ترتیب: خلیل احمد رانا
عبادت اور استعا نت دونوں اﷲ ہی کے ساتھ خاص ہیں، اﷲ ہی معبود ہے اور وہی مستعان ہے،بعض لوگوں نے عبادت کے معنی میںکچھ افراط و تفریط سے کام لیا،یہ صحیح ہے کہ عبادت کی روح تعظیم ہے،لیکن بعض لوگ ہر تعظیم کو عبادت سمجھنے لگے، یہ غلط ہے۔
دراصل حد درجہ تعظیم و انکسار کا نام عبادت ہے،یعنی تعظیم کا وہ مقام جس کے آگے تعظیم کا اور کوئی درجہ نہ ہو، اسے ہم بندگی سے عبارت کرتے ہیں ،اور اسی کوعبادت سے تعبیر کیا گیا ہے،اس کے سِوا عبادت کا اور کوئی مفہوم نہیں ہے۔
اب ایک تو ہے تعظیم اور ایک ہے اقصیٰ غایت التعظیم (یعنی ایسی تعظیم کہ اس کے آگے تعظیم کا کوئی اور درجہ متصور نہ ہو)،تو اﷲ تعالیٰ کے سوا اﷲ کے رسول ، اﷲ کے نبی، اﷲ کے مقرب اولیا صالحین، یہ تمام کے تمام تعظیم کے تو مستحق ہیں ،مگر اقصیٰ غایت التعظیم کا مستحق فقط اﷲ تعالیٰ ہے۔ تعظیم رسولوں کے لیے بھی ہے ،تعظیم نبیوں کے لیے بھی ہے، تعظیم ولیوں کے لیے بھی ہے،بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اﷲ تعالیٰ نے تو ان پتھروں کی تعظیم کا بھی حکم دے دیا جن کی نسبت اﷲ کے بندوں سے ہو گئی۔
دیکھئے بیت اﷲ یعنی کعبہ معظم ہے یا نہیں؟ یقیناً معظم ہے۔تو کیا کعبہ تعظیم کے بغیر ہی معظم ہو گیا؟بھئی اس کی تعظیم ہوتی ہے تبھی تو وہ معظم ہے۔اب اگر محض تعظیم ہی کوعبادت کہیں گے تو پھر کعبہ بھی معبود ہو گیا،حالانکہ کعبہ تو معبود نہیں،وہ تو ہماری عبادت کی ایک جہت اﷲ نے مقرر کی ہے۔بعض لوگوں یہ غلط فہمی پھیلائی کہ بھئی جہاں جس کی تعظیم کرو گے بس عبادت ہو جائے گی،ادھر تم نے کسی کی تعظیم کی اُدھر مشرک ہو گئے۔بھولے بھالے مسلمانوں کے لیے خواہ مخواہ ایک مصیبت کھڑی کی ہوئی ہے۔جب حرمین طیبین کی حاضری ہوتی ہے تو اس کا پورا پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے۔بہر حال میں عرض کررہا تھاکہ محض تعظیم کو عبادت کہنا بہت زیادتی ہے اور دین میں فتنہ پیدا کرنا ہے۔صحاح ستہ میں مشہور مجموعہ احادیث ابن ماجہ شریف کی ایک حدیث میرے ذہن میں آرہی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے تعجب کے ساتھ کعبۃ اﷲ کو فرمایااے بیت اﷲ تیری عظمتوں کا کیا کہنا تو تو بہت ہی عظمتوں والا ہے الخ۔
اب اگر محض مطلق تعظیم ہی کو شرک قرار دیتے ہو تو کعبہ کو بھی معظم مت قرار دو،اور اگر معظم سمجھتے ہو تو اپنے فتوے کے مطابق اسے بھی معبود سمجھو۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ مطلق تعظیم کا نام عبادت نہیں ، بلکہ ’’اقصیٰ غایت التعظیم‘‘ کا نام عبادت ہے یعنی ایسی تعظیم کہ اس کے آگے تعظیم کا کوئی درجہ متصور نہ ہو۔
اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا
ان الصفا و المروۃ من شعائر اﷲ (سورۃ بقرہ،آیت ۵۸)
ترجمہ: صفا اور مروہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہیں
یعنی جن پتھروں پر حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کے قدم لگ گئے وہ پتھر بھی معظم ہوگئے۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میںدوسری جگہ فرمایا!
ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقویٰ القلوب (سورۃ الحج،آیت ۴۲)
ترجمہ: اور جس نے اﷲ کی نشانیوں کی تعظیم کی تو وہ ان کے دلوں کا تقویٰ ہے
یعنی اﷲ تعالیٰ سے نسبت اور تعلق رکھنے والی چیزوں کا ادب و احترام بجا لانا اور اس کی تعظیم کرنا شرک میں داخل نہیں بلکہ عین توحید کی نشانیوں میں سے ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے محبت رکھنے والے لوگ ہی ان چیزوں کی قدر کرتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی طرف بالواسطہ یا بلا واسطہ منسوب ہیں۔ اب یہ شعائر اﷲ، جن کی تعظیم کی جاتی ہے کیا اﷲ ہیں ؟ اگر شعائر اﷲ کو اﷲ کہو گے تو پھر ہزاروں خدا ہو جائیں گے۔بہر حال شعائر اﷲ کی تعظیم کے متعلق اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اعلان فرما دیا ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقوی القلوب پتہ چلا کہ مطلقاً تعظیم شرک نہیں بلکہ اقصیٰ غایت التعظیم شرک ہے اور کوئی مسلمان ایسی تعظیم اﷲ تعالیٰ کے سوا اور کے لیے نہیں بجا لا تا ۔اے اﷲ تو ہی ہمارا معبود ہے اور ہم تیرے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔ایاک نعبد کے معنی آپ کی سمجھ میں آگئے۔
ایاک نستعین
اے اﷲ ہم تجھ ہی سے استعانت کرتے ہیں۔
استعانت کے معنی کیا ہیں؟ میں آپ کو بتا دوں کہ جس طرح ہر تعظیم کا نام عبادت نہیں اسی طرح ہر مدد طلب کرنے کا نام استعانت نہیں۔ایاک نستعین میں جس استعانت کا ذکر ہے وہ ہر استعانت نہیں ہے،اگر اس سے مراد ہر استعانت ہے تو پھر یہ توبڑی مصیبت ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا!
و تعا و نوا علی البر و التقوی (سورۃ المائدہ،آیت ۲)
یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔
(گرائمرکی رُو سے)’’تعانوا‘‘باب تفاعل سے ہے اس کے معنی شرکت کے ہوتے ہیں۔یعنی تم اس کی عون (مدد) کرو وہ تمہاری مدد کرے گا،نیک کام میں آپ مجھ سے مدد طلب کر سکتے ہیں، میں آپ سے مدد طلب کر سکتا ہوں۔ اب اگر ہر استعانت شرک ہو تو پھر ’’ و تعا ونو ا علی البر و التقویٰ‘‘کے کیا معنی ہوں گے ، پھر تو نیکی کے کاموں میں کسی سے مدد طلب کر ناشرک ہو جائے گا، حالانکہ قرآن تو اس کا حکم دیتا ہے۔تو معلوم ہوا کہ ہر طرح کی عون(مدد) کوایاک نستعین کے تحت لانا غلط ہے،جیسا کہ ہر تعظیم کو ایاک نعبدکے تحت لانا غلط ہے۔وہ تعظیم خاص ہے جو ایاک نعبدمیں مراد ہے اور وہ استعانت خاص ہے جوایاک نستعین میں مراد ہے۔اگر ہم کسی کو مستعان حقیقی سمجھ کر مدد طلب کریں اور ہمارا اعتقاد یہ ہو کہ یہ مدد کرنے میں مستقل بالذات ہے اس کو کسی کی احتیاج نہیں، یہ خود بخود بغیر کسی کا محکوم ہوئے ، بغیر کسی کی مشیت اور ارادہ کے ماتحت ہوتے ہوئے اپنی ذات سے مستقلاً ہماری مدد کر سکتا ہے تو یہ شرک ہے کیونکہ کسی کو مستقل بالذات مستعان سمجھ کر مدد طلب کرنا بھی اقصیٰ غایت التعظیم ہے اور اسی کو عبادت کہتے ہیں۔
ہمارا ایمان ہے کہ ہم جس سے بھی مدد طلب کرتے ہیں اس کے متعلق ہمارا کبھی یہ اعتقاد نہیں ہوتا کہ یہ اﷲ کے حکم کے بغیر ہماری مدد کرے گا ،یا اﷲ کی مرضی یا مشیت کے بغیر ہماری مدد کرے گا یا اﷲ کے ارادے کے بغیر ہماری مدد کرے گا۔ہمارا اعتقاد یہ ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کو مدد کرنے کی قدرت دی ہے ،اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت سے یہ ہماری مدد کرے گا،اﷲ کے حکم سے یہ ہماری مدد کرے گا اور اﷲ تعالیٰ کی مشیت سے یہ ہماری مدد کرے گا۔اگر اﷲ تعالیٰ کی مشیت متعلق نہ ہو تو یہ ہماری مدد نہیں کر سکتا،اگر اﷲ تعالیٰ کا ارادہ متعلق نہ ہو تو کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا،اﷲ نے اس کو مستقل بالذات کوئی قوت نہیں دی،کیونکہ استقلال ذاتی الوہیت کا وصف ہے اور الوہیت کا وصف غیر ا لہٰ میں ہو نہیں سکتا۔اس لیے ہم کہتے ہیں’’ ایاک نستعین‘‘یعنی اے اﷲ ہم تجھے مستعان حقیقی اعتقاد کر کے فقط تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا
واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ (سورۃ بقرہ، آیت۴۵)
اس آیت میں ’’با‘‘ سببیہ ہے، سبب اور وسیلہ ایک ہی بات ہے،یعنی صبر اور صلوٰۃ یہ وسیلہ ہیں استعانت کے۔استعانت تو اﷲ ہی سے ہو گی ، جس طرح صبر اور صلوٰۃ وسیلہ ہیں اسی طرح اولیاء کرام بھی وسیلہ ہیں اور جس طرح اعمال صالحہ وسیلہ ہو سکتے ہیں تو جو اعمال صالحہ سے متصف ہیں وہ بھی وسیلہ ہیں۔اسی لیے ہم اولیا اﷲ سے توسل کرتے ہیں،ہم فقط ان کی ذات کا توسل نہیں کرتے بلکہ ان کے وصفِ ولایت کی بنا پر توسل کرتے ہیں، ان کی صالحیت اور اعمال صالحہ کی بنا پر توسل کرتے ہیں۔ بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ اﷲ کے نیک بندوں نے اعمال صالحہ سے توسل کر کے اﷲ سے مدد طلب کی ،اور اعمال صالحہ سے توسل کرنا یہ بناء ہے صالحین سے توسل کرنے کی۔ہم یہی کہتے ہیںکہ انبیاء و اولیاء کرام و صالحین ہمارے وسیلہ ہیں،ہاں مدد کرنے والا اﷲ ہے،عون فرمانے والا اﷲ ہے،حاجت برلانے والا اﷲ ہے اور اﷲ تعالیٰ نے صالحیت کو،اعمال صالحہ کو،نیکی کو ، تقویٰ کو، صبر کو، صلوٰۃ کووسیلہ بنایا،اور جو محل ہیں صبر کے، جو متصف ہیں صلوٰۃ سے اور جو متصف ہیں اعمال صالحہ سے وہ باعتبار اعمال صالحہ کے ہمارا وسیلہ ہیں،اور ان سے قطع نظر کر کے محض ان کی ذوات کو ہم وسیلہ قرار نہیں دیتے،کیونکہ ان کے توسل کا معنی ان کااعمال صالحہ سے متصف ہو نا ہے اور اعمال صالحہ سے توسل یعنی استعانت کرنا ،قرآن سے ثابت ہے، قرآن نے کہا ’’واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ‘‘۔
اب اگر مطلقاً استعانت کو شرک کہو گے تو قرآن کی اس آیت کو کہاں لے جائو گے،پھر تو صبر اور صلوٰۃ کے ذریعے مدد طلب کرنابھی شرک ہو جائے گا،کیونکہ صبر بھی خدا نہیں اور صلوٰۃ بھی خدا نہیںہے۔یہ دونوں اﷲ تعالیٰ کی عبادتیں ہیں۔تو اﷲ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے کے یہ معنی ہیںکہ اے اﷲ ہم تجھ ہی کو مستعان ِ حقیقی مانتے ہیں اگر تو نہ چاہے تو کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا،اگر تیرا ارادہ اور مشیت نہ ہو تو کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا ۔
اب یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب یہ اﷲ کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے تو ان کا تو کچھ مقام نہ ہوا اور ان کی کوئی فضیلت نہ ہوئی؟۔
دیکھئے یہ اﷲ کے نیک بندے اﷲ کی مشیت سے ہی تو مدد کر سکتے ہیں، بغیرمشیت کے تو مدد نہیں کر سکتے۔تو پتہ چلا کہ یہ وہ لوگ ہیںجن کے ساتھ مشیتِ الٰہی متعلق ہو گئی ہے۔کیا یہ ان کی فضیلت نہیں ؟۔ان کے ساتھ مشیتِ الٰہیہ متعلق ہوتی ہے،ارادئہ الٰہیہ متعلق ہو تا ہے۔ تو جو متعلق ہو مشیتِ الٰہیہ سے اور جو متعلق ہو ارادئہ الٰہیہ سے توبتائیے کہ وہ فضیلت کا مرکز قرار پائے گا یا نہیں ؟۔ یہاںایک اور شبہ کا ازالہ بھی کر دوںکہ جب ہم کہتے ہیں ’’ایاک نستعین‘‘ہم تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں تو شبہ یہ ہے کہ اس میں ’’حصر‘‘ ہے یعنی ہم فقط تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں تیرے غیر سے نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے ہم دیکھیں کہ حصر کے معنی کیا ہیں؟تو عرض ہے کہ حصر کے معنی ہیں ما سوا مذکور کی نفی،مثلاً کلمہ لا الٰہ الا اﷲہے، اس میں مذکور کون ہے؟ اس میں مذکور اﷲ ہے،کیونکہ یہاں اﷲ کے سوا ہر ایک سے الوہیت کی نفی ہو گئی اور اﷲ کے ما سواسب غیر مذکور ہیں،تو ہر غیر مذکور سے الوہیت کی نفی ہو گئی۔اب ہم کہتے ہیں ’’ایاک نستعین‘‘تو ’’ایاک‘‘ میں مذکور تو اﷲ کی ذات ہے ،کیونکہ ’’ایاک‘‘ میں جو ضمیر خطاب ہے اس کا مصداق اﷲ تعالیٰ ہے،تو اب مذکور توفقط اﷲ ہے اور غیر کی نفی ہو گئی ،کیونکہ مذکور کے ماسوا سب کی نفی ہوتی ہے۔تو پتہ چلا کہ ہم اﷲ کے سوا کسی اور سے استعانت نہیں کر سکتے،کسی سے مدد نہیں مانگ سکتے،اﷲ سے مدد مانگنا خاص ہے،کیونکہ مذکور وہی ہے اور حصر میں ماسوائے مذکور کی نفی ہے۔لہذا اﷲ کے سوا سب ماسوا کی نفی ہوگئی،اﷲ کے ما سوا جو بھی ہے اس سے استعانت نہیں ہو سکتی۔
اب سوال یہ ہے کہ فقط مردے ہی اﷲ کے ما سوا ہیں ،کیا زندہ اﷲ کے ما سوا نہیں ہیں؟ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جناب مردوں سے مدد مانگنا شرک ہے اور زندوں سے مدد مانگنا جائز ہے۔ارے خدا کے بندو ! ایاک نستعین میں تو حصر ہے اورحصر میں تو ما سوائے مذکور کی نفی ہوتی ہے ، تو ما سوائے مذکور فقط مردہ ہیں ،کیا زندہ ما سوائے مذکور نہیں ؟کیا صرف مُردوں کو غیر اﷲ کہو گے اور زندوں کو عین اﷲ کہو گے؟ خبر نہیں ان لوگوں کا دماغ کہاں چلا گیا؟
آپ آنکھ سے استعانت کرتے ہیں دیکھنے کے لیے، کان سے استعانت کرتے ہیں سننے کے لیے، زبان سے استعانت کرتے ہیں بولنے کے لیے،ہاتھ سے استعانت کرتے ہیں پکڑنے کے لیے ، پائوں سے استعانت کرتے ہیں چلنے کے لیے،دماغ سے استعانت کرتے ہیں سوچنے کے لیے،آپ اپنے دوستوں سے استعانت کرتے ہیں،مقدمات میں وکیلوں سے استعانت کرتے ہیں، جھگڑوں میں پولیس سے استعانت کرتے ہیں،کار خیر کے کاموں میں مالداروںسے استعانت کرتے ہیں، کون سی چیز ہے جس سے استعانت نہیں ہوتی؟ اب بتائیے کہ ما سوا مذکور میں تو سارے داخل ہیں،(کیونکہ ایاک نستعین میں تو حصر ہے) تو پھر کسی سے بھی استعانت مت کرو،اور ہر ایک کی استعانت کو شرک قرار دو۔جواب میں کہا جاتا ہے کہ بھئی یہ تو زندہ ہیں، تو سوال ہے کہ کیا زندہ اﷲ ہیں؟
الحمدﷲ ہمارا عقیدہ بالکل صاف ہے،بالکل سچا ہے، ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی زندہ سے بھی مستعان حقیقی سمجھ کر مدد مانگتا ہے تو وہ مشرک ہے،کیونکہ ’’ایاک‘‘ میں حصر ہے اور حصر میں ما سوائے مذکور کی نفی ہوتی ہے۔زندہ بھی ما سوائے مذکور ہیں اور مردہ بھی ما سوائے مذکور ہیں۔اگر کسی فوت شدہ کو مستقل بالذات مان کر مدد مانگو گے تب بھی مشرک ہو جائو گے اور اگر کسی زندہ کو مستقل مستعان بالذات جان کر مدد مانگو گے تب بھی مشرک ہو جائو گے۔اگر استقلال ِ ذاتی کا عقیدہ نہیںتو نہ مردہ سے مدد مانگ کر مشرک ہوگے اور نہ زندہ سے مدد مانگ کر مشرک ہو گے۔
شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی کا عقیدہ
شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ(م ۱۸۲۴ء) ’’ایاک نستعین‘‘کے تحت فرماتے ہیں !
’’دریں جا باید فہمید کہ استعانت از غیربو جہے کہ اعتماد بر آں غیر باشدواو را مظہر عون الٰہی نداند حرام است و اگر التفات محض بجانب حق است و اُو را یکے از مظاہر عون دانستہ و نظر بکار خانۂ اسباب و حکمت او تعالیٰ دراں نمود بغیر استعانت ظاہر نماید دُور از عرفان نخواہد بود و در شرع نیز جائز و روا است و انبیاء و اولیاء ایں نوع استعانت بغیر کردہ اند و در حقیقت ایں نوع استعانت بغیر نیست بلکہ استعانت بحق تعالیٰ است ‘‘۔(دہلوی، شاہ عبدالعزیز ، تفسیر عزیزی : دہلی ، مجتبائی ، ۱؍۸)
ترجمہ:’’اس جگہ یہ سمجھنا چاہئیے کہ غیر سے اس طرح استعانت حرام ہے کہ اعتماد اس غیر پر ہو اور اسے اﷲ تعالیٰ کی امداد کا مظہر نہ جانے،اور اگر توجہ محض اﷲ تعالیٰ کی طرف ہو اور اسے اﷲ تعالیٰ کی امداد کا مظہر جانے اور اﷲ تعالیٰ کی حکمت اور کار خانۂ اسباب پر نظر کرتے ہوئے اس غیر سے ظاہریاستعانت کرے تو یہ راہِ معرفت سے دور نہ ہو گا اور شریعت میں جائز اور روا ہے، اس قسم کی استعانت انبیاء و اولیاء نے غیر سے کی ہے، در حقیقت استعانت کی یہ قسم غیر سے نہیں ، بلکہ اﷲ تعالیٰ ہی سے ہے‘‘۔ مولانا شبیر احمد عثمانی (۱۸۸۵۔۱۹۴۹ء) کی تفسیرملاحظہ ہو(یہ تفسیر سعودی عرب میں ہر سال حاجیوں کو مفت تقسیم ہوتی رہی ہے)
’’اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اُس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی ناجائز ہے ،ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمت الٰہی اور غیر مستقل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت در حقیقت حق تعالیٰ ہی سے استعانت ہے‘‘۔(عثمانی،مولانا شبیراحمد، تفسیر عثمانی :کراچی، دارالاشاعت ، س ن ، ص۷۲)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اور مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی کی تفسیر سے ثابت ہوا کہ کوئی شخص حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو واسطۂ رحمت الٰہی سمجھ کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے مدد مانگتا ہے تو یہ جائز ہے ،کیونکہ در حقیقت یہ اﷲ ہی سے مدد مانگنا ہے۔
وہابی ، دیوبندی علماء کی آراء کہ ان کے نزدیک حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی علیہ الرحمہ کا کیامقام ہے۔
٭نواب صدیق حسن خاں بھوپالی(پ۱۲۴۸ھ۔م ۱۳۰۷ھ) :
’’شاہ عبدالعزیز بن شیخ اجل شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی بن شیخ عبدالر حیم عمری رحمہم اﷲ، استاذالاساتذہ، امام نقاد،بقیتہ السلف، حجۃ الخلف اور دیارِ ہند کے خاتم المفسرین و محدثین اور …… اپنے وقت میں علماء و مشائخ کے مرجع تھے، تمام علوم متداولہ اور غیر متداولہ میں خواہ فنونِ عقلیہ ہوں یا نقلیہ،ان کو جو دستگاہ حاصل تھی وہ بیان سے باہر ہے‘‘۔ (قنوجی، نواب صدیق حسن خاں ، اتحاف النبلاء المتقین با حیاء مآثر الفقہاء المحدثین : کانپور، مطبع نظامی،۱۲۸۸ھ ،ص۲۹۶)
٭مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی (پ۱۸۷۴ء۔م ۱۹۵۶ء) :
(پروفیسر ساجد میر غیرمقلد کے داداجان)
’’بڑے بڑے علماء آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ہیں اور فضلاء آپ کی تصنیف کردہ کتابوں پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں‘‘۔(سیالکوٹی،مولانامحمد ابراہیم ، تاریخ اہل حدیث: سرگودھا،ناشرمکتبۃ الرحمان سلفیہ،س ن،ص ۲۸۸)
مولانا سر فراز خاں صفدر (پ ۱۹۱۷ء) :
’’بلا شبہ مسلک دیوبند سے وابستہ جملہ حضرات شاہ عبدالعزیز صاحب کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں، بلا شبہ دیوبندی حضرات کے لیے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کا فیصلہ حکم آخر کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔(صفدر،مولانا سر فراز خاں، اتمام البرھان: گوجرانوالہ،مکتبہ صفدریہ ، ۱۹۸۱ء ،ج۱، ص ۱۳۸)