Skip to content

الرّوض الانیق فی فضل الصدیق رضی اللہ عنہ

شخصیات

فضائل و مناقب صدّیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مشتمل چالیس (40) احادیث کا ایمان افروز مجموعہ

ترجمہ وتخریج: علامہ محمد شہزادمجددی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

والذی جاء بالصدق وصدّق بہ اولٰئک ھم المتقون ۔الز مر:۳۳

’’اور جو یہ سچ لے کر آئے اور وہ جنھوں نے اس کی تصدیق کی در حقیقت یہی پرہیزگار ہیں‘‘۔

تمہید

حضرت امیر المومنین خلیفۃ الرسول بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مردوں میں پہلے مسلمان اور اولین صحابی ہیں۔ آپ کے منصب صحابیت کا تذکرہ قرآن پاک کی سورئہ توبہ میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔

ثانی اثنین اذِہُما فِی الغار اِذ یقولُ لِصَاحِبِہٖ لاَتَحْزَن اِنَّ اﷲَ مَعَنَا… الخ (سورئہ توبہ: آیت 40)۔

ترجمہ:دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے اور جبکہ اس نے اپنے صحابی سے کہا غم نہ کر اﷲ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔

صحیح بخاری میں اس معیت الٰہیہ کی بشارت درج ذیل الفاظ میں مروی ہے:

رسول اﷲ ا نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی تشویش پر ان الفاظ سے ان کی تشفی فرمائی ۔ مَاظَنُّکَ بِاثنینِ اَﷲ ُ ثَالِثُہُما (بخاری ، مناقب، رقم : 3310، مسلم : 4389)

ترجمہ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اﷲ ہو۔

بچپن اور جوانی کے پاکیزہ ادوار سے لے کر غار و مزار تک کی رفاقتوں کے یہی وہ مقدس مراحل ہیں۔ جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ثانی اسلام اور بالاصالت خلیفۃ الرسول کے منصب پر فائز کر دیا اور آپ بالاتفاق امام الصحابہ اور رئیس الصدیقین کی اعلیٰ مسند پر فائز نظر آتے ہیں۔

قرآن پاک کی آیات آپ کے فضائل و مناقب کی گواہی دیتی ہیں ۔ زبان رسالتمآب ا آپ کی خدمات و احسانات کا اعتراف فرماتی ہے اور جلیل القدر صحابہ خصوصاً عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہما آپ کے مداحین و معتقدین میں سرفہرست دکھائی دیتے ہیں۔

ائمہ تصوف آپ کے ارشادات ، تعلیمات اور سیرت کے تابناک پہلوئوں سے روشنی لیتے ہوے احوال و معارف کے باب میں انہیں بطور سند پیش کرتے ہیں۔

ائمہ طریقت و تصوف کا اجماع ہے کہ اس امت کے اولین و عظیم ترین صوفی بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں۔ آپ ’’السّابقون الاوّلون ‘‘ کے اس قدسی صفات گروہ کے سرخیل ہیں ۔ جنہیں ایمان و اسلام اور تمام امور خیر میں اوّلیت و سبقت کی سند خود رب العالمین نے عطا کی ہے۔

اہل تاریخ و سیئر نے آپ کی اولیات کو خصوصی اہمیت کے ساتھ نقل کیا۔

محدثین و مورخین نے حضرت ابوبکر صدیق کے ان کارناموں کا الگ الگ ذکر کیا ہے جن میں آپ نے سب سے پہلے سبقت کی ہم ذیل میں ان کی سرفہرست یک جا نقل کرتے ہیں۔

۱۔ مردوں میں سب سے پہلے آپ نے اسلام قبول کیا۔

۲۔ قرآن مجید کا نام سب سے پہلے آپ نے مصحف رکھا۔

۳۔ قرآن مجید کو سب سے پہلے آپ نے جمع کرایا۔

۴۔ سب سے پہلا شخص جس نے کفار قریش کے ساتھ آنحضرت ا کی حمایت میں جنگ لڑی اور ضربات شدیدہ برداشت کیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں۔

۵۔ اسلام میں سب سے پہلے جس نے مسجد بنائی وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اﷲ لکھتے ہیں۔ ’’حضرت صدیق اوّل کسے است کہ مسجد بنا کر دو اعلام اسلام نمود‘‘۔

۶۔ آنحضرت ا کی حیات میںجس کو سب سے پہلے حج کی امامت کا شرف حاصل ہوا وہ آپ ہی ہیں۔

۷۔ آنحضرت ا نے جس کو باصرار نماز کی امامت کا حکم فرمایا اور خود بھی اس کے پیچھے اقتدا کی وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں۔

۸۔ سب سے پہلے خلیفہء راشد ہیں اور سب سے پہلے شخص ہیں جو اس لقب سے پکارے گئے۔

۹۔ سب سے پہلے خلیفہ ہیںجن کو باپ کی زندگی میں خلافت ملی۔

۱۰۔ سب سے پہلے خلیفہ ہیں جن کا نفقہ رعایا نے مقرر کیا۔

۱۲۔ سب سے پہلے بیت المال آپ نے قائم کیا۔

۱۳۔ سب سے پہلے دوزخ سے نجات کی خوش خبری آنحضرت ا نے آپ کو ہی دی اور عتیق کے لقب سے مشرف فرمایا۔

۱۴۔ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے باگارہ نبوت سے کوئی لقب حاصل کیا۔

۱۵۔ سب سے پہلے آپ نے ہی فرمایا ’’البلاء موکل بالمنطق‘‘حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تھے ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے لیکن جب مدینہ پہنچے صرف پانچ ہزار درہم باقی رہ گئے تھے۔ باقی رقم سب کی سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دی۔

قرآن پاک کی سورہ حدید میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس خصوصیت کو بایں الفاظ بیان کیا گیا ہے۔

ترجمہ: ’’تم میں سے وہ لوگ جو فتح مکہ سے پہلے خرچ کرتے تھے اور قتال کرتے تھے وہ درجہ کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں ان لوگوں سے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور قتال کیا‘‘ (سورہ حدید، آیت ۱۰)

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی جانی و مالی خدمات کا اعتراف رسول اللہ ا نے کئی بار مجمع عام میں فرمایا۔

حدیث اور تاریخ و سیئر کی کتابوں میں اس قسم کے متعدد مواقع کا ذکر ہے۔

ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: مَا نفغی مَالُ اَحَدٍ قطُ مَا نفغی مالُ ابی بکر

ترجمہ:(ابوبکر کے مال نے مجھ کو جو نفع پہنچایا ہے کسی اور کے مال نے اتنا نہیں پہنچایا۔ (مناقب ابی بکر صدیق۔ جامع ترمذی)

ایک دوسرے موقع پر آنحضرت ا نے بہت زیادہ امتنان و تشکر کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: بے شبہ جان و مال کے لحاظ سے ابوبکر سے زیادہ مجھ پر کسی اور کا احسان نہیں ہے۔‘‘

تو حضرت ابوبکر رونے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ جان اورمال کیا کسی اور کے لیے بھی ہے۔ (کنز العمال! ۶/۳۱۶)

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جن احسانات و خدمات کا اعتراف ہمارے آقاو مولا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے برملا فرمایا ہے یقینا پوری امت مسلمہ مل کر بھی ان کا بدلہ نہیں چکا سکتی ۔ بقول اقبال

آں امنّ الناس بر مولائے ما

آں کلیم اول سینائے ما

ہمت او کشت ملت را چوابر

ثانی اسلام و غار و بدر و قبر

پیش نظر مختصر رسالہ جو چہل احادیث پر مشتمل ہے، حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت کی ایک بہترین صورت ہے۔ جسے پیش کرنے کی سعادت خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی الشافعی رحمہٗ اللہ کے حصہ میں آئی ہے۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہٗ اس مخلصانہ کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے (آمین)

جمادی الثانی۱۴۲۸ھ

محمد شہزاد مجددی

۴۹۔ ریلوے روڈ لاہور

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

تمام تعریفیں اس اﷲ کے لیے ہیں جس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اس امت میں سب سے بہتر بنایا اور انہیں یقین و تصدیق کے ہر مقام پر دوسروں سے بلند تر رکھا، تحقیق کہ آپ شیخ الاسلام ہیں۔

میں اﷲ کی ثناء بیان کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کی حمد سے متصف ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا اور لاشریک ہے، وہ شہادت جو اپنے اقرار کنندہ پر آنے والی ہر تنگی کو وسعت میں بدل دیتی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد اس کے بندے ، اس کے رسول اور مہربان نبی ہیں(ا ) اور آپ کے آل و اصحاب و ازواج و ذریت پر جو اہل ارشاد و توفیق ہیں۔ امابعد…

یہ کتاب جسے میں نے ’’الروض الانیق فی فضل الصدیق‘‘ کا لقب دیا ہے۔ میں اس میں مختصر چالیس احادیث لایا ہوں جو انہیں حفظ کرنے ا ور یاد رکھنے والے نیک آدمی کے لیے نہایت آسان ہیں اور میں اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اپنی نسبت کا نفع عطا فرمائے اور اپنی بارگاہ قرب میں اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی ا کی معیت نصیب فرمائے۔ آمین

(حدیث نمبر: 1)

عن عائشۃ أن رسول اﷲ ﷺ قال : أبی اﷲ والمؤمنون أن یختلفوا علیک یا أبا بکر ۔

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے۔

بلاشبہ رسول اﷲ ا نے فرمایا۔

اے ابوبکر! اﷲ تعالیٰ اور ایمان والے تیرے بارے میں اختلاف کو ناپسند کرتے ہیں(مسند احمد)۔

تخریج: مسند احمد،باقی مسند الانصار:رقم:۲۳۰۶۸۔فضائل الصحابہ:رقم:۲۲۶۔کنز العمال:رقم:۳۲۵۶۱

(حدیث نمبر: 2)

عن أنس أن رسول اﷲ ﷺ قال : أبو بکر و عمر سیدا کھول أھل الجنۃ من الأولین والآخرین ، ما خلا النبیین والمرسلین ۔

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، بلاشبہ رسول اﷲ ا نے فرمایا۔

ابوبکر اور عمر اولین و آخرین میں سے جنتی بزرگوں کے سردار ہیں، سوائے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ۔اسے ضیاء المقدسی نے مختارہ میں اور اکثر ائمہ نے نقل کیا ہے۔

تخریج: رواہ الترمذی عن علی فی باب مناقب ابی بکر و عمر : رقم الحدیث : 3599) امام ترمذی کی روایت میں ’’لاتخبرہما یا علی‘‘ کے الفاظ زائد ہیں۔ مختارہ:رقم:۲۵۰۹۔۲۵۱۰۔معجم کبیر: رقم:۱۰۴؍۲۲

فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردار دو جہاں

اے مرتضیٰ! عتیق و عمر کو خبر نہ ہو

(حدیث نمبر: 3)

عن سعید بن زید أن رسول اﷲ ﷺ قال : أبو بکر فی الجنۃ ، وعمر فی الجنۃ ، وعثمان فی الجنۃ ، وعلی فی الجنۃ ، وطلحۃ فی الجنۃ ، والزبیر فی الجنۃ ، وعبد الرّحمن بن عوف فی الجنۃ ، وسعد بن أبی وقاص فی الجنۃ، وسعید بن زید فی الجنۃ، وأبو عبیدہ بن الجراح فی الجنۃ ۔

ترجمہ: حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ۔

رسول اﷲ ا نے ارشاد فرمایا:

ابوبکر جنتی ہے، عمر جنتی ہے، عثمان جنتی ہے علی جنتی ہے، طلحہ جنتی ہے، زبیر جنتی ہے، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہے، سعد بن ابی وقاص جنتی ہے، سعید بن زید جنتی ہے، ابوعبیدہ بن الجراح (رضی اﷲ عنہم) جنتی ہے۔ (اسے ضیاء نے مختارہ میں اور دیگر کثیر ائمہ نے روایت کیا ہے)۔

تخریج: (ترمذی: مناقب ، رقم : 3681، ابن ماجہ، المقدمہ، رقم 135، ابودائود فی السنّۃ ، رقم : 4031، فضائل الصحابۃ لأحمد، رقم : 85)۔

وہ دسوں جن کو جنت کا مژدہ ملا

اس مبارک جماعت پہ لاکھوں سلام

(حدیث نمبر:4)

عن المطلب بن عبداﷲ بن حنطب عن أبیہ عن جدہ ۔ ومالہ غیرہ ۔ أن رسول اﷲ ﷺ قال : أبو بکر و عمر منی کمترلۃ السمع والبصر من الرأس ۔

حضرت مطلب بن عبداﷲ بن حنطب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں۔

بے شک رسول اﷲ ا نے ارشاد فرمایا۔

ابوبکراور عمر (رضی اﷲ عنہما) میرے لیے ایسے ہیں جیسے سر میں آنکھیں اور کان ہوتے ہیں۔

تخریج: رواہ‘ الترمذی، بلفظ ’’ہذان السمع والبصر‘‘ فی مناقب ابی بکر و عمر: رقم: 3604) فضائل الصحابۃ، امام احمد، رقم : 577: 282/1۔

اصدق الصادقیں ، سید ا لمتقین

چشم و گوش وزارت پہ لاکھوں سلام

(حدیث نمبر: 5)

عن ابن عباس أن رسول اﷲ ﷺ قال : أبو بکر و عمر من ھذا الدین، کمترلۃ السمع والبصر من الراأس ۔

ترجمہ:عبداللہ بن عبا س رضی اﷲعنھما سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہانے ارشاد فرمایا:

ابو بکر اور عمر رضی اﷲ عنھما اس دین میںایسے ہیں جیسے چہرہ میں آنکھیں اور کان ہوتے ہیں۔(اسے ابن النجار اور خطیب نے اپنی تاریخ میں جابر سے روایت کیا)۔

تخریج:مستدرک حاکم،۳؍۷۸:رقم:۴۴۹۸۔فضائل الصحابہ:۱؍۲۸۲۔ابن عساکر:۳۰؍۱۱۶ عن جابر۔ کنزالعمال:رقم:۳۲۶۷۱۔

(حدیث نمبر: 6)

عن جابر أن رسول اﷲ ﷺ قال : أبو بکر الصدیق وزیری وخلیفتی علی أمتی من بعدی ، وعمر ینطق علی لسانی وعلی ابن عمی و أخی وحامل رایتی، وعثمان منی وأنا من عثمان ۔

ترجمہ:حضرت جابررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہانے ارشاد فرمایا:

ابو بکرصدیق میرے بعد میری امت کے لیے میرا وزیر اور خلیفہ ہے،اور عمرمیری زبان سے بولتا ہے اور علی میرا چچا زاد بھائی اور میرا پرچم بردار ہے اور عثمان مجھ سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔اسے طبرانی نے معجم کبیر میں اور ابن عدی وغیرہما نے کامل میں روایت کیا ہے۔

تخریج: الخلیلی فی مشیختہ عن انس، ابن حبان فی الضعفاء، ابن عساکرعن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ وفیہ کادح بن رحمۃ۔ قال ابن عدی :یروی الموضوعات عن الثقات۔(الکامل:۶؍۸۳) کنز العمال ، رقم : 33061۔ کتاب المجرو حین: 2/230، رقم: 904۔

(حدیث نمبر: 7)

عن شداد بن أوس أن رسول اﷲ ﷺ قال: أبو بکر أرأف أمتی و أرحمھا، وعمر خیر أمتی وأعدلھا، وعثمان بن عفان احیی أمتی وأکرمھا، وعلی بن أبی طالب ألب أمتی واشجعھا، وعبداﷲ بن مسعود أبر أمتی وآمنھا، وأبوذر أزھد أمتی وأصدقھا، وابوالدرداء أعبد أمتی وأتقاھا، ومعاویۃ بن أبی سفیان أحکم أمتی وأجودھا۔

ترجمہ: حضرت شداد بن اوس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔

بے شک رسول اﷲ ا نے ارشاد فرمایا۔

ابوبکر میری امت میں سب سے بڑھ کر نرم مزاج اور مہربان ہے اور عمر میری امت میں بہترین اور عادل ہے اور عثمان بن عفان میری امت میں سے زیادہ حیا اور عزت والا ہے اور علی میری امت میں سب سے بڑھ کردانا اور شجاع ہے اور عبداﷲ بن مسعود میری امت میں زیادہ نیک اور امن والا ہے اور ابوذر غفاری میری امت میں زیادہ زاہد اور صدق والا ہے اور ابو الدرداء میری امت میں زیادہ عبادت گزار اور متقی ہے اور معاویہ بن ابی سفیان میری امت میں زیادہ حلم اور سخاوت والا ہے ۔ اسے ابن عساکر نے نقل کیا اور اس کی تضعیف کی جبکہ دیگر علماء نے بھی اسے نقل کیا ہے۔

تخریج: ابن عساکر: 13/365، غیر ماذکر فیہ علی بن ابی طالب، کنزالعمال، رقم: 33670، الفردوس للدیلمی: 438/1، رقم: 1787۔

(حدیث نمبر: 8)

عن أبی ھریرۃ أن رسول اﷲ ﷺ قال: أبو بکر و عمر خیر الأولین وخیر أھل السموات وخیر أھل الأرض، ألا النبیین والمرسلین ۔

ترجمہ: حضرت ابوہریرۃ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔

بلاشبہ رسول اﷲ ا نے ارشاد فرمایا: ابوبکر و عمر اگلوں میں سب سے بہتر ہیں اور زمین والوں اور آسمان والوں میں سب سے بہتر ہیں سوائے انبیاء و مرسلین کے ۔ (اسے ابن عدی اور حاکم نے (الکنی میں) اور خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے۔

تخریج: الکامل، رقم: 368، 2/180، العلل المتناہیۃ: 1/198، کنزالعمال، رقم : 32645، جامع الاحادیث و المراسیل: رقم:۱۲۴: ۱؍۲۲۔

(حدیث نمبر:9)

عن عکرمہ بن عمار عن إیاس بن سلمۃ بن الأکوع عن أبیہ أن رسول اﷲ ﷺ قال: أبو بکر خیر النّاس بعدی، إلا أن یکون نبی ۔

ترجمہ: حضرت عکرمہ بن عمار، الیاس بن سلمۃ بن اکوع سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔

بے شک رسول اﷲ ا نے ارشاد فرمایا۔

ابوبکر میرے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ نبی نہیں ہے۔

تخریج: الکامل : ج: 5 ص: 276، مجمع الزوائد: 44/9، کنزالعمال: 32548۔

(حدیث نمبر: 10)

عن ابن عباس أن رسول اﷲ ﷺ قال: أبو بکر صاحبی و مؤ نسی فی الغار فاعرفوا لہ‘ ذلک، فو کنت متخذا خلیلا لاتخذت أبا بکر ۔

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے راویت ہے:

رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا۔

ابوبکر میرا یار غار اور ساتھی ہے تو اسے اس بات سے آگاہ کردو، پس اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔اسے عبداللہ بن الامام احمد نے زوائد مسند میں اور دیلمی وغیرہما نے روایت کیا۔

تخریج: صحیح بخاری :مناقب :رقم : 3383۔ مسلم ، فضائل الصحابۃ : رقم :4390۔

(حدیث نمبر:11)

عن ابن مسعود رضی اﷲ عنہ‘ أن رسول اﷲ ﷺ قال: أبو بکر و عمر منی کعینی فی رأسی، وعثمان بن عفان منی کلسانی فی فمی، وعلی بن أبی طالب منی کروحی فی جسدی ۔

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہا نے ارشاد فرمایا۔

ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما )میرے لیے ایسے ہیں جیسے چہرے میں آنکھیں اور عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) میرے لیے ایسے ہے جیسے منہ میں زبان اور علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) میرے لیے ایسے ہے جیسے میرے جسم میں میری روح ہے۔ اسے ابن النجار نے نقل کیا ہے۔تخریج: کنز العمال: رقم؛ 33062۔

(حدیث نمبر: 12)

عن أبن عباس أن رسول اﷲ ﷺ قال: أبو بکر و عمر منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ ۔

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہ ا کا ارشاد ہے۔

ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما)میرے لیے ایسے ہیں جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام )کیلئے حضرت ہارون ۔(علیہ السلام)

اسے خطیب وغیرہ نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے۔

تخریج: ابن عساکر : 206/30، کنز العمال :رقم: 32682۔ ابن عدی :142/6.ذخیرۃ الحفاظ: 2126/4۔

(حدیث نمبر: 13)

عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا أن رسول اﷲ ﷺ قال: أبو بکر منی و أنا منہ‘ وأبو بکر أخی فی الدنیا والآخرۃ ۔

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

ابوبکرمجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور ابوبکر (رضی اللہ عنہ) دنیا و آخرت میں میرا بھائی ہے۔ (اسے دیلمی نے روایت کیا)۔

تخریج: الفردوس بمأثور الخطاب :۱؍۴۳۷:رقم: ۱۷۸۰۔کنز العمال : رقم : ۳۲۵۵۰۔

(حدیث نمبر 14)

عن أبی ھریرۃ أن رسول اﷲ ﷺ قال: أبو بکر و عمر خیر أھل السموات وأھل الأرض ، وخیر من بقی إلی یوم القیامۃ ۔

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) زمین و آسمان والوں سے بہتر ہیں۔ اور قیامت تک آنے والے ہر شخص سے بہتر ہیں۔(اسے دیلمی نے روایت کیا)۔

تخریج: مسند الفردوس : 438/1، رقم ؛1783۔ ابن عساکر: 182/3۔کنز العمال : رقم: 32686۔

(حدیث نمبر 15)

عن عائشۃ أن رسول اﷲ ﷺ قال: أبو بکر عتیق اﷲ من النار ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اللہ نے جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔ (اسے ابو نعیم نے معرفۃ الصحابۃ میں نقل کیا ہے۔)

تخریج: ترمذی، مناقب ابی بکرو عمر: رقم 3612۔ مستدرک حاکم : 64/2 رقم: 4453۔

(حدیث نمبر 16)

عن أنس أن رسول اﷲ ﷺ قال: أبو بکر وزیر یقوم مقامی، وعمر ینطق بلسانی، وأنا من عثمان وعثمان منی، کأنی بک یا أبا بکر تشفع لأمتی ۔

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

ابوبکر میرا وزیر اور قائم مقام ہے اور عمر میری زبان سے بولتا ہے اور عثمان میرا ہے ،میں عثمان کا ہوں۔

اسے ابن النجار نے روایت کیا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس صفت سے یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان محدثین میں سے ہیں جن کی زبانوں سے فرشتے کلام کرتے ہیں)

تخریج :الفردوس للدیلمی؛ 437/1 رقم : 1782۔ کنز العمال : رقم 33063، فضائل الخلفاء الراشدین للاصفہانی؛ رقم 233عن جابر۔ الضعفاء الکبیر للعقیلی۔

(حدیث نمبر 17)

عن أبی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ‘ أن رسول اﷲ ﷺ قال: أتانی جبریل فأخذ بیدی فأر انی باب الجنۃ الذی یدخل منہ أمتی ۔ قال أبو بکر: وددت أنی کنت معک حتی أنظر الیہ، قال: أما إنک یا أبا بکر أول من یدخل الجنۃ من أمتی ۔

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فریایا:

میرے پاس جبریل آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس میں سے میری امت داخل ہوگی۔ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، حضور! کاش میں بھی آپ کے سا تھ ہوتا اور اس دروازے کو دیکھتا، آپ ا نے فرمایا۔

اے ابوبکر! تو میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا۔

(اسے ابودائود نے روایت کیا او حاکم نے دوسری سند سے اسے صحیح کہا۔)

تخریج: ابودائود فی السنۃ : رقم : 4033۔ مستدرک حاکم : 77/3 رقم: 4494۔

(حدیث نمبر 18)

عن علی أن رسول اﷲ ﷺ قال: أتانی جبریل فقلت: من یھاجر معی قال: أبو بکر، وھو یلی أمتک بعدک، وھو أفضل أمتک ۔

ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فریایا:

میرے پاس جبریل آئے تو میں نے پوچھا: میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا؟ ا نہوں نے کہا: ابوبکر، اور وہی آپ کے بعد آپ کی امت سے ملے گا اور وہی آپ کی امت میں سب سے افضل ہے۔ (دیلمی)

تخریج : مسند الفردوس: 404/1، رقم: ۱۶۳۱، کنز العمال : رقم 32588۔

(حدیث نمبر 19)

عن ابن عمر أن رسول اﷲ ﷺ قال: أتانی جبریل فقال لی: یامحمد إن اﷲ یأمرک أن تستشیر ابا بکر ۔

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

جبریل میرے پاس آئے اور مجھے کہا، اے محمد( ا )! بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو ابوبکر صدیق سے مشاورت کا حکم دیتا ہے۔

اسے تمام نے روایت کیا۔

تخریج : ابن عساکر: 129/30 عن عبداللہ بن عمرو بن عاص۔فوائد تمام: عن ابن عمرو بن عاص، رقم :137۔

(حدیث نمبر 20)

عن أبی الدردا قال: رأی النبی ﷺ رجل مشی أمام أبابکر فقال لہ‘: أتمشی أمام من ھو خیر منک ’’إن أبابکر خیر من طلعت علیہ الشمس وغربت‘‘ ۔

وأخرج الحدیث أبو نعیم فی فضائل الصحابۃ ولفظۃ ’’ أتمشی أمام من ھو خیر منک ألم تعلم أن الشمس لم تشرق أو تغب علی أحد خیر من أبی بکر، ما طلعت الشمس ولا غربت بعد النبیین والمرسلین علی أحد افضل من أبی بکر‘‘ ۔

ترجمہ: حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں کہا۔

نبی اکرم ا نے ایک شخص کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آگے چلتے دیکھا تو اسے فرمایا!

کیا تم اپنے سے بہتر کے آگے چلتے ہو؟ بے شک ابوبکر ہر اس شخص سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔

ابونعیم نے فضائل الصحابۃ میں اس حدیث کو ان الفاظ سے روایت کیا ہے۔

کیا تم اپنے سے بہتر کے آگے چلتے ہو۔ کیا تم جانتے نہیں کہ سورج کبھی ابوبکر صدیق سے بہتر شخص پر نہیں چمکا اور نہ اس سے بہتر شخص پر کبھی غروب ہوا ہے، انبیاء و مرسلین (علیہم السلام) کے بعد سورج کبھی ابوبکر صدیق سے بہتر شخص پر نہ طلوع ہوا ہے نہ غروب۔

تخریج: فضائل الصحابۃ: ۱؍۱۵۲ رقم: 135۔ ابن عساکر، 208/3، کتاب المجروحین۔ 135/1۔ السنۃ لابن ابی عاصم: رقم 1023، أمالی ابن بشران:رقم 589۔

(حدیث نمبر21)

عن أبی أمامۃ أن رسول اﷲ ﷺ قال: أتیت بکفۃ میزان فوضعت فیھا وجیء بأمتی فوضعت فی الکفۃ الاخری، فرجحت بأمتی ۔ ثم رفعت وجیء بأبی بکر فوضع فی کفۃ المیزان فرجح بأمتی ۔ ثم رفع أبوبکر وجیء بعمر بن الخطاب فوضع فی کفہ المیزان فرجح بأمتی، ثم رفع المیزان إلی السماء وأنا أنظر إلیہ ۔

ترجمہ: حضرت ابو امامۃ الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فریایا:

میرے پاس ترازو کا ایک پلڑا لایا گیا اور مجھے اس میں رکھا گیا اور پھر میری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا۔ تو میں اپنی امت پر بھاری رہا۔ پھر مجھے ہٹا کر ابوبکر کو لایا گیا اور ترازو کے پلڑے میں رکھا گیا تو وہ میری امت پر بھاری رہا۔ پھر ابوبکر کو ہٹا کر عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کو لا کر پلڑا میں رکھا گیا تو وہ بھی میری امت پر بھاری رہا۔ پھر میزان (ترازو) کو آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا اور میں اسے دیکھتا رہا۔ (اسے ابو نعیم نے فضائل الصحابۃ میں روایت کیا)

تخریج: فضائل الصحابۃ لابی نعیم: 206/1 رقم:228۔ 194 عن ابی بکرۃ فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل: رقم 197۔ کنز العمال : رقم: 32688، شرح مذاہب اہل السنۃ : لابن شاہین: رقم : 153۔

(حدیث نمبر22)

عن بن عمرو بن العاص أن رسول اﷲ ﷺ قال: أحب النساء إلی عائشۃ، ومن الرجال أبوھا ۔

ترجمہ:حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

مجھے عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب عائشہ ہے اور مردوں میں سے اس کا باپ۔ (اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا۔)

تخریج: بخاری فی المناقب و المغازی: رقم: 3389، صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ ، رقم: 4396۔

(حدیث نمبر 23)

عن ابن عمر أن رسول اﷲ ﷺ قال: أحشر أنا و أبو بکر و عمر یوم القیامۃ ’’ھذا‘‘ وأخرج السبابۃ والوسطی والبنصر ۔ ونحن مشرفون علی الناس۔

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فریایا:

میں ابوبکر اور عمر اس طرح محشر کی طرف نکلیں گے (اور آپ ا نے چھنگلی کے علاوہ تینوں انگلیوں کو باہر نکالا) اور ہم لوگوں میں نمایاں ہوں گے۔ (اسے حکیم ترمذی نے روایت کیا)۔

تخریج : نوادرالاصول، 166/1۔ ابن عساکر214/30، کنز العمال : رقم : 32697۔

(حدیث نمبر24)

عنہ أن رسول اﷲ ﷺ قال: أحشر یوم القیامۃ بین أبی بکر و عمر حتی أفق بین الحرمین، فیأتینی أھل المدینۃ وأھل مکۃ ۔

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فریایا:

قیامت کے دن میں ابوبکر و عمر (رضی اللہ عنہما) کے مابین اٹھوں گا، حتی کہ میں حرمین کے درمیان ٹھہروں گا اور اہل مدینہ و اہل مکہ مجھ سے آ ملیں گے۔ (اسے ابن عساکر نے روایت کیا۔)

تخریج: الجامع الترمذی، مناقب عمر: رقم :3625۔ کنز العمال: رقم 32698، میزان الاعتدال: 389/2۔

(حدیث نمبر 25)

عن عائشۃ أن رسول اﷲ ﷺ قال: ادعی أبابکر أباک و أخاک حتی أکتب کتاب، فإنی أخاف أن یتمنی متمن ویقل قائل: أنا أولی، ویأبی اﷲ والمؤمنونإلا أبا بکر ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

اے عائشہ ! اپنے باپ ابوبکر اور بھائی (عبدالرحمن) کو بلائو تاکہ میں تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کہنے والا کہے، کہ میں (خلافت کا) زیادہ حق دار ہوں اور اللہ اور ایمان والے سوائے ابوبکر کے کسی پر راضی نہ ہوں۔ (اسے احمد اور مسلم نے روایت کیا)۔

تخریج: مسلم، فضائل الصحابۃ : فضائل ابی ابکر: رقم : 4399۔ احمد، باقی مسند الانصار: رقم : 23961۔

(حدیث نمبر26)

عن حذیفۃ أن رسول اﷲ ﷺ قال: اقتدو بالذین من بعدی: أبی بکر و عمر ۔

ترجمہ : حضرت حذیفۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

میرے بعد ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) کی پیروی کر نا۔

تخریج: ترمذی فی مناقب ابی ابکر و عمر : رقم : 3595۔ ترمذی نے اسے حسن کہا ہے)ابن ماجہ: مقدمہ: رقم : 94

(حدیث نمبر27)

عن أبی الدرداء أن رسول اﷲ ﷺ قال: اقتدو بالذین من بعدی ، أبی بکر و عمر، فإنھما حبل اﷲ الممدود من تمسک بھما فقد تمسک بالعروۃ الوثقی التی لا انفصام لھا ۔

ترجمہ: حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

میرے بعد ان لوگوں یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرنا، یہ دونوں اللہ کی لٹکتی ہوئی رسی ہیں۔ جس نے ان دونوں (کادامن) تھام لیا تو یقینا اس نے (اللہ کی طرف) نہ ٹوٹنے والی مضبوط رسی کو تھام لیا۔(اسے طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا)۔

تخریج : مجمع الذاوئد: 53/9۔ ابن عساکر 229/30۔کنز العمال : رقم32649

(حدیث نمبر28)

عن سھل بن أبی حثمۃ أن رسول اﷲ ﷺ قال: إذا أنا مت و أبوبکر و عمر، فإن استطعت أن تموت فمت ۔

ترجمہ: حضرت سہل بن أبی حثمۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

جب میں، ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) وفات پا جائیں، تو اگر تم مر سکو تو مرجانا۔ (اسے ابونعیم نے حلیہ میں اور ابن عساکر نے روایت کیا)۔

تخریج : ابونعیم۔ حلیۃالاولیاء۔ فضائل الصحابۃ 225/1رقم: 288، کنز العمال : رقم 33125۔ المجروحین: 345/1رقم: 443۔ ابن عدی:30/3۔

(حدیث نمبر 29)

عن سمرۃ أن رسول اﷲ ﷺ قال: أمرت أن أولی الرؤیا ابا بکر ۔اخرجہ‘ الدیلمی۔ وکان أعبر أصحاب رسول اﷲ ﷺ للرؤیا الصدیق کرم اﷲ وجھہ ورضی عنہ ۔

ترجمہ: حضرت سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خواب کی تعبیر ابوبکر سے لوں۔

اسے دیلمی نے روایت کیا۔ صحابہ کرام میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وکرّم اللہ وجہہ سب سے بڑھ کر خواب کی تعبیر کے عالم تھے۔

تخریج: ابن عساکر : 218/30۔کنز العمال:۳۲۵۵۲۔

(حدیث نمبر30)

عن جابر أن رسول اﷲ ﷺ قال: إن اﷲ إختار أصحابی علی جمیع العالمین سوی النبیین والمرسلین، واختار لی من أصحابی أربعۃ فجعلھم خیر أصحابی وفی کل أصحابی خیر: أبوبکر و عمر و عثمان وعلی ۔ واختار أمتی علی سائر الأمم فبعثنی فی خیر قرن ثم الثانی ثم الثالث تتری ثم الرابع فرادی۔

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے صحابہ کو سوائے انبیاء و مرسلین کے تمام جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے اور میرے صحابہ میں سے چار کو چن کر باقی اصحاب سے بہتر بنایا اور میرے سب صحابہ میں بھلائی ہے۔ (یہ چار) ابوبکر ، عمر، عثمان اور علی ہیں۔ اور میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت عطا فرمائی اور مجھے بہترین زمانے میں مبعوث فرمایا، پھر دوسرا پھر تیسرا، شبہ ہے کہ پھر چوتھا فرمایا یانہیں۔(اسے ابن عساکر ،ابونعیم اور خطیب نے روایت کیا اور کہا یہ غریب ہے۔ )

تخریج: المجروحین535/1۔ تاریخ بغداد: 381/3۔ابن عساکر : ۳۰ؔ؍۲۰۷۔ الاحکام الصغریٰ: رقم905قال (صحیح الاسناد)۔

(حدیث نمبر 31)

عن ابن عمر أن رسول اﷲ ﷺ قال: إن اﷲ أمرنی بحب أربعۃ من أصحابی وقال أحبھم: أبوبکروعمروعثمان و علی ۔

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فریایا:

بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے صحابہ میں سے چار کے ساتھ خاص محبت کاحکم دیا ہے، اور فرمایا میں ابوبکر، عمر، عثمان اور علی (رضی اللہ عنہم) سے محبت کرتا ہوں۔ (اسے ابن عساکر اور دیگر نے روایت کیا)۔

تخریج: ذخیرۃ الحفاظ؛ 571/1۔ کنز العمال: رقم:33102۔

نوٹ: علامہ ضیاء الدین المقدسی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:’’ابوبکر ، عمر، عثمان اور علی (رضی اللہ عنہم) ان چاروں کی محبت سوائے قلب مومن کے کہیں اور جمع نہیں ہوتی۔

(النہی عن سبّ الاصحاب۔ للمقدسی)۔

(حدیث نمبر32)

عن ابن عباس أن رسول اﷲ ﷺ قال: إن اﷲ أیدنی بأربعۃ وزراء: اثنین من أھل السماء جبریل و میکائیل، و اثنین من أھل الارض أبی بکر و عمر ۔

ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فریایا:

بے شک اللہ تعالیٰ نے چار وزیروں کے ذریعے میری مدد فرمائی ہے، ان میں سے دو آسمان والے، جبریل و میکائیل ہیں اور دو اہل زمین میں سے ابوبکر و عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں۔ (اسے خطیب، ابن عساکر اور طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا)۔

تخریج: ابن عساکر !120/30۔ فضائل الصحابۃلأحمد: رقم : 105، مجمع الذوائد:51/9۔ کنز العمال: رقم 32658۔

(حدیث نمبر 33)

عن أبی سعید أن رسول اﷲ ﷺ قال: إن اﷲ خیر عبدا بین الدنیا وبین ما عندہ ، فاختار ذلک العبد ما عنداﷲ ’’فبکی أبوبکر ، فقال‘‘ یا أبا بکر لا تبک إن أمنّ الناس علی فی صحبتہ ومالہ أبوبکر، ولو کنت متخذا خلیلا غیر ربی لا تخذت أبا بکر خلیلا ولکن إخوۃ الإسلام ومودتہ، لایبقین فی المسجد باب إلاسد، ألاباب أبی بکر۔

ترجمہ : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک بندے کو دنیاو آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا تو اس بندے نے جو کچھ اللہ کے پاس ہے( یعنی آخرت) اسے اختیار کیا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے تو آپ ا نے ارشاد فرمایا اے ابوبکر ’’رومت بے شک لوگوں میں سے اپنے مال اور محبت کے ساتھ مجھ پر سب سے زیادہ احسانات کرنے والا ابوبکر ہے اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا۔ لیکن (ہمارے درمیان) اسلامی محبت اور بھائی چارہ ہے مسجد نبوی شریف کی طرف کھلنے والا ہر دروازہ بند کر دیا جائے سوائے ابوبکر کے دروازہ کے۔ (اسے مسلم وغیرہ نے روایت کیا)

تخریج: (بخاری فی المناقب! رقم: 3381، مسلم فی الفضائل ! رقم:۴۳۹۰)۔

(حدیث نمبر 34)

عن معاذ أن رسول اﷲ ﷺ قال: إن اﷲ تعالی یکرہ فی السماء أن یخطا أبو بکر الصدیق ۔

ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فریایا:

بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں میں اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوئی غلطی کریں۔ (اسے حارث بن اسامہ نے روایت کیا ہے)۔

تخریج: (مسند الحارث ، کتاب المناقب باب: فضل ابی ابکر الصدیق: رقم: 946 مجمع الذوائد؛ ۹؍۴۶) ابن عساکر۔ 130/30۔ کنز العمال : رقم :۳۲۶۳۱۔

(حدیث نمبر 35)

عن أنس أن رسول اﷲ ﷺ قال: إنی لأرجو لأمتی بحب أبی بکر و عمر کما أرجولھم بقول لا إلٰہ إلا اﷲ ۔

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

میں اپنی امت سے ابوبکر و عمر (رضی اللہ عنہما) کے ساتھ محبت رکھنے کی ایسے امید رکھتا ہوں جیسیلاالہ الااللہ کہنے کی امید رکھتا ہوں۔(اسے الدیلمی نے روایت کیا ہے)۔

تخریج : مسند الفردوس ، للدّیلمی، 1/59 رقم؛ 168۔ کنز العمال رقم: 32702۔

(حدیث نمبر 36)

عن سمرۃ أن رسول اﷲ ﷺ قال: إن أبا بکر یؤول الرؤیا، وإن الرؤیا الصالحۃ حظ من النبوۃ ۔

ترجمہ : حضرت سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

بلاشبہ ابوبکر خواب کی تعبیر جاننے والا ہے اور بے شک اچھے خواب نبوت کا جزء ہیں۔ (اسے طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا)

تخریج: مجمع الذوائد : 173/7۔ کنزالعمال : رقم 32552

(حدیث نمبر 37)

عن أنس رضی اﷲ عنہ‘ إن رسول اﷲ ﷺ قال: أرأف أمتی أبوبکر، وأشدّھم فی دین اﷲ عمر، وأصدقھم حیاء عثمان، وأقضاھم علی بن أبی طالب، وأفرضھم زید بن ثابت، وأقرأھم لکتاب اﷲ أبی بن کعب، وأعلمھم بالحلال والحرام معاذ بن جبل، ألا وإن لکل أمۃامین وأمین ھذہ الأمۃ أبو عبیدۃ بن الجراح ۔

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

میری امت میں سب سے بڑھ کر نرم مزاج ابوبکر ہیں۔ اور دینی امور میں سب سے بڑھ کر سخت عمر ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر سچی حیا والا عثمان ہے اور سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی ابی طالب ہیں اور فرائض کو سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں۔ اور قرآن پاک کے سب سے بڑے قاری اُبی ابن کعب ہیں۔ اور حلال و حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل ہیں۔ سن لو اور بے شک ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ ابن الجراح ہے۔ (اسے ابن عساکر وغیرہ نے روایت کیا)

تخریج: ابن عساکر :456/25۔ مجمع الذوائد ؛ رقم : 91941۔

(حدیث نمبر :38)

عن ابن مسعود أن رسول اﷲ ﷺ قال: إن لکل نبی خاصۃ من أصحابہ، وإن خاصتی من أصحابی أبوبکر و عمر۔

ترجمہ : حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:

بیشک ہر نبی کے اصحاب میں سے کچھ لوگ سرکردہ ہوتے ہیںاوربے شک میرے اصحاب میں سے سرکردہ ابوبکر و عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں

(اسے طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا)۔

تخریج: مجمع الذوائد: 52/9۔ کنز العمال رقم: 32659۔ المعجم الکبیر : 77/10 رقم: 10009۔ لسان المیزان: 365/3رقم: 1463۔ الفردوس للدیلمی:334/3رقم : 5005۔

(حدیث نمبر: 39)

عن ابن عمر أن رسول اﷲ ﷺ قال: أنا أول من تنشق عنہ الأرض، ثم ابو بکر و عمر، فنحشر فنذھب إلی البقیع فیحشرون معی ونبعث بین الحرمین ۔

ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہیـ:

بے شک رسول اللہ ا نے ارشاد فریایا:

سب سے پہلے اپنی قبر سے میں اٹھوں گا پھر ابوبکر اور پھر عمر ۔ پھر ہم اکٹھے جنت البقیع کی طرف جائیں گے اور اہل بقیع ہمارے ساتھ شامل ہوں گے، پھر میں اہل مکہ کا انتظار کروں گا اور وہ مجھ سے آملیں گے اور پھر ہم حرمین کے مابین اٹھائے جائیں گے۔ (اسے ترمذی نے روایت کیا اور کہا یہ حسن غریب ہے)

تخریج: (الجامع الترمذی: 194/10 رقم: 3847)۔

(حدیث نمبر 40)

عن أنس أن رسول اﷲ ﷺ قال لحسان: ھل قلت فی أبی بکر شیئا قال: نعم، قال: قل وأنا أسمع، فقلت:

وَثَانِی اثنین فی الغار المنیف وَقَدْ

طَافَ العُدُوّبِہٖ اِذْ صَاعِدَ الجَبَلَا

وَکَانَ حِبّ رسُوْلِ اللّٰہ قد علموا

مِنَ البَرِیَّۃِ لَم ْیَعدل بِہٖ الرَّجُلَا

ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:بے شک رسول اللہ ا نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا، کیا تم نے ابوبکر کے بارے میں کوئی شعر کہا ہے انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ا نے فرمایا: پڑھو میں سنتا ہوں۔حضرت حسّا ن نے کہا :

مفہوم : اور جب دشمن ان کی تلاش میں پہاڑ پر چڑھے جبکہ وہ محاصرہ کئے ہوئے تھے اور ابوبکر غار (ثور) میں دو میں سے ایک تھے اور آپ رسول اللہ ا کے محبوب تھے اور تمام صحابہ جانتے تھے کہ اس خصوصیت میں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے۔

پس رسول اللہ ا مسکرائے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک دکھائی دینے لگے پھر فرمایا اے حسان! تم نے سچ کہا وہ ایسا ہی ہے جیسا تم نے کہا ہے۔ (اسے ابن عدی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے)۔

تخریج : (مستدرک حاکم عن حبیب ابن ابی حبیب ، 67/2:رقم:4422)۔

جان لو اس باب میں کثیر احادیث آئی ہیں لیکن یہ مختصر رسالہ اتنے ہی پر اکتفا کرنے والے کے لیے ہے ۔ہرقسم کی حمد اول و آخر ، ظاہرو باطن، مالک الملک کے لیے ہے۔

و صلیّ اللہ علیٰ سیدنا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ وازواجہ وذریتہ وسلم تسلیما کثیرا

دائما ابدا سرمدا الیٰ یوم الدین۔وحسبنا اللہ ثم الحمدللہ والصلاۃ علیٰ رسولہ۔