Skip to content

رئیس القلم علّامہ ارشدالقادری رحمۃ اﷲ علیہ

شخصیات

حیاتِ مبارکہ

علامہ غلام رشید ارشدالقادری بن مولانا شاہ عبدالطیف رشیدی علیہم الرحمہ ۵؍ مارچ ۱۹۲۵ء کو سید پور بلیا(یوپی۔ ہندوستان) میں پیدا ہوئے،۱۹۳۰ء؁ میںبسم اﷲ خوانی ہوئی، آپ کے اکابرین خانہ میں درج ذیل شخصیات معروف ہیں، حضرت مولانا عظیم اﷲ (جد امجد)، حضرت مولانا غلام محی الدین(چچا زاد بھائی)، حضرت مولانا محمد یحییٰ (چچا زاد بھائی)، حضرت مولانا شاہ غلام آسی پیا حسنی(برادر اکبر)، حضرت مولانا مفتی ظفر علی نعمانی(برادر نسبتی) ۔

تعلیم

ابتدائی تعلیم گھر پر والد ماجد سے ہی حاصل کی، ۱۹۴۴ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارکپور(یوپی) سے درس نظامی کی تکمیل کی، آپ کے اساتذہ میں حافظ ملت مولانا عبدالعزیز محدّث مبارکپوری ، مولانا محمد سلیمان بھاگلپوری، مولانا عبدالمصطفیٰ ازھری، مولانا ثناء اﷲ مئوی کے نام شامل ہیں۔

بیعت طریقت

بیعت طریقت خلیفہ اعلیٰ حضرت صدر الشریعۃ حضرت مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ(مصنف بہار شریعت) سے کی ، اجازت وخلافت خلیفہ اعلیٰ حضرت قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمد مہاجر مدنی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ا و ر سرکار پٹنہ حضرت سید شاہ فدا حسین رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ سے ملی۔

درس و تدریس

۱۹۴۵ء تا ۲۰۰۱ء جامعہ شمس العلوم ناگپوراور مدرسہ فیض العلوم جمشید پور (بہار) میں درس وتدریس کی، تلامذہ کی تعداد آٹھ ہزار کے قریب ہے، ممتاز شاگردوں میں فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ معروف ہیں۔

قائم کردہ تعلیمی ادارے

آپ نے بیرون ممالک اور اندرون ملک جو تعلیمی ادارے قائم کئیاُن کے نام یہ ہیں۔

جامعہ مدینۃ الاسلام(ہالینڈ)، اسلامک مشنری کالج (انگلینڈ)، دارالعلوم علیمیہ (سرینام، امریکہ)، جامعہ فیض العلوم (جمشید پور۔ ہندستان)، دارالعلوم ضیاء الاسلام(ہوڑہ)، دارالعلوم مخدومیہ (گوہاٹی)، مدرسہ مدینۃ العلوم (بنگلور)، مدرسہ مفتاح العلوم(راواکیلا)، مدرسہ اسلامی مرکز(رانچی)، دارالعلوم گلشن بغداد(ہزاری باغ)، جامعہ غوثیہ رضویہ(سہارن پور)، مدرسہ مدینۃ الرسول( کوڈرما)، مدرسہ مظہر حسنات( رام گڑھ)، دارالعلوم رشیدیہ رضویہ(بلیا)، جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء(دہلی)، فلاحی مرکز(جمشید پور)، مدرسہ تنویرالاسلام(جمشید پور) ، فیض العلوم مڈل اسکول(جمشید پور)، فیض العلوم ہائی اسکول(جمشید پور)، مدرسہ عزیز الاسلام(جمشید پور)، مدرسہ اصلاح المسلمین(جمشید پور)، مدرسہ تعمیر ملت(تلیا کرماٹانڑ)، مدرسہ امداد الحنفیہ(دمکا)، مدرسہ سراج الاسلام(مدھوپور دیوگھر) ۔

قائم کردہ تبلیغی ادارے

آپ نے بیرون ممالک میں درج ذیل تبلیغی ادارے قائم کئے :

ورلڈ اسلامک مشن(انگلینڈ)، تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر تحریک’’دعوت اسلامی‘‘ ، کراچی (پاکستان) ۔

قائم کردہ مذہبی تنظیمیں

ہندوستان میں درجذیل مذہبی تنظیمیں قائم کیں :

ادارۂ شرعیہ (پٹنہ) ، مسلم پرسنل لاء کانفرنس(سیوان)، کل ہند مسلم متحدہ محاذ(رائے پور) ۔

قیام مساجد

قیام مساجد :

فیض العلوم مکہ مسجد(جمشید پور)، نورانی مسجد( جمشید پور)، قادری مسجد(بہار شریف)، مسجد مفتاح العلوم( راورکیلا)، مسجد غوثیہ( رانچی)، مسجد اہل سنت کوڈرما)، مدینہ مسجد( جمشید پور)، مدینہ مسجد ( موسیٰ بنی)

کانفرنسیں (بیرون ممالک)

بیرون ممالک بحیثیت مندوب جن کانفرنسوں میں شرکت کی :

کلچرل کانفرنس( ایران)، اسلامی عالمی کانفرنس( لیبیا)، حجاز کانفرنس( انگلینڈ)،امام احمد رضا کانفرنس(پاکستان)، مولانا عبدالعلیم کانفرنس (ہالینڈ)، عالمی اسلامی کانفرنس (عراق)، عالمی میلاد کانفرنس (پاکستان)۔

کانفرنسیں (ہندوستان)

ہندستان میں بحیثیت مندوب جن کانفرنسوں میں شرکت کی :

سنی جمعیۃ العلماء کانفرنس (کانپور)، کل ہند تعلیمی کانفرنس (مبارک پور، اعظم گڑھ)، عالمی مفتی اعظم کانفرنس (ممبئی)، کل ہند مسلم پرسنل لاء کانفرنس،’’ برائے گرفتاری‘‘ (لکھنؤ)۔

قائم کردہ کانفرنسیں

قیام کانفرنس:

جو کانفرنسیں آپ نے قائم کیں ، بہار سنی صوبائی کانفرنس(سیوان)، کل ہند سنی ٹرسٹ کانفرنس (دہلی)، مسلم پرسنل لاء کانفرنس (سیوان)، کل ہند سنی کانفرنس (نئی دہلی)، کشمیر کانفرنس (جمشید پور)۔

صحافت

صحافت میں بھی مصروفیت رہی اور درج ذیل رسالے جاری فرمائے:

پندرہ روزہ،’’ جام کوثر‘‘ (کلکتہ)، ماہنامہ’’ جام نور‘‘ (کلکتہ) ، پندرہ روزہ’’شام ملت‘‘ (پٹنہ)، ماہنامہ ’’رفاقت‘‘ (پٹنہ)۔

تصنیفات وتا لیفات

زلزلہ۔ زیروزبر۔ جماعت اسلامی۔ تبلیغی جماعت۔ رسالت محمدی کا عقلی ثبوت۔ انوار احمدی ۔ زلف وزنجیر۔ محمد رسول اﷲ قرآن میں۔ دور حاضر کے منکرین رسالت۔ دل کی مراد۔ جلوۂ حق۔شریعت۔ لسان الفردوس۔ مصباح القرآن(تین حصوں میں)۔ نقش کربلا۔ فن تفسیر میں امام احمد رضا کا مقام۔ ایک سفر دہلی سے سہارنپور تک۔ لالہ زار۔ سرکار کا جسم بے سایہ۔ تعزیرات قلم۔ دعوت انصاف۔ تاریخ فقہ حنفی۔ تاریخ فن حدیث۔ حیات خواجہ قطب الدین بختیارکاکی۔ تفسیر سورۃ فاتحہ۔ عقیدۂ علم غیب پر قرآنی دلائل۔ مطالعہ دیوبندیت(زیر ترتیب)۔ عقیدہ توحید پر عقلی دلائل۔

قید و بند

پہلی بار ۱۹۶۴ء ؁ میں ۲ماہ کے لئے ساکچی جیل ، جمشید پور

دوسری بار ۱۹۶۷ء؁ میں ۹ ماہ کے لئے آرہ جیل، آرہ ، بہار

تیسری بار ۱۹۷۹ء؁ میں ۶ ماہ کے لئے ساکچی جیل، جمشید پور

(اسی چھ ماہ کی مدت میں جیل کے اندر حضرت رئیس القلم نے اپنی مشہور کتاب ’’زیروزبر ‘‘ تحریر فرمائی)۔

(ماہنامہ جام نور، دہلی(بھارت)، شمارہ جون، جولائی، اگست ۲۰۰۲ء)

علامہ ارشدالقادری بحیثیت مناظر

رئیس القلم حضرت علامہ ارشدالقادری اپنی حیرت انگیز گوناگوں خوبیوں کے ساتھ عظیم خطیب اور بلند پایہ مناظر بھی تھے، انہیں اہل سنت کے جلیل القدر فاتح مناظر کی حیثیت سے ہندوستان کے گوشے گوشے میں پہچانا جاتا تھا، انہیں اگر اپنے عہد کا ’’مناظر اعظم ہند‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، وہ اگر مناظر کی حیثیت سے کسی شہر میں قدم رکھ دیتے تھے تو بساط دیوبند میں صف ماتم بچھ جاتی تھی ’’پیشاب نکل جانا‘‘ ایک محاورے کے طور پر برتا جاتا ہے، لیکن جھریا کے مناظرے میں یہ دہشت ناک منظر ہزاروں مسلمانوں نے اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا جب علامہ ارشدالقادری کے مقابلے میں اپنی عبرتناک ہزیمت کی تاب نہ لا کر دیوبندی مناظر مولوی طاہر گیاوی کا پائجامہ میں پیشاب نکل گیا تھا، جھریا کے مناظرے کی بحثیں مسلمانوں کو یاد ہوں یا نہ ہوں مگر یہ مضحکہ خیز واقعہ آج تک زبان زد عوام وخواص ہے۔

ایک کامیاب مناظر کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ زبان وبیان پر قدرت رکھتا ہو بلکہ اس کے لئے بنیادی طور پر ضروری ہے، معقولات ومنقولات پر تبحر ہو، اسلامی اور عربی علوم وفنون پرعبور ہو، ذہین اور حاضر دماغ ہو، وسیع المطالعہ اور قوی الحافظہ ہو، تاریخ اور احوال زمانہ سے باخبر ہو، اپنے علماء کی تصانیف پر نظر ہو، اپنے بنیادی عقائد اور ان کے دلائل ازبر ہوں، متحمل المزاج اور بلند حوصلہ ہو، حریف کے عقائد اور ان کے نقائص سے آگاہ ہو، حریف کی شاطرانہ چالوں پر عقابی نظر رکھتا ہو، موضوع مناظرہ کی تمام بحثوں کا استحضار ہو، تحقیقی اور الزامی جواب پر قادر ہو، حملہ اور دفاع کی بروقت صلاحیت رکھتا ہو۔

حضرت علامہ ارشدالقادری کی زندگی میں یہ تمام اوصاف وکمالات فلک کے ستاروں کی طرح جمگمگاتے ہوئے نظر آتے تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے عہد میں کاروان اہلسنت کی انتہائی کامیاب اور پر شوکت وکالت فرمائی اور مناظرے کے ہر محاذ پر اہلسنت کی حقانیت اور فتح یابی کے پرچم لہرائے اور مناظرے کے ہر میدان سے اپنی بلند اقبال پیشانی پر فتح مبین کا سہرا سجا کر واپس لوٹے۔

حضرت علامہ ارشدالقادری فرماتے تھے کہ ’’میںنے حضورحافظ ملت(مولانا عبدالعزیزمبارکپوری علیہ الرحمہ)کی تصنیف’’ العذاب الشد ید‘‘ سے فن مناظرہ سیکھا‘‘ ۔ نیز حافظ ملت کی صحبت وتربیت نے بھی آپ کو اس فن کے رموز واسرار سکھائے، اور اس میدان میں مناظر اعظم حضور مجاہد ملت علامہ شاہ حبیب الرحمن (اُڑیسہ) کی صحبت وتربیت سے بھی بڑا فیض اُٹھایا، علامہ صاحب ان کی بارگاہ میں بہ چشم تشکر عقیدتوں کا خراج پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

’’ اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ میں نے حضرت مجاہد ملت کی خدمت میں گزارا ہے، سفر وحضر میں ان کی ہم رکابی کا بارہا شرف حاصل ہوا ہے۔

خصوصیت کے ساتھ بارہ مناظروں میں ان کے ساتھ میں نے سفر کی سعادت حاصل کی ہے، جس میں آٹھ مقامات پر میں نے حضور مجاہد ملت کی صدارت میں کامیاب مناظرہ کیا، یہ بالکل امر واقعہ ہے کہ مناظرہ کے اصول ورموز، بحث واستدلال کے ضابطے اور گفتگو کے قواعد وآداب کو جو سرمایہ بھی میرے پاس ہے وہ حضور مجاہد ملت ہی کا عطا کردہ ہے‘‘ (پندرہ روز’’نوائے حبیب‘‘مجاہد ملت نمبر، کلکتہ، ۱۹۸۶ء؁ )

اس مختصر تمہید کے بعد چند مناظروں کی سرگزشت درج ذیل ہے :

پہلا مناظرہ

علامہ ارشدالقادری ہمراہ مولوی عبدالطیف نعمانی

بمقام: کٹک (اڑیسہ)

یہ مناظرہ مولوی اشرف علی تھانوی کی کتاب’’حفظ الایمان‘‘ کی کفری عبارتوں پر ہوا، اہل سنت کی طرف سے صدر جلسہ حضور مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن صاحب قبلہ قادری اِلٰہ آبادی علیہ الرحمہ تھے، اور مناظر اہل سنت کی حیثیت سے رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ تھے، جب کہ دیوبندیوں کی طرف سے صدر جلسہ مولوی اسماعیل کٹکی تھے، اور مولوی منظور نعمانی کے استاد مولوی عبدالطیف نعمانی تھے۔

مناظرے کے دوسرے دن بحث کے دوران دیوبندی مناظر کو اقرار کرنا پڑا کہ حفظ الایمان کی عبارت میں لفظ ’’ایسا‘‘ تشبیہ کے لئے ہے اور اس لفظ کے ذریعہ علم پاک رسول صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو رذائل کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو موجب اہانت وکفر ہے، اس اقرار کے نتیجے میں سارے مجمع پر یہ بات واضح ہوگئی کہ مولوی اشرف علی تھانوی اور ان کی حمایت کرنے والے دیوبندی مناظرین اقراری طور پر اہانت رسول کے مرتکب اور خارج از اسلام ہیں۔

یہ اعلان ہونا تھا کہ دیوبندی مناظرین اسٹیج چھوڑ کر بھاگ گئے اور اہل سنت نے فتح مبین زندہ باد کے نعرے لگائے۔

دوسرا مناظرہ

علامہ ارشدالقادری ہمراہ مولوی عبدالسلام لکھنوی

بمقام: بتھوا بازار، چھپرہ(بہار)

یہ مناظرہ قیام وسلام کے موضوع پر تھا، دیوبندیوں کی طرف سے مناظر مولوی عبدالسلام لکھنوی تھے، اور صدر مولوی نور محمد ٹانڈوی بنائے گئے تھے، جب کہ اہل سنت کی طرف سے صدارت کے فرائض سلطان المتکلمین حضرت علامہ مفتی رفاقت حسین صاحب قبلہ کانپوری نے انجام دئیے اور مناظر کی حیثیت سے مناظر اہل سنت رئیس القلم علامہ ارشدالقادری مصباحی علیہ الرحمہ کا انتخاب ہوا۔

یہ مناظرہ ایک ہی دن میں اہل سنت کی فتح پر ختم ہوگیا اس مناظرہ کا پس منظر یہ تھا کہ کئی مہینے پیشتر مولوی عبدالسلام لکھنوی بتھوا بازار آئے تھے اور انہوں نے اپنی تقریر میں قیام وسلام کی مذمت میں چیخ چیخ کر اعلان کیا تھا کہ ناجائز وحرام ہے۔

جب مناظرہ شروع ہوا تو اس موضوع پر آغاز سے پہلے حضرت مناظر اہل سنت نے ان سے سوال کیا کہ قیام وسلام کے بارے میں آپ کا جماعتی عقیدہ کیا ہے؟ آپ اس کو حرام سمجھتے ہیں یا جائز سمجھتے ہیں، سوال کے تیور سے انہوں نے سمجھ لیا کہ اگر میں حرام کہتا ہوں تو یہ بحث مجھے مخمصے میں ڈال دے گی، اس لئے انہوں نے جواب سے جان چھڑانے کے لئے جواب دینے کے بجائے مناظر اہل سنت سے سوال کر ڈالا کہ آپ بتائیے کہ آپ سلام وقیام کو کیا سمجھتے ہیں، تو علامہ ارشدالقادری صاحب نے جواب دیا کہ میرے سوال کے بعد آپ کی حیثیت صرف مجیب کی ہے، آپ جواب دے سکتے ہیں تو جواب دیجئے ورنہ صاف صاف کہہ دیجئے کہ میں جواب نہیں دے سکتا، پھر وہ کھڑے ہوئے اور جواب دینے کے بجائے پھر اسی سوال کو دہراتے رہے۔

جب کئی بار ایسا ہوا تو مجمع میں سے بہت سے لوگ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے چیخ چیخ کر کہنا شروع کیا کہ آج سے تین مہینے پہلے آپ ہی یہاں آئے تھے اور آپ جلسے میں گلا پھاڑ پھاڑ کر چیختے رہے کہ سلام وقیام حرام ہے ، سلام وقیام حرام ہے، لیکن آج جب شیر آیا ہے تو وہی بات اسی کے سامنے کیوں نہیں دہراتے۔

اس کا کھلا ہوا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو مورکھ سمجھ کر آپ نے دھوکہ دیا، جب آپ ہمارے مناظر کے سامنے اپنا عقیدہ نہیں بیان کرسکتے تو پھر آپ بحث کیا کریں گے، اس جلسہ میں سب لوگ اچھی طرح سمجھ گئے کہ جب آپ قیام وسلام کو بار بار مطالبہ کے باوجود حرام نہیں کہہ سکتے تو اسے حرام ثابت کیا کریں گے، عوام کے رد عمل کے نتیجے میں دیوبندی جماعت کی بڑی سبکی ہوئی اور اپنے مناظر کو اسٹیج سے اُٹھا کر لے گئے، کیوں کہ عوام کا شور وشغب اتنا بے قابو ہوگیا کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا، اس کے بعد اہل سنت نے فتح کا جلوس نکالا اور پورا علاقہ تکبیرورسالت کے نعروں سے گونجتا رہا، اس مناظرہ کے بعد اس علاقے کے کئی اضلاع میں دینی بیداری کی لہر دوڑ گئی، جگہ جگہ اجلاس ہوئے اور سنی مدارس قائم ہوئے۔

تیسرا مناظرہ

علامہ ارشدالقادری ہمراہ مولوی ارشاد احمد دیوبندی

بمقام: نیر ضلع امرائوتی(مہاراشٹر)

بمقام نیر ضلع امرائوتی(مہاراشٹر) کا یہ مناظرہ رات کے وقت ایک قلعہ کے اندر ہوا تھا، وہاں کے ڈی، ایس، پی صاحب دونوں طرف سے مناظرہ کے خود کنٹرولر تھے، پولیس کی طرف سے مناظرہ کے لئے صرف تین گھنٹے کا وقت مقرر ہوا تھا، مناظرہ کا موضوع تبلیغی جماعت تھا، دیوبندیوں کی طرف سے مولوی ارشاد احمد صاحب مبلغ دارالعلوم دیوبند مناظر مقرر کئے گئے تھے، جب کہ اہل سنت کے مناظر کی حیثیت سے حضرت علامہ ارشدالقادری صاحب نے محاذ سنبھالا تھا، اپنی افتتاحی تقریر حضرت مناظر اہل سنت نے مولوی منظور نعمانی کی مرتب کردہ کتاب ملفوظات مولوی الیاس کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ تبلیغی جماعت کے قیام کا مقصد قرآن وحدیث کی تعلیمات کو پھیلانا نہیں ہے بلکہ مولوی اشرف علی تھانوی کی تعلیمات کو عوام میں پھیلانا ہے۔

اس لئے اہل سنت کے جو علماء تھانوی صاحب کی تعلیمات کو قرآن وحدیث کے خلاف سمجھتے ہیں انہیں بجا طور پر حق پہنچتا ہے کہ وہ تبلیغی جماعت کا خود بھی بائیکاٹ کریں اور اپنے عوام کو بھی تبلیغی جماعت سے الگ رہنے کی تلقین کریں۔

مولو ی ارشاد صاحب نے اپنی جوابی تقریر میں مناظر اہل سنت کے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا مولانا منظور نعمانی کی مرتب کردہ کتاب مولانا لیاس کی اپنی تصنیف کردہ نہیں ہے، بلکہ ان کے ملفوظات ہیں، اس لئے اس کی عبارت سے ہمارے خلاف کوئی الزام قائم نہیں کیا جاسکتا۔

حضرت مناظر اہل سنت نے ان کے جواب میں کہا کہ آپ کی اس تقریر سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ ملفوظات کے مرتب مولوی منظور نعمانی پر آپ کو اعتماد نہیں اور دوسری بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ آپ کی نظر میں تھانوی صاحب کی تعلیمات اس قابل نہیں ہیں کہ انہیں تبلیغی جماعت کے ذریعہ مسلمانوں میں پھیلایا جاسکے، کیونکہ آپ کی نظر میں ان کی تعلیمات قرآن وحدیث کے موافق ہوتیں اور ان کے ذریعہ اُمت کو کوئی فائدہ پہنچتا تو آپ شرمندہ ہونے کی بجائے سینہ تان کر کہتے کہ تبلیغی جماعت کے قیام کا مقصد اگر ان کی تعلیمات کو عام کرنا ہے تو اس میں کیا برائی ہے۔

اب آپ واضح طور پر اس جلسہ کے حاضرین کو مطمئن کیجئے کہ ملفوظات کے مرتب پر آپ کو اعتماد کیوں نہیں ہے اور تھانوی کی تعلیمات میں برائی کیا ہے کہ آپ ان کی اشاعت کو تبلیغی جماعت کا مقصد بنانے سے گریز کررہے ہیں، واضح رہے کہ ان کی تعلیمات کی برائیاںبیان کرنے سے اگر آپ نے گریز کیا تو میں ضرور ان کی گمراہ کن اور کافرانہ تعلیمات کا سارا دفتر کھول کر رکھ دوں گا، اور آپ شرم سے پانی پانی ہوجائیں گے۔

حضرت علامہ ارشدالقادری کی اس تقریر کے جواب میں ان کے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے انہوں نے تھانوی صاحب کے فضائل ومناقب بیان کرنے شروع کردئیے، جب وہ ا پنی بات ختم کرچکے تو علامہ ارشدالقادری نے کہا کہ جب وہ اتنے فضائل ومناقب کے جامع ہیں تو ان کی تعلیمات کی اشاعت کے سوال پر آپ اتنی خفت کیوں محسوس کررہے ہیں، اتنے بڑے بزرگ کی تعلیمات کو ڈنکے کی چوٹ پر پھیلانے کی ضرورت ہے، اس کے بعد جب حضرت مناظر اہل سنت نے اپنی مختلف نشستوں میں ان کی گمراہ کن اور کافرانہ تعلیمات کے دفتر کھولے اور ان کے ’’رسالہ الامداد‘‘ سے ’’لا الہ الا اﷲ اشرف علی رسول اﷲ‘‘ اور ’’ اللھم صل علی سیدنا ونبینا اشرف علی‘‘ پر ان کے تسلی بخش کلمات تحسین کی تشریح کی تو ی ایس پی صاحب کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کی گفتگو سننے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تبلیغی جماعت سے سنی بریلوی علماء کی علیحدگی مضبوط بنیادوں پر ہے اور انہیں قطعاً حق پہنچتا ہے کہ خود بھی تبلیغی جماعت سے علیحدہ رہیں اور اپنے عوام کو بھی علیحدہ رہنے کی تلقین فرمائیں، اس کے بعد انہوں نے مناظرے کے اختتام کا اعلان کردیا، جناب ڈی ایس پی صاحب نے جاتے جاتے مناظر اہل سنت سے گرم جوشی کے ساتھ کہا کہ آپ نے اپنی جماعت کی وکا لت کا حق ادا کردیا ، مناظرے کے اختتام پر علمائے اہل سنت سے مصافحہ کے لئے عوام ٹوٹ پڑے اور مولوی ارشاد ہارے ہوئے جواری کی طرح اکیلے منہ لٹکائے ہوئے بیٹھے رہے۔

چوتھا مناظرہ

علامہ ارشدالقادری ہمراہ مولوی ارشاداحمد دیوبندی

بمقام: بولیا، مندسور(راجستھان)

یہ مناظرہ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کی کتاب ’’حفظ الایمان‘‘ کی کفری عبارت پر تھا، دیوبندیوں کے صدر جلسہ نور محمد ٹانڈوی تھے اور مناظر کی حیثیت سے مولوی ارشاد احمد دیوبندی نامزد کئے گئے تھے، جب کہ اہل سنت کی طرف سے صدارت کے فرائض مجاہد ملت حضرت علامہ محمد حبیب الرحمن صاحب علیہ الرحمۃ والرضوان نے انجام دئیے اور مناظر کی حیثیت سے حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کا اسم گرامی پیش کیا گیا۔

اس مناظرہ میں وہاں کے ڈسٹرک مجسٹریٹ بذات خود کئی گھنٹے تک موجود رہے ، موصوف یوپی کے رہنے والے تھے اور انہیں اُردو شعروشاعری سے بھی دلچسپی تھی، اس لئے دونوں طرف کی گفتگو وہ نہایت دلچسپی کے ساتھ سنتے رہے۔

حضرت علامہ ارشدالقادری صاحب نے حفظ الایمان کی کفری عبارت پر جو بحث شروع کی تو دیوبندی پسینہ پسینہ ہوگئے، اور مناظر اہل سنت کے عائد کردہ الزامات کا کوئی معقول جواب ان کے پاس نہیں تھا، جب وہ بالکل تنگ آگئے تو انہوں نے کہنا شروع کیا کہ حفظ الایمان کی عبارت بالکل بے غبار ہے، آپ کے اعلیٰ حضرت نے زبردستی اس کے اندر کفر کے معنی پیدا کئے ہیں، اگر وہ عبارت بے غبار نہ ہوتی تو حرمین طیبین کے مفتیان کرام نے اسے صحیح کیوں کہا ہوتا، جب وہ اپنی بات ختم کرچکے تو علامہ صاحب کھڑے ہوئے اور انہیں للکارتے ہوئے ارشاد فرمایا :

’’ آپ نے ’’حفظ الایمان‘‘ کے بارے میں علماء حرمین طیبین کا تذکرہ کرکے مجھے مجبور کردیا کہ میں آپ کی کتاب ’’المھند‘‘ کے حوالہ سے آپ حضرات کی عیاریوں کا پردہ چاک کردوں، سب سے پہلے آپ بتائیے کہ آپ حضرات کی نظر میں اگر حفظ الایمان کی عبارت بے غبار تھی تو آپ کے اکابر نے علمائے حرمین طیبین کے سامنے حفظ الایمان کی اصل عبارت کیوں پیش نہیں کی، اس میں ردوبدل کیوں کردیا، اس وقت میرے ہاتھ میں حفظ الایمان بھی اور المھند بھی ہے، حفظ الایمان کی اصل عبارت یہ ہے ’’ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زیدوعمروبلکہ ہر صبی ومجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لئے بھی حاصل ہے‘‘ (حفظ الایمان)

اور جب حفظ الایمان کی یہ عبارت علماء حرمین طیبین کے سامنے پیش کرنے کی نوبت آئی تو اسے یوں بدل کر پیش کیا گیا ’’ اگر بعض غیب مراد ہے تو رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کی تخصیص نہ رہی کیوں کہ بعض غیب کا علم اگرچہ تھوڑا سا ہو زیدوعمر بلکہ ہربچہ اور دیوانہ بلکہ جملہ حیوانات اور چوپایوں کو بھی حاصل ہے‘‘ (المھند)

یہ سوچ کر ہر غیرت مند مسلمان کی آنکھوں میں خون اُتر آئے گا کہ حفظ الایمان کی اصل عبارت بے غبار تھی تو ہو بہو اسی عبارت کا ترجمہ علماء حرمین کے سامنے کیوں نہیں پیش کیا گیا۔ آخر علمائے دیوبند کو کس جرم کے احساس نے مجبور کیا کہ حفظ الایمان کی عبارت میں ردّوبدل کیا جائے اور تھانوی صاحب کا اصل جملہ(ایسا علم غیب) کاٹ کر یہ جعلی فقرہ بعض غیب کا علم رکھ دیا جائے، جب کہ اس ترمیم کے بعد وہ حفظ الایمان کی اصل عبارت ہی نہیں رہی ، آپ کے اکابر کو بھی یقین تھا کہ ان کے سامنے اگر حفظ الایمان کی اصل عبارت پیش کردی گئی تو ہمارا کفر سب پر عیاں ہو جائے گا۔

اپنی بات پوری کرتے ہوئے حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ نے فرمایا ! میری تقریر کے بعد مناظرے کا وقت ختم ہوجائے گا، اس لئے صبح کو آپ پوری تیاری کے ساتھ آئیے گا اور ہمارے اس الزام کا معقول جواب دیجئے گا کہ آپ کے اکابر نے حفظ الایمان کی عبارت میں یہ عیاری کیوں کی ؟ احساس جرم کا اس سے بھی بڑا کوئی ثبوت آپ چاہتے ہوں تو کل صبح کا انتظار کیجئے، دوسرے دن جب علمائے اہل سنت جلسہ گاہ پہنچے تو دیوبندی اسٹیج خالی تھا، معلوم ہوا کہ مقامی حکومت کے سامنے انہوں نے نقص امن کا اندیشہ ظاہر کرکے فرار کا راستہ اختیار کرلیا، کافی دیر انتظار کے بعد جب علمائے دیوبند نہیں آئے تو جلسۂ مناظرہ جلسہ جشن فتح میں تبدیل ہو گیا اور علمائے اہل سنت کی فتح مبین کا شہرہ ہندوستان بھر میں ہوگیا۔

پانچواں مناظرہ

علامہ ارشدالقادری ہمراہ مولوی طاہر گیاوی

بمقام: جھریا، دھنباد(جھارکھنڈ۔ بہار)

اس مناظرہ کی خصوصیت یہ تھی کہ اس سے قبل جتنے بھی مناظرے ہوئے اس میں موضوع مناظرہ صرف یہ ہوتا تھا کہ دیوبندی مناظر اپنے اکابر کا مسلمان ہونا ثابت کرے گا، لیکن اس مناظرے میں شرائط طے کرتے وقت دیوبندیوں نے اصرار کیا کہ بریلوی مناظر بھی اپنے اکابر کا مسلمان ہونا ثابت کرے گا۔

اس مناظرے میں اہل سنت کی طرف سے جلسۂ مناظرہ کے صدر مجاہد ملت مولانا شاہ حبیب الرحمن صاحب قبلہ تھے اور مناظر کی حیثیت سے حضور مجاہد ملت نے حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کو نامزد فرمایا، اور دیوبندیوں کے اسٹیج کے صدر مولوی ارشاد احمد بنائے گئے تھے، جب کہ مناظر کی حیثیت سے مولوی طاہر گیاوی کا نام پیش کیا گیا تھا۔

مناظرے کی ابتدائی تقریر میں مناظر اہل سنت نے حفظ الایمان کی کفری عبارت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس عبارت میں حضور اکرم ﷺ کے علم شریف کو رذائل کے علم کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، اس میں حضور ﷺ کی صریح توہین ہے اور بہ الزام اہانت رسول تھانوی صاحب کافر ومرتد اور خارج اسلام ہیں، آپ اگرانہیں مسلمان سمجھتے ہیں تو اس عبارت کا کفر اُٹھا کر ان کا مسلمان ہونا ثابت کریں۔

مولوی طاہر گیاوی نے اپنی جوابی تقریر میں کہا کہ اس عبارت پر ہمارے اور آپ حضرات کے درمیان بارہا مناظرے ہوچکے ہیں اور ہمارے علماء دلائل کے ساتھ اس عبارت کا بے غبار ہونا بارہا ثابت کرکے اپنے اکابر کا اسلام واضح کردیا ہے، اس لئے آج آپ کی باری ہے کہ آپ اپنے اکابر کا مسلمان ہونا ثابت کریں، اس کے بعد انہوں نے المفوظ کے حوالے سے کچھ عبارتیں پیش کرکے کہا کہ ان عبارتوں سے کفر ثابت ہوتا ہے، اس لئے آپ صاحب ملفوظ کا مسلمان ہونا ثابت کریں، مناظر اہل سنت نے اپنی جوابی تقریر میں دیوبندی مناظر کو للکارتے ہوئے فرمایا!

سب سے پہلے آپ اپنی حیثیت پہچانیں کہ آپ اپنی جماعت کے نمائندہ اور وکیل ہونے کی حیثیت سے ہمارے مخاطب ہیں ، اپنی ذاتی حیثیت میں آپ ہمارے قطعاً مخاطب نہیں ہیں ، اس لئے آپ سب سے پہلے اپنے اکابر کی طرف سے ہمارے خلاف کفر کا فتویٰ دکھلائیے، اگر آپ کے اکابر نے ہمارے خلاف کفر کا فتویٰ صادر نہیں کیا ہے تو ہم سے یہ مطالبہ کرنا کہ ہم اپنا اسلام ثابت کریں، اسے جہالت وحماقت کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔

اس کے باوجود فتاویٰ دارالعلوم دیوبند اور تھانوی صاحب کی کتابوں میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ ’’ہم بریلی والوں کو مسلمان سمجھتے ہیں ، انہیں کافر نہیں کہتے، ان کے پیچھے ہماری نمازیں ہوجاتی ہیں‘‘ بحث کے دوران دیوبندی لٹریچر سے اس طرح کی ساری عبارتیں پڑھ کر سنائی گئیں۔

اب رہ گیا الملفوظ کی عبارتوں پر آپ کا اعتراض تو اس کا جواب ہماری طرف سے آپ لوگوں کو باربار دیا جاچکا ہے، اس کے باوجود اگر واقعی آپ حضرات کے نزدیک ان عبارتوں میں کفر ہے تو آپ کو ہم سے لڑنے کے بجائے اپنے اکابر سے لڑنا چاہئے کہ اتنے کفریات کے باوجود ہمیں مسلمان کیوں سمجھتے ہیں، ہمارے پیچھے ان کی نمازیں کیوں درست ہیں ؟

بار بار مطالبہ کئے جانے پر دیوبندی مناظر نے ایک کتاب نکالی اور کہا کہ یہ مولانا گنگوہی کی کتاب ہے، اس میں انہوں نے آپ کے اعلیٰ حضرت کے خلاف کفر کا فتویٰ صادر کیا ہے، انہوں نے وہ فتویٰ مجمع کے سامنے پڑھ کر سنایا بھی، جب حوالے کی عبارت دیکھنے کے لئے ان سے کتاب طلب کی گئی تو انہوں نے کتاب دکھلانے سے انکار کردیا ، جو اصول مناظرہ کے با لکل خلاف ہے، ان حالات میں اہل سنت کی طرف سے جلسے کے کنٹرولر جناب واجد حسین صاحب رضوی ان کے اسٹیج پر پہنچ گئے اور کتاب دیوبندی مناظر کے ہاتھ سے چھین کر دیکھا کہ کتاب کے اندر الگ سے ایک سفید کاغذ رکھا ہوا ہے اور دیوبندی مناظر اسی کو پڑھ کر سنا رہا ہے، واجد حسین رضوی صاحب نے دیوبندی مناظر کی عیاری مکاری اور چوری کو دونوں فریق کے عوام کے سامنے بھی پیش کردیا، اس کے ردّ عمل میں ہر طرف سے دیوبندی مناظر پر ایسی تھو تھو ہوئی کہ شرم کے مارے سارے دیوبندیوں کے سر جھک گئے، کچھ جذباتی قسم کے دیوبندی نوجوان مولوی طاہر گیاوی کو مسجد کے اندر لے گئے اور وہاں اسے اتنا ذلیل کیا کہ مارے دہشت کے اس نے پیشاب کردیا۔

اس کے بعد جلسۂ مناظرہ میں ابتری پھیل گئی اور صلوٰۃ وسلام پر جلسے کا اختتام ہوا، اس شرمناک رسوائی سے دیوبندی مولوی اتنے سراسیمہ تھے کہ صلوٰۃ وسلام کے لئے وہ بھی ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے۔

جلسے کے اختتام پر کنٹرولر حضرات کی طرف سے اعلان ہوا کہ مناظرے کی پہلی نشست آج بارہ بجے دن کو ختم کی جاتی ہے، اب دوسری نشست اسی مسجد میں بعد نماز عشاء ہوگی ، جب بعد نماز عشاء علمائے اہل سنت مسجد میں تشریف لائے تو دیوبندی اسٹیج بالکل خالی تھا، جب کئی گھنٹے تک انتظار کے بعد دیوبندی مناظر نہیں آئے تو علمائے اہل سنت تکبیرورسالت اور فتح مبین زندہ باد کے نعروں کی گونج میں ایک بہت بڑے جلوس کے ساتھ ایک میدان میں تشریف لائے اور وہاں ٹھاٹھے مارتے ہوئے مجمع کو مناظرے کی پوری روداد سنائی گئی۔

جشن فتح کے اس جلسے کو اہل سنت کے جن مشاہیر بزرگوں نے خطاب کیا ان میں صدر جلسۂ مناظرہ حضرت مجاہد ملت مولانا شاہ حبیب الرحمن صاحب، علامہ مفتی رفاقت حسین صاحب، جانشین مفتی اعظم ہند حضرت علامہ اختر رضا خاں الازہری، شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی، حضرت خطیب مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی، حضرت علامہ سید مظفر حسین کچھوچھوی ، حضرت مولانا محمد حسین سنبھلی، حضرت مولانا شاہ سراج الہدیٰ گیاوی، حضرت مولانا شاہ عبدالحق چشتی، حضرت مولانا شاہ اسرار الحق صاحب شاہجہانپوری اور حضرت مولانا ثناء المصطفیٰ امجدی کے اسماء گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

چھٹا مناظرہ

علامہ ارشدالقادری ہمراہ مولوی طاہر گیاوی

بمقام: کٹک (اڑیسہ)

اس مناظرہ کی خصوصیت یہ تھی کہ دیوبندیوں کے مناظرتین بار بدلے گئے ، اس کے باوجود ان کی عبرت ناک شکست ہوئی، اس مناظرہ کی مختصر روداد خود مناظر اہل سنت حضرت علامہ ارشدالقادری کے سحر نگار قلم سے پڑھئے، علامہ ارشدالقادری رقمطراز ہیں :

کئی سال ہوئے اڑیسہ کے دارالخلافہ کٹک میں دیوبندیوںکے ساتھ ایک تاریخی مناظرہ ہوا تھا، میرا حافظہ غلطی نہیں کررہا ہے تو یہ واقعہ ۱۳۹۹ھ کا ہے، اس مناظرہ کی خصوصیت یہ تھی کہ مرجع المناظرین، سند المتکلمین ، امام العاشقین حضرت مجاہد ملت علامہ شاہ محمد حبیب الرحمن قادری علیہ الرحمۃ والرضوان سرپرست اور بانی مناظرہ کی حیثیت سے اہل سنت کے اسٹیج پر بہ نفس نفیس تشریف فرما تھے ، اہل سنت کی طرف سے جلسۂ مناظرہ کے صدر شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی (علیہ الرحمہ ) مقرر ہوئے تھے، جبکہ مناظر کی حیثیت سے حضور مجاہد ملت نے مجھ فقیر کا نامزد فرمایا تھا، اور دوسری طرف دیوبندی فرقہ نے اپنے مناظر کی حیثیت سے مولوی ارشاد احمد فیض آبادی مبلغ دارالعلوم دیوبند کو پیش کیا تھا۔

مناظرہ کے دوران دیوبندی مناظر نے اعلیٰ حضرت کے لفظ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ رسول خدا ﷺ کو تو صرف ’’حضرت‘‘ کہا جاتا ہے اور آپ لوگ مولانا احمد رضا خاں صاحب کو’’ اعلیٰ حضرت‘‘ کہتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں نے اپنے پیشوا کو حضور سے بھی بڑھا دیا ہے۔

میں نے ان کے اس مہمل اعتراض کا ایسا دندان شکن جواب دیا کہ پورے دیوبندی اسٹیج پر سناٹا چھاگیا، میں نے کہا کہ تنقیص رسول کے ناپاک جذبے میں آپ حضرات کے قلوب اس درجہ مسخ ہوگئے ہیں کہ اہانت کا کوئی موقعہ بھی آپ لوگ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس بات کا شکوہ تو اپنی جگہ پر ہے کہ جن کی دسوں انگلیاں اہانت رسول کے خون میں ڈوبی ہوئی ہیں ، وہ دوسروں کے سفید وشفاف دامن پر سرخ دھبہ تلاش کررہے ہیں، فی الحال آپ سے شکایت یہ ہے کہ اس واقعہ سے آپ بھی بے خبر نہیں ہیں کہ سلف سے خلف تک امت کے مشاہیر حضرات کو جن القابات سے بھی موسوم کیا گیا ، ان کا تقابل ان کے صرف معاصرین کے ساتھ تھا، کسی نے بھی امام اعظم کے لفظ سے یہ نہیں سمجھا کہ انہیں امام اعظم حضور اکرم ﷺ یا صحابہ کرام کے مقابلے میں بولا جارہا ہے، لیکن آپ حضرات کے دلوں کے نفاق کی کاریگری ہے کہ بجائے کے کہ آپ حضرات سلف کی روایات اور عرف کے مطابق اعلیٰ حضرت کے لفظ کے مفہوم کو ان کے معاصرین تک محدود سمجھتے، زبردستی کھینچ تان کر اس لفظ کے اطلاق کا دائرہ عہد رسالت تک وسیع کردیا تاکہ لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے نہ بھی تنقیص شان کا حامل ہو جب بھی تقابل کی راہ سے تنقیص کے معنی پیدا کردئیے جائیں۔

اس کے بعد میں نے گرجدار آواز میں دیوبندی مناظر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ حضرات کے یہاں القابات کے مفہوم کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ عہد رسالت تک کو حاوی ہے تو آپ بریلی سے دیوبند آئیے اور اپنی شقاوتوں کی یہ بھیانک تصویر دیکھئے کہ خود آپ کے گھر میں تنقیص شا ن رسالت کے کیسے کیسے سازوسامان موجود ہیں۔

دیکھئے ! یہ مرثیہ رشید احمد گنگوہی ہے، جس کے مرتب آپ کے شیخ الہند مولوی محمود الحسن صاحب ہیں، انہوں نے بالکل سرورق پر گنگوہی صاحب کو ان القاب سے ملقب کیا ہے’’ مخدوم الکل، مطاع العالم‘‘، یعنی سب کے مخدوم اور سارے عالم کے مطاع ومقتدا۔

اَب آپ اپنی ہی منطق کی بنیاد پر یہ الزام قبول کیجئے کہ آپ حضرات گنگوہی صاحب کو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سید المرسلین مخدوم العالمین ﷺ تک اور ان کے بعد قیامت تک پیدا ہونے والے سارے بنی نوع انسان کا مخدوم سمجھتے ہیں۔

میں نے کہا کہ مخدوم الکل کا یہ مفہوم آپ کی طرح کھینچ تان کر نہیں پیدا کررہا ہوں، بلکہ موجبہ کلیہ کا سور ہونے کی حیثیت سے لفظ کل کے وضعی اور اصطلاحی معنی ہی یہ ہیں کہ اس کے دائرے سے نسل انسانی کا ایک فرد بھی خارج نہ ہو، خوب غور سے سن لیجئے کہ دائرہ اطلاق کی یہ وسعت خود لفظ کے اندر موجود ہے، باہر سے یہ معنی نہیں پہنائے گئے ہیں ، جب کہ اعلیٰ حضرت کا لفظ اپنے وضعی معنی کے اعتبار سے دائرہ اطلاق کی وسعت کا سرے سے کوئی مفہوم ہی نہیں رکھتا اپنی بدنیتی کے زیر اثر زبردستی آپ لوگوں نے اسے غلط معنی پہنادیا ہے۔

یوں ہی ’’مطاع العالم‘‘ کی ترکیب میں ’’عالم‘‘ کا لفظ بھی اپنی وضع ہی کے اعتبار سے زمان ومکان کی ہمہ گیر وسعت کو چاہتا ہے، جس میں نہ کسی فرد کا استثنا ہے اور نہ کسی وقت کا، جس کا کھلا ہوا مطلب یہ ہے کہ آپ حضرات سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر حضور مطاع العالمین ﷺ تک سب کو معاذ اﷲ گنگوہی صاحب کا محکوم اور اطاعت گزار سمجھتے ہیں۔

یہاں پہنچ کر میں دیوبندی مناظر کو للکارتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ حضرت کے لفظ پر آپ کے اعتراض کے جواب میں یہ ساری بحث میں نے صرف اس لئے اُٹھائی ہے کہ آپ حضرات کو اپنی کج فہمی اور غلط اندیشی کا اندازہ ہو جائے۔

اَب سنبھل جائیے ! کہ آ پ ہی کا اعتراض آپ پر اُلٹ رہا ہوں ، اب اپنی ہی تلوار سے آپ اگر لہو لہان ہوجائیں تو میرے اوپر خون ناحق کا کوئی الزام نہیں ہے، بریلی کے ایک ’’اعلیٰ حضرت‘‘ پر تو آپ لوگوں کے یہاں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے ، لیکن خود دیوبند کے بت خانے میں کتنے’’اعلیٰ حضرت‘‘ آپ لوگوں نے تراش رکھے ہیں، شاید اس کا اندازہ آپ کو نہیں ہے، قوت ضبط باقی ہو تو اپنی پیشانی کا پسینہ پونچھتے ہوئے اپنی اکابر پرستی کی یہ عبرت ناک داستان سنئے۔

یہ دیکھئے میرے ہاتھ میں آپ کے گھر کی مستند کتاب ’’تذکرۃ الرشید‘‘ ہے ، جس کے مصنف آپ کے عظیم پیشوا مولوی عاشق الہٰی میرٹھی ہیں ، اس کی جلد دوم کے صرف چار صفحے میں انہوں نے اپنے خانوادے کے مرشد اعظم حاجی امداد اﷲ صاحب کو اور صفحہ۲۴۱ پر دو جگہ خود گنگوہی صاحب نے اپنے ایک مکتوب میں جو تذکرۃ الرشید جلد اوّل کے صفحہ ۱۲۰ پر چھپا ہے ، اپنے پیرومرشد حاجی صاحب کو دو جگہ اعلیٰ حضرت لکھا ہے، اور جلد اوّل کے صفحہ ۱۳۰، صفحہ ۱۳۲ اور صفحہ ۱۳۶ پر آپ کے حکیم الامت جناب تھانوی صاحب نے خاص اپنے قلم سے حاجی صاحب کو تین جگہ’’ اعلحٰضرت‘‘ تحریر کیا ہے، اب دوسری کتاب ملاحظہ فرمائیے ! ’’تحفۃ القادیان‘‘ ، یہ کتاب بھی دیوبند سے شائع ہوئی ہے، اس کے مصنف ہیں مولوی سیف اﷲ صاحب مبلغ دارالعلوم دیوبند، اس کے صفحہ ۹ پر لکھتے ہیں ! ’’ بحکم سیدی و مولائی قطب ربانی حکیم الامۃ اعلیٰ حضرت قاری طیب صاحب مدیر دارالعلوم دیوبند‘‘ ، میرا وقت ختم ہورہا تھا اس لئے حوالہ کی کتابیں بند کرتے ہوئے میں نے دیوبندی مناظر کو مخاطب کیا، آپ نے اپنے گھر کے’’ اعلیٰ حضرتوں‘‘ کو سن لیا ، اَب زحمت نہ ہو تو ان عبارتوں کے حوالے سے ذرا وہی الفاظ پھر دہرائیے کہ رسول خدا ﷺ کو تو صرف حضرت کہا جاتا ہے اور مولانا عاشق الٰہی میرٹھی،مولاناگنگوہی اور مولانا تھانوی اپنے پیرومرشد کو اعلیٰ حضرت کہتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول خدا ﷺ کو تو صرف حضرت کہا جاتا ہے اور دارالعلوم دیوبند کے لوگ اپنے مہتمم صاحب کو ’’اعلیٰ حضرت‘‘ کہتے ہیں۔ ہم نہ کہتے تھے کہ اے داغ تو زلفوں کو نہ چھیڑ اب وہ برہم ہے، تو ہے تجھ کو قلق یا ہم کو

مناظرانہ ادب میں ایک جد ید اسلوب کے موجد

علامہ ارشدالقادری برصغیر میں مناظرانہ ادب کے وہ نمائندہ قلم کار ہیں جنہوں نے مذہبی تنقید نگاری میں ایک جدید اسلوب کو ایجاد کیا اور پھر ہر طبقہ فکر میں ان کے طرز بیان کی نقل کی گئی، وہ قلمی کارزار میں بھی دشنام طرازوں کے مقابل انتہائی مہذب اور شائستہ نظر آتے ہیں اور ہزار غم وغصے کے ماحول میں بھی جذبات سے مغلوب نہیں ہوتے، وہ اس اکھاڑے کے اتنے فنکار استاذ تھے کہ ان کے حریف ان کے ضرب قلم کی تاب نہ لا کر ماہیٔ بے آب کی طرح تڑپتے رہے، مگر ان کے قلم پر جارحیت کا الزام آج تک عائد نہیں کیا جاسکا، ان کے دعوؤں کے پیچھے عقل ونقل کے اتنے مستحکم دلائل ہوتے تھے کہ اہل باطل کو منہ چڑھانے اور راہ فرار اختیار کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نظر نہیں آتا تھا۔

تاجدارر مارہرہ حضرت سیّد شاہ حیدر حسن میاں برکاتی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں !

’’جام نور‘‘ کے اسلوبِ تحریر اور طرز استدلال کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کفر کو تڑپا تڑپا کر قتل کرتا ہے لیکن قلم کی تلوار پر خون کا ایک دھبہ بھی نظر نہیں آتا‘‘

(مجلہ، اہل سنت کی آواز۱۹۹۵ء، ص۵۷)

حضرت علامہ ارشدالقادری اپنی کتاب’’تعزیرات قلم‘‘ کے پیش لفظ میں رقمطراز ہیں :

’’ تعزیرات قلم کے عنوان سے ایک نئے اسلوب میں مذہبی تنقیدوں کا ہم نے سلسلہ شروع کیا تھا، جس کی شائستگی، زبان کی متانت اور قوت استدلال سے اپنے تو اپنے غیر بھی بہت زیادہ متاثر تھے‘‘۔

حضرت علامہ ارشدالقادری نے اپنے اسی منفرد پیرایہ بیان میں بدمذہبوں کے ردّ میں متعدد کتابیں اور درجنوں مضامین سپرد قلم کئے ہیں، ہر تحریر اپنے موضوع پر اتنی مدلل پرمغز اور دل آویز ہے کہ حق جو اور حق پسند قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا، ان کے سحر طراز قلم کی اثر انگیزی نے ہزاروں فرزندانِ توحید کو عین اس وقت کفر کے گڑھے میں گرنے سے بچالیا جب ان کا ذہنی توازن گمراہیت کی جانب بگڑ چکا تھا، یا بد مذہبیت کے دبائو نے انہیں حق وناحق کے دوراہے پر لا کھڑا کردیا تھا، علامہ صاحب نے دیوبندیت، غیر مقلدیت، مودودیت اور قادیانیت کے ردمیں جو کتابیں لکھی ہیں ، ان میں ہر کتاب اپنے موضوع پر عقل ونقل اور حسن استدلال کا لازوال شاہکار اور فصاحت وبلاغت کا بہتا ہوا آبشار ہے، ان کتابوں میں ’’زلزلہ‘‘ کی حیثیت وہی ہے جو ستاروں میں مہہ کامل کی ہوتی ہے، علامہ صاحب نے اپنی نوک قلم سے ایوان دیوبند میںجو زلزلہ برپا کیا تھا ، صحن دیوبند میں آج تک اس کی گرد اُڑ رہی ہے، دیوبندی مکتبہ فکر کے علماء ومبلغین ’’زلزلہ‘‘ کا نام سن کر بالکل ایسے سہم جاتے ہیں جیسے برسات کی کالی راتوں میں طوفان کی آہٹ پا کر بچے سہم جاتے ہیں، اَب ذرا چند لمحے ٹھہر کر یہ سرگزشت سنئے کہ زلزلہ کی اشاعت پر دیوبندی مکتب فکر کے چوٹی کے علماء اور اہل قلم اور اہل صحافت پر کیا گزری۔

’’بریلوی فتنہ‘‘ کا مصنف اپنی جماعت کے ناخدا مولوی منظور نعمانی کی بارگاہ میں’’زلزلہ‘‘ کے خلاف استغاثہ پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے :

’’حال ہی میں ایک صاحب کے ہاتھ میں’’زلزلہ‘‘ نام کی ایک کتاب پر نظر پڑی، اس کی ورق گردانی کی تو معلوم ہوا کہ بریلوی جماعت کی طرف سے یہ کوئی نئی کتاب لکھی گئی ہے، اور اس کا طرز وہ نہیں ہے جو اب تک کی کتابوں کا رہا ہے، میں نے ان صاحب سے اس کتاب کو ایک دودن کے لئے طلب کیا اور پڑھا‘‘۔

آگے لکھتا ہے :

اس کے مصنف کوئی ارشدالقادری ہیں، اس کتاب کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ اس میں وہ بدزبانی اور بد تمیزی بالکل نہیں ہے جو عام طور پر بریلویوں میں ہوتی ہے، تکفیری جارحیت بھی نہیں، مگر بڑی پر فریب ہے۔

میرا اندازہ ہے کہ جو لوگ ان مباحث سے پوری طرح واقف نہیں ہیں وہ اس کے فریب کو بالکل نہیں سمجھ سکتے، بلکہ میرا خیال ہے کہ ہمارے دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم ندوۃ العلماء جیسے دینی مدارس کے بہت سے فضلا بھی اس کے نفاق اور فریب کو نہیں سمجھ سکیں گے‘‘۔ (بریلوی فتنہ کا نیا روپ، ص۸)

ماہنامہ فاران کراچی کے ایڈیٹر جناب ماہر القادری کے تاثرات یہ ہیں :

’’مولانا ارشدالقادری نے’’زلزلہ‘‘ نام کی کتاب مرتب فرمائی ہے، جس میں تصنیف وتالیف اور استدلال کا بڑا سلیقہ پایا جاتا ہے، زبان اور اظہار بھی ادیبانہ ہے‘‘۔ (ماہنامہ فارن، شمارہ فروری ۱۹۷۷ء، ص۳۲)

ماہنامہ تجلی دیوبند کے ایڈیٹر جناب عامر عثمانی اعترافِ شکست کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ہمیں اس اعتراف میں کوئی تامل نہیں کہ اپنے ہی بزرگوں کے بارے میں ہماری معلومات میں اس کتاب نے اضافہ کیا اور ہم حیرت زدہ رہ گئے کہ دفاع کریں تو کیسے؟ دفاع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کوئی بڑے سے بڑا منطقی اور علامۃ الدہر بھی ان اعتراضات کو دفع نہیں کرسکتا، جو اس کتاب کے مشتملات متعدد بزرگان دیوبند پر عائد کرتے ہیں‘‘۔ (ماہنامہ تجلی ، دیوبند ڈاک نمبر، شمارہ دسمبر ۱۹۷۲ء)

(ماہنامہ اشرفیہ، مبارکپور،ضلع اعظم گڑھ۔ یوپی، بھارت، شمارہ جون، جولائی ۲۰۰۲ء)

تبلیغی جماعت کی تاثیر

اسی طرح آپ کی کتاب’’تبلیغی جماعت‘‘ بھی بہت مؤثر ثابت ہوئی، علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایاکہ برطانیہ کے شہر ڈربی میں ایک صالح پاکستانی نوجوان محمود اختر تھے، وہ بنیادی طور پر خوش عقیدہ تھے، حضور غوث الوریٰ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کے شیدائی تھے، لیکن سادگی اور دین کے شوق کے سبب تبلیغی جماعت کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر تبلیغی جماعت میں چلے گئے اور ان کے ایک متحرک اور فعال کارکن بن گئے، ان کے دل میں عشق رسول ﷺ تھا، جماعت میں گئے لیکن ان کا دل سیاہ نہیں ہوا تھا، اہل سنت کے عالم دین قاری محمد اسماعیل گجراتی ان کے محلے کی مسجد میں امام وخطیب تھے، ایک دن مسجد میں میری کتاب’’تبلیغی جماعت‘‘ قاری صاحب کے ہاتھ میں دیکھ کر ان سے پڑھنے کے لئے مانگی، انہوں نے وعدہ لیا کہ آپ اسے پڑھے بغیر نہیں چھوڑیں گے، مجھے حلف دیں، وعدہ ہوگیا، اب وہ نوجون کتاب لے کر گھر گیا اور پانچوں وقت مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے والا نوجوان تین دن تک مسجد ہی نہ آیا، قاری صاحب کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں کتاب سے بدک کر مسجد ہی چھوڑ گیا ہے اس کا پتہ کرنا چاہئے، سو قاری صاحب ان کے گھر پہنچے معلوم کیا تو پتہ چلاکہ تین دن سے ایک کمرہ بند کرکے اندر ہیں، کبھی کبھی رونے کی آواز آتی ہے، اﷲ توبہ، اﷲ توبہ کرتے ہیں، استغفار کرتے ہیں، کھانے پینے پر بھی کوئی توجہ نہیں، جب قاری صاحب نے انہیں پیغام بھیجا تو اب کیا تھا کہ وہ آئے اور قاری صاحب سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور ساتھ کہتے کہ میں کن لفظوں سے آپ کا شکریہ ادا کروں آپ تو میرے محسن ہیں، آپ نے تو میرا ایمان بچالیا، آپ نے ہمارے ایمان کی حفاظت کرلی اور ساتھ ہی اس فرمائش کی کہ قاری صاحب جیسے بھی ہو اس کتاب کے مصنف (علامہ ارشدالقادری) سے میری ملاقات کرائو، جو خرچ ہو میں ادا کروں گا، کوئی صورت ایسی بنے کہ اس کتاب کے مصنف یہاں ڈربی(برطانیہ) آئیں، پھر ان قاری صاحب نے مجھے برطانیہ بلوایا، اور ان (محمود اخترصاحب) سے میری ملاقاتیں اور تفصیلی نشستیں ہوئیں، میں سمجھتا ہوں کہ ان شاء اﷲ میری نجات کے لئے تو یہی کافی ہے ، جس کی اصلاح ہو جائے اس کے اجر کو کم کئے بغیر اﷲ کی بارگاہ سے اصلاح کرنے والے کو اجر عطا کیا جاتا ہے۔ (ماہنامہ، سوئے حجاز، لاہور، شمارہ فروری ۱۹۹۸ء)

’’بزم دانش ‘‘کے چند نمونے

ماہنامہ جام نور میں ’’بزم دانش‘‘ کے عنوان سے ایک مستقل کالم تھا، اس کے تحت علامہ صاحب ملک کے مختلف گوشوں سے موصول شدہ سوالات کے انتہائی تحقیقی جوابات سپرد قلم فرماتے تھے، ، قریب چالیس سال پرانا یہ دین ودانش کا معلومات افزا سلسلہ ابھی تک کتابی شکل میں شائع نہیں ہوسکا، آپ کے ادیبانہ قلم سے جب دینی اور فقہی بصیرتوں کے آبشار ملتے ہیں تو سماں بندھ جاتا ہے، اپنے مدعا پر عقل ونقل کے قطار در قطار اتنے قوی دلائل پیش فرماتے ہیں کہ زیر بحث مسئلہ شفاف آئینہ کی طرح جگمگانے لگتا ہے اور لب ولہجہ کی حیرت انگیز تفہیم سے متلاشیان حق اپنی جگہ اتنے مستحکم ہوجاتے ہیں کہ ان کے مقابل بڑے سے بڑا معاند بھی کھڑے ہونے کی سکت نہیں رکھتا، اگر ذہن آمادۂ مطالعہ ہوچکا ہو تو ذیل میں اس فکر انگیز تحقیقی سلسلہ کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیے۔

نماز میں رسول اﷲ کا خیال

از جناب عبدالحق صاحب بنگلور

مکرمی جناب ایڈیٹر صاحب جام نور کلکتہ

ہم نے سنا ہے کہ دیوبندی فرقے کے امام جناب مولوی اسماعیل صاحب دہلوی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نماز میں حضور ﷺ کا خیال آنا گدھے اور بیل کے خیال میں ڈوب جانے سے بدرجہا بدتر ہے، اگر یہ صحیح ہے تو دیوبندی حضرات کی نماز کیوں کر ہوتی ہوگی جبکہ التحیات پڑھتے وقت حضور کا خیال لازماً آتا ہے، از راہ کرم جواب عنایت فرمائیے ۔

جواب نامہ

آپ نے غلط نہیں سنا ہے ، صراط مستقیم نامی کتاب میں مولوی اسماعیل دہلوی نے اپنے اس عقیدے کی صراحت کی ہے اور انہوں نے اتنا ہی نہیں لکھا ہے ، یہ بھی تحریر کیا ہے کہ چونکہ حضور کا خیال تعظیم کے ساتھ آئے گا اس لئے نماز کی حالت میں غیر خدا کی تعظیم کا تصور کرتے ہی نمازی مشرک ہو جائے گا، مدت ہوئی وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے، لیکن اَب دیوبندی فرقے کے لوگ نہایت سینہ زوری کے ساتھ اس ناپاک عقیدے کی اشاعت کررہے ہیں۔

یہ سوال تو کسی دیوبندی سے دریافت کیجئے کہ ان کی نماز کیوں کر درست ہوتی ہے، اس لئے کہ نمازی کی حالت میں اگر حضور کا خیال آگیا تو دو حال سے خالی نہیں ہے، یا تو تعظیم کے ساتھ یا توہین کے ساتھ، اگر تعظیم کے ساتھ آیا تو مولوی اسماعیل دہلوی کی صراحت کے مطابق وہ مشرک ہو گیا اور اگر توہین کے ساتھ آیا تو قرآن و حدیث کے اصول کے مطابق رسول کی توہین کھلا ہواکفر ہے۔

غرض کسی حال میں بھی کوئی دیوبندی نمازی سلام پھیرنے تک اپنا ایمان نہیں بچا سکتا، اور اگر اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لئے یہ حل نکالا جائے کہ نماز میں حضور کا خیال ہی نہ آنے دیا جائے تو اوّل تو کسی کے تصور و خیال پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی، دوسرے یہ کہ بزرگان اسلام نے اس امر کی صراحت کی ہے کہ نمازی کو چاہئے کہ نماز میں بالقصد حضور ﷺ کا خیال لائے، جیسا کہ امام غزالی رحمۃ اﷲ علیہ نے نمازی کو مخاطب کرکے تحریر فرمایا ہے :

احضر فی قلبک النبی فقل السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، یعنی التحیات پڑھتے وقت پہلے حضور کا تصور کرو اس کے بعد کہو السلام علیک ایھا النبی۔

اَب اس کے بعد دوسری صورت یہی رہ جاتی ہے کہ نماز میں التحیات ہی پڑھنا چھوڑ دیا جائے، لیکن مشکل یہ ہے کہ التحیات پڑھنا واجب ہے اس کے بغیر نمازہی نہیں ہوسکتی، لہذا ایمان کے ساتھ نماز پوری کرنے کے لئے اَب سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی کاعقیدہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے ا ور کھلے بندوں اس کے اور اس کے حامیوں کے خلاف نفرت و بیزاری کا اظہار کیا جائے۔ (جام نور ، شمارہ فروری ۱۹۶۸ء)

مقام صہبا میں سورج کی واپسی کا واقعہ

از جناب غلام محمد صاحب اشرفی۔ حیدر آباد(دکن)

محترم ایڈیٹر صاحب

از راہ کرم مندرجہ ذیل سوالوں کے شافی جوابات مرحمت فرما کر ممنون فرمائیں :

(۱) وہ واقعہ جس میں حضور اکرم ﷺ کے حکم سے سورج کا پلٹ کر آنا بتلایا جاتا ہے ، کہاں تک صداقت رکھتا ہے، بعض حضرات کا خیال ہے کہ اگر سورج پلٹ کر آبھی گیا تو عصر کا جو وقت فوت ہو چکا تھا وہ واپس نہیں لوٹا بلکہ ایک نئے عصر کا وقت ظہور میں آیا ، اس لئے حضرت علی کا فوت شدہ عصر فوت ہی رہا۔

(۲) اگر کوئی اس حالت میں مر جائے کہ اس پر غسل واجب یا فرض تھا تو غسل میت کے علاوہ دوسرا غسل بھی دیں یا ایک ہی غسل کافی ہے ۔

جواب نامہ

پہلے سوال کا جواب : یہ واقعہ مقام صہبا میں پیش آیا تھا جس کے ثبوت میں متعدد حدیثیں وارد ہیں، جن میں سے چند حدیثیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں :

(۱) عن اسماء بنت عمیس من طریقین انہ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کان یوحیٰ الیہ وراسہ فی حجر علی فلم یصل العصر حتی غربت الشمس فقال رسول اﷲ اصلیت یا علی قال لا فقال اللھم انہ کان فطاعتک وطاعۃ رسولک فاردد علیہ الشمس ، قالت اسماء فرأیتھا غربت ثم رأ یتھا طلعت بعد ما غربت ووقفت علی الجبال والارض وذالک بالصھباء ۔ ( کتاب شرح الشفا،ملا علی قاری، جلد ۱،ص۵۹۰)

ترجمہ ۔ واقعہ کی چشم دید راوی حضرت اسماء بنت عمیس بیان کرتی ہیں کہ ایک دن حضور ﷺ پر نزول وحی کی کیفیت طاری تھی اور آپ عالم استغراق میں حضرت علی کے زانو پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے، اور حضرت علی نے نماز عصر نہیں ادا کی تھی کہ اسی حال میں آفتاب غروب ہو گیا، حضور ﷺ کو جب افاقہ ہوا تو حضرت علی سے دریافت فرمایا کہ تم نے نماز عصر ادا کرلی، انہوں نے جواب دیا نہیں، اس کے بعد حضور ﷺ نے ان لفظوں میں دعا فرمائی۔

اے اﷲ ! حضرت علی تیری اور تیر رسول کی اطاعت میں تھے تو ان پر سورج لوٹا دے، بیان کرتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ سورج ڈوب چکا تھا ، پھر دیکھا کہ اچانک اس کی شعائیں زمین اور پہاڑوں پر پھیل گئیں اور یہ واقعہ مقام صہبا میں پیش آیا تھا۔

یہی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے، ان کی روایت میں کیفیت وحی کی بجائے خواب استراحت کا ذکر ہے، حضرت اسماء سے یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، ان دونوں حدیثوں کے بارے میں امام طحاوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیںوھذا ن حد یثان ثابتان وروائھما ثقات، یہ دونوں حدیثیں صحیح وثابت ہیں اور ان کے راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔

(۲) عن اسماء بنت عمیس ان رسول اﷲ ﷺ صلی الظھر بالصھباء ثم ارسل علیا فی حاجۃ فرجع وقد صلی النبی ﷺ العصر فوضع علیہ الصلاۃ وسلام راسہ فی حجر علی فقال لہ النبی ﷺ صلیت العصر فقال لا یا رسول اﷲ فدعا اﷲ تعالیٰ فرد علیہ الشمس حتی صلی العصر قالت فرأیت الشمس طلعت بعد ماغبت حین ردت حتی صلی العصر، (رواہ الطبرانی فی مجمع الکبیر باسناد حسن، شرح الشفا، ج۱، ص۵۹۲)

ترجمہ۔ واقعہ کی چشم دید راوی حضرت اسماء بنت عمیس بیان کرتی ہیں کہ مقام صہبا میں رسول انور ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر حضرت علی کوکسی ضرورت سے کہیں بھیجا جب پلٹ کر واپس آئے تو حضور عصر کی نماز ادا فرماچکے تھے، یہاں تک کہ اپنا سر مبارک حضرت علی کے زانو پر رکھ کر لیٹ گئے(جب آنکھ کھلی یا حالت استغراق سے افاقہ ہوا) تو حضرت علی سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے نماز عصر ادا کرلی، انہوں نے نفی میں جواب دیا، تب حضور ﷺ نے دعا فرمائی ، یہاں تک کہ سورج واپس لوٹ آیا اور حضرت علی نے نماز عصر ادا کی۔(روایت کی اس حدیث کی امام طبرانی نے اپنے معجم کبیر میں اسناد حسن کے ساتھ)

مذکورہ بالا حدیثوں سے اصل واقعہ ثابت ہوگیا ، اب رہ گئی یہ بات کہ عصر کا جو وقت لوٹ آیا تھا وہ ہی فوت شدہ عصر تھا یا دوسرا عصر ، تو اس کے متعلق ذیل کے چند معروضات ملاحظہ فرمائیں ۔

پہلی بات یہ ہے کہ واقعہ کا ثبوت سلسلۂ روایت کی صحت پر مبنی ہوتا ہے نکتہ بعد الوقوع کی دریافت پر نہیں ، اس لئے بالفرض یہ تفصیل نہ بھی دریافت کی جائے کہ سورج کی واپسی کے بعد فوت شدہ عصر ہی واپس لوٹا تھا یا وہ کوئی دوسرا عصر تھا، جب بھی واقعہ کے واقعہ ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاوقتیکہ سلسلۂ روایت ہی کی صحت سے نہ انکار کردیا جائے اور یہ اپنے اختیا ر کی چیز نہیںہے ، اس کا تعلق نقل سے ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس خیال کو صحیح مان لیا جائے کہ واپس لوٹ آنے والا عصر فوت شدہ عصر نہیں تھا بلکہ کوئی دوسرا عصر تھا تو لازماً وہ سب کے حق میں دوسرا عصر ہوگا، صرف حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تخصیص کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ، واپس لازم لائے گا کہ سب لوگوں پر وہ نیا عصر بھی فرض ہو اور وقتی نماز کی طرح اسے بھی سب ادا کریں۔ حالانکہ روایات میں کہیں اس کا ذکر نہیں ملتا کہ وقتی نماز کی طرح اسے بھی فرداً فرداً جماعت کے ساتھ رسول اﷲ ﷺ اور صحابہ کرام نے ادا کیا ہو، پس ایسی صورت میں کیا یہ کہنے کی جسارت کی جاسکتی ہے کہ اس دن اس نئے عصر کو سب نے دیدۂ ودانستہ فوت کردیا ؟ مجھے یقین ہے کہ کوئی مسلمان یہ کہنے کی جسارت ہر گز نہیں کرے گا۔

تیسری بات یہ ہے کہ فوت شدہ نماز کی قضا کسی بھی وقت غیر مکروہ میں کی جاسکتی ہے ، پس حضرت علی کی فوت شدہ نماز کو ادا کی صورت میں ادا کرانا مقصود نہ ہوتا تواس کے لئے سورج لوٹانے کی مطلق ضرورت نہ تھی ، اس لئے اس عصر کو اگر فوت شدہ عصر نہ مانا جائے تو معاذ اﷲ لازم آئے گا کہ پیغمبر نے سورج کی واپسی کے لئے بلا وجہ دعا فرمائی اور خدا نے بے فائدہ اسے قبول کیا ، حالانکہ خدا اور رسول کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔

بالفاظ دیگر سورج کی واپسی کے بعد بھی اگر حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا فوت شدہ عصر فوت ہی رہا تو نظام شمسی میں ایک محیر العقول تصرف کا واقعہ بظاہر عبث معلوم ہوتا ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ زبان و لغت میں واپسی کسی نئی چیز کے وقوع کو نہیں کہتے بلکہ کسی ایسی چیز کی دوبارہ موجودگی کو کہتے ہیں جو زائل وغائب ہو چکی ہو ، اس لئے ماننا پڑے گا کہ عصرکا جو وقت فوت ہوچکا تھا وہی حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے حق میں سورج کی واپسی کے ساتھ واپس ہوا، کیونکہ وقت کی واپسی اور سورج کی واپسی دونوں آپس میں لازم وملزوم ہیں، اور یہ خدا کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ہے، آخر فنا ہوجانے کے بعد جو مخلوق قیامت کے دن دوبارہ اُٹھائی جائے گی وہ اپنے پیکر ومعنی کے لحاظ سے بعینہ وہی مخلوق تو ہوگی، ورنہ لازم آئے گا کہ جرم کسی نے کیا ، سزا کوئی بھگت رہا ہے، عمل خیر کی مشقت دوسرے نے اُٹھائی، اُجرت و ثواب کا مستحق کوئی اور قرار پایا۔

دوسرے سوال کا جواب : صورت مسئولہ میں میت ہی کا غسل سب کے لئے کافی ہے، الگ سے دوسرے غسل کی قطعاً ضرورت نہیں۔ (درمختار، ج۱، کتاب الجنائز)

(ماہنامہ اشرفیہ، مبارکپور،ضلع اعظم گڑھ۔ یوپی، بھارت، شمارہ جون، جولائی ۲۰۰۲ء)

جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء ، دہلی

ہندوستان کی راجدھانی دہلی جو مشائخ و علمائے اہل سنت کا مرکز تھی ، وقت گزرے کے ساتھ دہلی کی سرزمین اپنے محافظین شریعت وطریقت سے خالی ہوتی رہی، ادھر نجدی افکار کی کوکھ سے جنم لینے والے مختلف گروہ نے سواد اعظم مسلک اہل سنت کے عقائد ونظریات سے ہٹ کر مختلف ناموں سے دہلی اور اس کے اطراف پر قبضہ کرنا شروع کردیا، دہلی سے چند گھنٹوں کے فاصلے پر سہارن پور اور دیوبندمیں اپنے تبلیغی، تعلیمی اور فکری مراکزکی بنیاد رکھی اور قلب دہلی میں اہل سنت کے مرکز عقیدت حضرت محبوب الٰہی کے آستانے کے پہلو میں بنگلہ والی مسجد سے’’تبلیغی جماعت‘‘ کی تشکیل دی گئی تاکہ نماز اور کلمہ کی آڑ میں گھوم گھوم کر دہلی اور برصغیر کے مسلمانوں کے پارینہ عقائد کی بنیادوں کو کمزور کردیا جائے، نہایت منظم طریقوں سے ان کے کئی گروپ مختلف محاذوں پر کام کررہے تھے، ان کی ایک جماعت اگر تصانیف کے ذریعہ خواندہ طبقے کے سامنے اسلام کے پارینہ عقائد وروایات کو مشکوک بنارہی تھی تو دوسری طرف نام نہاد’’اﷲ والی جماعت‘‘حشرات الارض کی طرح زمین پر پھیل کر عام افراد کے اذہان کو پراگندہ کررہی تھی، اور پھر ندوہ کے قیام کے بعد ان حضرات نے اسلامی عقائد وتعلیمات کو مغرب زدہ لبرل مسلمانوںکے فکری دھارے کے رخ پرپیش کرکے اہل سنت کی بساط کے سارے مہروں کو پیٹ کر رکھ دیا، جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ اُدھر ہندوستان انگریزی سامراج کے آہنی پنجوں سے آزادی حاصل کررہا تھا اور اِدھر دہلی ان کے خود ساختہ عقائد وافکار کی غلام بن چکی تھی ، جن خانقاہوں کے بوم ودر شب کے اندھیروں میں بھی منور رہا کرتے تھے اور جہاں سے سلوک ومعرفت کی دشوار کن راہیں طے کرائی جاتی تھیں ، آج وہ مجلس شعر میں مفلس کے چراغ کی طرح شام ہی سے بجھے بجھے سے دکھائی دیتے ہیں ، جو روحانی مراکز ان کی زد سے بچ گئے اور آج بھی مراجع خلائق بنے ہوئے ہیں، وہاں ان کی اولادیں شکم پروری کے لئے اپنے آباء واجداد کی چوکھٹوں سے وابستہ تو ہیں مگر ان کے افکار وخیالات اور کردار واعمال میں سنیت کی موہوم سی جھلک دکھائی دیتی ہے، شریعت کے فلک پیما ایوان ویران ہوگئے اور جو بچ گئے وہ چند بوسیدہ کمروں میں سمٹ کر نجدیت کی سرائے یا تبلیغی جماعت کی شب گزاری کے اڈے بن گئے ، مساجد سے اہل سنت کے ائمہ کیا رخصت ہوئے، عشق رسالت اور آداب انبیاء واولیاء کے جنازے اُٹھ گئے، دہلی اور اس کے اطراف میں قائم ہونے والی بین الاقوامی درسگاہیںتبلیغی جماعت کی سرگرمیوں کے مراکز بن گئے اور گھروں میں قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ پردہ نشین عورتیں’’بہشتی زیور‘‘ کی تلاوت کی خوگر ہوگئیں ، وقت اپنے پر لگا کر اُڑتا رہا، اہل سنت کا کاروان اسلاف بھی رفتہ رفتہ نگاہوں سے اوجھل ہوتا رہا ۔

آخر کار اہل سنت کے لئے اپنے سینے میں سیماب صفت دل رکھنے والے وارفتہ جگر مجاہد قائد اہل سنت رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمۃ والرضوان بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں علم وفن، سیاست وقیادت اوشریعت وروحانیت کی دارالسلطنت دہلی کی طرف متوجہ ہوئے اور جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء جیسے عظیم الشان اور اپنی نوعیت کے منفرد ادارہ کے لئے ایک آفاقی منصوبہ تیار کیا جو فارغین علماء کو بین الاقوامی زبانوں میں تعلیم اور عصری تقاضوں کے پیش نظر دعوتی تربیت دے سکے ، دہلی میں حضرت علامہ نے اہل سنت کی سرگرمیوںکی نشأۃ ثانیہ کے لئے جن صبرآزما مشکلات ومصائب کو گلے لگایا اور بے یارومددگار ایک بنجر زمین کو لالہ زار بنانے کی جس طرح اس اجنبی شہر میں آبلہ پائی کی وہ تاریخ کا ایک حصہ بن گیا۔

جس زمانے میں آپ کی قیادت وعلمیت کی شہرت ہندوستان سے نکل کر پاکستان، یورپ، امریکہ اور افریقہ کے مختلف خطوں میں گونج رہی تھی، آپ بستی حضرت نظام الدین میں ایک چھوٹی سی مسجد کے بوسیدہ کمرے میں ٹوٹی ہوئی چٹائی پر بیٹھ کر دہلی میں اپنی عمت رفتہ کی بحالی کے لئے منصوبے تیار کررہے تھے، دہلی کی سڑکوں کی خاک چھان رہے تھے اور حضرت محبوب الٰہی کے آستانے پر اپنے مشن کی تکمیل کے لئے آہ وزاریاں کررہے تھے، لوگوں نے اپنی چشم حیرت سے یہ بھی دیکھا کہ اپنے وقت کا ایک عظیم مناظر ، بے بدل قائد اور صاحب طرز مصنف بوسیدہ سی چٹائی پر بیٹھ کر اپنے ہاتھوں سے روٹیاں بنا رہا ہے اور صبح کی پکائی ہوئی روٹیاں رات کو کھا رہا ہے، زندگی کے اس نشیب وفراز اور جہد مسلسل کے بیچ وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے ۱۹۸۰ء کے دہے میں بستی نظام الدین کے قریب لودھی روڈ پر زمین کا ایک وسیع ٹکڑا جامعہ حضرت نظام الدین کے لئے الاٹ کردیا، مگر قسمت ابھی اتنی مہرباں نہ تھی، آخر ۱۹۸۴ء میں اندرا گاندھی کا قتل ہوا اور حجرت علامہ کی اُمیدوں کا شیرازہ بھی بکھر کر رہ گیا،اندرا کے قتل کے نتیجہ میں دہلی اور اس کے اطراف میں ہندو اور سکھ فساد بھڑک اُٹھا جس سے جہاں ہزاروں بے گناہ جانیں تڑپتی ہوئی لاشوں میں تبدیل ہوگئیں وہیں حضرت علامہ کے سجائے ہوئے حسین خواب بھی حقیقت سے محروم ہوگئے، اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس کی وزیر محسنہ قدوائی جو اسی وزارت سے تعلق رکھتی تھیں، حضرت علامہ کو کسی دوسری جگہ زمین الاٹ کرنے کے بہانے ان سے اصل زمین کے کاغذات واپس لے لئے اور اس کے بعد دوسری زمین کے الاٹ منٹ کا وعدہ کبھی پورا نہ کیاگیا، برسوں حضرت علامہ کی کوششیں سیاست کے گلیاروں کا طواف کرتے کرتے دم توڑدیں، ویسے بھی سیاست میں اقتدار کی دہلیز تک رسائی کے لئے کئے ہوئے وعدے کب پورے ہوتے ہیں؟ ۔

آنجہانی راجیو گاندھی نے جب وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالی تو حضرت علامہ نے انہیں ان کی حکومت کا وعدہ یاد دلایا مگر ان وعدوں کی تفتیش ہوتے ہوتے کئی برس گزرگئے اور جب آرزئوں کی تکمیل کا وقت آیا تو راجیو گاندھی زندگی سے رشتہ توڑ گئے اور ایک بار پھر حضرت علامہ کے منصوبے زمین پر اُترنے سے محروم رہ گئے، آخر اپنی بکھری ہوئی ہمتوں کو جوڑ کر ایک بار پھر انہوں نے اپنے تئیں زمین کے حصول کے لئے ملک وبیرون ملک کے غیور سنیوں کو آواز دی، جس کے نتیجے میں ذاکر نگر اوکھلا میں جامعہ حضرت نظام الدین کے لئے زمین کا ایک بڑا حصہ خرید لیا گیا اور سنیت کے مرکز کی خشت اوّل رکھی گئی۔

ادھر جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء کے پلیٹ فارم سے حضرت علامہ نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور دوسری طرف اپنے صاحبزادے محترم غلام ربانی صاحب کو دہلی میں سنیوں کا ایک اشاعتی ادارہ بنام’’مکتبہ جام نور‘‘ قائم کرنے کا حکم فرمایا، یہ وہ دور تھا جب اہل سنت کا کوئی بھی ادارہ دہلی میں نہیں تھا اور گمراہ کن نظریات پر مبنی کتابیں دہلی کی دکانوں اور مکانوں کی زینت بنی ہوئی تھیں، آپ نے اپنے صاحبزادے کو ایک اشاعتی ادارہ قائم کرنے کا حکم فرما تو دیا مگر آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ بدعقیدگی کی زد پر دینی شوکتوں کے لئے سنیت کا چراغ جلانا کتنا مشکل ہوتا ہے، مگر اسلام وسنیت کی سرفرازی کے لئے انہیں اپنی ہی نہیں اپنے خانوادے کے ہر فرد کی قربانی عزیز تھی، دہلی میں جب مکتبہ جام نور قائم ہوا اور دھیرے دھیرے جب اس کی کتابوں اور اشاعت کی خبر مسلکی تعصب میں گرفتار دہلی کے دیگر اشاعتی اداروں کو ہونے لگی تو ایک طوفان بدتمیزی سنیت کے اس اشاعت خانے کا طواف کررہا تھا، سنیت کی کتابوں کی اشاعت پر ان اداروں نے اسے کفروشرک کی ترویج کے مساوی گردانا، بعض نے دکان کی دہلیز پر چڑھ کر گالیوں سے نوازا تو چند ایک اجتماعی بائیکاٹ کرنے کا منصوبہ بنایا، ان تمام مصائب سے گزرتے ہوئے مکتبہ جام نورنے جن چند کتابوں سے اپنی مہم کا آغاز کیا تھا، اس کا گراف بڑھتے بڑھتے اہل سنت کی تقریباً تین سو کتابوں کی اشاعت تک پہنچ گیا اور ہزار بندشوں کے باوجود یہ لوگ اہل سنت کی اشاعت پر بند نہ باندھ سکے، اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ اہل سنت کا واحد ادارہ جو تنہا بدمذہبیت سے برسرپیکار تھا، تنہا نہیں رہا، اس کی اس مسلکی جنگ میں روح پھونکنے کے لئے ہندوستان کے مختلف حصوں سے اہل سنت کے اشاعتی ادارے دہلی میں قائم ہونے لگے، رضوی کتاب گھر، فاروقیہ بک ڈپو، مکتبہ نعیمیہ، کتب خانہ امجدیہ، رضا بک ڈپو ، مکتبۃ المدینہ، اسلامک پبلشر اور قادری کتاب گھر اسی سلسلے کی کڑی ہیں، آج سنی عقائد پر مشتمل اُردو، ہندی اور انگریزی میں ہزاروں کتابیں ان اشاعتی اداروںسے طبع ہوکر نہ صرف دہلی بلکہ ملک وبیرون ملک کے ایک بڑے حصے میں پہنچ کر اسلام وسنیت کو جلا بخش رہی ہیں، دہلی کی مذہبی اُردو مارکیٹ میں داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اہل سنت کی ایک اشاعتی بزم سجی ہوئی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کل تک جو لوگ ان کتابوں کی اشاعت کو کفروشرک کی ترویج سمجھتے تھے اور اس کے مطالعے کو صنم کدے کی کنجی ، آج وہ تمام ادارے انہی کتابوں کو خود شائع کررہے ہیں ، یہاں تک جو کتابیں سنی اشاعتی اداروں کی ذاتی ملکیت ہیں ، انہیں بھی چوری چھپے یہ ادارے شائع کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔

انہی کو تھی مے سے نفرت، یہی تھے زاہد،یہی تھے حضرت

ذرا ان سے کوئی پوچھے، اب ان کے ہاتھوں میں جام کیوں ہے؟

عقائد کی بنیاد جب حالات پر رکھی ہو تو انہیں زمین بوس ہونے میں ایک لغزش ہی کافی ہے۔

۱۹۸۴ء میں حضرت علامہ ارشدالقادری کے ہی ایماء پر قاری محمد میاں مظہری دہلوی نے سنیت کا ترجمان ماہنامہ’’قاری‘‘ نکالنا شروع کیا اور سنی نظریات پر مشتمل مذہبی صحافت میں ایک اہم رول ادا کیا، ۱۹۸۸ء سے مولانا یٰسین اختر مصباحی نے ماہنامہ’’حجاز‘‘ جاری کیا اور ساتھ ہی ایک عظیم تصنیفی وتالیفی ادارہ القلم کی بنیاد رکھی، ماہنامہ نے جہاں اہل سنت کے فروغ میںایک موثر کردار نبھایا وہیں درالقلم کے قیام نے حضرت علامہ کی سرگرمیوں کو یقیناً رفاقت اور توانائی بخشی، اور ۱۹۹۸ء سے مولانا یٰسین اختر مصباحی کی ہی ادارت میں رضوی کتاب گھر کے زیر اہتمام ماہنامہ’’کنزالایمان‘‘ نہایت پابندی کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔

اِدھر ۱۹۹۴ء میں جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء کے باقاعدہ قیام کے بعد حضرت علامہ کی قیادت میں اہل سنت کی علمی وتبلیغی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں اور جماعت کی علمی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا، ہمارے جو طلبہ صرف مدارس کی چہار دیواری کو ہی علمی دانش گاہوں کا منتہائے کمال سمجھتے تھے اور درس نظامیہ کو علم وفن کا نقطۂ عروج ، انہیں جامعہ نے علم وفن، زبان وادب اور دعوت وفکر کی ایک نئی دنیا سے متعارف کرایا، نتیجے طور پرانگریزی وعربی زبان کی تعلیم وتعلم کا ایک نیا مزاج پیدا ہوا، مدارس کے بوسیدہ ٹاٹ پر بیٹھنے والوں کو میزوکرسی پر تعلیم حاصل کرنے کا سلیقہ آیا، ایک کمرے میں چند الماریوں پر مشتمل بے ترتیب کتابوں کو علم وفن کا سرمایہ سمجھنے والوں کو یونیورسٹیوںمیں لاکھوں کتابوں پر مشتمل ایک عظیم علمی ذخیرے کو دیکھ کر لائبریری کے وسیع مفہوم سے آشنائی ہوئی اور یونیورسٹیوں میں سنیت مزاج فرد کا وجود چراغ لے کر تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتا تھا، آج جامعہ کے قیام کے بعد دہلی کی کئی سینٹرل یونیورسٹیز میں ہمارے درجنوں طلبہ کی بہاریں نظر آتی ہیں، اور سب سے اہم یہ کہ جو وسیع الخیال طلبہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بین الاقوامی جامعات میں جانے کی آرزو لئے مچل رہے تھے، ان کے لئے جماعت اہل سنت کی تاریخ میں پہلی بار عالم اسلام کی عظیم یونیورسٹی جامعۃ الازہر کے راستے کھول کر جامعہ نے جو عظیم کارنامہ انجام دیا ہے ، آج زوال پذیری میں بھی اس کے وجود کی اہمیت باقی رہ جاتی ہے۔

۱۹۹۵ء میں حضرت علامہ کی قیادت میں جامعہ نظام الدین اولیاء کے زیر اہتمام دہلی کے رام لیلا میدان میں لاکھوں افراد پر مشتمل ایک عظیم الشان’’سنی کانفرنس‘‘ کے انعقاد نے دہلی میں اہل سنت کی سرگرمیوں کا نقارہ بجادیا، اس کانفرنس کے بعد ایوان سیاست سے دہلی کی عام شاہراہوں اور گلی کوچوں تک میں سنیت کی دھمک محسوس کی جانے لگی، اس کانفرنس کے دوران حضرت علامہ نے دہلی اور اس کے اطراف وجوانب میں مساجد کے دبے کچلے آئمہ اور چھوٹے بڑے علماء کو متحد کرکے انہیں سنیت کی سرگرمیوں کے لئے مہمیز لگایا اور اہل خانقاہ سے اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے درخواست کی، آج اسی کا نتیجہ ہے کہ دہلی اور اس کے اطراف میں رفتہ رفتہ چھوٹے بڑے مدارس ومساجد کا قیام عمل میں آنے لگا، اہل سنت کی توسیع کے لئے مجالس ومذاکرے اور فقہی سیمینار کی بزمیں آراستہ کی جانے لگیں اور جلسہ وجلوس کا انعقاد ہونے لگا اور اب حال یہ ہے کہ جن علماء ، فضلاء اور صوفیہ کے بابرکت قدموں سے دہلی محروم تھی، غالب کے لفظوں میں وہ’’علمائے تازہ واردان بساط‘‘ بھی ’’ہوائے دل‘‘ کے لطیف جھونکوں سے اس کی سرگرمیوں کو تازگی بخش رہے ہیں۔ (ماہنامہ جام نور، دہلی ، شمارہ جنوری ۲۰۰۵ء ، ص۹ تا ۱۱)

علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ نے۱۹۹۸ء میں یہ پانچ منزلہ ادارہ(جامعہ نظام الدین، دہلی) حضرت شیخ ابوبکردامت برکاتہم(کیرالہ، جنوبی ہند) کے ادارہ ثقافۃ السنیۃ(کیرالہ) کے سپرد کردیا گیا تھا، حضرت شیخ ابوبکرمستند عالم دین ہیں، عربی بہت بے تکلفی کے ساتھ بولتے اور لکھتے ہیں۔ ( ماہنامہ سوئے حجاز، لاہور، شمارہ فروری ۱۹۹۸ء)

مصر کا سفر

جامعہ اشرفیہ(مبارکپور، انڈیا) کو جامعہ ازہر(قاہرہ ۔ مصر) سے مربوط کرانے کے سلسلے میں علامہ ارشدالقادری نے جو جدوجہد کی اس کا تذکرہ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا، یہ انٹرویو علامہ بدرالقادری نے۱۹۸۸ء میں ہالینڈ(یورپ) میں لیا تھا،جس میں ایک سوا ل کے جواب میں علامہ فرماتے ہیں !

جب میں پہلی بار مرتبہ ہندوستان سے برطانیہ کے سفر پر روانہ ہوا تھا تو تین دنوں کے لئے میں قاہرہ میں اُترا تھا، دراصل قاہرہ میں اُترنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت امام احمد رفاعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جن کا مزار قاہرہ میں ہے، اِن کے بارے میں میں نے کسی کتاب میں پڑھاتھا کہ جب وہ مدینہ طیبہ حاضر ہوئے حضور ﷺ کے روضہ پاک پر تو انہوں نے صلاۃ وسلام کے بعد یہ درخواست پیش کی کہ صلاۃ وسلام کی تکمیل مصافحہ سے ہوتی ہے، میری تمنا ہے کہ حضور سے مصافحہ کا شرف حاصل ہو، چنانچہ ان کی یہ درخواست بارگاہ رسالت میں قبول ہوگئی اور حضور ﷺ کا چمکتا ہوا دست مبارک جالیوں کے باہر نمودار ہوا اور حضور ﷺ نے مصافحہ کیا، اس مجمع میں حضرت غوث پاک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی تھے اور تقریباً ستّر ہزار کا مجمع تھا، اس کا سب نے مشاہدہ کیا، اس کے بعد پھر دونوں ہاتھ اندر چلے گئے ، اس واقعہ کو پڑھ کر میں حضرت کی ذات سے بہت زیادہ متاثر تھا اور مجھے معلوم تھا کہ حضرت کا مزار مبارک قاہرہ میں ہے، اس لئے میں قاہرہ اُتر گیا، تو جب میں ہندوستان سے چلنے لگا تو میرا یہ سفر چونکہ برطانیہ کے لئے تھا اس لئے اکس چینج میں مجھے ڈالر لینے کے لئے ہندوستانی ۷۵ روپئے جمع کرنے پڑے ، تو مجھے ساڑھے تین ڈالر ملے تھے، اصل میں یہ ٹیکسی کا کرایہ تھا کہ آدمی لندن ایئر پورٹ پر اُتر کر اپنی قیام گاہ تک جائے، تو میرے پاس ساڑھے تین ڈالر ہی تھے، جب میں نے قاہرہ اُتر کر ایمگریشن میں درخواست دی کہ مجھے شہر میں جانے کے لئے اجازت دی جائے تو انہوں نے سب سے پہلے اس کے لئے ایک ڈالر کی فیس مجھ سے وصول کی اور ایک فارم دیا کہ اس کو بھر دیجئے ، اس میں ایک خانہ یہ بھی تھا کہ قاہرہ میں آپ کہاں ٹھہریں گے، تو مجھے کسی آدمی کا نام معلوم نہیں تھا، اس لئے میں امام رفاعی کا نام اس پر لکھ دیا کہ میں ان کی درگاہ میں ٹھہروں گا، اس وقت میرا یہ تصور تھا کہ جیسے ہمارے یہاں اجمیر شریف وغیرہ میں زائرین کے رہنے سہنے کا انتظام اور کھانے کے لئے لنگر وغیرہ کا انصرام ہوتا ہے، ایسے یہاں پر بھی ہوگا، اَب میرے پاس ڈھائی ڈالر بچے، خیر سامان وغیرہ لے کر جب میں باہر نکلا تو ٹیکسی والے کھڑے تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں جانا ہے، میں نے انہیں بتایا کہ حضرت امام رفاعی کے مزار پر، تو اُن میں سے ایک تیار ہوگیااور کہا کہ چلئے، قاہرہ ایئر پورٹ سے ان کا مزار غالباً ۹؍ کلو میٹر کی دوری پرہے... وہ مجھے راہداریوں سے لے کر چلتاہوا ایک نہایت کشادہ اور سجے سجائے کمرے میں پہنچا، اس کمرے کے باہر نہایت خوبصورت پردہ پڑا ہواتھا، پردہ ہٹا کر جب میں کمرے کے اندر گیا تو دیکھا کہ ایک باریش، روشن پیشانی ، اور سفید مرقع بزرگ کرسی پر تشریف فرما ہیں، انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا مرحبا مرحبا اہلاً وسہلاً، اہلاً وسہلاً، اس جملے کو انہوں نے کئی مرتبہ دہرایا، کیونکہ عرب کا دستور ہے کہ وہ بعض جملے کو کئی کئی مرتبہ کہتے ہیں، پھر انہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور بیٹھنے کے لئے کرسی دی، اس کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اسی کمرے میں میرا سامان لیتا ہوا چلا آرہا ہے، پھر انہوں نے اُلٹے ہاتھ پر زور سے تالی بجائی تو ایک آدمی آکراُن کے سامنے کھڑا ہوگیا، اس سے انہوں نے کہا کہ ناشتہ لے کر آئو، تھوڑی دیر کے بعد پر تکلف ناشتہ لے کر وہ آیا، ناشتے کے بعد انہوں نے مجھ سے بتایا کہ میں اس مسجد کا خطیب ہوں اور صاحب مزار کا میں خادم ہوں، آج جمعہ ہے، اس لئے نماز کے بعد دوپہر کا کھانا آپ میرے ساتھ میرے غریب خانے پر تناول فرمائیں گے، اَب جو میرے دل کی کیفیت تھی میں اسے کیا بتائوں؟ بہر حال میں ناشتے کے بعد کپڑے وغیرہ تبدیل کرکے مزار مبارک پر حاضر ہوا، جیسے ہی حاضر ہوا ، ایسا لگا کہ کسی نے مجھے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا ہو، اس کے بعد تو مجھ پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ میں گھنٹوں روتا رہا، پھر اس کے بعد میں نے دیکھا کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا اور لوگ آنے لگے، ان میں بڑے بڑے ارباب حکومت بھی تھے، لوگ آتے تھے اور حضرت کے مزار کے دروازے کی جو زنجیر تھی اس کو چومتے تھے، میں نے دیکھا کہ اس زنجیر کو اتنا چوما اور چھوا گیا ہے کہ وہ پتلی ہوگئی ہے، لوگ آتے جاتے اسے چومتے، سلام کرتے اور پھر مسجد میں چلے جاتے، میں بھی حاضری کے بعد مسجد میں چلا گیا، امام صاحب تشریف لائے، خطبہ دیا اور پھر جمعہ کی نماز ہوئی، نماز کے بعد میں نے دیکھا کہ ترکی ٹوپی پہنے ہوئے بہت سے لوگ دورویہ لائن لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں، ان کے بیچ میں ایک بزرگ بیٹھے تھے، جنہوں نے بھی ترکی ٹوپی لگا رکھی تھی، مگر اس کے اوپر ایک سفید پٹی بھی لگی ہوئی تھی، جو اس بات کی علامت تھی کہ وہ مجاز وخلیفہ ہیں، خیر میں بھی وہاں بیٹھ گیا، وہاں حضرت امام رفاعی کا اسم البحث جو ایک وظیفہ ہے وہ پڑھا گیا، پھر فاتحہ ہوئی اور پھر سب لوگ مزار پر حاضر ہوئے، ایصال ثواب کیا... اس نے کہا مجھے حیرت ہے کہ ہندوستان میں ایسی بھی کوئی درسگاہ ہے، ہم تو اب تک یہی جانتے تھے کہ وہاں ایک دارالعلوم دیوبند ہے اور ایک ندوۃ العلماء ہے، بہر کیف اب آپ یہ کریں کہ وہاں کے جو ذمہ دار ہیں ان سے کہیں کہ وہ مجھے وہاں کا نصاب تعلیم، ادارے کی تمام تفصیلات اور ادارے کے فوٹو وغیرہ ہمارے پاس ارسال کریں، تاکہ وہاں سے ہمارے تعلیمی اور ثقافتی روابط ہوسکیں، میں نے ان کا پتہ اور دیگر معلومات حاصل کیں، اس کے بعد برطانیہ پہنچنے کے بعد میں حافظ ملت مولانا عبدالعزیز علیہ الرحمہ کو خط لکھا، حافظ ملت بہت خوش ہوئے، ( الحمد ﷲ اب یہ ادارہ جامعہ ازہر ،قاہرہ ، مصرسے منسلک ہے) ۔(ماہنامہ جام نور ، دہلی، شمارہ نومبر ۲۰۰۶ء)

وصال

رئیس القلم علّامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ نے۱۵؍ صفر المظفر ۱۴۲۳ھ/ ۲۹؍اپریل۲۰۰۲ء بروز سوموار کو دہلی (ہندوستان) میں رحلت فرمائی۔

ممتاز قادرالکلام شاعرجناب محمد عبدالقیوم خاں طارق سلطانپوری(حسن ابدال۔ ضلع اٹک، پاکستان) نے ہمارے دوست ملک محبوب الرسول قادری صاحب کی فرمائش پر’’جمیل گلشن رضا‘‘ سے سن وصال ’’۲۰۰۲ء اخذ کیا اور قطعۂ تاریخ وصال یوں موزوں فرمایا : وہ خوش نصیب تھا اخلاصِ تام سے اس نے تمام عمر گزاری بہ پاس فکرِ رضا اس ارشد چمن رضویت کا طارقؔ نے سن وصال کہا ہے ’’اساس فکر رضا‘‘ (۱۴۲۳ھ)

(ماہنامہ ، سوئے حجاز، لاہور، شمارہ مئی، جون ۲۰۰۲ء)