Skip to content

نجاستوں کی پہچان

فقہعقائد

الحمدﷲرب العٰلمین والصلٰوۃ والسلام علٰی سید المرسلین

امابعد فاَعوذ باﷲ من الشیطٰن الرجیم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

سوال ۱: نجاست کی کتنی اور کون کون سی قسمیں ہیں؟

جواب:

نجاست کی دو قسمیں ہیں ۔(۱) غلیظہ (۲) خفیفہ

(البحر الرائق ۔باب الانجاس ۔صحیفہ ۲۹۹)

سوال ۲: ان دونوں کی تعریف کیا ہے؟

جواب:۔

جواب سے پہلے ضمناً عمومِ بلویٰ کی تعریف جاننا بہتر رہے گا۔

عمومِ بلویٰ کی تعریف:

وہ امر ہے کہ بلادِ کثیرہ (یعنی کثیر شہروں ) میں بکثرت رائج ہو ، عوام وخواص سبھی مبتلا ء ہوں اور اسے بچنا دشوار اور باعثِ حرج ہو ۔ (صحیفہ فقہ اسلامی ۔صفحہ نمبر ۱۵۲)

امام اعظم (ص) کے نزدیک نجاستِ غلیظہ کی تعریف:

٭ آپ کے نزدیک وہ اشیا ء ہیں کہ جن کی نجاست کے بارے میں تو کوئی نص (یعنی کوئی آیت ِمبارکہ یا حدیث ِکریمہ )وارد ہوئی ہو۔ لیکن کوئی دوسری نص اس کے مخالف یعنی ان اشیا ء کی طہارت کے بارے میںوارد نہ ہوئی ہو اور ان میں عمومِ بلویٰ بھی نہ پایا جائے

امام ابو یوسف اور امام محمد (قدس سرہما ) کے نزدیک نجاستِ غلیظہ کی تعریف:

٭ صاحبین کے نزدیک وہ اشیا ء ہیں کہ جن کے نجس ہونے پر علماء (علماء سے مراد اہلِ اجتہاد حضرات ہیں کہ جو یا تو صاحبین (قدس سرہما ) سے پہلے گذر چکے ہوں یا ان کے ہم عصر ہوں۔ (البحر الرائق ۔المجلد الاول باب الانجاس ۔صحیفہ ۲۲۹) متفق ہوں اور میں عمومِ بلویٰ بھی نہ پایا جائے ۔

امامِ اعظم (قدس سرہ العزیز) کے نزدیک نجاستِ خفیفہ کی تعریف:

٭آپ کے نزدیک وہ اشیاء ہیں کہ جن کے بارے میں دو نصوص آپس میں ٹکڑاتی ہوں۔ یعنی ایک نص اس کی ناست اور دوسری اس کی طہارت پر دلالت کرتی ہو …یا…ایسی اشیاء کہ صرف جن کی نجاست کے بارے میں ہی نص وارد ہوئی ہو لیکن ان میں عمومِ بلویٰ بھی پایا جائے ۔

صاحبین (قدس سرہما) کے نزدیک نجاستِ خفیفہ کی تعریف:

٭ اور صاحبین (قدس سرہما ) کے نزدیک وہ اشیاء ہیں کہ جن کی نجاست وطہارت کے بارے میں علماء میں اختلاف پایاجائے …یا … وہ اشیا ء ہیں کہ جن میں عمومِ بلویٰ پایا جائے ۔ (البحر الرائق المجلد الاول ۔باب الانجاس صحیفۃ ۲۲۹ رد المختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۲۳۳)

مثال:

جانوروں کی لید، امامِ اعظم (قدس سرہ العزیز) کے نزدیک نجاستِ غلیظہ ہے، کیونکہ رسول اللہ(ﷺ) نے ارشاد فرمایا انہ رجس اورکس۔ یعنی جانوروں کی لید گندگی وپلیدی ہے۔ اور اس حدیثِ پاک کے معارض کوئی دوسری حدیث بھی موجود نہیں۔ جب کہ صاحبین (قدس سرہما) کے نزدیک یہ نجاستِ خفیفہ ہے، کیونکہ امامِ مالک اور ابنِ لیلیٰ (قدس سرہما) اس کی طہارت کے قائل ہیں۔ (ان حضرات کی لید کی طہارت کا قائل ہونا عمومِ بلویٰ کے سبب ہے۔ (ردِمختار المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۲۳۳) (طحطاوی، باب الانجاس والطہارۃ عنھا، صحیفۃ ۸۲)

سوال ۳: نجاستِ مرئیہ وغیر مرئیہ سے کیا مراد ہے؟

جواب:

مرئیہ کا لغوی معنی ہے دکھائی دی جانے والی ۔اور اصطلاح میں اس نجاست کو کہتے ہیں کہ جس کا سوکھ جانے کے بعد جسم بن جائے ،جیسے پاخانہ۔اور غیر مرئیہ کا لغوی معنی ہے نہ دکھائی دی جانے والی ۔اور اصطلاح میں وہ نجاست ہے کہ جس کاسوکھ جانے کے بعد جسم نہ بنے ،جیسے پیشاب ۔ (البحر الرائق ،المجلد الاول ،باب الانجاس صحیفتہ ۲۳۶)

سوال ۴: ان کا نام غلیظہ اور خفیفہ کیوں رکھا گیا ہے؟

جواب:

غلیظہ کی وجہ تسمیہ:

غلیظہ،غلاظت سے بنا ہے، جس کا معنی ہے سخت ہونا۔ چونکہ اس نجاست کے بارے میں شریعت کا حکم سخت ہے کہ اس کی تھوڑی مقدار بھی لگ جائے تو مسلمان کو اس کا پاک کرنا لازم ہوجاتا ہے (جیسا کہ عنقریب ہوگا بیان ہوگا۔ ان شاء اللہ) لہذا اسے غلیظہ کا نام دیا گیا ہے۔

خفیفہ کی وجہ تسمیہ:

خفیفہ خفت سے بنا ہے، جس کا معنی ہے، ہلکا ہونا۔ چونکہ اس کے بارے میں شریعت کا حکم ہلکا ہے کہ اس کی بہت زیادہ مقدار لگے تب پاک کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، چنانچہ اسے خفیفہ کہتے ہیں۔

(طحطاوی ۔باب الانجاس ۔والطہارۃ عنھا، صفحہ ۸۰ بتغیرما)

سوال ۵: ان کی ممنوعہ اور معاف شدہ مقدار کیا ہے؟

جواب:

اس کی تفصیل یہ ہے کہ

(i)غلیظہ میں ممنوعہ مقدار کا اندازہ درہم کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ اگر یہ ایک درہم سے زیادہ ہو تو پاک کرنا فرض ،ایک درہم کے برابر ہو تو پاک کرنا واجب اور ایک درہم سے کم ہو تو پاک کرنا سنت ہے ۔ (الدر مختار ،المجلدالاول ۔باب الانجاس ۔صفحہ ۵۴ ۔البحر الرائق ۔المجلد الاول۔باب الانجاس ۔صحیفتہ ۲۲۸۔الفتاویٰ عالمگیریۃ ۔الملد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفتہ ۴۶)

سوال ۶: ایک درہم سے کیا مراد ہے؟

جواب:

اس کا جواب جاننے سے قبل یہ بات ذہن نشین رہے کہ نجاستِ غلیظہ دو قسم کی ہوتی ہے ۔

(۱) گاڑھی(جیسے پاخانہ) (۲) پتلی ( جیسے پیشاب )

گاڑھی میں درہم کا اندازہ وزن کے ساتھ اور پتلی میں ’’لمبائی ،چوڑائی ‘‘ کے ساتھ ہوتا ہے ۔

اب جواب یہ ہے کہ ،گاڑھی میں’’ ساڑھے چار ماشہ ‘‘ ایک درہم کی مقدار ہے ۔اور پتلی میں اسکا اندازہ اس طرح ہوتا ہے کہ ہتھیلی کو پھیلا کر اس پرپانی ڈالیں،جب پانی گرنے لگے تو رک جائیں ،اب جتنا پانی ہتھیلی پر نظر آرہا ہے یہ ایک ہتھیلی کی مقدار ہے ۔(الدرمختار المجلد الاول باب النجاس ۔صحیفۃ ۵۴ ۔ البحر الرائق ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔المجلد الاول ۔صحیفۃ ۲۲۸،الفتاویٰ عالمگیریۃ المجلد الاول ۔افصل فی اعیان النجستہ صحیفتہ ۴۶)

نماز کے سلسلے میں ان کے احکام :

پہلی صورت میں نماز پڑھی تو شروع ہی نہ ہوگی ۔دوسری صورت میں نماز ہو تو جائے گی لیکن مکروہ تحریمی ہوگی چنانچہ اس نماز کادوبارہ پڑھنا لازم ہے ۔اور تیسر صورت میں نماز مکروہِ تنزیہی ہے ،یعنی شریعت اس طرح ادائیگیِ نماز کو نا پسند کرتی ہے۔ اس نماز کا لوٹا لینا مستحب (پسندیدہ ) ہے۔

(ii) خفیفہ میں ممنوعہ مقدار کا اندازہ نجاست کی کثرت سے لگایا جاتا ہے ،چنانچہ اگر خفیفہ کپڑے یا بدن کے چوتھائی حصے تک پہنچ گئی تو اس کا پاک کرنا ضروری ہوگا ۔جب کہ اس سے کم کا پاک کرنا سنت ہے اگر اس کے ساتھ ہی نماز پڑھ لی تو ہوگئی ۔اس کا دوبارہ پڑھنا بھی واجب نہیں ،ہاں اگر لوٹالیں تو افضل ہے۔ (البحر الر ائق ،باب الانجاس ۔جلد الاول ۔صحیفۃ۲۲۸۔در مختار باب الانجاس ۔صحفۃ ۵۵ الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔الفصل فی الاعیان النجستۃ صحیفۃ ۴۶)

سوال ۷: اگر غلیظہ اور خفیفہ آپس میں مل گئیں تو کُل کوکیا کہیں گے؟

جواب:

اس صورت میں کُل غلیظہ ہے ۔ (الفتاویٰ العالمگیریۃ المجلد الاول الفصل فی اعیان النجسۃصحیفۃ ۴۸ الدرِمختار المجلد الاول باب الانجاس صحیفۃ ۵۵)

سوال ۸: اگر کپڑوں پر ایک درہم سے کم ناپاک تیل گرا، لیکن گرنے کے بعد پھیل کر ایک درہم کے برابر ہوگیا، تو اب گرتے وقت کی مقدارکالحاظ کیا جائے گا یا پھیلنے کے بعد والی؟

جواب:

اس صورت کے بارے میں فقہا ئِ کرام کا بے حد اختلاف پایا جاتا ہے ،لیکن درست اور محتاطِ مسئلہ یہی ہے کہ اس صورت میںپھیلنے کے بعد والی مقدار کا ہی اعتبار ہوگا ۔ (الفتاویٰ العالمگیریۃ۔المجلد الاول ۔الفصل فی الاعیان النجسۃ صحیفۃ ۴۸ البحر الرائق ۔المجلد الاول ۔باب النجاس صحیفۃ ۲۲)

سوال ۹: غلیظہ وخفیفہ میں درہم کی مقدار کا لحاظ ہر مقام پر ہے یا کسی جگہ کچھ فرق ہے؟

جواب:

درہم کی مقدار کا اعتبار پانی ودیگر مائعات کے علاوہ اشیا ء مثلاً زمین، بدن، کپڑے اور برتن وغیرہ میں معتبر ہے، پانی وغیرہ مائعات میں تو ان میں سے کوئی ایک قطرہ بھی گر گئی ،تو اسے ناپاک کردے گی ۔ (الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول الفصل فی الاعیان النجسۃ صحیفۃ ۴۶ ۔البحر الرائق المجلد الاول صحیفۃ ۲۲۹)

سوال ۱۰: کیا ہر قسم کے پانی کا یہی حکم ہے؟

جواب:

جی نہیں ۔اس میںکچھ تفصیل ہے ۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پانی تین قسم کے ہوتے ہیں۔

(۱) جاری۔ (۲) ٹھہرا ہوا جو جاری کے حکم میں ہو۔ (۳) ایسا ٹھہرا ہوا جو جاری پانی کے حکم میں نہ ہو۔

(۱) جاری :

وہ پانی ہے کہ اگر اس میں کوئی تنکا ڈالاجائے تو اسے بہا کر لے جائے … یا …وہ پانی ہے کہ اس سے ایک مرتبہ چلو بھریںتو دوسری مرتبہ اسی مقام سے چلو بھرنے میں نیا پانی ہاتھ آئے ،پہلے والا آگے نکل چکا ہو ۔ (ھدایہ ۔باب الماء الذییجوز بہ الوضو ء وما لایجوز بہ … صحیفۃ ۱۴)

اس کے ناپاک ہونے کی شرط:

یہ پانی نجاست کے گرنے کی وجہ سے صرف اس وقت ناپاک ہوگا کہ نجاست کے باعث اس کا رنگ ، بو یا مزے میں سے کوئی ایک چیز تبدیل ہوجائے ۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح … صحیفۃ ۴)

مثال:

نہر میں کسی جانور نے پیشاب کردیا، کسی نے چلو بھر دیکھا، اگر چلو میں پیشاب کا رنگ یا بو وغیرہ محسوس ہوئی تو یہ ناپاک ہے ورنہ پاک۔

(۲) ایسا ٹھہرا ہوا جو جاری کے حکم میں ہو :

اس پانی کا اندازہ کرنے کے لئے فقہا کرام نے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی حوض کی لمبائی ،چوڑائی کو ضرب دینے پر سو ہاتھ جواب آئے تویہ جاری کے حکم میں ہے ۔

وضاحت:

شرعی لحاظ سے ہاتھ کی درمیانی انگلی کے سرے سے لے کر کہنی تک (۲۴،انگلیاں چوڑائی میں) ایک ہاتھ کہلاتا ہے۔ اب مثلاً کسی حوض کی لمبائی اور چوڑائی ۱۰،۱۰ ہاتھ ہو تو حاصل ضرب سوہاتھ آئے گا، پس اس حوض کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہوگا۔ یونہی اگر لمبائی ۲۵ اور چوڑائی ۴ہاتھ ہو… یا… لمبائی ۲۰ اور چوڑائی ۵ہاتھ ہو۔ ایسے بڑے حوض کو دہ در دہ کہتے ہیں۔ (الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول ۔صحیفۃ ۱۸)

نوٹ: دہ در دہ کا اندازہ گزوں میں 25گزاور فٹ کے حساب سے 255فٹ '' ہوتا ہے (فتاویٰ مصطفویہ۔ کتاب الطہارۃ۔ صفحہ ۱۳۹)

اس کے ناپاک ہونے کی شرط:

اس کے ناپاک ہونے کی وہی شرط ہے کہ جو جاری پانی کی ہے ۔(ھدایۃ ۔باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء وما لایجوز بہ … صفحہ ۴۲)

مثال:

کسی کے گھرمیں مذکورہ لمبائی، چوڑائی کا حامل بڑا ٹینک ہے، اس میں کسی بچے نے پیشاب کردیا، یقیناً اتنے بڑے ٹینک میں تھوڑے سے پیشاب سے رنگ و بو ومزے میں فرق پڑنا ممکن نہیں چنانچہ پیشاب کی موجودگی اس کے لئے پاکی کا حکم ہوگا۔

(۳)ایسا ٹھہرا ہوا جو جاری کے حکم میں نہ ہو:

یعنی وہ پانی جو نہ تو جاری کے حکم میں ہو نہ ہی اتنا زیادہ ہو کہ اس پر جاری پانی کا حکم لگایا جاسکے ۔

اس کے ناپاک ہونے کی شرط :

اس کے ناپاک ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس میں نجاست گر جائے ،ا ب چاہے اس کا رنگ، بو یا مزہ تبدیل ہو یا نہ ہو ،ناپاکی کا حکم لگا دیا جائے گا۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح …صحیفۃ ۴)

مثال:

گھروں میں بنے ہوئے چھوٹے ٹینک کہ جن کی لمبائی چوڑائی مذکورہ مقدار سے کم ہو… یا ٹب بالٹی، واشنگ مشین وغیرہ… یا… گائوں وغیرہ میں پانی کے کنویں ۔ان میں نجاست گری، چاہے بظاہر کچھ بھی تبدیلی نظر نہ آئے، اس ٹینک یا کنویں کا کل پانی ناپاک ہوجائیگا۔

(الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول ۔الباب الثالث فی المیاہ ۔صحیفۃ ۱۶ ،۱۸)

سوال ۱۱: کون کون سی نجاستیں غلیظہ یا خفیفہ میں شامل ہیں؟

جواب: انجاسِ غلیظہ : ان کی تفصیل درج ذیل ہے ۔ [^1] بدنِ انسان سے نکلنے والی ہر وہ چیز جو کہ غسل واجب کردے یا وضو توڑ دے۔ مثلاً پاخانہ ،پیشاب ،منی ،ودی، مذی ،دکھتی آنکھ سے بہتا پانی، منہ بھر قے ،زخم وغیرہ سے بہنے والا خون یا پیپ وغیرہ ۔(الدر مختار ،المجلد الاول باب الانجاس ،صحیفۃ ۵۴ البحر الرائق المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۲۳۰ ۔الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول ۔الفصل فی الاعیان النجسۃ صحیفۃ ۴۶)

[2]گھر کے وہ پالتو جانور جن کا گوشت کھانا حرام ہے، ان کا پیشاب اور پاخانہ ۔جیسے گدھا خچر وغیرہ ۔ (الدرمختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۵۴۔۵۵)

[3]گھر کے وہ بالتو جانور جن کا گوشت حلال ہے، ان کا گوبر ومینگنی ۔جیسے گائے ، بھینس ، بکری ، دنبہ وغیرہ ۔ (الدر مختار ۔المجلد الاول ۔ باب الانجاس ۔صحیفۃ ۵۵)

[4]تمام درندوں کا پیشاب ،پاخانہ ، اور لعاب ۔جیسے کتا ،سور،شیر،چیتا وغیرہ ۔(الدرمختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس صحیفۃ ۵۵)

[5]گھر کے ایسے پالتو جانور جو اونچا نہ اڑ سکتے ہو ں۔ جیسے مرغی وبطخ وغیرہ کی بیٹ ۔(الدر مختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۵۵)

[6]ہر جاندار کا بہتا خون ۔لیکن شہید کا خون جب تک اس کے بدن پر رہے پاک ہے۔ (الدر مختار ۔المجلد الاول ۔باب النجاس ۔صحیفۃ ۵۵)

[7]سانپ کی بیٹ اور پیشاب ۔ (الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول الفصل فی الاعیان النجسۃ ۔صحیفۃ ۴۶)

انجاسِ خفیفہ:

ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

(۱) گھر کے ان پالتو جانوروں کا پیشاب کہ جن کا گوشت حلال ہے ۔ (الدر مختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۵۵)

(۲)شکاری پرندوں کی بیٹ ۔جیسے کوا ،چیل، باز،شکرا وغیرہ ۔ (الدرمختار ۔المجلد الاول ۔باب النجاس صحیفۃ ۵۵)

انسانی بدن سے نکلنے والی دیگر چیزوں کے بارے میں سوالات

سوال ۱۲: اگر قے منہ بھر سے کم ہو تو کیا حکم ہوگا؟

جواب: پاک ہے ۔(البحر الرائق المجلد الاول ،باب الانجاس ۔صحیفۃ ۲۳۰)

سوال ۱۳: منہ بھر قے سے کیا مراد ہے؟

جواب:

منہ بھر قے وہ ہے کہ انسان شدید تکلیف کوشش وتکلف کے بغیر روک نہ سکے ۔(ھدایۃ المجلد الاول۔ فصل فی نواقض الوضو ۔صحیفۃ ۳۴)

سوال ۱۴: بچے کے منہ بھر دودھ کا کیا حکم ہے؟

جواب:

یہ بھی نجاستِ غلیظہ ہے۔ (اس مسئلے کی روشنی میں وہ اسلامی بہنیں احتیاط فرمائیں کہ جو چھوٹے بچوں کا نکالا ہوا دودھ اپنے دوپٹے وغیرہ سے بلا تکلف صاف کرکے نماز کے لئے کھڑی ہوجاتی ہیں۔ گھر کے سر پرست کو یہ مسئلہ خصوصاً اسلامی بہنوں کو سمجھانا چاہئے) (بہارِ شریعت حصہ دوم ۷۷)

سوال ۱۵: انسان کے بدن سے خارج ہونے والی ہوا بھی وضو توڑنے کا سبب واقع ہوتی ہے تو کیا یہ بھی نجاستِ غلیظ ہے؟ اور کیا ہوا خارج ہونے پر استنجا ء ضروری ہوتا ہے؟

جواب:

خارج ہونے والی ہوا گوکہ ناقضِ وضو (یعنی وضو کو توڑنے والی) ہے ،لیکن وہ پاک ہوتی ہے ،اس کے باعث استنجاء کرنا جہالت ہے۔ (رد المختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۲۳۳)

سوال ۱۶: مشہور ہے کہ دودھ پیتے بچے کاپیشاب پاک ہوتا ہے، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب:

یہ خیال فقط جہالت کا نتیجہ ہے ،چنانچہ جیسے بڑے آدمی کا پیشاب نجاست غلیظہ ہے اسی طرح بچے کا پیشاب بھی ناپاک ہے ، چاہے وہ ایک ہی دن کا کیوں نہ ہو۔ (البحر الرائق المجلد الاول باب الانجاس صحیفۃ ۲۳۰ الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول،باب الانجاس ،صحیفۃ ۴۶ الفتاویٰ الرضویہ المجلد الرابع صحیفۃ ۵۵۶)

سوال ۱۷: بسا اوقات میت کے منہ سے پانی خارج ہوتا ہے، اس کاکیا حکم ہے؟

جواب:

یہ بھی ناپاک ہے ۔ (البحر الرائق ۔المجلدالاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۲۳۲ ۔الفتاویٰ اعالمگیریۃ المجلد الاول ۔باب الانجاس صحیفۃ ۴۶)

سوال ۱۸: بعض اوقات سوتے ہوئے منہ سے بدبوداررال نکل آتی ہے، یہ پانی پاک یا ناپاک ہے؟

جواب:

یہ پاک ہے ۔(البحر الرائق ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس صحیفۃ ۲۳۲ الفتاویٰ العالمگیریۃ المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۴۶)

سوال ۱۹: میت کے بدن سے لگ کر جو پانی بہے اس کاکیا حکم ہوتا ہے؟ سنا ہے کہ ناپاک ہوتا ہے اسی لئے نہلانے والے پر بھی غسل واجب ہوجاتا ہے؟

جواب:

اس کا جواب جاننے سے پہلے چند باتوں کو یاد رکھنا مفید ثابت ہوگا ۔

(1)نظر آنے یا نہ آنے کے اعتبار سے نجاست کی دو قسمیں ہیں ۔

٭حقیقیہ ٭حکمیہ

(1) حقیقیہ:

وہ نجاست ہے جو نظر آئے ۔جیسے پیشاب وپاخانہ وغیرہ

(2) حکمیہ:

وہ نجاستِ حکمیہ دور کرنے کی صلاحیت رکھنے یا نہ رکھنے کے اعتبار سے پانی کی دوقسمیں ہیں۔

(1)مستعمل (2)غیر مستعمل

(1) مستعمل:

وہ پانی ہے کہ جسے نجاستِ حکمی دور کرنے یا ثواب کے حصول کے لئے استعمال کیا گیا ہو اور وہ پانی نہ تو جاری ہو نہ دہ در دہ ۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح ۔کتاب الطہارۃ ۔صحیفۃ ۳)

مثلاً کسی بے وضو آدمی نے وضو کیا اب اس کے بد ن سے جو پانی ٹپکے گا وہ مستعمل ہوگا …یا… کسی باوضو شخص نے کھانے سے پہلے سنت کی نیت سے ہاتھ وھئے ،اب اگرچہ اس سے نجاست ِ حکمی دور نہ کی گئی لیکن چونکہ یہ پانی ثواب کے حصول کے لئے استعمال کیا گیا چنانچہ مستعمل کہلائے گا۔

(2) غیر مستعمل:

وہ پانی کہ جسے نجاست حکمی دور کرنے …یا …ثواب کے حصول کے لئے استعمال نہ کیا گیا ہو ۔ مثلاً کسی برتن میں پانی پڑا ہے ، کسی نے اسے چھوا نہیں یہغیر مستعمل ہے … یا … کسی باوضو شخص کے ہاتھ کا لک وغیرہ لگ گئی اب اس نے اس کا لک کو چھڑانے کے لئے ہاتھ دھوئے تو چونکہ اس صورت میں نہ تو نجاست ِ حکمی دورکی گئی اور نہ ہی ہاتھ دھونے سے ثواب حاصل کرنا مقصود تھا ،چنانچہ یہ پانی غیر مستعمل کہلائے گا ۔

سوال ۲۰: مستعمل پانی کو مستعمل کا حکم کب دیا جائے گا؟

جواب:

جب یہ بدن سے جدا ہوگا۔ جب تک بدن پر رہے گا، ضرورتاًاس پر مستعمل کا حکم نہ لگایا جائے گا ۔(مراقی الفلاح شرح نورالایضاح کتاب الطہارۃ ۔صفحہ ۳)

سوال ۲۱: اگر مستعمل اور غیر مستمل پانی مل گئے تو کیا حکم ہوگا؟

جواب: جس کی مقدار زیادہ ہوگی اسی کا حکم لگایا جائے گا ،مثلاً ایک جنبی نہار ہا تھا اس کے بدن سے مستعمل پانی کی چھینٹیں قریب رکھی ہوئی بالٹی میں موجود غیر مستعمل پانی میں چلی گئیں ،تو اب چونکہ بالٹی کا پانی مقدار میں زیادہ ہے لہذا کل غیر مستعمل ہوگا ۔ (مراقی الفلاح شرح نورالایضاح ۔کتاب الطہارۃ ۔صفحہ ۴)

(۳) نجاست ِ حقیقیہ وحکمیہ کی پاکی کا فائدہ دینے یا نہ دینے کے اعتبار سے پانی کی تین قسمیں ہیں ۔

(i)نا پاک وغیر مستعمل ۔(ii)پاک وغیر مستعمل ۔(iii)ناپاک۔

(i)نا پاک وغیرمستعمل :یعنی ایسا پانی کہ جسے نجاست حقیقی یا حکمی کو دور کرنے کیلئے استعمال نہ کیا گیا ہو ۔

حکم:

اس سے نجاستِ حقیقی وحکمی دونوں دور کی جاسکتی ہیں۔

(ii)پاک ومستعمل : یعنی ایسا پانی کہ جس سے نجاستِ حقیقی تو دور نہ کی گئی ہو ہاں نجاستِ حکمی دور کی گئی ہو یااسے ثواب کی نیت سے استعمال کیا گیا ہو۔

حکم:

اس سے نجاستِ حقیقی تو دور ہوسکتی ہے لیکن نجاستِ حکمی نہیں۔ (الدرِ مختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۵۳)

(iii)نا پاک: جس سے نجاست ِحقیقی دور کی گئی ہو…یا… اس میں کوئی نجاستِ غلیظہ یا خفیفہ کر گئی ہو اور یہ پانی نہ تو جاری ہو اور نہ ہی جاری کے حکم میں ہو ۔

اس تفصیل کے بعدجواب یہ ہوگا کہ’’ میت کے بدن سے لگنے والا پانی ومستعمل ہوتا ہے ،ناپاک نہیں (بشرطیکہ اس کے بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ نہ لگی ہو ) ۔ اور چونکہ یہ ناپاک نہیں لہذا اس کے بدن پر لگ جانے کے باعث بدن پاک ہی رہے گا اور جب بدن پاک ہے تو غسل کی کیا حاجت ؟ (البحر الرائق ۔المجلد الاول۔باب النجاس ۔صحیفۃ ۲۳۳)

لیکن چونکہ نجاستِ حکمیہ زائل کرنے والا پانی بدن ِ انسانی سے گناہوں کو دور کرنے کا سبب بنتا ہے ،لہذا اس گناہوں سے آلودہ پانی کے لگ جانے کے باعث بہتر ہے کہ غسل کرلیا جائے ،غالباً یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے میت کو نہلانے کے بعد غسل کرلینے کو مستحب یعنی افضل قرار دیا ہے۔

اولیا ء کرام (رحمہم اللہ) کی کرامت:

امام ِ اعظم (قد س سرہ العزیز ) جب لوگوں کے وضو کا پانی ملاحظہ فرماتے تو پانی کے ساتھ گرنے والے گناہوں کو بھی پہچان لیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کوفہ کی جامع مسجد کے حوض پر تشریف لے گئے ،ایک جوان وضو کررہا تھا ۔اس کے ٹپکتے ہوئے پانی پر نظر ڈالی تو فرمایا، ’’اے میرے بیٹے ! ماں باپ کو ایذا دینے سے توبہ کر ۔‘‘ اس نے فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کی ۔اسی طرح ایک اور شخص کا دھونا دیکھ کر ارشاد فرمایا ،’’شراب پینے اور آلات ِ لہو ولعب سننے سے توبہ کر ۔‘‘وہ بھی اسی وقت تائب ہوگیا۔

سیدی عبد الوہاب شعرانی (قدس سرہ العزیز ) فرماتے ہیں حضرت علی خواص (قدس سرہ العزیز ) کے ساتھ جامعِ ازہر کے حوض پر گیا۔ حضرت نے پانی استعمال کرنا چاہا، لیکن کچھ دیکھ کر لوٹ آئے ۔میں نے سبب پوچھا ۔فرمایا ،’’ابھی اس میں کوئی گناہ ِ کبیرہ دھو کر گیا ہے ۔‘‘ میں نے اس شخص کو دیکھا تھا جو حضرت سے پہلے طہارت کرکے گیا تھا ،میں اس کے پیچھے گیا اور اس سے حضرت کا قول بیان کیا ۔اس نے کہا ، واقعی حضرت نے سچ فرمایا ،مجھ سے زنا واقع ہوگیا تھا ۔‘‘ پھر وہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر تائب ہوگیا ۔(نظامِ شریعت بحوالہ میزان ِ شریعۃ الکبریٰ ۔صفحہ ۴۳)

سوال ۲۲: جنب( یعنی جس شخص پر غسل واجب ہو)کا پسینہ پاک ہے یا ناپاک؟

جواب:

پاک ہے۔ (الفتاویٰ رضویہ (جدید) المجلد الرابع ؛صحیفۃ ۳۸۰)

سوال ۲۳: بدنِ انسانی سے نکنے والی وہ چیزیں جن سے غسل یا وضو واجب نہیں ہوتا مثلاً تھوک، بلغم نہ بہنے والا خون، منہ بھر سے کم قے وغیرہ کیا حکم رکھتی ہیں؟

جواب: پاک ہیں۔ (الفتاویٰ الرضویہ (جدید) المجلد الرابع ؛صحیفۃ ۳۸۰)

— جانوروں کے بارے میں مزید متفرق سوالات

سوال ۲۴: ہاتھی کا ظاہری بدن، اس کا تھوک، اس کی سونڈ کی رطوبت اور ہڈی وغیرہ پاک ہیں یا ناپاک؟

جواب:

اس کے ظاہر پر اگر کوئی نجاست نہ لگی ہو تو پاک ہے ۔یونہی ہڈی اگر خشک ہے اس پر کسی قسم کی تری موجود نہیں تو وہ بھی پاک ہے ۔لیکن اس کا لعاب اور رطوبت ِ سونڈ دونوں ناپاک ہیں۔(فتاویٰ قاضی خان ۔المجلد الاول ۔فصل فی النجاسۃ صحیفۃ ۱۱۔الفتاویٰ الرضویۃ (جدید) المجلد الرابع ۔صحیفہ ۳۷۷۔الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول باب الانجاس صحیفۃ ۴۸)

سوال ۲۵: سنا ہے کہ چھپکلی کسی کے اوپر گر جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے؟ نیز اس کی بیٹ پاک ہے یا ناپاک؟

جواب:

یہ خیال بھی جہالت کی پیداوار ہے ۔جب تک اس کے بدن پر کوئی نجاست نہ ہو اس کا ظاہر پاک ہے ۔یہ تو بدن کامعاملہ ہے ، اگر یہ چھپکلی دودھ غیر مائع میں گر گئی اور مرنے سے پہلے نکال دی گئی تو دودھ بھی ناپاک نہ ہوگا۔ اب اگر اس کا منہ ڈوبا تو کسی کے لئے کوئی کراہت نہیں اور اگر منہ پانی میں چلا گیا تو غنی کے لئے اس کا استعمال مکروہ ِ تنزیہی (یعنی شریعت کے نزدیک اس کا استعمال نہ پسندیدہ ہے لیکن گناہ نہیں )اور فقیر کے لئے بلا کراہت جائز ہے ۔(غنی اور شرعی فقیر کی جامع تعریف ’’والدین سے محبت کا تقاضا‘‘ …یا…’’عید ِ قربان‘‘ میں ملاحظہ فرمائیے ۔(ادارہ )جیسا کہ فتاویٰ رضویہ(جلد ۴۔جدید ۔صفحہ ۳۸۳ ) میں سرکہ میں چھپکلی گرنے کے بارے میں ایک سوالکے جواب میں اعلیٰ حضرت (قدس سرہ العزیز ) ارشاد فرماتے ہیں ،’’ جب وہ زندہ نکل آئی ،سرکہ پاک ہے۔(کچھ آگے ارشاد فرمایا) پھر اگر اس کا منہ سرکہ میں نہ ڈوبا بلکہ تیرتی رہی تو اس کاکھانا مکروہ تک نہیں اور ڈوب گیا تو غنی کے لئے کراہتِ تنزیہی ہے اور فقیر کے لئے اس قدر بھی نہیں ۔در مختار (جلد اول ۔ فصل البئر ۔صفحہ ۴۰)میں ہے ،’’ گھروں میں رہنے والے جانور وں کا جوٹھا ضرورت کے تحت پاک ہے،اس کے سوا موجود ہو تو مکروہ ِتنزیہی ہے ورنہ بالکل مکروہ نہیں ، جیسے فقیر کے لئے اس کا کھانا (مکروہ نہیں )۔‘‘

اس کی بیٹ ویسے تو ناپاک ہے لیکن چونکہ اس سے بچنے کا حکم لگانے کے باعث عوام حرج میں مبتلاء ہوجائے گی لہذا شریعت نے یہاں رخصت عنایت فرمائی ہے ۔ چنانچہ اگر پانی میں اس کی بیٹ گر گئی تو پانی پاک رہے گا ۔

سوال ۲۶: جانوروں کی قے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

ہر جانور کی قے اس کی بیٹ کا حکم رکھتی ہے۔چنانچہ جن کی بیٹ پاک ہے جیسے کبوتر وچڑیا، ان کی قے بھی پاک ہے اور جن کی خفیفہ ہے ان کی قے بھی خفیفہ اور جب کی غلیظہ ہے تو قے بھی نجاستِ غلیظہ ہے ۔(الفتاویٰ الرضویہ (جدید )المجلد الرابع صحیفۃ ۳۹۰)

سوال ۲۷: ان کی جگالی کا کیا حکم ہے؟

جواب:

ان کی جگالی کا وہی حکم ہے جو ان کے پاخانے کا ہے ۔یعنی نجاستِ غلیظہ۔ (الدرمختار ۔المجلد الاول ۔ باب الاستنجاء ۔صحیفۃ ۵۷۔الفتاویٰ الرضویہ (جدید ) المجلد الرابع ۔صحیفۃ ۳۹۱۔الفتاویٰ العالمگیریۃ المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۴۸)

سوال ۲۸: چوہے کے ظاہری بدن، بیٹ اور پیشاب کاکیا حکم ہے؟ نیز اگر اس کی بیٹ گندم میں پس گئی یا تیل یا شیرہ یا سرکہ میں گر گئی تو کیا حکم ہوگا؟

جواب:

اس کے ظاہر کا یہی حکم ہوگا جو چھپکلی کا ہے۔نیز اس کا بیٹ اور پیشاب معاف ہے۔ یعنی جس چیز میں گری وہ پاک رہے گی ۔وجہ وہی ہے جو چپکلی کے بارے میں بیان کی گئی ۔ (الفتاویٰ رضویہ (جدید ) المجلد الرابع ۔صحیفۃ ۳۹۸ ۔الدرمختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۵۴،۵۵الفتاویٰ العالمگیریۃ ،المجلد الاول ،باب النجاس ،صحیفۃ ۴۶)

سوال ۲۹: اگر کتا کسی کے کپڑوں سے لگ گیا تو کپڑے ناپاک ہوئے یا نہیں؟

جواب:

اگر کتے کا ظاہری بدن خشک ہے تو پاک اور اگر تر ہے تو دیکھیں گے کہ نجاست کی وجہ سے تر ہے یا پاک پانی یا پسینے کی وجہ سے ۔بصورت ِاول ناپاک اور بصورتِ ثانی وثالث پاک ہے ۔(الفتاویٰ الرضویہ (جدید ) المجلد الرابع ۔صحیفۃ ۴۰۰الفتاویٰ اعالمگیریۃ ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۴۸)

سوال ۳۰: ریشم کے کیڑے کا ظاہر، پانی اور بیٹ پاک ہے یا ناپاک؟

جواب:

پاک ہے ۔(الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس صحیفۃ ۴۶)

سوال ۳۱: چمگاڈر کا پیشاب وبیٹ پاک ہے یا ناپاک؟

جواب:

پاک ہے۔ (الدرِ مختار ۔المجلد الاول ۔باب النجاس ۔صحیفۃ ۵۴)

سوال ۳۲: بلی کے جو ٹھے، پیشاب اور پاخانے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اس کا جوٹھا پاک ہے ۔لیکن اگر دوسرا پانی موجود ہو تو اس پانی کا استعمال مکروہ تنزیہی ہے ،ورنہ بلاکراہت جائز ۔ (الدرِمختار ۔المجلد الاول ۔ باب الانجاس صحیفۃ ۴۰)

پیشاب اور پاخانہ ناپاک ہیں۔(البحر الرائق ۔المجلد الاول ۔ باب النجاس ۔صحیفۃ ۲۳۰)

سوال ۳۳: گدھے، گھوڑے اور خچر کا تھوک پاک ہے یا ناپاک؟

جواب:

پاک ہے ۔(الدرِمختار ۔المجلد الاول ۔باب النجاس ۔صحیفۃ ۵۵)

سوال ۳۴: کن پرندوں کی بیٹ پاک ہو تی ہے؟

جواب:

گھر کے وہ پالتو پرندے جو اونچا اڑتے ہیں مثلاًکبوتر ،طوطا وغیرہ اور تمام ایسے پرندے جو شکار نہ کرتے ہوں ۔ (الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۴۶۔ الدر مختار ۔المجلدالاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۵۵)

سوال ۳۵: مکھیاں، ناپاکی سے اڑ کر کپڑوں پر بیٹھیں، کپڑوں کے لئے کیا حکم ہوگا؟

جواب:

اگر کپڑوں پرلگنے والی یہ نجاست کثیر ہو تو ناپاک ورنہ پاک رہیں گے۔ (الفتاویٰ العالمگریۃ ۔المجلد الاول ۔باب النجاس صحیفۃ ۴۸)

سوال ۳۶: گھروں میں رہنے والے جانور مثلاً مکھی، مچھر، لال بیگ، چھپکلی، چوہا، سانپ، بچھو، چیونٹی وغیرہ پانی میں گر کر مرگئے پانی پاک ہوگا… یا… ناپاک؟

جواب:

جن جانوروں میں بہتا خون ہوتا ہے ان کے مرنے پر پانی ناپاک اور جن میں بہتا خون نہیں ان کے مرنے پر پاک رہے گا ۔(ہدایۃ ۔باب الماء …صحیفۃ ۴۱)

متفرق سوالات

سوال ۳۷: اگر دودھ دہتے ہوئے بکری کی مینگنی گر گئی، تو کیا ہوگا؟

جواب:

اگر گرتے ہی فوراً نکال دی گئی تو پاک ہے اتنی دیر کی کہ مینگنی ٹوٹ گئی تو ناپاک ۔ (الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۴۸)

سوال ۳۸: گوبر سے چھت لیپی، پھر بارش برسی اور پانی کپڑوں یادیگر اشیا ء پر گرا تو کیا حکم ہوگا؟

جواب:

اگر بارش سے گوبر بالکل دھ گیا ،اس کے بعد پانی ٹپکا تو کچھ مضائقہ نہیں ۔اور اگر گوبر باقی ہے اور ٹپکنے والے پانی میں اس کا رنگ نظر آئے …یا…بو محسوس ہو رہی ہو تو ناپاک ۔ اور اگر رنگ یا بو کچھ بھی محسوس نہیں ہورہا تو دیکھیں گے کہ بارش ہورہی ہے … یا … نہیں ۔اگر ہورہی تو پاک (کیونکہ یہ جاری پانی ہے ) اور اگر بند ہوچکی ہے توناپاک ۔(کیونکہ یہ ایسا پانی ہے کہ جو نہ تو جاری ہے اور نہ ہی جاری کے حکم میں ہے۔) (الفتاویٰ الرضویہ (جدید) المجلد الرابع صحیفۃ ۴۷۱)

سوال ۳۹: گوبر کو جلا کر کھانا وغیرہ پکایا، کھانا پاک ہے یا اس کے دھویں کی وجہ سے ناپاک ہوگیا؟

جواب:

کھانا پاک ہے ،کیونکہ گوبر کا دھواں پاک ہوتا ہے ۔ (الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۴۸)

٭بلکہ یاد رکھیں کہ ہر قسم کی نجاست کا دھواں پاک ہوتا ہے ۔ (البحر الرائق ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۲۳۳)

سوال ۴۰: ناپاکی پر سے تیز ہوا گزر کر کپڑوں کو لگی، کیا حکم ہے؟

جواب:

کپڑے پاک رہیں گے ۔(رد المختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۲۳۸)

سوال ۴۱: کیا کسی صورت میں خون معاف وپاک بھی ہوتا ہے؟

جواب: جی ہاں۔ درج ذیل 12قسم کے خون معاف وپاک ہیں۔ (1)شہید کا خون ،جب تک اس کے بدن پر رہے ۔(2)کٹے ہوئے گوشت میں موجود خون۔ (3)رگوں کا خون (4)کلیجی کا خون ۔(5)تلی کا خون (6)دل کا خون ۔(7)وہ خون جو بہنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو ۔(8)مچھلی کا خون ۔(9)جوں کا خون ۔(10)پسو کا خون (11)مکھی کا خون (12)کھٹمل کا خون ۔

(الدر ِمختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۵۵)

سوال ۴۲: گوشت سے بہتا ہوا خون لگا ہوا ہو تو کیا حکم ہوگا؟

جواب:

ناپاک ہے۔(الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۴۶)

سوال ۴۳: کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ پیشاب بدن یا کپڑوں پر لگے لیکن انسان ناپاک نہ ہو؟

جواب:

جی ہاں ۔اگر پیشاب کی چھینٹیں سوئی کے سر کے برابر باریک ہیں تو پاک ہیں ورنہ ناپاک ۔ (رد المختار ۔المجلد الاول۔ باب لنجاس ۔ صحیفۃ ۶۳۶۔الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۵۵)

سوال ۴۴: اگر پیشاب کی ایسی ہی باریک چھینٹیں پانی میں گر گئیں، کیا حکم ہے؟

جواب:

اگر پانی جاری یا جاری کے حکم میں ہو توپاک ورنہ ناپاک ۔(الفتاویٰ العالمگیریۃ ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۴۶)

سوال ۴۵: مردار کی ہڈی پاک ہے یا ………؟

جواب:

ہڈی ہر جانور کی پاک ہے، حلال یا حرام ،مذبوح یا مردار جب کہ اس پر بدنِ میتہ کی کوئی رطوبت نہ ہو۔(الفتاویٰ الرضویہ (جدید ) المجلد الرابع ۔صحیفۃ ۴۷۱)

سوال ۴۶: غسلِ جنابت میں بدن سے لگ کر گرنے والا پانی کیا حکم رکھتا ہے؟

جواب:

یہ پاک ومستعمل ہوتا ہے ۔(الفتاویٰ الرضویۃ (جدید) المجلد الرابع ۔صحیفۃ ۵۵۸)

سوال ۴۷: چند جگہ تھوڑی تھوڑی نجاست لگی یعنی کسی بھی مقام پر ایک درہم کے برابر نہیں تو کیا حکم ہوگا؟

جواب:

اس میں اندازہ کریں گے کہ اگر اس تمام نجاست کو جمع کیا جائے تو اس کی مقدار ایک درہم کے برابر یا زائد ہوجائے گی …یا…نہیں ۔بصورت اول کپڑا پاک کرنا فرض واجب بصورت ثانی سنت ۔(بہارِ شریعت حصہ دوم ۷۹)

سوال ۴۸: راستے کی کیچڑ کا کیا حکم ہے؟

جواب:

جب تک اس میں سی نجاست کی آمیزش کا کامل یقین نہ ہو پاک ہے ۔ (رد المختار ۔المجلد الاول ۔باب الانجاس ۔صحیفۃ ۲۳۷)

مسائل وماخذ کتب اور ان کے مطابع

[1] الفتاویٰ العالمگیریۃ (مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

[2] فتاویٰ قاضی خان (حافظ کتب خانہ کوئٹہ)

[3] الدر مختار (ایچ، ایم، سعید کمپنی کراچی)

[4] رد مختار (مکتبہ رشیدیہ)

[5] حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (قدیمی کتب خانہ کراچی) [6] ھدایہ (مکتبہ رشیدیہ)

[7] مراقی الفلاح شرح نورالایضاح (مکتبہ امدادیہ ملتان)

[8] البحر الرائق (ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

[9] الفتاویٰ الرضویہ (رضا فائونڈیشن لاہور)

[10] بہارِ شریعت (مکتبہ اسلامیہ لاہور)

[11] صحیفہ فقہِ اسلامی (فرید بک اسٹال لاہور)

[12] نظامِ شریعت (شبیر برادر زلاہور)

[13] فتاویٰ امجدیہ (مکتبہ رضویہ کراچی)

[14] فتاویٰ مصطفویہ (شبیر برادرز لاہور)