مصنّف: فیضِ ملّت،اُستاذ العرب والعجم، شمس المصنّفین،مفسّرِاعظم پاکستان حضرت علّامہ ابوالصالح مفتی محمد فیض احمد اُویسی رضوی مدظلہ العالی
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
امّابعد!بچپن میں سنا تھا کوفی لایوفی۔یہ جملہ دراصل وہابی اور شیعہ برادری نے پھیلایا ہوا ہے۔اس سے صرف مقصد یہ ہے کہ سُنّیوںکے امامِ فقہ حضرت امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ بدنام ہوں۔گویا اس جملے سے متاثرہو کر سُنّی امامِ اعظم رضی اللہ عنہ سے بدظن ہو جائینگے۔ لیکن جب فقیرعلومِ اسلامیہ سے شرفیاب ہوا تو معاملہ برعکس پایا۔ وہ یہ کہ کوفی ہی تو تھے جنہوں نے اِمام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے یہاں بلوایا اور پھر وہ یزید کے لشکرمیں مل کر خود ہی قاتلینِ حسین بنے۔فقیر نے اس مخفی راز کو اَزبر کرنے کے بعد اس رسالہ کا نام بھی یہی تجویزکیاکوفی لایوفی۔
وما توفیقی الاباﷲ العلی العظیم وصلّی اﷲ علی حبیبہ الکریم و علیٰ آلہ و اصحابہ وبارک و سلم
الفقیرالقادری ابوالصالح مفتی محمد فیض احمد اُویسی رضوی غفرلہٗ بہاولپور ،پاکستان یکم صفر ۱۴۰۹ھ،۱۳ستمبر۱۹۸۸ء بروز منگل
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
لوگوں بالخصوص وہابی اور شیعوں کی غلطی ہے کہ ’کوفہ‘ کے لوگ بے وفا (غدّار)ہوتے ہیں ۔اس اِزالہ سے پہلے ضروری ہے کہ’کوفہ‘ کا تعارف عرض کردوں۔
کوفہ
تواریخ میں ہے کہ شہرِ کوفہ کو حضرت عُمراِبن الخطاب صکے حکم سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ۱۷ھ میں بسایا۔اوّل یہ چھاؤنی تھا۔(تاریخ الخلفاء)
مُحلِّ وُقوع
کوفہ دریائے فرات کے مغربی کنارے پر اور ایران وعرب اور شام کی سرحد پر واقع ہے ۔اُس زمانہ میں کوفہ اور بصرہ کوس کے نا م سے جانا جاتا تھا اور کربلائے معلّیٰ اور نجف اشرف وہ بستیاں ہیں جو بعد میں آباد ہوئیں۔جہاں آج کل زیادہ آبادی شیعوں کی ہے ۔کوفہ کے سب سے پہلے گورنر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ اسی لئے ان کا تعارف ضروری ہے۔
تعارف سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ
حضرت سعد بِن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کوفہ کے پہلے عامل(ملٹری گورنر)تھے۔ اُنہیں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مقرّر کیا تھا۔ جو عراق میں جنگِ قادسیہ سے ابھی ابھی فارغ ہوئے تھے ۔یہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نائب ، حضرت عثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ کے بہنوئی اور حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی تھے۔ آپ بہت بڑے فضائل و کمالات کے حامل تھے۔
تعارف
اسمِ گرامی ’’سعد‘‘ اور کُنیت’’ابو اسحاق‘‘ تھی۔ والد کا نام ’’مالک‘‘ اور کُنیت’’ابو وقاص‘‘ تھی۔ حضرت سعد بن ابی وقا رضی اللہ عنہ صکا خاندان ’’قریش ‘‘ تھا۔ وہ قریش کی معزّز شاخ ’’بنوزہرہ‘‘سے تعلق رکھتے تھے۔صحیحین میں ان کا سلسلۂ نسب اِس طرح منقول ہے ’’ابی اسحاق بن ابی وقاص مالک بن وہیب بن عبدِ مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی القریشی الزّہری۔‘‘
آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام حمنہ بنتِ سفیان بن اُمیّہ بن عبدالشمس تھااور بنواُمیّہ سے تعلق رکھتی تھیں۔پانچویں پشت میں کلاب بن مرہ پر اِن کاسلسلۂ نسب رسول اکرم ا کے نسب نامہ سے مل جاتا ہے۔حضورِ اکرم اکی والدۂ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اﷲ عنہا بھی قبیلۂ زُ ہرہ سے تھیںاور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے والد ابو وقاص مالک، رشتہ میں حضورا کے ماموں ہوئے تھے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ ماموں زاد بھائی۔حضورا کبھی کبھی ازراہِ محبت و شفقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بھی ماموں کہہ کر پکارتے تھے۔لوگوں کی نگاہوں نے آپ صکے اعمال پر سخت نکتہ چینی کی اور الزام لگائے کہ یہ نماز ٹھیک طرح سے نہیں پڑھاتے ۔اموالِ غنائم کو ٹھیک طرح سے نہیں بانٹتے اور جنگ میں تلوار نہیں سنبھالتے۔(بخاری)
حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ بحیثیتِ گورنر
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے معزول ہونے کے بعد تھوڑے وقفہ کے لئے حضرت عمار بن یاسر صکو کوفہ کا ملٹری گورنر مقرر کیا گیا۔ مگر حکمران کی مرضی سے جلد ہی گورنری واپس لے لی گئی۔(کتاب الصلوٰۃ، صحیح بخاری)
اس دوران حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ایران فتح ہوگیا تھااور پھر اِسی سال میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر مقرر ہوئے جوحضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے وصال تک گورنر رہے ۔
(تاریخِ طبری جلد ۴،استیعاب وغیرہ ہا)
حُلیۂ حضرت سعد رضی اﷲ عنہ
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بنتِ سعد صسے مروی ہے کہ میرے والد کہتر قامت(چھوٹے قدوالے) ،جسیم(بھرے ہوئے جسم والے) اور بڑے سروالے تھے ،انگلیاں موٹی تھیں اور بال بہت تھے۔
قبولِ اسلام
حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہجرتِ نبوی سے تقریباًتیس (۳۰) برس قبل مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔سرورِ دوعالم اکی بعثت کے وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا عُنفُونِ شباب(جوانی کا آغاز) تھا۔جونہی اِن تک دعوتِ توحید پہنچی، اُنہوں نے بلا تامل(غور کئے بغیر) اس پر لبیک کہا اور’’سابقون الاوّلون‘‘ کی مقدّس جماعت میں شامل ہوگئے۔ ’اسد الغابۃ ‘ میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ چھ(۶) آدمیوں کے بعد اسلام لائے اور بعض کے نزدیک چار(۴) آدمیوں کے بعد اسلام لائے ۔حضرت سعد صسے مروی ہے کہ’ میں نماز فرض ہونے سے پہلے مسلمان ہوا تھا‘۔آپ صاِن لوگوں میں سے ہیں جن کے جنتی ہونے کی گواہی حضورا نے دی ہے۔
قبولِ اسلام پر ایذأ واِبتلاء
قبولِ اسلام کے بعد کوئی ایسی سختی اور مصیبت نہ تھی ،جو انہوں نے مشرکین کے ہاتھوں نہ جھیلی ہوں ۔کفار سے گالیاں کھائیں،طعنے سہے اور جسمانی اذیتیں برداشت کیں۔ لیکن کیا مجال کہ ان کے پائے استقلال میں ذرّہ برابر لغزش آئی ہو۔
دعوتِ حق کے آغاز میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کفار کی شر انگیزیوں سے بچنے کے لئے مکّہ کے قریب پہاڑوں کی سنسان گھاٹیوں میں چھپ کر خدائے واحدل کی عبادت کیا کرتے۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی انہی نفوسِ قدسیہ میں شامل تھے ۔ ایک دن وہ دوسرے چند صحابہ رضی اللہ عنہمکے ساتھ ایک ویران گھاٹی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ چند مشرکین ادھر آنکلے۔ اُنہوں نے اِن پر حملہ کردیا۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی اُٹھتی جوانی تھی۔ اُنہیں جوش آگیاپاس ہی اُونٹ کی ایک ہڈی پڑی تھی اسے اُٹھا کر مشرکین پر ٹوٹ پڑے۔ایک مشرک کا سر پھٹ گیا اور اُس میں سے خون بہنے لگا۔اب دشمنانِ اسلام نے وہاں سے بھاگنے ہی میں اپنی خیریت سمجھی۔
ابنِ اَثیر کا بیان ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص صپہلے شخص ہیں جنہوں نے حق کی راہ میں خونریزی کی ۔
ہجرت سے قبل وہ تین سال( ۷ ن تا ۱۰ ن )تک حضورا کے ساتھ ’ شعب ِابی طالب‘ میں محصور رہے۔شعبِ ابی طالب کی محصوری اگرچہ بنی ہاشم اور بنومطلب سے مخصوص تھی لیکن حضرت سعد صنے ہاشمی اور مُطّلبی نہ ہونے کے باوجودبھی محض اﷲ ل اور اﷲل کے حبیب ا کی خاطر بنوہاشم اور بنو مطلب کا ساتھ دیا۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رات کو اُنہیں سوکھے ہوئے چمڑے کا ایک ٹکڑا کہیں سے مل گیا انہوں نے اسے پانی سے دھویا پھر آگ پر بُھونا،کُوٹ کر پانی میں گھولا اور ستّوکی طرح پی کر پیٹ کی آگ بجھائی۔
ہجرتِ مدینہ
حضورا نے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مدینہ پاک کی طرف ہجرت کی اجازت دی تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بھائی حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے ۔ صحیح بخاری میں حضرت براء انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
اول من قدم علینا مصعب رضی اﷲ عنہ بن عمیر و ابن کلثوم رضی اﷲ عنہا و کان یقرء ان النّاس ، فقدم بلال رضی اﷲ عنہ و سعد رضی اﷲ عنہ و عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ۔(صحیح بخاری شریف)
ترجمہ: ہمارے پاس (یعنی مدینہ میں)سب سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابنِ اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہ وارد ہوئے۔یہ دونوں لوگوں کو قرآن پڑھاتے تھے ان کے بعد حضرت بلال ص،حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آئے۔
یثرب(مدینۃ المنوّرہ) پہنچ کر حضرت سعد صاور حضرت عمیرص اپنے بڑے بھائی عتبہ کے مکان پر فروکش (مقیم) ہوئے ۔عتبہ نے جنگِ بعاث سے قبل مکّہ میں ایک شخص کو قتل کر دیا تھا اور قصاص کے خوف سے بھاگ کر یثرب (مدینتہ المنّوّرہ) میں پناہ لی تھی ۔عتبہ اگرچہ مشرک تھالیکن اس نے نہایت اخلاق سے اپنے دونوں بھائیوں کو اپنے پاس ٹھہرایالیکن اس کی اسلام دشمنی نے چھوٹے بھائیوں کو ذرّہ برابر بھی متاثرنہ کیا اور شروع سے لیکر آخر تک اسلام سے ان کی شیفتگی (محبت) برقرار رہی۔
مردِصالح
مدینہ پاک کی طرف ہجرت کے بعد کا زمانہ بڑا پُر خطر زمانہ تھا ۔دشمنانِ اسلام مدینہ پر حملے کے لئے پَر تول رہے تھے ۔ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اﷲا شروع شروع میں مدینہ تشریف لائے تھے تو ایک شب حضور اکے آرامِ مبارک میں خلل واقع ہوا ۔آپ انے فرمایاکاش کوئی رَجُلٌصَالِحٌ(مردِ صالح)آج پہرہ پر ہوتا اتنے میں ہم نے ہتھیاروںکی جھنکار سُنی ۔ حضورا نے پوچھایہ کون ہے؟ جواب ملا میں سعدص ہوں ۔فرمایا کس لئے آئے ہو؟عرض کی میرے دل میں رسول اﷲا کی نسبت خوف پیدا ہوا، اس لئے پہرہ دینے کے لئے حاضر ہواہوں۔رسول اﷲ ا نے ان کے لیے دعا فرمائی اور سوگئے۔
غزوات میں شرکت
ہجرت کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہواتو حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تقریباً ہر غزوہ میں شریک ہوئے ۔ رمضان المبارک ۲ھ میں بدر کے میدان میں کفر و حق کا معرکۂ اوّل پیش آیا تو حضرت سعدصنے والہانہ جوش و خروش سے حصہ لیا۔ اثنائے جنگ میں اُن کا مقابلہ قریش کے نامی بہادر سعید بن عاص سے ہوگیا۔ اُنہوں نے فوراً سعید کو خاک و خون میں ملادیا ۔ غزوۂ بدر میں حضرت سعدص کے نو عمر بھائی حضرت عمیرص شہید ہوگئے۔ جنگِ اُحد میں جب سوئے اتفاق سے لڑائی کا پانسہ بدل گیا اور مسلمانوں میں انتشار پھیل گیا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ اُن اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے تھے جو شروع سے آخر تک رحمتِ عالم ا کی ڈھال بنے رہے ۔حضرت علیصسے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم اسے سوائے حضرت سعدصکے کسی کے لئے نہیںسُنا کہ آپ انے اس پر اپنے والدین کو فدا ہونے کو کہا میں نے یوم ا لاُحد میں یہ فرماتے سنا:
’’ یَا سَعَدَ اِرُمِ فِدَاکَ اَبِیْ وَاُمِّیْ‘‘
ترجمہ:اے سعد تیر اندازی کرو ،میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ۔
حضرت عائشہ بنتِ سعد رضی اﷲ عنہا نے اپنے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا:
الاھل اتی رسول اﷲ انی،حمیت صحابتی بصدور نبلی،أزود بہاعدوھم ذیادًا، بکل حزونۃ و بکل سھلٍ، فما یعتد رامٍ من معدٍ،بسھمٍ مع رسول اﷲ قبلی۔
ترجمہ: ’’اے وہ کہ رسول اﷲاکے پاس آیا ہے، میں نے اپنے تیروں کی نوک سے اپنے ہمراہیوں کی حفاظت کی ،میں اُن تیروں کے ذریعے اُن اکے دشمن کو دفع کرتا تھا،ہرسخت زمین سے اور ہر نرم زمین سے، مجھ سے پہلے کوئی شخص رسول اﷲ ا کا تیر انداز شمار نہیں ہوتاتھا۔‘‘
غزواتِ بدر و اُحُد میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جس جانبازی اور جذبۂ fdoیت کا مظاہر ہ کیا بعد کے تمام غزوات میں بھی وہ اُسی جذبہ کے ساتھ شریک رہے۔مؤرخین نے بدر ،اُحُد ،اَحزاب ،خیبر،فتحِ مکّہ ،حُنین، طائف اور تُبوک کے غزوات میں رسول اکرم ا کے ساتھ حضرت سعدص کی شرکت کا صراحت کے ساتھ ذکرکیا ہے ۔اسی طرح بیعتِ رضوان میں بھی اُن کی شرکت مسلّم ہے۔
عہدِصدّیقی و فاروقی
۱۱ھ میں حضور ا نے رِحلت فرمائی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرّر ہوئے تو حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بلا تامل بیعت کرلی ۔حضرت ابوبکرصدیق صنے انہیں بنوہوازن کا عامل مقرر کردیا ۔ ۱۳ھ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسندِ خلافت پر بیٹھے تو اُنہوں نے بھی حضرت سعد صکو اس منصب پر برقرار رکھا لیکن قدرت انہیں کسی عظیم تر مقصد کے لئے منتخب کرچکی تھی۔
جنگِ قادسیہ
حضرت عمرصنے ایران جانے والی فوجوں کی قیادت حضرت سعد بن ابی وقاصص کے سپرد کی ۔حضرت سعدص چار ہزار(۰۰۰،۴)سرفروشوں کے ساتھ مدینہ منوّرہ سے روانہ ہوئے ۔راستے میں bاری باری کئی دستے ان کے ساتھ مل گئے اور فوج کی تعداد تیس ہزار(۰۰۰،۳۰) تک پہنچ گئی۔حضرت سعدص مدینہ شریف سے ثعلبہ پہنچے وہاں سے شراف اور شراف سے کوچ کرکے عذیب پہنچے جو ایرانیوں کی سرحدی چوکی تھی۔ ’عذیب‘ میں چند دن قیام کے بعد حضرت سعدص نے ’’قادسیہ ‘‘کے مقام پر پڑاؤڈالا۔شاہِ ایران’ یزدگر‘ نے اپنے سپہ سالار ’ رستم‘ کی زیرِ قیادت ایک لشکر ِ جرار’قادسیہ‘ روانہ کیا۔حضرت سعدص نے تین چار (۳،۴)سفارتیں روانہ کیں لیکن صلح کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی ۔رُستم بڑے جاہ وجلال کے ساتھ دریائے فرات سے پار اُترااور مسلمانوں کے سامنے صف آرائی کی۔ اس وقت دو لاکھ (۰۰۰،۰۰،۲) جنگجو اُس کے جھنڈے تلے جمع تھے ۔دوسری طرف اسلامی لشکر کی تعداد تیس ہزار (۰۰۰،۳۰)کے لگ بھگ تھی ۔ ایرانیوں نے سب سے پہلے جنگی ہاتھیوں کو مسلمانوں کی طرف دھکیلا ۔بنی تمیم نے تکبیرکا نعرہ لگا کر اس جوش سے حملہ کیا کہ ہاتھیوں کے منہ پھیر دیئے اور اُن کے سواروں کو اپنے نیزوںاور تیروں سے نیچے گرادیا۔اب دونوں فوجوں میں دست بدست گھمسان کی لڑائی ہوئی ۔قادسیہ کی جنگ کا یہ دوسرا دن ’’یوم الارماث‘‘ کا دن کہلاتا ہے اس دن پانچ چھ سو (۵۰۰،۶۰۰)کے قریب مسلمان شہید ہوئے اور ہزارہا ایرانی ہلاک ہوئے۔
دوسرے دن دونوں فوجیں پھرایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہوگئیں ،طبلِ جنگ پر چوٹ پڑی ہی تھی کہ حضرت قعقاع بن عمروتمیمیص ’ شام‘ سے ایک ہزار(۱۰۰۰) جانبازوں کے ساتھ پہنچ گئے ۔اس کُمک(فوج)کے پہنچ جانے سے مسلمانوں کو بڑی تقویت حاصل ہوئی ۔ مقابلہ شروع ہواتو پہلے دن کی طرح ہاتھیوں نے پھر مسلمانوں پر قیامت ڈھا دی ۔حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ نے اس مصیبت سے تدارک کے لئے اُونٹوں پر بڑی بڑی جھولیں ڈال کر انہیں بھی ہاتھیوں کی طرح مہیب(ڈراؤنا) بنا دیا۔ایرانیوں کے گھوڑے انہیں دیکھ کر بِدکتے اور مسلمان ان کے سواروں کو اپنے نیزوں پر رکھ لیتے عین اُس وقت حضرت ہاشمص بن عتبہ پانچ ہزار(۰۰۰،۵) جوانوں کی اِمدادی فوج کے ساتھ شام سے قادسیہ پہنچ گئے ۔اس تائیدِ غیبی نے مسلمانوں کے حوصلے دوچند کردیئے۔جنگِ قادسیہ کا دوسرا دن ’’یوم الاغواث‘‘ کہلاتا ہے ۔ اِس دن دس ہزار (۰۰۰،۱۰ )ایرانی قتل ہوئے اور دوہزار(۰۰۰،۲) مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
تیسرے دن پھر دونوں فوجیں ایک دوسرے سے گَتھ گئیں ۔حضرت سعدص نے پختہ ارادہ کیا کہ آج لڑائی کا فیصلہ ہو کر رہے گا ۔پورا دن لڑائی ہوتی رہی اب شام ہو چکی تھی لیکن حضرت سعدصلڑائی کا فیصلہ کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے اپنی فوج کو ازسرِ نو مرتّب کیا اور پھر سے ایرانیوں پر فیصلہ کن حملے کا حکم دیا ۔جوشِ شہادت سے سرشار مجاہدین نے ایرانیوں پر ایسا جان توڑ حملہ کیا کہ اُن کے قدم اُکھڑ گئے۔
حضرت قعقاعص ،حضرت عاصمص، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ بن معدیکرب، حضرت قیسص بن اشعث اور اُن کے جانباز ساتھی رُستم کے تخت تک پہنچ گئے ۔رُستم شدید زخمی ہوکر بھاگا اور دریا میں چھلانگ لگادی۔حضرت ہلال بن علقمہ نامی صایک مجاہد نے اُس کی ٹانگ پکڑکر باہر گھسیٹ لیا اور اُس کا سر کاٹ لیا پھر رُستم کے تخت پر چڑھ گئے اور زور سے پکار ا ’’میں نے رُستم کو قتل کردیا‘‘اس آواز کے سنتے ہی ایرانیوں کے ہوش و حواس اُڑ گئے اور وہ گاجر مولی کی طرح ذبح ہوگئے ۔جس رات یہ خونی معرکہ سَر ہوا اسے ’’لیلۃ الہریر‘‘کہتے ہیں ۔اس سے پہلا یعنی جنگ کا تیسرا دن ’’یوم العماس‘‘ کے نام سے مشہور ہے ۔ اِس لڑائی میں تیس ہزار(۰۰۰،۳۰) ایرانی ہلاک ہوئے۔
قادسیہ کی عظیمُ الشان فتح کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بابل تک ایرانیوں کا تعاقب کیا اورآس پاس کے سارے علاقے پر قبضہ لیا ۔پھر مدائن کی طرف بڑھے اور اس کے مغربی حصے (بہرہ شیر )کا محاصرہ کر لیا ۔سارے ایرانی خاص مدائن میں (جو دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر آباد تھا)سمٹ کر جمع ہو گئے ۔اُنہوں نے دریا کا پُل توڑدیا اس وقت دریا میں خوفناک طغیانی آئی ہوئی تھی ۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اﷲ ل کا نام لے کر اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا ۔دوسرے مجاہدین نے بھی ان کی پیروی کی ایرانی یہ دیکھ کر ششدر ہ گئے۔ دیواں آمند، دیواں آمند (دیو آگئے ، دیو آگئے) کہتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے ۔یزدگر اپنا حرم اور خزانے کا ایک حصہ پہلے ہی حلوان بھیج چکا تھا لہذا مدائن سے بھاگ نکلا۔
مدائن کی فتح کے بعد مسلمانوں نے آگے بڑھ کر جلولا،حلوان ،تکریت،موصل، ہیت اور ماسبذ وغیرہ بھی فتح کرلئے اور عراق و عرب کی آخری حد تک ان کا استیلا(غلبہ ) ہوگیا ۔اس کے بعد حضرت عمرص نے آگے بڑھنے سے روک دیا اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو مفتوحہ علاقے کا والی بنا کر اس کے نظم و نسق کی طرف توجہ کرنے کا حکم دیا۔
اخلاق و عادات
حضرت سعدصکا چمنِ اخلاق گُلہائے رنگارنگ سے آراستہ تھا ۔سبقت فی الاسلام،حُبِّ رسول ص،تحملِ شدائد،غیرتِ دینی ،اتباعِ سنت، زہد و تقویٰ، شجاعت، تواضع و ایثار،سخاوت،انکساراورحق گوئی و بے باکی ان کے مخصوص اوصاف تھے۔حضور نبی کریم اسے والہانہ محبت کی بدولت ان کو بارگاہ نبوی امیں خصوصی تقرّب حاصل ہوگیا تھا۔ ایک مرتبہ حضور انے ان کے حق میں دعا کی کہ :’’اے اﷲ ل! سعد رضی اللہ عنہ جب تجھ سے دعا کرے تواس کو قبول کر‘‘۔
حضرت سعدص کو بعض لوگ شوقِ جہاد اور شجاعت کی بناء پر فارسُ الاسلام (شہسوارِ اسلام)کہہ کر پکارتے تھے ۔ اربابِ سیر نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے دوسرے اُوصاف و محاسن کے علاوہ ان کے ذوقِ عبادت ،خوف ِخدا اور علم و فضل کا ذکر بھی خصوصیت سے کیا ہے ۔ان پر ہر وقت خشیّتِ الٰہی کا غلبہ رہتا تھا۔ نہایت کثرت سے روزے رکھتے تھے اور رات کا بیشتر حصہ یادِ الٰہی میں گزارتے تھے۔
اﷲتعالیٰ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو عشقِ رسول ا،صبر واستقلال اور شجاعت جیسے اوصاف کے علاوہ تدبیر و سیاست، انتظامِ سلطنت اور قیادتِ جہاد جیسی صلاحیتوں سے بھی بہرہ ورفرمایا تھا ۔اسلام کو جہاں اور جس طرح کی ضرورت ہوئی انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کا نذرانہ فوراً پیش کردیا۔
وفات و تدفین
حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا ’ عقیق ‘میں انتقال ہوا وہ مدینہ شریف لائے گئے اور وہیں دفن ہوئے۔حضرت مروان بن الحکمصنے امہات المومنین رضی اﷲ عنہما کے سامنے نماز جنازہ پڑھائی ۵۵ھمیں آپ رضی اللہ عنہ بقیع میں مدفون ہوئے۔
فضائلِ کوفہ
شبلی نعمانی’’ سیرۃالنعمان‘‘ کے صفحہ نمبر ۲۸ پر لکھتا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر دور میں،ہر مقام ایک حالت میں رہے ۔ایک زمانہ تھا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کوفہ کو کنزالایمان (ایمان کا خزانہ) ، راس الاسلام او ر راس العرب کہا کرتے تھے۔
۲۱ھ میں حضرت سعد بن ابی وقاصرضی اللہ عنہ حکومتِ کوفہ سے معزول ہوئے۔ کیونکہ اہلِ کوفہ کی انتقادی (تنقیدی) باتوں سے آپص معزول کر دیئے گئے چونکہ تنقیدیں غلط تھیں اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی کمی نہ آئی لیکن غلط ناقدین کا انجام برباد ہوا ۔ تفصیل کیلئے دیکھئے فقیر کی تصنیف ’’کراماتِ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین‘‘
عہدِ عثمانی
حضرت عثمان بن عفانصنے اپنی حکومت کے تیسرے روز مغیّرہ کو معزول کرکے پھر اپنے دُور کے رشتہ دار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہی کو گورنر ِ کوفہ مقرر کردیا لیکن اُنھیں جلد ہی معزول کرکے اپنے ماوری بھائی حضرت ولید بن عقبہص کو ۲۵ھ میں حاکمِ کوفہ مقرر کردیا۔
عہدِ علوی
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس شہر کو اسلامی دارلخلافہ قرار دیکر مدینہ طیبہ سے ہجرت کرکے مستقل سکونت کوفہ میں رکھی ۔ آج تک آپص کی رہائش گاہ جامع مسجد کوفہ کے شمالی جانب موجود ہے اور آپ صکے گھر کے کنواں کی بھی فقیر نے مع رفقاء کئی بار زیارت کرنے کا شرف حا صل کیا ہے۔اِسی جامع مسجد میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور اسی کے نواح پر نجفِ اشرف میں مدفون ہوئے ۔(واﷲ اعلم)
عقائدِ اہلِ کوفہ
’’نقض الروافض‘‘ میں لکھا ہے کہ:
واما الکو فیون فالطبقۃ الاولیٰ منھم اصحاب ابن مسعود یقدمون قول عمر علیٰ قول علی واولئک افضل الکوفیین حتیٰ قضا تہ حتیٰ شریح و ابو عبیدہ و امثالھا کانوایرجحون قول عمر علیٰ قول علی۔
ترجمہ: یعنی کوفیوں کا پہلا طبقہ اصحابِ ابن مسعود کا ہے اور یہ اور کوفہ کے قاضی شریح و ابو عبیدہ وغیرہ حضرت علیصکے قول پر حضرت عمرصکے قول کو ترجیح دیتے تھے۔
یہی اہلسنّت کا مذہب ہے کہ فضیل بہ ترتیب ِخلافت ہے ۔چنانچہ اہلسنت کی مستند کتب میں ہے کہ:
وتفضیل ابی بکر و عمر متفق علیہ بین اھل السنۃ و ھٰذاالترتیب بین عثمان و علی ھو ما علیہ اکثر اھل السۃ خلافا لماروی عن بعض اھل الکوفہ والبصرۃ من عکس القضیہ ۔
ترجمہ: حضرت ابو بکر وعمر کی تفضیل(فضیلت) پر اہلسنّت کا اتفاق ہے اور یہی ترتیبِ فضیلت حضرت عثمان وعلیص کا ہے۔ لیکن بعض اہلِ کوفہ حضرت علیص کوحضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتے تھے یہ قول غیرمعتبرہے۔’ فقۂ اکبر‘، صفحہ۶۲ میں ہے کہ وکذاقیل فیہ رائحۃ من الرفضکہ ا ٓجاتا تھا کہ اس عقیدہ میں رفض (اختلاف)کی بُو آتی ہے کیونکہ اہلِ حق کے نزدیک فضیلت کی ترتیب بھی وہی ہے جو خلافت کی ہے۔
فائدہ
اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت کے کوفی اسی ترتیب ِخلافت کے معتقدتھے جو اہلِ سنت میں مسلّم ہے۔ مگر بعض حضرت علیص کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے افضل جاننے لگے تھے ۔ غرضیکہ جو لوگ حضرت عثمان صکو ترجیح دیتے تھے وہ شیعۂ عثمان کہلاتے تھے اور جو حضرت علیص کو افضل مانتے تھے ان کو شیعۂ علی کہا جاتا تھا وہ عثمانی اور علوی بھی کہلاتے تھے۔ ’روضۃ الصفا ‘،صفحہ۲۶۵،جلد۲ میں ہے
بصریاں ہوائے طلحہ و محبت زبیر دردل داشتند یعنی ’’ اہلِ بصرہ حضرت طلحہص کی طرفداری کی ہوا رکھتے تھے اور دل میں حضر ت زبیرص کی محبت رکھتے تھے ‘‘۔ واضح رہے کہ شیعہ تو کبھی بھی حضرت طلحہ و زبیرث کو اچھا نہیں جانتے کیونکہ وہ حضرت علیص کے مدِّمقابل لڑے ۔کوفی تو حضرت طلحہ و زبیرصکے ہواخواہ تھے ۔ بہرحال صحابہ کرام میں بالاتفاق فضیلت ِعلی ترتیب الخلافہ ہے۔
سوال
’’شرحِفقہ اکبر‘‘، صفحہ ۶۱ پر ایک روایت ہے کہ ابو حنیفہ کوفی کا بھی یہی اعتقاد تھا کہ وہ خلافتِ راشدہ کو تو مانتے تھے مگر تفضیلِ علیص ہی کے قائل تھے ؟
جواب
قاضی نور اﷲ شستری نے امامِ اعظم ابو حنیفہ صکو شیعہ لکھا ہے کیونکہ یہ پہلے سنی بھی اپنے آپ کو شیعہ ہی کہتے تھے ۔ اسی تفضیلِ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ایسے تمام کوفی رافضی پکارے جاتے تھے یہ بات اب واضح ہوچکی ہے ۔ثابت ہوا کہ شیعہ کا رافضی لقب بہت پُرانا ہے۔واضح ہوا کہ ابو حنیفہ نامی شخص ایک شیعہ اہلِ علم اور صاحبِ تصانیف تھا۔ نام سے التباس(یکسانیت کے سبب شبہ ) پڑجاتا ہے ۔اہلِ سنت کو اس میں ہوشیاری ضروری ہے۔
کوفہ دارالخلافہ
سیّدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے باگِ خلافت سنبھالی تو ایک عرصہ کے بعد دارالخلافہ کوفہ کو منتخب فرمایا۔اس سے واضح فرمادیا کہ گذشتہ خلفاء سے ان کا کوئی اختلاف نہ تھا بلکہ پیار ہی تھا ورنہ یہ سمجھ کر یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بنایا ہوا شہرہے ،اسے دارالخلافہ کیوں بناؤں۔بہرحال جب حضرت علی رضی اللہ عنہ مسند آرائے خلافت ہوئے تو کوفہ چونکہ عراق وایران وشام کی سرحد پر واقع تھا ،اسی لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو دارالخلافہ بنایا او ر ’ جمل‘ (اہلِ بصرہ و عراق ) ’صفین‘ (اہلِ شام) اور ’ نہروان‘ کی جنگوں میں حضرت علی صیہیں سے جاتے رہے ۔اسی زمانہ میں صاحباں بصیرت نے اور زیادہ پہچانا اور پھر اس جماعت کو تقویت ہوئی اور ان میں سے اکثر ’جنگِ صفین‘ میں شہید ہوئے اور اپنے وفا دار ساتھیوں پر حضرت علیص ا ظہارِ تاسف کیا کرتے تھے۔چنانچہ نہج البلاغہ ،صفحہ ۳۸۱،جلد۱ میں ہے کہ ، ’’ہمارے بھائی جن کا خون صفین میں بہایا گیا۔کہاں ہیںوہ بھائی جو صراطِ مستقیم پر چلے اور حق پر جان دے گئے‘‘ ۔
کوفی لایوفی گروہ کا آغاز
سیدنا و مولانا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اس گروہ کا آغاز ہوگیا تھا۔ اس لئے حضرت علیصنے اپنے اس دور کے خطبوں میں ان کی مذمت فرمائی ۔نہج البلاغہ ،صفحہ۱۲۲پر ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کوفیوں کی مذمّت میں فرمایاکہ میں تمہارے ملک کو پسند کرکے یہاں نہیں آیا، صرف ضرورت کی وجہ سے آیا ہوں ۔مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم کہتے ہو علیصجھوٹ بولتا ہے ۔اسینہج البلاغہ ،صفحہ ۱۲ پرہے کہ ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسے کوفیوں سے فرمایا میں جانتا ہوں کہ تمہاری اصلاح کس سے ہو سکتی ہے لیکن میں تمہاری اصلاح نہیںکرسکتا‘‘۔
لا تعرفون الحق کعرفتکم الباطل ولانتبطون الباطل کابطالکم الحق یعنی ’’تم حق کو نہیں جانتے پہچانتے جیسے باطل کو پہچانتے ہو اور نہ باطل کو جھٹلاتے ہو جیسے حق کا ابطال (انکار)کرتے ہو‘‘ ۔
اس سے صاف ثابت ہوگیا کہ اکثر اہلِ کوفہ باطل پرست ہو گئے تھے ۔منکرِ حق اور عارف باطل ہوگئے تھے۔یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ زمانۂ حضرت علیص میںمسلمان دو(۲)گروہوں میں منقسم تھے ۔ایک گروہ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت کو مانتا تھا دوسرا گروہ نہیں مانتا تھا۔ مؤخرالذکرگروہ خوارج نہرواں کے بھیس میں مقابل ہوا۔باالفاظِ دیگر ایک گروہ موافق حضرت علی رضی اللہ عنہ دوسرا گروہ خوارج۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رعایا بوجہ رعایا ہونے کے شیعۂ علی کہلاتی تھی ۔ آپص کے آخری دور میں آپ رضی اللہ عنہ کی اکثر رعایا جو’’ شیعۂ علی‘‘ کہلاتی تھی وہ مذہباً شیعہ نہ تھی بلکہ ایسی جماعت تھی جو جناب حضرت عثمان غنی صکے مقابلے میں حضرت علیص کو افضل جانتی تھی۔اسی لئے شاہ عبد العزیز دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے ’تحفہ اثناء عشریہ‘ میں لکھا ہے کہ شیعہ اولیٰ ماہستم یعنی
’’ حضرت علی صکے پہلے شیعہ تو ہم ہی اہلسنت ہیں‘‘۔
عہدِ حضرت امام حسنص میں کوفہ و کوفی
حضرت علی صکے بعدحضرت امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے۔ اگر چہ آپص کے ماننے والے بہت تھے۔اس کے باوجود آپصنے خلافت سے دستبرداری کرکے حضرت امیر معاویہص کو سپرد فرمادی اوریہ حضور سرور عالم اکا معجزہ اور حضرت امیر معاویہصکی حقانیت کی دلیل ہے۔اس سے شیعہ صاحبان یا تو امام حسنصسے برأت (بیزاری) کا اظہار کریں یا حضرت امیر معاویہص کی حقّانیت تسلیم کریں۔
عہد امیرِ معاویہص میں کوفہ و کوفی
حضرت امیر معاویہصخلیفہ ہوئے تو کوفہ پر زیاد گورنر ہوا۔ اسی زیاد کے دور میں کوفہ کی بدنامی ہوئی اسی کے دور میں سانحۂ کربلا پیش آیا ۔تفصیل کی ضرورت نہیں۔
عہدِ یزید بن معاویہ میں کوفہ و کوفی
حضرت امیر معاویہ صکے وصال کے بعد ۶۰ھ میں یزید تخت پر بیٹھا۔ ’بنی اُمیہ‘ کے عُمّال سے بھی کوفی تنگ آئے ہوئے تھے اب تو تختِ شاہی پر شراب و کباب ونصوانی شباب کا شیدا(چاہنے والا) یزید براجمان(قابض) ہوگیا تھا ۔ان کے اپنے ماننے والے (شیعۂ بنی اُمیہ) بھی بدول ہوگئے تھے ۔کوفہ کے اس سوادِ اعظم نے مٹھی بھر شیعوں کو ساتھ ملا کر امام حسینصکو خطوط لکھے اور حضرت مسلم بن عقیلص (جو امامِ عالی مقامصکے سفیرِخاص تھے )کے ہاتھ پر بیعت کرلی لیکن جب ابنِ زیاد حاکمِ کوفہ نے سختی کی تو مٹھی بھر شیعہ مثل ہانی وغیرہ کے شہید کر دیئے گئے ۔ کچھ قید اور کچھ جلا وطن کردیئے گئے اور باقی مسلمانوں کی اکثریت نے ابنِ زیاد کے ہاتھ پر یزید کی بیعت کرلی۔
اب اس دعوتی خط کو لیجئے جو اہلِ کوفہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کوسب سے پہلے لکھا تھا ۔
ایں نامہ ایست بسوئے حسین ابن علی از جانب سلیمان بن صردو مصیب و حبیب ابن مظاہر و سائر شیعیان اوازمومناں و مسلمانان
یعنی ’’یہ خط ہے اما م حسینصکی طرف سلیمان بن صرد اور مصیب اور حبیب ابن مظاہر اور دیگر مومن شیعوں کی طرف سے اور مسلمانوں کی جانب سے ‘‘۔ (جلاء العیون، صفحہ۱۱۴)
امام عالی مقام نے جواباً یوں خطاب کیا ۔
این نامہ ایست از حسین بن علی بسوئے گروہ مومناں اہل کوفہ و مسلمانان و شیعیاں
یعنی ’’یہ خط حسین بن علی (ص)کی طرف سے ہے اہلِ کوفہ کے مومنین و شیعہ اور مسلمانوں کی طرف‘‘۔
(جلاء العیون، صفحہ ۱۹۰)
عنوان نا مجات بتلا رہے ہیں کہ کوفہ کے مٹھی بھر شیعوں کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کی اکثریت نے بھی امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ کو خط لکھے تھے۔ یہی حسبِ معمول اپنے آپ کو محبانِ اہلبیت ظاہر کرتے تھے ۔اسی سواد ِاعظم نے بے وفائی کی ورنہ حبیب وہانی رحمۃ اﷲ علیہ و امثالہم نے امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ کی نصرت سے دریغ نہیں کیا۔باقی کوفی حبِ اہلبیت میں شہید ہوئے ۔ حبیب ابن ِمظاہرصجیسے کوفی حبیبِ شہید ِ کربلا ہوئے ۔ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ کوفہ کے مومنینِ کاملین نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر جانیں نثار کردیں حضرت ہانیصنے حضرت مسلم صسے عہد نبھایا اور ان کے ساتھ قربان ہوگئے۔
امام نووی ’شارح صحیح مسلم‘ میں لکھتے ہیں کہ
ان المنافقین کانوا معدودین فی اصحابہ وکانو ایجاھدون معہ اماحمیۃ اولطب الدنیا
یعنی’’ منافقین کو تو اصحابِ حضور میں شمار کیا جاتا تھاوہ بھی آپ کے ساتھ ہوکر حمیت(شرم کے باعث) یا طلب ِ دنیا کے لئے جہاد بھی کرتے تھے‘‘۔ اس کے بعد جب ان کی منافقت عیاں ہوگئی تو پھر انہیں صحابہ میں شامل نہیں کیا جاتا۔
فائدہ
معلوم ہوا کہ جو زبانی دعویٰ کرے کہ وہ مددگار ہے مگر وقت پڑنے پر ساتھ نہ دے وہ منافق ہوتا ہے۔اسی لئے امام حسینصنے اپنے مدّمقابل لڑنے والوں کو بار بار منافق کہا ۔
ومن بامرخدابا این منافقاں مقاتلہ مے کنم
یعنی امام حسینص نے فرمایا کہ ، ’’میں حکمِ خدا ل سے ان منافقوں کے ساتھ جہاد کرونگا‘‘۔
(جلاء العیون، صفحہ۲۰۸)
حضرت مسلم بن عقیل صنے فرمایا
قول شما کوفیاں اعتماد رانمے شاید وازمنافقاں بیدین وفانمے آید
کہ ’’ تم کوفیوں کا قول اعتبار کے لائق نہیں اور بے دین منافقوں سے وفا نہیں‘‘ ۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ کوفی منافق تھے یعنی ایسے لوگ کوفی لایوفی تھے جو وعدے سے پھر جائے وہی تو منافق ہوتا ہے ۔ عہد سے جو بے وفائی کرے وہی تو منافق ہوتا ہے۔
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوفہ میں مختار ثقفی کے مکان میں فروکش(مقیم) ہوئے تو حقیقی وفادارانِ کوفہ آپ کے پاس مجتمع ہوئے جن میں مجالس شاکری رحمتہ اللہ علیہ ،حبیب ابنِ مظاہر اسدی رحمتہ اللہ علیہ ،سعید بن عبد اﷲ حنفیرحمتہ اللہ علیہ کے نام ملتے ہیں ۔ جنہوں نے اپنی وفاداری اور جانثاری کے وعدوں کو خوب نبھایا۔
حکیم سنائیؔ نے یزیدی کوفیوں کے بارے میں یہ اشعار کہے ؎ بریزید پلید بیعت کرد
تاکہ از خاندان برآروگرد
شرم و آرزم جملگی برداشت
جمع ازدشمناں براد بگماشت
تامراد رابنامہ وکیسل
از مدینہ کشند در منہ یسل
کربلاچوںمقام ومنزل ساخت
زور آل زیاد بروئے تاخت
خلاصہ یہ ہے کہ دشمنوں کی ایک جماعت کو اس پر آمادہ کیا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو خطوں اور حیلوں سے مدینہ پاک سے نکالیں چنانچہ جب آپ نے کربلا میں منزل فرمائی ۔ ابنِ زیادنے آپ پر حملہ کر دیا پھر ہوا جو کچھ ہونا تھا۔داستانِ کربلا کوفی لایوفیکی گویا عملی تفسیر ہے ۔ اس سے ثابت ہوگا کہکوفی لایوفی کون لوگ تھے۔
واقعۂ کربلا میں کوفی وفادار
کوفہ کے کئی مومنین نے امیر المؤ منین سیدنا علیصکی پیروی میں اسلام بچانے کے لئے کربلا میں جانیں قربان کیں ان کے اسماء گرامی تواریخ میں ملتے ہیں۔
مسلم بن عوسجہ،بریر ہمدانی،زہیر بن قین،حبیب ابنِمظاہر ،نافع بن ہلال بَجلی،عبد اﷲ بن عمر الکلبی، عمرو بن خالد الاسدی، جنادہ بن حارث سلمانی، جنب خولانی، حیلہ شیبانی، شبیب بن عبداﷲ ،جابرتیمی،حباب تیمی،مسعود تیمی، نعمان ازدمی، سعید بن عبداﷲ حنفی، حنظلہ شبامی ، حجاج جعفی، عمر حضرمی و امثالہم رحمہا اﷲ علہیم اجمعین کے نامِ نامی شہدائے کربلا میں ملتے ہیں یہ سب کوفہ کے باشندے تھے۔
اہلبیت کے طرفدار
تاریخ طبری ،جلد۶، صفحہ ۲۳۷ میں ہے کہ جب حضرت حبیبرحمتہ اللہ علیہ ابنِ مظاہر اسدی نے فوجِ یزید کو نصیحت فرمائی کہ اولادِ رسول ا کا اور اس کے ایسے ساتھیوں کا جو راتوں کو عبادت میں بسرکرتے ہیں ۔ایسوں کا خون بہانے کے بعد خدا کو کیا منہ دکھلاؤگے ۔تو اہلِ کوفہ کی سوار فوج کے افسر عزرہ بن قیس نے جواباً کہا،
فقال لہ عزرہ بن قیس الکمزکی نفسک ماا ستطعت
یعنی اے حبیب!’’جہاں تک تجھ سے ہو سکتا ہے تو اپنے نفس کی پاکیزگی کو بیان کرتا رہتا ہے ‘‘۔
فقال لہ زھیر بن قین یا عزرہ ان اﷲ قدر کاھا وھداھا فاتق اﷲ یا عزرہ فانی لک من الناصحین انشدک اﷲ یا عزرہ ان تکون ممن یعین الضلال علیٰ قتل النفوس الزکیہ
یعنی ’’ اس بے موقع مداخلت پر زہیر بن قیس نے جوشیلا جواب دیا اے عزرہ! اس میں شک کہاںہے۔بے شک اﷲ تعالیٰ نے حبیبا کے نفس کو زکی(نیک) کیا اور ان کو ہدایت فرمائی ۔اے عزرہ ! اﷲ( ل) سے ڈرو۔ میں تجھے نصیحت کرنے والوں میں سے ایک ہوں۔ سن میں تجھے اﷲ تبارک وتعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ تو ان لوگوں سے نہ ہونا جو نفوسِ زکیہ(نیک لوگوں کے) کے قتل پر گمراہوں کو مدد دیتے ہیں‘‘۔
قال یا زھیر ماکنت عندنا من شیعۃ اھل ھٰذا البیت انما کنت عثمانیا
یعنی’’عزرہ نے کہا، اے زہیر! تو تو ہمارے نزدیک اہلبیتِ نبوی کے شیعوں میں سے نہ تھا ۔تو تو عثمانی تھا‘‘۔ (آج کیاہوا؟)
قال زھیر افلست تستدل بموقفی ھذا انی منھم الخ
یعنی ’’حضرت زہیررحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا، کیا تو میرے اس جگہ کھڑے ہونے سے استدلال نہیں کرسکتا کہ میں اہلبیتِ نبوی کا طرفدار ہوں ان کے انصار سے ہوں‘‘۔
حضرت حُر رضی اﷲ عنہ
آپ ایسے کوفی بھی تھے جو ابتداًیزیدی فوج میں تھے بلکہ سپاہ ابن زیاد کے افسر بھی تھے ۔ان میں’ حُرالرّیاحی صکا نام نامی سب سے زیادہ تابدار ہے ۔یہ اپنے دستہ کے ساتھ کربلا کی راہ پر امام حسین رضی اللہ عنہ کے سدِراہ ہو گئے۔امامِ عالی مقام حضرت حسینصنے اس پیاسے دستے کو پانی سے سیراب کیا جب یزیدی فوج نے امام حسین رضی اللہ عنہ پر پانی بند کردیا تو حضرت حُرصمیں انقلابِ حریت پیدا ہوا اوریہ سب یزید ی بندھنوں کو توڑتاڑ کر یومِ عاشورہ کو صبح سویرے ابنِ زیاد کی سپاہ سے علیحدہ ہو کر امام حسین صکے اصحاب میں شامل ہوگئے ۔خوب جہاد کے بعد جب زخمی شیر دل حُرص خون میں لت پت تھے تو اس وقت امام حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا:
بخٍ بخٍ یا حر انت حر
کیما سمیت فی الدنیا و الآخر ’’مبارک ہو مبارک! اے حُر تو تو واقعی حُر(آزاد)ہے جیساکہ تیرا نام ہے دنیا اور آخرت میں ‘‘۔
حضرت حُر الرّیاحی رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی بعض ایسے سپاہی جو سپاہ ٔشام میں شامل تھے وہ اس سے ٹوٹ ٹوٹ کر امام حسین رضی اللہ عنہ کو حق کی جانب جان کر سپاۂ امام میں شامل ہوتے رہے اور جنہوں نے بالآخر جامِ شہادت نوش فرمایا ۔ حارث بن امرا لقیس بن عابس کندی، جوین بن مالک تیمی، زہیر بن سلیم ازدی، قاسم بن حبیب ازدی امثالہم۔
تقریباًیہ سب کے سب کوفی تھے اور سپاہ ابنِ زیاد میں تھے جن کا کمانڈر انچیف عمرسعد تھا مگر میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینص کو حق پرجان اور مان کر انصار ِحسین(ث) سے ہو گئے اور درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔
حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ
حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کادور کیا سہانا دور تھا کہ آپ کے در س میں تیس ہزار(۰۰۰،۳۰) کم و بیش آئمہ اسلام نے فیض پایا اس کی تفصیل طویل ہے ۔ آپ کے شاگردوں میں شاگرد ِ عظیم حضرت امامِ اعظمص ہیں۔جنہوں نے اسلام میں خوب نام پایا آپ کے دور میں بھی کوفی لایوفی مشہور تھے۔
ان بزرگوں کی عزت و احترام ہی کوفہ کی شرافت کے لئے کافی ہے ۔تاریخ گردانے پر ثابت ہو تا ہے کہ کوفہ میں کیسے کیسے جواہر اوراسلام کے نامور بزرگ تھے۔اب لیجئے محاورہ کوفی لایوفی اور سمجھئے امامِ اعظم ابو حنیفہص کو۔
امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ
غیر مقلدین وہابی و دیگر مخالفین امام اعظمصکے متعلق یہ مشہور مقولہ کوفی لا یوفی(کوفہ والے وفا دارنہیں ہوتے) کہہ کر امام اعظمص پر طعن کرتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق کوفہ سے تھا۔یہ خیال اکابر وآئمہ کا بھی تھا چنانچہ منقول ہے کہ امام اعظم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے لوگوں سے دریافت کیا شہر کا جید عالم کون ہے ؟بتایا گیاحضرت ابوعبد اﷲ مالک بن انس الاصبحیص، امام اعظم رضی اللہ عنہ ان سے ملنے گئے حسبِ روایت تعارف کے دوران آپ نے بتا یا کہ میں عراق سے آیا ہوں ،حضرت امام مالک صنے یہ سن کر ناگواری کے عالم میں کہا وہ عراق جو شہر نفاق ہے؟حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ کا اشارہ نواسہ رسول اکے ساتھ اہل کوفہ کے سلوک کی طرف تھا۔یہ سن کرامام اعظمصنے نہایت تحمل کے ساتھ کہا میں عجمی ہوں اور آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوا ہوں تاکہ قرآن کی قرأت میں کوئی غلطی ہو تو اس کی اصلاح کروالوں کیونکہ آپ اس مقدس شہر کے باسی ہیں جہاں قرآن نازل ہوا تھا۔امام مالک رضی اللہ عنہ نے جواب میں قرأت کرنے کی اجازت دی اما م اعظمصنے یہ جملہ پڑھا
و ممن حولکم من الاعراب منافقون ومن اھل العراق۔
’’(اے رسول ا)تمہارے آس پاس دیہات میں رہنے والوں میں سے بعض لوگ منافق ہیں اور عراق کے رہنے والوں میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں ‘‘۔
یہ سن کر امام مالک رضی اللہ عنہ نے نہایت ناراضگی کے عالم میں کہا خدا کے بندے قرآن کی آیت تو درست پڑھو ۔امام اعظمص نے دریافت کیا درست آیت کیا ہے ؟ اما م مالک صنے کہا درست آیت یوں ہے
’’وممن حولکم من الاعراب منافقون ومن اھل المدینۃ‘‘۔
’’(اے رسول ا)تمہارے آس پاس کے دیہات کے رہنے والوں میں سے بعض لوگ منافق ہیں اور ’’مدینہ‘‘کے رہنے والوں میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں‘‘۔ ( سور ۃتوبہ، آیت نمبر101)
یہ سن کر امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا،’’آپ نے خود ہی فیصلہ فرمادیا ہے کہ منافقوں کے شہر میں کون رہ رہا ہے؟‘‘بعد میں تفصیلی متعارف ہوا اور شاید امام اعظم رضی اللہ عنہ کے اسی طرح کے جوابات سن کر امام مالکص نے تبصرہ کیا تھا ’’وہ ایک ایسے بزرگ ہیں کہ اگر لکڑی کے ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو دلیل کی بنیاد پر کرسکتے ہیں‘‘۔
(تاریخِ بغداد، خطیب بغدادی)
تعارفِ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ
امامِ اعظمص کا نام نعمان بن ثابت ،آپ کے دادا فارسی النسل اور حضرت علیصکے عاشق اور آپ کے خاص مقربین بارگاہ میں سے تھے ،آپ ہی نے محبت سے کوفہ میں قیام اختیار کیا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دارالخلافہ تھا۔حضرت امام اعظم صکے دادا اپنے فرزند حضرت ثابتصکو جواُس وقت بچے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دُعا کے لئے گئے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ثابتصکے لئے دعا فرمائی اور بہت برکت کی بشارت دی ۔حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ حضرت علی مرتضیٰص کی کرامت و بشارت ہیں ۔حضرت امام اعظم ابو حنیفہص ۸۰ ہجری میں کوفہ میں پیدا ہوئے اور ۱۵۰ ہجری میں بغداد میں وفات پائی ۔خیرزان قبرستان میں دفن ہوئے ۔آپ رضی اللہ عنہ کی قبر زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ ستّر (۷۰)سال عمر شریف ہوئی ۔فقیر بارہا آپ کے مزار پر حاضر ہو ا۔الحمد ﷲ علیٰ ذٰلک
حضرت اما م اعظم صنے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا زمانہ پایا جن میں سے چار(۴) صحابہ سے ملاقات کی ۔حضرت انس بن مالکص جو بصرہ میں تھے ،حضرت عبداﷲابنِ ابی اوفیص جو کوفہ میں تھے ،حضرت سہیل ابن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ جو مدینہ منورہ میں تھے ، حضرت ابو طفیل عامر ابن واصلہ رضی اللہ عنہ جو مکہ معظمہ میں تھے۔ اس کے متعلق اور بھی روایات ہیں۔ مگر یہ قول رائج ہے ۔امام اعظم صحضرت حمادصکے شاگر دِ رشید اور حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے تلمیذِ خاص اور مخصوص صحبت یافتہ ہیں ۔دو (۲)سال تک حضرت اما م جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی معیت(صحبت) نصیب ہوئی ۔
حضرت امام اعظمص کو منصور بادشاہ کوفہ سے بغداد لایا پھر آپصسے قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کرنے کی درخواست کی ۔آپ صنے انکار کیا ،اس پر آپص کو قید کردیا اور قید میں ہی یہ آفتابِ علم و عمل غروب ہوگیا۔ اناﷲ و انا الیہ راجعون۔
تبصرۂ اُویسی
یہ با ت روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ اہلِ کو فہ کی امام حسین رضی اللہ عنہ کے لئے جاں nثاری و وفاشعاری کے بعد کوفی لایوفی کا محاورہ ایک گستاخی محسوس ہوتاہے ۔بلکہ شیعہ لوگوں کو تو اس کے لئے ایسا خوشنمالقب تلاش کرنا تھا جو حُبِّ علیص کا ثبوت ہوتا کیونکہ حضرت علی المرتضیٰص نے (مصلحتِ سہی کے تحت) مدینہ طیبہ جیسے مقدس شہر کو چھوڑ کر کوفہ کو دارالخلافہ منتخب فرمایا بلکہ کوفہ کو مستقل قیام گاہ بنالیا جس میں نہ صرف آپ صکا بلکہ حسنین کریمین ث و دیگر اہلبیت کا محبوب مسکن تھا ۔ آپ صکا دولتکدہ اور کنواں اور کمرے تاحال جامع مسجد کوفہ کے شمالی جانب موجو د ہیں یہاں تک کہ جامع مسجد کوفہ میں آپ کی شہادت اسی سکونت ِ کوفہ کے دوران ہوئی۔ مز ید مطالعہ کے لئے فقیر کی کتاب ’’ مناقب ِ امام اعظمص ‘‘، ’’ شیعہ کا متعہ ‘‘، ’’ شیعہ ، سنی میں فرق‘‘ اور ’’آئینہ شیعہ نُما ‘‘ کا مطا لعہ کیجیے۔
وصلّی اﷲ علی حبیبہ الکریم و علیٰ آلہ و اصحابہ وبارک و سلم