Skip to content

اقتباس النو ر لمنکرین علمِ حضورﷺ

عقائدِاہلسنتردِّ بدمذہب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اﷲتعالیٰ کی توحید کی آڑ لے کر اﷲ کے پیاروں کی توھین کرنے کا سلسلہ جدید نجدی فتنے کی اساس ہی نہیں اثاثہ بھی ہے، تقویۃ الایمان نامی مرکزی نجدی کتاب میں نبی پاک ﷺ کے خدا داد علم غیب کا انکار کرنے کی جو پالیسی اختیار کی گئی تھی اُس کی حمایت میں لکھے گئے چند اوراقِ پریشان اس وقت ہمارے سامنے ہیں، ان میں چھ آیات قرآنی اور چھ احادیث مبارکہ کا ناقص اور غلط مفہوم دیا گیا ہے، اور مفہوم درست کرنے میں مددگار دیگر آیات واحادیث سے چشم پوشی کی گئی ہے، ہم اُن کی پیش کردہ آیات واحادیث کا دیگر نصوص شرعیہ کی روشنی میں صحیح مفہوم پیش کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

آیت نمبر ۱

وَلِلّہِ غَیْبُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْض (سورۃ نحل، آیت۷۷)

’’ اور اﷲ کے لئے ہے غیب آسمانوں کا اور زمین کا ‘‘

اس آیت میں مخلوق کے لحاظ سے غیب کا لفظ بولا گیا ہے ، اﷲ تعالیٰ کے لئے کچھ بھی غیب نہیں ہے، اس آیت میں یہ کہیں نہیں ہے کہ اﷲ کسی کو بھی ارض و سماوات کی چھپی باتیں ظاہر نہیں فرمائے گا، بلکہ حدیث پاک میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے دست کرم کے فیض سے نبی کریم ﷺ پر کل شئی روشن ہوگئی اور ارض وسماوات کی ہر شئے آپ کے علم میں آگئی (مشکوٰۃ، ص۷۰ ، ۷۲)

ایسے ہی سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر بھی ارض وسماوات کی بادشاہی کا مخفی نہ رہنا قرآن پاک میں آیا ہے :

وَکَذَلِکَ نُرِیْ إِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوتَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنَ الْمُوقِنِیْنَ (سورۃ الانعام، آیت ۷۵)

ان آیتوں کا مطلب یہ ہوگا کہ آسمان وزمین کا غیب اﷲ ہی کے لئے ہے اوراﷲ تعالیٰ کے محبوب اس بات میں بھی اﷲ کے نائب ہیں اُس کے مقابل نہیں۔

غنیۃ الطالبین کا آخری فقرہ یہ بتاتا ہے کہ اﷲ اپنے بندے کو ایک مقام پر ایسا آئینہ دے دیتا ہے جس سے وہ دنیا وآخرت کی مخفی عجائب کو دیکھ سکتا ہے، اور ترمذی شریف، حدیث ۳۱۲۷ میں اس اضافی صفت کو فراست کا نام دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کے ساتھ بندہ، بندہ ہو کر اﷲ کے نور سے دیکھتا ہے ، اور یہ بات ہمارا مخالف بھی مانتا ہے کہ اﷲ کے نور سے زمین وآسمان میں کچھ بھی نہیں چھپ سکتا۔

آیت نمبر ۲

وَعِندَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُو (سورۃ الانعام، آیت ۵۹)

اس آیت میں تو صاف موجود ہے کہ اﷲ ہی سب غیب جانتا ہے اور تمام غیبوں کی چابیاں اُس کے پاس ہیں، اب ظاہر بات ہے کہ غیب کی چابیوں سے غیب کے دروازے کھولنے مقصود ہوتے ہیں، اﷲ تعالیٰ کا قرب معنوی حاصل کرنے والے مقربینِ بارگاہِ حق جب اﷲ کا قرب ِ خاص حاصل کرتے ہیں تو اﷲ کے قریب ہوجاتے ہیںاور قریب والا قریب والے کو جانتا ہے، چنانچہ حضرت سیّدنا عبدالقادرجیلانی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ’’الفتح الربانی‘‘ میں فرماتے ہیں ’’ الغیب عندہ فاقرب منہ فتراہ وتریٰ ماعندہ ‘‘ یعنی سب غیب اُسی کے پاس ہیں تو بھی اُس کے پاس ہو جا اور اپنی روح کی آنکھ سے اُسے بھی دیکھ اور اُس کے پاس والے غیبوں کو بھی دیکھ ، اور نبی کریم ﷺ کی شان تو یہ ہے کہ آپ ﷺسیّد المقربین ہیں، تو آپ سے اﷲ کے پاس والی مفاتیح الغیب (غیب کی کنجیوں) کا کیا پردہ رہا؟

اور کیا غیب تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

غیب کی چابیاں جو اﷲ کے پاس ہیں وہ مقرّبین پر غیب کی دنیا کے دروازے کھولنے کے لئے ہیں ، ورنہ اﷲ تعالیٰ کو غیب کے دروازے کھولنے کے لئے چابیوں کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو تقویۃ الایمان کے مصنف کا ہی نظریہ ہے جس نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے یہاں تک لکھ مارا کہ ’’اﷲ جب چاہتا ہے غیب دریافت کرلیتا ہے، اور کسی کے بارے میں غیب معلوم کرلینے کی قوت کا دعویٰ کرنا خدائی کا دعویٰ کرنا ہے‘‘ ، اب وہابیوں کے مکتبہ دارالسلام والے تقویۃ الایمان کی ایسی عبارتیں بدل کر اسے مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

آیت نمبر ۳

قُل لَّا یَعْلَمُ مَن فِیْ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَیْبَ إِلَّا اللَّہُ (سورۃ نمل، آیت ۶۵)

اے حبیب آپ (اپنی حقیقتِ مشہودہ) بیان فرمادیں کہ ارض وسماوات میں جو بھی ہیں ’’الغیب‘‘ نہیں جانتے سوائے اﷲ کے، غور طلب بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے یہ عظیم حقیقت کلمہ قل کے بغیر کیوں نہیں فرمائی ، جو ارض وسماوات کو بھی اور اُن میں رہنے والوں کو بھی اور اُن میں سے ہر ایک کے علم کو بھی جانتا ہے، اپنے حبیب ﷺ کی زبان مبارک سے یہ حقیقت بیان کروانے کا مطلب یہی ہوا کہ حبیب بھی ارض وسماوات ، اُن کے باشندے اور اُن کا علم سب کچھ جانتا ہے، جب ہی یہ دعویٰ اُس کو زیب دیتا ہے کہ ان کے علم میں الغیب کا علم داخل نہیں ہے ، وہ صرف اﷲ کو معلوم ہے ، الغیب سے مراد اگر خاص غیب مراد لیں (الف لام بطور معرفہ بنانے کے لیا جائے) ، اور آیت اگر مزید آگے پڑھی جائے تو وقت قیامت ہی مراد لیا جائے گا، یہ الغیب (خاص غیب) کی وضاحت ہوگی،کیونکہ آگے ہے وَمَا یَشْعُرُونَ أَیَّانَ یُبْعَثُونَ یعنی انہیں شعور نہیںکہ کب اُٹھائے جائیں گے۔

اگر الغیب کا معنی جمیع غیوب لیا جائے تو اُس صورت میں عبارت النص سے یہ ثابت ہوگا کہ اﷲ کے تمام غیب اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ بھی ثابت ہوگا کہ مخلوقات میں سے جن جن کو بھی علم حاصل ہوا ہے بعض غیوب کا ہی حاصل ہوا ہے ، اور اشارۃ النص سے معلوم ہوا کہ ارض وسماء اور اُن میں جو کچھ بھی ہے، نبی کریم ﷺ کو اُس کا بھی علم ہے اور اُس اُس کے علم غیب کابھی ، اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ اﷲ تعالیٰ کے دست کرم سے آپ کو مافی السموت والارض کا علم حاصل ہوا (مشکوٰۃ ، ص۷۰) ، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نظر میں ارض وسماء کی بادشاہی ہے (سورۃ الانعام، آیت۷۵) ، اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نظر ارض وسماء کی ہر شئے کی تسبیح پر بھی ہے اور سجدے پر بھی (سورۃ الحج، آیت ۱۸۔ سورۃ نور، آیت۴۱) ، اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ارض وسماوات کی ہر شئے مجھ پر روشن ہوگئی اور مجھے ہر شئے کی معرفت حاصل ہوگئی (مشکوٰۃ، ص۷۲)، معرفت میں جزئیات تک کا علم شامل ہوتا ہے، جب ہر ہر شئے کے ہر ہر جزئیے کا علم بھی حاصل ہوا اور وہ آپ ﷺ کے لئے روشن بھی ہوگئی تو ارض وسماوات کی جس جس مخلوق کو جتنا جتنا بعض علم غیب حاصل ہے، آپ ﷺ کے علم میں وہ سارے بعض علوم غیبیہ مجتمع ماننے پڑیں گے، اور آیت میں جو لفظ قل آیا ہے وہ محض ویسے ہی نہیں آیا بلکہ یہ حقیقت واضح کرنے کے لئے کہ میرا محبوب ہر ہر شئے اور ہر ہر شئے کے علومِ غیبیہ کا روشن علم رکھتا ہے، اس لئے یہ دعویٰ اُس کو بھی زیب دیتا ہے کہ وہ ہر ہر مخلوق کے علوم غیبیہ جاننے کا اظہار کرتے ہوئے اُن سے جمیع علومِ غیبیہ جاننے کی نفی فرمائے۔

آیت نمبر ۴

قُل لاَّ أَقُولُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآئِنُ اللّہِ وَلا أَعْلَمُ الْغَیْبَ (سورۃ الانعام ، آیت ۵۰)

آپ فرمادیں میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں، اگر آیت کو تھوڑا سا اور آگے لکھ دیا جاتا تو یہ واضح ہوسکتا تھا کہ نبی کریم ﷺ اپنے مقام سے نچلے مقام کے دعویٰ کی نفی فرمارہے ہیں، کیونکہ اس سے اگلا حصہ آیت کا جو چھوڑا گیا ہے وہ یہ ہے وَلا أَقُولُ لَکُمْ إِنِّیْ مَلَکٌ کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں ، یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ فرشتوں کے سردار جبریل ومیکائیل علیہماالسلام آپ کے آسمانوں میں وزیر ہیںاور آپ کے ماتحت ہیں، تو آپ ﷺ کو اس دعوے کی کیا ضرورت تھی ، یوں ہی زمینی خزائن حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس تھے اور حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں ترجمان القرآن حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کان رجلاٌ یعلم علم الغیب یعنی وہ مرد عظیم علم غیب جانتا تھا (تفسیر ابن جریر، تفسیر ابن کثیر) ، اب ظاہر ہے حضرت سلیمان علیہ السلام ہوں یا حضرت خضر علیہ السلام ، حضرت جبرائیل ہوں یا میکائیل ، یہ سب آپ ﷺ کے ماتحت ہیں، تو آپ ﷺ کومقام بلند سے نیچے اُتر کر یہ دعوے کرنے کی کیا ضرورت تھی جو اس آیت میں مذکور ہیں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مذکورہ ماتحتوں کو حاصل ہیں۔

آیت نمبر ۵

َلَوْ کُنتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوء ُ ۔ (سورۃ الاعراف، آیت ۱۸۸)

اگر میں علم غیب جانتا تو سب اچھائیاں جمع کرلیتا اور مجھے کوئی برائی مس نہ کرتی، اس آیت میں جملہ شرطیہ ہے، علم غیب کی شرط کے ساتھ دو جزائوں کو وابستہ کیا گیا ہے، ایک تو خیر کثیر کا حصول اور دوسری ہے عدم مس سوء ، ہمارے مخالفین کے موقف کی روشنی میں شرط وجزا کا نتیجہ یہ مرتب ہوتا ہے کہ چونکہ نبی کریم ﷺ کو غیب کی کوئی خبر نہیں (تقویۃ الایمان) ، لہذا آپ ﷺ خیر کے تمام افراد سے محروم ہیں اور سوء کے تمام افراد نے آپ ﷺ کو مس کر رکھا ہے یعنی نجدیت کے عقیدے کی رو سے نبی پاک ﷺ کا ہر قسم کی اچھائی اور نیکی سے محروم ہونا اور ہر قسم کی برائی اور سوء سے آلودہ ہونا لازم آئے گا(معاذ اﷲ) ، اور ہمارے نزدیک آپ ﷺ کو چونکہ معلمِ حکمت بنا کر بھیجا گیا ہے(سورۃ جمعہ، آیت ۲)، اور جس کو حکمت ملی اُس کو خیر کثیر ملی(سورۃ بقرۃ، آیت ۲۶۹) ، اور نیز آپ ﷺ کو کوثر بمعنی خیر کثیر بھی ملی( سورۃ کوثر، آیت ۱) ، اسی طرح جو حسبنااﷲ ونعم الوکیل کہتا ہے وہ ازروئے قرآن مس سوء سے محفوظ رہتا ہے(سورۃ آل عمران، آیت ۱۷۴) ، جب نبی پاک ﷺ سے خیر کثیر کے حصول کی تعلیم اور مس سوء سے محفوظ رہنے کا وظیفہ منقول ہے تو آیت زیر بحث کی دونوں جزائوں کا حصول آپ ﷺ کے لئے ازروئے قرآن ثابت ہوگیا، اور جملہ شرطیہ میں جزا کے حصول کے اثبات سے شرط کے حصول کا متحقق ہونا لازم آتا ہے، یعنی چونکہ آپ ﷺ کے لئے خیر کثیر کا حصول بھی ثابت ہے اور سوء ِحقیقی کا آپ ﷺ سے مس نہ کرنا بھی ثابت ہے، لہذا علم غیب کا حصول خود بخود ثابت ہوگیا، اے سادہ مثال سے یوں سمجھئے کہ اگر میں زید کو کہوں کہ ایم بی بی ایس کرلو گے تو میڈیکل آفیسر بن سکو گے، پانچ سال بعد زید کہیں میڈیکل آفیسر لگا ہوا ہوگا تو اُس کا ایم بی بی ایس کرنا خود بخود ثابت ہو جائے گا، اور یہ اتنی واضح بات ہے کہ موٹی عقل والا بندہ بھی اسے آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔

آیت نمبر ۶

قُلْ مَا کُنتُ بِدْعاً مِّنْ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَا بِکُمْ (سورۃ احقاف، آیت ۹)

ترجمہ۔ آپ فرمادیں کہ میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں مجھے’’ معلوم نہیں‘‘ کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔

نبی پاک ﷺ کی زبان مبارک سے یہ فرمان پیش کیا گیا ہے کہ ماادری مایفعل بی ولا بکم ، جس کا ترجمہ انہوں نے یہ کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے، اس کے ساتھ ہی بعد میں دی جانے والی حدیث کو کو بھی شامل کردیا جائے تو بہتر ہوگا ۔

حدیث نمبر ۱

میں ہے کہ ایک صحابیہ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اﷲ عنہ کی وفات کے بعد یہ الفاظ کہے کہ میں گواہی دیتی ہوں اس بات کی کہ ضرور تحقیق اﷲ نے تیرا اکرام کیا ہے (بخاری) اس کے بعد نبی پاک ﷺ نے فرمایا میں خدا کا نبی ہوں مگر درایت کی رو سے میں ایسا بیان جاری نہیں کرتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا، (مشکوٰۃ بحوالہ بخاری) ، آیت وحدیث ملا کر پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل کے حوالے سے کوئی یقینی بات روایت کی رو سے کرنی چاہئے ، درایت(عقل وقیاس) کی رو سے نہیں، لیکن بادی النظر میں یوں لگتا ہے کہ جیسے نبی پاک ﷺ کو اپنا اور دوسروں کا انجام معاذ اﷲ معلوم نہیں، یہی وجہ ہے کہ جب مشرکین نے یہ آیت سنی تو ہمارے دور کے کم فہموں والا مفہوم مراد لے بیٹھے اور خوشی سے پھولے نہ سمائے، پھر اﷲ تعالیٰ نے سورۃ فتح نازل فرمائی تو درایت سے پیدا ہونے والے ابہام کو توضیحی بیان سے دور فرمایااور صحابہ کرام کو سورۃ فتح کے نزول سے بہت زیادہ خوشی ہوئی، جس میں سورۃ الاحقاف کی مذکورہ زیر بحث آیت میں بیان شدہ خبر کے ابہام کو توضیح سے بدل دیا، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ سورۃ الاحقاف کی مذکورہ آیت کو سورۃ فتح نے منسوخ کردیا، جو اخبار میں نسخ کے قائل ہیں وہ یہی کہتے ہیں، اور دوسرے یہ کہتے ہیں کہ خبر کے ابہام کو بعد میں آنے والی توضیح نے منسوخ کردیا۔

ایک تو یہ لوگ ہیں جو سورۃ الاحقاف کے نزول تک بھی نبی پاک ﷺ کو اپنے اور اپنے صحابہ کے انجام سے بے خبر بتاتے ہیں اور دوسری طرف ہم محبت کے مارے ہیں جو کہتے ہیں کہ جس قلم نے ماکان ومایکون کا علم لکھا وہ نور محمدی ﷺ ہی ہے، اور آپ اُس وقت سے اپنے اور سب کے انجام سے واقف ہیں، تفصیل یہ ہے کہ ترمذی شریف میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ کی حدیث ابواب القدر کے باب نمبر ۱۷ میں موجود ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو تخلیق فرمایا ، اسے فرمایا لکھ، اس نے عرض کیا کیا لکھوں، حکم ہوا کہ اکتب القدر ما کان وماھو کائن الی الابد (حدیث نمبر ۲۱۵۵) ، یعنی لکھ تقدیر کو جو کچھ ہوا اور جوکچھ ابد تک ہونے ولا ہے۔ (مشکوٰۃ، ص۲۱)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اوّل الخلق کاتب تقدیر ذی شعور قلم ہے کون سا ؟

اس کا جواب بخاری ، کتاب القدر، حدیث نمبر۶۶۰۹، بخاری کتاب الایمان والنذور، حدیث نمبر ۶۶۹۴، ابودائود، کتاب الایمان، حدیث نمبر۳۲۸۸میں آچکا ، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے لا یاتی ابن أدم النذر بشی لم أکن قدرتہ کہ ابن آدم کو نذر (منت) سے وہ چیز نہیں ملتی جو میں (نبی پاک ﷺ) نے اُس کی تقدیر میں نہ لکھی ہو۔

یہاں سے معلوم ہوا کہ تقدیر لکھنے والے نبی پاک ﷺ ہی ہیں اور قلم لا لفظ آپ ﷺ کے لئے بطور استعارہ آیا ہے، عجب نہیں کہ نٓوالقلم (سورۃ قلم، آیت ۱) میں نور محمدی بشکلِ قلم مراد ہو، ورنہ قلموں کی کیا مجال کہ وہ ماکان وما یکون جان سکیںلکھنا تو دُور کی بات ہے، (سورۃ لقمان، آیت ۲۷)، بعض عارفین نے کہا کہ اوّل الخلق نبی پاک ﷺ ہیں، اوّل الخلق کے طور پر حدیثوں میں آنے والے سب نام آپ ﷺ کے لئے استعارۃً استعمال ہوئے ہیں۔(سر الاسرار، ص۱۲، ۱۴ ۔ مرصاد العباد، ص۳۰۔ تاریخ الخمیس،ج ۱، ص۱۹)

ع
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب

ماکان ومایکون کا علم تو نبی پاک ﷺ کو اُس وقت بھی حاصل تھا، البتہ آپ ﷺ کا علم مبارک تکمیلِ نزولِ قرآن تک ہر لمحہ اﷲ تعالیٰ بڑھاتا رہا، اور ہر لمحہ کا علم پچھلے لمحہ کی نسبت تفصیل بنتا چلا گیا اور ماضی والا علم اُس کی روشنی میں اجمالی نظر آیا، تاہم باقی تمام مخلوقات کے تفصیلی علوم کے مجموعے سے آپ ﷺ کا اجمالی علم جو لوح نے قلم سے محفوظ کیا وہ زائد ہے، امیر مینائی نے کیا خوب کہا !

حضرت کا علم علمِ لدنی تھا اے امیر
دیتے تھے قدسیوں کو سبق بے پڑھے ہوئے
تعلیم جبرائیلِ امیں تھی برائے نام
حضرت وہیں سے آئے تھے لکھے پڑھے ہوئے

اس کلام کی روشنی میں قصیدہ بردہ کا وہ مصرعہ سمجھنا مشکل نہ رہا کہ ومن علومک علم اللوح والقلم ، لوح وقلم کا علم تو آپ کے علوم میں سے صرف ایک علم ہے، یہ محض عقیدت نہیں حدیثوں کو ملا کر دیکھنے سے ثابت ہے، یہ قرآن کے عجائب وغرائب ہیں جنہیں قیامت تک ظاہر ہوتے رہنا ہے، حاصل یہ ہوا کہ حضور ﷺ کا یہ علم درایۃ پر مبنی نہیں ، قیاس کے گھوڑے دوڑا کر حاصل نہیں کیا گیا ، یہ قطعی یقینی تعلیم الٰہی پر مبنی ہے۔

حدیث نمبر ۲

ربیع بنت معوذ کا بیان ہے کہ چند بچیاں کچھ شعر پڑھ رہی تھیں ان میں سے کسی نے کہا وفینا نبی یعلم مافی غدٍ (ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو آنے والی کل کی بات جانتا ہے) ، آپ نے فرمایا ایسا مت کہو جو شعر پہلے پڑھ رہی تھیں وہی پڑھتی رہو۔ (بخاری)

بچیوں نے شادی کی تقریب میں شہداء کا مرثیہ پڑھتے پڑھتے نبی پاک ﷺ کو دیکھ کر اچانک موضوع بدلا اور نعتیہ کلام شروع کردیا، جس میں کہا گیا تھا وفینا نبیٌ یعلم مافی غدٍ ، ہم میں وہ نبی ہے جو کل کی بات سے باخبر ہے، یہ مصرعہ کسی صحابی کی کہی گئی نعت کا ہی ہوسکتا ہے جو بچیوں تک کو یاد تھی، بچیوں نے منقبت صحابہ کو چھوڑ کر نبی پاک ﷺ کی نعت شروع کی تو آپ ﷺ نے اُنہیں منقبت صحابہ جاری رکھنے کا حکم دیا اور کسر نفسی اور تواضع سے کام لیا، اگریہ جملہ شرکیہ ہوتا تو آپ ﷺ اُن بچیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور توبہ کی تلقین فرماتے، آپ نے صرف اتنا فرمایا اسے رہنے دو اور وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں، بلکہ اس مصرعہ سے ملتا جلتا مصرعہ حضرت مالک بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا تو نبی پاک ﷺ نے اُس کو مصرعہ چھوڑنے کی بجائے انعام سے نوازا، مصرعہ یہ ہے ومتیٰ تشاء یخبرک عما فی غدٍ اور جب تو چاہے تو وہ تجھے بھی اس بات سے باخبر کردیں کہ کل کیا ہونے والا ہے(الاصابہ ، ابن حجر عسقلانی، ج۵، ص۵۵۱) ۔

حدیث نمبر ۳

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے غیوب خمسہ کے حوالے سے منقول ہے کہ جو شخص تمہیں کہے کہ نبی پاک ﷺ یہ پانچ غیب جانتے تھے تو وہ شخص بڑا جھوٹا ہے(بخاری شریف) ۔

اُم المومنین سے دوسری جگہ یہ الفاظ یوں منقول ہیں کہ جو شخص کہتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کل کیا ہوگا سے باخبر ہیں، اُس نے جھوٹ بولا انہ یعلم ماغدٍ (بخاری ، کتاب التفسیر سورۃ النجم، حدیث ۴۸۵۵) ۔

تیسری جگہ الفاظ یوں ہیں انہ یعلم الغیب یعنی جو کہتا ہے کہ آپ ﷺ غیب کا علم رکھتے ہیں تو وہ کذب کا مرتکب ہے۔

اب روایتیں ملا کر دیکھیں تو پورا مفہوم یہ ہوا کہ جو شخص کہتا ہے کہ آپ ﷺ کو کل کی بات کا علم ہے اور آپ ﷺ سورۃ لقمان کے آخر والے پانچوں غیب جانتے ہیں اور آپ ﷺ کو غیب کا علم حاصل ہے تو وہ کذب کا مرتکب ہوتا ہے، اُم المومنین رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے دو باتیں اور بھی اپنے اس فتوے میں ارشاد فرمائی ہیں(ترمذی، کتاب التفسیر سورۃ النجم،حدیث نمبر۳۲۷۸ )سے پتہ چلتا ہے کہ اُم المومنین حضرت عبداﷲ ابن عباس اور بنو ہاشم کی طرف اشارہ فرمارہی ہیں کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا، اُم المومنین اُن کا ردّ کرتے ہوئے فرمارہی ہیں کہ جو تجھے کہے کہ(ا) حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ، (۲) یا حضرت محمد نے اسرار مخفی رکھے، (۳) یا حضرت محمد ﷺ کو غیوب کا علم حاصل ہے تو وہ جھوٹ کا مرتکب ہے، یہ واضح بات ہے کہ نبی پاک ﷺ کے اِن فضائل کا قائل اُس دَور کا کوئی کافر ومشرک تو نہیں تھا، وہ جو بھی تھا مسلمانوں میں سے تھا، اور اُم المومنین اُس دور کے کسی مسلمان کے اِن نظریات کی عبارت اور تعبیر میں خطا کو کذب سے تعبیر کررہی ہیں،تو یہ اُم المومنین کا اُن سے اجتہادی اختلاف ہے، اُم المومنین نفی ادراکِ باری سے نفی رویتِ باری کا مفہوم نکال رہی ہیں، تو اُن کا قیاس ہے ورنہ احادیث نبویہ میں رویت باری کا ثبوت ہر دو جہاں میں ملتا ہے، اسی طرح تبلیغی احکام نہ چھُپانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسرار بھی کسی سے نہ چھپائے ، اور علم غیب کے حوالے سے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضرت خضر علیہ السلام کی بابت بیان فرماتے ہیں کان رجلاً یعلم علم الغیب ’’وہ مرد تھے جو علمِ غیب جانتے تھے‘‘ (تفسیر ابن جریر۔ تفسیر ابن کثیر) ، بلکہ بخاری شریف میں تو حدیث مرفوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تین اقوال پر بھی لفظِ کذب استعمال کیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ وہ بھی صورتاً کذب ہے نہ کہ حقیقتاً۔

حدیث نمبر ۴

بہتان حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے ہمارے مخالفین چونکہ چنانچہ کی گردان کرتے ہوئے نبی پاک ﷺ کے علم شریف کے متعلق ہرزہ سرائی کرتے ہیں، حالانکہ نبی پاک ﷺ نے ہر گز نہیں فرمایا کہ مجھے علم نہیں، بلکہ آپ ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا مجھے اپنے اہل کی خیر ہی کا علم ہے( فواﷲ ما علمت علیٰ اھلی الاَّ خیرا، بخاری ۲۶۶۱کتاب الشہادات، باب تعدیل النساء) ، جہاں سرکار ﷺ قسم کھا کر اپنا علم ظاہر فرمائیں، وہاں بھی اگر بے علمی ثابت کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے مخالفین کو نہ سرکار ﷺ کے بیان پر یقین ہے اور نہ آپ کے بیان حلفی پر ایمان ہے۔

حدیث نمبر ۵

سورۃ تحریم کی شان نزول سے نبی پاک ﷺ کی بے علمی ہر گز ثابت نہیں ہوتی اور نہ آپ ﷺ نے اپنی بے علمی کاقول کیا، اﷲ تعالیٰ نے بھی اس واقعہ کی وجہ سے آپ ﷺ کی بے علمی نہ بتائی بلکہ اُس واقعہ کی وجہ ازواج مطہرات کی رضا جوئی بتائی کہ ازواج کو محبو ب بنانے کی بجائے اپنا محب بنائو، آپ اُن کی رضا جوئی نہ فرمائیں بلکہ وہ آپ کی رضا جوئی کریں، محبت کی باتوں میں بے علمی کہاں سے گھس آئی ، کوئی محبت والے دل سے ہمیں بتائے؟۔

حدیث نمبر ۶

بیئر معونہ کے واقعہ سے نبی پاک ﷺ کی بے علمی ہرگز ثابت نہیں ہوتی، اگر نبی پاک ﷺ نے اپنے مبلغ بھیجے اور انہیں شہید کردیا گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ﷺ کو اپنے مبلغوں کی شہادت کا علم نہ تھا، یہ ایسے ہی ہے جیسے اﷲ تعالیٰ نے تبلیغ کے لئے نبی بھیجے اور انہیں بھی شہید کیا گیا، تو کوئی بیوقوف ہی کہے گا کہ اگر اﷲ تعالیٰ اُن کے شہید ہونے کا علم ہوتا تو وہ اپنے رسولوں کو اتمام حجت کے لئے ہر گز نہ بھیجتا، پھر نبی پاک ﷺ نے اُن مبلغوں کو بھیجتے ہوئے اپنا علم ظاہر فرمایا تھا اور فرمایا تھا انی اخشیٰ اہل نجد علیہم مجھے ڈر ہے اس بات کا کہ نجدی میرے ان اصحاب ِ صفہ (صوفیوں) کو نقصان پہنچائیں گے(قسطلانی، ج۶، ص۳۱۴) ، تعجب ہے کہ نبی پاک ﷺ تو بیئر معونہ کے واقعہ سے پہلے ہی اپنا علم ظاہر فرمائیں اور یہ بوجھ بجھکڑ کہیں کہ علم ہوتا تو آپ انہیں کیوں بھیجتے ، اگر کہا جائے کہ یہ علم نہیں بلکہ محض گمان تھا، تو ہم یہ عرض کریں گے کہ نبی بدگمانی سے پاک ہوتا ہے اور اُن کا یہ خوف اور خطرہ علم پر مبنی تھا۔

اس کے بعد مضمون نگار نے فقہاء کا سہارا لینے کی کوشش کی ہے، آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ مخالفینِ علم نبی کوفقہاء سہارا دیتے ہیں یا نہیں؟

  1. قاضی خاں کا حوالہ دیا کہ جو اﷲ اور رسول کو گواہ بنا کر نکاح کرے وہ کافر ہے، کیونکہ نبی غیب نہیں جانتا اور اُن کے علم غیب کا دعویٰ کفر ہے، حالانکہ فتاویٰ قاضی خاں اور درمختار وغیرہ کتب فقہاء میں اس قول کو مفتیٰ بہٖ قول کے صیغے سے ہر گز ہرگز ادا نہیں کیا گیا اور غیر مفتیٰ بہٖ اور مرجوح قول پر فتویٰ دینا انہی فقہاء کے نزدیک مخالفتِ اجماع اور جہالت شمار ہوتا ہے، پھر لطف کی بات یہ ہے کہ حدیث مرفوع میں ایک مسنون دعا ملتی ہے جس میں ہر صبح اﷲ اور اور اُس کے تمام رسولوں کو گواہ بنایا جاتا ہے(عمل الیوم واللیلۃ ابن سنی، ص۲۳، حدیث ۵۲)، اب یہ ہمارے مخالفین کی مرضی ہے کہ وہ غیر مفتیٰ بہٖ اور مرجوح قول پر فتویٰ دیتے ہیں یا حدیث رسول ﷺ پر ایمان لاتے ہیں( آپ کے رب کی قسم یہ لوگ اُس وقت تک ایمان والے نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی جھگڑوں میں آپ کے فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم نہ کریں اور آپ کے فیصلے کے خلاف اپنے دلوں میں کوئی حرج یا رکاوٹ محسوس نہ کریں( سورۃ النساء، آیت ۶۵)۔
  2. دوسرا قول لکھا کہ ملا علی قاری کا کہنا ہے کہ انبیاء کرام کو اﷲ نے جس قدر علم غیب دیا اُس سے زیادہ نہ جانتے تھے، یہ قول ہرگز ہمارے خلاف نہیں ہے، اور جس ہستی کو ایک لمحے میں فتجلیٰ لی کل شئی وعرفت ’’تو روشن ہوگئی مجھ پر ہر شئے اور معرفت حاصل ہوگئی مجھے‘‘ کے مقام پر فائز کردیا گیا ، اُس کی لمحہ لمحہ کی رب زدنی علماً (اے رب میرے علم میں اضافہ فرما) کی دعائوں کے صلے میں کتنا علم ملا اس کا کون اندازہ لگا سکتا ہے ؟
  3. فتاویٰ بزازیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہو کہ بزرگوں کی روحیں موجودہیں اور ہمارے حال سے واقف ہیں ، وہ کافر ہے۔

اس عبارت میں ارواح المشائخ کو حاضر ماننا بیان کیا گیا ہے، اور ظاہر بات ہے کہ تمام مشائخ کو کنت سمعہ وبصرہ ویدہ ورجلہ والے محبوبان الٰہی قرار نہیں دیا جاسکتا اور مشائخ میں سے جو حضرات اس مقام پر فائز ہونے والے محبوبان الٰہی بن چکے ، اُن کے بارے میں بزرگان دین فرماچکے فتریٰ وتسمع الکل کالمشاہد (مرقاۃ،علی قاری، ج۲، ص۳۴۲) کہ وہ مشاہدہ کرنے والوں کی طرح دیکھتے سنتے ہیں، شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی اور قاضی ثناء اﷲ پانی پتی وغیرہ کے حوالے ہمارے خلاف اس لئے معتبر نہیں، کیونکہ ان کی کتابیں وہابیہ نے شائع کی ہیں اور بدمذہب کی وہ روایت جس سے وہ اپنی بدمذہبی کی حمایت کرے معتبر نہیں ہوتی، لہذا شاہ ولی اﷲ خاندان کی کتابوں میں جہاں جہاں وہابیہ کی حمایت ملتی ہے وہ ہمارے خلاف اس لئے حجت نہیں کہ یہ کتابیں وہابیہ کے شائع کرنے سے ہم تک پہنچی ہیں، اور یہ جماعت اتنی بڑی تحریف کنندہ جماعت ہے کہ صحاح ستہ جیسی متداول کتابیں چھاپتی ہے تو اُن میں بھی لفظوں کے ردوبدل سے باز نہیں آتی، تو جو غیر مطبوعہ کتاب ان کے ادارے طبع کریں، اُس کا کیا حال ہوگا۔

پھر مضمون نگار کا یہ کہنا کہ آپ ﷺ اس پر قادر نہ تھے کہ جب چاہیں معجزہ دکھادیں، یہ ہرگز درست نہیں، معجزہ ملنے کے بعد نبی کی قدرت میں رہتا ہے، یہ ٹھیک ہے کہ وحی اﷲ ہی اُتارتا ہے ، تاہم یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ اکثر اوقات نبی پاک ﷺ کا انتظار فرمانا ہی نزول وحی کا سبب بنتا ہے، اوراکثر اوقات تونبی پاک ﷺلوگوں لوگوں کو کچھ بتانے یا کسی بات کا جواب دینے کے لئے بذریعہ وحی اﷲ تعالیٰ سے اجازت ملنے کا انتظار فرما رہے ہوتے ہیں، تو آپ ﷺ کی خاموشی نہ جاننے کے سبب نہیں ہوتی بلکہ بتانے کی اجازت نہ ملنے سبب ہوتی ہے۔

مخالف لکھتا ہے کہ اﷲ کے رسول ﷺ دشمنان دین سے کل کا وعدہ فرمارہے ہیں مگر سترہ روز تک بھی وعدہ کو پورا نہ کرسکے۔

کیا یہ توحید کا بیان ہے یا پیغمبر پر وعدہ خلافی کے گناہ کا الزام لگا کر اُن کی عصمت کو داغدار کیا جارہا ہے ؟ دلائل شرعیہ کی روشنی میں یہ بات یوں بھی تو کہی جاسکتی تھی کہ نبی پاک ﷺ نے سوالوں کا جواب کل کلاں (مستقبل میں) دینے کا وعدہ فرمایا تھا، نہ کہ محض آئندہ چوبیس گھنٹوں کے اندر ، آپ ﷺ نے حکمت الٰہی کی وجہ سے ایسا فرمایا تھا، کیونکہ وہ اپنی خواہش سے نہیں بلکہ وحی الٰہی سے بولتے ہیں ، اور بتانے کا وعدہ فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ اُس وقت بھی جانتے تھے، اور سترہ اٹھارہ دن اس لئے نہ بتایا کہ بتانے کی اجازت نہ ملی، اور ساتھ ساتھ مستقبل کے وعدوں کے ساتھ ا ن شاء اﷲ کہنے کی تعلیم بھی دے دی ، آیت میں یا حدیث میں نہ جاننے کا تو ایک لفظ بھی نہیں ہے، تو قیاس کے گھوڑے دوڑا کر علم نبی کی نفی کرکے اپنا علم نمایاں کرنا کون سی علمیت ہے؟

بریں علم ودانش بباید گریخت

تھک ہار کر تفسیر مدارک وخازن وکبیر وغیرہ کا حوالہ دے کر ہمارا مخالف نہ مانتے ہوئے بھی اتنا مان گیا ہے کہ ’’رسول کے لئے خدا کی مرضی ہوتی ہے، اُس پر تھوڑا سا علم غیب ظاہر فرمادیتا ہے تاکہ یہ اُس کا معجزہ بن جائے ‘‘ ہم آپ کی اس کشادہ دلی کی داددیتے ہیں کہ آپ نے تھوڑا سا علم غیب تو مان لیا، اور وہ تمام آیتیں جن کے ذریعے آپ علم غیب کی نفی کرتے تھے اَب وہ آپ کو بھول گئیں، یا اُن کے وہ معنی جو ہم پیش کرتے ہیں وہ آپ نے مان لئے ، اس پر ہم آپ کو مبارک باد پیش کرتے ہیں ، اور ہمیں وہابیوں کی اس عادت کا اعتراف ہے کہ مسائل کے سلسلے میں یہ’’ نہیں نہیں ‘‘کرتے ہوئے اچھی بھلی’’ ہاں‘‘ بھی کہہ جاتے ہیں۔

اَب اسی مسئلے کو لیجئے تو ہم بھی اﷲ تعالیٰ کے علم کے لحاظ سے نبی پاک ﷺ کے لئے تھوڑا ا اور بعض علم غیب مانتے ہیں، اور مخلوقات کے لحاظ سے یہ بعض علم غیب کل علم غیب کا درجہ رکھتا ہے، کیونکہ آپ ﷺ اُن سب کے علم کے جامع ہیں۔

آخر میں میں ہمارا مخالف یہ چال چلتا ہے کہ جس قدر علم غیب آپ ﷺ کو معلوم تھا وہ تو آپ ﷺ نے اپنی اُمت پر ظاہر فرمادیا، کیونکہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے وماھو علی الغیب بضنین ( سورۃ التکویر، آیت ۲۴) کہ آپ ﷺ غیب بتانے میں بخل سے کام نہیں لیتے، لہذا ہر شخص آپ کے برابر غیب دان ہوا۔

اس دھوکے کا جواب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ بھی بخیل نہیں اور اس کے ہاتھ بھی کھلے ہیں بل یدٰہ مبسوطتٰن (سورۃ المائدہ، آیت ۶۴) ، جس طرح اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ کھلے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مخلوق کو اس کے برابر مان لیا جائے، اسی طرح رسول اﷲ ﷺ کے بخیل نہ ہونے کا مطلب بھی یہ نہیں کہ اُمتیوں کو رسول اﷲ ﷺ کے برابر مان لیا جائے ، اور رسول اﷲ ﷺ ہر غیب پر امین ہیں انک مامون علی کل غائب ( الخصائص الکبریٰ ۔ مسند احمد) ، اور امین کا قاعدہ یہ ہے کہ جب تک مالک کی طرف سے اذن و اجازت نہ ملے تب تک امانت کو ظاہر نہ فرمائے، بہت سارے سوالات کے جوابات اور بہت سے مواقع پر آپ ﷺ کی خاموشی اسی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے تھی، کیونکہ آپ ﷺ ہر غیب پر امین ہیں۔

مضمون نگار نے آخر میں اس بات سے بھی انکار کیا ہے کہ ’’خدا نے آپ ﷺ کو ایسی قدرت عطا فرمائی تھی کہ آپ غیب کی جس بات کو چاہتے معلوم کرلیتے تھے‘‘ مخالف نے آگے یہ نہیں بتایا کہ ہمارے وہابیوں کے نزدیک یہ خدا کی صفت ہے ’’غیب دریافت کرنا اس طرح کہ جب چاہے دریافت کرلے یہ اﷲ صاحب ہی کی شان ہے‘‘ (تقویۃ الایمان) اور اپنے اس ناقص التوحید نظریہ علم غیب کو کبھی یہ درست ثابت کرنے کے لئے قرآن پاک کے دس سے زائد مقامات پیش کرتے ہیں ، اور کبھی جب ہوش آتا ہے تو تقویۃ الایمان شائع کرتے ہوئے یہ کفریہ عبارت ہی سرے سے اُڑا دیتے ہیں (ملاحظہ ہو تقویۃ الایمان، مطبوعہ سعودیہ) ۔