بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اعتراض ۱
’’ مولوی احمد رضا خاں صاحب شیعہ خاندان سے تھے، جیسا کہ ان کے نسب نامے سے ظاہر ہے: ’’احمد رضا ولد نقی علی ولد رضا علی ولد کاظم علی‘‘
جواب
حضرت مولانا احمد رضا خاں قادری بریلوی کا خاندانی نسب نامہ اس طرح ہے :
’’ احمد رضا خاں ابن حضرت مولانا نقی علی خاں بن حضرت مولانا رضا علی خاں بن حضرت مولانا حافظ محمدکاظم علی خاں بن حضرت مولانا شاہ محمد اعظم خاں بن حضرت محمد سعادت یار خاں بن حضرت محمد سعید اﷲ خاں رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین ‘‘
(حیات اعلیٰ حضرت، جلد اوّل، مطبوعہ مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی، ص۲)
مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کے نسب نامے سے کیا شیعت ظاہر ہورہی ہے، کچھ پتا نہیں ، بس جی نام شیعوں والے ہیں، کیا امام موسیٰ کاظم، امام علی رضا، امام نقی رحمہم اﷲ تعالیٰ علیہ شیعہ تھے؟ ،یہ نام عموماً شیعہ کے ہوتے ہیں، لا حول ولا قوۃ الا باﷲ
اب آئیے جہلائے دیوبند کے نسب ناموں کی طرف، رشید احمد گنگوہی کا نسب نامہ:
’’رشید احمد بن ہدایت احمد بن پیر بخش بن غلام حسن بن غلام علی بن علی اکبر‘‘
(تذکرۃ الرشید ، ص۱۳)
قاسم نانوتوی کا نسب نامہ:
’’محمد قاسم بن اسد علی بن غلام شاہ ‘‘
(سوانح قاسمی ، جلد اول، ص۱۱۳)
جہلائے دیوبند کے شیعوں والے نام: اشرف علی تھانوی، محمود حسن دیوبندی ، حسین احمدکانگریسی ، اصغر حسین دیوبندی، مفتی مہدی حسن دیوبندی ، ذوالفقار علی دیوبندی وغیرہ ، ان تمام ناموں سے ثابت ہوا کہ جہلائے دیوبند شیعہ خاندان سے تھے ، جیسا کہ ان کے نام اور نسب ناموں سے ظاہر ہے۔
اعتراض ۲
مولوی احمد رضا صاحب ’’ملفوظات ، حصہ اول ص۱۰۲ میں لکھتے ہیں:
حضرت امام حسن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے درجہ بدرجہ امام حسن عسکری تک یہ سب حضرات مستقل غوث ہوئے‘‘
یعنی حضرت علی، امام حسن، امام حسین، امام زین العابدین، امام باقر ، امام جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم، امام رضا، امام تقی، امام نقی، امام حسن عسکری ۔
اور ’’ بغیر غوث کے زمین وآسمان قائم نہیں رہ سکتے‘‘(ملفوظات: احمد رضا اول، ص۱۰۱)
جواب
قارئین ! پہلی بات تو یہ ہے کہ ان جہلاء کو اتنا بھی علم نہیں کہ ملفوظات ، مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کی تصنیف نہیں ،ملفوظات ، صاحب ملفوظ کی تصنیف نہیں ہوتے، یہ ملفوظات مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ کے جمع کردہ اور مرتبہ ہیں، جاہل نے اپنی جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھاکہ ’’ مولوی احمد رضا صاحب…لکھتے ہیں‘‘
ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئیے۔
دوسری خیانت یہ کی کہ ملفوظات کی مکمل عبارت نہ لکھی بلکہ پورے صفحہ کے درمیان سے ایک سطر لے کر لکھ دی ، اور لکھنے کا بھی فائدہ نہ ہوا کیونکہ اس سے کوئی اعتراض نہیں بنتا ، اگر ان بزرگوں کوغوث کہہ دیا تو کیا اعتراض ہے ، مکمل عبارت میں حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو غوث اکبر وغوث ہر غوث کہا پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو غوث کہا ، پھر سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کو غوث کہا ، اسی طرح درجہ بدرجہ غوث کہتے ہوئے سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ کو آخر میں سیدنا امام مہدی رضی اﷲ عنہ کے متعلق فرمایا کہ انہیں غوثیت کبریٰ عطا ہوگی۔
ہماری سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس عبارت میں کیا شیعت ہے ، اگر انہیں غوث کہنے پر اعتراض ہے تو مولوی محمود حسن نے رشید احمد گنگوہی کو بھی تو غوث اعظم کہا ہے ۔
اگر اس بات پر اعتراض ہے کہ ’’ بغیر غوث کے زمین و آسمان قائم نہیں رہ سکتے ‘‘ توتوحید کے علمبردار مولوی اسماعیل دہلوی کی اس عبارت کے متعلق کیا کہیں گے کہ جو اولیا ء اﷲ کے متعلق لکھتے ہیں!
’’ پس حکیم مطلق ان کو تصرفات کونیہ میں واسطہ بناتا ہے مثلاً نزول بارش و پرورش اشجار ، سر سبزیٔ نباتات وبقائے انواع حیوانات و آبادیٔ قریہ وامصار ، تقلب احوال وادوار وتحویل افعال وادبار سلاطین وانقلاب حالات اغنیاء ومساکین اور ترقی وتنزل صغار وکبار، اجتماع وتفرق جنودوعساکر ورفع بلاء ودفع وباء وغیرہ‘‘ ۔
(منصب امامت، از مولوی اسماعیل دہلوی،مطبوعہ لاہور، ص۱۱۰ )
اگر جہلائے دیوبند کو حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے حضرت حسن عسکری رضی اﷲ عنہ تک کی سند سے دشمنی ہے تو سنئے اس سند مبارک کے متعلق محدثین نے کیا کہا: محدث احمد بن حجر الھیتمی المکی علیہ الرحمہ(متوفی۹۷۴ھ) اپنی شہرہ آفاق کتاب’’ الصوائق المحرقۃفی الرد علی اھل البدع والزند قۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:
حدثنی ابی موسیٰ الکاظم عن ابیہ جعفر الصادق عن ابیہ محمد الباقر عن ابیہ زین العابدین عن ابیہ الحسین عن ابیہ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ عنہم
یہ سند بیا ن کرکے لکھتے ہیں قال احمد : لو قرأت ھذا الاسناد علی مجنون لبریء من جنتہ یعنی امام احمد بن حنبل رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ سند کسی مجنون پر پڑھ دی جائے تو اُس کا پاگل پن دور ہوجاتا ہے ۔
(الصوائق المحرقہ(عربی)، مطبوعہ ترکی، ص۲۰۵)
یہی سند سنن ابن ماجہ کے مقدمہ میں حدیث نمبر ۶۵ کے تحت درج ہے :
حدثنا علی بن موسیٰ الرضا عن ابیہ عن جعفر ابن محمد عن ابیہ عن علی ابن الحسین عن ابیہ عن ابی طالب
ابن ماجہ کے دادا استاد ابو صلت نے کہا : لوقریء ھذا الاسناد علی مجنون لبرأ یعنی اس سند کو اگر مجنون پر پڑھا جائے تو اس کا جنون دور ہوجائے۔ (کتب ستہ (ابن ماجہ)، مطبوعہ دارالسلام، ریاض ، سعودی عرب)
لیکن کیا کیجئے ، جہلائے دیوبند کی بد بختی کا کہ وہ اس بابرکت سند کو دیکھیں تو ان کا پاگل پن اور زیادہ ہوجاتا ہے۔
اعتراض ۳
پھر اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’الامن والعلٰی‘‘ میں مولوی احمد رضا لکھتے ہیں :
جواہر خمسہ کی سیفی میں وہ جواہر دار سیف خونخوار جسے دیکھ کروہابیت بے چاری اپنا جوہر کرنے کو تیار ، وہ ناد علی ناد علیاً مظہر العجائب تجدہ عونالک فی النوائب کل ھم وغم بولایتک یا علی یاعلی یاعلی ، پکار علی مرتضیٰ کو کہ مظہر عجائب ہیں، تو انہیں اپنا مدد گار پائے گا مصیبتوں میں ، سب پریشانی وغم دور ہوتے چلے جاتے ہیں حضور کی ولایت سے یا علی یاعلی یاعلی۔
مولوی احمد رضا اس ناد علی سے وہابیت کا گوبر نکالتے ہیں اور ’’ الامن والعلٰی‘‘ میں حضرت علی کی دہائی دیتے ہیں(یاعلی مشکل کشا مشکل کشا) اور لکھتے ہیں ’’کاروبار عالم مولیٰ علی کے دامن سے وابستہ ہے‘‘ (الامن والعلٰی ص۱۱)
جب کہ مشہور محدث حضرت ملا علی قاری نے ناد علی کو شیعوں کی نہایت بری بات اور من گھڑت بتلایا ہے۔
جواب
جہلائے دیوبند مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اﷲ علیہ پر تو خواہ مخواہ ناراض ہورہے ہیں اور اصل بات کو چھپا رہے ہیں ، ’’الامن والعلٰی‘‘ اُٹھا کر دیکھئے مولانا احمد رضا علیہ الرحمہ تو حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی کتاب’’انتباہ فی سلاسل اولیاء‘‘ کا حوالہ دے کر ان ہی جہلائے دیوبند ووہابیہ سے پوچھ رہے ہیں کہ شاہ ولی اﷲ کی کتاب ’’انتباہ فی سلاسل اولیاء‘‘ سے توثابت ہے کہ اس دعائے سیفی کی سند ان کو ملی ، جس میں یہی ’’ناد علی‘‘ ہے توکیا شاہ ولی اﷲ مشرک بدعتی ہوئے یا نہیںاور کیا شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی جیسے عالم کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ ناد علی شیعوں کی بری بات اور من گھڑت ہے؟ ۔ لیکن خوف آخرت سے بے خوف یہ فراڈئیے آنکھوں میں دھول جھونک کر اسے مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کے ذمے لگا رہے ہیں ۔
رہا یہ اعتراض کہ مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کو مشکل کشا کہا ۔
تو جناب حضرت مولا علی کو مشکل کشا کہنے میں کچھ اور لوگ بھی شامل ہیں ،وہ ہیں حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی اور مولوی حسین احمد کانگریسی ،بلکہ سارے دیوبندی کیونکہ انہوں نے اپنے شجرہ طریقت میںجہاں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا نام آیا ہے وہاں لکھا: ’’ہادیٔ عالم علی مشکل کشا کے واسطے‘‘ (سلاسل طیبہ، از مولوی حسین احمد، مطبوعہ لاہور، ص۱۴۔ ارشاد مرشد، مطبوعہ کانپور، ص۲۳)
دیوبندیوں کے پیرومرشد اور دیوبندیوں کے شیخ الاسلام، اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو بھی مشکل کشا کہہ رہے ہیں ان کے متعلق کیا خیال ہے؟
اعتراض ۴
پھر اعتراض کرتے ہیں کہ مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے لکھاکہ’’کاروبار عالم مولیٰ علی کے دامن سے وابستہ ہے‘‘۔
جواب
مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے تو یہ سرخی جما کر شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی کتاب’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ کی عبارت ثبوت میں پیش کی ہے اور وہابیہ سے سوال کیا ہے کہ ان شرکیات پر شاہ عبدالعزیز دہلوی اجماع امت بتارہے ہیں ، لیکن بددیانت جہلائے دیوبند نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی عبارت کا جواب دینے کی بجائے صرف سرخی نقل کرکے مولانا احمد رضاخاں علیہ الرحمہ کو شیعہ لکھ دیا ، کیا کہنے ہیں دیوبندی جہلاء کی دیانت کے ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی عبارت بھی سُن لیں:
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
حضرت امیر وذریۃ طاہرہ ورا تمام امت بر مثال پیران ومرشدان می پرستند وامور تکوینیہ را بایشان وابستہ می دانند وفاتحہ ودرود وصدقات ونذر ومنت بنام ایشاں رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء اﷲ ہمیں معاملہ است
(تحفہ اثنا عشریہ(فارسی)، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور۱۳۹۵ھ/ ۱۹۷۵ء، ص۲۱۴)
ترجمہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور ان کی اولاد پاک کو تمام افراد امت پیروں اور مرشدوں کی طرح مانتے ہیں، اور امور تکوینیہ کو ان حضرات کے ساتھ وابستہ جانتے ہیں اور فاتحہ ودرود و صدقات اور نذرونیاز ان کے نام کی ہمیشہ کرتے ہیں جیسا کہ تمام اولیاء اﷲ کا یہی طریقہ اور معمول ہے۔
اب بد دیانت جہلائے دیوبند کے مشہور ناشر نور محمد کارخانہ کتب کراچی نے ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ کا جو اُردو ترجمہ شائع کیا ہے ، اُس میں اس عبارت کا ترجمہ ہی غائب کردیا ہے۔
اعتراض ۵
یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ مولوی احمد رضا پنجتن کا وظیفہ پڑھتے ہیں :
لی خمسۃ اطفیٰ بہا حرالوبا الحاطمہ : المصطفیٰ والمرتضیٰ وابنا ھما الفاطمۃ
میرے لئے پانچ ہستیاں ایسی ہیں جن کے وسیلے سے جلانے والی آفتوں کو بجھاتا ہوں ، وہ پانچ یہ ہیں، حضور، حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حسن اور حسین‘‘ ۔
جواب
قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
انما یرید اﷲ لیذ ھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا (سورۃ احزاب، آیت۳۳)
ترجمہ۔ اﷲ یہی ارادہ فرماتا ہے کہ اے رسول کے گھر والو تم سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور فرمادے اور تمہیں اچھی طرح پاک کرکے خوب پاکیزہ کردے(ترجمہ قرآن، البیان از علامہ کاظمی)
علامہ ابی جعفر محمد بن جریر الطبری علیہ الرحمہ(متوفی ۳۱۰ھ) جامع البیان فی تفسیر القرآن، مطبوعہ بیروت (لبنان)۱۳۹۸ھ/ ۱۹۷۸ء ، ج۲۲، ص۵ پر حدیث نقل کرتے ہیں:
محمد بن المثنی قال ثنابکر بن یحییٰ بن زبان العنزی قال ثنا مندل عن الاعمش عن عطیۃ عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اﷲ ﷺ نزلت ھذہ الاٰیۃ فی خمسۃ فیّ وفی علی رضی اﷲ عنہ وحسن رضی اﷲ عنہ وحسین رضی اﷲ عنہ وفاطمہ رضی اﷲ عنہا انما یرید اﷲ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطہرکم تطھیرا
ترجمہ: رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ آیت’’پنجتن‘‘ کی شان میں نازل ہوئی ہے، میری شان میں اور علی رضی اﷲ عنہ کی اور حسن اور حسین رضی اﷲ عنہما اور حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شان میں کہ جزیں نیست اﷲ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اے اہل بیت کہ تم سے ناپاکی دور کردے اور تمہیں پاک کردے خوب پاک کردے۔
پنجتن کے معنی ہیں پانچ افراد، اور ان سے مراد حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ ، حسنین کریمین، سیدہ فاطمہ زہرا، حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں، اور آیت تطہیر ان پانچوں مقدسین کے بارے میں نازل ہوئی ، جس میں ویطہرکم تطہیرا موجود ہے، یعنی اﷲ تعالیٰ تمہیں پاک کردے پاک کرنا، جو اس بات کی روشن دلیل ہے کہ یہ پنجتن واقعی پاک ہیں۔
رسول اﷲ ﷺ نے جب خود اپنی زبان مبارک سے ’’خمسۃ‘‘ کالفظ فرمادیا اور خمسہ سے اپنی مراد کو ظاہر فرمانے کے لئے تفصیل ارشاد فرمادی اور صاف صاف ارشاد فرمادیا کہ آیہ تطہیر کی شان نزول یہ پانچ ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے پاک قرار دیا، تو اب اس کے بعد کے بعد کسی شقی القلب کا یہ کہنا کہ معاذ اﷲ پنجتن کو پاک کہنا جائز نہیں اور پنجتن آیہ تطہیر میں داخل نہیں ، بارگاہ رسالت سے بغاوت اور اور اﷲ کے رسول کی تکذیب نہیں تو اور کیا ہے؟ نعوذباﷲ من ذلک
اس کا مقصد یہ نہیں کہ معاذ اﷲ ان پانچ کے سوا ہم کسی کو پاک نہیں مانتے، ہمارے نزدیک حضور ﷺ کی ازواج مطہرات بھی آیۂ تطہیر میں شامل ہیں، اسی لئے ہم ان کے ساتھ مطہرات کا لفظ لازمی طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان کے علاوہ اﷲ تعالیٰ کے بے شمار مقدس محبوب بندے اور بندیاں یقیناً پاک ہیں اور ہم ان کی پاکی کا اعتقاد رکھتے ہیں، لیکن پنجتن پاک بولنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ حدیث منقولہ بالا میں خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبان مبارک سے خمسۃ کا کلمہ مقدسہ ادا ہوا ، پھر ان کی تفصیل بھی خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی اور ان کی شان میں آیۃ تطہیر کے نزول کا ذکر فرمایا۔
اب کچھ بعید نہیں کہ جہلائے دیوبند پنجتن کا لفظ بولنے اور ان کے افراد کا نام ذکر کرنے پر حضور نبی کریم ﷺ پر بھی شیعہ ہونے کا فتویٰ نہ لگادیں۔ دیوبندی جہلاء بتائیں کہ پنجتن کون ہیں؟ ایک حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں ، تین صحابی ہیں ایک صحابیہ ہیں، اہل سنت ان صحابہ کانام لیں تو شیعہ لیکن دیوبندی رات دن صحابہ صحابہ کا وظیفہ جپیں ، اپنے جلسوں میں صحابہ کے نام کے نعرے لگائیں، صحابہ کے نام کی تنظیمیں بنائیںتو دیوبندی شیعہ نہیںبنتے آخر کیوں؟
اعتراض ۶
’’فاضل بریلوی ، امام رضا کے حوالے سے لکھتے ہیں :
اے اہل بیت میں اپنے اور مشکلات کے حل کے لئے آپ کو خدا کے حضور سفارش بنا کر پیش کرتا ہوں اور آل محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے دشمنوں سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد ۴، ص۲۹۶)
صرف اہل بیت سے سفارش اور اہل بیت کے دشمنوں سے برأت ، یہ کون دشمن ہیں ، یہ کن سے برأت؟ یہ رضا علی قبلہ کے پوتے مولوی احمد رضا صاحب ہی بتلا سکتے ہیں ‘‘۔
جواب
فتاویٰ رضویہ اس وقت راقم کے پیش نظر نہیں واﷲ اعلم یہ عبارت بھی فتاویٰ رضویہ میں کس طرح لکھی ہے اور اس کا سیاق وسباق کیا ہے ، اس میں مولانا احمد رضا خاںعلیہ الرحمہ پر اعتراض والی کون سی بات ہے، اہل بیت کرام کو اپنی مشکلات کے حل کے لئے اﷲ تعالیٰ کے حضور سفارشی بنا نا اور ان کے دشمنوں سے برأت کا اظہار کرنا کون سا گناہ کبیرہ ہے؟ ان کے دشمن کون ہیں ؟ دیوبندی خود غور کرلیں ، جو اہل بیت کرام سے خواہ مخواہ چڑ رکھتا ہے اور ان کے نام کو بھی پسند نہیں کرتا اور ان کے مبارک ناموں کو بھی شیعہ والے نام کہتا ہے وہی تو دشمن اہل بیت ہے ، اور کیا دشمنوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ سورۃ انشقت، پارہ ۳۰ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
بعضے از خواص اولیاء اﷲ را کہ آلہ جارحہ تکمیل وارشاد بنی نوع خود گردانیدہ انددریں حالت ہم تصرف دردنیا دادہ واستغراق آنہا بہ جہت کمال وسعت تدارک آنہا مانع توجہ بایں سمت نمے گردد واویسیاں تحصیل کمالات باطنی از آنہامے نمائندہ وارباب حاجات ومطالب حل مشکلات خود از آنہا مے طلبند ومی پابند وزباں حال دراں وقت ہم مترنم بایں مقالات است ع من آیم بجاں گر تو آئی بہ تن
(تفسیر عزیزی، پارہ عم(فارسی) طبع مجتبائی دہلی ۱۳۴۸ھ، ص۵)
ترجمہ۔بعض خاص اولیاء اﷲ جنہیں اﷲ تعالیٰ نے محض اپنے بندوں کی ہدایت وارشاد کے لئے پیدا کیا، ان کو اس حالت میں بھی اس عالم کے تصرف کا حکم ہوا ہے اور اس طرف متوجہ ہوتے ہیں، ان کا استغراق بوجۂ کمال وسعت تدارک انہیں روکتا ہے اور اویسی سلسلہ کے لوگ باطنی کمالات انہی سے حاصل کرتے ہیں، حاجت مند اور اہل غرض لوگ اپنی مشکلات کا حل انہی سے چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں وہ پاتے ہیں بھی ہیں اور زبان حال سے یہ ترنم سے پڑھتے ہیں’’اگر تم میری طرف بدن سے آئوگے تو میں تمہاری طرف جان سے آئوں گا‘‘۔
جب اہل غرض لوگ اپنی مشکلات کا حل اولیاء اﷲ سے چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں وہ پاتے ہیں تو اہل بیت کرام نے کیا قصور کیا ہے جو ان سے مشکلات کا حل چاہنے والا شیعہ ہوجائے۔
مولوی سرفراز خاں صفدر گکھڑوی دیوبندی(گوجرانوالہ۔ پاکستان) لکھتے ہیں:
’’ بلاشبہ مسلک دیوبند سے وابستہ جملہ حضرات شاہ عبدالعزیز صاحب کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں، بلا شبہ دیوبندی حضرات کے لئے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کا فیصلہ حکم آخر کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔ (اتمام البرہان، حصہ اول، مطبوعہ گوجرانوالہ۱۹۸۱ء، ص۱۳۸)
اعتراض ۷
اگلا اعتراض یہ کیا ہے کہ ’’الامن والعلٰی‘‘ کے صفحہ ۲۴۴ پر مولوی احمد رضا صاحب لکھتے ہیں:
ایک فریادی مصری امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا …عرض کرتا ہے کہ میں عمرو بن العاص کے صاحبزادے کے ساتھ دوڑ کی، میں آگے نکل گیا، صاحبزادے نے مجھے کوڑے مارے اور کہا، میں دومعزز کریم کا بیٹا ہوں ، اس فریاد پر امیر المومنین نے فرمان نافذ فرمایا کہ عمرو بن العاص مع اپنے بیٹے کے حاضر ہوں، حاضر ہوئے، امیر المومنین نے مصری کو حکم دیا، کوڑا لے اور مار دو لئیموں کے بیٹے کو، جب مصری فارغ ہوا امیر المومنین نے فرمایا اب یہ کوڑا عمرو بن العاص کی چندیا پر رکھ … عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کی یا امیر المومنین نہ مجھے خبر ہوئی نہ یہ شخص میرے پاس آیا ‘‘۔
اس جعلی وفرضی داستان سے مولوی احمد رضا نے نہ صرف فاتح مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہ کی شان میں گستاخی کی بلکہ عدل فاروقی کو بھی داغدار کیا ، عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ یا امیر المومنین نہ مجھے خبر ہوئی نہ یہ شخص میرے پاس آیا، صرف ایک شخص کے کہنے پر امیر المومنین نے کوڑے برسوادئیے ۔ یہ داستان قطعاً فرضی ہے بلا شبہ کسی شیعہ کی گھڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے، اس شیعی داستان سے فاضل بریلوی کے حضرت عمر فاروق اور حضرت عمرو بن العاص کے خلاف جذبہ شیعت کا اظہار ہوتا ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ امیر المومنین کوئی انکواری نہ کریں اور صحابی رسول کی چندیا پہ کوڑا رکھ دیں، اﷲ کی پناہ اسے لکھنے کے لئے مولوی احمد رضا خاں کا کلیجہ چاہئیے‘‘۔
جواب
اب ’’امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کی کتاب’’الامن والعلٰی‘‘ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں :
’’ ایک مصری امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، عرض کی یا امیر المومنین عائدٌ بک من الظلم امیر المومنین میں حضور کی پناہ لیتا ہوں ظلم سے، امیر المومنین نے فرمایا عذت معاذاً تونے سچی جائے پناہ لی، ہمارا مطلب تو حدیث کے اتنے ہی لفظوں سے ہوگیا ، پناہ لینے والے نے امیر المومنین کی دوہائی دی اور امیر المومنین نے اپنی بارگاہ کو سچی جائے پناہ فرمایا۔
مگر تتمۂ حدیث بھی ذکر کریں کہ اُس میں امیر المومنین کے کمال عدل کا ذکر ہے، عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مصر پر امیر المومنین کے صوبہ دار تھے ، یہ فریادی مصری عرض کرتا ہے کہ میں نے اُن کے صاحب زادے کے ساتھ دوڑ کی میں آگے نکل گیا صاحبزادے نے مجھے کوڑے مارے اور کہا میں دو معزز کریم والدین کا بیٹا ہوں، اس فریاد پر امیر المومنین نے فرمان نافذ فرمایا کہ عمرابن العاص مع اپنے بیٹے کے حاضر ہوں ، حاضر ہوئے امیر المومنین نے مصری کو حکم دیا کوڑا لے اور مار اُس نے بدلہ لینا شروع کیا اور امیر المومنین فرماتے جاتے ہیں مار دو لئیموں کے بیٹے کو، انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم جب اُس فریادی نے مانا شروع کیا ہے ہمارا جی چاہتا تھا کہ یہ مارے اور اپنا عوض لے، اُس نے یہاں تک مارا کہ ہم تمنا کرنے لگے کاش اب ہاتھ اُٹھالے، جب مصری فارغ ہوا امیر المومنین نے فرمایا اب یہ کوڑا عمرو بن العاص کی چندیا پر رکھ(یعنی وہاں کے حاکم تھے انہوں نے کیوں نہ داد رسی کی بیٹے کا کیوں لحاظ پاس کیا) مصری نے عرض کی یا امیر المومنین ان کے بیٹے ہی نے مجھے مارا تھا اُس سے میں عوض لے چکا ، امیر المومنین نے عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا مذکم تعبد تما الناس وولد تھم امھا تھم احراراً تم لوگوں نے بندگان خدا کو کب سے اپنا غلام بنالیا حالانکہ وہ ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوئے تھے، عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یا امیر المومنین نہ مجھے خبر ہوئی نہ یہ شخص میرے پاس فریادی آیا ابن عبدالحکم عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ‘‘۔
اس پر اعتراض یہ کیا ہے کہ یہ داستان جعلی اور فرضی ہے ، تو جناب یہ حدیث جعلی اور فرضی داستان نہیں بلکہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ اور شیخ علی متقی ہندی رحمۃ اﷲ علیہ نے ’’کنزالعمال ‘‘ جلد ۱۲، ص۶۶۰، حدیث نمبر ۳۶۰۵ کے تحت یہ حدیث درج کی ہے کیا یہ دونوں بزرگ شیعہ تھے؟ اگر یہ یک طرفہ کاروائی ہوتی تو حضرت عمرو بن العاص پہلے بول پڑتے ، یہ تو عدل فاروقی کی زبردست مثال ہے ، حضرت عمر فاروق کا یہ فقرکہ’’ تم لوگوں نے بندگان خدا کو کب سے غلام بنا لیا حالانکہ وہ ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوئے تھے‘‘ سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہے ، اگر امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ شیعہ تھے تو کیا شیعہ عدل فاروقی مانتے ہیں؟ اس حدیث میں یہ فقرہ بھی آیا ہے کہ’’ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مصری کو حکم دیا کوڑا لے اور مار دو لئیموں کے بیٹے کو‘‘’’لئیم‘‘ کا معنی ہے بخیل ، کنجوس( جدید نسیم اللغات ، ص۸۴۵) یعنی جن دونوں نے اولاد کی تربیت میں کنجوسی کا مظاہرہ کیا۔
اعتراض ۸
اس سے اگلا اعتراض یہ کیا کہ ایک شیعہ مصنف لکھتا ہے :
’’ مولوی احمد رضا نے وہ عظیم کا م کیا جو کسی مجتہد سے ممکن نہ تھا، ہندوستان میں جو مجا لس محرم قائم ہیں، اس کے وجود کی بقا کے سلسلے میں مولانا احمد رضا کی بے لوث خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا‘‘ ۔ (المیزان احمد رضا نمبر، ص۵۵۰)
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں اہل سنت میں محرم ، تعزیے، علم ، تاشے ہیں تو صرف احمد رضا کے دم سے، ڈھول ہے تو اعلیٰ حضرت کے دم سے، مزاروں پر عرس ، اس عرس میں طوائفیں، کمپنی تھیٹر، سینما ہے تو ان کے قلم سے‘‘۔
جواب
یہ کھلا بہتان ہے کہ ماتم، علم، تاشے اور تعزیے وغیرہ امام احمد رضا کے دم سے ہیں ، امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے تو ان کے خلاف قلم چلایا اور رسالے لکھے ، آپ کی تصانیف کا مطالعہ کریں ، لوگوں کو جھوٹ بول کر گمراہ نہ کریں، ماتم، تعزیے اور روایات باطلہ وبے سروپا سے مملو اور اکاذیب موضوعہ پر مشتمل شہادت ناموں کے رد میں آپ کا رسالہ’’تعزیہ داری‘‘ کو پڑھ لیں، شیعہ کے رد میں امام احمد رضا کے رسالوں کے سرورق کا عکس آخر میں دے دیا گیا ہے ، کیا ایم رانا اس کا ثبوت دے سکتے ہیں کہ طوائفوں، تھیٹروں اور سینما کے جواز میں امام احمد رضا نے قلم چلایا ہے ، اگر نہیں تو لعنۃ اﷲ علی الکاذبین۔ عرس اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی ایجاد نہیں، عرس کے متعلق حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:
’’ حضرت خواجہ قدس سرہ کے عرس کے زمانے میں دہلی پہنچ کر یہ خیال تھاکہ آپ کی خدمت عالی میں بھی حاضر ہوں‘‘
( مکتوبات امام ربانی ، دفتر اول ، مکتوب ۲۳۳)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!
’’عرس کا دن اگر اس غرض سے مقرر کیا جائے کہ جس بزرگ کا عرس ہو وہ یاد رہیں اور اس وقت ان کے حق میں دعا کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں‘‘۔ (فتاویٰ عزیزی، مطبوعہ ایچ ، ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان چوک ، کراچی ۱۹۷۳ء، ص۱۵۱)
اس مسئلہ میں بھی حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ اہل سنت کی حمایت میں ہیں ،جب کہ وہابی دیوبندی اس مسئلہ میںحضرت شاہ کے سخت مخالف ہیں،بلکہ وہ تو عرس کے ہی مخالف ہیں ،دن مقرر کرنا تو بعد کی بات ہے۔
محرم الحرام میں ذکر حسین کی مجالس قائم کرنے پر اعتراض والی کیا بات ہے ، محرم الحرام میں مجالس قائم کرکے آج بھی اہل سنت دس دن تک بلکہ محرم کا پوارا مہینہ صحیح روایات سے شہادت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور خانوادہ اہل بیت کی شہادت کا ذکر کرتے ہیں ، اہل بیت پر صرف شیعہ کا توحق نہیں اور صرف ان کی ہی اجاراہ داری نہیں ، اصل حق تو اہل سنت کاہی ہے ، اہل بیت کا ذکر خارجیوں اور ناصبیوں کو ہی بُرا لگتا ہے ۔
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!
’’سال میں دو مجلسیں فقیر کے مکان پر منعقد ہوا کرتی ہیں، مجلس ذکر وفات شریف اور مجلس شہادت حسین اور یہ مجلس بروز عاشورہ یا اس سے دو ایک دن قبل ہوتی ہے، چار پانچ سو آدمی بلکہ ہزار آدمی جمعہوتے ہیں اور درود شریف پڑھتے ہیں، اس کے بعد جب فقیر آتا ہے تو لوگ بیٹھتے ہیں اور فضائل حنین رضی اﷲ عنہما کا ذکر جو حدیث شریف میں وارد ہے، بیان کیا جاتا ہیاور پنج آیات پڑھ کر کھانے کی جو چیز موجود رہتی ہے اس پر فاتحہ کیا جاتا ہے اور اس اثنا میں اگر کوئی شخص خوش الحان سلام پڑھتا ہے یا شرعی طور پر مرثیہ پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے تو اکثر حضار مجلس اور اس فقیر کو بھی حالت رقت اور گریہ طاری ہو جاتی ہے، اس قدر عمل میں آتا ہے، اگر یہ سب فقیر کے نزدیک اس طریقہ سے جس کا ذکر کیا گیا ہے ، جائز نہ ہوتا تو ہر گز فقیر ان چیزوں پر اقدام نہ کرتا‘‘۔ (فتاویٰ عزیزی، مطبوعہ ایچ ، ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان چوک ، کراچی ۱۹۷۳ء، ص۱۷۷)
کیا وہابی دیوبندی اسی طرح مجالس منعقد کرتے ہیں؟یا ان میں شامل ہوتے ہیں؟اگر نہیں تو شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟۔
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!
’’ جس کھانے کا ثواب حضرات امامین رضی اﷲ عنہم کو پہنچایا جائے اور اس پر فاتحہ و قل پڑھا جائے وہ کھانا تبرک ہوجاتا ہے، اس کا کھانا بہت خوب ہے‘‘۔ (فتاویٰ عزیزی، مطبوعہ ایچ ، ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان چوک ، کراچی ۱۹۷۳ء، ص۱۶۷)
کیا وہابی دیوبندی ، شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے اس فتویٰ پر عمل کرتے ہیں؟۔
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے درس میں ایک روہیلہ پٹھان آفتاب نامی شریک ہوا کرتا تھا، ایک دن شاہ صاحب نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے فضائل و مناقب بیان فرمائے تو اس کو اس قدر غصہ آیا کہ(خود شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کا بیان ہے) ’’بندہ را شیعہ فہمیدہ، آمدن درس موقوف کرد‘‘۔
ترجمہ۔بندہ کو شیعہ سمجھ کر درس میں شریک ہونا بند کردیا’’۔
(پروفیسر خلیق احمدنظامی ، تاریخ مشائخ چشت: اسلام آباد، دارالمصنفین ، جلد ۵ :ص۷۰ )
جہلائے دیوبند نے پندرھویں صدی کا یہ عظیم ترین جھوٹ بولتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ کیا ساری دنیا اندھی ہوگئی ہے جسے امام احمد رضا بریلوی کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کا موقع نہیں ملے گا، جو شخص فتاویٰ رضویہ اور دیگر بلند پایہ علمی تصانیف کا مطالعہ کرے گا وہ جہلائے دیوبند کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا؟
رد شیعہ کے بارے میں ’’مجموعہ رسائل رد روافض‘‘ از امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ ، مطبوعہ مرکزی مجلس رضا لاہور ۱۴۰۶ھ/ ۱۹۸۶ء مطالعہ فرمائیں۔
شیعہ اکابر دیوبند کی نظر میں
سوال نمبر ۱۔ کیا علمائے دیوبند کے نزدیک شیعہ کافر ہیں یا نہیں؟
جواب(۱)۔ جو شخص صحابہ کرام میں سے کسی کی تکفیر کرے۔ وہ اپنے اس گناہ کبیرہ کے سبب سنت جماعت سے خارج نہ ہوگا۔(فتاویٰ رشدیہ ، ص۲۴۸)
** (۲)۔** جو لوگ شیعہ کو کافر کہتے ہیں…اور جو لوگ فاسق کہتے ہیں ، اُن کے نزدیک اُن کی تجہیز وتکفین حسب قاعدہ ہونا چاہئیے، اور بندہ بھی اُن کی تکفیر نہیں کرتا۔( فتاویٰ رشیدیہ، ص۲۶۴)
** (۳)۔** روافض وخوارج کو بھی اکثر علماء کافر نہیں کہتے حالانکہ وہ شیخین و صحابہ کو اور (خوارج) حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین کو کافر کہتے ہیں۔(فتاویٰ رشیدیہ، ص ۱۶۵، مطبوعہ کتب خانہ مجیدیہ، بیرون بوہڑ گیٹ ملتان)
سوال نمبر۲۔ کیا دیوبندی لڑکی شیعہ مرد کے نکاح میں دینی جائز ہے؟
فتویٰ۔ (۱) سوال ۔کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ سنی المذھب عورت بالغہ کا نکاح زید شیعی مذہب کے ساتھ برضائے شرعی باپ کی تولّیت میں ہوگیا، دریافت طلب یہ امر ہے کہ سنی و شیعہ کا تفرقِ مذہب، نکاح جیسا کہ ہندوستان میں شائع ہے، عند الشرح صحیح ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب۔ نکاح منعقد ہوگیا، ؛ہذا سب اولاد ثابت النسب ہے اور صحبت حلال ہے۔
(اشرف علی تھانوی، امداد الفتاویٰ، جلد ۲، ص۲۸، ۲۹)
(۲)۔ رافضی کے کفر میں اختلاف ہے…جو ان (شیعہ ) کو فاسق کہتے ہیں ان کے نزدیک(رشتہ لینا اور دینا) ہر طرح درست ہے۔(فتاویٰ رشیدیہ، مطبوعہ کراچی، ص۱۷۰)
سوال نمبر ۳: کیا علمائے دیوبند کے نزدیک شیعہ کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام؟
سوال۔ ذبیحہ رافضی کے ہاتھ کا جائز ہے یا نہیں؟
جواب۔ شیعہ کے ذبیحہ میں علماء اہل سنت کا اختلاف ہے، راحج اور صحیح یہ ہے کہ حلال ہے۔(امداد الفتاویٰ، جلد۲، ص۱۲۳)
شیعہ کی نماز جنازہ
’’مشہور شیعہ عالم اور وکیل مظہر علی اظہر انتقال فرماگئے… نماز جنازہ دیال سنگھ گرائونڈ میں ۳؍ نومبر ۱۹۷۴ء بروز اتوار ادا کی گئی، نماز جنازہ صبح دس بجے حضرت مولانا عبیداﷲ انور(دیوبندی) نے پڑھائی‘‘۔
( ہفت روزہ خدام الدین، لاہور، شمارہ ۸؍ نومبر۱۹۷۴ء، ص۳)
’’ شیعہ لیڈر مظفر علی شمسی کی نماز جنازہ کے فرائض ملک مہدی حسن علوی(شیعہ) نے ادا کئے، نماز جنازہ میں مولانا عبدالقادر آزاد، مولانا تاج محمود، مولانا ضیاء القاسمی، ڈاکٹر مناظر، میاں طفيل محمد، چوہدری غلام جیلانی کے علاوہ ہزاروں مداحوں نے شرکت کی‘‘۔ (روز نامہ نوائے وقت لاہور، شمارہ ۲۱؍ جون ۱۹۷۶ء)
علمائے دیوبند اور تعزیہ داری
’’اجمیر میں مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی رحمۃ اﷲ علیہ نے اہل تعزیہ کی نصرت کا فتویٰ دیا تھا ‘‘۔
(الافاضات الیومیہ، مطبوعہ کراچی، جلد ۴، ص۱۳۸، ۱۳۹)
امام احمد رضابریلوی علیہ الرحمہ پر ایک اور الزام:
امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ پر ایک الزام یہ بھی لگایا کہ انہوں نے عشق رسول کا لبادہ اوڑھ کر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی شان میں گستاخانہ اور فحش اشعار کہے۔
جواب
اللھم سبحٰنک ھذا بھتان عظیم، لا تزروازرۃ وزراُخریٰ، دوسرے کی غلطیٔ ترتیب کی ذمہ داری امام احمد رضا علیہ الرحمہ پر زبردستی ڈالتے ہیں جن کی وفات کے بعد یہ شائع ہوا، غلطیٔ ترتیب والے نے بھی اپنی غفلت کی معافی مانگ لی ، صحیح ترتیب بھی بعد میں شائع ہوگئی، لیکن خوف خدا سے عاری یہ جہلاء صرف فتنہ چاہتے ہیں۔
امام احمد رضا بریلوی اور حدائق بخشش حصہ سوم
امام احمد رضا بریلوی کا نعتیہ دیوان’’حدائق بخشش‘‘ دو حصوں پر مشتمل ہے، یہ ۱۳۲۵ھ/ ۱۹۰۷ء میں مرتب اور شائع ہوا، ماہ صفر ۱۳۴۰ھ/ ۱۹۲۱ء کو امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا وصال ہوا، وصال کے دو سال بعد ذوالحجہ ۱۳۴۲ھ/ ۱۹۲۳ء میں مولانا محبوب علی قادری لکھنوی نے آپ کا کلام متفرق مقامات سے حاصل کرکے حدائق بخشش کے نام سے شائع کردیا، انہوں نے مسودہ نابھہ سٹیم پریس، نابھہ( ریاست پٹیالہ)کے سپرد کردیا، پریس والوں نے کتابت کروائی اور کتاب چھپ دی۔
کاتب بد مذہب تھا، اُس نے دانستہ یا نا دانستہ چند ایسے اشعار ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی مدح میں شامل کردئیے جو اُم زرع وغیرہ مشرکہ عورتوں کے بارے میں تھے، ان عورتوں کی ذکر حدیث کی کتابوں مسلم شریف، ترمذی شریف اور نسائی شریف وغیرہ میں موجود ہے۔
اس کتاب کی اشاعت کے بتیس برس بعد۱۳۷۴ھ/ ۱۹۵۵ء میں دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے پورے شدومد سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ مولانا محبوب علی خاں نے حضرت ام المومنین رضی اﷲ عنہا کی بارگاہ میں گستاخی کی ہے، لہذا انہیں بمبئی کی سنی جامع مسجد سے نکال دیا جائے۔
مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضاخاں تحریر فرماتے ہیں :
’’ مجھے جہاں تک معلوم ہوا، غالباً کاظم علی دیوبندی نے نے کانپور میں اپنی تقریر میں اسے ذکر کرکے فتنہ اُٹھانا چاہا، پھر جگہ جگہ وہ اور اس سے سُن کر اور وہابی اسے دہراتا رہا‘‘ ۔
(محمد عزیز الرحمن، فیصلہ مقدسہ شرعیہ قرآنیہ، ص۸۱)
روز نامہ انقلاب بمبئی اس معاملے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا،اور دیوبندی اشتعال اور ہیجان پھیلا رہے تھے۔
اعلان توبہ
بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور حدیث کی دوسری کتابوںمیں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے ایک حدیث مروی ہے کہ گیارہ مشرکہ عورتوں نے باہمی طور پر طے کیا کہ ہر ایک اپنے شوہر کے اوصاف بیان کرے گی اور کچھ چھپائے گی نہیں ، ان میں ایک ام زرع تھی، جس نے اپنے شوہر کی دل کھول کر تعریف کی، پھر ساتھ ہی ابوزرع کی بیٹی کاذکر کرتے ہوئے کہا:
طوع ابیھا وطوع امھا وملٌ کسائھا (مسلم شریف، مطبوعہ نور محمد، کراچی، ج۲، ص۲۸۸)
وہ اپنے ماں باپ کی فرنبردار ہے اور اس کا جسم اس کی چادر کو بھرے ہوئے ہے۔
اس حدیث کے آخر میں ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو فرمایا : کنت لک کا بی زرع لام زرع ، یعنی میں تم پر اس طرح مہربان ہوں جیسے ا بوزرع ام زرع کے لئے تھا ۔
مولانا محبوب علی خاں نے جس بیاض سے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شان میں قصیدہ نقل کیا، اسی بیاض سے سات شعر وہ نقل کئے جو ان گیارہ مشرکہ عورتوں کے بارے میں تھے، ان سات شعروں پر بھی لفظ’’ علیحدہ‘‘ لکھ دیا، لیکن کاتب نے دانستہ یا نادانستہ انہیں ام المومنین کے مدحیہ قصیدہ میں مخلوط کردیا اور کتاب اسی طرح چھپ گئی، مولانا محبوب علی خاں کو اطلاع ہوئی تو ان کا خیال تھا کہ دوسرے ایڈیشن میں تصحیح کردی جائے گی اور قارئین خود محسوس کرلیں گے کہ یہ اشعار غلطی سے اس جگہ درج ہوگئے ہیں، خطیب مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی (مصنف خون کے آنسو) نے بمبئی کے ایک ہفت روزہ اخبار میں مراسلہ شائع کرادیا اور حضرت مولانامحبوب علی خاں کو اس غلطی کی طرف توجہ دلائی۔
مولانا محبوب علیخاں کے دل میں کوئی ایسی بات نہیں تھی، لہذا انہوں نے ماہنامہ ’’سُنی‘‘ لکھنؤ ، شمارہ ذوالحجہ ۱۳۷۴ھ/ ۱۹۵۵ء میں ’’توبہ نامہ‘‘ شائع کرایا، اس توبہ نامہ کا خلاصہ مفتی اعظم دہلی مولانا مفتی محمد مظہر اﷲ دہلوی کے الفاظ میں ملاحظہ ہو:
’’ وہ ماہنامہ پاسبان(الٰہ آباد) کے ایڈیٹر کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ آج ۹؍ ذیقعدہ ۱۳۷۴ھ کو بمبئی کے ہفتہ وار اخبار میں آپ کی تحریر حدائق بخشش حصہ سوم کے متعلق دیکھی، جواباً پہلے فقیر حقیر اپنی غلطی اور تساہل کا اعتراف کرتے ہوئے اﷲ تبارک وتعالیٰ کے حضور میں اس خطا اور غلطی کی معافی چاہتا ہے اور استغفار کرتا ہے، خدا تعالیٰ معافی بخشے۔ آمین‘‘
اس کے بعد اس غلطی کے واقع ہونے کی وجہ بتلائی، جس کا خلاصہ یہ ہے:
قصیدہ مدحیہ سیدتنا حضرت ام المومنین رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اور سات اشعار قصیدہ اُم زرع والے ، مصنفہ حضرت علامہ بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ ، پُرانی قلمی بوسیدہ بیاض سے نہایت احتیاط کے ساتھ نقل کئے، لیکن اُمّ زرع والا قصیدہ چونکہ پورا دستیاب نہ ہوا تھا، ان سات شعروں کے کے تین حصہ کرکے ہر حصہ پر لفظ ’’علیحدہ‘‘ جلی قلم سے لکھ دیا تھا کہ ہر حصہ کا مضمون علیحدہ تھا، جب حدائق بخشش حصہ سوم کی طباعت کا ارادہ کیا تو بعض مجبوریوں کی بنا پر اپنے مقام (پٹیالہ) پر اس کا بندوبست نہ کرسکا ، ناچار نابھہ سٹیم پریس والے سے معاملہ کرنا پڑا(اس مقام پر انہوں نے تفصیل کے ساتھ اپنی مجبوریوں کا بیان کیا ہے)
پریس والے نے یہ شرط کی کہ اس کی کتابت بھی یہیں ہوگی، ناچار یہ شرط بھی منظور کی اور اس کے سپرد کردیا، اتفاق سے کاتب اور مالک پریس دونوں بد مذہب تھے، ان لوگوں سے قصداً یا سہواً یہ تقدیم وتاخیر اور تبدیل وتغیر ظہور میں آئی، بہت روز کے بعد جب میں اس کتاب کی غلطیوں پر واقف ہوا تو خیال ہوا کہ کہ طباعت دوم میں اس کی اصلاع ہوجائے گی ، لیکن حافظ ولی خاں نے بغیر مجھے اطلاع دئیے پھر چھپوا دیا، غرض اس میں جو تساہل مجھ سے ہوا ، اس پر ہی اپنی غفلت اور غلطی پر خدا تعالیٰ کے حضور میں معافی چاہتا ہوں، وہ غفور ورحیم مجھے معاف فرمائے۔(ماہنامہ سُنی، لکھنؤ ، ص۱۷)
(مفتی محمد مظہر اﷲ دہلوی، فتاویٰ مظہری، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی، ج۲، ص ۳۹۳)
پھر یہ اعلان بھی شائع کیا:
ضروری اعلان
حدائق بخشش حصہ سوم ص۳۷ وص ۳۸ میں بے ترتیبی سے اشعار شائع ہوگئے تھے، اس غلطی سے بار بار فقیر اپنی توبہ شائع کرچکا ہے، خدا ورسول جل جلالہٗ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم فقیر کی توبہ قبول فرمائیں ، آمین ثم آمین! اور سنی مسلمان بھائی خدا ورسول کے لئے معاف فرمائیں، جل جلالہٗ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم۔
فقیر نے اس ورق کو صحیح ترتیب سے چھپوا دیا ہے، جن صا حبوں کے پاس حدائق بخشش حصہ سوم ہو، وہ مہربانی فرماکر اس میں سے ص۳۷ وص۳۸ والا ورق نکال کر فقیر کو بھیج دیں اور صحیح چھپا ہوا ورق فقیر سے منگواکر اپنی کتاب میں لگالیں اور جو صاحب کتاب واپس کرنا چاہیں، وہ فقیر کے پاس پہنچا کر فقیر سے قیمت واپس لے لیں۔ والسلام علی اہل الاسلام
فقیر ابوالظفر محب الرضا محمد محبوب علی خاں قادری برکاتی رضوی مجددی لکھنوی غفرلہٗ ، پتا یہ ہے: جامع مسجد مدن پورہ ، بمبئی نمبر۸
(محمد عزیز الرحمن بہائو پوری، فیصلہ مقدسہ شرعیہ قرآنیہ، ص۳۲، ۳۱)
مولانا محبوب علی خاں نے اس غلطی پر کئی بار زبانی اور تحریری طور پر صریح توبہ کی، چنانچہ ۱۰؍جولائی ۱۹۵۵ء کو ان کا توبہ نامہ شائع ہوگیا، پھر رسالہ سُنی لکھنؤ اور روزنامہ انقلاب بمبئی میں بھی چھپا۔
(رضائے مصطفیٰ، بمبئی، شمارہ اگست ۱۹۵۵ء، ص۱۷)
کیا توبہ کا دروازہ بند ہوگیا ہے؟
مولانا محبوب علی خاں کا اعلان توبہ لائق تعریف تھا، باوجودیکہ حضرت ام المومنین کی شان میں نہ تو گستاخانہ اشعار لکھے اور نہ ان کی طرف منسوب کئے، صرف اتنا ہی ہوا نا کہ وہ کتاب کی طباعت پر بوجوہ پوری نگرانی نہ کرسکے اور اشعار غلط ترتیب سے چھپ گئے، پھر بھی انہوں نے اعلانیہ توبہ کی اور اسے متعدد رسائل واخبارات میں چھپوایا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان کے اس ا قدام کی پیروی کی جاتی اور علماء دیوبند حفظ الایمان، تحذیر الناس اور براھین قاطعہ وغیرہ کتاب کی عبارات سے توبہ کا اعلان کرکے مسلمانوں کو افتراق وانتشار سے بچا لیتے، لیکن افسوس کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ خود توبہ کا اعلان نہیں کیا بلکہ مولانا محبوب علی خاں کی صاف اور صریح توبہ کو بھی قبول نہ کیا اور بڑے بڑے اشتہار شائع کئے کہ’’توبہ قبول نہیں‘‘اوریہ اس لئے کیا گیا کہ امت میں انتشار ہو، اگر ان سے کہا جائے کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں؟ تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
ماہنامہ رضائے مصطفیٰ بمبئی نے لکھا:
’’(روز نامہ) انقلاب (بمبئی) کو چاہیے تھا کہ وہ مولانا موصوف کو مبارک باد دیتا کہ واقعی مولانا موصوف نے مثال قائم کردی کہ دیوبندیوں کی طرح اپنی لغزش اڑے نہیں رہے بلکہ اظہار ندامت کرکے اپنی ساری غلطیوں کو توبہ کے پانی سے دھو ڈالا اور شرعی الزام سے قطعی پاک ہو گئے‘‘۔
(ماہنامہ رضائے مصطفیٰ بمبئی، شمارہ اگست ۱۹۵۵ء ، ص۱۷)
فیصلہ مقدسہ شرعیہ قرآنیہ
اگر کسی نے اس واقعہ کی تفصیل دیکھنی ہو تو رسالہ’’ فیصلہ مقدسہ شرعیہ قرآنیہ‘‘ کا مطالعہ کیا جائے، اٹھاون صفحات پر مشتمل یہ رسالہ اسی واقعہ سے متعلق استفتاء اور اس کے جوابات پر مشتمل ہے، ابتداء میں محدث اعظم ہند مولانا سید محمد اشرفی کچھو چھوی کا فتویٰ ہے، اس کے بعد علماء کے تصدیقی دستخط ہیں، اس فتوے میں اس امر کی تحقیق کی گئی ہے کہ مولانا مولانا محبوب علی خاں کی توبہ شرعی طور پر مقبول ہے، لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اسے دل سے قبول کریں۔
ص۸ سے ۱۱ تک مفتی اعظم دہلی مولانا محمد مظہر اﷲ دہلوی کا فتویٰ، ص۱۲ سے ۱۸ تک مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں کا فتویٰ ہے، ص۲۲ سے ۲۶ تک مفتی اعظم دہلی کا دوسرا فتویٰ ہے، ص۳۰ سے ۳۴ تک ملک العلماء مولانا ظفرالدین بہاری کے دو فتوے ہیں، ص۳۹ سے ۴۶ تک مولانا عبدالباقی برہان الحق قادری جبلپوری کا فتویٰ ہے، مفتی اعظم ہند بریلوی سے دوبارہ استفتاء کیا گیا، جس کا جواب ص۴۷ سے ۵۲ تک ہے، فیصلہ مقدسہ میں ایک سو انیس علماء کے فتاویٰ اور تصدیقی دستخط ہیں۔
ص۵۳ سے ۵۶ تک مسلم شریف کی وہ حدیث عربی مع ترجمہ نقل کی گئی ہے جس میں گیارہ کافرہ مشرکہ عورتوں کا ذکر ہے، ص۵۶ سے ۵۸ تک اشعار قصیدہ صحیح ترتیب سے نقل کئے گئے ہیں ۔
یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ حدائق بخشش حصہ سوم، امام احمد رضا بریلوی کے وصال کے بعد مرتب اور شائع ہوا، کیونکہ ان کا وصال ۱۳۴۰ھ/ ۱۹۲۱ء میں ہوا اور حصہ سوم ذوالحجہ ۱۳۴۲ھ/ ۱۹۲۳ء میں مرتب ہوا۔
پھر کتاب کے ٹائٹل پر بھی واضح طور پر لکھا ہوا ہے :
الشاہ عبدالمصطفیٰ محمد احمد رضا خاں صاحب فاضل بریلوی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ، ورحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ
تعصب اور عناد سے ہٹ کر غور کیا جائے توکسی طرح بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کا الزام امام احمد رضا بریلوی پر عائد کرنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ وماعلینا الاالبلاغ المبین