Skip to content

ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟

عقائدِاہلسنت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد اللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی

رسولہ الکریم الامین وعلی آلہ وصحابہ الطاہرین

اما بعد : حضور سرور عالم (ﷺ) ہوں یا اولیا ء کرام انکا علم عطیہ ایزدی ا نہیں قربِ الہیٰ نصیب ہوتا ہے تو صفاتِ الٰہیہ کے مظاہر بن جاتے ہیں اہلسنت کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ ان حضرات کو دَین الٰہی ہے ۔ایسا عقیدہ نہ شرک ہے نہ بدعت لیکن قوم کو انبیاء علیہم السلام با لخصوص اپنے نبی پاک (ﷺ) اور اولیائے کرام رحمہم اللہ کا ہر کمال شرک وبدعت نظرآئے اس کا علاج کون کرے؟ حالانکہ یہ حضرات ان کے علاوہ اوردوسری بہت سی چیزوں کے ایسے کمالات کے نہ صرف قائل ہیں بلکہ عامل بھی ہیں مثلاً الٹرا سائونڈ(Altra Sound)ایک سائنسی ایجاد ہے با لخصوص پڑھے لکھے لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ حاملہ کے پیٹ میں بچہ ہے یا بچی یہی اعتراض امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پر ہوا کہ تم لوگ مسلمان تو کہتے ہو کہ پیٹ کے اندر بچہ یا بچی کا علم تو خاصئہ خدا ہے حالانکہ سائنس کے اس آلہ (الٹرا سائونڈ) کے ذریعے سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ پیٹ میں بچہ ہے یا بچی آپ نے اس سوال کے جواب میں ضخیم رسالہ تحریرفرمایا لیکن اسمیں عقلی دلائل زیادہ ہیں فقیر کا موضوع بھی وہی ہے لیکن میرے مخاطب اسلام کے مدعی اور رسول اکرم (ﷺ) اوراولیاء کرام رحمہم اللہ کے علم کے منکر ہیں اس لئے فقیرکے دلائل نقلی ہیں۔

وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم وصلی اللہ تعالیٰ علی حبیبہ الکرم الا مین و علی آلہ و اصحابہ اجمعین۔ ۱۴ جمادی الاول ۱۴۲۴ھ سہ شنبہ بعد صلوۃ الظہر

فقیر القادری ابوالصالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفر لہ

اس مسئلہ کو سمجھنے سے پہلے چند اُمور سامنے رکھیئے مسئلہ خود بخود سمجھ آجائیگا ۔(۱)حضور سرورِ عالم(ﷺ) فرشتوں کے بھی نبی ہیں اس بارے میں ایک فرشتے کا علم ملاحظہ ہو :

حدیث شریف

حضرت عبد اللہ بن مسعود (ص) سے مروی ہے کہ جب نطفہ ماں کے پیٹ میں واقع ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ اس سے کچھ پیدا فرمائے تو وہ نطفہ ماں کے رونگٹے رونگٹے یہاں تک کہ ماں کے ناخنوں اور بال بال میں پھیل جاتا ہے اسی طرح وہ چالیس روز تک اسی حالت میں رہتا ہے اس کے بعد اسی کو خون کی صورت میں جمع کرکے بچہ دانی میں پہنچا یا جاتا ہے پہلی حدیث جمع کرنے کا یہی معنی ہے اس کے بعد چالیس روز تک خون رہتا ہے چالیس دن کے بعد علقہ بنتا ہے اسی طرح چالیسویں دن کے بعد مضغہ پھر چالیس دن اس میں روح پھونکنے کے لئے فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے ۔

(بخاری شریف کتاب الانبیا ء باب خلق آدم و ذریۃ ج۱ ص ۴۶۹،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ،ومشکوۃ کتاب الایمان باب لایمان با لقدر الفصل الاوّل ص ۲۰ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)

فائدہ : اس سے ثابت ہوا کہ انسانی نقشہ دوسرے چالیسویں کے بعد بنتا ہے اس لئے کہ نقشہ کشی اسی حالت میں ممکن ہے اس سے قبل اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بعید نہیں لیکن عادۃً ممکن نہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتے کو انسان کے لئے چار کلمات لکھنے کا حکم فرماتا ہے فائدہ : حدیث میں لفظ کلمات واقع ہے جو کلمۃ کی جمع ہے اس سے قضا ء وقدر کا ہر ایک علیحدہ علیحدہ باب مراد ہے مثلاًوہ فرشتہ انسان کا رزق اور اجل یعنی اس کے عالم دنیا میں رہنے کے کل لمحات اور اسے کے اعمال اور پھر یہ کہ وہ بدبخت ہے یعنی ایسا کہ اس کے لئے دوزخ واجب اور نیک بخت یعنی اس کے لئے بہشت واجب ہوگی یہ تمام باتیں اس کی ماں کے پیٹ کے اندر موجود گی میں لکھی جاتی ہیں۔ یہ حدیث شریف اہلسنت وجماعت کے دلائل میں سے ایک ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب (ﷺ) اور ان کے طفیل دیگر محبوبوں کو مافی الارحام کا علم عطا فرماتا ہے ۔

افسوس ان نادانوں پر کہ وہ ایک فرشتے کے لئے تو مانتے ہیں لیکن فرشتوں کے نبی(ﷺ) اور ان کے آقا (ﷺ) کے لئے شرک کا فتویٰ لگاتے ہیں۔

(۲) ہمارے دلائل علم غیب کلی کے عموم میں یہ علم بھی ثابت ہے ۔علم کلی کے متعلق علماء کرام نے فرمایا :

أنہ علیہ السلام لم ینتقل من الدنیا حتی اعلمہ اللہ بجمع المغیبات التی تحصل فی الدنیا و الاخرۃ۔(تفسیر صاوی علی الجلالین ج۲ ص ۸۳۳ مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور تحت آیت یسئلونک عن الساعۃ ایّان مرسھا سورۃ الاعراف آیت ۱۸۷)

ترجمہ : حضور علیہ السلام دنیا سے نہ گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا اورآخرت کے سارے علم دے دئیے۔

(۳) اورعلوم خمسہ کے متعلق بھی علماء کرام نے تصریح فرمائی کہ :

ولک ان تقول ان علم ھذہ بخمسۃ و ان کان لایملکہ الا اللہ لکن یجوز ان یعلمھا من یشاء من محبہ و اولیائہ بقرینتہ قولہ تعالیٰ ان اللہ علیم خبیر علی ان یکون الخبیر بمعنی المخبر ۔ (التفسیرات الاحمدیہ ص ۸ ۶۰پارہ ۲۱سورۃ لقمان تحت آیۃ ۳۴ مطبوعہ مکتبہ حقانیہ پشاور)

ترجمہ : اور تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ ان پانچوں علوم کو اگر چہ خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن جائز ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے محبوبوں اور ولیوں میں سے جس کو چاہے سکھائے اس قول کے قرینے سے کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا بتانے والا خبیر بمعنی مخبر ۔

(۴) او ر اولیاء کرام کیلئے :

وکیف یخفی امر الخمس علیہ (ﷺ) والواحد من اھل التصرف من امتہ الشریفۃ لا یمکنہ التصرف الا بمعرفۃ ھذہ الخمس ۔ (الابریز شریف ص ۴۳۴ ج اول)

ترجمہ : حضور (ﷺ) پر علوم خمسہ کیسے پوشیدہ رہ سکتے ہیں جبکہ آپ کی امت کے کسی اہل تصرف کو تصرف ممکن نہیں جب کے اس کو ان علوم خمسہ کی معرفت حاصل نہ ہو۔

(۵) دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :

فھو (ﷺ) لا یخفی علیہ شی ء من الخمس المذکور ۔فی الآیات الشریفہ وکیف یخفی علیہ ذلک و الا قطاب السبعۃ من امتہ الشریفہ یعلمونھا وھم دون الغوث فکیف با لغوث فکیف بسید الا ولین و الاخرین الذی ھو سبب کل شئی و منہ کل شئی ۔(الابریز شریف ص ۱۰ ۳جلد ۲ مکتبہ ادارۃ الافتاء العام وزارۃ الاوقاف السودیہ)

ترجمہ : حضورعلیہ السلام پر ان پانچوں مذکورہ میں سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں اور حضور (ﷺ) پر یہ امور مخفی کیوں کر ہوسکتے ہیں حالانکہ آپ کی امت کے سات قطب ان کو جانتے ہیں حالانکہ وہ غوث سے مرتبہ میں نیچے ہیں، پھر غوث کا کیا کہنا پھر حضور علیہ السلام کا کیا پوچھنا جو تمام اولین وآخرین کے سردار ہیں اور وہ ہر چیز کے سبب ہیں اور ہر چیز ان سے ہے ۔

(۶) سید علی الخواص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے :

لا یکمل الرجل عندنا حتی یعلم حرکات مریدہ فی انتقالہ فی الاصلاب وھو نطفتہ من یوم ألست بربکم الی استقر ارہ الجنۃ او النار ۔ (الکبریت الاحمربھا مش الیواقیت والجواہر الباب الرابع واثمانین ومأتین ج ۲ س ۳۳۰دارالاحیا والتراث بیروت )

ترجمہ : ہمارے نزدیک تو آدمی تب تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس کو اپنے مرید کی حرکتیں اس کے آباء کی پیٹھ میں معلوم نہ ہوں یعنی جب تک یہ معلوم نہ کرے کہ یوم الست سے کس کی پیٹھ میںٹھہرا اور اس نے کس وقت حرکت کی یہاں تک کہ اس کے جنت اور دوزخ میں قرار پکڑنے کے حالات جانے۔

(۷) تاج العارفین شیخ ابو الوفا ء فرماتے ہیں:

لا یکون الشیخ شیخا حتی یعرف من کاف الی قاف فقیل لہ ماکاف وما قاف فقال یطلعہ اللہ عزوجل علی جمیع ما فی الکونین من ابتدا ء خلقہ بکن الی مقام وقفو ھم انھم مسؤلون ۔(بھجۃ الاسرار ص۱۴۱۱ پروگریس بکس ۴۰ اردو بازار لاہور)

ترجمہ : کوئی شخص اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک کاف سے قاف تک کی معرفت حاصل نہ کرلے ۔پوچھا گیا کاف اور قاف کیا ہوتے ہیں ؟آپ نے فرمایا اللہ عزوجل اس شیخ کامل کو دونوں جہاں کی تمام مخلوقات کی اطلاع دیتا ہے یعنی کلمہ کُن پیدائش ابتدأ سے لے کر دوزخ کے اس مقام تک کی اطلاع جہاں دوزخیوں کو کھڑا کرکے ان سے سوال کیا جائے گا ۔

فائدہ : یہ حضور(ﷺ) کے غلاموں کا علم ہے ۔ جس آقا کے غلاموں کاا تنا علم ہو کہ وہ ابتدائے آفرینشِ خلق سے لے کر مخلوق کے جنت اوردوزخ مین جانے تک کے تمام حالات جانتے ہیں اس آقاﷺکا اپنا علم کتنا ہوگا ؟

(۸) صاحب تفسیر عرائس البیان آیت ’’ویعلم مافی الارحام ‘‘کے ماتحت فرماتے ہیں : وسمعت ایضا من بعض اولیا ء اللہ أولیا انہ أخبر مافی الرحم من ذکر وانثی ورأیت بعینی ماأخبر۔ (التفسیر عرائس البیان)

ترجمہ : میں نے بعض اولیا ء اللہ سے یہ بھی سناہ کہ انہوں نے’’ مافی الرحم‘‘ کی خبردی کہ پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی ۔اور میں نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا کہ انہوں نے جیسی خبر دی ویسا ہی وقوع میں آیا ۔دلائل سے ثابت ہوگیا کہ ملائکہ ،صحابہ اولیاء کرام کو مافی الارحام کا علم عطا ہوتا ہے تو ۔پھر حضور امام الاولین والآخرین (ﷺ)سے یہ علم کیونکر رہ سکتا ہے جبکہ وہ تمام مخلوقات سے افضل اور اعلم ہیں اور یہ صرف قیا س آرائی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ حضور (ﷺ) کو اللہ تعالیٰ نے علم مافی الارحام عطا فرمایا جس کے شواہدان گنت ہیں۔

باب نبی پاک (ﷺ) کے علم مافی الارحام کی احادیث

(۱) حضور سرور عالم (ﷺ) نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے پیدا ہونے کی خبر دی ، جیساکہ مشکوۃ شریف مین روایت ہے کہ اُم فضل ر ضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور(ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میںنے آج شب ایک نہایت نا پسندیدہ خواب دیکھا ہے حضور(ﷺ) نے فرمایا وہ کیا ؟ عرض کی وہ بہت سخت ہے فرمایا :ہے کیا؟ عرض کیا :میں نے دیکھا کہ گویا ایک ٹکڑا حضور (ﷺ)کے جسم اقدس سے کاٹا گیا اور میری گود میں رکھا گیا ۔تو سرکار (ﷺ) نے فرمایا۔

رأیت خیر اتلد فاطمتہ ان شاء اللہ غلاما یکون فی حجرک

فولدت فاطمۃ الحسین فکان حجری کماقال رسول اللہ (ﷺ) (مشکوۃ باب مناقب اھلِ بیت النبی الفصل الاول ص ۵۸۲ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)

ترجمہ : تونے اچھا خواب دیکھا ہے انشاء ا للہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں لڑکا ہوگا اوروہ تیری گود میں ہوگا پس خاتون جنت رضی اللہ عنہا نے حسین کو جنا تو وہ میری گود میں آئے جیسے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا تھا۔

(۲) حضور نبی پاک (ﷺ) نے امام مہدی رضی اللہ عنہ کے پیداہونے کی خبر سنائی جو بعد میں پیدا ہوں گے جو صحیح حدیثوں میں مذکور اورعوام الناس میں مشہور ہے ۔یہ خبر آپ نے لڑکا پیدا ہونے کی اس وقت دی جبکہ نطفہ باپ کی پیٹھ میں نہیں بلکہ اس سے بھی بہت پہلے ۔امام مہدی رضی اللہ عنہ کے متعلق تفصیل و تحقیق فقیر کی کتاب ’’امام مھدی‘‘(زیر طبع )اور آئینہ شیعہ (مطبوعہ مکتبہ اویسیہ رضویہ بہاولپور) کی شرح میں ہے ۔

(۳) عن انس قال مات ابن لابی من ام سلیم فقالاھلھا لا تحدثوا ابا طلحۃ بابنہ حتی اکون انا أحدثہ قال فجاء فقربت الیہ عشاء فاکل وشرب قال ثم تصنعت لہ احسن ماکان تصّنع قبل ذلک فوقع بھا فلما رأت انہ قد شبع واصاب منھا قالت یا ابا طلحۃ أریأت لو ان قوماأعاروعاریتم بیت فطلبو ااعاریتم الھم ان یمنعوھم؟قال لا قالت فا حتسب ابنک قال فغصب فقال ترکتینی حتی تطلخت ثم اخبرتنی بابنی فانطلق حتّیٰ اتی رسول اللہ(ﷺ) فاخبرہ بماء کان فقال رسول اللہ (ﷺ) بارک لہ لکما غا بر لیلتکما قال فحملت ۔ (مسلم کتاب الفضائل باب فضائل ام سلیم رضی اللہ عنہا ام انس بن مالک ج ۲ ص ۲۹۲مطبوعہ قدیمی کتب خانہ و ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو طلحہ کا بیٹا جو ام سلیم کے پیٹ سے تھا فوت ہوگیا تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا ابو طلحہ کو خبر نہ کرنا ان کے بیٹے کی۔ جب تک کہ میں خود نہ کہوں ۔آخر ابو طلحہ شام کو گھر آئے ام سلیم شام کا کھانا لائیں ۔انہوں نے کھایا اور پیا پھر ام سلیم نے اچھی طرح بنائو وسنگھار کیا ان کے لئے یہاں تک کہ انہوں نے جماع کیا ان سے ۔جب ام سلیم نے دیکھا کہ وہ سیر ہوگئے اور ان کے ساتھ صحبت بھی کرچکے تو اس وقت انہوں نے کہا اے ابو طلحہ !اگر کچھ لوگ اپنی چیز کسی گھر مانگنے پر دے دیں پھر اپنی چیز مانگیں تو کیا گھر والے اس کو روک سکتے ہیں ؟ابو طلحہ نے کہا نہیں روک سکتے ام سلیم نے کہا تو میں تم کو خبر دیتی ہوں تمہارے بیٹے کے فوت ہوجانے کی یہ سن کر ابو طلحہ غصہ ہوئے اور کہنے لگے تونے مجھ کو خبر نہ کی یہاں تک کہ میں آلودہ ہوا اب مجھ کو خبر کی۔پس وہ چلے رسول اللہ (ﷺ) کی بارگاہ ِقدس میں حاضر ہوئے اور جو کچھ معاملہ ہوا تھا وہ عرض کردیا تورسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے تمہاری گزری ہوئی رات میں ام سلیم حاملہ ہوگئیں۔

فائدہ : حدیث شریف سے واضح ہوا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے صحابی کو ایک خفیہ بات کی خبر دے کر اس کی بیوی کے حاملہ ہونے کی اطلاع دی ۔چنانچہ اسی روایت میں ہے کہ فولدت غلاماً تو بی بی کو بچہ پیدا ہوا اور کمال نہ صرف حضور سرور عالم(ﷺ) تک محدود تھا بلکہ آپ کے فیضان کرم سے آپ کے فیض یافتگان اور آپ کی اُمت کے اولیاء کرام کو بھی حاصل تھا چنانچہ ملاحظہ ہو :

(۴) عن عرو۔ۃقال:لقی رسول اللہ (ﷺ) رجلاً من اہل البادیہ وھو یتوجہ الی بدر لقیہ بالروحاء فسائلہ القوم عن خبر الناس فلم یجدو عندہ خبراً فقالو لہ سلم علی رسول اللہ (ﷺ) فقال اوفیکم رسول اللہ (ﷺ)؟ قالو نعم قالا الا عربی فان کنت رسول اللہ فاخبرنی مافی بطن نافتی ھذہ فقال لہ سلمۃ بن سلامۃ بن سلامۃ بن وقش وکان غلاماًحدثا لاتسال رسول اللہ (ﷺ)؟أنا أخبرک نزوت علیھما ففی بطنھا صخلۃ منک ۔(رواہ الحاکم فی المستدرک علی الصحیحین ،منقبۃ شریفۃ لمسلمۃ بن سلامۃ وقال ھذا صحیح مرسل ج ۴ ص ۵۱۸ رقم الحدیث۵۸۲۲،۵۸۲۲ مطبوعہ دار المعرفتہ بیروت وحکاہ ھشام فی سیرتہ عنوان غزوۃ البدر الکبرٰی الرجل اعترض رسول اللہ وجواب سلمۃ لہ ص ۲۵۳،مطبوعہ دار لکتب العلمیۃ بیروت ونقلھا الدمیری فی حیو۔ۃ الحیوان ج ۱ ص تحت لفظ ’’السخلۃ ‘‘مکتبہ حقانیہ پشاور)

ترجمہ : عروہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) بدر کی جنگ کو جارہے تھے تو مقام روحا پر ایک بدو ملا اس سے صحابہ رضی اللہ عنھم نے کچھ حالات پُوچھے لیکن اس نے کچھ نہ بتایا پھر اسے کہا گیا کہ رسول اللہ (ﷺ) کو سلام عرض کیجئے ۔کہا: کیا تم میں رسول اللہ ہے ؟صحابہ کرام نے کہا: ہاں۔اعرابی بدو نے کہا بتائو میری انٹنی کے پیٹ میں کیا ہے ؟ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا رسو ل اللہ (ﷺ) سے نہ پوچھو میری طرف متوجہ ہو میں تجھے خبر دیتا ہوں ۔ کہااس کے پیٹ میں تیری نالائق حرکت کا نتیجہ ہے۔

فائدہ : اس سے ثابت ہوا کہ حضور(ﷺ) کے صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے نوعمر صحابی نے پیٹ کا حال بتادیا حضور(ﷺ) نے اعرابی کا یہ سوال سن کر خاموشی اس لئے فرمائی تاکہ اس کی نالائق حرکت کا پردہ فاش نہ ہو لیکن اس نو عمر صحابی نے اعرابی کو بتادیا کہ اس اونٹنی کے پیٹ میں کس کا علقہ ہے۔

حضورسید المرسلین علیہ الصلوۃ والسلام کی رؤف رحیمی پر قربان جنہوں نے علم ہونے کے باوجود اس اعرابی کا پردہ فاش کرنا مناسب نہ سمجھا ۔اور اس صحابی کا یہ خبر دینا اس بات کی دلیل ہے کہ آقادوعالم (ﷺ) کے علم کی شان تو بہت بلند ہے بلکہ ان کی بدولت غلاموں کو بھی ’’مافی الارحام ‘‘ کا علم ہوتا ہے یہی وجہ تھی کہ اعرابی حیران ہوگیا ۔

(۵) عن عائشہ زوجہ النی (ﷺ) انھا قالت ان ابا بکر الصدیق کان نحلھا جداد عشرین وسقا من مالہ بالغابۃ فلما حضرتہ الوفاۃ قال واللہ یا بنیۃ ما من الناس احد احب الّی غنی بعدی منک ولا علیّی فقر ا بعدی منک وانی کنت نحلتک جداد عشرین وسقا فلو کنت جددتہ وحترزتہ کان لک ونما ھو الیوم مال وارث وانما ھی اسماء فمن الاخرٰی قال ذو بطن ابنۃ خارجۃ اراھا جاریۃ ۔(البہیقی ج ۶ ص ۱۸۰ ،والطحطاوی کتاب الوصایا من الاموال ج ۱ ص ۳۸۹ مطبوعہ مکتبہ حقانیہ ملتان تاریخ الخلفاء فصل فی مرضہ ای ابی بکرووفاتہ وصیتہ ص ۸۳ مطبوعہ میر محمد کتب خانہ ،ص ۶۳،۶۴قدیمی کتب خانہ کراچی ص۔اصابہ ص ۶۸۶)

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک درخت کھجور کا دے دیا تھا جس سے بیس وسق کھجوریں حاصل ہوتی تھیں جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اے بیٹی !خدا کی قسم مجھے غنی ہونا بہت پسند ہے اور غریب ہونا ناگوار ۔اس درخت سے اب تک جو کچھ تم نے نفع اٹھایا ہے وہ تمہارا تھا لیکن میرے بعد یہ مال وارثوں کا ہے اوروارث تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں اس ترکہ کو موافق ِ حکم شرع کے تقسیم کرلینا ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ایسا ہوسکتا ہے لیکن میری صرف ایک بہن اسماء ہی ہیں آپ نے دوسری کونسی بتادی؟ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے فرمایا !ایک تو اسماء ہیں دوسری بہن تمہاری ماں کے پیٹ میں ہے میں جانتا ہوں کہ وہ لڑکی ہے ۔پس ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ ایسے بے شمار واقعات اولیائے کرام کے ہیں صرف ایک واقعہ ملاحظہ ہو ۔

(۶) استاذ الکل حضرت شاہ عبد العزیز محدث رحمۃ اللہ علیہ بستان المحدثین میں فرماتے ہیں نقل می کنند کہ والد شیخ ابن حجر دافر زندنمی زیست کشیدہ خاطر بحضور شیخ فرموداز پشت تو فر زندنمی خواھد بر آمد کہ بعلم دنیا دا پر کند۔ (بستان المحدثین علامہ ابن حجر کے عجائبات قرائت حدیث میں اصل فارسی ص ۳۰۴ مطبوعہ ایچ ایم سعید کپمنی کراچی ،اردو ص ۱۹۴ مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی )

ترجمہ : یعنی شیخ ابن حجر عسقلانی کے والد ماجد کی اولاد زندہ نہیں رہا کرتی تھی ایک روز رنجیدہ ہوکر اپنے شیخ کے شیخ کے حضور میں پہنچے ۔شیخ نے فرمایا کہ تیری پشت سے ایسا فرزند ِ ارجمند پیدا ہوگا کہ جس کے علم سے دنیا بھر جائے گی۔چنانچہ ابن حجر پیدا ہوئے ۔

سوال: اللہ تعالیٰ یہ علم اپنے لئے بتاتا ہے تم انبیاء اور اولیا ء کے لئے ثابت کرتے ہو چنانچہ فرمایا:

ویعلم مافی الارحام

(پارہ ۲۱سورۃ لقمان آیت ۳۴)

{ترجمہ کنز الایمان شریف} اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ مائوں کے پیٹ میں کیا ہے ۔

جواب :ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے ان اللہ یصور کم فی الارحام کیف یشاء ۔بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں تمہاری مائوں کے پیٹوں میں بناتا ہے۔یہی دلیل حضور (ﷺ) نے نصاریٰ کو سنائی جبکہ وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں لیکن عیسائی لاجواب ہوگئے ان کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں تھی جس سے ثابت کرسکتے کہ عیسیٰ علیہ السلام خدا ہیں اسی لئے عیسائیوں نے اپنی ہار مان لی تھی بفضلہ تعالیٰ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اپنی مخلوق میں سے بہت سے افراد کو ’’مافی الارحام‘‘ کے علوم سے نوازا جسکا ہم تمام مدعیان ِ توحید کو اعتراف ہے اورایسا نہ مانیں تو پھر ہم مُوَحِدّ نہیں رہ سکتے کیونکہ ## احادیث مبارکہ میں اس کا ثبوت موجود ہے کہ حضور سرورِ عالم (ﷺ) باعلام اللہ تعالیٰ ’’مافی الارحام ‘‘ علم رکھتے ہیں اور آپ کے فضل سے آپ کی امت کے اولیا ء کرام کو بھی بعطاء الٰہی اس کا علم حاصل ہے ۔

احادیث مبارکہ

(۱) عن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال لی النبی (ﷺ) سیولد لک بعدی غلام قد نحلتہ اسمی وکنیتی ۔(رواہ البہیقی ۳۸۰ جماع ابواب اختیار النبی (ﷺ) بالکوائن بعدہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور (ﷺ) نے فرمایا عنقریب تمہیں بچہ عطا ہوگا میں نے اسے اپنا نام اور کنیت عطا کی ۔

فائدہ : اس سے مراد حضرت محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہ ہیں کہ ان کی ولادت حضور سرو ر عالم ا کے وصال کے بعد ہوئی اور آپ کااسمِ گرامی محمد تھا تو کنیت ابوالقاسم تھی اس میںعلم ’’فی الارحام ‘‘ کے علاوہ علم مافی الغد بھی ہے۔

(۲) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال حدثنی ام الفضل قالت مررت با لنبی (ﷺ) فقال انک حامل بغلام فاذا ولدت فأتینی بہ قالت فلما ولدتہ أتیتہ بہ فازن فی اذنہ الیمنی وأقام فی أذنہ الیسریٰ وألباہ من ریقہ وسماہ عبد اللہ وقال اذھبی بابی الخلفاء (قالت) فأخبرت العباس فأتاہ فذکرلہ فقال ھو ما اخبرتک ھذا أبو الخلفا ء حتی یکون منھم سفاح حتی یکون منہ المھدی ۔(حجۃ اللہ علی العالمین الباب السابع فی معجزاتہ المتعلقتہ باخبارہ بالمغیبات(ﷺ) الفصل الاول بحال بنی العباس ص ۳۸۱ مطبوعہ مرکز اہل سنت برکات رضا فوربندر گجرات الھند )

ترجمہ : ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے میری والدہ ام الفضل نے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے ہاں گذریں آپ اس وقت حجرہ میں تھے فرمایا کہ تیرے پیٹ میں بچہ ہے جب پیدا ہوا تو اسے میرے پاس لے آنا فرماتی ہیں جب میں نے اسے جنا تو میں اسے حضور علیہ السلام کی خدمت میں لے آئی آپ نے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں میں اقامت کہی اور اس کے منہ میں لعابِ دہن ڈال کر اس کا نام عبد اللہ رکھا اور فرمایا کہ خلفاء کے باپ کو لے جا میں نے یہ خبر عباس کو سنائی تو وہ حضور (ﷺ) کی خدمت میں آئے اورعرض کی آپ (ﷺ) نے یہ کیا فرمایا آپ (ﷺ) نے فرمایا اس سے سفاح پیدا ہوگا اور اسی سے مہدی پیدا ہوگا ۔

عرائس البیان میں ’’یعلم مافی الارحام ‘‘کے تحت لکھتے ہیں کہ

’’سمعت ایضا من بعض الاولیا انہ اخبر مافی الرحم من ذکر وانثی رأیت بعینی ماخبر ‘‘

ترجمہ : میں نے بعض اولیا ء سے سنا کہ انہوں نے ماں کے پیٹ کی خبر دی کہ لڑکا ہے یا لڑکی ہے اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جیسے انہوں نے کہا ویسے ہی ہوا ۔

عجوبہ:مخالفین کی بد قسمتی سمجھئے یا ازلی پھٹکار کہ وہ ہر کمال جو نبی پاک (ﷺ) اور ان کے سچے جانشین اولیا ء کرام کے لئے مانا جائے تو شرک اور حرام کہیں گے لیکن ان کے علاوہ دیگر مخلوق کے لئے عین اسلام بتائیں گے اس بات سے اندازہ لگائیے کہ انہیںنبوت وولائیت سے کتنا بغض وعداوت ہے۔

دیوبند کے حکیم مولوی اشرفعلی تھانوی کے والد صاحب کی اولاد، نرینہ زندہ نہیں رہتی تھی اس کی خوشدامن صاحبہ (ساس ) نے حسرت بھرے لہجہ میں اسکا ذکر ایک مشہور صاحب خدمت مجذوب بزرگ حافظ غلام مرتضیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کیا جس پر حافظ صاحب نے فرمایا انشاء اللہ عزوجل اس کے دو لڑکے ہوں گے اوراولاد زندہ رہیں گے ایک کا نام اشرف علی رکھنا اوردوسرے کا نام ،اکبر علی ،چنانچہ حافظ صاحب کی پیشن گوئی کے مطابق تھانہ بھون (ضلع مظفر نگر ہندوستان ) میں مولانا اشرف علی تھانوی کی پیدائش ہوئی۔ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد دوم ص ۷۹۳ پنجاب یونیورسٹی لاہور)

یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ تھانوی صاحب کی سوانح ’’ اشرف السوانح ‘‘ اور اس کی اپنی تصنیف ’’بوادر النوادر ‘‘ اور ’’بہشتی زیور ‘‘کے اول میں اور ’’اضافت الیومیہ‘‘ میں موجود ہے اور ہم نے مختصر لکھا ہے تفصیل پڑھیں گے تو عجائبات نظر آئیں گے یہاں ہم نے یہ بتانا ہے کہ اللہ والے بقول تھانوی نہ صرف مافی الارحام ومافی الغد جانتے ہیں بلکہ بچے عطا فرماتے ہیں بلکہ نا مردوں کو مرد بناتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

حضور (ﷺ) نے فرمایا :

انی لاعرف اسمائھم واسماء آبائھم ولو ان خیولھم خبر فو ارس او من خیر فوارس علی ظہر الارض ۔(مسلم کتاب الفتن باب فصل فی اشراط الساعۃ ج ۲ ص ۳۹۶ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی مشکوہ کتاب الفتن باب الملاحم الفصل الاول ص ۴۶۸مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )

{ترجمہ } میں ان (دل وجان سے جہاد کی تیاری کرنے والوں ) کے نام ان کے باپ دادوں کے نام ان کے گھوڑوں کے رنگ پہچانتاہوں وہ روئے زمین پر بہتر سوار ہیں تفصیل دیکھئے فقیر کی کتاب ’’قیامت کی نشانیاں‘‘

فائدہ : غور فرمائیے وہ بندگان ِ خدا جو ابھی عالم ِ ارواح میںہیں اور پھر سینکڑوں سال بعد امام مہدی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں دجّال کا مقابلہ کریں گے حضور (ﷺ) نہ صرف انہیں بلکہ ان کے آبائو واجداد کو نام بنا م جانتے ہیں بلکہ اس جہاد میں جتنے گھوڑے ہونگے ان کی تعداد اور ان کے رنگ بھی جانتے ہیںیہ تو علم ’’مافی الارحام ‘‘ سے آگے بڑھ گیا ۔لیکن بد قسمت لوگ تا حال اپنی ضد میں ہیں کہ پانچ علموں کو کوئی نہیں جانتا ،اس حدیث شریف میں ’’مافی الارحام ‘‘ کے علاوہ ’’مافی الغد‘‘ کا علم بھی ہے گویا کہ آپ ابھی حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ اور دجّال کا مقابلہ اور جنگ اور دونوں کی فوج اور ان کے سپاہیوں کا نقشہ سامنے رکھ کر سب کچھ ارشاد فرمارہے ہیں۔

(۴) اسی مشکوۃ باب القدر میں ہے کہ ایک دن نبی پاک شاہ لولاک (ﷺ) اپنے دونوں مبارک ہاتھوں میں دو کتابیں لیے ہوئے جمع ہوئے مجمع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تشریف لائے اور داہنے ہاتھ والی کتاب کے متعلق فرمایا کہ اس میں تمام جنتیوں کے نام مع ان کے آبائو اجداد اور قبیلوں کے نام ہیں اور دوسری کتاب میں تمام دوزخیوں کے نام مع ان کے آبائو اجداد اور قبیلوں کے نام ہیں۔ (ملخصاً) (مشکوۃ کتاب الایمان باب الایمان بالقدر الفصل الثانی ص ۲۱ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)

فائدہ : اس حدیث شریف سے واضح ہوا کہ گذشتہ لوگوں کے علاوہ ایک ایک آنے والے کو آپ (ﷺ) جانتے ہیں اور انکے انجام کو بھی ۔جس ہستی پاک (ﷺ) کے علم کی یہ وسعت ہے ان کے لئے ،’’مافی لارحام ‘‘ علم کی وسعت کا کیا کہنا۔

تفسیر خازن تحت آیت:’’ ماکان اللہ لیذرالمؤمنین علیٰ ما انتم علیہ ‘‘میں ہے:

قال رسول اللہ علیہ السلام عرضت علی امتی فی صورھا فی الطین کما عرضت علی آدم وأعلمت من یومن بی ومن یکفر بی فبلغ ذلک المنافقین قالو استھزا ء زعم محمّد انہ یعلم من یومن بہ ومن یکفر ممن لم یخلق بعد ونحن معہ وما یعرفنا فبلغ ذلک رسول اللہ علیہ السلام فقام علی المنبر فحمد اللہ وأثنی علیہ ثم قال ما بال اقوام وطعنو فی علمی لا تسلئو نی عن شئی فیما بینکم و بین الساعۃ الا نبأتکم بہ۔(تفسیر خازن ج۱ ص ۳۲۸ پارہ ۴ سورۃ اٰل عمران آیت ۱۷۹ مطبوعہ صدیقہ کتب خانہ اکوڑہ خٹک)

ترجمہ : حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھ پر میری امت پیش فرمائی گئی اپنی اپنی صورتوں میںمٹی میں۔جس طرح حضرت آدم (علیہ السلام ) پر پیش ہوئی تھی میں نے جان لیا کون مجھ پر ایمان لائے گا کون کفر کرے گا۔ یہ خبر منافقین کو پہنچی تو ہو ہنس کر کہنے لگا کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ان کو لوگوں کی پیدائش سے پہلے ہی کافر و مومن کی خبر ہوگی ہم تو ان کے ساتھ ہیں اور ہم کو نہیں پہنچانتے یہ خبر حضورعلیہ السلام کو پہنچی تو آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور خدا کی حمد وثنا کی پھر فرمایا کہ قوموں کا حال ہے کہ میرے علم پر طعن کرتی ہیں اب سے قیامت تک کسی چیز کے بارے میں پوچھو گے میں تم کو خبر دوں گا۔

فا ئدہ : اس سے واضح ہواکہ حضور نبی پاک (ﷺ) کے علم پر طعن کرنا منافقوں کا طریقہ ہے اورآج جس پارٹی کو منافقین کی وراثت نصیب ہے ان کو ان کی وراثت مبارک۔

غور فرمائیے !جس ذات ِ اقدس (ﷺ) کو کائنات کے ذرہ ذرہ کا علم ہے اس کے لئے ’’مافی الارحام ‘‘ کا علم کیا شے ہے ؟

علم مافی الارحام للاولیا

یہ کمال تو حضورنبی پاک (ﷺ) کے غلاموں کو باذن تعالی حاصل ہے ۔

چند حوالہ جات حاضر ہے ہیں:۔

فرشتہ : یہ تقدیر کے فرشتے ہیں جس کی تفصیل حدیث کی ابتدا میں گذری ہے۔

حدیث :مشکوۃ شریف مین بروایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ موجود ہے وہ یہ کہ ’’

ثم یعث اللہ ملکا باربع کلمات فیکتب عملہ واجلہ ورزقہ وشقی او سعید‘‘(مشکوۃ شریف کتاب الایمان باب الایما ن باب الایمان بالقدر ص ۲۰ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ فرشتے کو معلوم ہوتا ہے کہ بندہ کب تک زندہ رہے گا اورکیا عمل کرے گا کل تو درکنار تمام عمر کے احوال سے خبردار ہوتا ہے اوروہ بھی اس وقت جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہے ۔

تبصرہ اویسی غفرلہ:یہ عام فرشتہ ہے جس سے اولیاء امت افضل ہیں ہاں اولیا ء امت سے ملائکہ مقربین ( جیسے جبرائیل ،میکائیل،اسرافیل ،عزرائیل علیہم السلام افضل ہیں ۔

٭تفصیل شرح عقائد ونبراس میں ملاحظہ ہو ۔

صدیق اکبر رضی الہ عنہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت انہیں بتادیا کہ بنت خارجہ حاملہ ہیں اور ان کے پیٹ میں لڑکی دیکھتا ہوں چنانچہ ’’تاریخ الخلفا ء‘‘ میں علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:

وأخرج مالک عن عائشہ أن ابابکر نحلھا جداد عشرین وسقا من مالہ بالغابۃ فلما حضرتہ الوفاۃ قال یا بنیہ واللہ ما من الناس احد احب الی غنی منک ولا اعزّ علّی فقرا ً بعدی منک وانی کنت نحلتک جداد عشرین وسقا فلو کنت جددتہ واحترز تہ کان لک ونما ھو الیوم مال وارث وانما ھو أ خوک وّختاک فاقسمو ہ علی کتاب اللہ فقالت یا ابت واللہ لو کان کذا ترکتہ انما ھی اسما فمن الاخرٰی قالا ذو بطن ابنہ خارجہ أراھا جاریۃ وأ خرجہ ابن سعد وقال فی اخرہ :قال ذات بطن ابنۃ خارجہ قد ألقہ فی روعی أنھا جاریۃ فاستو صی بھا خیر ا فولدت ام کلثوم۔ (تاریخ الخلفاء فصل فی مرضہ ای ابی بکر ووفاتہ ووصیۃ ص ۸۳ مطبوعہ میر محمد کتب خانہ ،ص ۶۳ ،۶۴ قدیمی کتب خانہ کراچی ،کرامات صحابہ )

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبر نے ان کو ایک درخت کھجور کا دے دیا تھا جس سے بیس وسق کھجوریں حاصل ہوتی تھیں جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اے بیٹی خدا کی قسم مجھے تیرا غنی ہونا بہت پسند ہے اور غریب ہونا بہت ناگوار ۔اس درخت سے اب تک جو کچھ تم نے نفع اٹھایا ہے وہ تمہارا تھا لیکن میرے بعد یہ مال وارثوں کا ہے تمہارے صرف دو نوں بھائی اور دونوں بہنیں ہیں اس ترکہ کو موافق ِ حکمِ شرع تقسیم کرلینا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ایسا ہوسکتا ہے لیکن میری تو صرف ایک بہن اسما ء ہی ہیں ۔آپ نے دوسری کون سی بتادی۔حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ ایک تو اسماء ہیں دوسری بہن تمہاری ماں کے پیٹ میں ہے میں جانتا ہوں کہ وہ لڑکی ہے ،پس ام کلثوم پیدا ہوئیں۔

نوٹ: اس قسم کے بے شمار واقعات احادیث مبارکہ اور کتب ِ اسلام میں اَن گِنْت ہیں فقیر نے چند نمونے صرف اِ ثبات مسئلہ کے لئے عرض کئے ہیں اس سے بہت زیادہ واقعات فقیر نے اپنی تصنیف ’’نور الھدی فی علم ما ذا تکسب غدا ‘‘ عرف ’’کل کیا ہوگا‘‘ میں جمع کیے ہیں ۔

وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم وصلی اللہ تعالیٰ علی حبیبہ الکریم الامین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔

۱۴ جمادی الاول ۱۴۲۴؁ ء بروز سہ شنبہ بعد صلوۃ الظہر

الفقیر قادری ابو الصالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفر لہ