Skip to content

زلزلہ

ردِّ دیوبندیت

یہ تحریر جزوی طور پر سنواری گئی ہے، تعاون کرکے اس مکمل کریں۔

اس کتاب میں دیوبندی لٹریچر کے حوالوں سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ جن امور کو علمائے دیوبند انبیاء و اولیاء کے حق میں شرک قرار دیتے ہیں انہی امور کو وہ اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں عین ایمان و اسلام سمجھتے ہیں اس کتاب کے مطالعہ سے ان کی توحید پرستی کا سارا بھرم کھل جائے گا۔

(ارشد القادری)

بِسمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم

ھدیہ تشکر

سب سے پہلے میں خدائے قادر وکریم کی بارگاہ میں خراج تشکر پیش کرتاہوں کہ اس نے زلزلہ کے ذ ریعہ لاکھوں سرگشتان وادی ضلالت کو حق و ہدایت کی منزل کی طرف پلٹنے کی توفیق مرحمت فرمائی اور صرف اپنے فضل و کرم سے قلم کی ایک حقیر خدمت کو عالمی شہرت و اعزاز کا شرف بخشا ۔

قارئین اس واقعہ سے بے خبر نہ ہوں گے کہ ذہن وفکر میں زلزلہ ڈالنے والی اس تاریخی کتاب کے جواب میں دیونبدی جماعت کی طرف سے کئی کتابیں شائع کی گئیں جس کے جواب الجواب پر مشتمل ’’زیر وزبر ‘ ‘کے نام سے ایک ضخیم کتاب میں نے تصنیف کی جو چھپ کر ساری دنیا میں پھیل گئی۔

بخیہ اُدھیڑنے کا محاورا غالباً آپ نے سنا ہو گا اگر اس محاورے کو محسوس شکل دیکھنا چاہتے ہیں то ’’زیر و زبر ‘ ‘ کا مطالعہ فرما ئیے کتاب کیا ہے دیوبند کے مسند نشینوں کے سروں پر قہر الٰہی کی ایک لٹکتی ہوئی تلوار ہے پانچ سال سے یہ کتاب ان کی غیرت کو چیلنج کر رہی ہے۔ لیکن ہر طرف موت کا سنّاٹا طاری ہے اب دیوبندی عوام ہی اگر چاہیں تو ان کے علماء کا مہر سکوت ٹوٹ سکتا ہے ۔
ارشدالقادری مہتمم مکتبہ جام نور فیض العلوم ۔جمشید پور(بہار) ۱۷ ـ ؍ اگست ۱۹۸۴؁ ء

دیباچہ

اپنی اس کتاب کا نام’’ زلزلہ‘ ‘رکھتے وقت زلزلہ کا مفہوم واضح طور پر میرے ذہن میں موجود تھا ۔ مجھے توقع تھی کہ یہ کتاب افکار اور توقعات کی دنیا میں تہلکہ خیز ثابت ہو گی خیالات کے پرانے پیمانے ٹوٹیں گے نظریات کی بنیادیں متزلزل ہو گی مسلمات کی عمارتوں میں شگاف پڑے گا اور اذہان کی آبادیاں تہہ وبالا ہو کر رہیں گی۔

چناچہ جب یہ کتاب چھپ کر مارکیٹ میں آئی اور اہل فکر کے مختلف حلقے اس سے رو شناس ہوے تو توقعات سے کہیں زیادہ اثر پذیری کے واقعات ظہور میں آئے انصاف کی نظر سے جس نے بھی اس کتاب کا مطالعہ کیا وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا اس میں کوئی شبہ نہیںہے کہ اپنے مواد ا ورطریقہ استدلال کے لحاظ سے یہ کتاب ملک کے وسیع حلقے پر اثر انداز ہوئی۔

دیوبندی علماء کے بارے میں جن حضرات کو یہ خوش فہمی تھی کہ عقیدہ توحید کے صحیح علمبردار وہی ہیں اور انبیاء اور اولیاء کے متعلق جن عقیدوں کو وہ کفر اور شرک قرار دیتے ہیں وہ کسی قلبی تکدر کے نتیجے میں نہیں بلکہ عقیدۂ توحید کی حمایت کے جذبے میں ہے ۔کتاب کے مطالعہ کے بعد انہیں بھی کچھ اس طرح ذہنی تصادم سے دوچار ہونا پڑا کہ دیوبندی مذہب کے متعلق ان کے پچھلے تصورات کے سارے تار وپود بکھرگئے۔

جن خوش نصیبوں کو حق تعا لیٰ نے حق قبول کرنے کی توفیق مرحمت فرمائی وہ تاریکوں سے اجالوں کی طرف برملا واپس لوٹ آئے لیکن جن کے قلوب کے دروازے مقفل تھے انھوں نے کتاب کے مطالعے کے ردِ عمل سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ذہنی تسکین کا ایک نہایت گھٹیا طریقہ اختیار کیا کہ کتاب میں جتنے حوالے دیئے گئے ہیں وہ صحیح نہیں ہوں گے اور انعام کا اعلان صرف دھونس جمانے کے لئے ہے لیکن جب انہیں حوالے کی اصل کتابیں دکھلا دی گئیں تو ان پر سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی اور بہت دیر تک وہ محو حیرت رہے بالآخر حسن فریب کا وہ سارا طلسم ٹوٹ گیا جس میں وہ سالہا سال سے اسیر تھے۔

دیوبندی علما ء پر اس کتاب کا جو ردِ رعمل ہوا وہ سب سے زیادہ دلچسپ ہے تقریباًسبھی افراد نے ’’مکمل خاموشی‘‘ کو اس کتاب کا بہترین جواب قرار دیا جب بھی ان کے سامنے کسی نے ’’زلزلہ ‘‘ کی بات کی انہوں نے اپنے کان بند کر لئے ۔

البتہ ندوۃ العلماء لکھنؤ میں جب مولانا علی میاں کے سامنے ’’زلزلہ ‘‘ کا وہ حصہ پیش کیا گیا جس کا تعلق ان کی کتاب ’’سیرت احمد شہید‘‘میںبیان کئے گئے ایک واقعہ سے ہے تو انہوں نے اصل کتاب منگوائی سوء اتفاق کہیے کہ حوالہ کی عبارت اور اصل کتاب کی عبارت میں دو لفظ کا فرق نکل آیا اورغضب یہ ہوا کہ’’ زلزلہ‘‘ میں جو بحث اٹھائی گئی تھی اس میں ساری بحث کا وہی مرکزی نقطہ تھا اب وہ چند طلباء جو ’’زلزلہ ‘ ‘کی حمایت میں سرگرم تھے سینکڑوں دوسرے طلباء کے سامنے بالکل نکو بن گئے اور انہیں سخت ذلت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسرے دن ایک طالب علم نے نہایت گرم اور جھلسا دینے والا خط مجھے لکھا کہ آپ نے اپنی کتاب کے صفحہ ۲۲۵ پر سید احمد شہید بریلوی کے متعلق علی میاں کی کتاب ’’سیرت احمد شہید ‘‘سے جو عبارت نقل کی ہے وہ یہ ہے:

’’ستائیسویں شب کو آپ نے چاہا کہ ساری رات جاگوں اور عبادت کروں، مگر عشاء کی نماز کے بعد کچھ ایسانیندکا غلبہ ہوا کہ آپ سو گئے ، تہائی رات کے قریب دو شخصوں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر جگایاآپ نے دیکھا کہ آپ کے دائیں طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بائیں طرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بیٹھے ہوئے ہیں ، اور آپ سے فرما رہے ہیں احمد جلد اٹھ اور غسل کر۔

سید صاحب ان دونوں حضرات کو دیکھ کر دوڑ کر مسجد کے حوض کی طرف گئے اور باوجودیہ کہ سردی سے حوض کا پانی یخ ہو رہا تھا آپ نے اس سے غسل کیا اور فارغ ہو کر خدمت میں حاضر ہوئے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ فرزند آج شب قدر ہے ،یاد الہٰی میں مشغول ہو اوردعاو مناجات کرو اور اس کے بعد دونوں حضرات تشریف لے گئے ۔ (سیرت سید احمد شہید، صفحہ ۸۴ )

اس عبارت سے جو استدلال آپ نے کیا ہے وہ یہ ہے:

صحتِ واقعہ کی تقدیر پر کوئی بھی یہ سوال کر سکتا ہے کہ عالم بیداری میں حضورِ پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کاعقیدہ کیا غیب دانی اور اختیار اور تصرف کی اس قوت کو ثابت نہیں کرتا جسے کسی مخلوق میں تسلیم کرنامولوی اسمٰعیل دہلوی نے شرک قرار دیا ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر علم غیب نہیں تھا تو انہیں کیونکر معلوم ہواسید احمد بریلوی میرا فرزند ہے اور وہ فلاں مقام پر سو رہا ہے، پھر اگر حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم میں تصّرف کی قدرت نہیں تھی تو اپنے حریم اقدس سے زندوں کی طرح کیوںکر باہر تشریف لائے؟

(’’زلزلہ‘ ‘ ، صفحہ ۲۱۶)

ظاہر ہے کہ اس ساری بحث کی بنیاد بیداری کی حالت میں واقعہ پیش آنے پر ہے اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ واقعہ بیداری کا نہیںبلکہ خواب کا ہے تو اب کسی اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کیونکہ خواب میں محال سے محال چیز بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

اتنی تفصیل کے بعد اس طالب علم نے مجھے اطلاع دی کے اصل کتاب میں بیان واقعہ کی عبارت یوں ہے:

’’تہائی رات کے قریب دو شخصوں نے ہاتھ پکڑ کر جگایا آپ نے خواب میں دیکھا ۔‘‘ الخ

جب کہ آپ کی منقولہ عبارت میں خواب کا لفظ نہیں ہے۔اس لئے حالت بیداری کی بنیاد پرجو الزام آپ نے مصنف پر عائد کیا ہے وہ سر تا سر غلط اور بے محل ہے۔

اس طالب علم کا خط پڑھ کر مجھے تھوڑی دیر کے لئے پریشانی ضرور لاحق ہوئی لیکن حوالہ کی اصل کتاب دیکھنے کے بعدفورا ً زائل ہو گئی، الحمدللہ حوالہ کی عبارت حرف بحرف اس اصل کتاب کے مطابق تھی، جس کے پبلشر مولانا محمد ناظم صاحب ندوی ہیںاور جو با ہتمام سید توسل حسین مینیجر یونائیٹڈانڈیا پریس لکھنٔومیں چھپی ہے۔

علاوہ ازیں عبارت کے سیاق و سباق میںمتعدد قرائن بھی ایسے موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیںکہ واقعہ خواب کا نہیں عین حالت بیداری کا ہے پس اگر کتاب کے کسی تازہ ایڈیشن میں ــــ’’خواب میں‘‘کا لفظ بڑھایا گیا ہے تو قرائن کی موجودگی میں مقام کی یہ خیانت چھپائے نہیںچُھپ سکے گی۔

اب ذیل میں ان قرائن کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔

پہلا قرینہ:

تو یہ ہے کہ صاحب مخزن(مخزنِ احمدی) کی روایت کے مطابق جو علی میاں کی کتاب کا اصل ماخذہے جب رمضان کی اکیسویں شب کو سید صاحب حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اس عشرہ کی کس رات میں شب بیداری کر کے شب قدر کی سعادت حاصل کی جائے تو انھوں نے جواب دیا کہ اگر تمھارے حال پر اللہ کا فضل ہے تو شب قدر میں اگر تم سوتے بھی رہو گے تو اللہ تم کو جگا کر ان برکات میں شریک کر دے گا چنانچہ ان کے فرمانے کے مطابق جب آپ سوگئے تو دو شخصوں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر جگایا اس لئے ثابت ہوا کہ جگانے کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ خواب کا نہیں بیداری کا ہے ورنہ شاہ صاحب کی پیشن گوئی بالکل خلاف ِواقعہ بن کے رہ جاتی ہے۔

دوسرا قرینہ:

یہ ہے کہ عقلی دلالت سے بھی زیر بحث عبارت ’’خواب میں‘‘کے اضافے کی متحمل نہیں ہے کیوں کہ اضافے کے بعد عبارت یوں ہوگی۔

’’دو شخصوںنے آپ کاہاتھ پکڑکرجگایا۔آپ نے خواب میںدیکھا…الخ‘‘ کسی دانشور کے نزدیک یہ عبارت بالکل بے جوڑ کہی جائے گی کیونکہ جگانے کے بعد ازروئے عقل جاگنا ہی متوقع ہے نہ کہ خواب دیکھنا اس لئے ماننا پڑے گا کہ جو واقعہ پیش آیاتھاوہ خواب کا نہیںبیداری کا تھا‘‘۔

تیسرا قرینہ:

یہ ہے کہ صاحب ِ مخزن کی روایت کے مطابق سیّد صاحب بارہافرمایا کرتے تھے کہ اس رات کو اللہ کے فضل سے واردات عجیب اور واقعات غریب دیکھنے میں آئے ہیں اور اس وقت فناء کلی اور استغراق کامل مجھے حاصل ہوا ۔

سوال یہ ہے کہ جگانے کے بعد بھی اگر وہ سوتے ہی رہے تو اس میں فضلِ خداوندی کی کیا بات ہوئی اور استغراقِ کامل کی کیفیت تو بیداری ہی کی حالت میں قابلِ ذکر ہو سکتی ہے نیند کی حالت میں تو سبھی مستغرق نظر آتے ہیں۔

چوتھا قرینہ:

یہ ہے کہ صبح کو جب سیّد صاحب نے حضرت شاہ صاحب سے ملاقات کی تودیکھتے ہی انہوں نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ آج کی شب تم اپنی مراد کو پہنچ گئے۔

سوال یہ ہے کہ جو شخص شب ِ قدر میں ساری رات سوتا رہااور رسول و صدیق ﷺ و رضی اللہ عنہ کے جگانے پر بھی نہیں جاگااس کے متعلق یہ کہنا کہ تم اپنی مراد کو پہنچ گئے جتنا لغو ، مہمل اور مضحکہ خیز ہوسکتا ہے اظہر من الشمس ہے۔ انہی نکات و البحاث پر مشتمل میں نے ندوۃ کے طالب علم کو جواب لکھ بھیجا اور وہ لوگ خاموش ہوگئے یا مطمئن ہوگئے۔


دیوبندی علماء کے گروہ میں مولانا عامر عثمانی مدیر تجلّی دیوبند وہ تنہا شخص ہیں جنہوں نے نہایت جرأت کے ساتھ حقائق کاسامناکیااوریہ محسوس کئے بغیر کہ ان کے گروہ کے لوگ اُنہیںکیاکہیںگے اُنہوںنے اپنے طویل تبصرہ میں برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ ’’زلزلہ‘ ‘میں پیش کردہ الزامات کا جواب بڑے سے بڑا منطقی اور علامۃ الدھر بھی نہیں دے سکتا، بلکہ تجلّی کے مئی ۱۹۷۳ء کے شمارے میں اُنھوں نے دارالعلوم دیوبند کے جملہ مدرسین کو للکارتے ہوئے لکھا۔

’’ہم تو جب جانیں کہ ہمارے دارالعلوم کے کوئی بلند قامت مناظر اور علامہ ان تعریضات کا جواب لائیں جو زلزلہ نامی کتاب میں جمع کی گئی ہیں مولاناارشاد ہی یہ کام کر دیں تو انکی کلاہ افتخار میں چار پانچ چاند لگ جائیں گے۔‘‘ (ماہنامہ تجلی،دیوبند، شمارہ مئی ۱۹۷۳ء ،ص ۹۵)

مولانا عامر عثمانی نے اپنے تبصرے میں لکھا تھا کہ اصولاًاس کتاب کا جواب مولانا طیّب صاحب مہتمم دار العلوم دیوبند اور مولانا منظور نعمانی کو دینا چاہئے چنانچہ میں نے ان دونوںحضرات کو لکھا کہ اس کتاب میں آپ کے اکابر کے خلاف جو الزامات ہیں اُنھیں رفع کر کے اپنے مذہب کی وکالت کا حق ادا کیجئے لیکن الزامات کا جواب توکیا دیتے کہ میرے جوابی خط کا جواب بھی ان حضرات نے آج تک نہیں دیا۔

ابھی چند ماہ ہوئے بھمیڑی (بمبئی، مہاراشٹر)ہی میں ایک مذہبی نزاع کے موقع پر علمائے اہلسنت اور علمائے دیوبندکے چند مشاہیر آئے ہوئے تھے۔ اس وقت ’’زلزلہ‘‘ پر مولانا عامر عثمانی کے تبصرہ کا جب ذکر آیا تو دیوبندی علماء نے اپنے عوام کو یہ تاثر دیا کہ دس ہزار روپے لے کر عامرعثمانی نے یہ تبصرہ لکھا ہے۔

ہم نے عرض کیا کہ اولاً تو یہ الزام نہایت ناپاک ، سرتا سربہتان اور دروغ محض ہے ۔ ثانیاً یہ کہ مولانا عامر عثمانی کے متعلق بالفرض اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ اُنھوں نے رشوت لے کراپنے مذہب کا خون کیا ہے تو یہ دیوبندی گروہ کے منہ پر دوسرا طمانچہ ہوگاکہ وہ بہرحال ہمارے نہیں آپ ہی کے گروہ کے عالم ہیں،ثالثاً یہ کہ مولانا عامر عثمانی پر یہ ناپاک الزام عائد کرنے کے بعد بھی کتاب کے جواب کا مطالبہ اپنی جگہ پر ہے۔

آج بھی منتظر ہوں کہ دیوبندی مذہب کا کوئی بھی لائق فرزند اُٹھ کر یا تو زلزلہ میںپیش کئے ہوئے حوالوں کو غلط ثابت کر دے یا ان حوالوں سے جو نتائج اخذ کئے گئے ہیں اُس کی غلطی واضح کرے یا پھر تیسری صورت وہی ہے جو مولانا عامر عثمانی نے اپنے تبصرے میں تجویز فرمائی ہے کہ دیوبندی کتابوں کو چوراہے پر رکھ کر آگ لگا دی جائے۔


اسے سر تاسر خدا کا فضل ہی کہا جا سکتا ہے کہ میری توقعات سے کہیں زیادہ اس کتاب کو قبول عام اور شرف امتیاز حاصل ہوا ملک کے طول و عرض میں شاید ہی کوئی خطہ ہو جہاں سے ’’زلزلہ‘‘ کی مانگ نہ آئی ہو یہاں تک کہ حجاز ِ مقدس ، بحرین، دوبئی، افریقہ اور انگلینڈ تک ’’زلزلہ‘‘کا اثر محسوس کیا گیا اور وہاں سے کتاب کی فرمائش آئی۔

زلزلہ کی حمایت میںتجلی کے علاوہ متعددماہناموںنے مضامین شائع کئے جن میںسے قابلِ ذکرماہنامہ ’’المیزان‘‘کچھوچھہ شریف اور ماہنامہ ’’اعلیٰ حضرت‘‘ بریلی شریف ہیںکتاب کے مطالعے سے متاثر ہو کر بیشمار حضرات نے اپنے دعاناموں میں میری حوصلہ افزائی فرمائی اور اسے موضوعِ بحث اور بیان و استدلال کی معقولیت کے اعتبار سے وقت کی گراں بہا تصنیف قرار دیا۔


یہ بھی قبولِ عام ہی بات کہی جا سکتی ہے کہ یونائٹیڈ اسٹیٹ آف امریکہ کی لائبریری آف کانگریس کے ایک مراسلہ کے مطابق واشنگٹن میں انیس لائبریریوں کے تعاون سے جو دنیا کی سب سے بڑی لائبریری قائم کی جا رہی ہے اس کے منتظمین نے ہندوستانی زبان کے کتابوں میں سے نمائش کے لئے ’’زلزلہ‘‘ کو منتخب کیا ہے۔

اس مراسلہ کا اردو ترجمہ اسی پیش ِ لفظ میں کہیں ملاحظہ فرمائیے ۔

قارئین کے اصرار پر مولانا عامر عثمانی مدیر تجلی دیوبند کا تبصرہ بھی اپنے جواب کے ساتھ کتاب سے منسلک کر دیا گیا ہے ان کے تبصرہ کے ساتھ میرا جواب بھی پڑھئے۔


تبصرہ مولانا عامر عثمانی مدیر تجلی دیوبند

زلزلہ

مصنف: ارشد القادری، صفحات۳۰۴، کاغذ سفید، سائز چھوٹا، کتابت وطباعت معمولی ، قیمت چار روپئے، مکتبہ جام نور فیض العلوم جمشید پور۔

اس کتاب کے فاضل مصنف بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیںہمیں یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اس کا اندازِ تحریر عام بریلوی ارباب ِ قلم کی معروف خامیوںسے خاصی حد تک پاک ہے اور ان کے علم کلام میں معقولیت کا عنصر بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ابھی ان میں پوری پختگی نہ آئی ہو۔ کتاب کا نام کچھ مناسب نہیں معلوم ہوتا اس افسانوی نوع کے نام نے کتاب کی علمی ثقاہت کو مجروح کیا ہے کاش کوئی ایسا نام رکھا جاتا جس میںثقاہت کے علاوہ نفسِ موضوع کی طرف اشارہ ہوتا۔

اس کتاب میں صاحب ِ کتاب نے علما ء دیوبند کی تحریروں سے یہ واضح کیا ہے کہ یہ حضرات عقائد کے معاملے میں سخت تضادات کے شکار ہیں اور جن اُمور کو یہ بریلویوں کے تعلق سے بدعت و شرک اور کفر وغیرہ لکھتے ہیں انہیں وہ اپنے بزرگوں کے لیے عین ایمان قرار دیتے ہیں۔

بات اگراس اوندھے علمِ کلام کی ہوتی جس کا مظاہرہ بریلوی مکتب فکر کی طرف سے بالعموم پمفلٹوں اور پوسٹروں وغیرہ میں کیا جاتارہتا ہے تو ہم نوٹس ہی نہ لیتے مگر یہ کتاب دستاویزی حقائق اور ناقابلِ تردید شواہد پر مشتمل ہے اور فاضل مصنف اکثر و بیشتر سنجیدگی کا دامن تھامے رہے ہیںلہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ ہم بے لاگ تبصرے کا فرض ادا نہ کریں۔

کتاب کی ترتیب یوں ہے کہ مصنف ایک طرف تو حضرت اسمٰعیل شہید کی ــــ’’تقویۃ الایمانـــــ‘‘ اور بعض علمائے دیوبند کی کتابوں سے یہ دکھلاتے جاتے ہیں کہ انبیاء و اولیاء کے حق میں علم غیب اور تصرف وغیرہ کے عقیدے کو علمائے دیوبند نے شرک و بدعت اور خلاف ِ توحید کہا ہے اور دوسری طرف یہ دکھلاتے ہیں کہ خود اپنے بزرگوں کے حق میں یہ سارے عقائد علمائے دیوبند کے یہاں موجود ہیں۔

بات یقینا تشویشناک ہے مصنف نے ایسا ہرگز نہیں کیا کہ ادھر اُدھر سے چھوٹے موٹے فقرے لے کر ان سے مطالب پیدا کیے ہوں بلکہ پوری پوری عبارتیں نقل کی ہیں اور اپنی طرف سے ہرگز کوئی معنیٰ پیدا نہیں کیے ہیں اگرچہ ہم حلقہ دیوبندہی سے تعلق رکھتے ہیںلیکن ہمیں اس اعتراف میں کوئی تامل نہیں کہ اپنے ہی بزرگوں کے بارے میں ہماری معلومات میں اس کتاب نے اضافہ کیا اور ہم حیرت زدہ رہ گئے کہ دفاع کریں تو کیسے؟دفاع کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا کوئی بڑے سے بڑا منطقی اور علامۃ الدھر بھی ان اعتراضات کو دفع نہیں کر سکتا جو اس کتاب کے مشتملات متعدد بزرگانِ دیوبند پر عائد کرتے ہیںہم اگر عام روش کے مطابق اندھے مقلد اور فرقہ پرست ہوتے تو بس اتنا ہی کہہ سکتے تھے کہ اس کتاب کا ذکر ہی نہ کریں ۔ لیکن خدا بچائے اشخاص پرستی اور گروہ بندی کی باطل ذہنیت سے ہم اپنا دیانت دارانہ فرض سمجھتے ہیں کہ حق کو حق کہیں اور حق یہی ہے کہ متعدد علمائے دیوبند پر تضاد پسندی کا جو الزام اس کتاب میں دلیل و شہادت کے ساتھ عائد کیا گیا ہے وہ اٹل ہے۔

یہ دیوبندیوں کے لٹریچر کی خاصی مشہور کتابیں، ارواح ثلٰثہ، تذکرۃ الرشید،سوانح قاسمی، اشرف السوانح، الجمیعۃ کا شیخ الاسلام نمبر، انفاس ِ قدسیہ وغیرہ انکی صورتیں دیکھنے اور کہیں کہیں سے پڑھنے کا شاید ہمیں بھی اتفاق ہوا ہو لیکن یہ ’’زلزلہ‘‘ ہی سے منکشف ہوا کہ ان میں کیسے کیسے عجوبے اور کیسی کیسی اَن کہنیاںمحفوظ ہیں استغفر اللہ ثم استغفراللہ۔ واقعہ یہ ہے کہ فحش ناول بھی اپنے قارئین کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتے جتنا ان کتابوں نے پہنچایا ہوگا انکے باقی اوراوراق پر چاہے حقائق اور معارف کے ڈھیر لگے ہوں لیکن جو اقتبا سات ’’زلزلہ‘‘ میں نقل کیے گئے ہیں وہ بجائے خود اس کے لیے کافی ہیں کہ سادہ لوح قارئین کی دھجیاں اُ ڑا دیں اور خدا پرستی کی جگہ اُنہیں ’’بزرگ پرستی‘‘ کاایسا سبق دیں جس کے زہر کا کوئی تریاق نہ ہو۔

مصنف بار بار پوچھتے ہیں کہ علمائے دیوبند کے اس تضاد کا جواب کیا ہے؟ انصاف تو یہ ہے کہ اس سوال کاجواب مولانامنظور نعمانی یامولانامحمدطیّب صاحب کودیناچاہئے مگروہ کبھی نہ دیںگے کیونکہ جواعتراض ایک ناقابلِ تردید صداقت کی حیثیت رکھتا ہے اس کا جواب دیا بھی کیا جا سکتا ہے مگر ہمیں چونکہ علمائے دیوبند کی اندھی وکالت نہیںکرنی ہے اس لئے موٹا سا جواب ہم دیتے ہیںکہ مرحوم علماء دیوبند صرف عالم ہی نہیں تھے بلکہ صوفی اور شیخ بھی تھے تصوف کتنا ہی محتاط ہو وہ اپنے ساتھ کشف و کرامات اور تحیرات اور تصرفات کے طلسم خانے ضرور لاتا ہے پھر یہ طلسم خانے مریدانِ باصفاکی اندھی عقیدت مندیوں اور خوش فہمیوں کی آمیزش سے تہہ در تہہ ہوتے چلے جاتے ہیںیہاں تک کہ شریعت کے محکم اصول و عقائد کے لئے انکی حیثیت چیلنج کی ہوجاتی ہے اور قرآن و سنت کو معیار بنانے والے ناقدین کی زبانیں یہ کہنے پر مجبور ہوجاتی ہیں کہ تصوف نشہ ہے، سفسطہ ہے، شریعت کا دُشمن ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ تذکرہ الرشید اور سوانح قاسمی اور اشرف السوانح جیسی کتابوں سے کچھ یہ توقع رکھنی ہی نہیں چاہئے کہ وہ افسانہ تراشیوںاورمغالطوں کی آمیزش سے پاک ہونگی ارادت مند حضرات جب اپنے ممدوحوں کے تذکرے لکھتے ہیںتوناممکن ہوجاتاہے کہ وہ فنِ روایت کے اس اعلیٰ اور احوط معیار کا لحاظ رکھ سکیں جس کے ذریعے احادیث کو جانچا پرکھا جا تا ہے اس لئے رونا ان مریدانِ باصفا کا نہیںجو غیر عالم ہیں بلکہ اس وادی میں تو اچھے اچھے علّامہ اور ’’روشن فکر‘‘ حضرات بھی ایک ہی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیںیہ سوانح قاسمی کے فاضل مرتب مولانا مناظر احسن گیلانی نور اللہ مرقدہٗ کیا معمولی درجے کے عالم تھے؟ یہ تذکرۃ الرشید کے عالی قدر مرتب مولانا عاشق الٰہی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کیا جہلاء کی صف میں تھے؟ یہ انفاس قدسیہ کے محترم مدون مفتی عزیز الرحمن صاحب بجنوری کیا بے پڑھے لکھے آدمی ہیں؟ یہ الجمیۃ کا شیخ الاسلام نمبر اور خواجہ غریب نواز نمبر شائع کرنے والے کیا غیر ِ عالم ہیں؟اور یہ ارواح ثلٰثہ کے مصنف امیر شاہ خاں کیا کباڑی بازار کی جِنس تھے؟ نہیںیہ سب ماشاء اللہ لائق فائق علمائے شریعت ہیں اور دوسروں کے عقائد و اذکار پر اعتراضات کی بوچھاڑکرنے میں انکی اہلیت مشین گن سے کم نہیں ہے مگر یہی مکرم حضرات جب اپنے ممدوحوںاوربزرگوںکے احوال بیان کرنے اُٹھتے ہیں تونقد و نظرکی ساری صلاحیتوںکوبالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور یہ تک بھول جاتے ہیں کہ ہم نے کب کیا فتویٰ اور فیصلہ دیا تھا خود ہم نے اور ہمارے معتمد بزرگوں نے کس قدر شدومد کے ساتھ شرک اور سنت و بدعت کے کیا کیا عقدے کھولے ہیں۔

بات تلخ ہے مگر سو فیصدی درست کہ دیوبندی مکتب ِ فکر کے خمیر میں بھی اندھی تقلید اور مسلکی تعصبات کی اچھی خاصی مقدار گندھی ہوئی ہے اس مکتب کا کم و بیش ہر عالم پہلے دن سے اس خوش فہمی میں مبتلاء ہے کہ کسی نے قرآن کو پوری طرح سمجھا ہے تو وہ ہمارے فلاں شیخ التفسیر ہیں اگر علم الحدیث کی تہہ تک کوئی پہنچا ہے تو وہ ہمارے فلاں شیخ الحدیث پہنچے ہیں اگر ولایت و نبوت اور طریقت و تصوف کے اسرار و معارف پر کسی نے عبور حاصل کیا ہے تو وہ ہمارے فلاں فلاں شیوخ ہیں اس خوش فہمی کے ساتھ یہ عقیدہ بھی دلوں میں جاگزیں کر لیا گیا ہے کہ وہ محفوظ عنِ الخطا بھی ہیں معصوم تو اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ایک عامی بھی عصمت کو انبیاء کا مخصوص وصف سمجھتا ہے مگر محفوظ کی اصطلاح کاسہارا لے کر وہ عملاً انہیں معصوم ہی تصور کئے ہوئے ہیں ان کا پختہ خیال ہے کہ انکا ہر بزرگ زہد و تقویٰ کے علاوہ عقل و دانش میں بھی بقراط وارسطو سے کسی طرح کم ہرگز نہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ مولانا حسین احمد رحمۃ اللہ علیہ نے ردّمودودیت کی بسم اللہ کی تو اب سارے متوسلین اور ارباب ِ حلقہ اور اہلِ تعلق پر واجب ہوگیا کہ یہی راگ مسلسل لاپے جائیں اور ایک ایک اعتراض و الزام کا جواب خواہ کتنی ہی قوت اور معقولیت کے ساتھ دے دیا گیا ہو مگر ضد اور اندھی تقلید کے محاذ سے بے تکان وہی گھڑے گھڑائے نعرے اور ڈھلی ڈھلائی چرب زبانیاں نشر کئے جائیں۔

خیر مولانا مودودی کااور ان صلحاء کا فیصلہ توانشاء اللہ اب یومِ حشر میں ہوگا مگر یہ کتاب’’زلزلہ‘‘ جو نقد جواب طلب کررہی ہے اس سے عہدہ برآ ہونے کی صورت آخر کیا ہوگی اپنی کسی غلطی کو تسلیم کرنا تو ہمارے آج کے بزرگانِ دیوبند نے سیکھا ہی نہیں اُنہوں نے صرف یہ سیکھا ہے کہ اپنی کہے جائو اور کسی کی مت سنوانشا ء اﷲ اس کتاب کے ساتھ بھی ان کا سلوک اس سے مختلف نہیں ہوگا۔

اس کتاب نے ہمیں ہمارے بزرگوں کی جن محیر العقول کرامتوں سے آگاہ کیا ہے ان کو تو خیر کیا کہئے ایک نادر اقتباس ہم یہاں ضرور نقل کریں گے جس نے ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

سید اسمعٰیل شہید کے بارے میںہم یقین رکھتے تھے کہ اُنہوں نے اعلائے کلمۃالحق کی راہ میںجان دی اور آج بھی یقین رکھتے ہیں مگر یہ ہمارے مرحوم ومغفور اُستاد مولانا مدنی رحمۃ اﷲ علیہ اپنی کتاب’’نقشِ حیات‘‘ میں فرماتے ہیں :

’’سید صاحب کا اصل مقصد چونکہ ہندوستان سے انگریزی تسلط اور اقتدار کا قلع قمع کرنا تھاجس کے باعث ہندو اور مسلمان دونوں ہی پریشان تھے اس بنا پر آپ نے اپنے ساتھ ہندوؤں کو بھی شرکت کی دعوت دی اور صاف صاف اُنہیں بتا دیا کہ آپ کا واحد مقصد ملک سے بدیسی لوگوں کا اقتدار ختم کرنا ہے اس کے بعد حکومت کس کی ہوگی اس سے آپ کو غرض نہیں ہے جو لوگ حکومت کے اہل ہوں گے ہندو یا مسلمان یا دونوں وہ حکومت کریں گے‘‘۔ (نقش حیات:ج۲:ص۱۳۔ زلزلہ:ص۱۴۲)

اس پر ’’زلزلہ‘‘ کے مرتب نے جو ریمارک دیا وہ یہ ہے :

’’ آپ ہی انصاف سے بتائیے کہ مذکورہ حوالہ کی روشنی میں سید صاحب کے لشکر کے متعلق سوا اس کے اور کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک انڈین نیشنل کانگریس کے رضا کاروں کا ایک دستہ تھا جو ہندوستان میں سیکولر اسٹیٹ(لادینی حکومت) قائم کرنے کے لئے اُٹھا تھا‘‘۔ (زلزلہ، ص ۱۴۲)

ہم کتنی ہی جانبداری سے کام لیں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ریمارک میں لفظاً تلخی آگئی ہے لیکن معنوی اور منطقی اعتبار سے بھی اس میں کوئی نقص ہے، کوئی افترا ہے، کوئی زیادتی ہے ؟

کوئی شک نہیں اگر استاد محترم حضرت مدنی کے ارشاد گرامی کو درست مان لیا جائے تو حضرت اسمٰعیل کی شہادت محض افسانہ بن جاتی ہے مادی پریشانیوں کو رفع کرنے کے لئے غیر ملکی حکومت کے خاتمے کی کوشش کرنا ذرا بھی مقدس نصب العین نہیںاِس نصب العین میں کافرومومن سب یکساں ہیں اس طرح کی کوشش کے دوران مارا جانا اس شہادت سے بھلا کیا تعلق رکھے گا جو اسلام کی ایک معزز ترین اور مخصوص اصطلاح ہے اور اس طرح کی کوششوں کے نتیجے میں قیدوبند کی مصیبتیں اُٹھانااجر آخرت کا موجب کیوں ہوگا۔

مولانا مودودی نے تصوف کا’’چنیا بیگم‘‘ لکھ دیا تھا تشبیہ یقینا خاردار تھی اِدھر سے اُدھر تک زلزلہ آگیا آج تک ہمارے مشائخ نے اُنہیں معاف نہیں کیا ہے لیکن نشہ کے علاوہ اس کی توجیہہ آخر کیا کریں گے کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی یا حضرت مولانا اشرف علی جیسے بزرگ جب فتوے کی زبان میںبات کرتے ہیں توان احوال وعقائدکوبرملا شرک، کفر اور بدعت وگمراہی قرار دیتے ہیں جن کا تعلق غیب کے علم اور روحانی تصرف اور تصور شیخ اور استمد اد بالارواح جیسے امور سے ہے لیکن طریقت وتصوف کی زبان میں کلام کرتے ہیں تو یہی سب چیزیں عین امر واقعہ، عین کمالات ولایت اور علامتِ بزرگی بن جاتی ہیں۔

اگر ہم فرض کرلیں کہ ان بزرگوں کی طرف دیگر مصنفین نے جو کچھ منسوب کردیا ہے وہ مبالغہ آمیز ہے، غلط ہے، حقیقت سے بعید ہے تو بے شک ان بزرگوں کی حد تک ہمیں اعتراض سے خلاصی مل جائے گی لیکن یہ دیگر مصنفین بھی ’’علمائے دیوبند‘‘ ہی ہیں ان کی کتابیں بھی تو حلقۂ دیوبند ہی میں بڑے ذوق وشوق سے تلاوت فرمائی جاتی ہیں اور کسی اﷲ کے بندے کی زبان پریہ اعلان جاری نہیں ہوتا کہ ان خرافات سے ہم برأت ظاہر کرتے ہیں برأت کیا معنی ہمارے موجودہ بزرگ پورا یقین رکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں علم غیب اور فریاد رسی اور تصرفاتِ روحانی اور کشف والہام کے جو کمالات ہمارے مرشدین کی طرف منسوب ہیں وہ بالکل حق ہیں، سچے ہیںپھر آخر ازالۂ اعتراض کی صورت کیا ہو ؟

ہمارے نزدیک جان چھڑانے کی ایک ہی راہ ہے یہ کہ یا تو تقویۃ الایمان اور فتاویٰ رشیدیہ، فتاویٰ امدادیہ اور بہشتی زیور اور حفظ الایمان جیسی کتابوں کو چوراہے پر رکھ کر آگ دیدی جائے اور صاف اعلان کردیا جائے کہ ان کے مندرجات قرآن وسنت کے خلاف ہیں اور ہم دیوبندیوں کے صحیح عقائد ارواح ثلٰثہ اور سوانح قاسمی اور اشرف السوانح جیسی کتابوں سے معلوم کرنے چاہئیں یا پھر ان موخر الذکر کتابوں کے بارے میں اعلان فرمایا جائے کہ یہ تو محض قصے کہانیوں کی کتابیں ہیں جو رطب ویابس سے بھری ہوئی ہیں اور ہمارے صحیح عقائد وہی ہیں جو اوّل الذکر کتابوں میں مندرج ہیں۔

’’زلزلہ‘‘ کے مصنف نے ناچیز تبصرہ نگار کا بھی ایک اقتباس تجلی سے دیا ہے :

’’ان لوگوں کو اپنے دماغ کی مرمت کرانی چاہئے جو یہ لغو ترین اور احمقانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ کو علم غیب تھا‘‘۔

الحمد ﷲ ہمیں اس اقتباس پر کوئی پچھتاوا نہیں نہ ہمیں دفاع کی ضرورت ہے دفاع کی ضرورت تو اس وقت ہوتی جب ہم نے دیوبندی بزرگ کے ایسے قول یا حال کی توثیق کی ہوتی جس سے ہمارے اس عقیدے پر حرف آتا مگر الحمد ﷲ ہمارا دامن اس سے پاک ہے ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو شخصیت پرستی میں مبتلا ہوں ہم ارواح ثلٰثہ اور سوانح قاسمی جیسی کتابوں کو ذرا بھی مقدس نہیں سمجھتے۔

البتہ یہ وضاحت ہم کردیں کہ اس اقتباس میں ہم نے کیا کہنا چاہا ہے ہر پڑھا لکھا آدمی جانتا ہے کہ’’علم غیب‘ ‘ ایک اصلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں حواس خمسہ کے دائرہ عمل سے باہر ہوں اُنہیں بغیر کسی وسیلہ اور ذریعہ کے جاننا۔ بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اس بات کے مدعی ہیںکہ نبی کریم ﷺ کو تمام ماکان ومایکون کا علم تھا یعنی ازل سے لے کر ابد تک ہر شئی کا علم تھا کچھ اتنا توسع تو نہیں برتتے مگر ان کا خیال ہے کہ حضور ان تمام مغیبات کے عالم ضرور تھے جس کا تعلق ان کی ذات یا اُمت کے احوال سے ہے۔

ہمارے نزدیک پہلا گروہ تو جہالت وسفاہت کی آخری منزل میں ہے اور ہمارے مذکورہ اقتباس کا ہدف فی الحقیقت یہی گروہ ہے۔ ’’علم غیب‘‘ کے حدود کی تصریح اگرچہ اس میں نہیں لیکن’’تجلی‘‘ میں مختلف اوقات میں جو بحثیں اس موضوع پر ہوتی رہی ہیں ان کے سیاق وسباق میں ہر طالب دیکھ سکتا ہے کہ ہم لغو ترین اور احمقانہ عقیدہ علم غیب کلی ہی کو قرار دیتے ہیں۔

رہا دوسرے گروہ کا عقیدہ تو یہ بھی ہمارے نزدیک پورے طور پر درست نہیں ہم مانتے ہیں اور کون مسلمان ہوگا جو اسے نہ مانے کہ رسول اﷲ ﷺ فداہ ابی وامی کو بیشمار ان مغیبات کا علم تھاجن کا علم کسی بھی اُمتی کی دسترس سے باہر ہے آپ دنیا کے سب سے اعلم یعنی باخبر اور جاننے والے انسان تھے علوم غیبیہ کے معاملے میں آپ کے علم کو تمام اُمت کے مجموعی علم سے کم وبیش ایسی ہی نسبت ہے جیسے سمندر کو قطرے سے لیکن اسی کے ساتھ ہمارا یہ عقیدہ اور دعویٰ بھی ہے کہ اس کثرت علم وخبر کے باوجود آپ پر’’علم غیب‘‘کی اصطلاح کو منطبق نہیں کیا جاسکتا یہ اصطلاح اﷲ کے لئے خاص ہے اور خاص اس لئے ہے کہ کسی بھی شئی کے علم میں اﷲ وسائل وذرائع کا محتاج نہیںبلکہ ہر شئی ازل سے ابد تک کلاً اور جزواً اس کے سامنے موجود ہے اس کے برخلاف حضور کو جو علم ملا وہ وسائل وذرائع کے توسط سے ملا مثلاً آپ نے بے شمار اشیائے غیب کو آنکھوں سے دیکھا تو یہ شہود علم غیب کے دائرے کی چیز نہیںبلکہ کھلے طور پر یہ ذرائع سے مربوط ہے اﷲ نے جو کچھ دکھانا مناسب سمجھا اس کے لئے ذرائع استعمال فرمائے ذرائع میں ملائکہ بھی شامل ہیں اور ایسی خاص الخاص قوتیں بھی جن کا کوئی نام ہم نہیں رکھ سکتے۔ آج ایتھر اور ریڈیائی لہریں دریافت کرلی گئی ہیں جو منٹوں میں کروڑوں میل کی خبر لاتی ہیں پھر کیوں نہ اسی طرح کی بلکہ ان سے زیادہ تیز رو اور قوی اشیاء اس کائنات میں موجود ہو جن کے ذریعہ اﷲ نے منٹوں میں اپنے رسول کو آسمانوں کی سیر کرادی اس سیر میں حضور کی اپنی قوت یا ارادے کا کوئی دخل نہیں تھا۔

عام زندگی میں بے شمار واقعات ہیں جن سے حضور ؒ کی غیب دانی کا پتہ چلتا ہے لیکن ان میں ایک بھی ایسا ثابت نہیں کیا جاسکتا جو کسی نہ کسی واسطے سے مربوط نہ رہا ہوملائکہ یا وحی مخفی یا کشف کی کوئی اور روحانی تکنیک حتیٰ کہ اگر بعض علماء کی اس رائے کو قبول کرلیا جائے اور ہمارے نزدیک اسے قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیںکہ انبیاء علیہم السلام کو حواس خمسہ کے علاوہ بھی کوئی شئے ایسی بخشی گئی تھی جس سے وہ بعض مغیبات کا ادراک کرلیتے تھے اسے باطن کی آنکھ کہئے یاکوئی اور نام دیجئے ۔ بہرحال یہ بھی ایک وسیلے ہی کی حیثیت رکھتی ہے اور بلا ریب یہ ثابت ہے کہ یہ آنکھ لا محدود نہیں تھی بلکہ اس کا دائرہ کار محدود تھا اور اسی تحدید کی وجہ سے انبیاء کی زندگی میں بے شمار واقعات ایسے ملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ چیزیں کچھ واقعات کچھ حوادث کلاً یا جزواًکچھ مدت کے لئے یا زیادہ مدت کے لئے ان سے مخفی بھی رہے ہیں ۔ ایسا نہیں تھا کہ اﷲ جل شانہٗ کی طرح ہر شئے ہر وقت ان کے دائرہ علم میں ہو ان کی مخفی آنکھ ان تمام اشیاء کو تو لازماً دیکھ لیتی تھی جن کا دیکھنا دعوتِ دین کی مصالح کے لئے ضروری تھایہ خاصیت اﷲ ہی نے اس میں رکھی تھی تاکہ فرائض نبوت میں رکاوٹ واقع نہ ہو لیکن جن امور کا تعلق ان مصالح سے نہیں تھا اُنہیں دیکھتے رہنے کی زحمت اس آنکھ کو نہیں دی گئی۔

خلاصہ کلام یہ کہ اﷲ کے سوا جس نے بھی جو کچھ جانا وسائط ووسائل کے توسل سے جانایہ وسائط خواہ کتنے ہی لطیف اور مخفی اور حیران کن رہے ہوں یہ بہر حال انسانی علوم کو اﷲ کے علم غیب سے جدا کرنے والے ہیں جو ہر وقت ہر شئی کو بلا واسطہ محیط ہے۔

اس سے ظاہر ہوا کہ ہم نہ تو انبیاء علیہم السلام کے لغوی غیب دانی کے انکاری ہیں نہ اولیاء اﷲ کے کشف وکرامت کو خالص افسانہ تصور کرتے ہیں بلا شبہ اولیاء اﷲ کو صفاء قلب کے نتیجے میں بے شمار مغیبات کا ایسا علم ہوتا ہے جسے شہود کہا جائے توغلط نہ ہوگا اور ان کی روحانی قوتیں کسی نہ کسی حد تک تصرف کی استعداد بھی رکھتی ہیںروحوں سے امداد قلبی یا مراقبے کے ذریعے تصرف یا کشف والہام کی جتنی بھی صورتیں ہیں سب کے قبول کا پیمانہ ہم قرآن وسنت کو قرار دیتے ہیں نہ کہ فرموداتِ مشائخ کوہمارے نزدیک کسی بڑے سے بڑے بزرگ کا حال یاقال درخود اعتنا نہیں ہے اگر وہ قرآن وسنت کے عطا فرمودہ عقائد ونظرات سے متصادم ہو۔ ہم کسی امیر شاہ خاںیامولانامناظر احسن گیلانی یا فلاں فلاں روایتوں کو محض اس بناء پر مثل وحی تصور نہیں کرلیں گے کہ یہ حضرات ہمارے بزرگوںمیںداخل ہیںہم ان کے ارشاد کی حتیٰ الوسع تاویل حسن کریں گے جب گنجائش نہ ہوگی تو صاف کہہ دیں گے کہ ان لوگوں کو دھوکہ لگا اُنہوں نے غلط راویوں کا اعتبار کیا یا یہ خود از راہ غلط فہمی خلاف واقعہ کہانیوں کو سچ سمجھ بیٹھے یا عقیدت کے غلو نے ان کی بصیرت پر وقتی طور پر پردہ ڈال دیا۔

’’زلزلہ‘‘ کا سب سے بڑا تاثر جو فی الحقیقت گمراہ کن ہے عام راوی پر یہ پڑے گا کہ یہ بریلوی مکتبِ فکر جس قبوری شریعت کا حامل ہے وہی اصلاً حق ہے اور علمائے دیوبند بھی دراصل اسی کے قائل ہیں اس تاثر سے خدا کی پناہ۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ تصوف وطریقت کے دروازے سے جو بے شمار غلط خیالات وتصورات بریلوی مکتب فکر میں داخل ہوئے ہیںاسی قسم کے بہتیرے افکار وعقائد اس حلقے میں بھی در آئے ہیں جسے دیوبندی حلقہ کہا جاتا ہے۔ عبادات وریاضت کی کثرت، اورادوتسبیحات کی فراوانی، کشف وکرامات کی ریل پیل، وضع قطع کا زاہدانہ اسٹائل اور بے شمار اخلاقی فضائل کا وجود اس بات کا ضامن نہیں کہ تمام عقائد ومزعومات لازماً برحق ہوں، خوارج اور معتزلہ جیسے بدنام فرقوں میں بھی تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے بڑے عابد مرتاض اور متقی حضرات گزرے ہیں مگر ان کے بعض عقائد کی بنا ء پر علمائے سلف نے اُنہیں اہل سنت والجماعت میں شمار نہیں کیا اور بہت تشدد پسند اور تیز خو بزرگوں نے تو اُنہیں کافر ہی قرار دے ڈالا اس سے ظاہر ہے کہ بریلوی یا دیوبندی بزرگ چاہے بظاہر کتنا ہی عابدوزاہد اور ولی صفت اور صاحب کشف وکرامت ہوں لیکن اُنہیں علم وعمل کسی بھی دائرے میں معصومیت کا وصف حاصل نہیں ہوسکتا اس لئے ہم بلاتکلف کہہ سکتے ہیں کہ مولانا اشرف علی یا مولانا رشید احمد گنگوہی یا مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اﷲ علیہم کی طرف جو بعض اقوال یا احوال منسوب کئے گئے ہیں جن سے شریعت اِبا کرتی ہے تو یا تو منسوب کرنے والوں نے خطا کھائی ہے یا پھر یہی حضرات تصوف کی رو میں کہیں کہیں ان حدودِ جائزہ سے باہر نکل گئے ہیں جنہیں خود اُنہیں کے فتووں اور تقریروں نے معین فرمایا ہے واﷲ اعلم بالصواب ۔

’’زلزلہ‘‘ کے مصنف کے قلم سے کہیں کہیں بڑی خوبصورت عبارتیں نکلی ہیں مثلاً :

’’یا پھر یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ کاروبار ہستی میں ان کی ذاتی خواہش اتنی دخیل اور بااثر تھی کہ اگرچہ زمین کا سینہ تپتا رہا، فصل جلتی رہی اور کاشتکاروں کی آہیں بابِ رحمت پر سرٹپکتی رہیں لیکن جب تک ان کا پاخانہ تیار نہیں ہوگیابارش کو چاروناچار رُکنا پڑا‘‘ ( زلزلہ، ص۲۳۱)

اگر بااثر کی جگہ مؤثر کا لفظ ہوتا تو اِن سطروں کو اُردوئے معلّٰی کا بے عیب نمونہ کہہ سکتے تھے کہیں کہیں قلم نے زبان کے رُخ سے ٹھوکر بھی کھائی ہے مثلاً :

’’اِن حضرات کے تئیں فقہائے حنفیہ کفر کا اطلاق جس غیب دانی پر کرتے ہیں وہ اقراری کفر اپنے تھانوی صاحب کے حق میں کتنی بشاشت کے ساتھ قبول کرلی گئی ہے‘‘۔ (زلزلہ، ص۱۳۲)

تئیں کا لفظ تقریباً متروکات میں شامل ہے، علاوہ اس کے’’قبول کر لی گئی ہے‘ ‘ کے بجائے’’کرلیا گیا ہے‘‘ کا موقع تھا کیوں کہ مفعول ’’کفر‘‘ ہے جو مذکر ہے نہ کہ’’غیب دانی‘‘

کہیں کہیں اسلوبِ تحریر گھٹیا ہوگیا ہے مثلاً :

’’اے سبحان اﷲ ! ذرا غلبۂ حق کی شان تو دیکھو‘‘ (زلزلہ، ص۲۶ )

’’اے‘‘ نے فقرہ کو زنانہ بنادیا ہے۔

اس طویل تبصرے کے بعد ہم فاضل مصنف سے بڑے دوستانہ پیرائے میں یہ گزارش کریں گے کہ اگر ممکن ہوتو وہ کسی وقت دیوبندیت اور بریلویت وغیرہ کے سارے تخیلات کو ایک طرف رکھ کر خالص طلبِ حق کے جذبے سے دین وشریعت پر غور کریں یہ سمجھنا کہ فلاں مکتب فکر سرتاسر باطل ہے اور ہمارا مکتب فکر الف تا یا تک برحق ہے آدمی کو بے میل حقائق تک نہیں پہنچاتا ۔ایمان واسلام کے سرچشمے قرآن وسنت ہیں نہ کہ کسی شیخ طریقت کے اقوال واعمال اس سے قبل کہ ہم شاہ عبدالقادر جیلانی یا خواجہ اجمیری یا فلاں فلاں اولیاء واقطاب کے حال وقال پر وجد کریں اور عقائد کے لئے ان سے دلائل وقرائن نکالیں ہمیں خالی الذہن ہوکر اﷲ اور رسول کے ارشادات عالیہ کو مرکز فکر بنانا چاہئے اور دیانتدارانہ غوروفکر کے بعد جو اصول وعقائد وہاں سے دستیاب ہوں اُنہیں حرف آخر قرار دے کر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہی اصل کسوٹی ہے جس پر گھِس کر کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے اس کسوٹی پر کھوٹا ثابت ہونے والا مال خواہ جنید وشبلی یا عطارورومی کا ہو وہ بہر حال کھوٹا ہے اور اس کسوٹی پر کھرا ثابت ہونے والا سکہ خواہ خوارج معتزلہ کے بازار کا ہو وہ بہر حال کھرا ہے۔ یہی ہے اعتصام بالکتاب والسنۃ، یہی ہے وہ ذہن جس کی تربیت قرآن نے یہ کہہ کردی ہے کہ جب معاملہ میں نزاع ہو تو اﷲ اور رسول کی طرف رجوع کرو، یہی وہ اصول محکم جسے ان لفظوں میں ادا کیا جاتا ہے کہ اﷲ اور رسول ہی معیار حق ہیں اور کوئی فرد دنیا کے پردے پر نہیں جو شریعت حقہ کے لئے کسوٹی اور دھرم کانٹے کی حیثیت رکھنے والا ہو۔

’’زلزلہ‘‘ تصنیف کرکے اگر وہ یہ یقین کر بیٹھے ہیں کہ بریلوی عقائد کی سند دیوبندی علماء سے مل جانے کے بعد بریلوی عقائد کی صحت قطعی ہوگئی ہے تو یہ ایک مغالطہ ہوگا جس میں ان جیسے معقولیت پسند کو ہرگز نہ پھنسنا چاہئے۔ غلوئے عقائد بفرق مراتب دونوں گروہوں میں ہے اور قرآن وسنت کے نصوص اس غلو پر خطِ تنسیخ کھینچتے ہیںآخرت میں کم استعداد کے بے عقل لوگ تو ممکن ہے تقلید جامد کے عذر پر معاف کردئیے جائیں مگر موصوف جیسے فہیم اور ذی استعداد بندوں کو اس کی توقع نہیں رکھنی چاہئے ایسی توقع اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ فہم سلیم اور علم وخبر کی ناشکری ہوگی۔

جواب تبصرہ

مراسلہ بنام مولانا عامر عثمانی ، مدیر’’تجلی‘‘ زید کرمہ

وسیع الالقاب جناب مولانا عامر عثمانی، مدیر’’تجلی‘‘ زید کرمہ

بعد ماہوالمسنون :

اُمید ہے آپ کے مزاج بخیر ہوں گے۔

سفر حج وزیارت سے واپسی کے بعد’’زلزلہ‘‘ پر آپ کا طویل تبصرہ پڑھا اس درمیان میں کئی بار ارادہ کیا کہ آپ کو خط لکھ کر شکریہ ادا کروں لیکن ہر بار کوئی اہم مصروفیت حائل ہوگئی۔ آج طے کرکے بیٹھا ہوں کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے اپنے اخلاقی فرض سے سبکدوش ہوکر ہی اُٹھوں گا۔

بہر حال تبصرہ کے بعض حصوں سے اختلاف کے باوجود یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس فراخدلی کے ساتھ آپ نے میری کتاب کے ساتھ اعتنا فرمایا ہے اس کے لئے میری طرف سے پُر خلوص شکریہ قبول فرمائیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی جماعت کے’’محفوظ مفادات‘‘ کے خلاف قلم اُٹھا کر آپ نے انتہائی جرأت مندانہ کردار کا مظاہرہ کیا ہے ۔کہیں کہیں تو جذبات کے تلاطم میں آپ کے قلم کا تیور اتنا غضبناک ہوگیا ہے کہ بس یہ آرزو مچل اُٹھی ہے کہ کاش تحریر کو آواز مل جاتی۔

بارخاطر نہ ہو تو ذیل کی معروضات ملاحظہ فرمائیںجو آپ کے تبصرہ کے مطالعہ کا ایک تنقیدی جائزہ ہے یقین کیجئے کہ اس کے پیچھے کسی قلمی پیکار کے آغاز کا قطعاً کوئی جذبہ نہیں ہے بلکہ نیک نیتی کے ساتھ میں اپنی ذاتی واردات سے صرف اس لئے آپ کو مطلع کررہا ہوں تاکہ آپ اپنے تبصرہ کے بعض حصوں سے متعلق میرے ردِّ عمل کا اندازہ لگا سکیں۔

آپ نے اپنی جماعت کے اکابر پر میرے عائد کردہ الزامات کی صفائی میں تصوف کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے :

’’مرحوم علمائے دیوبند صرف عالم ہی نہیں تھے بلکہ صوفی اور شیخ بھی تھے۔ تصوف کتنا محتاط کیوں نہ ہو وہ اپنے ساتھ کشف وکرامت اور تحیرات وتصرفات کے طلسم خانے ضرور لاتا ہے‘‘۔

(تجلی ڈاک نمبر، بابت ماہ مئی ۱۹۷۳ء، دیوبند، ص۹۳)

اور تصوف کی مذمت کا یہ سلسلہ اس حصے پر آکر تمام ہوا ہے۔

’’اور قرآن وسنت کو معیار بنانے والے ناقدین کی زبانیں یہ کہنے پر مجبور ہوجاتی ہیں کہ تصوف نشہ ہے، سفسطہ ہے، شریعت کا دشمن ہے‘‘۔

(تجلی ڈاک نمبر، بابت ماہ مئی ۱۹۷۳ء، دیوبند، ص۹۳)

آپ کے ارشاد کے مطابق تصوف شریعت کا اس لئے دشمن ہے کہ وہ کشف وکرامت اور تحیرات وتصرفات کے طلسم خانے اپنے ساتھ ضرور لاتا ہے لیکن اسی مضمون میںدو ہی تین صفحے کے بعد آپ کے قلم سے جو یہ عبارت صفحۂ قرطاس پر ثبت ہوئی ہے اس میں بھی تو یہ طلسم خانہ اپنے پورے سازوسامان کے ساتھ موجود ہے ملاحظہ فرمائیں :

’’ہم نہ تو انبیاء علیہم السلام کی لغوی غیب دانی کے انکاری ہیں نہ اولیاء اﷲ کے کشف وکرامت کو خالص افسانہ تصور کرتے ہیں بلا شبہ اولیاء اﷲ کو صفائے قلب کے نتیجے میں بے شمار مغیبات کا ایسا علم ہوتا ہے جسے شہود کہا جائے تو غلط نہیںاور ان کی روحانی قوتیں کسی نہ کسی حد تک تصرف کی استعداد بھی رکھتی ہیں‘‘۔

(ماہنامہ تجلی ،مئی۱۹۷۳ء،ص۹۷)

آپ کی اس تحریر کے بموجب جب اولیاء اﷲ کا کشف وکرامت افسانہ نہیںبلکہ امر واقعہ ہے اور صفائے قلب کے نتیجے میں بے شمار مغیبات کا علم بھی ان کی قوت قدسیہ کا ایک جانا پہچانا معمول ہے اور روحانی قوتوں کے ذیل میں تصرفات کی استعداد بھی ان کا قرار واقعی وصف ہے تو پھر بتایا جائے کہ غریب تصوف پر اَب شریعت دشمنی کا الزام کیونکر درست ہے البتہ شریعت کا دشمن ہی کسی کو قرار دینا ہے تو اُسے کیوں نہ قرار دیجئے ، جو اولیاء اﷲ کی ذات میںیہ’’طلسم خانہ‘‘ بطور اَمر واقعہ کے تسلیم کرتا ہے اور تصوف کو موقعہ دیتا ہے کہ وہ اس کا اشتہار کرے۔

قرآن وسنت کو معیار بنانے والوں میں آپ کی جو ممتاز حیثیت ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے اس لئے آپ کے متعلق یہ شبہ بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ نے اولیاء اﷲ کے حق میں کشف وکرامت اور تصرف وغیب دانی سے متعلق اپنے جس مثبت عقیدے کا اظہار فرمایا ہے وہ تصوف کے زیر اثر ہوگا بلکہ کہنا پڑے گا کہ اس خصوص میں جو کچھ آپ نے ارشاد فرمایا ہے وہ قرآن وسنت کے عین مطابق اور شریعت اسلامی کا عین مطلوب ہے۔

میری جسارت معاف فرمائیں تو عرض کروں گا کہ یہاں پہنچ کر بات اُلٹ گئی اَب شریعت کا دشمن تصوف نہیں رہاکیونکہ وہ جو کچھ بھی اپنے ہمراہ لاتا ہے وہ تو شریعت کا عین مطلوب ہے جب صورت حال یہ ہے تو اَب آپ ہی بتائیے کہ جو اِسے شریعت کا دشمن کہتا ہے اُسے کیا کہا جائے۔

یہاں توآپ نے انبیاء کے حق میں لغوی غیب دانی کا اعتراف کیا ہے لغوی غیب دانی سے آپ کی کیا مراد ہے اِسے تو آپ ہی بتائیں گے لیکن عام مخلوق کے لئے’’بے قید علم غیب‘‘ کے اعتراف میں آپ کے قلم سے نکلی ہوئی اس سے بھی زیادہ واضح عبارت میرے پیش نظر ہے ملاحظہ فرمائیے :

’’ انبیاء کو اگر بعض غیب کی باتیں معلوم ہوئیںتو ان کا ذریعہ وحی یا الہام یا القاء تھااور ہم لوگوں کا ذریعہ علم الحسا ب، قیاس، منطق اور علم ہیئت وغیرہ ہے، یہ فرق ذرائع کا فرق ہے اصل واقعہ دونوں جگہ موجود ہے یعنی غیب کا علم جو واقعہ ابھی پیش نہیں آیا کل پرسوں پیش آئے گاوہ فی الحال غیب ہی ہے لہٰذا جزوی معنی میں ہم سب بفرق مراتب عام الغیب ہیں‘‘۔

(تجلی، باب الاستفسار، بابت ستمبر ۱۹۶۶ء)

اس عبارت پر فکرواعتقاد کے مختلف گوشوں سے جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں اِن سے قطع نظرکرتے ہوئے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ انبیاء واولیاء کے حق میں علم غیب کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی لفظ عالم الغیب کے اطلاق کو خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں اور غیر خدا پر اس کا اطلاق حرام قرار دیتے ہیں۔

لیکن آپ نے مذکورہ بالا عبارت میں نہ صرف یہ کہ بے قید علم غیب کا عقیدہ جملہ مخلوقات کے حق میں تسلیم کرلیا ہے بلکہ لفظ’’عالم الغیب‘‘ کے اطلاق کی خصوصیت بھی خدا کے ساتھ باقی نہیں رہنے دی۔ یہی بات اگر تصوف کی زبان سے ادا ہوتی تو نہیں کہہ سکتا کہ اُس غریب کی پشت پر کتنے تازیانے برستے لیکن وہی بات آپ فرما رہے ہیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ آپ کتاب وسنت کے معیار سے ہٹ گئے۔

تصوف کو علی الاطلاق شریعت کا دشمن کہتے ہوئے آپ کو یہ ضرور محسوس کرنا چائیے تھا کہ اس حملے کی ضرب کہاں کہاں پڑے گی۔ میں یقین کرتا ہوں کہ آپ یہ دعویٰ کبھی ثابت نہیں کرسکیں گے کہ امام الطائفہ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اﷲ عنہ سے لے کر حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدّث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ تک جن جن بزرگوں نے تصوف کی آبیاری کی ہے وہ قرآن وسنت کو معیار بنانے والوں میں نہیں تھے اور انہوں نے یکے بعد دیگرے صدیوں تک شریعت کے ایک دشمن کو اپنے اپنے سینے سے لگائے رکھا تھا۔

واضح رہے کہ چند جاہل اور مکار صوفیوںکے غلط کردار کی بنیاد پر تصوف کو شریعت کا دشمن کہنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے چند عیار وبداطوار علماء کے غلط کردار کی بنیاد پر کوئی علم دین ہی کو شریعت کا دشمن کہنے لگے۔

تصوف کی مذمت پر اپنے دل کی بے چینیوں کے اظہار کے بعد اَب ایک دلچسپ مقدمہ آپ کی عدالت میں پیش کررہاہوں اور آپ سے آپ ہی کے خلاف انصاف چاہتا ہوں میرا اپنا گمان ہے کہ آپ کے لئے تاریخ صحافت میں شاید یہ پہلا موقع ہوگا جب آپ خود اپنے خلاف قلم اُٹھانے کی ضرورت محسوس کریں گے۔

بات کسی جاہل وبے دین صوفی کی نہیںجو قبوری شریعت پریقین رکھتا ہے بلکہ آپ جیسے تصوف دشمن اور توحید پرست عالم کی ہے جو کتاب وسنت ہی کو معیار ِ حق سمجھتا ہے اور بات بھی کشف وکرامت ، غیب دانی اور تصوف کی نہیں جسے غیراﷲ کے حق میں آپ بھی تسلیم کرچکے ہیںبلکہ بات اس سجدۂ نیاز کی ہے جس کا غیر اﷲ کے حق میں حرام ہونا ہمارا اور آپ دونوں کا متفقہ عقیدہ ہے۔

بات کئی سال پیشتر کی ہے شاید آپ کے حافظے میں موجود ہو اور نہ ہو تو ۱۹۶۳ء بابت ماہ فروری کے تجلی کا فائل نکالئے اور اس کے صفحہ ۵۴پر نظر ڈالئے آپ کے ایک مضمون کی بابت شاید کسی نے آپ کو لکھا تھا کہ آپ نے مولانا مودودی پر چوٹ کی ہے اس کے جواب میں آپ کے قلم نے آپ کے مجروح جذبۂ عقیدت کی جو تصویر اُتاری تھی وہ یہ ہے :

’’وہ شخص مولانا مودودی پر کیا چوٹ کرے گا، جس نے مولانا موصوف کی خداداد عظمت وعبقریت کے آستانے پر دن کی روشنی میں سجود نیاز لٹائے ہوں‘‘۔ (تجلی، فروری ۱۹۶۳ء، ص۵۴)

یقین کیجئے … بات کسی صوفی اور شیخ کی ہوتی تو ہم اپنے دلِ آزردہ کو سمجھا لیتے کہ تصوف چونکہ نشہ ہے، سفسطہ ہے، شریعت کا دشمن ہے، اس لئے صوفی اگر خدا کا آستانہ چھوڑ کر اپنے کسی ممدوح کے آستانے پر سجود نیاز بجا لاتا ہے تو اس میں چنداں تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ نشے میں بہک جانا تو انسان کی سرشت ہے اور جب سودوزیاں کا شعور ہی سلب ہوگیا ہو تو کسی گناہ کے ارتکاب کے لئے رات کی تاریکی اور دن کا اُجالا دونوں برابر ہے۔

لیکن اس حادثے کا سب سے بڑا ماتم تو یہ ہے کہ مولانا مودودی کے آستانے پر سجدہ ریز پیشانی کسی بدمست صوفی کی نہیں، کسی قبر پرست مجاور کی نہیںبلکہ نظام شریعت کے ایک عظیم محتسب کی ہے اور کتاب سنت کو معیار بنانے والے وقت کے سب سے بڑے نقاد مولانا عامر عثمانی کی ہے۔

وہاں تو’’مرحوم علمائے دیوبند‘‘ صوفی اور شیخ تھے اس لئے سارا الزام تصوف کے سر ڈال کر بات رفع دفع کردی گئی لیکن یہاں غیرت اسلامی پوچھتی ہے کہ عقیدۂ توحید کے اس تازہ خون کا الزام کس کے سر ڈالا جائے ؟

اور پھر غیراﷲ کے آستانے پر سجدۂ نیاز کا یہ واقعہ ایک ہی بار کا نہیں ہے کہ اُسے اتفاقی حادثہ کہہ کر بات رفع دفع کردیجئے بلکہ کچھ ہی عرصے کے بعد پھر مولانا عامر عثمانی کی پیشانی ہم ایک اور آستانے پر سجدہ ریز دیکھتے ہیں بہت ممکن ہے یہ واقعہ بھی آپ کے حافظے سے نکل گیا ہواس لئے یاد دلائے دیتا ہوں تجلی کا حاصل مطالعہ نمبر اگر آپ کے فائل میں ہو تو اُسے کھولئے اور مولانا وحیدالدین خاں صاحب کی کتاب’’علم جدید کا چیلنج‘‘ پر آپ اپنا تبصرہ پڑھئے۔

’’ اور آج جب اُن کی تازہ کتاب کو خدمتِ خلق کا ایک انمول نمونہ تصور کرتے ہوئے ہم اپنے قلم کی جبین نیاز اِن کی بارگاہ میں جھکا رہے ہیں تو یہ سجدۂ بے اختیار ان کی ذات کو نہیں اُس حق کو ہے جس کے آگے پوری کائنات خواہی نخواہی سجدہ ریز ہے‘‘۔ (تجلی ، حاصل مطالعہ نمبر، ص۱۰)

اپنے کسی ممدوح کی بارگاہ میں سجدۂ بے اختیار کے جواز کے لئے یہ دلیل اگر قابل قبول ہو تو مزار کی چوکھٹ کا بوسہ لیتے ہوئے بدمست صوفی بھی تو یہی کہتا ہے کہ میری جبین عقیدت کا یہ خراج صاحب مزار کی ذات کو نہیںبلکہ اُس جلوۂ حق کو ہے جس کے آگے خواہی نخواہی ساری کائنات سجدہ ریز ہے۔

پھر انصاف کا خون ہی تو یہ کہلائے گا کہ ایک ہی دلیل آپ کے حق میں صرف اس لئے قبول کر لی جائے کہ آپ تصوف کے دشمن ہیں اور صوفی کو اس لئے دار پر چڑھا دیا جائے کہ وہ غریب تصوف کا حامی ہے۔

تبصرے کے خاتمے پر آپ نے دوستانہ پیرائے میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے :

’’ یہ سمجھنا کہ فلاں مکتب فکر سرتاسر باطل ہے اور ہمارا اپنا مکتب فکر الف سے یا تک برحق ہے آدمی کو بے میل حقائق تک نہیں پہنچاتا‘‘۔ (تجلی ڈاک نمبر)

معلوم نہیں کس عالم میں آپ نے یہ عجیب وغریب نکتہ سپرد قلم فرمایا ہے بات بالکل اسٹیٹ لائن کی ہے کہ کسی بھی مکتب فکر کو کوئی عاقل وخدا ترس آدمی یہی سمجھ کر قبول کرتا ہے کہ وہ کُل کا کُل برحق ہے اگر اس کے علم واعتقاد میں کُل کا کُل نہ ہو بلکہ کچھ برحق ہو اور کچھ باطل ہو تو ظاہر ہے کہ ایسے مکتب فکر سے وہ منسلک ہی کیوں ہوگااور اگر اس علم و شعور کے بعد بھی وہ منسلک ہے تو بلا شبہ وہ اپنے دین میں مخلص نہیں بلکہ فاسد اغراض کا شکار ہے۔

میرا اپنے مکتب فکر کے بارے میں یہی اعتقاد ہے البتہ آپ جس مکتب فکر سے وابستہ ہیں ارشاد فرمائیے کہ وہ آپ کی نظر میں کیا ہے کُل کا کُل برحق یا بعض برحق اور بعض باطل ؟ یہ آپ کہہ نہیں سکتے کہ کل کا کل برحق ہے کیوں کہ یہ اپنی تکذیب آپ ہوگی اس لئے کہنا پڑے گا کہ بعض باطل ہے اور بعض برحق ہے۔ اب اس الزام کا جواب آپ ہی کے ذمّہ ہے کہ دیدئہ دانستہ آپ ایک ایسے مکتب فکر سے کیوں منسلک ہیں جس میں حق کے ساتھ باطل کی آمیزش ہے۔

باقی رہ گیا یہ سوال کہ کسی دوسرے مکتب فکر کو ہم سرتاسر باطل نہ سمجھیں جب بھی یہ حقیقت اپنی جگہ پر ہے کہ وہ باطل ہیـ ناقابل قبول ہے واجب الرد ّہے، کیوںکہ باطل اور حق کا مجموعہ کبھی حق نہیں ہو سکتا۔

یہ نکتہ ارشاد فرمانے کے بعد آپ نے اپنے طور پر ایک نہایت دل آویز اور حکیمانہ نصیحت مجھے تحریر فرمائی ہے:-

’’ ایمان و اسلام کے سرچشمے قرآن و سنت ہیں نہ کہ کسی شیخ طریقت کے اقوال و اعمال اس سے قبل کہ ہم شاہ عبدالقا د رجیلانی یا خواجہ اجمیری یا فلاں فلاں اولیاء واقطاب کے حال وقال پر وجد کریں اور عقائد کے لئے اُن سے دلائل و قرائن نکالیں‘‘ ہمیں خالی الذہن ہو کر اﷲ و رسُول کے ارشادات ِ عا لیہ کومرکز فکر بنانا چاہئے ‘‘۔ (ص۹۹)

یاد آتا ہے کہ مولانا مودودی نے بھی کہیں اسی طرح کے خیال کا اظہار ان لفظوں میں فرمایا ہے۔ ’’میں نے دین کو حال یا ماضی کے اشنحاص سے سمجھنے کے بجائے ہمیشہ قرآن و سنت ہی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

بُرانہ مانئے تو عرض کروں کہ سنت رسول سے منحرف کر نے کے لئے جس اسپرٹ میں منکرین حدیث گفتگو کیا کرتے ہیں اور ائمہ مجتہدین کے ساتھ ہماری ذہنی وابستگی کے خلاف اہل حدیث حضرات نے جو شیوہ اختیارکر کھا ہے کم وبیش وہی طریقہ اکابراُ مّت سے ہمیں بے تعلق کرنے کے لئے آپ حضرات استعمال فرمارہے ہیں۔

جہاں تک قرآن و سُنت اور اﷲ و رسول کے ارشادات عالیہ کو مرکز فکربنا نے کا سوال ہے اس حقیقتِ کبریٰ سے کسے انکار ہو سکتا ہے ؟ لیکن دراصل بحث قرآن و سُنت کے الفاظ و عبارت میں نہیں ان کے مدلولات و مفاہیم میں ہے غیرمنصوص مسائل میں دلائل کے استخراج اور نصوص کے معانی ومطالب کے تعین کا مرحلہ بغیر اشخاص و رجال کی رہنمائی کے نہیں طے پاسکتا ہے ۔خودمولانا مودودی نے بھی تو تفہیم القرآن اور تفہیم الحدیث تصنیف کر کے یہی خدمت انجام دی ہے اور آپ بھی تجلّی کے باب الاستفارمیں ہر ماہ یہی فریضہ انجام دیا کرتے ہیں۔

پھر یہ کتنے قلق کی بات ہے کہ ایک طرف تو آپ حضرات ماضی کے اشنحاص کے لئے یہ حق تسلیم نہیں کرتے ہیں کہ اُن سے کوئی دین سمجھے اور دوسری طرف کتابیں تصنیف فرما کر خود اپنی بابت ہم سے یہ حق تسلیم کرانا چاہتے ہیں کہ دین سمجھنے کے لئے ہم آپ کی طرف رجوع کریں۔ ظاہر ہے کہ کتابوں کی تصنیف یا مسائل کے جواب میں ورق کے ورق سیاہ کرنے کا مدعاسِوا اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ دین سمجھنے کے لئے لوگ آپ کے ارشادات پر عمل کریں۔

پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن و سُنت کی تفہیم اور دین کی تشریح کے سلسلے میں مولانا مودودی کے فکرو صوا بدید پر اعتماد کر کے یا مسائل کے جواب میں آپ کے رشحات قلم پر بھروسہ کر کے اگر ہم قرآن و سُنت کے تارک قرار نہیں دیئے جاسکتے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ چند صدی پیچھے ہٹ کر قرآن و سُنت کی تفہیم اور اسلام کی تشریح کے سلسلے میں اگر ہم ماضی کے اشخاص کی اصابت رائے پر اعتماد کرلیں تو ہم پر قرآن و سُنت سے انحراف کا الزام کیونکر عائد ہوجائے گا آخر تجلّی کے اسی ڈاک نمبر میں آپ ہی کے قلم سے تو یہ تحریر ثبت ہوئی ہے ۔

’’تمام دوسرے مسلمانوں کی طرح احناف بھی قرآن و سُنت ہی کو معیار مانتے ہیں ان کا ایمان یہ ہے کہ سوائے خدا و رسُول کے کسی کا اتباع واجب نہیں اور فقہاء کی تقلید خدا و رسول ہی کے احکام تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔‘‘ (ص۲۶)

کتنی عجیب بات ہے کہ جس طنز کاجواب آپ نے اپنی اس تحریر کے ذریعہ دے کر ایک قاہلِ تحسین خدمت انجام دی ہے و ہی طنز ہم پر دُہرا تے ہوئے آپ کو ذرابھی زحمت پیش نہیں آئی۔

میں تویہ نہیں کہہ سکتا کہ خدا نخواستہ حضرت غوث اعظم جیلانی اور حضرت خواجہ بزرگ اجمیری اور دیگر اولیا و اقطاب رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی طرف سے آپ کے دل میں تکدرکا کوئی جذبہ موجود ہے لیکن اتنی بات کہنے کی اجازت ضرور چاہوں گاکہ قرآن و سنت کی تفہیم اور دین کی تشریح کے سلسلے میں آپ کے نزدیک ان بزرگوں کی اتنی بھی حیثیت نہیں ہے جتنی تفہیم القران اور تفہیم الحدیث کے مصنف کی یا تجلّی کے باب الاستفار کے مجیب کی۔

ویسے اس شکایت کے باوجود آپ کے قلم کا یہ حق اپنی جگہ پر ہے کہ دین کی تفہیم و تشریح کے سلسلے میں ان بزرگوں کے متعلق قرآن و سُنت سے انحراف کی کوئی روایت آپ تک پہنچی ہو تو برملا اس کی نشاندہی فرمایئے یا ہم نے قرآن و سُنت کے خلاف ان کے کسی قول کو اپنا مرکزفکر بنالیا ہو تو اُسے بھی متعین طور پر واضح کیجئے۔

قرآن و سُنت کو کسوٹی کی حیثیت میں پیش کرتے ہو ئے آپ نے تحریر فرمایا ہے :

’’اس کسوٹی پر کھوٹا ہو نے والا مال خواہ جنید و شبلی یا عطارو رومی کا ہو وہ بہر حال کھوٹا ہے اور اس کسوٹی پر کھرا

ثابت ہو نیوالا سکہ خواہ خوارج و معتز لہ کے بازار کا ہو وہ بہرحال کھرا ہے۔‘‘

اس عبارت میں بیان کا پس منظر چاہے کتنا ہی درست کیوں نہ ہو لیکن اندازِ بیان نہایت دلخراش اور پُر شوخ جسارت کا حامل ہے ہر چند کہ تمثیل کے لیے مفروضات کا میدان بہت وسیع ہے لیکن اس تمثیلی تقابل میں اظہارِ مقصود سے زیادہ ا زالہ حیثیت عرفی کا جذبہ نمایاں ہوگیا ہے۔

کاش آپ کا قلم حقائق کی تعبیر میں شیوئہ آداب کا بھی لحاظ رکھتاتو یقین کیجئے کہ آپ کے قلمدان کے بجائے مومنین کے قلوب میں اس کے لئے جگہ ہوتی۔

آپ نے اپنے تبصرے کے آخری پیرائے میں مجھے نصیحت کر تے ہوئے تحریر فرمایا ہے:۔

’’زلزلہ‘‘ تصنیف کر کے اگر وہ (یعنی مصنف) یہ یقین کر بیٹھے ہیں کہ بریلوی عقائد کی سند دیوبندی علماء سے مل جانے کے بعدبریلوی عقائدکی صحت قطعی ہو گئی تو یہ ایک مغالطہ ہو گا جس میں اُن جیسے معقولیت پسند کو ہرگز نہ پھنسنا چاہیئے ۔غلوئے عقائد بفرقِ مراتب دونوں گروہوں میں ہیں۔‘‘

خدا شاہد ہے کہ’ ’زلزلہ‘‘ تصنیف کرتے وقت یہ بات میرے حاشیہ خیال میں بھی نہیں تھی کہ میں دیوبندی علماء سے اپنے عقائد کی سند حاصل کر نے جا رہا ہوںبلکہ اس کتاب کی تصنیف سے میرا مدعا صرف اتنا تھا اور ہے کہ دیوبندی علماء جو توحید و سُنت کے تنہااجارہ داربن کر دوسروں کو مشرک سمجھتے ہیں اُنہیں دُنیا کے سامنے اچھی طرح بے نقاب کر دیا جائے کہ اپنے کردار کے آئینہ میں وہ خود کتنے بڑے مشرک ہیں جیسا کہ اپنی کتاب کے ص۳۱ پر میں نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے میرے الفاظ یہ ہیں :۔

’’ سچ پوچھئے تو اسی طرح کی خود فریبیوں کا جادُو توڑ نے کے لئے میرے ذہن میں زیرنظر کتاب کی ترتیب کا خیال پیدا ہوا کہ اصحاب عقل وانصاف واضح طور پر یہ محسوس کرلیں کہ جو لوگ دوسروں پر شِرک کا الزام عائد کرتے ہیں وہ اپنے نامۂ اعمال کے آئینے میں خود کتنے بڑے مشرک ہیں؟‘‘

اور خدا کا شکر ہے کہ کتاب کے مطالعہ سے لاکھوں افراد نے اپنے خیالات کی اصلاح کی ہے اور بیشمار اشخاص نے دیوبندی مکتب فکر کے متعلق اپنے حسنِ ظن کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔کتاب کی اشاعت کو ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا لیکن ملک کے طول وعرض سے ایک تحریر بھی مجھے ایسی نہیں مو صول ہوئی جس میں یہ چیلنج کیا گیا ہو کہ کتاب کے حوالے غلط دیئے گئے ہیںیااُن حوالوںمیںسے جومیںنے نتائج اخذکئے ہیںوہ صحیح نہیںہیں۔آپ نے بھی تذکیر و تانیث و غیرہ کی غلطی کے علاوہ جودراصل کتابت کی غلطی ہے حوالہ جات اور کتاب کے مرکزی فکر کے متعلق اپنے کسی اختلاف کا اظہار نہیں فرمایا ہے۔

اب باقی رہ گیا اپنے عقائد کی صحت کے لیے سند تلاش کر نے کا مر حلہ تو اس کی احتیاط انہیں لوگوں کو پیش آسکتی ہے جو بے سند ہوں اور یہاں تو خداکاشکر ہے کہ ائمہ دین و ملت کے تو سط سے کتاب و سُنت کی سند بہت پہلے سے ہمارے پاس موجود ہے اس کے ہوتے ہوئے اب مزید کسی سند کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اور وہ بھی معاذاﷲ علمائے دیوبند کی سند جو خودالزامات کی زدمیں ہیں۔

جذبات کی رومیں خط بہت طویل ہو گیا جس کے لیے معذرت چاہتا ہوں زندگی نے وفاکیا تو پھر ملاقات ہو گی۔

آپ کا مخلص : ارشدالقادری

                مکتبہ جام نور۔جمشید پور ، ۵،رجب المرجب، ۱۳۹۳ ھ۔ 

نقل مراسلہ حکومت امریکہ بابت ’’زلزلہ‘‘

یونائیٹڈ اسٹیٹ لابئریری آف کانگرس مسٹر ارشدالقادری، مکتبہ جام نور۔ جمثید پور، مضف ’’زلزلہ‘‘

عالی جناب !

لابئریری آف کانگریس دیگر انیس۱۹ تحقیقاتی لائبریریوں کے لئے جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں کام کر رہی ہیں یہ ادارہ قائم کیا گیا ہے۔اس ادارہ میں تمام امریکی دارلمطالعے شرکت کر رہے ہیں اس پروگرام میں شامل ہو نے والے تمام امریکی دارالمطالعے واشنگٹن کی لابئریری آف کا نگریس میں ایک مرکزی فہرست مرتب کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیںمتحدہ کوشش سے یہ ممکن ہے کہ تمام شامل ہونے والے دارالمطالعے اپنے قارئین کے لیے ہندوستانی کتابیں منظر عام پر لا سکیں۔

ہم نے ’’زلزلہ‘‘ نام کی ایک کتاب حاصل کی ہے جس کے مصنف آپ ہیںاس کتاب کو فہرست میں ترتیب دینے کے لئے ہمیں چند معلومات کی ضرورت ہے جو ہمرشتہ’’ان لینڈ‘‘ پرفراہم کی جائیں گی یہ معلومات آپ کے نام کو امریکی دارلمطالعہ کی فہرست میں دوسرے ناموں سے ممتاز کرنے کے لئے استعمال کی جائیںگی چونکہ ہم بذات خود آپ کی تصنیف کے متعلق کوئی صحیح معلومات ترتیب نہیں دے سکتے ۔اس لئے ساتھ والے فارم کو اگر آپ اپنی اوّلین فرصت میں پُر کر کے ارسال کردیں تو عین نوازش ہوگی۔ مسنر۔ای۔ایس۔گپتا اسسٹنٹ فیلڈڈائریکڑ لائبریری آف کانگرس (پی ۔ایل۔۴۸۰ پروگریمں سائو تھ ایشیا)

بِسْم اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

نَحْمَدُہٗ نُصَلِّیِ عَلٰٰی رَسُوْلِہِ الکریم

سبب تا لیف

میری یہ کتاب کسِی خاص عنوان پر کوئی فنی تصنیف نہیں ہے بلکہ یہ ایک استغاثہ ہے جسے میں نے قوم کی عدالت میں پیش کیا ہے استغاثہ کا مضمون یہ ہے کہ ہند و پاک میں مسلمانوں کی عظیم اکثریت انبیاء اولیاء کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ خدا نے اُن نفوس قُدسیہ کو غیبی علم و ادراک کی مخصوص قوت عطاکی ہے جس کے ذریعے انہیں مخفی اُمور اور چھپے ہوئے احوال کا انکشاف ہو تا ہے۔

یوں ہی خدائے قدیر نے اُنھیں کاروبار ہستی میں تصرّف کا بھی اختیار مرحمت فرمایا ہے، جس کے ذریعے وہ مصیبت زدوں کی دستگیری اور مخلوق کی حاجت روائی فرما تے ہیں۔

اب اس سلسلے میں علمائے دیوبند کا کہنا ہے کہ انبیاء واولیا کے حق میں اس طرح کا عقیدہ رکھنا شِرک اور کُفر ہے خدانے نہ اُنہیں عِلم غیب عطاکیا ہے اور نہ تصرف کا کوئی اختیار بخشا ہے وہ معاذاﷲ بالکل ہماری طرح مجبور ، بے خبر اور نادان بندے ہیں خدا کی چھوٹی یا بڑی کسی مخلوق میں بھی جو اس طرح کی کوئی قوت تسلیم کرتا ہے وہ خدا کی صفات میں اُسے شریک ٹھہراتا ہے ایسا شخص توحید کا مخالف،اسلام کا منکر اور قرآن و حدیث کا باغی ہے۔

استغاثہ پیش کرنے کا موجب یہ امر ہے کہ علمائے دیوبند کا یہ مسلک اگر قرآن و حدیث پر مبنی ہے تو اُنہیں ہر حال میں اس پر قائم رہنا چاہیئے تھا یعنی جن عقیدوں کو اُنھوں نے ابنیاء واولیاء کے حق میں شِرک سمجھا تھااُنہیں ساری مخلوق کے حق میں شِرک سمجھنا چاہیے تھا لیکن یہ کیسا اندھیر ہے اور عقیدئہ تو حید کے خلاف یہ کتنی شرمناک سازش ہے کہ ایک طرف وہ جن باتوں کو قرآن و حدیث کے حوالے سے انبیاء و اولیا ء کے حق میں شِرک اور مخالف توحید قراردیتے ہیں دوسری طرف وہ ان ہی باتوں کو اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں عین اسلام قرار دیتے ہیں۔

اس کتاب کے مندرجات کے ذریعہ میں مسلمانوں کی عدالت سے صرف اس بات کا فیصلہ چاہتاہوں کہ جن باتوں کو علمائے دیوبندانبیاء واولیاء کے حق میں شرک قرار دیتے ہیںاگر قرآن و حدیث کی رُو سے واقعتا وہ شرک ہیں تو پھر اُنھوں نے اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں اُسے کیوں جائز ٹھہرا لیا ہے اور اگر قرآن و حدیث کی رُو سے وہ شرک نہیں ہیں تو انبیاء واولیاء کے حق میں اُنھوں نے کیوں اُسے شرک قرار دیا ہے۔

تصویر کے پہلے رُخ میں دیوبندی لٹر یچر کے حوالے سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دیوبند ی حضرات انبیاء واولیاء کے حق میں علم غیب اور قدرت و تصرّف کاعقیدہ شرک اور منافی توحید سمجھتے ہیںاور تصویر کے دوسرے رُخ میں اُنہی کتابوں کے حوالے سے ثابت کیا گیا ہے کہ علمائے دیوبند اپنے گھر کے بزرگوںکے حق میں علم غیب اور قدرت و تصرّف کا عقیدہ شرک اور منافی توحید نہیں سمجھتے ہیں۔

ارشد القادری

                     یکم ربیع الاوّل  ۱۳۹۲؁ء

(نوٹ:۔ تصویر کے دونوںرُخوںمیں دیوبندی کتابوں کے جتنے حوالے دیئے گئے ہیںان میں سے ایک حوالہ بھی غلط ثابت کرنے پر دس ہزار روپے کا اعلان کیا جاتا ہے )

تصویر کا پہلا رُخ

دیوبندی جماعت کے امام اوّل مولوی اسمٰعیل صاحب فرماتے ہیں :

(۱) ’’جو کوئی یہ بات کہے کہ پیغمبر خدا یا کوئی امام یا بزرگ غیب کی بات جانتے تھے اور شریعت کے ادب سے منہ سے نہ کہتے تھے سو وہ بڑا جھوٹا ہے بلکہ غیب کی بات اللہ کے سِوا کوئی جانتا ہی نہیں۔‘‘

(تقویۃ الایمان،ص۲۷)

(۲) ’’کسی انبیاء اولیاء یا امام و شہید کی جناب میں ہر گز یہ عقیدہ نہ رکھے اور نہ اُن کی تعریف میں ایسی بات کہے۔‘‘ (تقویۃ الایمان،ص۲۶)

(۳) ’’جو کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میرے پاس ایسا کچھ علم ہے کہ جب میں چاہوں اس سے غیب کی بات معلوم کرلوں اور آئندہ باتوں کو معلوم کرلینا میرے قابو میں ہے سو وہ بڑا جھوٹا ہے کہ دعویٰ خدائی کا کرتا ہے اور جو کوئی کسی نبی، ولی یا جن وفرشتہ کو امام یا امام زادے یا پیر وشہید، نجومی، رمّال یا جفار کو یا فال دیکھنے والے کو یا برہمن اشٹی کو یا بھوت وپری کو ایسا جانے اور اس کے حق میں یہ عقیدہ رکھے سو وہ مشرک ہوجاتا ہے‘‘۔
(تقویۃ الایمان، ص۲۱)

(۴) ’’اور اس بات میں (یعنی غیب کی بات نہ جاننے میں) اولیاء انبیاء اور جن و شیطان اور بُھوت و پری میں کچھ فرق نہیں‘‘۔ (تقویۃ الا یمان، ص۸)

(۵) ’’جو کوئی کسی کا نام اُٹھتے بیٹھتے لیا کرے اور دور و نزدیک سے پکارا کرے۔۔۔۔۔ یا اُس کی صورت کا خیال باندھے اور یوں سمجھے کہ جب میں اُس کا نام لیتا ہوں زبان سے یا دل سے یا اُس کی صورت کا یا اس کی قبر کا خیال باندھتا ہوں تو وہیں اُس کو خبر ہو جا تی ہے اور اُس سے میری کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی اور جو مجھ پر احوال گزرتے ہیں جیسے بیماری و تندرستی و کشائش و تنگی ،مرنا و جینا غم و خوشی ،سب کی ہر وقت اُسے خبر رہتی ہے اور جو بات میرے منہ سے نکلتی ہے وہ سب سُن لیتا ہے اور جو خیال و وہم میرے دل میں گزرتا ہے وہ سب سے واقف ہے سو ان باتوں سے مشرک ہوجاتا ہے اور اس قسم کی باتیں سب شرک ہیں ۔۔۔ خواہ یہ عقیدہ انبیاء اولیاء سے رکھے خواہ پیر و شہید سے خواہ امام و امام زادے سے خواہ بھوت و پری سے پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ بات ان کو اپنی ذات سے ہے خواہ اللہ کے دیئے سے غرض اس عقیدے سے ہر طرح شِرک ثابت ہوگا۔‘‘ (تقویۃ الایمان،ص۱۰)

(۶) ’’کچھ اس بات میں بھی ان کو بڑائی نہیں ہے کہ اﷲ صاحب نے غیب دانی اختیار میں دے دی ہو کہ جس کے دل کا احوال جب چاہیں معلوم کرلیں یا جس غیب کا احوال جب چاہیں معلوم کر لیں کہ وہ جیتا ہے یا مر گیا یا کِس شہر میں ہے یا جس آئندہ بات کو جب ارادہ کرلیں دریافت کرلیں کہ فلاں کے یہاں اولاد ہوگی یا نہ ہوگی یا اس سوداگری میں اُسے فائدہ ہوگا یا نہ ہوگااس لڑائی میں فتح پاوے گا یا شکست کہ ان سب باتوں میں بھی سب بندے بڑے یا چھوٹے یکساں بے خبر ہیں اور نادان ہیں‘‘۔

(تقویۃ الایمان،ص۲۵) (۷) ’’اللہ صاحب نے پیغمبر صلعم کو فرمایا کہ لوگوں سے یوں کہہ دیویں کہ غیب کی بات سوائے اللہ کے

اور کوئی نہیں جانتا نہ فرشتہ نہ آدمی نہ جن نہ کوئی چیز یعنی غیب کی بات کو جان لینا کسی کے اختیار میں نہیں۔‘‘

(تقویۃ الایمان،ص۲۵)

(۸) ’’سو اُنھوں نے (یعنی رسولِ خدا نے) بیان کر دیا کہ مجھ کو نہ کچھ قدرت ہے نہ کچھ غیب دانی میری قدرت کا حال تو یہ ہے کہ اپنی جان تک کے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں تو دوسرے کا تو کیا کرسکوں؟ اور غیب دانی اگر میرے قابو میں ہوتی تو پہلے ہر کام کا انجام معلوم کرلیتا ،اگر بھلا معلوم ہوتا تو اس میں ہاتھ ڈالتا اگر بُرا معلوم ہوتا تو کاہے کو اس میں قدم رکھتا غرض کہ کچھ قدرت اور غیب دانی مجھ میں نہیں اور کچھ خدائی کا دعویٰ نہیں فقط پیغمبری کا مجھ کو دعویٰ ہے۔‘‘

(تقویۃ الایمان، ص۲۴)

(۹) ’’جو اللہ کی شان ہے اُس میں کسی مخلوق کو دخل نہیںسو اس میں اللہ کے ساتھ کسی مخلوق کو نہ ملائو گو کتنا ہی بڑا ہو اور کتنا ہی مقرّب۔مثلاََ یوں نہ بولے کہ اللہ اور رسول چاہے گا تو فلاناکام ہو جائے گا کہ سارا کاروبار جہان کا اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتا ہے رسُول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتایا کوئی شخص کہے کہ فلاں کے دل میں کیا ہے ،یا فلاں کی شادی کب ہوگی یا فلاں درخت میں کتنے پتے ہیں یا آسمان میں کتنے ستارے ہیں تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے کہ اللہ اور رسول ہی جانے کیوں کہ غیب کی بات اللہ ہی جانتا ہے۔رسول کو کیا خبر؟‘‘

(تقویۃ الایمان، ص۵۸)

دیوبندی جماعت کے دینی پیشوا مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی لکھتے ہیں :

(۱۰) ’’جو شخص اللہ تعالیٰ جل شانہ‘ کے سوا علمِ غیب کسی دوسرے کوثابت کرے۔۔۔وہ بے شک کافر ہے اس کی امامت اور اس سے میل جول ،محبت و مودت سب حرام ہے۔‘‘

(فتاویٰ رشیدیہ ،ج ۲ ،ص ۱۴۱)

(۱۱) ’’ علمِ غیب خاصہ حق جل شانہ‘ ہے ‘‘۔

(فتاویٰ رشیدیہ ،ج ۱ ،ص ۲۰) (۱۲) ’’اور یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ (یعنی حضور ﷺ) کو علمِ غیب تھا صریح شرک ہے۔‘‘

(فتاویٰ رشیدیہ ،ج ۲ ،ص ۱۴۱)

(۱۳) ’’اثباتِ علم غیب غیر حق تعالیٰ کو صریح شرک ہے۔‘‘ (فتاویٰ رشیدیہ ،ج ۳ ،ص ۱۷)

(۱۴) ’’جو رسول اللہ ﷺ کے عالم الغیب ہونے کا معتقد ہے، وہ سادات حنفیہ(یعنی ائمہ احناف) کے نزدیک قطعاََ مشرک و کافر ہے۔‘‘ (فتاویٰ رشیدیہ ،ج ۳ ،ص ۴۲)

(۱۵) ’’ علمِ غیب خاصہ حق تعالیٰ کا ہے اس لفظ کو کسی تاویل سے دوسرے پر اطلاق کرنا ایہام شرک سے خالی نہیں ۔‘‘ (فتاویٰ رشیدیہ ،ج ۳ ،ص ۴۳)

(۱۶) ’’ جو شخص رسول اللہ ﷺ کو علم غیب جو خاصّہ حق تعالیٰ ہے ثابت کرے اُس کے پیچھے نماز نا درست ہے لاَنہّ کفرٌ کیونکہ یہ کُفر ہے‘‘ ۔ (فتاویٰ رشیدیہ ،ج ۳ ،ص ۱۲۵)

(۱۷) ’’جب انبیاء علیہ السّلام کو بھی علم غیب نہیں ہوتا تو یا رسول اللہ کہنا بھی ناجائز ہوگا‘‘۔

(فتاویٰ رشیدیہ ،ص ۳)

دیوبندی جماعت کے دینی پیشوا مولوی اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں :

(۱۸) ’’ کسی بزرگ یا پیر کے ساتھ یہ عقیدہ رکھنا کہ ہمارے سب حال کی اس کو ہر وقت خبر رہتی ہے۔‘‘ (کفر وشرک ہے)
(بہشتی زیور ،ج ۱ ،ص ۲۷)

(۱۹) ’’کسی کو دور سے پُکارنا اور یہ سمجھنا کہ اس کو خبر ہو گئی‘‘۔ (کفر و شرک ہے)

(بہشتی زیور ،ج ۱ ، ص ۳۷)

’’بہت سے امور میں آپ کا(یعنی حضور ﷺ کا) خاص اہتمام سے توجہ فرمانا اور فکروپریشانی میں واقع ہونا اور باوجود اس کے پھر مخفی رہنا ثابت ہے۔ قصہ افک میں آپ کی تفتیش واستکشاف بابلغ وجوہ صحاح میں مذکور ہے مگر صرف توجہ سے انکشاف نہیں ہوا‘‘۔ (حفظ الایمان، ص۱۷) (۲۱) ’’یا شیخ عبدالقادر ، یا شیخ سلیمان کا وظیفہ پڑھنا جیسا عوام کا عقیدہ ہے اُن کے مُرتکب ہونے سے بالکل اسلام سے خارج ہوجاتا ہے مشرک بن جاتا ہے۔‘‘ (فتاویٰ امدادیہ ،جلد۴،ص ۵۶)

دیوبندی جماعت کے دینی پیشوا مولوی عَبدالشکور صاحب کاکوروی لکھتے ہیں :

(۲۲) ’’فقہ حنفی کی معتبر کتابوں میں بھی سوائے خدا کے کسی کو غیب داں جاننا اورکہنا ناجائز لکھا ہے بلکہ اس عقیدے کو کفر قرار دیا ہے۔‘‘

(تحفۂ لاثانی ،ص ۳۷)

(۲۳) ’’حنفیہ نے اپنی فقہ کی کتابوں میں اس شخص کو کافر لکھا ہے جو عقیدہ رکھے کہ نبی غیب جانتے تھے۔‘‘ (تحفۂ لاثانی ،ص ۳۸) (۲۴) ’’رسول خدا ﷺ کہ ذات والا میں صفت علم غیب ہم نہیں مانتے اور جو مانے اُسے منع کرتے ہیں۔‘‘ (نصرت آسمانی ،ص ۲۷)

(۲۵) ’’ہم یہ نہیں کہتے کہ حضور ؐ غیب جانتے تھے یا غیب داں تھے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ حضور کو غیب کی باتوں پر اطلاع دی گئی فقہائے حنفیہ کفر کا اطلاق اسی غیب دانی پر کرتے ہیں نہ کہ اطلاع یابی پر۔‘‘

(فتح حقانی ،ص ۲۵) دیوبندی جماعت کے دینی پیشوا قاری طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند لکھتے ہیں : (۲۶) ’’ رسول اور امت رسول اس حد تک مشترک ہیں کہ دونوںکو علمِ غیب نہیں ہے‘‘۔

(فاران کا توحید نمبر ،ص۱۱۴) (۲۷) ’’ حضرت سیدالاوّلین و آخرین کے لئے علمِ غیب کا دعویٰ اور وہ بھی علمِ کلّی اور علم ماکان ومَایَکون کی قید کے ساتھ نہ صرف بے دلیل اور بے سند ہے بلکہ مخالف دلیل،معارض قرآن اور اس توحیدی شریعت کے مزاج کے خلاف ہونے کی وجہ سے نا قابلِ التفات ہے‘‘۔ (فاران توحید نمبر ،ص۱۱۷)

(۲۹) ’’کتاب و سنت کو سامنے رکھ کر علم کی تقسیم یوں نہ ہوگی کہ اللہ کا علم ذاتی رسول کا علم عطائی یعنی نوعی فرق کے ساتھ دونوں کا برابر ہے گویا ایک حقیقی خدا ایک مجازی خدا‘‘۔ ( فاران توحید نمبر، ص۱۲۱) (۳۰) ’’یہ آیت تا قیامت یہی اعلان کرتی رہیگی کہ آپ کو علمِ غیب نہ تھااس کے معنی یہ ہیں کہ قیامت تک آپ کو علمِ غیب نہیں ہوگا ‘‘۔

(فاران توحید نمبر ،ص ۱۲۶)

دیوبندی جماعت کے دینی پیشوا مولوی منظور صاحب نعمانی لکھتے ہیں

(۳۱) ’’جس طرح محبت عیسوی کے الوہیت مسیح کے عقیدے نے نشوونُما پائی اور جیسے حبِّ اہلبیت کے نام پر رفض کو ترقی ہوئی اُسی طرح حبّ نبوی اور عشق رسالت کا رنگ دیکر مسئلہ علمِ غیب کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے اور بے چارے عوام محبت کا ظاہری عنوان دیکھ کر برابر اس پر ایمان لا رہے ہیں‘‘۔

(الفرقان ،شمارہ ۵ ،ج ۶ ،ص ۱۱)

(۳۲) چونکہ عقیدہ علمِ غیب کا یہ زہر محبت کے دودھ میں ملا کر امّت کے حلقوںسے پلایا جا رہا ہے اس لئے ان تمام گمراہانہ اعتقادات سے زیادہ خطرناک اور توجہ کا محتاج ہے جن پر محبت و عقیدت کا ملمّع نہیں کیا گیا ہے‘‘۔

(الفرقان ،شمارہ نمبر ۵ ،ج۶ ،ص۱۳)

(۳۳) ’’صحیح بخاری شریف میں حضرت عبدللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ مفاتیح الغیب جن کو خدا کے سِوا کوئی نہیں جانتا وہ پانچ چیزیں ہیںجو سورۃ لقمان کی آخری آیت میں مذکورہیں یعنی قیامت کا وقتِ مخصوص، بارش کا ٹھیک وقت کہ کب نازل ہوگی، مَافِی الاَرحَام یعنی عورت کے پیٹ میں کیا ہے بچہ ہے یا بچّی ، مستقبل کے واقعات، موت کا صحیح مقام‘‘۔

(فتح بریلی کا دلکش نظّارہ ،ص ۵۸)

دیوبندی جماعت کے دینی پیشوا مولوی خلیل احمدصاحب انبیٹھوی لکھتے ہیں

(۳۴) ملک الموت سے افضل ہونے کی وجہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کا علم اُن اُمور (یعنی روئے زمین) کے بارے میں ملک الموت کے برابر بھی ہو چہ جائیکہ زیادہ‘‘۔ (براہین قاطعہ، ص۵۴)

(۳۵) ’’شیخ عبدالحق روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو (یعنی رسول خدا کو) دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ہے‘‘۔

(براہین قاطعہ ،ص ۵۱) (۳۶) ’’بحررائق،عالمگیری،درمختار وغیرہ میںہے کہ اگر کوئی نکاح کرے بہ شہادت حق تعالیٰ و فخرعالم علیہ السلام کے تو کافر ہو جاتا ہے بہ سبب اعتقاد علمِ غیب کے فخر عالم کی نسبت‘‘۔ (براہین قاطعہ ،ص۴۲)

دیوبندی جماعت کے متفرق حضرات کی عبارتیں

(۳۷) ان لوگوں کو اپنے دماغ کی مرمّت کرانی چاہیے جو یہ لغو ترین اور احمقانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رسول اللہ کو علمِ غیب تھا‘‘۔ (عامر عثمانی،تجلّی دیوبند ،بابت دسمبر ۱۹۶۰ء)

(۳۸) ’’الوہیت اور علمِ غیب کے درمیان ایک ایسا گہرا تعلّق ہے کہ قدیم ترین زمانے سے انسان نے جس ہستی میں بھی خدائی کے کسی شائبے کا گمان کیا ہے اس کے متعلق یہ خیال ضرور کیا ہے کہ اس پر سب کچھ روشن ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔‘‘ (مولانا مودودی، الحسنات، رامپور)

(۳۹) حضرت یعقوب علیہ السَّلام برگزیدہ پیغمبر تھے مگر برسوں تک اپنے پیارے اور چہیتے بیٹے یوسف کی خبر نہ معلوم کر سکے کہ اُن کا نورِ نظر کہاں ہے اور کس حال میں ہے‘‘۔

(ماہرالقادری، فاران کا توحید نمبر ،ص ۱۳) (۴۰) ’’اگر حضور عالم الغیب ہوتے تو حدیبیہ میں حضرت عثمان کی شہادت کی افواہ سُنتے ہی فرما دیتے کہ یہ خبر غلط ہے عثمان مکہ میں زندہ ہیںصحابہ کرام کی اتنی بڑی جماعت تک کو اصل واقعہ کا کشف نہیں ہوا۔‘‘

(ماہرالقادری، فاران کا توحید نمبر ،ص ۱۳)

تصویر کا دسرا رُخ

اگر کسی طرح کی بدگمانی کو راہ نہ دی جائے تو تصویر کے پہلے رُخ میں مسئلہ علم غیب اور قدرت وتصرف پر دیوبندی علماء کی جو عبارتیں نقل کی گئی ہیں اُنہیں پڑھنے کے بعد ایک خالی الذہن آدمی قطعاً یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہے گا کہ رسول مجتبیٰ ﷺ اور دیگر انبیاء واولیاء کے حق میں علم غیب اور قدرت وتصرف کا عقیدہ یقیناتوحید کے منافی اور کھلا ہوا کفروشرک ہے اور لازماً اُسے علمائے دیوبند کے ساتھ یہ خوش عقیدگی ہوگی کہ وہ مذہب توحید کے سچے علمبردار اور کفروشرک کے معتقدات کے خلاف وقت کے سب سے بڑے مجاہد ہیں۔

لیکن آہ ! میں کن لفظوں میں اس سربستہ راز کو بے نقاب کروں کہ اس خاموش سطح کے نیچے ایک نہایت خوفناک طوفان چھپا ہوا ہے تصویر کے اس رُخ کی دلکشی اُسی وقت تک باقی ہے جب تک دوسرا رُخ نگاہوں سے اُوجھل ہے یقین کرتا ہوں کہ پردہ اُٹھ جانے کے بعد توحید پرستی کی ساری گرم جوشیوں کا ایک آن میں بھرم کھل جائے گا۔

قبل اس کے کہ میں اصل حقیقت کے چہرے سے نقاب اُٹھائوں ، آپ کے دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ کر ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔

فرض کیجئے ! اگر آپ کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ علم غیب سے لے کر تصرف واختیار تک جن جن باتوں کے اعتقاد کو دیوبندی جماعت کے ان پیشوائوں نے رسول مجتبیٰ ﷺ اور دیگر انبیاء واولیاء کے حق میں کفروشرک اور منافی توحید قرار دیا ہے اُن ہی ساری باتوں کو وہ اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں جائز بلکہ واقع تسلیم کرتے ہیں تو آپ کے ذہنی واردات کی کیاکیفیت ہوگی ؟

کیا اس صورت حال کو آپ مذہبی تاریخ کا سب سے بڑا فریب نہیں قرار دیں گے اور اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد آپ کے ذہن کی سطح پر جو تصویر اُبھرے گی کیا وہ رہ گزر کے اُن ٹھگوں سے کچھ مختلف ہوگی جو آنکھوں میں دُھول جھونک کر مسافروں کو لوٹ لیا کرتے ہیں۔

اگر حالات کا یہ ردّ عمل فطرت کے عین مطابق ہے تو سن لیجئے کہ جو صورت حال آپ نے فرض کی تھی وہ مفروضہ نہیں بلکہ امر واقعہ ہے۔ ہمارے اس پیش لفظ پر اعتماد نہ کرسکیں تو ذ ہنی طور پر ایک حیرت انگیز تبدیلی لے لئے تیار ہوکر ورق اُلٹئے اور دیوبندی جماعت کے پیشوائوں کے وہ واقعات پڑھئے جن میں عقیدۂ توحید اور اسلام وایمان کی سلامتی کے سوا سب کچھ ہے۔

غیب دانی کا اعتقاد، دلوں کے خطرات پر اطلاع، سینکڑوں میل مسافت سے مخفیات کا علم، ماں کے پیٹ میں کیاہے؟ بارش کب ہوگی، کل آئندہ کیا پیش آئے گا، کون کب مرے گا، کس کی وفات کہاں ہوگی، دیوار کے پیچھے کیا ہے، اپنے ارادہ وتصرف سے مارنا، شفا بخشنا، بارش روک دینا، بارش برسا دینا، امداد ودستگیری کے لئے آنِ واحد میں اپنی اپنی قبروں سے نکل کر دُور دُور پہنچ جانا، تصور کرتے ہی سامنے موجود ہوجانا، سارے جہاں کا ایک نظر میں احاطہ کرلینا، مصیبت کے وقت غائب کو اپنی مدد کے لئے پکارنا، گزشتہ اور آئندہ کی خبریں دینا، یہ سمجھنا کہ ہر وقت ہمارے دل کے احوال کی خبر رکھتے ہیں، یہ سمجھنا کہ تصور کرتے ہی باخبر ہوجاتے ہیں وغیرہ وغیرہ، یہ وہی ساری باتیں ہیں جنہیں علمائے دیوبند کی مذکورۃ الصدر کتابوں میں صرف خدا کا حق تسلیم کیا گیا ہے اور غیر خدا یہاں تک کہ رسول مجتبیٰ ﷺ کے حق میں بھی اس طرح کے اعتقادات کو کفروشرک قرار دیا گیا ہے۔

لیکن کمال حیرت کے ساتھ یہ خبر وحشت اثر سنئے کہ یہی خدائی کا منصب ، یہی کھلا ہوا کفروشرک اور یہی توحید کے منافی اعتقادات علمائے دیوبند نے اپنے گھر کے لئے بزرگوں کے حق میں بے چوں چرا تسلیم کرلئے ہیں۔

یہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے اور الگ الگ ہر باب میں دیوبندی جماعت کے بزرگوں کے وہ واقعات وحالات جمع کئے گئے ہیں جنہیں پڑھ کے بعد آپ کے دماغ کا تار جھنجھنا اُٹھے گا اور ان حضرات کی توحید پرستی کا سارا بھرم کھل جائے گا۔

ہم نہ کہتے کہ اے داغ تو زلفوں کو نہ چھیڑ
اُب وہ برہم ہے تو ہے تجھ کو قلق یا ہم کو

پہلا باب

بانی دارالعلوم دیوبند جناب مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے بیان میں

اس باب میں دیوبندی لٹریچر سے مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی سے متعلق وہ واقعات وحالات جمع کئے گئے ہیں جن میں عقیدہ توحید سے تصادم، اپنے مذہب سے انحراف اور اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں منہ بولے کفروشرک کو اسلام وایمان بنا لینے کے حیرت انگیز نمونے ورق ورق پر بکھرے ہوئے ہیں انہیں پڑھئے اور مذہبی تاریخ میں پہلی بار ایک عجیب طلسم فریب کا تماشا دیکھئے۔

سلسلۂ واقعات (۱) وفات کے بعد مولوی قاسم نانوتوی کا جسم ظاہری کے ساتھ مدرسہ دیوبند میں آنا

قاری طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند بیان کرتے ہیں کہ جس زمانے میں مولوی رفیع الدین صاحب مدرسہ کے مہتمم تھے دارالعلوم کے بعض مدرسین کے درمیان آپس میں کچھ نزاع چھڑ گئی آگے چل کر مدرسہ کے صدر مدرس مولوی محمود الحسن صاحب بھی اس ہنگامے میں شریک ہوگئے اور جھگڑا طول پکڑگیا اَب اس کے بعد کا واقعہ قاری طیب صاحب ہی کی زبانی سنئے موصوف لکھتے ہیں :

’’ اسی دوران میں ایک دن علی الصبح بعد نماز فجر مولانا رفیع الدین صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے مولانا محمود الحسن صاحب کو اپنے حجرہ میں بلایا(جو دارالعلوم دیوبند میں ہے) مولانا حاضر ہوئے اور بند حجرہ کے کواڑ کھول کر اندر داخل ہوئے موسم سخت سردی کا تھا ۔

مولانا رفیع الدین صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ پہلے یہ میرا یہ روئی کا لبادہ دیکھ لو مولانا نے لبادہ دیکھا تو تر تھا اور خوب بھیگ رہا تھا فرمایا کہ واقعہ یہ ہے کہ ابھی ابھی مولانا نانوتوی رحمۃ اﷲ علیہ جسدِ عنصری(ظاہری جسم) کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے تھے جس سے میں ایک دم پسینہ پسینہ ہوگیا اور میرا لبادہ تربتر ہوگیا اور یہ فرمایا کہ محمود حسن کو کہہ دو کہ وہ اس جھگڑے میں نہ پڑے ، بس میں نے یہ کہنے کے لئے بلایا ہے۔ مولانا محمود حسن صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتا ہوںکہ اس کے بعد اس قصے میں کچھ نہ بولوں گا‘‘۔ (ارواح ثلٰثہ، ص۲۴۲)

مولا نا نا نو توی صاحب کا خدائی تصرف

اَب ایک نیا تماشہ ملاحظہ فرمائیے قاری صاحب کی اس روایت پر دیوبندی مذہب کے پیشوا مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نے اپنا ایک نیا حاشیہ چڑھایا ہے جس میں بیان کردہ واقعہ کی توثیق کرتے ہوئے موصوف نے تحریر کیا ہے :

’’یہ واقعہ روح کا تمثل تھا اور اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ جسد مثالی تھا مگر مشابہ جسد عنصری کے

دوسری صورت یہ کہ روح نے خود عناصر میں تصرف کرکے جسد عنصری تیار کرلیا ہو‘‘۔

(ارواح ثلٰثہ، ص۲۴۳)

لاالہ الااﷲ ! دیکھ رہے ہیں آپ؟ اس ایک واقعہ کے ساتھ کتنے مشرکانہ عقیدے لپٹے ہوئے ہیںپہلا عقیدہ تو مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے حق میں علم غیب کا ہے کیونکہ ان حضرات کے تئیں اگر انہیں علم غیب نہیں تھا تو عالم برزخ میں اُنہیں کیونکر خبر ہوگئی کہ مدرسہ دیوبند میں مدرسین کے درمیان سخت ہنگا مہ ہوگیا ہے یہاں تک کہ مدرسہ کے صدر مدرس مولوی محمود حسن صاحب اس میں شامل ہوگئے ہیں چل کر اُنہیں منع کردیا جائے۔

اور پھر اُن کی روح کی قوت تصرف کاکیا کہنا کہ تھانوی صاحب کے ارشاد کے مطابق اس جہان خاکی میں دوبارہ آنے کے لئے اُس نے خود آگ،پانی،مٹی اور ہوا کا ایک انسانی جسم تیار کیا اور خود ہی اس میں داخل ہوکر زندگی کے آثار اور نقل وحرکت کی قوت ارادی سے مسلح ہوئی اور لحد سے نکل کر سیدھے دیوبند کے مدرسہ میں چلی آئی۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ مولوی قاسم صاحب نانوتوی کی روح کے لئے یہ ’’خدائی اختیارات‘‘ بلا چوں وچرا مولوی رفیع الدین صاحب نے بھی تسلیم کرلیا، مولوی محمود الحسن صاحب بھی اس پر آنکھ بند کرکے ایمان لے آئے اور تھانوی صاحب کا کیا کہنا کہ اُنہوں نے تو جسم انسانی کا خالق ہی اُسے ٹھہرادیااور اَب قاری طیب صاحب اس کی تشہیر فرمارہے ہیں۔

ان حالات میں ایک صحیح الدماغ آدمی یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ روح کے لئے جو تصرفات واختیارات اور غیبی علم وادراک کی جو قوتیں سرور کائنات ﷺ اور ان کے مقربین کے حق میں تسلیم کرنا یہ حضرات کفروشرک سمجھتے ہیں وہی ’’اپنے مولانا ‘‘کے حق میں کیونکر اسلام وایمان بن گیا ہے ؟

کیا یہ صورت حال اس حقیقت کو واضح نہیں کرتی کہ ان حضرات کے یہاں کفروشرک کی یہ تمام بحثیں صرف اس لئے ہیں کہ انبیاء واولیاء کی حرمتوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اُنہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے ورنہ خالص عقیدۂ توحید کا جذبہ اس کے پس منظر میں کار فرما ہوتا تو شرک کے سوال پر اپنے بیگانے کے درمیان قطعاً کوئی تفریق روا نہ رکھی جاتی۔ (۲)

ایک اور حیرت انگیز واقعہ

دیوبندی جماعت کے مشہور فاضل مولوی مناظر احسن گیلانی نے’’ سوانح قاسمی ‘‘کے نام سے مولوی قاسم صاحب نانوتوی کی ایک ضخیم سوانح حیات لکھی ہے جسے دارالعلوم دیوبند نے خود اپنے اہتمام سے شائع کیا ہے۔

اپنی اس کتاب میں مولوی محمود الحسن کے حوالے سے اُنہوں نے کسی ’’واعظ مولانا‘‘کے ساتھ ایک دیوبندی طالب علم کا ایک بڑا ہی عجیب وغریب مناظرہ نقل کیا ہے اُس میں دیوبندی طالب علم کے متعلق موصوف کے بیان کا یہ حصہ خاص طور پر پڑھنے کے قابل ہے لکھتے ہیں :

’’وہ پنجاب کے کسی علاقے میں چلا گیا اور کسی قصبہ کی مسجد میں لوگوں نے ان کو امام کی جگہ دے دی قصبہ والے ان سے کافی مانوس ہوگئے اور اچھی گزر بسر ہونے لگی اسی عرصہ میں کوئی مولوی صاحب گشت کرتے ہوئے اُس قصبے میں بھی آدھمکے وعظ وتقریر کا سلسلہ شروع کیا ، لوگ اُن کے کچھ معتقد ہوئے اُنہوں نے دریافت کیا کہ یہاں کی مسجد کا امام کون ہے کہا گیا کہ دیوبند کے پڑھے ہوئے ایک مولوی صاحب ہیں۔

دیوبند کا نام سننا تھا کہ واعظ مولانا صاحب آگ بگولہ ہوگئے اور فتویٰ دیدیا کہ اس عرصے میں جتنی نمازیں اس دیوبندی کے پیچھے تم لوگوں نے پڑھی ہیں وہ سرے سے ادا ہی نہیںہوئیںاور جیسا کہ دستور ہے دیوبندی یہ ہیں ، وہ ہیں، یہ کہتے ہیں ، وہ کہتے ہیں ، اسلام کے دشمن ہیں، رسول اﷲ ﷺ سے عداوت رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

قصباتی مسلمان بے چارے سخت حیران ہوئے کہ مفت میں اس مولوی صاحب پر روپے بھی برباد ہوئے اور نمازیں بھی برباد ہوئیں، ایک وفد اس غریب دیوبندی امام کے پاس پہنچا اور مستدعی ہوا کہ مولانا واعظ صاحب جو ہمارے قصبہ میں آبسے ہیں اُن کے جو الزامات ہیں یا اُن کا جواب دیجئے ورنہ پھر بتائیے کہ ہم لوگ آپ کے ساتھ کیا کریں؟ جان بھی غریب کی خطرے میں آگئی اور نوکری ووکری کا قصہ تو ختم شد ہی معلوم ہونے لگاچونکہ علمی مواد بھی ان کا معمولی تھا خوفزدہ ہوئے کہ خدا جانے یہ واعظ مولانا صاحب کس پائے کے عالم ہیں؟ منطق وفلسفہ بگھاریں گے اور میں غریب اپنا سیدھا سادہ ملا ہوں ان سے بازی لے بھی جا سکتا ہوں یا نہیں ؟ تاہم چارۂ کار اس کے سوا کیا تھا کہ مناظرہ کا وعدہ ڈرتے ڈرتے کرلیا تاریخ اور محل ومقام سب کا مسئلہ طے ہوگیا۔ واعظ مولاناصاحب بڑا زبردست عمامہ طویلہ وعریضہ سر پر لپیٹے ہوئے کتابوں کے پشتارے کے ساتھ مجلس میں اپنے حواریوں کے ساتھ جلوہ فرما ہوئے ادھر یہ غریب دیوبندی امام، منحنی وضعیف، مسکین شکل، مسکین آواز خوفزدہ، لرزاں وترساں بھی اﷲ اﷲ کرتے ہوئے سامنے آیا۔

سننے کی بات یہی ہے جو اس کے بعد دیوبندی امام مولوی نے مشاہدہ کے بعد بیان کی کہتے تھے کہ :

’’ مولانا واعظ صاحب کے سامنے میں بھی بیٹھ گیا ابھی گفتگو شروع نہیں ہوئی تھی کہ اچانک اپنے بازو میں مجھے محسوس ہوا کہ ایک شخص اور جسے میں نہیں پہچانتا تھا وہ بھی آکر بیٹھ گیا اور مجھ سے وہ اجنبی اچانک نمودار ہونے والی شخصیت کہتی ہے کہ ہاں گفتگو شروع کرو اور ہر گز نہ ڈرو دل میں غیر معمولی قوت اس سے پیدا ہوئی‘‘ ۔

اس کے بعد کیا ہوا ؟ دیوبندی امام صاحب کا بیان ہے کہ :

’’میری زبان سے کچھ فقرے نکل رہے تھے اور اس طور پر نکل رہے تھے کہ میں خود نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوںجس کا جواب مولانا واعظ صاحب نے ابتداء میں تودیا لیکن سوال وجواب کا سلسلہ ابھی زیادہ دراز بھی نہیں ہواتھا کہ ایک دفعہ مولانا واعظ صاحب کو دیکھتا ہوں کہ اُٹھ کھڑے ہوئے میرے قدموں پر سر ڈالے رو رہے ہیں، پگڑی بکھری ہوئی ہے اور کہتے جاتے ہیں میں نہیں جانتا تھا کہ آپ اتنے بڑے عالم ہیں، ﷲ معاف کیجئے! آپ جو کچھ فرمارہے ہیں یہی صحیح اور درست ہے میں ہی غلطی پر تھا۔

یہ منظر ہی ایسا تھا کہ مجمع دم بخود تھا کیا سوچ کر آیا تھا اور یہ کیا دیکھ رہا تھا دیوبندی امام صاحب نے کہا کہ اچانک نمودار ہونے والی شخصیت میری نظر سے اس کے بعد اوجھل ہوگئی اور کچھ نہیں معلوم کہ وہ کون تھے اور یہ کیا قصہ تھا‘‘۔ (سوانح قاسمی، ج۱، ص۳۳۰،۳۳۱)

یہاں تک اصل قصہ بیان کرچکنے کے بعد اب مولوی مناظر احسن گیلانی ایک نہایت پُراسرار اور حیرت انگیز واقعہ کی نقاب کشائی فرماتے ہیںدراصل ان کے بیان کا یہی حصہ ہماری بحث کا مرکزی نقطہ ہے اس کے بعد لکھتے ہیں

’’ حضرت شیخ الہند(یعنی مولانا محمود الحسن صاحب) فرماتے تھے میں نے اُن مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ اچانک نمودار ہونے والی شخصیت کا حلیہ کیا تھا۔ حلیہ جو بیان کیا فرماتے تھے کہ سنتا جاتا تھا اور حضرۃ الاستاذ(یعنی مولوی قاسم نانوتوی) کا ایک ایک خال وخط نظر کے سامنے آتا چلا جارہا تھا جب وہ بیان ختم کرچکے تو میں نے ان سے کہا کہ یہ تو حضرۃ الاستاذ رحمۃ اﷲ علیہ تھے جو تمہاری امداد کے لئے حق تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئے‘‘۔ (سوانح قاسمی، ج۱،ص۳۳۲)

ملاحظہ فرمائیے ! قصہ آرائی سے قطع نظر اس ایک واقعہ کے اندر مولوی قاسم نانوتوی صاحب کے حق میں کتنے مشرکانہ عقائد کا برملا اعتراف کرلیا گیا ہے۔

اولاً یہ کہ نہایت فراخدلی کے ساتھ اُن کے اندر غیب دانی کی وہ قوت بھی مان لی گئی جس کے ذریعہ اُنہیں عالم برزخ ہی میں معلوم ہوگیا کہ ایک دیوبندی امام فلاں مقام پر میدان مناظرہ میں یکہ وتنہا بے بسی کی حالت میں دم توڑ رہا ہے چل کر اس کی مدد کی جائے۔

دوسرے یہ کہ اُن کے حق میں یہ قوت تصرف بھی تسلیم کرلی گئی ہے کہ وہ اپنے ظاہری جسم کے ساتھ اپنی لحد سے نکل کر جہاں چاہیں بے روک ٹوک جاسکتے ہیں۔

تیسرے یہ کہ مرنے کے بعد زندوں کی مدد کرنے کا اختیار، چاہے دیوبندی حضرات کے تئیں انبیاء واولیاء کے لئے بھی ثابت نہ ہو، لیکن ’’اپنے مولانا‘‘ کے لئے ضرور ثابت ہے۔

اَب آپ ہی انصاف کیجئے کہ یہ صورت حال کیا اس یقین کو تقویت نہیں پہنچاتی کہ ان حضرات کے یہاں کفروشرک کی یہ تمام بحثیں صرف اس لئے ہیں کہ انہیں انبیاء واولیاء کی حرمتوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے ، ورنہ خاص عقیدہ ٔ توحید کا جذبہ اس کے پس منظر میں کار فرما ہوتا تو شرک کے سوال پر اپنے بیگانے کی تفریق کیوں روا رکھی جاتی ؟

اپنے ہی ہاتھوں اپنے مذہب کا خون

ایسامعلوم ہوتا ہے یہ قصہ بیان کرچکنے کے بعد مولوی مناظر احسن گیلانی کو اچانک یاد آیا کہ ہمارے یہاں تو ارواحِ انبیاء تک کے لئے بھی زندوںکی مددکرنے کا کوئی تصور نہیں ہے بلکہ اپنے مشرب میں ہم اس طرح کے تصورات ’’مشرکانہ عقائد‘‘ سے تعبیر کرتے آرہے ہیں پھر اتنے واضح اور مسلسل اور متوارث ِ انکار کے بعد اپنے مولانا کے ذریعہ غیبی امداد کا یہ قصہ کیونکر نبھایا جاسکے گا ؟

یہ سوچ کر بجائے اس کے کہ اپنے مسلک کو بچانے کے لئے موصوف اس مصنوعی قصے کا انکار کرتے اُنہوں نے اپنے مولانا کا’’ خدائی اختیار‘‘ ثابت کرنے کے لئے اپنے اصل مذہب ہی کا انکار کردیا۔

میں یقین کرتا ہوں کہ مذہبی انحراف کی ایسی شرمناک مثال کسی فرقے کی تاریخ میں شاید ہی مل سکے گی واقعہ بیان کرچکنے کے بعد کتاب کے حاشیہ میں موصوف ارشادفرماتے ہیں۔ ’’حیرت میں ڈوب کر یہ’’ان کہی‘‘ پڑھئے اور علم ودیانت کا ایک تازہ خون اور ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں :

’’ وفات یافتہ بزرگوں کی روحوں سے امداد کے مسئلے میں علماء دیوبند کا خیال بھی وہی ہے جو عام اہل سنت والجماعت کا ہے آخر جب ملائکہ جیسی روحانی ہستیوں سے خود قرآن ہی میں ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں کی امداد کراتے ہیں۔

صحیح حدیثوں میں ہے کہ واقعہ معراج میں رسول اﷲ ﷺ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تخفیف صلوٰۃ کے مسئلے میں امداد ملی اور دوسرے انبیاء علیہم السلام سے ملاقاتیں ہوئیں، بشارتیں ملیںتو اسی قسم کی ارواح طیبہ سے کسی مصیبت زدہ مومن کی امداد کا کام قدرت اگر لے تو قرآن کی کس آیت یا کس حدیث سے اُس کی تردید ہوتی ہے‘‘۔ (حاشیہ سوانح قاسمی، ج۱، ص۳۳۲) سبحان اﷲ ! غلبہ حق کی شان تو دیکھئے کہ وفات یافتہ بزرگوں کی روحوں سے امداد کے مسئلے میں کل تک جو سوال ہم اُن سے کرتے تھے آج وہی سوال وہ اپنے آپ سے کررہے ہیںاَب اس سوال کا جواب تو اُنہی لوگوں کے ذمے ہے جنہوں نے ایک خالص اسلامی عقیدے کو کفروشرک کا نام دے کر اصل حقیقت کا چہرہ مسخ کیا ہے۔

تاہم گیلانی صاحب کے اس حاشیہ سے اتنی بات ضرور صاف ہوگئی کہ جو لوگ وفات یافتہ بزرگوں کی روحوں سے امداد کے قائل ہیں وہی فی الحقیقت اہل سنت ولجماعت ہیں اَب انہیں بدعتی کہہ کر پکارنا نہ صرف یہ کہ اپنے آپ کو جھٹلانا ہے بلکہ اخلاقی رذائل سے اپنی زبان اور قلم کی آلودگی کا مظاہرہ بھی کرنا ہے۔

حاشیہ کی عبارت کا یہ حصہ بھی دیدۂ حیرت سے پڑھنے کے قابل ہے ارشاد فرماتے ہیں :

’’اورسچ تو یہ ہے کہ آدمی کو عام طور پر جو امداد بھی مل رہی ہے حق تعالیٰ اپنی مخلوقات ہی سے تو یہ امدادیں پہنچارہے ہیں روشنی آفتاب سے ملتی ہے دودھ گائے اور بھینس سے ملتا ہے یہ تو ایک واقعہ ہے بھلا یہ بھی انکار کرنے کی کوئی چیز ہوسکتی ہے‘‘۔ (حاشیہ سوانح قاسمی، ص۳۳۲) انکار کی بات کیا پوچھتے ہیں کہ آپ کے یہاں تو اس مورچے پر ایک صدی سے جنگ لڑی جارہی ہے معرکۂ کارزار میں حقائق کی تڑپتی ہوئی لاشیں آپ نہیں دیکھ پاتے تو اپنے ہی قلم کی تلوار سے لہو ٹپکتی ہوئی بوند ملاحظہ فرمالیجئے۔

حاشیہ کی عبارت جس حصے پر تمام ہوئی ہے اس میں اعتراف حق کا مطالبہ اس قدر بے قابو ہوگیا ہے کہ تحریر کے نقوش سے آواز آرہی ہے اہل حق کو بغیر کسی لشکر کشی کے اپنے مسلک کی یہ فتح مبین مبارک ہو ارشاد فرماتے ہیں :

’’ پس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں ہیں‘‘۔

اﷲ اکبر ! دیکھ رہے ہیں آپ ؟ قصہ آرائی کو واقعہ بنانے کے لئے یہاں کتنی بیدردی کے ساتھ مولانا نے اپنے مذہب کا خون کیا ہے جو عقیدہ ایک صدی سے پوری جماعت کے ایوانِ فکر کا سنگ بنیاد رہا ہے اُسے ڈھادینے میں موصوف کو ذرا بھی تامل نہیںہوا۔

اعتقاد وعمل کے درمیان شرمناک تصادم

سربہ گریباں ہوکر علم ودیانت کی پامالی کا ذرا یہ تماشا ملاحظہ فرمائیے کہ سوانح قاسمی نامی کتاب خاص دارالعلوم دیوبند سے بھی شائع ہوچکی ہے قاری طیب صاحب مہتمم بذات خود اس کے پبلشرہیں اپنے حلقہ اثرمیںکتاب کی ثقاہت کسی رُخ سے بھی مشکوک نہیںکہی جاسکتی لیکن سخت حیرت ہے کہ نانوتوی صاحب کو مافوق البشر ثابت کرنے کے لئے دیوبندی جماعت کے ان مشاہیر نے ایک ایسی کھلی ہوئی حقیقت کا انکار کردیا ہے جسے اَب وہ چھپانا بھی چاہیں تو نہیں چھپا سکتے ۔

مثال کے طور پر وفات یافتہ بزرگوں کی روحوں کے مسئلے میں دیوبندی حضرات کا اصل مذہب کیا ہے اسے معلوم کرنے کے لئے دیوبندی مذیب کی بنیادی کتاب’’تقویۃ الایمان‘‘ کی یہ عبارت پڑھئے :

’’ مرادیں پوری کرنا، حاجتیں برلانی، بلائیں ٹالنی ، مشکل میں دستگیری کرنی، بُرے وقت میں پہنچنا، یہ سب اﷲ ہی کی شان ہے اور کسی انبیاء اولیاء کی پیروشہید کی بھوت وپری کی یہ شان نہیں ، جو کسی کو ایسا ثابت کرے اور اس سے مرادیں مانگے اور اس توقع پر نذر ونیاز کرے اور اس کی منتیں مانے اور مصیبت کے وقت اس کو پکارے سووہ مشرک ہوجاتا ہے… پھر خواہ یوں سمجھے کہ ان کاموں کی طاقت ان کو خود بخود ہے خواہ یوں سمجھے کہ اﷲ نے اُن کو ایسی طاقت بخشی ہے ہر طرح شرک ثابت ہوتا ہے‘‘۔

( تقویۃ الایمان ،ص۳۸، ۳۹، مطبوعہ ملتان)

یہ ہے عقیدہ کہ مُردہ زندہ نبی اور ولی کسی کے اندر بھی مراد پوری کرنے ، حاجت برلانے ، بلائیں ٹالنے، مشکل میں دستگیری کرنے اور بُرے وقت میں پہنچنے کی کوئی طاقت وقدرت نہیں ہے نہ ذاتی نہ عطائی۔

اور وہ ہے عمل کہ نانوتوی صاحب وفات کے بعد حاجت بھی برلائے، بلا بھی ٹال دی، مشکل میں دستگیری بھی کی اور بُرے وقت میں اس شان سے پہنچے کہ سارے جہاں میں ڈنکا بج گیا۔

ایک ہی بات جو ہر جگہ شرک تھی، سب کے لئے شرک تھی، ہر حال میں شرک تھی، جب ’’اپنے مولانا ‘‘ کی بات آگئی تو اچانک اسلام بن گئی، ایمان بن گئی اور امر واقعہ بن گئی۔

اور پھر دلوں کا ایک ہی عقیدہ جب تک اس کا تعلق نبی اور ولی سے تھا توسارا قرآن اس کے خلاف ، ساری احادیث اس سے مزاحم اور سارااسلام اس کی بیخ کنی میں تسلیم کرلیا گیا لیکن صرف تعلق بدل گیا اور نبی وولی کی جگہ’’اپنے مولانا‘‘ کی بات آگئی تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ اَب سارا قرآن اُس کی حمایت میں ساری احادیث اُس کی تائید میں اور سارا اسلام اُس کی پشت پناہی میں ہے ۔ ع آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ؟

اپنی تکذ یب کی ایک شرمناک مثال

بات درمیان میں آگئی ہے تو وفات یافتہ بزرگوں کی روحوں سے امداد کے مسئلے میںدیوبندی جماعت کے مشہور مناظر مولوی منظور نعمانی کا ایک اداریہ پڑھئے جسے انہوں نے ماہنامہ ’’القرآن‘‘ لکھنؤ میں سپردِ قلم کیا ہے تاکہ اس مسئلے میں دیوبندی جماعت کا اصل ذہن آپ پر واضح ہو جائے،موصوف لکھتے ہیں :

’’جن بندوں کو اللہ نے کوئی ایسی قابلیت دے دی ہے جس سے وہ دوسروں کو بھی کوئی نفع یا امداد پہنچا سکتے ہیں جیسے حکیم ، ڈاکٹر ، وکیل وغیرہ تو اُن کے متعلق ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ ان میں کوئی غیبی طاقت نہیں اور ان کے اپنے قبضے میں کچھ بھی نہیں ہے اور یہ بھی ہماری ہی طرح اللہ کے محتاج بندے ہیں بس اتنی سی بات ہے کہ اللہ نے انہیں عالمِ اسباب میں اس قابل بنا دیا ہے کہ ہم ان سے فلاں کام میں مدد لے سکتے ہیں

اس بنا پر ان سے کام لینے اور اعانت حاصل کرنے میں شرک کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا شرک جب ہوتا ہے جب کسی ہستی کو اللہ کے قائم کئے ہوئے اس ظاہری سلسلۂ اسباب سے الگ غیبی طور پر اپنے ارادئہ اختیار سے کارفرما اور متصرف سمجھا جائے اور اس اعتقاد کی بنا پر اپنی حاجتوں میں مدد مانگی جائے ۔‘‘

(الفرقان جمادی الاول ،۱۳۷۳ ،صفحہ ۲۵)

واضح رہے کہ دارالعلوم دیوبند کے ’’واقعہ نزاع‘‘ اور قصۂ مناظرہ میں نانوتوی صاحب کے متعلق جو روایتیں نقل کی گئی ہیں ان تمام واقعات میں ظاہری سلسلۂ اسباب سے ایک غیبی طور پر ہی ان کی امداد و تصرف کا عقیدہ ظاہر کیا گیا ہے اب تو اس کے شرک ہونے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رہ جاتا۔

اداریہ کی عبارت جس حصے پر تمام ہوئی وہ بھی خاص توجہ سے پڑھنے کے قابل ہے قلم کی نوک پر روشنائی کی جگہ زہر ٹپک رہا ہے تحریر فرماتے ہیں :

’’آپ مسلمان کہلانے والے قبوریوں اور تعزیہ پرستوں کو دیکھ لیجئے شیطان نے ان مشرکانہ اعمال کو ان کے دلوں میں ایسا اتار دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں قرآن و حدیث کی کوئی بات سننے روادار نہیں۔

میں تو انہی لوگوں کو دیکھ کر اگلی اُمتوں کے شرک کو سمجھتا ہوں ۔ اگر مسلمانوں میں یہ لوگ نہ ہوتے تو واقعہ یہ ہے کہ میرے لئے اگلی اُمتوں کے شرک کو سمجھنا بڑا مشکل ہوتا‘‘۔

(الفرقان،ص۳۰) توحید پرستی کا ذرا یہ غرہ بھی ملاحظہ فرمائیے کے موصوف کو مسلمانوں کا چھپا ہوا شرک تو نظر آگیا لیکن اپنے گھر کا ’’عریاں شرک‘‘ نظر نہیں آتا کتنی معصومیت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ’’اگر مسلمانوں میں یہ لوگ نہ ہوتے تو میرے لئے اگلی اُمتوں کے شرک کو سمجھنا مشکل تھا۔‘‘ میں کہتا ہوں مشکل کیوں ہوتا شرک کو سمجھنے کے لئے گھر ہی میں کس بات کی کمی تھی خدا کا دیا ہوا سب کچھ تھا۔

سچ پوچھئے تواسی طرح کی خود فریبیوں کا جال توڑ نے کے لئے میرے ذہن میں زیرِ نظر کتاب کی ترتیب کا خیال پیدا ہوا کہ اصحابِ عقل و انصاف واضح طور پر محسوس کر لیں کہ جولوگ دوسروں پر شرک کا الزام عائد کرتے ہیں اپنے نامۂ اعمال کے آئینے میں وہ خود کتنے بڑے مشرک ہیں۔

ایک اور عبرتناک کہا نی

بحث کے خاتمے پر اس سلسلے کی ایک اور عبرتناک کہانی سن لیجئے تاکہ حُسن ظن کی حجت بھی تمام ہو جائے ہندوستان کے اندر وفات یافتہ بزرگوںمیںسلطان الاولیاء حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کی عظمت خداداد اور ان کی روحانیت کا فیضانِ عام آٹھ سو برس کی تاریخ کا ایک جانا پہچانا واقعہ ہے لیکن جذبۂ دل کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ دیوبندی جماعت کے مذہبی پیشوا مولوی اشرفعلی تھانوی نے سرکارِ خواجہ کے سنگِ در کا رشتہ بُت خانے کی دہلیز کے ساتھ جوڑدیا ہے جیسا کہ تھانوی صاحب کے ملفوظات کا مرتب اِن کے ایک مجلس کا حال بیان کرتے ہوئے خود ان کا یہ منہ بولا بیان نقل کرتا ہے کہ :

’’ایک انگریز نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ حیرت انگیز بات میں نے یہ دیکھی کہ اجمیر میں ایک مردہ کو دیکھا کہ اجمیر میں پڑا ہوا سارے ہندوستان پر سلطنت کر رہا ہے۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ،صفحہ ۲۵۲)

انگریز کا یہ قول نقل کرنے کے بعد تھانوی صاحب نے ارشاد فرمایا !

’’واقعی خواجہ صاحب کے ساتھ لوگوں کو بالخصوص ریاست کے امراء کو بہت ہی عقیدت ہے(اس پر) خواجہ عزیز الحسن نے عرض کیا کہ جب فائدہ ہوتا ہوگا تبھی عقیدت ہے (تھانوی صاحب نے) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جیسا حسنِ ظن ہو ویسا ہی معاملہ فرماتے ہیں اس طرح تو بُت پرستوں کو بت پرستی میں بھی فائدہ ہوتا ہے یہ کوئی دلیل تھوڑا ہی ہے دلیل ہے شریعت!‘‘ (کمالاتِ اشرفیہ ،صفحہ ۲۵۲) بت پرستی کے فوائد کی تفصیل تو تھانوی صاحب ہی بتا سکتے ہیں کہ سب سے پہلے اس نکتے سے وہی روشناس ہوئے ہیں لیکن غیرت سے ڈوب مرنے کی بات تو یہ ہے کہ ’’ایک منکر اسلام دشمن‘‘ اور ’’ایک کلمہ گو دوست‘‘ کی نگاہوں کا فرق ذرا ملاحظہ فرمائیے دشمن کی نظر میں سرکار خواجہ کشور ہند کے سلطان کی طرح جگمگا رہے ہیں جب کے دوست کی نگاہ انہیں پتھر کے صنم سے زیادہ حیثیت نہیں دیتی۔

اس مقام پر مجھے اتنی بات کہنی ہے کہ ایمان کی آنکھوں کا چراغ اگر گل نہیں ہوگیا ہے تو ایک طرف دیوبندی مشاہیر کے ذہن میں نانوتوی صاحب کا دوسرا سراپا دیکھئے!! کتنا کارساز کتنا با اختیار اور کبریائی قدرتوں سے کتنا مسلح نظر آتا ہے کہ دستگیری اور چارہ گری کے لئے وہ نیاز مندوں کو اپنے مرقد تک بھی آنے کی زحمت نہیں دیتے۔

جہاں ذرا سی آنچ محسوس ہوئی خود ہی عالمِ برزخ سے دوڑے چلے آتے ہیں اور اپنی کارسازی کا جلوہ دکھا کر واپس لوٹ جاتے ہیںاور آتے بھی ہیں تو اپنے اسی پیکر مانوس میں کہ دیکھنے والے انہیں ماتھے کی آنکھیں سے دیکھیں اور پہچان لیں۔

لیکن وائے رے دلِ حرماں نصیب کی نا بکاری کہ دوسری طرف اسی زمین میں خواجۂ ہند کا جو تصور اُبھرتا ہے اُس میں ان کے روحانی اقتدار کے اعتراف کے لئے قطعاََ کوئی گنجائش نہیں ہے جسم ظاہری کی محسوس شوکتوں، طلعتوں اور عطر بیرنکہتوں کے ساتھ غمِ نصیب تک پہنچنے کی بات تو بڑی ہے کہ یہ حضرات توان کے متعلق اتنی بات بھی تسلیم کرنے کے روادار نہیں ہیں کہ ان کے کاکل و رخ کی جلوہ گاہی میں پہنچ کر بھی کوئی فیضیاب ہو سکتا ہے !

اور جسارت نارواکی انتہا تو یہ ہے کہ ان حضرات کے یہاں عطا ئے رسول کی تربیت اور ایک بُت خانے کے درمیان کوئی جوہر ی فرق نہیں ہے نفع رساں اور فیض بخشی کے سلسلے میں دونوں جگہ محرومی کا ایک ہی داغ ہے۔

خدا مہلت دے تو تھوڑی دیر ایمان و عقیدت کے سائے میں بیٹھ کر سوچئے گا کیا سچ مچ یہی تصویر ہے اس خسروئے زمانہ کی جسے رسول الثقلین نے کشور ہند میں اپنا نائب السلطنت بنا کر بھیجا ہے۔

اور جواب ملنے کی توقع نہ ہو تو اپنے ضمیر سے اتنا ضرور دریافت کیجئے گا کہ قلم کی وہ روشنائی جو نانوتوی صاحب کی ’’حمد‘‘ میں گنگ و جمن کی طرح بہہ رہی تھی وہی خواجۂ خواجگان چشت کی حقیقت کے سُوال پر اچانک کیوں خشک ہوگئی؟

اتنی تفصیلات کے بعد اب یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وفات یافتہ بزرگوں سے امداد کے مسئلے میں دیوبندی حضرات کا اصل مذہب کیا ہے؟ البتہ الزام کا جواب ہمارے ذمّہ نہیں ہے کہ ایک ہی اعتقاد جو رسول و ولی کے حق میں شرک ہے وہی گھر کے بزرگوں کے حق میں اسلام و ایمان کیونکر بن گیا ہے؟

اب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ کیا یہ صورت ِ حال اس یقین کو تقویت نہیں پہنچاتی کہ ان حضرات کے یہاں کفر و شرک کی ساری بحثیں صرف اس لئے ہیں کہ انبیاء و اولیاء کی حرمتوں کو گھائل کرنے کے لئے انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے ورنہ خالص عقیدہ توحید کاجذبہ اس کے پس منظر میں کار فرما ہوتا تو شرک کے سُوال پر اپنے بیگانے کے درمیان تفریق روا نہ رکھی جاتی ۔

ضمنی طور پر یہ بحث نکل آئی ورنہ سلسلہ چل رہا تھا علمائے دیوبند کی غیب دانی اور خدائی اختیار ات سے متعلق تصنیف کردہ واقعات کا اب پھر اسی سلسلہ کے ساتھ اپنے ذہن کا رشتہ جوڑ لیجئے۔ (۳)

علم ما فی الا رحام کا عجیب وغریب واقعہ

مفتی عتیق الرحمن صاحب دہلوی جو دیوبندی جماعت کے مذہبی پیشوا اور اہم رُکن ہیں انہوں نے ماہنامہ ’’برہان‘‘ دہلی کے مدیر مولوی احمد سعید اکبر آبادی فاضل دیوبند کے والد کی وفات پر جریدئہ برہان میں ایک تعزیتی شذرہ لکھا ہے جو متوفی کی زندگی کے حالات پر مشتمل ہے۔ واقعات کے راوی خود مولوی احمد سعیدہیںقلم مفتی عتیق الرحمن صاحب کا ہیاپنی پیدائش سے متعلق سعید احمد کا ’’میلادنامہ‘‘ خاص طور پر پڑھنے کے قابل ہے موصوف بیان کرتے ہیں:

’’مجھ سے پہلے ابّا کے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے تھے جن کا نو عمری ہی میں انتقال ہو گیا تھا اس کے بعد مُسلسل سترہ سال تک انکے کوئی اولاد نہیں ہوئی یہاں تک کہ انہوں نے ترک ملازمت اور ہجرت کا قصد کر لیا(اسوقت وہ آگرہ لوہامنڈی کے سرکاری شفاخانے میںملازم تھے)مگرجب قاضی (عبدالغنی) صاحب مرحوم(والد کے پیر و مرشد) کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے منع لکھ بھیجا اور ساتھ ہی خوشخبری دی کہ ان کے ہاں لڑکا ہوگا چنانچہ اس بشارت کے چند سَال بعد ۸…؁ء کے رمضان کی ۷؍ تاریخ کو صبح صادق کے وقت میں پیدا ہوا تو ولادت سے ۲دو گھنٹے قبل ابّانے حضرت مولانا گنگوہی اور حضرت مولانا نانوتوی کو خواب میں دیکھا کہ لوہا منڈی کے شفا خانے میں تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں ڈاکٹر!لڑکا مبارک! اس کا سعید نام رکھنا۔

چنانچہ ابّا نے اس ارشاد کی تعمیل کی اور اسی وقت فیصلہ کرلیا کہ میں بچہ کو دیوبند بھیج کر عالم بنواؤں گا۔‘‘

(ماہنامہ برہان دھلی، اگست ۵۲ء ،صفحہ ۶۸)

ذرا خالی الذہن ہوکر ایک لمحہ کیلئے سوچئے کہ مولوی احمد سعید صاحب کے والد کے پیر قاضی عبدالغنی صاحب نے موصوف کی پیدائش سے چند سال قبل ہی یہ معلوم کرلیا تھا کہ ’’فرزند‘‘ تشریف لا رہے ہیں جس کی انہوں نے بشارت بھی دے دی اور بشارت کے مطابق ۷؍ رمضان المبارک کو مولوی احمد سعید اس سرائے فانی میں تشریف بھی لے آئے۔

سوچنے کی بات یہ ہے ایامِ حمل میں اگر انہوں نے خبر دی ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ طبی ذرائع سے انہیں اس کا ظن غالب ہو گیا ہوگا لیکن سالوں پیشتر یہ معلوم کرلینے کا ذریعہ سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہیں ’’ علمِ غیب‘‘تھا۔

اور پھر مولوی قاسم صاحب نانوتوی اور مولوی رشیداحمد صاحب گنگوہی کی ’’غیب دانی‘‘ کیا کہنا کہ وہ حضرات تو عین ولادت سے ۲؍دو گھنٹے پیشتر ہی اپنی اپنی قبروں سے نکل کر سیدھے مولوی احمد سعید کے والد کے گھر پہنچ گئے اور انہیں بیٹے کی آمد پر پیشگی کی مبارکباد دی اور نام تک تجویز فرما دیا اور موصوف نے بھی اس خواب کا بالکل امر واقعہ کی طرح یقین کرلیا۔

انصاف کیجئے ! ایک طرف تو گھر کے بزرگوں کے حق میں دلوں کا اعتقاد یہ ہے اور دوسری طرف رسول مجتبیٰ ﷺ کے علمِ غیب کے انکار میں بخاری شریف کی حدیث دیوبندی علماء کی زبان وقلم کی نوک سے ہمیشہ لگتی رہتی ہے۔

’’صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ مفاتیح الغیب جن کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ پانچ چیزیں ہیں جو سورئہ لقمان کی آخری آیت میں مذکور ہیں یعنی قیامت کا وقت مخصوص، بارش کا ٹھیک وقت کہ کب نازل ہوگی ،مافی الارحام یعنی عورت کے پیٹ میں کیا ہے؟ بچہ ہے یا بچی؟ مستقبل کے واقعات ، موت کا صحیح مقام‘‘ ؟

(فتح بریلی کا دلکش نظارہ ،صفحہ۸۵)

قرآن کی آیت بھی برحق اور حدیث اگر رسول مجتبیٰ ﷺ کے حق میں مافی الارحام (یہ علم کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے) کے انکار کی دلیل بن سکتی ہے تو علم و دیانت کے حضور میں اس سوال کا جواب دیا جائے کہ یہی آیت اور یہی حدیث دیوبندی علماء کے تئیں قاضی عبد الغنی ، مولوی قاسم صاحب نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی کے حق میں علم مافی الارحام کے اعتقاد سے کیوں نہیں مانع ہوئی؟

اور اگر اپنے بزرگوں کے حق میں مذکورہ بالا آیت و حدیث کی کوئی تاویل تلاش کرلی گئی تو پھر وہی تاویل رسولِ مجتبیٰ ﷺ کے حق میں کیوں نہیںروا رکھی گئی ایک ہی مسئلے میں ذہن کے دو رخ کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ جسے اپنا سمجھا گیا اس کے کمالات کے اظہار کے لئے کوئی گنجائش نہیں بھی تھی تو نکال لی گئی اور جس کے لئے دل کے اندر کوئی نرم گوشہ تک موجود نہیں تھا اس کے فضائل واقعی کے اعتراف میں بھی دل کا بخل چھپایا نہیں جاسکا۔

ایک اور ایمان شکن روا یت

علم مافی الارحام کی بات چل پڑی ہے تو لگے ہاتھوں عقیدئہ توحید کا ایک اور خون ملاحظہ فرمائیے یہی مولوی قاسم نانوتوی صاحب اپنی جماعت کے ایک ’’شیخ‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ :

’’شاہ عبدالرحیم صاحب ولایتی کے ایک مرید تھے جنکا نام عبداللہ خان تھا اور قوم کے راجپوت تھے اور یہ حضرت کے خاص مریدوں میں تھے ان کی حالت یہ تھی کہ اگر کسی کے گھرمیں حمل ہوتا اور تعویز لینے آتا تو آپ فرما دیا کرتے تھے کہ تیرے گھر میں لڑکی ہوگی یا لڑکا اور جو آپ بتلا دیتے تھے وہی ہوتا تھا۔‘‘

(ارواح ثلٰثہ ،صفحہ ، ۱۶۳)

یہاں حسن اتفاق کا بھی معاملہ نہیں ہے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ خواب کی بات ہو بلکہ پوری صراحت ہے اس امر کی کہ ان کے اندر مافی الارحام کے علم و انکشاف کی ایک ایسی قوت ہی بیدار ہوگئی تھی کہ وہ ہر وقت ایک شفاف آئینہ کی طرح پیٹ کے اندر کی چیز دیکھ لیا کرتے تھے بالکل اسی طرح کی قوت جیسے ہماری آنکھوں میں دیکھنے اور کانوں میں سننے کی ہے نہ جبریل کا انتظار اور نہ الہام کی احتیاج!

لیکن وائے رے دیوبندی ذہن کی بو العجی کہ علم و انکشاف کی جو معنوی قوت ایک ادنیٰ اُمتی کے لئے وہ بے تکلّف تسلیم کر لیتے ہیں وہی پیغمبر کے حق میں تسلیم کرتے ہوئے انہیں خدا کے ساتھ شرک کی قباحت نظر آنے لگتی ہے۔

ان ’’موحدین‘‘ کے طلسم فریب کا مزید تماشہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ایک طرف عبداللہ خان راجپوت کے متعلق نانوتوی صاحب کی بیان کردہ یہ عبارت پڑھئے اور دوسری طرف دیوبندی مذہب کی بنیادی کتاب ’’تقویۃالایمان‘‘ کا یہ فرمان ملاحظہ فرمائیے کہ :

’’اسی طرح جو کچھ مادہ کے پیٹ میں ہے اس کو بھی خدا کے سوا کوئی نہیں جان سکتا کہ ایک ہے یا دو ، نر ہے

یا مادہ، کامل ہے یا ناقص ،خوبصورت ہے یا بدصورت۔‘‘ (تقویۃ الایمان ، صفحہ۲۲)

یہ ہے ان کا عقیدہ، وہ ہے واقعہ ،دونوں ایک دوسرے کو جھٹلا رہے ہیں اگر دونوں صحیح ہیں تو ماننا پڑیگا کہ عبداللہ خان راجپوت خدائی منصب پرہیں اور اگر انہیں خدا نہیں فرض کر سکتے تو کہیے واقعہ غلط ہے تاویل و جواب کا جو رُخ بھی اختیار کیجئے مذہبی دیانت کا ایک خون ضروری ہے۔

اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ یہ صورتحال کیا اس یقین کو تقویت نہیں پہنچاتی کہ ان حضرات کے یہاں کفر و شرک کی بحثیں صرف اسلئے ہیں کہ انبیا ء و اولیاء کی حرمتوں کو گھائل کرنے کے لئے انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے ورنہ خالص عقیدئہ توحید کا جذبہ اس کے پس منظر میں کارفرما ہوتا تو شرک کے سوال پر اپنے اور بیگانے کی تفریق روا نہ رکھی جاتی۔

غیب کا ایک عجیب مشاہدہ

ارواحِ ثلٰثہ میں لکھا ہے کہ یہی مولوی قاسم نانوتوی جب حج کے لئے جانے لگے توانہی عبداللہ خان راجپوت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دمِ رخصت ان سے دعا کی درخواست کی اس کے جواب میں خان صاحب نے فرمایا :

’’بھائی میں تمھارے لئے کیا دعا کروں میں نے تو اپنی آنکھوں سے تمہیں دوجہاں کے بادشاہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بخاری پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ (ارواح ثلٰثہ ،ص ،۲۴۵)

دیوبندی جماعت کے ایک نو مسلم خان کی آنکھوں کی ذرا قوت بینائی ملاحظہ فرمائیے کہ عالمِ غیب تک پہنچنے کے لئے اس پر درمیان میں کوئی حجاب حائل نہیں ہوا لیکن رسولِ انور ﷺ کے حق میں دیوبندی حضرات کا یہ عقیدہ اب نشانِ مذہب قرار دیا جا چکا ہے کہ معاذاللہ! وہ پس دیوار بھی نہیں دیکھ سکتے ۔

نانو توی صاحب کے ایک خادم کی قوتِ انکشاف

اِب اکابر پرستی کی ایک خون آشام کہانی اور ملاحظہ فرمائیے اور موازنہ کیجئے کہ علمائے دیوبند کے قلوب میں کس کے لئے کتنی گنجائش ہے ۔

دیوان جی نامی ایک صاحب کے متعلق مولوی مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب سوانح قاسمی میں ایک نہایت حیرت انگیز واقعہ نقل کیا ہے موصوف لکھتے ہیں :

’’مولانا محمد طیب صاحب نے یہ اطلاع دی ہے کہ یٰسین نام کے دو صاحبو ں کاخصوصی تعلق سیدناالامام الکبیر مولوی قاسم صاحب نانوتوی سے تھا جن میں سے ایک تو یہی دیوان جی دیوبند کے رہنے والے تھے اور بقول مولانا طیب صاحب دیوبند میں حضرت والا کی خانگی اور ذاتی امور کا تعلق انہی سے تھا۔

لکھا ہے صاحبِ حیثیت بزرگ تھے اپنے زنانہ مکان کے حجرے میں ذکر کرتے مولانا حبیب الرحمن صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانے میںکشفی حالت دیوان جی کی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ باہر سڑک پر آنے جانے والے نظر آتے رہتے تھے در و دیوار کا حجاب ان کے درمیان ذکر کے وقت باقی نہیں رہتا تھا‘‘۔ (حاشیہ سوانح قاسمی ،ج۲ ،ص ۷۳)

’’لَآاِلٰہَ اِلّاَاللہ! دیکھ رہے ہیں آپ ! مولوی قاسم نانوتوی کے ایک خانگی خادم کی یہ کشفی حالت ! کہ مٹی کی دیوار یںشفاف آئینہ کی طرح ان پر روشن رہا کرتی تھیں لیکن فہم و اعتقاد کی اس گمراہی پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے کہ ان حضرات کے یہاں مٹی کی دیواریں سرکار رسالت مآب ﷺ کی نگاہ پر حجاب بن کر حائل رہتی تھیں۔

جیسا کہ دیوبندی جماعت کے معتمد وکیل مولوی منظور صاحب نعمانی تحریر فرماتے ہیں :

’’ اگر حضور کو دیوار کے پیچھے کی سب باتیں معلوم ہو جایا کرتی تھیں تو حضرت بلال سے (دروازہ پر کھڑی ہونے والی عورتوں کا)نام لے کر دریافت کرنے کی کیا ضرورت ہوتی‘‘۔ (فیصلہ کن مناظرہ ،صفحہ ۱۳۶) آپ ہی انصاف کیجئے کہ اپنے رسول کے حق میں کیا اس سے زیادہ بھی جذبۂ دل کی بیگانگی کا کوئی تصور کیا جا سکتا ہے۔

دارالعلوم د یوبند میں ا لحاد و نصرانیت کا ایک مکاشفہ:

لگے ہاتھوںانہی دیوان جی کا ایک کشف اور ملاحظہ فرمائیے،مولوی مناظر احسن گیلانی اپنے اسی حاشیہ میں نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

’’انہی دیوان جی کے ایک مکاشفہ کا تعلق دارالعلوم دیوبند سے بھی کیا جاتا ہے ۔ لکھتے ہیں کہ مثالی عالم میں ان پر منکشف ہوا کہ دارالعلوم کے چاروں طرف ایک سُرخ ڈورا تنا ہوا ہے۔

اپنے اس کشفی مشاہدہ کی تعبیر خود یہ کیا کرتے تھے نصرانیت اور تجدد و آزادی کے آثار ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم میں نمایاں ہونگے‘‘۔ (حاشیہ سوانح قاسمی،ج۲ ،ص۷۳)

مجھے اس مقام پر سوا اسکے کچھ نہیں کہنا ہے کہ جو لوگ اپنا عیب چھپانے کے لئے دوسروں پر انگریزوں کی کاسہ لیسی اور ساز باز کا الزام عائد کرتے ہیں وہ گریبان میں منہ ڈال کر ذرا اپنے گھر کا کشف نامہ ملاحظہ فرمالیں ۔کتاب کے مصنفین کو اس کشف پر اگر اعتماد نہ ہوتا تو وہ ہرگز اسے شائع نہ کرتے۔

اور بات کشف ہی تک نہیں ہے تاریخی دستاویزات بھی اس امر واقعہ کی تائید میں ہیں کہ انگریزوں کے ساتھ نیاز مندانہ تعلقات اور رازدارانہ سازباز دارالعلوم دیوبند اور منتظمین و عمائدین کا ایسا نمایاں کارنامہ ہے جسے انہوں نے فخر کے ساتھ بیان کیا ہے۔

اور یہ بات میں ازراہِ الزام نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ دیوبندی لٹریچر سے جو تاریخی شہادتیں مجھے موصول ہوئی ہیں ان کی روشنی میں اس کے سوا کچھ کہا ہی نہیں جا سکتا ۔نمونے کے طور پر چند حوالے ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:

انگریزوں کے خلاف افسانۂ جہاد کی حقیقت

ایک دیوبندی فاضل نے مولانامحمد احسن نانوتوی کے نا م سے موصوف کی سوانح حیات لکھی ہے جسے مکتبہ عثمانیہ کراچی پاکستان نے شائع کیا ہے اپنی کتاب میں مصنف نے اخبار ’’انجمن‘‘پنجاب لاہور مجریہ ۱۹؍فروری۱۸۷۵ء کے حوالے سے لکھاہے کہ ۳۱؍جنوری۱۸۷۵ء بروز یک شنبہ لیفٹینٹ گورنر نے ایک خفیہ معتمد انگریز مسمیٰ پامر نے مدرسہ دیوبند کا معائنہ کیا ۔معائنہ کی جو عبارت موصوف نے اپنی کتاب میں نقل کی ہے اس کی یہ چند سطریں خاص طور سے پڑھنے کے قابل ہیں۔

’’جو کام بڑے بڑے کالجوں میں ہزاروں روپیہ کے صرف سے ہوتا ہے وہ یہاں کوڑیوںمیںہو رہا ہے جو کام پرنسپل ہزاروں روپیہ میں ماہانہ تنخواہ لے کر کرتا ہے وہ یہاںایک مولوی چالیس روپیہ ماہانہ پر کر رہا ہے۔‘‘

’’یہ مدرسہ خلاف سرکار نہیں بلکہ موافق سرکار ممدو ومعاون سرکار ہے۔‘‘

(مولانا محمد احسن نانوتوی ،ص۲۱۷) ع ’’مدعی لاکھ پے بھاری ہے گواہی تیری۔‘‘

خود انگریز کی یہ شہادت ہے کہ ’’مدرسہ خلاف سرکار نہیں بلکہ موافق سرکار ممدو ومعاون سرکار ہے۔‘‘

اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ اس بیان کے سامنے اب اس افسانے کی کیا حقیقت ہے جس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ مدرسہ دیوبند انگریزی سامراج کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کا بہت بڑا اڈہ تھا۔

مدرسہ دیوبند کے قدیم کارکنوں کا انگریزوں کے ساتھ کس درجہ خیرخواہ اور نیازمندانہ متعلق تھااس کا اندازہ لگانے کے لئے خود قاری طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کا تہلکہ آمیز بیان پڑھئے فرماتے ہیں :

’’(مدرسہ دیوبندکے کارکنوںکی اکثریت) ایسے بزرگوں کی تھی جو گورنمنٹ کے قدیم ملازم اور حال پنشنر تھے جن کے بارے میں گورنمنٹ کو شک و شبہ کرنے کی گنجائش ہی نہ تھی۔‘‘

(حاشیہ سوانح قاسمی ،ج۲ ،ص۲۴۷)

آگے چل کے ’’اُ نہیں بزرگوں ‘‘کے متعلق لکھا ہے کہ مدرسہ دیوبند میں ایک موقعہ پرجب انکوائری آئی تو :

’’ اس وقت یہی حضرات آگے بڑھے اور اپنے سرکاری اعتماد کو سامنے رکھ کر مدرسہ کی طرف سے صفائی پیش کی جو کار گر ہوئی۔‘‘ (حاشیہ سوانح قاسمی ،ج۲ ،ص ۲۴۷)

    گھر کا رازدار ہونے کی حیثیت سے قاری طیب صاحب کا بیان جتنا با وزن ہو سکتاہے وہ محتاج بیان نہیں۔

اب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ جس مدرسہ کے چلانے والے انگریزوں کے وفا پیشہ نمک خوار ہوں اسے باغیانہ سرگرمیوں کا اڈہ کہنا آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے یانہیں؟

اب انگریزوں کے خلاف دیوبندی اکابر افسانۂ جہاد و بغاوت کی پوری بساط اُلٹ دینے والی ایک سنسنی خیز کہانی اور سنئے ۔

سوانح قاسمی میں مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے ایک حاضر باش مولوی منصور علی خان کی زبانی یہ قصہ بیان کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن مولانا نا نوتوی کے ہمراہ میں نانوتہ جا رہا تھا کہ اثنائے راہ میں مولانا کا حجام آتا ہوا ملا اور اس نے خبر دی کہ نانوتہ کے تھانے دار نے ایک عورت کو بھگانے کے الزام میں میرا چالان کر دیا ہے خدارا مجھے بچائیے

مولوی منصور علی خان کا بیان ہے کہ نانوتہ پہنچتے ہی مولانا نے اپنے مخصوص کارندہ منشی محمد سلیمان کو طلب کیا اور پر جلال آواز میں فرمایا:

’’اس غریب حجام کو تھانیدار نے بے قصور پکڑا ہے تم اس سے کہدو کہ یہ (حجام ) ہمارا آدمی ہے اسکو چھوڑ دو ورنہ تم بھی نہ بچوگے اسکے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈالوگے تو تمھارے ہاتھ میں بھی ہتھکڑی پڑیگی‘‘۔

(سوانح قاسمی،ج۱،ص۳۲۱ ، ۳۲۲)

لکھا ہے منشی محمد سلیمان نے مولانا نانوتوی کا حکم ہو بہو تھانیدار تک پہنچا دیا تھانیدار نے جواب دیا کہ اب کیا ہو سکتا ہے روزنامچہ میں اسکا نام لکھ دیا گیا۔

مولانا نانوتوی نے اس کے جواب پر حکم دیا کہ تھانیدار سے جا کر کہہ دو کہ اسکا نام روزنامچہ میں سے کاٹ دو ، منصور علی خان کا بیان ہے کہ مولانا کا یہ حکم پا کر سراسمیگی کی حالت میں تھانیدار خود ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:

’’حضرت نام نکالنا بڑا جُرم ہے،اگر نام اسکا نکالاتومیری نوکری جاتی رہیگی ۔فرمایا اس کا نام (روزنامچہ) سے کاٹ دو تمھاری نوکری نہیں جائے گی۔‘‘ (سوانح قاسمی ،ص۳۲۳)

واقعہ کا راوی کہتا ہے کہ مولانا کے حکم کے مطابق تھانیدار نے حجام کو چھوڑدیا اورتھانیدار ،تھانیدار ہی رہا۔‘‘

(سوانح قاسمی ،ج ۱ ،صفحہ۳۲۴)

مجھے اس واقعہ پر بجز اسکے اور کوئی تبصرہ نہیں کرنا ہے کہ مولوی قاسم صاحب نانوتوی اگر انگریز ی حکومت کے باغیوں میں تھے تو پولیس کا محکمہ اس قدر انکے تابع فرمان کیوں تھا ؟ اور تھانیدار کو یہ دھمکی کہ ’’اسے چھوڑ دو ورنہ تم بھی نہ بچوگے وہی دے سکتا ہے جس کا ساز باز اوپر کے مرکزی حکام سے ہو۔

انگریزی قوم کی بارگاہ میں نیازمندانہ ذہن کا ایک رُخ اور ملاحظہ فرمائیے اس سلسلے میں سوانح قاسمی کے مصنف کی ایک عجیب و غریب روایت سنئے ، فرماتے ہیں کہ :

’’انگریزوں کے مقابلے میں جو لوگ لڑرہے تھے ان میں حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے اچانک ایک دن مولانا کو دیکھا گیا خود بھاگے جا رہے ہیں اور کسی چودھری کا نام لے کر جو باغیوں کی فوج کی افسری کر رہے تھے کہتے جاتے تھے کہ لڑنے کا کیا فائدہ ؟ خضر کو تو میں انگریزوں کی صف میں پا رہا ہوں ۔‘‘

(حاشیہ سوانح قاسمی ،ج۲ ،ص۱۰۳)

انگریزوں کی صف میں حضرت خضر کی موجودگی اتفاقاً نہیں پیش آگئی تھی بلکہ وہ ’’نصرتِ حق ‘‘کی علامت بن کر انگریزی فوج کے ساتھ ایک بار اور دیکھے گئے تھے جیسا کہ فرماتے ہیں:

’’غدر کے بعد جب گنج مراد آباد کی ویران مسجد میں حضرت مولانا (فضل الرحمن صاحب) جا کر مقیم ہوئے تو اتفاقاََ اُسی راستے سے جس کے کنارے مسجد ہے کسی وجہ سے انگریزی فوج گزر رہی تھی مولانا مسجد سے دیکھ رہے تھے اچانک مسجد کی سیڑھیوں سے اتر کر دیکھا گیا انگریزی فوج کے ایک سائیس سے جو باگ ڈور،کھونٹے وغیرہ گھوڑے کے لئے ہوئے تھا اس سے بات کر کے پھر مسجد واپس آ گئے۔

اب یاد نہیں رہا کہ پوچھنے پر یا خود بخود فرمانے لگے کہ سائیس جس سے میں نے گفتگوکی یہی خضر تھے میں نے پوچھا کہ یہ کیا حال ہے تو جواب میں کہا کہ حکم یہی ہوا ہے۔،،

(حاشیہ سوانح قاسمی ،ج۲، ص۱۰۳)

یہاں تک تو روایت تھی اب اس روایت کی توثیق و تشریح ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں :

’’باقی خود خضر کا مطلب کیا ہے؟ نصرت حق کی مثالی شکل تھی جو اس نام سے ظاہر ہوتی ہے ۔تفصیل کے لئے شاہ ولی اللہ وغیرہ کی کتابیں پڑھیے گویا جو کچھ دیکھا جا رہا تھا اسی کے باطنی پہلو کا یہ مکاشفہ تھا۔‘‘

(حاشیہ سوانح قاسمی ،ج۲، صفحہ ۱۰۳)

بات ختم ہو گئی لیکن یہ سوال سر پر چڑھ کے آواز دے رہا ہے کہ جب حضرت خضر کی صورت میں نصرتِ حق انگریزی فوج کے ساتھ تھی تو ان با غیوں کے لئے کیا حکم ہے جو حضرت خضر کے مقابلے میں لڑنے آئے تھے ؟ کیا اب بھی انہیں غازی اور مُجاہد کہا جا سکتا ہے؟

اپنے موضوع سے ہٹ کر ہم بہت دور نکل آئے لیکن آپ کی نگاہ پر بار نہ ہو تو اس بحث کے خاتمے پر اکابر دیوبند کی ایک دلچسپ دستاویز اور ملاحظہ فرمایئے۔

دیوبندی حلقے کے ممتاز مصنف مولوی عاشق الٰہی میرٹھی اپنی کتاب ’’تذکرۃ الرشید‘‘ میں انگریزی حکومت کیساتھ مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی کے نیاز مندانہ جذبات کی تصویر کھینچتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں :

’’آپ سمجھے ہوئے تھے کہ میں سرکار کا فرمانبردار ہوں تو جھوٹے الزام سے میرا بال بیکا نہ ہوگا اور اگر مارا بھی گیا تو سرکار مالک ہے اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔‘‘ (تذکرۃ الرشید ،ج۱ ،ص۸۰)

’’کچھ سمجھا آپ نے؟ کس الزام کو یہ جھوٹا کہہ رہے ہیں، یہی کہ انگریزوں کے خلاف انہوں نے علم جہاد بلند کیا تھامیں کہتا ہوں کہ گنگوہی صاحب کی پر خلوص صفائی کوئی مانے یا نہ مانے لیکن کم از کم ان کے معتقدین کو ضرور ماننا چاہئے لیکن غضب خدا کا اتنی شد و مد کے ساتھ صفائی کے باوجود بھی ان کے ماننے والے یہ الزام ان پر آج تک دہرا رہے ہیں کہ انھوں نے انگریزوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا تھادنیا کی تاریخ میں اسکی مثال مشکل ہی سے ملے گی کہ کسی فرقے کے افراد نے اپنے پیشوا کی اس طرح تکذیب کی ہو۔

اور ’’سرکار مالک ہے سرکار کو اختیار ہے‘‘یہ جملے اسی کی زبان سے نکل سکتے ہیں جو ’’تن‘‘ سے لے کر ’’من‘‘ تک پوری طرح کسی کے جذبۂ غلامی میں بھیگ چکا ہو۔

آہ! دلوں کی بد بختی اور روحوں کی شقاوت کا حال بھی کتنا عبرت انگیز ہوتا ہے ،سوچتا ہوں تو دماغ پھٹنے لگتا ہے کہ خدا کے باغیوں کے لئے جذبۂ عقیدت کا اعتراف یہ ہے کہ وہ مالک بھی ہیں اور مختار بھی !لیکن احمد مجتبیٰ اور محبوب کبریا ﷺ کی جناب میں اُن حضرات کے عقیدے کی زبان یہ ہے :

’’جس کا نام محمدیا علی ہے وہ کسی چیز کا مختار (مالک) نہیں۔‘‘ (تقویۃ الایمان)

بیشک ! یہ بتانے کا حق مملوک ہی کو ہے کہ اس کا مالک کون ہے، کون نہیں ہے ،جومالک تھا اس کے لئے اعتراف کی زبان کھلنی تھی کھل گئی اور جو مالک نہیں تھا اسکا انکار ضروری تھا ہوگیا ،اب یہ بحث بالکل عبث ہے کہ کس کا مقدر کس مالک کے ساتھ وابستہ ہوا۔

یہاں پہنچ کر ہمیں کچھ نہیں کہنا ہے تصویر کے دونو ں رُخ آپ کے سامنے ہیں ۔مادی منفعت کی کوئی مصلحت مانع نہ ہو توآپ ہی فیصلہ کیجئے کہ دلوں کی اقلیم پر کس کی بادشاہت کاجھنڈا گڑا ہوا ہے سلطان الانبیاء کا یا تاجِ برطانیہ کا ؟

بات چلی تھی گھر کے مکا شفہ سے اور گھر ہی کی دستاویز پر ختم ہو گئی ۔ اب پھر کتاب کے اصل موضوع کی طرف پلٹتا ہوں اور آپ بھی اپنے ذہن کا رشتہ واقعات کے سلسلے سے منسلک کر لیجئے۔

غیبی ادراک کے سمندر میں تلاطم

مولوی مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب سوانح قاسمی میں ارواح ثلٰثہ کے حوالہ سے ایک نہایت حیرت انگیز واقعہ نقل کیا ہے لکھتے ہیں کہ چھتہ کی مسجد واقع دیوبند میں کچھ لوگ جمع تھے اس مجمع میں ایک دن مولوی یعقوب صاحب نانوتوی مہتمم مدرسہ دیوبند فرمانے لگے :

’’بھائی آج تو صبح کی نماز میں ہم مرجاتے بس کچھ ہی کسر رہ گئی لوگ حیرت سے پوچھنے لگے کہ آخر کیا حادثہ پیش آیا ؟سننے کی بات یہی ہے جواب میں فرما رہے تھے کہ آج صبح میں سورۃ مزمّل پڑھ رہا تھا کہ اچانک علوم کا اتنا عظیم الشان دریا میرے قلب کے اوپر گزرا کہ میں تحمل نہ کرسکا اور قریب تھا کہ میری روح پرواز کر جائے ۔کہتے تھے کہ وہ تو خیر گزری کہ وہ دریا جیسا کہ ایک دم آیا ویسا ہی نکلا چلا گیا اسلئے میں بچ گیا کہتے تھے کہ علوم کا یہ دریا جو اچانک چڑھتا ہوا اُن کے قلب پر سے گزر گیا یہ کیا تھا ؟ خود ہی اسکی تشریح بھی بایں الفاظ اسی کتاب میں پائی جاتی ہے کہ نماز کے بعد میں نے غور کیا کہ یہ کیا معاملہ تھا تو منکشف ہوا کہ حضرت مولانا نانوتوی ان ساعتوں میں میری طرف میرٹھ میں متوجہ ہوئے تھے یہ ان کی توجہ کا اثر ہے کہ علوم کے دریا دوسروں کے قلوب پر موجیں مارنے لگے اور تحمل دشوار ہو جائے۔‘‘

(سوانح قاسمی ، ج۱ ، ص۳۴۵)

اصل واقعہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’خود ہی بتائیے کہ فکری و دماغی علوم والے بھلا اس کا کیا مطلب سمجھ سکتے ہیں؟کہاں میرٹھ اور کہاں چھتّہ کی مسجد! میرٹھ سے دیوبند کا مکافی فاصلہ درمیان میں حائل نہ ہوا‘‘۔

(سوانح قاسمی ، ج۱ ، ص۳۴۵)

بتائیے ! اب اس ان کہی کو کیا کہا جائے یہ معمہ تو گیلانی صاحب اور ان کی جماعت کے علماء ہی حل کرسکتے ہیں کہ جو فاصلۂ مکانی ان حضرات کے تئیں انبیاء اور سیّدالانبیاء تک پر حائل رہتا ہے وہ نانوتوی صاحب پر کیوں نہیں حائل ہوا ۔

اور مولوی یعقوب صاحب کی غیبی قوتِ ادراک کا کیا کہنا کہ انہوں نے دیوبند میںبیٹھے بیٹھے مولوی قاسم صاحب نانوتوی کی وہ غیبی توجہ تک معلوم کرلی جو انہوں نے میرٹھ سے انکی طرف مبذول کی تھی اور وہ بھی اتنا جھٹ پٹ کہ نماز کے بعد غور کیا اور سارا معاملہ اسی لمحے منکشف ہو گیا دنوں، ہفتوں اور مہینوں کی بات تو الگ رہی گھنٹے آدھ گھنٹے کا بھی وقفہ نہ گزرا لیکن شرم سے سر جھکا لیجئے کہ گھر کے بزرگوں کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے اور رسولِ مجتبیٰ ﷺ کے حق میں پوری جماعت کا عقیدہ یہ ہے ۔

’’بہت سے اُمور میں آپ کا خاص اہتمام سے توجہ فرمانا بلکہ فکر و پریشانی میں واقع ہونا اور باوجود اسکے مخفی رہنا ثابت قصۂ اِفک میں آپ کی تفتیش و استکشاف با بلغ وجوہ صحاح میں مذکور ہے مگر صرف توجہ سے انکشاف نہیں ہوابعد ایک ماہ وحی کے ذریعہ اطمینان ہوا۔‘‘

(حفظ الایمان ، ص۷، مولوی اشرفعلی صاحب تھانوی)

اب اس بے وفائی کا انصاف تو رسولِ عربی ﷺ کی وفادار اُمت ہی کریگی خود تو یہ حضرات آنِ واحد میں سینکڑوں میل کی مسافت سے دلوں کے مخفیات پر مطلع ہوجاتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک ماہ طویل مدت میں بھی کسی مخفی امر کے انکشاف کی قوت تسلیم نہیں کرتے۔

کیا اتنی کھلی ہوئی شہادتوں کے بعد بھی حق و باطل کی راہوں کا امتیاز محسوس کرنے کے لئے مزید کسی نشانی کی ضرورت باقی رہ گئی؟محشر کی تپتی ہوئی سرزمین پر رسول عربی ﷺ کی شفاعت کے اُمید وارو! جواب دو؟؟

غیبی قوت اور اسکے تصرّف کا ا یک عجیب واقعہ

ارواح ثلٰثہ میں مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے ایک شاگرد رشید مولوی منصور علی خاں مراد آبادی کی ایک جنوں انگیز’’آپ بیتی‘‘ نقل کی گئی ہے، خود مولوی منصور علی خاں کی زبانی یہ دلچسپ اور پُراسرار قصہ سنئے، بیان کرتے ہیں کہ :

’’ مجھے ایک لڑکے سے عشق ہوگیا اور اس قدر اس کی محبت نے طبیعت پر غلبہ پایا کہ رات دن اسی کے تصور میں گزرنے لگے، میری عجیب حالت ہوگئی، تمام کاموں میں اختلال ہونے لگا، حضرت(مولانا نانوتوی) کی فراست نے بھانپ لیا، لیکن سبحان اﷲ ! تربیت ونگرانی اسے کہتے ہیں کہ نہایت بے تکلفی کے ساتھ حضرت نے میرے ساتھ دوستانہ برتائو شروع کیا اور اسے اس قدر بڑھایا کہ جیسے دو یار آپس میں بے تکلف دل لگی کیا کرتے ہیں۔

یہاں تک کہ خود ہی اس محبت کا ذکر چھیڑا، فرمایا، ہاں بھائی وہ تمہارے پاس آتے بھی ہیں یا نہیں؟ میں شرم وحجاب سے چُپ رہ گیا تو فرمایا نہیں بھائی یہ حالات تو انسان ہی پر آتے ہیں اس میں چھپانے کی کیا بات ہے، غرض اس طریق سے مجھ سے بات کی کہ میری ہی زبان سے اس محبت کا اقرار کرالیا اور کوئی خفگی اور ناراضگی نہیں ظاہر کی بلکہ دلجوئی فرمائی‘‘۔ (ارواح ثلٰثہ، ص۲۴۶)

اس کے بعد لکھا ہے کہ جب میری بے چینی بہت زیادہ بڑھ گئی اور عشق کے ہاتھوں میں بالکل تنگ آگیا تو ناچار ایک دن مولانا نانوتوی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا :

’’ حضرت ! ﷲ میری اعانت فرمائیے، میں تنگ آگیا ہوں اور عاجز ہوچکا ہوں، ایسی دُعا فرمادیجئے کہ اس لڑکے کا خیال تک میرے قلب سے محو ہوجائے تو ہنس کر فرمایا کہ بس مولوی صاحب کیا تھک گئے، بس جوش ختم ہوگیا؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت ! میں سارے کاموں سے بیکار ہوگیا، نکما ہوگیا، اَب مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوسکتا، خدا کے لئے میری امداد فرمائیے فرمایا، بہت اچھا! بعد مغرب جب میں نماز سے فارغ ہوں تو آپ موجود رہیں‘‘۔

اَب نماز کے بعد کا واقعہ سنئے، ’’مبتلائے غم جاناں‘‘ بیان کرتا ہے کہ :

’’ میں مغرب کی نماز پڑھ کر چھتہ کی مسجد میں بیٹھا رہا، جب حضرت صلوٰۃ الاوابین سے فارغ ہوئے تو آواز دی مولوی صاحب ؟ میں نے عرض کیا حضرت میں حاضر ہوں، میں سامنے حاضر ہوا اور بیٹھ گیا، فرمایا کہ ہاتھ لائو، میں نے ہاتھ بڑھایا، میرا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر میری ہتھیلی کو اپنی ہتھیلی سے اس طرح رگڑا جیسے بان بٹے جاتے ہیں۔

خدا کی قسم میں نے بالکل عیاناً(کھلی آنکھوں سے) دیکھا کہ میں عرش کے نیچے ہوں اور ہر چہار طرف نور اور روشنی نے میرا احاطہ کرلیا ہے گویا میں دربار الٰہی میں حاضر ہوں‘‘۔ (ارواح ثلٰثہ، ص۲۴۷)

غیب کی نقاب کشائی کہ ذرا یہ شان ملاحظہ فرمائیے کہ پارس پتھر کی طرح ہتھیلی پر ہتھیلی رگڑتے ہی آنکھیں روشن ہوگئیں اور عرش تک کے سارے حجابات آنِ واحد میں اُٹھ گئے اور صرف اُٹھ ہی نہیں گئے بلکہ اپنے’’رنگین مزاج‘‘ شاگرد کو پلک جھپکتے وہاں پہنچا دیا جہاں بجز سید الانبیاء ﷺ کے عالم گیتی کا کوئی انسان اب تک نہیں پہنچ سکا۔

عالم غیب پر اپنے اقتدار کے تسلط کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے کہ جسے چاہا غیب داں بنادیا لیکن محبوب کبریا ﷺ کے حق میں بیک زباں سب متفق ہیں کہ کسی اور کو حرم سرائے غیب کا محرم بنانا تو بڑی بات ہے کہ وہ خود غیب کی بات نہیں جانتے اور عرش کا تو پوچھنا ہی کیا ہے کہ فرش بھی ان کی نگاہ سے اوجھل ہے۔

آپ ہی منصفی سے کہئے کہ کیا یہی شیوۂ اسلام اور تقاضائے کلمہ گوئی ہے؟

د یوبندی مکتب فکر کی بنیاد ہلاد ینوالی ایک کہانی

مولوی مناظر احسن صاحب گیلانی نے ان ہی مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے متعلق اپنی کتاب سوانح قاسمی میں اچنبھے میں ڈال دینے والی ایک حکایت بیان کی ہے۔

لکھتے ہیں کہ ایک بار مولانا موصوف کا کسی ایسے گائوں میں گزر ہوا جہاں شیعوں کی کثیر آبادی تھی سُنیوں کو جب ان کی آمد کی خبر ہوئی تو موقع غنیمت جانا اور ان کے وعظ کا اعلان کردیااعلان سنتے ہی شیعوں میں ایک کھلبلی مچ گئی۔ انہوں نے جلسۂ وعظ کو ناکام بنانے کے لئے لکھنؤ سے چار مجتہد بلائے اور پروگرام یہ طے پایا کہ مجلس وعظ میں چاروں کونوں پر یہ چاروں مجتہد بیٹھ جائیں اور چالیس اعتراض منتخب کرکے دس دس اعتراض چاروں پر بانٹ دئیے گئے کہ اثنائے وعظ میں ہر ایک مجتہد الگ الگ اعتراض کرے اور اس طرح جلسۂ وعظ کو درہم برہم کردیا جائے اَب اس کے بعد کا واقعہ خود سوانح نگار کے الفاظ میں سنئے، لکھتے ہیں :

’’ حضرت والاکی کرامت کا حال سنئے کہ حضرت نے وعظ شروع فرمایا جس میں گائوں کی تمام شیعہ برادری بھی جمع تھی اور وہ وعظ اسی ترتیب سے اعتراضوں کے جواب پر مشتمل شروع ہوا جس ترتیب سے اعتراضات لے کر مجتہدین بیٹھے تھے گویا ترتیب کے مطابق جب کوئی مجتہد اعتراض کرنے کے لئے گردن اُٹھاتا تو حضرت اسی اعتراض کو خود نقل کرکے جواب دینا شروع فرماتے یہاں تک کہ وعظ پورے سکون کے ساتھ پورا ہوا‘‘۔ (حاشیہ سوانح قاسمی، ج۲، ص۷۱)

اس واقعہ کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ اس سے بھی زیادہ عبرتناک اور دلچسپ ہے لکھتے ہیں کہ :

’’مجتہدین اور مقامی شیعہ چودھریوں کو اس میں اپنی انتہائی سبکی اور خفت محسوس ہوئی تو انہوں نے حرکت مذبوحی کے طور پر اس شرمندگی کو مٹانے اور حضرت والا کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ایک نوجوان کا فرضی جنازہ بنایا اورحضرت سے آکر عرض کیا کہ حضرت نماز جنازہ آپ پڑھادیں۔

پروگرام یہ تھا کہ جب حضرت دو تکبیرکہہ لیں تو صاحب جنازہ ایک دم اُٹھ کھڑا ہو اور اس پر حضرت کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کیا جائے۔ حضرت والا نے معذرت فرمائی کہ آپ لوگ شیعہ ہیں اور میں سُنی ہوں، اصو ل نماز الگ الگ ہیں، آپ کے جنازے کی نماز مجھ سے پڑھوانی کب جائز ہوگی؟ شیعوں نے عرض کیا کہ حضرت بزرگ ہر قوم کا بزرگ ہی ہوتا ہے آپ تو نماز پڑھا ہی دیں۔

حضرت نے ان کے ا صرار پر منظور فرمالیا اور جنازے پر پہنچ گئے، مجمع تھا، حضرت ایک طرف کھڑے ہوئے تھے کہ چہرے پر غصے کے آثار دیکھے گئے، آنکھیں سُرخ تھیں اور انقباض چہرے سے ظاہر تھا، نماز کے لئے کہا گیا تو آگے بڑھے اور نماز شروع کردی، دو تکبیر کہنے پر جب طے شدہ پروگرام کے مطابق جنازے میں حرکت نہ ہوئی تو پیچھے سے کسی نے ’’ہونہہ‘‘ کے ساتھ سسکاری دی مگر وہ نہ اُٹھا۔

حضرت نے تکبیر ات اربعہ پوری کرکے اسی غصے کے لہجے میں فرمایا کہ اَب یہ قیامت کی صبح سے پہلے نہیں اُٹھ سکتا، دیکھا گیا تو وہ مردہ تھا، شیعوں میں رونا پیٹنا پڑگیا‘‘۔ (حاشیہ سوانح قاسمی، ج۲،ص۷۱) قسم ہے آپ کو جلالت خداوندی کی جس کی ہیبت سے مومن کا کلیجہ لرزتا رہتا ہے، حق کے ساتھ انصاف کرنے میں کسی کی پاسداری نہ کیجئے گا۔

یہ دونوں واقعے آپ کے سامنے ہیں، پہلے واقعہ میں نانوتوی صاحب کے لئے غیبی علم وادراک کی وہ عظیم قوت ثابت کی گئی ہے جس کے ذریعہ انہوں نے الگ الگ مجتہدین کے دل میں چھپے اعتراض کو اسی ترتیب کے ساتھ معلوم کرلیا جس ترتیب کے ساتھ وہ اپنے اپنے دلوں میں چھپا کر لائے تھے۔

گھر کے بزرگ کے لئے تو جذبۂ اعتراف کی یہ فراوانی ہے کہ دلوں کے چھپے ہوئے خطرات آئینے کی طرح ان کے پیش نظر ہیں اپنے مولانا کے لئے اس غیبی قوتِ ادراک کا اعتراف کرتے ہوئے نہ شرک کا کوئی قانون دامن گیر ہوا اور نہ مشرب توحید سے کوئی انحراف نظر آیا لیکن انبیاء واولیاء کے حق میں اسی غیبی قوت ادراک کے سوال پر ان حضرات کے عقیدے کی زبان یہ ہے :

’’ کچھ اس بات میں بھی ان کو بڑائی نہیں ہے کہ اﷲ نے غیب دانی اختیار میں دے دی ہو کہ جس کے دل کا احوال جب چاہیں معلوم کرلیں یا جس غائب کا احوال جب چاہیں معلوم کرلیں کہ وہ جیتا ہے یا مرگیا یا کس شہر میں ہے‘‘۔ (تقویۃ الایمان،ص۲۵)

انصاف ودیانت کی روشنی میں چلنے کی تمنا کرنے والو ! حق وباطل کی راہوں کا امتیاز محسوس کرنے کے لئے کیا اَب بھی کسی مزید نشانی کی ضرورت ہے ؟

ایک واقعہ پر تبصرہ ختم ہوا اَب دوسرے واقعہ پر اپنی توجہ مبذول فرمائیے۔ واقعہ کی تفصیل تو اپنی جگہ پر ہے کہ نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوئے تو فرط غضب سے آنکھیں سُرخ تھیں جس کا مطلب یہ ہے کہ موصوف کو اپنی غیبی قوت ادراک کے ذریعے پہلے ہی یہ معلوم ہوگیا تھا کہ تابوت کے اندر کا جنازہ مُردہ نہیں بلکہ زندہ ہے اور صرف ازراہِ تمسخر اُنہیں نماز جنازہ پڑھانے کے لئے کہا گیا ہے۔

لیکن کہانی کا نقطہ عروج یہ ہے کہ اُنہوں نے تکبیرات اربعہ پوری کرنے کے بعد اسی غصے کے لہجے میں فرمایا’’اب یہ قیامت کی صبح سے پہلے نہیں اُٹھ سکتا‘‘ اس فقرے کا مدعا سوا اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ موصوف کی قوت تصرف سے اچانک اس کی موت واقع ہوگئی اور معاًاس کا علم بھی اُنہیں ہوگیا۔

اَب ٹھیک اس روایت کی دوسری سمت میں دیوبندی مذہب کی بنیادی کتاب تقویۃ الایمان کی یہ عبارت پڑھییٔ اور دریائے حیرت میں غوطہ لگائیے۔

’’ عالم میں ارادہ سے تصرف کرنا اور اپنا حکم جاری کرنا اور اپنی خواہش سے مارنا اور جلانا یہ سب اﷲ ہی کی شان ہے اور کسی انبیاء واولیاء کی، پیرومرشد کی، بھوت وپری کی یہ شان نہیں ، جو کوئی کسی کو ایسا تصرف ثابت کرے سو وہ مشرک ہوجاتا ہے‘‘۔ (تقویۃ الایمان،ص۱۰) ایک طرف دیوبندی مذہب کا یہ عقیدہ پڑھییٔ اور دوسری طرف نانوتوی صاحب کا وہ واقعہ پڑھییٔ صاف عیاں ہوجائے گا کہ ان حضرات کے یہاں شرک کی ساری بحثیں صرف انبیاء واولیاء کی حرمتوں سے کھیلنے کے لئے ہیں ورنہ ہر شرک اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں عین اسلام ہے۔

عقیدۂ توحید کے سا تھ تصادم کا ایک اور واقعہ

بات چل پڑی ہے تو عقیدہ توحید کے ساتھ تصادم کا اب اس سے بھی زیادہ خون ریز واقعہ ملاحظہ فرمائیے مولوی اشرف علی صاحب تھانوی کے سوانح نگار خواجہ عزیز الحسن نے اپنی کتاب میں تھانوی صاحب کے احباب کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں کہ:

’’ حضرت حافظ احمد حسین صاحب شاہجہانپوری جو باوجود شاہجہانپور کے بڑے رئیس ہونے صاحب سلسلہ بزرگ بھی تھے ایک بار کسی کے لئے بددعا کی تو وہ شخص دفعۃً مرگیابجائے اس کے کہ اپنی اس کرامت سے خوش ہوتے ڈرے اور بذریعہ تحریر حضرت والا(تھانوی صاحب) سے مسئلہ پوچھا کہ مجھے قتل کا گناہ تو نہیں ہوا؟ ‘‘ ۔ (اشرف السوانح، ج۱، ص۱۲۵) تھانوی صاحب کا یہ ایمان شکن جواب دیدۂ حیرت سے پڑھنے کے قابل ہے تحریر فرمایا کہ :

’’ اگر آپ میں قوتِ تصرف ہے اور بددعا کرنے کے وقت آپ نے اس قوت سے کام لیا تھا، یعنی یہ خیال قصد اور قوت کے ساتھ کیا تھا کہ یہ شخص مرجائے تب تو قتل کا گناہ ہوا اور چونکہ یہ قتل شبر عمد ہے اس لئے دیت اور کفارہ واجب ہوگا‘‘۔ (اشرف السوانح،ج۱،ص۲۵)

اَب اسی کے ساتھ دیوبندی مذہب کی بنیادی کتاب’’تقویۃ الایمان‘‘ کی یہ عبارت پڑھئے انبیاء واولیاء کی قوت تصرف پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اور اس بات کی ان میں کوئی بڑائی نہیں کہ اﷲ نے ان کو عالم میں تصرف کرنے کی کچھ قدرت دی ہو کہ جس کو چاہیں مار ڈالیں‘‘۔ (تقویۃ الایمان، ص۲۵)

دیکھ رہے ہیں آپ ؟ تصرف کی یہی قوت انبیاء واولیاء کے لئے تسلیم کرنا دیوبندی مذہب میں شرک ہے اور ان کے تئیں یہ شان صرف اﷲ کی ہے جو کسی کو ایسا تصرف ثابت کرے سو وہ مشرک ہوجاتا ہے لیکن یہ کیسی قیامت ہے کہ اسی شرک کو اپنے گلے کا ہاربنا لینے کے باوجود تھانوی صاحب اور ان کے متبعین روئے زمین کے سب سے بڑے توحید پرست کہلانے کے مدعی ہیں۔

اپنے بزرگوں کے لئے ایک شرمناک دعویٰ

مولوی انوار الحسن ہاشمی مبلغ دارالعلوم دیوبند نے’’ مبشرات دارالعلوم‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جو دارالعلوم کے محکمہ نشرواشاعت کی طرف سے شائع کی گئی ہے کتاب کے پیش لفظ کا یہ حصہ خاص طور پرپڑھنے کے قابل ہے لکھتے ہیں کہ :

’’بعض کا مل الایمان بزرگوں کو جن کی عمر کا بیشتر حصہ تزکیہ نفس اور روحانی تربیت میں گزرتا ہے باطنی اور روحانی حیثیت سے ان کو منجانب اللہ ایسا ملکہ راسخہ حاصل ہو جاتا ہے کہ خواب یا بیداری میں ان پروہ امور’’خود بخود‘‘ منکشف ہو جاتے ہیں جو دوسروں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔‘‘

(مبشراتِ دارالعلوم ص ۱۲)

لیکن غیرتِ اسلامی کو آواز دیجئے کہ کشف کا یہی ملکہ راسخہ جو دیوبند کے کامل الایمان بزرگوں کو تزکیہ نفس کی بدولت حاصل ہو جاتا ہے اور جس کے ذریعہ مخفی اُمور اُن پر خودبخود منکشف ہو جایا کرتے ہیں وہ رسول اکرم ﷺ کے حق میں یہ حضرات تسلیم نہیں کرتے جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تصوف کی مستند کتابوں میں جب اُمت کے بعض اولیاء کے لیے کشف کا ثبوت ملتا ہے تو روئے زمین کے علم کے سلسلے میں اگر سردار انبیاء واولیاء حضور اکرمﷺ کے لئے بھی کشف مان لیا جائے تو کیا قیامت لازم آتی ہے؟تو اس کا جواب یوں عنایت فرماتے ہیں:

’’ان اولیاء کو حق تعالیٰ نے کشف کر دیا کہ ان کو یہ حضور علم حاصل ہو گیااگر اپنے فخر عالم علیہ السَّلام کو بھی لاکھ گونہ اس سے زیادہ عطا فرما دے ممکن ہے،مگر ثبوت فعلی اس کا کہ عطا کیا کس(دلیل)سے ثابت ہے کہ اس پر عقیدہ کیا جاوے۔‘‘

(براہین قاطعہ، ص ۵۲) گروہی پاسداری کے جذبے سے بالا تر ہو کر فیصلہ کیجئے کہ رسول الثقلین ﷺ کا کشف تو اللہ کی عطا پر موقوف پر رکھا گیا ہے لیکن دیوبند کے کامل الایمان بزرگوں کو ریاضت اور تزکیہ نفس کے بل پر یہ کشف خودبخود حاصل ہو جاتا ہے اب سوال یہ ہے کہ حصول کشف کا ذریعہ اگر تزکیہ نفس اور ریاضت ہی ہے جیسا کہ اُوپر گزرا تو اس تفریق کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ حضرات اپنے بزرگوں کو ریاضت اور تزکیہ نفس میں معاذ اللہ رسول اکرم ﷺ سے بھی افضل و برتر سمجھتے ہیں۔

پھر مذکورہ بالا دونوں عبارتوں کو ایک ساتھ نظر میں رکھنے کے بعد ایک تیسرا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اپنے بزرگوں کے حق میں ملکہ راسخہ کے نام سے کشف کی ایک ایک ایسی دائمی اور ہمہ وقتی قوت مان لی گئی جس کے بعد اب فرداً فرداً ایک ایک مخفی شئی کے علم کے ثبوت کی احتیاج ہی باقی نہیں رہ جاتی بلکہ تنہا یہی قوت سارے مخفیات کے انکشاف کے لئے کافی ہو جاتی ہے۔

لیکن بُرا ہو تنگی دل کا کہ علم و انکشاف کا یہی ملکہ راسخہ رسول مجتبیٰ ﷺ کے حق میں تسلیم کرتے ہوئے ان حضرات کو شرک کا آزار ستانے لگتا ہے یہاں فرداً فرداً ایک ایک شئی کے علم کے بارے میں دلیل خاص کا مطالبہ کرتے ہیں کہ خدا نے عطا کیا ہو تو اس کاثبوت پیش کیجئے ذات نبوی کو منشاء علم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے قاری طیب صاحب لکھتے ہیں:

’’یہ صورت نہ تھی کہ آپ کو نبوت کے مقام رفیع پر پہنچا کر بیک دم اور اچانک ذات پاک نبوی کو منشاء علم بنا دیا گیا ہو اور ضرورتوں اور حوادث کے وقت ’’خودبخود‘‘ آپ کے اندر سے علم اُبھر آتا ہو۔‘‘

(فاران کراچی کا توحید نمبر، ص ۱۱۳)

یہ’’خودبخود‘‘ گھر کے بزرگوں کے لئے بھی تھا اور ’’خودبخود‘‘یہاں بھی ہے لیکن وہاں علمی رُتبہ بڑھانے کے لئے تھا یہاں گھٹانے کے لئے ہے۔

اب آپ ہی انصاف سے کہئے کہ زاویہ نگاہ کا یہ فرق کیا اس غبار خاطر کا پتہ نہیں دیتا جو کسی کے دل میں کسی کی طرف سے پیدا ہو جانے کے بعد اعتراف ِحقیقت کی راہ میں دیوار بن کر حائل ہو جاتا ہے۔

لگا تار غیبی مشاہدات:

اب ذیل میں دارالعلوم دیوبند کے کامل الایمان بزرگوں کی غیب دانی سے متعلق وہ واقعات ملاحظہ فرمایئے جن کی تشہیر کے لئے یہ کتاب لکھی گئی ہے۔

دارالعلوم دیوبند کی ایک عمارت کے متعلق مولوی رفیع الدین صاحب سابق مہتمم کا یہ کشف بیان کیا گیا ہے کہ

’’حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبندنے اپنے کشف سے معلوم کرکے ارشاد فرمایا کہ نودرے کی وسطی درسگاہ سے عرش معلّٰی تک میں نے نور کا ایک سلسلہ دیکھا ہے۔‘‘

(مبشرات ، ص ۳۱)

اب دیوبند کے قبرستان کے متعلق ایک دوسرا کشف ملاحظہ فرمائیے:

’’خطیرہ قدسیہ یا خطہ صالحین یعنی قبرستان میں حضرت مولانا نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ‘شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ‘فخر الہند حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب رحمتہ اللہ علیہ‘ مفتی اعظم حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور سینکڑوں علماء و طلباء مدفون ہیںاس حصے کے متعلق شاہ رفیع الدین صاحب کا کشف تھا کہ اس حصے میں مدفون ہونے والا ان شاء اللہ مغفور ہو گا‘‘۔

(مبشرات ص ،۳۱)

واضح رہے کہ ’’ان شاء اللہ ‘‘ کی یہ قید محض سخن تکیہ کے طور پر ہے ورنہ ان شاء اللہ کی قید کے ساتھ تو ہر قبرستان کا مدفون مغفرت یافتہ ہے۔پھر دیوبندی قبرستان کے متعلق کشف کی خصوصیت کیا رہی؟

اب اَخیر میں مولوی قاسم صاحب نانوتوی کی قبر کے متعلق ایک عجیب وغریب کشف ملاحظہ فرمائیے:

’’حضرت مولانا رفیع الدین صاحب مجدّدی نقشبندی سابق مہتمم دارالعلوم کا مکاشفہ ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند کی قبر‘عین کسی نبی کی قبر میں ہے۔‘‘ (مبشرات ص۳۶) سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کشف سے موصوف کی کیا مراد ہے؟کیا دیوبند میں کسی نبی کی قبر پہلے سے موجود تھی جسے خالی کرالیا گیا اور نانوتوی صاحب کو وہاں دفن کیا گیا اگر ایسا ہے تو اس نبی کی قبر کی نشاندہی کس نے کی؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس کشف سے موصوف کی کیا مراد ہے؟

اگر لفظوں کی اُلٹ پھیر سے صرف نظر کرلیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ غیر واضح الفاظ میں وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ نانوتوی صاحب کی قبر عین کسی نبی کی قبر ہے اور یہی زیادہ قرین قیاس بھی معلوم ہوتا ہے کیونکہ نانوتوی صاحب کے حق میں اگرچہ کُھل کر نبوت کا دعویٰ نہیں کیا گیا ہے لیکن دبی زبان سے یہ روایت ضرور نقل کی گئی ہے کہ ان پر کبھی کبھی نزول وحی کی کیفیت طاری ہوتی تھی جیسا کہ گیلانی صاحب نے اپنی کتاب سوانح قاسمی میں لکھا ہے کہ ایک دن مولانا نانوتوی نے اپنے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ صاحب سے شکایت کی کہ:

’’جہاں تسبیح لیکر بیٹھا بس ایک مصیبت ہوتی ہے۔اس قدر گرانی کہ جیسے سَو سَو مَن کے پتھر کسی نے رکھ

دیئے ہوں،زبان و قلب سب بستہ ہو جاتے ہیں۔‘‘ (سوانح قاسمی،ج۱ ، ص ۲۵۸) اس شکایت کا جواب حاجی صاحب کی زبانی یہ نقل کیا گیا ہے:

’’یہ نبوت کا آپ کے قلب پر فیضان ہوتا ہے اور یہ وہ ثقل (گرانی)ہے جو حضور ﷺ کو وحی کے وقت محسوس ہوتا تھا تم سے حق تعالیٰ کو وہ کام لینا ہے جو نبیوں سے لیا جاتا ہے۔‘‘

(سوانح قاسمی ج۱ ص ۲۵۹)

نبوت کا فیضان،وحی کی گرانی اور کار انبیاء کی سپردگی ان سارے لوازمات کے بعد نہ بھی صریح لفظوں میں ادعائے نبوت کیا جائے جب بھی اصل مدعا اپنی جگہ پر ہے۔

اس کتاب کا پہلا باب جو بانی دارالعلوم دیوبند مولوی قاسم نانوتوی کے واقعات و حالات پر مشتمل تھایہاں پہنچ کر تمام ہو گیا۔

جس تصویر کا پہلا رُخ کتاب کے ابتدائی حصے میں آپ کی نظر سے گزر چکا ہے یہ اس کا دوسرا رُخ تھا اب چند لمحے کی فرصت نکال کر ذرا دونوں رُخوں کا موازنہ کیجئے اور انصاف و دیانت کے ساتھ فیصلہ دیجئے کہ تصویر کے پہلے رُخ میں جن عقائد ومسائل کو ان حضرات نے شرک قرار دیا تھاجب اُن ہی عقائد و مسائل کو تصویر کے دُوسرے رُخ میں اُنھوں نے سینے سے لگا لیا تو اب کس منہ سے وہ اپنے آپ کو موحد اور دوسروں کو مشرک قرار دیتے ہیں۔

دنیا کی تاریخ میں دُوسروں کو جھٹلانے کی ایک سے ایک مثال ملتی ہے لیکن اپنے آپ کو جھٹلانے کی اس سے زیادہ شرمناک مثال اور کہیں نہ مل سکے گی۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ عقیدہ توحید کے ساتھ تصادم کے یہ واقعات صرف مولوی قاسم صاحب نانوتوی ہی تک محدود نہیں ہیں کہ اسے حسن اتفاق پر محمول کر لیا جائے بلکہ دیوبندی جماعت کے جتنے بھی مشاہیر ہیں کم و بیش سبھی اس الزام میں ملوث نظر آتے ہیں جیسا کہ آئندہ اوراق میں آپ پڑھ کے حیران و ششدر رہ جائیں گے۔ دُوسرا باب د یوبندی جماعت کے مذہبی پیشوا جناب مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے بیان میں

اس باب میں پیشوائے دیوبندی مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے متعلق دیوبندی لٹریچر سے ایسے واقعات و حقائق جمع کیے گئے ہیں جن میں عقیدۂ توحید سے تصادم اصولوں سے انحرافـ‘مذھبی خود کشی اور مُنھ بولے شرک کو اپنے حق میں ایمان و اسلام بنا لینے کی حیرت انگیز مثالیں ورق ورق پر بکھری ہوئی ہیں۔انھیں چشمہ حیرت سے پڑھیئے اور ضمیر کا فیصلہ سننے کے لئے گوش بر آواز رہئے ! سلسلہ واقعات غیب دانی اور د لوں کے خطرات پر مطلع ہونیکے آٹھ واقعات

دیوبندی مذہب کے سرگرم حامی مولوی عاشق الٰہی میرٹھی نے تذکرۃ الرشید کے نام سے دو جلدوں میں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی سوانح حیات لکھی ہے ذیل کے اکثر واقعات ان ہی کی کتاب سے اخذ کیے گئے ہیں۔

دلوں کے خطرات پر مطلع ہونے اور مخفی امور کے مشاہدات سے متعلق اب ذیل میں واقعات کا سلسلہ ملاحظہ فرمائیے : (۱)

پہلا واقعہ

ولی محمد نام کا ایک طالب علم جو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی خانقاہ میں پڑھتا تھا اس کے متعلق تذکرۃ الرشید کے مصنف یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ :

’’ایک بار مکان سے خرچ آنے میں دیر ہوئی اور ان کو ایک یا دو فاقہ کی نوبت آپہنچی۔مگر نہ اُنھوں نے کسی سے ذکر کیا نہ کسی صورت یہ حال کسی پر ظاہر ہوااسی حالت میں صبح کے وقت بغل میں کتاب دبائے پڑھنے کے واسطے حضرت کی خدمت میں آرہے تھے کہ راستہ میں حلوائی کی دوکان پر گرم گرم حلوہ پک رہا تھا۔یہ کچھ دیر وہاں کھڑے رہے کہ کچھ پاس ہو تو کھائیں مگر پیسہ بھی نہ تھا اس لئے صبر کر کے چل دئیے اور خانقاہ میں پہنچے حضرت گویا ان کے منتظر ہی بیٹھے تھے سلام کا جواب دیتے ہی فرمایامولوی ولی محمد! آج تو حلوا کھانے کو ہمارا جی چاہتا ہے لو یہ چار آنے لے جائو اور جس دوکان سے تم کو پسند ہے وہیں سے لاؤ۔غرض ولی محمد اسی دوکان سے حلوا خرید کر لائے اور حضرت کے سامنے رکھ دیا۔ حضرت نے ارشاد فرمایا میاں ولی محمد! میری خوشی ہے کہ اس حلوے کو تم ہی کھا لو‘‘۔ (تذکرۃ الرشید،ج ۲ ، ص ۲۲۷) یہاں تک تو واقعہ تھا جس میں حسن اتفاق کو بھی دخل ہو سکتا ہے لیکن گنگوہی صاحب کی ہمہ وقتی غیب دانی کے متعلق ذرا اسی طالب علم کے یہ تاثرات ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں کہ:

’’مولوی ولی محمد اس قصہ کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ حضرت کے سامنے جاتے مجھے بہت ڈر معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ قلب کے وساوس (وسوسے)اختیار میں نہیں اور حضرت ان پر مطلع ہو جاتے ہیں۔‘‘

(تذکرۃ الرشید،ج ۲ ، ص۲۲۷)

مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ دلوں کے خطرات سے باخبر ہونے کی یہ کیفیت اتفاقی نہیںبلکہ دائمی تھی یعنی حواس پنج گانہ کی طرح وہ ہر قوت سے کام لینے پر قادر تھے۔

اپنے گھر کے بزرگوں کی غیب دانی کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے لیکن انبیاء و اولیاء کی جناب میں ان حضرت کے عقیدے کی عام زبان یہ ہے :

’’جو کوئی کسی کے متعلق یہ سمجھے کہ جو بات میرے منہ سے نکلتی ہے وہ سب سُن لیتا ہے اور جو خیال ووہم اس کے دل میں گزرتا ہے وہ سب سے واقف ہے سوان باتوں سے مشرک ہو جاتا ہے اور اس قسم کی باتیں سب شرک ہیں‘‘۔ (تقویۃ الایمان ص ۱۰) اب اس بے انصافی کا شکوہ کس سے کیا جائے کہ ایک ہی عقیدہ جو انبیاء و اولیاء کے بارے میں شرک ہے وہی گھر کے بزرگوں کے حق میں اسلام و ایمان بن گیا ہے۔

کیا اب بھی حق و باطل کی راہوں کا امتیاز محسوس کرنے کے لیے مزید کسی نشانی کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلہ کیجئے!

دوسرا واقعہ

دلوں کے خطرات پر مطلع ہونے کا ایک اور واقعہ سُنئے لکھتے ہیں کہ :

’’ایک مرتبہ استاذی مولانا عبد المومن صاحب حاضر خدمت تھے دل میں وسوسہ گزرا کہ بزرگوں کے حالات میں زہد اور فقر وتنگ دستی غالب دیکھی گئی ہے اور حضرت کے جسم مبارک پر جو لباس ہے وہ مباح ومشروع ہے مگر بیش قیمت ہے۔

حضرت امام ربانی(مولانا گنگوہی) اس وقت کسی سے باتیں کررہے تھے دفعتاً ادھر متوجہ ہوکر فرمایا کہ عرصہ ہوا مجھے کپڑے بنانے کا اتفاق نہیں ہوتا لوگ خود بنا بنا کر بھیج دیتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ تو ہی پہننا ان کی خاطر سے پہنتا ہوں چنانچہ جتنے کپڑے ہیں سب دوسروں کے ہیں‘‘۔

(تذکرۃ الرشید،ج۲، ص۱۷۳)

اس واقعہ کا یہ رُخ خاص طور پر محسوس کرنے کے قابل ہے کہ دل کے اس خطرے پر مطلع ہونے کے لئے اُنہیں کسی خاص توجہ کی بھی ضرورت نہیں پیش آئی دوسرے شخص کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہوتے ہوئے بھی وہ مولوی عبدالمومن صاحب کے دل کے وسوسے سے باخبر ہوگئے۔ اس واقعہ سے ان کی ہمہ جہتی آگہی کا پتہ چلتا ہے اور میرا خیال اگر غلط نہیں ہے تو یہ شان صرف خدا کی ہے کیونکہ انسان کے بارے میں تو ہمیشہ یہی تصور رہا ہے کہ اس کی قوت ادراک ایک وقت میں ایک ہی طرف متوجہ ہوسکتی ہے۔

اَب چشم عبرت سے لہو ٹپکنے کی بات یہ ہے کہ دیوبندی حضرات کے امام ربانی تو بغیر کسی خاص توجہ کے بھی فی الفور دل کے مخفی حال پر مطلع ہوگئے لیکن امام الانبیاء ﷺ کے متعلق ان حضرات کے عقیدے کی زبان یہ ہے :

’’ بہت سے امور میں آپ کا خاص اہتمام سے توجہ فرمانا بلکہ فکروپریشانی میں واقع ہونا اور باوجود اس کے پھر مخفی رہنا ثابت ہے‘‘۔ (حفظ الایمان،ص۷)

اَب آپ ہی فیصلہ کیجئے! یہ سر پیٹ لینے کی بات ہے یا نہیں کہ غیبی ادراک کی جو قوت ان حضرات کے نزدیک ایک ادنیٰ اُمتی کے لئے ثابت ہے وہ خدا کے محبوب پیغمبر اور امام الانبیاء کے لئے ثابت نہیں۔ فاعتبرو یا اُولی الابصار۔

تیسرا واقعہ

لکھتے ہیں کہ :

’’مولوی نظر محمد خاں صاحب فرماتے ہیں کہ میری اہلیہ جس وقت آپ سے بیعت ہوئیں تو چونکہ مجھے طبعی طور پر غیرت زیادہ تھی اس لئے عورت کو باہر آنا یا کسی اجنبی مرد کو آواز سنانا بھی گوارا نہ تھا اس وقت بھی یہ وسوسہ بھی میرے ذہن میں آیا کہ حضرت میری اہلیہ کی آواز سنیں گے مگر یہ حضرت کی کرامت تھی کہ کشف سے میرے دل کا وسوسہ دریافت کرلیا اور یوں فرمایا کہ اچھا ! مکان کے اندر بٹھلا کر کواڑ بند کردو‘‘۔

(تذکرۃ الرشید،ج۲،ص۵۲)

اس واقعہ کے اندر بالکل صراحت ہے اس امر کی کہ گنگوہی صاحب نے ان کے دل کا یہ وسوسہ الہام خداوندی کے ذریعہ نہیں بلکہ اپنی قوت کشف کے ذریعہ دریافت فرمالیا ہے لیکن صد حیف کہ یہی قوتِ کشف پیغمبر اعظم ﷺ کے حق میں تسلیم کرتے ہوئے ان حضرات کو شرک کا آزار ستانے لگتا ہے اور دیوانوں کی طرح شور مچانے لگتے ہیں کہ یہ تو خدا کے ساتھ برابری ہوگئی ایک پیغمبر کو خدا کا منصب دے دیا گیا۔

چو تھا واقعہ

لکھتے ہیں :

’’مولانا علی رضا صاحب حضرت کے شاگرد ہیں فرماتے ہیں زمانہ طالب علمی میں مجھے ایسا مرض لاحق ہوا کہ وضو قائم نہ رہتا تھا بعض نماز کے لئے تو کئی کئی بار وضو کرنا پڑتا تھا۔

ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ فجر کی نماز کو بندہ مسجد میں سویرے آگیا سردی کا موسم تھا اور اس دن اتفاق سے جاڑہ بھی زیادہ تھا باربار وضو کرنے میں بہت تکلیف ہوتی تھی جی چاہتا تھا کہ کسی طرح جلد نماز سے فراغت ہوجائے تقدیری بات کہ امام ربانی نے اس دن معمول سے بھی کچھ زیادہ دیر لگائی میں کئی مرتبہ سخت سردی میں وضو کرنے سے پریشان ہوا اور وسوسہ گزرا کہ ایسی بھی کیا حنفیت ہے ؟ حضرت ابھی اسفار ہی کے منتظر ہیں اور ہم وضو کرتے کرتے مرے جاتے ہیں لحظہ دو لحظہ کے بعد حضرت تشریف لائے اور جماعت کھڑی ہوگئی۔ فراغت کے بعد حسب معمول دیگر اشخاص کے ہمراہ میں بھی حضرت کے پیچھے پیچھے حجرہ شریف تک گیا جب سب لوگ لوٹ گئے اور حضرت نے دروازہ بند کرنا چاہا تو مجھے پاس بلا کر ارشاد فرمایا! بھائی یہاں کے لوگ نماز فجر کے واسطے تاخیر کرکے آتے ہیں اس وجہ سے میں بھی دیر کرتا ہوںیہ کہہ کر حضرت حجرہ میں تشریف لے گئے اور میں ندامت سے پسینہ پسینہ ہوگیا‘‘۔ (تذکرۃ الرشید،ج۲،ص۲۴۴)

اس لئے کہ غیب داں شخص پر دل کی چوری کھل گئی ورنہ آپ ہی بتائیے کہ دل کے وسوسے کے سوا شیخ کی بارگاہ کا اور کوئی دوسرا جرم ہی کیا تھا ؟

پا نچواں واقعہ

لکھتے ہیں کہ :

’’ ایک مرتبہ مولوی(ولایت حسین) صاحب کو وسوسہ ہوا کہ حضرت مجدد صاحب اپنے بعض مکتوبات میں ذکر جہر کو بدعت فرماتے ہیں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان ہی کو مخاطب بنا کر حضرت نے ارشاد فرمایا ذکر جہر کی اجازت بعض وقت حضرات نقشبندیہ بھی دیدیتے ہیں‘‘۔

(تذکرۃ الرشید،ج۲،ص۲۲۹)

دیکھ رہے ہیں آپ ؟ لگاتار دل کے وسوسوں پر مطلع ہونے کی یہ شان ! ادھر خیال گزرا اُدھر باخبر لیکن اِن حضرات کی بنیادی کتاب’’تقویۃ الایمان‘‘ کے حوالہ سے ابھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ شان صرف خدا کی ہے جو غیر کے لئے اس طرح کی باتیں ثابت کرتا ہے وہ مشرک ہوجاتا ہے۔

اَب اس الزام کا جواب ہمارے سر نہیں ہے کہ ایک ہی عقیدہ جو غیر خدا کے حق میں شرک تھا وہ گھر کے بزرگوں کے حق میں اسلام کیونکر بن گیا ؟

چھٹا واقعہ

یہاں تک تو دلوں کے خطرات پر مطلع ہونے کی بات تھی اَب عام طور غیب دانی کی شان ملاحظہ فرمائیے، لکھتے ہیں کہ :

’’ ایک مرتبہ دو شخص اجنبی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام ومصافحہ کے بعد بیعت کی تمنا ظاہر کی، آپ نے فرمایا دو رکعت نماز پڑھو حضرت کے اس ارشاد پر تھوڑی دیر دونوں گردن جھکائے بیٹھے رہے پھر چپکے سے اُٹھ کر چل دئیے۔

جب دروازے سے باہر ہوئے تو حضرت نے فرمایا دونوں شیعہ تھے میرا امتحان لینے آئے تھے۔حاضرین میں سے بعض آدمی ان کی تحقیق کو ان کے پیچھے گئے اور معلوم کیا تو وہ واقعی رافضی تھے‘‘۔

(تذکرۃ الرشید،ج۲،ص۲۲۷)

سا تواں واقعہ

’’ارواح ثلٰثہ ‘‘کے مصنف امیر شاہ خاں اپنی کتاب میں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے متعلق یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ :

’’ حضرت گنگوہی رحمۃ اﷲ علیہ نے مولوی محمد یحییٰ صاحب کاندھلوی سے فرمایا فلاں مسئلہ شامی میں دیکھو مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وہ مسئلہ شامی میں تو ہے نہیں فرمایا یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ لائو شامی اُٹھا لائو! شامی لائی گئی، حضرت اس وقت آنکھوں سے معذور ہوچکے تھے، شامی کے دوثلث(دوتہائی) اوراق دائیں جانب کرکے اور ایک ثلث(ایک تہائی) بائیں جانب کرکے اس انداز سے کتاب ایک دم کھولی اور فرمایا کہ بائیں طرف کے صفحے پر نیچے کی جانب دیکھو دیکھا تو وہ مسئلہ اسی صفحہ پر موجود تھا سب کو حیرت ہوئی حضرت نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری زبان سے غلط نہیں نکلوائے گا‘‘۔

(ارواح ثلٰثہ، ص۲۹۲)

اَب اس واقعہ پر جناب مولوی اشرف علی صاحب تھانوی کا ایک حاشیہ پڑھئے، لکھتے ہیں :

’’ وہی مقام نکل آنا گو اتفاقاً بھی ہوسکتا ہے مگر قرائن سے یہ باب کشف سے معلوم ہوتا ہے ورنہ جزم کے ساتھ نہ فرماتے کہ فلاں موقعہ پر دیکھو‘‘۔ (حاشیہ اروح ثلٰثہ، ص۲۹۲)

ذرا غور فرمائیے ! یہ واقعہ کوئی چیستاں تو تھا نہیں جس کے حل کے لئے حاشیہ چڑھانے کی ضرورت تھی مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تھانوی صاحب نے خیال کیا ہوگا کہ لوگ کہیں اسے حسن اتفاق ہی پر محمول نہ کرلیں اس لئے ’’باب کشف‘‘ سے کہہ کر لوگوں کی توجہ ان کی ’’غیب دانی‘‘ کی طرف مبذول کرادی۔

اس واقعہ میں گنگوہی صاحب کے اس جملے پر کہ حق تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ ’’میری زبان سے غلط نہیں نکلوائے گا‘‘ کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔

پہلا سوال تو یہ ہے کہ خدا کے ساتھ اُنہیں ہم کلامی کا شرف کب اور کہاں حاصل ہوا کہ اس نے ان سے یہ وعدہ فرمایا ؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا جزم ویقین کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ گنگوہی صاحب کی زبان وقلم سے ساری عمر کوئی غلط بات نہیں نکلی؟ ایک نبی کے بارے میں تو البتہ ایسا سوچنا صحیح ہے لیکن میں یقین کرتا ہوں کہ بڑے سے بڑا اُمتی بھی زبان وقلم کی لغزشوں سے معصوم نہیں قرار دیا جاسکتا۔

پس ایسی حالت میں کیا بالفاظ دیگروہ خدائے قدوس کی طرف یہ الزام نہیں منسوب کررہے کہ اس نے معاذ اﷲ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ اس اعلان سے آخر گنگوہی صاحب کا مدعا کیا ہے ؟ کافی غورو فکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اُنہوں نے عام لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ خدا کے یہاں ان کا مقام ’’بشریت‘‘ کی سطح سے بھی اونچا ہے کیونکہ نبی بھی اگرچہ بشر ہی ہوتے ہیںلیکن دیوبندی حضرات کے تئیں ان سے بھی غلطی واقع ہوسکتی ہے جیسا کہ تھانوی صاحب اپنے فتاویٰ میں ارشاد فرماتے ہیں :

’’ تحقیق کی غلطی ولایت بلکہ نبوت کے ساتھ بھی جمع ہوسکتی ہے‘‘۔ (فتاویٰ امدادیہ، ج۲،ص۶۴)

اَب اس مقام پر میں آپ کو ایک سخت قسم کے امتحان میں مبتلا کرکے آگے بڑھتا ہوںیہ فیصلہ کرنا اب آپ ہی کی غیرت ایمانی کا فریضہ ہے کہ اپنے پیغمبر کے ساتھ وفاداری کا شیوہ کیا ہے؟ خدا کرے فیصلہ کرتے وقت آپ کا دل کسی غلط جذبۂ پاسداری کا شکار نہ ہو۔

آٹھواں واقعہ

یہی ارواح ثلٰثہ کے مصنف امیر شاہ خاں گنگوہی کے متعلق اس واقعہ کے بھی راوی ہیں بیان کرتے ہیں کہ :

’’ ایک دفعہ حضرت گنگوہی رحمۃ اﷲ علیہ جوش میں تھے اور تصور شیخ کا مسئلہ در پیش تھا فرمایا کہہ دوں؟ عرض کیا گیا فرمائیے! پھر فرمایا کہہ دوں؟ عرض کیا گیا فرمائیے! پھر فرمایا کہہ دوں ؟ عرض کیا گیا فرمائیے! تو فرمایا تین سال کامل حضرت امداد کا چہرہ میرے قلب میں رہا اور میں نے اُن سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کیاپھر اور جوش آیا فرمایا کہہ دوں ؟ عرض کیا گیا کہ حضرت ضرور فرمائیے !

فرمایا کہ اتنے سال حضرت ﷺ میرے قلب میں رہے اور میں نے کوئی بات بغیر آپ کے پوچھے نہیں کی یہ کہہ کر اور جوش ہوا فرمایا کہہ دوں؟ عرض کیا گیا فرمائیے! مگر خاموش ہوگئے لوگوں نے اصرار کیا تو فرمایا کہ بس رہنے دو‘‘۔ (ارواح ثلٰثہ، ص۲۹۲)

یعنی معاذ اﷲ ! اَب خدا کا چہرہ دل میں تھا :

واضح رہے کہ یہاں بات مجاز واستعارہ کی زبان میں نہیں ہے جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعاً اپنے ظاہر پر محمول ہے، اس لئے کہنے دیا جائے کہ یہاں حضور اکرم ﷺ سے مراد حضور اکرم ﷺ کا نور نہیں ہے بلکہ حضور سے خود حضور مراد ہیں کیونکہ نور ایک جوہر لطیف کا نام ہے اس کے ساتھ ہم کلام ہونے کے کوئی معنی ہی نہیں ۔

اَب اہل نظر کے لئے یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ بات اپنی فضیلت وبزرگی کی آگئی ہے تو سارے محالات ممکن ہی نہیں بلکہ واقع ہوگئے ہیں، اَب یہاں کسی طرف سے یہ سوال نہیں اُٹھتاکہ معاذ اﷲ جتنے دنوں تک حضور آپ کے دل میں مقیم رہے اتنے دنوں تک وہ اپنی تربت پاک میں موجود تھے یا نہیں ؟ اگر نہیں تھے تو کیا اتنے دنوں تک تربت پاک خالی پڑی رہی اور اگر موجود تھے تو پھر تھانوی صاحب کے اس سوال کا جواب کیا ہوگا جو اُنہوں نے محافلِ میلاد میں حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری کے سوال پر اُٹھایا ہے کہ :

’’ اگر ایک وقت میں کئی جگہ محفل منعقد ہو تو آیا سب جگہ آپ تشریف لے جاویں گے یا کہیں ؟ یہ تو ترجیح بِلا مرجح ہے کہ کہیں جاویں کہیں نہ جاویں اور اگر سب جگہ جاویں تو وجود آپ کا واحد ہے ہزار جگہ کس طور جاسکتے ہیں ؟ ۔ ‘‘ (فتاویٰ امدادیہ، ج۴، ص۵۸)

زاویہ نگاہ کا یہ فرق کسی حال میں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اپنی روحانی برتری اور غیبی قوت ادراک کے سوال پر ذہن کے بھرپور اعتراف کے ساتھ سب خاموش رہے اور جب بات محبوب کردگار کی آگئی تو عقل فتنہ پرور نے ایسی ایسی بال کی کھال نکالی کہ آدمی کا یقین واعتماد گھائل ہوکے رہ گیا اگر انصاف کا جذبہ شریک نظر رہا تو دیوبندی حضرات کا یہ مخصوص انداز فکر آپ اس کتاب میں جگہ جگہ محسوس کریں گے اور گنگوہی صاحب کے اس واقعہ کا ایک رُخ تو اتنا اشتعال انگیز ہے کہ سوچتا ہوں تو آنکھوں سے خون ٹپکنے لگتا ہے یہ کہہ کر کہ کوئی کام انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھے بغیر نہیں کیا دوسرے لفظوں میں اپنے جسم وجوارح اور زبان وقلم کی ساری تقصیرات کو اُنہوں نے حضور ﷺ کی طرف منسوب کردیا ہے کیونکہ یہ دعویٰ ہر گز ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ اِن ایام میں ان سے کوئی خلاف شرع کام صادر نہیں ہوا اور جب ہوا تو اُنہی کے بیان کے مطابق ماننا پڑے گا کہ معاذ اﷲ وہ خلاف شرع کام بھی اُنہوں نے حضور کے ایماء سے کیا۔

چند اور عبرت انگیز کہانیاں

آپ کی نگاہوں پر بار نہ ہو تو تذکرۃ الرشید میں گنگوہی صاحب سے متعلق مشرکانہ اختیارات اور پیغمبرانہ تعلیوں کی جو کہانیاں نقل کی گئی ہیں ان میں سے دو چار کہانیاں نمونے کے طور ملاحظہ فرمائیں :

پہلی کہا نی

تذکرۃ الرشید کے مصنف بیان کرتے ہیں کہ بار ہا آپ کی زبان فیض ترجمان سے یہ کہتے سنا گیا :

’’ سن لو حق وہی ہے جو رشید احمد کی زبان سے نکلتا ہے اور بہ قسم کہتا ہوں کہ میں کچھ نہیں ہوں مگر اس زمانے میں ہدایت ونجات موقوف ہے میری اتباع پر‘‘۔ (تذکرۃ الرشید، ج۲،ص۱۷)

پاسداری کے جذبے سے الگ ہوکر صرف ایک لمحے کے لئے سوچئے ! وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں رشید احمد صاحب کی زبان سے جو کچھ نکلتا ہے وہ حق ہے بلکہ ان کے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ حق صرف رشید احمد ہی کی زبان سے نکلتا ہے دونوں کا فرق یوں محسوس کیجئے کہ پہلے جملے کو صرف خلافِ واقعہ کہا جا سکتا ہے لیکن دوسرا جملہ تو خلافِ واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اُس دور کے تمام پیشوایانِ اسلام کی حق گوئی کو ایک کھلا ہوا چیلنج بھی ہے یعنی مطلب یہ ہے کہ اُس زمانے میں مولوی رشید احمد صاحب کے علاوہ کسی کی زبان بھی کلمۂ حق سے آشنا نہیں ہوئی۔

افسوس کہ گنگوہی صاحب کے اس دعوے کو مشتہرکرتے ہوئے دیوبندی علماء نے قطعاًیہ محسوس نہیں کیا کہ اس میں دوسرے حق پرست علماء کی کتنی صریح توہین موجود ہے۔

اور اخیر کا یہ جملہ کہــ’’ اس زمانے میں ہدایت و نجات موقوف ہے میرے اتباع پر‘‘ پہلے والے سے بھی زیادہ خطرناک اور گمراہ کن ہے گویا حصولِ نجات کے لیے اب رسول عربی فداہ ابی واُمی کا اتباع ناکافی ہے۔

اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ کسی کے اتباع پر نجات موقوف ہو، یہ شان صرف رسول کی ہو سکتی ہے،نائب رسول ہونے کی حیثیت سے علماء کرام کا منصب صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اتباع رسول کی دعوت دیں، اپنے اتباع کی دعوت دینا قطعاً ان کا منصب نہیں ہے لیکن صاف عیاں ہے کہ گنگوہی صاحب اس منصب پر قناعت نہیں کرناچاہتے۔

پھر ایک طرف تو گنگوہی صاحب اپنے اتباع کی دعوت دے کر لوگوں سے اپنا حکم اور اپنی راہ ورسم منوانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ان کے مذہب کی بنیادی کتاب تقویۃ الایمان کا فرمان یہ ہے:

’’کسی کی راہ ورسم کا ماننا اور اُس کے کلمہ کو اپنی سند سمجھنایہ بھی ان ہی باتوں میں سے ہے کہ خاص اللہ تعالیٰ نے اپنی تعظیم کے واسطے ٹھہرائے ہیں پھر جو کوئی یہ معاملہ کسی مخلوق سے کرے تو اس پر بھی شرک ثابت ہوتا ہے۔‘‘
(تقویۃ الایمان)

اب اس الزام کا جواب ہمارے سر نہیں کہ جو معاملہ کسی مخلوق کے ساتھ شرک تھا وہی گنگوہی صاحب کے ساتھ کے اچانک کیونکر مدارِ نجات بن گیا؟کہیں نجات کا دروازہ بند اور کہیں اس کے بغیر نجات ہی نہ ہوآخر یہ معمہ کیا ہے؟

دوسری کہانی

تذکرۃ الرشید کے مصنف لکھتے ہیں کہ :

’’مولوی عبدالسبحان صاحب انسپکٹرپولیس ضلع گوالیارفرماتے ہیںکہ مولوی محمدقاسم صاحب کمشنر بندوبست ریاست گوالیار ایک بار پریشانی میں مبتلا ہوئے اور ریاست کی طرف سے تین لاکھ روپے کا مطالبہ ہوا ان کے بھائی یہ خبر پا کر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں گنج مراد آباد پہنچے حضرت مولانا نے وطن دریافت کیااُنھوںنے عرض کیادیوبند۔ مولانا نے تعجب کے ساتھ فرمایا گنگوہ حضرت مولانا کی خدمت میں قریب تر کیوں نہ گئے اتنا دراز سفر کیوں اختیار کیا؟اُنھوں نے عرض کیا کہ حضرت یہاں مجھے عقیدت لائی ہے مولانا نے ارشاد فرمایا تم گنگوہ ہی جاؤ تمہاری مشکل کشائی حضرت مولانا رشید احمد صاحب ہی کی دعا پر موقوف ہے اور تمام روئے زمین کے اولیا بھی اگر دعا کریں گے تو نفع نہ ہو گا۔‘‘

(تذکرۃ الرشید،ج ۲، ص ۲۱۵) بات اپنے شیخ کی فضیلت و برتری کی آ گئی ہے تو اب یہاں کوئی سوال نہیں اُٹھتا کہ مولانا فضل الرحمن صاحب کو پردہ غیب کا یہ راز کیونکر معلوم ہو گیا کہ مشکل کشائی صرف مولوی رشید احمد ہی کی دعا پر موقوف ہے اور کس علم کے ذریعے اُنھوں نے تمام روئے زمین کے اولیاء کی دعاؤں کا فرداً فرداً وہ انجام معلوم کر لیاجس کا تعلق صرف خدا کی ذات کے ساتھ ہے اور وہ بھی اتنا جھٹ پٹ کہ ادھر منہ سے بات نکلی اور اُدھر عرش سے فرش تک غیب و شہود کے سارے احوال منکشف ہو گئے۔

معاذ اللہ اپنے شیخ کی برتری ثابت کرنے کے لئے ایک طرف اپنے عقیدے کا خون کیا گیا اور دوسری طرف روئے زمین کے جملہ اولیاء اللہ کی عظمتوں کو بھی مجروح کر دیا گیا۔

تیسری کہا نی

تذکرۃ الرشید کا مصنف لکھتا ہے کہ :

’’جس زمانے میں مسئلہ امکان کذب پر آپ کے مخالفین نے شور مچایا اور تکفیر کا فتویٰ شائع کیا سائیں توکل شاہ انبالوی کی مجلس میںکسی مولوی نے حضرت امام ربانی قدس سرہ‘ گنگوہی صاحب کا ذکر کیا اور کہا کہ امکان کذب باری کے قائل ہیں۔یہ سن کر سائیں توکل شاہ نے گردن جھکا لی اور تھوڑی دیر مراقبہ رہ کر منہ اوپر اُٹھا کر اپنی پنجابی زبان میں یہ الفاظ فرمائے۔

لوگو! تم کیا کہتے ہو؟ میں مولوی رشید احمد کا قلم عرش کے پرے چلتا ہو ا دیکھ رہا ہوں۔‘‘

(تذکرہ،ج ۲ ص ۳۲۲)

کیا سمجھے؟کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مولوی رشید احمد صاحب کے قلم کی لمبائی عرش کی سرحد کو پار کر گئی تھی بلکہ اس جملے کی تشہیر سے یہ دعویٰ کرنا مقصود ہے کہ تقدیر الہٰی کے نوشتے آپ ہی کے رشحات قلم سے مرتب ہو رہے تھے اور قضاء وقدر کا محکمہ آپ ہی کے قلم کے تابع کر دیا گیا تھا۔

اور سائیں کی نگاہ کی دُ ور رَسی کا کیا کہنا کہ فرش پر بیٹھے بیٹھے اس نے عرش کے اس پار کا نظارہ کر لیا۔

اور اس قصے میں سب سے زیادہ دلچسپ تماشا تو یہ ہے کہ ’’دانشورانِ دیوبند‘‘ نے ایک دیوانے کی بات کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے قبول بھی کرلیا اور قبول ہی نہیں کیا بلکہ اسے اپنا عقیدہ بنا لیا جیسا کہ اسی کتاب کا مصنف اس واقعہ کا راوی بھی ہے کہ : ــ ’’مولوی ولایت حسین صاحب فرماتے ہیں کہ میرے ہمراہ سفرِ حج میں ایک حکیم صاحب ساکن انبالہ تھے جو اعلیٰ حضرت حاجی امداد اللہ کے مرید تھے اسی تعلق سے ان کو حضرت امام ربانی کے ساتھ تعارف بلکہ غایت عقیدت تھی وہ فرمانے لگے میرا تو عقیدہ ہے کہ مولانا کی زبان سے جو بات نکلتی ہے تقدیر الٰہی کے مطابق ہوتی ہے۔‘‘ (تذکرۃ الرشید، ج۲، ص ۲۱۹) ّ یہ خبر اگر صحیح ہے تو اس کی صحت کی دو ہی صورتیں ہیںیا تو گنگوہی صاحب جملہ مقدراتِ الٰہی پر مطلع تھے کہ زبان اس کے خلاف کھلتی ہی نہیں تھی یا پھر ان کے منھ میں زبان ہی نہیں تھی بلکہ ’’کن‘‘ کی کنجی تھی کہ جو بات منھ سے نکلی وہ کائنات کا مقدر بن گئی۔

ان دونوں باتوں میں سے جو بات بھی اختیار کی جائے دیوبندی مذہب پر دین و دیانت کا ایک خون ضروری ہے۔

چو تھی کہا نی

مخلص الرحمن نامی گنگوہی صاحب کے ایک مُرید تھے ان کے متعلق تذکرۃ الرشید کے مصنف کا یہ بیان پڑھئے لکھتے ہیں کہ :

ـ’’ایک روز خانقاہ میںلیٹے ہوئے اپنے شغل میں مشغول تھے کہ کچھ سُکر پیدا ہوا اور حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ کو دیکھا کہ سامنے تشریف لیے جا رہے ہیں، چلتے چلتے ان کو مخاطب بنا کر اس طرح امر فرمایا کہ دیکھو جو چاہو حضرت مولانا رشید احمد صاحب سے چاہنا‘‘۔

(تذکرۃ الرشید ، ج۲ ، ص۳۰۹)

شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کا گھرانا ہندوستان میں عقیدہ توحید کا سب سے بڑا محافظ سمجھا جاتا ہے لیکن سخت تعجب ہے کہ اُنھوں نے خدا کو چھوڑ کر مولوی رشید احمد سے سب کچھ چاہنے کی ہدایت فرمائی! شاہ صاحب کی طرف اتنا بڑا شرک منسوب کرتے ہوئے واقعہ کے راویوں کو کچھ تو شرم محسوس کرنی چاہیئے تھی ایک طرف تو’’اپنے مولانا کو‘‘ بااختیار اور صاحب تصرف ثابت کرنے کے لیے شاہ ولی اللہ صاحب کی زبانی یہ کہلوایا جاتا ہے اور دوسری طرف اپنی توحید پرستی کا ڈھونگ رچانے کے لیے عقیدہ ظاہر کیا جاتا ہے :

’’ہر کسی کو چاہیے اپنی حاجت کی چیزیں اپنے رب سے مانگے، یہاں تک کہ نون(نمک)بھی اسی سے مانگے اور جُوتی کا تسمہ جب ٹوٹ جائے وہ بھی اسی سے مانگے‘‘۔ (تقویۃ الایمان ،ص ۳۴)

اور اس واقعہ میں مُرید کا مشاہد غیب بھی کتنے زور کا ہے کہ سر کی آنکھوں سے وہ ایک وفات یافتہ بزرگ کو دیکھ لیتا ہے اور ان سے ہمکلامی کا شرف بھی حاصل کرتا ہے نہ اس کی نگاہ پر عالم برزخ کا کوئی حجاب حائل ہوتا ہے اور نہ شاہ صاحب کو اپنی لحد سے نکل کر اس کے روبرو جانے سے کوئی چیز مانع ہوتی ہے۔

دیکھ رہے ہیں آپ !توحید کے ان اِجارہ داروں نے کتنی طرح کی شریعتیں گڑھ رکھی ہیں۔انبیاء و اولیاء کے لیے کچھ اور اپنے گھر کے بزرگوں کے لئے کچھ! ! ہے کوئی انصاف کا خوگر! جو اس جورِ بے اماں کا انصاف کرے اور حق پرستوں کو ان کا وہ حق دلائے جو مذہبِ اسلام نے اُنھیں دیا ہے۔

پا نچو یں کہا نی

آگرہ کے کوئی منشی ا میر احمد تھے تذکرۃ الرشید کے مصنف نے ان کی زبانی ان کا ایک عجیب و غریب خواب نقل کیا ہے موصوف بیان کرتے ہیں کہ :

’’گنگوہ کا ایک شخص شیعہ مذہب مر گیا اور میں نے اسے خواب میں دیکھا فوراً اس کے ہاتھ کے دونوں انگوٹھے میں نے پکڑ لیے وہ گھبرا گیا اور پریشان ہو کر بولا جلدی پوچھو جو پوچھنا ہو مجھے تکلیف ہے میں نے کہا اچھا یہ بتاؤ کہ مرنے کے بعد تم پر کیا گزری اور اب کس حال میں ہو؟

اس نے جواب دیا کہ عذاب الیم میں گرفتار ہوںحالت بیماری میں مولانا رشید احمد صاحب دیکھنے تشریف لائے تھے جسم کے جتنے حصّے پر مولوی صاحب کا ہاتھ لگا ہے بس اتنا جسم تو عذاب سے بچاہے باقی جسم پر بڑا عذاب ہے اس کے بعد آنکھ کھل گئی‘‘۔ (تذکرۃ الرشید ،ج۲،ص ۳۲۴)

بات آگئی ہے تو اسی تذکرۃ الرشید کے مصنف نے اسی قسم کا ایک خواب مولوی اسماعیل نامی ’’ایک دیوبندی بزرگ‘‘ کے کسی خادم کے متعلق نقل کیا ہے لگے ہاتھوں ذرا اسے بھی پڑھ لیجئے، لکھتے ہیں کہ :

’’ایک خادم تھا مولوی اسماعیل صاحب کاجب اس کا انتقال ہو گیا تو کسی نے اس کو خواب میں دیکھا کہ سارے بدن میں آگ لگی ہوئی ہے مگر ہتھیلیاں سالم اور محفوظ ہیں اس نے پوچھا کیوں بھئی کیا حال ہے؟ اس نے کہا کیا کہوں اعمال کی سزا مل رہی ہے سارے بدن کو تکلیف ہے مگر یہ ہاتھ حضرت مولانا کے پاؤں کو لگے تھے اس لئے حکم ہوا کہ ان میں آگ لگاتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔‘‘

(تذکرۃ الرشید ،ج ۲،ص ۷۲)

دیکھ رہے ہیں آپ! دربارِ الٰہی میں ان حضرات کی وجاہت و مقبولیت کا عالم؟ عذابِ آخرت سے چھٹکارا دلانے کے لئے زبان ہلانے کی بھی ضرورت نہیں پیش آئی صرف ہاتھ لگا دینا کا فی ہو گیااور شیعہ جیسا باغی بھی ہاتھوں کی برکت سے محروم نہیں رہا۔

ایک یہ حضرات ہیں کہ عالم اسفل ہی نہیں عالم بالا میں بھی ان کی شوکت و سطوت کے ڈنکے بج رہے ہیں لیکن رسولِ خدامحبوبِ کبریا کے متعلق ان حضرات کے عقیدے کی زبان یہ ہے ؛

’’اللہ صاحب نے اپنے پیغمبر کوحکم دیا کہ لوگوں کو سُنا دیویں کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا کچھ مالک نہیں اور تم جو مجھ پر ایمان لائے اور میری اُمت میں داخل ہوئے سو اس پر مغرور ہو کر حد ہے مت بڑھنا کہ ہمارا پایہ مضبوط ہے اور ہمارا وکیل زبردست ہے اور ہمارا شفیع بڑا محبوب سو ہم جوچاہیں سو کریں وہ ہم کو اللہ کے عتاب سے بچا لے گا کیونکہ یہ بات محض غلط ہے اس واسطے کہ میں آپ ہی ڈرتا ہوں اور اللہ سے وارے کہیں بچاؤ نہیں جانتا، سو دوسرے کو کیا بچا سکوں؟‘‘ (تقویۃ الایمان ،ص ۴۸)

اس مقام پر میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ آپ ہی اپنے ایمان کو گواہ بنا کر فیصلہ کیجئے کہ قلم کے اس تیور سے رسول عربی کے وفاداروں کی دل آزاری ہوتی ہے یا نہیں؟

ضمنی طور پر درمیان میں یہ بات نکل آئی تھی اب پھر اپنے اصل موضوع کی طرف واپس لوٹتا ہوں۔ (۲) گنگوہی صاحب کی غیبی قوت ادراک کا ایک حیرت انگیز واقعہ

حاجی دوست محمد خاں کوئی کوتوال تھے تذکرۃ الرشید کے مصنف ان کے لڑکے کے متعلق یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ

’’حاجی دوست محمد خاں کے صاحبزادے عبدالوہاب خاں ایک شخص کے معتقد ہو گئے اور بیعت کا قصد کیا وہ جس شخص سے بیعت ہونا چاہتے تھے محض صورت کے درویش تھے اور واقع میں پکے دنیا دار اس لئے دوست محمد خاں کو صاحبزادے کی یہ کجی پسند نہ آئی اور کئی بار منع کیا کہ اس شخص سے مُرید نہ ہو‘‘۔

(تذکرۃالرشید،ج ۲، ص ۲۱۵)

ہزار روکنے کے باوجود عبد الوہاب خاںاپنے ارادہ سے باز نہ آیا آخر ایک دن مرید ہونے کی نیت سے چل کھڑا ہوا اس کے بعد کا واقعہ سننے کے قابل ہے لکھا ہے کہ :

’’آخر حاجی صاحب نے جب اپنے بیٹے کا اصرار دیکھا تو باتقضائے محبت دستِ بدعا ہوئے اور مراقب ہو کر حضرت(گنگوہی) کی جانب متوجہ ہو کر خلوت میں جا بیٹھے‘‘۔

(تذکرۃ الرشید، ج ۲ ،ص ۲۱۵)

ادھر باپ اپنے پیر کو حاضر و ناظر تصور کرکے مصروفِ مناجات تھا اور ادھر بیٹے کا قصہ سنئے لکھتے ہیں کہ :

’’عبد الوہاب اپنے پیر کے پاس آئے اور مودب دو زانو بیٹھ گئے بے اختیار پیر کی زبان سے نکلا اوّل باپ سے اجازت لے آؤ اور اس کے بغیر بیعت مفید نہیںغرض ہاتھ بیعت کے لئے تھام کر چھوڑ دئیے اور انکار فرما دیا‘‘۔ (تذکرۃ الرشید،ج۲، ص ۲۱۶) اَب اس کے بعد سوانح نگار کا یہ تہلکہ خیز بیان چشمِ حیرت سے پڑھنے کے قابل ہے لکھتے ہیں کہ :

’’حاجی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جس وقت میں امام ربانی کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ حضرت غایت شفقت کے ساتھ عبد الوہاب کا ہاتھ پکڑ کر میرے ہاتھ میں پکڑاتے اور یوں فرماتے ہیںــ’’لو اب یہ اس کا مُرید نہ ہو گا‘‘یہ وہی وقت تھا کہ اُنھوں نے عبدالوہاب کا ہاتھ چھوڑا اور یہ کہہ کہ بیعت سے انکار کردیا کہ باپ کی اجازت لے آئو‘‘۔ (تذکرۃ الرشید، ج۲،۲۱۶)

لا الہ الااﷲ ! دیکھ رہے ہیں آپ ! اپنے شیخ کے حق میں جذبۂ عقیدت کی فراوانی کا یہ تماشا !

اِدھر حاجی صاحب نے تصور کیا اور اُدھر گنگوہی صاحب کو ساری خبر ہوگئی اور صرف خبر ہی نہیں ہوئی بلکہ وہیں بیٹھے بیٹھے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر باپ کے ہاتھ میں دے بھی دیا اور دوسری طرف پیر کے دل پر بھی تصرف کیا کہ اُنہوں نے بغیر کسی سبب ظاہری کے دفعتاًمرید کرنے سے انکار کردیا اور حاجی صاحب کی غیبی قوت ادراک کا کیا کہنا کہ اپنے خلوت کدے ہی سے اُنہوں نے دیکھ لیا کہ گنگوہی صاحب بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر باپ کے ہاتھ میں دے رہے ہیں اور ان کی آواز بھی سن لی کہ’’ لواَب یہ اُس کا مرید نہ ہوگا‘‘ نہ آنکھوں پر درمیان کے حجابات حائل ہوئے اور نہ بعد مسافت کانوں تک آواز پہنچنے سے مانع ہوئی۔

یہ تو رہا دیوبندی حضرات کا اپنے گھر کے بزرگوں کے بارے میں عقیدہ اَب انبیاء کے حق میں ان کا کیا عقیدہ ہے لگے ہاتھوں ذرا اسے بھی پڑھ لیجئے :

’’ (جوکوئی کسی) کی صورت کا خیال باندھے اور یوں سمجھے کہ جب میں اس کا نام لیتا ہوں زبان سے یا دل سے یا اس کی صورت یا اس کی قبر کا خیال باندھتا ہوں تو وہیں اس کو خبر ہوجاتی ہے … سو ان باتوں سے مشرک ہوجاتا ہے اور اس قسم کی باتیں سب شرک ہیں خواہ یہ عقیدہ انبیاء واولیاء سے رکھے خواہ پیروشہید سے خواہ امام وامام زادہ سے خواہ بھوت وپری سے خواہ یوں سمجھے کہ یہ بات ان کو اپنی ذات سے ہے خواہ اﷲ کے دینے سے غرض اس عقیدے سے ہر طرح شرک ثابت ہوتا ہے‘‘۔

(تقویۃ الایمان، ص۸)

اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ دلچسپ چیز تو خود مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی کا یہ فتویٰ ہے جو فتاویٰ رشیدیہ میں شائع کیا گیا ہے کہ :

’’ کسی نے یہ سوال دریافت کیا کہ تصور کرنا اولیاء اﷲ کا مراقبہ میں کیسا ہے ؟ اور یہ جاننا کہ ان کا تصور باندھتے ہیں تو وہ ہمارے پاس موجود ہوجاتے ہیں اور ہم کو معلوم ہوجاتے ہیں، ایسا اعتقاد کرنا کیسا ہے ؟

الجواب : ایسا تصور درست نہیں اندیشہ شرک کا ہے‘‘۔ (فتاویٰ رشیدیہ، ج۱، ۸)

وہ واقعہ تھا یہ عقیدہ ہے اور دونوں کے درمیان جو کھلا ہوا تضاد ہے وہ محتاج بیان نہیں۔

اَب اس کا شکوہ کس سے کیا جائے کہ صحیح وغلط اور درست ونا درست کوناپنے کے لئے دیوبندی حضرات کے یہاں الگ الگ پیمانے کیوں ہیں ؟

ہے کوئی حق کا حامی ؟ جو حق کے ساتھ انصاف کرے ۔ (۳)

اس بات کا علم کہ کون کب مرے گا

مولوی عاشق الٰہی میرٹھی نے تذکرۃ الرشید میں کئی ایسے واقعات نقل کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ گنگوہی صاحب کو اپنی اور دوسروں کی موت کا بھی علم تھا کہ کون کب مرے گا۔ ذیل میں چند واقعات ملاحظہ فرمائیے :

پہلا واقعہ

لکھا ہے کہ ایک بار نواب چھتاری سخت بیمار ہوئے یہاں تک کہ سب لوگ ان کی زیست سے نا اُمید ہوگئے ہر طرف سے مایوس ہوجانے کے بعد ایک شخص کو گنگوہی صاحب کی خدمت میں بھیجا گیا کہ وہ نواب صاحب کے لئے دعا کریں، قاصد نے وہاں پہنچ کر ان سے دعا کی درخواست کی اس کے بعد کا واقعہ خود سوانح نگار کی زبانی سنئے، لکھتے ہیں کہ

’’ آپ نے حاضرین جلسہ سے فرمایا ’’بھائی دعا کرو‘‘ چونکہ حضرت نے خود دعا کا وعدہ نہیں فرمایا اس لئے فکر ہوئی اور عرض کیا گیا کہ حضرت آپ دعا فرمادیں اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا امر مقدر کردیا گیا ہے اور ان کی زندگی کے چند روز باقی ہیں حضرت کے ارشاد پر اب کسی عرض ومعروض کی گنجائش نہ رہی اور نواب صاحب کی حیات سے سب نا اُمید ہوگئے‘‘۔ (تذکرۃ الرشید، ج۲، ص۲۰۹)

مگر قاصد کو گنگوہی صاحب کے’’ کُن‘‘ پر کتنا اعتماد تھا، اس کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’تاہم قاصد نے عرض کیا کہ حضرت یوں دعا فرمائیے کہ نواب صاحب کو ہوش آجائے اور وصیت و انتظام ریاست کے متعلق جو کچھ کہنا سننا ہو کہہ سن لیں۔ آپ نے فرمایا ’’خیر اس کا مضائقہ نہیں‘‘ اس کے بعد دعا فرمائی اور یوں ارشاد فرمایا’’انشا ء اﷲ افاقہ ہو جائے گا‘‘۔ ( تذکرۃ الرشید،ج۲،ص۲۰۹)

اس کے بعد سوانح نگار لکھتا ہے :

’’ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نواب صاحب کو دفعتاً ہوش آگیا اور ایسا افاقہ ہوا کہ عافیت وصحت کی خوش خبری دُور دُور پہنچ گئی کسی کو بھی خیال نہ رہا کہ کیا ہونے والا ہے؟ اچانک حالت پھر بگڑی اور مخیر ودریا دل، نیک نفس سخی رئیس نے انتقال بہ عالم آخرت کیا‘‘ ۔

(تذکرۃ الرشید،ج۲،ص۲۰۹)

دیکھ رہے ہیں آپ ! امر الٰہی میں تصرف واختیار کا عالم ! جیسے مقدر کے سارے نوشتے پیش نظر ہیں یہاں تک معلوم ہے کہ کیا ہوسکتا ہے اور کیا نہیں ہوسکتا کس امر میں مضائقہ ہے کس میں نہیں گویا قضاء وقدر کا محکمہ بالکل اپنے گھر کا کاروبار ہوگیا ہو۔

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف دیوبندی علماء کی نظر میں اپنے گھر کے بزرگوں کا مقام یہ ہے اور دوسری طرف محبوب کبریا ﷺ کے حق میںان کے عقیدے کی زبان یہ ہے :

’’ سارا کاروبار جہاں کا اﷲ ہی کے چاہنے سے ہونا ہے، رسول کے چاہنے سے کچھ نہیںہوتا‘‘ ۔

(تقویۃ الایمان، ص۲۲ )

اَب آپ ہی انصاف کیجئے کہ ایک اُمتی کے لئے یہ ڈوب مرجانے کی جا ہے یا نہیں؟

دوسرا واقعہ

مولوی صادق الیقین نام کے کوئی صاحب مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے دوستوں میں تھے، ان کے متعلق تذکرۃ الرشید کے مصنف عاشق الٰہی میرٹھی یہ واقعہ نقل کرتے ہیں :

’’ حضرت مولانا صادق الیقین صاحب رحمۃ اﷲ علیہ ایک بار سخت علیل ہوئے واقفین احباب بھی یہ خبر سن کر پریشان ہوگئے اور حضرت سے عرض کیا دعا فرمادیں حضرت خاموش رہے اور بات کو ٹال دیا جب دوبارہ عرض کیا گیا تو آپ نے تسلی دی اور یوں فرمایا میاں وہ ابھی نہیں مریں گے اور اگر مریں گے بھی تو میرے بعد۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس مرض سے صحت حاصل ہوگئی اور حضرت کے وصال کے بعد اسی سال ماہ شوال حج بیت اﷲ کے لئے روانہ ہوئے، مکہ معظمہ میں بیمار ہوئے، مرض ہی میں عرفات کا سفر کیا ، یہاں تک کہ شروع محرم میں واصل بحق ہوکر جنت المعلی میں مدفون ہوئے‘‘۔ (تذکرۃ الرشید،ج۲،ص۲۰۹)

ملاحظہ فرمائیے ! صرف اتنا ہی نہیں معلوم تھا کہ وہ ابھی نہیں مریں گے بلکہ یہ بھی معلوم تھا کہ وہ کب مریں گے، ’’وہ میرے بعد مریں گے‘‘ اس ایک جملے نے دونوں کا حال ظاہر کردیا، اپنا بھی اور ان کا بھی ، اسے کہتے ہیں غیب دانی، نہ جبریل کا انتظار نہ خدا کے بتانے کی احتیاج !!

تیسرا واقعہ

مولوی نظر محمد خاں نامی کوئی شخص تھے جو گنگوہی صاحب کے دربار کے حاضرباش تھے، ان کے متعلق تذکرۃ الرشید کے مصنف کا یہ بیان پڑھئے، لکھتے ہیں :

’’ مولوی نظر محمد خاں نے ایک مرتبہ پریشان ہوکر عرض کیا کہ حضرت فلاں شخص جو والد صاحب سے عداوت رکھتا تھا ان کے انتقال کے بعد اب مجھ سے ناحق عداوت رکھتا ہے، بے ساختہ آپ کی زبان سے نکلا،’’وہ کب تک رہے گا‘‘، چند روز گزرے تھے کہ دفعتاً وہ شخص انتقال کرگیا‘‘۔

(تذکرۃ الرشید،ج۲،ص۲۱۴)

یا تو یہ کہا جائے کہ گنگوہی کو اس کی زندگی کے بچے کھچے دن معلوم ہوگئے تھے اور انہوں نے سوالیہ لہجے میں اسے ظاہر کردیایا پھر یہ کہا جائے کہ گنگوہی صاحب کے منہ سے نکلتے ہی اس غریب کی موت واجب ہوگئی اور چاروناچار اسے مرنا پڑادونوں شقوں میں سے جو بھی اختیار کی جائے دیوبندی مذہب پر شرک چھٹکارا ممکن نہیں ہے۔

چو تھا واقعہ

اَب تک دوسروں کی موت کے علم سے متعلق واقعات بیان ہوئے اب خود مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کا اپنا واقعہ سنئے، ان کا سوانح نگار ان کی موت کی اصل تاریخ یوں نقل کرتا ہے:

’’ بہ اختلاف روایت ۸؍ یا ۹؍ جمادی الثانیہ مطابق ۱۱؍ اگست ۱۹۰۵ء کو بہ یوم جمعہ بعد اذاں ساڑھے بارہ بجے آپ نے دنیا کو الوداع کہا‘‘۔ (تذکرہ،ص۱۳۳)

اس کے بعد یہ بیان پڑھئے :

’’ حضرت امام ربانی قدس سرہٗ کو چھ روز پہلے جمعہ کا انتظار تھا بہ یوم شنبہ دریافت فرمایا کہ آج کیا جمعہ کا دن ہے؟ خدام نے عرض کیا کہ حضرت آج تو شنبہ ہے، اس کے بعد درمیان میں بھی کئی بار جمعہ کو دریافت کیا، حتیٰ کہ جمعہ کے دن جس روز وصال ہوا صبح کے وقت دریافت کیا کہ کیا دن ہے ؟ اور جب معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن ہے تو فرمایا انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘۔ (تذکرہ، ج۲،ص۳۳۱)

اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ چھ دن قبل ہی آپ کو اپنی موت کا علم ہوگیا تھا اور یہ علم اتنا یقینی طور پر تھا کہ جب جمعہ کا دن آیا تو آپ نے کلمہ ترجیع پڑھ لیا۔

ملاحظہ فرمائیے ! ایک طرف تو گھر کے بزرگوں کے لئے انتہائی فراخدلی کے ساتھ یہ جذبۂ اعتراف ہے اور دوسری طرف اسی موت کے علم سے متعلق انبیاء واولیاء کے حق میں عقیدے کی زبان یہ ہے :

’’ اسی طرح جب کوئی اپنا حال نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا تو اور کسی کا کیوں کر جان سکے اور جب اپنے مرنے کی جگہ نہیں جانتا تو اور کسی کا کیونکر جان سکے اور جب اپنے مرنے کی جگہ نہیں جانتا تو اور کسی کے مرنے کی جگہ یا وقت کیوں کر جان سکے‘‘۔

(تقویۃ الایمان،ص۲۳)

اَب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ مذکورہ بالا واقعات سے کیا یہ حقیقت بالکل بے نقاب نہیں ہوجاتی کہ شرک وانکار کی یہ ساری تعزیرات جو دیوبندی لٹریچر میں پھیلی ہوئی ہیں صرف انبیاء واولیاء کے حق میں ہیں ، گھر کے بزرگوں پر قطعاً ان کا کوئی اطلاق نہیں ہوتا۔ (۴)

غیبی قوت ادراک کا ا یک عجیب وغریب قصہ

اَب تذکرۃ الرشید کے مصنف کی زبانی عام امور غیبیہ کے مشاہدۂ خبر سے متعلق گنگوہی صاحب کا ایک حیرت انگیز قصہ سنئے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے عقیدت مندوں میں میر واجد علی قنوجی کوئی شخص گزرے ہیں ان ہی سے یہ روایت نقل کی گئی ہے لکھا ہے کہ :

’’ میر واجد علی قنوجی فرماتے ہیں کہ میرے مرشد حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے مجھ سے بیان فرمایا کہ میں ایک مرتبہ گنگوہ گیا، خانقاہ میں ایک کورا بندھنا رکھا ہوا تھا ، میں نے اس کو اُٹھا کر کنویں میں سے پانی کھینچا اور اس میں بھر کر پیا تو پانی کڑوا تھا، ظہر کی نماز کے وقت حضرت سے ملا اور یہ قصہ بھی عرض کیا، آپ نے فرمایا کنویں کا پانی تو میٹھا ہے کڑوا نہیں ہے، میں نے وہ کورا بدھنا پیش کیا جس میں پانی بھرا تھا، حضرت نے بھی پانی چکھا تو بدستور تلخ تھا، آپ نے فرمایا اچھا اس کو رکھ دو، یہ فرما کر ظہر کی نماز میں مشغول ہوگئے، سلام پھیرنے کے بعد حضرت نے نمازیوں سے فرمایا کہ کلمہ طیب جس قدر جس سے پڑھا جائے پڑھو اور از خود بھی حضرت نے پڑھنا شروع کیا، تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور نہایت خضوع وخشوع کے ساتھ دعا مانگ کر ہاتھ منہ پر پھیر لئے ، اس کے بدھنا اُٹھا کر پانی پیا تو تو شیریں تھا، اس وقت مسجد میں جتنے نمازی تھے سب نے چکھا کسی قسم کی تلخی اور کڑواہٹ نہ تھی، تب حضرت نے فرمایا کہ اس بدھنے کی مٹی اس قبر کی ہے جس پر عذاب ہورہا تھا، الحمد ﷲ کلمہ کی برکت سے عذاب رفع ہوگیا‘‘۔

(تذکرۃ الرشید،ج۲،ص۲۱۲)

یہ واقعہ بھی عالم برزخ کے حالات غیب سے ہی تعلق رکھتا ہے، اپنی غیب دانی کا یقین دلانے کے لئے اتنا ہی بتا دینا کیا کم تھا لیکن آپ نے تو یہاں تک بتا دیا کہ اس بدھنے کی مٹی اس قبر کی ہے جس پر عذاب ہورہا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم کرلیاکہ اب عذاب رفع بھی ہوگیا اسے کہتے ہیں مطلق العنان غیب دانی کہ جدھر نگاہ اُٹھی مستور حقیقتوں کے چہرے خود بخود بے نقاب ہوتے چلے گئے اپنی غیب دانی کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے لیکن سید الانبیاء ﷺ کے حق میں یہی گنگوہی صاحب تحریر فرماتے ہیںخون ناب آنکھوں سے یہ عبارت پڑھئے :

’’ یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ(حضور ﷺ) کو علم غیب تھا صریح شرک ہے‘‘۔ (فتاویٰ رشیدیہ، ج۲،ص ۱۴۱) (۵) عقیدۂ توحید سے انحراف کا ا یک عبرت انگیز واقعہ

ضلع جالندھر میں منشی رحمت علی نام کے کوئی صاحب کسی سرکاری اسکول میں ملازم تھے، تذکرۃ الرشید کے مصنف نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ ابتداء میں یہ صاحب غالی درجے کے بدعتی تھے اُنہیں حضرت پیران پیر سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ سے غایت درجہ عقیدت تھی ۔حافظ محمد صالح نام کے ایک دیوبندی مولوی کی خدمت میں رہ کر کچھ دنوں تک اُنہیں استفادہ کا موقع ملا جس سے بہت حد تک ان کے عقائد وخیالات میں تبدیلی واقع ہوگئی اَب اس کے بعد کا واقعہ خود مصنف کی زبانی سنئے، لکھتے ہیں :

’’ حافظ محمد صالح دام مجدہٗ کی شاگردی کے زمانے میں اکثر حضرت مولانا گنگوہی قدس سرہٗ کے محامد و مناقب ان کے کان میں پڑتے مگر یہ متاثر نہ ہوتے اور یوں خیال کئے ہوئے تھے کہ جب تک پیران پیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خواب میں تشریف لاکر خود ارشاد نہ فرمادینگے کہ فلاں شخص سے بیعت ہو اس وقت تک بہ طور خود کسی سے بیعت نہ کرونگا اسی حالت میں ایک مدت گزر گئی کہ یہ اپنے خیال پر جمے رہے ۔

آخر ایک شب حضرت پیر ان پیر قدس سرہٗ کی زیارت سے مشرف ہوئے حضرت شیخ نے یوں ارشاد فرمایا کہ اس زمانے میں مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کو حق تعالیٰ نے وہ علم دیا ہے کہ جب کوئی حاضر ہونے والاالسلام و علیکم کہتا ہے تو آپ اس کے اردہ سے واقف ہو جاتے ہیں اور جو ذکر وشغل اس کے لئے مناسب ہوتا ہے وہی بتلاتے ہیں‘‘۔ (تذکرۃ الرشید،ج۱ ، ص۳۱۲)

دیکھ لیا آپ نے صرف اپنے شیخ کی غیب دانی کا سکہ چلانے کے لئے حضرت سید الاولیاء سرکار غوث الوریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی ایسے عقیدہ کی تشہیر کی جا رہی ہے جو دیوبند مذہب میں قطعی شرک ہے۔

اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ بیان کا لب و لہجہ تردیدی بھی نہیں ہے کہ الزام اپنے سے ٹال سکیں۔

اب ایک طرف یہ واقعہ ذہن میں رکھیئے دوسری طرف تقویۃ الایمان کی یہ عبارت پڑھئے توحید پرستی کا سارا بھرم کھل جائے گا:

’’(جو کوئی کسی کے متعلق یہ تصور کرے ) کہ جو بات میرے منہ سے نکلتی ہے وہ سب سن لیتا ہے اور جو خیال و وہم میرے دل میں گزرتا ہے وہ سب سے واقف ہے سو ان باتوں سے مشرک ہوجاتا ہے اوراس قسم کی سب باتیں شرک ہیں‘‘۔ (تقویۃ الایمان ،ص۸)

دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ گنگوہی صاحب کہ اندر غیبی قوتِ ادراک ثابت کرنے کے لئے ان حضرات کو شرک کے کتنے مراحل سے گزرنا پڑا دوسرا شرک یہ ہے کہ ان کے اندر یہ قوتِ تصرف بھی مان لی گئی کہ وفات کے بعد بھی جس کی مدد فرمانا چاہیں فرماسکتے ہیں، تیسرا شرک یہ ہے کہ سلام کے بعد اگر گنگوہی صاحب کے دل کی کیفیت ان کے پیشِ نظر نہیں تھی تو انہیں کس طرح معلوم ہوا کہ مولوی رشید احمد صاحب کو حق تعالیٰ نے ایسا علم بخشا ہے کہ آپ سلام کرنے والے کے ارادے سے واقف ہو جاتے ہیں لیکن سارا شرک صرف اسلئے گوارا کر لیا گیا کہ اپنے مولانا کی عظمت و بزرگی کے لئے اس واقعہ کو دستاویز بنانا مقصود تھا ورنہ جہاں ماننے کا تعلق ہے یہ حضرات سرکار غوث الوریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے حق میں اس طرح کی غیبی قوت ادراک کے ہر گز قائل نہیں ہیں بلکہ اس کے اثبات کو شرک قرار دیتے ہیں جیساکہ یہی گنگوہی صاحب ندائے یا شیخ عبدَالقادر جیلانی شیئاًللہ (یعنی اے شیخ عبدالقادر جیلانی خدا کے لیے کچھ عطا کیجئے) کے متعلق تحریر فرماتے ہیں :

’’اس کلام کا پڑھنا کسی وجہ سے جائز نہیں اگر شیخ قدس سرہ‘کو عالمِ الغیب و متصرف مستقل جان کر کہتا ہے تو خود شرکِ محض ہے اور جو یہ عقیدہ نہیں تو ناجائز ہے کیوں کہ اس صورت میں یہ ندا شرک نہ ہوا لیکن مشابہ شرک ہے۔‘‘ (فتاویٰ رشیدیہ ، ج۱ ، ص۵)

ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ یہاں سرکار غوثِ اعظم کے روحانی تصرف اور غیبی قوت ادراک کے سوال پر کتنے احتمالات پیدا کردیئے گئے اور کیسی بال کی کھال نکالی گئی لیکن اپنی عظمت بزرگی کی بات آگئی تو اب انہی سرکار غوث الوریٰ کے علم و اختیار پر کوئی شبہ وارد نہیں کیا گیا۔ (۶)

گنگوہی صاحب کے ایک مرید پر مغیبات کا انکشاف

تذکرۃ الرشید کے مصنف گنگوہی صاحب کے ایک مرید کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

’’ایک شخص بذریعہ خط آپ سے بیعت ہوئے اور تحریری تعلیم پر ذکر میں مشغول ہوگئے چند روز میں ان پر یہ کیفیت طاری ہوئی کہ اولیاء سلاسل کی ارواح طیبات سے لقاحاصل ہوا اور پھر یکے بعد دیگرے انبیاء علیہم السّلام کی پاک روحوں سے ملاقات ہوئی رفتہ رفتہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ سرسے لے کر قدم تک رگ رگ بال بال میں ارواحِ طیبات سے وابستگی ہے اسی حالت میں ایک مدہوشی اور سکر کا عالم پیدا ہوتا جس میں مغیبات کا انکشاف اور مجلسِ سرورِ عالم ﷺ کی دربانی کا اعزاز حاصل ہوتا‘‘۔

(تذکرۃ الرشید، ج۲ ، ص۲۲۱)

اب فکر و دانش کے اس افلاس کا شکوہ کس سے کیا جائے کہ ’’دربان‘‘ کا تو یہ حال ظاہر کیا جاتا ہے کہ غیب کا کوئی پردہ اس کی نگاہ میں حائل نہیں ہے بالکل پڑوس میں رہنے والے دوستوں کی طرح انبیاء و اولیاء کی روحوں سے ملاقات کا سلسلہ جاری ہے برزخ و اسرار پیکرمحسوس پیشِ نظر ہیں لیکن ’’آقا‘‘ کے بارے میں عقیدے کی زبان اور ہے ذرا اسے بھی ملاحظہ فرمائیے :

’’کسی انبیاء و اولیاء یا امام و شہید کی جناب میں ہرگز یہ عقیدہ نہ رکھے کہ وہ غیب کی بات جانتے ہیں بلکہ حضرت پیغمبر کی جناب میں بھی یہ عقیدہ نہ رکھے اور نہ ان کی تعریف میں ایسی بات کہے۔‘‘

(تقویۃ الایمان ، ص۲۶) (۷)

حاجی دوست محمد خان دہلوی مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے ایک نہایت مخلص خادم تھے ایک بار ان کی اہلیہ کی طبیعت سخت خراب ہو گئی اب اس کے بعد کا واقعہ تذکرۃ الرشید کے مصنف کی زبانی سنئے علالت کی سنگینی کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

’’ہاتھ پائوں کی نبضیں چھوٹ گئیں ، غشی طاری ہوگئی اور تمام جسم ٹھنڈا ہوگیا،حاجی صاحب کو اہلیہ کے ساتھ محبت زیادہ تھی ، بے قرار ہو گئے ، پاس آکر دیکھا توحالت غیر تھی،صرف سینہ میں سانس چلتا ہوا محسوس ہوتا تھا،زندگی سے مایوس ہو گئے ، رونے لگے اور سرہانے بیٹھ کر یٰسین شریف پڑھنی شروع کردی ، چند لمحے گزرے تھے کہ دفعتاًمریضہ نے آنکھیں کھول دیں اور ایک لمبا سانس لے کر آنکھ بند کرلی سب نے سمجھ لیا اب وقتِ اخیر ہے، حاجی دوست محمد خان اس حسرت ناک نظارے کو دیکھ نہ سکے ، بے اختیار وہاں سے اُٹھے اور مراقبہ ہو کر حضرت امام ربانی کی طرف متوجہ ہوئے کہ وقت آگیا ہو تو خاتمہ بالخیر ہو اور زندگی باقی ہے تو یہ تکلیف جو متواتر تین دن سے ہو رہی ہے رفع ہو جائے مراقبہ کرنا تھا کہ مریضہ نے آنکھیں کھول دیں اور باتیں کرنی شروع کردیں ، نبضیں ٹھکانے آلگیں اور افاقہ ہو گیا، دو تین دن میں قوت بھی آگئی اور بالکل تندرست بھی ہو گئیں‘‘۔ (تذکرۃ الرشید ، ج۲ ، ص۲۲۱)

اس واقعہ کے بعد سوانح نگار کا یہ زلزلہ خیز بیان پڑھئے اور دریا ئے حیرت میں غوطہ لگائیے لکھتے ہیں کہ :

’’حاجی صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ جس وقت مراقب ہوا حضرت کو اپنے سامنے پایا اور پھر تو یہ حال ہوا کہ جس طرف نگاہ کرتا ہوں حضرت اما م ربّانی کو بہ ہئیت اصلیہ موجود دیکھتا ہوں تین شبانہ روز یہی حالت رہی۔‘‘ (تذکرۃ الرشید ، ج۲ ، ص۲۲۱)

نگاہ پر بار نہ ہو تو اسی کے ساتھ گنگوہی صاحب کایہ فتویٰ بھی پڑھ لیجئے :

’’کسی نے سوال کیا کہ تصور کرنا اولیاء اللہ کا مراقبہ میں کیسا ہے؟اور یہ جاننا کہ جب ہم ان کا تصور باندھتے ہیں تو وہ ہمارے پاس موجود ہوجاتے ہیں اور ہم کو معلوم ہو جاتے ہیں ایسا اعتقاد کرنا کیسا ہے ؟

الجواب: ایسا تصوّر درست نہیں، اس میں اندیشہ شرک کا ہے‘‘۔ (فتاویٰ رشیدیہ ، ج۱ ، ص۸)

اس مقام پر اس سے زیادہ اور ہمیں کچھ نہیں کہنا ہے کہ اولیا ء اللہ کے بارے میں یہ عقیدہ ہے اور اپنے شیخ کے بارے میں وہ واقعہ!

ایک ہی بات ایک جگہ شرک ہے اور دوسری جگہ قابلِ تحسین واقعہ ! زاویہ نگاہ کے اس فرق کی معقول وجہ کیا ہو سکتی ہے اگر انصاف کا جذبہ شریکِ حال ہو تو خود فیصلہ کرلیجئے۔

پھر دیوبندی عقیدے کی بنیاد پر یہ سوال بھی اپنی جگہ پر ہے کہ آخر ایک ہی شخص کو ہرطرف بہ ہئیت اصلیہ دیکھنا کیونکر ممکن ہے؟لیکن توحید کے اجارہ داروں کو مبارک ہو کہ یہ ناممکن بھی انہوں نے اپنے مولانا کے لئے ممکن ہی نہیں بلکہ امرِ واقعہ بنا لیا۔

اب لگے ہاتھوں اس کے ساتھ انہی گنگوہی صاحب کا واقعہ اور سُن لیجئے یہی تذکرۃ الرشید کے مصنف مولوی عاشق الٰہی میرٹھی قصبہ نگینہ کے مولوی محمود حسن نامی کسی شخص سے روایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

’’مولوی محمودحسن صاحب نگینوی فرماتے ہیں کہ میری خوش دامن صاحبہ جو اپنے والد کے ہمراہ مکہ معظمہ میں بارہ سال تک مقیم رہیں نہایت پارسَا اور عابدہ و زاہدہ تھیں سینکڑوں احادیث بھی انکو حفظ تھیں۔

انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹا!حضرت (گنگوہی) کے بہت شاگرد مُرید ہیں مگر کسی نے حضرت کو نہیں پہچانا، جن ایّام میں میرا قیام مکہ معظمہ میں تھا روزانہ میں نے صبح کی نماز حضرت کوحرم شریف میں پڑھتے دیکھا اور لوگوں سے سنا بھی کہ یہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ہیں،گنگوہ سے تشریف لایا کرتے ہیں‘‘۔

(تذکرۃ الرشید، ج۲ ، ص۲۱۲)

’’روزانہ‘‘ کا لفظ بتا رہا ہے کہ کسی دن بھی وہ صبح کی نماز حرم شریف میں ناغہ نہیںکرتے تھے اور ان کی مدت ِ قیام کے دوران یہ سلسلہ بارہ سال تک جاری رہا۔

اختلاف مطالعہ کی بنیاد پر اگر ہندوستان اور مکہ کے وقت میں چند گھنٹوں کا فرق بھی مان لیا جائے جب بھی ۲۴ گھنٹوں میں سے کسی نہ کسی وقت معین پر حرم شریف میں پہنچنے کے لئے ان کا گھر سے غائب ہونا از بس ضروری تھا لیکن مشکل یہ ہے کہ ان ہی مولوی عاشق الٰہی نے اپنی اسی کتاب میں ان کے معمولات شبانہ روز کا گوشوارہ پیش کیا ہے اس میں انہیں چوبیس گھنٹے گنگوہ میں موجود دکھلایا ہے پھر بارہ سال تک روزانہ ایک وقتِ مقررہ پر اپنے گھر سے غائب ہوجانااور پھر واپس لوٹ آنا ایسی چیز نہیں تھی جو لوگوں سے چھپی رہ جاتی اور اس کی شہرت نہ ہوتی۔ ٓٓ اس لئے لا محالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ایک ہی وقت میں مکے میں بھی موجود ہوتے تھے اور گنگوہ میں بھی حاضر رہتے تھے اب حاجی دوست محمد خاں کا مشاہدہ جو ابھی گزرا اور دیوبندکی پارسا خاتون کی یہ روایت دونوں نظر میں رکھئے تو واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی ایک ہی وقت میں متعدد جگہ موجود ہیں لیکن یہ سُن کر آپ ششدر رہ جائیں گے کہ جس وصف کمال کو دیوبندی حضرات اپنے پیرمغاں کے لئے واقع مان رہے ہیں اسے رسول ِانور ﷺ کے لئے ممکن بھی تسلیم نہیں کرتے۔

چنانچہ محافلِ میلاد میں حضور ِ انور ﷺ کی تشریف آوری کے امکاں پر بحث کرتے ہوئے دیوبندی مذہب کے پیشوا مولوی اشرفعلی تھانوی لکھتے ہیں :

’’اگر ایک وقت میں کئی جگہ محفل میلاد ہو تو آیا سب جگہ تشریف لے جاویں گے یا کہیں؟یہ تو ترجیح بلا مرجّح ہے کہ کہیں جاویں کہیں نہ جاویں اور اگر سب جگہ جاویں تو وجود آپ کا واحد ہزار جگہ کیسے جا سکتے ہیں۔‘‘؟

(فتاویٰ امدادیہ ،ج۴ ،ص ۵۸)

ذہن کی قوتِ فیصلہ اگر کسی غیر کی مٹھی میں رہن نہیں ہے تو اپنے رسول کے جذبۂ عقیدت کے ساتھ انصاف کیجئے اور اسی آئینے میں ان سارے اختلافات کو نوعیت بھی پڑھ لیجئے جو اہل سنّت اور دیوبندی حضرات کے درمیان نصف صدی سے جاری ہے۔ (۸)

گزشتہ واقعات کا علم

مولوی عاشق الٰہی میرٹھی نے اس کتاب میں ایسے متعدد واقعات نقل کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مولوی رشید احمد گنگوہی کو غیبی طور پر بغیر کسی کی اطلاع کے گزرے ہوئے واقعات کی بھی خبر ہو جاتی تھی چنانچہ نمونے کے طور پر ذیل میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔

منشی نثار علی اور گوہر خاں نام کے دو شخص انگریزوں کی پلٹن میں ملازم تھے ان کے متعلق یہ واقعہ بیان کرتے ہیں

’’منشی نثار علی اور گوہر خاں ملازم پلٹن نمبر ۶۵ رخصت لے کر با ارادئہ بیعت لکھنؤسے گنگوہ روانہ ہونے کو تیار ہوئے ، دروازے پر سواری تک آ کھڑی ہوئی ، اتفاق سے حاکم کی آمد کا تار آیا اور عین وقت پر ان افسر کے حکم سے رکنا پڑا، دس دن کے بعد فارغ ہو کر گنگوہ پہنچے تو حضرت نے صاف ارشاد فرمایا کہ تم دونو ں صاحب فلاںروز روانہ ہونا چاہتے تھے مگر روک لئے گئے۔

اور جب کھانا دسترخوان پر آیا تو کہنے لگے آپ کے ساتھ دو ٹٹو بھی تو ہیں آخر وہ بھی میرے مہمان ہیں اوّل ان کو گھاس دانہ پہنچانا چاہئے ۔ حالانکہ دونوں ٹٹوئوں پر سوار ہونے کی اطلاع آپ کو کسی آدمی نے نہیں دی تھی‘‘۔

(تذکرۃ الرشید ،ج۲ ،ص۲۲۴)

یہ اضافہ کہ حالانکہ دونوں ٹٹوئوں پر سوار ہونے کی اطلاع آپ کو کسی نے نہیں دی تھی صرف اسی لئے کیا گیا ہے کہ خوب اچھی طرح ظاہر ہوجائے کہ یہ غیب کی خبر تھی اور کسی طرح یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اور کسی نے ان کو اطلاع کردی ہوگی۔ (۹)

آئندہ واقعات کا علم

اب آئندہ یعنی کل اور اسکے بعد کے علم سے متعلق واقعات کا سلسلہ ملاحظہ فرمائیے۔

پہلا واقعہ

مولوی صادق الیقین نام کے کوئی صاحب تھے ان کے باپ سنّی تھے لیکن وہ دیوبندی علماء کے زیرِ اثر رہ کر بدعقیدہ ہو گئے تھے جس کے سبب سے ان کے باپ ہر وقت ناراض رہا کرتے تھے جب باپ بیٹے کے درمیان کشیدگی بہت زیادہ بڑھ گئی تو مولوی صادق الیقین گنگوہ چلے گئے اب اس کے بعد کا واقعہ خود مولوی عاشق الٰہی میرٹھی کی زبانی سنئے، لکھا ہے کہ:

’’(گنگوہ)آنے کو تو آگئے مگر والد صاحب کی ناراضگی کا اکثر خیال آتا تھا ایک دن حضرت کی خدمت میں حاضر تھے یکایک حضرت نے ان سے ارشاد فرمایا کہ میں نے تمھارے والد کی طرف خیال کیا تھا ان کے قلب میں تمہاری محبت جوش ماررہی ہے اور یہ خفگی صرف ظاہری ہے امید ہے کہ کل پرسوں تک تمہارے بلانے کو انکا خط بھی آجائے چنانچہ دوسرے ہی دن شاہ صاحب کا خط آیا‘‘۔

(تذکرۃ الرشید، ج۲ ، ص۲۲۵)

غیب دانی کی یہ شان قابلِ دیدنی ہے کہ کل کی بھی خبر دے دی اور سینکڑوں میل کی مسافت سے دل کے مخفی حال کا مشاہدہ فرمالیانہ قرآن کی کوئی آیت اس دعوے پر اثرانداز ہوئی اور نہ عقیدئہ توحید کو کوئی ٹھیس پہنچی۔

دوسرا واقعہ

صوفی کرم حسین نام کے کوئی صاحب تھے جو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی خانقاہ کے حاضر باش تھے ان کے متعلق تذکرۃالرشید کے مصنف یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ :

’’صوفی کرم حسین صاحب ایک مرتبہ بیمار ہوئے اور چند روز کے بعد صحت ہو گئی ان کے مکان سے طلبی کا خط پہنچا تو انہوں نے روانگی کا قصد کیا ، حضرت سے رخصت ہونے لگے توخلافِ عادت فرمانے لگے ، کرم حسین ! کل مت جائو دو تین روز کے بعد جانا ارادہ کا فسخ طبیعت کو گراں تو ہوا مگر ٹھہر گئے ۔ اگلے دن دفعۃً تپِ و لرزہ آیا وہ بھی اس شدت کے ساتھ کہ عشاء کے وقت تک اٹھ ہی نہ سکے اس وقت خیال ہوا کے آج راستے میں ہوتا تو کیا مزہ آتا۔‘‘ (تذکرہ الرشید، ج۲ ، ص۲۲۶) یعنی گنگوہی صاحب کو معلوم تھا کے کل بخار آئیگا۔

تیسرا واقعہ

تذکرۃالرشید کے مصنف نے مولوی محمد یٰسین نام کے ایک شخص کے متعلق جو مدرسہ دیوبند میں مدرس تھے لکھا ہے کہ وہ ایک بار گنگوہ حاضر ہوئے انہیں دیوبند واپس جانا پڑا واپسی کی اجازت طلب کرنے کے لئے جب وہ دوپہر کے وقت مولوی رشید احمد کے پاس گئے اور ان سے اجازت طلب کی لیکن بے حد اصرار کے باوجود انہوںنے واپس ہونے کی اجازت نہیں دی ، جب کوئی عذر کارگر نہ ہوا تو اخیر میں انہوں نے کہا :

’’کل کو بندہ کامدرسہ میں حاضر ہوجانا ضروری ہے ، حضرت نے کہا کہ مدرسے کے حرج کا تو مجھے بھی بہت خیال ہے لیکن تمہاری تکلیف کی وجہ سے کہتا ہوں کہ ناحق راستے میں مارے مارے پھرو گے ، سخت تکلیف اٹھاؤ گے باوجود حضرت کے بار بار اس فرمانے کے ہمیں مطلق خیال نہ ہواکہ’’شیخ ہرچہ گوید دیدہ گوید‘‘(یعنی شیخ جو کچھ کہتا ہے دیکھ کر کہتا ہے) اپنی ہی کہے گئے ۔‘‘

(تذکرۃ الرشید، ج۲ ،ص۲۲۱)

اس کے بعد انہوںنے اپنی روانگی اور راستے کی پریشانیوںاور رات بھر مارے مارے پھرنے کی تفصیل بیان کی، یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ’’شیخ ہر چہ گوید دیدہ گوید ‘‘ کا جو عقیدہ دیوبندی حضرات اپنے بزرگوں کے لئے روا رکھتے ہیں وہی سید الانبیاء ﷺ کے حق میں شرکِ عظیم سمجھتے ہیں۔

چوتھا واقعہ

ارواحِ ثلٰثہ نامی کتاب کے واقعات کے ایک راوی امیر شاہ خان نے گنگوہی صاحب کے سفرِحج کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں کہ اُن کا جہاز جب جدہ پہنچا تو وہاں کے افسروں نے انہیں اترنے کی اجازت نہیں دی اور قرنطینہ کے لئے انہیں کامران واپس جانے کا حکم دیا اس کے بعد انہی کی زبانی پورا واقعہ سنئے لکھا ہے کہ :

’’تھوڑی دیر میں ایک عرب صاحب تشریف لائے اور انہوں نے کہا گودی کے افسر رشوت خور ہیں اور وہ کچھ لینے کے لئے یہ حجت کر رہے ہیں تم جلدی کچھ چندہ کردو میں انہیں دلا کر راضی کرلوںگا۔

جب یہ خبر مولانا (گنگوہی) کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یہ شخص بالکل جھوٹا ہے کوئی اُسے کچھ نہ دے گا ہم کو کامران واپس نہیں ہونا پڑیگا ہم یہیں اترینگے چنانچہ دُوسرے روز یہ حکم ہوگیا کہ حاجیوں کو اتر جانا چاہئے۔‘‘

(اروح ثلٰثہ ، ص۲۸۶)

کئی صفحوں پر پھیلا ہوا آپ گنگوہی صاحب کی زبان سے کل کی خبروں کا سلسلہ پڑھ چکے ان کے متعلق اس غیبی علم کے مظاہرے پر آج تک کوئی معترض نہ ہوا کہ غیر اﷲ کے حق میں اس قسم کا اعتقاد قرآن کے خلاف ہے لیکن برا ہو تنگی دل کا کہ یہی کل کے علم وخبر کا سوال جب محبوب کبریا ﷺ کے لئے پیدا ہوتا ہے تو ہر دیوبندی فاضل کی زبان پر قرآن کی یہ آیت ہوتی ہے وما تدری نفسٌ ماذا تکسب غدا ، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا۔

اس کتاب کا دوسرا باب جو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے واقعات وحالات پر مشتمل تھایہاں پہنچ کر تمام ہوگیا۔

جس تصویر کا پہلا رُخ کتاب کے ابتدائی حصے میں آپ کی نظر سے گزرچکا ہے یہ اُس کا دوسرا رُخ تھا، اب چند لمحے کی فرصت نکال کر ذرا دونوں رخوں کا موازنہ کیجئے اور انصاف ودیانت کے ساتھ فیصلہ کیجئے کہ تصویر کے پہلے رخ میں جن عقائد ومسائل کو ان حضرات نے شرک قرار دیا تھاجب ان ہی عقائد ومسائل کو انہوں نے نے اپنے حق میں قبول کرلیا تو اب کس منہ سے وہ اپنے آپ کو ’’مُوَحدّ‘‘ اور دوسروں کو مشرک قرار دیتے ہیںاب کتاب کا تیسرا باب پڑھئے۔ تیسرا باب دیوبندی جماعت کے مذہبی پیشوا جناب مولوی اشرفعلی تھانوی کے بیان میں

اس باب میں جناب مولوی اشرفعلی تھانوی کے متعلق دیوبندی لٹریچر سے ایسے واقعات و حقائق پیش کئے گئے جن میں عقیدئہ توحید سے تصادم اپنے مذہب سے انحراف اور منہ بولے شرک کو اپنے حق میں اسلام و ایمان مان لینے کی عبرت انگیز مثالیں ورق ورق پر بکھری ہوئی ہیں۔

انہیں چشمِ حیرت سے پڑھئے اور وفا آشنا ضمیر کا فیصلہ سننے کے لئے گوش بر آواز رہئے۔ سلسلہ واقعات (۱)

تھانوی صاحب کے حق میں غیب دانی کا صاف اور صریح دعویٰ

تھانوی صاحب کے خلیفہ خاص مولوی عبدالماجد صاحب دریا آبادی نے اپنی کتاب ’’حکیم الاُمتہ‘‘ میں ان کی ایک مجلس کا حال لکھتے ہوئے اپنے جن تاثرات کا اظہار کیا ہے وہ دیوبندی مذہب کی طرف سے حسن ظن رکھنے والوں کو چونکا دینے کے لئے کافی ہے لکھتے ہیںکہ :

’’ بعض بزرگوں کے حالات حضرت نے اپنی زبان سے اس طرح ارشاد فرمائے کہ گویا’’در حدیث دیگراں‘‘ بعینہٖ ہم لوگوں کے جذبات و خیالات کی ترجمانی ہو رہی ہے دل نے کہا کے دیکھو روشن ضمیر ہیں نا ، سارے ہمارے مخفیات ان پر آئینہ ہوتے جا رہے ہیں، صاحبِ کشف و کرامات ان سے بڑھ کر کون ہوگا،(چند سطروں کے بعد)خیر اس وقت تو گہرااثر اس غیب دانی اور کشفِ صدر کا لے کر اٹھا، مجلس برخاست ہوئی۔‘‘ (حکیم الامۃ ،ص۲۴)

اخیر کا یہ جملہ دوبارہ پڑھئے ، یہاں بات ایک دم کھل کر سامنے آگئی ہے مجاز و استعارہ کے ابہام سے ہٹ کر بالکل صراحت کے ساتھ تھانوی صاحب کے حق میں غیب دانی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے حالانکہ یہی وہ لفظ ہے جس پر پچاس برس سے یہ حضرات جنگ کرتے آرہے ہیں کہ اس لفظ کا اطلاق رسولِ اکرم ﷺ کی ذات پر قطعاً کفر و شرک ہے جیسا کے دیوبندی جماعت کے مستند امام مولوی عبدالشکور صاحب کاکوروی اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں :

’’ہم نہیں کہتے کہ حضور جانتے تھے یا غیب دان تھے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ حضور کو غیب کی باتوں پر اطلاع دی گئی فقہائے حنفیہ کفر کا اطلاق اسی غیب دانی پر کرتے ہیں نہ کہ اطلاع یابی پر۔‘‘ (فتح حقانی ، ص۲۵)

دیکھ رہے ہیں آپ ! ان حضرات کے تئیں فقہائے حنفیہ کفر کا اطلاق جس غیب دانی پر کرتے ہیں وہ اقراری کفر اپنے تھانوی صاحب کے حق میں کتنی بشاشت کے ساتھ قبول کرلیا گیا ہے تھانوی صاحب کی غیب دانی کے سوال پر نہ اسلام کی کوئی دیوار منہدم ہوئی ہے اور نہ قرآن کے ساتھ کسی طرح کا تصادم لازم آیا ہے۔

اب یہیں سے سمجھ لیجئے کہ ان حضرات کی کتابوں میں کفر و شرک کے جو مباحث سینکڑوں صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں اس کے پیچھے اصل مدعا کیا ہے؟توحیدپرستی کا جذبہ اگر خلوص پر مبنی ہوتا تو کفر و شرک کے سوال پر اپنے اور بیگانے کی یہ تفریق ہرگز روا نہ رکھی جاتی۔ بیک وقت متعدد مقامات پر تھانوی صاحب کی موجودگی کا ایک حیرت انگیز واقعہ

خواجہ عزیزالحسن صاحب نے اشرف السوانح کے نام سے تین جلدوں میں تھانوی صاحب کی سوانح حیات لکھی ہے جو خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون ضلع مظفر نگر سے شائع کی گئی ہے انہوں نے اپنی کتاب میں تھانوی صاحب کا ایک عجیب و غریب واقعہ نقل کیا ہے لکھتے ہیں کہ :

’’عرصہ دراز ہوا ایک صاحب نے خود احقر سے یہیںخانقاہ میں بایں عنوان اپنا واقعہ بیان کیا کہ گو دیکھنے میں تو حضرت والا یہاں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن کیا خبر اس وقت کہاں پر ہوں کیونکہ میں ایک بار خود حضرت والا کو باوجود کے تھانہ بھون میں ہوتے ہوئے علی گڑھ میں دیکھ چکا ہوں جبکہ وہاں نمائش تھی اور اس کے اندر سخت آگ لگی ہوئی تھی۔

میں بھی اس نمائش میں اپنی دکان لے گیا تھا جس روز آگ لگنے والی تھی اس روز خلافِ معمول عصر ہی کے وقت سے میرے قلب کے اندر ایک وحشت سی پیدا ہونے لگی تھی جس کا یہ اثر ہوا کہ باوجود اسکے اصل بِکری کا وقت وہی تھا لیکن میں نے اپنی دکان کا سارا ساز وسامان قبل از وقت ہی سمیٹ کر بکسوں میں بھرنا شروع کر دیا جب بعد مغرب آگ لگنے کا شورو غل ہوا تو چونکہ میں اکیلا ہی تھا اور بکس بھاری تھے اس لئے میں سخت پریشان ہوا کہ یا اللہ ! دُکان کو باہر کیونکر لیکر جاؤں۔

اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ دفعۃً حضرت والا نمودار ہوئے اور بکسوں میں سے ایک بکس کے پاس تشریف لے جا کر فرمایا کہ جلدی سے اٹھاؤ ! چنانچہ ایک طرف سے تو اس بکس کو خود اٹھایا اور دوسری طرف سے میں نے اٹھایااسی طرح تھوڑی دیر میں ایک ایک کر کے سارے بکس باہر رکھوا دیئے ۔ اس آگ سے اور دکانداروں کا تو بہت نقصان ہوالیکن بفضلہ تعالیٰ میرا سب سامان بچ گیا۔

اس واقعہ کو سن کر احقر(یعنی مصنف کتاب) نے ان سے پوچھا کہ آپ نے حضرت والا سے یہ نہ دریافت کیا کہ آپ یہاں کہاں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ اجی پوچھنے گوچھنے کا مجھے اس وقت ہوش ہی کہاں تھامیں تو اپنی پریشانی میں مبتلا تھا‘‘۔ (اشرف السوانح ، ج۳ ، ص۷۱)

حیران و ششدر نہ رہ گئے ہوں تو یہ قصّہ ایک بار اور پڑھ لیجئے شخص واحد کے متعدد جگہ ہونے کا ذکر یہاں بالکل صراحت کے ساتھ ہے، کہیں بھی استعارات و کنایات کا کوئی ابہام نہیں ہے ، یہی وہ منزل ہے جہاں پھر جی چاہتا ہے کہ محافل میلاد میں حضور انور ﷺ کی تشریف آوری کے امکان پر تھانوی صاحب کا یہ سوال دہرا دوں :

’’اگر ایک وقت میں کئی جگہ محفل منعقد ہو تو آیا سب جگہ تشریف جاوینگے یا کہیں؟ یہ توترجیح بلا مرجح ہے کہ کہیں جاویں کہیں نہ جاویں اور اگر سب جگہ جاویں تو وجود آپ کا واحد ہے ہزار جگہ کس طور جا سکتے ہیں‘‘۔

(فتاویٰ امدایہ ، ج۲ ، ص ۵۸)

کس طور جا سکتے ہیں؟ اب اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت باقی نہیں ہے ویسے ہم اس بات کے مدعی بھی نہیں کہ وہ ہر محفل میں تشریف لے جاتے ہیں البتہ کوئی بھی غیرجانبدار شخص تھانوی صَاحب کے اس واقعہ کے ضمن میں ان سُوالات کا سامنا کئے بغیر نہیں رہ سکتا جو اچانک ذہن کی سطح پر اُبھر آتے ہیں۔

پہلا سوال تو یہی ہے کہ ان لوگوں کے یہاں صحیح و غلط کے جانچنے کا پیمانہ الگ الگ کیوں ہے؟بات اگر غلط ہے تو ہر جگہ غلط ہونی چاہئیے اگر صحیح ہے تو دوسروں کے حق میں بھی اس کی صحت کیوں نہیں تسلیم کی جاتی ،ایسا کیوں ہے کہ ایک ہی بات رسولِ کونین ﷺ کے حق میں تو کفر ہے ،شرک ہے،نا ممکن ہے لیکن اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں اسلام ہے،ایمان ہے اور امرواقعہ ہے۔

دُوسرا سوال یہ ہے کہ تھانہ بھون میں موجود رہ کر علی گڑھ میں پیش آنیوالے حادثہ کوقبل از وقت معلوم کر لیناکیا غیبی ادراک کی یہی قوت نہیں جسکا پیغمبر اعظم ﷺ کے حق میںدیوبندی حضرات مسلسل انکار کرتے چلے آرہے ہیںاور اسی انکار کی بنیاد پر وہ اپنی جماعت کو ’’موحدین‘‘کی جماعت کہتے ہیں ۔

تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چشمِ زدن میں ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچ کر کسی مصیبت زدہ کی مدد کرنا کیا دیوبندی مذہب کی زبان میں یہ خدائی اختیارات کی چیز نہیں ہے؟

اور پھر جس قدرت و اختیار اور علم و انکشاف کا وہ سید الانبیاء ﷺ تک کے حق میں شدت سے انکار کرتے آئے ہیں، تعجب ہے کہ اس کو اپنے حق میں ثابت کرتے ہوئے انہیں ذرا بھی عقیدۂ توحید کے تقاضوں سے انحراف نظر نہیں آیا ان سوالات کے جوابات کے لئے میں آپ ہی کے ضمیر کا انصاف چاہوں گا۔ (۳)

ایک اور عبرت انگیز کہا نی:

توحید پرستی کے غرور میں خوش عقیدہ مسلمانوں کو بے دریغ مشرک،بدعتی اور قبر پرست کہنے والوں کی ایک اور عبرت خیز کہانی سنئے:۔

انہی مولوی اشرف علی تھانوی کے سوانح نگار اشرف السوانح میں تھانوی صاحب کے پردادا محمد فرید صاحب کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔

’’کسی بارات میں تشریف لے جا رہے تھے کہ ڈاکوئوں نے آ کر بارات پر حملہ کیاان کے پاس کمان تھی اور تیر تھے انہوں نے ان ڈاکوئوں پر دلیرانہ تیر برساناشروع کیے چونکہ ڈاکوئوں کی تعداد کثیر تھی اور اِدھربے سروسامانی تھی، یہ مقابلے میں شہید ہوگئے‘‘ ۔ (اشرف السوانح ، ج۱ ، ص۱۲)

اس کے بعد کا قصہ چشم ِ حیرت سے پڑھنے کے قابل ہے لکھا ہے کہ:۔

’’شہادت کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا شب کے وقت اپنے گھر مثل زندہ کے تشریف لائے اور اپنے گھر والوں کو مٹھائی لاکر دی اور فرمایاکہ اگر تم کسی سے ظاہر نہ کرو گی تو اس طرح سے روز آیا کریں گے لیکن ان کے گھر کے لوگوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ گھر والے جب بچوں کو مٹھائی کھاتے دیکھیں گے تو معلوم نہیں کیا شبہ کریں گے اس لئے ظاہر کر دیا اور آپ تشریف نہیں لائے یہ واقعہ خاندان میں مشہور ہے۔‘‘

(اشرف السوانح ، ج۱ ، ص۱۲)

اللہ اکبر! ہم اگر مرسلین و انبیأ شہدائے مقربین اور اولیائے کاملین کی صرف روحوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھ لیںکہ خدائے قدیرنے انہیںعالمِ برزخ میںزندوں کی طرح حیات اور تصرف کی قدرت بخشی ہے توبدعت و شرک ، مردہ پرستی اور جاہلیت کے طعنوں سے ہمارا جینا دوبھر کردیاجاتا ہے، دارالافتاء بادل کی طرح گرجنے اور برسنے لگتے ہیں

لیکن تھانوی صاحب کے ’’جدمقتول‘‘کے متعلق اس واقعہ کی اشاعت پر کہ وہ زندوں کی طرح گھر پلٹ کر واپس آئے، دوبدو باتیں کیں،مٹھائی پیش کی اور اسی شان سے ہر روز آنے کامشروط وعدہ کیا اور جب شرط کی خلاف ورزی کی گئی تو آنا بند کر دیاان تمام باتوں پر کوئی بھی گریبان نہیں تھامتا، کوئی بھی ان چیزوں کو شرک نہیں ٹھہراتا،کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ انکی لحد میں مٹھائی کی دوکان کس نے کھولی اور قرآن و حدیث میں اس طرح کے اختیارات کی دلیل کہاں سے ہے، نیز یہ بات ان تک کیسے پہنچی کہ ان کے گھر والی نے ان کے آنے کا راز فاش کر دیا ہے اور انہوں نے آنا بند کر دیا۔

ہے کوئی دیانت و انصاف کا حامی جو دیوبندی علما ء سے جا کر پوچھے کہ جو عقیدہ رسول ونبی، غوث و خواجہ اور مخدوم و قطب کی بابت شرک ہے وہی تھانوی صاحب کے پردادا کی بابت کیوں کر ایمان و اسلام بن گیا ہے، آنکھوں میں دُھول جھونک کر توحید پرستی کا یہ سُوانگ آخر کب تک رچایا جائے گا ؟

ایک اور ا یمان شکن واقعہ:

اب لگے ہاتھوں اسی طرح کا ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیے، جس کے راوی یہی مولوی اشرف علی صاحب تھانوی ہیں، موصوف بیان کرتے ہیں کہ :

’’مولانا اسماعیل دہلوی کے قافلے میں ایک شخص شہید ہوگئے جن کا نام بیدار بخت تھا، یہ مجاہد دیوبند کے رہنے والے تھے، ان کی شہادت کی خبر آچکی تھی، انکے والد حشمت علی خان صاحب حسب ِ معمول دیوبند میں اپنے گھر میں ایک رات تہجد کی نماز کے لئے اُٹھے تو گھر کے باہر گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز آئی انہوں نے دروازہ کھولا تو دیکھ کر حیران ہوئے کہ انکے بیٹے بیدار بخت ہیں بہت حیرانگی بڑھی کہ یہ تو بالاکوٹ میں شہید ہوگئے تھے یہاں کیسے آگئے؟

بیدار بخت نے کہا جلدی کوئی دری وغیرہ بچھائیے حضرت مولانااسماعیل صاحب اور سید (احمد) صاحب یہاں تشریف لا رہے ہیں، حشمت خان نے فوراً ایک بڑی چٹائی بچھا دی اتنے میںسیّد صاحب اور مولانا شہید اور چند دوسرے رفقاء بھی آگئے، حشمت خان صاحب نے محبت ِپدری کی وجہ سے سوال کیا کہ تمہارے کہاں تلوار لگی تھی؟بیدار بخت نے سر سے اپنا ڈھاٹا کھولا اور اپنا نصف چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اپنے باپ کو دکھایا کہ یہاں تلوار لگی تھی، حشمت خان نے کہا، بیٹا! یہ ڈھانٹا پھر سے باندھ لو، مجھ سے یہ نظارہ نہیںدیکھاجاتا، تھوڑی دیر بعد یہ حضرات واپس تشریف لے گئے۔

صبح کو حشمت خان کو شبہ ہوا کہ یہ کہیں خواب تو نہیں تھا مگر چٹائی کو بغور دیکھا تو خون کے قطرے موجود تھے، یہ وہ قطرے تھے جو بیدار بخت کے چہرے سے گرتے ہوئے اس کے والد نے دیکھے تھے ان قطروں کو دیکھ کر حشمت خان سمجھ گئے کہ یہ بیداری کا واقعہ ہے، خواب کا نہیں۔

اَخیر میں چند راویوں کے نام گنا کر فرماتے ہیں کہ اس روایت کے اور بھی بہت سے معتبر راوی ہیں‘‘۔

(ملفوظاتِ مولانا اشرف علی تھانوی ،ص۴۰۹، مطبوعہ پاکستان بہ حوالہ ہفت روزہ ’’چٹان‘‘۲۴ دسمبر۱۹۶۲ ء)

اس عجیب و غریب واقعہ پر کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے یہ بتا دینا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں کہ دیو بند کے یہ شہید ِ اعظم جنہوں نے کرشمہ سازی میں دنیا کے تمام شہیدوں کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا ہے کس طرح کی جنگ میں قتل کئے گئے تھے، وہ کوئی جہادفی سبیل اللہ تھا یاجنگ ِ آزادی تھی، سچ کا بول بالا اور جھوٹ کا منہ کالا ہو کہ یہ بحث بھی شیخِ دیوبند جناب مولوی حسین احمد صاحب نے طے کر دی ہے جیسا کہ اپنی خود نوشت سوانح حیات کی دوسری جلد میں تحریر فرماتے ہیں کہ

’’سیّد صاحب کا اصل مقصد چونکہ ہندوستان سے انگریزی تسلّط اور اقتدار کا قلع قمع کرنا تھا جس کے باعث ہند و اور مسلمان دونوں ہی پریشان تھے، اس بنا پر آپ نے اپنے ساتھ ہندو ؤں کو شرکت کی دعوت دی اور صاف صاف انہیں بتا دیا کہ آپ کا واحد مقصد ملک سے پردیسی لوگوں کا اقتدار ختم کرنا ہے، اس کے بعد حکومت کس کی ہوگی اس سے آپکو غرض نہیں ہے، جو لوگ حکومت کے اہل ہونگے ہندو یا مسلمان یا دونوں وہ حکومت کریں گے‘‘۔ (نقشِ حیات، ج ۲ ، ص ۱۳)

آپ ہی انصاف سے بتایئے! کہ مذکورہ حوالہ کی روشنی میں سیّد صاحب کے اس لشکر کے متعلق سوا ا سکے اور کیا رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ وہ ٹھیک انڈین نیشنل کانگریس کے رضا کاروں کا ایک دستہ تھا جو ہندوستان میں سیکولر اسٹیٹ (لادینی حکومت) قائم کرنے کے لئے اُٹھا تھا۔

ویسے جہاں تک شہیدوں کی حیات اور انکی روحانی سطوت کا تعلق ہے تو اس پر قرآن کی بے شمار آیتیں شاہد ہیں لیکن یہ سارے فضائل ان مجاہدین کے حق میں ہیںجو خداکی زمین پر خدا کے دین کی بادشاہت اور اسلام کا سیاسی اقتدار قائم کرنے کے لیے اپنا خون بہاتے ہیںلادینی حکومت اور ’’ملی جلی سرکار‘‘ بنانے کے لئے جو فوج اکٹھی کی جائے نہ وہ مجاہدین اسلام کی فوج کہلا سکتی ہے اور نہ اس فوج کے مقتول سپاہی کو ’’اسلامی شہید‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔

لیکن شخصیت پرستی کی یہ ستم ظریفی دیکھئے کہ اس قصے میں جنگ ِ آزادی کے ایک سیاسی مقتول کو بدرواُحد کے شہیدوں سے بھی آگے بڑھا دیا گیا ہے کیونکہ اسلام کے سارے شہیدوں پر انہیں برتری حاصل ہونے کے باوجود ان کے متعلق بھی ایسی کوئی روایت نہیں ملتی کہ وہ اپنا کٹا ہوا سر لے کر زندوں کی طرح اپنے گھر آئے ہوں اور گھر والوں سے بالمشافہ بات چیت کی ہو۔

دیو بندی ذہن کی یہ بوالعجبی بھی قابل دید ہے کہ قدرت و اختیار کی جو بات وہ اپنے ایک سیاسی مقتول کے لئے بے چوں و چرا تسلیم کر لیتے ہیں اسی کو ہم اگر حنین و کربلا کے شہیدوں کے لئے مان لیں تو ہمیں مشرک ٹھہرایا جاتا ہے لیکن انکے عقیدہ ٔ توحید کی اجارہ داری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

خود بینی کی ایک شرمناک کہانی

اب ایک اور دلچسپ واقعہ سنیے، اسی اشرف السوانح کے مصنف تھانوی صاحب کے متعلق لکھتے ہیں کہ :

’’حضرت ِ والا ایک مریدنی کا واقعہ بیان فرمایا کرتے ہیں کہ اس نے سکرات کے عالم میں میرا نام لے کر کہا کہ وہ اونٹنی لے کر آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر بیٹھ کر چل! پھر اس کے بعد اس کا انتقال ہوگیا۔‘‘

(اشرف السوانح ، ج ۳ ، ص ۸۶)

اپنی غیب دانی اور قوتِ تصّرف کی یہ خاموش تبلیغ ذرا ملاحظہ فرمایئے، کوئی دوسرا نہیںخود اپنے متعلق آپ ہی بیان فرما رہے ہیں، کوئی بیگانہ سنے تو البتہ اس واقعہ کی صحت پر شک کر سکتا ہے لیکن مریدین و معتقدین کس قلب و گوش کے ہوتے ہیںیہ بتانے کی ضرورت نہیں پیر صاحب انکار بھی کر دیں تو وہ اسے تواضع پر محمول کریں گے۔ تھانوی صاحب اس واقعہ کے اظہار سے اپنے حلقہ بگوشوں کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ اُنہیں اپنی مریدنی کی موت کا وقت معلوم ہوگیا تھااور وہ اسے لینے کے لئے اونٹ کی سواری لے کر اس کے پاس پہنچ گئے۔ اس واقع سے جہاں ان کی غیب دانی پر روشنی پڑتی ہے وہیں ان کی قوتِ تصرف بھی پورے طور پر نمایاں ہو جاتی ہے کہ اپنے وجود کو متعدد جگہ پہنچا دینا کسی کے لئے ناممکن ہو تو ہو لیکن ان کے لئے امر ِ واقعہ ہے۔

ایک اور لطیفہ:۔

اس واقعہ کے بیان سے کتاب کے مصنف نے یہ مدعا ظاہر کیا ہے کہ وجود ِ انسانی کے ہر مرحلے میں تھانوی صاحب اپنے مریدین و متوسلین کے لئے کارساز و نجات دہندہ تھے۔

چنانچہ اس مدعا کو ثابت کرنے کے لیے صاحب ِ کتاب نے متعدد واقعات نقل کئے ہیں نمونے کے طور پر کتاب کے چند اقتباسات ذیل میں ملاحظہ فرمائیے، لکھتے ہیں کہ :

’’ حضرت ِ والا کے متوسلین کے حسن خاتمہ کے بہ کثرت واقعات ہیںجن سے مقبولیت و برکت کا سلسلہ ظاہر ہوتا ہے چنانچہ خود حضرت والا فرمایا کرتے ہیں کہ حضرت حاجی(یعنی تھانوی صاحب کے پیر)کے سلسلہ کی یہ برکت ہے کہ جو بلاواسطہ یا بالواسطہ حضرت سے بیعت ہوا اس کا بفضلہ تعالیٰ خاتمہ بہت اچھا ہوتا ہے یہاں تک کہ متوسلین گو مُرید ہونے کے بعد دنیا دار ہی رہے مگر ان کا بھی خاتمہ بفضلہ تعالیٰ اولیاء اللہ کا سا ہوا۔‘‘ (اشرف السوانح ، ج ۲ ، ص۸۲) یہاں سوچنے کی بات ہے کہ اولیا ء اللہ کی طرح خاتمہ کے لئے اب عبادت و تقویٰ اور اعمالِ صالحہ کی قطعاً ضرورت نہیں ہے تھانوی صاحب کے ہاتھ پر صرف مرید ہو جانا اس بات کی ضمانت ہے کہ اولیاء اللہ کاسا انجام اس کے حق میں مقدرہوگیا۔

اب اس سے بھی زیادہ ایک عبرت انگیز قصّہ سُنئے، کتاب کے مصنف لکھتے ہیں کہ :

’’ احقر سے میرے متعدد پیر بھائیوں نے اپنی بعض مستورات کے حسن خاتمہ کے عجیب و غریب واقعات بیان کیے ہیں جو حضرتِ والا سے مرید تھیں۔

احقر کے ایک بہنوئی تھے جو عرصۂ دراز ہوا حضرت والا سے کانپور جا کر مرید ہو آئے تھے جب کہ اتفاقاً حضرتِ والا وہا ں تشریف لائے ہوئے تھے بعد انتقال ایک صالحہ بی بی نے انکو خواب میں دیکھا کہ کہہ رہے ہیں کہ بہت ہی اچھا ہواجو میں پہلے سے حضرت مولانا سے کانپور جاکر مرید ہو آیا میں یہاں بڑے آرام میں ہوں۔‘‘ (اشرف السوانح ، ج۳ ، ص۸۶) ملاحظہ فرمایئے ! صرف ہاتھ تھام لینے کی یہ برکت ظاہر ہوئی کہ عالم آخرت کا سارا معاملہ درست ہو گیا اُس عالم کے کسی نووارد کا یہ کہنا کہ ’’ بہت اچھا ہوا جو میں حضرت مولانا سے مرید ہو گیا‘‘ بلاوجہ نہیں ہے یقینا اس نے وہاں اپنے پیر کی نسبت غلامی کا کوئی اعزاز ضرور دیکھا ہوگا۔

اب ایک طرف دربارِ خداوندی میںتھانوی صاحب کے اثر و رسوخ کی یہ شان دیکھئے کہ انکا ایک ادنیٰ مرید بھی انکی نسبتِ غلامی کے اعزاز سے محروم نہیں رہتا اور دوسری طرف محبوبِ کبریا ﷺ کے حق میں ان حضرات کے دلوں کا بخل ملاحظہ فرمائیے، آنکھوں سے لہو کی بوند ٹپک پڑے گی، تقویۃ الایمان کے مصنف لکھتے ہیں :

’’ انہوں نے اپنی بیٹی تک کو کھول کر سنا دیا کہ قرابت کا حق ادا کرنااسی چیز میں ہو سکتا ہے کہ اپنے اختیار کی ہواور اللہ کے ہاں کا معاملہ میرے اختیار سے باہر ہے، وہاں میں کسی کی حمایت نہیں کر سکتا اور کسی کا وکیل نہیں بن سکتا، سو وہاں کا معاملہ ہر کوئی اپنا درست کر لے اور دوزخ سے بچنے کی ہر کوئی تدبیر کر لے۔‘‘

(تقویۃ الایمان ،ملخصاً ،ص ۳۸) (۵) نیاز مندوں میں تھانوی صاحب کی غیب دانی کے عقیدے کا چرچا

تھانوی صاحب کی غیب دانی سے متعلق ان کے حاشیہ نشینوں اور مریدین کا ذہن بھی پڑھنے کی چیز ہے اس سے اس ماحول کا اندازہ ہوگاجس پر کسی بھی مذہبی پیشوا کے مزاج و خیالات کا عکس پڑتا ہے اشرف السوانح کا مصنف لکھتا ہے کہ :

’’ اس امر کی تصدیق بارہا لوگوں سے سننے میں آئی اور خود بھی بارہا اس کا تجربہ ہوا کہ جو دل میں لے کر آئے یا جو اشکال قلب میں پیدا ہوئیں قبل اظہار ہی اس کا جواب حضرتِ والا کی زبانِ فیض ترجمان سے ہوگیایا باطنی پریشانی کی حالت میں حاضر ہوئے تو خطاب خاص یا خطابِ عام میں کوئی بات ایسی فرما دی جس سے تسلی ہوگئی۔‘‘
(اشرف السوانح ، ص۵۹)

اب لگے ہاتھوں اسی کے ساتھ تھانوی صاحب کی غیب دانی کے متعلق ان کے ایک حلقہ بگوش کا جذبۂ یقین اور تھانوی صاحب کا دلچسپ جواب ملاحظہ فرما لیجئے، لکھتے ہیں کہ :

’’ ایک مشہور فاضل نے جزماً اپنا یہی اعتقاد (کہ آپ غیب داں ہیں) تحریر فرما کر بھیجا تو حضرتِ والا نے ان کے خیال کی نفی فرمائی اور جب پھر بھی انہوں نے نہ مانا اور اس نفی کو تواضع پر محمول کیا تو حضرتِ والا نے تحریر فرمایا کہ وہ تاجر بڑا خوش قسمت ہے جو اپنے سودے کا ناقص ہونا خود ظاہر کر رہا ہے لیکن خریدار پھر بھی یہی کہہ رہا ہے نہیں یہ ناقص نہیں ہے بہت قیمتی ہے ‘‘ ۔ (اشرف السوانح، ج ۳ ،ص۵۹) اب بتایئے کون بدبخت مرید ہے جو اپنے پیر کو خوش قسمت دیکھنا نہیں چاہتا اس جواب میں اپنی غیب دانی کا اعتقاد رکھنے والوں کے لئے خاموش حوصلہ افزائی کا جو جذبہ کارفرما ہے وہ اتنا نمایاںہے کہ اس پر کوئی پردہ نہیںڈالا جاسکتا تھانوی صاحب کے بارے میں غیب دانی کا عقیدہ اگر شرک تھاتو یہاں فتوے کی زبان کیوںنہیں استعمال کی گئی۔

اور سب سے سنگین الزام تو یہ ہے کہ تھانوی صاحب کے انکار کو تو تواضع پر محمول کر لیا گیا اور انھوں نے دبی زبان سے خود اس کی توثیق بھی فرما دی لیکن یہ کیسا اندھیرہے کہ بعض چیزوں کے علم و خبر کے متعلق رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے انکار کو ہزار فہمائش کے باوجود تواضع پر محمول نہیں کیا جاتا بلکہ نصف صدی سے یہی اصرار کیا جا رہا ہے کہ معاذ اللہ حقیقتاً وہ مخفیات کے علم و خبر سے عاری تھے۔

اب اس مقدمے کا فیصلہ بھی آپ ہی کے جذبہ انصاف پر چھوڑتا ہوں۔

ایک اور ایمان شکن کہانی

اشرف السوانح کے مصنف نے تھانوی صاحب کے متعلق قبل ولادت کی ایک پیش گوئی نقل کی ہے عبارت کایہ ٹکڑا پڑھنے کے قابل ہے ۔

’’نامِ نامی اشرف علی ہے یہ نام حضرت حافظ غلام مرتضیٰ صاحب پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ نے جو اس زمانہ کے مقبول عام اور مشہورا نام اہل خدمت مجذوب تھے قبل ولادت حضرت والا بلکہ استقرارحمل ہی بطور پیش گوئی تجویز فرمایا دیاتھا‘‘۔ (اشر ف السوانح ، ج۱، ص۷) تھانو ی صاحب نے مقدمہ ـ ’’حسام عبرت ‘‘کے نام سے خود بھی اپنا ایک میلاد نامہ مرتب کیا ہے جس میں انھوں نے ایک نہایت دلچسپ روایت بیان کی ہے جو پڑھنے کے قابل ہے لکھتے ہیںکہ:۔

’’ اُنھوں نے حضرت حافظ غلام مرتضیٰ مجذوب پانی پتی سے شکایت کی ہے کہ حضرت میری اس لڑکی کے ؒلڑکے زندہ نہیں رہتے حافظ صاحب نے بطریق معما فرمایا کے عمر وعلی کی کشاکش میں مرجاتے ہیں اب کی بارعلی کے سپرد کردینازندہ رہے گا ۔(چند سطروں کے بعد)پھر فرمایا اس کے دو لڑکے ہوں گے اور زندہ رہیں گیاایک کا نام اشرف علی خاں رکھنا دوسرے کا نام اکبر علی خاں نام لیتے وقت خاں اپنی طرف سے جوش میں آکر بڑھا دیاتھاکسی نے پوچھا کہ حضرت کیا وہ پٹھان ہوں گے؟ فرمایا نہیں اشرف علی اور اکبر علی نام رکھنا۔

یہ بھی فرمایا کہ ایک میرا ہوگا وہ مولوی ہوگا اورحافظ ہوگا دوسرا دنیادار ہوگاچنانچہ یہ سب پیش گوئیاں حرف بہ حر ف راست نکلیں(اور اس کے بعد صاحبِ کتاب لکھتے ہیںکہ) حضرت والا فرمایاکرتے ہیں کہ یہ جو کبھی اُکھڑی اُکھڑی باتیں کرنے لگتا ہوںان ہی مجذوب کی روحانی توجہ کا اثرہے جن کی دعا سے میں پیدا ہوا ہوں‘‘۔ (اشر ف السوانح، ج ا ، ص۱۷) ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ یہ وہ غیبی علم ہے جس کا دیوبندی حضرات کے تئیں غیرخدا کے لئے ماننا شرک ہے لیکن غضب دیکھئے کہ اپنے متعلق حمل ہی نہیں استقرار حمل سے بھی پہلے کا علم تسلیم کر لیا گیا اور صرف اپنا ہی نہیں ساتھ ساتھ اپنے بھائی کا بھی اور وہ بھی اتنا واضح کہ نام تک تجویز فرما دیا اور اوصاف واحوال کی بھی نشاندہی کر دی۔

دیوبندی مذہب میں اسی قوت کا نام خدائی اختیار ہے لیکن اپنی شان کے اظہار کے لئے یہ خدائی قوت بھی غیر خدائی کے حق میں بے چوں و چرا تسلیم کر لی گئی اور عقیدہ ٔ توحید پرذراآنچ تک نہیں آئی۔ (۷)

دیوبندی جماعت کے ایک شیخ مولوی عبدالرحیم شاہ رائے پوری کے متعلق کتاب ’’ارواح ثلاثہ ‘‘ میں تھانوی صاحب کا یہ منہ بولا بیان نقل کیا گیا ہے :

’’فرمایا کے مولانا شاہ عبدالرحیم صاب رائے پوری کا قلب بڑا نورانی تھا میں ان کے پاس بیٹھنے سے ڈرتا تھاکہ کہیں میرے عیوب منکشف نہ ہو جائیں‘‘۔

(ارواح ثلاثہ، ص ۴۰۱ )

دین ودیانت کا خون اس سے بڑھ کر اور کیاہو گا ایک اُمتی کا قلب اتنا نورانی ہو جائے کے اعمال و جوارح کی معنوی کیفیات تک اس سے مخفی نہ رہ سکیں اور وہ چھپ کر کئے جانے والے عیوب تک سے با خبر ہوجائے لیکن یہی عقیدہ پیغمبروں کے حق میںلائق گردن زدنی سمجھاجائے۔

سچ پوچھئے تو دیوبندی حضرات کے ساتھ مذہبی اختلافات کی پوری سرگزشت میں سارا ماتم دل کی اس حرماں نصیبی کا ہے کہ اپنے بزگوں کے حق میں یہ لوگ جتنا کشادہ دل واقع ہوئے ہیں اس کے ننانوے حصے کے برابر بھی اگر مدنی سرکار کے حق میں ان کے دل کا کوئی گوشہ نرم ہو جاتا تو مصالحت کی بہت سی راہیں نکل سکتی تھیں۔

اپنی جماعت کے دوسرے بزرگ کے حق میں اسی غیب دانی سے متعلق تھانوی صاحب کا ایک اور اعتراف ملاحظہ فرمائیے، ان کے ملفوظات کا مرتب لکھتا ہے کہ :

’’ ایک دن تھانوی صاحب نے مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی بابت فرمایا کہ اُنھوں نے خبردے دی تھی اس وباکی جس میںان (کے) اعزہ نے وفات پائی تھی ۔

پھر فرمایا کہ مولانا تھے بڑے صاحب کشف ! رمضان ہی میں خبر دے دی تھی کہ ایک بلائے عظیم رمضان کے بعد آوے گی ابھی آجاتی لیکن رمضا ن کی وجہ سے رُکی ہوئی ہے اگر لوگ بچنا چاہیں تو ہر چیز میں صدقات دے دیں‘‘۔ (حسن ا لعزیز،ج اص۲۹۳) کل کیا ہو گا اس کا تعلق بھی علم غیب سے ہے لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ بات یہاں کل سے بھی آگے نکل گئی ہے اور علم بھی تو صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ ایک بلا آنے والی ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہے کہ وہ ابھی آجاتی مگر رمضان کی برکت سے رکی ہوئی ہے اور لوگ صدقہ دے دیں تو واپس بھی لوٹ جائے گی۔

اب ہماری مظلومی کے ساتھ انصاف کیجئے کہ یہی عقیدہ اگر ہم کسی نبی یا ولی کے حق میں جائز تصور کر لیں توہمارا ایمان و اسلام خطرے میں پڑجاتا ہے اوریہ اپنے سارے قبیلے کے حق میںڈنکا پیٹ رہے ہیںتو یہاں سب خیریت ہے۔

چھوٹے میاں کا قصہ

اب تک تو قبیلے کے شیوخ کا تذکرہ تھا اب چھوٹے میاں کا واقع سنیئے۔ اشرف السوانح کے مصنف نے تھانوی صاحب کے خلیفہ مجاز حافظ عمر علی گڑھی کے غیبی انکشافات کے متعلق ایک نہایت حیرت انگیز واقعہ بیان کیا ہے ، لکھتے ہیں کہ :

’’ایک بار حافظ صاحب رات کی ریل سے تھانہ بھون حاضر ہوئے توجب ریل (تھانوی صاحب کی) خانقاہ کے محاذ سے گزری تو اُنھوں نے بیدار ی میںدیکھا کہ مسجد خانقاہ کے گنبد سے آسمان تک انوار کاایک تار لگا ہوا ہے‘‘ ۔ (اشرف السوانح، ج ۲، ص۶) ایک تیر میں دو نشانہ اسی کو کہتے ہیں ایک طر ف اپنی غیبی قوت کے انکشاف کا دعویٰ بھی ہے کہ نور کے اس سلسلے کا تعلق عالم غیب ہی سے تھا اور دوسری طرف یہ بھی ظاہر کرنا مقصود ہے کہ روئے زمین پر کعبہ اور گنبد خضرا کی طر ح تھانوی صاحب کی مسجد وخانقاہ کا گنبد بھی غیبی انوار وتجلیات کے نزول اجلال کامرکز ہے۔

اور جب خلیفہ مجاز کی غیبی قوتِ ادراک کا یہ حال ہے کہ ماتھے کی آنکھ سے عالم غیب کا مشاہدہ کر رہے ہیں تو اسی سے حساب لگا لیجئے کہ شیخ کی قوتِ انکشاف کا کیا عالم ہو گا ۔ چو تھا باب شیخ دیوبند جناب مولوی حسین احمد صاحب (مدنی)کے بیان میں

اس باب میں شیخ دیوبند جناب مولوی حسین احمد صاحب کے متعلق دیوبندی لٹریچر سے وہ و اقعات وحالات جمع کیے گئے ہیں جن میں عقیدہ توحید سے تصادم ،اپنے مذہب سے انحراف اور منہ بولے شر ک کواپنے حق میں اسلام وایمان بنا لینے کی شرمناک مثالیں ورق ورق پر بکھری ہوئی ہیں چشمہ انصاف کھول کے پڑہئے اور ضمیر کا فیصلہ سننے کے لیئے گوش برآواز رہیے۔

سلسلہ واقعات

غیبی علم اور روحانی تصرف کی حیر ت انگیز کہانی

روزنامہ الجمعیۃ دہلی نے دیو بند کے مولوی حسین احمد صاحب کے حالاتِ زندگی پر شیخ ـالاسلام نمبر کے نام سے ایک ضخیم کتاب شائع کی ہے جمعیۃ العلماء کا آرگن ہونے کی حیثیت سے اس اخبار کو اپنی جماعت میں جو حسن اعتماد حاصل ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔

اسی شیخ الاسلام نمبر میںمولومی حسین احمد کے فر زند مولوی اسعد میاں کی روایت سے ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے کرامات و مکاشفات کے عنوان کے ذیل میں اُنھوں نے لکھاہے کہ :

’’غزالی صاحب دہلوی نے مدینہ طیبہ میں مجھ سے بیان کیا کہ میں دہلی کے ایک سیاسی جلسہ میں شریک ہواحضرت والابھی اس میں شریک تھے وہاں میں نے دیکھا کہ عورتیں بھی سٹیج پر بیٹھی ہوئیں تھیں دل میں خیال گزرا کہ وہ شخص کیا ولی ہو سکتا ہے جو ایسے مجمع عام میں جہاں عورتیں بھی موجود ہوں شرکت کرے یہ خیال آکر حضرت سے اس درجہ نفرت پیدا ہوئی میں جلسہ سے چلا آیا۔

اُس ہی شب خواب میں دیکھا کہ حضرت نے مجھے سینے سے لگایا ہوا ہے چنانچہ اسی وقت میرا قلب ذاکر ہوگیا اور وہ نفرت عقیدت سے بدل گئی‘‘۔

(شیخ الاسلام نمبر،ص۱۶۲) ذرا اس واقعے میں عجائبات کی فراوانی ملاحظہ فرمایئے یہ کتنی بڑ ی غیب دانی ہے کہ مجلس سے روٹھ کر چلے جانے والے ایک اجنبی شخص کے دل کا حال معلوم کیا اور صرف معلوم ہی نہیں کیا بلکہ ایک پیکر لطیف میں اپنے آپ کو منتقل کر کے خواب میں تشریف بھی لے آئے اور ایک ہی نشانے میں یہ دوسرا تصرف ملا حظہ فرمائیے کہ سینے پر ہاتھ رکھتے ہی اچانک وہ نفرت بھی عقیدت سے بدل گئی اور تیسرا تماشا یہ ہے کہ اسی وقت سے سونے والے کے دل کے لطائف بھی جاگ گئے۔

یہ ساری باتیںوہ ہیں جو کہ ہم کسی نبی یا ولی کے حق میں اس طرح کا عقیدہ ظاہر کر دیں تو الزامات کے بوجھ سے گردن ٹوٹ جائے۔

لیکن اپنے شیخ کا مرتبہ دوبالا کرنے کے لئے ایمان کا خون بھی کرلیا جائے تو یہاں رواہے۔

اپنی وفات کا علم

مولوی ریاض احمد صاحب فیض آبادی صدرجمعیۃ علمائے میسورنے اسی شیخ الاسلام نمبر میں مولوی حسین احمد صاحب کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کا ذکر کیا گیا ہے دمِ رخصت موصوف کی یہ گفتگو خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہے :

’’میں نے کہا کے انشاء اللہ اختتام سال پر ضرور حاضر ہوں گا فرمایا کہہ دیا کہ ملاقات نہیں ہوگی اب تو میدان آخرت ہی میں انشاء اللہ ملو گے ، مجمع جو میرے قریب تھا احقرکی معیت میں آبدیدہ ہو گیا ، حضرت نے فرمایا کہ اس میں رونے کی کیا بات ہے ؟کیا مجھے موت نہ آئے گی ؟اس پر احقر نے اِلحاح کے ساتھ کچھ علم ِغیب اور زیادتی عمر پر بات کرنی چاہی مگر فرط غم کے باعث بول نہ سکا‘‘۔ (شیخ الاسلانمبر، ص۱۵۶ )

اس گفتگو کا حاصل سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ مولوی حسین احمد صاحب کو کئی ماہ بیشتر اپنی موت کاعلم ہوگیا تھااورکہہ دیا کہ ملاقات نہیں ہوگی یہ لب و لہجہ شک اور تذبذب کا نہیں یقین و اذعان کا ہے مجمع آبدیدہ ہوگیا یہ جملہ بھی ظاہر کر تا ہے کہ لوگوں کو سچ مچ اس خبر کا یقین ہوگیا۔

اس واقعہ میں جو چیزخاص طورپر محسوس کرنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ موت کا علم یقینی امورغیب ہی سے تعلق رکھتا ہے لیکن قرآن کی کوئی آیت اور حدیث کی کوئی روایت نہ مولو ی حسین احمد صاحب کو اس علم کے خاموش ادعا سے روک سکی اور نہ ہی اس خبر پر ایمان لانے والوں کی راہ میں حائل ہوئی اور اب اس کی اس طرح تشہیر کی جا رہی ہے جیسے دنیا کی کوئی مسلمہ حقیقت بن گئی ہو۔ (۳)

اس علم کا ا یک قصہ کہ بارش کب ہو گی ؟

مولوی جمیل الرحمن سیو ہاری مفتی دارالعلوم دیوبند نے اسی شیخ الاسلام نمبر میں سہسپور ضلع بجنورکے ایک جلسہ کا ذکر کیا ہے جو کانگریس کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا اور جس میں مولوی حسین احمد صاب بھی شریک تھے۔

انھوں نے لکھا کہ عین وقتِ جلسہ سے کچھ پہلے آسمان ابر آلود ہو گیا موسم کا رنگ دیکھ کر منتظمین جلسہ سراسیمہ ہوئے اب اس کے بعد کا قصہ خود واقعہ نگار کی زبانی سنئے،لکھا ہے کہ :

’’اسی دوران میں جامع الروایات غفرلہ (یعنی واقعہ نگار) کو جلسہ گاہ میں ایک برہنہ سرمجذوبانہ ہیئت کے غیر متعارف شخص نے علیحدہ لے جا کر ان الفاظ میں ہدایت کی کہ مولوی حسین احمدسے کہہ دو کہ علاقے کا صاحب ِخدمت میں ہوں اگروہ بارش ہٹوانا چاہتے ہیں تو یہ کام میرے توسط سے ہو گا ۔

راقم الحروف اسی وقت خیمے میں پہنچا جس پر حضر ت والا نے آہٹ پا کر وجہ معلوم فرمائی اور اس پیغام کو سن کر ایک عجیب پر جلال انداز میں بسترا ستراحت ہی سے ارشاد فرمایا جائیے کہہ دیجئے بارش نہیںہوگی ‘‘۔

(شیخ الاسلام نمبر، ص۱۴۷)

بسترا ستراحت ہی سے ارشاد فرمایا یہ جملہ بتا رہاہے کہ انھوں نے بارش نہیں ہوگی کا حکم آسمان کا رنگ دیکھ کر نہیں دیا تھا بلکہ اس حکم کے پیچھے اُسی غیبی علم وادراک کا ادعا تھا جس کا تعلق امورِغیب سے ہے یعنی اپنے اُسی غیبی علم کے ذریعہ انھوں نے آئندہ کا حال معلوم کر کیا تھا اور جزم و یقین کہ ساتھ کہہ دیا کہ بارش نہیں ہوگی۔ یا پھر اس واقعہ میں اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ عالم کے تکوینی اختیارات اس مجذوب کے ہاتھ میں نہیں بلکہ میرے ہاتھ میں ہیںمیں بارش روکنا چاہوں تو بلا شرکت ِ غیرے خود بھی اس کی قدرت رکھتا ہوں۔ بہر حال دونوں میں سے کوئی بات بھی ہو مذہبی معتقدات سے انحراف کی بدترین مثال ہے جیسا کہ دیوبندی مذہب کی بنیادی کتاب تقویۃ الایمان میں ہے :

’’اسی طرح مینہ برسنے کے وقت کی خبر کسی کو نہیں حالانکہ اس کا موسم بھی بندھا ہوا ہے اور ان موسموں پر برستا بھی ہے اور سارے نبی اور بادشاہ اور حکیم اس کی خواہش بھی رکھتے ہیں سواگر اس کا وقت معلوم کرنے کی کوئی راہ ہوتی تو کوئی البتہ پالیتا‘‘۔ (تقویۃ الایمان ، ص۲۲) اس مقام پر پھر آپ کے ایمان کی وہ رگ چھیڑنا چاہتا ہوں جہاں سے غیرتِ عِشق کو زندگی ملتی ہے، حق کے ساتھ انصاف کرنے میں کسی کی پاسداری نہ کیجئے گا۔ ’’سارا کاروبار جہاں کا اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتا ہے، رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘۔

(تقویۃ الایمان، ص۵۸) مقد رات الٰہی میں اثر و رسُوخ کا ایک عجیب واقعہ

اسی شیخ الاسلام نمبر میں اسعد میاں نے اپنے ’’بزگوار‘‘ کے متعلق سابرمتی جیل کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب کہ مولوی حسین احمد صاحب بھی اسی جیل میں نظر بند تھے اُنھوں نے لکھا ہے کہ اسی دوران جیل کے ایک قیدی کو پھانسی کی سزا ہو گئی، یہ سن کر اُس کا خون سُوکھ گیا منشی محمد حسین نامی کسی قیدی کے ذریعہ اس نے مولوی حسین احمد صاحب سے دعا کی درخواست کرائی اب آگے کا واقعہ خود واقعہ نگار کی زبانی سنیے، لکھا ہے کہ :

’’منشی محمد حسین حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے بہت سرہوئے فرمایا اچھا جا کر اس سے کہدو کہ وہ رہا ہوگیامنشی محمد حسین صاحب نے اس سے جا کر کہدیا کہ باپو نے کہہ دیا ہے کہ تو رہا ہوگیا دو ایک روزگزرنے کے بعد اس قیدی نے پھر بے چینی کا اظہار کیا کہ اب تک کوئی حکم نہیں آیا اور میری پھانسی میں چند ہی روز رہ گئے ہیں منشی حسین نے پھر عرض کیا تو فرمایا کہ میں نے تو کہہ دیا کہ وہ رہا ہو گیا اس کے بعد اس قیدی نے پھر بے چینی کا اظہار کیا کہ اب تک کوئی حکم نہیں آیا اور میری پھانسی میں چند ہی روز رہ گئے ہیں منشی محمد حسین نے پھر عرض کیا تو فرمایا کہ میںنے تو کہہ دیا کہ وہ رہا ہو گیا اس کے بعد دو ایک یوم پھانسی کے رہ گئے تھے کہ اس کی رہائی کا حکم آگیا‘‘۔ (شیخ الاسلام نمبر، ص۱۲۲) دعا کی درخواست کے جواب میں ’’رہا ہو جائے گا‘‘یہ ایک پُر اُمید جواب کی حیثیت سے تو سمجھ میں آسکتا ہے لیکن رہا ہونے سے قبل ’’رہا ہوگیا‘‘یہ فقرہ اسی کی زبان سے نکل سکتا ہے جس کے ہاتھ میں قضا و قدر کا محکمہ ہو یا پھر عالم غیب کا سارا کاروبار جس کے پیش نظر ہو اِس کے سِوا ایک دانش ورکی زبان سے نکلے ہوئے اس جملے کی کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔ کاروبار عالم میں مولوی حسین احمد صاحب کا اختیار و تصرف ثابت کرنے کے لیے تو یہ واقعہ تراشا گیا ہے لیکن سلطان کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے تصرف و اختیار کے سوال پر ان حضرات کے عقیدے کی زبان یہ ہے : ’’جس کا نام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں‘‘۔

(تقویۃ الایمان ، ص۴۲) اب آپ ہی بتایئے کہ حق و باطل کی راہوں کا امتیاز محسوس کرنے کے لئے کیا اب بھی مزید کسی نشانی کی ضرورت باقی ہے؟ (۵)

ایک اور حیرت انگیز تماشا

نگاہ پر بارنہ ہو تو ایک حیرت انگیز تماشا اور ملاحظہ فرمایئے مولوی احمد حسین لاہر پوری نام کے ایک شخص نے اسی شیخ الاسلام نمبر میں اپنی ایک عجیب و غریب سرگزشت لکھی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ابتدائی ایام میں میری اکثر نمازیں فوت ہو جایا کرتی تھیں خاص طور پر فجر اور ظہر کی۔ لکھتے ہیں کہ پریشان ہو کر میں نے یہ شکایت حضرت شیخ کو لکھ بھیجی اس پر اُنھوں نے تنبیہ فرمائی۔ اس کے بعد کا واقعہ خود موصوف کی زبانی سُنیے، بیان کرتے ہیں کہ :

’’ اس کے بعد سے میری یہ کیفیت ہوگئی کہ بلا ناغہ فجر و ظہر کی نماز کے وقت خواب میں حضرت کو غصے کی حالت میں دیکھا کرتا تھا فرماتے تھے کہ کیوں نماز پڑھنے کا ارادہ نہیں ہے۔

میں گھبرا کر اُٹھ جاتایہ کیفیت تقریبًا ایک ڈیڑھ ماہ رہی،جب اچھی طرح نماز کا پابند ہوگیا تو یہ کیفیت ختم ہوگئی‘‘۔

(شیخ الاسلام نمبر، ص۳۹) سینکڑوں میل کی مسافت سے بالالتزام فجر اور ظہر کے وقت ہر روز کسی کو آکر اُٹھا دینا جہاں باطنی تصرف کا بہت بڑا کمال ہے وہاں اس عظیم قوت انکشاف کا بھی حامل ہے کہ سینکڑوں میل کے فاصلے سے وہ ہر روز یہ بھی معلوم کرلیا کرتے تھے کہ فلاں شخص سو رہا ہے اُس نے اب تک نماز نہیں پڑھی اور پھر جب وہ نماز کا پابند ہو گیا تو اُنھیں اس کی بھی خبر ہوگئی اور انھوں نے خواب میں آنا چھوڑ دیا۔

یہ واقعہ پڑھتے وقت ایک خالی الذہن آدمی بالکل یہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے گھر ہی کے اندر ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں کسی سونے والے آدمی کو نماز کے وقت اُٹھا دیا کرتے تھے۔

دل کے خطرے پر مطلع ہونے کا ایک عجیب قصہ

دہلی کے مولوی اخلاق حسین قاسمی اسی شیخ الاسلام نمبر میں بیان کرتے ہیں کہ حاجی محمد حسین گزک والے دہلی کے پنجابی برادری کے رئیس تھے وہ حافظ قرآن بھی تھے لیکن اُنھیں قرآن اچھا یاد نہیں تھا ایک بار کسی موقع پر مولوی حسین احمد صاحب نے اُنھیں حافظ صاحب کہہ کر پکارا اب اس کے بعد کا واقعہ خود حاجی صاحب کی زبانی سنیے، بیان کرتے ہیں :

’’حضرت کی زبانِ مبارک سے حافظ صاحب کا لفظ سن کر سنّاٹے میں آگیا دل میں شرمندہ ہوا اور خیال آیا مجھے قرآن کریم اچھا یاد نہیں ہے یہ حضرت نے کیا فرما دیایہ خیال لے کر میں اندر جا کر بیٹھ گیا بیٹھتے ہی حضرت نے فرمایاحافظ صاحب میرا ذہن بھی خراب ہے بھورے رنگ کی ایک خاص چڑیا ہوتی ہے وہ کھایا کیجئے ذہن اچھا ہو جائے گا‘‘۔ (شیخ الاسلام نمبر، ص۱۶۳ ) اس واقعہ کا سب سے عبرت ناک حصہ مولوی اخلاق حسین قاسمی کا وہ تاثر ہے جو اُنھوں نے اس واقعہ کی بابت ظاہر کیا ہے موصوف لکھتے ہیں : ’’راقم کہتا ہے حاجی صاحب کے دل میں جو خیال گذرا حضرت مدنی کی قوت ایمانی نے اُسے محسوس کر لیا اسے اصطلاح میں ’’کشف القلوب‘‘ کہتے ہیں ‘‘۔ (شیخ الاسلام نمبر، ص۱۶۳ )

یہ سوال دہرانے کے لئے ہمیں اس سے زیادہ اور کوئی جگہ نہیں مل سکتی کہ دل کے چھپے ہوئے خطرے کو محسوس کرنے والی یہ قوت ایمانی ان حضرات کے تئیں خود پیغمبر اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اندر موجود تھی یا نہیں ؟ اگر موجود تھی تو عقیدے کی یہ زبان کس کے حق میں استعمال کی گئی ہے :

’’اس بات میں بھی ان کو کچھ بڑائی نہیں کہ اللہ صاحب نے غیب دانی ان اختیار میں دے دی ہو کہ جس کے دل کے احوال جب چاہیں معلوم کرلیں ‘‘۔ (تقویۃ الایمان، ص ۳)

اب ایمان و دیانت کے اس خون کا انصاف میں آپ ہی کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں کہ دیوبندی مذہب کے مطابق جو قوت ایمانی خدا نے پیغمبر کو نہیں بخشی وہ دیوبند کے شیخ الاسلام کو کیونکر حاصل ہو گئی۔ غیبی قوت ادراک اور باطنی تصرف کا ایک اور ایمان شکن واقعہ

اب غیبی قوتِ اِدراک اور باطنی تصرف کا ایک نہایت سنسنی خیز واقعہ سنیے : مولوی حسین احمد صاحب کے ایک مرید ڈاکٹر حافظ محمد زکریا نے اسی شیخ الاسلام نمبر میں اپنی ایک آپ بیتی نقل کی ہے اُنھوں نے بتایا ہے کہ اُن کے ایک پیر بھائی سخت بیمار ہوئے حالت نہایت سنگین ہوگئی اب اس کے بعد کا واقعہ خود موصوف ہی کی زبانی سنیے، لکھتے ہیں کہ :

’’میں بحیثیت معالج بلایا گیا تو دیکھتا ہوں کہ جسم بالکل بے حس و حرکت ہے آنکھیں پتھراگئی ہیں، آثارِ مرگ بظاہر نمایاں ہیں یہ منظر دیکھ کر میں پریشان اور بے چین ہو گیا کہ ناگہاں مریض رفتہ رفتہ اپنا ہاتھ اُٹھا کر کسی کو سلام کرتا ہے، پھر کہتا ہے کہ حضرت یہاں تشریف رکھیئے، کچھ ہی دیر بعد اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے والد وغیرہ سے کہتا ہے کہ حضرت کہاں تشریف لے گئے، جواب میں لوگ کہتے ہیں کہ حضرت تو یہاں تشریف فرما نہیں تھے، وہ حیرت سے کہتا ہے کہ حضرت تو یہاں تشریف لائے تھے اور میرے چہرے اور بدن پر ہاتھ پھیر کر فرمایا کہ اچھے ہوجائوگے گھبرائو نہیں (ڈاکٹر صاحب موصوف فرماتے ہیں) کہ ابھی میں بیٹھا ہی تھا کہ دیکھتا ہوں کہ بخار ایک دم غائب ہے اور وہ بالکل تندرست اچھا ہے‘‘۔

(شیخ الاسلام نمبر، ص۱۶۳)

اب اس کے بعد واقعات کے مرتب مولوی سلیمان اعظمی فاضل دیوبند کا یہ بیان خاص توجہ سے پڑھنے کے قابل ہے :

’’جامع کہتا ہے کہ حضرت شیخ کی یہ ادنیٰ کرامت ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت کو اپنے منتسبین (مریدین) سے کیسا گہرا تعلق ہوتا تھا‘‘۔

(شیخ الاسلام نمبر، ص۱۶۳) کیا سمجھے آپ ؟ دراصل یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ’’حضرت شیخ‘‘کی تشریف آوری کا واقعہ اس مریض کے واہمہ کا کوئی تصرف نہیں تھا بلکہ حقیقتاً ’’حضرت شیخ‘‘ اس کے پاس تشریف لائے تھے اور چشمِ زدن میں شِفایاب کر کے چلے گئے۔

ایک لمحے کہ لیے ذرا خالی الذہن ہو کر سوچئے کہ اس واقعہ کے ضِمن میں کتنے سوالات سَر اُٹھا رہے ہیں۔ پہلا سوال تو یہی ہے کہ اگر مولوی حسین احمد صاحب کو عِلم غیب نہیں تھاتو اُنھوں نے سینکڑوں میل کی مسافت سے یہ کیونکر معلوم کر لیا کہ ہمارا فلاں مُرید علالت کے سنگین مرحلے سے گزر رہا ہے فوراً چل کر اس کی مدد کی جائے۔ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اس مریض کے پاس وہ خواب میں نہیں بلکہ عین بیداری کی حالت میں تشریف لائے اور وہ بھی ایک لطیف پیکر میں کہ اُس مریض کہ سِوا آس پاس کے تمام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہے آخر جیتے جی یہ روح کی طرح ایک لطیف پیکر اُنھیں کہاں سے مل گیا۔؟ اور شِفا بخشی کی ذرا یہ قوت کرشمہ ساز بھی دیکھئے کہ اُدھر مسیحا نے ہاتھ پھیرا اور اِدھر بیمار نیم جاں نے آنکھیں کھول دیں۔ دیوبندی مذہب میں اگر ان چیزوں کا نام خدائی تصرف نہیں ہے تو صاحب تقویۃ الایمان نے سیاہ لکیروں کے ذریعہ خدائی اختیارات کی جو تصویر کھینچی ہے وہ تصویر کس کی ہے۔؟ پھر انصاف و دیانت کی یہ کتنی دردناک پامالی ہے کہ غیبی قوتِ انکشاف اور تصرف و اختیار کا جو عقیدہ دیوبندی حضرات کے نزدیک رسولِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حق میں ثابت شدہ نہیں ہے وہی ان کے شیخ کی ادنیٰ کرامت ہے ۔ آواز دو غیرت حق کو! وہ کہاں مر گئی۔! ّّّّّّّّّّ___________ (۷)

ایک اور تہلکہ خیز کہا نی

غیبی قوت ادراک اور باطنی تصرفات کی اس سے بھی زیادہ ایک تہلکہ خیز کہانی ملاحظہ فرمایئے : دیوبندی رہنما مفتی عزیز الرحمن بجنوری نے ’’انفاس قدسیہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جو مدینہ بکڈپو بجنورسے شائع ہوئی ہے وہ کتاب مولوی حسین احمد صاحب کے حالاتِ زندگی پر مشتمل ہے موصوف نے اس کتاب میں مولوی احمد حسین صاحب کے کسی مرید کا ایک واقعہ نقل کیا ہے جو اُسے آسام کے ایک پہاڑی علاقے میں پیش آیا تھا، اب پوری کہانی اُنہی کے الفاظ میں سنئے :

’’بالی ندی مولوی بازار کے ایک صاحب آزادی سے قبل ڈھاکہ سے شیلانگ بذریعہ موٹر جا رہے تھے صوبہ آسام کا اکثر حِصہ پہاڑی ہے اس میں موٹر یا بس چلنے کا جو راستہ ہے وہ بہت تنگ ہے فقط ایک گاڑی جا سکتی ہے، دو کی گنجائش نہیں۔ یہ صاحب حضرت کے مُرید تھے جب نصف راستہ طے ہوگیا تو دیکھا کہ سامنے سے ایک گھوڑا بڑے زوروں سے آرہا ہے اس شخص اور دیگر تمام حضرات کو خطرہ پیدا ہوا کہ اب کیا ہوگا موٹر روک لی لیکن اسکے باوجود بھی بڑی تشویش ہوئی کیونکہ گھوڑابلا سوار بڑی تیزی سے دوڑا آرہا تھا۔

راوی کا کہنا ہے کہ اس شخص نے اپنے دل میں سوچاکہ اگر پیرومرشد ہوتے دعا کرتے ابھی اتنا سوچا تھا کہ حضرت شیخ گھوڑے کی لگام پکڑ کر کہیں غائب ہو گئے‘‘۔ (انفاس قدسیہ، ص۱۸۶)
کہاں دیوبند اور کہاں آسام کی پہاڑی! درمیان میں سینکڑوں میل کا فاصلہ ! لیکن دل میں خیال گذرتے ہی ’’حضرت‘‘وہاں چشمِ زدن میں پہنچ گئے اور گھوڑے کی لگام تھاکر بجلی کی طرح غائب بھی ہو گئے۔ سینکڑوں میل کے فاصلے سے دل کی زبان کا استغاثہ اُنھوں نے سن لیا اور سن ہی نہیں لیا بلکہ وہیں سے یہ بھی معلوم کر لیا کہ واقعہ کہاں درپیش ہے اور صرف معلوم ہی نہیں کر لیا بلکہ چشمِ زدن میں وہاں پہنچ بھی گئے اور پہنچ ہی نہیں گئے بلکہ اسپ صبارفتار کی لگام پکڑ کر غائب بھی ہوگئے۔ اب حق پرستی کا نشان دنیا سے اگر مِٹ نہیں گیا ہے تو تصویر کے پہلے رُخ میں دیوبندی مذہب کے جو اقتباسات نقل کیے گئے ہیں اُنھیں سامنے رکھ کر فیصلہ کیجیے کہ مولوی حسین احمد صاحب کی غیبی چارہ گری کا یہ قصہ کیا یہ اثر نہیں چھوڑتا کہ ان حضرات کے یہاں شِرک کی یہ ساری بحثیں صرف انبیاء و اولیاء کی حرمتوں سے کھیلنے کے لئے ہیں ورنہ خالص عقیدئہ توحید کا جذبہ اس کے پیچھے کار فرما ہوتا تو شرک کے سوال پر اپنے اور بیگانے کی یہ تفریق کیوں رَوا رکھی جاتی ہے۔ غور فرمایئے ! یہ سارے واقعات وہ ہیں جو غیبی ادراک اور تصرف کی وہ قوت چاہتے ہیں جسے دیوبندی حضرات کے نزدیک کسی مخلوق میں تسلیم کرنا شرک ہے لیکن مبارک ہو ! کہ ’’شیخ‘‘کی محبت میں یہ شرک بھی اُنھوں نے اپنے حلق کے نیچے اُتارلیا۔

یاللعجب ! کہ دیوبند کے یہ بت تراش آزرآج توحید کے دعویدار بنے ہوئے ہیں۔ وفات کے بعد لحد سے نکل کر دوست کے گھر آنا

یہ قصہ تو حضرت شیخ کی حیات ظاہری کا تھا کہ بجلی کی طرح چمکے اور غائب ہو گئے اور لوگوں نے ماتھے کی آنکھوں سے اُنھیں دیکھ بھی لیالیکن اب وفات کے بعد اپنی لحد سے نکل کر تشریف لانے کا ایک حیرت انگیز واقعہ سُنئے ۔

کچھ عرصہ ہو ا دیوبند کے ترجمان ماہنامہ دارالعلوم میں مولوی ابراہیم صاحب بلیاوی کی موت پر ایک نہایت سنسنی خیز خبر شائع ہوئی تھی مرض الموت کا عینی شاہد لکھتا ہے کہ جب مولوی ابراہیم صاحب کی موت کا وقت قریب ہوا تو اُنھوں نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرکے فرمایا :

ــــ’’حضرت والد صاحب کھڑے ہیں تو ادب نہیں کرتا حضرت مدنی کھڑے ہنس رہے ہیں اوربلا رہے ہیںشاہ وصی اللہ صاحب آئے ہیں مجھ کو اُٹھاو۔‘‘ (دارالعلوم بابت مارچ ۱۹۶۷ء ، ص۳۷)

   مولوی حسین احمد صاحب کو دیوبند کی سرزمین میں پیوند خاک ہوئے کافی عرصہ گزر گیا اور شاہ وصی اللہ صاحب کا کیا کہنا کہ اُنھیں تو دفن ہونے کے لئے دوگز زمین بھی میسّر نہیں آئی جہاز ہی سے وہ سمندر کی گود میں سُلا دئیے گئے۔

اب سوال یہ ہے کہ ان حضرات کو علم غیب نہیں تھا تو مولوی حسین احمد صاحب کو دیوبند کے گورستان میں اور شاہ وصی اللہ صاحب کو سمندر کی تہوں میں کیونکر خبر ہو گئی کہ مولوی ابراہیم پابہ رکاب ہیں اُنھیں چل کر اپنے ہمراہ لایا جائے اور پھر اتنا ہی نہیں غیبی قوتِ ادراک کے ساتھ ساتھ اُن کے اندر حرکتِ ارادی کی یہ قدرت بھی تسلیم کر لی گئی کہ وہ عالم برزخ سے چل کر سیدھے مرنے والے کے بسترِ مرگ تک جا پہنچے اور اسے ہمراہ لئے ہوئے شہر خموشاں کی طرف واپس لوٹ گئے۔

اب ہماری مظلومی کے ساتھ انصاف کیجئے کہ علم و ادراک اور قدرت و اختیار کا یہی عقیدہ ہم اپنے آقائے بر حق سید عالم ﷺ کے حق میں روا رکھتے ہیں تو دیوبند کے یہـ’’موحدین‘‘ہمیں ابوجہل کے برابر مشرک سمجھنے لگتے ہیں۔

بھاگلپور سے ایک مرید کا بذریعہ مراقبہ جنازے میں شریک ہونا

اب تک تو بات چل رہی تھی خود حضرت ـ’’شیخ‘‘کی لیکن اب اُن کے ایک مرید کی غیبی قوتِ ادراک کا کمال ملاحظہ فرمائیے۔

ضلع بھاگلپور کے کسی گائوں میں حاجی جمال الدین نام کے کوئی مرید تھے، اُنھوں نے اسی شیخ الاسلام نمبرمیں اپنے حضرت کی وفات کے بعد کا ایک حیرت انگیز قصہ بیان کیا ہے لکھتے ہیں کہ :

’’میں حضرت کے وصال کے بعد شبِ جمعہ کو(واضح رہے کہ’’حضرت‘‘ کا انتقال جمعرات کے دن ہوا تھا)بارہ تسبیح سے فراغت کے بعد کچھ دیر مراقب ہو کر بیٹھ گیا کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت کا وصال ہو گیا ہے اور مجمع کثیر ہے اور حضرت کی نماز پڑھی جا رہی ہے میں بھی ان لوگوں کو دیکھ کر نماز جنازہ میں شریک ہو گیااس کے بعد لوگ حضرت کو قبرستان کی طرف لے چلے‘‘۔ (شیخ الاسلام نمبر، ص ۱۶۳)

کتنا عجیب و غریب مراقبہ ہے کہ بغیر کسی’’نامہ بر‘‘ کے حضرت کے وصال کی خبر بھی معلوم ہو گئی گھر بیٹھے بیٹھے آنکھوں سے جنازے کا مجمع بھی دیکھ لیا اور پلک جھپکتے وہاں پہنچ کر جنازے میں شریک بھی ہو گئے واضح رہے کہ مراقبہ کی حالت خواب کی حالت نہیں ہوتی بلکہ عین بیداری کی حالت ہوتی ہے۔

اب ایک طرف بے حجاب مشاہدات اور خدائی تصرفات کا یہ کھلا ہوا دعویٰ ملاحظہ فرمائیے کہ درمیان کا حجاب اُٹھانے کے لئے حضرت جبرئیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بھی کوئی احتیاج نہیں پیش آ ئی اور دوسری طرف نبی اعظم ﷺ کے حق میں ان حضرات کے عقیدے کا یہ نوشتہ پڑھئے کہ معاذ اللہ سرکا ر کائنات کو پس دیوار کی بھی خبر نہیں ہے اور ان کے علم و ادراک کا ہر گوشہ حضرت جبرئیل کا شرمندہ احسان ہے۔

غیب دانی کے چند واقعات

مفتی عزیز الرحمن بخبوری نے اپنی کتاب’’انفاس قدسیہ‘‘ میں اپنے’’حضرت‘‘ کی غیب دانی سے متعلق دو عجیب و غریب واقعے نقل کیے ہیں ذیل میں پڑھئے اور توحید پرستی کے مقابلے میں’’شیخ پرستی‘‘کے جذبے کی فراوانی کا تماشا دیکھئے :

پہلا واقعہ

لکھتے ہیں کہ :

’’رمضان المبارک کے موقعہ پر بارہا ایسا ہو ا ہے کہ جس دن آپ سورہ اِنّا انزلنا وتروں میں تلاوت فرماتے اسی دن شب قدر ہوتی تھی اور عید کی چاند رات کے بارے میں بارہا تجربہ کیا ہے کہ جس دن چاند رات ہوتی تھی حضرت اسی دن صبح سے عید کا انتظام شروع کر دیتے تھے اور ایک دن پیشتر قرآن شریف ختم کر دیتے تھے چاہے ۲۹ ؍ تاریخ کیوں نہ ہو حضرت کے اس طریقے کی بنا پر حضرت کا ہر خانقاہ ہی بتا سکتا تھا کہ آج چاند رات ہے۔‘‘

(انفاس قدسیہ، ص ۱۸۵) ’’جس دن آپ سورہ اِنّا انزلنا وتروں میں تلاوت فرماتے اسی دن شب قدر ہوتی تھی‘‘ کا یہ مطلب نہ بھی لیا جائے کہ آپ کے تلاوت فرما دینے کی وجہ سے چاروناچار اس دن کو شب قدر ہونا پڑتا تھا جب بھی یہ مفہوم اپنی جگہ پر قطعی متعین ہے کہ آپ کو شب قدر کا علم ہو جاتا تھا حالانکہ اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں کہ شب قدر مخلوق کے درمیان ایک سرّالٰہی کی طرح مستور رکھی گئی ہے خود رسُول پاک صاحبِ لولاک ﷺ نے بھی صراحت کے ساتھ اس کی تعیین نہیں فرمائی ہے لیکن دیوبند کے یہ’’حضرات‘‘اپنی غیبی قوتِ ادراک کے ذریعہ خدا کے حرم میںنقب ڈال کر یہ معلوم کر لیتے تھے کہ آج شب قدر ہے۔

اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کئی دن پیشتر آپ پر یہ بھی منکشف ہو جاتا تھا کہ کس دن چاند نظر آئے گا اور پھر یہ علم اتنا یقینی ہوتا تھا کہ اپنے اس علم کی بنیاد پر وہ خود بھی قبل از وقت عید کی تیاری شروع کر دیتے تھے اور ان کے خانقاہ کے درویشوں کو بھی چاند رات معلوم کرنے کے لئے آسمان کی طرف دیکھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔

اپنے حضرت کے متعلق توحید کے علمبرداروں کا ذرا یہ ذہن ملاحظہ فرمایئے کتاب و سنت کی ساری ہدایات یہاں بے کار ہو گئیں اب صرف’’حضرت‘‘ کا جذبہ عقیدت ہے اور وہ ہیں۔

دوسرا واقعہ

لکھتے ہیں کہ :

ــ’’مولوی اسحاق صاحب حبیب گنجی بیان فرماتے ہیں کہ ہر رمضان المبارک کے موقعہ پر آپ سلہٹ والوں کے اصرار پر سلہٹ تشریف لاتے تھے اس سلسلے میںسلہٹ کے ایک دوکاندار سے چندہ لینے کے لیے بات چیت ہوئی اس نے ترش روئی سے گیارہ روپے چندہ دیا اور یہ لفظ کہا کہ کیا یہ ٹیکس ہے؟

بہرحال وصول شدہ چندے کی ایک رقم حضرت کے پاس بھیج دی گئی چند ہی روز بعد اس میں سے گیارہ روپے واپس آگئے اور کوپن پر تحریر تھا کہ دوکاندار سے روپیہ لے کر روانہ کرنا مجھے پسند نہیں اس کو یہ روپیہ واپس دے دو‘‘۔

(انفاس قدسیہ، ص۱۸۶) اللہ اکبر!کہاں سلہٹ(بنگلہ دیش) کہاں دیوبند! لیکن واقعہ کی نوعیت پڑھ کی بالکل ایسا لگتا ہے کہ جیسے اُس دوکاندار کی ترش روئی کا واقعہ بالکل’’حضرت‘‘ کے سامنے پیش آیا ہویہ ہے جذبہ عقیدت کی کار فرمائی کہ جسے مان لیا مان لیا۔

تیسرا واقعہ

دہلی کے مولوی عبد الوحید صدیقی نے’’عظیم مدنی نمبر‘‘کے نام سے اپنے اخبار نئی دنیا کا ایک نمبر شائع کیا تھا موصوف نے اپنے اس نمبر میں مولوی حسین احمد صاحب کی غیب دانی سے متعلق مراد آباد جیل کے دو واقعے نقل کیے ہیں جو ذیل میں درج کیے جاتے ہیں لکھتے ہیں کہ :

’’ایک دن حضرت کے نام پانوں کا پارسل آیا جس کا علم صرف بنرجی صاحب(جیلر)کو ہی تھا اور کسی شخص کو نہ تھا موصوف نے وہ پارسل بہ نظر احتیاط روک لیا تھوڑے عرصے کے بعد حسب معمول بارکوں کے معائنے کے لئے گئے۔ حضرت مدنی کے ساتھ اُس وقت حافظ محمد ابراہیم صاحب اور دیگر حضرات تھے جیسے ہی جناب بنر جی صاحب حضرت کے سامنے آئے حضرت نے فرمایا کیوں صاحب!آپ نے میرا پانوں کا پارسل کیوں روک لیا ہے خیر کچھ حرج نہیں،آج اُس میں سے صرف ۶ پان دے دیجئے پرسوں تک دوسرا پارسل آجائے گا۔

جناب بنرجی کو بڑا تعجب ہوا کہ اس واقعہ کا علم حضرت کو کیسے ہوا موصوف نے چپکے سے پان لا کر حاضر کر دئیے، حضرت نے اس میں سے صرف چھ عدد پان لے لیے اور بقیہ واپس فرما دئیے اور فرمایا کہ میرا پان پرسوں تک آئے گا اس کو نہ روکیے گا تیسرے روز حسبِ ارشاد پانوں کا پارسل آیا اب موصوف کو خیال ہوا کہ یہ معمولی شخص نہیں بلکہ کوئی پہنچے ہوئے فقیر معلوم ہوتے ہیں‘‘۔

(روزنامہ نئی دنیا دہلی کا عظیم مدنی نمبر، ص۲۰۸)

اسے کہتے ہیں ایک تیر میں دو نشانہ! گزشتہ کا حال بھی بتا دیا کہ میرا پانوں کا پارسل آیا ہوا تھا اُسے آپ نے روک لیا اور آئندہ کی بھی خبردے دی کہ پرسوں تک میرا پانوں کا پارسل پھر آئے گا اُسے نہ روکیے گا۔

اب اس واقعہ کے ذیل میں سب سے بڑا ماتم اس سنگ دلی کا ہے کہ یہاں گذشتہ اور آئندہ کا علم تو خدا تک پہنچے ہوئے فقیر کی علامت ٹھہرالی لیکن جس محبوب کی رسائی ذاتِ کبریا تک بلا واسطہ ہوئی وہاں یہ علامت تسلیم کرتے ہوئے ان حضرات کو شرک کا آزار ستانے لگتا ہے۔

چوتھا واقعہ

اسی جیل کا دوسرا واقعہ موصوف بیان کرتے ہیں کہ :

’’انہی دنوں جیل میں مولانا کے نام کہیں سے کوئی خط آیا تھا جس پر محکمہ سنسر کی مہر لگی ہوئی تھی جیلر نے وہ خط مولانا کو دیدیئے ، انسپکٹر جنرل کی طرف سے باز پُرس ہوئی اور اسی جُرم میں جیلر کو معطل کر دیا گیا۔

اس واقعہ کے فوراٌ بعد صاحب موصوف مولانا کی خدمت میں پہنچے دیکھتے ہی مسکرا کر مولانا نے فرمایا پان جو دئیے تھے اس سے معطل ہوئے پان نہ دیتے تو کیا ہوتاان کو سخت حیرت تھی کہ واقعہ ابھی ابھی دفتر میں ہوا ہے کسی کوخبر تک نہیں انہیں کیونکر علم ہوا اُنھوں نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو ارشاد فرمایا ان شاء اللہ کل تک بحالی کا حکم آجائے گاتم مطمئن رہو۔ان کی حیرت کی انتہا نہ تھی دوسرے دن ڈاک میں جو پہلی چیز ہاتھ میںآئی وہ معطلی کے حکم کی منسوخی اور بحالی تھی اس واقعہ سے بنر جی صاحب اور دیگر عہدیدارانِ جیل حضرت کے معتقد ہو گئے‘‘۔ (نئی دنیا کا عظیم مدنی نمبر، ص ۲۰۸) یہاں بھی ایک تیر میں دو نشانہ ہے! گزشتہ کی خبر دیدی اور آئندہ کا بھی حال بتا دیا۔

یہ سوچ کر آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگتا ہے کہ جس کمال کو اپنے شیخ کے حق میں کافروں کے معتقد ہونے کا ذریعہ تسلیم کیا گیا اُسی کمال کو جب مسلمان اپنے نبی کے حق میں تسلیم کرتے ہیں تو یہ اُنھیں مُشرک سمجھنے لگتے ہیں۔

چوتھا باب جو شیخ دیوبندی مولوی حسین احمد صاحب کے حالات و واقعات پر مشتمل تھا یہاں پہنچ کر تمام ہو گیا۔

اب آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ’’تصویر کے پہلے رُخ میں جن اعتقادات کو ان حضرات نے اپنے انبیاء و اولیاء کے حق میں شرک قرار دیا تھا اپنے اور اپنے بزرگوں کے حق میں وہی اعتقادات عین اسلام کیونکر بن گئے؟

تصویر کے پہلے رُخ میں اپنے جن معتقدات کا اظہار کیا گیا ہے یا تو وہ باطل ہیں یا پھر تصویر کے دوسرے رُخ میں جو واقعات نقل کیے گئے ہیں وہ غلط ہیں ان دو باتوںمیں سے جو بات بھی قبول کی جائے مذہبی دیانت، دینی اعتماد اور علمی ثقاہت کا خون ضروری ہے۔

غیرت حق کا جلال اگر نقطئہ اعتدال کی طرف لوٹ آیا ہو تو ورق اُلٹئے اور پانچویں باب کا مطالعہ کیجئے۔ پانچواں باب اکابر دیوبند کے مرشد معظم حضرت مولانا حاجی امداد اللہ صاحب تھانوی کے بیان میں

اس باب میں حضرت شاہ حاجی امداد اللہ صاحب کے متعلق مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی، مولوی اشرف علی صاحب تھانوی اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی وغیرھم کی روایات سے وہ واقعات و حالات جمع کئے گئے ہیں جو عقیدہ توحید کے تقاضوں سے تصادم، مذہب سے انحراف اور مُنھ بولے شرک کو اپنے بزرگوں کے حق میں اسلام و ایمان بنا لینے کی شہادتوں سے بوجھل ہیں، چشمِ انصاف کھول کر پڑھیئے اور ضمیر کی آواز سُننے کے لئے گوش بر آواز رہیئے! سلسلئہ واقعات (۱) ٰ خبر رسا نی کا ا یک نیا ذ ریعہ

حضرت شاہ امداد اللہ صاحب سے متعلق ذیل کے اکثر واقعات ’’کرامات امدادیہ‘‘نامی کتاب سے اخذ کیے گئے ہیں جو مولوی محمد قاسم نانوتوی، مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی اشرف علی صاحب تھانوی وغیرہم کی روایات پر مشتمل ہے یہ کتاب کتب خانہ ہادی دیوبند سے شائع ہوئی ہے۔

اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب کے ایک مُرید مولانا محمد حسن صاحب اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ :

’’ایک دن ظہر کے بعد میں اور مولوی منور علی اور ملّا محب الدین صاحب کوئی ضروری بات عرض کرنے کو حضرت کی خدمت میںحاضر ہوئے ، حضرت حسب معمول اُوپر جا چکے تھا،کوئی آدمی تھا نہیں کہ اطلاع کرائی جاتی،آواز دینا ادب کے خلاف تھا، آپس میں مشورہ کیا کہ حضرت کے قلب کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ جائیں بات کا جواب مل جائے گا یا حضرت خود تشریف لائیںگے۔

تھوڑی دیرنہ گذری تھی کہ حضرت اوپر سے تشریف نیچے لائے ہم لوگوں نے معذرت کی اس وقت حضرت لیٹے ہو ئے تھے ناحق تکلیف ہوئی، ارشاد ہوا کہ تم لوگوں نے لیٹنے بھی دیا کیونکر لیٹتا۔‘‘

(کرامات امدادیہ ، ص۱۳)

دیکھ رہے ہیں آپ! مراقبہ ان حضرات کے یہاں خبر رسانی کا کتنا عام ذریعہ ہے جب چاہا اور جہاں چاہا، گردن جھکائی اور گفتگو کرلی یا حال معلوم کرلیا، نہ ادھر کوئی زحمت نہ ادھر کوئی سوال کہ دل کے مخفی ارادوں پر کیونکر اطلاع ہوئی، وائرلیس کی طرح ایک طرف سگنل دیا اور دوسری طرف وصول کرلیا۔

لیکن کتنی شرمناک ہے دین میں یہ پاسداری کہ اپنے اور اپنے ’’شیخ‘‘ کے سوال پر شرک کے سارے ضابطے ٹوٹ گئے اور جو بات نبی و ولی کے حق میں کُفر تھی و ہی اپنے شیخ کے حق میں کیونکر اسلام بن گئی۔ (۲)

ایک مذہب شکن واقعَہ

اب اور دلچسپ واقعہ سنئے !

مولوی مظفر حسن صاحب کا ندھلوی دیوبندی جماعت کے مانے ہوئے بزرگوں میں ہیں، تھانوی صاحب ان کی روایت سے اپنے پیرومُرشد حضرت شاہ صاحب کا ایک عجیب وغریب واقعہ نقل کر تے ہیں کہ :

’’ حضرت مولانا مظفر حسن صاحب مرحوم مکّہ معظمہ میں بیمار ہوئے اور اشتیا ق تھا کہ مدینہ منورہ میں وفات ہو حاجی صاحب سے استفسار کیا کہ میری وفات مدینہ منورہ میں ہوگی یا نہیں ؟ حاجی صاحب نے فرمایا کہ میں کیا جانوں ؟ عرض کیا حضرت ! یہ عذرتور ہنے دیئے جواب مرحمت فرمایئے، حاجی صاحب نے مراقب ہو کر فرمایا کہ آپ مدینہ منورہ میں وفات پائیں گے‘‘۔

(قصص الاکابر ص، ۱۳۶ ، مصنّف مولوی اشرف علی تھانوی)

بتایئے ! یہ آنکھوں سے لہو ٹپکنے کی بات ہے یا نہیں ؟ نصف صدی سے یہ لوگ چیخ رہے ہیں کہ سوائے خدا کے کسی کو علم نہیں کہ کون کہاں مرے گا یہاں تک کہ پیغمبر اعظم صلی اﷲ علیہ و سلم کے عِلم غیب کے انکار ہیں وَماَ تَدْ ریْ نَفْسُٗ بِاَیِّ اَرضٍ تَمُوْت والی آیت ان حضرات کی نوک زبان و قلم سے ہروقت لگی رہتی ہے حالانکہ وہ آیت اب بھی قرآن کریم میں موجود ہے لیکن اپنے شیخ کے بارے میں ان حضرات کی خوش عقیدگی ملاحظہ فرمایئے کہ اُنھوں نے مراقبہ کرتے ہی ایک ایسی بات معلوم کرلی جو صرف خدا کا حق ہے اور اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی خدا نے یہ علم نہیں عطا فرمایا، جیسا کہ ’’فتح بریلی کا دلکش نظارہ‘‘ نامی کتاب میں دیوبندی جماعت کے معتمد وکیل مولوی منظور نعمانی تحریر فرماتے ہیں :

’’وہ پانچ غیب جن میں مرنے کی جگہ کا علم بھی شامل ہے) اُن کو حق تعالیٰ نے اپنے لئے خاص کرلیا ہے ان کی اطلاع نہ کسی مقرب فرشتے کو دی نہ کسی نبی و رسول کو‘‘۔ (فتح بریلی کا دلکش نظارہ،ص ۸۵)

پھر مراقبہ اور قلبی توجہ کی یہ قوت جس نے چشم زدن میں پردئہ غیب کا ایک سر بستہ راز معلوم کر لیا نبی عربی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے حق میں یہ حضرات تسلیم نہیں کرتے جیسا کہ یہی تھانوی صاحب جو اپنے پیر و مُرشد کے حق میں اس عظیم قوت انکشاف کے خود قائل ہیں اپنی کتاب حفظ الایمان میں سید کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم کی غیبی قوت ادر اک پر بحث کر تے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ بہت سے امور میں آپ کا خاص اہتمام سے توجہ فرمایا بلکہ فکرو پریشانی میں واقع ہو نا ثابت ہے، قصہ افک میں آپ کی تفتیش و انکشاف بابلغ وجوہ صحاح میں مذکورہے مگر صرف توجہ سے انکشاف نہیں ہوا بعد ایک ماہ وحی کے ذریعہ اطمینان ہوا۔‘‘ (حفظ الایمان،ص ۷)

تھانوی صاحب کا یہ بیان اگر صحیح ہے تو بظاہر اس کی دو ہی وجہ سمجھ میں آتی ہیں کہ یا تو حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم کی غیبی قوت ادِراک معاذاﷲ اتنی کمزور تھی کہ مخفی حقائق کی تہہ تک پہنچنے سے قاصر رہ گئی یا پھر معاذاﷲ بارگاہ خداوندی میں اُنھیں تقرب کا وہ درجہ حا صل نہیں تھا کہ توجہ کرتے ہی انکشاف ہو جاتا اور ایک ماہ فکر و پریشانی میں مبتلا رہنے کی نوبت نہ آتی اور پھر اس قسم کا حادثہ ایک بار نہیں پیش آیا کہ اُسے اتفاق پر محمول کر لیا جائے بلکہ تھانوی صاحب کے کہنے کے مطابق بہت سے امور میں اس طرح کے حالات سے حضور کو گزرنا پڑا۔

اب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ اپنے رسول کے حق میں ذہن کی بیگانگی اور قلم کی بیوفائی کا کیا اس سے بھی بڑھ کر اور کوئی ثبوت چاہیئے کہ اپنے شیخ کے علم کی تحسین اور رسول کے علم کی تنقیص دونوں کا مصنف ایک ہی شخص ہے اور پھر اس واقعہ میں حسن اعتقاد کا سب سے دلچسپ تماشا تو یہ ہے کہ جب شاہ صاحب نے قرآن کی آیت کے بموجب اپنی لاعلمی کا اظہار کیا تو اس پر وہ خاموش نہیں ہو گئے بلکہ یہ کہہ کر کہ’’ یہ عذرتو رہنے دیجئے‘‘ ان کی غیب دانی کے متعلق اپنے دل کے یقین کا بالکل نقاب اُلٹ دیا۔

اب اس کا فیصلہ آپ ہی کیجئے کہ بالکل ایک ہی طرح کے مقدمہ میں ان حضرات کے یہاں سوچنے کا انداز اپنے اور بیگا نے کی طرح کیوں ہے ؟ (۳) روئے زمین کے علمِ محیط کا ایک عجیب واقعہ

اب ایک بہت ہی پر لطف اور حیرت افزا قصہ سنیئے، شاہ صاحب کے خاص مریدوں میں مولوی محمد اسمٰعیل نامی ایک صاحب گذرے ہیں، کراماتِ امدادیہ میں وہ اپنے بھائی کی زبانی عجیب وغریب واقعہ نقل کرتے ہیں کہ :

’’ میں نے اپنے برادر معظم حاجی عبدالحمید صاحب سے سنا ہے کہ ایک دفعہ مولوی محی الدین صاحب فرماتے تھے کہ چونکہ حضرت حاجی صاحب عرصہ دراز سے بوجہ ضعف بدن کے حج کر نے سے معذور تھے ہم نے ایک دوست سے کہا کہ آج خاص یوم عرفات (یعنی یوم حج ہے) دیکھنا چاہئے کہ حضرت کہاں ہیں ؟ اُنہوں نے مراقب ہوکر دیکھاکہ حضرت جبل عرفات کے نیچے تشریف رکھتے ہیںہم لوگوں نے بعد کو عرض کیا کہ آپ یومِ عرفات میں کہاں تھے ؟ حضرت نے کہا کہیں بھی نہیں مکان پر تھا ہم لوگوں نے عرض کیا حضرت آپ تو فلاں جگہ تشریف رکھتے تھے، حضرت نے فرمایا یااﷲ لوگ کہیں بھی چھپا نہیں رہنے دیتے‘‘۔

(کرامات امدادیہ، ص۲۰)

یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ شاہ صاحب نے غلط طور پر کہہ دیا کہ وہ مکان پر تھے اس لیے شاہ صاحب کو غلط بیانی کے الزام سے بچانے کے لیے یہ ماننا پڑے گا کہ اس دن وہ مکان پر بھی تھے اور جبل عرفات کے نیچے بھی۔

لیکن اپنے شیخ کے حق میں دل کی وارفتگی کا یہ تصرف یادرکھنے کے قابل ہے کہ ایک وجود کو متعدد مقامات میں موجود تصور کر تے ہوئے نہ اُنھیں عقل کا کوئی استحالہ نظر آیا اور نہ قانون شریعت کی کوئی خلاف ورزی محسوس ہوئی اور پھرداددیجئے اس تلاش کرنے والوں کو جو گھر بیٹھے سارا جہان چھان آئے اور بالآخر جبل عرفات کے نیچے اپنے شیخ کو پا لیا اسے کہتے ہیں علم وادراک کی غیبی توانائی جو خانقاہ امدایہ کے درویشوں کو تو حاصل ہے لیکن دیوبندی مذہب میں سیدالانبیا ء کو حاصل نہیں ہے۔

اور شاہ صاحب کا یہ جواب کہ ’’یا اﷲ لوگ کہیں بھی چھپا نہیں رہنے دیتے۔‘‘ مریدین و متوسلین کی غیب دانی کے ثبوت کے لیے ایک الہامی دستاویز سے کم نہیں ہے۔

ایمان کی بوجھل شہادتوں کو گواہ بنا کر کہئے کہ حق و باطل کی راہوں کا اتیار محسوس کرنے کے لئے کیا اب بھی کسی مزید نشانی کی ضرورت باقی ہے ؟ (۴) عقیدہ تو حید سے ایک خون ریز تصاویر

نگاہ پربوجھ نہ ہو تو عقیدئہ توحید کے ساتھ خون ریز تصادم کا ایک واقعہ پڑھیئے،اسی کراماتِ امدادیہ میں بیان کیا گیا ہے کہ ان ہی شاہ صاحب کے ایک مرید کسی بحری جہاز سے سفر کر رہے تھے ایک تلاطم خیز طوفان میں جہاز گھر گیا، قریب تھا کہ موجوں کے ہولناک تصادم سے اس کے تختے پاش پاش ہو جائیں ۔

اب اس کے بعد کا واقعہ خود راوی کی زبانی سُنیئے، لکھا ہے کہ :

’’اُنھوں نے دیکھا کہ اب مرنے کے سِوا چارہ نہیں ہے اسی مایوسانہ حالت میں گھبراکر اپنے پیر روشن ضمیر کی طرف خیال کیا اس وقت سے زیادہ اور کون ساوقت امداد کا ہوگا،اﷲ تعالیٰ سمیع و بصیر اور کارساز مُطلق ہے، اسی وقت آگبوٹ غرق سے نکل گیا اور تمام لوگوں کو نجات ملی۔

اِدھر تو یہ قصہ پیش آیا، اُدھر اگلے روز مخدوم جہاں اپنے خادم سے بولے ذرا میری کمر دبائو نہایت درد کرتی ہے، خادم نے دباتے دباتے پیرا ہن مبارک جو اُٹھایا تو دیکھا کہ کمر چھلی ہوئی ہے اور اکثر جگہ سے کھال اُتر گئی ہے پوچھا حضرت یہ کیا بات ہے، کمر کیو نکر چھلی، فرمایا کچھ نہیں، پھر پوچھا، آپ خاموش رہے تیسری مرتبہ پھر دریافت کیا، حضرت یہ تو کہیں رگڑ لگی ہے اور آپ تو کہیں تشریف بھی نہیں لے گئے، فرمایا ایک آگبوٹ ڈوبا جاتا تھا، اس میں ایک تمہارا دینی سلسلے کا بھائی تھا، اس کی گر یہ وزاری نے مجھے بے چین کر دیا اور آگبوٹ کو کمر کا سہارا دے کر اُٹھایا، جب آگے چلا اور بند گانِ خدا کو نجات ملی، اُسی سے چھل گئی ہو گی اور اسی وجہ سے درد ہے مگر اس کا ذکر نہ کرنا‘‘۔

(کرامات امدادیہ ، ص۱۸) قبیلے کے شیخ کی غیبی قوت ادر اک اور خدائی اختیارو تصرف کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے کہ اُنھوں نے ہزاروں میل کی مسافت سے دل کی زبان کا خاموش استغاثہ سن لیا اور سن ہی نہیں لیا بلکہ فوراً ہی یہ بھی معلوم کر لیا کہ سمندر کی ناپیدا کناروسعتوں میں حادثہ کہا ں پیش آیا ہے اور معلوم ہی نہیں کر لیا بلکہ چشمِ زدن میں وہاں پہنچ بھی گئے اور جہاز کو طوفان سے نکال کر واپس لوٹ آئے لیکن وائے رے دل حرماں نصیب کی شرارت ! کہ رسول کو نین کے حق میں ان حضرات کے عقیدے کی زبان یہ ہے :

’’ یہ جو بعضے لوگ اگلے بزرگوں کو دُور دُور سے پُکار تے ہیں اور اتنا ہی کہتے ہیں کہ یا حضرت ! تم اﷲ کی جناب میں دعا کرو کہ وہ اپنی قدرت سے ہماری حاجت رواکرے اور پھر یوں سمجھتے ہیں کہ ہم نے کچھ شِرک نہیں کیا ہے اس واسطے کہ اُن سے حاجت نہیں مانگی بلکہ دعا کرائی ہے، یہ بات غلط ہے اس واسطے کہ گومانگے کی راہ سے شِرک نہیں ثابت ہوا لیکن پکارنے کی راہ سے ثابت ہو جاتا ہے۔‘‘

(تقویۃالایمان، ص ۲۳)

لیکن یہاں تو مانگنا بھی ہوا اور پُکارنا بھی دو دو شِرک جمع ہوجانے کے باوجود توحید پران حضرات کی اجارہ داری اب تک قائم ہے اور ہم صرف اس لئے مشرک ہیں کہ جن اعتقادات کو وہ اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں روار کھتے ہیں، انہی کو رسول کونین، شہید کربلا، غوث جیلانی اور خواجۂ خواجگان چشت کے حق میں اپنے جذ بۂ عقیدت کا معمول بنایا ہے، اسی کا نام اگر شِرک ہے تو اس الزام کا ہم صمیم قلب کیسا تھ خیر مقدم کر تے ہیں کہ ساری اُمت کا مسلک یہی ہے۔

یہ پانچواں باب جو حضرت شاہ امداداﷲ صاحب تھا نوی کے حالات و واقعات پر مشتمل تھا یہاں پہنچ کر تمام ہوگیا۔

تصویر کے دونوں رُخوں کا منصفا نہ جائزہ لینے کے بعد آپ واضح طور پر یہ محسوس کریں گے کہ ان حضرات کے یہاں دو طرح کی شریعتیں متوازی طور پر چل رہی ہیں ایک تو انبیاء و اولیاء کے حق میں ہے اور دوسری اپنے بزرگوں کے حق میں!

ایک ہی عقیدہ جو پہلی شریعت میں کُفر ہے ، شِرک ہے اور ناممکن ہے، وہی دوسری شریعت میں اسلام ہے، ایمان ہے اور امرواقعہ ہے۔

ضمیر کا یہ چیختا ہوا مطالبہ اب کسی مصلحت کے اشارے پر دبایا نہیں جا سکتا کہ دوشریعتوں کا اسلام ہر گزوہ اسلام نہیں ہو سکتا جو خدا کے آخری پیغمبرکے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے۔

غیرت حق کا جلال اگر نقطئہ اعتدال کی طرف واپس لوٹ آیا ہو تو ورق اُلٹئے اور اس طلسم فریب کے عجائبات کا باقی حِصّہ بھی دیکھ لیجئے۔ حسرتِ دید کی آنکھوں کو نہ شکوہ رہ جائے صبح کیسا تھ چلو شام بھی ان کی دیکھیں چھٹا باب

متفرقات کے بیان میں

اس باب میں دیوبندی جماعت کے مختلف مشاہیرو اکابر کے حالات وواقعات انہی حضرات کے لڑیچر سے جمع کیے گئے ہیں جن میں عقیدہ توحید سے تصاد م، اپنے مذہب سے انحراف اور مُنھ بولے شِرک کو اپنے حق میں اسلام و ایمان بنا لینے کی سازشوں کے ایسے نمونے آپ کو ملیں گے کہ آپ حیران و ششد ر رہ جا ئیں گے ! سِلسلہ واقعات مولوی محمد یعقوب صاحب صدر مدرس مدرسہ دیوبند کا قصہ کشف و غیب دانی کی ا یک طو یل داستان

روزنامہ الجمعیۃ دہلی نے ’’خواجہ غریب نواز نمبر‘‘ کے نام سے ایک نمبر شائع کیا ہے۔ اس میں قاری طیّب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کا ایک مضمون شائع ہوا ہے، مولوی محمد یعقوب صاحب کا تذکرہ کر تے ہوئے قاری صاحب موصوف لکھتے ہیں :

’’ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اﷲ علیہ دارالعلوم دیوبند کے اوّلین صدر مدرس تھے، نہ صرف عالم ربانی بلکہ عارف بااﷲ اور صاحب کشف وکرامت اکابرمیں سے تھے اُن کے بہت سے مکشوفات اکابر مرحومین کی زبانی سُننے میں آئے ہیں، حضرت مولانا پر جذب کی کیفیت تھی اور بعض دفعہ مجذوبا نہ انداز سے جو کلمات زبان سے نکل جا تے تھے وہ من وعن واقعات کی صورت میں سامنے آجاتے تھے، دارالعلوم دیوبند کی درسگاہ کلاں موسوم بہ نودرہ کے وسطی ہال میں حضرت مرحوم کی درسگاہ حدیث تھی، نودرہ کے وسطی در کے سامنے والی ایک جگہ کے بارے میں فرمایا کہ جس کی نماز جنازہ اس جگہ ہوتی ہے وہ مغفور ہوتا ہے،(یعنی بخش دیا جاتا ہے)‘‘۔

(الجمعیۃ خواجہ غریب نواز نمبر، ص۵)

یہ تو ایک دیوانے کی بات تھی لیکن اَب دانشوروں کے ایمان وایقان کا عالم ملاحظہ فرمائیے، لکھتے ہیں :

’’ عموماً اس و قت دارالعلوم میں جتنے جنازے متعلقین دارالعلوم یا شہر کے حضرات کے آتے ہیں ، اسی جگہ لا کر رکھے جانے کا معمول ہے، احقر نے سیمنٹ سے اس جگہ کو مشخص(ممتاز) کرادیا ہے‘‘۔

(الجمعیۃ خواجہ غریب نواز نمبر، ص۵)

بزرگان دین کے ایصال ثواب کے لئے کسی وقت کی تخصیص یا ذکر وبیان کے لئے کسی دن کے تعین پر تویہ حضرات بدعت وحرام کا شور مچاتے ہیں لیکن یہاں اُن سے اَب کوئی نہیں پوچھتا کہ جنازے کی نماز تو دارالعلوم کے سارے احاطوں میں ہوسکتی ہے لیکن ایک خاص جگہ کی تخصیص اور اس پر عمل درآمد کا یہ اہتمام کیا بدعت نہیں ہے؟

بہر حال ضمنی طور پر درمیان میں یہ بات نکل آئی، اَب پھر اسی سلسلۂ بیان کی طرف متوجہ ہو جائیے ، فرماتے ہیں

’’ اس مجذوبیت کے سلسلہ میں مولانا کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ میں ناقص رہ گیا ہوں، حضرت پیرومرشد حاجی امداد اﷲ صاحب قدس سرہٗ تو مکہ میں ہیں وہاں جانا مشکل ہے لیکن میری تکمیل دونوں بزرگ حضرت نانوتوی اور حضرت گنگوہی کرسکتے ہیں اس لئے بار بار اِن سے فرماتے کہ بھائی میری تکمیل کرائو، یہ حضرات جواب دیتے کہ اَب آپ میں کوئی کمی نہیں ہے اور جتنی کچھ بھی ہے سو وہ مدرسہ دیوبند میں حدیث پڑھانے ہی سے پوری ہوجائے گی، اس لئے آپ درس حدیث میں مشغول رہیں یہی درس آپ کی تکمیل کا ضامن ہے، اس پر خفا ہوتے کہ یہ دونوں بخل کرتے ہیں، سب کچھ لئے بیٹھے ہیں اور میرے حق میں بخل کررہے ہیں‘‘۔ (الجمعیۃ ،خواجہ غریب نواز نمبر، ص۵)

اس کے بعد لکھا ہے کہ ادھر مایوس ہوجانے کے بعد اُنہوں نے اجمیر شریف حاضری کا ارادہ کرلیاکہ خواجہ غریب نواز کے حضور میں اپنی تکمیل کرسکیںچنانچہ ایک دن وہ اسی جذبہ شوق میں اُٹھے اور اجمیر شریف کے لئے روانہ ہوگئے وہاں پہنچ کر انہوں نے روضہ خواجہ کے قریب ایک پہاڑی پر اپنی کٹیا بنائی اور وہیں قیام پذیر ہوگئے۔

لکھا ہے کہ اکثر مزار شریف پر حاضر ہوکر دیر تک مراقب رہتے ایک دن مراقبے میں حضرت خواجہ کی طرف سے ارشاد ہوا :

’’ آپ کی تکمیل مدرسہ دیوبند میں حدیث پڑھانے ہی سے ہوگی آپ وہیں جائیں اور ساتھ ہی حضرت خواجہ کا یہ مقولہ بھی منکشف ہوا کہ آپ کی عمر کے دس سال رہ گئے ہیں اس میں یہ تکمیل ہوجائے گی‘‘۔

(خواجہ غریب نواز نمبر، ص۶)

لکھا ہے کہ اس واقعہ کے دوسرے ہی دن وہ اجمیر سے واپس ہوئے اور سیدھے اپنے وطن مالوف نانوتہ پہنچے وہاں سے پھر گنگوہ کا قصد کیا، حضرت گنگوہی حسب معمول اپنی خانقاہ میں تشریف فرماتھے، کسی نے خبر دی کہ مولانا محمد یعقوب صاحب آرہے ہیں، حضرت نام سنتے ہی چارپائی سے کھڑے ہوگئے، اَب اس کے بعد کا واقعہ خود قاری صاحب موصوف کی زبانی سنئے، لکھا ہے کہ :

’’ جب مولانا محمد یعقوب صاحب قریب آگئے تو بلا کسی گفتگو کے سلام علیک کے بعد حضرت گنگوہی نے فرمایا ’’ ہم پہ کچھ احسان نہیں ہے، ہم پہ کچھ احسان نہیں ہے‘‘، خدام بھی تو وہی بات کہہ رہے تھے جو حضرت خواجہ نے فرمائی ہے، مگر چھوٹوں کی کون سنتا ہے؟ جب اوپر سے بھی وہی کہا گیا جو خدام عرض کیا کرتے تھے تب آپ نے قبول فرمایا‘‘۔ (خواجہ غریب نواز نمبر، ص۶)

مذہبی مزاج کے خلاف ہونے کے باوجود یہ واقعہ صرف اس لئے بار پا گیا ہے کہ اس سے مدرسہ دیوبند کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ورنہ جہاں تک خواجہ غریب نواز کی روحانی اقتدار اور غیبی تصرف پر یقین واعتماد کا تعلق ہے تو یہ حضرات نہ صرف یہ کہ اس کے منکر ہیں بلکہ اس کے خلاف جہاد کرنا اپنے دین کا اوّلین فریضہ سمجھتے ہیں جیسا کہ گذشتہ اوراق میں اس طرح کے کئی حوالے آپ کی نظر سے گزر چکے ہیں۔

بہر حال کسی بھی جذبے کے زیر اثر یہ واقعہ صفحہ قرطاس پر آیا ہو ہم قاری صاحب موصوف سے چند سوالات پر اپنے دل کا اطمینان ضرور چاہیں گے ۔

پہلی بات تو یہی ہے کہ خواجہ غریب نواز رضی اﷲتعالیٰ عنہٗ کو اگر علم غیب نہیں تھا تو اُنہیں کیونکر معلوم ہوگیا کہ دیوبند میں ایک مدرسہ ہے جہاں حدیث کا درس دیا جاتا ہے اور مولوی محمد یعقوب وہاں سے درس حدیث چھوڑ کر ہمارے یہاں آئے ہیں۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ اُنہیں یہ خبر کیونکر ہوگئی کہ آنے والا منزل سلوک کی تکمیل کے لئے آیا ہے اور اس کی تکمیل یہاں نہیں ہوگی مدرسہ دیوبند میں ہوگی۔

اور تیسری بات تو نہایت تعجب خیز ہے کہ اُنہیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان کی عمر کے دس سال باقی رہ گئے ہیں اور اس مدت میں تکمیل ہوجائے گی۔

اور چوتھی بات تو سب سے زیادہ حیرت انگیز کہ مراقبہ میں جو بات خواجہ غریب نواز نے مولوی یعقوب صاحب سے فرمائی تھی بغیر کسی اطلاع کے مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی کو اس کی خبر کیونکر ہوگئی ؟ لیکن سب سے بڑا ماتم تو اس ستم ظریفی کا ہے کہ اتنے شرکیات کے ساتھ مصالحت کرنے کے باوجود یہ حضرات توحید کے تنہااجاراہ دارہیں اور ہمارے لئے مشرک، قبر پرست اور بدعتی کے القاب تراشے گئے ہیں، لیکن آستینوں سے لہو ٹپکنے کے بعد قتل کا چھپانا بہت مشکل ہے۔ (۲) حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی کے قصے

شکم ماد ر سے غیبی اد راک

مولوی حافظ رحیم بخش صاحب دہلوی نے ’’حیات ولی‘‘ کے نام سے حضرت شاہ صاحب قبلہ کی سوانح حیات لکھی ہے اس میں ان کی ولادت سے قبل کا ایک نہایت حیرت انگیز واقعہ نقل کیا ہے لکھتے ہیں :

’’ ابھی مولاناشاہ ولی اﷲ صاحب والدۂ محترمہ کے بطن مبارک ہی میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک دفعہ (اُن کے والد بزرگوار) جناب شیخ عبدالرحیم صاحب کی موجودگی میں ایک سائلہ آئی آپ نے روٹی کے دو حصے کرکے ایک اُسے دیا اور ایک رکھ دیا۔

لیکن جوں ہی سائلہ دروازہ تک پہنچی، شیخ صاحب نے دوبارہ بلایا اور بقیہ حصہ بھی عنایت کردیااور جب وہ چلنے لگی تو پھر آواز دی اور جس قدر روٹی گھر میں موجود تھی سب دیدی، اس کے بعد گھر والوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ پیٹ والا بچہ بار بار کہہ رہا تھا کہ جتنی روٹی گھر میں ہے سب اس محتاج مسکین کو راہِ خدا میں دیدو‘‘۔

(حیات ولی، ص۳۹۷)

گویا شاہ صاحب بطن مادر ہی سے دیکھ رہے تھے کہ روٹی کا ایک حصہ بچا کر گھر میں رکھ لیا گیا ہے اور جب ان کے کہنے پر باقی حصہ بھی ان کے والد نے دیدیا تو اُسے بھی اُنہوں نے دیکھ لیا اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم کرلیا کہ گھر میں ابھی اور روٹیاں رکھی ہوئی ہیں، جب اُن کے کہنے پر سب کا سب دے ڈالا تب وہ خاموش ہوئے۔

رسول عربی کے علم ومشاہد پر تو سینکڑوں سوالات اُٹھائے جاتے ہیں لیکن یہاں کوئی نہیں پوچھتا کہ ایک جنین بچے کے سر میں وہ کون سی آنکھ تھی جس نے پردۂ شکم سے دیواروں اور گھر کے برتنوں میں شگاف ڈال کر سارا چھپا ہوا حال دیکھ لیا۔ (۳) حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب کا قصہ

زمین کی وسعتیں احاطۂ نظر میں

خود شاہ صاحب کی زبانی حیات ولی کا مصنف ان کے والد ماجد کی غیبی قوت ادراک کا ایک عجیب وغریب قصہ نقل کرتا ہے، لکھا ہے کہ :

’’ ایک دفعہ محمد قلی، اورنگ زیب کے لشکر میں کسی سمت روانہ ہوا تھا چونکہ زمانہ دراز تک اس کی کوئی خبر عزیزواقرباء کو نہیں ملی اس لئے اس کی مفقود الخبری نے بالخصوص اس کے برادر محمد سلطان کو سخت بے چین کردیا اور جب وہ بہت ہی بے تاب ہوا تو شیخ کی خدمت میں حاضر ہوکر التجا کی کہ اس گمشدہ کی خبر دیں۔

شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے توجہ کی اور ہر چند کہ اُسے لشکر کے ایک ایک خیمے میں ڈھونڈا لیکن کہیں سراغ نہ ملا، اموات کے زُمرے میں تلاش کیا وہاں بھی پتہ نہ لگا، ازاں بعد میں نے لشکر کے اردگرد غور میں ڈوبی ہوئی نظروں سے دیکھا معلوم ہوا کہ غسل صحت پاکر شتری(بھورے) رنگ کے لباس زیب تن کئے ہوئے ایک کرسی پر جلوہ آرا ہے اور وطن مالوف میں آنے کا تہیہ کررہا ہے، چنانچہ میں نے اس کے بھائی سے بیان کیا کہ محمد قلی زندہ ہے اور دو تین مہینے میں آیا چاہتا ہے، چنانچہ جب وہ آیا تو بجنسہٖ یہی قصہ بیان کیا‘‘۔

(حیات ولی،ص ۲۷۲)

اَب آپ ہی ایمان وانصاف سے فیصلہ کیجئے کہ یہ واقعہ پڑھنے کے بعد کیا کسی بھی رُخ سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ زمین کی وسعتوں میں یہ جادہ پیمائی اور لشکر میں پہنچ کر ایک ایک خیمے کی خانہ تلاشی، پھر وہاں سے مُردوں کے ڈھیر کی چھان بین، پھر اِرد گرد کے میدانوں میں جستجو، یہ ساری مہم انہوں نے وہاں جاکر نہیں بلکہ دہلی میں بیٹھے بیٹھے غیبی قوتِ ادراک کی مدد سے انجام دی تھی لیکن سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے کہ غیبی قوت ادراک اور روحانی تصرف کا جو کمال یہ حضرات ایک ادنیٰ اُمتی کے لئے بے چون وچرا تسلیم کرلیتے ہیں اُسی کو رسول عربی ﷺ کے حق میں شرک کہتے ہوئے اُنہیں کوئی تامل نہیں ہوتا۔ (۴)
حضرت شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی کا قصہ

کشف دانی کا ایک نہا یت حیرت انگیز واقعہ

دیوبندی جماعت کے معتمد راوی شاہ امیر خاں نے شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی کے کشف وغیب دانی کے متعلق اپنی کتاب ’’ارواح ثلٰثہ‘‘ میں ایک نہایت حیرت انگیز واقعہ نقل کیا ہے، بیان کرتے ہیں کہ :

’’ اگر عید کا چاند تیس کا ہونے والا ہوتا تو شاہ عبدالقادر صاحب اوّل روز تراویح میں ایک سپارہ پڑھتے اور اگر اُنتیس کا چاند ہونے والا ہوتا تو اوّل روز دو سپارے پڑھتے۔

چونکہ اس کا تجربہ ہوچکا تھااس لئے شاہ عبدالعزیز صاحب اوّل روز آدمی بھیجتے کہ دیکھ کر آئو میاں عبدالقادر نے آج کتنے سیپارے پڑھے ہیںاگر آدمی کہتاکہ آج دو پڑھے ہیں تو شاہ صاحب فرماتے کہ عید کا چاند تو اُنتیس کا ہی ہوگا یہ بات دوسری ہے کہ اَبر وغیرہ کی وجہ سے دکھائی نہ دے اور حجت رویت نہ ہونے کی وجہ سے رویت کا حکم نہ لگا سکیں ۔

اس میں مولوی محمود حسن صاحب(دیوبندی) یہ اضافہ فرماتے تھے کہ یہ بات دہلی میں اس قدر مشہور ہوگئی تھے کہ اہل بازار اور اہل پیشہ کے کاروبار اس پر مبنی ہوگئے‘‘۔

(ارواح ثلٰثہ، ص۴۹)

حکایت واقعہ کی عبارت چیخ رہی ہے کہ یہ صورت حال کسی ایک رمضان کے ساتھ خاص نہیں تھی بلکہ بالالتزام ہر رمضان المبارک میں اُنہیں ایک ماہ قبل ہی معلوم ہوجاتا تھا کہ چاند ۲۹ کا ہوگا یا ۳۰ کا۔

اور مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی کا یہ کہنا کہ’’ اہل بازار اور اہل پیشہ کے کاروبار اس پر مبنی ہوگئے‘‘اس امر کو بالکل واضح کردیتا ہے کہ ان کا کشف کبھی غلط نہیں ہوتا تھا اَب آپ ہی انصاف سے کہئے ! یہ آنکھوں سے لہو ٹپکنے کی بات ہے یا نہیں؟ کہ گھر کے بزرگوں کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے کہ ہر سال بالالتزام وہ ایک ماہ قبل ہی چھپی ہوئی بات معلوم کرلیتے تھے لیکن رسول انور ﷺ کے متعلق ان کے عقیدے کی یہ صراحت گزر چکی کہ ایک ماہ کی طویل مدت میں بھی وہ معاذ اﷲ چھپی ہوئی بات نہیں معلوم کرسکے۔ (۵)

غیبی ادراک کی ایک اور حیرت انگیز کہانی

انہی خان صاحب نے ارواح ثلٰثہ میں شاہ عبدالقادر صاحب کا ایک اور واقعہ نقل کیا ہے، لکھا ہے :

’’ اکبری مسجد جس میں شاہ عبدالقادر صاحب رہتے تھے اُس کے دونوں طرف بازار تھا اور مسجد میں دونوں طرف حجرے اور سہ دریاں تھیں ان میں ایک سہ دری میں شاہ عبدالقادر صاحب رہتے تھے اور اپنے حجرے سے باہر سہ دری میں پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھا کرتے تھے۔

بازار سے آنے جانے والے آپ کو سلام کیا کرتے تھے سو اگر سنی سلام کرتا توآپ سیدھے ہاتھ سے جواب دیتے تھے اور شیعہ سلام کرتا تو اُلٹے ہاتھ سے جواب دیتے تھے یہ بیان کرکے مولوی عبدالقیوم صاحب نے فرمایا میں کیا ؟ کہدوںالمومن ینظر بنور اﷲ یعنی مومن اﷲ کے نور سے دیکھتا ہے‘‘۔

(ارواح ثلٰثہ، ص۵۵)

المومن ینظر بنور اﷲ کا فقرہ بتا رہا ہے کہ شیعہ اور سنی کے درمیان یہ امتیاز کسی ظاہری علامت کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ اُسی غیبی قوتِ ادراک کے ذریعہ تھا جس کی تعبیر مولوی عبدالقیوم صاحب نے’’نور الٰہی‘‘ سے کی ہے۔

حکایت واقعہ کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اُن کے ہر روز کا معمول تھا اور جب تک سہ دری میں بیٹھے رہتے کشف احوال کا یہ سلسلہ برابر جاری رہتا تھا۔

اَب سوچنے کی بات یہ ہے کہ شاہ عبدالقادر صاحب کے حق میں تو کشف احوال کی ایک دائمی اور ہمہ وقتی قوت تسلیم کرلی گئی ہے جو قوت بینائی کی طرح اُنہیں ہر وقت حاصل رہا کرتی تھی لیکن شرم سے منہ چھپا لیجئے کہ نبی مرسل ﷺ کے حق میں کشف احوال کی یہی دائمی اور ہمہ وقتی قوت تسلیم کرتے ہوئے ان حضرات کا عقیدۂ توحید مجروح ہوجاتا ہے اور شرک کے غم میں یہ شب وروز سلگتے رہتے ہیں۔ (۶)

کشف ہی کشف

ان ہی شاہ عبدالقادر کی غیب دانی سے متعلق تھانوی صاحب کی کتاب ’’اشرف التنبیہہ‘‘ کے حوالہ سے ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے، لکھا ہے کہ :

’’ مولوی فضل حق صاحب شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ اﷲ علیہ سے حدیث پڑھتے تھے شاہ صاحب بڑے صاحب کشف تھے اور اس خاندان میں آپ کا کشف سب سے بڑھا ہوا تھا جس روز مولوی فضل حق صاحب کسی ملازم پر کتابیں رکھوا کر لے جاتے گو پہنچنے سے پہلے خود لے لیتے شاہ صاحب کو کشف سے معلوم ہوجاتا تھا اُس روز مولوی صاحب کو سبق نہیں پڑھاتے تھے اور جب خود لے جاتے تو حضرت کو کشف ہوجاتا اور اس روز سبق پڑھاتے تھے جامع کہتا ہے : پیش اہل دل نگہدار ید دل تانبا شداز گمان بد خجل

(ارواح ثلٰثہ، ص۵۷)

اَب ذرا اسی کے ساتھ اسی خاندان کے شاہ اسمٰعیل دہلوی کی یہ عبارت بھی پڑھ لیجئے عقیدہ وعمل کا تصادم واضح طور پر محسوس ہوجائے گا۔

’’یہ سب جو غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں، کوئی کشف کا دعویٰ رکھتا ہے ، کوئی استخارہ کا عمل سکھاتا ہے… یہ سب جھوٹے ہیں اور دغاباز‘‘۔

(تقویۃ الایمان، ص۲۳)

علمائے دیوبند کے معتمد شاہ عبدالقادر صاحب بھی ہیں اور شاہ اسماعیل دہلوی بھی اَب اس امر کا فیصلہ انہی کے ذمے ہے کہ ان دونوں میں کون جھوٹا اور کون سچا ہے؟

ہمیں تو یہاں صرف اتنا ہی کہنا ہے کہ بات ایک دن کی نہیں تھی بلکہ ہر روز انہیں کشف ہوتا تھا اور کتنی ہی دیواروں کے حجا بات کے اوٹ سے وہ ہر روز دیکھ لیا کرتے تھے کہ کتاب کون لے کر آرہا ہے اور کس نے کہاں سے اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں لیکن یہاں ہمیں اتنی بات کہنے کی اجازت دے دی جائے کہ اپنے نبی کے حق میں علمائے دیوبند کے دلوں کی کدورت یہیں سے صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اپنے گھر کے بزرگوں کی نگاہوں پر تو دیواروں کا کوئی حجاب وہ حائل نہیں مانتے لیکن رسول انور ﷺ کے حق میں آج تک وہ اصرار کررہے ہیں کہ اُنہیں دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں تھا، جیسا کہ گزشتہ اورا ق میں اس کا حوالہ آپ کی نظر سے گزر چکا ہے۔ (۷) حافظ محمد ضامن صاحب تھانوی کاقصہ

قبر میں دل لگی بازی کا ایک واقعہ

یہی مولوی اشرف علی صاحب تھانوی اپنی جماعت کے ایک بزرگ حافظ محمد ضامن صاحب کی قبر کے متعلق ایک نہایت دلچسپ قصہ بیان کرتے ہیں، لکھا ہے کہ :

’’ایک صاحبِ کشف حضرت حافظ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کے مزار پر فاتحہ پڑھنے گئے بعد فاتحہ کہنے لگے کہ بھائی یہ کون بزرگ ہیں؟ بڑے دل لگی باز ہیں جب میں فاتحہ پڑھنے لگا تو مجھے فرمانے لگے کہ جائو کسی مردہ پر پڑھیو یہاں زندوں پر پڑھنے آئے ہو؟‘‘۔ (ارواح ثلٰثہ، ص۲۰۳) ذرا اندازِ بیان کی یہ بے ساختگی ملاحظہ فرمائیے :

عالم غیب کا پردہ اُٹھا کر جس سے چاہنا بات کرلینا اور جب چاہنا جھانک کر وہاں کا حال معلوم کرلینا کسی اور کے لئے مشکل ہو تو ہو لیکن ان حضرات کے لئے تو گویا شب وروز کا معمول ہے اور مُردوں کی تاریخ میں شاید یہ پہلا دل لگی باز مردہ ہے جس نے فاتحہ پڑھنے کو منع کرکے رحمت وثواب سے اپنے استغناء کا اظہار کیا ہے۔

واقعہ کا یہ رُخ بھی محسوس کرنے کے قابل ہے کہ اپنے مُردوں کی بڑائی ثابت کرنے کے لئے یہ لوگ کیسے کیسے زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہیں لیکن اہل اسلام کے بزرگوں کو عاجز وحقیر ثابت کرنے کے لئے ان کے قلم کی نوک کتنی زہر آلود ہوجاتی ہے۔ (۸) سیّد احمد بریلوی کا قصہ جسم طاہر کے ساتھ حضور انور کا تشریف لانا اور سید احمد بریلوی کو نیند سے جگانا

تبلیغی جماعت کے سربراہ مولوی ابوالحسن علی صاحب ندوی نے سید احمد صاحب بریلوی کے متعلق اپنی کتاب ’’سیرت سید احمد شہید‘‘ میں اُن کا ایک عجیب قصہ نقل کیا ہے، لکھا ہے کہ :

’’ ستائیسویں شب کو آپ نے چاہا کہ ساری رات جاگوں اور عبادت کروں مگر عشاء کی نماز کے بعد کچھ ایسا نیند کا غلبہ ہوا کہ آپ سو گئے تہائی رات کے قریب دو شخصوں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر جگایا آپ نے دیکھا کہ آپ کی داہنی طرف رسول اﷲ ﷺ اور بائیں طرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ بیٹھے ہیں اور آپ سے فرما رہے ہیں کہ احمد جلد اُٹھ اور غسل کر۔

سید صاحب ان دونوں حضرات کو دیکھ کر دوڑ کر مسجد کے حوض کی طرف گئے اور باوجودیکہ سردی سے حوض کا پانی یخ ہورہا تھا آپ نے اس سے غسل کیا اور فارغ ہوکر خدمت میں حاضر ہوئے حضرت ﷺ نے فرمایا فرزند آج شب قدر ہے یاد الٰہی میں مشغول ہو اور دعا ومناجات کرو اس کے بعد دونوں حضرات تشریف لے گئے‘‘۔ (سیرت سید احمد شہید، ص۸۴)

حد ہوگئی اکابر پرستی کی! کہ مولوی ابوالحسن علی ندوی جیسا ترقی پسند مصنف جس نے ساری زندگی قدامت پسند مسلمانوں کے عقائد وروایات کا مذاق اُڑایا ہے اُسے بھی اپنے مورث اعلیٰ کی فضیلت وبرتری ثابت کرنے کے لئے مشرکانہ عقیدوں کا سہارا لینا پڑا۔

صحت واقعہ کی تقدیر پر اُن سے کوئی بھی یہ سوال کرسکتا ہے کہ عالم بیداری میں حضور پرنور کی تشریف آوری کا عقیدہ کیا غیب دانی اور اختیار وتصرف کی اس قوت کو ثابت نہیں کرتا جسے مخلوق میں تسلیم کرنا، مولوی اسماعیل صاحب دہلوی نے شرک قرار دیا ہے۔

پس اگر حضور کو علم غیب نہیں تھا تو اُنہیں کیونکر معلوم ہوا کہ سید احمد بریلوی میرا فرزند ہے اور فلاں مقام پر سو رہا ہے پھر اگر حضور انور میں تصرف کی قدرت نہیں تھی تو اپنے حریم اقدس سے زندوں کی طرح کیونکر باہر تشریف لائے اور اس پیکر میں میں ظہور فرمایا کہ دیکھنے والے نے ماتھے کی آنکھوں سے اُنہیں دیکھا اور پہچان لیا اور یہ سارا واقعہ چشم زدن میں نہیں ختم ہوگیا کہ اُسے واہمہ کا تصرف قرار دیا جاسکے بلکہ دیر تک تشریف فرما رہے کہ سید صاحب غسل سے فارغ ہوگئے۔

یہ سارے اختیارات وتصرفات وہ ہیں کہ بہ عطائے الٰہی بھی حضور کی جانب ان کی نسبت کی جائے جب بھی دیوبندی مذہب میں شرک صریح ہے لیکن یہ سارا شرک صرف اس جذبے میں گوارا کرلیا گیا کہ قبیلے کے’’شیخ‘‘ کی بڑائی کسی طرح ثابت ہوجائے بہ نفس نفیس خود حضور انور ﷺ جس کا ہاتھ پکڑ کر نیند سے اُٹھائیں اندازہ لگا لیجئے کہ اُس کے منصب کی برتری کا کیا عالم ہوگا؟ (۹)

ایک نہا یت لرزہ خیز کہانی

مولوی اسماعیل دہلوی نے انہی سید احمد بریلوی کی عظمت وبرتری ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب ’’صراط مستقیم‘‘ میں ایک نہایت لرزہ خیز قصہ بیان کیا ہے، جس کا اُردو ترجمہ یہ ہے :

’’ حضرت غوث الثقلین اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند کی روحوں کے درمیان ایک مہینے تک اس بات پر جھگڑا چلتا رہا کہ دونوں میں کون سید احمد بریلوی کو روحانی تربیت کے لئے اپنی کفالت میں لے دونوں بزرگوں کی روحوں میں سے ہر ایک رُوح کا اصرار تھا کہ وہ تنہا میری نگرانی میں عرفان وسلوک کی منزل طے کریں۔

بالآخر ایک مہینے کی آویزش کے بعد اس بات پر دونوں میں مصالحت ہوئی کہ مشترک طور پر دونوں یہ خدمت انجام دیں گے چنانچہ ایک دن دونوں حضرات کی روحیں ان پر جلوہ گر ہوئیں اور پوری قوت کے ساتھ تھوڑی دیر تک ان پر عرفان توجہ کا عکس ڈالا یہاں تک کہ اتنے ہی وقفے میں اُنہیں دونوں سلسلوں کی نسبتیں حاصل ہوگئیں‘‘۔

(صراط مستقیم(فارسی)،ص۱۶۶)

دیوبندی مذہب کے پیش نظر اس قصے کی صحت تسلیم کرلینے کی صورت میں کئی سوالات ذہن کی سطح پر اُبھرتے ہیں اوّلاً یہ کہ مولوی اسماعیل دہلوی کی تصریح کے مطابق جب بہ عطائے الٰہی بھی کسی میں غیب دانی کی قوت نہیں ہے تو حضرت غوث الثقلین اورحضرت خواجہ نقشبند کی ارواح طیبات کو کیونکر خبر ہوگئی کہ ہندوستان میں سید احمد بریلوی نامی ایک شخص خدا کا مقرب بندہ ہے جس کی روحانی تربیت کا اعزاز اس قابل ہے کہ اس طرف سبقت کی جائے۔

ثانیاً یہ کہ واقعہ ہذا عالم شہادت کا نہیں بلکہ سرتاسر عالم غیب کا ہے اس لئے مولوی اسماعیل دہلوی جو اس واقعہ کے خود راوی ہیں اُنہیں کیونکر علم ہوا کہ سید احمد بریلوی کی کفالت وتربیت کے لئے ان دونوں بزرگوں کی روحیں ایک مہینے تک آپس میں جھگڑتی رہیں اور بالآخر اس بات پر مصالحت ہوئی کہ دونوں مشترک طور پر اپنی کفالت پر رہیں۔

ثالثاً یہ کہ مولوی اسماعیل دہلوی کی تقویۃ الایمان کے مطابق جب خدا کے سوا سارے انبیاء واولیاء بھی عاجز وبے اختیار بندے ہیں تو وفات کے بعد حضرت غوث الوریٰ اور خواجہ نقشبند کا یہ عظیم تصرف کیونکر سمجھ میں آسکتا ہے کہ وہ دونوں بزرگ بغداد سے سیدھے ہندوستان کے اُس قصبے میں تشریف لائے جہاں سید احمد صاحب بریلوی مقیم تھے اوراُن کے حجرے میں پہنچ کر چشم زدن میں اُنہیں باطنی عرفانی دولت سے مالا مال کردیا۔

نیز واقعہ کے انداز بیان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ باتیں خواب کی نہیں بلکہ عالم بیداری کی ہیں اس لئے اَب اس واقعہ کی تصدیق اس وقت ممکن نہیں ہے جب تک تقویۃ الایمان کے موقف سے ہٹ کر اولیائے کرام کے حق میں غیبی ادراک اور قدرت واختیار کے عقیدے کی صحت نہ تسلیم کرلی جائے۔

دیوبندی علماء کی مذہبی فریب کاریوں کا یہ تماشا اب پس پردہ نہیں ہے کہ انکار کی گنجائش ہو اب تو ان کا یہ ایمان سوز کردار وقت کا اشتہار بن چکا ہے کہ ایک جگہ وہ انبیاء واولیاء کے قرار واقعی فضائل وکمالات کا یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ انہیں تسلیم کرلینے سے عقیدۂ توحید کی سلامتی پر ضرب پڑتی ہے اور دوسری جگہ اس ضرب کو گھر کے بزرگوں کی برتری ثابت کرنے کے لئے پوری بشاشت قلب کے ساتھ گوارا کرلیتے ہیں۔ (۱۰) مولوی اسماعیل دہلوی کا قصہ

غیب دانی اور شفاء بخشی کا دعویٰ

مولوی اسماعیل دہلوی مصنف’’تقویۃ الایمان‘‘ کے کشف اور باطنی تصرفات سے متعلق ارواح ثلٰثہ میں امیر شاہ خاں نے ایک نہایت دلچسپ قصہ نقل کیا ہے، لکھتے ہیں :

’’میرے استاد میاں جی محمدی صاحب کے صاحبزادے حافظ عبدالعزیز… ایک مرتبہ اپنے بچپن میں نہایت سخت بیمار ہوئے اور اطباء نے جواب دے دیا ان کے والدین کو اس وجہ سے تشویش تھی اتفاق سے میاں جی صاحب نے خواب میں دیکھا کہ مولوی اسماعیل صاحب مسجد کے بیچ کے در میں وعظ فرمارہے ہیں اور میں مسجد کے اندر ہوں اور میرے پاس عبدالعزیز بیٹھا ہے اتفاق سے اُسے پیشاب کی ضرورت ہوئی اور میں اُسے پیشاب کرانے چلا آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے اور طرف کو راستہ نہ تھا اور مولوی اسماعیل صاحب سے بے تکلفی تھی اس لئے میں اسے مولوی اسماعیل صاحب کی طرف لے کر گیا جب عبدالعزیز مولوی اسماعیل صاحب کے سامنے پہنچا تو اُنہوں نے تین مرتبہ یا شافی پڑھ کر اس پر دم کردیا اس خواب کے بعد جب آنکھ کھلی تو اُنہوں نے اپنی بیوی کو جگایا اور کہا کہ عبدالعزیز اچھا ہوگیا میں نے اس وقت ایسا ایسا خواب دیکھا ہے صبح ہوئی تو میاں عبدالعزیز بالکل تندرست تھے‘‘۔

(ارواح ثلٰثہ، ص۸۸)

اَب اسے نیرنگیٔ وقت ہی کہئے کہ جو شخص ساری زندگی انبیاء کے علم غیب کے خلاف جنگ کرتا رہا اُسی کو مرنے بعد غیب دان بنادیا گیاکیونکہ ان حضرات کے تئیں اُنہیں علم غیب نہیں تھا تو انہیں خواب میں کیونکر معلوم ہوا کہ عبدالعزیز بیمار ہے اُسے دم کیا جائے۔

اور خواب دیکھنے والے کا جذبۂ عقیدت بھی کتنا بالیقین ہے کہ آنکھ کھلتے ہی بی بی کو جگا کر یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ بیٹا اچھا ہوگیااور سچ مچ صبح تک بیٹا اچھا بھی ہوگیا۔

اسے کہتے ہیں غیب دانی اور شفاء بخشی کا عقیدہ جو ان حضرات کے یہاں انبیاء واولیاء کے حق میں تو شرک ہے لیکن مولوی اسماعیل دہلوی کے حق میں عین اسلام بن گیا ہے۔ (۱۱)

مولوی محمود الحسن صاحب کا قصہ

مذ ہب سے انحراف کی ا یک شرمناک کہا نی

دیوبندی جماعت کے شیخ الحدیث مولوی اصغر حسین صاحب نے اپنی کتاب حیات شیخ الہند میں مولوی محمود الحسن صاحب کے متعلق ایک نہایت عجیب وغریب واقعہ نقل کیا ہے، لکھتے ہیں :

’’۱۳۲۲ھ؁ کے اخیر میں دیوبند میں شدید طاعون ہوا چند طلباء بھی مبتلا ہوئے ایک فارغ التحصیل طالب علم محمد صالح ولایتی جو صبح وشام میں سند فراغت لے کر وطن رخصت ہونے والے تھے اس مرض میں مبتلا ہوئے اور حالت آخری ہوگئی۔

وفات سے کسی قدر پہلے انہوں نے ایسی گفتگو شروع کی کہ گویا شیطان سے مناظرہ کررہے ہیں، اس کے دلائل کو توڑتے اور اپنے استدلال پیش کرتے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے مناظرہ میں شیطان کو بخوبی شکست دیدی۔

پھر کہنے لگے افسوس اس جگہ کوئی ایسا خدا کا بندہ نہیں ہے کہ جو مجھ سے اس خبیث کو دفع کرے یہ کہتے کہتے دفعتاً بول اُٹھے کہ واہ ! واہ! سبحان اﷲ ! دیکھو میرے استاد حضرت مولانا محمود الحسن صاحب تشریف لائے دیکھو وہ شیطان بھاگا، ارے خبیث کہاں جاتا ہے؟ ایک ساعت کے بعد طالب علم کا انتقال ہوگیا حضرت مولانا اس واقعہ کے وقت وہاں موجود نہ تھے مگر روحانی تصرف سے امداد فرمائی‘‘۔

(حیات شیخ الہند،ص۱۹۷)

اخیر میں یہ اضافہ کرکے کہ ’’حضرت مولانا اس واقعہ کے وقت وہاں موجود نہ تھے مگر روحانی تصرف سے امداد فرمائی‘‘ بالکل واضح کردیا ہے کہ اُس طالب علم کو جو واقعہ پیش آیا وہ اس کے واہمہ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ فی الواقع مولوی محمودالحسن صاحب اس کی امداد کے لئے غیبی طور پر وہاں پہنچ گئے تھے۔

مگر حیرت ہے کہ دیوبند کی عقل فتنہ پرداز یہاں کوئی سوال نہیں اُٹھاتی کہ جب وہ وہاں موجود نہیں تھے تو اُنہیں کیونکر خبر ہوگئی کہ ایک طالب علم سکرات میں شیطان سے مناظرہ کررہا ہے اور خبر بھی ہوئی تو بجلی کی طرح اُنہیں قوت پرواز کہاں سے مل گئی کہ چشم زدن میں وہاں آموجود ہوئے۔

دراصل کلیجہ پھٹنے کی بات یہی ہے کہ یہاں غیب دانی بھی ہے اور قدرت واختیار بھی لیکن چونکہ اپنے مولانا کی بات ہے اس لئے نہ یہاںعقیدہ توحید مجروح ہوا اور نہ کتاب وسنت سے کوئی تصادم لازم آیا۔

لیکن اسی طرح کا عقیدہ اگر ہم سرکار غوث الوریٰ یاخواجہ غریب نواز کسی نبی یا ولی کے حق میں روا رکھ لیں تو دیوبند کے یہ موحدین ہماری جان وایمان کے درپے ہوجاتے ہیں۔ (۱۲) جناب مولوی عبدالرشید صاحب رانی ساگری کے واقعات

جناب مولوی عبدالرشید صاحب رانی ساگری دیوبندی جماعت کے ایک علاقائی پیر ہیں امارت شرعیہ پھلواری شریف جس کے امیر مولوی منت اﷲ صاحب رحمانی رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند ہیں اس کے ترجمان اخبار نقیب نے’’ مصلح اُمت نمبر‘‘ کے نام سے مولوی عبدالرشید صاحب رانی ساگری کے حالات میں ایک ضخیم نمبر شائع کیا ہے ذیل کے جملہ واقعات اسی نمبر سے ماخوذ ہیں ۔

اپنے مذہبی معتقدات کا درد ناک قتل

مولوی شمس تبریز خاں صاحب قاسمی کے حوالے سے مولوی عبدالرشید صاحب رانی ساگری کی عام غیب دانی کے متعلق یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ :

’’مجلس میں اکثرایسا ہوتا کہ کوئی شخص مولانا سے کچھ سوالات کر نے والا ہوتا مگر آپ سوال سے پہلے ہی جواب دیدیتے تھے ایک بارایک نوجوان سے صبح کے وقت ملے اور بلاکچھ معلوم کیے ہوئے سلسلہ گفتگو میں اُنھیں نصیحت کی کہ نماز صبح ہرگز قضا نہ ہونی چاہیئے وہ سمجھ گئے کہ آج نماز قضا ہوئی ہے یہ اشارہ کشفی اسی کی طرف ہے۔

اسی طرح کلٹی(بردوان) مجلس میں بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عورتیں آئیں گی پردہ کرائیے چنانچہ دوسرے ہی لمحہ عورتوں کی دستک سُنائی دی۔‘‘

(نقیب کا مصلح اُمت نمبر ، ص۵) دل کے خطرات پر مطلع ہو نے کا معمول تو تھا ہی گذشتہ اور آئندہ کا علم بھی انھیں حاصل تھا جبھی توایک طرف فوت شدہ نماز صبح کی خبردی تو دوسری طرف آنے والی عورتوں کا بھی حال بتادیا۔ (۱۳) غیب دانی سے متعلق نیازمندوںکی خوش عقید گی کا ایک عبرت انگیز واقعہ

اب انہی رانی ساگری صاحب کی غیب دانی سے متعلق نیا زمندوں کی خوش عقیدگی کا ایک اور قصہ ملاحظہ فرمائیے ـ

مدرسہ رشیدالعلوم چتراضلع ہزاری باغ کے صدر مدرس مولوی وصی الدین صاحب بیان کر تے ہیں کہ ایک دن میں نمازجمعہ کے بعد حضرت کے حجرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ اپنی چارپائی پر بہت مغموم بیٹھے ہیں بیان کر تے ہیں کہ حضرت آج میں آپ کو بہت مغموم پا رہا ہوں کیا کوئی بات ہوئی ہے اب اس کے بعد کا واقعہ خود واقعہ نگارکی زبانی سُنئے، لکھتے ہیں کہ :

’’ حضرت قدس سرہ نے فرمایا کہ پاکستان میں دو بہت بڑے حادثے ہو گئے ہیںعلامہ شبیر احمد عثمانی رحمتہ اﷲ علیہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ایک ہوائی جہاز گر کرتباہ ہو گیا ہے جس میں پاکستان کے کئی ذمہ دار حضرات انتقال فرماگئے۔

مولانا وصی الدین احمد صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اس پر حیرت و استعجاب ہوا کہ آپ کو اخباری دنیاسے بے تعلقی ہے آخراطلاع کیسے ہوئی اُن سے رہا نہ گیا بالآخر پوچھ ہی لیا کہ حضور آپ کو کس طرح اطلاع پہنچی ؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ یہاں اخبار میں خبر ہے دیکھو تو اخبار آیا ہوگا میں نے اس پر کہا کہ اخبار تو ابھی نہیں ہے اور حضرت! ابھی تو ڈاک کا وقت بھی نہیں ہوا ہے بہرحال مولانا وصی الدین با ہر نکلتے ہیں کہ ڈاکیہ آر ہا ہے۔

اس واقعہ میں حضرت کے دوانکشاف ظاہر ہوئے پہلا کشف علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی رحمتہ اﷲ علیہ کا وصال اور ہوائی جہاز کا حادثہ اور دوسرا تازہ کشف ڈاکیہ کے اخبار لے کر آنے کاچنانچہ جب دیکھا گیا کہ یہ دونوں حادثات جلی سُرخیوں میں چھپے ہوئے تھے اس سے پہلے کسی اخبار میں نہ یہ تذکرہ آیا تھا اور نہ اس وقت ریڈیو کا عام رواج چترا میں تھا جس کے ذریعہ خبر ملتی۔‘‘ (نقیب کا مصلح اُمت، ص ۱۸)

اس واقعہ میں زا ویہ نگاہ کی خاص چیز ملاحظہ فرمایئے :

واقعہ نگار نے جگہ جگہ اس طرح کے فقرے بڑھا کر ’’آپ کو اخباری دنیاسے بے تعلقی ہے آخر اطلاع کیسے ہوئی ؟‘‘ اخبار تو ابھی آیا بھی نہیں ہے‘‘حضرت! ابھی تو ڈاک کا وقت بھی نہیں ہوا‘‘ اس سے پہلے نہ کسی اخبار میں یہ تذکرہ آیا تھا اور اُس وقت ریڈیوکا عام رواج چترا میں تھا۔ ‘‘ سارا زور قلم اس بات پر صرف کیا ہے کہ کسی طرح ثابت ہو جائے کہ آپ کو عِلم غیب تھا لیکن یہی دیوبندی علماء جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے عِلم غیب سے تعلق کسی واقعہ پر بحث کر تے ہیں تو ایک ایک سطراس کو شش کی آئینہ دار ہوتی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو یہ ثابت کیا جائے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو عِلم غیب نہیں تھا حضرت جبریل امین خبر دیتے تھے۔

زاویہ نگاہ کا یہ فرق جس جذبے پر مبنی ہے اُسے نہ بھی ظاہر کیا جائے جب بھی اپنی جگہ وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ (۱۴)

اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ

انہی رانی ساگری صاحب کا ایک دلچسپ لطیفہ اور سُنیئے، موصوف کے ایک اور مرید مولوی شہاب الدین رشیدی نقیب کے اسی مصلح اُمت نمبرمیں ایک عجیب وغریب واقعہ کے راوی ہیں، بیان کر تے ہیں کہ :

’’ مجھے میرے محترم دوست اور حضرت کے خویش مولانا اشرف علی صا حب نے بیان کیا کہ حضرت رحمۃ اﷲعلیہ نے ارشاد فرمایا کہ ایک امیر زادہ نوجوان شخص تھے ان کی زندگی بہت ہی لااُبالی پن میں گزری ان کا جب انتقال ہوگیا تو میں ایک دن قبرستان گیا تو اس شخص کو دیکھا کہ قبر میں ننگا بیٹھا ہے اور بہت ہی حسرت ویاس کے عالم میں ہے میں جب قریب پہنچا تو اس نے ہمیں دیکھ کر اپنی ستر دونوں ہاتھوں سے چھپالی میں نے اُس سے کہا کہ اسی لئے نہ میں تجھے کہتا تھا لیکن تونے اپنی زندگی لا پرواہی میں گزاردی اور میری باتوں کی طرف دھیان نہیں دیا۔‘‘ (نقیب پھلواری کا مصلح اُمت نمبر، ص۱۹)

اس واقعہ کو پڑھنے کے بعد بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اُنہیں کسی مُردہ کے ساتھ نہیں بلکہ زندہ کے ساتھ پیش آیا تھا اور عالمِ برزخ کا نہیں بلکہ عالم دنیا کا ہے اور واقعہ عالم برزخ ہی کا ہے تو ماننا پڑے گا کہ عالمِ غیب کے ساتھ ان حضرات کا تعلق بالکل گھراور آنگن کا ہے عالمِ غیب کا کوئی پردہ ان کی نگاہوں پر حائل نہیں ہے، جدھر نگاہ اُٹھی غیب کی چیزیں خود بخود بے نقاب ہو گئیں ، انصاف کیجیے ! ایک طرف تو اپنے بزرگوں کی قوت انکشاف کا یہ حال بیان کیا جاتا ہے اور دوسری طرف سیدالانبیاء کے حق میں آج تک اصرار کر رہے ہیں کہ انہیں دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ہے۔ (۱۵)

کاروبار عا لم میں تصرف کا واقعہ

کاروبارعالم میں ان حضرات کے اقتداراور خودمختار تصرف کا تماشا دیکھنا چاہتے ہوں تو اس کتاب کا یہ آخری قصہ پڑھئیے انہی رانی ساگری صاحب کی صاجزادی ثامنہ خاتون کی یادداشت سے نقیب کے اسی مصلح اُمت نمبر میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے، موصوفہ بیان کرتی ہیں کہ: ’’جب ہمارا گھر بننے لگا تو والد صاحب قبلہ کی ہدایت کے مطابق سب سے پہلے پاخانہ میں ہاتھ لگاوہ زمانہ برسات کا تھا، لیکن بارش نہیں ہورہی تھی، دھان کی روپنی ہو چکی تھی، کسان سخت پریشان تھے،میں نے والد صاحب سے درخواست کی کہ بارش کے لیے دعا فرمادیجئے، بہت لوگ پریشان ہیں، فصل کو خطرہ ہے، والد صاحب مسکرا نے لگے اور پھر فرمایا، بارش کیسے ہوگی ؟ اپنا پائخانہ جو بن رہا ہے خراب ہو جائے گا۔

میں نے پوچھا کب تک پائخانہ بن جائے گا ؟ بولے دیوارمکمل ہو گئی ہے رات کو چھت کی ڈھلائی ہو جائے گی میں خاموش ہوگئی،دودن بعد خوب زوردار بارش شروع ہوگئی، والد صاحب گھرہی پر تھے میں نے پوچھا، بارش ہونے لگی اب تو پائخانہ میں نقصان ہوگا، فرمانے لگے نہیں بٹیا ! اب تو فائدہ ہوگا، میں نے پوچھا تو کیا پائخانے ہی کے لیے بارش رُکی ہوئی تھی ؟ والدصاحب نے کوئی جواب نہیں دیا صرف مسکراتے رہے اس وقت والد صاحب ’’تندرست تھے۔‘‘

(نقیب کا صلح اُمت نمبر ، ص ۴)

اس واقعہ کے بیان سے جس عقیدے کا اظہار مقصودہے وہ یا تو یہ ہے کہ اُنھیں اس بات کا علم تھا کہ بارش ابھی نہیں ہوگی اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ بارش کیوں رُکی ہوئی ہے ؟

یاپھر یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ کاروبارہستی میں ان کی ذاتی خواہش اتنی دخیل اور مؤثرتھی کہ اگرچہ زمین کا سینہ تپتا رہا، فصل جلتی رہی اور کاشتکاروں کی آہیں باب رحمت پر سَرپٹکتی رہیں لیکن جب تک اُن کا پاخانہ تیار نہیں ہوگیا بارش کو چاروناچار رُکنا پڑا، ’’بارش کیسے ہوگی‘‘ کا فقرہ بھی واضح طور پر اس رُخ کو متعین کرتا ہے کہ اُنھوں نے جب تک نہیں چاہا بارش نہیں ہوئی۔

اب آپ کی غیرت ایمانی اخلاص و وفا کی منزل سے بخیر وعافیت گزرسکتی ہوتو آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ کاروبارِ عالم میں گھرکے بزرگوں کے اثرورسوخ کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے لیکن خداکے پیغمبراعظم صلی اﷲ علیہ وسلم کی جناب میں ان حضرات کے عقیدے کی زبان یہ ہے :

’’ سارا کاروبارجہان کا اﷲ ہی کے چاہنے سے ہوتا ہے، رسُول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔‘‘

(تقویۃ الایمان ، ص۲۲)

عقیدے کا طغیان تو اپنی جگہ پر ہے الفاظ و بیان کی جارحیت ذراملاحظہ فرمائیے کہ ــ’’ سارا کاروبارِ جہان اﷲ ہی کے چاہنے سے ہوتا ہے۔‘‘ اتنا فقرہ بھی عقیدہ ٔ تو حیدکا مفاد پورا کر نے کے لیے کافی تھا، لیکن ’’رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘ اس فقرے کا اضافہ صرف اس جذبۂ تحقیر کے اظہار کے لئے ہے جوان حضرات کے دلوں میں رسُولِ خدا کی طرف سے جاگزین ہو چُکا ہے۔ ع : ’’ نہ تھی دل میں تو کیوں آئی زباں پر‘‘ دیوبندی جماعت کے تین نئے بزرگوں کے واقعات کا اضافہ

قاری فخرالحسن صاحب گیاوی جو مولانا حسین احمد صاحب شیخ دیوبند کے مُرید اور خلیفہ مجاز ہیں اورجو صوبہ بہار میں دیوبندی مذہب کے بہت بڑے مبلّغ و پیشوا سمجھے جاتے ہیں،اُنھوں نے ’’درسِ حیات‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جو مدنی کتب خانہ قاسمیہ گیا(بہار) سے شائع ہوئی ہے۔

اُس کتاب میں موصوف نے اپنی جماعت کے تین ’’بزرگوں‘‘ کے حالاتِ زندگی قلم بند کیے ہیں، اُن میں سے ایک تو اُن کے نانا مولوی عبدالغفار سرحدی ہیں، دوسرے اُن کے والد مولوی خیرالدین شاگرد مولوی محمودالحسن صاحب دیوبندی ہیں، تیسرے اُن کے اُستاد اور والد کے دوست مولوی بشارت کریم صاحب ہیں یہ تینوں حضرات اپنے زمانے میں دیوبندی مذہب کے علاقائی رہنما اور سرگرم مبلغ تھے۔

اب آنے والے صفحات میں ترتیب وار تینوں کے وہ واقعات پڑھئے جنہیں صحیح مان لینے کی صورت میں دیوبندی مکتب فکر کی بنیاد متزلزل ہو جاتی ہے اور ایک انصاف پسند آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ کتاب شاید اسی لئے لکھی گئی ہے کہ دیوبندی مذہب کا جھوٹ فاش کیا جائے۔ (۱۵)

مولوی عبدالغفار صاحب سرحدی کے واقعات

ایک غیب داں جن کا قصہ

درس حیات کے مصنف نے اپنے نانا مولوی عبدالغفار صاحب کے متعلق یہ دعویٰ کیا ہے کہ انسانوں کے علاوہ جنات بھی اُن سے تعلیم حاصل کر تے تھے اور بہت سے جنات اُن کے حلقہ بگوشوں میں بھی شامل تھے۔

چنانچہ ایک جن طالب علم کا قصہ بیان کرتے ہوئے اُنھوں نے لکھا ہے کہ اُس کے ساتھیوں میں سے ایک لڑکے کو اس کے متعلق کسی طرح سے معلوم ہو گیا کہ وہ جن ہے دوستانہ تعلقات تو پہلے ہی سے تھے یہ معلوم ہونے کے بعد اب وہ اس کے پیچھے پڑ گیا اور کہنے لگا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں تم میری مالی امداد کر کے دیرینہ دوستی کا حق ادا کرویہ کام تمہارے لئے کچھ مشکل نہیں ہے اس نے معذرت چاہتے ہوئے جواب دیا کہ ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ میں تمہارے لئے چوری کروں اور مولوی ہوکر میں کبھی یہ کام نہیں کروں گا۔

لکھا ہے کہ اُس جن کا وہ آخری سال تھابخاری شریف ختم کر کے جب وہ گھر جانے لگا تو اُس کے ساتھی نے اس سے تنہائی میں ملاقات کی اور آبدیدہ ہو کر کہا، اب تو تم جاہی رہے ہو، لیکن دِم رخصت کم ازکم اتنا تو بتا دو کہ تم سے اب ملاقات کی صورت کیا ہوگی، جواب دیا میں تمہیں چند مخصوص کلمات بتادیتا ہوں جب بھی ملاقات کو جی چاہے پڑھ لیا کرنا میں حاضر ہو جایا کروںگا، چنانچہ اس کے چلے جانے کے بعد جب بھی ملاقات کی خواہش ہوتی وہ مذکورہ کلمات پڑھ لیا کرتے اور وہ حاضر ہو جایا کرتا۔

اب اس کے بعد کا واقعہ خود مصنف کی زبانی سُنیے، لکھا ہے کہ :

’’ایک مرتبہ وہ بہت مالی پریشانی میں مبتلا ہو گئے، لڑکی کی شادی کرنی تھی اور پیسے پاس میں نہ تھے اس موقعہ پر جن دوست یاد آگئے اُن چند کلمات کا ورد کرنا تھا کہ جن صاحب تشریف لے آئے، اُنھوں نے اپنی پریشانی کا ذکر اُن سے کیا۔

اُنھوں نے کہا اچھا میں آپ کے لیے چوری تو کروں گا نہیں یہ حرام طریقہ میں اختیار نہیں کر سکتا ہوں مگر جائز ذرائع سے کچھ رقم آپ کے لیے مہیا کر کے آپ کی ضرور مدد کروں گا آپ گھبرائیں نہیں، دوسرے دن وہ جن صاحب آکر اُن پریشان حال دوست کو معقول رقم دے گئے مگر تاکید کر گئے کہ اُس کا ذکر کسی سے نہ کریں‘‘۔ (درس حیات، ج ا،ص ۲۶)

اس رقم سے اُنھوں نے نہایت تزک واحتشام اور دھوم دھام سے اپنی بچی کی شادی کی، امیرانہ ٹھاٹھ باٹ دیکھ کر لوگوں کو سخت حیرت ہوئی اور لوگ سوچنے لگے کہ اچانک اتنی کثررقم اُنھیں کہاں سے مل گئی، دوسروں کو تو پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی، لیکن بیوی ان کے سر ہو گئی ہزار ٹالنا چاہا لیکن بیوی کا اصرار بڑھتا گیا یہاں تک کہ مجبور ہو کر اُنہیں سارا بھید ظاہر کرنا پڑا اب اس کے بعد کا واقعہ فر ط حیرت کے ساتھ سُنیئے، لکھا ہے کہ :

’’اس کا اثر یہ ہو کہ اب اُنھوں نے جب بھی وہ کلمات اس اُمید پر پڑھے کہ وہ جن صاحب تشریف لائیں گے اور اُن سے ملاقات کریں گے لیکن کبھی اُن کی یہ اُمید پوری نہ ہو سکی اور اُن جن نے ملاقات کا سلسلہ ختم کر دیا‘‘۔ (درس حیات، ج ا،ص۶۳)

اب ایک طرف یہ واقعہ نظر میں رکھیے اور دوسری طرف دیوبندی مذہب کی بنیادی کتاب تقویۃ الایمان کا یہ فرمان پڑ ھئیے :

’’ اﷲ صاحب نے پیغمبر صلعم کو فرمایا کہ لوگوں سے یوں کہدیویںکہ غیب کی بات سوا اﷲ کے کوئی نہیں جانتا نہ فرشتہ نہ آدمی نہ جِن‘‘۔ (تقویۃالایمان، ص ۲۲)

یہ مذہب ہے اور وہ واقعہ ! اور دونوں ایک دوسرے کو جھٹلارہے ہیں۔

اب آپ ہی منصفی سے کہیے کہ وہ جن اگر غیب داں نہیں تھا تو گھر کے اندر بیوی کے ساتھ کی جانے والی گفتگو کی اطلاع اُسے کیونکر ہو گئی ؟ اور اگر نہیں ہو ئی تو اس نے ملاقات کا سلسلہ کیوںختم کر دیا اور تو ہین علم ودیانت کی نہ مٹنے والی سُرخی تویہ ہے کہ اطلاع وآ گہی کا یہ واقعہ کچھ بارکا نہیں تھا کہ اُسے حُسن اتفاق کا نتیجہ کہہ کر گزر جایئے بلکہ واقعہ کی صراحت کے مطابق سینکڑوں میل کی مسافت سے اُن کلمات کا ورد کر تے ہی اُسے ہمیشہ خبر ہو جایا کرتی تھی کہ فلاں مقام پر فلاں شخص مجھے یاد کر رہا ہے۔

اب اس کا مطلب سِوااس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ اُسے ہمہ وقتی غیب دانی کا منصب حاصل تھابالکل وائرلیس کی طرح ادِھر سگنل دِیا اور اُدھر وصول کر لیا۔

قتال و جدال کے معرکوں میں دو لشکروں کا تصادم تو اکثر پیش آیا ہے لیکن اپنے مذہب کے ساتھ ایسا خوں ریز تصادم شاید ہی تاریخ میں پیش آیا ہو۔

فیاللعجب! کہ اسی دین ودیانت پر علمائے دیوبند کو غرہ ہے کہ وہ روئے زمین پر عقیدہ توحید کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ (۲)

جماعتی مسلک کا ایک اور خون

اپنی اسی کتاب میں مصنف نے آگے چل کر اپنے نانا کے حق میں خدائی منصب کا ایک صاف و صریح دعویٰ کیا ہے قوسین کے تشریحی اضافے کے ساتھ دعوے کی یہ سُرخی ملاحظہ فرمائیے! علوم تکوینیات (انتظام عالم) سے مولانا کا تعلق!

اَب دریائے حیرت میں ڈوب کر دعوے کے یہ الفاظ پڑھئے :

’’علوم تکوینیہ انتظامیہ سے بھی مولانا کا تعلق تھا اور عالم تکوینیات کے کارکنوں کا مولانا سے ملنا اور مشورہ کرنا اور ان سے گہرے روابط اور تعلقات بھی وقتاً فوقتاًظاہر ہوتے رہتے تھے‘‘۔

(درس حیات ،ص ۸۵)

کیا سمجھے آپ؟ کہنا یہ چاہتے ہیںکہ نانا میاں اس محکمے کے ’’آفیسرانچارج‘‘تھے اور ماتحت کارندے آپ کے مشورے کے مطابق عالم کے انتظامات کا کام سنبھالتے تھے اور یہ کچھ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ خود مصنف نے اپنی کتاب میں اس کا دعویٰ کیا ہے ارشاد فرماتے ہیں :

’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے عالم کے تمام انتظامات کے لیے کارندے مقرر ہیں وہی سب کچھ کرتے ہیں، وہ اس علم کی اصطلاح میں’’اصحاب خدمت‘‘کہلاتے ہیں‘‘۔

(درس حیات ، ص۸۹)

یہ سوال جو عام طور پر کیا جاتا ہے کہ کیا خدا تمہاری مدد نہیںکر سکتا جو تم انبیاء و اولیاء کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہواگر صحیح ہے تو ہمیں بھی یہ سوال کرنے کی اجازت دی جائے کہ’’وہی سب کچھ کر سکتے ہیں‘‘تو پھر خدا کیا کرتا ہے؟کیا وہ اکیلا عالم کا انتظام نہیں کر سکتا جو اس نے انسانوں میں سے جگہ جگہ اپنے کارندے مقرر فرمائے ہیں۔

ضمناًیہ بات نکل آئی ورنہ کہنا یہ ہے کہ ایک طرف’’نانا میاں‘‘ کا یہ تکوینی اور انتظامی اختیار ملاحظہ فرمائیے اور دوسرع طرف تقویۃ الایمان کا یہ فرمان پڑھیئے توحید پرستی اور خُدا پرستی کا سارا بھرم کھل جائے گا۔

’’اللہ صاحب کو دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہ سمجھے کہ بڑے بڑے کام تو آپ کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام اور نوکروں چاکروں کو حوالہ کر دیتے ہیں سو لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں ان کی التجا کرنی ضرور پڑتی ہے سو اللہ کے یہاں کا کارخانہ یوں نہیں ہے‘‘۔ (تقویۃ الایمان، ۳۶) یہ ہے عقیدہ وہ ہے عمل! اور دونوں کے درمیان جو مشرق و مغرب کا تضاد ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے یہ تضاد کیونکر اُٹھے گااسے تو اصحاب معاملہ جانیں، ہمیں تو اس وقت اُنہی کارندوں میں سے ایک کارندے کا قصہ سنانا ہے جسے مصنف نے یہ ظاہر کرنے کے لیے بیان کیا ہے کہ اُس طبقے کے ساتھ’’نانا میاں کا تعلق کتنا گہرا اور رازدار نہ تھا،قصے کا آغاز کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’مولانا عبد الرافع صاحب مرحوم(مصنف کے خالو)کا بیان ہے کہ مولانا (یعنی نانامیاں) کے گھر کا سودامیں ہی لایا کرتا تھا سبزی ترکاری لانی ہوتی تو مولانا ایک خاص کنجڑے کاپتہ بتلاتے کہ وہیں سے لینااس کے یہاں اچھی ہو یا بُری اُسی کے یہاں سے لینا‘‘۔ (درس حیات، ص۸۶)

اب پڑھنے کی چیز یہ ہے کہ وہ کنجڑا کون تھا اور اس میں کیا خصوصیت تھی، لکھا ہے کہ :

’’مولانا عبد الرافع صاحب کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ گیا کے انتظامی اُمور تو آج کل بہت خراب ہیں آج کل یہاں کا صاحبِ خدمت کون ہے، مولانا خفا ہوئے کہ اس کو یہ بیماری ہے کہ بے فائدہ باتیں پوچھا کرتا ہے مگر میں بہت سَر چڑھا تھا بار بار اصرار کرتا ہی رہا کہ بتلا دیجئے۔

آخر مجبور ہو کر فرمایا کہ وہی کنجڑا ہے جس کے یہاں سے ترکاری لانے کے لئے تم کو تاکید کرتا رہتا ہوں اور تم ہمیشہ مجھ سے اس کے بارے میں حجّت کرتے رہتے ہو۔

میں یہ سن کر حیران رہ گیا کہ اللہ غنی! وہ کنجڑا اتنے درجے والا ہے؟‘‘ (درس حیات، ص۸۹) مجھے اس واقعہ کے ضمن میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہنا ہے کہ عالم کے انتظامات اور تکوینی اختیارات جب خدا ہی نے بنی نوع انسان میں سے اپنے چند کارندوں کے سپرد کر دیئے ہیں تو اب اُنہیں کار ساز و حاجت روا سمجھنے پر شرک کا الزام کیوں عائد کیا جاتا ہے، یہ بغاوت نہیں بلکہ عین وفاداری ہے کہ مالک کی طرف سے مقرر کیے ہوئے کارندوں کو ان کی منصبی حیثیت کے ساتھ عقیدۃٔاور عملاً دونوں طرح تسلیم کیا جائے کیونکہ جس کے ہاتھ میں امور کا انتظام و انصرام ہوتا ہے اپنی کاربر آری اور عقدہ کشائی کے لئے اس کی طرف رجوع کرنا دین ودیانت کا بھی تقاضا ہے اور عقل و فطرت کا بھی۔

اس واقعے میں اپنے مسلک سے انحراف اپنی جگہ پر ہے لیکن سب سے بڑا ماتم تو دل کی اس شقاوت کا ہے کہ اپنے’’نانا کا تقرب‘‘ اور اقتدار ثابت کرنے کے لیے تو ایک کنجڑے تک کو کاروبار عالم میں دخیل مان لیا گیا لیکن’’حسین کے نانا‘‘ کے حق میں عقیدے کی جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ یہ ہے:

’’جس کا نام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں۔‘‘

(تقویۃ الایمان ، ص ۴۳)

’’سارا کاروبار جہان کا اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتا ہے ، رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘۔

(تقویۃ الایمان، ص ۵۸)

(۱۶)

مولوی خیر الدین صاحب کے واقعات (۱) اولاد کی لالچ میں عقیدہ شرک سے مصا لحت درس حیات کے مصنف اپنے والد کے متعلق ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

’’ابتداء میں(والد کی)کوئی اولاد زندہ نہیں رہتی تھی، کئی اولاد ہوئیں مگر اللہ کو پیاری ہو گئیں، خوبی قسمت سے ایک عالم پنجابی جو بہت بڑے عامل بھی تھے،گیا تشریف لائے، مولانا نے اولاد زندہ نہ رہنے کا حال اُن سے کہا۔

اُنھوں نے کہا کہ ایک عمل ہے اس کو کیجئے ان شاء اللہ اولاد نرینہ ہو گی اور زندہ رہے گی، جب حمل کو چوتھا مہینہ ہو تو حاملہ کے پیٹ پر اپنی انگلی سے بغیر روشنائی کے ’’محمد‘‘ لکھ دیجئے اور پُکار کر کہیے، ’’میں نے تیرا نام محمد رکھا‘‘اور حب بچہ پیدا ہو تو اس کا نام محمد رکھیے، چنانچہ ا س عمل کے بعد سب سے پہلی اولاد جو پیدا ہو کر زندہ رہی وہ میں ’’قاری فخر الدین مصنف کتاب ہوں‘‘۔

(درس حیات ، ص ۱۵۶)

غائب از نظر کو خطاب اور ندا دیوبندی مذہب میں شرک ہے ، لیکن اولاد کی لالچ میں یہاں کوئی الجھن پیش نہیں آئی کہ ’’میں نے تیرا نام محمد رکھا‘‘ میں غائب کو خطاب کیوں کر درست ہے؟

اور سب سے بڑا قلق تو اس احسان فراموشی کا ہے کہ جس اعتقاد کی بدولت زندگی جیسی نعمت میسر آئی اُسی کو غلط اور شرک ثابت کرتے ہوئے ذرا کفرانِ نعمت کا خیال ان حضرات کو نہیں آتا اور واقعہ سر سے گزر جانے کے باوجود اُنہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ جب’’اسم‘‘ کا تصرف یہ ہے کہ وہ حیات بخش ثابت ہوا تو ’’مسمّیٰ ‘‘ کے تصرفات کا کون اندازہ لگا سکتا ہے؟ (۲)

تصرف و غیب دانی کا بے مثال واقعہ

درس حیات کے مصنف نے تحصیلِ علم کے سلسلے میں اپنے والد کا ایک سفر نامہ نقل کیا ہے، واقعات کے راوی خود مصنف کے والد ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے چند رفقاء کے ساتھ تحصیل علم کے لئے اپنے گھر سے نکلے اور کئی دن تک شبانہ روز چلتے رہے۔

’’یہاں تک کہ ہم دوپہر کو ایک شہر میں داخل ہوئے ، معلوم ہو ا کہ یہ کرنال ہے، میں نے دریافت کیا کہ سب سے پہلے ظہر کی نماز کس مسجد میں ہوتی ہے، اس مسجد میں جا کر نماز ظہر باجماعت ادا کی، نماز کے بعد مسجد سے نکلا کہ جلدی شہر سے نکلوں تاکہ راستہ کھوٹا نہ ہو۔

مسجد سے لگے ہوئے برآمدے میں ایک نابینا حافظ صاحب بیٹھے تھے میں جب اُن کے قریب سے گزرا تو اُنھوں نے کہا خیر الدین السلام علیکم!میرے پاس آئو ۔

میں نے یہ خیال کر کے کہ فضول باتوں میں یہ میرا وقت ضائع کریں گے اُن کی اس بات کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور سرسری جواب دیتے ہوئے تیزی سے نکل گیا، اُنھوں نے اپنے شاگردوں کو میرے پیچھے دوڑایا کہ پکڑکر لے آؤ مگر وہ مجھ کو پکڑ نہ سکے، میں سب سے قوی تھا سب کو جھٹک کر دُور پھینک دیا اور آگے بڑھتا رہا‘‘۔ (درسِ حیات، ص ۱۵۵)

یہاں تک کہ میں شہر پناہ کے پھاٹک سے جیسے ہی باہر نکلا اچانک زمین نے میرے قدم تھام لیے بہت کوشش کی لیکن ذرا بھی قدم آگے نہیں بڑھ سکا میرے ساتھیوں نے بھی مل کر بہت زور لگایا لیکن وہ بھی میرے قدموں کو زمین کی گرفت سے آزاد نہیں کراسکے یہاں تک کہ مجبور ہو کر میں شہر کی طرف واپس لوٹ آیا اور وہیں سے اپنے ساتھیوں کو رخصت کر دیا۔

’’شہر میں آنے کے بعد مجھ کو خیال ہوا کہ وہ نابینا حافظ جی کون تھے، جنھوں نے باوجود ناواقف ، اجنبی اور نابینا ہونے کے مجھ کو میرا نام لیکر پکارا چلواُن سے تحقیق حال کروں، میں جب اُن کے پاس پہنچا تو وہ زور سے ہنسے اور کہا آخر آگئے بہت جان چھڑا کر بھاگے تھے میں نے اُن سے کہاان باتوں کو چھوڑئیے، آپ یہ بتلائیے کہ آپ نے مجھ کو کیسے پہچانا اور میرا نام آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ اُنھوں نے فرمایا کہ تمہارا نام؟مجھ کو تو تمہارا حال معلوم ہے کہ کس غرض سے نکلے ہو، کیا تم سمجھتے ہو کہ جس طرح تم ادھر روکے گئے ہو اُدھر نہیں روکے جائو گے؟تمہارے علم کا ایک حصہ اس شہر میں مقدر ہے جب تک تم اس کو حاصل نہیں کروگے اس شہر سے نکل نہیں سکتے‘‘۔ (درس حیات، ص۱۵۶)

اس کہانی میں نابینا حافظ کا کردار نہایت واضح طور پر دیوبندی مذہب کو جھٹلا رہا ہے کیونکہ کسی نابینا شخص کا صرف قدموں کی آہٹ پا کر ایک بالکل اجنبی آدمی کو پہچان لینا اور اس کا نام لے کر پکارنا اور یہ دعویٰ کرنا کہ نام ہی نہیں مجھے تمہارا حال اور مقصد سفر تک معلوم ہے پھر تقدیر کا یہ نوشتہ بتانا کہ اس شہر میں تمہارے لئے علم کا ایک حصہ مقدر ہے اور اس شہر سے اس وقت تک تم نہیں نکل سکتے جب تک کہ اُسے حاصل نہ کرلویہ سارے اُمور وہ ہیں جنھیں دیوبندی مذہب میں صرف خدا کا حق تسلیم کیا گیا ہے اور بڑے سے بڑے بندے کے حق میں اس طرح کی باتوں کے اعتقاد کو شرک جلی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

ٹھیک ہی کہا ہے کسی نے کہ دنیا میں قاتلوں کی کمی نہیں ہے لیکن علمائے دیوبند پراپنے مذہبی اصولوں کے قتل کا الزام تاریخ کا بدترین الزام ہے۔ (۳)

تصرف و غیب دانی کا ا یک اور حیرت انگیز واقعہ

مصنف نے اپنی کتاب میں اپنے والد کے سفر کا حال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک بار اپنے پیر و مُرشد سے ملاقات کے لیے وہ سوات جارہے تھے جو سندھ کے اطراف میں واقع ہے درمیان میں پہاڑوں اور صحراوں کا ایک طویل سلسلہ طے کرنا پڑتا تھا چلتے چلتے جب وہ ایک پہاڑ کے گھاٹی میں پہنچے تو وہاں کا راستہ اتنا تنگ اور دُشوار گذار تھا کہ گدھے کی سواری کے بغیر اُسے عبور کرنا ناممکن تھا۔

اب اس کے بعد کا واقعہ خود مسافر کی زبانی سنئے ، لکھا ہے کہ :

’’میں گدھے پر سوار تھوڑا ہی آگے بڑھا ہوں گا کہ ایک درہ میں سے ڈاکو ؤں کا ایک گروہ نکلا اور اس نے مجھ کو بہت تنگ کیا میرے پاس جو کچھ تھا سب رکھوالیا اور اس کے بعد جان کی باری تھی رحم کا کوئی شائبہ ان کے اندر نہ تھا۔

میں نے پریشانی کے عالم میںسر جُھکا لیا اور عمل برزخ ’’تصور شیخ‘‘ کا عمل کیا، اب کیا دیکھتا ہوں کہ وہی ظالم ڈاکو سراپا رحم و کرم بنے ہوئے تھر تھر کا نپ رہے ہیں، کوئی قدم چومتا ہے کوئی ہاتھ چومتا ہے‘‘۔

(درسِ حیات ، ص ۱۷۲)

اس کے بعد لکھا ہے کہ انہی لوگوں میں ڈاکوؤں کا سردار بھی تھا وہ مجھے اپنے گھر لے گیا اور میری بڑی خاطر مدارات کی وہ لوگ بار بار مجھ سے معافی مانگتے تھے اور اقرار لیتے تھے کہ میں نے اُنہیں معاف کر دیامیں نے حیرانی کے عالم میں ان سے دریافت کیا کہ پہلے تو تم لوگوں نے میرے ساتھ وہ معاملہ کیا اور اب اچانک کیا بات ہو گئی کہ تم میرے حال پر اس قدر مہربان ہوگئے ان لوگوں نے جواب دیاکہ :

’’حضرت؟ہم نے آپ کو پہچانا نہ تھا، جب آپ آنکھ بند کر کے سر جھکائے بیٹھے تھے اُس وقت ہم نے آپ کو غور سے دیکھا تو پہچانا کہ آپ تو حضرت میاں صاحب ہیں‘‘۔ (درسِ حیات ، ص ۱۷۳) اب اس کے بعد بیان کرتے ہیں بیان نہیں کرتے بلکہ دیوبندی مکتب فکر کے لٹریچر میں آگ لگاتے ہیں :

’’اب میری سمجھ میں آیا کہ تصور شیخ کی برکت سے حضرت کی توجہ خصوصی مبذول ہو کر میری صورت حضرت پیر ومرشد کی صورت سے تبدیل ہو گئی جس کی مجھ کوخبر بھی نہ تھی اور اُن ڈاکوؤں کے کہنے سے یہ عقدہ کھلا‘‘۔ (درسِ حیات ، ص ۱۷۳)

یہاں تک تو راستے کا حال بیان ہوا اَب پیر صاحب کے دربار کا قصہ سنئے اور غیبی قوتِ ادراک کی ایک اور شان دیکھئے، لکھا ہے کہ :

’’حضرت نے مجھ کو دیکھ کر فرمایا کہ بندہ خدا ! آنا ہی تھا تو مجھ کہ اطلاع کر دیتے ہیں ڈاکوؤں کے سردار کو خبرکرادیتا تو پھر کوئی خطرہ پیش نہ آتایہ راستہ بہت خطرناک ہے اللہ کا فضل ہوا کہ بچ کر چلے آئے‘‘۔

(درسِ حیات ، ص ۱۷۴) اَب اپنے حضرت کی غیب دانی کا ایک اور اعتراف ملاحظہ فرمائیے بیان کرتے ہیں کہ :

’’(حضرت) دیر سے منتظر بیٹھے تھے اور میرے لیے کھچڑی پکوا کر رکھی تھی چونکہ اُس وقت میرے معدہ میںکچھ گڑبڑی تھی حالا نکہ میںنے اس کی کوئی اطلاع نہیں کی تھی بڑی شفقت سے مجھ کو کھچڑی کھلائی‘‘۔

(درسِ حیات ،ص۱۷۴)

غور فرمائیے ! اس ایک واقعہ میں اپنے حضرت کے متعلق غیب دانی اور تصرف کے کتنے دعوے کئے گئے ہیں۔

پہلا دعویٰ تو یہی ہے کہ پہاڑ کی گھاٹی میں میلوں کی مسافت سے تصور کی خاموش زبان کا استغاثہ اُنھوں نے سن لیا تھا اور وہیں سے بیٹھے بیٹھے اپنی صورت بھی مریدکی صورت پر چسپاں کر دی اور یہ اس وقت تک چسپاں رہی جب تک کہ مرید اپنے گھر تک نہیں پہنچ گیا ۔

دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ پہاڑ کی گھاٹی میںمرید کو جو حادثہ پیش آیا غیبی طور پر اس کی جملہ تفصیلات پیرصاحب کو معلوم ہو گئیں جبھی تو پہنچتے ہی انھوں نے فرمایا ’’بندہٰ خدا ! آنا ہی تھا تو مجھ کو اطلاع کردیتے میںڈاکوئوں کو خبر کرا دیتا تو پھر کوئی خطرہ پیش نہ آتا‘‘ـ۔

تیسرا دعویٰ یہ ہے کہ اپنے غیبی علم کے ذریعہ پیر صاحب کو اس بات کی بھی خبر ہوگئی کہ آنے والے مرید کا معدہ خراب ہو گیا ہے اس لئے پہلے ہی سے کھچڑی پکوا کر تیار رکھی تھی۔

سوچتا ہو ں تو آنکھوں میں خون تیرنے لگتا ہے کہ یہ حضرات اپنے گھر کے بزرگوں کے متعلق جو کچھ بیان کرتے ہیں اگر یہی امر واقعہ اور یہی ایمانی حقیقتوں کی صحیح تعبیر ہے تو پھر سو برس سے انبیاء اولیا ء کے بارے میں عقائدکی جو جنگ لڑی جا ری ہے آخر اس کا پس منظر کیا ہے؟

کتنا سنگین مذاق ہے یہ اہلِ اسلام کے ساتھ کہ صرف جی بہلانے کے لئے ان کے جذبات سے کھیلا جارہا ہے۔

دیوبند مکتبِ فکر کا وہ لٹریچر جو کفر وشرک کی تعزیرات پر مشتمل ہے خانقاہوں میں تو پہلے ہی سے ناپسندیدہ تھا اب جبکہ اپنے گھرمیں بھی وہ قابلِ عمل نہیںرہاہے تواسے باقی رکھنے کی معقول وجہ کیا ہے؟

میرا سوال دیوبندی جماعت کے سارے اصاغرواکابر سے ہے کوئی صاحب بھی معقول جواب دے کر میری تشفی کردیں تو میں ساری زندگی ان کا شکر گزار رہوں گا۔ (۴)

باپ کی غیب دانی کا قصہ

اب تک تو دوسروں کی بات چل رہی تھی اب خود مصنف کے والد بزرگوار کی غیب دانی کا قصہّ سنئے ،تحریر فرماتے ہیں کہ :

’’ میرے چھوٹے بھائی قاری شر ف الدین کا بیان ہے کہ مولانا وضو کر کے مُصلے پر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا چکے تھے کہ میں نماز کی تیاری کے بجائے یہ سمجھ کر ان کے پیچھے کھیل میں مشغول ہو گیاکہ اب وہ تحریمہ باندھ کر نماز میں دیر تک مشغول رہیں گے اور ان کو میرے کھیل کی خبر نہ ہو گی لیکن ان کو فوراً کشف ہو گیا اور اچانک ہاتھ کانوں سے ہٹا کر پیچھے مڑ کر دیکھا اور مجھ کو زور سے ڈانٹا ‘‘۔ (درس حیات، ص ۲۲۶)

اِس واقعہ کے بیان میںذرا جذبہ عقیدت کا یہ تصرف ملاحظہ فرمائے کہ تحریمہ باندھتے وقت پیچھے پلٹ کر دیکھنا اتفاقاً بھی ہو سکتا ہے اور اس غرض سے بھی ہو سکتا ہے کہ صفیں سیدھی ہوگیئں یا نہیںلیکن مصنف کا اصرار ہے کہ میرے والد نے صرف اس لئے پیچھے پلٹ کر دیکھا تھا کہ انھیں اپنی غیبی قوتِ ادراک کے ذریعے سے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ پیچھے کی صف میں بھائی کھیل رہا ہے۔

مجھے کہنے دیجئے کہ باپ کو غیب داں ثابت کرنے کے لئے جو جذبہٗ عقیدت یہاں کار فرماہے اگراس کا ہزارواںحصہ بھی رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دل کے کسی گوشے میں موجود ہوتا تو عقائد کا یہ اختلاف جس نے امت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ہر گز وجود میں نہ آتا۔

ہزار تاویلات کے باوجود دیوبندی لٹریچر کے ذریعہ یہ حقیقت اب اتنی واضح ہو گئی ہے کہ ملت کا انصاف پسند طبقہ حالات کا یہ کرب محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ایک بات کی وضاحت

اس کتاب میں دیوبندی لٹریچرکہ حوالہ سے کشف کا ذکر باربار آیا ہے اس لئے میں اسے واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ دیوبندی مذ ہب میں کشف کا دعوی کہاں تک درست ہے؟

لہٰذا اس کے لئے دیوبندی مذہب کی الہامی کتاب تقویۃ الایمان کا یہ فرمان ملاحظہ فرمائیے :

’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ سب جو غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں کوئی کشف کا دعویٰ کرتا ہے کوئی استخارہ سکھاتاہے یہ سب جھوٹے اور دغاباز، ان کے جا ل میں نہ پھنسنا چاہئے‘‘۔

(تقویۃ الایمان، ص ۲۳)

تقویۃالایمان کی اس نشاندہی کے بعددیوبندی گروہ کا کوئی شخص اپنے یا اپنے کسی بزرگ کے لیے کشف کا دعوی کرتا ہے تو اب اس کے متعلق اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے دغاباز ہے اسکے جال میں ہرگزنہ پھنسنا چایئے۔

(۱۷)

مولا نا بشارت کریم صاحب کے واقعات (۱)

کبریا ئی اختیارات کی کہا نی

موصو ف گڑھول نام کی ایک بستی کے رہنے والے ہیں جو ضلع مظفر پور بہار میں واقع ہے درسِ حیات کے مصنف نے اپنے استاد اور ایک مخدوم بزرگ کی حیثیت سے ان کا تذکرہ نہایت عقیدت کے ساتھ کیا ہے ۔

ان کے دربار کے ایک حاضر باش پنڈت کے بارے میں انھوں نے ایک عجیب واقعہ لکھا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے لکھتا ہے کہ پنڈت جی کسی مرشد کامل کی تلاش میںاِدھر اُدھر مارے مارے پھر رہے تھے کہ اچانک کسی مجذوب عورت سے ان کی ملا قات ہوگئی اس نے گڑھول کا پتہ بتایا کہ وہاںجا وہاں تیرے درد کا درماں ہے اَب گڑھول کا راسۃ معلوم کر کے وہاں کے لئے روانہ ہوئے اسکے بعد کا واقعہ خود مصنف کی زبانی سنئے،لکھتا ہے کہ :

’’دوپہرکا وقت تھا اور گرمی کا زمانہ تھا جو گیارہ اسٹیشن سے پیدل گڑھول جا رہے تھے گرمی کے دنوں میں دوپہر کے وقت لوگ عموماًگھروں کے اندرپناہ گزیں ہوتے ہیں ، باہر راستے میں چلتے ہوئے لوگ نہیں ملتے ، یہ کئی جگہ راستہ بھولے اور ہر جگہ ایک ہی صورت کے ایک ہی شخص نے ظاہر ہو کر راستہ بتلا دیا‘‘۔

(درس حیات، ص۲۹۹)

اب اسکے بعد کا قصہ سنئے ، بیان کے اس حصے میں مرشدِکامل کی قوت ِتصرف اور غیب دانی کا منصب کبریائی خاص طور پر محسوس کرنے کے قابل ہے،ارشاد فرماتے ہیں :۔

’’جب گڑھول پہنچے اور حضرت کے جمال جہاں آ را پر نظر پڑی تو دیکھا کہ یہ وہی ہیں جنھوں نے راستے میں کئی جگہ ظاہر ہو کر رہنمائی فرمائی تھی عقیدت جوش میںآئی بے اختیار عرض کیا بادشاہ!میرے حال پر رحم کیجئے اور مجھ کو راستہ بتلائیے‘‘۔ (درس حیات، ص۳۰۰)

گفتگو کا یہ حصہ نیاز مند اور باغی ذہن کا فرق اچھی طرح واضح کر دیتا ہے فطرت ِ انسانی کا یہ نکتہ اگر سمجھ آگیا تو نظر کے بہت سارے حجابات خود بخود اُٹھ جائیںگے۔

’’حضرت نے پوچھا کیا بات ہے؟ عرض کیا کہ گڑھول آتے ہوئے جہاں کہیں میں راستہ بھولاتو باد شاہ ! آپ نے ظاہر ہوکرراستہ بتلایا ،اب آپ پوچھتے ہیں کہ کیا چاہتاہوں ؟ آپ کو سب معلوم ہے کہ میں کیا چاہتا ہوں‘‘۔ (درس حیات،ص۳۰۰)

یہ واقعہ پڑھ کر ہر غیر جانبدار ذہن کو جن سوالات کا سامنا کرنا پڑے گاوہ یہ ہیں :

پہلا سوال تویہ ہے کہ اگر’’ حضرت‘‘ غیب داں نہیں تھے تو گھر بیٹھے اُنھیں کیونکر معلوم ہوگیا ایک جوگی میرے دربار میں آتے ہوئے راستہ بھول گیا چل کر اسکی رہنمائی کی جائے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ راستہ بھولنے کا واقعہ کئی با ر پیش آیا اورہر بار یہ اُس مقام پر پہنچ گئے جہاں راستہ گم ہو گیا تھا ، اس کا کھلاہوا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی خانقاہ میں بیٹھے ہو ئے جو گی کی ایک ایک نقل وحرکت دیکھ رہے تھے اور جہاں ضرورت سمجھتے تھے فوراً رہنمائی کے لئے پہنچ جاتے تھے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ راستہ بتانے کے لیے جوگی کے سامنے ایک ہی شکل وصورت کا جو شخص باربار نمودار ہوا وہ کون تھا ؟ آیا وہ خود ’’ حضرت‘‘ تھے یا کوئی اور تھا ؟ اگر وہ خود حضرت تھے تو بجلی کی طرح یہ سُرعت رفتا ر اُنھیں کیوں کر میسر آئی کہ مسافر ابھی راستے ہی میں تھا اور یہ کئی بار آئے بھی اور گئے بھی اور اگر’’ حضرت ‘‘نہیں تھے بلکہ کوئی اور تھا تو بالکل ’’حضرت ‘‘ کی طرح یہ دوسرا ’’وجود‘‘ کس کے تصرف کا نتیجہ تھا ۔

چوتھا سوال یہ ہے کہ جوگی نے جب یہ کہا کہ بادشاہ ! گڑھول آتے ہوئے جہاں کہیں ہم بھولے آپ نے ظاہر ہو کر راستہ بتایا اس کے بعد بھی آپ پوچھتے ہیں کہ میں کیا چاہتا ہوں ؟ آپ کوسب معلوم ہے کہ میں کیا چاہتا ہوں ؟ تو انھوں نے یہ ر سماًبھی یہ نہیں کہا کہ اسلام میں کسی مخلوق کے لئے اس طرح کا عقیدہ رکھنا شرک ہے یہ صرف خدا کا حق ہے ۔ جب ہم اپنے پیغمبر کے بارے میں اس طرح کا اعتقاد خلاف حق سمجھتے ہیں تو میرے متعلق یہ اعتقاد کیوں کر درست ہو گا ۔

ان سوالات کے جوابات کے لئے میں آپ سے آپ ہی کے ضمیر کا انصاف چاہتا ہوں۔ (۲)

باطنی مشاہدات کا ایک حیرت انگیز واقعہ

اپنے حضرت کی غیبی قوتِ ادراک کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کتاب کے مصنف اپنے والد سے ایک روایت نقل کرتے ہیں :

’’ والد صاحب مرحوم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ حضرت مولانا بشارت کریم صاحب فرماتے تھے کہ میں نے بارہا آپ کے قلب پر نظر کی تو اس کو آپکے شیخ کی توجہات سے معمور ومربوط پایا آپ کے شیخ کا پورا قبضہ آپ کے دل پر ہے اور آپ کے قلب کا پورا رابطہ شیخ کے ساتھ ہے ۔

سبحان اللہ ! کشف قلوب کی کتنی عجیب مثال ہے یہ واقعہ ۔؟‘‘ (درسِ حیات، ص۳۳۲)

داد دیجئے اس نظر کی جو ایک طرف سینہ چاک کرتی ہوئی مرید کے قلب تک جا پہنچی اور قلب میں شگاف ڈال کر اندر کا سارا حال دیکھ لیا اوردوسری طرف باطنی توجہ کا وہ طویل سلسلہ بھی دیکھ آئی جو سینکڑوں میل کی مسافت پر شیخ کے قلب کے ساتھ منسلک تھا اور پھر طرفہ تماشا یہ ہے کہ نگاہ کا یہ عمل کچھ ایک ہی بار نہیں پیش آیا کہ اسے حسنِ اتفاق کا نتیجہ کہہ کر بات رفع دفع کر دیجئے بلکہ بیان کی صراحت کے مطابق بار ہا ایسا ہوا اور جب بھی چاہا ہوتا رہا۔

معاذ اللہ! جذبہ عقیدت کا تصرف بھی کتنا پُر آشوپ ہوتا ہے ؟ ایک ادنیٰ اُمتی کے لئے تو زبان وقلم کا یہ اعتراف ہے اور رسول انورصلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں سارا قبیلہ متفق ہے کہ ان کی نظر پس دیوار بھی نہیں دیکھ سکتی تھی ۔

ایک مجذ وب کا قصہ عجیب

درسِ حیات کے مصنف نے اپنے ایک رفیق تعلیم کے حوالے سے ایک مجذوب کا قصہ بیان کیا ہے ، لکھا ہے کہ جنک پورہ روڈ ضلع مظفر پور میں جہاں اُن کے رفیق تعلیم کا گھر تھا ایک مجذوب رہا کرتاتھا اس سے ان کی اچھی خاصی شناسائی تھی ایک دن رات کے وقت استنجے کے لئے گھر سے باہر نکلے دیکھا کہ وہ مجذوب ان کے سامنے سے گزر ہا ہے وہ بھی اس کے پیچھے لگ گئے بستی سے باہر نکل کر کچھ دور چلنے کے بعد مجذوب رُک گیا اور گڑھول (جہاں مولانا بشارت کریم صاحب کا گھر تھا)کی طرف رُخ کر کے اُن سے کہنا شروع کیا :

’’ارے دیکھو!اُدھر دیکھ!وہ دیکھ! گڑھول میں مولانہ بشارت کریم صاحب ذکر کر رہے ہیں اور ان کے مکان اور اُن کے مکا ن پر انوار کی بارش ہورہی ہے اور ان کے مکان سے عرش تک نور ہی نور ہے ‘‘۔

(درسِ حیات، ص ۳۴۲)

اس مجذوب کی بڑکہہ کر آپ گزر بھی جا نا چاہیں تو ’’دانشورانِ دیوبند‘‘کے اس اعتراف کو کیا کہئے گا جس کے لفظ لفظ سے یقین کا تیور جھلک رہا ہے :

’’اللہ اللہ !یہ ہے ذکر اور یہ ہیں ذاکر ،جن کے انوار کا کوئی آنکھ ہی والا مشاہدہ کر سکتا ہے نہ صرف قریب سے بلکہ آٹھ نو میل کی دوری سے اس طرح مشاہدہ کر سکتا ہے کہ جیسے کسی محسوس چیز کو بہت قریب سے کوئی دیکھ رہا ہو۔‘‘ (درسِ حیات،ص۲۴۲)

جی چاہتا ہے کہ اس مقام پر پھر آپ کے جذ بۂ انصاف کو آواز دوں کہ سردار کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تو علم پس دیوار کا عقیدہ دانشورانِ دیوبند کے حلق کے نیچے اب تک نہیں اترسکا لیکن ایک مجذوب کے حق میں دل کا یقین ملاحظہ فرمائیے کہ نو میل کے فاصلے سے اندھیری رات میں فرش سے عرش تک غیبی انوار وتجلیات کا وہ اس طرح مشاہدہ کر رہاہے جیسے کسی محسوس چیز کو بہت قریب سے کوئی دیکھتا ہے ،نہ درمیان کے حجابات اس کی نظر پر حائل ہوتے ہیں اور نہ رات کی تاریکی مانع ہوتی ہے ۔

حیرت ہوتی ہے دیوبندی ذہن کی اس بوالعجبی پرکہ غیبی علم و ادراک کی جو قوت وہ ایک ادنیٰ اُمتی کے حق میں تسلیم کرلیتے ہیں اسے اپنے رسول کے حق میں تسلیم کر تے ہوئے انھیں شرک کا آزار کیوں ستانے لگتا ہے ۔

علمائے دیوبند کا یہی زاویہٗ فکر ہے جہاں سے واضح طور پر ہمیں یہ محسوس کرنیکا موقع ملتا ہے کہ اپنے اور بیگانے کے درمیان جوہری فرق کیا ہوتا ہے اور حالات و واقعات پر اسکا اثر کیا پڑتا ہے ۔

عقید و ں کا خون

مولوی عبدالشکور نام کے کوئی صاحب مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں مدرس تھے ، موصوف مولانا بشارت کریم صاحب کے خاص مریدوں میں تھے ، اُن کے متعلق درس حیات کے مصنف نے لکھا ہے کہ وہ ایک بار اپنے شیخ کی بارگاہ میں یہ خیال لے کر روانہ ہوئے کہ حضرت سے دریافت کروں گا کہ بعض بزرگوں کے متعلق جو سنا ہے وہ ایک ہی وقت میں کئی کئی جگہ موجودہوجاتے تھے تو اس کی حقیقت کیا ہے ، اب اس کے بعد کا قصہ خود مرید کی زبانی سنئے،بیان کرتے ہیں کہ :

’’جب (وہاں ) پہنچا تو نماز کا وقت تھا اس زمانے میںخودحضرت صاحب نماز پڑھایا کرتے تھے میں بھی جماعت میں شریک ہوا،نماز شروع ہوتے ہی مجھ پر ایک کیفیت طاری ہوئی اور میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا میدان ہے اور اس وسیع میدان میں جابجا متعدد جماعتیں صف بستہ نمازمیں مشغول ہیں اور ہر جماعت کے امام حضرت ہیں اورسارے کے سارے مقتدی ہر جماعت میں وہ ہی ہیںجو اس جماعت میں تھے جس میں شامل ہوکر میں حضرت کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا ۔

یہ دیکھ کر آنکھوں کے آگے سے پردہ ہٹ گیا میرے سوال کا جواب مجھ کومل گیاسارے شبہات کا ازالہ ہو گیا ،حضرت کے روحانی تصرف نے مشاہدہ کرادیا کہ پھر حضرت سے پوچھنے اور سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی‘‘۔ (درس حیات، ص۳۵۴)

’’مجھ پر ایک کیفیت طاری ہوئی‘‘سے مراد نیند نہیں ہے کہ اس واقعہ کو آپ خواب کی بات کہہ گزر جائیں بلکہ عین حالت بیداری میں انہوں نے غیبی تصرف کا یہ تماشا دیکھا۔

اس واقعہ میں ایک طرف حضرت کی غیبی قوت ادراک کا یہ کرشمہ دیکھئے کہ عین نماز کی حالت میں اُنہوں نے اپنے مرید کا وہ خیال تک معلوم کرلیا جسے وہ اپنے دل میں چھپا کر لائے تھے اور معاًیہ بھی دریافت کرلیا کہ عقدہ کشائی کا طلبگار صف میں میں میرے پیچھے کھڑا ہے اور دوسری طرف کمال تصرف ملاحظہ فرمائیے کہ نماز شروع ہوتے ہی طلسم ہوشربا کی طرح اُنہوں نے اپنے مرید کو ایک میدان میں پہنچا دیا اور وہاں صاف صاف مشاہدہ کرادیا کہ ایک شخص ایک ہی وقت میں متعدد جگہ کیونکر پہنچ سکتا ہے۔

یہ وقعہ اگر صحیح ہے تو مجھے کہنے دیجئے کہ دیوبندی مذہب کا جھوٹ فاش کرنے کے لئے اَب کسی نئی تصنیف کی حاجت نہیں ہے خود دیوبند کے اہل قلم اس خدمت کے لئے بہت کافی ہیں۔ (۵)

ایک اور حشر برپا کہا نی

درس حیات کے مصنف نے ایک’’ معتبر راوی‘‘ کے حوالے سے اُسی مذکور الصدر پنڈت کا ایک اور حیرت انگیز قصہ بیان کیا ہے اُس معتبر راوی کا بیان ہے کہ’’حضرت‘‘ کے حجرۂ خاص میں میرے اور پنڈت جی کے سوا کسی کو بھی باریاب ہونے کی اجازت نہیں تھی۔

راوی کہتا ہے کہ ایک دن بعد مغرب اپنے حجرۂ خاص میں حضرت تلاوت فرمارہے تھے ایک گوشے میں پنڈت جی مراقب تھے اور دوسرے گوشے میں مَیں بیٹھا ہوا تھاکہ اچانک پنڈت جی چیخے ، پھر تڑپے ، پھر بے ہوش ہوگئے، حضرت تلاوت روک کر ان کی طرف متوجہ ہوئے جب انہیں ہوش آیا تو دریافت فرمایا کیا بات ہے ! کیا دیکھا، اَب کیا دیکھا کی تفصیل خود راوی کی زبانی سنئے :

’’ پنڈت جی نے عرض کیا کہ بادشاہ! میں نے دیکھا کہ قیامت قائم ہے ، میدان حشر میں حق تعالیٰ عرش پر جلوہ گر ہے، حساب وکتاب ہورہا ہے، مخلوق کا بے پناہ ہجوم ہے، آپ بھی ہیں، میں بھی ہوں، آپ مجھ کو پکڑے ہوئے عرش الٰہی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جب قریب پہنچ گئے تو آپ نے مجھ کو دونوں ہاتھوں سے اُٹھایا اور عرش الٰہی کی طرف بڑھایا میں حق تعالیٰ کے جلالِ ہیبت وعظمت سے چیخ اُٹھا‘‘۔

(درس حیات، ص۳۰۴)

یہ تو رہا پنڈت جی کا مشاہدہ، لیکن ’’حضرت‘‘ نے جن الفاظ میں اس کی توثیق فرمائی ہے وہ بھی پڑھنے کی چیز ہے ، راوی کا بیان ہے کہ :

’’ حضرت نے یہ سن کر حسب عادت تھوڑا سا سکوت فرمایا اور پھر ٹھنڈی سانس لے کر فرمایا مبارک ہو نور اﷲ(پنڈت جی کا نیا نام) اس سے بڑھ کر اور کیا چاہتے ہو‘‘۔ (درس حیات، ص۳۰۴)

لا الہ الا اﷲ ! نو مسلم پنڈت کا مقام عرفان تو اپنی جگہ پر ہے لیکن سچ پوچھئے تو اس واقعہ کا سارا کریڈٹ ’’حضرت‘‘ کو ملنا چاہئے جن کے فیضان صحبت نے ایک نو مسلم پنڈت کو عالم غیب کا محرم بنادیایہاں تک وہ غیب الغیب ذات بھی اس کی نظر سے نہیں چھپ سکی جسے گیتی پر حالت بیداری میں آج تک کسی نے نہیں دیکھا ہے۔

اَب آپ ہی ہماری مظلومی کے ساتھ انصاف کیجئے کہ اتنا کھلا ہوا شرک ِ دیوبند کے ان پارسائوں نے اپنے حلق کے نیچے اُتار لیا پھر بھی اُن سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے اور ہم ایمان کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ہمارے لئے قتل کی تجویز ہے۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون (۶)

حضرت کی قبر کے عجا ئب وغرائب

اَب تک تو حضرت کی حیات ظاہری کے قصے آپ سن رہے تھے اب اُن کی وفات کے بعد کے دو قصے اور سنئے، درس حیات کے مصنف ان کی قبر کے تصرفات کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ وصال کے بعد ایک مدت تک مزار شریف پر لوگوں کا ہجوم رہنے لگا اور پانی، تیل، نمک وغیرہ قبر شریف کے پاس لے جاکر لوگ رکھ دیتے اور کچھ دیر بعد اُٹھالیتے اس سے بکثرت لوگوں کو فوائد حاصل ہوئے‘‘۔

(درس حیات، ص۳۵۷)

یہ تو رہا صاحب قبر کا تصرف اَب قبر کی مٹی کا تصرف ملاحظہ فرمائیے، لکھتے ہیں :

’’وصال کے بعد لوگوں کا ہجوم جو مزار کے پاس آیا وہ پانی وغیرہ رکھنے یا یوں کہیے کہ دم کرانے کے بعد تھوڑی تھوڑی مٹی بھی ہر ایک اُٹھا کر لیجانے لگا، چنانچہ چند روز میں ضرورت پڑجاتی کہ دوسری مٹی مزار شریف پر ڈالی جائے چنانچہ مولانا ایوب صاحب مرحوم(حضرت کے صاحبزادے) کچھ عرصہ تک جب مٹی کم ہوجاتی نئی نئی مٹی ڈال دیا کرتے‘‘۔

(درس حیات، ص۳۵۸)

لکھا ہے کہ مٹی ڈالتے ڈالتے جب صاحبزادے تنگ آگئے اور روز روز کی یہ’’فری ڈیوٹی‘‘ وبال جان ہوگئی تو ایک دن آزردہ خاطر ہوکر مزار شریف پر حاضر ہوئے اور نہایت ادب سے عرض کیا !

’’ حضرت ! زندگی میں تو بہت سخت تھے مگر اَب مزار شریف پر یہ کیا ہونے لگا ہے، اَب میں آخری مرتبہ مٹی ڈال رہا ہوں، اس کے بعد اگر گڑھا بھی پڑ جائے تو اَب میں مٹی نہیں ڈالوں گا، اس سلسلے کو بند کرائیے‘‘۔

(درس حیات، ص۳۵۸)

’’لخت جگر‘‘ نے مچل کر کہا تھا آخر ناز اُٹھانا ہی پڑااُمیدوں کے بے شمار آبگینے ٹوٹ گئے لیکن’’نور نظر‘‘ کا دل نہیں توڑاجاسکالکھا ہے کہ :

’’اس کے بعد پھر کسی نے مٹی نہیں اُٹھائی، قطعاً وہ سلسلہ بند ہوگیا اور اَب کبھی مٹی ڈالنے کی نوبت نہیں آئی، اور پانی، تیل، نمک وغیرہ مزار شریف پر رکھ کر دم کرانے کا خیال بھی اب کسی کو نہ پیدا ہوا اور وہ سلسلہ بھی موقوف ہوگیا‘‘۔

(درس حیات، ص۳۵۸) صاحبزادے نے جو کچھ کہا تھا وہ صاحب مزار سے کہا تھا آنے والوں کو کس نے روکا کہ یک لخت رُک گئے، اس لئے کہنا پڑے گا کہ یہ صاحب مزار کا تصرف تھا کہ جب تک چاہا میلہ لگا اور جب چاہا اُجڑ گیا گویا اہل حاجت کے قلوب ان کے اپنے سینوں میں نہیں بلکہ صاحب مزار کی مٹھی میں بند تھے، بند کی تو جمع ہوگئے کھول دی تو بکھر گئے۔

اَب اس واقعہ کے چند اہم نکتوں پر میں آپ سے آپ ہی کے ضمیر کا انصاف چاہتا ہوں :

پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ لحد کی آغوش میں اگر کوئی متحرک، بااختیار اور فیض بخش زندگی نہیں تھی تو صاحبزادے نے خطاب کس کو کیا تھا، درخواست کس سے کی تھی اور کس کے تصرف سے اہل حاجت کا سلسلہ اچانک بند ہوا۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مزار کے اِردگرد صاحب مزار کی نسبت کا اثر اگر کار فرما نہیں تھا تو قبر کی مٹی اور اس کے قریب رکھے جانے والے تیل اور پانی سے بہ کثرت لوگوں کو فائدہ کیوںپہنچ رہا تھا ؟

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ صاحب مزار نے اپنی قوتِ تصرف سے جو سلسلہ بند کیا اس کے متعلق دریافت کرنا ہے کہ شریعت کی طرف سے بھی اس کے بند کرنے کا مطالبہ تھا یا نہیں اگر تھا تو اس الزام کا کیا جواب ہے کہ شریعت کے کہنے پر تو نہیں کیا جب صاحبزادے نے کہا تو بند کردیا۔

چوتھا نکتہ یہ ہے کہ اپنی زندگی میں جب صاحب مزار کو یہ امور ناپسند یدہ تھے تو مرنے کے بعد کیونکر پسندیدہ ہوگئے آخر وہاں پہنچ کر حقیقت کا کون سا نیا عرفان حاصل ہوا جس نے عقیدے کا مزاج بدل دیا اور جس مشرب کے خلاف ساری زندگی لڑتے رہے مرنے کے بعد اس کے ساتھ صلح کرنا پڑی۔

پانچواں نکتہ یہ ہے کہ صاحبزادگان ومتعلقین کو اگر یہ بات پہلے ہی سے معلوم تھی کہ خلاف شرع ہونے کے باعث اہل حاجت کا یہ میلہ صاحب مزار کو پسند نہیں ہے تو اُنہوں نے دینی جذبے کے زیر اثر پہلے ہی دن اُسے کیوں نہیں روکا جب مٹی ڈالتے ڈالتے تنگ آگئے تب روکنے کا خیال پیدا ہوا اور وہ بھی خود نہی بلکہ صاحب مزار سے درخواست کی کہ آپ روک دیجئے۔

چھٹا نکتہ یہ ہے کہ بیٹے کی ضد پر جس قوتِ تصرف سے صاحب مزار نے یہ سلسلہ بند کیاوہ قوت دوسرے اصحاب مزار کو بھی حاصل ہے یا نہیں ؟ اگر حاصل ہے تو روکنے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی جب وہ نہیں روکتے تو کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ لوگ ان تمام امور کو پسندیدہ نظروں سے دیکھتے ہیں اور جب صالحین کے سارے گروہ اسے پسند کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اﷲ ورسول کے نزدیک بھی وہ پسندیدہ نہ ہو۔ (۷) مرنے کے بعد غیبی قوت ادراک کا ایک اور قصہ

درس حیات کے مصنف نے’’حضرت ‘‘ کی وفات کے بعد کا ایک قصہ اور بیان کیا ہے لکھا ہے کہ ایک صاحب جو ’’حضرت‘‘ کے متوسلین میں ہیں ایک سخت مرض میں مبتلا ہوئے۔

’’ جب ہر طرف سے علاج کرکے تھک گئے تو ایک روز حضرت کو خواب میں دیکھا، فرمارہے ہیں سلمان(حضرت کے صاحبزادے) سے کہو ہومیو پیتھک کی فلاں دوا فلاں نمبر کی دیدے۔

یہ صبح اُ ٹھ کر سلمان بابو کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے مرض کا حال بیان کیا، وہ یونانی کے ساتھ ہومیوپیتھک علاج کرتے تھے، حالانکہ اُنہوں نے خواب کا واقعہ ابھی ذکر نہیں کیا تھا وہ اُٹھے اور الماری میں سے وہی دوا اس نمبر کی نکال کر ان کو دے دی جو حضرت نے فرمائی تھی‘‘۔

(درس حیات،ص۳۶۲)

بعد مرگ بھی اگر غیبی علم وادراک کی قوت حضرت کو حاصل نہیں تھی تو اُنہیں نے قبر میں لیٹے لیٹے کیسے معلوم کرلیا کہ میرا فلاں مرید سخت مرض میں مبتلا ہوگیا ہے اور یہ بھی معلوم کرلیا کہ اُسے فلاں مرض ہے اور وہ علاج سے مایوس بھی ہوگیا ہے اور یہ بھی دریافت کرلیا کہ ہومیوپیتھک میں اس کی دوا یہ ہے اور اتنے نمبر کی ہے حالانکہ وہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر بھی نہیں تھے۔

ساتھ ہی تصرف کی یہ قوت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ وہ اپنے مرید کے پاس خواب میں تشریف بھی لائے اور ہدایت کرگئے کہ سلمان بابو سے فلاں دوا فلاں نمبر کی حاصل کرلو۔

دنیا سے اگر انصاف رخصت نہیں ہوگیا ہے تو اہل انصاف اس کا ضرور فیصلہ کریں گے کہ جب اپنے وفات یافتہ بزرگوں کے بارے میں اہل دیوبند کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ زندہ ہیں، صاحبِ اختیار ہیں اور ہر طرح کے تصرف کی قدرت رکھتے ہیں تو انبیاء واولیاء کے بارے میں اسی عقیدے کے سوال پر سو برس سے وہ ہمارے ساتھ کیوں برسرپیکار ہیں، کیوں ان کا پریس زہر اُگلتا ہے، کیوں اُن کے خطیب ہم پر آگ برساتے ہیں ، کیوں ہمیں وہ گور پرست، قبر پجواور شرک کے الزام سے مطعون کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آج نہیں تو کل اُن کے نمائشی اسلام اور مصنوعی توحید پرستی کا طلسم ٹوٹ کر رہے گا، باخبر دنیا کو زیادہ دنوں تک وہ وسوسے میں مبتلا نہیں رکھ سکتے۔

ضمیر کا فیصلہ

کتاب کے خاتمے پر اَب میں آپ کے ضمیر کا ایک کھلا ہوا فیصلہ چاہتا ہوں جو کسی خارجی جذبے کے زیر اثر ہونے کی بجائے صرف انصاف وحقیقت پر مبنی ہو۔

پچھلے اوراق میں علمائے دیوبند کے بزرگوں کے جو واقعات وحالات آپ نے پڑھے ہیں چونکہ اس کے راوی بھی خود علمائے دیوبند ہی ہیں اس لئے اَب یہ الزام ناقابل تردید ہوگیا ہے کہ جن اعتقادات کو یہ حضرات انبیاء واولیاء کے حق میں شرک قرار دیتے ہیں اُنہی کو اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں کیونکر جائز ٹھہرالیا ہے ؟

اور وہ بھی صرف کسی ایک آدھ کے بارے میں اس طرح کی روایت ہمیں ملتی تو ہم اسے سوء اتفاق یا لغزش قلم پر محمول کرلیتے لیکن حضرت شاہ امداد اﷲ سے لے کر مولوی سید احمد بریلوی، شاہ اسماعیل دہلوی، شاہ عبدالقادر دہلوی، مولوی محمد یعقوب صاحب نانوتوی، مولوی رشید احمد گنگوہی، مولوی محمود الحسن صاحب دیوبندی، مولوی اشرف علی صاحب تھانوی، اور مولوی حسین احمد صاحب مدنی تک اتنے سارے دیوبندی اکابر کے متعلق ایک ہی طرح کے واقعات کا تسلسل کیا ہمیں یہ سوچنے پر مجبور نہیں کرتا کہ جس طرح انبیاء کے حق میں انکار ونفی کے سوال پر سب متفق تھے بالکل اسی طرح گھر کے بزرگوں کے حق میں اقرار واثبات کے سوال پر بھی سب متحد ہیں، نہ وہاں قلم کا کوئی نسیان تھا نہ یہاں قلم سے کوئی سہو واقع ہوا ہے۔

اَب یہ ایک الگ سوال ہے کہ ایک ہی طرح کے معتقدات کو انبیاء کے حق میں اُنہوں نے شرک قرار دیا اور ان سے نفی کی اور انہی کو گھر کے بزرگوں کے حق میں جائز ٹھہرایا اور ان کا اثبات کیا۔

اگر واقعی وہ صفات وکمالات خدا کے ساتھ مخصوص نہیں تھے اور کسی مخلوق میں انہیں تسلیم کرنا موجبِ شرک نہیں تھا تو انبیاء واولیاء کے حق میں شرک کا حکم کیوں صادر کیا ؟

اور ا گر وہ صفات وکمالات خدا کے ساتھ مخصوص تھے اور کسی مخلوق میں اُنہیں تسلیم کرنا قطعاً موجب شرک تھا تو اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں کیوں انہیں جائز ٹھہرایا گیا۔

ان سب سوالوں کے جوابات کے لئے میں آپ سے آپ ہی کے ضمیر کا فیصلہ چاہتا ہوں ۔

اس کے علاوہ بھی اگر کوئی جواب ہوسکتا ہے تو بتائیے کہ جسے اپنا سمجھا گیا اس کے فضل وکمال کے اعتراف کے لئے نہیں بھی کوئی جگہ تھی تو بنا لی گئی اور جو اپنے تئیں بیگانہ تھا اس کے قرار واقعی مجدشرف کے اظہار میں بھی دل کا بخل چھپایا نہ جاسکا۔

کتاب کی آخری سطر لکھتے ہوئے میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہ میں اپنے علم واطلاع اور ایمان وعقیدت کے اخلاقی فرض سے آج سبکدوش ہوگیا۔

میں نے شواہد ودلائل کے ساتھ اپنا استغاثہ آپ کی عدالت میں پیش کردیا ہے، فیصلہ دیتے وقت اس بات کا لحاظ رکھیئے گا کہ قبر سے لے کر حشر تک کسی عدالت میں بھی آپ کا فیصلہ ٹوٹنے نہ پائے۔

وصلی اﷲ تعالیٰ علی خیر خلقہٖ سیّدنا محمد وآلہٖ واصحابہٖ وحزبہ اجمعین

ارشدالقادری مکتبہ جام نور، جمشید پور(بہار۔ ہندوستان) ، یکم ربیع الاوّل ۱۳۹۲ھ