مقبول اور تعدیل مقبول متعارض ہوجائیں تو اکثر ائمہ کے نزدیک جرح مقدّم ہے‘‘( اصطلاحات المحدثین، ، مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان، ص۲۰، ۲۱)
لہذا مجروح راوی کے بارے میں تعدیل کا قول آپ اہل حدیثوں کے کس کام کا ہے؟ پھر آپ کے رفع یدین وغیرہ کے سلسلے میں بیان کردہ متعدد اعتراضات بھی تواس مؤمل والی سند پر بھی لاگو ہوتے ہیں، جنہیں ہم نے اوپر بیان کردیا اور جنہیں آپ دیگر مسائل میںقارئین پرپیش کرتے ہیں مگر اس مسئلے میں اپنے کمزور موقف کو بچانے کے لئے قارئین سے چھپاتے ہیں، کیونکہ وہ آپ کے اپنے ہی بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں اس روایت کی سند کے عیب ہیں جن سے یہ روایت ضعیف ہوتی ہے اور اپنے مطلب کی روایات کے اس طرح کے عیب چھپانا مسلک اہل حدیث کا اس دور میں شعار بن چکا ہے ۔ طرفہ تماشہ یہ کہ آپ سینے پر ہاتھ باندھنے کے لئے اس قدر ہاتھ پائوں مارتے ہیں مگر عملی طور پر آپ حضرات کی اکثریت سینے سے نیچے ہاتھ باندھتی ہے اور اہل حدیث حضرات کے ماہرین اناٹومی آج تک سینہ اور زیر سینہ کے درمیان حد فاصل قائم نہیں کرسکے، لگتا ہے کہ ان کے سینوں نے پیٹ کے بالائی حصے پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے ۔
یہ قصۂ لطیف ابھی ناتمام ہے
جو کچھ بیاں ہوا ہے یہ آغاز باب تھا
یار زندہ صحبت باقی