پیش لفظ
نحمدہٗ ونُصلی ونُسلم علٰی خاتمِ النبیینo
حضرت ثوبانصسے روایت ہے کہ سیدالاولین والآخرین ،خاتم الانبیاء و المرسلین ا نے فرمایا: ’’عنقریب میری امت میں تیس (30) کذاب ہوں گے ، ہر ایک نبی ہونے کادعویٰ کرے گاحالانکہ میںسب سے آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔‘‘(سنن ابی داؤد)
عقیدۂ ختم نبوت ایمان کاجز ہے اور ایمان والوں نے اس عقیدہ کی حفاظت کیلئے نہ جان دینے سے کبھی اعراض کیا اور نہ اس عقیدہ کے منکر کی جان لینے میں کبھی تأمل کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسیلمہ کذاب ،اسودعنسی ،مختار ثقفی ودیگر کوئی بھی مسلمانوں کے غیض وغضب سے نہ بچ سکااور جہنم ہی ان کا ٹھکانہ ہوا ۔
لیکن شامت اعمال کے سبب جب مسلمانو ں کی ظاہر ی شان و شوکت اور حکومت جاتی رہی تو دشمنوں نے اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کی اپنی دیرینہ خواہش کو پورا کرنے کیلئے ہر حربہ آزمایا قومی ،ملی،سیاسی ،سماجی معاشی ،معاشرتی ہر سطح پر مسلمانو ں کا تشخص مٹا دینے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ اسی طرح دین فروشوں کے ذریعہ اسلام کو اندرونی طور پر کمزور کرنے اور تقسیم کرنے کیلئے بیشمار فتنے نہ صرف پیدا کئے ، انہیں پالاپوسا بلکہ امت میں انتشار وافترا ق کو قائم رکھنے کیلئے آج بھی ان کی حفاظت و آبیاری کررہے ہیں ۔
ہندوستان میں اپنے دور اقتدار میںانگریزوں نے ایک جھوٹانبی تیار کیاجسے آج دنیا مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے جانتی ہے ۔ اس کذاب نے مسلمانوںسے ایمان جیسی قیمتی شے چھین لینے کی پوری کوشش کی لیکن علمائے اہلسنّت کی کاوشوں کے سبب اسے ہمیشہ ذلت ہی اٹھانی پڑی ۔ ان علمائے اسلام میں اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان ،علامہ غلام دستگیر قصوری ،پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی ، پیرسید جماعت علی شاہ محدث علی پوری ،حجۃ الاسلام مفتی حامد رضا خان علیہم الرحمہ وغیرہ کے اسماء قابل ذکر ہیں ۔
تقریباً تمام ہی اسلامی ممالک میں اس فتنہ کی تبلیغ و تشہیر پر پابندی عائد ہے ۔ پاکستان بننے کے بعد جب قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں حد سے بڑھیںتو مسلمانان پاکستان نے دو مرتبہ ان کے خلاف تحریک چلائی اور علمائے اہلسنّت کی کوششو ں کے سبب قادیانی 7؍ ستمبر1974ء کو قانونی طور پر کافر قرار پائے۔
لیکن آج ہمارے حمیت دین سے عاری حکمرانوں کی بے راہ روی اور دین سے دوری کے نتیجہ میں ایک مرتبہ پھر اس جھوٹے نبی کے پیروکار وں نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے اور اپنے دھرم کی تبلیغ واشاعت کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔زیرنظررسالہ ’’عقیدۂ ختم نبو ت اور فtnۂ قادیانیت ‘‘ عوام المسلمین کو عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اوراس فtnہ کی تباہ کاریوںسے آگاہ کرنے کیلئے مؤلف کی ایک اچھی کاوش ہے،اللہ تعالیٰ مؤلف اور ناشرین کو بہترین اجر مرحمت فرمائے اورتمام مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت فرمائے ۔ آمین
خاکپائے حضورتاج الشریعہ
محمد یونس شاکر القادری
26/08/2008
اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم ط بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ط الحمد اللّٰہ رب العالمین ط الصلوٰۃ والسلام علیک یاسیدالانبیاء والمرسلین ط وعلی اٰلک واصحابک یاخاتم النبیین ط
فتح بابِ نبوت پہ بے حد درود
ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
(از:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ)
ایمان نام ہے رسول خدا ﷺکے بتائے ہوئے بنیادی عقائد ونظریات کو دل سے ماننے اور کسی بھی ایسی چیز کا انکار نہ کرنے کا جو قطعی اور متواتر طور پر ثابت ہواور اسے عوام و خواص سب جانتے ہوں ۔ ان بنیادی چیزوں کو ’’ضروریاتِ دین ‘‘ کہاجاتاہے ،جیسے اللہ تعالی کی وحدانیت ، انبیاء کی نبوت ،جنت ودوزخ ، حشر ونشر وغیرہ۔ صدرالشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :’’کسی ایک ضرورت دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں ، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔‘‘نیزفرماتے ہیں: ’’عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقۂ علماء میں نہ شمار کئے جاتے ہوں مگر علماء کی صحبت سے شرف یاب ہوں اور مسائل علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں۔‘‘ (بہار شریعت،حصہ اوّل )
ان ہی ضروریات دین میں سے ایک رسول کریم اکا انبیاء ومرسلین علیہم السلام کا خاتم ہونا ہے یعنی رب تعالیٰ نے انبیاء و رسل علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ آپ ا پر ختم فرما دیا آپ ا کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہو سکتا۔ قرآن وحدیث میں بے شمار نصوص رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پردال ہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت کی ضرورت واہمیت اورمختصر تاریخ ملاحظہ فرمائیں ۔
قرآن عظیم کی بیشمار آیات رسول خدا ﷺکی ختم نبوت پر بطور دلیل پیش کی جاسکتی ہیں ،یہاںصرف وہ مشہور آیت مبارکہ پیش خدمت ہے جس میں رب کریم نے صراحت کے ساتھ سرکار اکے ’’خاتم النبیین‘‘ ہونے کا تذکرہ آپ اکے اسم گرامی کی وضاحت کے ساتھ فرمایا ہے ،
ارشاد باری تعالی ہوتاہے :
’’مَاکَانَ مُحَمَّدٌاَبَااَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَo‘‘(سورۂ احزاب ، آیت 40)
ترجمہ:(اے لوگو!حضرت) محمد ( ا)تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیںہاں وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے (آخری نبی ہیں)۔(کنز الایمان)
احادیث کریمہ میں بھی خاتمیت محمدی ا کا مضمون کثرت سے بیان ہوا ہے مختصراً چند احادیث کا صرف ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے گھر بنایا اور اس کے سجانے اور سنوارنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی مگر کسی گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ، لوگ اس کے گرد پھرتے اور تعجب سے کہتے :’’بھلایہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھی ؟‘‘فرمایا:’’وہ اینٹ میں ہوں اور میں ہی آخری نبی ہوں ۔‘‘ (صحیح بخاری ومسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اورمجھ پر نبوت ختم کردی گئی ۔ ‘‘(صحیح مسلم و جامع ترمذی )
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’بے شک رسالت ونبوت ختم ہوگئی میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ ہی نبی ۔ ‘‘(جامع ترمذی )
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیااور ارشاد فرمایا:
’’ میں تمام انبیا کے اخیر میں ہوں اور تم بھی آخری امت ہو۔‘‘(سنن ابن ماجہ)
نیزخاتم الانبیاء ﷺ نے انبیاء ومرسلین علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ترین انسانوں یعنی اپنے اصحاب و اہل بیت اورآل کے بارے میں نام بنام فرما دیا کہ ان میں سے بھی کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا:
’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے ۔ ‘‘(سنن ابن ماجہ )
حضرت سعد بن ابی وقاص صسے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
’’تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘(صحیح مسلم ، جامع ترمذی)
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
’’اگر مقدر ہوتا کہ محمد اکے بعد کوئی نبی ہو تو حضور ا کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے ،مگر حضورا کے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘(صحیح بخاری)
ان ہی سے روایت ہے :
’’اگر حضور اقدس اکے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضور ا کے صاحبزادے ابراہیم صانتقال نہ فرماتے۔‘‘(مسند احمد )
حضرت انس ،جابر بن عبد اللہ ، ابن عباس، ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اگر ابراہیم زندہ رہتاتو صدیق(سچا)پیغمبر ہوتا ۔ ‘‘
رحمت عالم ﷺ کا نام بنام ان حضرات سے نبوت کی نفی فرمانا اس لئے ہے کہ امت کے دل ودماغ میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ جب یہ افضل ترین ہستیاںنبی نہیں ہو سکتیں تو پھردیگر انسان تو بدرجہ اولیٰ نبی نہیں ہوسکتے ۔
لیکن شقاوتِ ازلی جن کامقدرٹہری،انہوںنے تونبوت کے جھوٹے دعوے کرنے ہی تھے اوراسی لئے غیب جاننے والے آقا انے پہلے ہی فرمادیا تھا:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
عنقریب میری امت میں تیس (30) کذاب ہوں گے ،ہر ایک نبی ہونے کادعویٰ کرے گاحالانکہ میںسب سے آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔‘‘(سنن ابی داؤد)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’قیامت قائم نہ ہوگی یہاںتک کہ بہت سے جھوٹے دجال نکل آئیں گے ،جو تیس (30)کے قریب ہوں گے،ان میں سے ہر ایک رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کریگا۔‘‘ (صحیح بخاری ومسلم )
عقیدۂ ختم نبوت امت ِ مرحومہ کا اجماعی عقیدہ ہے
ہر دور میں علماء حق نے اس عقیدہ کے منکر کے قتل کا فتویٰ دیا،صرف دو مشہور کتب کے حوالے ملاحظہ کیجئے ۔
قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
’’وہ شخص بھی کافر ہے جو کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی اور شخص کی نبوت کا اقرار کرے (خواہ آپ اکے زمانۂ حیات ظاہری میں یا) آپ کے بعد مانے ۔‘‘ نیز فرماتے ہیں:’’اس لئے کہ بلاشبہ نبی کریم ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ ایسے خاتم النبیین ہیں کہ آپ ا کے بعد کسی کو منصب نبوت ملناہی نہیں اور یہ کہ آپ انے اللہ تعالیٰ کی جانب سے خبر دی کہ آپ اخاتم النبیین ہیں۔‘‘ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ا، ج2)
’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں ہے کہ :
’’ جو شخص یہ نہ جانے کہ محمد ا تمام انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں وہ مسلمان نہیں ۔‘‘(فتاویٰ ہندیہ،ج 2)
تاریخ کے سینے میں ایسی بے شمار مثالیں محفوظ ہیں کہ بندۂ مومن کو گھر بار ،عزت و آبرو ،اہل و عیال ، جان و مال سب کچھ قربان کرنا پڑے وہ دریغ نہیں کرتامگر اپنے ایمان و عقیدہ پر آنچ برداشت نہیں کرسکتا۔ عقیدۂ ختم نبوت بھی ان بنیادی عقائد میں سے ایک ہے جن پرہمارے ایمان کا مدارہے اور اس عقیدہ کی خاطر شمع رسالت کے پروانوں اور ختم نبوت کے فدائیوں نے جو کار ہائے نمایاں انجام دیئے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔
مرزا قادیانی سے قبل کے جھوٹے دعویدارانِ نبوت
ہمارا اصل موضوع دور حاضر کے کھلے منکرین ختم نبوت مرزا قادیانی اور اس کے پیروکارہیں،ضمناً اُن پردہ نشینوں کا بھی تذکرہ آئیگا جنہوں نے اس آشیانے کے لئے شاخِ نازک فراہم کی ۔ اس سے پہلے انتہائی مختصراً مرزا قادیانی سے قبل کے جھوٹے دعویدارانِ نبوت کی ایک فہرست (نام،ادوار اور انجام کی) ملاحظہ کریں تاکہ اس فتنہ کی تاریخ سے تھوڑی سی آگاہی ہوجائے ۔
- اَسْوَدعُنسی :(11ہجری)حضرت فیروز دیلمی صنے اس کے محل میںگھس کرگردن توڑ کر جہنم واصل کیا۔
- مُسیلمہ کذاب:(12ہجری)سیدنا صدیق اکبر صکے دور خلافت میں جنگ یمامہ میں حضرت وحشی ص نے نیزہ مار کر جہنم واصل کیا۔
- مختار ثقفی :(67ہجری)اس نے امام حسین صکے قاتلوںکو چن چن کر قتل کیااوریوں جاہ و مرتبہ حاصل کیا،لیکن بعد میں نبوت کا دعویدار بن بیٹھا۔ حضرت مصعب بن زبیرص سے جنگ میں ماراگیا۔
- حارث دمشقی:(69ہجری)خلیفہ عبد الملک بن مروان کے حکم پر واصل جہنم کیاگیا۔
- مغیرہ عجلی اور بیان بن سمعان تمیمی:(119ہجری)اس وقت کے امیر عراق خالد بن عبد اللہ قسری نے دونوں کو زندہ جلا کر راکھ کردیا۔
- بہا فرید نیشا پوری :ابو مسلم خراسانی کے دربار میں اس کا سر قلم کیا گیا۔
- اسحاق اخرس مغربی اور استادسیس خراسانی :دونوں خلیفہ ابو جعفر منصور کے دور میں ہوئے اور اسی کے حکم پر واصل جہنم کئے گئے ۔
- علی بن محمد خارجی: (207ہجری) خلیفہ معتمد کے دور میں جنگ میں شکست کے بعد سر قلم کیا گیا ۔
- بابک بن عبد اللہ:(222ہجری) خلیفہ معتصم کے حکم پر اس کا ایک ایک عضو کا ٹ کر الگ کر دیا گیا۔
- علی بن فضل یمنی: (303ہجری)اہل بغداد نے اسے زہر دے کر ہلاک کردیا۔
- عبد العزیزباسندی:(322ہجری)اسلامی لشکر نے اس کا محاصرہ کرکے شکست دی اور سر کاٹ کر خلیفہ کو بھیج دیا۔
- حامیم مجلسی: (329ہجری)قبیلۂ معمودہ سے ’’احواز ‘‘ کے مقام پر جنگ میں ماراگیا۔
- ابومنصور عسبی برغواطی: (369ہجری) بلکین بن زہری سے جنگ میں شکست کھا کر واصل جہنم ہوا۔
- اصغر تغلبی: (439ہجری) حاکم وقت نصر الدولہ نے گرفتار کرواکر جیل میں ڈال دیا وہیں مرا
- احمد بن قسی: (560ہجری)حاکم وقت عبد المومن نے قیدخانے کی نظر کر دیا وہیںہلاک ہوا
- عبد الحق مرسی :(667ہجری) اس نے ایک روز فسد کھلوایا،قہر الٰہی سے خون بہتا رہا یہاں تک کہ ہلاک ہوگیا۔
- عبد العزیز طرابلسی: (717ہجری) حاکم طرابلس کے حکم پر قتل کردیا گیا۔
بعدکے ادوار میںمسلمانوںکی مجموعی تنزلی ، حکمرانوں کا باہمی انتشار ، آپس کی دشمنیا ں اور دین سے دوری نے دشمنان اسلام کو اسلامی ممالک میں طاقتور بنادیا جس کے سبب بایزید روشن (990ہجری) بہااللہ نوری(1308ہجری)اور مرزا غلام احمد قادیانی (1326ہجری ) اپنے شرعی اور منطقی انجام کو نہ پہنچ سکے بلکہ اسلام اور اہل اسلام کے لئے ناسور بن گئے ۔ (ملخص از: عقیدۃ ختم النبوۃ)
انگریز کے ہندوستان(غیرمنقسم برصغیر)میں وارد ہونے سے قبل اسلامیانِ ہند متفقہ عقائد کے حامل تھے ،سوائے بعض مغل بادشاہوں کے دور میں ہندوستان میں بس جانے والے ’’اہل تشیع‘‘کے،جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی۔انگریزوں نے ہندوستان پر مکمل قابض ہوجانے کے بعد اقتدار سے محروم کئے گئے مسلمانان ہند پرنہ صرف سیاسی ، سماجی ، معاشی اور معاشرتی مظالم کی انتہا ء کی بلکہ انہیں ان کے دین سے پھیر دینے کی بھی بھر پور کوشش کی ۔ پورے ملک میں برطانیہ سے بلائے گئے پادریوں کا جال بچھادیا گیا جو اسلامی عقائد ونظریات اور بانیٔ اسلام اپراعترضات کرکے عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کے ساتھ ساتھ علماء اسلام کودعوت مناظرہ بھی دیتے پھرتے ۔ 1854ء میں برطانیہ کے مایہ ناز اور قابل ترین پادری ’’فنڈر ‘‘ نے جابجا اسلام کی حقانیت کو چیلنج کرنااور علماء اسلام کو للکارنا شروع کردیا۔ اسی فتنہ پرور دور کا مشہور مناظرہ جو ’’مدرسۂ صولتیہ ‘‘ مکہ مکرمہ کے بانی ،جنگ آزادی 1857ء کے مرد مجاہد حضرت علامہ رحمت اللہ کیرانوی علیہ الرحمہ نے اپنے بعض دیگر رفقاء کی معیت میں پادری فنڈر سے کیاتھا اور ایسی عبرتناک شکست سے دوچار کیا کہ اسے ہندوستان سے منہ چھپاکے بھاگنا پڑا۔ اس دور کے علمائے حق نے مناظروں اور تصانیف کے ذریعہ عیسائیت کو ہندوستان میں قدم جمانے نہ دیئے اور انہی کی کاوشوں کے سبب ہندوستان میں ’’عیسائیت ‘‘ کو اپنی ابتداء میںوہ ذلت نصیب ہوئی کہ دنیائے عیسائیت آج بھی اس پر نوحہ کناں ہے۔
انگریزوں کے ظلم وستم اور مکاریوں وعیاریوں کے خلاف 1857ء کی جنگ برپا ہوئی ۔قطع نظر اس سے کہ وجوہات کیا تھیں یہ جنگ اسلامیان ہند کے لئے صد فی صد نقصان کا باعث بنی اور انگریز بھی چوکنا ہو گئے، انہوں نے اپنا طریقۂ واردات تبدیل کر لیا ۔ انگریز شاطر نے جس طرح غداروں اور لالچیوں کے ذریعہ جنگ کا میدان جیتا تھا ، اسی طرح اس نے مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ بنایا۔ ہندوستان بھر میں انہوں نے ایسے افراد کی تلاش شروع کردی کہ جو ہوںتو مسلمانوں ہی میں سے ، عالم، مولوی کہلاتے ہوں ، صوفی یا ولی کا لبادے میں ہوں ،جبّہ ودستار کے پردہ میں ہوں لیکن ان کے منہ میں زبان انگریز کی ہو ،اور وہ اپنی اس چال میں انتہائی کامیاب رہے۔یہ سازش چونکہ حکومتی تھی اس لئے انتہائی وسیع پیمانے پر کی گئی اور اس کی منصوبہ بندی دیرپا اور دور رس نتائج کو مدنظر رکھ کرکی گئی۔ مختصراً یہ سازش مسلمانوں کو فرقوں میں تقسیم کرنا تھی اور اس ساری جدوجہد کامقصد اہل ایمان کے دلوں سے محبت مصطفی ااور جذبۂ جہاد ختم کرنا تھا۔ حصول مقصد کیلئے انگریز شاطروں نے ’’نیا نبی‘‘تجویزکیا جواہل اسلام کو رسول خدا محمد مصطفی ا کے بجائے اپنا اسیر بنائے اور جہاد کو منسوخ کردے ۔
ہندوستان میں انگریز کا پہلا شکار اور امت میں افتراق کا بیج بونے والا تھارئیس المبتدعین اسماعیل دہلوی، جس کے ذریعہ محمد بن عبد الوہاب نجدی کے افکار ’’ تقویۃ الایمان ‘‘ کی شکل میںشائع کئے گئے ۔ یاد رہے کہ محمد بن عبد الوہاب نجدی بھی انگریز کا کاشت کردہ پودا ہے ، علمائے اسلام میں حضرت علامہ حیدر اللہ خان نقشبندی ،حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی ،مفتیٔ حرم مکہ علامہ احمدبن زینی دحلان مکی علیہم الرحمہ صراحۃً اس کے جھوٹے دعویٔ نبوت کے قائل ہیں۔(دِرۃ الدیانی علی المرتد القادیانی، سیفِ چشتیائی،الدرر السنیہ)
علامہ عبد الحکیم اختر شاہجہان پوری علیہ الرحمہ اسماعیل دہلوی کی کارستانیوں کے بارے میں رقم طراز ہیں :
’’موصوف نے اپنی رسوائے زمانہ اورایمان سوز کتاب ’’تقویۃ الایمان‘‘ کے ذریعہ ’’ خارجیت‘‘کی تبلیغ کی اس کے ساتھ ہی ’’داؤد ظاہری‘‘ کے انکار تقلید اور ’’معتزلہ ‘‘کے ’’مزاداریہ‘‘ فرقہ سے ’’امکان کذب‘‘ (یعنی اللہ تعالیٰ کا جھوٹ بولنا ممکن ہے )کا عقیدہ لے کر سب کو’’ تقویۃ الایمان ‘‘میں اکھٹا کیا ،گویا ’’تقویۃ الایمان ‘‘ کی اصل بنیاد تو محمد بن عبد الوہاب نجدی کی’’ کتاب التوحید‘‘پر رکھی گئی لیکن اس میں ’’ ظاہری المذہب ‘‘اور ’’ اعتزال‘‘ کی قباحتوں کے لئے بھی پوری پوری گنجائش رکھی گئی ۔ دوسری طرف ’’ صراط المستقیم ‘‘کتاب کے ذریعہ رفض کی بھی کھل کر اشاعت کی ۔ شیعہ حضرات جو اپنے ائمہ کی شان بیان کیا کرتے ہیں ، انہیں صاحبِ وحی وعصمت اور انبیاء کرام سے بھی افضل بتاتے ہیں موصوف نے یہ تمام صفات اپنے پیرجی(سید احمد رائے بریلوی) میں بتادیں بلکہ انہیں اتنا بڑھایا چڑھایا کہ اگرچہ دعویٰ نہیں کیا(یاشاید کر نہ سکے )مگر ہر قدم پر سید المرسلین اسے بھی افضل واعلی ہی منوانے کی کوشش کی ۔‘‘(تفصیل کیلئے ملاحظہ کیجئے :برطانوی مظالم کی کہانی)
موصوف نے جہاں شعائر اسلامی کو شرک وبدعت سے تعبیر کرنے ، عامۃ المسلمین کومشرک قرار دینے اور خصائص مصطفی ا کے انکارکی روایت کا اجراء کیا وہیں عقیدۂ ختم نبوت پر پہلی ضرب یہ لگائی کہ ساری امت سے علیحدہ ایک نیا عقیدہ ’’امکان نظیر ‘‘ (یعنی صاحب لولاک، رحمۃ اللعالمیناکی مثل اور بھی نبی پیدا ہوسکتے ہیں) گھڑا ، موصوف کی عبارت ملاحظہ ہو:
’’اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ، ایک حکم کن سے چاہے تو کروڑوں نبی اورولی جن اور فرشتے ،جبرائیل اور محمدا کے برابر پیداکرڈالے ۔‘‘ (تقویۃ الایمان، ص۱۱۳)
جس پر اس دور کے علماء حق اہل سنت وجماعت نے’’تقویۃ الایمان ‘‘کا بھرپور رد کیا ۔ امام الحکمت والکلام ، قائد جنگ آزادی 1857ء ،علامہ فضل حق خیر آبادی نے ’’دہلوی‘‘ کو دہلی کی جامع مسجد میں’’مسئلۂ امکان نظیر ‘‘پر مناظرہ میں تاریخی شکست دی اور اس کے رد میں ’’ امتناع نظیر‘‘ اور’’ ابطال الطغویٰ‘‘ وغیرہ کتب تصنیف فرمائیں۔
اس شخص (اسماعیل دہلوی) نے اپنے نظیریات کو انگریزی سایۂ عاطفت میں بھرپور طور پر پروان چڑھایا۔ ہند وستان میںوہابی ( اسماعیل دہلوی کے پیروکار) دو فرقوں میں بٹ گئے ۔
- غیر مقلد(نام نہاد اہل حدیث)،منکرین تقلید وطریقت
- دیوبندی، قائلین تقلید وطریقت
ان فرقوں کے تعارف وغیرہ سے اعراض کرتے ہوئے صرف ان کے بعض پیشواؤں کی عقیدۂ ختم نبو ت وجہاد مخالفت، خصائص مصطفی اکے انکاراور انگریز وفاداری کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں ۔
قاسم نانوتوی دیوبندی
موصوف زبر دستی کے بانیٔ دارلعلوم دیوبند ہیں،اپنے طائفہ میں ’’قاسم العلوم والخیرات ‘‘ مشہور ہیں،عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق موصوف کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں :
’’سو عوام کے خیال میں تو رسو ل اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب سے آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پرروشن ہوگا کہ تقدم یا تأخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔‘‘(تحذیر الناس ، ص3)
مزید لکھتا ہے : ’’اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی صلعم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔‘‘(تحذیر الناس،ص25)
یاد رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں جب قادیانیوں کو کافر قراردینے کی بحث جاری تھی اس وقت قادیانی خلیفہ مرزا ناصر نے یہی کتاب اپنے حق میں پیش کی تھی ۔
رشید احمد گنگوہی دیوبندی
یہ دیابنہ کے’’ قطب عالم‘‘ ہیں۔ نص قرآنی کے مطابق ’’رحمۃ اللعالمین ‘‘رسول خدا ﷺ ہی کی ذات والا ہے اور اس پر اجماع امت ہے مگریہ صاحب ایک نئی گمراہی لائے ، لکھتے ہیں:
’’لفظ ’’رحمۃ اللعالمین ‘‘صفت خاصہ رسول ا نہیں ہے بلکہ دیگر اولیاء وانبیاء اور علماء ربانین بھی موجب ِ رحمت ِعالم ہوتے ہیں۔‘‘
جناب خود کو علماء ربانین میں داخل مانتے ہیں اور اسی لئے ان کے چہیتے شاگرد خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی نے موصوف کیلئے’’میزاب رحمۃ اللہ تعالیٰ علی العالمین‘‘ لکھا ہے ۔(دیکھئے تذکرۃ الرشید)
نیز جناب کی انگریز وفاداری خود انہی کی زبانی ملاحظہ ہو جسے ان کے سوانح نگار مولوی عاشق الٰہی میرٹھی نے نقل کیاہے :
’’میں (رشید احمد گنگوہی)جب حقیقت میں سرکار (برٹش گورنمنٹ)کا فرماں بردار ہوںتو جھوٹے الزام سے میرا بال بھی بیکا نہیں ہوگااور اگر مارا بھی گیا تو سرکار (برٹش گورنمنٹ)مالک ہے ، اسے اختیار ہے جو چاہے کرے ۔‘‘(تذکرۃ الرشید، ج1،ص80)
اشرفعلی تھانوی دیوبندی
یہ صاحب دیوبندی طبقۂ فکر کے’’ حکیم الامت ‘‘اور’’ مجدد ملت ‘‘ کہلاتے ہیں ، یہ کب پیچھے رہنے والے تھے ، ان کی کارستانی ملاحظہ ہو،
انہوں نے اپنے ایک مرید کو جو خواب اور بیداری میں ان کے نام کا ’’کلمہ ‘‘ اور ان پر ’’درود ‘‘پڑھتا رہا،اس یقینی کفر پرجناب نے جو جواب دیاملاحظہ ہو:
’’اس واقعہ میں تسلی کہ جس کی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ بعونہ تعالیٰ متبع سنت ہے ۔‘‘(رسالہ الامداد ،صفر 1336ھ)
میں پوچھتا ہوں، کیا ہر وہ شخص جس کاپیر سنت کی اتباع کرنے والا ہو وہ اپنے پیر کے نام کا کلمہ اور اس پر دورد پڑھا کرے ؟
نذیر احمد دہلوی غیر مقلد
جناب فرقۂ غیر مقلدین کے ’’شیخ الکل ‘‘ہیں ۔ان کی انگریز دوستی ان ہی کے سوانح نگار فضل حسین بہاری سے سنئے :
’’ یہ بھی بتا دینا ضروری ہے کہ میاں صاحب (نذیر احمد دہلوی)بھی گورنمنٹ انگلشیہ کے کیسے وفادار تھے ۔ زمانہ غدر1857ء میں جب کہ دہلی کے بعض مقتدر اور بیشتر معمولی مولویوںنے انگریز پر جہاد کا فتویٰ دیا تو میاں صاحب نے نہ اس پر دستخط کیا نہ مہر، وہ خود فرماتے تھے کہ:
’’میاں وہ ہلڑ تھا،بہادر شاہی نہیں تھی ، وہ بے چارہ بوڑھا بادشاہ کیاکرتا ؟ حشرات الارض خانہ براندازوں نے تمام دہلی کو خراب ،ویران،تباہ اور برباد کردیا ۔ شرائط ِ امارت وجہاد بالکل مفقود تھے ہم نے تو اس پر دستخط نہیںکیا ، مہر کیاکرتے اور کیا لکھتے ؟ مفتی صدر الدین خاں صاحب چکر میں آگئے ۔ بہاد ر شاہ (آخری مغل بادشاہ)کو بھی سمجھایاکہ انگریزوں سے لڑنا مناسب نہیں ہے مگر وہ باغیوں کے ہاتھ کٹھ پتلی ہورہے تھے ،کرتے تو کیا کرتے ؟ ‘‘(الحیاۃ بعد المماۃ)
ان لوگوںکے نزدیک جنگ آزادی1857ء ’’غدر‘‘ اورمجاہدین ’’باغی ‘‘ تھے۔
محمد حسین بٹالوی غیر مقلد
یہ فرقۂ غیرمقلدین کی وہ’’ عظیم شخصیت ‘‘ہیں جنہوں نے انگریز حکومت سے اپنے فرقہ کیلئے ’’اہل حدیث ‘‘نام الاٹ کرایاتھا۔موصوف نے ایک کتاب ’’ الاقتصاد فی مسائل الجہاد ‘‘ لکھی،جس کے بارے میں خود اپنے ہی رسالے ’’ اشاعۃ السنۃ‘‘ میں اپنی کتاب کاتعارف اور عوام غیرمقلدین کی برٹش حکومت کی اطاعت گزاری کا حال یوں شائع کیا:
’’1876ء میں ایڈیٹر’’اِشاعۃ السنۃ‘‘رسالہ’’ اقتصاد فی مسائل الجہاد‘‘ تالیف کرچکا ہے جس میں قرآن و حدیث او رفقہی دلائل سے ثابت ومدلل ہے کہ اس (برطانوی) گورنمنٹ سے مسلمانوں کا ،ہند کے ہوں خواہ روم یا عرب کے مذہبی جہاد جائز نہیں اور اسی سال پنجاب کے عام اہل حدیث نے بذریعہ ایک عرض داشت اپنی عقیدت واطاعت گورنمنٹ کا اظہارکیا تھا جس پر گورنمنٹ کی طرف سے اس کی تائید وتصدیق میں ایک سرکلر جاری ہوا تھا جو’’اشاعۃ السنۃ‘‘نمبر9جلد8میں منقول ہوچکا ہے ۔‘‘ (اشاعۃ السنۃ ، جلد 9شمارہ1، صفحہ26)
عبداللہ غزنوی غیرمقلد
موصوف نے بھی دعویٔ نبوت کی پوری تیاری کرلی تھی اورالہام و القاء کا ورود کثرت سے ہورہا تھا لیکن جانے وہ کیا’’ناگزیر وجوہات ‘‘ تھیں جو ’’اعلان نبوت ‘‘ نہ ہوسکا ۔موصوف کے الہامات سے متعلق ان کے سوانح نگار عبد الجبار غزنو ی کا بیان ملاحظہ ہو:
’’جو الہام اور خوابیں آپ کو کتاب وسنت پر ثابت رہنے اورخلق اللہ کو کتاب وسنت کی طرف بلانے اور تقویٰ اور توکل اور صبر اور خشیت اور زہد و قناعت وترک ماسوی اللہ اور انا بت اور آپ کے مقام امانت میں پہنچنے او رآپ کی حفظ اور نصرت اور مغفرت کے وعدہ پر ہوئے وہ سیکڑوںبلکہ ہزاروں تک پہنچتے ہیں۔ان کو جمع کرنے کیلئے ایک بڑی کتاب چاہئے ۔‘‘
الہامات کی صرف دو (2)مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ‘‘یعنی اور البتہ جلدی دے گا تجھ کو تیر ا رب پھر تو خوش ہوجاوے گا۔اور فرماتے تھے، الہام ہوا :’’الم نشرح لک صدرک ‘ ‘یعنی کیا نہیں کھولا ہم نے تیر ا سینہ ۔‘‘
بلا کسی تبصرہ کے صرف ایک سوال ختم نبوت پر ایمان رکھنے والوں سے، کہ حبیب خدا ا کی شان میں ناز ل قرآni آیات کو اپنا الہام قرار دینا کیا معنی رکھتا ہے ؟
نیزنیچریت،چکڑالویت(فتنۂ انکارِ حدیث)اورقادیانیت نامی فتنوںنے بھی وہابیت (غیر مقلدیت) کی کوکھ سے جنم لیا ہے ،گھر کی گواہیاں ملاحظہ ہوں :
محمد حسین بٹالوی غیر مقلد کے بقول :
’’ سرسید (بانیٔ نیچریت ) کا مذہب اسلامی دنیا کو معلوم ہے کہ عقلی تاویلات اور ملاحدۂ یورپ کے خیالات تھے ،چند روز انہوں نے (خودکو) اہل حدیث کہلایا۔(اشاعۃ السنۃ،جلد19 شمارہ 8)
نواب صدیق حسن بھوپالی غیر مقلد کے بقول:
’’سید احمد خان سی ایس آئی (یہ خطاب سر سید کو برٹش گورنمنٹ کی طرف سے ملا تھا)دعویٰ وہابیت کا کرتے تھے ۔‘‘(ترجمانِ وہابیہ)
محمد حسین بٹالوی کے بقول:
’’قادیان میں مرزا پیدا ہوا تو اس کو بھی اہل حدیث کے مولوی حکیم نور الدین بھیروی، جمونی اور مولوی احسن امروہوی بھوپالی نے ویلکم یا لبیک کہا، فتنۂ انکار حدیث (چکڑالوی مذہب) نے مسجد چینیا نوالی میں جو اہلحدیث کی مسجد ہے جنم لیاچٹوومحکم الدین وغیرہ (جو اہل حدیث کہلاتے تھے)کی گود میں نشو نما پایا اور یہی مسجد بانیٔ مذہب چکڑالوی کا ہیڈ کوارٹر بنایاگیا۔ ‘‘(اشاعۃ السنۃ، جلد19، شمارہ8)( بحوالہ :شیشے کے گھر،ص24)
نیز مرزاقادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:
’’عقائد وتعمل کے لحاظ سے دیکھیںتو آپ(مرزا قادیانی)کا طریق حنفیوںکی نسبت اہل حدیث سے زیادہ ملتا جلتا ہے ۔‘‘(سیرت المہدی ، حصہ دوئم )
سید احمد رائے بریلوی سے مرزا قادیانی تک نبوت کے شوقین، انگریز کے نمک خواروں اور امت کے غداروںکی تفصیلات جمع کی جائیں تو اس موضوع پر ضخیم کتب کا انبار لگ سکتا ہے ۔ یہ تفصیل بھی ضروری تھی اس لئے ضمناً مختصراً اس کو ذکر کردیا اب اصل موضوع یعنی ’’ مرزا غلام احمد قادیانی دجال‘‘ سے متعلق تفصیل ، جس نے باقاعدہ اپنی نبوت کا اعلان کیا اور آج تک اس کے پیرو کار امت کیلئے ناسور بنے ہوئے ہیں۔
مرزا قادیانی کا تعارف
اس کذاب کا انتہائی مختصر تعارف علامہ عبد الحکیم اخترشاہجہان پور ی علیہ الرحمہ کے قلم سے ملاحظہ فرمائیں:
’’مرزا غلام احمد قادیانی کی حتمی تاریخ پیدائش تو کسی کو معلوم نہیں ، ہاں مرزا صاحب نے ’’ کتاب البریہ‘‘میں 1839ء اور 1840ء بتائی ہے لیکن ’’تریاق القلوب ‘‘ میں 1845ء لکھی ہے۔ اردو اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی ،عربی اورا نگریزی میں ابجد خواں تھے ۔ سیالکوٹ کچہری میںبمشاہرہ پندرہ(15)روپے ماہوار چار سال تک محرربھی رہے ،آبائی پیشہ زمینداری تھا ۔ آباء واجداد سکھّوں اور انگریزوں کے وفادار اور ملازم رہتے آئے تھے ۔والد کا نام مرزا غلام مرتضی تھا ۔مرزاغلام احمد قادیانی نے ’’قانونی مختار کاری‘‘ کا امتحان بھی دیا لیکن فیل ہونے پر تعلیم سے دل اچاٹ ہوگیا، ضعف ِ دل ودماغ تمام عمر جولانی پر رہا،قوت مردمی سے اکثر اوقات محروم رہے ،تشنجِ قلب ، اسہال،درد سر ، دورانِ سر،مالیخولیا اور ذیابطیس وغیرہ امراض موصوف کی زندگی کے ساتھی تھے ۔ 26؍مئی 1908ء کو لاہور میں موصوف کا شدتِ اسہال یا ہیضہ سے انتقال ہوا‘‘ (برطانوی مظالم کی کہانی )
تعمیرِ نبوت
مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کی بنیاد 1886ء میں رکھنی شروع کی ، ابتداً کشف و الہام کے دعوے پھر مصلح ،محدث ،مجدد ،مہدی ،مسیح موعود،ظلی نبی ،بروزی نبی وغیرہ ہونے کے دعوے بتدریج کرتا رہا اور 1901ء میں حقیقی نبوت کا دعویٰ کیا، ملاحظہ کیجئے :
- سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔(دافع البلاء، ص11)
- ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ،خدا کا مامور ، خدا کا امین ، خدا کی طرف سے آیا ہے، جوکہتا ہے اس پر ایمان لا ؤ ،اس کا دشمن جہنمی ہے ۔ (انجام آتھم،ص62 )
ہفوات مرزا
مرزا کے واہیات دعوے اور بیہودہ پیشن گوئیاں بے شمار ہیںاختصا رکے ساتھ چند قارئین کے سامنے پیش ہیں جو مرزا کے دماغی خلل ، کھلی گمراہی اورقطعی کفرکا بین ثبوت ہیں ۔
- وانت من مائِ نا۔ترجمہ: اور تو ہمارے پانی سے ہے(اربعین نمبر2،ص43)
- انت منی بمنزلۃ ولدی۔ترجمہ:تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔(حقیقت الوحی،ص86)
قادیانی کی بکواسات قرآن کریم کے صریح خلاف ہیں ۔
فرمان باری تعالیٰ ہے :
’’ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ‘‘(سورۂ اخلاص:3)
ترجمہ :نہ اس کی کو ئی اولاد (ہے ) اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔(کنز الایمان)
- خدا تعالیٰ میرے لئے ا س کثرت سے نشان دکھا رہاہے کہ اگر نو ح کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے ۔(تتمۃ حقیقت الوحی،ص137)
- پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (قادیانی) اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کرکے بھی قید سے بچایاگیامگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالاگیا۔(براہین احمدیہ، حصہ پنجم،ص99 )
- حق بات یہ ہے کہ آپ (حضرت مسیح ں)سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم)
- آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہّر ہے ،تین دادیاں اورنانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم،ص7)
- آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی ۔( انجام آتھم حاشیہ،ص5)
- عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے (کشتیٔ نوح حاشیہ،ص73)
- حضرت رسول خدا ﷺ کے الہام ووحی غلط نکلی تھیں۔(ازالۂ اوہام،ص288 )
قادیانی کی کفریات کے برعکس مسلمانوں کے عقائدانبیاء کرام سے متعلق یہ ہیں:
’’انبیاء معصوم ہوتے ہیںیعنی اللہ تعالی نے انبیاء کو گناہوں سے محفوظ رکھا ہے ان سے گناہ سرزد ہوہی نہیں سکتا، انبیاء کرام شرک ،کفراور ہر اخلاقی برائی سے پاک پیدا کئے گئے ہیں، اپنے نسب وجسم ، قول وفعل،حرکات وسکنات وغیرہ میں تمام ایسی باتوں سے منزّہ ہوتے ہیں جوباعث ِنفرت ہوں،نیزانبیاء سے احکامِ تبلیغیہ میں سہو ونسیان ، غلطی وکوتاہی ناممکن ہے۔‘‘ (ملخص از بہارشریعت)
- مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کا بے باپ پیدا ہونا میری نگاہ میں کوئی عجوبہ بات نہیں ،حضرت آدم ماں ،باپ دونوں نہیں رکھتے تھے ،اب برسات قریب آئی ہے باہر جاکر دیکھئے کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پیدا ہوجاتے ہیں۔ معاذ اللہ (جنگ مقدس،ص7)
- حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس (22)برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے تھے۔(ازالۂ اوہام ،ص303 )
عیسیٰ علیہ السلامسے متعلق مردود نے قرآن کریم کی کئی صریح آیات کا انکار کیا ہے، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کارب فرماتا ہے:
’’وَلِنَجْعَلَہٗ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا‘‘(سورۂ مریم : 21)
ترجمہ:اور اس لئے کہ ہم اسے(عیسیٰ ںکو) لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت۔ (کنز الایمان)
قادیانی کذاب نے بیشمار جگہ خود کو انبیاء کرم علیہم السلام سے افضل بتایاہے ، ملاحظہ ہو:
- اے عزیزو! تم نے وہ وقت پالیاہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود(مرزا قادریانی) کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کیلئے بہت پیغمبروں نے بھی خواہش کی ہے۔ (اربعین نمبر4،ص100)
- خدانے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجاجو اس سے پہلے مسیح سے اپنی شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔ (دافع البلاء)
- ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے ۔(دافع البلاء،ص20)
اعجاز کلام الٰہی بین حقیقت ہے جس کا انکار آج تک کوئی نہ کرسکا لیکن مرزا کذاب اس کلام عظیم کو سخت زبانی اور گندی گالیاںقرار دیتا ہے،ملاحظہ کیجئے:
- قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کررہا ہے ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا ،مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے(ازالۂ اوہام،ص25،26)
- ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں ۔(ازالۂ اوہام،ص27)
شایداس دجال نے کبھی اپنی زبان پر غور نہیں کیا!مرزا کی اخلاقیات کے نمونے ملاحظہ ہوں:
- کنجڑیوں کے بچوں کے بغیر جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے باقی سب میری نبوت پر ایمان لاچکے ہیں۔(آئینہ کمالات،ص547)
- دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتّیوں سے بڑھ گئیں۔(نجم الہدیٰ،ص10)
یہ تو رہی عام مسلمانوں کی بات ،قادیانیت کے پرخچہ اڑادینے والی شخصیت حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی علیہ الرحمہ کے متعلق مرزا کذاب کے الفاظ سنئے:
- کذاب، خبیث ،بچھو کی طرح نیش زن،اے گولڑہ کی سرزمین !تجھ پر خدا کی لعنت ہو،تو ملعون کے سبب ملعون ہوگئی ۔(نزول المسیح،ص75)
قرآن پر سخت زبانی کااعتراض بھی ہے اور پھر اسی قرآن کریم کی بے شمار آیات کوقادیانی نے اپنا الہام بھی قرار دیا ہے ، مثالیں ملاحظہ ہوں:
- انا اعطینک الکوثر ۔(ترجمہ)ہم نے کثرت سے تجھے دیاہے۔ (حقیقت الوحی،ص102)
- سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً۔ترجمہ:وہ پاک ذات وہی خدا ہے جس نے ایک رات تجھے(مرزا کو) سیر کرادیا ۔(حقیقت الوحی،ص78)
مرزا کذاب کوانگریز وفاداری ورثہ میںملی تھی ،خود اپنے باپ اور بھائی کی کار گزاریوں کا حال اپنی کتابوں میں لکھاہے ، اس کی اپنی خدمات بھی کچھ کم نہیں صرف ایک حوالہ اسی کی زبانی ملاحظہ کیجئے:
’’میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ(60)برس کی عمر تک پہنچا ہوں ،اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اورہمدردی کی طرف پھیروںاور ان کے بعض کم فہموںکے دلوں سے غلط خیال،جہاد وغیرہ کے دور کروں جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔(تبلیغ رسالت ،ج7،ص10)
لیجئے قصہ ہی ختم ، خود ہی اُگل دیاکہ فتنوں کی یہ بساط بچھائی کیوں ۔
مرزا کذاب خود اپنی ہی باتوں کی تکذیب کیا کرتا تھا ، مناظروں اور مباہلوں کا چیلنج دینا اور پھر خود ہی منہ چھپاتے پھرنا اس کی عادت ثانیہ تھی ،اس خبیث کی بیشمار پیشن گوئیاں آج تک پوری نہ ہوئیں اور نہ قیامت تک ہوں گی،علماء حق نے اس کے ہر فتنہ کا منہ توڑ جواب دیا اور اس جھوٹے نبی کی حالت ہمیشہ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کی مصداق رہی۔ جھوٹے نبی مرزاقادیانی کی بیشمار پیشنگوئیاں جن میں محمدی بیگم سے نکاح ،بیٹے کی پیدائش،اپنی عمرطویل، دشمنوں کی ہلاکت وغیرہ جھوٹی ثابت ہوچکی ہیں،لیکن سچے نبی اکے سچے غلام کی سچی پیشن گوئی اورقادیانی کذاب کی بد ترین اور عبرت نا ک موت کا حال بھی سنیئے:
مئی 1908ء میں قادیانی دجال مع اپنے چیلے چپاٹو ں کے لاہور تبلیغی دورے پر آیا ہوا تھا اور یہیں اس نے اعلان کیا کہ دورہ سیالکوٹ تک کیاجائے گا۔احمدیہ بلڈنگس (جہاں مرزا ٹہرا ہواتھا)سے کچھ فاصلے پر آل رسول حضرت پیر سید جماعت علی شاہ علیہ الرحمہ محدث علی پوری تردید قادیانیت کیلئے ختم نبوت کے بے شمارپروانوں سمیت خیمہ زن تھے ،وہاں قادیانیت کی تبلیغ کیلئے تقاریر ہوتیں اور یہاں حضرت محدث علی پوری علیہ الرحمہ مرزائیت کے بخیہ ادھیڑتے رہے، مسلمان قادیانی کی موت اور اسلام پر نازل اس مصیبت سے چھٹکارے کی دعائیںمانگتے رہے۔
22؍مئی 1908ء کوشاہی مسجد میں محدث علی پوری علیہ الرحمہ نے دوران وعظ فرمایا:
’’ میری عادت پیشین گوئی کرنے کی نہیں مگر مجبوراً کہتا ہوںکہ اگر مرزا کو سیالکوٹ جانے کی طاقت ہے تو وہاں جاکر دکھلائے میں کہتا ہوں کہ وہ وہاں کبھی نہیں جاسکتا کیونکہ خدا تعالیٰ اس کو توفیق ہی نہیں دے گا کہ سیالکوٹ جاسکے ۔‘‘
حضرت محد ث علی پور ی علیہ الرحمہ تین (3)دن تک یہ اعلان کرتے رہے بالآخر 25؍مئی 1908ء کو کھڑے ہو کر فرمایا:
’’ ہم کئی روز سے مرزا کے مقابلہ میں آئے ہوئے ہیں ،پانچ(5)ہزار روپے کا انعام بھی مقرر کیا ہوا ہے کہ جس طرح چاہے وہ ہم سے مناظرہ کرے یا مباہلہ کرے اور اپنی کرامتیںاور معجزے دکھائے لیکن اب وہ مقابلہ میں نہیں آتا لیکن آج میں مجبور اً کہتا ہوں کہ آپ صاحبان سب دیکھ لیں کہ کل 24؍ گھنٹے میں کیا ہوتا ہے !‘‘
قادیانی کذاب اسی رات اسہال کا شکار ہوا اور دوپہر ہونے تک شدت مرض سے مرگیا یہاںتک کہ مرنے کے بعدبھی پیٹ کی نجاست اس کے منہ سے نکلتی رہی ، جو دیکھنے والوں کیلئے باعث عبرت بنی، مگر قادیانی کے پیروکاراس ذلت آمیز موت کو ماننے کے روادار نہیں، لیکن قادیانی کے بیٹے مرزابشیر کے الفاظ قادیانی کی بدترین موت کااندازہ لگانے کیلئے کافی ہیں:
’’25؍مئی 1908ء یعنی پیر کی شام کو بالکل اچھے تھے …تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صا حبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے ،میں اپنے بستر پر جاکر لیٹ گیااور پھر مجھے نیند آگئی۔ رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب مجھے جگایا گیایاشاید لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سے میں خود ہی بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح (کذاب قادیانی)اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہیںاور حالت نازک ہے اور ادھر ادھرمعالج اور دوسرے لوگ کام میں لگے ہوئے ہیں ، جب میں نے پہلی نظر حضرت مسیح موعود (کذاب قادیانی)کے اوپر ڈالی تو میرا دل بیٹھ گیاکیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے نہ دیکھی تھی اور میرے دل پر یہی اثر پڑا کہ یہ مرض الموت ہے ۔‘‘ (سیرت المہدی ،حصہ اول)
پھر آگے اپنی ماں کا بیان لکھتاہے:
’’کہ حضرت مسیح موعود(کذاب قادیانی)کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا … اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیامگر اب اس قدر ضعف تھاکہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے اس لئے میں نے چار پائی کے پاس ہی انتظام کردیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کرلیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہوگیا تھا اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی جب آپ قے سے فارغ ہوکرلیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چار پائی پر گرگئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دِگرگوں ہوگئی… حضرت صاحب(قادیانی کذاب) کوا سہال کی شکایت اکثر ہو جایا کرتی تھی جس سے بعض اوقات بہت کمزوری ہوجاتی تھی…اور آپ اسی بیماری میں فوت ہوئے ۔‘‘ (سیرت المہدی ،حصہ اول)
فتنۂ قادیانیت کے خلاف علماء اہلسنّت
فتنۂ قادیانیت کے خلاف علماء اہلسنّt نے سخت جدوجہد کی اور عامۃ المسلمین کے ایمان وعقائد کی حفاظت کیلئے ہر قربانی دی ، قادیانی کذاب کی ایک نہ چلنے دی ، تحریر و تقریر، مناظرہ و مباہلہ ،عدالتی مقدمات ہر سطح پر اس کو منہ توڑ جواب دیا۔چند جید علماء اہلسنّت کے اسماء گرامی یہ ہیں:
- حضرت مفتی غلام دستگیر قصوری
- اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
- حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی
- حضرت پیرسید جماعت علی شاہ محدث علی پوری
- حجۃ الاسلام مفتی حامد رضا خان
- مفتیٔ اعظم ہند مفتی مصطفی رضا خان
- علامہ غلام قادربھیروی
- پیرغلامرسول امرتسری
- قاضی فضل احمد لودھیانوی
- شیخ الاسلام مولانا انواراللہ فاروقی
- حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالوی
- علامہ محمد عالم آسی امرتسری
- علامہ حیدر اللہ نقشبندی
- علامہ کرم الدین دبیر
- علامہ محمد حسن فیضی
- حضرت شاہ سراج الحق گورداسپوری
- مولانا نواب الدین مدراسی
- علامہ سید دیدار علی شاہ الوری
- صدر الافاضل مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی
- حضرت سید علی حسین اشرفی میاں
- محدث اعظم ہند کچھوچھوی وغیرہم علیہم الرحمہ۔ ؔ اس فتنہ کی بیخ کنی کیلئے قربانیاں دینے والے تو بے شمار سعادت مند ہیں سب کا تذکرہ یہاں ممکن نہیں ،اللہ تعالیٰ بہتر جز ا دینے والا ہے ۔
اکثر مسلم ممالک میں قادیانیت پر پابندی عائد ہے۔ سب سے پہلے افغانستان میں سرکاری سطح پر اس فرقہ پر پابندی عائد کی گئی ۔ موریشس،مصر،سعودی عرب ، شام، لبنان، عراق، انڈونیشیا،آزاد کشمیر، بنگلہ دیش،مراکش وغیرہ ممالک میں اس فرقۂ باطلہ کی تبلیغ وتشہیر پر مکمل پابندی عائد ہے، نیز رابطہ عالم اسلامی نے اپریل 1973ء میںمتفقہ طور پر قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی قرار داد منظور کی ۔ اس اجلاس میں اسلامی ممالک کی سو 100؍ سے زیادہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔
پاکستان میں پہلی مرتبہ 1953ء میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلی، علماء اہلسنّت نے مسئلہ ختم نبوت اور فتنۂ قادیانیت کو طشت از بام کیاجبکہ دوسری دفعہ 1974ء میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلی اورکامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔ قومی اسمبلی میںموجود علماء اہلسنّت (بریلوی)نے آئینی وقانونی طور پر قادیانیوں (احمدیوں/ لاہوریو ں)کو کافر قرار دلوانے کی قرار داد پیش کی اور انہیں کافر قرار دلوایا۔ یاد رہے دیوبندی مکتبہ فکر کے مولوی غلام غوث ہزاروی اور مولوی عبد الحکیم نے باوجود مفتی محمود دیوبندی کے اصرار کے اس قرار داد پر دستخط نہ کئے ۔
طوالت کے پیش نظر ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ورنہ پاکستان میں اس تحریک کی تاریخ بہت خونیںہے ۔ اللہ کریم ہم مسلمانوں کے ایمان وعقائد کی حفاظت فرمائے اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر اپنی جان ومال نچھاور کرنے والے جانثاران خاتم النبیین اپر کروڑوں رحمت ورضوان کی بارشیں برسائے ۔ آمین
مزید مطالعہ
ان فتنوں خصوصاً فتنۂ قادیانیت سے متعلق تفصیلی معلومات کیلئے مطالعہ کیجئے ۔
- برطانوی مظالم کی کہانی عبد الحکیم اخترشاہجہان پوری کی زبانی …مطبوعہ:فرید بک سٹال ، لاہور
- نجد سے قادیان براستہ دیوبند…مطبوعہ :مکتبۂ قادریہ ،سیالکوٹ
- عقیدۃ ختم النبوۃ …مطبوعہ:الادارۃ لتحفظ العقائد الاسلامیہ،کراچی