بسم اﷲ الرحمن الرحیم صلی اﷲ علی محمد وآلہٖ وسلم
صفت ایمان مجمل
اٰ مَنْتُ بِا ﷲِکَمَا ھُوَ بِاَسْمَآئِہٖ وَصِفَا تِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحکَامِہٖ اِقْرَارٌ م بِالّلِسَانِ وَتَصْدِ یْقٌ م بِالْقَلْبِ۔
''میں ایمان لایا اﷲ پر اُس کے ناموں کے حوالے سے اور اس کی صفتوں کے حوالے سے اور قبول کئے اس کے تمام احکام، اقرار کیا زبان سے اور سچا جانا دِل سے''۔
ایمانِ مفصّل
اٰ مَنْتُ بِا ﷲِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْقَدِرِخَیْرِہٖ وَ شَرِّہٖ مِنَ اﷲِ تَعَالیٰ وَالْبَعْثِ بَعْدَالْمَوْتِ۔
''میں ایمان لایا اﷲ پر اور فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی تقدیر پر اور بُری پر کہ وہ اﷲ کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعد اُٹھنے پر''۔
اوّل کلمہ طیّب
لَآاِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ۔
’’نہیں کوئی معبود سوائے خُدا کے محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) خُدا کے رسول ہیں‘‘ ۔
دوم کلمہ شہادت
اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں سوا خدا کے اور وہ ایک ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم)خدا کے بندے اور رسول ہیں‘‘۔
سوم کلمہ تمجید
سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِا ﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ۔
’’پاک ہے اﷲ اور تمام تعریفیں اﷲ کے لئے اور کوئی معبود نہیں سوا خدا کے اور اﷲ سب سے بڑا ہے اور نہیں طاقت والا سوا اﷲ کے وہی عالیشان وعظمت والا ہے۔
چہارم کلمہ توحید
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًا ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَعَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ۔
’’کوئی معبودنہیں سوا خدا کے اور وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تمام تعریف، وہ زندہ کرتااور مارتا ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہے جس کو موت نہیں، عظیم عظمت وبزرگی والا ہے اسی کے ہاتھ میں خیروبرکت اور وہ ہرچیز پر قادر ہے‘‘۔
پانچواں کلمہ استغفار
اَسْتَغْفِرُاﷲَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہٗ عَمَدًا اَوْخَطَائً سِرًّا اَوْ عَلَانِیَۃً وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ ٓ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ لَآاَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ وَسَتَّارُالْعُیُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظَیْمِ۔
’’ میں معافی چاہتا ہوں اپنے ربّ سے ہر گناہ کی جو میں نے جان بوجھ کر یا بھول کر پوشیدہ یا کھلم کھلا کیا اور میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوںاس گناہ سے جو مجھے معلوم ہے اور اس گناہ سے جو مجھے معلوم نہیں ہے بے شک غیب کی باتیں تجھے ہی معلوم ہیں اور تو عیبوں کا چھُپانے والا ہے اور گناہوں کا بخشنے والا اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کی قوّت اﷲ ہی کی طرف سے ہے جو عالی شان اور عظمت والا ہے‘‘۔
چھٹا کلمہ رَدِّ کفر
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا وَّ اَنَا اَعْلَمُ بِہٖ وَاسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا اَعْلَمُ بِہٖ تُبْتُ عَنْہُ وَتَبَرَّأتُ مِنَ الْکُفْرِ والشِّرْکِ وَالْکِذْبِ وَالْغِیْبَۃِ وَالْبِدْعَۃِ وَالنَّمِیْمَۃِ وَالْفَوَاحِشِ وَالْبُھْتَانِ وَالْمَعَاصِیْ کُلِّھَا وَاَسْلَمْتُ وَاَقُوْلُ لَا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّdٌرَّسُوْل ااﷲِ (ﷺ)
’’الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ کسی چیز کو تیرا شریک بنائوں اور مجھے اس کا علم ہو اور معافی مانگتا ہوں تجھ سے اس پر جس کا مجھے علم نہیں ، میں نے اس سے توبہ کی اور بیزار ہوا کفر سے اور شرک سے اور جھوٹ سے اور غیبت اور بدعت سے اور چغلی سے اور بے حیائی کے کاموں سے اور تہمت لگانے سے اور باقی ہر قسم کی نافرمانیوں سے اور میں اسلام لا کر یہی کہتا ہوں کہ کوئی معبود نہیںسوا خدا کے محمد(ﷺ) اس کے رسول ہیں‘‘۔
ترکیب نماز
| نمبر | افعال | فرض/واجب/سنت |
|---|---|---|
| ۱ | نیّت | فرض |
| ۲ | تکبیر تحریمہ کہنا | فرض |
| ۳ | تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھ کانوں تک اُٹھانا | سُنت |
| ۴ | ناف کے ذرا نیچے ہاتھ باندھنا (عورتوں کو سینے پر ہاتھ باندھنے چاہئیں) | سنت |
| ۵ | سبحانک اللّٰھم آخر تک پڑھنا | سنت |
| ۶ | اعوذ باﷲ آخر تک پڑھنا | سنت |
| ۷ | بسم اﷲ آخر تک پڑھنا | سنت |
| ۸ | قیام (کھڑے ہونا) | فرض |
| ۹ | سورۂ فاتحہ پڑھنا | واجب (قرآن کی مطلق قرأۃ فرض ہے) |
| ۱۰ | کوئی سورہ سورۂ فاتحہ کے بعد پڑھنا | واجب (قرآن کی مطلق قرأۃ فرض ہے) |
| ۱۱ | اﷲ اکبر کہہ کر رکوع میں جانا | سنت |
| ۱۲ | رکوع کرنا | فرض |
| ۱۳ | رکوع میں کم از کم تین دفعہ تسبیح کہنا | سنت |
| ۱۴ | رکوع میں گھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑنا | سنت |
| ۱۵ | سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ کہہ کر رکوع سے اُٹھنا | سنت |
| ۱۶ | سیدھا کھڑا ہونا | واجب |
| ۱۷ | سجدے کو جاتے ہوئے اﷲ اکبر کہنا | سنت |
| ۱۸ | سجدہ کرنا | فرض |
| ۱۹ | سجدے میں کم از کم تین تسبیح پڑھنا | سنت |
| ۲۰ | دو سجدوں کے درمیان (ایک تسبیح کے قدر ٹھہرنا) | واجب |
| ۲۱ | پہلا قعدہ | واجب |
| ۲۲ | التحیات آخر تک پڑھنا | سُنت |
| ۲۳ | دوسرا قعدہ | فرض |
| ۲۴ | اس میں التحیات آخرتک پڑھنا | واجب |
| ۲۵ | دونوں قعدوں میں بائیں پائوں پر بیٹھنا اور دائیں پائوں کو کھڑا رکھنا (عورتوں کو دونوں پائوں ایک طرف نکال کر سُرین پر بیٹھنا چاہئے) | سُنت |
| ۲۶ | دُرود شریف پڑھنا | سنت |
| ۲۷ | دُرود شریف کے بعد دعائوں کا پڑھنا | سنت |
| ۲۸ | اپنے ارادے سے نماز ختم کرنا | واجب |
| ۲۹ | السلام علیکم ورحمۃ اﷲ کہہ کر ختم کرنا | واجب |
| ۳۰ | سلام کے وقت دونوں طرف منہ پھیرنا | سُنت |
| ۳۱ | سلام میں فرشتوں اور مقتدیوں کی نیت کرنا | سُنت |
تعریف
فرض۔ اگر رہ جائے تو نماز نہیں ہوتی۔
واجب۔ اگر رہ جائے تو سجدہ سہو کرنا واجب ہے، اور اگر چھوڑ دیا جائے تو فرض نماز نہایت نقص کے ساتھ ادا ہوجاتی ہے، لیکن دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔
سُنت۔ کے رہ جانے سے نہ تو سجدہ سہو لازم آتا ہے اور نہ نماز فاسد ہوتی ہے، مگر قصداً چھوڑنا بُرا ہے۔
استنجا کا بیان
سوال : استنجا کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟
جواب : پاخانہ پیشاب کرنے والے کو چاہئے کہ نرم جگہ تلاش کرے تاکہ چھینٹ سے بدن اور کپڑے محفوظ رہیں، پیشاب وپاخانہ کے واسطے پردے کی جگہ ہو اورجب رفع حاجت کی غرض سے بیٹھے تب کپڑا اُٹھائے، قبلہ کی طرف مُنہ نہ کرے اور نہ پیٹھ۔ اگر ہاتھ میں انگوٹھی ہو جس میں اﷲ یا رسول کا نام یا قرآن کے کلمات لکھے ہوں تو اس وقت اُتار کر رکھ دے، اور اگر ایسا نہ کرسکے تو جس حصے پر یہ کلمات مبارکہ ہوں تو ان کو انگلی کے اندر کی طرف کردے جب کہ پردے میں ہوں ورنہ اُتار دے۔
رفع حاجت کی جگہ پہنچنے سے پہلے یہ دُعا پڑھ لے اور بایاں پائوں پاخانے یا پیشاب خانے میں داخل کرے۔
اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَ الْخَبَائِثِ۔
ترجمہ۔ ’’اے اﷲ میں تیری پناہ مانگتا ہوں پلیدی اور شیاطین سے‘‘۔
اور جب باہر نکلے تو پہلے دایاں پائوں نکالے اور باہر آکر یہ دُعا پڑھے :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذٰی وَعَافَانِیْ۔
ترجمہ۔ ’’ تمام تعریفیں اﷲ کے لئے جس نے اذیت یا پاخانے کی چیز مجھ سے دُور کی اور مجھے عافیت بخشی‘‘۔
اگر پیشاب یا پاخانے کے وقت چھینک آئے تو الحمد ﷲ نہ پڑھے اور نہ کسی دوسرے کی چھینک کا جواب دے، نہ کسی کو سلام کرے نہ سلام کا جواب دے ، نہ کسی قسم کی تسبیح پڑھے ، نہ اذان کا جواب دے، نہ تھوک کھنگھار نہ ناک صاف کرے کیونکہ اس سے نسیان(بھول) وغفلت پیدا ہوتی ہے، نہ آسمان کی طرف نظر کرے، نہ زیادہ دیر تک بیٹھے، نہ بار بار شرم گاہ کی طرف دیکھے۔
سوال۔ جب پیشاب وپاخانہ سے فراغت حاصل کرے تو پاکی کس طرح کرے؟
جواب۔ بہتر ومسنون طریقہ یہ ہے کہ مقامِ پاخانہ کو کلوخ(مٹی کے ڈھیلا) سے صاف کرے، اس کے بعد دونوں مقامِ ستر پانی سے دھوئے، اس طرح کہ بائیں ہاتھ کی درمیانی اور اس کے بغل کی اُنگلی سے اچھی طرح دھوئے اور اگر دونوں انگلیوں سے کام نہ چلے تو ان دونوں کے ساتھ چھوٹی انگلی کو بھی ملائے، انگوٹھا اور اس کی بغل والی اُنگلی سے کام نہ لے ، مگر بوقت مجبوری، افضل یہ ہے کہ ڈھیلا اور پانی دونوں چیزوں سے پاکی حاصل کرے، بلکہ اس زمانہ میں دونوں چیزوں کا استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔
سوال۔ کِن کِن جگہوں پر پیشاب وپاخانہ کرنا منع ہے ؟
جواب۔ مسجد اور عید گاہ آس پاس، قبرستان میں، پانی کے اندر(جاری ہو یا غیر جاری)، راستے میں، سوراخ میں، غسل ووضو کی جگہ میں، پھل دار درخت کے نیچے، اس درخت کے نیچے جس کے سایے میں لوگ بیٹھتے ہوں، اور سبز گھاس پر، نہر یا تالاب کے گھاٹ پر۔
سوال۔ پیشاب اور پاخانہ کے وقت کیا کیا چیزیں مکروہ ہیں ؟
جواب۔ ننگے سر رہنا، کھڑے ہو کر یا لیٹ کر بغیر کسی عذر کے پیشاب یا پاخانہ کرنا، بہت دیر تک بیٹھنا، داہنے ہاتھ سے استنجا کرنا، بغیر ضرورت پیشاب یا پاخانہ یا شرمگاہ کو دیکھنا، قبلہ کی جانب مُنہ یا پیٹھ کرنا، چاند یا سورج کی طرف رُخ کرنا، آسمان کی جانب نگاہ اُٹھا کر دیکھنا، دائیں بائیں بار بار دیکھنا، تھوک پھینکنا، ناک صاف کرنا، نیچے بیٹھ کر اوپر کی طرف دیکھنا۔
وضو کا بیان
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاۃِ فاغْسِلُواْ وُجُوہَکُمْ وَأَیْْد ِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْن۔(سورۃ المائدہ، آیت۶)
ترجمہ۔ اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لئے اُٹھو تو اپنے مونہوں کو دھوئو اور اپنے ہاتھوں کو بھی کہنیوں تک اور اپنے سروں کو مسح کرو اور پائوں دھوئو ٹخنوں تک ۔
نماز کے لئے وضو ضروری ہے بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی۔
وضو کا طریقہ
پہلے پاکی حاصل کرنے اور ثواب پانے کی نیت کرے، اور بسم اﷲ پڑھ کر تین بار دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھوئے، پھر تین بار کلی کرے اور مسواک کرے، پھر تین بار ناک میں پانی چڑھائے اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرے، پھر تین بار منہ دھوئے کہ پیشانی کے بالوں سے لے کر تھوڑی کے نیچے تک اور دونوں کانوں کی لَو تک کوئی جگہ خشک نہ رہے، اگر داڑھی ہو تو خلال کرے، پھر تین بار دونوں بازو کہنیوں تک، پہلے دایاں، پھر بایاں دھوئے، پھر نئے پانی سے دونوں ہاتھ تر کر کے پورے سر کا ایک بار مسح کرے، اس طرح کہ پیشانی کے بالوں سے دونوں ہاتھوں کی تین اُنگلیاں’’ سوائے شہادت کی اُنگلی کے‘‘ پھیرتا ہوا گدی تک لے جائے، اور پھر گدی سے ہتھیلیاں پھیرتا ہوا واپس لائے، پھر شہادت کی اُنگلی سے کان کے اندرونی حصہ اور انگوٹھے کے پیٹ سے ان کی بیرونی سطح اور انگلیوں کی پشت سے گردن کا مسح کرے، پھر تین بار دونوں پائوں ، پہلے دایاں پھر بایاں ٹخنوں تک بائیں ہاتھ سے دھوئے اور پائوں کی اُنگلیوں کا خلال کرے۔ یہ طریقہ جو بیان ہوااس میں بعض وضو کے فرائض ، بعض سنتیں اور بعض مستحبات ہیں، جو یہ ہیں :
وضو کے فرائض
ان کے بغیر وضو نہیں ہوتا اور یہ چار ہیں :
(۱) مُنہ دھونا (۲) دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا (۳) چوتھائی سر کا مسح کرنا (۴) دونوں پائوں ٹخنوں سمیت دھونا۔
وضو کی سنتیں
پہلے نیت کرنا۔ بسم اﷲ پڑھ کر شروع کرنا۔ دونوں ہاتھ پہنچوں تک دھونا۔ کلی کرنا۔ مسواک کرنا۔ ناک میں پانی چڑھانا۔ داڑھی کا خلال کرنا۔ پورے سر کا مسح کرنا۔ کانوں کا مسح کرنا۔ پے بہ پے وضو کرنا تاکہ پہلا عضو سوکھنے نہ پائے۔ ترتیب قائم رکھنا۔ ہر عضو کو تین بار دھونا۔
وضو کے مستحبات
گردن کا مسح کرنا۔ قبلہ کی طرف منہ کرکے پاک اور اونچی جگہ بیٹھنا۔ پانی بہاتے وقت اعضاء پر ہاتھ پھیرنا۔ بغیر ضرورت دوسرے سے مدد نہ لینا۔ دنیا کی باتیں نہ کرنا۔ بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر تھوڑا پی لینا۔ وضو کے بعد کلمۂ شہادت آسمان کی طرف منہ کرکے پڑھنا اس کے بعد یہ دُعا پڑھنا۔
اَللّٰھُمَّ اجْعَلَْنِیْ مِنَ التَّوَّبِیْنَِ وَاجْعَلْنِیْ مِنْ الْمُتَطَھِرِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ۔
ترجمہ ۔ اے اﷲ مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک لوگوں اور اپنے صالحین بندوں میں سے کردے۔
اِن سے وضو ٹوٹ جا تا ہے
پاخانہ، پیشاب کے مقام سے کسی چیز کا نکلنا، خون پیپ زرد پانی کا نکل کر بدن پر بہہ جانا، منہ بھر قے کرنا، سہارا لگا کر یا لیٹ کر سوجانا، نماز میں قہقہہ مار کر ہنسنا، کسی وجہ سے بے ہوش ہوجانا، دُکھتی آنکھ سے پانی بہنا۔
چند ضروری مسا ئل
دورانِ وضو میں اگر ریح خارج ہو یا کوئی ایسی بات ہو جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو پھر نئے سرے سے وضو کرے ، پہلے دُھلے ہوئے اعضاء اَب بے دُھلے ہو گئے، بغیر وضو کے قرآن پاک کو چھونا جائز نہیں، جنبی کو سونے یا کچھ کھانے پینے سے پہلے وضو کرنا سنت ہے، خون یا پیپ نکل کر بہے نہیں تو وضو نہیں ٹوٹتا، اگر کسی زخم سے ہر وقت خون یا پیپ بہتی ہو، یا ہر وقت پیشاب کا قطرہ آتا ہو ، یا ریاح خارج ہوتے ہوں تو ایسا شخص ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرے اُس کی نماز ہو جائے گی کیوں کہ وہ معذور ہے جب تک وقت رہے گا یہ وضو باقی رہے گا۔
غسل کا بیان
وَاِنْ کَنْتُمُ جُنْبُباً فَاطَّھَّرُوا۔
اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) خوب صاف ستھرے ہوجائو۔
غسل کا مسنون طریقہ
پہلے دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھوئے پھر استنجاء کرے اور جس جگہ نجاست وغیرہ ہو اس کو دُور کرے پھر وضو کرے اور وضو کے بعد تین مرتبہ داہنے مونڈھے پر اور تین مرتبہ بائیں مونڈھے پر پھر تین مرتبہ سر پر اور سارے بدن پر پانی بہائے اور مَلے اور کسی سے کلام نہ کرے۔
غسل کے تین فرض ہیں : (۱) غَرغرہ کرنا، اس طرح کہ پانی حلق کی جڑ تک بہہ جائے ۔(۲) ناک میں پانی ڈالنا، کہ جہاں تک نرم جگہ ہے دُھل جائے۔ (۳) سارے بدن پر پانی بہانا کہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے۔
جن صورتوں میں غسل فرض ہے
(۱) منی کا شہوت سے نکلنا۔ (۲) سوتے میں احتلام ہونا۔(۳) مرد کا عورت سے مباشرت کرناخواہ منی نکلے یا نہ نکلے۔(۴) عورت کا حیض سے فارغ ہونا۔(۵) نفاس ختم ہونا یعنی بچہ پیدا ہونے کے بعد میں آنے والے خون کا بند ہونا۔
یہ غسل مسنون ہیں
جمعہ کی نماز اور دونوں عیدوں کی نماز کے لئے، احرام باندھتے وقت اور عرفہ کے دن غسل کرنا سنت ہے ۔
یہ غسل مستحب ہیں
وقوفِ عرفہ و وقوفِ مزدلفہ، حاضری حرم شریف و حاضری دربار سرکار دوعالم ﷺ وشب برأت وشبِ قدر کے لئے غسل کرنا مستحب ہے۔
چند ضروری مسائل
رمضان کی رات کو جنبی ہوا تو بہتر یہی ہے کہ طلوعِ فجر سے پہلے نہائے تاکہ روزے کا ہر حصہ جنابت سے خالی ہو ، اگر نہیں نہایا تو روزہ میں کچھ نقصان نہیں، جنبی کو مسجد میں جانا ، طواف کرنا، قرآن پاک کو چھونا اور پڑھنا حرام ہے، جنبی نے اگر درود شریف یا کوئی دُعا پڑھ لی تو کوئی حرج نہیں، مگر بہتر یہ ہے کہ وضو یا کلی کرکے پڑھے، جنبی کو اذان دینا جائز ہے، جس پر غسل واجب ہے اُس کو چاہئے کہ نہانے میں تاخیر نہ کرے کیونکہ جس گھر میں جنبی ہو اُس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے، غسل کے لئے پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرنا چاہئے۔
تیمم کا بیان
فلم تجدوا مآئً فتیمّموا صعیداً طیباً فامسحوا بوجوھکم واید یکم منہ۔
ترجمہ۔اگر پانی میسر نہ ہو یا غسل ووضو کرنے سے بیماری بڑھنے کا صحیح اندیشہ ہو تو بجائے غسل ووضو کے تیمم کا حکم ہے، غسل اور وضو دونوں کے لئے تیمم کا طریقہ ایک ہی ہے، صرف نیت میں فرق ہے کہ غسل کے تیمم کو غسل کے اور وضو کے تیمم کو وضو کے قائم مقام خیال کرے۔
تیمم کرنے کا طریقہ
پہلے نیت کرے کہ میں ناپاکی دُور کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے تیمم کرتا ہوں، پھر دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو کشادہ کرکے پاک مٹی یا کسی ایسی چیز پر جو زمین کی قسم سے ہو ایک بار مار کر سارے منہ کا مسح کرے کہ کوئی جگہ مس کے بغیر نہ رہے، پھر اسی طرح ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا ناخنوں سے لے کر کہنیوں سمیت مسح کرے کہ کوئی جگہ مس کے بغیر نہ رہے۔
تیمم کے تین فرض ہیں
(۱) نیت کرنا، (۲) دونوں ہوتھ مٹی پر مار کر سارے منہ پر پھیرنا،(۳) دونوں ہاتھ مٹی پر مار کر دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت ہاتھ پھیرنا۔
تیمم کی سنتیں
بسم اﷲ کہنا۔ ہاتھوں کو زمین پر مارنا۔ اُنگلیاں کھلی ہوئی رکھنا۔ زیادہ مٹی لگ جانے پر ہاتھوں کو یوں جھاڑنا کہ ایک ہاتھ سے انگوٹھے کی جڑ کو دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ پر مارنا۔ داڑھی اور انگلیوں کا خلال کرنا۔
ضروری مسا ئل
انگوٹھی، چھلے، چوڑیاں وغیرہ پہنی ہوں تو اُن کو اُتار کر یا ہٹا کر ان کے نیچے ہاتھ پھیرنا فرض ہے، جو چیز آگ سے جل کر راکھ نہ ہوتی ہو، نہ پگھلتی ہو، نہ نرم ہوتی ہو وہ زمین کی جنس ہے، اس سے تیمم جائز ہے اگرچہ اُس پر غبار نہ ہو، ایسا کپڑا جس میں غبار ہو کہ ہاتھ مارنے سے غبار اُڑتا نظر آئے، اس سے تیمم جائز ہے، جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا یا غسل واجب ہوتا ہے، ان سے تیمم بھی جاتا رہتا ہے، اس کے علاوہ پانی کے میسر آنے سے بھی تیمم ٹوٹ جاتا ہے۔
اذان کا بیان
وَاِذانَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ
(اور جب تم نماز کے لئے اذان دو)
پانچوں وقت کی نماز فرض کے لئے جس میں جمعہ بھی ہے ا ذان سنت مؤکدہ ہے، اذان وقت پر کہنی چاہئے، اگر وقت سے پہلے کہہ دی تو دوبارہ کہی جائے، فرضِ عین کے علاوہ کسی اور نماز کے لئے اذان نہیں ہے، عورتوں کو اذان کہنا مکروہ تحریمہ ہے، بے وضو کی اذان ہوجائے گی مگر مکروہ ہوگی، اس لئے بہتر ہے کہ باوضو اذان دی جائے، مسجد سے باہر بائیں جانب بلند جگہ قبلہ رُو کھڑے ہوکر کا نوں میں انگلیاں ڈالکر اذان اس طرح کہنی چاہئے۔
| اذان کے کلمات | ترجمہ |
|---|---|
| اَﷲ ُ اَکْبَرْ | اﷲ بہت بڑا ہے |
| اَﷲ ُ اَکْبَرْ | اﷲ بہت بڑا ہے |
| اَﷲ ُ اَکْبَرْ | اﷲ بہت بڑا ہے |
| اَﷲ ُ اَکْبَرْ | اﷲ بہت بڑا ہے |
| اَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّااﷲ | میں گوہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ |
| اَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّااﷲ | میں گوہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ |
| اَشْھَدُ اَنْ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ | میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد(ﷺ) اﷲ کے رسول ہیں۔ |
| اَشْھَدُ اَنْ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ | میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد(ﷺ) اﷲ کے رسول ہیں۔ |
| حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ | نماز پڑھنے کے لئے آئو |
| حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ | نماز پڑھنے کے لئے آئو |
| حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ | نجات پانے کے لئے آئو |
| حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ | نجات پانے کے لئے آئو |
| اَﷲ ُ اَکْبَرْ | اﷲ بہت بڑا ہے |
| اَﷲ ُ اَکْبَرْ | اﷲ بہت بڑا ہے |
| لَآ اِلٰہَ اِلَّااﷲ | اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ |
حَیّ عَلَی الصَّلوٰۃِ کہتے وقت داہنی طرف منہ پھیر لینا چاہئے، اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتے وقت بائیں طرف منہ پھیر لینا چاہئے، اگر فجر کی اذان ہو تو حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کے بعد دو مرتبہ اَلصَّلوٰۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ ’’ نماز نیند سے بہتر ہے‘‘ ، کہنا سنت ہے۔
اقامت
اذان کے بعد جماعت کھڑی ہوتے وقت جو تکبیر یا اقامت کہی جاتی ہے اُس کے الفاظ اذان کی مثل ہیں، چند باتوں میں فرق ہے، (۱) حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے بعد دو مرتبہ : قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃِ (جماعت کھڑی ہوگئی) کہے، (۲)اذان کے مقابلہ میں آواز پست ہو۔ (۳) اس کے کلمات جلد جلد کہے جائیں۔(۴) کانوں میں انگلیاں نہ ڈالی جائیں۔
اجابتِ اذان واقامت
اذان واقامت دونوں کی اجابت مستحب ہے، اجابت کا مطلب یہ ہے کہ سننے والا بھی وہی کلمات کہتا جائے اور اَشْھَدُ اَنْ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ کہتے وقت انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگائے اور پہلی مرتبہ صَلَّی اﷲُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اور دوسری مرتبہ :
قُرَّۃُ عَیْنَیَّ بِکَ یَا رَسُوْلَ اﷲ اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِاالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ
کہے، جو ایسا کرے گا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی شفاعت فرمائیں گے اور اُس کی آنکھوں کی روشنی کبھی زائل نہ ہوگی۔
(اذان میں حضور ﷺ کا نام مبارک سن کر انگوٹھوں یا شہادت کی انگلیوں کے پوروں کو چوم کر آنکھوں سے لگاناضعیف حدیث سے ثابت ہے، ضعیف حدیث پر فضائل اعمال میں عمل کرنا جائز ہے، دیوبندی علماء نے اس عمل کو مستحب لکھا (مولوی عبدالشکور لکھنوی ، علم الفقہ،حصہ دوم ، کراچی ، دارالاشاعت ، ص۱۵۹) ، غیر مقلدین کے امام شوکانی اور ناصرالدین البانی نے بھی اس حدیث کو ضعیف ہی لکھا ہے موضوع نہیں لکھا۔
( شوکانی،محمد بن علی، فوائد المجموعہ فی بیان احادیث الموضوعہ : ،ص ۹)
( شیخ محمد ناصر الدین البانی، احادیث ضعیفہ کا مجموعہ، مترجم ، محمد صادق خلیل، فیصل آباد ، ضیاء السنتہ ادارہ الترجمتہ والتصانیف، ۱۹۹۴ء،ص۱۷۴)
اور حَیّ عَلَی الصَّلوٰۃ ِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کیجواب میں :
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
کہے اور فجر کی اذان میں اَلصَّلوٰۃُ خَیْرُمِّنَ النَّوْم کے جواب میں صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ کہے اور اقامت میں قَدْقَامَتِ الصَّلوٰۃ کے جواب میں اَقَامَھَا اﷲُ وَاَدَامَھَا کہے ۔
اذان کی دُعا
اذان کے بعد مؤذن وسامعین درود شریف پڑھ کر یہ دُعا پڑھیں ۔
اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہٖ الدَّعْوَۃِ التَّآ مَّۃِ وَالصَّلوٰۃِ الْقَآئِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَ نِ الْوَسِیْلَۃِ وَالْفَضِیْلَۃَوَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۔
’’اے اﷲ اے پرور دگار اس کامل پوری دُعا اور قائم ہونے والی نماز کے، حضرت محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت اور بلند درجہ عطا فرما اور ان کو مقام محمود میں کھڑا کر جس کا تونے ان سے وعدہ کیا اور ہم کو قیامت کے دن ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرما ، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔‘‘
ضروری مسا ئل
بہتر یہ ہے کہ مؤذن صالح پرہیز گار ہو، اور ثواب کی نیت پر اذان کہتا ہو، خنثیٰ، فاسق، نشہ والا ، پاگل اور نا سمجھ بچے کی اذان مکروہ اور واجب الاعادہ ہے، حیض ونفاس والی عورت، خطبہ سننے والے، قضائے حاجت اور جماع کرنے والے پر اذان کا جواب نہیں ہے، جب اذان ہو تو چاہئے کہ اتنی دیر سب کام یہاں تک کہ قرآن شریف بھی پڑھ رہا ہو تو اس کو بھی موقوف کردے اور چل رہا ہو تو کھڑا ہو جائے اور اذان سنے اور جواب دے، اگر چند اذانیں سنے تو اُس پر پہلی ہی کا جواب ہے ، اگر سب کا جواب دے تو بہتر ہے۔
نماز کا بیان
مسلمانو ! اﷲ تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض میں سب سے بڑا فریضہ نماز ہے جس کے ادا کرنے کے فائدے اور اہمیت اور نہ ادا کرنے کے نقصان اور وعید پر قرآن وحدیث میں بہت کچھ بیان ہوا ہے،
نمازپڑھنے کا طریقہ
نماز پڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ نماز ی کا بدن، کپڑے اور نماز کی جگہ پاک ہو اور نماز کا وقت ہوگیا ہو اور وضو کرکے، قبلہ کی طرف منہ کرکے دونوں پائوں کے درمیان چار پانچ انگل کا فاصلہ کرکے کھڑا ہو، اور جو نماز پڑھنی ہے اس کا دل سے ارادہ کرے اور زبان سے کہنا مستحب ہے، مثلاً نیت کی میں نے آج کی نماز ظہر، چار رکعت نماز فرض یا سنت، اﷲ جل جلالہٗ کے لئے ، منہ میرا طرف کعبہ شریف کے، اگر امام کے پیچھے ہو تو کہے پیچھے اس امام کے اور دونوں ہاتھ اپنے کانوں تک لے جائے، اس طرح کہ ہتھیلیاںقبلہ کو ہوں اور انگلیاں نہ کھلی ہوں نہ ملی ہوں بلکہ اپنی حالت پر ہوں، انگوٹھے کانوں کی لَو کو چھوتے ہوں، اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لائے اور ناف کے نیچے باندھ لے، اس طرح کہ داہنی ہتھیلی بائیں کلائی کے سرے پر ہو اور بیچ کی تین انگلیاں بائیں کلائی کی پشت پر اور انگوٹھا اور چھنگلی کلائی کے اغل بغل ہوں اور نظر سجدہ کی جگہ پر رہے اور ثنا ء پڑھے :
ثناء
قیام سُبْحَا نَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِ کَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ۔
اے اﷲ تیری ذات پاک ہے اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیرا نام برکت والا ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
اگر کوئی جماعت کے ساتھ امام کے پیچھے نماز شروع کرے تو ثناء پڑھ کر خاموش رہے اور امام کی قرأت سنے اور اگر تنہا ہو تو ثناء کے بعد تعوذ ، تسمیہ، سورۃ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے۔
تعوذ
اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔
میں اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان سے جو مردود ہے۔
تسمیہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمنِ الرََّّحِیْم .
اﷲ کے نام شروع جو نہایت مہربان رحمت والا ہے۔
سورہ فاتحہ
الْحَمْدُ للّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ .الرَّحْمـنِ الرَّحِیْمِ .مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ .إِیَّاکَ نَعْبُدُ وإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ .اہدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ .صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنعَمتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ المَغضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّیْن۔ اٰمِیْنَ
’’سب خوبیاں اﷲ کو ہیں جو رب ہے سارے جہانوں کا، بہت مہربان رحمت والا ہے، روزِ جزا کا مالک ہے، ہم تجھی کو پوجیںاور تجھی سے مدد چاہیں، ہم کو سیدھا راستہ چلا، راستہ ان کا جن پر تونے انعام کیا نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوئوں کا۔ الٰہی قبول فرما‘‘۔
سورۃ اخلاص
قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ ، اللَّہُ الصَّمَدُ،لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ،وَلَمْ یَکُن لَّہُ کُفُواً أَحَدٌ۔
’’تم فرمائو اﷲ ایک ہے، اﷲ بے نیاز ہے، نہ اُس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ،اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی ہے‘‘۔
پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جائے اور گھٹنوں کو ہاتھ کی انگلیوں سے مظبوط پکڑ لے اور اتنا جھکے کہ سر اور کمر ایک سیدھ ہوجائیں ، اور یہ تسبیح کم سے کم تین بار پڑھے۔
تسبیح رکوع
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ
’’پاک ہے میرا رب عظمت والا‘‘۔
تسمیع
سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہٗ
’’اﷲ نے اس بندے کی بات سُن لی جس نے اس کی تعریف کی‘‘۔
اگر جماعت ہو تو پھر رکوع سے اُٹھتے ہوئے صرف امام تسمیع کہے ۔
قومہ
پھردونوں ہاتھ چھوڑ کر سیدھا کھڑا ہوجائے اور مقتدی تمحید کہے۔
تمحید
رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ
’’اے ہمارے پروردگار تیرے لئے تمام تعریف ہے‘‘۔
تنہانماز پڑھے والا تسمیع اورتمحید دونوں کہے، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے، اس طرح کہ پہلے گھٹنے پھر دونوں ہاتھ زمین پر رکھے، پھر ناک اور پھر پیشانی خوب جمائے اور چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھے، اور مرد بازوئوں کو کروٹوں سے اور پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھے، اور کہنیاں زمین سے اُٹھی ہوئی ہوں اور دونوں پائوں کی انگلیوں کے پیٹ قبلہ رُو زمین پر جمے ہوئے ہوں اور کم سے کم یہ تسبیح تین بار پڑھے۔
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ
’’پاک ہے میرا رب بڑا عالی شان‘‘
جلسہ
پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدہ سے اس طرح اُٹھے کہ پہلے پیشانی پھر ناک پھر ہاتھ اُٹھیں اور بایاں قدم بچھا کر اُس پر بیٹھے اور داہنا قدم کھڑا کرکے رکھے کہ اُس کی انگلیاں قبلہ رُو ہوں اور ہاتھ رانوں پر گھٹنوں کے قریب رکھے کہ اُن کی اُنگلیاں بھی قبلہ رُخ ہوں،
دوسرا سجدہ
پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا اسی طرح دوسرا سجدہ کرے
قیام
اور پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا کھڑا ہوجائے، تسمیہ، فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر اسی طرح رکوع وسجود کرے، لیکن امام کے پیچھے مقتدی بسم ا ﷲ ، فاتحہ اور سورت نہیں پڑھے گا بلکہ وہ خاموش کھڑا رہے گا۔
قعدہ
دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہوکر اس طرح بیٹھ جائے ، جس طرح دوسجدوں کے درمیان بیٹھتا ہے۔
تشہد
اَلتَّحِیَّاتُ ِﷲِوَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلیٰ عِبَادِاﷲِ الصَّالِحِیْنَ۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔
’’ساری عبادتیں اﷲ کے لئے اور نمازیں اور پاکیزگیاں ، سلام حضور پر اے نبی اﷲ کے اور رحمتیں اﷲ کی اور اس کی برکتیں، سلام ہم پر اور اﷲ کے نیک بندوں پر، مین گواہی دیتا ہوںکہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں‘‘۔
جب تشہد میں کلمہ لا پر پہنچے تو داہنے ہاتھ کی بیچ کی اُنگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنائے اور چھنگلیا اور اُس کے پاس والی کو ہتھیلی سے ملادے، اور لفظ لا پر کلمہ کی اُنگلی اُٹھائے اور اِ لّا پر گرادے اور سب انگلیاں فوراً سیدھی کردے، اگر دو رکعت والی نماز ہے تو پھر اس تشہد کے بعد درود شریف اور دُعا پڑھ کر سلام پھیر دے اور اگر چار رکعت والی نماز ہے تو تشہد کے بعد اﷲ اکبر کہہ کر کھڑا ہوجائے اور دونوں رکعتوں میں اگر فرض ہوں تو صرف بسم اﷲ اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر قاعدے کے مطابق رکوع وسجود کرے ، اور اگر سنت ونفل ہوں تو بسم اﷲ ، سورۃ فاتحہ اور سورہ بھی پڑھے، لیکن امام کے پیچھے مقتدی تسمیہ اور فاتحہ نہیں پڑھے گا بلکہ خاموش کھڑا رہے گا، پھر چار رکعتیں پوری کرکے بیٹھ جائے اور تشہد ،درود شریف اور دُعا پڑھے اور سلام پھیردے۔
دُرود شریف
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاھِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ اِبْرَھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْد ٌمَّجِیْدٌ، اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاھِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
’’اے اﷲ دُرود بھیج محمد(ﷺ) پر اور ان کی اولاد پر جس طرح تونے دُرود بھیجی ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی اولاد پر بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے، اے اﷲ برکت نازل کر محمد(ﷺ) پر اور ان کی اولاد پر جس طرح تونے برکت نازل کی ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی اولاد پر بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے ۔
پھر یہ دُعا پڑھے۔
رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلاَۃِ وَمِن ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء ، رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ۔
’’اے پروردگارمجھ کو نماز کا پابند بنا دے اور میری اولاد کو بھی اے پرور دگار ہمارے میری دُعا قبول فرما ، اے ہمارے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور سارے مسلمانوں کو بخش دے اس دن جب کہ عملوں کا حساب ہوگا‘‘۔
سلام
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ ۔
داہنی طرف کے سلام میں داہنی طرف کے فرشتوں اور نمازیوں کی نیت کرے کہ میں ان کو سلام کہہ رہا ہوں اور بائیں طرف کے سلام میں بائیں طرف کے فرشتوں اور نمازیوں کی نیت کرے اور جس طرف امام ہو اُس طرف کے سلام میں امام کی بھی نیت کرے اور اسی طرح امام بھی دونوں طرف کے سلاموں میں فرشتوں اور مقتدیوں کی نیت کرے اور جب تنہا ہو تو دونوں طرف کے فرشتوں کی نیت کرے۔
نماز کے بعد کی دعائیں واذکار
فَاِذَا قَضَیْتُمْ الصّلوٰۃَ فَاذْکُرُواﷲَ (قرآن مجید)
ترجمہ۔ اور جب تم نماز پڑھ لو تو اﷲ کا ذکر کرو۔
استغفار
اَسْتَغِْرُاﷲَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ ۔
اس کے بعد جو دُعا چاہے پڑھے۔
دُعائے اوّل
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ وَاِلَیْکَ یَرْجِعُ السَّلَامُ، حَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ وَاَدْخِلْنَا دَارَالسَّلَامِ ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ یَاذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ۔
’’الٰہی تو سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ہے اور تیری طرف سلامتی رجوع کرتی ہے، اے ہمارے پروردگار ہم کو سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ اور داخل کر ہم کو سلامتی کے گھر میں ، اے ہمارے پروردگار تو برکت والا ہے اور بلند ہے اے عظمت اور بزرگی والے۔
دُعائے دوم
رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِحَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
’’ اے پروردگار ہمارے توہم کو دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں نیکی دے اور ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا‘‘۔
اگر فرضوں کے بعد سنتیں پڑھنی ہوں تو اُن فرضوں کے بعد مختصر سی دُعا کرے، جیسا کہ دو دعائیں مذکور ہوئیں اور پھر جلدی سنتیں پڑھے، ورنہ ان کا ثواب کم ہوجائے گا، اور باقی اذکار ووظائف سنتوں کے بعد پڑھے اور جن فرضوں کے بعد سنتیں نہیں ہیں ان کے بعد بلا شبہ پڑھے۔
ذکر اوّل
ہر نماز کے بعد ۳۳ مرتبہسُبْحَانَ اَﷲ ِ ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ ِﷲِ ۳۴مرتبہ اَﷲُ اَکْبَرْ اور ایک بار یہ کہے۔
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
ذکر دوم
اللّہُ لاَ إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ لاَ تَأْخُذُہُ سِنَۃٌ وَلاَ نَوْمٌ لَّہُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ مَن ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہُ إِلاَّ بِإِذْنِہِ یَعْلَمُ مَا بَیْْنَ أَیْْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلاَ یُحِیْطُونَ بِشَیْْء ٍ مِّنْ عِلْمِہِ إِلاَّ بِمَا شَاء وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَلاَ یَؤُودُہُ حِفْظُہُمَا وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔
ترجمہ۔ ’’اﷲ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ ہے اوروں کو قائم رکھنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اسی کا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے، جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے اور جو ان کے پیچھے ہے اور نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے، اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان وزمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا‘‘۔
نماز کے اوقات
اِنَّ الصَّلوٰۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَاباً مَّوْقُوْتاً ۔
ترجمہ۔بے شک نماز مومنوں پر وقت مقررہ میں فرض ہے۔
ہرنماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا چاہئے، جو نماز وقت سے پہلے پڑھی جائے گی وہ ادا نہ ہوگی اور جو بعد میں پڑھی جائے گی وہ بھی ادا نہ ہو گی بلکہ قضا ہوگی۔
فجر ۔ نماز فجر کا وقت صبح صادق سے شروع ہوکر آفتاب کی کرن چمکنے تک رہتا ہے، صبح صادق وہ روشنی ہے جو مطلع آفتاب کے اوپر آسمان پر پھیل جاتی ہے اور اُجالا ہوجاتا ہے۔
ظہر۔ نماز ظہر کا وقت آفتاب ڈھلنے سے شروع ہوکر اُس وقت تک رہتا ہے کہ ہر چیز کا سایہ علاوہ اصلی سایہ کے کے دو چند ہوجائے، اصلی سایہ وہ ہے جو آفتاب کے خط نصف النہار پر پہنچنے کے وقت ہوتا ہے۔
عصر۔نماز عصرکا وقت ظہر کا وقت ختم ہونے سے شروع ہوکر آفتاب کے ڈوبنے تک رہتا ہے، بہتر یہ ہے کہ دُھوپ کا رنگ زرد ہونے سے پہلے ادا کرلی جائے کیونکہ دھوپ کے زرد ہونے پر وقت مکروہ شروع ہوجاتا ہے، اگرچہ نماز ہوجائے گی۔
مغرب۔ نماز مغرب کا وقت غروبِ آفتاب سے شروع ہوکر غروبِ شفق تک رہتا ہے، شفق اُس سپیدی کا نام ہے جو جانبِ مغرب سُرخی ڈوبنے کے بعد جنوباً شمالاً پھیلی ہوئی رہتی ہے۔
عشاء۔ نماز عشاء کا وقت غروبِ شفق سے شروع ہوکر طلوعِ فجر تک رہتا ہے اور نصف شب کے بعد مکروہ ہوجاتا ہے، تجربہ سے ثابت ہوا کہ بڑی راتوں میں نمازِ مغرب کے بعد تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ اور چھوٹی راتوں میں تقریباً سوا گھنٹہ کے بعد عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔
اوقاتِ مکروہہ
(۱) سورج نکلتے وقت۔ (۲) غروب ہوتے وقت۔ (۳) استواء کے وقت کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔(۴) طلوع صبح صادق سے طلوع آفتاب تک سوائے دو سنت فجر اور نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک کوئی نفل نہیں پڑھنے چاہئیں، ہاں اگر کوئی شخص قضا شدہ نماز کو ان دونوں وقتوں میں ادا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔(۵) امام کے خطبہ جمعہ کے لئے کھڑے ہونے سے لے کر فرض جمعہ تک کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔
تعداد رکعات
| نماز | تفصیل | کل رکعتیں |
|---|---|---|
| فجر | ۲سنت مؤکدہ قبل فرض۔ ۲فرض | ۴ |
| ظہر | ۴ سنت مؤکدہ قبل فرض ۔ ۴فرض ۔ ۲سنت مؤکدہ بعد فرض۔ ۲نفل | ۱۲ |
| عصر | ۴سنت غیر مؤکدہ قبل فرض۔ ۴ فرض | ۸ |
| مغرب | ۳فرض ۔ ۲سنت مؤکدہ بعد فرض۔ ۲نفل | ۷ |
| عشاء | ۴ سنت غیر مؤکدہ قبل فرض۔ ۴فرض۔ ۲سنت مؤکدہ بعد فرض۔ ۲نفل ۔ ۳وتر واجب۔ ۲نفل | ۱۷ |
نماز کی شرطیں، فرائض،واجبات اور سُنتیں وغیرہ
پوری نماز پڑھنے کا طریقہ جو پیچھے بیان ہوچکا ہے اس میں کچھ نماز کی شرطیں ،کچھ فرائض ، کچھ واجبات اور کچھ سُنتیں و مستحبات ہیں، نمازی کو چاہئے ان کو الگ الگ یاد کرے۔
شرائط
نماز کی چھ شرطیں ہیں۔
(۱) طہارت یعنی نمازی کا بدن اور کپڑے پاک ہوں۔ (۲) نماز کی جگہ پاک ہو۔ (۳)سترِ عورت یعنی بدن کا وہ حصہ جس کا چھپانا فرض ہے وہ چھپا ہوا ہو، وہ مرد کے لئے ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے اور عورت کے لئے ہاتھوں، پائوں اورچہرے کے علاوہ سارا بدن ہے۔ (۴) استقبالِ قبلہ یعنی منہ اور سینہ قبلہ کی طرف ہو۔ (۵) وقت یعنی نماز کا وقت پر پڑھنا۔ (۶) نیت کرنا، دل کے پکے ارادے کا نام ہے، زبان سے کہہ دینا مستحب ہے۔ فائدہ ۔ نماز شروع کرنے سے پہلے ان شرطوں کا ہونا ضروری ہے، ورنہ نماز نہیں ہوگی۔
فرائض
نماز کے فرائض سات ہیں۔
(۱) تکبیر تحریمہ یعنی اﷲ اکبر کہنا۔ (۲) قیام یعنی سیدھا کھڑا ہوکر نماز پڑھنا ، فرض، وتر، سنت فجر، عیدین کی نماز میں قیام فرض ہے۔ بلا عُذرِ صحیح اگر یہ نمازیں بیٹھ کر پڑھے گا تو نہیں ہوں ہوں گی، نفل نماز میں قیام فرض نہیں، لیکن بیٹھ کر پڑھنے سے نصف ثواب ہوگا۔ (۳) قرأت ، مطلقاً ایک آیت پڑھنا فرض کی دو رکعتوں میں اور وتر ونوافل کی ہر ہر رکعت میں فرض ہے، مقتدی کو کسی نماز میں قرأت جائز نہیں۔(۴) رکوع کرنا۔ (۵) سجدہ کرنا۔(۶) قعدۂ اخیرہ، نماز پوری کرکے آخری التحیات میں بیٹھنا۔ (۷) دونوں طرف سلام پھیرنا۔
ان فرضوں میں سے ایک بھی رَہ جائے تو نماز نہیں ہوتی ، اگر چہ سجدہ سہو کیا جائے۔
نماز کے واجبات
فرض کی پہلی دورکعتوں میں اور باقی نمازوں کی ہر رکعت میں ایک بار پوری الحمد پڑھنا، اس کے بعد فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں اور وتر وسنت ونفل کی ہر رکعت میں چھوٹی سورہ یا تین چھوٹی آیتیں یا وہ ایک آیت جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو پڑھنا، قومہ یعنی رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا ، جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا، اولیٰ قعدہ یعنی تین یا چار رکعت والی نماز میں دو رکعتوں کے بعد بیٹھنا، دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا، قعدہ اولیٰ میں تشہد پر کچھ نہ پڑھنا، امام جب قرأت کرے بلند آواز سے یا آہستہ تو اُس وقت مقتدی کا چپ رہنا، سوائے قرأت کے تمام واجبات میں امام کی متابعت کرنا، ترتیب قائم رکھنا، تمام ارکان سکون واطمینان سے ادا کرنا، امام کو فجر، مغرب، عشاء، جمعہ، عیدین، تراویح اور رمضان وتروں میں آواز سے قرأت کرنا، ظہر اور عصر میں آہستہ قرأت کرنا، عیدین کی نماز میں چھ تکبیریں زائد کہنا۔
نماز کے واجبات میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو سجدۂ سہو کرنے سے نماز درست ہوجائے گی، سجدۂ سہو نہ کرنے اور قصداً ترک کرنے سے نماز کا لوٹانا واجب ہے۔
نماز کی سنتیں
تکبیر تحریمہ کہتے وقت دونوں ہاتھ کا نوں تک اُٹھانا، ہتھیلیوں کا قبلہ رُخ ہونا، امام کا نماز کی تمام تکبیروں کو بلند آواز سے کہنا، ناف کے ذرا نیچے ہاتھ باندھنا، ثنا، تعوذ، تسمیہ آہستہ پڑھنا، فاتحہ کے بعد آہستہ آمین کہنا، ایک رکن سے دوسرے رکن میں جاتے وقت تکبیر کہنا، ہر رکعت کے اوّل میں آہستہ بسم اﷲ پڑھنا، فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ پڑھنا، رکوع اور سجود میں تین بار تسبیح پڑھنا، رکوع میں ٹانگیں سیدھی ہونا،اورہاتھوں سے گھٹنوں کا پکڑناکہ اُنگلیاںکھلی رہیں اور سر اور کمر برابر ہوجائے، رکوع سے اُٹھتے وقت امام سمع اﷲ لمن حمدہ اور مقتدی کا ربنا لک الحمد کہنا(تنہا نماز پڑھنے والا دونوں کہے)، سجدہ میں جاتے وقت پہلے دونوں گھٹنے پھر ہاتھ، پھر ناک، پھر پیشانی اور اُٹھتے ہوئے اس کا برعکس کرنا، بازو کروٹوں سے اور پیٹ رانوں سے جدا رکھنا(مگر جب جماعت میں ہوگا تو بازو کروٹوں سے جدا نہ ہوں گے)، کلائیاں زمین سے اونچی رکھنا اور اُنگلیوں کا قبلہ رو ہونا اور ملی ہوئی ہونا، دونوں سجدوں کے درمیان داہنا قدم کھڑا کرکے اور بایاں قدم بچھا کر اس پر بیٹھنا،ہاتھوں کا رانوں پر رکھنا، سجدہ میں دونوںپائوں کی تمام انگلیوں کی پیٹ زمین پر لگنا اور قبلہ رو ہونا، تشہد میں اشہد ان لا الہ الا اﷲ پر شہادت کی اُنگلی سے اشارہ کرنا، یوں کہ لا پر اُنگلی اُٹھائے اور اِلّا پر رکھ دے اور سب انگلیاں قبلہ رُو سیدھی کردے، تشہد کے بعد دُرود شریف اور کوئی دُعائے مسنونہ پڑھنا، سلام دو بار کہنا، پہلے دائیں پھر بائیں طرف، امام کا بلند آواز سے سلام کہنا لیکن دوسرا پہلے کی نسبت کچھ آہستہ ہو۔
ان سنتوں میں سے اگر کوئی سنت سہواً رہ جائے یا قصداً ترک ہو جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی اور نہ ہی سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، ہاں قصداً چھوڑنے والا گنہگار ہوتا ہے۔
نماز کے مستحبّات
دو قدموں کے درمیان بقدر چار انگشت فاصلہ چھوڑنا،رکوع وسجدوں میں تین بار سے زیادہ پانچ یا سات بار تسبیح کہنا، قیام کے وقت سجدہ پر ، رکوع میں دونوں پائوں کی پشت پر، سجدہ میں ناک کے سرے پر، قعدہ میں اپنی گود پر، سلام میں اپنے شانوں پر نظر رکھنا، جمائی کے وقت منہ بند رکھنا، اگر کھل جائے تو دائیں ہاتھ کی پشت سے ڈھانپنا۔
مُفسداتِ نماز
بھول کر یا قصداً کسی سے بات کرنا، کسی کو قصداً یا سہواً سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا، کسی کی چھینک کا جواب دینا، امام کی بھول پر بیٹھ جا کہنا یا ہوں کہنا، اﷲ تعالیٰ کا نام سن کر جل جلالہٗ اور حضور ﷺ کا نام سن کر دُرود شریف بقصدِ جواب پڑھنا اور اگر بقصد جواب نہ ہو تو حرج نہیں، اپنے امام کے سوا دوسرے کو لقمہ دینا، درد یا مصیبت کی وجہ سے آہ، اُف وغیرہ کہنا، اور اگر بے اختیار مریض وغیرہ سے آہ، اُوہ نکلی تو معاف ہے، نماز پوری ہونے سے پہلے قصداً سلام پھیرنا، اگر بھول کر پھیر دیا تو حرج نہیں، نماز پوری کرکے سجدۂ سہوکرلے، نماز میں قرآن مجید دیکھ کر پڑھنا، اچھی، بُری خبر سن کر کچھ کہنا، قرأت یا اذکارِ نماز میں سخت غلطی کرنا ، کچھ کھانا پینا، ہاں دانتوں کے اندر کوئی چیز رہ گئی تھی اس کو نگل لیا، اگر چنے کے برابر ہے تو نماز فاسد ہوگئی اور چنے سے کم ہے تو فاسد نہ ہوئی مکروہ ہے، بلا عذر سینہ کو قبلہ سے پھیرنا، بچہ کا عورت کی چھاتی چوسنا اور دودھ نکل آنا، عورت نماز میں تھی مرد کا اُس کو بوسہ لینا یا شہوت سے اُس کے بدن کو چھونا، اِن مفسدات میں سے کسی مفسدکے ہونے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
مکروہاتِ نماز
کپڑا سمیٹنا، مثلاً سجدہ میں جاتے ہوئے آگے یا پیچھے سے اُٹھا لینا، اگرچہ گَرد سے بچانے کے لئے ہو، اور رکوع سے اُٹھتے وقت بھی یہی حکم ہے، کپڑا لٹکانا مثلاً سر یا مونڈھے پر اس طرح ڈالنا کہ دونوں کنارے لٹکتے ہوں، آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھا لینا، شدت کا پاخانہ یا پیشاب معلوم ہوتے وقت یا غلبہ ریاح کے وقت نماز پڑھنا، اُنگلیاں چٹخانا، اُنگلیوں کی قینچی باندھنا، یعنی ایک ہاتھ کی اُنگلیاں دوسرے ہاتھ کی اُنگلیوں میں ڈالنا، اِدھر اُدھر منہ پھیر کر دیکھنا، آسمان کی طرف نظر کرنا،کسی کے منہ کی طرف نماز پڑھنا،جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو اُسے پہن کر نماز پڑھنا، نمازی کے آگے یا داہنے یا بائیں یا سر پر تصویر کا ہونا، اُلٹا قرآن مجید پڑھنا، امام سے پہلے مقتدی کا رکوع وسجود وغیرہ میں جانا، قبر کا سامنے ہونا، اس طرح کہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہو، اگر بقدرِ سُترہ کوئی چیز حائل نہ ہو، اگر بقدر سترہ کوئی چیز حائل ہو تو مکروہ نہیں، اور اگر قبر دائیں یا بائیں ہے تو کچھ کراہت نہیں، ان مکروہات میں سے کسی مکروہ کے ہونے سے نماز ناقص ہوجاتی ہے، لہذا اجتناب کرے۔
نماز توڑنے کے عُذ ر
سانپ وغیرہ کے مارنے کے لئے جب کہ ایذا کا اندیشہ ہو، کوئی جانور بھاگ گیا اس کے پکڑنے کے لئے ، نقصان کا خوف ہو مثلاً دُودھ اُبل جائے، گوشت ترکاری روٹی وغیرہ جل جائے، چور کوئی چیز اُٹھا کر لے بھاگا، گاڑی چھوٹ رہی ہو، اجنبی عورت نے چھو دیا ہو، پیشاب یا پاخانہ کی شدید حاجت ہو، کوئی مصیبت زدہ فریاد کررہا ہو، یا کوئی ڈوب رہا ہو، یا آگ میں جل رہا ہو، یا اندھا راہگیر وغیرہ کوئیں میں گِرا چاہتا ہو، ان سب صورتوں میں نماز توڑ دینے کی اجازت ہے، بلکہ پچھلی صورتوں میں واجب ہے، جب کہ بچانے پر قادر ہو۔
سجدۂ سہو کا بیان
جب نماز کا کوئی واجب بھولے سے چھوٹے یا کسی فرض کو مکرر کیا جائے مثلاً رکوع دو مرتبہ کرے ، نماز کے فرض یا واجب میں زیادتی ہو جائے، مثلاً قعدۂ اوّل میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھ لے ، تو سجدۂ سہو لازم ہے، امام کے سہو سے مقتدی کو بھی سجدۂ سہو کرنا ہوگا، لیکن اگر مقتدی سے سہو ہوجائے تو مقتدی کو سجدۂ سہو لازم نہیں، کیونکہ وہ امام کے تابع ہے، امام سہو کرنے لگے تو مقتدی سبحان اﷲ کہہ کر امام کو یاد دلائے، اگر امام سہو سے لَوٹ آئے تو بہتر ورنہ مقتدی امام کی اتباع کرے اور آخر میں امام کے ساتھ سجدہ سہو کرے۔
سجدہ سہو کا طریقہ ۔ قعدہ آخیر میں تشہد، درود شریف اور دُعا پڑھنے کے بعد دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرے، اس کے بعد پھر تشہد، درود اور دُعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیر دے۔
نماز وتر
نماز وتر واجب ہے، اگر یہ چھوٹ جائے تو اس کی قضا لازم ہے، اس وقت عشاء کے فرضوں کے بعد سے صبح صادق تک ہے، بہتر یہ ہے کہ آخر رات میں تہجد کے ساتھ پڑھی جائے، لیکن جس کو خوف ہو کہ اُٹھ نہیں سکے گا وہ عشاء کی نماز کے ساتھ سونے سے پہلے پڑھ لے، اس کی تین رکعتیں ہیں، دو رکعت پڑھ کر قعدہ کیا جائے اور تشہد پڑھ کر کھڑا ہو جائے، تیسری رکعت میں تسمیہ، سورۂ فاتحہ اور سورۃ پڑھ کر دونوں ہاتھ کانوں تک اُٹھائے اور اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ باندھ لے اور دُعائے قنوت آہستہ پڑھے کہ یہ واجب ہے۔
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ وَنَشْکُرُکُ وَلَا نَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ، اَللّٰھُمَ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَ اِلَیْکَ نَسْعیٰ وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشیٰ عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ۔
’’ الٰہی ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں اور تجھ سے معافی مانگتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں، اور تیرا شکر کرتے ہیں اور نا شکری نہیں کرتے اور الگ کرتے ہیں اور چھوڑتے ہیں اس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے الٰہی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لئے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری ہی طرف دوڑتے ہیں اور تیری بارگاہ میں حاضر ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بے شک تیرا عذاب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔
جو دعائے قنوت نہ پڑھ سکے وہ یہ دُعا پڑھے :
رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِحَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
اگر دعائے قنوت پڑھنی بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے تو واپس نہ لوٹے ، بلکہ سجدہ سہو کرے۔
جماعت وامامت کا بیان
وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ
ترجمہ۔ اور رکوع کرو ساتھ رکوع کرنے والوں کے۔
نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے، بلا عذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار ہے اور ترک کا عادی سخت گنہگار ومستحق سزا ہے، جمعہ وعیدین میں جماعت شرط ہے، اور تراویح میں سنت کفایہ کہ محلہ کے چند لوگوں نے قائم کرلی تو سب کے ذمہ سے ساقط ہوگئی، اور اگر کسی نے بھی قائم نہ کی تو سب نے بُرا کیا، جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے ۲۷ درجہ ثواب زیاد ہ ہے۔
امام صحیح العقیدہ اہل سنت وجماعت ، پرہیز گار، پابند شریعت ، صحیح قرآن پڑھنے والا اور نماز وطہارت کے مسائل زیادہ جاننے والا ہونا چاہئے، بد عقیدہ اور فاسق معلن ، جیسے شرابی، زنا کار، سود خور، چغل خور، داڑھی منڈانے یا حد شرع سے کم رکھنے والے کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے، عورت کی امامت مکروہ ہے، ولدالزنا، کوڑھی، برص والے اور فالج زدہ کی امامت مکروہ تنزیہی ہے جب کہ کوئی اور اُن سے بہتر ہو، ورنہ نہیں، اندھے کی امامت بلا کراہت جائز ہے، جب کہ وہ طہارت وغیرہ کا خیال رکھتا ہو ۔
نوٹ ۔عورت، بیمار، اپاہج لنگڑا، لولا، بہت بوڑھا، اندھا پر جماعت واجب نہیں۔
ترک جما عت کے عُذر
سخت سردی، سخت تاریکی، سخت بارش، راستہ میں شدید کیچڑ، آندھی، چوری ہونے کا خوف، کسی دشمن یا ظالم کا خوف، پاخانہ، پیشاب کی سخت حاجت، بھوک کی حالت میں کھانا سامنے آجانا، تیمار داری ، ان سب صورتوں تندرست آدمیوں کو بھی ترک جماعت کی اجازت ہے۔
نوٹ۔ مزید تفصیل کے لئے ’’بہار شریعت‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
نما ز جمعہ
یٰآ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَ انُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلیٰ ذِکْرِاﷲِ وَذَرُواالْبَیْعَ، ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔
ترجمہ۔ اے ایمان والو جب جمعہ کے دن(تمہیں) نماز کے لئے پکارا جائے تو اﷲ کے ذکر کی طرف دوڑو اور کاروبار چھوڑ دو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو تو۔
جمعہ کی نماز فرض عین ہے، اس کی فرضیت ظہر سے زیادہ مؤکد ہے اور اس کا منکر کافر ہے، جمعہ کی نماز ظہر کے قائم مقام ہے اور اس کا وقت وہی ہے جو ظہر کا ہے۔
شرائط جمعہ
جمعہ کی نماز کے لئے چند شرطیں ہیں ان کا ہونا ضروری ہے، اگر ایک شرط بھی مفقود ہوئی تو جمعہ نہ ہوگا، جس جگہ کوئی شرط مفقود ہو وہاں ظہر کی نماز پڑھی جائے گی۔
۱۔ شہر ہو یا شہر کے قائم مقام وہ گائوں ہو جو اپنے علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔
۲۔وقت ظہر کا ہو۔
۳۔ نماز سے پہلے خطبہ ہو۔
۴۔ جماعت ہو کیونکہ بلا جماعت جمعہ نہ ہوگا۔
۵۔ عام اجازت ہو۔
جن پر جمعہ فرض ہے
ہر مسلمان مرد جو آزاد ، بالغ ، عقلمند، تندرست اور مقیم ہو اس پر جمعہ فرض ہے۔
جن پر جمعہ فرض نہیں
عورت، غلام، قیدی، نابالغ، مخبوط الحواس، بیمار، اپاہج، مسافر، جس کو کسی خوف ہو، جس کو کسی نقصان کا صحیح اندیشہ ہو، اُن پر جمعہ فرض نہیں۔
ہاں اگر مسافر، مریض اور عورتیں نماز میں شریک ہو جائیں تو ان کی نماز درست ہوگی اور ظہر ان کے ذمے سے ساقط ہو جائے گی۔
جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے اور اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور پہلی صف میں بیٹھنا مستحب ہے۔
ضروری مسا ئل
جو چیزیں نماز میں حرام ہیں وہ خطبہ میں بھی حرام ہیں مثلاً کھانا، پینا، سلام وکلام وغیرہ کرنا، یہاں تک کہ امر بالمعروف کرنا، سب حاضرین پر خطبہ سننا اور چُپ رہنا فرض ہے، ہاں خطیب امر بالمعروف کرسکتا ہے، خطیب نے کوئی دعائیہ کلمہ کہا تو سامعین کو ہاتھ اُٹھانا یا آمین کہنا منع ہے، دو خطبوں کے درمیان بغیر ہاتھ اُٹھائے دل میں نیک دُعا کرنا جائز ہے۔
نماز عید ین
وَلِتُکْمِلُواالْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوااﷲ۔
ترجمہ۔ اور دنوں کی گنتی پوری کرو اور اﷲ کی بڑائی بولو یعنی تکبیریں کہو۔
فرمایا : فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔
ترجمہ۔ اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
عیدین کی نماز واجب ہے، سب پر نہیں بلکہ انہیں پر جن پر جمعہ فرض ہے اور اس کی ادائیگی کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے لئے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ جمعہ میں خطبہ شرط ہے اور عیدین میں سنت، ان دونوں نمازوں کا وقت سورج کے بقدر ایک نیزہ بلند ہونے سے لے کر زوال تک ہے، مگر عید الفطر میں کچھ دیر کرنا اور عید الاضحیٰ میں جلدی کرنا مستحب ہے، ان نمازوں سے پہلے اذان واقامت نہیں ہے، ان دونوں نمازوں کے ادا کرنے کا طریقہ ایک ہی ہے۔
طریقہ نماز
پہلے نیت کریں دو رکعت نماز عید الفطر یا عید الاضحیٰ واجب مع زائد چھ تکبیروں کے پھر تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اور ثنا پڑھیں، اس کے بعد امام زور سے اور مقتدی آہستہ سے تین تکبیریں کہیں ، دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیں اور تیسری تکبیر کے بعد باندھ لیں، پھر امام بلند آواز سے سورۂ فاتحہ ، اور کوئی سورۃ پڑھ کر رکوع وسجود کرے گا، دوسری رکعت میں فاتحہ و قرأت کے بعد، رکوع میں جانے سے پہلے امام و مقتدی ہاتھ اُٹھا کر تین تکبیریں کہہ کر ہاتھ چھوڑدیں اور چوتھی تکبیر کہتے وقت کانوں تک ہاتھ نہ اُٹھائیں بلکہ رکوع میں جائیں اور قاعدے کے مطابق نماز پوری کریں۔
عید کے مستحبات
حجامت بنوانا، ناخن ترشوانا، مسواک وغسل کرنا، اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، عید گاہ کو پیدل جانا، راستہ میں تکبیر کہتے ہوئے جانا، دوسرے راستہ سے واپس آنا، عید الفطر میں نماز سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا اور کوئی میٹھی چیز کھانا، کھجوریں ہوں تو طاق ہوں تین، پانچ، سات تو بہتر ، آپس میں ملنا، مصافحہ ومعانقہ کرنا، مبارک باد دینا۔
کلماتِ تکبیر
اَﷲُ اَکْبَرْ اَﷲُ اَکْبَر لَآ اِلٰہَ اِلَّااﷲُ واﷲُ اَکْبَرْ اَﷲُ اَکْبَر وَ ِﷲِ الْحَمْدُ۔
نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرھویں کی عصر تک ہر نماز باجماعت کے فوراً بعد یہی تکبیر ایک بار کہنا واجب اور تین بار کہنا افضل ہے، اسے تکبیر تشریق کہتے ہیں۔
نماز جنازہ
وَلَا تُصَلِّ عَلَی اَحَدٍ مِّنْھُمْ مَّاتَ اَبَدًا۔
ترجمہ۔ اُن( کفارومنافقین ) میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا(ہاں مومنوں کی پڑھنا)۔
جنازہ کی نماز فرض کفایہ ہے، فرض کفایہ کا یہ مطلب ہے کہ اگر چند آدمی بھی پڑھ لیں تو سب بری الذمہ ہوگئے، ورنہ سب گنہگار ہوں گے جن کو خبر پہنچی تھی اور نہیں آئے، اس کے لئے جماعت شرط نہیں، ایک آدمی بھی پڑھ لے تو فرض ادا ہوگیا، اس کے دو رکن ہیں، چار بار تکبیر کہنا، کھڑے ہوکر پڑھنا، اس کی تین سنتیں ہیں، اﷲ کی حمدوثنا کرنا،نبی ﷺ پر درود پڑھنا، میت کے لئے دعا کرنا، میت سے مراد وہ ہے جو زندہ پیدا ہوا پھر مر گیا، جو مرا ہوا پیدا ہو اس کی نماز نہیں، نیز میت کا سامنے ہونا ضروری ہے، غائب کی نماز نہیں، اگر کئی جنازے جمع ہوجائیں تو سب کے لئے ایک ہی نماز کافی ہے سب کی نیت کرلے، اور علیحدہ علیحدہ پڑھ لے تو افضل ہے۔
طریقہ نماز
پہلے نیت کرکے امام ومقتدی کانوں تک ہاتھ اُٹھائیں اور اﷲ اکبر کہتے ہوئے ہاتھ ناف کے نیچے باندھ لیں اور ثنا ء پڑھیں۔
سُبْحَا نَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِ کَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَجَلَّ ثَنَائُ کَ وَلَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ۔
’’الٰہی میں تیری پاکی اور تیری حمد کے ساتھ تجھے یاد کرتا ہوں اور تیرا نام بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیری تعریف بڑی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں‘‘ ۔
پھر بغیر ہاتھ اُٹھائے تکبیر کہیں اور وہی نماز والا درود شریف پڑھیں، پھر بغیر ہاتھ اُٹھائے تکبیر کہیں اور دُعا پڑھیں، مقتدی تکبیریں آہستہ کہے اور امام زور سے۔
با لغ مرد و عورت کی دُعا
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِحَیِّنَا وَ مَیِّتِنَا وَشَاھِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثٰنَا ، اَللّٰھُمَ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَانِ۔
’’الٰہی بخش دے ہمارے زندوں کو اور مردوں کو اور ہمارے حاضر کو اور ہمارے غائب کو اور ہمارے چھوٹے اور بڑے کو اورہمارے مرد اور عورت کو، الٰہی ہم میں سے تو جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جس کو تو وفات دے اسے وفات دے ایمان پر‘‘۔
نا با لغ لڑکے کی دُعا
اَللّٰھُمَ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطاً وَّاجْعَلْہُ لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا شَافِعًاوَّمُشَفَّعًا۔
’’اے اﷲ اس لڑکے کو ہمارے لئے آگے پہنچ کر سامان کرنے والا بنا دے اور اس کو ہمارے لئے اجر اور وقت پر کام آنے والا اور اس کو ہماری سفارش کرنے والا بنا اور جس کی سفارش منظور ہو جائے‘‘۔
نا با لغ لڑکی کی دُ عا
اَللّٰھُمَ اجْعَلْھَا لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْھَا لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَّاجْعَلْھَا لَنَا شَافِعَۃً وَّ مُشَفَّعَۃً۔
’’ اے اﷲ اس لڑکی کو ہمارے لئے آگے پہنچ کر سامان کرنے والی بنادے اور اس کو ہمارے لئے اجر اور وقت پر کام آنے والی اور اس کو ہماری سفارش کرنے والی بنا اور وہ جس کی سفارش منظور ہو جائے‘‘۔
دُعا کے بعد چوتھی تکبیر کہہ کر دونوں طرف سلام پھیردیں اور صفیں توڑ کر دُعا مانگیں۔
فائدہ۔ جنازہ کو کندھا دینا عبادت ہے اور بڑا اجروثواب ہے، یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے جنازہ کو نہ کندھادے سکتا ہے ، نہ منہ دیکھ سکتا ہے، محض غلط ہے ، صرف نہلانے اور بلا حائل پردہ بدن کو ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے، عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے۔
نماز مسا فر
مسافر وہ شخص ہے جو کم از کم ۵۷ میل(…کلو میٹر)کے سفر کے ارادے سے اپنی بستی سے باہر نکل چکا ہو، اُس پر واجب ہے کہ فقط فرض نماز میں نماز قصر کرے، یعنی چار رکعت والے فرض کو دو پڑھے اس کے حق میں دو ہی رکعتیں پوری نماز ہے، اگر سہواً یا قصداً چار پڑھے اور دو کے بعد قعدہ کرے تو فرض ادا ہو جائیں گے اور پچھلی دو رکعتیں نفل ہو جائیں گی، مگر قصداً چار پڑھنے والا سخت گنہگار ہے ، اُس پر توبہ لازم ہے، اگر مسافر مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھے گا تو چار ہی پڑھے گا، اور اگر مقیم مسافر امام کے پیچھے نماز پڑھے گا تو امام کے سلام کے بعدوہ اپنی دورکعتیں پوری کرے گا، مگر ان دو رکعتوں میں فاتحہ نہیں پڑھے گا، بلکہ بقدر فاتحہ خاموش کھڑا رہے گا، اور باقی معمول کے مطابق ادا کرے گا، وہ مسافر جب تک واپس اپنی بستی میں نہ آئے مسافر ہے اور جس شہر یا بستی میں جائے، اگر وہاں پندرہ روز یا زیادہ رہنے کی نیت ہو تو پوری نماز پڑھے گا، قصر صرف چار رکعت والے فرضوں میں ہے، سنت ووتر میں قصر نہیں، سفر میں سنتیں مکمل پڑھی جائیں۔
نماز اشراق
اس نماز کی بہت ہی زیادہ فضیلت ہے، ہمیشہ پڑھنے والے کے سب گناہ بخشے جاتے ہیں، اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں، اور اس کے واسطے جنت میں سونے کا محل ہوگا، اس نماز کی کم از کم دو رکعتیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں ہیں، افضل بارہ ہیں، اس کا وقت آفتاب بلند ہونے سے زوال تک ہے۔
نماز تسبیح
اس نماز کا بے انتہا ثواب واجر ہے اور اس کی چار رکعتیں ہیں، مکروہ وقت کے علاوہ جب چاہے پڑھ سکتا ہے بہتر یہ ہے کہ ظہر سے پہلے پڑھے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھے ، ثنا کے بعد پندرہ بار یہ کلمہ پڑھے :
سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ ِﷲِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّااﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ۔
پھر تعوذاورتسمیہ اور فاتحہ اور سورۃ پڑھ کر دس بار یہی کلمہ پڑھے پھر رکوع میں جاکر رکوع کی تسبیح کے بعد دس بار پھر یہی کلمہ پڑھے، پھر رکوع سے اُٹھ کر تسمیع وتمحید کے بعد دس بار یہی کلمہ پڑھے، پھر سجدے میں جاکر سجدے کی تسبیح کے بعد دس بار، پھر سجدے سے اُٹھ کر جلسہ میں دس بار، پھر دوسرے سجدے میں تسبیح کے بعد دس بار، پھر دوسری رکعت میں فاتحہ سے پہلے پندرہ بار اور پھر اسی ترتیب سے چار رکعتیں پڑھے، ہر رکعت مین ۷۵ بار اور چاروں رکعتوں میں تین سو بار یہ کلمہ پڑھا جائے گا۔
نماز تراو یح
خاص رمضان کی راتوں میں عشاء کے بعد اور وتروں سے پہلے جو نماز پڑھی جاتی ہے وہ تراویح ہے، تراویح مردو عورت دونوں کے لئے سنت مؤکدہ ہے، اس کی بیس رکعتیں دس سلاموں کے ساتھ ہیں، ہر چار رکعت کے بعد کچھ دیر آرام کرنا اور یہ تسبیح پڑھنا مستحب ہے۔
سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ ،سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّۃِ وَالْعَظْمَۃِ وَالْھَیْبَۃِ وَالْقُدْرَۃِ وَالْکِبْرِیَآئِ وَالْجَبَرُوْتِ سُبْحَانَ الْمَلْکِ الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَنَامُ وَلَا یَمُوْتُ ، سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْحُ ، اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیْرُ یَا مُجِیْرُ یَا مُجِیْرُ ، اَلصَّلوٰۃُ عَلیٰ مُحَمَّدْ۔
ترجمہ۔ پاک ہے ملک اور ملکوت والا، پاک ہے عزت اور بزرگی اور بڑائی والا اور دبدبے والا ، قدرت والا اور کبریائی والا اور جبروت والا، جو بادشاہ ہے ، زندہ ہے، نہ مرے گا، بہت ہی پاک اور مقدس ہمارا پروردگار ہے اور پروردگار ہے فرشتوں اور روح کا ، اے اﷲ ہمیں دوزخ سے پناہ دے، اے پناہ دینے والے، نجات دینے والے، دُرود بر سید عالم سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم۔
ضروری مسا ئل
نابالغ کے پیچھے بالغوں کی نمازتراویح نہیں ہوگی، حافظ کو اُجرت دے کر تراویح پڑھوانا ناجائز ہے، بغیر طے وگفتگو وغیرہ کے بطور عقیدت کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے، جس نے فرض جماعت سے نہیں پڑھے وہ وتر بھی جماعت سے نہ پڑھے بلکہ تنہا پڑھے۔
نماز تہجد
عشاء کی نماز کے بعد رات کو سو کر اُٹھنے کے بعد جو نماز پڑھی جاتی ہے اُسے تہجد کہتے ہیں، اس نماز کی بڑی فضیلت ہے، اس کی کم از کم دو رکعتیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں ہیں۔
نماز سفر
سفر میں جاتے وقت دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھ کرجانا اور سفر سے واپس آکر پہلے دو رکعتیں مسجد میں ادا کرنا پھر گھر جانا مسنون اور بہت ہی مبارک ہے۔
قضا نمازیں
جو نمازوقت پر نہ پڑھی جائے وہ قضا ہے اور بلا عذر شرعی نماز قضا کرنا سخت گناہ ہے، قضا کرنے والے پر ضروری ہے کہ اس کی قضا پڑھے اور سچے دل سے توبہ کرے، فرض کی قضا فرض، واجب کی قضا واجب، اور بعض سنتوں کی قضا سنت ہے، جیسے فجر کی سنتیں، جب کہ فرض بھی فوت ہوگیا ہو ، اور ظہر کی پہلی سنتیں جب کہ ظہر کا وقت ہو، قضا کے لئے کوئی وقت معین نہیں، جب بھی پڑھے گا بری الذمہ ہوجائے گا، طلوع وغروب اور زوال کے وقت جائز نہیں، مگر چاہئے کہ قضا نمازیں جلد از جلد ادا کرے، ظہر اور جمعہ کی وہ سنتیں جو فرض سے پہلے ہیں اگر رہ جائیں تو فرضوں کے بعد پڑھے اور فجر کی سنتیں اگر رہ جائیں تو سورج کے نکلنے کے بعد ظہر سے پہلے پہلے پڑھ لے تو بہتر ہے۔
ضروری با تیں
جب دو رکعت سے زیادہ پڑھنا ہوں تو تشہد پڑھ کر اﷲ اکبر کہتا ہوا کھڑا ہو ، پھر بسم اﷲ شریف پڑھ کر الحمد شریف پڑھے، اگر فرض پڑھنے ہوں تو الحمد کے بعد دوسری سورت نہ پڑھے، رکوع کرے پھر کھڑا ہو پھر سجدے کرے، اگر تین فرض پڑھنا ہوں تو سجدوں کے بعد بیٹھ جائے اور تشہد یعنی التحیات پڑھ کر درود شریف اور دعائے ماثورہ پڑھ کر سلام پھیر دے، اور اگر چار فرض پڑھنا ہیں تو تیسری رکعت میں سجدے سے کھڑا ہو اور مع بسم اﷲ الحمد شریف پڑھ کر رکوع وسجود کرکے بیٹھ جائے اور تشہد ودرود شریف اور دعائے ماثورہ پڑھ کر سلام پھیر دے، یہ فرض کابیان ہوا۔
سنت جب دو سے زائد پڑھنا ہوں تو تیسری اور چوتھی میں الحمد کے بعد بھی کوئی سورت پڑھے یعنی فرض میں تیسری اور چوتھی خالی پڑھی جائے گی اور سنت میں تیسری اور چوتھی بھی بھری پڑھی جائے گی ، اور وتر کی تیسری رکعت میں الحمد شریف اور آمین کے بعد کوئی سورت پڑھ کر اﷲ اکبر کہتے ہوئے کانوں کی لَو تک ہاتھ اُٹھا کر پھر اسی طرح ناف سے نیچے باندھ کر دُعائے قنوت پڑھی جائے، یہ طریقہ نماز پڑھانے اور بغیر جماعت اکیلے پڑھنے کا لکھا گیا ہے۔
اگر مقتدی بن کر نماز پڑھیں تو صرف پہلی رکعت میں ثناء پڑھ کر قرأت سنیں چاہے امام آواز سے پڑھتا ہو یا آہستہ ، نہ آپ الحمد پڑھیں نہ دوسری سورت، سب اسی طریقے سے پڑھیںجیسا لکھا جا چکا ہے۔
باقی دوسری اور تیسری اور چوتھی رکعت میں سبحانک اللھم بھی نہ پڑھے نہ قرأت پڑھے اور عورتیں بھی اسی طرح نماز پڑھیں، صرف چند باتوں میں فرق ہے۔
۱۔ جب نیت کر کے اﷲ اکبر کہیں تو ہاتھ صرف کاندھوں تک اُٹھائیں پھر سینے پر اُلٹے ہاتھ کی ہتھیلی کی پیٹھ پر سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی رکھیں۔
۲۔ سجدے میں پیٹ رانوں سے اور بازو پہلو سے اور کہنیاں زمین سے ملی رکھیں اور بائیں پائوں کو داہنی پنڈلی کے نیچے سے سیدھی طرف نکال لیں ، یونہی قعدے میں بیٹھیں اور یونہی سجدہ کریں ۔
نمازی کا لباس
سر پر ٹوپی یا عمامہ ہو، قمیص آدھی آستین کی نہ ہو یعنی کہنی نہ کھلی ہو، پاجامہ یا شلوار یا تہہ بند ناف کے اوپر بندھا ہو، پائوں کے گٹے کھلے ہوں، عورتیں اوڑھنی یا دوپٹہ موٹا دبیز جس سے سر کے بال نظر نہ آئیں اس طرح اوڑھیں کہ دونوں ہاتھ اندر رہیں اور پیشانی، آنکھ، ناک، مونہہ کے سوا کچھ نہ کھلا رہے، یعنی گلا، کان، سر کے بال نہ دکھائی دیں، کپڑے پاک صاف ہوں۔
مرد اور عورت کی نماز میں فرق
| مرد | عورت |
|---|---|
| کانوں کی لو تک ہاتھ اُٹھائے۔ | تکبیر تحریمہ کے وقت صرف کاندھوں تک ہاتھ اُٹھائے۔ |
| ہاتھ کھلے رکھے مگر کہنیاں نہ کھلی ہوں۔ | آستینوں یا دوپٹہ کے اندر سے ہاتھ باہر نہ نکالے۔ |
| دائیں ہتھیلی بائیں کلائی پر رکھے اور انگوٹھے اور چھنگلیا سے بائیں کلائی پکڑے۔ | دائیں ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھے اور انگلیاں ملی رکھے۔ |
| ناف کے نیچے ہاتھ باندھے، نظر سجدہ کی جگہ رکھے۔ | سینے پر ہاتھ باندھے، نظر سجدہ کی جگہ رکھے۔ |
| رکوع میں اتنا جھکے کہ پیٹھ بالکل سیدھی رہے، سر پیٹھ کے برابر، نہ اونچا نہ نیچا۔ | رکوع میں صرف اتنا جھکے کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں ، پیٹھ سیدھی نہ کرے۔ |
| ہاتھوں پر زور دے کر رکوع کرے، ہاتھوں کی اُنگلیاں پھیلی ہوئی رکھے۔ | رکوع میں ہاتھوں پر سہارا نہ دے، رکوع میں ہاتھوں کی انگلیاں ملی رکھے۔ |
| رکوع میں گھٹنوں کو خوب سیدھا کرے، رکوع میں گھٹنوں کو زور سے پکڑے اور نظردونوں قدموں کی پشت پر رکھے۔ | رکوع میں گھٹنوں کو جھکالے، رکوع میں گھٹنوں پر صرف ہاتھ رکھ لے زور سے نہ پکڑے اور نظر دونوں پائوں کی پشت پر رکھے۔ |
| رکوع میں کشادہ رہے۔ | رکوع میں سمٹی رہے۔ |
| سجدہ میں دونوں پائوں کی اُنگلیوں پر اتنا زور دے کہ اُنگلیاں ٹیڑھی ہوکر قبلہ رُخ ہو جائیں، اور ہر حصہ بدن کو کشادہ رکھے۔ | سجدہ میں بغلیں سمٹی رکھے اور پائوں باہر نکال کر بازو کروٹوں سے اور پیٹ ران سے اور ران پنڈلیوں اور پنڈلیاں زمین سے ملائے رکھے۔ |
| سجدہ میں ہتھیلیاں زمین پر بچھی ہوں، بغلیں کھلی ہوں۔ | سجدہ میں دونوں ہاتھ کہنیوں تک بچھادے۔ |
| قعدہ میں داہنا پائوں کھڑا ، بایاں بچھا کر بیٹھے۔ | قعدہ میں دونوں پائوںباہر نکال کر سرین پر بیٹھے۔ |
| قعدہ اور جلسہ میں ہاتھوں کی انگلیاںکشادہ رکھے۔ | قعدہ اور جلسہ میں ہاتھوں کی انگلیاں ملی رکھے۔ |
| مرد عورت کی امامت کرسکتا ہے۔ | عورت مرد کی امامت نہیں کرسکتی۔ |
| مرد کو جماعت سنت مؤکدہ قریب واجب ہے۔ | عورت کی جماعت مکروہ تحریمی ہے۔ |
| مرد پر جمعہ وعیدین واجب ہیں۔ | عورت پر جمعہ وعیدین کی نماز نہیں۔ |
| مرد کے لئے اُجالا ہونے کے بعد نماز فجر پڑھنا مستحب ہے۔ | عورت کے لئے فجر کی نماز اندھیرے میں مستحب ہے۔ |
| ایام تشریق میں تکبیریں مردوں پر واجب ہیں۔ | پر ایام تشریق میں تکبیریں نہیں۔ |
جماعت کی نمازوں میں ملنے کا طریقہ
فجر کی دوسری رکعت میں ملنے کا طریقہ۔
امام صبح کے دو فرض پڑھ رہا ہے ، مقتدی دوسری رکعت میں مل رہا ہے، اب وہ اکیلا پہلی رکعت کو اس طرح پڑھے گا کہ پہلے ثنا پھر فاتحہ پھر سورت پڑھ کر اپنی پہلی رکعت کو پورا کرے گا۔ جمعہ کی نماز میں امام کے ساتھ ملنے کا بھی طریقہ وہی ہے جو فجر کی نماز میں ملنے کا ہے۔
ظہر، عصر اور عشاء کی دوسری رکعت یں ملنے کا طریقہ
امام چار رکعت نماز پڑھا رہا ہے، مقتدی دوسری رکعت میں مل رہا ہے، اب اس نے امام کے پیچھے دوسری، تیسری اور چوتھی رکعت ترتیب سے پڑھ لی ہے، اس کی پہلی رکعت باقی رہ گئی ہے، وہ اس طرح پڑھے گا کہ پہلے ثنا، پھر فاتحہ، پھر سورت، اس طرح اُس کی پہلی رکعت پوری ہوگی۔
ظہر، عصر اور عشاء کی تیسری رکعت میں ملنے کا طریقہ
امام چار رکعت نماز پڑھا رہا ہے، مقتدی تیسری رکعت میں مل رہا ہے، اب اس نے امام کے پیچھے تیسری اور چوتھی رکعت تو ترتیب کے ساتھ ادا کرلی ہے، اب مقتدی کی پہلی اور دوسری رکعت بچ گئی ہے، اب وہ کھڑا ہوکر پہلی رکعت اس طرح ادا کرے گا کہ پہلے اس میں ثنا، پھر فاتحہ ، پھر سورت پڑھے گا، پھر رکوع، سجدہ کرنے کے بعد کھڑا ہوکر دوسری رکعت اس طرح ادا کرے گا کہ اس میں پہلے فاتحہ پھر سورت پڑھے گا اور اپنی دوسری رکعت پوری کرے گا۔
ظہر، عصر اور عشاء کی چوتھی رکعت میں ملنے کا طریقہ
امام چار رکعت نماز پڑھا رہا ہے، مقتدی امام کے پیچھے چوتھی رکعت میں مل رہا ہے، اب مقتدی نے امام کے پیچھے صرف اپنی چوتھی رکعت ادا کی، ترتیب کے لحاظ سے اب اس کی پہلی، دوسری اور تیسری رکعت باقی رہ گئی، اب وہ اپنی پہلی رکعت کو اس طرح پڑھے گا کہ پہلے اس میں ثنا، پھر فاتحہ، پھر سورت پڑھ کر رکوع اور سجود کرے گا اور قعدہ میں التحیات پڑھے گا، کیونکہ اس کی دو رکعتیں پوری ہوگئیں ، ایک اس نے امام کے ساتھ چوتھی رکعت پڑھی تھی اور ایک اب علیحدہ پڑھی ، то اس کی دو رکعتیں ہوگئیں، پھر دوسری رکعت میں فاتحہ اور سورت پڑھے گا، باقی رہ گئی تیسری رکعت تو چونکہ فرض کی آخری رکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھی جاتی ہے، اس لئے اس میں صرف فاتحہ پڑھ کر تیسری رکعت پوری کرے گا، اس ترتیب سے اس ساری رکعتیں پوری ہو جائیں گی، اب بیٹھ کر التحیات ، درود شریف اور دُعا پڑھ کر سلام پھیردے گا۔
مغرب کی دوسری رکعت میں ملنے کا طریقہ
امام تین رکعت کی جماعت کرارہا ہے، مقتدی دوسری رکعت میں مل رہا ہے، اب مقتدی نے امام کے پیچھے دوسری اور تیسری رکعت تو پڑھ لی، اس کی پہلی رکعت باقی رہ گئی، وہ کھڑا ہو کر اسے اس طرح پڑھے گا کہ پہلے اس میں ثناپھر فاتحہ اور پھر سورت پڑھے گا۔
ماہ رمضان میں وتر کی جماعت میں بھی ملنے کا یہی طریقہ ہے۔
مغرب کی تیسری رکعت میں ملنے کا طریقہ
امام تین رکعت کی نماز پڑھا رہا ہے، مقتدی تیسری رکعت میں مل رہا ہے، اب مقتدی کی تیسری رکعت تو امام کے پیچھے ادا ہو گئی ، پہلی اور دوسری رکعت باقی رہ گئی، اب وہ پہلی رکعت کھڑا ہو کر اس طرح پڑھے گا کہ پہلے ثنا پھر فاتحہ پھر سورت پڑھ کر رکوع اور سجود کرے گا، اب چونکہ اس کی دو رکعتیں پوری ہو گئیں ہیں، اس لئے بیٹھ کر التحیات پڑھے گا، پھر کھڑا ہوکر دوسری رکعت اس طرح ادا کرے گا کہ پہلے اس میں فاتحہ پھر سورت پڑھ کر رکوع و سجود کرے گا، اور التحیات ، درود شریف اور دُعا پڑھ کر سلام پھیر دے گا۔ اس کو اس طرح تین التحیات پڑھنے پڑتے ہیں، ایک امام کے پیچھے اور دو اکیلے۔
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی دوسری رکعت میں ملنے کا طریقہ
امام عید کی دو رکعت پڑھا رہا ہے، مقتدی دوسری رکعت میں مل رہا ہے، اب ترتیب کے لحاظ سے مقتدی کی پہلی رکعت رہ گئی، اب وہ اپنی پہلی رکعت اس طرح ادا کرے گا کہ پہلے ثنا پھر فاتحہ پھر سورت پڑھ کر تین تکبیریں پڑھے گا اور ہر تکبیر کے وقت ہاتھ کانوں تک اُٹھائے گا، پھر چوتھی تکبیر پڑھ کر رکوع کرے گا اور رکعت پوری کرکے سلام پھیر دے گا۔
تمت بالخیر
معلومات
قارئین سے گزارش ہے کہ کوئی غلطی دیکھیں تو github پر مطلع کریں یا PR بھیجیں تاکہ درستگی کردی جائے۔