دیباچہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِيْمِِ
اﷲ تعالیٰ کی شان ہے کہ مخالفین حق دنیا میں تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام واولیاء علیہم الرحمہ کو ستاتے رہے ، وفات کے بعد بھی اُن کی ایذا رسانی سے باز نہیں آتے، مختلف ادوار میں مختلف انداز سے ایذا رسانی کا یہ سلسلہ جاری رہا، ماضی قریب میں اس فتنے نے ایک یہ روپ بھی اختیار کیا کہ اﷲکے دین کے نام پر ا`ﷲ کے پیاروں کی قبریں گرانے کی تحریک شروع کی اور قوّت پکڑنے پر حرمین شریفین میں ہی صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کے مقابر مقدسہ کو ملیا میٹ کرکے بے نام ونشان کردیا۔
ان کا خیال ہے کہ نبی پاک ﷺ نے مسلمانوں کی قبریں زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا تھا، اس لئے اونچی قبریں تو کیا صرف قبروں کے نشانات بھی زمین کے برابر کرنے کے منافی ہیں، یہ تو رعایت ہے کہ ہم نشان برقرار رہنے دے رہے ہیں، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حدیث میں قبر کو پختہ کرنے سے روکا گیا ہے اور مقدس قبروں کو بے نام ونشان کرنے سے شرک کا روکنا مقصود ہے جو اُن کو سجدہ تعظیمی کرنے والے کر تے ہیں ، اور یونہی ان ان ذوات قدسیہ سے مدد لینے کا دروازہ بھی بند ہو جائے گا اور اس طرح دنیائے اسلام سے شرک کی بیخ کنی ہو سکے گی، اس سلسلہ میں دشمنان قبور مقدسہ کی خدمت میں چند معروضات پیش کی جاتی ہیں۔
۱حضرت علی مرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے حضرت ابوالہیاج اسدی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا تھا کہ میں تمہیں اس کام کے لئے نہ بھیجوں جس کام کے لئے رسول ا`ﷲ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا اور پھر آپ نے تصویریں مٹانے اور اونچی قبروں کو زمین کے برابر کرنے کے احکام بتائے۔(صحیح مسلم)
نبی پاک ﷺنے مسلمانوں کی قبریں گرانے کا کبھی بھی حکم نہیں دیا، بلکہ بخاری شریف اور مسلم شریف کتاب المساجد میں حضرت انس رضی اﷲعنہ سے مروی ہے کہ:
فَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺبِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ ثُمَّ بِالْخَرْبِ فَسُوِّيَتْ
یعنی آپ ﷺنے مشرکین کی قبریں اکھاڑنے کا حکم دیا پھر ناہموار جگہ کو برابر کردیا گیا، یہ تسویہ قبور مشرکین کی قبروں کے ساتھ کیا گیا، اور حضرت علی رضی اﷲعنہ نے ابو الہیاج اسدی والی حدیث میں آپ نے اس جیسی جگہ بھیجے جانے کاذکر کیا ہے ، ورنہ مخالفین بتائیں کہ حضرت علی نے نبی پاک ﷺکے حکم سے جو قبریں زمین کے برابر کی تھیں تھیں وہ کن صحابہ کی تھیں اور کہاں تھیں؟
۲ اگر قبور مسلمین کو زمین کے برابر کرنا پڑے تو ظاہر ہے کہ اس کام کے لئے کُدال چلانا پڑے گا اور کدال چلانے والا اُن قبور کو روندے گا، جب کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲعنہ سے مرفوع حدیث میں آیا ہے کہ کسی مسلمان کی قبر کو پامال کرنے کے مقابلے میں مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں انگاروں یا تلوار پر چلوں،(مصنف ابن ابی شیبہ، سنن ابن ماجہ، مختصر احکام الجنائز(مترجم)، ناصر الدین البانی دمشقی،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی، ص۲۲۳)، لہذا مسلمان کی قبر کے احترام کے پیش نظر اُس کا انہدام کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟
حضرت فضالہ بن عبید رضی اﷲعنہ نے نبی پاک ﷺکا فرمان نقل کیا ہے کہ نبی پاک ﷺہمیں قبر کے تسویہ کا حکم دیتے تھے( مسلم، نسائی، ابودائود، بیہقی) ، تو اس کا تعلق دفن کے وقت سے ہے کہ قبر کو درست کردو، تسویہ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، کبھی زمین برابر کرنے کے معنی میں، کبھی دو چیزوں کو برابر کرنے کے بارے میں اور کبھی تیار کرنے اور درست کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لہذا موقع کی مناسبت کے لحاظ سے معنی لیا جائے گا، ہر جگہ زمین کے برابر کرنا یعنی مسمار کرنا اور منہدم کرنا نہیں لیا جا سکتا، چنانچہ یہ لفظ کافروں کی خواہش میں آیا لو تسوی بہم الارض (سورۃ النساء، آیت۴۲) ، جب یہ تخلیق آدم علیہ السلام یا تخلیق سماوات کے سلسلے میں آئے گاتو اس کا معنی تیار کرنا اور درست کرنا مراد لیا جائے گا، فاذا سویتہ کا معنی یہ نہیں کہ جب میں آدم کو مسمار کردوں گا، اور فسواھن سبع سماوات کا معنی یہ نہیں کہ اس نے ساتوں آسمانوں ( جو ہمیں گنبد نما نظر آتے ہیں) کو مسمار اور منہدم کردیا، تسویہ کے باوجود بھی آسمانوں کی بلندی ختم نہیں ہوئی ، رفع سمکھا وسوّٰاھا (سورۃ النزعت، آیت ۲۸) ’’اُس کی چھت اونچی کی پھر اُسے ٹھیک کیا، اونچی چھت کا تسویہ ہوا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ چھت مسمار اور منہدم کردی۔
اب حضرت فضالہ بن عبید جو تسویہ قبر مسلم کا حکم بوقت تدفین سناتے ہیں تو اس سے مراد قبر کو تیار اور درست کرنے کا حکم ہے کہ جو قبر کا ڈھیر بنایا ہے اُس کو اطراف اور اوپر سے پریس کرکے سیٹ کردو، اور جو ابوالہیاج اسدی والی حدیث ہے اُس کا وقت تدفین سے ہر گز کوئی تعلق نہیں ، اُس کا مطلب پُرانے وہابی تو یہی لیتے ہیں کہ قبروں کو مسمار کرنے کا حکم ہے (ہدایۃ المستفید، ترجمہ فتح المجید شرح کتاب التوحید، از شیخ نجدی ، ج۲،ص۱۵۴۰ تا۱۵۴۳۔ عرف الجادی، ص۶۰، از نواب نور الحسن ولد صدیق حسن بھوپالی) ، مگر علماء حق کے مواخذوں سے تنگ آکر ’’راہ سنت ‘‘ ص۱۸۵ میں سرفراز گکھڑوی دیوبندی اور ’’کلمہ گو مشرک‘‘ ص۱۵۰ میں مبشر ربانی غیرمقلد نے اس معنی سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے ایک دوسرا معنی پیش کیا کہ عام قبروں کے برابر کرنا مراد ہے، اگرچہ یہ معنی ہمارے زیادہ خلاف نہیں، کیونکہ عام قبروں کے بارے میں ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اُنہیں عام قبروں جیسا رکھا جائے، لیکن اگر وہ حضرت عثمان بن مظعون کی قبر جیسی خاص قبریں مراد لیں تو اُن قبروں کو ہم ان خود ساختہ معنی کی زد میں لانا ہر گز درست نہیں جانتے، پھر تمام قبروں کا سائز برابر رکھنا ہر گز ممکن نہیں کیونکہ یہ اُس قاعدے کے خلاف ہے کہ جتنی مٹی لحد سے نکلے وہی اوپر ڈالی جائے۔
اب ظاہر ہے کہ ایک شیر خوار کی قبر سے کم مٹی باہر نکلے گی اور ایک بھاری بھرکم شخص کی قبر سے زیادہ مٹی باہر نکلے گی اور وہ بھی اُس کی قبر پر ڈالی جائے گی، تو ان دونوں قبروں کو سائز میں برابر کرنا اور اُسے حضرت ابوالہیاج اسدی کی حدیث کا مفہوم سمجھنا اندھیر نگری نہیں تو اور کیا ہے؟
۳ بالشت برابر قبر اونچی کرنے کی کوئی بھی مرفوع قولی حدیث نہیں ملتی، اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے تو پیش کرے ، اور جن حضرات نے نبی پاک ﷺکی قبر انور کو ایک بالشت اونچا بتایا ہے، اُن کی بالشت کا سائزمذکور نہیں ملتا، مرفوع قولی حدیث میں تو اتنی بات ملتی ہے کہ جتنی مٹی قبر سے نکلے اُس سے زائد نہ ڈالنی چاہئے(کنزالعمال، حدیث ۴۲۹۱۲)، چنانچہ احکام الجنائز میں البانی نے بھی حضرت جابررضی اﷲعنہ کی حدیث پیش کرتے ہوئے لکھا ہے:
وَأَنْ يُبْنَىٰ عَلَيْهِ (أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ)
( مختصر احکام الجنائز، ص۲۲۰) ، یعنی قبر کے عین اوپر دیوار تعمیر نہ کی جائے یا مٹی زائد نہ کی جائے ، اب آپ قبر کی کھدائی کے وقت باہر نکلی ہوئی مٹی کو دفن کے بعد جب اوپرڈالتے ہیں تو وہ ایک بالشت سے کافی اونچی ہوجاتی ہے، اور اگر اُسے مُسنّم یعنی کوہان نما بنانے کی کوشش کریں گے تو وہ اور بھی زیادہ اونچی ہو جائے گی، اور یہ بات احناف اور غیر مقلدین کی بنائی ہوئی قبروں پر ہر صاحب انصاف مشاہدہ کرسکتا ہے، اور اگر اُن سب کو ہی کوئی شخص زمین کے برابر کرنے کا شوق رکھتا ہے تو وہ اپنا یہ قاعدہ پہلے اپنے گھر پر تو نافذ کرے، ہم غیر مقلدین حضرات سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے مسلک والوں کی قبروں کو ضرور ضرور زمین برابر کردیں گے، جس طرح نبی پاک ﷺنے مشرکین کی قبروں کو کھدوا کر زمین برابر کروایا تھا، تاکہ کوئی تو اُس حدیث پر اب بھی عمل کرے۔ (واضح رہے کہ قبر سے باہر نکلی ہوئی مٹی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ بالشت برابر کوہان نما بننے سے پہلے نیچے تھوڑا سا چبوترہ خود بخود بن جاتا ہے)۔
۴ نبی پاک ﷺنے عام مسلمانوں اور خاص مسلمانوں کی قبروں میں فرق رکھا، چنانچہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اﷲعنہ کو دفن کرنے کے بعد قبر کے سر والی جانب ایک بھاری پتھر رکھا، جسے عام آدمی نہ اُٹھا سکتا تھا اور آپ ﷺنے اپنی طاقت نبوت سے وہ اُٹھایا اور پھر فرمایا ! اس سے میں اپنے بھائی کی قبر پہچان سکوں گا اور جو میرے خاندان سے وفات پائے گا، اس کے قریب دفن کروں گا۔ (ابودائو، سنن بیہقی، مختصر احکام الجنائز، البانی، ص۱۶۴، ۱۶۵)
اب مرفوع حدیث سے قبور المسلمین دو طرح کی ہو گئیں، ایک علامت والی اور دوسری بغیر علامت، یونہی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا نے نبی پاک ﷺکی قبر انور عمارت میں بنائے جانے کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایا
فلو لا ذاک اُبرزَ قبرہ غیر انہ خُشِیَ ان یتخذ مسجدا
(بخاری، حدیث ۱۳۹۰، مسلم کتاب المساجد، حدیث ۵۲۹) ’’اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ ﷺکی قبر مکان میں بنانے کی بجائے کھلی(اوپن) رکھی جاتی، لیکن اس بات کا خطرہ تھا کہ وہ سجدہ گاہ نہ بن جائے‘‘۔
ام المومنین کا یہ قول بھی قبروں کو تقسیم کررہا ہے کہ قبروں کی ایک قسم تو ایسی ہے جس کے سجدہ گاہ بننے کا خوف ہوتا ہے، اور دوسری قسم وہ ہے جن کے سجدہ گاہ بننے کا خوف نہیں ہوتا، اس سلسلے میں پہلی قسم کی قبروں کو سجدہ گاہ بننے سے بچانے کے لئے اُنہیں غیر مبروز (غیر کھلی،نان اوپن) جگہوں میں بنانا جائز ہے، اور اس مطلب یہی ہوگا کہ قبر مکان میں ہو اور وہاں ایسا پہرے دار(مجاور) بھی ہو جو قبر کو سجدہ گاہ بننے سے بچائے رکھے، ورنہ بتایا جائے کہ ام المومنین نے قبر فی البناء کی جو یہ علت بتائی ہے وہ حق ہے یا باطل؟
ابن تیمیہ نے ’’اقتضاء صراط مستقیم ‘‘ میں تسلیم کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر فتوحات صحابہ کے زمانے میں بھی مکان کے اندر برقرار رکھی گئی، اور وہ مکان ۴۰۰ھ تک بند (غیر مبروز) رہا، اس سے بھی صحابہ کرام کا اجماعی مسئلہ معلوم ہوا کہ نبی کی قبر پر بنا (عمارت) جائز ہے۔
۵ ظلم یہ بھی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اﷲعنہ کی وہ قبر جو دور حضرت عثمان غنی رضی اﷲعنہ میں اتنی اونچی تھی کہ اس پر سے چھلانگ لگانے والا بڑا نوجوان شمار کیا جاتا تھا(بخاری) اور اس کے سر کی جانب والا پتھر نبی پاک ﷺنے اپنے ہاتھ سے بطور نشان لگایا تھا، ایسی بابرکت نشان والی قبر کو بھی اطاعت رسول کے نام پر ڈھا کر بے نشان کیا گیا، کیا یہ بھی کوئی اتباع رسول ہے؟
آسماں راحق بود گر خوں ببارد برزمیں
اور اس طرح نشانیٔ رسول کو اتباع رسول کے نام پر بے نشاں کرنا کہاں کا انصاف ہے؟
۶ نبی پاک ﷺکی قبر انور (جو زمین سے سے صرف ایک بالشت اونچی تھی)پر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲعنہ اپنا چہرہ رکھے ہوئے پڑے تھے کہ مروان نے یہ دیکھ کر اعتراض کیا ، اس پر حضرت ابو ایوب انصاری نے یہ حدیث رسول سنائی کہ دین پر اُس وقت تک نہ رونا جب تک اہل لوگ حکمران ہوں، مگر جب اُس کے والی نااہل بن جائیں تو وہ وقت دین پر رونے کا وقت ہے۔(مسند احمد، ج۵، ص۴۲۲۔ جامع صغیر، ص۱۹۸ ، صححہ ا لسیوطی )
حضرت ابو ایوب انصاری نے مروان کے اعتراض کو اُس کی نااہلی قرار دیا، واقعی جو بوسے اور سجدے میں فرق نہ کرتے ہوں اور عشق اور شرک میں تمیز نہ رکھتے ہوں وہ حکمران اور عالم چاہے پہلی صدی کے ہوں یا اس صدی کے، وہ نااہل ہی سمجھے جائیں گے، چونکہ صحابی رسول نے قبر انور پر چہرہ رکھا ہوا تھا(ہونٹ، رخسار، آنکھیں، ناک، ماتھاسب ہی چہرے میں آجاتے ہیں)، اس لئے ایک بالشت قبر پر چہرہ رکھنا نااہل کو غلط فہمی سے بچانے کے لئے محبوبان حق کی قبروں کو اگر حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کی نہج پر اونچا بنایا جائے تو چہرہ رکھنے والے کو ہیئت سجدہ اختیار کرنے سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے، اس لئے اس پر اعتراض کرنا اس زمانے میں درست معلوم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اعتراض دراصل حضرت عثمان بن مظعون کی قبر پر وارد ہوگا، جو کہ دین دارکا کام نہیں۔
۷ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قبر میں حالت قیام میں مصروف صلوٰۃ تھے(صلوٰۃ بمعنی نماز لیں یا بمعنی درود، یہ آپ کی مرضی) ترمذی شریف کی حدیث میں قبر کے اندر سورۃ ملک پڑھی جانے کا پتہ چلتا ہے، قرآن پاک میں
فی بیوت اَذن اﷲان ترفع ویذکر فیھا اسمہٗ
(سورۃ نور، آیت ۳۶) ’’بیچ ان گھروں کے جن کو بلند کرنے کا اﷲنے اذن دیا اور اُن میں اس کا نام لیا جاتا ہے‘‘ ، شرح الصدور میں امام سیوطی نے روایات جمع کردیں جن میں بعض قبور (برزخی گھروں) میں اﷲکا ذکر کیا جاتا ہے، اُن گھروں کو بلند کرنے کا اذن موجود ہے ، اور حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کا مرتفع وبلند ہونا اسی قاعدے کے تحت درست تھا، اور مشرکین کی قبروں کا ملیا میٹ کیا جانا بھی اسی کے تحت ہے، جیسا کہ عقل مندوں پر مخفی نہیں۔
۸ دشمنان قبور مقدسہ تو صرف قبر کو مکان کے اندر دیکھ لیں تو انہدام قبرومکان کی تدبیریں سوچنا شروع کردیتے ہیں، مگر نبی پاک ﷺاور محبوبان خدا نے اپنی اپنی تدفین کے بارے میں کیا چاہا وہ کتب حدیث میں کچھ یوں ملتا ہے :
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲعنہ سے مروی ہے کہ نبی جس مکان ، جس جگہ میں دفن ہونا محبوب رکھتا ہے، اﷲوہیں اُس کی روح قبض فرماتا ہے(ترمذی، حدیث۱۰۱۸، موطا امام مالک، ص۸۰)
حضرت عمر رضی اﷲعنہ نے حضرت عائشہ رضی اﷲعنہا سے اسی مکان مقدس میں دفن ہونے کی خواہش کااظہار کرتے ہوئے اجازت تدفین چاہی تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے اجازت دے دی مگر ساتھ ہی بتایا کہ میں خود یہاں دفن ہونا ہونا چاہتی تھی۔ (بخاری، حدیث ۱۳۹۲، ۳۷۰۰)
حضرت امام حسن رضی اﷲعنہ نے بھی اس مکان مقدس میں اپنی قبر کے لئے جگہ چاہی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا نے اجازت دے دی، لیکن جب امام حسین رضی اﷲعنہ اپنے بھائی کی میت مبارکہ کو لے کر اُن کی یہ خواہش پوری کرنے کی خواہش لے کر روانہ ہوئے تو مروان رکاوٹ بنا(تاریخ الخلفاء، سیوطی)
واضح رہے کہ یہ وہی مروان ہے جو امام حسن کی قبر فی البناء کا منکر ہونے کے ساتھ ساتھ نبی پاک ﷺکی قبر انور پر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲعنہ کے چہرہ رکھنے پر بھی سیخ پا ہوا تھا، غالباً دشمنان قبور کا آئیڈیل وہی ظالم بنتا ہے، ممکن ہے کہ کوئی کہنے والا کہہ دے کہ حجرہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا کی طبعی عمر پوری ہوچکنے کے بعد پھر مکان بنایا جانا درست نہیں، تو یہ اُس کی غلط فہمی ہے اور خواہش مصطفیٰ ﷺکے خلاف ہے اور اجماع اُمت کے بھی خلاف ہے، بلکہ مستقبل میں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا وقت آئے گا تو وہ بھی اسی مقبرہ پاک میں دفن ہونا پسند رکھنے کی وجہ سے روضہ پاک میں ہی (وفات پاکر) دفن ہوں گے(مشکوٰۃ) نبی پاک ﷺاور ان دیگرحضرات کی خواہشات کے مطابق قبور پر بننے والی اس پیاری پیاری بناء(عمارت) کو دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں، دشمن کے دل میں غیظ اُٹھتا ہے تو اُٹھا کرے۔
۹ اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا کے کہنے کے مطابق محبوبان حق(جن کی قبروں کے سجدہ گاہ بننے کا خدشہ ہو) کی قبروں کو غیر مبروزرکھنا یعنی مکان میں بنانا جائز ٹھہرتا ہے، نبی پاک ﷺاور اُن کے وارثوں کی قبروں پرعمارت کے جواز پر اجماع اُمت بھی ہے اور اجماع صحابہ بھی، اسی لئے محدثین کرام نے کہا کہ صالحین کی قبروں پر مکان بنانے پر سلف نے اباحت کا قول کیا ہے۔(مجمع البحار، طیبی، مرقاۃ، تورپشتی) اور فقہاء نے بھی قبور صالحین کے عمارت میں ہونے پر جواز کا قول کیا ہے۔(درمختار، شامی، طحطاوی، نابلسی)
امام ابوحنیفہ سے عدم جواز کا قول بھی ملتا ہے اور جواز کا قول بھی میزان شعرانی میں اُن سے منقول ہے ، عدم جواز کا قول عام قبور پر محمول ہے اور جواز کا قول قبور خاصہ پر محمول ہے، فقہاء احناف سے عام قبور پر بناء کے خلاف تو بہت سارے حوالے ملتے ہیں مگر قبور اولیاء کے خلاف فقہاء اہل سنت کا ایک بھی معتبر حوالہ نہیں ملتا (سوائے قاضی ثناء اﷲپانی پتی کے جن کی کتابیں مخالفین کے مطبع تحریف سے شائع ہو کر ہم تک پہنچی ہیں اور ہم پر حجت نہیںہیں) ، خلاصہ یہ کہ بناء علی القبرکی کراہت کاقول عام قبور کے حوالے سے ہے اور قبور خاصہ مستثنیٰ بالدلیل ہیں۔
۱۰ قبر کے پختہ ہونے کے خلاف کوئی قطعی الدلالۃ حدیث موجود نہیں ہے، رہ گئے تجصیص القبر کے الفاظ تو ان کا معنی قبر کو چونا کرنا ہے اور جص چونے کو کہتے ہیں، اس سے قبر پر پختہ اینٹیں لگانے کی نفی اخذ کرنا کیسے درست ہوگا؟ اس سے زیادہ تو قبرعثمان بن مظعون پر پتھر رکھنے سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ پتھر تو اینٹ سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے، جب پتھر لگانا حدیث سے ثابت ہے تو پختہ اینٹ کے لئے اسے دلیل بنانا درست ہونا چاہئے، غیر مقلد حضرات کوپختہ اینٹ کی ممانعت کا صریح ثبوت دینا چاہئیے، بلکہ حیرانگی کی بات ہے کہ نبی پاک ﷺنے فرمایا
مااُمرت بتشیید المساجد
(ابودائود، حدیث نمبر۴۴۸) ’’مجھے مسجدیں پختہ کرنے کا حکم نہیں ہے، مگر ہمارے مہربان اس حدیث کو چھوڑ کر پکی مسجدیں تعمیر کررہے ہیں اور اپنے اس فعل پر اُن کے پاس بطور دلیل کوئی حدیث بھی نہیں، مقام غور ہے کہ قبروں کی پختگی کے خلاف باوجود حدیث صریح نہ ملنے کے اتنے جوش وخروش کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر مسجدوں کی پختگی کے خلاف حدیث ملنے کے باوجود پختہ کرنے سے یہ لوگ باز نہیں آتے، آخر یہ دورنگی کیوں؟
۱۱ اُنہیں یہ بھی دعویٰ ہے کہ حدیث جابر میں کتابت علی القبر سے بھی روکا گیا ہے، تو اس کا ارتکاب روکنے کے لئے بھی انہدامِ قبور درست راستہ ہے، اس سلسلے میں مختصراً عرض ہے کہ علامت برائے پہچان رکھنا تو حدیث عثمان بن مظعون سے ثابت ہے، اگر سبھی لوگ علامتی پتھر رکھنے کا رواج بنالیں تو پھر علامت برائے پہچان کس چیز کو مقرر کیا جائے گا؟ لہذا کتابت برائے ضرورت ِ پہچان حدیث عثمان بن مظعون کے علامتی پتھر کی خواہش وحکمت کے مطابق ہوگی اور وہ علامتی پتھر سنگی کتبہ کی شکل اختیار کرلے گا، جو بظاہر حدیث جابر کے مطابق نہ ہوتے ہوئے بھی حدیث عثمان بن مظعون کی روح کے مطابق ہوگا، جیسا کہ دانش مندوں پر اظہر من الشمس ہے اور ممانعت تفاخر وغیرہ سے ہوگی۔ واضح رہے کہ حاکم نے مستدرک ، ج۱، ص۷۰۷ ، حدیث ۱۴۱۰ کی ذیل میں لکھا کہ قبر پر لکھنے کی حدیث متروک العمل ہے، اور اَئمہ مسلمین کی قبریں مشرق سے مغرب تک لکھی ہوئی ملتی ہیں، اور خلف نے یہ عمل سلف سے لیا ہے، اس پر ذہبی نے اعتراف کیا کہ تابعین کرام سے یہ سلسلہ چلا ہے، ظاہر ہے کہ یہ اجماعی عمل بطور علامت قبر پر لکھنے کے جواز کی دلیل ہے، اور علامت سے زائد فخریہ جملے لکھنا بہرحال منع ہیں۔
۱۲ قبر پر چراغ جلانا جس حدیث میں باعث لعنت بتایا گیا ہے، اُس حدیث کا راوی ابو صالح باذام مولیٰ ام ھانی، اَئمہ فن کے نزدیک ضعیف ہے ارسال وتدلیس کرتا ہے.(تقریب التہذیب، رقم ۶۳۵)، تاہم چراغ قبر سے علیحدہ جلایا جائے تو الفاظ حدیث کے حقیقی معنی سے خارج قرار پاتا ہے ، اور بوقت ضرورت تو چراغ کو قبر کے باہر کیا قبر کے اندر لے جانا بھی ثابت ہے(ترمذی، حدیث۱۰۵۷۔ مشکوٰۃ ، ص۱۴۸) ، تو ممانعت چراغ کسی خاص معنی کے لحاظ سے ہوگی اور اثبات لعنت کے لئے حدیث ضعیف کافی نہیں ہوتی۔
۱۳ حدیث جابر میں ان یقعد علیہ کے الفاظ کے ساتھ قبر پر بیٹھنے سے جو روکا گیا ہے، یا حدیث ابو مرثد الغنوی میں
لا تجلسوا علیھا
سے قبر پر چڑھ کر بیٹھنے کے جو الفاظ ملتے ہیں، اُن سے’’تذکیر الاخوان‘‘ اور ’’ شاہراہ بہشت‘‘ میں نتیجہ نکالا گیاہے کہ یہاں قبروں کی مجاوری اور سجادہ نشینی مراد ہے اور اُسی سے روکا گیا ہے، الفاظ حدیث کی اس معنوی تحریف پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
امام طحاوی نے معانی الآثار میں اس موضوع پر طویل بحث کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قبروں پر بیٹھنا تب منع ہے جب کوئی پیشاب پاخانہ وغیرہ کے لئے بیٹھے، ورنہ حضرت ابن عمر اور حضرت علی سے قبروں پر بیٹھنا ثابت ہے، قبروں کے پڑوس میں کسی پڑوسی(مجاور) کا رہنا کسی روایت میں منع نہیں ہے ، ورنہ سب سے پہلے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا کو روضہ رسول کا پڑوس چھوڑنا پڑتا۔
۱۴ لا تجعلوا قبری عیدا(میری قبر کو عید نہ بنا لینا) کی حدیث سے غلط مفہوم نکالنے والے حضرات کو چاہئے کہ پہلے وہ خصائص عید کو جمع کریں، پھر ایک ایک کو دلیلِ شرعی کے ساتھ یہاں جاری کریں، عید سال میں دوبار آتی ہے ، کھانے پینے کا دن ہوتا ہے ، اس میں کھیل کود اور لہولعب کی کئی قسموں کی اجازت ہوتی ہے، اب ظاہر ہے کہ مفہوم حدیث یہ ہوگا کہ میری قبر کو کھانے پینے اور کھیل کود کا مقام نہ بنانا اور نہ ہی میری قبر کو سال میں ایک آدھ بار دیکھنے کی عادت بنانا، یہاں اکثر آنا اور ادب واحترام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا۔
۱۵ قبر کو مسجد نہ بنانے اور قبر پر مسجد نہ بنانے سے یہی مراد ہے کہ قبر کو مسجود لہٗ اور مسجود الیہ نہ بنایا جائے ، قبر کی طرف منہ کرکے نماز نہ پڑھی جائے، چنانچہ حضرت ابو مرثد غنوی سے مرفوعاً مروی ہے کہ
لا تصلوا الی القبور
(مسلم، ابودائود، ترمذی) ’’یعنی قبروں کی طرف رخ کرکے نماز نہ پڑھو ‘‘۔قبر کے پاس نماز پڑھنا منع نہیں ہے ، حضرت فاطمۃ الزاہرا رضی اﷲعنہا ہر جمعہ کو حضرت حمزہ کی قبر کی زیارت کو جایا کرتیں اور وہاں نمازپڑہتیں، (المستدرک، ج۱، ص۳۷۷) ، حدیث مابین قبری ومنبری روضۃ من ریاض الجنۃ(مجمع الزوائد، کنزالعمال) یعنی میری قبر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یہاں بھی قبر اور مسجد کا قریب قریب بنایا جانا جائز ثابت ہوتا ہے، اﷲتعالیٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت کرے اُنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا(بخاری، مسلم وغیرہ) میں سجدہ عبادت مراد ہے کیونکہ سابقہ امتوں میں سجدۂ تعظیمی جائز تھا، تو اس فعل پر لعنت کا کیا مطلب؟ سجدہ تعظیمی کی ممانعت حدیث پاک میں ان الفاظ سے ہے کہ لو کان ینبغی لبشر ان یسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا، اگر یہ چائیے ہوتا کہ ایک بشر دوسرے بشر کو سجدہ کرے تو میں عورت کو امر کرتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، یعنی سجدہ تعظیمی ہماری شریعت میں مامور بہٖ نہیں ہے، اس لئے چاہئیے کہ سجدہ تعظیمی نہ کیا جائے، لیکن سجدہ تعظیمی پر شرک کا فتویٰ دینا خود مشرک بننے کے مترادف ہے کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ تعظیمی کیا گیا اور قرآن مجید کی پندرہ سے زائد آیات میں یہ مضمون موجود ہے، اور سجدہ تعظیمی پر شرک کا فتویٰ لگانے کے لئے ایک بھی قطعی الدلالت آیت موجود نہیںہے، بفرض محال اگر تمام مزاروں پر بھی تمام مومن سجدہ تعظیمی کا ارتکاب کریں تو بھی ان مزارات کو شرک کے اڈے کہنا ہرگز درست نہیں ہوگا، کیونکہ سجدۂ تعظیمی منع ضرور ہے مگر شرک نہیں ہے، لہذا چاہئے یہ کہ سجدۂ تعظیمی نہ کیا جائے، البتہ غیر مقلدین کے یہاں قبروں میں نماز پڑھنا درست ہے اگرچہ بہتر نہیں(فقہ محمدی کلاں، ص۱۰۹)، مولوی مبشر احمد ربانی غیر مقلد نے اپنے موقف کی تائید میں یہاں تک تسلیم کرلیا کہ بیس سال پرانی قبر پر مسجد (سجدہ گاہ) بنانا درست ہے۔(کلمہ گو مشرک، ص۱۶۷، مطبوعہ لاہور)
حالانکہ نبی پاک ﷺکا فرمان مبارک ہے لا تصلوا الی قبرو لا تصلوا علی القبر ’’نہ قبر کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو ، نہ قبر پر نماز پڑھو‘‘(طبرانی) ،غیر مقلدوں کا بعض بے خبروں پر تو سجدہ تعظیمی کی وجہ سے شرک کا فتویٰ لگانا اور خود قبر وں پر سجدہ عبادت کرنا کتنی عجیب قسم کی توحید ہے؟
۱۶ قبور المسلمین کے انہدام کی یہ بھی ایک دلیل دی جاتی ہے کہ اُن قبروں پر لوگ مدد لینے جاتے ہیں ، اور مُردے کسی کی سنتے نہیں تو مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ اس لئے اُن سے مدد مانگنا شرک ہے اور ان قبروں کو گرادینا اُس شرک کا دروازہ بند کرنا ہے۔
اس سلسلے میںعرض ہے کہ فوت شدہ لوگوں کی روحوں کے زندہ ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہے اور نہ ہی زندہ کے سمع میں کسی کو کلام ہے، تو فوت شدہ لوگوں کی روحوں کا سننا خود بخود ثابت ہوجاتا ہے ، اگر وہ روحیں خدا داد سماعت سے محروم ہوتیں تو اُن کو خطاب و سلام وکلام نہ کیا جاتا، حالانکہ متعدد روایات میں ہے کہ اہل قبور سلام کرنے والے زائر کو جواب میں سلامتی کی دعا سے نوازتے ہیں( کنزالعمال، حدیث ۴۲۵۹۴، ۴۲۵۹۵ ، ۴۲۹۸۶) ، بلکہ حدیث میں اہل قبور کے الفاظ کو بھی نقل کیا گیا ہے کہ وہ جواباً علیک السلامکہتے ہیں(ابودائود، حدیث ۵۲۰۹، ترمذی، حدیث ۲۷۲۱)، کوئی پریشان حال اہل قبور سے سلامتی کی دعا لینے کے لئے وہاں پہنچے تو اس میں کون سا شرک ہے؟ یہی بات شاہ ولی اﷲنے انفاس العارفین ص۱۶۸ میں بطور حدیث لکھی ہے کہ جب تم کا موں میں حیران وپریشان ہو جائو تو اہل قبور سے بھی مدد لے لیا کرو، ’’شرح برزخ (اُردو)‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ روایت حضرت عبداﷲبن مسعود سے محدث ابن ابی الدنیا نے تخریج کی ہے، اور اس سلسلے کی اصل حدیث وہی ہے جس میں اہل قبور سے سلامتی کی دعا منقول ہے، کافروں اور فاسقوں سے ہر قسم کی مدد قبول کرنے والوں کو اہل قبور سے سلامتی کی دعا لینے میں اتنا مایوس نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ اہل قبور سے دعا ئے سلامتی کی اُمید احادیث مبارکہ نے ہی وابستہ فرمائی ہے، جس سے روگردانی کرنا انکار حدیث نہیں تو اور کیا ہے؟ اور یہ حدیثیں قرآن پاک کے خلاف نہیں ، کیا دیکھتے نہیں کہ اﷲتعالیٰ نے جب اپنے نبیوں سے عہد لیا کہ میرا حبیب آئے تو تم ضرور ضرور اس کی مدد کرنا(سورۃ آل عمران، آیت ۸۱) ۔ تمام غیبوں کو خوب جاننے والا رب جانتا تھا کہ جب میرا حبیب جلوہ گر ہوگا تو یہ انبیاء وفات پا چکے ہوں گے (الا ماشاء اﷲ) ، کیا وفات شدہ کو ضرور ضرور مدد کرنے کا حکم دینا مخالفین اہل سنت کی نام نہاد توحید کے کہیں منافی تو نہیں؟ اگر فوت شدہ سے مدد لینا کسی کو ناگوار گزرتا ہے تو وہ اپنی جماعت کو پانچ کی بجائے پچاس نمازیں پڑھایا کرے کیونکہ یہ فائدہ بھی ایک فوت شدہ پیغمبر کی روحانی مدد سے پہنچا ہے ، اگرچہ منکرین استمداد کو ناگوار گزرے۔ صاحب قبر سے فائدے کی اُمید کے ساتھ ساتھ نقصان پہنچنے کا خوف بھی حدیث میں ملتا ہے،چنانچہ حضرت عمارہ بن حزم کو نبی پاک ﷺنے فرمایا ’’او قبر پر بیٹھنے والے قبر سے نیچے اُتر آ ‘‘ لا توذی صاحب القبر ولا یوذیک (طبرانی، حاکم )یعنی نہ تو قبر والے کو ایذا دے اور نہ وہ تجھے ایذا دے۔جاہلوں کو جس طرح افراط سے روکا جاتا ہے اسی طرح تفریط وایذا سے بھی روکنا چاہئے۔ اس کام کے لئے محبوبان حق کی قبروں پر پہچان کے لئے کتبہ ہو یا روضہ یا غلاف ہو تو جاہل ایذا رسانی سے باز رہیں گے اور جوابی ایذا ( جوظاہری یا مخفی ہو سکتی ہے) سے بھی محفوظ رہیں گے۔ کاملین کی روحوں سے نفع کی اُمید اور نقصان کا خوف ثابت ہے ، اس لئے اُن کی روحوں سے مدد لینا درست عقیدے کے ساتھ درست ہے۔
پتہ نہیں یہ نام نہاد موحد نواب صدیق حسن بھوپالی کو مشرک کیوں نہیں کہتے، حالانکہ اُس نے بھی تو اپنے مردہ مولویوں سے مدد مانگی ہے : ع ابن قیم مددے قاضی شوکاں مددے (ہدیۃ المہدی، از نواب وحید الزماں غیر مقلد) وما علینا الا البلاغ المبین والحمد ﷲرب العالمین