Skip to content

سفرنامہ ہند سے متعلق چند معروضات

ردِّ بدمذہبعقائدِاہلسنت

دیباچہ

الحمدﷲرب العٰلمین ط والصلٰوۃ والسلام علٰی سید المرسلین ط امابعد فاَعوذ باﷲ من الشیطٰن الرجیم ط بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ط

جناب پروفیسر محمد اسلم صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، پنجاب یونیورسٹی لاہور(متوفی ۱۹۹۸ء) ، ہمارے ملک کے مشہور تاریخ داں، محقق، ادیب، علم الانساب کے ماہراور کئی اہم کتابوں کے مصنف تھے ۔ گذشتہ دنوں پروفیسر صاحب کی کتاب’’سفر نامہ ہند‘‘ پڑھنے کو ملی، سفر نامہ میں مقابر ومزارات کے الواح اور کتبوں کی نقل بہت اہم کام ہے ، سفر نامہ میں سنین وفات درج کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، مجموعی طور پر یہ سفر نامہ علمی اعتبار سے معلومات کا ذخیرہ ہے لیکن چند باتیں ایسی بھی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔

شاہ زید ابوالحسن کی تصانیف

پروفیسر صاحب دہلی کے سفر نامہ میں لکھتے ہیں: ’’شاہ زید ابوالحسن(م۱۹۹۳ء) جامعہ ازہر کے فاضل اور خانقاہ شاہ ابوالخیر کے سجادہ نشین تھے، انہوں نے ساٹھ برس اس خانقاہ کی خدمت کی ہے، ان کی تصانیف میں سے ’’مقامات خیر‘‘، ’’حضرت مجدد اور اُن کے ناقد‘‘( کتاب کاپورا نام’’ حضرت مجدد اور ان کے ناقدین‘‘ہے) اور’’ ابن تیمیہ‘‘( کتاب کا پورا نام’’علامہ ابن تیمیہ اور کے ہم عصر علماء‘‘ ہے) جیسی تصانیف قابل ذکر ہیں، جب میں ان سے ملا تو ان دنوں وہ شاہ اسماعیل شہید کے خلاف مواد جمع کرنے میں مصروف تھے، یہ جان کر مجھے بڑا دکھ ہوا کہ موصوف کس کام میں لگ گئے ہیں‘‘۔( پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ ریاض برادرز اُردو بازارلاہور ۱۹۹۵ء، ص۹۰ )

حضرت شاہ ابوالحسن زید فاروقی دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ نے مولانا اسماعیل دہلوی کے بارے میں جو کتاب لکھی ہے، اس کا نام’’ مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان‘‘ ہے، حقیقت یہ ہے کہ حضرت زید دہلوی نے یہ کتاب لکھ کر تحقیق وانصاف کا حق ادا کردیا ہے، کتاب لائق مطالعہ ہے ، ان کا طرز تحریر نہ متکلمانہ ہے اور نہ ہی مناظرانہ بلکہ دعوت فکر ہے، آپ کی شخصیت غیر جانب دار تھی، اس لئے آپ پر کسی طرف جھکائو کا الزام نہیں دیا جاسکتا۔

ڈاکٹر ابوالفضل فاروقی دہلوی(متوفی ۱۹۸۴ء) اس کتاب کے ادارئیے میں لکھتے ہیں: ’’حضرت مؤلف مدظلہٗ کا تعلق ہندوستان کی کسی جماعت سے نہیں، یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا ہے، آپ مستند قدیم کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور جو کچھ سمجھ میں آتا ہے اس کا اظہار فرماتے ہیں‘‘۔
(شاہ ابوالحسن زید فاروقی، مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان، مطبوعہ مرکزی مجلس رضا لاہور ۱۹۸۴ء، ص۳)

پروفیسر محمد اسلم صاحب کا سفر نامہ ۱۹۹۵ء میں لاہور سے شائع ہوا ہے، جبکہ شاہ ابوالحسن زید کی کتاب’’مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان‘‘ ۱۹۸۴ء میں دہلی سے اور ۱۹۸۴ء ہی میں لاہور سے دو ایڈیشن شائع ہوئے، معلوم نہیں کیا وجہ ہے کہ پروفیسر صاحب نے اس کتاب کا ذکر کیوں نہیں کیا، پروفیسر صاحب کی کتاب’’سفرنامہ ہند‘‘ کے کئی باب جو کہ پہلے مختلف رسائل میں شائع ہو چکے تھے، سفر نامہ میں ترمیم و اضافہ کے ساتھ شامل کئے گئے ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ دہلی کے سفر نامہ میں ایک دو سطر کے اضافہ کے ساتھ شاہ ابوالحسن زید فاروقی کی کتاب کا ذکر نہ ہوسکا؟ ، اس سے قارئین کو حضرت زیددہلوی علیہ الرحمہ کے مؤقف کا بھی علم ہوجاتا۔

مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان

مولانا اسماعیل دہلوی اپنی کتاب تقویۃ الایمان کے بارے میں خود کہتے ہیں :

’’ اس میں بعض جگہ ذرا تیز الفاظ بھی آگئے ہیں اور بعض جگہ تشدد بھی ہو گیا ہے‘‘۔

پھر لکھتے ہیں:

’’گو اس سے شورش ہوگی مگر توقع ہے کہ لڑ بھڑ کر خود ٹھیک ہوجائیں گے‘‘۔

(مولانا اشرف علی تھانوی، ارواح ثلاثہ، مطبوعہ اسلامی اکادمی اُردو بازار لاہور ۱۹۷۶ء،ص۹۸ )

مولانا اسماعیل دہلوی نے کتاب لکھ کر لڑائی، جھگڑے، فتنہ فساد اور اختلافات کی بنیاد تو خود رکھ دی، اب اگر کوئی ان سے اختلاف کرتا ہے تو پروفیسر صاحب کو اس سے دُکھ درد محسوس ہونے والی کون سی بات ہے؟۔

پروفیسر صاحب دہلی کے سفر نامہ میں لکھتے ہیں:

’’پیر شرافت نوشاہی(۲۲؍رمضان ۱۴۰۳ھ/ ۴؍جولائی۱۹۸۳ء کو ساہن پال شریف ضلع گجرات (پاکستان)میں وفات ہوئی )نے’’شریف التواریخ ‘‘میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ جامع مسجد(دہلی) کے قبلہ کا رُخ شاہ رحمن بھڑی والا(متوفی ۱۱۱۵ھ/ ۱۷۰۳ء ، مدفون بھڑی شاہ رحمان ، ضلع حافظ آباد، پنجاب) نے شاہجہان کی درخواست پر درست کیا تھا، بقول شرافت نوشاہی، شاہ رحمن پیشہ کے اعتبار سے دھوبی تھے، انہوں نے کپڑا نچوڑتے ہوئے قبلہ رُخ دیوار کی سمت درست کردی، ہمارے خیال میں تاج محل، لال قلعہ اور جامع مسجد دہلی جیسی عظیم الشان عمارتیں تعمیر کرنے والے معماروں پر ایک اتہام ہے کہ انہوں نے مسجد کی بنیاد رکھتے وقت سمتِ قبلہ کا خیال نہیں رکھا، حالانکہ یہ خاندان ریاضی دانی اور جومیٹری کے علم میں مہارت کے لئے پورے عالم میں اپنی مثال آپ تھا‘‘۔(پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵ء، ص۸۵،۸۶)

پروفیسر صاحب ایک ولی اﷲ کی کرامت کا انکار کرنے کے لئے معماروں کی تعریف کرکے انہیں تہمت سے بچا رہے ہیں، لیکن درج ذیل واقعہ کے متعلق کیا کہا جائے گا کہ بانی ٔدارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ مولانا محمد علی مونگیری(متوفی۱۹۲۷ء) ، حضرت شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی قدس سرہٗ (متوفی۱۳۱۳ھ) کے ملفوظات میں لکھتے ہیں:
’’ ایک شب مسجد کانپور جسے ہندئوں نے شہید کردیا تھاکا تذکرہ ہوا، جس میں مَیں نماز پڑھتا ہوں، میں نے عرض کیا کہ حضرت یہ مسجد ٹیڑھی ہے، قبلہ کے رُخ نہیں، ارشاد ہوا کہ تم سیدھی نہیں کردیتے،(پھر) ایک گائوں کا نام لے کر فرمایا کہ اس میں ایک مسجد کو لوگ ٹیڑھی کہتے تھے، میں نے وہاں نماز پڑھی اور تھوڑی دیر بیٹھا، پھر میں نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو تو یہ مسجد سیدھی ہے یا ٹیڑھی، خدا کی قدرت پھر جو دیکھا تو مسجد سیدھی تھی، یعنی تھوڑی دیر بیٹھ کر جو آپ نے توجہ اور ہمت فرمائی تو خدا تعالیٰ نے اس مسجد کو سیدھا کردیا ؎

اولیاء را ہست قدرت از اِلٰہ (مولانا محمد علی مونگیری، ارشاد رحمانی وفضل یزدانی، مطبوعہ سنی لٹریری سوسائٹی ریلوے روڈ لاہور، ۱۴۱۷/ ۱۹۹۶ء، ص۵۲ )

ایک اور مقام پر بھی پروفیسرصاحب بزرگوں کی کرامت سے انکار کرنے کے لئے جدید تحقیق کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ امروہہ کے سفر نامہ میں لکھتے ہیں:

’’(محمود احمد) عباسی مرحوم (م۱۹۷۴ء) کے گھر سے ہم شاہ ولایت حسین ابن علی نقوی واسطی سہروردی المعروف بچھوئوں والے پیر کا مزار دیکھنے گئے، اس بزرگ کے مزار پر بچھوئوں کے لکڑی اور لوہے کے بڑے بڑے مجسمے آویزاں ہیں اور زندہ بچھو بھی درگاہ کے احاطے میں چلتے پھرتے دیکھے جاسکتے ہیں، وہاں کے عوام کا یہ کہنا کہ شاہ ولایت کی کرامت سے احاطہ مزار کے اندر بچھو ڈنگ نہیں مارتے، مولانا نسیم احمد فریدی(امروہوی) نے ہمیں بتایا کہ جدید تحقیق کے مطابق صدیوں پرانے قبرستان میں فاسفورس کی مقدار اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ وہاں کے رہنے والے سانپوں بچھوئوں کا زہر ختم ہوجاتا ہے، اس لئے ان کا گزند نہ پہنچانے کا شاہ ولایت کی کرامت سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔(پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور۱۹۹۵ء، ص۱۸۹،۱۹۰ )

اس معاملہ میں ہمیں نامور شاعر اور دانشور جناب رئیس امروہوی ( م ۱۹۸۸ء) کی شہادت اخبارات کی فائل سے ملی ہے، جس سے اس بات کی تردید ہوتی ہے کہ فاسفورس کی زیادتی بچھوئوں کے نیش زنی کرنے میں مانع ہے یا وہ پرانے قبرستانوں کے بچھو ہوتے ہیں۔

مشہور ماہر تعلیم، دانشور، ادیب ، پروفیسر محمد عثمان مرحوم، سابق ڈائریکٹر ادارہ تعلیم وتحقیق جامعہ پنجاب لاہور(م۱۹۸۷ء) اپنے ایک مضمون ’’تصوف اور اسلام‘‘میں غلام احمد پرویز (منکرِ حدیث)کی کتاب’’تصوف اور اسلام‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ (مشہور صحافی، کالم نگار)منّو بھائی نے اپنے کالم’’گریبان‘‘(روز نامہ جنگ لاہور، شمارہ۱۸؍ جون۱۹۸۳ء)میں حضرت شاہ ولایت امروہوی کے بارے میں کچھ اس قسم کی بات لکھی کہ ملک کے نامور اور واجب الاحترام بزرگ شاعر اور دانشور رئیس امروہوی کو ایک مفصل خط لکھنا پڑا ، جسے منو بھائی نے اپنے کالم میں مورخہ ۵؍ جولائی(۱۹۸۳ء)کو شائع کیا، خط کا ایک حصہ ملاحظہ ہو:

’’ لوگ یہ کرتے ہیں کہ احاطہ درگاہ میں رینگنے والے بچھوئوں کو ہاتھوں سے پکڑ لیتے ہیں اور ایک مدت مقرر کرکے انہیں احاطہ درگاہ سے باہر لے جاتے ہیں، اگر مدت مقررہ میں بچھو کو درگاہ میں نہیں پہنچاتے تو وہ نیش زنی شروع کردیتا ہے، میں خود اس واقعہ کا چشم دید گواہ ہوں کہ یوپی کے گورنرسر مالکم ہیلی جب مغربی یوپی کے دورہ پر آئے تو ان کی ایک منزل امروہہ بھی تھی، ، گورنر بذات خود اس کرامت کی تصدیق کرنا چاہتا تھا، چنانچہ اس نے قصبہ کانٹھ سے بچھو پکڑوائے(یہاں کے بچھو بہت زہریلے ہوتے ہیں)اور انہیںاحاطہ درگاہ مزار کے قریب چھوڑ دیا ، گورنر کویہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ مجاوروں کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی ان بچھوئوں کو ہاتھوں میں اٹھالیا اور کسی کو گزند نہ پہنچا ، سر مالکم ہیلی نے درگاہ شریف کی معائنہ بُک میں بطور خاص اس واقعہ کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ بچھو اس درگاہ کے احاطے میں اپنی فطرت(مقتضائے طبیعت) سے کیو ں منحرف ہوجاتے ہیںاور درگاہ سے باہر جاکر ان کی جبلت نیش زنی کیوں بروے کار آجاتی ہے؟سال گذشتہ میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ ہندوستان کے دورے کے سلسلے میں امروہہ بھی گیا تھا، کراچی کے ان دوستوں نے اس کرشمے کو صرف دیکھا ہی نہیں ، خودبھی تجربہ کرکے متعجب اور محظوظ ہوئے‘‘۔(روز نامہ جنگ، لاہور، شمارہ پیر، ۲۱؍ شوال ۱۴۰۳ھ/یکم اگست ۱۹۸۳ء، ص۳ )

مولانا ارشد حسین مجددی کا مزار

پروفیسر صاحب رام پور کے سفر نامہ میں ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’اگلے روز میں حکیم محمد حسین شفاؔ کے ساتھ رام پور کے مشہور عالم مولانا ارشاد حسین مجددی (م۱۸۹۳ء) کا مزار دیکھنے گیا، ان کے علمی مقام کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے تلامذہ میں مولانا شبلی نعمانی(م۱۹۱۴ء)، نواب کلب علی خاں(م۱۸۸۷ء)، اور حافظ عنایت اﷲ مجددی جیسے فضلاء کے نام آتے ہیں ، ان کے احاطہ مزار میں مولوی سلامت اﷲ خاں کی بھی قبر ہے، یہ بزرگ رام پور کے احمد رضا خاں تھے‘‘۔(پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور، ۱۹۹۵ء، ص ۱۹۵ )

پروفیسر صاحب نے مندجہ بالا عبارت کے آخر میں مولانا سلامت اﷲ خاں مجددی رامپوری رحمتہ اﷲ علیہ(م۱۹۱۹ء) کو مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمتہ اﷲعلیہ(م۱۹۲۱ء)سے جو تشبیہہ دی ہے ، یہ عشق رسول کی بنا پر نہیں بلکہ حمایت شریعت اور ردّ وھابیہ کے سلسلے میں طنز کیا ہے، مولانا احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کے بارے میں پروفیسر صاحب کا موقف یہ ہے کہ وہ الزام تراش تھے، فتوے باز تھے اور علماء کی تکفیر کرتے تھے۔(پروفیسر محمد اسلم، مضمون’’ بھارت کا تازہ سفر نامہ‘‘ ماہنامہ ’’الحق‘‘، اکوڑہ خٹک(سرحد)، شمارہ اپریل ۱۹۸۵ء، ص۴۰ )

امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ

بعض لوگوں نے بے بنیاد خود ساختہ تأ ثر قائم کرکھا ہے کہ مولانا احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ تو ایک فتوے باز قسم کے، بھاری بھرکم جسم والے، حلوے مانڈے کھانے والے، فتنہ پرور مولوی تھے، استغفراﷲ العظیم

ایسی کوئی بات نہیں ہے، مولانا احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ کے متعلق ایسا تأ ثر صحیح نہیں ہے، مولانا موصوف تو غریبوں کے غم خوار، انتہائی نرم طبعیت، کم گو، کم خوراک، دبلے پتلے، جھکی نظریں اور ہر وقت مطالعہ میں منہمک قسم کے انسان تھے، نہ ہی جلسوں میں تقریریں کرتے تھے، سال بھر میں ایک یا دووعظ فرماتے تھے۔

مشہور صحافی، ادیب، کالم نگار، سابق مدیر ماہنامہ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘لاہور، جناب مقبول جہانگیر(م۱۹۸۵ء) لکھتے ہیں:

’’شاعر مشرق علامہ اقبال(م۱۹۳۸ء) اعلی حضرت (علیہ الرحمہ)کے معاصرین میں سے تھے، آپ کو نہایت قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے، ایک موقع پر علامہ اقبال نے فرمایا! یہ روایت ڈاکٹر عابد احمد علی مرحوم(م۱۹۷۴ء)کی ہے۔ (مشہور ماہر تعلیم ڈاکٹر سید عابد احمد علی ابن سید احمد علی ۱۹۰۵ء میں پیدا ہوئے، علی گڑھ سے ایم اے کیااور ڈی فل کی ڈگری آکسفورڈ سے لی، سر سید احمد خاں کے ہم جد تھے، ۱۹۴۷ء سے قبل مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں شعبہ عربی کے استاد رہے، پھر پاکستان چلے آئے اور گورنمنٹ ڈگری کالج سرگودھا کے پرنسپل رہے، سرکاری ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بیت القرآن پنجاب پبلک لائبریری لاہور سے منسلک ہوگئے تھے، قاضی ابو یوسف فقیہہ کی مشہور کتاب’’ کتاب الخراج‘‘ کا انگریزی ترجمہ بھی کیا تھا، ۱۷؍ ربیع الثانی ۱۳۹۴ھ/ ۱۰؍ مئی۱۹۷۴ء بروز اتوار لاہور میں وفات پائی۔(پروفیسر محمد اسلم، خفتگان خاک لاہور، مطبوعہ ادارہ تحقیقات پاکستان دانشگاہ پنجاب لاہور۱۹۹۳ء، ص۱۶)

’’ ہندوستان کے دور آخر میں مولانا احمد رضا خاں جیسا طباع اور ذہین فقیہ پیدا نہیں ہوا، اُن کے فتاویٰ کے مطالعے سے یہ رائے قائم کی، جو اُن کی ذہانت، فطانت، جودت طبع، کمال فقاہت اور علوم دینیہ میں تبحر علمی کے شاہدو عادل ہیں، مولانا ایک دفعہ جو رائے قائم کرلیتے ہیں، اس پر مظبوطی سے قائم رہتے ہیں، یقیناً وہ اپنی رائے کا اظہار بہت غوروفکر کے بعد کرتے ہیں، اسی لئے انہیں اپنے شرعی فیصلوں اور فتاویٰ میں کبھی کسی تبدیلی یا رجوع کی ضرورت نہیں پڑتی، بایں ہمہ ان کی طبعیت میں شدت زیادہ تھی‘‘۔

اقبال نے اعلیٰ حضرت کے ہاں جس ’’شدت‘‘ کا ذکر فرمایا ہے اس میں نفسانیت کا شائبہ بھی نہ تھا، اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت کی سوزش تھی، جسے حدّت کہہ لیجئے یا شدّت اور یہ شدت بھی صرف اعدائے خدا ورسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے تھی ورنہ اعلیٰ حضرت تو ہر مومن اور ہر اہل محبت کے لئے سراپا لطف و کرم تھے، یا بقول ِ اقبال ؎ جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم

(ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ لاہور، شمارہ اپریل ۱۹۷۵ء، ص۴۹)

مولانا شاہ سلامت اﷲ رامپوری رحمتہ اﷲ علیہ بھی نہایت متقی اور درویش صفت عالم دین تھے، عبدالحی حسنی ندوی(م۱۹۲۳ء)، حافظ احمد علی شوقؔرامپوری(م۱۹۳۳ء) اور مولانا محمود احمد کانپوری نے ان کے جو حالات لکھے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

’’ سراج الاصفیاء حضرت مولانا شاہ سلامت اﷲ رامپوری قدس سرہٗ دراصل اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے، قرآن مجید کے حافظ تھے، رامپور آکر مولانا ارشاد حسین مجددی قدس سرہٗ کے حلقہ درس میں شریک ہوکر تکمیل علوم کی، انہی سے بیعت ہوکر اجازت وخلافت سے نوازے گئے، پھر رامپور ہی میں خواجہ احمد قادری قدس سرہٗ کے مدرسے میں مدرس ہوگئے، صرف پندرہ روپئے ماہوار تنخواہ تھی، تنخواہ کی وصولی کا طریقہ یہ تھا کہ رومال بھیج دیتے تھے اور خواجہ صاحب روپئے گوشۂ رومال میں باندھ دیتے، آپ رومال کو ویسے ہی گھر لا کر اہلیہ کے حوالے فرمادیتے، آپ نہایت قانع، متورع، متوکل، برگزیدہ اور پابند اوقات تھے، امراء سے کوئی تعلق نہ رکھا اور نہ کبھی امراء سے ملے، نواب حامد علی خاں رامپوری(م۱۹۳۰ء) ملاقات کے آرزومند رہے مگر آپ نے کبھی ملاقات نہ فرمائی، بازار سے سودا خود لاتے، دکاندار سامان اچھا دے یا خراب ، آپ نے کبھی شکایت نہ کی، ہمیشہ بغیر تکیہ اور بستر کے سوتے، غذا میں جو کی روٹی پر گزارا تھا، غرباء پر بے حد شفقت فرماتے، آمدنی بہت قلیل تھی پھر بھی اہل محلہ کی دستگیری فرماتے، داڑھی منڈانے والوں سے مصافحہ اور سلام نہیں کرتے تھے،(یہ ایک طرح کی خاموش تنبیہہ اور سنت نبوی پر عمل کی ترغیب تھی) مدرسہ کے علاوہ گھر پر بھی درس دیتے تھے، اس میں بھی متشرع ہونے کی خاص قید تھی، ۸؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۸ھ کو عالم بالا کا سفر اختیار کیا، مولانا ارشاد حسین مجددی رامپوری قدس سرہٗ کے احاطہ مزار میں مرقد بنا‘‘۔(عبدالحی حسنی ندوی، نزہۃ الخواطر(عربی)، جلد ۸، مطبوعہ مکتبہ خیر کثیر آرام باغ کراچی۱۹۷۶ء، ص۱۶۰، ۱۶۱ ،ایضاً۔ حافظ احمد علی شوق، تذکرہ کاملان رامپور، مطبوعہ خدا بخش اورینٹل لائبریری پٹنہ(بھارت) ۱۹۸۶ء، ص۱۵۸،ایضاً۔مولانا محمود احمد کانپوری، تذکرہ علمائے اہل سنت، مطبوعہ رفاقتی کتب خانہ کانپور(بھارت) ۱۳۹۱ھ، ص۹۷)

رہی یہ بات کہ مولانا احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے علماء کی تکفیر کی ہے تو اس مسئلہ کی وضاحت مولانا محمد ادریس کاندھلوی(م۱۹۷۴ء) کے اس بیان سے بھی ہوجاتی ہے:

’’حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی فرمایا کرتے تھے کہ علماء کسی کوکا فر نہیں بناتے اور نہ کوئی کسی کو کفر بنا سکتا ہے، کافر تو خود اپنے قول و فعل سے بنتا ہے، البتہ علماء اس کو یہ بتادیتے ہیںکہ اس قول و فعل سے آدمی کافر ہوجاتا ہے، کافر بنانا علماء کے اختیار میں نہیں اور بتا دینا جرم نہیں‘‘۔

( مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مسلمان کون کافر کون، مطبوعہ لاہور، ص۱۱۔ افاضات الیومیہ(ملفوظات مولانا اشرف علی تھانوی)حصہ چہارم، ملفوظ نمبر ۷۴، مطبوعہ ادارہ اشرفیہ پاکستان، ٹمپل روڈ کراچی(سن طباعت ندارد) ص۴۹ )

امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے کسی کو کافر نہیں بنایا، بلکہ شرعی فریضہ ادا کیا اور بتایا کہ تم لوگوں کی یہ عبارتیں تنقیص الوہیت و رسالت کی وجہ سے کفریہ ہیں ، تمہیں اسلام سے خارج کر رہی ہیں ، ان سے توبہ کیجئے، یہ کہنا کوئی جرم نہیں بلکہ خیر خواہی ہے، امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی احتیاط کا یہ عالم ہے کہ ۱۳۰۹ھ میں رسالہ’’ سبحان السبوح‘‘ پہلی بار شائع ہوا، اس میں گنگوھی صاحب اور قائلین امکان کذب پر اٹھتر وجہ سے لزوم کفر ثابت کیا ، لیکن تکفیر نہیں کی، ۱۳۱۶ھ میں رسالہ’’ الکوکبۃ الشہابیہ‘‘ شائع ہوا، جس میں مولوی اسماعیل دہلوی(م۱۸۳۱ء) کے ستّر کفریات گنوائے، لیکن تکفیر سے اجتناب ہی کیا۔

اس حقیقت کو خود امام احمد رضا بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ نے یوں بیان فرمایا ہے :

’’ مسلمانو! یہ روشن ظاہر، واضح قاہر عبارات تمہارے پیش نظر ہیں، جنہیں چھپے ہوئے دس دس اور بعض سترہ اور تصنیف کو انیس سال ہوئے اور ان دشنامیوں کی تکفیر تو اب چھ سال یعنی ۱۳۲۰ھ سے ہوئی ہے، جب سے ’’ المعتمد المستند‘‘ چھپی، اب عبارات کو بغور نظر فرمائو اور اﷲ و رسول کے خوف کو سامنے رکھ کر انصاف کرو۔‘‘

یہ عبارتیں فقط اُن مفتریوں کی افتراء ہی نہیں رد کرتیں بلکہ صراحۃً صاف صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایسی عظیم احتیاط والے نے ہرگز ان دشنامیوں کو کافر نہ کہا، جب تک یقینی قطعی واضح روشن جلی طور سے اُن کا صریح کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو لیا، جس میں اصلاً اصلاً ہرگز ہرگز کوئی گنجائش ، کوئی تاویل نہ نکل سکی۔

آخر یہ بندہ خدا وہی تو ہے جو ان کے اکابر پر ستر ستر وجہ سے لزوم کفر کا ثبوت دے کر یہی کہتا ہے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے اہل لا الہٰ الا اﷲ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے، جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجائے اور حکم اسلام کے لئے اصلاً کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے۔

یہ بندہ خدا وہی تو ہے جو خود ان دشنامیوں کی نسبت جب تک ان کی دشنامیوں پر اطلاع یقینی نہ ہوئی تھی، اٹہتروجہ سے بحکم فقہائے کرام لزوم کفرکا ثبوت دے کر یہی لکھ چکا کہ ہزار ہزار بار حاش ﷲ میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا۔

جب کیا ان سے کوئی ملاپ تھا اب رنجش ہوگئی؟ جب ان سے جائداد کی کوئی شرکت تھی اب پیدا ہوئی؟ حاشا ﷲ مسلمانوں کا علاقہ محبت وعداوت صرف محبت وعداوت خدا ورسول ہے، جب تک ان دشنام دہوں سے دشنام صادر نہ ہوئی، یا اﷲ و رسول کی جناب میں ان کی دشنام نہ دیکھی سنی تھی، اس وقت تک کلمہ گوئی کا پاس لازم تھا، غایت احتیاط سے کام لیا ، حتیٰ کہ فقہائے کرام کے حکم سے طرح طرح ان پر کفر لازم تھا، مگر احتیاطاً ان کا ساتھ نہ دیا اور متکلمین عظام کا مسلک اختیار کیا، جب صاف صریح انکار ضروریات دین و دشنام دہی رب العٰلمین و سید المرسلین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وعلیہم اجمعین آنکھ سے دیکھی تو اب بے تکفیر چارہ نہ تھا کہ اکابر آئمہ دین کی تصریحین سن چکے۔ ( امام احمد رضا، تمہید ایمان، مطبوعہ ادارہ معارف نعمانیہ لاہور۱۴۰۹ھ/ ۱۹۸۸ء، ص۴۹، ۵۰)

مرتضیٰ حسن دربھنگی(م۱۹۵۱ء) سابق ناظم تعلیمات شعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند لکھتے ہیں!

’’ اگر (مولانا احمد رضا) خاں صاحب کے نزدیک بعض علماء دیوبند واقعی ایسے تھے جیسا کہ انہوں نے سمجھا، تو خاں صاحب پر ان علماء دیوبند کی تکفیر فرض تھی اگر وہ ان کو کافر نہ کہتے تو خود کافر ہوجاتے‘‘۔(مرتضیٰ حسن دربھنگی، اشدالعذاب، مطبوعہ مجتبائی جدید دہلی، سن طباعت ندارد، ص۱۳)

امام احمد رضاقدس سرہٗ العزیز الزامِ تکفیر کے بارے میں فرماتے ہیں!

’’ ناچار عوام مسلمین کو بھڑکانے اور دن دہاڑے ان پر اندھیری ڈالنے کو یہ چال چلتے ہیں کہ علمائے اہل سنت کے فتوائے تکفیر کا کیا اعتبار؟ یہ لوگ ذرہ ذرہ سی بات پر کافر کہہ دیتے ہیں ، ان کی مشین میں ہمیشہ کفر ہی کے فتوے چھپا کرتے ہیں، اسماعیل دہلوی کو کافر کہہ دیا، مولوی اسحاق صاحب کو کہہ دیا، مولوی عبدالحی صاحب کو کہہ دیا، پھر جن کی حیاء اور بڑھی ہوئی ہے وہ اتنا اور ملاتے ہیں کہ معاذ اﷲ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کو کہہ دیا، شاہ ولی اﷲصاحب کو کہہ دیا، حاجی امداد اﷲ صاحب کو کہہ دیا، مولانا شاہ فضل رحمن صاحب کو کہہ دیا، پھر جو پورے ہی حد حیاء سے اونچے گزر گئے وہ یہاں تک بڑھتے ہیں کہ عیاذاباﷲ عیاذاباﷲ حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ کو کہہ دیا، غرض جسے جس کا زیادہ معتقد پایا، اس کے سامنے اسی کا نام لے دیا کہ انہوں نے اسے کافر کہہ دیا، یہاں تک کہ ان کے بعض بزرگواروں نے مولانا مولوی شاہ محمد حسین صاحب الہٰ آبادی مرحوم مغفور سے جا کر جڑی کہ معاذاﷲ معاذاﷲ معاذاﷲ حضرت سیدنا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہٗ کو کافر کہہ دیا، مولانا کو اﷲ تعالیٰ جنت عالیہ عطا فرمائے ، انہوں نے آیہ کریمہ اِن ْجآ ئَ کُمْ فَا سِقٌ بِنَبَاِِ فَتَبَیَّنُوْا پر عمل فرمایا، خط لکھ کر دریافت کیا ، جس پر یہاں سے رسالہ’’انجاء البری عن وسواس المفتری‘‘ لکھ کر ارسال ہوا اور مولانا نے مفتری کذاب پر لاحول شریف کا تحفہ بھیجا، غرض ہمیشہ ایسے ہی افتراء اٹھایا کرتے ہیں ‘‘۔(امام احمد رضا بریلوی، تمہید ایمان، مطبوعہ ادارہ معارف نعمانیہ لاہور ۱۹۸۸ء، ص۴۵،۴۶)

شاہ ولیات حسین کا مزار

پروفیسر صاحب بریلی کے سفر نامہ میں لکھتے ہیں:

’’ ریلوے سٹیشن سے چند قدم کے فاصلے پر بریلی ہوٹل اور سول اینڈ ملٹری ہوٹل نام کے دو بڑے اچھے ہوٹل ہیں، میں نے اس بار بریلی ہوٹل میں قیام کیا اور نہا دھو کر سیرو تفریح کے لئے نکلا، ہوٹل کے قریب ہی ایک مسجد تھی جہاں میں نے مغرب کی نماز قدرے تاخیر سے ادا کی، وہاں ایک بورڈ نصب تھا جس پر یہ عبارت مرقول تھی کہ یہاں دنگا فساد اور مذہبی بحث کرنے والا نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا۔

مسجد کے صحن میں چند آدمی بیٹھے ہوئے تھے، جب میں نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو ایک شخص نے مجھے ٹوکا اور کہا کہ میں اپنی گھڑی اُتار لوںکیونکہ کلائی کے ساتھ گھڑی باندھنے سے نماز نہیں ہوتی، میں نے اس کی سُنی ان سُنی ایک کردی اور نماز ادا کرکے مسجد سے باہر آیا، قریب ہی ایک مسلمان کا ریستوران تھا، میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے مولانا احمد رضا خاں کے مزار کا اتہ پتہ پوچھا، ڈرنے کی بات یہ تھی کہ اگر میں مولانا صاحب کے لئے لمبے چوڑے القاب استعمال کرتا اور وہ دیوبندی ہوتا تو میں مشکل میں پھنس جاتا اور اگر میں ان کا ذکر عام الفاظ میں کرتا اور میرا مخاطب بریلوی ہوتا تو مجھے جان بچانامشکل ہوجاتی۔

بہر حال اس بھلے آدمی نے مجھے ان کے مزار کا اتہ پتہ بتایا تو میں نے اس سے کہا کہ وہ کسی رکشے والے کو سمجھا دے اور وہ مجھے وہاں پہنچا دے، اس نے فوراً ایک رکشا والے کو بلایا اور اس سے کہا ! یہ بڑے مولوی صاحب کے ہاں جارہے ہیں ، انہیں وہاں تک لے جائو اور خبردار ایک روپیہ پچیس پیسہ سے زیادہ کرایہ وصول نہ کرنا‘‘۔( پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور۱۹۹۵ء، ص۱۹۹، ۲۰۰ )

پروفیسر صاحب نے ہوٹل کے قریب جس مسجد کا ذکر کیا ہے وہ مسجد بریلویوں کی ہوگی، پروفیسر صاحب پر ہم بد گمانی نہیں کرتے کہ انہوں نے جان بوجھ کر نماز تاخیر سے ادا کی اور اگر معاملہ دانستہ ہے تو عرض ہے کہ ایک مرتبہ مولانا اشرف علی تھانوی صاحب سے:

’’ ایک شخص نے پوچھا کہ ہم بریلی والوں کے پیچھے نماز پڑھیں تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ فرمایا(حضرت حکیم الامت مدظلہم العالی نے) ہاں ہم ان کو کافر نہیں کہتے‘‘۔( اشرف علی تھانوی، قصص الاکابر، مطبوعہ مکتبہ اشرفیہ فیروز پور روڈ لاہور، سن طباعت ندارد، ص۲۵۲)

اسی سلسلہ میں تھانوی صاحب کا ایک ملفوظ ملاحظہ فرمائیے جو کہ دیوبند کے حکیم الامت کی تہذیب اور مخصوص ذہنیت کا آئینہ دار بھی ہے۔

’’ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دیوبندکا بڑا جلسہ ہوا تھا تو اس میں ایک رئیس صاحب نے کوشش کی تھی کہ دیوبندیوں اور بریلویوں میں صلح ہوجائے، میں نے کہا ہماری طرف سے تو کوئی جنگ نہیں، وہ نماز پڑھاتے ہیں ہم پڑھ لیتے ہیں، ہم پڑھاتے ہیں وہ نہیں پڑھتے، تو ان کو آمادہ کرو( مزاحاً فرمایا کہ ان سے کہو آ، مادہ، نر آگیا) ہم سے کیا کہتے ہو‘‘۔(الافاضات الیومیہ، حصہ ہفتم، جز اول، مطبوعہ مکتبہ تالیفات اشرفیہ، تھانہ بھون، ضلع مظفر نگر(یوپی، بھارت)سن طباعت ندارد، ملفوظ نمبر۱۲، ص۱۳)

پروفیسر صاحب کو جس شخص نے کہا کہ کلائی کے ساتھ گھڑی باندھنے سے نماز نہیں ہوتی، اس نے یہ صحیح نہیں کہا یا پھر پروفیسر صاحب کو کو بات سمجھ نہ آئی، بات یہ ہے کہ گھڑی کا پہننا جائز ہے، گھڑی پہن کر نماز پڑھنا بلا کراہت درست ہے مگر وہ گھڑی جس کی چین یا زنجیر سونے، چاندی یا سٹیل وغیرہ کسی دھات کی ہو، اس کا استعمال ناجائز ہے اور کو پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس کااعادہ واجب ہے، امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے یہی مسئلہ اپنے رسالہ’’ الطیب الوجیز‘‘ (۱۳۰۹ھ) میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (امام احمد رضا خاں بریلوی، الطیب الوجیز، مطبوعہ نوری کتب خانہ دربار مارکیٹ لاہور، سب طباعت ندارد، ص۱۴)

چونکہ اس مسئلہ کا تعلق فقہ سے ہے اور فقہ پر جو دسترس امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کو حاصل تھی اس کی ایک دنیا معترف ہے، فتاویٰ رضویہ اس کا شاہد ہے، دنیائے علم وادب کی معروف عالمی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر مختار الدین احمد (پ۱۴؍نومبر ۱۹۲۴ء) سابق صدر شعبہ عربی، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ(بھارت)اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں!

’’ امام احمد رضا خاں بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے عہد کے سب سے بڑے عالم تھے، فقہ کی جزئیات پر جو اِن کی نظر تھی وہ شاید اس صدی کے کسی عالم کو نہ تھی‘‘ ۔( مکتوب پروفیسر ڈاکٹر مختار الدین احمد، علی گڑھ، محررہ ۶؍ جون ۱۹۹۵ء، بنام مولوی حسن علی رضوی،میلسی پاکستان، مملوکہ پیر زادہ اقبال احمد فاروقی مالک مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور )

پروفیسر صاحب نے لکھا کہ ’’ میں نے ایک مسلمان ریستوران والے سے ڈرتے ڈرتے مولانا احمد رضا خاں کے مزار کا اتہ پتہ پوچھا‘‘الخ۔

پروفیسر صاحب کے ان خود ساختہ شوخ خدشات کے برعکس بریلی شریف کے ریستوران والے مسلمان کا اخلاق اور برتائو قارئین کے سامنے ہے اور لائق تحسین ہے۔

پروفیسر صاحب آگے لکھتے ہیں:

’’ مولانا احمد رضا خاں(م۱۹۲۱ء) کے مزار تک جانے کے لئے پُرانے شہر کے اندر پُر پیچ اور تنگ گلیوں سے گزر کر جانا ہوتا ہے، راستے میں ایک چھوٹا سا بازار پڑتا ہے جسے بجریا کہتے ہیں، اس بازار کی دکا نوں اور مکانوں کی ساخت دیکھ کر یہ خیال آتا ہے کہ کسی وقت یہ بریلی کا بازار حُسن ہوگا، بجریا سے گزر کر سوداگری محلے میں جا پہنچتے ہیں، یہی محلہ مولانا صاحب کی دینی سرگرمیوں کا مرکز تھا‘‘۔(پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵ء، ص۲۰۰)

اس اقتباس میں بھی بعض باتیں لائق تصریح ہیں:

اوّل یہ کہ مزار پرانے شہر میں نہیں پرانا بریلی شہر مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کے مزار سے مشرقی جانب تین چار فرلانگ کے فاصلہ پر ہے۔

دوم یہ کہ محلہ سوداگران پرانے شہر میں نہیں پرانا شہر بریلی وہ ہے جہاں محلہ گھیر جعفر خاں میں جامع مسجد اکبری ہے۔

سوم یہ کہ لفظ’’ بجریا‘‘ سُن کر پروفیسر صاحب کا ذہن بازار حسن کی طرف چلا گیا، حالانکہ شمالی یوپی صوبہ کی زبان میں چھوٹے تنگ بازار کو ’’بجریا‘‘ بھی کہہ دیتے ہیں، اصل میں یہ لفظ’’ بزریہ‘‘ ہے جو کہ لفظ ’’ بازار‘‘ سے بگڑ کر بنا ہے، بریلی میں اس نام سے کئی جگہ موسوم ہیں مثلاً بزریہ موتی لال، بزریہ پورن مل، بزریہ صندل خاں، بزریہ ملوک پور وغیرہ۔(مولوی عبدالعزیز خاں بریلوی(م۱۹۶۴ء) تاریخ بریلی، مطبوعہ مہران اکیڈمی لیاقت آباد کراچی ۱۹۶۳ء، ص۲۴۷،۲۵۰ )

پروفیسر صاحب آگے لکھتے ہیں:

’’ سوداگری محلے کی ایک گلی کے موڑ پر ایک عام سے مکان کے باہر ایک بورڈ لگا ہوا تھا، جس پر جامعہ رضویہ مظہر اسلام، مہتمم ریحان رضا خاں لکھا ہوا تھا، اس جامعہ میں گنتی کے چار پانچ کمرے ہوں گے، جامعہ سے چند قدم کے فاصلے پر تکونی مسقف مسجد ہے، جس کا صحن نہیںہے، کیونکہ اتنی گنجان آبادی میں بڑی مسجد تعمیر کرنی ممکن ہی نہیں تھی، اس مسجد کے قریب ہی ایک مکان کے اندر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کا مزار ہے، اس مکان کے دروازے پر ایک بورڈ لگا ہوا ہے جس پر یہ مصرع درج ہے: ’’ بے ادب پا منہ ایں جا کہ عجب درگاہ ہست‘‘۔ ( پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵ء، ص۲۰۰)

جناب پروفیسر صاحب نے مسجد چھوٹی ہونے کے بارے میں تو خود ہی وضاحت کردی کہ ’’ اتنی گنجان آبادی میں بڑی مسجد تعمیر کرنی ممکن ہی نہیں تھی‘‘ مدرسہ کے بارے میں عرض ہے کہ پروفیسر صاحب نے جس بورڈ پر’’جامعہ رضویہ مظہر اسلام، مہتمم ریحان رضا خاں‘‘ لکھا ہوا دیکھا، اس بورڈ کے پڑھنے میں پروفیسرصاحب کو مغالطہ ہوا، یہ’’ مدرسہ مظہر اسلام ‘‘نہیں بلکہ’’مدرسہ منظر اسلام ‘‘ ہے ، (ماہنامہ المیزان، بمبئی(بھارت)، امام احمد رضا نمبر، شمارہ اپریل تا جون ۱۹۷۶ء، ص۷۳)

مدرسہ مظہر اسلام ، بریلی شریف محلہ بہاری پور کی ’’مسجدبی بی جی‘‘ اور اس کے شمالی کمروں میں قائم ہے، جسے مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں رحمتہ اﷲ علیہ(م۱۹۸۱ء) نے قائم فرمایا تھا، اس کے مہتمم مولانا خالد علی خاں ہیں۔(ماہنامہ المیزان ، بمبئی(بھارت)، امام احمد رضا نمبر، شمارہ اپریل تا جون ۱۹۷۶ء، ص۷۵)

راقم نے بریلی شریف کا سفر نہیں کیا ورنہ مدرسہ منظر اسلام کی عمارت کے متعلق بھی کچھ لکھتا، بہر حال مدرسہ کی عمارت کا چھوٹا یا بڑا ہونا کوئی عیب یا بڑائی کی بات نہیں، اگر مدرسہ کی عمارت کا بڑا ہونا ہی حق کی دلیل ہے تو مبارک پور ضلع اعظم گڑھ(یوپی، بھارت) چلے جائیے جہاں امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ کا فیض علمی ’’جامعہ اشرفیہ‘‘ عربی یونیورسٹی کی شکل میں وسیع رقبہ پر پھیلا ہوا ہے، اس عظیم منصوبہ کا ذکر جب کچھ لوگوں نے قاری طیب صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند سے کیا تو انہوں نے کہا حافظ عبدالعزیز مہتمم جامعہ اشرفیہ ( مبارکپور) کی شخصیت سے واقف ہوں، مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔(ماہنامہ اشرفیہ، مبارکپور(ضلع اعظم گڑھ، یوپی ، بھارت)، حافظ ملت نمبر، شمارہ جون، جولائی، اگست، ۱۹۷۸ء، ص۲۰۸)

اب خدا لگتی بات یہ ہے کہ مدرسہ منظر اسلام بریلی کی عمارت وسیع اس لئے نہ بن سکی کہ مدرسہ کی امداد کا ذریعہ تو صرف عوام اہل سنت کی حلال کمائی تھا اور ہے، الحمد ﷲ

پیر زادہ اقبال احمد فاروقی مدیر ماہنامہ ’’جہان رضا‘‘ لاہور لکھتے ہیں:

ہفت روزہ’’اخبار جہاں‘‘کراچی نے اپنی اشاعت مورخہ ۲۸؍ جولائی ۱۹۹۵ء میں ’’ مکتوب دہلی‘‘ کے عنوان سے سیدعبدالوحید حسینی کے قلم سے ایک مقالہ سپرد اشاعت کیا ہے، جس میں فاضل مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ:

’’ ہندوستان کے وزیر اعظم نرسیما رائو نے بریلی میں حضرت امام احمد رضا کے مزار کی تزئین و آرائش اور جدید کمپلیکس کی تعمیر کے لئے ایک کروڑ روپیہ دینے کی پیشکش کی ہے، ہندوستان کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ سلمان خورشید ایک کروڑ روپیہ لے کر دربار پہنچ گئے، مگر پانچ ہزار سے زائد مسلمانوں کے ہجوم نے وزیر مملکت کو مزار پر جانے سے روک دیا ، مشتعل ہجوم نے قزیر مملکت کو ایک کروڑ روپئے کے بریف کیس سمیت بھگا دیا‘‘۔

’’ مکتوب دہلی‘‘ کے الفاظ کو بار بار پڑھیں اور دیکھیں کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے غریب نام لیوااور ان کے مزار کے تہی دست سجادہ نشین کس ملی غیرت سے اتنی خطیر رقم کو ٹھکرا رہے ہیں، ہندوستان میں ایک کروڑ کی رقم کوئی معمولی رقم نہیں، مگر اعلیٰ فاضل بریلوی کی روح آج بھی پکار رہی ہے ؎ ’’ میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارئہ ناں نہیں‘‘۔

(ماہنامہ جہان رضا، لاہور، شمارہ ستمبر ، اکتوبر ۱۹۹۵ء ، ص۱۰)

اس کے برعکس ایسے مشہور مدارس بھی ہیں جن پر انگریز حکومت کا خاص دست شفقت رہا، پروفیسر صاحب نے بھی اپنے سفر نامہ میں ان مدارس کا ذکر بہت محبت و عقیدت سے کیا ہے۔( پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵ء، ص۲۲۴، ۲۸۱ )

تاریخ میں ان کا کردار کن الفاظ میں رقم ہے، ملاحظہ فرمائیے۔

ایس ایم اکرام اپنی معروف کتاب’’ یاد گار شبلی‘‘ میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے متعلق لکھتے ہیں:

’’ ندوہ کی تاریخ میں ۱۹۰۸ء کا سال ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، اس سال صوبہ کے گورنر نے دارالعلوم کی وسیع عمارت کا سنگ بنیادرکھا اور حکومت کی طرف سے ندوہ کو بعض مقاصد کے لئے پانچ سو روپیہ ماہوار کی امداد ملنی شروع ہوئی‘‘۔( ایس ایم اکرام، یاد گار شبلی، مطبوعہ ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور،طبع دوم ۱۹۹۴ء، ص۳۴۶ )

سید سلیمان ندوی نے بھی دارالعلوم ندوہ کے متعلق اسی قسم کی شہادت دی ہے۔

( سید سلیمان ندوی، حیات شبلی، مطبوعہ دارالمصنفین اعظم گڑھ(بھارت) ۱۹۴۳ء، ص۶۳۴)

پروفیسر ڈاکٹر غلام جعفر یونیورسٹی آف بلوچستان اپنے مضمون’’ مولانا عبیداﷲ سندھی‘‘ میں دارالعلوم دیوبند کے متعلق لکھتے ہیں:

’’ دارالعلوم کے ارباب اہتمام اور انگریزی سرکار کے درمیان دوستانہ تعلقات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گورنر یوپی کو دارالعلوم میں مدعو کیا گیا اور اس کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا گیا، جس پر حکومت وقت کا شکریہ ادا کیا گیا کہ حکومت نے حافظ محمد احمد(حافظ محمد احمد، مولوی محمد قاسم نانوتوی کے فرزند تھے )کو شمس العلماء کا خطاب عطا فرما کر علماء کی عزت افزائی فرمائی، سپاسنامہ کے الفاظ کچھ یوں تھے۔

’’ یور آنر کی خدمت میں اور ان کے توسط سے ہندوستان کے حکمران ہز ایکسیلنسی وائسرائے کی خدمت میں مولانا محمد احمد صاحب مہتمم دارالعلوم (دیوبند) کو شمس العلماء کا خطاب اور خصوصی سند مرحمت فرمانے پر جو کہ علماء کی عزت افزائی اور شاہی عطایا کی روایت کا نمونہ ہے اور اپنے پُر خلوص قلبی جذباتِ تشکر کا اظہار کرتے ہیں، حکومت کے عمل سے یہی ثابت نہیں ہوتا کہ وہ انہی مسلمان لیڈروں اور رہنمائوں کی عزت کرتی ہے جو اس کے اہل ہیں، بلکہ آزادی کے دعویدار وں کے اس سوال کا جواب بھی فراہم ہوجاتا ہے کہ اعزازات واقعی اہل لوگوں کو دئیے جاتے ہیں، یہ درست ہے اور حقیقت کو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مادی اور دنیاوی مفادات حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہنا نہ تو ہمارا فطری رحجان اور نہ ہمارے دینی فرائض کا حصہ ہے، لیکن خدا کی مرضی کے مطابق ہمارے موجودہ حکمران اگر ہمیں کوئی اعزاز دیں تو ہم اسے کیوں نہ قبول کریں اور شایان شان طور پر ان کی ستائش کیوں نہ کریں ، اگر ہم ایسا کریں(یعنی اعزاز کی قدر اور اس پر شکر گزاری کا اظہار نہ کریں) تو خدا معاف کرے گویا ہم ممنونیت اور شکر گزاری کے اس فرض سے روگردانی کریں گے، جس کی ہمارے پاک مذہب نے ہمیں تعلیم دی ہے، اس سے غفلت برت کر ہم حکومت کی نظرمیں اور خدا ورسول کے آگے اور تمام اخلاقی اصولوں کے آگے ذلیل و خوار ہوں گے۔

یور آنر! اگرچہ آج ہم ایک خاص’’احسان و عنایت‘‘ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں، جو صرف مینجر(مہتمم) صاحب ہی پر نہیں بلکہ ہمارے پورے طبقہ پر کیا گیا ہے، ساتھ ہی ہمارے پیش نظر دارالعلوم کے لئے آپ کی نوازشیں بھی ہیں، جن کا حال مینجر صاحب وقتاً فوقتاً بتلاتے رہتے ہیں، اس نظر کرم کی وجہ سے مسلم پبلک کا دارالعلوم پر اعتماد بحال ہوگا اور اس سے ہماری اس پالیسی کو تقویت ملے گی جس کی تعریف یورپ کے بڑے بڑے آفیسر کرتے رہے ہیں… ہمارا ایک اور صرف ایک مقصد ہے اور وہ ہے مذہبی آزادی کا تحفظ اور صرف مذہبی آزادی کا تحفظ، اس سے ہٹ کر سیاسی تحریک کو مسترد کرنا یا قبول کرنا ہمارے قائم اور ناقابل تبدیل نظریے کے باہر ہے‘‘۔(اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر غلام جعفر لکھتے ہیں)

سپاس نامہ کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ارباب دارالعلوم (دیوبند) حکومت برطانیہ سے دوستانہ تعلقات استوار کر چکے تھے۔

( ڈاکٹر غلام جعفر، مضمون مولانا عبیداﷲ سندھی، سہ ماہی مجلہ ’’ المعارف‘‘ لاہور، جلد ۲۹، شمارہ جمادی الاول تا رجب ۱۴۱۷ھ/ جولائی تا ستمبر ۱۹۹۶ء، ص۷۱، ۷۲، ۷۳، بحوالہ ابوسلمان شاہجہانپوری، مضمون’’ مولانا عبیداﷲ سندھی کا دارالعلوم دیوبند سے اخراج‘‘مجلہ ’’الولی‘‘ حیدر آباد سندھ، جلد ۱۵، شمارہ ۲،۳ ، ۱۹۹۱ء، ص۳۰، ۳۲)

مشہور محقق، مؤ رخ ونقاد پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب قادری(م۱۹۸۳ء) لکھتے ہیں:

’’ ۳۱؍ جنوری ۱۸۷۵ء بروز یکشنبہ لفٹیننٹ گورنر کے ایک خفیہ معتمد انگریز مسمی پامر نے اس مدرسہ (دیوبند) کو دیکھا تو اس نے نہایت اچھے خیالات کا اظہار کیا‘‘۔

(اور اپنی خفیہ رپورٹ میں لکھا)

’’ یہ مدرسہ خلاف سرکار نہیں بلکہ موافق سرکار ممدمعاون سرکار ہے‘‘۔

(پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب قادری، مولانا محمد احسن نانوتوی، مطبوعہ مکتبہ عثمانیہ پیر الٰہی بخش کالونی کراچی۱۹۶۶ء، ص۲۱۷ )

پروفیسر صاحب خوب جانتے ہیں کہ جب ایسے حالات ہوں، تو مدارس کی عمارتیں بھی وسیع بنتی ہیں اور اشاعتی ادارے بھی خوب چلتے ہیں، لیکن امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے غیرت ایمانی کی وجہ سے انگریز حکو مت کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہ رکھا تھا، جس کے نتیجہ میں نہ تو شمس العلماء کا خطاب ملا، نہ مدرسہ وسیع بن سکا اور نہ ہی آپ کی تصانیف شائع ہو سکیں۔

پروفیسر صاحب آگے لکھتے ہیں:

’’ دروازے پر ایک سبز رنگ کا پردہ لٹک رہا تھا، میں پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوا، اس کمرے میں کئی قبریں ہیں، مولانا احمد رضا خاں کی قبر وسط میں تھی اور اس کے گرد ایک غلام گردش بنا ہوا ہے، جسے ان کے معتقدین مطاف کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اسی کمرے میں مولانا صاحب کے فرزند حامد رضا خاں کی بھی قبر ہے اور ان کے لوح مزار پر اُن کے نام کے ساتھ’’ قامع بدعت محی ٔ سنت‘‘ کا لقب بھی کندہ تھا‘‘۔

(پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵ء، ص۲۰۰)

پروفیسر صاحب نے لکھا کہ’’ مولانا احمد رضا خاں کی قبر کے گرد ایک غلام گردش بنا ہوا ہے، جسے ان کے معتقدین مطاف کے طور پر استعمال کرتے ہیں‘‘۔

یہ صریح بہتان اور مذہبی تعصب کی کارفرمائی ہے، طواف قبر کے بارے میں امام احمدرضا بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

’’ بلا شبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے اور غیر خدا کو سجدہ ٔ ہماری شریعت میں حرام ہے‘‘۔

( امام احمد رضا خاں بریلوی، احکام شریعت، حصہ سوم، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی،سن طباعت ندارد، ص۲۳۴ )

اہل سنت کے ایسے واضح عقائدہونے کے بعد الزام تراشی کرنا اہل علم کو زیب نہیں دیتا۔

پروفیسر صاحب پھر لکھتے ہیں:

’’ اسی کمرے میں مولاناصاحب کے فرزند حامد رضا خاں کی بھی قبر ہے اور ان کے لوح مزار پر اُن کے نام کے ساتھ’’قامع بدعت محی ٔ سنت‘‘ کا لقب بھی کندہ تھا‘‘۔

پروفیسر صاحب نے یہ فقرہ طنز کے طور پر لکھا ہے، پروفیسر صاحب کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو تو ہم بدعتی کہتے ہیں، ان کے لئے یہ لقب کیسے؟ پروفیسر صاحب نے اسی پیرا گراف کو بغیر کانٹ چھانٹ کے ایک دوسرے رسالہ میں ایسے لکھا ہے:

’’ان کے لوح پر ان کے نام کے ساتھ’’ قامع بدعت محی ٔ سنت‘‘ کا پُر فریب لقب بھی کندہ تھا، لوح مزار کی عبارت پڑھ کر مجھے بے ساختہ ہنسی آئی، خدا کا شکر ہے کہ اس وقت وہاں کوئی بریلوی نہ تھا ورنہ میری شامت آجاتی، کیونکہ ایسے موقعوں پر دھول دھپہ جمانے میں یہ حضرات بڑے دلیر واقع ہوئے ہیں‘‘۔

(پروفیسر محمد اسلم، مضمون، بھارت کا تازہ سفر نامہ، ماہنامہ ’’ الحق‘‘ اکوڑہ خٹک(سرحد)، شمارہ اپریل ۱۹۸۵ء، ص۴۰)

افسوس! تعصب انسان کی سوچ کو کس منفی رحجان کی طرف لے جاتا ، یہ سب کچھ پروفیسر صاحب کے مفروضے ہیں کہ ایسے ہوتا تو ایسے ہوجاتا، امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کے مخالفین کی مخالفت کی بنیادصرف جھوٹے الزامات پر قائم ہے ، اگر سچے ہیں تو اُن کی کسی کتاب کا جواب تولکھیں ، لیکن اُن کے کسی مخالف میں یہ جرأت نہیں،وہابیہ اور مولوی اسماعیل دہلوی نے اہل سنت کے عقائدکے خلاف نئی نئی باتیں نکالیں، امام احمد رضا اور ان کے اخلاف نے انہی بدعات کی سرکوبی کی، بہر حال یہاں کی لوح مزارپڑھ کر تو پروفیسر صاحب کو ہنسی آگئی، لیکن ہندستان کے سفر میں پروفیسر صاحب نے ایک اور مزار کی لوح بھی پڑھی تھی ،جسے پڑھ کر نہ تو پروفیسر صاحب کو ہنسی آئی اور نہ افسوس ہوا ،اور نہ ہی ان بظاہر مخالف توحید اشعار کو پڑھ کر ان کے عقیدہ توحید کو ٹھیس پہنچی اور نہ ہی بدنام کرنے کے لئے کوئی تبصرہ فرمایا ، اس لوح کے اشعار سے ثابت ہوتا ہے کہ اس مزار پاک کی زیارت کرنا، صاحب مزار کا سارے عالم میں جلوہ نما ہونااور اس مرقد پاک کی زیارت سے رب العالمین کا دیدار ہونا وغیرہ جائز ہے۔

پروفیسر محمد اسلم صاحب ’’ کاندھلہ اور اس کے مضافات‘‘ کے سفر نامہ میں لکھتے ہیں!

’’ کیرانہ سے چل کر ہم جھنجھانہ پہنچے… آبادی سے باہر جانبِ مغرب ایک وسیع قبرستان ہے، اس قبرستان میں ایک جدید تعمیر شدہ مسجد کے شمال میں ایک چھوٹے سے احاطہ قبور میں حضرت میں نور محمد جھنجھانوی(م۱۸۴۳ء) محو خواب ابدی ہیں، ان کے مزار مبارک کے سرہانے جو کتبہ نصب ہے، اس پر اُن کے مرید خاص حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی(م۱۸۹۹ء) کی ایک طویل منقبت سے لئے گئے چند اشعار کندہ ہیں۔ ؎

شہر جھنجھانہ ہے اک جائے ہدیٰ

مسکن وماویٰ ہے اس جا آپ کا

مولد پاک آپ کا ہے اور مزار

اس جگہ تو جان لے اے ہوشیار

اس جگہ ہے مرقد پاک جناب

سرجھکاتے ہیں جہاں سب شیخ وشاب

سارے عالم پرہے پَر تو آپ کا

کون سی جا وہ نہیں جلوہ نما

جس کو ہوئے شوق دیدار خدا

ان کے مرقد کی کرے زیارت وہ جا

دیکھتے ہی ان کے مجھ کو ہے یقین

اس کو ہو دیدار رب العالمین

(پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵ء، ص۶۳،۶۴)

پروفیسر صاحب آگے لکھتے ہیں:

’’ مزار سے ملحقہ عمارت’’رضوی افریقی دارالاقامہ‘‘ کے نام سے موسوم ہے، وہاں غالباً جامعہ مظہر اسلام کے طلباء رہتے ہیں، مولانا صاحب نے فتاویٰ افریقہ کے نام سے ایک مجموعہ فتاویٰ چھاپا تھا، شاید اس دارالاقامہ کا نام بھی اسی مناسبت سے رکھا گیا ہو‘‘۔(پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور۱۹۹۵ء، ص۲۰۱)

رضوی افریقی دارالاقامہ میں افریقی ممالک کینیا، جنوبی افریقہ ، ماریشس وغیرہ سے آئے ہوئے طلباء قیام کرتے ہیں، اسی نسبت سے اس کا نام رکھا گیا ہے، فتاویٰ افریقہ سے دارالاقامہ کا کوئی تعلق نہیںہے، فتاویٰ افریقہ تو افریقہ سے آئے ہوئے ایک سو گیارہ سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔

شاہ نیاز احمد بریلوی علیہ الرحمہ

پروفیسر صاحب بریلی ہی کے سفر نامہ میں لکھتے ہیں:

’’مولانا احمد رضا خان کے مزار سے انداز ً ڈیڑھ دو فرلانگ کے فاصلے پر چشتیہ نظامیہ سلسلہ کے نامور بزرگ شاہ نیاز احمد بریلوی(م۱۸۳۴ء) کی خانقاہ ہے…شاہ نیاز احمد، حضرت مولانا فخر الدین عرف فخر جہاں(م۱۷۸۴ء) کے خلیفہ تھے، یہ دونوں بزرگ علی الاعلان تفضیلی عقیدے کا اظہار کیا کرتے تھے‘‘۔ (پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵ء، ص۲۰۱)

حضرت مولانا خواجہ فخرالدین فخر جہاں دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی علیہ الرحمہ دونوں بزرگ اہل سنت کے عقائد رکھتے تھے، ان کو تفضیلی شیعہ بتانا درست نہیں، اس بارے میں حضرت خواجہ فخرالدین دہلوی علیہ الرحمہ کی اپنی کتاب’’عقائد نظامیہ‘‘(جو کہ عقائد اہل سنت کے موضوع پر لکھی گئی ہے) سے صحابہ کرام کی افضلیت کے بارے میں اُن کا عقیدہ درج ذیل ہے:

’’افضل الناس بعد وجود مبارک حضرت رسول صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت ابوبکر صدیق بن قحافہ است رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ، بعد ایشاں حضرت عمر ابن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ، بعد ایشاں حضرت عثمان ابن عفان رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ، بعد ایشاںحضرت علی کرم اﷲوجہہ ابن ابی طالب‘‘۔

ترجمہ۔آدمیوں میں سب سے بزرگ بعد وجود حضرت رسول خدا صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضرت ابوبکرصدیق بن قحافہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ، بعد ان کے حضرت عمر ابن خطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ، بعد ان کے حضرت عثمان ابن عفان رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ، بعد ان کے حضرت مرتضیٰ علی کرم اﷲ وجہہ ابن ابی طالب ہیں‘‘۔ (خواجہ فخر الدین دہلوی، نظام العقائد المعروف عقائد نظامیہ، مطبوعہ پاک پتن شریف، طبع ثالث ۱۳۹۳ھ/ ۱۹۷۳ء، ص۲۷)

پروفیسر محمد اسلم صاحب کے متعلق سب جانتے ہیں کہ وہ ناصبی عقیدہ رکھتے تھے، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ کی شہادت کے سلسلہ میں حضرت مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کو قصور وار ٹھہراتے تھے، اہل بیت سے ناراض تھے۔

اہل بیت کرام کی محبت رفض نہیں، علماء و مشائخ اہل سنت کو رافضی یا شیعہ کہنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ مدت سے خارجیوں اور ناصبیوں کا طریقہ چلا آرہا ہے، اہل سنت کے مقتدر امام شافعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ٗبھی اس الزام سے نہ بچ سکے، امام شافعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ(م۲۰۴ھ) فرماتے ہیں! ؎

’’قالو ا ترفضت قُلت کلِّا

ماالرفض دینی ولااعتقادی

لکن تولیت غیر شک

خیر امام وخیر ہادی

ان کان حب ولی رفضاً

فانی ارفض العبادی

ترجمہ۔لوگ کہتے تو رافضی ہوگیا، میں کہتا ہوں ہرگز نہیں، میرا دین رفض نہیں اور نہ ہی میرا عقیدہ ہے، میں کسی شک وشبہ کے بغیر بہتر امام بہتر ہادی سے محبت کرتا ہوں ، اگر ولی سے محبت رفض ہے تو میں یقیناً سب لوگوں سے بڑا رافضی ہوں۔‘‘

(علامہ ابن حجر الہیثمی المکی(م۹۷۴ھ)، الصوائق المحرقہ(عربی)، مطبوعہ مکتبہ مجیدیہ ملتان، سن طباعت ندارد، ص۱۳۳)

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے درس میں ایک روہیلہ پٹھان آفتاب نامی شریک ہوا کرتا تھا، ایک دن شاہ صاحب نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے فضائل و مناقب بیان فرمائے تو اس کو اس قدر غصہ آیا کہ(خود شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کا بیان ہے)

’’بندہ را شیعہ فہمیدہ، آمدن درس موقوف کرد‘‘۔

ترجمہ۔’’بندہ کو شیعہ سمجھ کر درس میں شریک ہونا بند کردیا‘‘۔

(پروفیسر خلیق احمد نظامی، تاریخ مشائخ چشت، جلد ۵، مطبوعہ دارالمصنفین اسلام آباد ، سن طباعت ندارد، ص۷۰ )

پاکستان میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے فضائل ومناقب بیان کرنے پر اہل سنت کو شیعہ کہتے ہیں، اس ناصبی گروہ میں سر فہرست ’’محمود احمد عباسی امروہوی‘‘ کراچی(م۱۹۷۴ء)تھا، یہ شخص کھلم کھلا حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ کے لئے گستاخانہ کلمات اور مغلظات استعمال کرتا تھا،اس کے بعد اس کے شاگرد عزیز احمد صدیقی(کراچی)،مولوی اسحاق سندیلوی(کراچی)،مولوی عظیم الدین(کراچی)، ثناء الحق صدیقی،کراچی(م۱۹۹۶ء)محمدسلطان نظامی(لاہور)،ابویزیدمحمددین بٹ لاہورمصنف:رشید ابن رشید(م۱۹۸۱ء) ، حکیم فیض عالم صدیقی(جہلم) وغیرہ نے اس کام کو سرانجام دیا۔

مشہور محقق حکیم سید محمود احمد برکاتی صاحب (کراچی)، محمود احمد عباسی کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں!

’’محمود احمد عباسی صاحب سے میرا تعارف پاکستان آکر غالباً ۵۴۔۱۹۵۳ء میں ہواتھا، انہیں کسی کتاب کی ضرورت تھی، اس لئے کسی کی نشان دہی پر میرے یہاں آئے تھے، جب یہ معلوم ہوا کہ وہ ہمارے استاد، امام الطب حکیم فرید احمد عباسی مرحوم مغفور (متوفی ۱۹۶۲ء) کے چھوٹے بھائی ہیں تو ایک قرب کا پہلو نکل آیا اور طرفین کی آمدورفت شروع ہوگئی۔

کچھ ہی دنوں بعد ان کی کتاب(خلافت معاویہ ویزید) کے چرچے علمی حلقوں میں شروع ہوئے مگر مطالعے کی لت کے باوجود مجھے اس کتاب کے مطالعے کی اکساہٹ نہیں ہوئی، کیونکہ اہل تسنن اور اہل تشیع کے اختلافات میرا موضوع فکر و مطالعہ ہیں نہ میری افتاد مزاج کو خلافیات سے کوئی مناسبت ہے، بہر حال یہ کتاب نہ پڑھ سکا، مگر ایک بار خود عباسی صاحب مرحوم ہی نے مجھے’’ خلافت معاویہ ویزید‘‘ عنایت فرمائی تو اس مطالعے کی لت کے ہاتھوں اس کا مطالعہ کر گزرا اور خلاف مزاج پاکر الماری میں سجادی اور یوں عباسی صاحب کے افکار و آراء کا تعارف حاصل ہوگیا، لیکن اس موضوع پر ان سے گفتگو کی کبھی نوبت نہیں آئی، حالانکہ انہوں نے بارہا سلسلہ چھیڑا، مثلاً ایک بار انہوں نے فرمایا تم حسنی سید ہو یا حسینی؟ میں اس سے پہلے کئی حضرات سے سن چکا تھا کہ وہ شجروں اور انساب پر گفتگو کرتے ہیں، اس لئے تڑاخ سے جواب دیا کہ میں نے آپ سے کب کہا ہے کہ میں سید ہوں؟ اس پر وہ خاموش ہوگئے، اسی طرح میں نے جب سرسید مرحوم کی کتاب’’ سیرت فریدیہ‘‘ ایڈٹ کی اور اس کے مقدمہ میں سرسید کے سیاسی کردار پر تنقید کی تو عباسی صاحب ایک روز فرمانے لگے، کل ہمارے ایک دوست کہہ رہے تھے کہ تمہارے عزیز(میری طرف اشارہ تھا) نے تمہارے مقتداء (سرسید) پر بڑی سخت تنقید کی ہے، تو میں نے برجستہ جواب دیا کہ جی ہاں وہ صاحب مجھ سے بھی کہہ رہے تھے، مگر میں نے ان سے کہہ دیا کہ عباسی صاحب نے ہمارے نانا (سیدنا حسین رضی اﷲ عنہٗ) کو نہیں بخشا تو ہم ان کے مقتداء کو کیوں بخشتے، اس پر وہ بڑی دیر تک ہنسے اور بات آئی گئی ہوئی۔

عباسی صاحب سے ان ملاقاتوں میں مجھے اندازہ ہوا کہ وہ معمولی صلاحیتوں کے آدمی تھے، عربی غالباً بالکل نہیں جانتے تھے، فارسی پر بھی عبور نہیں تھا، میں نے ان کو فارسی کی غلط عبارتیں پڑھتے کئی بار سنا ہے، تحریر کا کام بھی وہ مسلسل نہیں کرتے رہے، آغاز عمر میں ’’ تاریخ امروہہ‘‘ ، ’’ تحقیق الانساب‘‘اور ’’تذکرۃ الکرام‘‘ لکھی تھیں ، اس کے بہت عرصہ بعد ۷۰ سال سے زیادہ عمر میں ’’ خلافت معاویہ ویزید‘‘ لکھی، اس کتاب کے سلسلے میں ان کو متعدد اہل علم وقلم کا تعاون حاصل رہا، جن میں سے ایک نام کے متعلق مجھے تحقیق ہے اور وہ ہے مولانا تمنا عمادی کا نام، جو ان کے لئے کتب تاریخ سے اقتباسات اور ان کے ترجمے لکھ کر بھیجا کرتے تھے، ایک با روہ عباسی صاحب کے یہاں چند روز مقیم بھی رہے، اور وہاں میں نے بھی انہیں یہی کام کرتے دیکھا ہے۔

دوسرا تآثر میرا یہ تھا کہ وہ اپنی تحریک کے سلسلے میں مخلص نہیں تھے، زبان وقلم سے ردّ شیعت کے باوجود اہل تشیع سے ان کے گوناگوں مراسم تھے، ایک بار میں پہنچا تو چند نامور شیعہ اہل قلم ان کے یہاں بیٹھے تھے اور بڑا پُر تکلف ناشتہ کررہے تھے اور بہت اپنائیت کی باتیں ہورہی تھیں ، ان کے جانے کے بعد از خود صفائی کرنے لگے کہ ان بچوں سے وطن ہی سے مراسم ہیں، بڑی محبت کرتے ہیں، میرا بڑا لحاظ کرتے ہیں، میں نے جی کہہ کر بات ٹال دی کہ مجھے اس سے کیا دلچسپی؟۔

اسی طرح ایک بار انتخاب میں انہوں نے ایک شیعہ امیدوار کو ووٹ دیا اور میرے سامنے ایک صاحب کے سوال کے جواب میں اس کی وجہ یہ بتائی کہ اس کے خاندان سے قدیم مراسم ہیں اور میں اسے اہل بھی سمجھتا ہوں، ایک بار ان کی اہلیہ محترمہ جو مجھ پر بڑی شفقت فرماتی تھیں، اپنے ایک ہمسائے کی شکایت کرنے لگیں کہ وہ آج صبح انہیں ( عباسی صاحب کو) گالیاں دے رہا تھا، اور یزید اور یزید کی اولاد تک کہہ گیا، اس پر میں نے از راہ تفنن کہہ مارا کہ یہ تو آپ کے نقطہ نظر کے پیش نظر مدح ہوئی، قدح نہیں ہوئی، اس پر وہبہت برہم ہوگئے اور اُٹھ کر دوسرے کمرے میں چلے گئے اور ان کی اہلیہ محترمہ کہنے لگیں کیوں چھیڑتے ہو۔

مطلب یہ ہے کہ میرے خیال میں وہ دل سے یزید اور شیعہ دشمن نہیں تھے بلکہ دانستہ یا نادانستہ کسی اسلام دشمن تحریک یا طاقت کے آلہ کار تھے اور افتراق بین المسلمین کی مہم میں سرگرم تھے، میں نے ان میں شیعت کے مظاہر تو کئی بار دیکھے، مثلاً مجالس تک ان کے یہاں برپا ہوتی تھیں اور ذکر کرتے روتے اور رُلاتے تھے، مگر ان کی پابندی احکام شریعت کا منظر اور واقعہ میرے علم و ذہن میں نہیں ہے، کم از کم میں نے ان کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا، نہ کسی سے سنا، تجارت اور معاشی منفعت بھی اس مہم میں یقیناً ان کے پیش نظر تھی، ایک بار نیاز فتحپوری کا ایک خط انہوں نے ایک دوسرے خط کے دھوکے میں مجھے پڑھنے کے لئے دیا، میں بھی جب خط پڑھ چکا تو پتہ چلا کہ یہ وہ مطلوبہ خط نہیں ہے، خط انہیں واپس کیا تو وہ بھی چکرا سے گئے، بہر حال اس خط کا جو مضمون ذہن میں مستحضر ہے کچھ اس قسم کا تھاکہ خوب کتاب لکھی ہے، کچھ ہنگامہ رہے گا، لطف رہے گا، خوب نکل رہی ہوگی، میں نے بھی اس پر تبصرہ لکھا ہے، کتابی شکل میں بھی آئے گا، اسے وہاں نکلوائیں اور اپنی کتاب کے اتنے نسخے تاجرانہ نرخ پر مجھے بھجوائیں کہ تبصرہ پڑھ کر کتاب کی مانگ بھی آئے گی۔

اسی طرح ایک صاحب جو نہ خدا کے قائل تھے نہ مذہب کے، ان سے اپنی تحقیق کا ذکر کرکے چاہتے تھے کہ وہ اپنی رائے دیں، انہوں نے کہا! میری رائے کا کیا کریں گے ، میری نظر میں آپ کے حسین اور آپ کے یزید دونوں گھٹیا تھے، عالمی سطح پر ان کی حیثیت نہیں ہے، تاریخ عالم کے اکابرین میں ان کو محسوب نہیں کیا جاسکتا، تخت کے دو معمولی امیدوار لڑ پڑے تھے اور ایک مارا گیا ، اس پر عباسی صاحب نے تائید اور مسرت کا اظہار ایک قہقہے سے کیا اور انگریزی میں چند جملے کہے، جن کا مفہوم یہ تھا کہ بالکل یہی رائے میری اور ہر پڑھے لکھے آدمی( ایجو کیٹڈ) کی ہے، مگر ان صاحب (جنٹل مین) کے سامنے بات نہ کیجئے، یہ لوگ قدامت گزیدہ( آر تھو ڈکس) ہوتے ہیں، عباسی صاحب نے مجھے انگریزی سے نابلدسمجھا تھا، میں نابلد ہی بنا رہا اور اجازت چاہی، جو بڑی خوش دلی سے دے دی گئی۔

ان کے مسلک کے بودے پن کے سلسلے میں یہ دلچسپ واقعہ بھی سننے کا ہے، ایک بار معلوم ہوا کہ لاہور سے حکیم حسین احمد صاحب عباسی مرحوم آئے ہوئے ہیں اور محمود احمد عباسی صاحب کے یہاں مقیم ہیں، چنانچہ میں اور میرے رفیق درس اور عزیز دوست حکیم جامی صاحب (جو کہ کوٹری سے حسین میاں سے ملنے کے لئے ہی تشریف لائے تھے) عباسی صاحب کے یہاں پہنچے، حسین میاں تو نہیں ملے، البتہ عباسی صاحب ضرور مل گئے اور حسب عادت وہی موضوع چھیڑ دیا، میں حسب دستور تحمل سے کام لیتا رہا، مگر جامی صاحب تحمل کے قائل نہیں اور رد ّ باطل کے لئے ہمہ وقت آمادہ و مستعد رہتے ہیں اور زبان و بیان تک کی اغلاط کی تصحیح کو جہاد سمجھتے ہیں، چنانچہ عباسی صاحب اسلامی تاریخ کے ماخذ پر گفتگو کررہے تھے اور ’’طبری‘‘ وغیرہ کو نا معتبر بتا رہے تھے، اچانک سیدنا حسین کے لئے فرمانے لگے کہ انہیں خناق کا مرض تھا اور اطباء نے لکھا ہے کہ اس مرض میں مبتلا انسان کی قوت فیصلہ بہت متآثر ہوجاتی ہے۔

اب جامی صاحب کے جہاد کی گھڑی آگئی تھی، عباسی صاحب سے پوچھا یہ بات کس نے لکھی ہے؟ عباسی صاحب روانی میں کہہ گئے کہ ’’ طبری‘‘ نے لکھا ہے، اس پر جامی صاحب نے ایک بڑے زہریلے قسم کا طنزیہ سر کیا اور بولے جی ہاں وہی طبری جو نا معتبر ہے، اس پر عباسی صاحب نے اپنے مؤ قف کے ضعف کو اپنی برہمی سے قوت میں بدلنا چاہا اور آپے سے باہر ہوگئے، کھڑے ہوکر کہنے لگے میرے بھائی(بابائے طب مرحوم مغفور) کا شاگرد ہوکر مجھ پر تنقید کرتا ہے اور ایسی ہی حواس باختگی کی بہت سی باتیں بڑے جوش غضب کے عالم میں کہہ گزرے، جامی صاحب نے جو ایسے معرکوں کے عادی اور ماہر اور جسمانی صحت سے بھی مایہ دار ہیں، بڑے اطمینان اور ٹھہرے ہوئے لہجہ میں جواب دیا بڑے میاں! پہلے تو بیٹھ جائو، ہانپ رہے ہو، پھر تم اس یگانۂ وقت اور با خدا بزرگ(بابائے طب) سے کیا نسبت رکھتے ہو، اور ان سے نسبت جتاتے ہو جس کی تصدیق کا ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں اگر ہے تو اسے ثابت کرو اور اچھے آدمیوں کی طرح معقولیت سے بات کرو، اپنی باتوں کے تضاد کو رفع کرو اور اگر کشتی ہی لڑنا ہے تو لو میں بھی کھڑا ہوجاتا ہوں ،( اسی دوران دونوں کی بلند آوازیں سن کر زنانے میں سے ایک نوجوان غالباً نواسہ نکل آیا تھا اسے مخاطب کرکے جامی صاحب نے پچکارتے ہوئے ہوئے کہا) میاں ابا کی مدد کے لئے صرف تم سے کام نہیں چلے گا اﷲ کے فضل سے ۲۵ آدمیوں سے بیک وقت لڑوں گا، وہ نوجوان تو مرعوب ہوکر پیچھے ہٹ گیا، اور میں نے جامی صاحب کی آتش جلال کو سرد کرنے کے لئے کچھ کہنا چاہا تھا کہ جامی صاحب کڑکے! معاف فرمائیے محمود میاں ! میں باطل اور گمراہ کن اور بے سروپا باتیں سن کر آپ کی طرح خاموش ہوجانا اور تردید کے لئے مناسب موقع کا انتظار کرنا گناہ سمجھتا ہوں، اب میں اس شخص کو بھگتنے کے لئے کیا کوٹری سے پھر کبھی آئوں گا یا یہ مجھے معقول جواب دے ورنہ میں ( اپنے بھرے بازو دکھاتے ہوئے) ان کو حرکت میں لائوں گا، عباسی صاحب یہ عالم ، یہ رنگ دیکھ کر بڑے خوف زدہ اور بد حواس ہو گئے تھے، میں نے اپنے مراسم کے زور پر جامی صاحب کو بجبر التوائِ جہاد پر آمادہ کیا اور ان کو گھسیٹتا ہوا وہاں سے لے آیا۔

عباسی صاحب سے آخری ملاقات یوں ہوئی کہ میرے فاضل دوست جناب اقتدار ھاشمی صاحب اور میں عباسی صاحب کے یہاں گئے، ھاشمی صاحب تاریخ اسلام پر بڑا عبور رکھتے ہیں اور ان کے اور عباسی صاحب کے درمیان کتب مطالعہ کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا تھا، عباسی صاحب اور ہاشمی صاحب اسی موضوع (حسین ویزید) پر گفتگو کرنے لگے، میں ایک کتاب ہاتھ میں لے کر وقت گزارنے لگا ، مطالعہ سے میری توجہ بلند ہوتی ہوئی آواز نے ہٹائی۔

ایڈیٹ؟(بیوقوف)

ہاں، ایڈیٹ تھا

علی ایڈیٹ ؟علی ایڈیٹ؟

یس ، علی ایڈیٹ، علی واز ایڈیٹ

اور ہاشمی صاحب جو پائوں اٹھائے تخت پر بیٹھے تھے پائوں لٹکا کر جوتا پہنتے ہوئے مجھ سے کہنے لگے ، حکیم صاحب! آپ ٹھہریں گے؟ میں تو چلا، اب برداشت کی بات نہیں رہی،میں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا فوراً چلئے، اب یہاں کبھی نہیں آنا ہے توبہ توبہ، اور عباسی صاحب ، حکیم صاحب ہاشمی صاحب چیختے رہے مگر ہم وہاں سے نکل آئے اور پھر کبھی وہاں نہیں گئے، یہاں تک کہ عباسی صاحب اس کے دربار میں پہنچ گئے جس کے سامنے ان کا باطن ظاہر ہوگا۔محمود احمد برکاتی، لالو کھیت کراچی ، ۳۰ مارچ ۱۹۸۰ء؁

(علی مطہر نقوی امروہوی، محمود احمد عباسی اپنے عقائد ونظریات کے آئینے میں، مطبوعہ ادارہ تحفظ ناموس اہل بیت ، اے۔ ۲۱۹، بلاک سی، شمالی ناظم آباد، حیدری کراچی،۱۹۸۳ء، ص۳۰ تا ۳۶)

پروفیسر صاحب پھر لکھتے ہیں:

’’اس عقیدے میں شاہ نیازاحمد کے غلو کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک بار ایک شخص ان سے ملنے گیا، اس کے پاس شاہ ولی اﷲ کی تصنیف’’ازالۃ الخفاء‘‘ کا ایک نسخہ تھا جو اس نے کپڑے میں لپیٹا ہوا تھا، شاہ صاحب نے باتوں باتوں میں اس سے کہا! مجھے خروج کی بو آرہی ہے، سچ سچ بتائو اس کپڑے میں کیا چھپا رکھا ہیَ اس نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا کہ اس کے پاس ازالۃ الخفاء ہے‘‘۔ (پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور۱۹۹۵ء، ص۲۰۱ )

پروفیسر صاحب نے حضرت شاہ نیاز احمد علیہ الرحمہ کے بارے میں اتنی بڑی بات کہہ دی مگر کوئی حوالہ یا مآخذ نہیںدیا، حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے بارے میں مشہور مؤرخ، نقاد پروفیسر خلیق احمد نظامی (م۱۹۹۷ء) مدفون علی گڑھ (بھارت) لکھتے ہیں: ’’ حضرت شاہ نیاز احمد، شاہ فخر صاحب کے مشہور ترین خلفاء میں سے تھے، علم وفضل میں یکتائے عصر، زہدو تقویٰ میں بے مثال… دہلی میں شاہ فخرالدین صاحب کی خدمت بابرکت میں علوم ظاہری کی تکمیل کے لئے حاضر ہوئے اور ذہانت اور دل جمعی کے باعث ۱۷؍ سال کی عمر میں معقول ومنقول، فروع واصول، حدیث وتفسیر میں کمال حاصل کرلیا، بڑے جید عالم تھے، ان کی تصانیف ان کی علمیت کی شاہد ہیں‘‘۔

( پروفیسر خلیق احمد نظامی، تاریخ مشائخ چشت، جلد ۵، مطبوعہ دارالمصنفین اسلام آباد پاکستان، ص۲۷۹، ۲۸۰)

پروفیسر صاحب شاہ نیاز احمد علیہ الرحمہ کے وصال کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’شاہ صاحب شعر وسخن کے قدردان اور سماع کے دلدادہ تھے، ان کے انتقال کے بارے میں یہ روایت زبان زد خلائق ہے کہ ایک باراُن کی خانقاہ میں سماع ہورہی تھی، قوال نے جونہی یہ مصرع اُٹھایا ؎ سجدہ گاہِ عاشقاں میان دو ابروئے علی تو حضرت چونک پڑے اور قوال سے کہنے لگے! میاں کیا کہا پھر سے کہنا، اس نے دو تین بار یہ مصرع دہرایا تو حضرت بھی اس کے ساتھ اس مصرعے کی تکرار کرنے لگے اور اسی حالت میں ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی‘‘۔(پروفیسر محمد اسلم، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵ء، ص۲۰۲ )

پروفیسر صاحب نے شاہ نیاز احمد علیہ الرحمہ کے وصال کا جو واقعہ لکھا ہے، یہ واقعہ حضرت شاہ نیاز احمد علیہ الرحمہ کا نہیں بلکہ آپ کے پوتے سراج السالکین شاہ محی الدین عرف ننھے میاں صاحب علیہ الرحمہ کا ہے، پروفیسر صاحب نے غزل کا مصرعہ بھی صحیح نہیں لکھا، واقعہ اس طرح ہے کہ شاہ محی الدین علیہ الرحمہ نے قوال کو طلب فرمایا اور حکم دیا کہ وہ غزل گائو جس کا مطلع ہے ؎ باشد ایماں مسلماں مصحف روئے عـلی سجدہ گاہ ماست محراب دو ابروئے علی

قوال نے عرض کیا کہ حضرت مجھے یہ غزل یاد نہیں ، تو آپ نے اپنے بھانجے ظہور اﷲ شاہ صاحب کو حکم دیا کہ شعر متذکرہ بالا کی تکرار کرو، اس شعر کو سن کر مصرعہ ثانی ؎ سجدہ گاہ ما ست محراب دو ابروئے علی

کی اپنی زبان سے تکرار کی اور قبلہ رو ہوکر سجدہ فرمایا اور جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔

(سید محبوب الرحمن نیازی، امام السالکین، مطبوعہ لکشمی پرنٹنگ ورکس لال کنواں دہلی، ص۵۱)

مولانا سید سلیمان اشرف بہاری علیہ الرحمہ

پروفیسر صاحب علی گڑھ کے سفر نامہ میں لکھتے ہیں:

’’ (مسلم یونیورسٹی) قبرستان کے شمالی حصہ میں ایک چار دیواری کے اندر چند قبریں نظر آتی ہیں، ان میں سب سے نمایاں قبر مولانا سید سلیمان اشرف مرحوم کی ہے، مولانا شعبہ دینیات کے سربراہ تھے اور میلاد خوانی کی محفلوں میں خاص طور پر مدعو کئے جاتے تھے، ان کے بارے میں فیکلٹی آف تھیا لوجی کے ترجمان ’’ مجلہ علوم الدین‘‘میں پروفیسر حمیدالدین مرحوم کا ایک دلچسپ مضمون طبع ہوا ہے، مولانا کو دوپہر کے وقت سونے کی عادت تھی، ایک دن کوئی اجنبی ان سے دوپہر کے وقت ملنے آیا، مولانا نے اسے دروازے ہی سے چلتا کیا، اس نے جاتے وقت کہا!آپ کا اخلاق تو آج دیکھ لیا، علم پھر دیکھ لیں گے، مولانا یہ واقعہ خود مزے لے لے کر اپنے احباب کو سنایا کرتے تھے‘‘۔( پروفیسر محمد اسلم ، سفر نامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵ء، ص ۴۷۰)

پروفیسر صاحب کی اس تحریر سے یہ تآثر ملتا ہے کہ علامہ سید سلیمان اشرف بہاری رحمتہ اﷲ علیہ(م۱۳۵۸ھ/ ۱۹۳۹ء) کا اخلاق اچھا نہیں تھا ، یہ اس لئے لکھا کہ سید سلیمان اشرف علیہ الرحمہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کے خلیفہ مجاز تھے اور امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ سے پروفیسر صاحب کو دیوبندی ذہنیت کے باعث خدا واسطے کی دشمنی ہے، سارے سفر نامہ میں علماء اہل سنت کے ساتھ ان کا یہی سلوک رہا ، بہر حال اَب اصل واقعہ سنیئے!

اُردو ادب کے نامور ادیب پروفیسر رشید احمد صدیقی مرحوم(م۱۹۷۷ء) سابق صدر شعبہ اُردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ لکھتے ہیں:

’’عرصہ کی بات ہے کہ ایک دن خود بخود فرمانے لگے، ہم اس مغالطہ میں مبتلا تھے کہ ہم جیسا خبطی شاید ہی کہیں ملے، لیکن ایک ہم سے بھی زیادہ بگڑے دل نکلے، صبح کمرے میں سورہا تھا، حسب معمول رضائی اوڑھ کر اور کمرہ بند کرکے، ایک صاحب نشست کے کمرے میں آئے، دیکھا کوئی نہیں ہے، سونے کے کمرے پر دستک دی اور سلام علیک کچھ اس انداز ولہجہ سے کہا کہ میں چونک پڑا، رضائی کے اندر ہی سے جواب دیا، وعلیکم السلام، انہوں نے فرمایا مزاج شریف! میں نے کہا ابھی آنکھ لگی تھی، فرمایا! مولانا میں نے آپ کے ملاحظہ کے لئے ایک کتاب بھیجی تھی، جواب میں عرض کیا گیا بھیجی ہوگی، آتی ہی رہتی ہیں ، بولے آپ نے مطالعہ کیا؟ میں نے کہا یہ کیا ضرور ہے کہ مطالعہ کی جائے، یہ سب کچھ وہ کھڑے کھڑے فرمارہے تھے اور میں رضائی کے اندر ہی سے جواب دے رہا تھا، اتنے میں آواز آئی ، مولانا آپ کی دو باتوں کی شہرت سُنی تھی، ایک اخلاق کی اور دوسرے علم کی، اخلاق کا حال تو معلوم ہوگیا، علم کی تصدیق بھی کسی دن ہوجائے گی، سلام علیکم، میں گڑبڑا کر چارپائی سے اُٹھا اور جلدی جلدی نشست کے کمرے میں آیا لیکن وہ جاچکے تھے‘’۔( پروفیسر رشید احمد صدیقی، گنج ہائے گراں مایہ، مطبوعہ آئینہ ادب چوک مینار انار کلی لاہور، بار ششم ۱۹۶۷ء، ص۴۹، ۵۰ )

پروفیسر رشید احمد صدیقی اپنی یاد داشتوں میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’ مرحوم کے ہاں ایک بڑے سن رسیدہ بزرگ اور بڑے جید عالم ٹھہرے ہوئے تھے، آپس میں بے تکلفی تھی ورنہ ظاہر ہے خانقاہ میں کون بارپا سکتا تھا، چلّے کی سردی تھی، مرحوم حسب معمول برآمدے میں سورہے تھے اور مہمان کمرے کے اندر، مہمان تہجد کی نماز پڑھنے اُٹھے، دروازہ کھولنے پر مرحوم کی آنکھ کھل گئی ، پوچھا کون ؟ جواب ملا کوئی نہیں میں ہوں، بولے خیر تو ہے،؟ کہا وضو کروں گا، تو کیجئے ناکسی کی نیند کیوں حرام کرتے ہو، انہوں نے دبی زبان سے کہا ! تھوڑا گرم پانی مل جاتا، فرمایا جہنم میں، مہمان نے کہا مکرر ارشاد ہو پورے طور پر سُن نہ پایا، بولے گر م پانی جہنم میں ملے گا، انہوں نے جواب دیا تو اُ ٹھو راہ بتائو، مرحوم نے قہقہہ لگایا، بولے نیند تو غارت کی لیکن فقرہ خوب کہا‘‘۔( پروفیسر رشید احمد صدیقی، گنج ہائے گراں مایہ، مطبوعہ آئینہ ادب چوک مینار انار کلی لاہور، بار ششم ۱۹۶۷ء ، ص۴۳)

لطیف ذوق رکھنے والے اہل علم کے ہاں ایسے لطائف و واقعات ہو جاتے ہیں ، اس میں بد اخلاقی اور طعن کی کوئی بات نہیں ہوتی، پروفیسر رشید احمد صدیقی ، سید سلیمان اشرف علیہ الرحمہ کے متعلق لکھتے ہیں:

’’ زندگی میں ہر طرح کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا، لیکن اکثر محسوس ہوا کہ مخاطب میں کہیں نہ کہیں کوئی خامی ہے… لیکن مرحوم کی شخصیت اتنی جامع اور متنوع تھی کہ وہ ہر موضوع ہر موقع سے اس خوبی سے عہدہ براء ہوتے کہ ان کی صحبت میں جی لگتا اور کبھی یہ محسوس نہ ہوا کہ فلاں جگہ کمی ہے جسے پورا کرنے کے لئے کسی اور کو ڈھونڈنا چاہئیے‘‘۔(پروفیسر رشید احمد صدیقی، گنج ہائے گراں مایہ، مطبوعہ آئینہ ادب چوک مینار انار کلی لاہور، بار ششم ۱۹۶۷ء، ص۲۷)

پروفیسر الحاج محمد زبیر(کراچی) سابق لائبریرین مسلم یونیورسٹی علی گڑھ لکھتے ہیں:

’’ دارالعلوم علی گڑھ کی یہ امتیازی خصوصیات دیکھئے کہ اس کے بانی سرسید کے زمانہ سے یہاں کے عملے میں ہندوستان اور بیرون ہند کے دینی و دنیوی علوم کے ممتاز ماہرین شامل ہوتے رہے ہیں، ان میں مولانا سید سلیمان اشرف جیسی انوکھی شخصیت کسی کی نہ تھی، انہوں نے انفرادیت کا جو درجہ حاصل کرلیا تھا، اس نے ان کے حساس مزاج کی راہیں سب سے الگ تھلگ کردیں تھیں ، ان اچھوتی راہوں کے نشیب وفراز کا ہماری نئی نسل تصور بھی نہیں کرسکتی، اس سے صرف یہی کہا جاسکتا ہے ؎ ’’افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی‘‘

( پروفیسر محمد زبیر، مضمون’’پروفیسر علامہ سید سلیمان اشرف بہاری کی شخصیت اور مقام علمی‘‘ سالنامہ مجلہ ’’ معارف رضا‘‘ کراچی، مطبوعہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ۱۹۸۶ء، ص ۱۷۷، ۱۷۸)۔