دیباچہ
مارچ ۱۹۹۴ء میں ضیغمِ اسلام ،غزالی ٔ زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی قدس سرہٗ (۱۹۱۳۔۱۹۸۶ء)کے عرس مبارک کے موقع پر شاہی عید گا ہ ملتان کے سبزہ زار میںاجلاس کی آخری نشست سے حضرت پروفیسر سید مظہر سعید کاظمی مدظلہٗ (سابق صدر شعبہ انگریزی ادب بہاء الدین زکریا یونیورسٹی، ملتان) کی صدارت میں صاحبزادہ حامد سعید کاظمی صاحب نے دورانِ تقریر بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت غزالی ٔ زماں علامہ کاظمی قدس سرہٗ سے ایک شخص نے کہا کہ آپ لوگ یہ جو یا رسول اﷲ مدد کہتے ہیں یہ جائز نہیں ہے، اس کے بجائے یا اﷲ مدد کہنا چاہیے کیونکہ غیر اﷲ سے مدد مانگنا یہ تو اﷲ کو عاجز سمجھنا ہے، کیا اﷲ تعالیٰ مدد نہیں کر سکتا؟ اس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ کے سواکسی اور کو حرف یا کے ساتھ دور سے نداء کرنا بھی درست نہیں۔
علّامہ کاظمی کریم رحمتہ اﷲ علیہ نے جواب میں فرمایاکہ حرف ’’یا ‘‘ کے ساتھ اُسے پکارا جاتا ہے جو دور ہو، یا پھر اُسے پکارا جاتا ہے جو نزدیک تو ہو لیکن غیر متوجہ ہو،یعنی دُور تو نہ ہو لیکن اس کی توجہ کسی اور طرف ہو، اگر کوئی دور بھی نہ ہو اور پوری طرح متوجہ بھی ہو تو اسے پکارا نہیں جاتا۔ اَب بتائو کیا خدا دور ہے؟ ارے وہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور وہ تو غیر متوجہ ہونے سے بھی پاک ہے، پھر اس کو کیوں پکارتے ہو؟
ارے اس کا جواب بھی سنتے جائو،دیکھئے اﷲ تعالیٰ نہ تو دور ہے اور نہ ہی غیر متوجہ ہے، پھر ’’یا اﷲ‘‘ کہنے کا کیا مطلب ہوا؟ مطلب یہ ہے کہ ’’یا اﷲ ‘‘ کہنا دراصل اﷲ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے، بندہ جب اﷲ تعالیٰ کو پکارتا ہے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اے اﷲ مجھے اپنی ناراضگی سے بچا اور
اپنی رحمت کومیری طرف متوجہ فرما، گویا بندہ جب اﷲ کو پکارتا ہے تو دراصل اس کی رحمت کو پکارتا ہے، اب ایمان سے کہیے کہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت کیا ہے اور کون ہے؟ ارے اﷲ تعالیٰ کی رحمت تو میرے آقا حضور رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ہی تو ہیں، تو گویا یا اﷲ کہنا بھی یا رسول اﷲ ہی کہنا ہے۔
(رانا، خلیل احمد ، یاداشتیں(قلمی) : مملوکہ ،خود)
اعتراض کا جواب
رہا یہ اعتراض کہ اﷲ تعالیٰ کے مقرب بندوں سے مدد مانگنا تو اﷲ تعالیٰ کے عاجز و مجبور ہونے کی دلیل ہے۔ تومیرے بھائی اﷲ بھی تو بندوں سے مدد مانگتا ہے، کیا اﷲ تعالیٰ بھی عاجز و مجبور ہے؟ آپ کہیں گے کہ اﷲ کا مدد مانگنا کہاں ہے؟ تو سنیے میں نہیں کہتا قرآن پاک نے صاف کہا !
إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ (القرآن ۴۷: سورة محمد: ۷)
اگر تم اﷲ کی مدد کروگے تو اﷲ تمہاری مدد کرے گا
’’ان تنصروا اﷲ‘‘ جملہ شرطیہ ہے اور ’’ینصرکم ‘‘ اس کی جزا ء ہے، یعنی اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اﷲ کی مدد کروگے تو اﷲ تمہاری مدد کرے گا۔ اب اگر کوئی کہے بس ہم تو اﷲ ہی سے مدد مانگیں گے، تو جناب اﷲ تعالیٰ نے تو اپنی مدد کرنے کو مشروط کردیا ہے تمہاری مدد کرنے سے، یعنی تم میری مدد کروگے تو مَیں بعد میں تمہاری مدد کروں گا، کیونکہ قاعدہ ہے کہ جزاء شرط کے بعد ہوتی ہے۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کا مطلب و معنی کیا ہے ؟ آیت کے معنیٰ یہ ہوں گے ’’ان تنصروا اﷲ ای ان تنصروا دین اﷲ ینصرکم‘‘ یعنی اگر تم اﷲ کے دین کی مدد کروگے تو اﷲ تمہاری مدد کرے گا۔ اب دیکھئے اﷲ تعالیٰ اپنے دین کی مدد تم سے کرارہا ہے ، آپ کیوں نہیں کرتا ۔ کیا اﷲ تعالیٰ مجبور اور محتاج ہے؟۔ارے بھائی یہ تم سے جو مدد کرا رہا ہے یہ اﷲ ہی کا مدد کرنا تو ہے ، اسی طرح انبیاء و اولیاء کا مدد کرنا وہ اﷲ ہی کا مدد کرنا تو ہے، کیونکہ اﷲ ہی نے مدد کرنے کی طاقت ان کو دی ،اﷲ ہی کا تو حکم متعلق ہے اور اﷲ ہی کی مشیت ان سے متعلق ہے، اگر تمہارا مدد کرنا اﷲ کا مدد کرنا ہے تو انبیاء و اولیاء کا مدد کرنا اﷲ کا مدد کرنا کیوں نہیں؟ ۔
( کاظمی،علامہ سید احمد سعید ، عبادت واستعانت: کراچی ، مجلس رضا، ۱۹۸۵ء،ص۱۱)
حدیث ربیعہ بن کعب رضی اﷲ عنہ
شاید کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ حدیث میں تو آتا ہے کہ !
ربیعہ بن کعب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی اور جس چیز کی ضرورت ہوا کرتی تھی (مسواک مصلّیٰ وغیرہ) لایا کرتا تھا (ایک بار دریائے رحمت جوش میں آیا) آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ! اے ربیعہ مجھ سے مانگو کیا مانگتے ہو میں تجھے عطا کروں، انہوں نے عرض کیا حضور میں آپ سے یہی مانگتا ہوں کہ بہشت میں آپ کی رفاقت نصیب ہو، آپ نے فرمایا کچھ اور بھی مانگتے ہو؟ حضرت ربیعہ نے عرض کی بس حضور یہی مانگتا ہوں، آپ نے فرمایا پس تم کثرتِ سجود سے میری مدد کرو۔ (مفہوماً) (خطیب،شیخ ولی الدین،مشکوٰۃ : کراچی،س ن ، ص۴۸)
اس حدیث مبارکہ کے آخری الفاظ یہ ہیں’’فاعنی علی نفسک بکثرت السجود‘‘یعنی اے ربیعہ کثرت سجود سے میری مدد کرو۔
اب سوال یہ ہے کہ اس حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابی سے مدد مانگ رہے ہیں، لیکن آپ کہتے ہیں ’’یا رسول اﷲ مدد‘‘ اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟اس کے علاوہ قرآن کہہ رہا ہے اور آپ ہر نماز میں بھی پڑھتے ہیں ’’ ایاک نستعین‘‘یعنی ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں،لہذا استعانت اﷲ ہی سے کرنی چاہئیے،انبیاء و اولیاء سے استعانت کرنا قرآن حکیم کے خلاف ہے۔
اس حدیث ’’فاعنی علی نفسک بکثرت السجود‘‘کا مفہوم یہ ہے کہ اے ربیعہ تجھے جنت میں میری رفاقت تو نصیب ہو گئی،اب اگر تورکوع و سجود چھوڑ دے گاتو دوسرے لوگ بھی رکوع و سجود چھوڑ دیں گے، اس طرح میرے دین میں خلل آئے گا،تم رکوع و سجود نہ چھوڑو ،نمازیں پڑھتے رہو۔’’فاعنی‘‘ کا مطلب ہے ’’ فاعنی دینی‘‘ یعنی اے ربیعہ میرے دین کی مدد کرتے رہو۔
اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ان تنصروااﷲ ینصرکم‘‘اگر تم ا ﷲ(کے دین) کی مدد کروگے (تو) وہ تمہاری مدد کرے گا،یعنی اﷲ بھی دین کی مدد طلب کر رہا ہے اور اﷲ تعالیٰ کا رسول بھی دین کی مدد طلب کرہا ہے،اگر ’’ فاعنی علی نفسک بکثرت السجود‘‘سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی کمزوری ثابت ہوتی ہے تو پہلے ’’ان تنصروااﷲ‘‘سے اﷲ تعالیٰ کی کمزوری ثابت کرو،لیکن یقیناً اﷲ تعالیٰ بھی کمزوری سے پاک ہے اور اس کا رسول صلی اﷲ علیہ وسلم بھی۔( کاظمی،علامہ سید احمد سعید ، تقریر’’ انا اعطینا ک الکوثرکی تشریح‘‘: مشمولہ ، خطبات کاظمی : علی پور(ضلع مظفر گڑھ) ، ناشر مکتبہ انوار صوفیہ ٹرسٹ، س ن ،ص۹۴)
نوٹ : یہ تقریر علامہ کاظمی کریم علیہ الرحمۃ (م۱۹۸۶ء )نے بمقام مدینہ منورہ بر مکانِ،شیخ ضیاء الدین احمد قادری مہاجر مدنی قدس سرہٗ(م۱۹۸۱ء)،فرمائی تھی۔(خلیل)
ایاک نستعین کا مفہوم
اب رہا ایاک نعبدو ایاک نستعین کا مطلب کیا ہے ،دیکھئے عبادت اور استعا نت دونوں اﷲ ہی کے ساتھ خاص ہیں، اﷲ ہی معبود ہے اور وہی مستعان ہے،بعض لوگوں نے عبادت کے معنی میںکچھ افراط و تفریط سے کام لیا،یہ صحیح ہے کہ عبادت کی روح تعظیم ہے،لیکن بعض لوگ ہر تعظیم کو عبادت سمجھنے لگے، یہ غلط ہے۔ دراصل حد درجہ تعظیم و انکسار کا نام عبادت ہے،یعنی تعظیم کا وہ مقام جس کے آگے تعظیم کا اور کوئی درجہ نہ ہو، اسے ہم بندگی سے عبارت کرتے ہیں ،اور اسی کوعبادت سے تعبیر کیا گیا ہے،اس کے سِوا عبادت کا اور کوئی مفہوم نہیںہے۔ اب ایک تو ہے تعظیم اور ایک ہے ’’اقصیٰ غایت التعظیم‘‘(یعنی ایسی تعظیم کہ اس کے آگے تعظیم کا کوئی اور درجہ متصور نہ ہو)،تو اﷲتعالیٰ کے سوا اﷲ کے رسول ، اﷲ کے نبی، اﷲ کے مقرب اولیا صالحین، یہ تمام کے تمام تعظیم کے تو مستحق ہیں ،مگر ’’ اقصیٰ غایت التعظیم‘‘ کا مستحق فقط اﷲ ہے۔ تعظیم رسولوں کے لیے بھی ہے ،تعظیم نبیوں کے لیے بھی ہے، تعظیم ولیوں کے لیے بھی ہے،بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اﷲ تعالیٰ نے تو ان پتھروں کی تعظیم کا بھی حکم دے دیا جن کی نسبت اﷲ کے بندوں سے ہو گئی۔
دیکھئے بیت اﷲ یعنی کعبہ معظم ہے یا نہیں؟ یقیناً معظم ہے۔تو کیا کعبہ تعظیم کے بغیر ہی معظم ہو گیا؟بھئی اس کی تعظیم ہوتی ہے تبھی تو وہ معظم ہے۔اب اگر محض تعظیم ہی کوعبادت کہیں گے تو پھر کعبہ بھی معبود ہو گیا،حالانکہ کعبہ تو معبود نہیں،وہ تو ہماری عبادت کی ایک جہت اﷲ نے مقرر ہے۔بعض لوگوں یہ غلط فہمی پھیلائی کہ بھئی جہاں جس کی تعظیم کرو گے بس عبادت ہو جائے گی،ادھر تم نے کسی کی تعظیم کی اُدھر مشرک ہو گئے۔بھولے بھالے مسلمانوں کے لیے خواہ مخواہ ایک مصیبت کھڑی کی ہوئی ہے۔جب حرمین طیبین کی حاضری ہوتی ہے تو اس کا پورا پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے۔بہر حال میں عرض کررہا تھاکہ محض تعظیم کو عبادت کہنا بہت زیادتی ہے اور دین میں فتنہ پیدا کرنا ہے۔صحاح ستہ میں مشہور مجموعہ احادیث ابن ماجہ شریف کی ایک حدیث میرے ذہن میں آرہی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے تعجب کے ساتھ کعبۃ اﷲ کو فرمایااے بیت اﷲ تیری عظمتوں کا کیا کہنا تو تو بہت ہی عظمتوں والا ہے الخ۔
اب اگر محض مطلق تعظیم ہی کو شرک قرار دیتے ہو تو کعبہ کو بھی معظم مت قرار دو،اور اگر معظم سمجھتے ہو تو اپنے فتوے کے مطابق اسے بھی معبود سمجھو۔
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ مطلق تعظیم کا نام عبادت نہیں ، بلکہ اقصیٰ غایت التعظیم کا نام عبادت ہے یعنی ایسی تعظیم کہ اس کے آگے تعظیم کا کوئی درجہ متصور نہ ہو۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ (سورة البقرة، آية ۱۵۸)
صفا اور مروہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہیں یعنی جن پتھروں پر حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کے قدم لگ گئے وہ پتھر بھی معظم ہوگئے۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میںدوسری جگہ فرمایا!
وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (سورة الحج، آية ۳۲)
’’اور جس نے اﷲ کی نشانیوں کی تعظیم کی تو وہ ان کے دلوں کا تقویٰ ہے‘‘ یعنی اﷲ تعالیٰ سے نسبت اور تعلق رکھنے والی چیزوں کا ادب و احترام بجا لانا اور اس کی تعظیم کرنا شرک میں داخل نہیں بلکہ عین توحید کی نشانیوں میں سے ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے محبت رکھنے والے لوگ ہی ان چیزوں کی قدر کرتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی طرف بالواسطہ یا بلا واسطہ منسوب ہیں۔
اب یہ شعائر اﷲ، جن کی تعظیم کی جاتی ہے کیا اﷲ ہیں ؟ اگر شعائر اﷲ کو اﷲ کہو گے تو پھر ہزاروں خدا ہو جائیں گے۔بہر حال شعائر اﷲ کی تعظیم کے متعلق اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اعلان فرما دیا ’’ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقوی القلوب‘‘پتہ چلا کہ مطلقاً تعظیم شرک نہیں بلکہ اقصیٰ غایت التعظیم شرک ہے اور کوئی مسلمان ایسی تعظیم اﷲ تعالیٰ کے سوا اور کے لیے نہیں بجا لا تا ۔اے اﷲ تو ہی ہمارا معبود ہے اور ہم تیرے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔ایاک نعبد کے معنی آپ کی سمجھ میں آگئے۔
ایاک نستعین۔اے اﷲ ہم تجھ ہی سے استعانت کرتے ہیں۔
استعانت کے معنی کیا ہیں ؟ میں آپ کو بتا دوں کہ جس طرح ہر تعظیم کا نام عبادت نہیں اسی طرح ہر مدد طلب کرنے کا نام استعانت نہیں۔ایاک نستعین میں جس استعانت کا ذکر ہے وہ ہر استعانت نہیں ہے،اگر اس سے مراد ہر استعانت ہے تو پھر یہ توبڑی مصیبت ہے کیونکہ اﷲتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا!
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (سورة المائدة، آية ۲)
یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔
(گرائمرکی رُو سے)’’تعانوا‘‘باب تفاعل سے ہے اس کے معنی شرکت کے ہوتے ہیں۔یعنی تم اس کی عون (مدد) کرو وہ تمہاری مدد کرے گا،نیک کام میں آپ مجھ سے مدد طلب کر سکتے ہیں، میں آپ سے مدد طلب کر سکتا ہوں۔ اب اگر ہر استعانت شرک ہو تو پھر ’’ و تعا ونو ا علی البر و التقویٰ‘‘کے کیا معنی ہوں گے ، پھر تو نیکی کے کاموں میں کسی سے مدد طلب کر ناشرک ہو جائے گا، حالانکہ قرآن تو اس کا حکم دیتا ہے۔تو معلوم ہوا کہ ہر طرح کی عون(مدد) کوایاک نستعینکے تحت لانا غلط ہے،جیسا کہ ہر تعظیم کو ایاک نعبدکے تحت لانا غلط ہے۔وہ تعظیم خاص ہے جو ایاک نعبدمیں مراد ہے اور وہ استعانت خاص ہے جوایاک نستعینمیں مراد ہے۔اگر ہم کسی کو مستعان حقیقی سمجھ کر مدد طلب کریں اور ہمارا اعتقاد یہ ہو کہ یہ مدد کرنے میں مستقل بالذات ہے اس کو کسی کی احتیاج نہیں، یہ خود بخود بغیر کسی کا محکوم ہوئے ، بغیر کسی کی مشیت اور ارادہ کے ماتحت ہوتے ہوئے اپنی ذات سے مستقلاً ہماری مدد کر سکتا ہے تو یہ شرک ہے کیونکہ کسی کو مستقل بالذات مستعان سمجھ کر مدد طلب کرنا بھی اقصیٰ غایت التعظیم ہے اور اسی کو عبادت کہتے ہیں۔
ہمارا ایمان ہے کہ ہم جس سے بھی مدد طلب کرتے ہیں اس کے متعلق ہمارا کبھی یہ اعتقاد نہیں ہوتا کہ یہ اﷲ کے حکم کے بغیر ہماری مدد کرے گا ،یا اﷲ کی مرضی یا مشیت کے بغیر ہماری مدد کرے گا یا اﷲ کے ارادے کے بغیر ہماری مدد کرے گا۔ہمارا اعتقاد یہ ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کو مدد کرنے کی قدرت دی ہے ،اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت سے یہ ہماری مدد کرے گا،اﷲ کے حکم سے یہ ہماری مدد کرے گا اور اﷲ تعالیٰ کی مشیت سے یہ ہماری مدد کرے گا۔اگر اﷲ تعالیٰ کی مشیت متعلق نہ ہو تو یہ ہماری مدد نہیں کر سکتا،اگر اﷲ تعالیٰ کا ارادہ متعلق نہ ہو تو کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا،اﷲ نے اس کو مستقل بالذات کوئی قوت نہیں دی،کیونکہ استقلال ذاتی الوہیت کا وصف ہے اور الوہیت کا وصف غیر الہٰ میں ہو نہیں سکتا۔اس لیے ہم کہتے ہیں’’ ایاک نستعین‘‘یعنی اے اﷲ ہم تجھے مستعان حقیقی اعتقاد کر کے فقط تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا
وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ (سورة البقرة، آية ۴۵)
اس آیت میں ’’با‘‘ سببیہ ہے، سبب اور وسیلہ ایک ہی بات ہے،یعنی صبر اور صلوٰۃ یہ وسیلہ ہیں استعانت کے۔استعانت تو اﷲ ہی سے ہو گی ، جس طرح صبر اور صلوٰۃ وسیلہ ہیں اسی طرح اولیاء کرام بھی وسیلہ ہیں اور جس طرح اعمال صالحہ وسیلہ ہو سکتے ہیں تو جو اعمال صالحہ سے متصف ہیں وہ بھی وسیلہ ہیں۔اسی لیے ہم اولیا اﷲ سے توسل کرتے ہیں،ہم فقط ان کی ذات کا توسل نہیں کرتے بلکہ ان کے وصفِ ولایت کی بنا پر توسل کرتے ہیں، ان کی صالحیت اور اعمال صالحہ کی بنا پر توسل کرتے ہیں۔ بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ اﷲ کے نیک بندوں نے اعمال صالحہ سے توسل کر کے اﷲ سے مدد طلب کی ،اور اعمال صالحہ سے توسل کرنا یہ بناء ہے صالحین سے توسل کرنے کی۔ہم یہی کہتے ہیںکہ انبیاء و اولیاء کرام و صالحین ہمارے وسیلہ ہیں،ہاں مدد کرنے والا اﷲ ہے،عون فرمانے والا اﷲ ہے،حاجت برلانے والا اﷲ ہے اور اﷲ تعالیٰ نے صالحیت کو،اعمال صالحہ کو،نیکی کو ، تقویٰ کو، صبر کو، صلوٰۃ کووسیلہ بنایا،اور جو محل ہیں صبر کے، جو متصف ہیں صلوٰۃ سے اور جو متصف ہیں اعمال صالحہ سے وہ باعتبار اعمال صالحہ کے ہمارا وسیلہ ہیں،اور ان سے قطع نظر کر کے محض ان کی ذوات کو ہم وسیلہ قرار نہیں دیتے،کیونکہ ان کے توسل کا معنی ان کااعمال صالحہ سے متصف ہو نا ہے اور اعمال صالحہ سے توسل یعنی استعانت کرنا ،قرآن سے ثابت ہے، قرآن نے کہا ’’واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ‘‘۔
اب اگر مطلقاً استعانت کو شرک کہو گے تو قرآن کی اس آیت کو کہاں لے جائو گے،پھر تو صبر اور صلوٰۃ کے ذریعے مدد طلب کرنابھی شرک ہو جائے گا،کیونکہ صبر بھی خدا نہیں اور صلوٰۃ بھی خدا نہیںہے۔یہ دونوں اﷲ تعالیٰ کی عبادتیں ہیں۔تو اﷲ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے کے یہ معنی ہیںکہ اے اﷲ ہم تجھ ہی کو مستعان ِ حقیقی مانتے ہیں اگر تو نہ چاہے تو کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا،اگر تیرا ارادہ اور مشیت نہ ہو تو کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا ۔
اب یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب یہ اﷲ کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے تو ان کا تو کچھ مقام نہ ہوا اور ان کی کوئی فضیلت نہ ہوئی؟۔
دیکھیے یہ اﷲ کے نیک بندے اﷲ کی مشیت سے ہی تو مدد کر سکتے ہیں، بغیرمشیت کے تو مدد نہیں کر سکتے۔تو پتہ چلا کہ یہ وہ لوگ ہیںجن کے ساتھ مشیتِ الٰہی متعلق ہو گئی ہے۔کیا یہ ان کی فضیلت نہیں ؟۔ان کے ساتھ مشیتِ الٰہیہ متعلق ہوتی ہے،ارادئہ الٰہیہ متعلق ہو تا ہے۔ تو جو متعلق ہو مشیتِ الٰہیہ سے اور جو متعلق ہو ارادئہ الٰہیہ سے توبتائیے کہ وہ فضیلت کا مرکز قرار پائے گا یا نہیں ؟۔
یہاںایک اور شبہ کا ازالہ بھی کر دوںکہ جب ہم کہتے ہیں ’’ایاک نستعین‘‘ہم تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں تو شبہ یہ ہے کہ اس میں ’’حصر‘‘ ہے یعنی ہم فقط تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں تیرے غیر سے نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے ہم دیکھیں کہ حصر کے معنی کیا ہیں؟تو عرض ہے کہ حصر کے معنی ہیں ما سوا مذکور کی نفی،مثلاً کلمہ لا الٰہ الا اﷲہے، اس میں مذکور کون ہے؟ اس میں مذکور اﷲ ہے،کیونکہ یہاں اﷲ کے سوا ہر ایک سے الوہیت کی نفی ہو گئی اور اﷲ کے ما سواسب غیر مذکور ہیں،تو ہر غیر مذکور سے الوہیت کی نفی ہو گئی۔اب ہم کہتے ہیں ’’ایاک نستعین‘‘تو ’’ایاک‘‘ میں مذکور تو اﷲ کی ذات ہے ،کیونکہ ’’ایاک‘‘ میں جو ضمیر خطاب ہے اس کا مصداق اﷲ تعالیٰ ہے،تو اب مذکور توفقط اﷲ ہے اور غیر کی نفی ہو گئی ،کیونکہ مذکور کے ماسوا سب کی نفی ہوتی ہے۔تو پتہ چلا کہ ہم اﷲ کے سوا کسی اور سے استعانت نہیں کر سکتے،کسی سے مدد نہیں مانگ سکتے،اﷲ سے مدد مانگنا خاص ہے،کیونکہ مذکور وہی ہے اور حصر میں ماسوائے مذکور کی نفی ہے۔لہذا اﷲ کے سوا سب ماسوا کی نفی ہوگئی،اﷲ کے ما سوا جو بھی ہے اس سے استعانت نہیں ہو سکتی۔
اب سوال یہ ہے کہ فقط مردے ہی اﷲ کے ما سوا ہیں ،کیا زندہ اﷲ کے ما سوا نہیں ہیں؟ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جناب مردوں سے مدد مانگنا شرک ہے اور زندوں سے مدد مانگنا جائز ہے۔ارے خدا کے بندو ! ایاک نستعین میں تو حصر ہے اورحصر میں تو ما سوائے مذکور کی نفی ہوتی ہے ، تو ما سوائے مذکور فقط مردہ ہیں ،کیا زندہ ما سوائے مذکور نہیں ؟کیا صرف مُردوں کو غیر اﷲ کہو گے اور زندوں کو عین اﷲ کہو گے؟ خبر نہیں ان لوگوں کا دماغ کہاں چلا گیا؟ آپ آنکھ سے استعانت کرتے ہیں دیکھنے کے لیے، کان سے استعانت کرتے ہیں سننے کے لیے، زبان سے استعانت کرتے ہیں بولنے کے لیے،ہاتھ سے استعانت کرتے ہیں پکڑنے کے لیے ، پائوں سے استعانت کرتے ہیں چلنے کے لیے،دماغ سے استعانت کرتے ہیں سوچنے کے لیے،آپ اپنے دوستوں سے استعانت کرتے ہیں،مقدمات میں وکیلوں سے استعانت کرتے ہیں، جھگڑوں میں پولیس سے استعانت کرتے ہیں،کار خیر کے کاموں میں مالداروںسے استعانت کرتے ہیں، کون سی چیز ہے جس سے استعانت نہیں ہوتی؟ اب بتائیے کہ ما سوا مذکور میں تو سارے داخل ہیں،تو پھر کسی سے بھی استعانت مت کرو،اور ہر ایک کی استعانت کو شرک قرار دو۔جواب میں کہا جاتا ہے کہ بھئی یہ تو زندہ ہیں، تو سوال ہے کہ کیا زندہ اﷲ ہیں؟
الحمدﷲ ہمارا عقیدہ بالکل صاف ہے،بالکل سچا ہے، ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی زندہ سے بھی مستعان حقیقی سمجھ کر مدد مانگتا ہے تو وہ مشرک ہے،کیونکہ ایاک میں حصر ہے اور حصر میں ما سوائے مذکور کی نفی ہوتی ہے۔زندہ بھی ما سوائے مذکور ہیں اور مردہ بھی ما سوائے مذکور ہیں۔اگر کسی فوت شدہ کو مستقل بالذات مان کر مدد مانگو گے تب بھی مشرک ہو جائو گے اور اگر کسی زندہ کو مستقل مستعان بالذات جان کر مدد مانگو گے تب بھی مشرک ہو جائو گے۔اگر استقلال ِ ذاتی کا عقیدہ نہیںتو نہ مردہ سے مدد مانگ کر مشرک ہوگے اور نہ زندہ سے مدد مانگ کر مشرک ہو گے۔( کاظمی،علامہ سید احمد سعید ، عبادت واستعانت: کراچی ، مجلس رضا، ۱۹۸۵ء،ص۱۱)
علمائے کرام کی آراء
شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ(م ۱۸۲۴ء) ایاک نستعین کے تحت فرماتے ہیں ! ’’دریں جا باید فہمید کہ استعانت از غیربو جہے کہ اعتماد بر آں غیر باشدواو را مظہر عون الٰہی نداند حرام است و اگر التفات محض بجانب حق است و اُو را یکے از مظاہر عون دانستہ و نظر بکار خانۂ اسباب و حکمت او تعالیٰ دراں نمود بغیر استعانت ظاہر نماید دُور از عرفان نخواہد بود و در شرع نیز جائز و روا است و انبیاء و اولیاء ایں نوع استعانت بغیر کردہ اند و در حقیقت ایں نوع استعانت بغیر نیست بلکہ استعانت بحق تعالیٰ است ‘‘۔
(دہلوی، شاہ عبدالعزیز ، تفسیر عزیزی : دہلی ، مجتبائی ، ۱؍۸)
نوٹ : یہاں چندوہابی ، دیوبندی علماء کی آراء نقل کی جاتی ہیں تاکہ یہ بھی معلوم ہو کہ انکے نزدیک حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی علیہ الرحمہ کا کیامقام ہے۔
نواب صدیق حسن خاں بھوپالی(پ۱۲۴۸ھ۔م ۱۳۰۷ھ) :
’’شاہ عبدالعزیز بن شیخ اجل ولی اﷲ محدث دہلوی بن شیخ عبدالر حیم عمری رحمہم اﷲ، استاذالاساتذہ، امام نقاد،بقیتہ السلف، حجۃ الخلف اور دیارِ ہند کے خاتم المفسرین و محدثین اور …… اپنے وقت میں علماء و مشائخ کے مرجع تھے، تمام علوم متداولہ اور غیر متداولہ میں خواہ فنونِ عقلیہ ہوں یا نقلیہ،ان کو جو دستگاہ حاصل تھی وہ بیان سے باہر ہے‘‘۔ (قنوجی، نواب صدیق حسن خاں ، اتحاف النبلاء المتقین با حیاء مآثر الفقہاء المحدثین : کانپور، مطبع نظامی،۱۲۸۸ھ ،ص۲۹۶)
٭مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی (پ۱۸۷۴ء۔م ۱۹۵۶ء) :
’’بڑے بڑے علماء آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ہیں اور فضلاء آپ کی تصنیف کردہ کتابوں پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں‘‘۔(سیالکوٹی،مولانامحمد ابراہیم ، تاریخ اہل حدیث:سرگودھا،ناشرمکتبۃ الرحمان سلفیہ،س ن،ص ۲۸۸)
مولانا سر فراز خاں صفدر (پ ۱۹۱۷ء) :
’’بلا شبہ مسلک دیوبند سے وابستہ جملہ حضرات شاہ عبدالعزیز صاحب کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں، بلا شبہ دیوبندی حضرات کے لیے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کا فیصلہ حکم آخر کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔(صفدر،مولانا سر فراز خاں، اتمام البرھان: گوجرانوالہ،مکتبہ صفدریہ ، ۱۹۸۱ء ،۱؍ ۱۳۸)
ترجمہ:’’اس جگہ یہ سمجھنا چاہئیے کہ غیر سے اس طرح استعانت حرام ہے کہ اعتماد اس غیر پر ہو اور اسے اﷲ تعالیٰ کی امداد کا مظہر نہ جانے،اور اگر توجہ محض اﷲ تعالیٰ کی طرف ہو اور اسے اﷲ تعالیٰ کی امداد کا مظہر جانے اور اﷲ تعالیٰ کی حکمت اور کار خانۂ اسباب پر نظر کرتے ہوئے اس غیر سے ظاہری استعانت کرے تو یہ راہِ معرفت سے دور نہ ہو گا اور شریعت میں جائز اور روا ہے، اس قسم کی استعانت انبیاء و اولیاء نے غیر سے کی ہے، در حقیقت استعانت کی یہ قسم غیر سے نہیں ، بلکہ اﷲ تعالیٰ ہی سے ہے‘‘۔
مولوی شبیر احمد عثمانی (۱۸۸۵۔۱۹۴۹ء) کی تفسیرملاحظہ ہو(یہ تفسیر سعودی عرب میں ہر سال حاجیوں کو مفت تقسیم ہوتی رہی ہے)
’’اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اُس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی ناجائز ہے ،ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمت الٰہی اور غیر مستقل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت در حقیقت حق تعالیٰ ہی سے استعانت ہے‘‘۔(عثمانی،مولانا شبیراحمد، تفسیر عثمانی :کراچی، دارالاشاعت ، س ن ، ص۷۲)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اور مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی کی تفسیر سے ثابت ہوا کہ کوئی شخص حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو واسطۂ رحمت الٰہی سمجھ کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے مدد مانگتا ہے تو یہ جائز ہے ،کیونکہ در حقیقت یہ اﷲ ہی سے مدد مانگناہے۔
راقم الحروف(خلیل احمد) کو اچھی طرح یاد ہے کہ مورخہ ۴؍ اکتوبر ۱۹۸۱ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عصر،قاسم باغ قلعہ کہنہ ملتان شہر میں قائد تحریک نظام مصطفیٰ مولانا حامد علی خاں رامپوری علیہ الرحمۃ (پ۱۹۰۶ء۔م۱۹۸۰ء)کے مزار شریف سے ملحقہ جامع مسجد غوثیہ قادریہ میں جماعت اہل سنت کے زیر اہتمام ہفتہ وارتبلیغی اجتماع میں علامہ سیدی احمد سعید کاظمی رحمتہ اﷲ علیہ نے دوران خطاب فرمایا تھا کہ ’’بسم اﷲالرحمن الر حیم‘‘ میں جو حرف ’’ب‘‘ ہے اس کی تین توجیہیں ہیں۔
۱۔ الباء للمصاحبت۔معنی یہ ہوں گے کہ اﷲ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں۔
۲۔البا ء للتبرک۔ اﷲ کے نام کی برکت سے شروع کرتا ہوں۔
۳۔ البا ء للاستعانت۔ ا ﷲ کے نام کی مدد سے شروع کرتا ہوں۔
اب دیکھئے تیسری توجیح ’’البا ء للاستعانت‘‘کے معنی یہ ہوئے کہ اﷲ تعالیٰ کے نام کی استعانت یا مدد سے شروع کرتا ہوں۔تو جناب اﷲ تعالیٰ کا نام تو اﷲ تعالیٰ کی ذات نہیں ہو سکتا ،کیونکہ اگر اﷲ تعالیٰ کے نام کو ہی اﷲ کہیں گے تواسمائے الٰہیہ یعنی اﷲ تعالیٰ کے نام تو بہت سے ہیں،پھر تو بہت سے اِلٰہ ماننے پڑیں گے،مگر اِلٰہ تو صرف ایک ہے،معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کا نام تو اﷲ کی ذات نہیں ،تو جب اﷲ تعالیٰ کے نام سے استعانت کرنی جائز ہے جوکہ اﷲ نہیں ہے تو اﷲ تعالیٰ کے حبیب صلی اﷲ علیہ وسلم جو کہ اﷲ نہیں ہیں ،تو ان سے استعانت کرنا یا مدد مانگنا کیونکر شرک ہوگا؟۔(رانا، خلیل احمد ، یاداشتیں(قلمی) : مملوکہ ،خود)
مارچ ۱۹۹۵ء کے اوائل میں راقم الحروف کسی ذاتی کام سے ملتان شریف گیا، فارغ ہو کر نئی کتابیں دیکھنے کے لیے غیر مقلدین کے کتب خانہ ’’مکتبہ فاروقی ‘‘نزد شاھین مارکیٹ بیرون بوہڑ دروازہ چلا گیا ،وہاں کتابیں دیکھتے ہوئے مولوی رشید احمد گنگوھی (۱۸۲۹۔۱۹۰۵ء)کے شاگرد مولوی حسین علی (۷۔۱۸۶۶۔۱۹۴۳ء)،ساکن واں بھچراں، ضلع میانوالی)کی ایک کتاب ’’احسن التفسیر‘‘پر نظر پڑی ،کھول کر دیکھی تو ’’بسم اﷲ‘‘ کے ترجمہ میں لکھا تھا ! ’’کہو مدد مانگتا ہوں ساتھ خاص نام اﷲتعالیٰ کے‘‘ (حسین علی،مولانا، احسن التفسیرالمعروف تفسیر بے نظیر: سر گودھا، ،مکتبۃالحسینیہ،۱۴۱۲ھ ، اول ،ص ۵)
مولوی حسین علی کے ا س ترجمہ سے اُسی بات کی تصدیق ہورہی ہے جو علامہ سیدی احمد سعید کاظمی علیہ الرحمتہ نے بیان کی،مولوی حسین علی کی تفسیر ’’بلغتہ الحیران‘‘ میں ہے!
’’و حل مشکلے از حق تعالیٰ طلب نمودن بتوجہ بزرگان بجا است و عین رضا است‘‘
(یعنی کسی مشکل کا حل اﷲ تعالیٰ سے بزرگوں کے توسل سے طلب کرنا بجا اور عین رضا ہے)
آگے لکھتے ہیں !
’’اے برادر گفتن یارسول اﷲ بطریق تعشق و توسل خارج از مبحث است‘‘
(یعنی اے بھائی تو جان لے کہ’’ یا رسول اﷲ‘‘بطور محبت و توسل کے کہنا اختلافی بحث سے خارج ہے)
پھر آگے لکھا !
’’نواب صدیق حسن خاں گفتہ۔شیخ سنت مددے ،قاضی شوکاں مددے بمعنی دعا باشد چنانچہ در ہندی گویند شالا مدد ہووے پیر جیلانی‘‘( بلغتہ الحیران: لاہور، انجمن حمایت اسلام پریس،س ن،ص ۳۵۴)
ترجمہ :یعنی اسی توسل اور محبت کے طور پر ہے جو نواب صدیق حسن خاں نے کہا کہ اے سنت کے شیخ مدد کر اور اے قاضی شوکاںمدد کر جو محض (بطور توسل) دعا ہے،
چنانچہ لوگ کہتے ہیں ’’شالا مدد ہووے پیر جیلانی‘‘۔
مولوی حسین علی کی ان عبارات سے صاف ثابت ہورہا ہے کہ بطور توسل ’’یا رسول اﷲ ‘‘ کہنا درست ہے،اﷲ تعالیٰ کے محبوبوں سے بطور توسل مدد مانگنا بھی جائز ہے،کیونکہ ’’شالا مدد ہووے پیر جیلانی‘‘ ( یہ سرائیکی زبان کا فقرہ ہے) کا مطلب ہے ’’یا غوث اعظم المدد‘‘۔
پاکستان میں دیو بندیوں کے بڑے بڑے مولوی مثلاً مولوی سرفراز خاں صفدر، گوجرانوالہ(پ ۱۹۱۷ء) اور حیات النبی کے منکر ’’ مماتی پارٹی ‘‘ کے مولوی غلام خاں، راولپنڈی (۱۹۰۹۔۱۹۸۰ء) مولوی طاہرپنج پیری ،صوابی ضلع مردان صوبہ سرحد(۱۹۱۷۔۱۹۸۷ء) ،مولوی محمدحسین نیلوی سرگودھا(پنجاب) ، اور مولوی عنایت اﷲ شاہ گجراتی (گجرات پنجاب)یہ سب مولوی حسین علی کے شاگرد ہیں۔
استعانت اور توسل الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی ہیں،امام تقی الدین سبکی شافعی علیہ الرحمۃ (م ۷۵۶ھ) فرماتے ہیں۔
’’واذ قد تحررت ھذہ الانواع والاحوال فی الطلب من النبی صلی اﷲ علیہ وسلم و ظھر المعنی فلا علیک فی تسمیتہ توسلا او تشفعااو استغاثتہ او تجوھااو توجھا لان المعنی فی جمیع ذلک سواء‘‘۔(السبکی،امام تقی الدین ،شفاء السقام : فیصل آباد ،مکتبہ نوریہ رضویہ ، س ن ، ص ۱۷۵)
ترجمہ: جب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے کسی شے کے طلب کرنے میں احوال اور اقسام کا بیان ہو گیا اور مطلب ظاہر ہو گیا تو اب تم اس طلب کو توسل کہو یا تشفع ، استغاثہ کہو یا تجوّہ یا توجہ ،کوئی حرج نہیں کیونکہ ان سب کا مطلب ایک ہی ہے۔
مولوی حسین علی اپنی ایک اور تصنیف ’’تحفہ ابراہیمیہ‘‘میں لکھتے ہیں !
’’اما استمداد از دوستاں خدا روا است‘‘( حسین علی،مولانا،فیوضات حسینی۔۔اردوترجمہ مع متن۔۔تحفہ ابراہیمیہ : مترجم،مولاناعبدالحمید سواتی،گوجرانوالہ، ادارہ نشرواشاعت مدرسہ نصرت العلوم ،۱۳۸۷ھ ، ص ۱۲۲)
ترجمہ۔ دوستانِ خدا سے مدد مانگنا جائز ہے‘‘
یہ عبارت چونکہ بعض لوگوں کے غلط عقیدہ پر کاری ضرب ہے، اس لیے اس کے مترجم اور ناشر مولوی عبدالحمید سواتی دیوبندی، گوجرانوالہ(پ ۱۹۱۷ء) نے ’’تحفہ ابرا ہیمیہ‘‘ کے اُردو ترجمہ بنام’’ فیوضات حسینی‘‘ کے حا شیہ میں اس فارسی عبارت کا ترجمہ ہاتھ کی صفائی سے غائب کر دیا، لیکن خیانت کرتے ہوئے بد حواسی کے عالم میںاصل فارسی عبارت کو متن سے غائب کرنا بھول گئے،جو کہ اُسی صفحہ کی پہلی سطر میںان کی خیانت کا منہ چڑا رہی ہے۔
دیو بندی مکتبہ فکر کے علماء سے سوال ہے کہ مولوی حسین علی کی اس عبارت سے ثابت ہورہا ہے کہ محبوبانِ خدا سے مدد مانگنا جائز ہے،تو حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جو کہ اﷲ تعالیٰ کے محبوب اور حبیب ہیں،آپ سے مدد مانگنا اور’’یا رسول اﷲ مدد ‘‘کہنا کیوں ناجائز اور شرک ہے ؟ ۔
مولوی محمد قاسم نانوتوی (۳۔۱۸۳۲۔۱۸۷۹ء) اپنے قصیدہ میں لکھتے ہیں ! مدد کر اے کرم احمدی کہ تیرے سِوا نہیں ہے قاسم بے کس کا کوئی حامیٔ کار (نانوتوی،مولانامحمدقاسم ، قصائد قاسمی: ملتان،مکتبہ قاسمیہ، چوک فوارہ،ص ۸) اس شعر کا مطلب ’’یا رسول اﷲ مدد نہیں تو اور کیا ہے ؟ مولوی اشرف علی تھانوی ( ۱۸۶۳۔ ۱۹۴۳ء)اپنی کتاب ’’حیٰوۃ المسلمین‘‘ میں درج ذیل اشعار لکھتے ہیں!
ترجمان ہر چہ مارا در دل است
دستگیر ہر کہ پائیش در گل است
مر حبا یا مجتبیٰ یا مرتضیٰ
ان تغب جا ء القضاء ضاق القضاء
انت مولی القوم من لا یشتھی
قد روی کلا لئن لم ینتھی
ترجمہ: (۱) (یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم) جو بات ہمارے دل میں ہے آپ اس کو بیان کرنے والے ہیںاور مصیبت زدہ کے آپ دستگیر ہیں۔
(۲) آپ کو مرحبا اے برگزیدہ و پسندیدہ،اگر آپ غائب ہوں تو موت آجائے اور دنیا تنگ و تاریک ہو جائے۔
(۳) آپ لوگوں کے مدد گار و خیر خواہ ہیں،جو آپ کی طرف رغبت نہیں کرتا وہ ہلاک ہو جائے گا۔ (تھانوی ،مولوی اشرف علی ، حیٰوۃ المسلمین:کراچی، مکتبہ تحفظ ختم نبوت، س ن،ص۹)
اگر ’’یا رسول اﷲ مدد ‘‘ کہنا شرک ہے تو علمائے دیو بند کاتھانوی صاحب کے ان مذکورہ بالا اشعار کے متعلق شرک کا فتویٰ کہیں شائع ہوا ہے؟اگر نہیں شائع ہوا تو کیاشرک کا فتویٰ صرف مظلوم اہل سنت کے لیے ہے؟۔
یہی مولوی اشرف علی تھانوی صاحب اپنی کتاب ’’نشر الطیب‘‘ میں لکھتے ہیں !( نشر الطیب: لاہور، تاج کمپنی ،س ن،ص ۱۹۴ )
یا شفیع العباد خذ بیدی
انت فی الاضطرار معتمدی
لیس لی ملجائٌ سواک اغث
مسنی الضر سیدی سندی
غشنی الدھر یا ابن عبداﷲٍ
کن مغیثاً فا نت لی مددی
دستگیری کیجیے میرے نبی
کشمکش میں تم ہی ہو میرے نبی
جز تمہارے ہے کہاں میری پناہ
فوجِ کلفت مجھ پہ آ غالب ہوئی
ابن عبداﷲ زمانہ ہے خلاف
اے میرے مولا خبر لیجیے میری
قارئین انصاف فرمائیں کہ ان اشعار میں اور ’’یا رسول اﷲ المدد‘‘ کہنے میں کیا فرق ہے؟ اگر یہ اشعار شرکیہ نہیںتو ’’یا رسول اﷲ مدد ‘‘ کہنا بھی شرک نہیں۔
بانی تبلیغی جماعت مولوی محمد الیاس کاندھلوی(۶۔۱۸۸۵۔۱۹۴۴ء) کے قریبی عزیز اور بااعتماد ساتھی مولوی احتشام الحسن کاندھلوی،جن کا ایک رسالہ
’’مسلمانوں کی موجودہ پستی کا واحد علاج‘‘ تبلیغی نصاب (موجودہ نام فضائل اعمال) کے آخر میں شامل ہے۔ اپنی کتاب ’’غوث اعظم‘‘ میں لکھتے ہیں !
’’جب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ پر کوئی صدمہ یا حادثہ پیش آتا تو آپ حق تعالیٰ کی جانب متوجہ ہوتے اور اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نفل پڑھتے ،نماز کے بعد سو مرتبہ درود شریف پڑھتے اور کہتے تھے!
اغثنی یا رسول اﷲ علیک الصلٰوۃ والسلام
پھر سرور کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم کی روحانیت کی طرف متوجہ ہوکر دل ہی دل میں آہستہ سے یہ دو شعر پڑھتے تھے۔ ایدرکنی ضیم و انت ذخیرتی و الظلم فی الدنیا و انت نصیرتی و عار علی راعی العمیٰ و ھو فی الحمی ذا ضاع فی البیداء بعییری
ترجمہ۔یعنی کیا مجھے بھی کوئی آفت پہنچ سکتی ہے جب کہ آپ کا تعلق میرے لیے ذخیرہ آخرت ہے اورکیا میں بھی دنیا میںظلم و ستم کیا جائوں گا جب کہ آپ میرے معین و مدد گار ہیں ،یہ امر تو گلہ بان کے لیے باعث عار ہے کہ اس کے گلہ میں ہوتے ہوئے اس جنگل میں میرے اونٹ کی رسی گُم ہو جائے۔‘‘(کاندھلوی،مولانااحتشام الحسن، غوث اعظم: لاہور، تبلیغی ادارئہ اسلامیات، ۱۹۷۸ء ، اوّل،صفحہ ۳۳)
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو بعد از وصال دور سے مدد کے لیے نداء کرنا جائزہے،کیونکہ حضور غوث اعظم سید نا عبد القادر جیلانی رحمتہ اﷲ علیہ بغداد میں یہ اشعار پڑھتے تھے ،یہ سب کو معلوم ہے کہ آپ کا زمانہ بھی بعد کا ہے اور بغداد (عراق) مدینہ منورہ سے دور ہے۔
اہل سنت کا عقیدہ استمداد
اہل سنت و جماعت کا عقیدہ استمداد یہ ہے کہ کار سازِ حقیقی صرف اﷲ تعالیٰ ہے،مخلوق میں سے جو بھی کسی کی امداد کرتا ہے وہ بھی در اصل اﷲ تعالیٰ ہی کی امداد ہے،بندہ تو اس کی امداد کا مظہر ہے،ورنہ اگر کوئی چاہے کہ میں از خود عطائے الٰہی کے بغیر کسی کی امداد کروں تو یہ ممکن نہیںہے اور کسی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا شرک ہے کہ وہ از خود امداد کر سکتا ہے اور اسے اﷲ تعالیٰ کی امداد و عطاکی ضرورت نہیں ہے۔
علامہ سیدی احمد سعید کاظمی رحمتہ اﷲ علیہ استمدادکی شرعی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں !
’’ بے شک اﷲ کے سوا کسی کو معین اور مدد گارِ حقیقی سمجھنا شرک خالص ہے،مگر کمال قرب الہٰی کے باعث اﷲ تعالیٰ کے مقرب بندوں کو مظاہر عون الٰہی سمجھنا یقیناً حق ہے،بخاری شریف کی ایک حدیث پیش کررہا ہوں،بصیرت وانصاف کی نظر سے غور کیا جائے تو آسانی سے بات سمجھ آسکتی ہے۔
دیکھئے حدیث قدسی میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم فرماتے ہیں، اﷲ تعالیٰ نے فرمایا !
مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَإِنَّ عَبْدِي لَيَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا وَلَئِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ (بخاری،امام محمد بن اسمٰعیل،بخاری : لاہور، س ن،۲؍ ۹۶۳خطیب،ولی الدین ، مشکٰوۃ : لاہور،س ن ،ص۹۷)
بخاری شریف کی اس حدیث قدسی کے بعض دیگر طرق میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں’’ وفوادہ الذی یعقل بہ و لسانہ الذی یتکلم بہٖ‘‘یعنی میں اس کا دل ہو جاتا ہوں جس سے وہ سمجھتا ہے اور اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔(دہلوی، شاہ عبدالحق محدث، اشعۃ اللمعات : دہلی،مطبع مجتبائی، س ن، ۲؍۱۹۴)
امام رازی علیہ الرحمۃ(م۶۰۶ھ ) نے بھی اس حدیث کے ایک طرق روایت میں لساناً اور قلباً کے الفاظ نقل کیے ہیں۔(رازی،امام فخرالدین، تفسیر کبیر: قاہرہ، س ن، ۵؍۶۸۷) اس حدیث سے واضح ہو گیا کہ مقربان بارگاہِ الوہیت کا مظاہرِ عونِ الٰہی ہونا حقیقتِ ثابتہ ہے۔اس حدیث کو صرف اس بات پر محمول کر دینا کہ قربِ نوافل حاصل کرنے والے بندے کو جب اﷲ تعالیٰ اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو اس کا سننا ، دیکھنا ، کام کرنا، چلنا پھرنا،سب کچھ اﷲ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے احکامِ شریعت کے مطابق ہو جاتا ہے،یعنی مقرب بندہ اپنی آنکھ کان وغیرہ کسی عضو سے معصیت کا مرتکب نہیں ہوتا، ہر گز صحیح نہیں،کیونکہ ’’کنت لہ سمعاً‘‘کا مقام اس بندے کو اﷲ کا محبوب ہونے کے بعد ملاہے ،اور وہ محبوب اسی وقت ہو گا جب وہ گناہ چھوڑ دے گا اور اپنی آنکھ کان ہاتھ وغیرہ کو احکامِ شریعت کے تابع بنا دے گا۔اگر اس کے بغیر ہی وہ محبوب ہو جائے تو سب عاصی اور گنہگار اﷲ کے محبوب ہو نگے،پھر سوچئے کہ محبوبیت الٰہیہ کی کیا وقعت رہی ؟۔
معلوم ہوا کہ اپنی سمع بصر وغیرہ کواحکام شریعہ کے تابع کرنے کے بعد کنت لہ سمعاً کا مقام اسے حاصل ہوا۔اب اگر اسے بھی ہم گناہوں سے بچنے کے معنی پر محمول کردیںتو اس کی حیثیت رجعتِ قہقری سے زائد کیا ہو گی ؟بلکہ اسے تحصیل حاصل کہنا پڑے گا،جو صراحتاً باطل ہے ،اس لیے حدیث کو معنی سابق پر محمول کرنا صحیح نہیں،بلکہ حدیث کے صحیح معنی یہی ہیں کہ بندہ ٔ مقرب اﷲ تعالیٰ کی سمع و بصر و دیگر صفات کا مظہر ہو جاتا ہے،جیسا کہ اسی حدیث کے پیشِ نظر امام فخرالدین رازی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا !
’’وکذلک العبد اذا و اظب علی الطاعات بلغ الی المقام الذی یقول اﷲ کنت لہ سمعاً و بصراً فاذا صار نور جلال اﷲ سمعاً لہ سمع القریب و البعید و اذا صار ذلک النور بصرًا لہ راء ی القریب و البعید و اذا صار ذلک النور یدًا لہ قدر علی التصرف فی الصعب والسھل والبعید والقریب‘‘۔(رازی،امام فخرالدین، تفسیر کبیر: قاہرہ، س ن، ۵؍۶۸۸، ۶۸۹)
’’یعنی بندہ جب گناہوں سے بچ کر نیکی کے کاموں پر ہمیشگی اختیار کرتا ہے تو وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کی سمع اور اس کی بصر ہو جاتا ہوں،تو جب اﷲ کے جلال کا نور اس کی سمع ہو جائے تو وہ قریب اور دور کی بات سن لیتا ہے اور جب یہ نور اس کی بصر ہو جائے تو وہ قریب اور دور کی چیز کو دیکھ لیتا ہے اور جب یہ نور اس کا ہاتھ ہو جائے تو وہ مشکل اور آسان اور دور اور قریب پر قادر ہو جاتا ہے‘‘۔
جن لوگوں نے اس حدیث کو عقیدہ توحید کے خلاف سمجھا، وہ غلطی پر ہیں،کیونکہ حدیث میں یہ نہیں آیا کہ معاذاﷲ ’’بندہ مقرب‘‘ اﷲ ہو جاتا ہے ، یا ا ﷲبند ے میں حلول کر لیتا ہے۔ بلکہ حدیث کا واضح مفہوم یہی ہے کہ اﷲ کا بندہ کمال ِ قرب کے باعث اﷲ کے نورِسمع، نور بصر، نورِ قدرت، نور کلام اور نور علم و ادراک کا مظہر ہو جاتا ہے۔ انسانیت کا کمال قرب الٰہی ہے۔قرآن و حدیث اور شریعت اسلامیہ کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ انسان اﷲ کا مقرب ہو جائے، اگر یہ کفر و شرک ہے تو اسلام اور توحید کا کیا مفہوم ہو گا؟ کمالِ انسانیت کے معیار کو کفر و شرک کہنا کتاب و سنت سے نا واقفیت اور روح اسلام سے بے گانگی کی دلیل ہے۔
اﷲ تعالیٰ کے جو مقرب بندے اس مقام پر فائز ہوتے ہیں اس کی دی ہوئی قدرت کے باوجود اذنِ الٰہی کے بغیر کوئی کام ان سے سرزد نہیں ہو تا ،بلکہ وہ اپنے ارادے اور مشیت کو بھی اﷲ تعالیٰ کے ارادے اور مشیت کے تابع کردیتے ہیں ۔بظاہر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کچھ قدرت اور اختیار نہیں ،مگر وہ اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور اختیار کے باوجود اس کی حکمت اور مشیت کے تابع رہتے ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اگر چاہتے تو سونے کے پہاڑ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم کے ساتھ چلتے، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا ’’ یا عائشۃ لو شئت لسارت معی جبال الذھب‘‘ اے عائشہ اگر میں چاہتا تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ چلتے(مشکوٰۃ، خطیب،ولی الدین ،۵۲۱)اور فقر و فاقہ کی کبھی نوبت نہ آتی، لیکن حضور صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے خود فقر کو اختیار فرمایا۔
بے شک تمام انبیا و اولیا علیہم الصلوٰۃ والسلام اور کل مخلوقات اﷲ تعالیٰ کے محکوم اور مقدور ہیں، اس کے حکم اور قدرت سے کوئی باہر نہیں ،لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ بہ نسبتِ خلائق مجبور محض ہوں ،بلکہ مظاہر عون الہٰی ہوکر اﷲ تعالیٰ کے اذن سے وہ اپنی اور ہماری سب کی مدد کرتے اور کرسکتے ہیں،ان کا بعض اوقات ہماری مدد نہ کرنا اس لیے نہیں کہ وہ ہماری مدد نہیں کرسکتے ،بلکہ وہ بتقاضائے کمال عبدیت اﷲ کی حکمت کے خلاف کچھ نہیں کرتے،سمجھنے کے لیے اتنی بات پیش نظر رکھ لیںکہ بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کرنے والا روزے دار جسے اﷲ تعالیٰ نے سب نعمتیں عطا فرمائی ہیں،روزے کی حالت میں کھانے پینے کی طاقت رکھتا ہے،مگر رضائے الٰہی کے پیش نظر وہ ایسا نہیں کرتا،نمازی نماز کی حالت میں لوگوں سے کلام کرسکتا ہے مگر بندگی کا تقاضا اسے روکتا ہے،ایک طاقت ور مظلوم ظالم سے انتقام لے سکتا ہے ،مگر کمال حلم اس کے لیے مانع ہے۔اﷲ تعالیٰ کی حکمت و رضا کے تحت صبر و تحمل سے کام لینا اور حکمت الہٰیہ کے مطابق عمل کرنا سنت الہٰیہ ہے۔غور فرمائیے ،اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے،لوگ بہت سے کام اس کی مرضی کے خلاف کرتے ہیں ،اﷲ تعالیٰ انہیں روک سکتا ہے مگر نہیں روکتا ، شیطان کی سر کشی دور کرنے پر اﷲ تعالیٰ قادر ہے ،مگر اپنی حکمتوں کی بنا ء پر ایسا نہیں کرتا، اﷲ تعالیٰ کے مقرب بندے سنت الہٰیہ کا مظہر ہوتے ہیں،اپنے اوپر ان کا قیاس کرکے انہیں اپنے جیسا سمجھنا نادانی اور ناانصافی ہے۔(ملخصاً)
( کاظمی،علامہ سید احمد سعید ،درود تاج پر اعتراضات کے جوابات: ملتان، ناشر؟،۱۹۸۶ء،۸۱۔۸۵)