Skip to content

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور میلاد النبی ﷺ

عقائدِاہلسنتشخصیات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

’’ صحابہ نے یہ عمل کیا ہو ، ایک حدیث بتائیں؟پھر آپ کو اجازت ہے جو چاہے کریں، یہ چراغاں کس صحابی نے کیا، اگر یہ چراغاں کرنا باعث اجرو ثواب ہے ،یہ جلوس نکالنا، یہ خوشی کا طریقہ اﷲ کے نبی کی شریعت میں ہے تو دلیل دو ، کیا نبی کے صحابہ نے کیا ؟

عرض ہے کہ منکرین کو چاہئے کہ ان کاموں کے ناجائز ہونے پر شرع سے ممانعت کی کوئی دلیل بیان کریںکہ قرآن کی فلاں آیت میں ہے کہ خبردار میلاد النبی ﷺ پر چراغاں نہ کرو ،جھنڈے نہ لگائو، کوئی ایک آیت بتائیں ؟یا کسی حدیث میں یہ ممانعت آئی ہو،یا صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین میں سے کسی نے ان کاموں سے منع کیا ہو؟

جب ممانعت کی کوئی دلیل نہیں تو یہ کہنا کہ یہ کام نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام یا صحابہ کرام نے نہیں کیا، لہذا بدعت ہے یا منع ہے ، یہ دھونس،دھاندلی اور لوگوں دھوکہ دینا ہے، اُمت محمدیہ میں انتشار وافتراق پیدا کرنا ہے۔

منکرین میلاد یہ بتائیں کہ کیا یہ شریعت کے اصول میں سے کوئی اصول ہے کہ صحابہ نے میلاد النبی ﷺ اس طرح نہیں منایا تو اس کا منانا ناجائز ہے ؟کیا شریعت کے قانون میں کوئی ایسا قانون ہے کہ جو کام صحابہ نے نہ کیا تو اُمت مسلمہ کو وہ کام کرنا جائز نہیں ، کیامنکرین کے سارے کام صحابہ کرام کے معمولات جیسے ہیں ؟ کیا کھانا پینا،لباس ، ملازمت ، شادی ، غمی وغیرہ اسی طرح ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ یا صحابہ کرام کا تھا؟

زمانے کی ارتقاء کے ساتھ ساتھ طریقے بدلتے رہتے ہیں، ہاں خلاف شرع نہ ہوں ، یہ بات یاد رکھیں ! زمانہ حَکَمْ نہیں ہوتا کہ یہ کام فلاں زمانہ میں نہیں تھا لہذا اب ناجائز ہے ، بلکہ قرآن وحدیث حَکَم ہوتے ہیں، کسی بھی کام کے متعلق یہ دیکھا جائے گا کہ یہ کام قرآن و حدیث کے خلاف ہے یا نہیں، ذکر مصطفیٰ ﷺ کرنا قرآن وحدیث کے خلاف نہیںہے۔

اصلِ اباحت کا اصول

اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

{وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا} (الحشر : ۷)

ترجمہ: اور جو رسول تمھیں دیں تو وہ لے لو اور جس چیز سے روکیں تو اس سے رک جاؤ۔

معلوم ہوا کہ جس کام کا نہ حکم دیا نہ منع کیا وہ نہ واجب ہے نہ گناہ پس جاننا چاہیئے کہ جو طریقِ محبت کتاب و سنّت سے ثابت ہے وہ ضرور قابل عمل ہے اور جو کتاب و سنّت میں منع ہے مثلاً اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا اگرچہ سجدہ کرنے والا کتنی ہی اعلیٰ محبت کا دعویٰ کرے مگر اس کے باوجود یہ طریقِ محبت مردود و باطل اور ضرور ناقابل عمل ہے باقی رہی تیسری صورت کہ نہ اس کا حکم ہے اور نہ اس سے منع کیا یعنی وہ طریق محبت جس سے کتاب وسنّت نے سکوت کیا ہے اس سے متعلق کیا حکم ہے؟ غور سے سنئے ! اس تیسری صورت کے متعلق امام ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ ’’فتح الباری‘‘ شرح ’’صحیح البخاری‘‘ میں لکھتے ہیں:

إن کانت ممّا تندرج تحت مستحسن في الشرع فہي حسنۃ وإن کانت ممّا تندرج تحت مستقبح في الشرع فہي مستقبحۃ وإلا فہي من قسم المباح۔ (فتح الباری، ـ ج۴،ص۲۹۴،طبعۃ دار الحدیث، قاہرۃ۔)

ترجمہ۔ اگر وہ ایسی چیز کے تحت ہے جس کی خوبی شرع سے ثابت ہے تو وہ اچھی ہے اور اگر کسی ایسی چیز کے تحت ہے جس کی برائی شرع سے ثابت ہے تو وہ بری ہے اور جو ان دونوں کے تحت نہ ہو تو وہ مباح قسم سے ہے یعنی اس کاکرنا یا نہ کرنا دونوں برابر ہے۔

محبت و تعظیم رسول صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے وہ تمام طریقے بھی جائز ہوں گے جو خلاف شرع نہ ہوں اگرچہ ان کا ثبوت صراحتًا قرآن و حدیث سے نہ ملے البتہ وہ طریقہ جو خلاف شریعت مطہرہ ہو‘ جس کی ممانعت آئی ہو قابل عمل نہیںہوگا۔

خودمخالفین کے ایک معتبر عالم شیخ وحید الزمان اپنی کتاب میں ایک حدیث اسی سلسلے میں لکھتے ہیں، سماعت فرمائیے:

کلّ شيء لک مطلق حتی یرد فیہ نھي۔ (لغات الحدیث، کتاب الطاء، ۳ / ۳۸ ،مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی)

ترجمہ: ہر چیز کا کرنا تجھ کو روا ہے یہاں تک کہ اس کی ممانعت میں کچھ واردنہ ہوجائے۔(ترجمہ ازشیخ وحید الزمان)

نیز شیخ وحید الزمان خود اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں یعنی قرآن یا حدیث میں اس کی ممانعت نہ آجائے یہ حدیث دین کی ایک بڑی اصل ہے تمام کھانے ‘پینے ‘پہننے‘کی چیزیں دنیا کے رسم و رسومات مباح (جائز)ہیں جب تک کہ ان کی ممانعت کسی نص سے ثابت نہ ہو۔

محبتِ رسول ﷺ ہی اصلِ میلاد ہے

خوب یاد رکھیے ! محفلِ میلا د ہو یا نعت خوانی، چراغاں ہو یا جلوس کی شکل میں کسی مقام پر پہنچنا تاکہ علماء کی تقریر سے استفادہ کریں، یہ امور قرون ثلاثہ میں اپنی مر وّجہ صورت میں بعینہ موجود نہ تھے مگر ان کی اصل ضرور ملتی ہے اور یہ تمام کام محبتِ رسول اور تعظیمِ رسول صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بنیا د پر کیے جاتے ہیں اور محبت وتعظیمِ رسول، کتاب وسنّت سے اظہر من الشمس ہے پس یہ امور ایسی چیز کے تحت ہیں جس کی خوبی شرع سے ثابت ہے لہٰذا محض قرونِ ثلاثہ میں ان کا ثبوت نہ ہونے سے ان کا باطل ومردود ہونا لازم نہیں ہے اگر مخالفین اپنی بات کا بھرم رکھنا چاہتے ہیں تو ان امور کی مذمّت،کتاب و سنّت سے بتائیں ورنہ شور نہ کریں۔

دلیل منع کرنے والے کے ذمہ ہوتی ہے، اگر کسی کام کی ممانعت شرع سے ثابت نہ ہو تو وہ مباح ہے، آپ میلاد النبی منانے کی ممانعت میں کوئی حدیث یا اقوال صحابہ یا اقوال ائمہ دکھائیںجس میں یہ الفاظ لکھے ہوں کہ خبردار میلاد النبی نہ منانا، یہ اصول معترضین اپنے ہی کسی پڑھے لکھے مستند عالم سے پوچھ لیں۔ کسی کام کا قرون اولیٰ میں نہ ہونا ممانعت کی دلیل نہیں ہوتی، ہر کام کے متعلق یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس میںمخالفت شرع تو نہیں؟ تلاوت، نعت، ولادت مصطفیٰ ﷺ کا بیان کرنا ، خوشی میں روشنی کرنا، صدقات کرنا،شرع میں منع نہیں۔

سلف صالحین اور میلاد

سلف صالحین نے بھی میلاد منایا ، خواہ ان کی نوعیت دور حاضر کے جلسوںجیسی نہ رہی ہو، چنانچہ مولانا عبدالحی لکھنوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میلاد شریف حضور ﷺ کے زمانہ میں بھی تھا اور صحابہ کے زمانہ میں بھی تھا وہ لکھتے ہیں :

’’اس کا وجود زمانہ نبوی اور زمانہ صحابہ کے میں بھی تھا اگرچہ اس نام سے نہ تھا،ماہرین فن حدیث پر مخفی نہ ہوگا کہ صحابہ مجالس وعظ اور تعلیم علم میں فضائل نبویہ اور ولادت احمدیہ کا ذکر کرتے تھے‘‘۔ (مجموعہ فتاویٰ، مطبوعہ کانپور، جلد ۲،ص۱۵۰)

علامہ سعدالدین تفتازانی علیہ الرحمہ (متوفی۷۹۳ھ)شرح مقاصد میں فرماتے ہیں :

’’ ومن الجھلۃ من یجعل کل امر لم یکن فی زمن الصحابۃ بدعۃ مذموتہ وان لم یقم دلیل علی قبحہ تمسکاً بقولہ علیہ السلام ایاکم ومحدثات الامور ولا یعلمون ان المراد بذٰلک ھو ان یجعل فی الدین مالیس منہ ‘‘۔(علامہ سعد الدین تفتازانی : شرح المقاصد : جلد ۵ : ص۲۳۲)

ترجمہ۔ ’’ وہ لوگ جاہل ہیں جو ہر اس کام کو بدعت مذمومہ قرار دے دیتے ہیں جو صحابہ کے دور میں نہ ہو اگرچہ اس کی قباحت پر کوئی دلیل شرعی نہ ہو اور ان کا استدلال حضور علیہ السلام کے اس ارشاد گرامی سے ہے کہ محدثات سے بچو حالانکہ وہ جانتے نہیں کہ اس سے مراد کسی ایسی شئے کو دین میں داخل کرنا ہے جو دین سے نہ تھی ‘‘۔

حضور ﷺ کے دور میں مدرسہ کو صفہ کہا جاتا تھا، اَب مدرسہ کہا جاتا ہے اور اَب زمانے کی ارتقاء کے ساتھ اس کی ہیئت ہی اور ہے، تو اَب اس طرح کے مدارس کو ناجائز نہیں کہا جائے گا ۔

منکرین بدعت کی کوئی ایسی تعریف کریں کہ جس میں حضور ﷺ کے صدیوں بعد لکھی جانے والی حدیث کی کتاب بخاری شریف کا ختم ہر سال منعقد کرانا ، اس پر مسرت کا اظہار کرنا، ، اسے جشن بخاری یا ختم بخاری کا نام دینا ، ختم کے بعد شیرینی تقسیم کرنا تو عین حضور ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے عمل کے مطابق ہو، اور میلاد النبی ﷺ کے جلسے منعقد کرنا بدعت ہو جائے؟

مجلسِ ذکرِ میلاد پر ایک اہم حدیث

نسائی شریف کی حدیث ہے کہ :

’’عن ابی سعید الخدری قال: قال معاویۃ (رضی اللہ عنہ) ان رسول اللہ ﷺ خرج علی حلقۃ ، یعنی من اصحابہ ، فقال : مااجلسکم ؟ قالوا : جلسنا ندعوا للہ ونحمدہ ماھدانالدینہ ومن علینا بک قال اللہ ما اجلسکم الا ذلک قالوا اللہ ما اجلسنا الا ذلک قال اما انی لم استحلفکم تھمۃ لکم وانما اتانی جبریل فاخبرنی ان اللہ عزوجل یباھی بکم الملائکۃ ‘‘۔ (نسائی شریف ، باب کیف استحلف الحاکم، حدیث نمبر ۵۴۲۸، مطبوعہ دارالسلام ریاض)

’’ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی ﷺ باہر نکلے صحابہ کرام کے حلقہ پر آپ نے دریافت فرمایا تم کس وجہ سے بیٹھے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ سے دُعا اور اس کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے اپنا دین ہم کو بتلایا اور ہم پر احسان کیا آپ کو بھیج کر، آپ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ، تم اس وجہ سے بیٹھے ہو ؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم اسی واسطے بیٹھے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تم کو اس لئے قسم نہیں دی کہ جھوٹا سمجھا بلکہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ اللہ تم لوگوں سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے ‘‘۔

اس حدیث شریف سے یہ صاف واضح ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہم اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بھیج کرہم پر احسان فرمایا۔

صحابہ کرام کا مجلس بنا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بھیج کرہم پر احسان فرمایا‘‘ اگرصحابہ کا حلقہ مجلس میں ایسا کہنا بدعت نہیں تو اہل سنت کاحلقہ مجلس کا انعقاد کرکے ایسا کہنا کیوں بدعت ہے ؟

اَب قارئین ہی انصاف فرمائیں کہ اس حدیث شریف سے نبی کریم ﷺ کی تعریف ثابت ہورہی یا نہیں ؟ اور حضور نبی کریم ﷺ کی آمدکے احسان کا ذکر ، ذکر میلاد نہیں تو اور کیا ہے ؟اور دیوبندی نے بھی اپنے ترجمہ میں اس کا اعتراف کیا ہے، ہم نے نیچے سکین میں اس کوانڈر لائن کردیا ہے۔

امام مالک کا ادبِ رسول ﷺ

امام قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی مشہور کتاب’’الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰﷺ‘‘ میں لکھتے ہیں!

’’کان مالک اذا ذکر النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یتغیر لونہ وینحنی ‘‘۔ (اندلسی ،قاضی عیاض بن موسیٰ ، الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ: ج۲،ص۳۳)

ترجمہ۔ یعنی امام مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب بھی نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام اقدس سنتے تو ان کا رنگ(بوجہ ہیبت وعظمت اسم اقدس) متغیر ہوجاتا اور نام اقدس سننے کی وجہ سے سرنگوں ہوجاتے تھے۔

حضرت امام مالک رضی اﷲ عنہ، (۹۳ھ ۔۱۷۹ھ)تبع تابعی ہیں، محدث ہیں ، اہل سنت کے فقہ مالکی کے امام ہیں ،آپ کی کتاب ’’موطا امام مالک‘‘ کا بہت بڑا مقام ہے، حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر سے بدکنے والوں سے سوال ہے کہ امام مالک رضی اﷲ عنہ کو کون سی حدیث سے یہ ثبوت ملا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے نام اقدس کو سن کر سر جھکا لیا جائے؟۔ الشفاء میں ’’ینحنی‘‘ کا لفظ ہے، یعنی ادب سے جُھک جاتے، کیا اتنے بڑے امام اور محدث کو کسی نے بدعتی کہا ہے؟ ، یہ صرف منکرین کا کام ہے کہ خود تو اپنے نصیب میں ادب کرنا ہے نہیں ، اور جو بھولے بھالے مسلمان تعظیم وادب کرتے ہیں، ان کو پریشان کرتے ہیں اور ان کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں کہ یہ بدعت ہے وہ بدعت ہے، اور اپنے اس گھنائونے جرم سے پیٹ پالنے کے لئے مسلمانوں میں تفرقہ کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

امام مالک علیہ الرحمہ(تبع تابعی) مدینہ منورہ میں سوار ہوکر نہیں نکلتے تھے ، اس کا سبب یہ فرمایا کرتے تھے کہ سواری کے سم سے ایسی سرزمین کے روندنے میں جہاں رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک ہو مجھے اللہ سے شرم وحیا آتی ہے ۔

(بستان المحدثین، از شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، ص۲۲)

امام مالک علیہ الرحمہ کے ان معمولات سے ہم پر وارد شدہ الزام کو باطل کرنے کی وجہ ٔاستدلال یہ ہے کہ اگر بقول مخالفین ہر وہ کام جو قرونِ ثلاثہ (عہدِ رسالت و صحابہ و تابعین ) سے ثابت نہ ہو بدعت سیّئہ، گمراہی اور دخولِ جہنم کا باعث ہے تو امام مالک علیہ الرحمۃ پر اعتراض ہوگا کہ ان کے یہ کا م بھی قرون ثلاثہ میں ثابت نہ تھے، صحابہ کرام نے نہیں کئے، تو کیا معاذ اﷲ ! مخالفین کے نزدیک امام مالک گمراہ اور جہنمی ہیں اگر مخالفین اس کا اقرار کریں تو یہ باطل و مردود ہے کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ اہل اسلام نے امام مالک علیہ الرحمہ کو بالا تفاق حدیث و فقہ کا امام تسلیم کیا ہے نہ کہ گمراہ اور جہنمی۔

اور اگر مخالفین امام مالک علیہ الرحمہ کے گمراہ اور جہنمی ہونے کا انکار کریں تو پھر ان افعال پر ہمیں گمراہ اور جہنمی بنانے کی تردید ہوجائے گی جو بہ ہیئت کذایہ (موجودہ حالت میں) قرونِ ثلاثہ میں ثابت نہ تھے۔

اوّلاً : یہ بات مخالفین کے اختراعی قاعدہ کے بطلان سے متعلق بیان ہوئی ہے ۔

ثانیاً : ہم پوچھتے ہیں کہ مخالفین کا یہ قاعدہ بیان کرنا کہ وہ ہر کام جو قرونِ ثلاثہ (عہدِرسالت وصحابہ وتابعین ) سے ثابت نہ ہو وہ بدعت سیئہ، گمراہی اور دخول جہنم کا باعث ہے ۔

کونسی آیت قرآن یا حدیثِ حبیب رحمن سے ثابت ہے؟ اگر ثابت نہیں اور ہر گز ثابت نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ مخالفین کا علی الاطلاق ذکر کردہ یہ قاعدہ ہی اختراعی اور من گھڑت ہے۔

ثالثاً: ہم یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ امام مالک علیہ الرحمہ کے ذکر کردہ معمولات قرون ثلاثہ میں ثابت نہ بھی ہوں مگر ان کی اصل تو شریعت مطّہر ہ میں ملتی ہے اور وہ تعظیم و محبت رسول ہے کیونکہ امام مالک علیہ الرحمہ کا ان افعال مذکورہ پر عمل پیرا ہونے کی بنیاد بلاشبہ تعظیم و محبت رسول صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم پر تھی نیز یہ افعال خلاف شرع بھی نہ تھے اور یہ بات أظہر من الشمس وأبین من الأمس ہے کہ تعظیم و محبت رسول صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تاکید و اہمیت، کتاب و سنّت میں جابجا آئی ہے لہٰذا یہ کام اگرچہ بدعت (نئے ) ہی کیوں نہ ہوں مگر قابل اعتراض نہیں بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہوں گے کیونکہ ان کی بنیاد و مبنی محبت مصطفی اور تعظیم مجتبیٰ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم ہے جو کتاب و سنّت سے ظاہر و باہر (روشن)ہے ۔

کسی کام کا کرنا نبی کریم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم اور صحابہ و ائمہ سے منقول نہ ہو تو اس سے یہ لاز م نہیں آتا ہے کہ انہوں نے یہ کام کیاہی نہ ہو البتہ یہ فائدہ ضرور حاصل ہوگا کہ احادیث و آثار میں اس کام کا کرنا بیان نہیں ہوا نہ یہ کہ اس کا م کا نہ کرنا بیان ہوا ہے جیسا کہ مخالفین نے سمجھ لیا ہے لہٰذا مخالفین اگر سچے ہیں تو بتائیں کہ کس حدیث رسول یا اثر صحابی میں یہ بیان آیا ہے کہ رسول اﷲ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم یا کسی صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے میلاد نہیں منایا ہے؟ ہماری طرف سے مخالفین کو اجازت ہے کہ وہ تمام کتبِ احادیث و آثار کا مطالعہ کرکے ایک ایسی حدیث یا اثر بحوالہ بیان کردیں جس میں یہ مذکور ہو کہ رسول اﷲ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم یا کسی صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہو کہ ہم نے میلاد نہیں منایا یا ہم میلاد نہیں مناتے ہیں باقی رہی اصول کی بات تو سنئے ’’تفسیر کبیر‘‘ میں امام فخر الدین رازی فرماتے میںہے:

عدم الوجدان لا یدل علی عدم الوجود۔

(’’التفسیر الکبیر‘‘ لبقرۃ : ۸۱،جـ ۱، صـ ۵۶۹، طبعۃ دار إحیاء التراث، بیروت)

ترجمہ:یعنی کسی چیز کا نہ پایا جانا اس کے نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔

’’فتح القدیر‘‘ میں ہے :

عدم النقل لاینفی الوجود۔

(’’شرح فتح القدیر‘‘، کتاب الطہارات، جـ ۱، صـ۲۰ ،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

یعنی کسی چیز کے منقول نہ ہونے سے اس کی نفی نہیں ہوتی ہے۔

بر سبیل تنزّل بقول مخالفین نبی کریم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے میلاد نہیں منایا لیکن اصول میں سے ایک اصل یہ بھی ہے کہ کسی کام کا نہ کرنا الگ بات ہے اور کسی چیز سے منع کرنا الگ بات ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ وہ کام ممنوع ہے جس سے نبی کریم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے منع کیا ہے لیکن وہ کام مطلقاً ممنوع نہیں ہے جو نبی کریم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے نہ کیا ہو، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَآ اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوْا (الحشر:۷)

ترجمہ :اور رسول جو تمھیں دیں تو وہ لے لو اور جس چیز سے روکیں تو اس چیز سے رک جاؤ

اﷲ تعالیٰ نے یوں نہیں فرمایا کہ ما فعل الرسول فخذوہ وما لم یفعل فانتھوا یعنی جس کام کو رسول نے کیااسے تو کرلو اور جو کام نہیں کیا اس سے رک جاؤ لہٰذا مخالفین زیادہ بات بنانے کے بجائے ایک ایسی قرآن کی آیت یا کوئی حدیث ِرسول بتائیں جس میں اﷲ تعالیٰ یا اس کے رسول صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے میلاد منانے سے منع کیا ہو اگر ایسی بات نہیں ہے اور یقینًا نہیں ہے تو فرمانِ الہی پر غور کریں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلاَ تَقُوْلُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہَـذَا حَلاَلٌ وَّہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُوْنَ [النحل:۱۱۶]۔

ترجمہ :اور جھوٹ نہ بولو جن کے بارے میں تمہاری زبانیں بیان کرتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اس طرح تم اﷲ تعالیٰ پر جھوٹا افترا باندھوگے، بے شک جو لوگ اﷲ تعالیٰ پر جھوٹے بہتان تراشتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

دیگر ائمہ کے اقوال

امام جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ لکھتے ہیں:

’’میرے نزدیک میلاد کے لئے اجتماع تلاوت قرآن،حضورصلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی حیات طیبہ کے مختلف واقعات اور ولادت کے موقع پر ظاہر ہونے والی علامات کا ذکر ان بدعات حسنہ میں سے ہے جن پر ثواب مترتب ہوتا ہے کیوں کہ اس میں آپ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تعظیم و محبت اور آپ کی آمد کی خوشی کا اظہار ہے‘‘۔

(’’الحاوي للفتاوِي‘‘، جـ ۱، صـ ۲۲۱ ،دار الفکر، بیروت)

شیخ ابن تیمیہ متوفی ۷۲۸ھ لکھتے ہیں:

’’بعض لوگ جو محفل میلاد کا انعقاد کرتے ہیں ان کا یا تو مقصد عیسائیوں کے ساتھ مشابہت ہے کہ جس طرح وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دن مناتے ہیں یا مقصد فقط رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وٍسلم کی محبت اور تعظیم ہے اگر دوسری صورت ہے تو اﷲ تعالیٰ ایسے عمل پر ثواب عطا فرمائے گا‘‘۔

(اقتضاء الصراط المستقیم، مطبوعہ ریاض، ص۶۱۹)

نیز لکھتے ہیں:

’’اگر محفل میلاد کے انعقاد کا مقصد تعظیم رسول علیہ الصلاۃ والسلام ہے تو اس کے کرنے والے کے لئے اجر عظیم ہے جس طرح میں نے پہلے بیان کیا ہے‘‘۔(اور صاف ظاہر ہے کہ مسلمان ممالک میں محافل میلاد کے انعقاد میںسوائے تعظیم و محبت رسول صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے اور کوئی بھی مقصد پیش نظر نہیں ہوسکتا )۔

(’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘، صـ۶۲۱)

میلاد کی خوشی میں اہل حرمین کا جلوس

’’ امام قطب الدین حنفی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ (المتوفی ۹۹۰ھ) جو کہ مکہ مکرمہ میں علوم دینیہ کے استاذ تھے، اہل مکہ مکرمہ کے معمولات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ ۱۲؍ ربیع الاوّل کی رات ہر سال باقاعدہ مسجد الحرام میں اجتماع کا اعلان ہوجاتا تھا، تمام علاقوں کے علماء، فقہاء، گورنر اور چاروں مذاہب کے قاضی مغرب کی نماز کے بعد مسجد الحرام میں اکٹھے ہوجاتے،تمام مشائخ اورمشہور معزز لوگوں کے طائفے(جتھے) ادائیگی نماز کے بعد سوق اللیل سے گزرتے ہوئے مولد النبی ﷺ کی زیارت کے لئے جاتے ، ان کے ہاتھوں میں کثیر تعداد میں شمعیں، فانوس اور مشعلیں ہوتیں ، وہاں لوگوں کا اتنا کثیر اجتماع ہوتا کہ جگہ نہ ملتی، پھر ایک عالم دین وہاں خطاب کرتے، تمام مسلمانوں کے لئے دُعا ہوتی پھر تمام لوگ دوبارہ مسجد حرام میں آجاتے، واپسی پر مسجد حرام میں بادشاہ وقت دستار بندی کرتا، پھر عشاء کی اذان اور جماعت ہوتی، اس کے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے، یہ اتنا بڑا اجتماع ہوتا کہ دُور دراز دیہاتوں ، شہروں حتیٰ کہ جدّہ کے لوگ بھی اس محفل میں شریک ہوتے اور آپ ﷺ کی ولادت پر خوشی کا اظہار کرتے تھے ‘‘۔

(شیخ قطب الدین مکی حنفی : الاعلام باعلام بیت اﷲ الحرام ، مطبوعہ مطبع خیریہ مصر ۱۳۰۵ھ،ص۲۹۷، ۲۹۸)

امام ابو شامہ کا فتویٰ

امام حافظ ابو محمد عبدالرحمن شہاب الدین ابو شامہ مقدسی شافعی علیہ الرحمہ المتوفی۶۶۵ھ(جو کہ مرتبہ اجتہاد پر فائز تھے) نے بدعت کے موضوع پر ایک کتاب’’الباعث علی انکار البدع والحوادث‘‘ لکھی جس میں انہوں نے بدعت کی نشان دہی کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ محفل میلاد ہرگزہرگز بدعت نہیں اگر اسے بدعت کہنا ہی ہے تو بدعت حسنہ (یعنی اچھا نیا طریقہ) کہا جائے ، ان کی عبارت مع ترجمہ درج ذیل ہے :

’’ ومن احسن البدع ما ابتداء فی زماننا ھذا من ھذا القبیل ماکان یفعل بمدینۃ اربل کل عام فی الیوم الموافق لیوم مولد النبی ﷺ من الصدقات والمعروف واظھار الزینۃ والسرور فان ذلک مع ما فیہ من الاحسان الی الفقراء یشعر بمحبۃ النبی ﷺ وتعظیمہ وجلالتہ فی قلب فاعلہ وشکر اﷲ تعالیٰ علی مامن بہ من ایجاد رسولہ الذی ارسلہ رحمۃ للعالمینﷺ ‘‘ ۔ (الباعث علی انکار البدع والحوادث، مطبوعہ مکہ مکرمہ۱۹۸۱ء، ص۲۱)

(ہمارے زمانے میں شہر اربل میں حضور ﷺ کی ولادت باسعادت کے دن جو صدقات ، اظہار زینت اور خوشی کی جاتی ہے ، یہ بدعت حسنہ کے زمرے میں شامل ہے ، کیونکہ اس کے ذریعے فقراء کی خدمت کے علاوہ حضور ﷺ کی محبت ، جلال اور تعظیم کا بھی اظہار ہوتا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے بصورت رحمۃ للعالمین جو عظیم نعمت عطا فرمائی اس پر شکر یہ بھی ہے۔)

(امام ابو شامہ علیہ الرحمہ کے اس عقیدہ پر وہابی محشی نے حاشیہ میں اپنی بد عقیدگی کی وجہ سے اختلاف کیا ہے ،ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہم مصنف کی بات مانتے ہیں)

محدّث امام ابو محمد ابوالقاسم شہاب الدین عبدالرحمن بن اسماعیل المقدسی الشافعی الدمشقی المعروف بأبی ابو شامہ رحمۃ اﷲ علیہ (المتوفی ۶۶۵ھ) کوئی معمولی عالم نہیں تھے، حافظ ابن کثیر دمشقی اور ان کے شاگرد مشہور نقاد حافظ شمس الدین ذہبی نے ان کو’’ مجتہد‘‘ لکھا یعنی یہ مسائل میں اجتہاد کرسکتے تھے۔

(حافظ ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ، جز ۱۷، ص۴۷۳) (حافظ شمس الدین ذہبی، تذکرۃ الحفاظ، ص۱۴۶۰)

امام ابوشامہ نے صاف لکھا کہ اس دن جو صدقات ، اظہار زینت اور خوشی کی جاتی ہے یہ بدعت حسنہ میں شامل ہے۔ بدعت حسنہ بُراکام نہیں ہوتا، اچھا کام ہوتا ہے ،

کیاجھنڈے لگانا ، بلب روشن کرنا ، بلبوں کی لڑیاں جھالریں لگانا اظہار زینت اور جلوس نکالناخوشی میں شامل نہیں ؟

سمجھنے والے کے لئے تو یہ کافی ہے، ضد اور ہٹ دھرمی کا علاج نہیں ہوتا۔