دیباچہ
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اﷲِ
امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ پر ایک بہتان کا ازالہ
امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ پر جہاں کئی ایک جھوٹے ، بے بنیاد اور من گھڑت الزام و اتہام لگائے جاتے ہیں ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ!
وَالْجَدِيرُ بِالذِّكْرِ أَنَّ الْمُدَرِّسَ الَّذِي كَانَ يُدَرِّسُهُ مِرْزَا غُلَامُ قَدِيرِ بَيْكَ كَانَ أَخَالِ مِرْزَا غُلَامِ أَحْمَدَ الْمُتَنَبِّي الْقَادِيَانِي (احسان الٰہی ظہیر، البریلویہ(عربی)، مطبوعہ لاہور، ص۲۰)
ترجمہ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کا استادمرزا غلام قادر بیگ، مرزا غلام احمد قادیانی کا بھائی تھا۔ (احسان الٰہی ظہیر، البریلویہ(اُ ردو)، مطبوعہ لاہور، ص۴۱)
عرب کے ایک نجدی قاضی عطیہ محمد سالم نے کتاب ’’البریلویہ‘‘ پر تقدیم لکھی اور قاضی ہونے کے باوجود بغیر تحقیق کے کہا!
بِرِيلَوِيَّةُ بَنَاهَا أَوَّلُ مُعَلِّمٍ مِرْزَا غُلَامُ قَدِيرِ بَيْكَ أَخُو مِرْزَا غُلَامِ أَحْمَدَ الْقَادِيَانِي فَيُقَالُ إِنَّ الْقَادِيَانِيَّةَ وَالْبِرِيلَوِيَّةَ أَخَوَانِ فِي خِدْمَةِ الِاسْتِعْمَارِ (عطیہ محمد سالم، تقدیم البریلویہ، عربی، مطبوعہ لاہور، ص۴)
بغض اور حسد ایسی روحانی مہلک بیماریاں ہیں کہ جب انسانی دل ودماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں تو انسان میں حق وانصاف کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے، تحقیق اور حق کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیںاور انسان شکوک و شبہات کی عمیق دلدل میں پھنس کر راہ حق اور صراط مستقیم سے کوسوں دور ہوجاتا ہے۔
احسان الٰہی ظہیر غیر مقلد بھی ایسی خطرناک بیماریوں کا شکار ہوا، اور ایک صالح عاشق رسول پر بے جا بہتان لگا یا، اب تو دنیا میں تعصب کے اندھے حواری واہ واہ کردیں گے ، مگر میدان محشر میں احسان الٰہی ظہیر اور اس کے حواریوں کے پاس اس بہتان کا کیا جواب ہوگا؟
قارئین کرام! امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کے ابتدائی کتب کے استاذ مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی علیہ الرحمہ اور مرزا غلام قادر بیگ گورداسپوری دو الگ الگ شخصیتیں ہیں ، فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے استاذ کو مرزاغلام احمد قادیانی کا بھائی کہنا تحقیق و مطالعہ سے یتیم، سراسر ظلم عظیم اور بغض رضا کا سبب ہے، یہ دھاندلی اسی وقت تک چلتی ہے جب تک حقیقت سامنے نہ ہو، لیکن جب سحر طلوع ہوتی ہے تو اندھیرے بھاگنا شروع ہوجاتے ہیں۔
مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی بن حکیم مرزا حسن جان بیگ علیہ الرحمہ
حضرت مولاناحکیم مرزا غلام قادر بیگ بن حکیم مرزا حسن جان بیگ لکھنوی رحمہم اﷲ تعالیٰ علیہ ، یکم ؍ محرم الحرام ۱۲۴۳ھ/ ۲۵؍ جولائی ۱۸۲۷ء کو محلہ جھوائی ٹولہ لکھنؤ(یوپی، ہندوستان)میں پیدا ہوئے، آپ کے والد ماجد نے لکھنؤ سے ترک سکونت کرکے بریلی میں سکونت اختیار کرلی تھی، آپ کی رہائش بریلی شہر کے محلہ قلعہ میں جامع مسجد کے مشرقی جانب تھی، آپ کا رہائشی مکان بریلی شریف میں اب بھی موجود ہے، آپ کے بھائی مولانا مرزا مطیع اﷲ بیگ بریلوی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے مولانا مرزا محمد جان بیگ رضوی علیہ الرحمہ نے خاندانی تقسیم کے بعد ۱۹۱۴ء میں پرانے شہر بریلی میں سکونت کر لی تھی، مگر مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کی سکونت محلہ قلعہ ہی میں رہی۔
آپ کا خاندان نسلاً ایرانی یا ترکستانی مغل نہیں ہے بلکہ مرزا اور بیگ کے خطابات ِ اعزاز ، شاہانہ مغلیہ کے عطا کردہ ہیں ، اسی مناسبت سے آپ کے خاندان کے ناموں کے ساتھ مرزا اور بیگ کے خطابات لکھے جاتے رہے ہیں، آپ کا سلسلہ نسب حضرت خواجہ عبیداﷲ احرارنقشبندی علیہ الرحمہ سے ملتا ہے ، حضرت احرار رحمتہ اﷲ علیہ نسلاً فاروقی تھے، اس طرح آپ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔
مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر اور اس کے والد، حضرت خواجہ عبیداﷲ احرار سے بیعت تھے ، اس لئے بابر اور اس کے جانشین، حضرت خواجہ احرار کی اولاد سے فیض روحانی حاصل کرتے رہے، لیکن جلال الدین اکبر کے دور میں یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور اس خاندان کے بزرگ واپس وطن لوٹ گئے، مغل بادشاہ نورالدین جہانگیر نے اپنے دور میں اپنے خاندانی بزرگوں سے رجوع کیا، لہذا اس خاندان کے بزرگ تاجکستان سے پھر ہندوستان آگئے۔
امام احمد رضا خاں بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے اجداد کرام بھی شاہانہ مغلیہ سے وابستہ رہے ہیں، اسی زمانہ سے ان دونوں خاندانوں کے قریبی روابط رہے ہیں ، مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کے حقیقی بھائی مولانا مرزا مطیع اﷲ بیگ علیہ الرحمہ کے پوتے مرزا عبدالوحید بیگ بریلوی کی دو ہمشیر گان امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کے خاندان میں بیاہی گئیں، ایک حضرت مفتی تقدس علی خاں رحمتہ اﷲ علیہ کے تایا زاد بھائی حافظ ریاست علی خاں مرحوم کو اور دوسری فرحت علی خاں کے فرزند شہزادے علی خاں مرحوم کو۔
مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کے بھائی مولانا مرزا مطیع اﷲ بیگ جب جامع مسجد بریلی کے متولی مقرر ہوئے تو آپ نے مسجد سے ملحقہ امام باڑہ سے علم اور جھنڈے وغیرہ اتروادئیے، آپ کے اس فعل سے بعض جاہل شرپسند رافضی لوگ آپ کے خلاف ہوگئے، تو اس وقت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے دادا مولانا رضا علی خاں رحمتہ اﷲ علیہ نے فتویٰ دیا تھا کہ متولی مسجد صحیح العقیدہ سنی حنفی ہیں اور عمارت مسجد سے امام باڑہ کوختم کرنا شرعاً جائز ہے، یہ فتویٰ کرم خوردہ آج بھی بریلی شریف میں مولانا مرزا مطیع اﷲ بیگ علیہ الرحمہ کے پوتے مرزا عبدالوحید بیگ کے پاس موجود ہے۔
مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ اور امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کے والدماجد مولانا نقی علی خاں رحمتہ اﷲ علیہ کے درمیان محبت ومروت کے پر خلوص تعلقات تھے، اس لئے مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ نے امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کی تعلیم اپنے ذمہ لے لی تھی، آپ کے دیگر تلامذہ آپ کے مطب واقع محلہ قلعہ متصل جامع مسجد بریلی ہی میں درس لیا کرتے تھے، مگر صغر سنی اور خاندانی وجاہت کی وجہ سے امام احمد رضا علیہ الرحمہ کو ان کے مکان پر ہی درس دیتے تھے۔(ماہنامہ ’’سنی دنیا‘‘ بریلی، مضمون’’مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی‘‘ مضمون نگار، مرزا عبدالوحید بیگ، شمارہ جون ۱۹۸۸ء، ص ۳۷)
امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے ابتدائی کتابیں ، میزان، منشعب وغیرہ مولاما مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔(مولانا ظفر الدین بہاری، حیات اعلیٰ حضرت، مطبوعہ کراچی، ج۱، ص۳۲)
مولانا عبدالمجتبیٰ رضوی لکھتے ہیں!
’’اُردو اور فارسی کی ابتدائی کتب آپ(مولانا احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ) نے مولانا مرزا غلام قادربیگ بریلوی علیہ الرحمہ سے پڑھیں‘‘۔ (مولانا عبدالمجتبیٰ رضوی، تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ، مطبوعہ لاہور ۱۹۸۹ء، ص۳۹۴ )
پروفیسر محمد ایوب قادری(کراچی)، بریلی کے اسلامی مدارس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں!
’’مولانا محمد احسن نے بریلی کے اکابر وعمائد کے مشورہ اور معاونت سے ایک مدرسہ باسم تاریخی ’’مصباح التہذیب‘‘ ۱۲۸۶ھ/۱۸۷۲ء میں قائم کیا…اس مدرسہ کے پہلے مہتمم مرزا غلام قادر بیگ تھے‘‘۔(پروفیسر محمد ایوب قادری، مولانا محمد احسن نانوتوی، مطبوعہ کرای۱۹۶۶ء، ص۸۲)
مولوی محمد حنیف گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں!
’’ اس مدرسہ (مصباح التہذیب) کے پہلے مہتمم مرزا غلام قادر بیگ تھے اور مولوی سخاوت حسین، سید کلب علی، مولوی شجاعت، حافظ احمد حسین اور مولوی حافظ حبیب الحسن درس دیتے تھے‘‘۔(مولوی محمد حنیف گنگوہی، ظفر المحصلین باحوال المصنفین، مطبوعہ کراچی ۱۹۸۶ء، ص۲۹۵)
ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں!
میں نے جناب مرزا صاحب مرحوم ومغفور( مولانا مرزا غلام قادر بیگ) کو دیکھا تھا، گورا چٹا رنگ، عمر تقریباً اسّی سال، داڑھی سر کے بال ایک ایک کرکے سفید، عمامہ باندھے رہتے ، جب کبھی اعلیٰ حضرت( مولانا احمد رضا خاں) کے پاس تشریف لاتے، اعلیٰ حضرت بہت ہی عزت و تکریم کے ساتھ پیش آتے، ایک زمانہ میں جناب مرزا صاحب کا قیام کلکتہ امر تلالین میں تھا، وہاں سے اکثر سوالات جواب طلب بھیجا کرتے تھے، فتاویٰ رضویہ اکثر استفتاء اُن کے ہیں ، انہیں کے ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت نے رسالہ مبارکہ’’تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین‘‘ (۱۳۰۵ھ/۱۸۸۷ء) تحریر فرمایا ہے‘‘۔ (مولانا ظفر الدین بہاری، حیات اعلیٰ حضرت، مطبوعہ کراچی، ج۱، ص۳۲ )
اس رسالہ کا ایک ایڈیشن مطبو عہ مطبع اہل سنت وجماعت بریلی، بار دوم ۱۳۳۰ھ راقم الحروف (خلیل احمد)کی نظر سے بھی گذرا ہے، اور ایک ایڈیشن ۱۴۱۵ھ/۱۹۹۴ء میں مرکزی مجلس رضا لاہور نے بھی شائع کیا ۔
فتاویٰ رضویہ جلد سوئم، مطبوعہ مبارک پور (ہندوستان) کے صفحہ ۸ پر ایک استفتاء ہے جو مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ نے ۲۱؍ جمادی الآخر ۱۳۱۴ھ کو ارسال کیا تھا۔
فتاویٰ رضویہ، جلد گیارہ، مطبوعہ بریلی(ہندوستان) ، بار اوّل کے صفحہ ۴۵ پر ایک استفتاء ہے جو مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ نے کلکتہ دھرم تلا نمبر۱ سے ۵؍ جمادی الآخر ۱۳۱۲ھ کو ارسال کیا تھا۔
مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کے دو فرزند اور دو دختران تھیں ، دونوں دختران فوت ہوگئیں ، بڑی دختر کے ایک پسر اور چھوٹی دختر کی اولاد بریلی شریف میں سکونت پذیر ہے، فرزند اکبر مولانا حکیم مرزا عبدالعزیز بیگ علیہ الرحمہ اور دوسرے فرزند حکیم مرزا عبدالحمید بیگ علیہ الرحمہ تھے۔
مولانا ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں!
’’خدا کے فضل سے (مولانا غلام قادربیگ) صاحب اولاد ہیں، ایک صاحبزادہ جن کا نام نامی مرزا عبدالعزیز بیگ ہے، دینیات سے واقف اور طبیب ہیں…بریلی کی جامع مسجد کے قریب مکان ہے پنج وقتہ نماز اسی مسجد میں ادا کیا کرتے ہیں‘‘۔(مولانا ظفر الدین بہاری، حیات اعلیٰ حضرت، مطبوعہ کراچی، ج ۱، ص۳۲)
مولانا حکیم مرزا عبدالعزیز بیگ پہلے رنگون (برما) میں رہے، پھر کلکتہ میں طبابت کی، ایام جوانی میں کلکتہ ہی میں سکونت رکھی، چنانچہ مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کبھی کبھی اپنے فرزند اکبر کے پاس کلکتہ تشریف لے جاتے تھے، پھر حکیم مرزا عبدالعزیز بیگ آخری ایام میں کلکتہ سے ترک سکونت کرکے بریلی شریف آگئے تھے اور وفات تک اپنے آبائی مکان میں سکونت پذیر رہے، آپ بڑے ہی علم وفضل والے، عابد، تہجد گزار، متقی اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔(ماہنامہ ’’سنی دنیا‘‘ بریلی، شمارہ جون ۱۹۸۸ء، ص۴۰)
مولانا حکیم مرزا عبدالعزیز بیگ علیہ الرحمہ کا وصال ۱۴؍ ۱۵؍ شعبان ۱۳۷۴ھ کی درمیانی شب کو بریلی شریف میں ہوا، (مولوی عبدالعزیزخاں عاصی(متوفی ۱۴؍ اپریل ۱۹۶۴ء)، تاریخ روہیل کھنڈو تاریخ بریلی، مطبوعہ کراچی ۱۹۶۳ء، ص۲۹۹، ۳۰۰) اور آپ لا ولد فوت ہوئے۔(ماہنامہ سنی دنیا، بریلی، شمارہ جون ۱۹۸۸ء، ص۴۰)
دوسرے صاحبزادے مرزا عبدالحمید بیگ پہلے ریاست بھوپال میں رہے، پھر پیلی بھیت کے اسلامیہ انٹر کالج میں ملازم رہے، وہیں آپ کا وصال ہوا، مجرد تھے۔
مرزا محمد جان بیگ رضوی کی بیاض کے مطابق مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی کا وصال یکم محرم الحرام ۱۳۳۶ھ/۱۸؍ اکتوبر ۱۹۱۷ء کو نوے سال کی عمر میں ہوااور محلہ باقر گنج واقع حسین باغ بریلی میں دفن ہوئے، آپ کے بھائی مرزا مطیع اﷲ بیگ علیہ الرحمہ بھی وہیں دفن ہیں۔(ماہنامہ سنی دنیا، بریلی، شمارہ جون ۱۹۸۸ء، ص۴۰)
حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب مدظلہٗ العالی نے’’ حیات مولانا احمد رضا خاں بریلوی‘‘ مطبوعہ سیالکوٹ اور ’’حیات امام اہل سنت‘‘ مطبوعہ لاہورمیں مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی علیہ الرحمہ کا جو سن وفات ۱۸۸۳ء تحریر کیا ہے ، وہ درست نہیں ہے۔
مرزا غلام قادر بیگ بن مرزا غلام مرتضیٰ
مرزا بشیر احمد بن غلام احمد قادیانی کی گواہی
’’ مرزا غلام مرتضیٰ بیگ جو ایک مشہور اور ماہر طبیب تھا، ۱۸۷۶ء میں فوت ہوا اور اس کابیٹا غلام قادر اس کا جانشین ہوا، مرزا غلام قادر لوکل افسران کی امداد کے واسطے ہمیشہ تیار رہتا تھااور اس کے پاس ان افسران جن کا انتظامی امور سے تعلق تھا، بہت سے سر ٹیفکٹ تھے، یہ کچھ عرصہ تک دفتر ضلع گور داسپور میں سپریڈنٹ رہا، اس کا اکلوتا بیٹا صغر سنی میں فوت ہوگیا اور اس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنیٰ بنالیا تھا، جو غلام قادر کی وفات یعنی ۱۸۸۳ء /۱۳۰۱ھ تقریباً سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا تھا…اس جگہ یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مرزا غلام احمد جو مرزا غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا مسلمانوں کے ایک بڑے مشہور مذہبی سلسلہ کا بانی ہوا، جو احمدیہ سلسلہ کے نام سے مشہور ہوا۔(سیرت المہدی، مطبوعہ قادیان ضلع گورداس پور(مشرقی پنجاب، انڈیا) ۱۹۳۵ء ، ص۱۳۵) (نوٹ)۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں احمدیہ سلسلہ کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔
مولوی ابو القاسم رفیق دلاوری دیوبندی لکھتے ہے!
’’ ان دنوںمرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے بھائی غلام قادر دینا نگر(ضلع گورداسپور) کی تھانیداری سے معزول ہوکر عملہ کے پیچھے جوتیاں چٹخاتے پھرتے تھے‘‘۔ (مولوی ابوالقاسم محمد رفیق دلاوری، رئیس قادیان، مطبوعہ مجلس ختم نبوۃحضوری باغ روڈ ملتان۱۳۳۷ھ/۱۹۷۷ء، جلد اول، ص۱۱ )
مولوی رفیق دلاوری دوسری جگہ لکھتے ہیں!
’’ مرزا غلام مرتضیٰ نے ۱۸۷۶ء میں اسی سال کی عمر میں دنیائے رفتنی و گزشتنی کو الوداع کہا، ان کی سب سے بڑی اولاد مراد بی بی تھیں ، جن کی شادی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے بھائی محمد بیگ یعنی بیگم طال عمرہا کے حقیقی چچا سے ہوئی تھی، ان سے چھوٹے غلام قادر تھے، جنہوں نے اپنی حیات مستعار کے پچپن مرحلے طے کرکے ۱۸۸۳ء میں سفر آخرت کیا ، ان سے شاہد جنت نام ایک لڑکی تھی…اور سب سے چھوٹے مرزا غلام احمد صاحب تھے(سیرۃ المہدی)(مولوی ابوالقاسم محمد رفیق دلاوری، رئیس قادیان، مطبوعہ ملتان ۱۹۷۷ء، ج۱، ص۱۱)
مرزا غلام قادر بیگ کے نام انگریزی حکومت کا ایک مکتوب
دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہٗ ، آپ کا خط ۲ماہ حال کا لکھا ہوا ملاحظہ ایں جانب میں گزرا۔ مرزا غلام قادر آپ کے والد کی وفات کا ہم کو بہت افسوس ہوا، مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریز کا اچھا خیر خواہ تھا اور وفا دار رئیس تھا، ہم خاندانی لحاظ سے آپ کی اسی طرح عزت کریں گے جس طرح تمہارے باپ کی جاتی تھی، ہم کسی اچھے موقع کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پا بحالی کا خیال رکھیں گے۔ المرقوم ۲۹؍ جون ۱۸۷۶ء الراقم سر رابرٹ ایجرٹن صاحب فنانشل کمشنر پنجاب (مرزا بشیر احمد بن غلام احمد قادیانی، سیرت المہدی، طبع قادیان ۱۹۳۵ء حصہ اول، ص۱۳۴، پروفیسر محمد ایوب قادری، جنگ آزادی ۱۸۵۷ء، مطبوعہ کراچی ۱۹۷۶ء، ص۵۱۲)
سند خیر خواہی مرزا غلام مرتضیٰ ساکن قادیان
’’میں (مرزا غلام احمد قادیانی)ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے، میرا والدمرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفا دار اور خیر خواہ آدمی تھا، جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن کی تاریخ’’رئیسان پنجاب‘‘ میں ہے، اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کی مدد کی تھی، یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانۂ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دئیے تھے ، ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیا ت خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں، مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئیں ہیں ، پھر میرے والد صاحب کی وفات پر میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر، خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔الخ
پروفیسر محمد ایوب قادری لکھتے ہیں!
یہ تحریر مرزا غلام احمد قادیانی کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ یہ خاندان سرکار برطانیہ کا ہمیشہ وفادار رہا ہے اور ۱۸۵۷ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کے والد غلام مرتضیٰ اور بڑے بھائی مرزا غلام قادر نے سرکار برطانیہ کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں، تفصیل کے لئے دیکھئے اشتہار’’ واجب الاظہار‘‘از مرزا غلام احمد قادیانی(قادیان ۱۸۹۷ء)نیز ’’ کشف العطاء‘‘ از مرزا غلام احمد قادیانی،(قادیان ۱۹۰۶ء)(پروفیسر محمد ایوب قادری، جنگ آزادی ۱۸۵۷ء، مطبوعہ کراچی ۱۹۷۶ء، ص۵۰۸، ۵۰۹)
خلاصہ کلام
۱۔ مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی علیہ الرحمہ ایک صحیح العقیدہ مسلمان ، اﷲ جل جلالہٗ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے وفا دار تھے جب کہ مرزا غلام قادر بیگ قادیانی ، انگریزی حکومت کا وفا دار اور قادیان کا رئیس تھا۔
۲۔ مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی ماہر علوم دینیہ ، کامیاب مدرس و طبیب تھے جب کہ مرزا غلام قادر قادیانی دینا نگر(ضلع گورداسپور، مشرقی پنجاب، ہندوستان) کا معزول تھانیدار تھا۔
۳۔ مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی کے والد ماجد کا نام مرزا حسن جان بیگ لکھنوی ہے جب کہ مرزا غلام قادر بیگ قادیانی کے والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ بیگ قادیانی ہے۔
۴۔ مولانا مرزا غلام قادر بیگ کا سن وفات ۱۹۱۷ء ہے جب کہ مرزا غلام قادر قادیانی ۱۸۸۳ء میں فوت ہوا۔
۵۔ مولانا مرزا غلام قادر بیگ کی عمر ۹۰ سال ہوئیجب کہمر زا غلام قادر قادیانی کی عمر۵۵ سال ہوئی۔
۶۔مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کے دو صاحبزادے حکیم مرزا عبدالعزیز بیگ اور مرزا عبدالحمید بیگ تھے جب کہ مرزا غلام قادربیگ قادیانی کا ایک ہی بیٹا تھا جو صغر سنی میں فوت ہو گیا تھا۔
ان تمام حقائق و شواہد سے ثابت ہوا کہ مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی علیہ الرحمہ اور مرزا غلام قادر بیگ قادیانی ، دو الگ الگ شخصیتیں ہیں ، ان کو ایک شخصیت قرار دینا افتراء اور دروغ گوئی کے سوا کچھ نہیں۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ