نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سوال نمبر1: قادیانیوں کی ابتدا کب سے ہوئی؟
جواب:۔ قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا آغاز بیسویں صدی عیسوی کی ابتدا سے ہوا ۔انیسویں صدی کے اختتام تک اگرچہ مرزا غلام قادیانی مختلف قسم کے دعوے کرتا رہتا تھا جن کی بناء پر مسلمانوں میں قادیانیوں کے خلاف بے چینی پیدا ہوچکی تھی۔ مگر اس وقت تک مرزا غلام قادیانی نے کوئی ایک صریح دعویٰ نہیں کیا تھا۔
مگر 1902ء میں یہود و نصاریٰ کی سرپرستی سے مرزا غلام قادیانی نے صریح نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔دعویٰ کرنے کے بعد برٹش حکومت نے اس خبیث کے جھوٹے دعووں کو خوب پانی دے کر مضبوط کیا جس کی وجہ سے عام مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان اختلاف شدید ہوگئے ۔
سوال 2:۔ حضورﷺکا خاتم النبین ہونا یعنی آخری نبی ہونا قرآن سے ثابت کیجئے۔
جواب : پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں اور جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ القرآن : ما کان مُحمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبین (ط)وکان اللہ بکل شی ئٍ علیماo
ترجمہ :محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ (سورۃ الاحزاب پارہ 22آیت نمبر40)
اس آیت مبارکہ سے یہ ثابت ہے کہ حضور ﷺ خاتم النبین یعنی آخری نبی اور نبوت کے سلسلے کے ختم ہونے پر مہر ہیں۔
سوال نمبر3: قادیانی اعتراض کرتے ہیں کہ اس آیت میں لفظِ خاتَم آیا لیکن ترجمہ لفظِ خاتِم کا کیوں کرتے ہو؟
جواب: صحابی رسول حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی قرات میں خاتِم النبین ہے۔ اس قرات سے صاف واضح ہوجاتا ہے کہ عقیدہ ختمِ نبوت قرآن مجید سے ثابت ہے۔اور قادیانیوں کے اعتراض کا رفع بھی ہے۔ اور خاتم (ت کے زبر کے ساتھ) قرات سے بھی حضور ﷺ پر نبوت کا ختم ہونا ثابت ہے ۔جیسا کہ سوال نمبر۴ کے جواب میں لفظ خاتَم کی لغوی اور اصطلاحی تحقیق سے واضح ہوجاتا ہے۔
سوال نمبر4 :لغت کی رو سے خاتم النبین کے کیا معنی ہیں؟
جواب: جہاں تک سیاق و سباق کا تعلق ہے وہ پوری طرح اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں خاتم النبین کے معنی سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے ہی کے لئے جائیں اور یہی سمجھا جائے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ لغت بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ عربی لغت و محاورے کی رو سے ’’ختم ‘‘ کے معنی بند کرنے اور کسی کام کو پوراکرکے فارغ ہوجانے کے ہیں۔
مثال : ختم العمل کے معنی ہیں فراغ من العمل ’’کام پورا کرکے فارغ ہوجانا ‘‘ ختم الکتاب کے معنی ہیں کتاب بند کرکے اس پر مہر لگادی تاکہ کتاب محفوظ ہوجائے ۔اسی طرح خاتم النبین کے معنی ہیں۔’’ جس نے نبوت کو ختم کردیا اور اس پر مہر لگادی اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لئے نہیںکھلے گا ‘‘(تفسیر ابن جریر جلد22صفحہ 12)
سوال نمبر5:۔ حضور ﷺ کا خاتم النبین ہونا یعنی آخری نبی ہونا حدیث سے ثابت کیجئے ؟
جواب : احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں ۔
حدیث : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضورﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمام انبیا علیہ السلام پر چھ باتوں میں فضلیت دی گئی ہے ایک تو یہ کہ مجھے جوامع الکلم عطا کئے گئے ہیں دوسرے یہ کہ رعب دیا گیا ہے تیسرے یہ کہ میرے لیے مال ِ غنیمت حلال کردیا گیا اور زمین میرے لئے پاک اور سجدہ گاہ بنائی گئی اور میں تمام مخلوقات کے لئے رسول بناکر بھیجا گیا اور ختم کی گئی مجھ پر نبوت ۔(بحوالہ مسلم شریف)
حدیث :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضوڑﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل پر انبیاء علیہ السلام حکمرانی کیا کرتے تھے جب ایک نبی وصال فرما جاتا تھا تو اس کے بعد دوسرا نبی آجاتا تھا اور تحقیق میرے بعد کوئی نبی نہیں عنقریب خلفا ہوں گے جو بہت کثرت سے ہوں گے ۔(بحوالہ بخاری شریف) اسی طرح کی احادیث بکثرت صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حضور ﷺ سے روایت کی ہیں اور بکثرت محدثین نے ان کو بہت سی مضبوط سندوں سے نقل کیا ہے ان کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے مختلف الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ الغرض کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے اور اس کے ختم پر مہر لگ چکی ہے۔
سوال نمبر6: حضورﷺ کے بعد اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ کون ہے ؟
جواب : اس کا جواب حضور ﷺ ملاحظہ ہو۔ حدیث :حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا اور یہ کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (بحوالہ :ابو دائود شریف) حضورﷺ کے بعد اگر کوئی نبی ہونے کا دعوی کرے تو وہ دجال وکذاب ہے۔
سوال 7: کیا حضور ﷺ کے خاتم النبین ہونے پر صحابہ کرام علیہم الرضوان کا اجماع ہے ؟
جواب:۔ قرآن اور حدیث کے بعد شریعت اسلامیہ میں تیسرا درجہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا اجماع ہے۔ یہ بات معتبر دلیلوں اور تاریخی ثبوت سے ثابت ہے کہ حضورﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد جن دجالوں نے نبوت کا دعووں کو تسلیم کیا ان سب کے خلاف صحابہ کرام علیہم الرضوان نے علم جہاد بلند کیا ۔
اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ مردود اعظم مسلیمہ کذاب کا معاملہ قابل ذکر ہے ۔مسلیمہ کذاب صرف حضورﷺ کے خاتم النبین ہونے کا منکر نہ تھا بلکہ اس کا دعوی یہ تھا کہ اس نے حضورﷺ کے وصال سے پہلے جو خط آپ ﷺ کو لکھا تھا اس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے : ’’ مسلیمہ رسول اللہ (معاذ اللہ ) کی طرف سے محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف ۔آپ ﷺ پر سلام ہو۔ آپ ﷺ کو معلوم ہو کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ طبری جلد دوم صفحہ نمبر 399مطبوعہ مصر )
اس کے علاوہ مورخ طبری نے یہ روایت بھی بیان کی کہ مسلیمہ کے ہاں جو اذان دی جاتی تھی اس میں اشھد ان محمد رسول اللہ کے الفاظ بھی کہے جاتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف علم جہاد بلند کیا ۔مسلیمہ کذاب کی ایک لاکھ فوج سے صرف دس ہزار مسلمانوں نے جنگ کی اور تمام صحابہ علیہم الرضوان نے اسے کذاب کہا اس لئے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا ۔
سوال نمبر8: کیا حضورﷺ کے خاتم النبین ہونے پر علمائے امت کا اجماع ہے ؟
جواب : قرآن مجید ،احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بعد علمائے امت کا مقام کے لحاظ سے اب ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی صدی سے لے کر آج تک ہر زمانے کے اور پوری دنیائے اسلام کے علمائے امت کس بات پر متفق ہیں۔
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ : امام اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعوی کیا اور کہا ’’ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامت پیش کروں‘‘اس پر حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص اس نبوت کی کوئی علامت طلب کرے وہ بھی کافر ہوجائے گا کیونکہ حضورعلیہ السلام فرماچکے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (مناقب امام اعظم ،لابن احمد المکی جلد اول صفحہ نمبر161مطبوعہ حیدر آباد 1321ء)
علامہ ابن جریر طبری رضی اللہ عنہ :
اپنی مشہور تفسیر قرآن میں اس آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیّن کا مطلب بیان کرتے ہیں کہ جس نے نبوت کو ختم کردیا اور اس پر مہر لگادی اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لئے نہیں کھلے گا ۔ (تفسیر ابن جریر جلد22صفحہ 12)
حضرت امام محی السنہ بغوی علیہ الرحمۃ:
آپ اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ذریعے نبوت کو ختم کیا پس آپ ﷺ ،انبیاء علیہم السلام کے خاتم ہیں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) یہ فیصلہ فرمادیا ہے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا ۔(جلد 3صفحہ153)
حضرت علامہ ابن نجیم علیہ الرحمہ :
اصول فقہ کی مشہور کتاب الاشباہ والنظائر ،کتاب السیر ،باب الرّوّہ میں لکھتے ہیں۔ اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمدآخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے کیونکہ یہ ان باتوں میں ہے جن کو جاننا اور ماننا ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ (صفحہ نمبر179)
حضرت امام ملا علی قاری علیہ الرحمۃ :
اپنی شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔
ہم نے چار جید علماء کرام کے حوالے دیئے ہیں جو عالم اسلام کی متفقہ بزرگ شخصیتیں ہیں۔ ان سب کا بلکہ لاکھوں علمائے امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضورﷺ آخری نبی ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
سوال نمبر 9: آخر میں کہیں گے کہ آپ نے سارے دلائل دیئے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تشریف لائیں گے وہ بھی تو نبی ہیں اس کا جواب دیں؟
جواب:۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ نزول ،نبی کی حیثیت سے نہیں ہوگا نہ ان پر وحی نازل ہوگی نہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نیا پیغام یا نئے احکام لائیں گے نہ وہ شریعت مصطفی ﷺ میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریں گے نہ ان کو تجدید دین کے لئے دنیا میں لایا جائے گا نہ وہ آکر لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیں گے اور نہ وہ اپنے ماننے والوں کی ایک الگ امت بنائیں گے ۔
وہ صرف اس کار خاص کے لیے بھیجے جائیں گے اور وہ یہ ہوگا کہ دجال کے فتنے کا خاتمہ کردیں ۔اس کام کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے طریقے سے نازل ہوں گے کہ جن مسلمانوں کے درمیان ان کا نزول ہوگا انہیں اس امر میں کوئی شک نہیں رہے گا کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں جو حضورﷺ کی بشارت کے مطابق ٹھیک وقت پر تشریف لائے ہیں۔
وہ آکر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوجائیں گے ،جو بھی اس وقت مسلمانوں کے امام ہوں گے ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے تاکہ شک کی کوئی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہ رہے کہ وہ اپنی سابق پیغمبرانہ حیثیت کی طرح اب پھر پیغمبری کے فرائض انجام دینے کے لئے واپس آئے ہیں ۔ ان سب باتوں کی بناء پر ان کی آمد سے مہر نبوت کے ٹوٹنے کا قطعاً کوئی سوال پیدا نہ ہوگا اس پر علمائے امت کے اقوال ملاحظہ ہوں :
حضرت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ:
آپ اپنی تفسیر جلالین صفحہ 768پر لکھتے ہیںوکان اللہ بکل شئی علیما یعنی اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم ہے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو آپ ﷺ کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے ۔
حضرت امام حافظ الدین النسفی علیہ الرحمہ :
اپنی تفسیر مدارک التنزیل صفحہ 471میں لکھتے ہیں ۔ ’’ اور آپﷺ خاتم النبین ہیں یعنی آپ ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی مبعوث نہیں کیا جائے گا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جہاں تک بات ہے وہ ان انبیا ء علیہم السلام میں سے ہیں جو حضورﷺ سے پہلے نبی بنائے جا چکے تھے اور وہ جب نازل ہوں گے تو وہ آپﷺ کی امت کے افراد میں سے ہوں گے۔
علمائے امت نے اس مسئلے کو پوری وضاحت کے ساتھ یوں بیان فرمایا ۔
حضرت امام تفتا زانی علیہ الرحمہ
آپ شرح عقائد نسفی مطبوعہ مصر صفحہ نمبر135پر لکھتے ہیں کہ یہ ثابت ہے کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں ۔اگر یہ کہا جائے کہ آپ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر احادیث میں آیا ہے تو ہم کہیں گے کہ ہاں آیا ہے مگر وہ حضورﷺ کے تابع ہوں گے کیونکہ ان کی شریعت منسوخ ہوچکی ہے اس لئے نہ ان کی طرف وحی ہوگی اور نہ وہ احکام مقرر فرمائیں گے بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نائب کی حیثیت سے کام کریں گے ۔
اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے متعلق حدیث ملاحظہ ہو :
حدیث : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ سے سناہے کہ پھر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ آیئے آپ نماز پڑھائیے مگر وہ کہیں گے کہ تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو (یعنی تمہارا امیر خود تمہی میں سے ہونا چاہئے) یہ وہ اس عزت کا لحاظ کرتے ہوئے کہیں گے جو اللہ نے اس امت کو دی ہے۔ (بحوالہ :مسلم ،بیان نزول عیسیٰ ابن مریم ،مسند احمد)
سوال نمبر 10:۔ کیا قادیانی کفریہ کلمات کہہ کر عام مسلمانوں کو بہکاتے ہیں؟
جواب:۔قادیانی سادہ مسلمانوں کو بڑی چالاکی سے پھانستے ہیں ۔یہاں تک کہ انہوں نے ایک اسٹیکر نکالا ہے جس پر پورا کلمہ طیبہ تحریر ہے اس طرح یہ پوری دنیا میں عام مسلمانوں کو بہکاتے ہیں کہ ہمارے عقائد مسلمانوں جیسے ہی ہیں لیکن ہم جھوٹا الزام لگاکر ہمیں اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ اب انہی کی کتابوں سے انہی کے دلائل ملاحظہ ہو ں:
دلیل : مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ہم نبوت کا دعویٰ کرنے والے پر لعنت بھیجتے ہیں اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت مصطفیﷺ ور حضورﷺ ،اللہ عزوجل کے ولیوں کو ملتی ہے اس کو ہم مانتے ہیں۔ غرض نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں،صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے۔ (اشتہار از مرزا غلام قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت جلد6صفحہ نمبر302)
دلیل : مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ یہ عاجز نہ نبی ہے اور نہ رسول ہے ،صرف اپنے نبی معصوم محمدﷺ کا ایک ادنیٰ غلام اور پیرو ہے ۔(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ قصر ابدی ،مولف قمر الدین جہلمی صفحہ 58)
مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ اقوال ابتدائی دور کے تھے جن سے وہ عالم اسلام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتا تھا اور بعضوں کو اپنا پیرو کار بھی بنالیتا تھا۔
سوال نمبر11:۔ پھر وہ کون سے دعوے ہیں جن کی بناء پر علمائے امت نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں پر کفر کا فتوی لگایا ہے ؟
جواب:۔ ایک نہیں سینکڑوں ایسے دعوے ہیں جو یہ ثابت کردیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دور کا دجال تھا اور اس کے ماننے والے بھی شیطان ہیں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی باتی خود اسی کی کتابوں سے
امتی اور نبی :
بعد میں اللہ تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے اوپر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور سچے نبی ہونے کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو نبی اور ایک پہلو سے امتی ۔ (حقیقۃ الوحی ،مرزا غلام احمد قادیانی صفحہ نمبر 149)
غیر صاحب شریعت :
مرزا لکھتا ہے کہ اب حضورﷺ کی نبوت کے علاوہ ساری نبوتیں بند ہیں ۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہونہیں سکتا مگر وہی جو پہلے سے امتی ہے پس اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔(معاذ اللہ )
مرزا غلام قادیانی پر نبوت ختم :
اس امت میں نبی کا مرتبہ پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس مرتبہ کے مستحق نہیں ہیں۔(معاذ اللہ) (بحوالہ : حقیقۃ الوحی ،مرزا قادیانی ،صفحہ نمبر291) یہ وہ جھوٹے دعوے ہیں جن کی بناء پر مرزا غلام قادیانی کو اور اس کے ماننے والے کو کافر قرار دیا گیا ہے۔
سوال نمبر12:۔ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ مانے اس کے بارے میں قادیانیوں کا کیا موقف ہے ؟
جواب: ۔ مرزا غلام احمد قادیانی جو شخص نبی نہیں مانتا گمراہ ہے (معاذ اللہ ) حرام کی اولاد ہے۔ یہ سب مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب میں موجود ہے ۔
عبارت نمبر1:۔ کل مسلمانوں نے مجھے قبول کرلیا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرلی ہے مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا ۔ (بحوالہ : آئینہ کمالات صفحہ نمبر54)
عبارت نمبر2: مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی، یہودی ،مشرک اور جہنمی ہے۔ (تحفہ گولڑیہ 31تبلیغ رسالت جلد 9صفحہ 27)
عبارت نمبر3: مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ جو شخص ہماری فتح کو نہیں مانے گا۔ (یعنی نبوت کے دعوئوں کو تسلیم نہیں کرے گا) تو صاف سمجھا جائے گا کہ اسکو والد الحرام بننے کا شوق ہے ۔ ( بحوالہ : نور السلام صفحہ 30)
مرزا کو جو نبی نہ مانے وہ کافر ہے : (معاذ اللہ )
جب علماء اہلسنت نے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی تحریک اٹھائی تو قومی اسمبلی ( پاکستان ) کے ایک رکن نے علماء اہلسنت سے کہا کہ آپ کیوں قادیانیوں کے پیچھے پڑے ہیں تو اس وقت رکن قومی اسمبلی حضرت علامہ عبد المصطفیٰ الازہری اعظمی علیہ الرحمہ وہاں موجود تھے آپ نے فرمایا ٹھہر جائو ابھی فیصلہ ہوجائے گا ۔
علامہ ازہری صاحب نے قادیانیوں کے ذمے دار شخص کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ اگر کوئی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ مانے تو آپ اس کو کیا کہیں گے؟
قادیانی نے جواب دیا کہ ہم اس کو کافر مانتے ہیں یہ سن کر قومی اسمبلی کے رکن جو یہ کہہ رہے تھے کہ آپ کیوں قادیانیوں کے پیچھے پڑے ہیں ،کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ تو ہم سب کو کافر کہہ رہا ہے ۔ الغرض ثابت ہوا کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ مانے وہ قادیانیوں کے نزدیک کافر ہے۔
سوال نمبر 13: قادیانیوں کے خلاف سب سے پہلے کفر کا فتوی کس نے دیا ؟
جواب :۔ قادیانیوں کے خلاف سب سے پہلے کفر کا فتویٰ اعلیٰ حضرت مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں احب فاضل دیا جس کی تمام علماء کرام اور مفتیان کرام نے تائید کی ۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے تن تنہا ایسا قدم اٹھا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ ہمیشہ حضور ﷺ کی محبت میں فتوے دیا کرتے تھے الغرض اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے قادیانی جیسے فتنے کو بے نقاب کیا ۔
سوال نمبر14: حکومت پاکستان نے قادیانیوں کس سن میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا؟
جواب:۔ علماء اہلسنت خصوصاً علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی صاحب ، علامہ عبد المصطفیٰ الازہری صاحب، حضرت علامہ عبد الستارخاں نیازی صاحب حضرت مولانا سید شاہ تراب الحق قادری صاحب کی دن رات محنتوں سے آخر کار حکومت پاکستاب نے 7ستمبر 1974کے مبارک سن قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ۔
سوال نمبر 15: قادیانیوں کے ناپاک عزائم بیان کیجئے ۔
جواب: عام سادہ لوح لوگوں کو قادیانی بناکر ان کے دلوں میں خاتم المرسلین کی محبت کو ختم کرکے یہود اور عیسائیوں کے اشاروں پر ناچنے والے چیلے پیدا کرنا ۔
شہر کراچی اپنی جغرافیائی اہمیت کے حوالے سے بین الاقوامی طاقتوں کی دلچسپی کو مرکز بن چکا ہے اور اس کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے کی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔ ایک طرف این جی اوز فلاح و بہبود کی آڑ میں گمراہی کا جال بچھائے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف آغاخانی اپنی کمیونٹی کو مظبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔تیسری طرف عیسائی مشنری کی سرگرمیاں پورے زور و شور سے جاری ہیں اور پچھلے چند ماہ سے احمدی (قادیانی بھی مکمل کھل کر سامنے آگئے ہیں اور ان کی خفیہ و اعلانیہ سرگرمیاں پورے شہر بالخصوص ضلع وسطی میں اپنے عروج پر ہیں۔بدقسمتی سے شہر کے حالات اور ناسور کی طرح پھیلتی ہوئی بے روزگاری ان کی سرگرمیوں میں بے حد مددگار ثابت ہورہی ہے اور لوگ روٹی کے چند ٹکڑوں اور تھوڑے روپوں کی خاطر ایمان جیسی بیش بہا انمول دولت مجبوراً بیچنے پر آمادہ ہوگئے ہیں ۔قادیانی غریب اور سادہ لوح عوام کو بہکا کر اور پیسوں کا لالچ دے کر قادیانی بنانے میں مصروف عمل ہیں۔
شہر کراچی میں قادیانیوں کے مراکز:
اس وقت شہر کے مختلف علاقوں شاہ فیصل کالونی ،گلستان جوہر ،گلشن ایف بی ایریا ،لانڈھی ،اورنگی ،بلدیہ ،صدر اور دوسرے مصروف علاقے قادیانیوں کی سرگرمیوں کے مراکز کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ۔ذرائع کے مطابق یہ تمام مراکز ایف بی ایریا بلاک نمبر 1میں واقع خور شید میموریل ہال سے متصل احمدی مرکز مجلس خدام الاحمدیہ عزیز آباد سے کنٹرول کئے جاسکتے ہیں۔
عام مسلمانوں کو بہکانے کا طریقہ :۔
قادیانیوں نے عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اسلامی اصطلاحوں کے استعمال کو اپنا شعار بنا رکھا ہے جبکہ شہر میں قائم اکثر قادیانی عبادت گاہوں میں باقاعدہ محراب ومنبر اور گنبد اور مینار تعمیر کرکے انہیں مساجد کے مشابہ بنادیا گیا ہے تاکہ عام مسلمان اسے مسجد سمجھ کر نماز کے لیے اس میں داخل ہوجائے اور اس طرح اپنے ایمان اور نماز کو نادانستگی میں ضائع کربیٹھتے ہیں۔
قادیانیوں کو یہودیوں کی سر پرستی حاصل ہے :
ذرائع کے مطابق جماعت الاحمدیہ کا مرکز 18گرلیں ہال ،ایس ڈبلیو 5.18کیو ایل میں قائم ہے اس کا ٹیلی فون 10.8708517ہے۔ جماعت الاحمدیہ کا مرکزی امیر طاہر احمد قادیانی جو کہ اس وقت قادیانیوں کا سربراہ ہے اور یہ لندن میں ہی رہتا ہے اور وہیں سے دنیا بھر میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔لندن ہی سے ایم ٹی اے چینل بھی نشر کیا جاتا ہے جس میں ملعون مرزا طاہر احمد قادیانی کا خطاب ،مردود غلام احمد قادیانی کے حالات زندگی اور اس کی گمراہ کن تعلیمات چوبیس گھنٹے دنیا بھر میں نشر کی جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مرزا طاہر نے قادیانیوں کو اس سال کے آخر تک کے لیے دو کروڑ کو بیعت کرنے کا (یعنی گمراہ کرنے کا )ٹارگٹ دیا ہے۔
قادیانیت کی تعلیم کے لیے دفاتر :
ربوہ کی انتظامیہ کے زیر اہتمام دفاتر مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان 212685دفتر مجلس انصاراللہ پاکستان 212982
دفتر لجنہ اماء اللہ پاکستان (خواتین ونگ) 21260روزنامہ الفضل (قادیانیت کا پرچار ) 213029فضل عمر (ملعون مرزا غلام احمد کا الہامی نام)اسپتال 970.115جامعہ احمدیہ (جہاں ملک بھر سے احمدی اور مسلمان بچوں کو قادیانیت کی تعلیم دی جاتی ہے )21317کے دفاتر چالئے جاتے ہیں۔
قادیانی عقائد کا پرچار:۔
ذرائع کے مطابق شاہ فیصل کالونی میں احمدیہ بیت المبارک قادیانی سرگرمیوں کا فعال مرکز ہے۔ اس مرزا واڑے کا انتظام وہاں صدر اسحاق کی ذمہ داری ہے جو اس مرزا واڑے کے بالکل سامنے ہی رہائش پذیر ہے اور اس کے گھر سے متصل قادیانی کیسٹ ہائوس قائم ہے جس میں اندرون سندھ سے پسماندہ اور غریب سندھی مرد و خواتین کو علاج و معالجے اور نوکریوں کا لالچ دے کر لاکر ٹھہرایا جاتا ہے اور انہیں شہر کے مختلف مرزا واڑوں میں جاکر قادیانی عقائد سے متعلق تعلیم وتربیت دی جاتی ہے اور مسلمانوں سے ایمان کی دولت چھین لی جاتی ہے۔
جہاد منسوخ کردیا گیا:
مرزا غلام احمد قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے بعد سب سے پہلے اس نے یہ اعلان کیا کہ اے مسلمانو! تم سے جہاد منسوخ کردیا گیا یہ تو اس وقت تھا اب اس کی کیا ضرورت ہے پس خاموشی کے ساتھ انگریز سرکار پیروی کرو۔
لمحہ فکریہ :
اے میرے محترم عزیز مسلمانو! قادیانی فتنہ دیمک کی طرح اسلام کی جڑوں کو کوکھلا کررہا ہے یہ لوگ اسلام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بھی سخت دشمن ہیں قادیانی لندن اور امریکہ میں بیٹھ کر اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف بھی پلان بناتے ہیں۔
حکومت وقت کو بھی ہوش کے ناخن لینا چاہئیں کہ ان بد مذہبوں اتنی ڈھیل دی ہوئی ہے کہ وہ کھلے عام اپنے باطل مذہب کا پرچار کرتے پھررہے ہیں۔
اے میرے بھائیو! آج ہم چین کی نیند سورہے ہیں ،تعیّشات کا شکار ہوگئے ہیں اور یہ لوگ ہمارے سیدھے سادھے مسلمانوں کو مال و دولت دے کر خرید لیتے ہیں ۔آج اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ کراچی کے سب سے مہنگے علاقے ڈیفنس میں قادیانیوں کے بنگلوں کی اکثریت ہے یہ لوگ مال و دولت اور جواب لڑکیاں دے کر مسلمانوں کے ایمان خرید لیتے ہیں ۔حال ہی میں اس وقت کے قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر نے انٹرنیٹ پر یہ اعلان کیا کہ اس وقت دنیا میں قادیانیوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔
اے میرے بھائیو! یہ سب کون تھے یہ سب کے سب سنی تھے مگر ہماری غفلت کی وجہ سے قادیانی ہوگئے ۔قادیانیوں نے انٹرنیٹ پر حضورﷺ کے خلاف ،اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کررکھا ہے جس نے ہزاروں مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل کررہا ہے۔
اب ہمیں غفلت کی نیند سے بیدار ہونا ہوگا اور اپنے دین کو بچانے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی ورنہ اس کے نقصان بہت زیادہ ہوسکتے ہیں۔
اے میرے پیارے اللہ عزوجل !اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے و طفیل ہم سب مسلمانوں کی جان و مال عزت وآبروبالخصوص عقیدے وایمان کی حفاظت فرما۔
آمین ثم آمین بجاہ حبیبک سید المرسلین ﷺ اپنے شہزادؔ کو یہ قوت دو کہ بدعقیدگی کی کرے روک تھام اس ناتوا پر رکھ دو اپنا دست شفقت یا رسول اللہﷺ
تمت بالخیر
کتبہ الفقیر محمد شہزاد قادری ترابی غفرلہ 15شعبان 1421ھ بمطابق 12نومبر 2000ء