بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی ونسلم علیٰ حبیبہ الکریم
اما بعد
یہ رسالہ ’’عرس کا ثبوت‘‘ دیو بندیوں کے مندرجہ ذیل اقوال کے رَد میں لکھا گیا ہے۔
(۱) مولوی رشید احمد گنگوہی نے لکھا کہ ’’ معینہ عرس کا طریقہ سنّت کے خلاف ہے ۔فلہٰذا بدعت ہے ۔‘‘ (فتاویٰ رشیدیہ ص۱۱۲ ج ۳)
(۲) اسی گنگوہی نے دوسری جگہ ایک سوال کے جواب میں لکھا کہ’’کسی عرس و مولود میں شریک ہونا درست نہیں اور کوئی عرس و مولود (میلاد) درست نہیں۔(فتاویٰ رشیدیہ ص۱۱۲ ج ۳)
اہلسنّت کا مؤقف
اہلسنّت کے نزدیک بزرگانِ دین یعنی اولیاء اللہ کے اعراس جائز اور صدہا فیوض و برکات کے حصول کا موجب ہے اگرچہ یہ طریقہ بدعت ہے لیکن ہر بدعت کا سنّت کے خلاف کہہ کر ناجائز کہدینا یہ وہابیوں دیوبندیوں کا کام ہے ورنہ وہ بدعت ناجائز اور حرام ہے جو صراحۃً قرآن و حدیث کی مخالف ہواگر بدعت قرآن و حدیث کے مضامین کے موافق یا ان سے اس کا اشارہ و کنایہ مل جائے تو وہ بدعتِ حسنہ کہلاتی ہیں اس قاعدہ پر ہزاروں مسائل و احکام اسلام میں موجود ہیں فقیر نے اس کی تفصیل المعمۃ عن البدعۃ میں عرض کردی ہے یہاں عرس شریف کے لئے بھی یہی قاعدہ ہے کہ یہ کسی آیت و حدیث کے مخالف نہیں بلکہ قرآن و احادیث کے مضامین کے عین مطابق ہے تفصیل آگے چل کر عرض کروں گاقرآن مجید میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا
وَسَلَامُ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ یُبْعَثُ حَیًّا (سورہ مریم پ ۱۶ ع ا)
یحییٰ علیہ السلام کے لئے سلامتی ہے جس دن پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ اٹھایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا
وَالسَّلَامُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْم اُبْعَثُ حَیًّا (سورہ مریم پ ۱۶ ع ۲)
مجھ پر سلامتی ہے جس دن پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں ۔
فائدہ
ان آیات میں بوقت وفات کو سلامتی کے ساتھ ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ یومِ وفات انبیاء و اولیاء بعد والوں کے لئے یادگار ہے اسی یاد گار کا دوسرا نام عرس ہے اس کے لئے ایک مقدمہ ملاحظہ ہو۔
مقدمہ
عرس کا لغوی معنی ہے شادی اسی لئے عربی میں دولہا اور دلہن کوعروس کہا جاتا ہے اور اصطلاحِ مشائخ میں اولیاء علماء وبزرگوں کے یومِ وفات کو عرس کہتے ہیں۔اس لئے کہ یہ دن اس کا محبوب کے ملنے کی یوم ہے اور حدیثِ پاک میں بھی اس کو ایسے وصال پر عروس کے تعبیر کیا گیا ہے چنانچہ مشکوٰۃ شریف میں ہے کہ جب نکیرین کے سوالات میں بندۂ خدا کامیاب ہوجاتا ہے تو اسے فرشتے کہتے ہیں
نَمْ کَنَوْمَۃِ الْعُرُوْسِ الَّتِیْ لَا یُوْقِظُہٗ اِلَّا حُبِّ اَہْلِہٖ
تو اسی دلہن کی طرح سو جا جسے سوائے اس کے پیارے کے اور کوئی نہ بیدار کرے گا۔
چونکہ اللہ والوں کا یومِ وصال ان کے لئے دلہن بننے کا دن ہوتا ہے ۔ اس لئے اس دن کو یوم العروس یعنی شادی کا دن کہتے ہیں ۔ مشائخِ کرام کا معمول ہے کہ خاص اس دن اولیاء اللہ کی قبروں پر بصورتِ اجتماع حاضر ہوتے ہیں جہاں تلاوتِ قرآنِ مجید یا وظائف و اذکار پڑھ کر اور صدقات و خیرات کرکے ان کی ارواح کو ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے گویا شریعتِ مطہرہ کے چند اُمور کے مجموعہ کا نام عرس ہے ۔
(۱) ولی اللہ کے یومِ وفات کو عرس کہنا ۔(۲)سال کے بعد یومِ معین کی مزار پر حاضری ۔(۳) مزار کی زیارت کے لئے سفر کرنا۔(۴) بصورتِ اجتماع حاضر ہوکر قرآن خوانی ،محافلِ ذکر و عظ وغیرہ۔(۵) خیرات و صدقات کے طور ایصالِ ثواب وغیرہ وغیرہ ۔وہابیہ سے کون پوچھے کہ جب یہ اُمورفرداً فرداً شرعاً جائز ہیں تو مجموعہ حرام کیوں ۔صرف اس لئے کہ تم کہتے ہو اب تو وہابی دیوبندی اپنے بڑوں کے عرس کرنے لگ گئے ہیں اگرچہ نام دیا کہ اسے یوم ولادت کہہ کر سال بعد اپنے مردہ کی یاد مناتے ہیں فقیر عرس کے اجزاء کے متعلق عرض کرتا ہے ۔
عرس نام کیوں؟
(۱) شریعت کا قانون ہے کہ کسی حکم اور مسئلہ شرعیہ کے نام کی تبدیلی سے کام نہیں بگڑتا اسے بحثِ بدعت میں فقیر نے تفصیل سے لکھا ہے دوسرا یہ کہ علماء و محدثین اور فقہاء مفسرین کی عادت ہے کہ کسی معاملہ یا لفظ کی مناسبت سے نام رکھ دیا جاتا ہے ۔بخاری شریف ابواب کے تراجم اس معنی میں مشہور ہیں اسی لئے محدثین نے امام بخاری کے تراجم ابواب کو اہمیت بخشی ہے بلکہ اس پر مستقل تصانیف مرتب فرمائی ہیں اس قاعدہ پر اولیاء اللہ کے یوم وصال احادیث مبارکہ کے لفظ عروس سے عرس لیا گیا ہے اور وہ احادیث مبارکہ کتبِ احادیث میں مشہور ہیں ان میں ایک روایت مقدمہ میں عرض کی گئی ہے ۔
(۲) ولی اللہ کا یومِ وفات خود ولی ٔ کامل کے لئے ہزاروں شادیوں کا مجموعہ ہے کہ وہ دارالمصائب والتکالیف سے نجات پاکر دارالسرور کو پہنچا ہے اس قسم کی روایات بے شمار ہیں کتبِ احادیث میں دیکھی جاسکتی ہیں نمونہ ملاحظہ ہو۔
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ ا المیت تحضرہ الملائکہ فاذا کان الرجل صالحاً قالوااخرجی ایتھاالنفس المطمئنۃ کانت فی الجسدالطیب اخرجی حمیدہ لابشری بروح و ریحان (۱)۔ورب غیرغضبان ولا تزال یقال لھا ذلک حتی تخرج ثم تخرج بھا الی السماء فیفتح لھا فیقال من ھذا فیقولون فلان فیقال مرحباًبالنفس الطیبۃ کانت فی الجسدالطیب ادخلی حمیدۃ والبشری بروح وریحان ورب غیر غضبان فلاتزال یقال لھا ذلک حتی تنتہی الی السماء التی فیھااللہ۔(الحدیث) رواہ ابن ماجہ۔ (۲)۔قال حماد ویقول اہل السماء روح طیبۃ جائت من قبل الارض صلی اللہ علیک وعلیٰ جسد کنت فیہ تعمرینہ فینطلق بہ الی رب ثم یقول انطلقی ای آخرالاجل۔(الحدیث رواہ مسلم )
(۱)رسول اللہانے فرمایا کہ میت کے ہاں ملائکہ آتے ہیں اگر وہ نیک ہے تو اسے کہتے ہیں اے وہ نفسِ مطمئنہ جو پاک جسم میں تھی حمد کی ہوئی اور راحت و ریحان کے ساتھ جسم سے نکل تیرا رب تجھ پر ناراض نہیں اسی طرح اسے بار بار کہا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں تو اُس کے لئے دروازے کھلتے ہیں پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے۔ فرشتے کہتے ہیں یہ فلاں ہے اُسے خوش آمدید کہا جاتا ہے کہ یہ روح پاک جسم میں تھی داخل ہو حمد کی ہوئی اور راحت و ریحان کے ساتھ خوش ہو تیرا رب تجھ پر ناراض نہیں اسی طرح کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہاں پہنچتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ ہے یعنی اس کا حکم جاری ہوتا ہے ۔
(۲)حماد نے فریایا کہ اس میت کو اہل آسماں کہتے ہیں کہ یہ پاک روح زمین سے آئی ہے اللہ تجھ پر رحم فرمائے اور اس جسم پر بھی جس میں تھی جس کی تو تعمیر کرتی رہی پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے روح چل اپنے آخری اجل کی طرف‘‘۔
فائدہ
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا’’اَیُّ اِلَی الْمَکَانِالَّذِیْ اُعِدَّ لَہٗ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘‘(لمعات)
یعنی اس آرام گاہ کی طرف جو اس کے لئے تا قیامت تیار رکھی گئی ہے ۔
(۳) اذا احضر المؤمن اتت ملائکہ الرحمۃ بحریرۃ بیضاء فیقولون اخرجی راضیۃ مرضیا عنک الی روح اللہ و ریحان و رب غیر غضبان فتخرج کالطیب ریح المسک حتی انہ یتناولہ بعضھم بعضاحتی یاْتوا بہ ابواب السماء فیقولون اطیب ھذاالریح التی جاء تکم من الارض(الحدیث) (احمد و نسائی)
فائدہ
(شارحین فرماتے ہیں’’ ای یتداولون تعظیماً وتبرکاً ‘‘)
(۴) قال علیہ السلام ان العبدالمؤمن اذا کان فی انقطاع من الدنیا واقبال من الاخرۃ نزل الیہ ملائکۃ من السماء و بیض الوجوہ کان وجوھھم الشمس معمھم کفن من اکفان الجنۃ وحنوط من حنوط الجنۃ حتی یلبسوا منہ مدّ البصر ثم یجی ملک الموت ۔۔۔۔۔۔۔۔فیاخذھا فاذا اخذہا لم یدعوہا فی یدہ طرفۃ عین۔ (۵) اذا خرج روحہ صلی علیہ کل ملک بین السماء والارض وکل ملک فی السماء وفتحت لہ ابواب السماء لیس من اہل باب الادھم یدعون اللہ ان یعرج بروحہ من قبلھم (احمد)
٭ جب مؤمن پر موت حاضر ہوتی ہے تو اس کے پاس رحمت کے فرشتے سفید ریشمی لباس لاتے ہیں اور کہتے ہیں خوش ہوکر چل تجھ سے تیرا رب راضی ہے اور رحمت اور ریحان کی طرف روانہ ہو تیرا رب تجھ سے ناراض نہیں وہ روح مشک جیسی خوشبو سے جسم سے نکلتی ہے پھر فرشتے اسے ہاتھوں ہاتھ لے کر آسمانوں کے دروازوں کی طرف جاتے ہیں اور کہتے ہیں کیسی خوشبو ناک روح زمین سے تمہاری طرف آئی ہے۔ (شارحین فرماتے ہیںیعنی فرشتے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اس کی تعظیم سے اور اسے متبرک سمجھ کر۔)
٭ حضور انے فرمایا کہ جب بندے کا دنیا سے رخصت اور آخرت کی طرف جانے کا وقت آتا ہے تو آسمان سے سفید چہروں والے کہ سورج جیسے روشن ہوتے ہیں نازل ہوتے ہیں ان کے پاس جنت کے کفن اور لوبان جنتی ہوتے ہیں وہ میت کے پاس بیٹھتے ہیں جہاں تک نگاہ پڑتی ہے فرشتے ہی فرشتے ہوتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کی روح نکالتا ہے لیکن وہ فرشتے ملک الموت کے ہاں پل بھر نہیں چھوڑتے بلکہ ہاتھوں ہاتھ لے لیتے ہیں ۔
٭ جب بندے کی روح نکل جاتی ہے تو اس پر زمین و آسمان کے درمیان والے اور تمام آسمانوں والے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ہر آسمان کے ہر دروازہ سے آواز آتی ہے یارب اسے ہماری طرف سے گذار تاکہ ہم اس کی زیارت سے سرشار ہوں۔
شادیٔ دیدارِ مصطفی
حقیقت یہ ہے کہ اُمتی کے لئے اس سے سے بڑھ کر اور کون سا بڑا خوشی کا دن ہوگا کہ آج کے دن قبر میں آقا ا کی زیارت نصیب ہوگی اسی لئے حضرت بلال ص بوقتِ وفات کہتے تھے ’’انا القی محمداً وحبتہ‘‘ میں محمد ا اور آپ ا کے دوستوں سے ملوں گا ۔
فائدہ
اس سے ثابت ہوا کہ اولیاء کرام کے لئے ان کی وفات پر خوشی کا دن ہے سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں آج حضور سرورِ انبیاء علیہم السلام کا قبر میں شرفِ زیارت نصیب ہوگا ۔چونکہ انہیں دنیا کی تکلیفوں سے نجات ملی اور آخرت کے انعامات نصیب ہوتے ہیں اور حضور سرورِ عالم اکی زیارت سے سرشار ہوتے ہیں اسی لئے ان کے اس یوم کا نام عرس کہلایا۔
باب ۱
دراصل یہ ہے تو وہی ایصالِ ثواب جس کی حقیقت قرآن و احادیث میں مفصل مذکور ہے صرف ولی اللہ سے خصوصیت کے طور اس کا نام عرس مشہور ہوگیا اور ہمارے عُرف میں عرس سے بھی مراد یہی ہے کہ کسی بزرگ کی وفات کے دن قرآن شریف پڑھ کر یا طعام و شیرینی تقسیم کرکے اس کا ثواب اُس بزرگ کی روح کو بخشا جائے ۔یہ جائز بلکہ مستحسن ہے ۔چنانچہ شیخ عبد الحق دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ماثبت بالسنہ میں اس کو مستحسنات متا خرین سے شمار کیا ہے ۔حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی ص اور دیگر اکابرسے بھی عرس ثابت ہے ۔
احادیث
(۱) شامی جلد اول باب زیارت القبور میں ہے
رَوَیٰ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَہْ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَاْتِیْ قُبُوْرَالشُّھَدَائِ بِاُحُدٍ عَلیٰ رَاْسِ کُلِّ حَوْلِ
ابن ابی شیبہ نے روایت کیا کہ حضوراہر سال شہدائے اُحُد کی قبروں پر تشریف لے جاتے تھے۔ (۲)تفسیر کبیر اور تفسیر دُرِّ منثور میں ہے
عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنَّہٗ کَانَ یَاْتِیْ قُبُوْرُالشُّھَدَائِ عَلیٰ رَاسِ کُلِّ حَوْلِ فَیَقُوْلُ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَ الدَّارِ وَالخُلَفَاء لَارْبَعَۃُ ھٰکَذَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ
حضوراسے ثابت ہے کہ آپ اہر سال شہداء کی قبروں پر تشریف لے جاتے اور ان کو سلام فرماتے تھے اور چاروں خلفاء رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
عبارات اسلاف رحمہم اللہ
شاہ عبد العزیز صاحب فتاویٰ عزیزیہ ص ۴۵ میں فرماتے ہیں کہ
دوم آنکہ بہئیت اجتماعیہ مردمان کثیر جمع شوند و ختم کلام اللہ فاتحہ بر شیرینی و طعام نمودہ تقسیم درمیان حاضران کنند ایں قسم مامول در زمانہ پیغمبر خدا و خلفائے راشدین بہ بود اگر کسے ایں طور کند باک نیست بلکہ فائدہ احیاء اموات را حاصل مے شود
ترجمہ :
دوسرے یہ کہ بہت سے لوگ جمع ہوں اور ختم قرآن کریں اور کھانے شیرینی پر فاتحہ کرکے حاضرین میں تقسیم کریں یہ قسم حضور علیہ السلام اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانے میں مروج نہ تھی ۔ لیکن اگر کوئی کرے تو حرج نہیں بلکہ زندوں سے مردوں کو فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔
(۲) زبدۃ النصائح فی مسائل الذبائح میں شاہ عبدالعزیز صاحب اور مولوی عبدالحکیم صاحب سیالکوٹی علیہما الرحمۃ والرضوان کوجواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں
ایںطعن مبنی است پر جہل بہ احوال مطعون علیہ زیرا کہ غیر از فرائض شرعیہ مقررہ راہیچ کس فرض نمی داندآرے تبرک بقبور صالحین و امداد ایشاں بایصال ثواب تلاوت قرآن و دعائے خیر و تقسیم طعام و شیرینی امر مستحسن و خوب است باجماع علماء وتعیین روز عرس برائے آں است کہ آن روز مذکر انتقال ایشاں مے باشد ازدارالعمل بدار الثواب و الّا ہر روز کہ ایں عمل واقع شود موجب فلاح و نجات است ۔
ترجمہ :
یہ طعن لوگوں کے حالات سے خبردار نہ ہونے کی وجہ سے ہے کوئی شخص بھی شریعت کے مقرر کردہ فرائض کے سوا غیر کو فرض نہیں جانتا ہاں صالحین کی قبروں سے برکت لینا اور ایصال ثواب اور تلاوتِ قرآن اور تقسیم شیرینی و طعام سے ان کی مدد کرنا اجماع علماء سے اچھا ہے عرس کا دن اس لئے مقرر ہے کہ وہ اُن کی وفات کو یاد دلاتا ہے ورنہ جس دن میں کیا جائے اچھا ہے۔
(۴) مشائخ اہلسنّت اور دیوبند یوں کے مرشد حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی مکتوب ۱۸۲ میں مولانا جلال الدین کو لکھتے ہیں
اعراس پیراں بر سنّت پیراں بسماع و صفائی جاری دارند پیروں کا عرس پیروں کے طریقے سے صفائی دل کے ساتھ جاری رکھیں۔
دیوبندیوں کے پیرانِ پیر
بالخصوص مولوی رشید احمد ،و اشرف علی صاحبان کے پیر حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃاللہ علیہ اپنے فیصلہ ہفت مسئلہ میں عرس کے جواز پر بہت زور دیتے ہیں خود اپنا عمل یوں بیان فرماتے ہیں ’’فقیر کا مشرب اس امر میں یہ ہے کہ ہر سال اپنے پیرو مرشد کی روح مبارک پر ایصال ثواب کرتا ہوں اول قرآن خوانی ہوتی ہے اور گاہ گاہ اگر وقت میںوسعت ہو تو مولود پڑھا جاتا ہے پھر ماحضر کھانا کھلایاجاتاہے ۔
دیوبندیوں کے گھر میں عرس
مولوی رشید احمد صاحب بھی اصل عرس کو جائز مانتے ہیں چنانچہ فتاویٰ رشیدیہ جلد اول کتاب البدعات صفحہ ۹۲ میں فرماتے ہیں’’بہت اشیاء ہیں کہ اول مباح تھیں پھر کسی وقت منع ہوگئیں ۔مجلس عرس و مولود بھی ایسا ہی ہے اہل عرب سے معلوم ہوا کہ عرب شریف کے لوگ حضرت سید احمد بدوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا عرس بہت دھوم دھام سے کرتے ہیںاور علمائے مدینہ منورہ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عرس کرتے رہے جن کا مزارِ مقدس ا ُحُد پہاڑ پر ہے غرضکہ دنیا بھر کے مسلمان خصوصاً اہل مدینہ عرس پر کاربند ہیں اور جس کو مسلمان اچھا جانیں وہ عند اللہ بھی اچھاہے ‘‘عقل بھی چاہتی ہے کہ عرس بزرگان عمدہ چیز ہے ۔
(۵) شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نسبت اُویسیہ کے بیان میں یوں لکھتے ہیں۔
وصاحب ایں نسبت را لابدبہ نسبت آں اروح محبت و عشق حاصل شود۔ و فنا فی الشیخ دست دہد۔وایں سرّ درجمیع احوال وے داخل شود دررنگ آنکہ آب دربیخ نہالے میریزند و تازگی آں در ہر شاخ و برگ و گل و میوہ سرایت میکند۔ ودرہر کسے حالے دیگر و واقعہ دیگر ظاہر شود ۔ازینجاست حفظ اعراس مشائخ و مواظبت زیارت قبور ایشان والتزام فاتحہ خواندن و صدقہ دادن برائے ایشاں واعتنائے تمام کردن بہ تعظیم آثار واولادمنتسبان ایشان۔(ہمعات مطبوعہ اسلامی پریس تحفہ محمدیہ صفحہ ۲۴)
ترجمہ :
اُویسیہ کی نسبت کے لئے ضروری ہے کہ ارواح اولیاء سے محبت و عشق پیدا ہوتا ہے اسی سے فنافی الشیخ کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے پھر شیخ کے اطوار اس کے تمام احوال میں داخل ہوجاتے ہیں۔جیسے درخت کی جڑ میں پانی ڈالا جائے تو اس کا اثر و تازگی ہر ٹہنی اور ہر پتے اور گل اور میوہ میں سرایت کرتا ہے اس شخص میں حال و واقعہ دیگر ظاہر ہوتا ہے اسی راز کے تحت اعراس مشائخ کی حفاظت کی جاتی ہے اور ان کے مزارات کی زیارات پر مداوت اور ان کے لئے فاتحہ اور صدقہ دیا جاتا ہے اور ان کے آ ثار و اولاداور منسوبین کی تعظیم و تکریم کی جاتی ہے ۔
فائدہ
اس عبارت میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عرس کی غرض و غایت اور فوائد وغیرہ سب کچھ بیان کردیا ہے بلکہ فرمایا سلسلہ اُویسیہ کے رنگ میں فیضیابی کا بہترین طریقہ عرس ہے۔
(۶) حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فریایا
حضرت امیر وذریت طاہرہ اور اتمام امّت درمثال پیراں و مرشدان می پرستند امور تکوینیہ را بایشاں وابستہ می دانند و فاتحہ و درود و صدقات و نذر و نیاز ومنت بنام ایشاں رائج و معمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء اللہ ہمیں معا ملہ است ونام شیخین رادریں مقدمات کسی برزبان نمی آرد و فاتحہ و درود و نذرومنت و عرس و مجلس کسے شریک نمی کنند ۔ (تحفہ اثناء عشریہ مطبوعہ فخر المطابع صفحہ ۲۲۸)
حضرت علیص اور ان کی اولادِطاہرہ کو تمام امت پیروں اور مرشدوں کی طرح مانتی ہے اور امور ِتکوینیہ کو ان سے وابستہ جانتی ہے اور فاتحہ اور درود اور صدقات اور نذر و نیاز اور منّت ان کی رائج ومعمول ہے جیسا کہ تما م اولیاء سے یہی معاملہ ہے اور شیخین کا ان میں کوئی زبان پر نام بھی نہیں لاتا اور فاتحہ اور درود اور نذر و منّت اور عرس و مجلس میں شریک نہیں کرتا ۔
(۷) مخالفین کے مسلم پیشوا اور امام مولوی اسمعیل دہلوی صراط مستقیم میں لکتھے ہیں
پس در خوبی اینقدر امر ازامور مرسومہ فاتحہا اور اعراس ونذرو نیاز اوموات شک و شبہ نیست۔
ترجمہ :
پس ان امور فاتحہ ،عرس،نذر ونیاز کی خوبی میں شک وشبہ نہیں ہے۔
(۸) خود مانعین کے مسلّم فتاویٰ دیوبند میں ہے :۔
کوئی شخص کسی کے مزار پر بلا تعین تاریخ و بلا اہتمامِ خاص کے اگر ہمیشہ سالانہ بھی بلایا کرتے تو کوئی مضائقہ نہیں بلکہ مستحب ہے ۔(از فتاویٰ دیوبند صفحہ ۱۳ جلد ۲)
خلاصہ
عرس کے جائز بلکہ مستحب و مستحسن ہونے پر کافی دلائل موجود ہیں ۔جن سے اہل سنّت کے مسلک کی تائید ہوتی ہے۔ اور مخالفین کے پیشواؤں نے بھی اس کے جواز و استحباب کا اعتراف کرلیا تو وہابی دیوبندی فرقوں کا اسے ناجائز وبدعت کہنا سراسر غلط وباطل ہے۔
گیارہویں شریف
یہی حال گیارہویں شریف کا ہے کہ وہ بھی ایصالِ ثواب ہے جو حضور غوث اعظمص کے نام نذرانہ پیش کیا جاتا ہے صرف حضور غوث اعظم ص سے عقیدت کی بنا پر اس ایصالِ ثواب کا گیارہویں شریف نام ہوگیا ہے ورنہ یہ کوئی نئی چیز نہیں جس پر دلائل پیش کئے جائیں جو دلائل عرس کے ہیں وہی گیارہویں کے ہیں کہ نام کے بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی ۔
بلکہ حضور غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی ص کے عرس کا نام گیارہویں شریف عرف عوام میں مشہور ہوگیا ہے ۔اس کی اصل اس طرح ہے کہ حضرت محقق شیخ عبدالحق دہلوی صنے ماثبت من السنّۃ صفحہ ۱۷۳ میں تحریر فرمایا ۔
قلت فبھٰذاالروایۃ یکون عرس تاسع ربیع الاخروھذاھوالذی ادرکنا علیہ سیدنا شیخ الامام العارف الکامل الشیخ عبدالوہاب القادری المکی فانہ قدس سرہ کان یحافظ فی یوم عرسہ ھذا التاریخ اما اعتماد ھذہ الروایۃ او علی مارای من شیخہ علی اعلے المتقی ومن غیرہ من المشائخ وقد اشتھر فی دیارنا ھذا الیوم الحادی عشر وھو المتعارف عند مشائخنا من اہل الہند من اولادہ۔
میں کہتا ہوں کہ یوم وفات ۹ربیع الاخر کی روایت سے عرس ۹ ربیع الاخر کو ہونا چاہیے ۔یہ وہ ہے جس پر ہم نے امام عارف شیخ عبدالوہاب قادری مکی کو پایا کہ وہ یوم عرس اسی تاریخ کو قرار دیتے اس روایت کے اعتماد پر یا اپنے شیخ علی متقی وغیرہ کا عمل دیکھ کر اور ہمارے ہندوستان میں یوم عرس ۱۱ ربیع الاخر مشہور ہوگیا ہے اور اہل ہند کے مشائخ میں یہی تاریخ متعارف ہے۔
عرس کے فائدے
(۱)جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صنے فرمایا کہ نسبتِ اُویسیہ نصیب ہوتی ہے مزارات کی حاضری سے بزرگوں کے ساتھ عقیدت و انس میں اضافہ ہوتا ہے اس سے ان کے فیوضات و برکات حاصل ہوتے ہیں بسا اوقات صاحبِ مزار کی توجۂ خاص سے دینی دُنیوی امور آسانی سے حل ہوتے ہیں یہاں تک بعض خوش بختوں کو ولایت کی منازل بھی طے ہوجاتی ہیں جیسے ابوالحسن خرقانیص کو سیدنا بایزید بسطامی صکے مزار سے ولایت کاملہ نصیب ہوئی۔
(۲) اہل قبور آنے جانے والوں کو پہچانتی ہیں اور ان کے آنے سے خوش ہوتے ہیں جو ان کیلئے دعا و استغفار یا قرآن خوانی وغیرہ اور صدقہ و خیرات کرے تو اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔چند حکایات ملاحظہ ہوں۔
(۱) حضرت بشار بن غالب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہاکے لئے بکثرت دعائیں کرتا تھا ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ کچھ کہہ رہی ہیں کہ اے بشار بن غالب تمہاری دعائیں ہدیہ کی شکل میں نور کے تھالوں میں ریشمی رومال سے چھپا کر ہمارے پاس آیا کرتی ہیں میں نے کہا وہ کیسے انہوں نے فرمایا کہ یاد رکھو کہ زندوں کی دعائیں اموات کے لئے مقبول ہوکر نور کے طباق میں رکھ کر ریشمی کپڑے میں ستر پوش سے چھپاکر مُردوں کے پاس لائی جاتی ہیںاور لانے والا فرشتہ کہتا ہے کہ یہ فلاں شخص کا ہدیہ ہے جو اس نے تمہارے پاس بھیجا ہے اور رسول اللہ اکا ارشاد ہے کہ قبر میں میت کی مثال کہ جیسے ڈوبنے والا فریاد کرنے والاآدمی ہر وقت قبر میں مُردوں کو انتظار رہتا ہے کہ اس کے باپ یا بیٹوں یا بھائیوں یا دوستوں کی طرف سے دعاؤں اور ایصالِ ثواب (فاتحہ) کا کوئی ہدیہ اس کے پاس آئے گا اور جب ہدیہ آجاتا ہے تو اس کو دنیا بھر کی نعمت پا جانے سے بڑھ کر خوشی حاصل ہوتی ہے۔(احیاء العلوم صفحہ ۴۱۷)
(۲) ایک صالحہ خاتون جسے باہتیہ کہتے تھے ۔بڑی کثرت سے عبادت کرنے والی تھی ۔جب اس کا انتقال ہونے لگا تو اس نے اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھایا اور کہا اے اللہ مجھے مرتے وقت رسوا نہ کرنا اور قبر میں مجھے وحشت میں نہ رکھنا ۔جب وہ انتقال کرگئی تو اس کا لڑکا ہر جمعہ کو ماں کی قبر پر جاتا اور قرآن شریف پڑھ کر اس کا ثواب بخشتا اور اس کے لئے اور تمام قبرستان والوں کے لئے دعا کرتا ۔ایک دن اس لڑکے نے اپنی ماں کو خواب میں دیکھا اور پوچھا اماں آپ کا کیا حال ہے ؟ ماں نے جواب دیا،موت کی سختی بڑی تلخ چیز ہے ۔میں اللہ کی رحمت سے قبر میں بڑی راحت سے ہوں ۔قیامت تک یہی برتاؤ میرے ساتھ رہے گا۔بیٹے نے پوچھا کہ کوئی خدمت میرے لائق ہوتو فرمائیے۔ماں نے کہا تو ہر جمعہ کو میرے پاس آکر قرآن پاک پڑھتا ہے ،اس کو نہ چھوڑنا ،جب تو آتا ہے تو سارے قبرستان والے خوش ہوکر مجھے خوشخبری دینے آتے ہیں کہ تیرا بیٹا آگیا۔مجھے بھی تیرے آنے سے بڑی خوشی ہوتی ہے اور اُن سب کو بھی بہت خوشی ہوتی ہے ،وہ لڑکا کہتا ہے کہ میں اسی طرح ہر جمعہ کو اہتمام کے ساتھ جاتا تھا ۔ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ مردوں اور عورتوں کا بہت بڑا مجمع میرے پاس آیا ،میںنے پوچھا تم کون لوگ ہو ،کیوں آئے ہو؟وہ کہنے لگے ہم فلاں قبرستان کے لوگ ہیں ،ہم تمہارا شکریہ اد اکرنے آئے ہیں تم ہر جمعہ کو ہمارے پاس آتے ہو اور ہمارے لئے دعائے مغفرت کرتے ہو ،اس کو جاری رکھنا۔(روض الریاحین)
(۳)ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میںنے خواب میںدیکھاکہ ایک قبرستا n کی سب قبریں ایک دم پھٹ گئیں اور مُردے اس میں سے باہر نکل کر زمین پر سے جلدی جلدی کوئی چیز چُن رہے ہیں ،لیکن ایک شخص فارغ بیٹھا ہے ،وہ کچھ نہیں چنتا ۔میں نے اس کے پاس جاکر سلام کیا اور اس سے پوچھا کہ یہ لوگ کیاچن رہے ہیں اس نے کہاجو لوگ کچھ صدقہ ،دعا، تلاوت،نفل،درود وغیرہ کرکے اُس قبرستان والوں کو بھیجتے ہیں ،اس کی برکات سمیٹ رہے ہیں ۔میں نے کہا تم کیوں نہیں چنتے؟ اس نے کہا مجھے اس وجہ سے استغنا ہے کہ میرا ایک لڑکا جو فلاں بازا ر میں زلابیہ (حلوے کی ایک قسم ہے جو منہ سے چپک جاتی ہے)بیچتا ہے ۔ وہ روزانہ مجھے ایک قرآن شریف پڑھ کر بخشتا ہے ۔میں صبح اٹھ کر اُسی بازار میں گیا ۔میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ زلابیہ فروخت کررہا ہے اور اس کے ہونٹ ہل رہے ہیں ۔میں نے پوچھا تم کیا پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا میں روزانہ ایک قرآن پاک ختم کرکے اپنے والد کو ہدیہ پیش کرتا ہوں ۔اس قصّے کے ایک عرصے بعد میں نے پھر ایک مرتبہ اس قبرستان کے آدمیوں کو اسی طرح چنتے ہوئے دیکھا اور اس مرتبہ اُس شخص کو بھی چنتے دیکھاجس سے پہلی مرتبہ بات ہوئی تھی۔پھر میری آنکھ کھل گئی مجھے اس پر تعجب تھا صبح اٹھ کر اسی بازار میں گیا ۔تحقیق سے معلوم ہو ا کہ اس لڑکے کا انتقال ہوگیا ہے ۔(روض الریاحین)
(۴) حضرت صالح مری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ جمعہ کی شب میں اخیر رات میں جامع مسجد جارہا تھا کہ صبح کی نماز وہاں پڑھوں ،صبح میں دیر تھی ،راستے میں ایک قبرستان تھا ،وہاں ایک قبر کے قریب بیٹھ گیا ،بیٹھتے ہی میری آنکھ لگ گئی ،میں نے خواب میں دیکھا کہ سب قبریں پھٹ گئیں اور ان میںسے سب مردے نکل کر آپس میں ہنسی خوشی باتیں کررہے ہیں۔ان میں سے ایک نوجوان بھی نکلا جس کے کپڑے میلے تھے وہ مغموم سا ایک طرف بیٹھ گیا ۔تھوڑی دیر میں آسمان سے بہت سے فرشتے اترے جن کے ہاتھوں میں تھال تھے جن پر نور کے رومال سے تھے ۔فرشتے ہر مرُدے کو ایک تھال دیتے تھے جو مردہ لے لیتا تھا وہ اپنی قبر میں چلا جاتا تھا جب سب لے چکے تو یہ نوجوان بھی خالی ہاتھ اپنی قبر میں جانے لگا میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے تم اس قدر غمگین کیوں ہو اور یہ تھال کیسے تھے؟ اس نے کہا یہ اس صدقہ اور دعا کے تھے جو زندہ لوگ اپنے اپنے مرُدوں کو بھیجتے ہیں ،میرا کوئی اور تو ہے نہیں جو بھیجے ۔ایک بھائی ہے مگر وہ دنیا میں پھنس رہا ہے ۔مجھے کبھی بھی یاد نہیںکرتا میں نے اس سے اس کے بھائی کا پتہ پوچھا اور صبح کو اس پتہ پر جاکر اس لڑکے کا پوچھا اور یہ خواب اسے سنایا ۔اس نے کہا بے شک وہ میرا بھائی تھا۔پھراس نے مجھے ایک ہزار درہم دئیے کہ میرے بھائی کے لئے صدقہ کردینا اور میں آئندہ اس کو دعا اور صدقہ سے یاد کروں گا ،کبھی نہ بھولوں گا ۔حضرت صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں میں نے پھر خواب میں اس مجمع کو اسی طرح دیکھا اور اس نوجوان کو بھی بڑی اچھی پوشاک میں بہت خوش دیکھا وہ میری طرف دوڑا ہوا آیا اور کہنے لگا صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حق تعالیٰ شانہ آپ کو جزائے خیرعطا فرمائے ۔آپ کا ہدیہ میرے پاس پہنچ گیا۔(روض الریاحین)
فائدہ
یہ تو ہوا عام اہل اموات کا حال ۔اولیا اللہ جبکہ مزارات میںخوشحال اور ہر غم و حزن سے مامون و محفوظ ہیں ان کے ہاں حاضری سے کتنے فوائد مرتب ہوں گے اور وہ صدقہ و خیرات اور استغفار ودعا اور قرآن خوانی سے خوش ہوکر زائرین کو کتنا نوازتے ہونگے۔
(۳)حضرت مفتی احمد یار خان صاحب نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیںکہ’’عقل بھی چاہتی ہے کہ عرسِ بزرگان عمدہ چیز ہو (اولاً) تو اس لئے کہ عرس زیارتِ قبور اور صدقہ و خیرات کا مجموعہ ہے ۔زیارتِ قبور بھی سنّت اور صدقہ بھی سنّت تو دو سنّتوں کا مجموعہ حرام کیونکر ہوگیا مشکوٰۃ باب زیارت القبور میں ہے کہ حضورا نے فرمایا ہ ہم نے تم کو زیارتِ قبور سے منع فرمایا تھا ’’الا فزوروا‘‘اب زیارت کیا کرو۔اس سے ہر طرح کی زیارتِ قبور کا جواز معلوم ہوا خواہ روزانہ ہو یا سال کے بعد ،خواہ تنہا زیارت کے لئے جائے یا کہ جمع ہوکر اب اپنی طرف سے قید لگانا کہ مجمع کے ساتھ زیارت کرنا منع ہے ۔سال کے بعد مقرر کرکے زیارت کرنا منع ہے محض لغو ہے ۔ معین کرکے ہو یا بغیر معین کے ہر طرح جائز ہے ‘‘۔(دوئم) اس لئے کہ عرس کی تاریخ مقرر ہونے سے لوگوں کے جمع ہونے میں آسانی ہوتی ہے اور لوگ جمع ہو کر قرآن خوانی ،کلمہ طیبہ، درودِ پاک وغیرہ پڑھتے ہیں بہت سی برکات جمع ہوجاتی ہیں۔(سوئم) اس لئے کہ ایک پیر کے مرید ین اس تاریخ میں اپنے پیر بھائیوں سے بلا تکلف مل لیتے ہیں جس سے ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت ہوتی ہے اور آپس میںمحبت بڑھتی ہے۔(چوتھے) اس لئے کہ طالبان کو پیر تلاش کرنے میں آسانی ہے اگر کسی عرس میں پہنچے جہاںاس سلسلے کے بزرگانِ دین جمع ہوئے ہیں عمدہ صوفیہ کا مجمع ہوتاہے سب کو دیکھے او ر جس سے عقیدت ہو اس سے بیعت کرے۔
آخرِ حج اور زیارتِ مدینہ منورہ بھی تاریخ مقرر ہ میں ہی ہوتے ہیں اس میں بھی فوائد گذشتہ ملحوظ ہیں ہم نے دیوبندی اکابر کی قبریں دیکھی ہیں نہ وہاں رونق نہ کوئی فاتحہ خواں نہ اُن کو ایصالِ ثواب نہ کسی کو اِن سے اور نہ کسی سے اُن فیوض امورِ خیر بند کرنے کی یہ برکات ہیں ۔(جاء الحق )
(۴) اولیاء کرام کے وسیلہ جلیلہ سے مشکلات حل ہوتی ہیں اور یہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہے چند روایات حاضر ہیں۔ (۱) محدث طبرانی اور ابن احمد بن حنبل اور امام بغوی نقل فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا
’’ان اللہ سیدفع بالمسلم الصالح عن مائۃ اہل بیت من جیرانہ البلاء‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ ایک نیکو کار مسلمان کے سبب اُس کے پڑوس کے ایک سو گھر وں سے بلائیں دفع فرماتا ہے ۔
(۲) طبرانی میں حضرت ابوالدردا ء سے مروی ہے کہ جو شخص ہر روز ستائیں مرتبہ مؤمن مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگتاہے وہ مستجاب الدعوات لو گوں میں داخل ہوجاتا ہے۔
’’ویرزق بھم اہل الارض‘‘
اور اس کے سبب سے تمام روئے زمین والوں کو روزی دی جاتی ہے ۔
(۳) بخاری شریف میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے
’’ہل تنصرون وترزقون الا بضعفاء کم‘‘
تمہیں تمہارے کمزورں کے طفیل نصرت و رزق دیا جاتا ہے ۔
(۴)طبرانی نے حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور انے فرمایا
’’الابدال فی امتی ثلاثون بھم تقوم الارض وبھم تمطرون وبھم تنصرون‘‘
میری اُمت میںتیس ابدال ہیں ان کے طفیل زمین قائم ہے اور ان کے وسیلہ سے تمہیں بارش دی جاتی ہے اور ان کے سبب سے تمہیں نصرت ملتی ہے۔
(۵) ایک اور روایت میں ہے
’’یسقی بھم الغیث و ینتصربھم علی الاعدا و یصرف عن اہل الشام بھم العذاب ‘‘
ان کے وسیلہ سے بارشیں ہوتی ہیں اور ان کے سبب سے دشمنوں پر نصرت دی جاتی ہے اوران کی وجہ سے اہل شام سے عذاب الٰہی دور کیا جاتا ہے۔
(۶) ایک اور روایت میں ہے
’’یصرف عن اہل الارض البلاء والغرق‘‘
روئے زمین والوں میںسے مصیبتیں اور سیلاب پھیر دئیے جاتے ہیں۔
(۷) ایک اور روایت میں ہے
’’یحفظ اللہ بھم الارض‘‘
اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے روئے زمین کی حفاظت فرماتا ہے۔
(۸) ایک اور روایت میں ہے
’’فیھم یحیی و یمیت ویمطرو ینبت ویدفع البلاء‘‘
انہیں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ زندہ کرتا ،مارتا ،بارش ، فصل اُگاتا اور بلائیں دفع فرماتا ہے۔
مزید تفصیل کیلئے دیکھئے فقیر کا رسالہ ’’ظہور الکمال فی وجود الابدال‘‘ اور رسالہ اردو’’جامع الکمال فی احوال الابدال‘‘۔
تصرفات الا ولیاء فی المزارات
عرس کی حاضری پر اولیاء کرام کو وسیلہ بناکر دعائیں مانگی جاتی ہیں۔جو بحمدہٖ تعالیٰ اکثر مستجاب ہوتی ہیںاور اولیاء کرام مزارات میں بدستور صاحب تصرف ہیں چند حوالے حاضر ہیں۔
رائیت اربعۃ من المشائخ یتصرفون فی قبورہم کتصرف الاحیاء الولی الکامل المکمل الشیخ عبدالقادر الجیلی الشیخ الکبیر الدریاقو المجرب معروف بن محفوظ بن فیروز بن المرزبان الکرخی والشخ الواصل الرحلۃ عقیل المنبجی والشیخ الکامل حیاۃ بن قیس الحرافی رضی اللہ عنھم(قلائدالجواہرص ۳۷) قال الشیخ علی القرشی رضی اللہ عنہ رائیت اربعۃ من الشائخ یتصرفون فی قبورہم کتصرف الاحیاء الشیخ عبدالقادر والشیخ معروف الکرخی والشیخ عقیل المنبجی والشیخ حیات بن قیس الحرافی رضی تعالی اللہ عنہم ۔(زبدۃ الاسرار للشیخ عبدالحق المحدث دہلوی ص۷)
ترجمہ :
میں نے چار بزرگوں کو قبور میں زندوں کی طرح تصرف کرتے دیکھا ہے وہ ولی ٔ کامل مکمل عبدالقادرجیلانی، شیخ کبیر معروف کرخی، شیخ عقیل المنبجی اور شیخ کامل حیات بن قیس حرانی ہیں رضی اللہ عنھم۔ شیخ علی قرشی ص فرماتے ہیں میںنے چار ایسے مشائخ دیکھے ہیں جو اپنی قبروں میں احیاء کی طرح تصرف کرتے ہیں.۱۔شیخ عبد القادر جیلانی۔۲ شیخ معروف کرخی۔۳۔شیخ عقیل منبجی۔۴۔شیخ حیات بن قیس حرانی رضی اللہ تعالیٰ عنہم
(۲)حضور غوثِ اعظم ص قصیدہ غوثیہ میں فرماتے ہیں۔
وولافی علی الا قطاب جمعا فحکمی نافذ فی کل حال وما منھا شہورا و د ھور تمرو تنقضی الا اتالی بلاد اللہ ملکی تحت حکمی ووقتی قبل قلبی قد صفالی
(۱)مجھے اللہ تعالیٰ نے تمام قطبوں پر والی وحاکم بنادیا میرا حکم ہر حال میں نافذہے۔ (۲)ماہ و سال گزرنے سے قبل میرے پاس حاضر ہوتے ہیں(۳)اللہ تعالیٰ کے شہر میرا ملک اور میرے حکم کے تحت ہیں۔ میرا وقت میری جان سے پہلے صاف ہوچکاہے۔
(۳) قدوۃ الفقہاء خاتم المحققین علامہ محمد امین ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:۔
ومنھم ختم دائرۃ الولایۃ قطب الوجود سیدی محمد شاذلی البکری الشھیر بالحنفی الفقیہ الواحد احد من صرفہ اللہ تعالی فی الکون و مکنہ من الاحوال ونطق بالمغیبات و خرق لہ العوائد وقلب لہ الاعیان۔(رد المحتار جلد اول ص ۴۴)
امام ابو حنیفہ ص کے اتباع میں سے ختم دائرۃ الولایت قطب وجود سیدی محمد شاذلی حنفی ،آپص ان حضرات میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے کائنات میں تصرف حالات پر قدرت اور مغیبات کے بیان کرنے کی طاقت عطا فرمائی ۔انہیں بے شمار انعامات سے نوازا اور ان کے لئے اعیان کی حقیقت تبدیل کردی۔
اس قسم کے بے شمار حوالہ جات کتب اسلامیہ میں موجود ہیں فقیر نے ’’فیضانِ اولیاء اور فیوضات المزارات‘‘ میں جمع کئے ہیں۔
باب ۲: سوالات و جوابات
سوال
(۱) عرس بدعت ہے نہ رسول اللہ ا سے ثابت ہے نہ صحابہ سے نہ ائمہ مجتہدین نے اس کے متعلق کچھ لکھا ہے ۔
جواب
فقیر نے پہلے لکھا ہے کہ دراصل ایصال ثواب کی صورت ہے اور نام بزرگوں کی مناسبت سے رکھا گیا ہے اصولی طور پر تو بدعت نہیں صرف وہابیوں دیوبندیوں نے اسے بدعت بنادیا ورنہ ایصال ثواب تو بدعت نہیں ہاں طور طریقہ بدلا ہے اور شریعت کا قاعدہ ہے کہ طور طریقے بدلتے رہتے ہیںاسی طرح نام بھی ۔تفصیل کے لئے دیکھئے فقیر کا رسالہ’’ بدعت ہی بدعت‘‘۔
سوال
(۲) جس کو تم بعد موت ولی سمجھتے ہو اور عرس کرتے ہو تم کو کیا معلوم کہ یہ ولی ہے کسی کے خاتمہ پر یقین نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ مسلمان مرا یا بے دین ہوکر مرا ۔ پھر کسی مردے کی ولایت کیونکر معلوم ہوسکتی ہے بڑے بڑے صالح کافر ہوکر مرتے ہیں۔
جواب
زندگی کے ظاہری احکام بعد موت جاری ہوتے ہیں جوزندگی میں مسلمان تھا بعد موت بھی اس کو مسلمان سمجھ کر اس کی نماز جنازہ ،کفن،دفن،میراث۔شریعت کے حکم ظاہر پر ہوتا ہے فقط احتمال معتبر نہیں اسی طرح جو زندگی میں ولی ہو وہ بعد وفات بھی ولی ہے اگر محض احتمال پر احکام جاری ہوں تو کفار کی نمازہ جنازہ پڑھ لیا کرو ۔شاید مسلمان مرا ہو اور مسلمان کو بے جنازہ پڑھے آگ میں جلادیا کرو کہ شاید کافر ہو کر مرا ہو۔نیز مشکوٰۃ کتاب الجنائز باب المشی بالجنازہ میں بروایت مسلم و بخاری ہے کہ حضوراکے سامنے ایک جنازہ گزرا جس کی لوگوں نے تعریف کی ،فرمایا ’’وَجَبَتْ‘‘واجب ہوگئی دوسرا جنازہ گزرا جس کی لوگوں نے برائی کی فرمایا ’’وَجَبَتْ‘‘ و اجب ہوگئی۔ حضرت عمر صنے پوچھا کہ کیا واجب ہوئی؟ فرمایا پہلے کے لئے جنت اور دوسرے کیلئے دوزخ پھر فرمایا
اَنْتُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ
تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو جس سے معلوم ہوا کہ عامۃ المسلمین جس کو ولی سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی ولی ہے مسلمانوں کے منہ سے وہ ہی بات نکلتی ہے جو کہ اللہ کے یہاں ہوتی ہے اسی طرح جس چیز کو مسلمان ثواب جانیں حلال جانیں وہ اللہ کے نزدیک بھی باعث ثواب اور حلال ہے کیونکہ مسلمان اللہ کے گواہ ہیں اسی کی حدیث نے تصریح فرمائی
مَارَاہُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَسَنًافَھُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ
قرآن فرماتا ہے
وَکَذَالِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃٌ وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَائَ عَلَی النَّاسِ
ہم نے تم کو امّتِ عادلہ بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ رہو مسلمان قیامت میں بھی گواہ اور دنیا میں بھی ۔رب تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور رسول اللہ ا کی صداقت کے ثبوت میں حضرت عبدا للہ ابن سلام و دیگر بزرگوں کی گواہی پیش فرمائی کہ فرمایا
وَشَھِدَ شَاھِدٌ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَلَی مِثْلِہٖ
جب صالح مؤمنین کی گواہی سے نبوت ثابت کی جاسکتی ہے تو ولایت بدرجہ اولیٰ ثابت ہوسکتی ہے اور جب اس گواہی سے سارے قرآن پاک کا ثبوت ہوسکتا ہے تو کسی شرعی مسئلہ کا ثبوت بدرجہ اولیٰ ہوگا۔
فائدہ
حضرت مفتی احمد یار خان صاحب گجراتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں۔یہ سوال مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے نجدی امام نے ایک مجمع میں کیا تھا ۔ایک مجمع کے سامنے اس کا میں نے یہ ہی جواب دیا تھاجس پر اس نے کہا کہ یہ صحابہ کرام کیلئے تھا وہ جس کے متعلق گواہی دیں ویسا ہی ہوجائے کیونکہ وہاں فرمایا ہے اَنْتُمْ ہم اس خطاب میں داخل نہیں کیونکہ ہم اس وقت موجود نہ تھے میں نے کہا اسی مشکوٰۃ میں اسی جگہ ہے
وَفِیْ رَوَایَۃِ الْمُؤْمِنُوْنَ شُھَدَائُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ
ایک روایت میں ہے کہ مسلمان اللہ کے گواہ ہیں زمین میں ۔اس میں اَنْتُمْ نہیں و نیز قرآن میں سارے احکام خطاب کے صیغہ سے آئے اَقِیْمُوْاالصَّلٰوۃَ وَاٰتُواالزَّکَوٰۃَ وغیرہم قرآن کے نزول کے وقت نہ تھے لہٰذاہم ان تمام احکام سے بری ہیں یہ سب امور صرف صحابہ کرام کے لئے تھے ۔قرآن وحدیث کے خطابات قیامت تک کے مسلمانوں کو شامل ہوتے ہیں۔الحمدللہ کہ امام صاحب کو اس جواب پر غصہ تو آگیا مگر جواب نہ آیا۔ (جاء الحق جلد اول)
سوال
(۳) حدیث شریف میں ہے
لَاتَتَّخِذُوْقَبْرِیْ عِیْدًا
میری قبر کو عید نہ بناؤ جس سے معلوم ہوا کہ قبر پر لوگوں کا اجتماع میلہ لگانا منع ہے کیونکہ عید سے مراد میلہ ہے اور عرس میں اجتماع ہوتا ہے میلہ لگتا ہے لہذا حرام ہے ۔
جواب
یہ کہاں سے معلوم ہو اکہ عید سے مراد ہے لوگوں کا جمع ہونا اور حدیث کے معنی ہیں میری قبر پر جمع نہ ہو تنہا تنہا آیا کرو عید کے دن خوشیاں منائی جاتی ہیں مکانات کی زینت و آراستگی ہوتی ہے کھیل کودبھی ہوتے ہیں یہ ہی اسی جگہ مراد ہے یعنی ہماری قبر انور پر حاضر ہو تو باادب آؤ یہاں آکر شور نہ مچاؤ کھیل کود نہ کرو قبر پر جمع ہونا منع ہے تو آج مدینہ منورہ کی طرف قافلے بھی جاتے ہیں اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَاہُ بعد نماز پنجگانہ لوگ جمع ہوکر عرض کرتے ہیں۔حاجی امداد اللہ صاحب فیصلہ ہفت مسئلہ میں بحث عرس میں فرماتے ہیں
لَاتَتَّخِذُوْقَبْرِیْ عِیْدًا
اس کے صحیح معنی یہ ہیں کہ قبر پر میلہ لگانا اور خوشیاں اور زینت و آراستگی دھوم دھام کا اہتمام یہ ممنوع ہو اور یہ معنی نہیں کہ کسی قبر پر جمع ہونا منع ہے ورنہ مدینہ منورہ قافلوں کا جانا واسطے زیارت روضہ اقدس کے بھی منع ہوتا وَھٰذَا بَاطِلٌ پس حق یہ ہے کہ زیارت مقابرانفراد ً و اجتماعًا دونوں طرح جائز ہے یا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تم ہماری قبر پر جلد جلد آیا کروں مثل عید کے سال بھر کے بعد ہی نہ آیا کرو۔ چنانچہ حضرت علامہ سمہودی وفاء الوفا جلد۲ صفحہ ۴۱۷ میں لکھتے ہیں۔
وقولہ صلے اللہ علیہ وسلم لا تجعلو قبری عیدا قال الحافظ المنذری یحتمل ان یکون المراد بہ الحث علی کثرۃ زیارۃ قبرہ صلے اللہ علیہ وسلم وان یہمل حتی لایزار الا فی بعض الاوقات کالعید الذی لا یاتی فی العام الامرتین قال ویؤیدہ قولہ لا تجعلوا بیوتکم قبوراأی لاتترکو الصلوۃ فیھا حتی تجعلوہا کالقبور التی لایصلی فیھا ۔قال السبکی یحتمل ان یکون المراد لاتتخذوا وقتا مخصوصا لا تکون الزیارۃ الا فیہ و یحتمل ایضاً ان یراد لا تتخذوا فی العید فی العکوف علیہ و اظہار الزینۃ والاجتماع و غیرذالک مایعمل فی الاعیاد بل لایاتی الاللزیارۃ والسلام والدعاء ثم ینصرف عنہ
ترجمہ: اور حضور اقدس اکا قول ’’لا تجعلو قبری عیدا‘‘حافظ منذری نے کہا ۔احتمال ہے کہ اس سے مراد آنحضرت اکی قبر شریف کی زیارت کی کثرت پر ترغیب ہو اور اس امر پر کہ وہ یوں نہ چھوڑی جائے کہ بجز بعض اوقات کے زیارت نہ کی جائے مثل عید کے جو سال میں دو دفعہ کے سوا نہیں آتی۔ کہا منذری نے اس معنی کی تائید کرتا ہے قول آنحضرت اکا کہ تم اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ یعنی ان میں نماز پڑھنا ترک نہ کرو یہاں تک کہ تم ان کو قبروں کی مثل بناؤکہ جن میں نماز نہیں پڑھی جاتی۔امام سبکی نے کہا احتمال ہے کہ مراد یہ ہو کہ تم قبر شریف کے لئے خاص وقت مقرر نہ کروکہ بجز اُس وقت کے زیارت نہ ہواور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ تم قبر شریف کو مثل عید نہ سمجھو کہ اس کی پوجا کرنے لگواور زینت و اجتماع وغیرہ ظاہر کرنے لگو جو عیدوں میں معمول ہیں بلکہ زائر فقط زیارت اور سلام اور دعا کے لئے آئے پھر وہاں سے چلا جائے۔ بہر حال اس حدیث سے عرس کو ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔
سوال
(۴) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ص فتاویٰ عزیزیہ میں عرس کو ناجائز لکھتے ہیں۔
جواب
سوال میں صرف ناجائز اپنی طرف سے کہدیا گیا ہے حالانکہ شاہ صاحب موصوف حضرت شاہ عبدالعزیزص فرماتے ہیں۔
رفتن بر قبور بعد سالے یک روز معین کردہ سہ صورت است اول آنکہ یک روز معین نمودہ یک شخص یا دو شخص بغیر ہیئت اجتماعیہ مرد مان کثیربر قبور محض بنابر زیارت و استغفار بروند۔این قد رازروے روایات ثابت است ودرتفسیر درمنثور نقل نمودہ کہ ہر سر سال آنحضرتابر مقابر میر فتند و دعا برائے مغفرت اہل قبور مے نمودند۔ایں قدر ثابت و مستحب است۔دوم آنکہ بہیئت اجتماعیہ مردمان کثیرجمع شوند و ختم کلام اللہ معمول کنند ۔ وفاتحہ بر شیرینی یا طعام نمود تقسیم درمیاں حاضراں نمایند۔ایں قسم معمول در زمانۂ پیغمبر خدا و خلفائے راشدین نہ بود۔اگر کسے ایں طور بکند باک نیست زیرا کہ دریں قسم قبیح نیست بلکہ فائدہ احیاء اموات را حاصل میشود ۔سوم طور جمع شدن برقبور نیست کہ مردمان یک روز معین نمودہ ولباس ہائے فاخرہ و نفیس پوشیدہ مثل روز عید شادمان شدہ بر قبر جمع میشود ۔رقص و مزامیر و دیگر بدعات ممنوعہ مثل سجود برائے قبور وطواف کردن قبور مینمائند ۔ایں قسم حرام و ممنوع است بلکہ بعضے بہ حد کفر میر سند دہمین است محمل ایں دو حدیث ’’لا تجعلو قبری عیدا‘‘چنانچہ در مشکوۃ شریف موجود است واللھم لاتجعل قبری۹ و ثنا یعیدایں ہم درمشکوۃ است (فتاویٰ عزیزیہ صفحہ ۳۸ جلد اول)
ترجمہ: سال کے بعد قبور پر جانے کی تین صورتیں ہیں ۔(۱) کوئی دن مقرر کرکے ایک یا دوشخص بغیر ہیئت کذائیہ بہت سارے لوگ قبور پر جائیں ان کا مقصد صرف زیارت اور استغفار ہو اتنا قدر از روایات سے ثابت ہے۔درمنثور میں منقول ہے کہ حضور سرورِ عالم ا ہر سال قبروں پر تشریف لے جاکر اہل قبور کے لئے دعائے مغفرت فرماتے اتنا قدر ثابت اور مستحب ہے۔
(۲) ہیئت کذائیہ بہت لوگ قبور پر جمع ہوکر کلام اللہ کا ختم کریں اور شیرینی یا طعام پر فاتحہ کادلا کر عوام حاضرین میں تقسیم کریں اس قسم کا عمل حضور سرورِ عالم ا و خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانۂ اقدس میں نہ تھا ۔اگر کوئی ایسا کرتا ہے کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ کوئی برا عمل نہیں بلکہ اس سے زندوں سے اموات کو فائدہ پہنچتاہے۔ (۳) ایسے طریقے سے قبور پر جمع ہوں کہ لوگ ایک دن قبور پر جمع ہونے کے لئے مقرر کریں اور لباسِ فاخرہ و نفیس پہن کرعیدپر آنے کی طرح آئیں خوشیاں منانے کے لئے قبور پرجمع ہیں پھر رقص کریں سرور گانے وغیرہ کی محفلیں جمائیں یونہی دیگر بدعاتِ ممنوعہ جیسے قبروں کو سجدہ و طواف کریں یہ تیسری قسم حرام و ممنوع ہے بلکہ بعض امور تو کفرکی حد تک لے جاتے ہیں ان دونوں حدیثوں کا مطلب بھی یہی ہے (۱) میری قبرکو عید نہ بناؤ یہ حدیث مشکوۃ میں ہے (۲)
اَللّٰھُمَّ لَاتَجْعَلْ قَبْرِیْ وَثَنَا یَعْبُدہٗ
یا اللہ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پرستش کی جائے۔یہ حدیث بھی مشکوۃ میں ہے۔
تبصرۂ اُویسی
سوال میں پہلی دو قسمیں چھوڑ کر تیسری کو لیکر مبہم سوال کردیا گیا ہے جس کے ہم بھی قائل نہیں جس کی مختصر بحث آخر میں آئے گی۔
سوال
(۵) عام عرسوں میں عورتوں مردوں کا اختلاط ہوتا ہے ناچ رنگ ہوتے ہیںغلط طریقے کی قوالیاں ہوتی ہیں غرضیکہ عرس بزرگان صدہا محرمات کا مجموعہ ہے فلہذا حرام ہے۔
جواب
کسی جائز کام میں حرام چیزوں کا مل جانا اصل مسئلہ کو حرام نہیں کرتا بلکہ حرام حرام اور حلال حلال رہتا ہے ۔چند حوالے حاضر ہیں (۱) شامی بحث زیارۃ القبور میں ہے
ولا تترک لما یحصیل عندھا من منکرات ومفاسد کاختلاط الرجال بالنساء وغیر لاتترک لمثل ذلک بل علی الانسان فعلھا وانکار البدع قلت و یؤیدہ مرمن عدم ترک اتباع الجنازۃ وان کان معھا نساء نائحات
زیارت اس لئے نہ چھوڑ دے کہ وہاں ناجائز کام ہوتے ہیں جیسے کہ عورت کا خلط کیونکر ان جیسی ناجائز باتوں سے مستحبات نہیں جاتے بلکہ انسان پر ضروری ہے کہ زیارات قبور کرے اور بدعت کو روکے اس کی تائید وہ گزشتہ مسئلہ کرتا ہے کہ جنازے کے ساتھ جانا نہ چھوڑے اگرچہ اس کے ساتھ نوحہ کرنے والیاں ہوں فتح مکہ سے پہلے خانہ کعبہ میںبت تھے اور کوہ صفاومروہ پر بھی بت تھے مگر بتوں کی وجہ سے مسلمانوں نے نہ طواف چھوڑا نہ عمرہ ہاں جب اللہ نے قدرت دی تو بتوں کو مٹا دیا۔ آج بازاروں میں ریل کے سفروں میں اور دنیاوی جلسوں میں عورتوں مردوں کا اختلاط ہوتا ہے خود حاجیوں کے جہازوں میں بعض وقت طواف میں منیٰ مزدلفہ میں اختلاط مرد و زن ہوجاتا ہے مگر ان کی وجہ سے اصل شئی کو کوئی منع نہیں کرتا ۔دینی مدارس میں بھی اکثر اوقات بے احتیاطیاں ہوجاتی ہیں مگر ان کی وجہ سے نفس مدرسہ حرام نہیں ۔اسی طرح عرس ہے کہ عورتوں کا وہاں جانا حرام ہے ناچ رنگ حرام ہیں لیکن ان کی وجہ سے اصل عرس کیوں حرام ہوبلکہ وہاںجاکر ان جیسی ناجائز رسموں کو روکو لوگوں کو سمجھاؤ ۔دیکھو جدا بن قیس منافق نے عرض کیا تھا کہ مجھے غزوہ تبوک میں شریک نہ فرمائیے کہ روم وشام کی عورتیں بہت خوبصورت ہیں اور میں عورتوں کا شیدائی ہوں مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے مگر قرآن کریم نے اس عذ ر کی تردید یوں فرمائی کہ
اَلَا فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌ بِالْکَافِرِیْنَ
اس عذر کو رب نے کفر اور ذریعۂ جہنم بتایا ۔دیکھو تفسیر کبیر و روح البیان ۔یہ ہی عذر آج دیو بندی محض روکنے کے لئے کرتے ہیں۔
آج شادی بیاہ میںصدہا حرام رسمیں ہوتی ہیں جن سے مسلمان تباہ بھی ہوتے ہیں اور گنہگار بھی لیکن ان رسوم کی وجہ سے کوئی نکاح کو حرام کہہ کر بند نہیں کرتا۔
تبصرہ
قوالی جو آج کل عام طور پر مروج ہے جس میں گندے مضامین کے اشعار گائے جاتے ہیں اور فاسق اور اَمردوں کا اجتماع ہوتاہے اور محض آواز پر رقص ہوتا ہے یہ واقعی حرام ہے لیکن اگر کسی جگہ تمام شرائط سے قوالی ہو گانے والے اور سننے والے اہل ہوں تو اس کو حرام نہیں کہہ سکتے۔بڑے بڑے صوفیہ کرام نے خاص قوالی کو اہل کے لئے جائز فرمایا ہے اور نااہل کو حرام ۔اس کی اصل وہ حدیث ہے جو مشکوۃ کتاب المناقب باب المناقب عمر میں ہے کہ حضور اکے سامنے ایک لونڈی دف بجارہی تھی صدیق اکبر آئے تو بجاتی رہی ۔عثمان غنی آئے بجاتی رہی ۔مگر جب فاروقِ اعظم آئے (رضی اللہ عنہم اجمعین )تو دف اپنے نیچے ڈال کر بیٹھ گئی ۔حضور انے ارشاد فرمایا کہ اے عمر تم سے شیطان خوف کرتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ یہ دف بجانا شیطانی کام تھا کہ نہیں اگر تھا تو کیا حضورا اور صدیق اکبر و عثمان غنی رضی اللہ عنہما سے شیطان نے خوف نہ کیا اور اس میں خود حضور ااور ان کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے شرکت کیوں کی ۔اگر شیطانی کام نہ تھا تو حضور اکے اس فرمان کے کیا معنی ؟ جواب وہی ہے کہ حضرت فاروق اعظمص کے آنے سے قبل یہ ہی کام شیطانی نہ تھا ہوتا رہا اور فاروقِ اعظم صکے آتے ہی شیطانی بن گیا بند ہوگیا اسی لئے صوفیہ کرام نے اس پر چھ شرطیں لگائیں ہیں ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ مجلس میں کوئی غیر اہل نہ ہو ورنہ شیطان کی اس میں شرکت ہوگی جیسے کہ مجلس طعام میں اگر کوئی شخص بغیر بسم اللہ کھانا شروع کردے تو شیطان بھی اس میں شریک ہوجاتا ہے ۔اس سے لازم یہ نہیں کہ حضرت فاروق اعظمص کا درجہ کچھ کم ہے بلکہ صحابۂ کرام کے مشرب علیحدہ علیحدہ ہیں بعض پر اتباع غالب بعض پر جذبۂ محبت غالب ۔اس لئے اثرات مختلف تھے اگر کوئی غوث یا قطب بغیر بسم اللہ کھانے میں شرکت کریں تو ان میں شیطان کی شرکت ہوجاتی ہے اس سے غوث کی توہین نہیں ہوتی۔
شامی جلد پنجم کتاب الکراہیت فصل فی اللبس سے کچھ قبل ہے ’’الہ اللھولیست بحر مہ بعینھا بل تقصد اللھو منھا الا تریٰ ان ضرب تلک الالہ بعینھا احل تارۃ و حرم اخریٰ وفیہ دلیل لسادتنا الصوفیۃ الذین یقصدون بسما عھا امورا ہم اعلم بہا فلایبادرالمعترض انکارکی لایجرم برکتھم فانہم السادۃ الاخیا‘‘
ترجمہ :
آلہ لہو حرام بعینہٖ نہیں کیا معلوم نہیں کہ کبھی ان آلات کو استعمال کرنا حلال ہوتا ہے اور کبھی حرام اس میں ہمارے سادات ان صوفیہ کی دلیل ہے جو ان سے کئی امور کے سماع کا کبھی قصد کرتے ہیں اور وہ انہیں خوب جانتے ہیں فلہذا معترض اس پر فتاویٰ لگانے میںعجلت نہ کرے تاکہ ان کی برکات سے محروم نہ ہو کیونکہ وہ اللہ کے برگزیدہ اور ہمارے سردار ہیں‘‘۔ تفسیرات احمدیہ پارہ ۲۱ سورہ لقمان زیر آیت
وَمِنَ النَّاسِ مِنْ یِّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ
میں اس قوالی کی بہت تحقیق فرمائی آخر فیصلہ یہ فرمایا کہ قوالی اہل کے لئے حلال ہے اور نااہل کو حرام۔پھر فرماتے ہیں
وبہ تاخذ لاناشہدنا انہ نشاء من قوم کانوا عارفین ومحبین لرسول اللہ وکانو معذورین لغلبۃ الحال ویستکبرون السماع الغناء وکانوا یحسبون ذلک عبادۃ اعظم وجہاداکبر فیحل لہم خاصۃ انتہی ملحضاً
ترجمہ : اور اسی کو ہم لیتے ہیں کیونکہ یہ ایسے لوگوں کا طریقہ ہے کہ وہ عارف باللہ اور رسول اللہ ا کے سچے عاشق ہیں لیکن غلبۂ حال کیوجہ سے معذور ہیں وہ سماع بکثرت سنتے اور وہ اسے بڑی عبادت اور بڑا جہاد سمجھتے اسی لئے یہ صرف ان کے لئے جائز ہوگا ۔
حاجی امداد اللہ صاحب فیصلہ ہفت مسئلہ میں بحث عرس قوالی کے متعلق فرماتے ہیںمحققین کا قول یہ ہے کہ اگر شرائط جواز جمع ہوں اور عوارض مانع مرتفع ہوجاویں تو جائز ہے ورنہ ناجائز ہے مولوی رشید احمد صاحب فتاویٰ رشیدیہ کتاب الحظرو الاباحۃ صفحہ ۶۱ پر فرماتے ہیں بلامزامیر راگ کا سننا جائز ہے اگر گانے والا محل فساد نہ ہو اور مضمون راگ کا خلاف شرع نہ ہو اور موافق موسیقی کے ہونا کچھ حرج نہیں۔خلاصہ کلام یہ ہوا کہ قوالی اہل کے لئے شرائط کے ساتھ جائز ہے اور بلا شرائط اور نااہل کے لئے حرام ہے قوالی کی شرائط علامہ شامی نے اس کتاب الکراہیت میں چھ بیان فرمائی ہیں ۔(۱)مجلس میں کوئی امرد بے ڈاڑھی کا لڑکا نہ ہو اور(۲) ساری جماعت اہل کی ہو ان میں کوئی نااہل نہ ہو(۳) قوال کی نیت خالص ہو اجرت لینے کی نہ ہو(۴) لوگ بھی کھانے اور لذت لینے کی نیت سے نہ جمع ہوں (۵)بغیر غلبہ کے وجد میں کھڑے نہ ہوں(۶) اشعار خلاف شرع نہ ہوں اور قوالی کا اہل وہ ہے کہ اس کو وجد کی حالت میں اگر کوئی تلوار مارے تو خبر نہ ہو بعض صوفیہ فرماتے ہیں کہ اہل وہ ہے کہ اگر سات روز تک اس کو کھانا نہ دیا جاوے۔پھر ایک طرف کھانا ہو اور دوسری طرف گانا تو کھانا چھوڑ کر گانا اختیار کرے ہماری اس گفتگو کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آج کل کی عام قوالیاں حلال ہیں یا عام لوگ قوالی سنیںبلکہ ہم نے بہت سے مخالفین کو سنا کہ وہ اکابر صوفیہ عظام کو محض قوالی کی بنا پر گالیاں دیتے ہیں اور قوالی کو مثل زنا کے حرام کہتے ہیں۔اس لئے عرض کرنا پڑا کہ خود تو قوالی نہ سنو مگر وہ اولیاء اللہ جن سے سماع ثابت ہے ان کو بُرا نہ کہو۔قوالی ایک درد کی دوا ہے جن کو درد ہو وہ پئے جس کو نہ ہو وہ نہ پئے۔حضرت مجدد الف ثانی ص فرماتے ہیں کہ نہ ایں کرامی کنم دنہ انکار ی کنم یعنی نہ میں یہ کام کرتا ہوں اور نہ اس کا انکار کرتا ہوں۔
سوال
(۶) اگر یہ قاعدہ صحیح ہے کہ حلال کام میں حرام مل جانے سے حلال نہیں بن جاتا تو تعزیہ داری بت پرستوں کے میلے ،کھیل ، تماشے،سینما ،تھیٹر وغیرہ سب جائز ہوئے کہ ان میں کوئی نہ کوئی کام جائز بھی ہوتا ہے وہاں بھی یہ ہی کہو کہ یہ مجمع حرام نہیں بلکہ ان میں جو برے کام ہیں وہ حرام ہیں جو جائز ہیں وہ حلال نیز فقہافرماتے ہیں کہ جس ولیمہ میں ناچ رنگ دستر خوان پر ہو وہاں جانا منع ہے حالانکہ قبول دعوت سنت مگر حرام کام کے ملنے سے حرام ہوگئی اسی طرح عرس بھی ہے مخالفین کا یہ انتہائی اعتراض ہے۔
جواب
ایک ہے حرام کا فعل حلال میں شامل ہونا ایک ہے داخل ہونا جہاں کہ فعل حرام اس کا جزو بن جاوے کہ اس کے بغیر وہ کام ہوتا ہی نہ ہو اور اگر ہوتا ہو تو اس کا یہ نام نہ ہوا اس صورت میں حرام کام حلال کو بھی حرام کردیگا اور اگر فعل حرام اس طرح جز ہوکر داخل نہ ہوگیا ہو بلکہ کبھی اس میں ہوتا ہواور کبھی نہیں جس کو خلط کہتے ہیں تو یہ حرام اصل حلال کو حرام نہ کردے گا جیسے کہ پیشاب کپڑے میں لگ گیا اور پانی میں پڑ گیا ۔کپڑے کا جزو تھا پانی کا جز بن گیا تو احکام میں بہت فرق پڑگیا ۔نکاح ، سفر،بازاروغیرہ میں محرمات شامل ہوجاتے ہیں مگر ان کا جزو نہیں سمجھے جاتے کہ ان کے بغیر اس کو نکاح ہی نہ کہا جاوے اور تعزیہ داری میں اسراف باجے ناجائز میلے اس طرح جزوبن کر داخل ہوئے کہ تعزیہ داری وغیرہ اس سے خالی نہیں ہوتی اور اگر خالی ہو تو اس کو تعزیہ داری نہیںکہتے۔اگر کوئی شخص کربلا معلی کا نقشہ بناکر گھر میں رکھ لے نہ تو زمین میں دفن کرے نہ یہ محرمات ہوں تو جائز ہے کیونکہ غیر جاندار کی تصویر بنانا مباح ہے ۔الحمدللہ کہ عرس ناچ گانا وغیرہ داخل نہیں ہوا بہت سے عرس اس محرمات سے خالی ہوتے ہیں اور ان کو عرس ہی کہا جاتا ہے ۔ سرہند شریف میں مجدد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عرس بالکل محرمات سے خالی ہوتا ہے عام طور پر لوگ حضرت آمنہ خاتون ،سیدنا عبداللہ ،امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہم کا عرس کرتے ہیں صرف مجلسِ وعظ اور تقسیم طعام شیرینی ہوتی ہے ۔نیز ہر دعوت قبول کرنا سنّت نہیں نابالغ بچہ کی دعوت اہل میت کی مروجہ دعوت اغنیاء کو جس کے یہاں صرف حرام کا ہی مال ہواس کی دعوت قبول کرنا ناجائز ہے ۔اسی طرح جس ولیمہ میں ناچ و رنگ خاص دستر خوان پر ہو اس کا قبول کرنا منع ہے ۔بخلاف زیارت قبور کے کہ وہ بہر حال سنّت ہے لہٰذا حرام کام کے اختلاط سے دعوت تو سنّت ہی نہ بنی اور زیارت قبور چونکہ مطلقاً سنّت تھی وہ حرام نہ ہوئی جیسے کہ شرکت دفن بہر حال سنّت ہے تو اگر وہاں محرمات ہوں تواس سے یہ سنّت حرام نہ ہوگی بہت باریک فرق ہے خیال رکھنا چاہیے۔
سوال
(۷) حدیث شریف میں ہے
لاتشدواالرحال الاالی ثلاث مساجدمسجدالحرام والمسجد الاقصیٰ ومسجد ھذا تین مساجد کے سوا کی طرف کُجاوے نہ کسا کرو یعنی سفرنہ کیا کرو۔اس سے ثابت ہوا کہ سوائے مساجد ثلاثہ کے کہیں سفر نا جائز ہے اور تم عرسوں پر طویل سفر کرتے ہو فلہذا ناجائز ہے ۔
جواب
اس حدیث شریف کی تحقیق میں فقیر کا رسالہ ہے ’’نہایۃ الکمال فی تحقیق لاتشدواالرحال‘‘یہاں بقدر ضرورت عرض ہے حدیث شریف میں حصر ہے کہ صرف تین مساجد کا سفر کرو ۔حالانکہ سفر شرعاً پانچ قسم ہے اس سے حصر ٹوٹ گئی ماننا پڑے گا کہ یہاں حصر حقیقی نہیں اضافی ہے اور مساجد ثلاثہ کے علاوہ مسجد قبا ء کا سفر بھی تو ہے ۔ اسی لئے علمائے کرام نے فرمایا کہ سفر پانچ قسم ہے کیونکہ سفر کا حکم اس کے مقصد کی طرح ہے یعنی حرام کام کے لئے سفر کرنا حرام، جائز کے لئے جائز اور سنّت کے لئے سنت نیزفرض کے لئے فرض، حج فرض کے لئے سفر بھی فرض۔ کبھی جہاد و تجارت کے لئے سفر سنت ہے کیونکہ یہ کام خود سنت ہیں ۔ روضۂ مصطفی اکی زیارت کے لئے سفر واجب ہے کیوں کہ یہ زیارت واجب، دوستوں کی ملاقات ،شادی ،ختنہ میں اہل قرابت کی شرکت،اطباء سے علاج کرانے کے لئے سفر جائز کیونکہ یہ چیزیں خود جائز ہیں۔چوری ڈکیتی کے لئے سفر حرام ہے کیونکہ یہ کام خود حرام ہیں غرضکہ سفر کا حکم معلوم کرنا ہو تو اس کے مقصد کا حکم دیکھ لو ۔ عرس خاص زیارت قبر کا نام ہے اور زیارت قبر تو سنت ہے لہٰذا اس کے لئے سفر بھی سنت ہی شمار ہوگا قرآن کریم میں بہت سفر ثابت ہیں
ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ
جو شخص اپنے گھر سے ہجرت کے لئے اللہ اور رسول کی طرف نکل گیا پھر اس کو موت آگئی تو اس کا اجر عند اللہ ثابت ہوگیا۔سفر ہجرت ثابت ہوا
لایلف قریش ایلافہم رحلۃ الشتاء والصیف
اس لئے کہ قریش کومیل دلایا ان کے جاڑے اور گرمی کے دونوں سفروں میں ،سفر تجارت ثابت ہوا۔
اذقال موسیٰ لفتاہ لاابرح حتی مجمع البحرین او امضی حقبا
اور یاد کرو جب کہ موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں باز نہ رہوں گا جب تک کہ وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر ملتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام سے ملنے کے لئے گئے مشائخ کی ملاقات کیلئے سفر کرنا ثابت ہوا۔
یابنی اذھبوا فتحسسوامن یوسف واخیہ ولاتیئسوامن روح اللّٰہ
اے میرے بیٹو ! جاؤ یوسف اور ان کے بھائی کا سراغ لگائو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔یعقوب علیہ السلام نے فرزندوں کو تلاشِ یوسف کے لئے حکم فرمایا۔تلاشِ محبوب کے لئے سفر ثابت ہوا ۔حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا
اذھبوا بقمیصی ھذا فالقوہ علی وجہ ابی یاْت بصیرا
میرا یہ کُرتا لے جاؤ اور میرے باپ کے منہ پر ڈال دو ان کی آنکھیں کُ..
طلب کردن علم شد برتو فرض
وگر واجب است از پیش قطع ارض
علم طلب کرنا تجھ پر فرض ہے اس کے لئے سفر بھی ضروری ہے ۔طلب علم کے لئے سفرثابت ہوا گلستان میں ہے ؎
برواندر جہاں تفرج کن
پیش انسان روز کز جہاں بروی
جائو دنیا کی سیر کرو مرنے سے پہلے ۔سیر کے لئے سفر ثابت ہوا قرآن مجید میں ہے ۔
قل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین
کفار سے فرمادو کہ زمین میں سیر کرو اور دیکھو کہ کفار کا کیا انجام ہو ا جن ملکوں پر عذابِ الٰہی آیا ان کو دیکھ کو عبرت پکڑنے کے لئے سفرثابت ہوا۔
فا ئدہ
جب اس قدر سفر ثابت ہوئے تو مزاراتِ اولیاء کی زیارت کے لئے سفر بدرجہ اولیٰ ثابت ہوا یہ حضرات طبیب روحانی ہیں اور ان کے فیوض مختلف ۔ان کے مزارات پر پہنچنے سے شانِ الٰہی نظر آتی ہے کہ اللہ والے بعد وفات بھی دنیا پر راج کرتے ہیں اس سے ذوق عبادت پیدا ہوتا ہے ان کے مزارات پر دعاجلد قبول ہوتی ہے۔ شامی جلد اول بحث زیارت قبور میں۔
وھل تندب الرحلۃ لھا کما عتید من الرحلۃ الٰی زیارۃ خلیل الرحمن وزیارۃ السید البدوی لم ارمن صرح بہ من ائمتنا منع منہ بعض لانشر الشافعیۃ قیاسا علٰی منع الرحلۃ بغیر المسجد الثلث وزدہ الغزالی بوضوح الفرق
اور آیا زیارت قبور کے لئے سفر کرنا مستحب ہے جیسے آج کل خلیل اللہ علیہ السلام اور سید بدوی علیہ الرحمۃ کی زیارت کے لئے سفر کرنے کا رواج ہے۔ میں نے آئمہ میں سے کسی کی تصریح نہیں دیکھی بعض شافعی علمانے منع کیا ہے غیر مسجد وں کے سفر پر قیاس کرکے لیکن امام غزالیص نے اس منع کی تردید کردی فرق واضح فرمادیا ۔شامی میں اسی جگہ ہے
واما الاولیاء فانھم متفاوتون فی القرب الی اللہ ونفع الزائرین بحسب معارفہم اسرارہم
لیکن اولیاء اللہ تقرب الی اللہ و زائرین کو نفع پہنچانے میں مختلف ہیں بقدر اپنے معرفت واسرار کے مقدمہ شامی میں امام ابو حنیفہصکے مناقب میں امام شافعیص سے نقل فرماتے ہیں
انی کاتبرک بابی حنیفۃ واجی الی قبرہ فاظ عرضت لی حاجۃ صلیت رکعتین رصالۃاللہ عنہ تیرہ فتقضٰی سریعا
میں امام ابو حنیفہ صسے برکت حاصل کرتا ہوں اور ان کی قبر پر آتا ہوں حاجت درپیش ہوتی ہے تو دو رکعتیں پڑھتا ہوں اور ان کی قبر کے پاس جاکر اللہ سے دعا کرتا ہوں توحاجت پوری ہوتی ہے۔ اس سے چند امور ثابت ہوئے ،زیارت قبور کے سفر کرنا ۔کیونکہ امام شافعی اپنے وطن فلسطین سے بغداد آتے تھے امام ابو حنیفہ کی قبر کی زیارت کے لئے ص۔ صاحب قبر سے برکت لینا ان کی قبروں پاس جاکر دعا کرنا صاحبِ قبر کے ذریعہ حاجت روائی جاننا نیز زیارت روضۂ رسول اللہ ا کے لئے سفر کرنا ضروری ہے ۔فتاویٰ رشیدیہ جلد اول کتاب الحظر و اباحۃ صفحہ ۵۹ میں ہے زیارت بزرگان کے لئے سفر کرکے جانا علمائے اہل سنت میں مختلف ہے بعض درست کہتے ہیںاور بعض ناجائز دونوں اہل سنت کے علماء ہیں مسئلہ مختلفہ ہے اس میں تکرار درست نہیں اور فیصلہ بھی ہم مقلدوں سے محال ہے۔ رشید احمد عفی عنہ۔ اب کسی دیوبندی کو حق نہیں کہ سفرِ عرس سے کسی کو منع کرے کیونکہ مولوی رشید احمد صاحب تکرار منع فرماتے ہیں اور اس کا فیصلہ نہیں فرماسکتے ۔عقل بھی چاہتی ہے کہ یہ سفرِ زیارت جائز ہو ۔اس لئے ہم عرض کرچکے ہیں کہ سفر کی حلت و حرمت اس کے مقصد سے معلوم ہوتی ہے اور اس سفر کا مقصد تو ہے زیارت قبر اور یہ منع نہیں کیونکہ زیارت قبر کی اجازت مطلقاً ہے ’’الافزوروھا‘‘ تو سفر کیوں حرام ہوگا نیز دینی و دنیاوی کاروبار کے لئے سفر کیا ہی جاتا ہے یہ بھی ایک دینی کام کے لئے سفر ہے یہ کیوں حرام ہو؟(جاء الحق)
سوال
(۷) جس درخت کے نیچے بیعتِ رضوان ہوئی اسے حضرت عمر ص نے کٹوادیا تھا جبکہ لوگوں نے اس کو زیارت گاہ بنارکھا تھا جبکہ ایسا مقدس درخت زیارت گاہ بنانا حضرت عمر ص کو گوارا نہ ہوا تو پھر قبریں کس قطار میں کہ انہیں زیارت گاہ بنایا جائے۔
جواب
یہ محض غلط ہے حضرت عمر صنے اُس درخت کو ہر گز نہیں کٹوایا بلکہ وہ اصل درخت قدرتی طور پر لوگوں کی نگاہوں سے غائب ہوگیا تھا اور لوگوں نے اس کے دھوکے میں دوسرے درخت کی زیارت شروع کردی تھی۔اس غلطی سے بچانے کے لئے فاروقِ اعظم ص نے اس دوسرے درخت کو کٹوایا اگر فاروقِ اعظم ص تبرکات کی زیارت کے مخالف ہوتے تو حضور اکے بال مبارک تہبند شریف اور قبر انور سب ہی زیارت بنے ہوئی تھیں ان کو کیوں باقی رہنے دیا۔مسلم جلد دوم کتاب الامارت باب بیان بیعتِ رضوان ،بخاری جلددوم باب غزوہ الحدیبیہ میں ابن مسیب صسے روایت ہے
کان ابی ممن بایع رسول اللہ ﷺ عند الشجرۃ قال فانطلقا نی قابل حاجین فخفی علینا مکانہا
بخاری میں یہ اور ہے
فلما خرجنا من العام المقبل نسیناھا فلم نقدرعلیھا
میرے والد بھی ان میں سے ہیں جنہوں نے حضور ا سے درخت کے پاس بیعت کی تھی انہوں نے فرمایا کہ ہم سال آئندہ حج کے لئے گئے تو اس کی جگہ ہم پر مخفی ہوگئی۔بخاری میں ہے پس جب کہ ہم سال آئندہ گئے تو اس کو بھول گئے اور اس کو پانہ سکے پھر یہ کیونکر کہاجاسکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق ص نے اصل درخت کٹوایا۔
دیوبندیوں وہابیوں کی تحریفِ اسلام کی ایک مثال یہی مضمون بھی ہے کہ دھوکہ دیکر کچھ کا کچھ کہہ دیتے ہیں مثلاً حدیث بخاری شریف کی تصریح کے برعکس اصلی شجرۂ رضوان کٹوانے کا بیان دیدیا حالانکہ جس درخت کو کٹوادیا گیا وہ جعلی تھا لوگوں نے اپنے خیال سے اصلی شجرۂ رضوان سمجھ لیا تھا اور جعل سازی کے ہم بھی قائل نہیں بلکہ ہم سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں ایسی جعلی قبروں کے اکھیڑ پھینکنے کے قائل بلکہ عامل ہیں۔(الحمد للہ علیٰ ذالک)
نکتہ
اس واقعہ سے اتنا تو ثابت ہوا کہ محبوبانِ خدا کی نسبتوں کا عشق خیر القرون میں تھا کیونکہ اس درخت (اگرچہ جعلی ہی سہی) کو شجرۂ رضوان سمجھ کر عقیدت کرنے والے صحا بہ یا تابعی رضی اللہ عنہم کوئی وہ غیر مسلم تو نہ تھے ۔مزید تفصیل کے لئے فقیر کے رسالہ ’’بابافریدکا بہشتی دروازہ ‘‘پڑھیئے ۔
سوال
(۸) اللہ ہرجگہ ہے اس کی رحمت ہر جگہ پھر کس چیز کو ڈھونڈنے کے لئے اولیاء اللہ کے مزاروںپر سفر کرکے جاتے ہیں دینے والا رب ہے وہ ہرجگہ ہے ۔
جواب
اولیاء اللہ رحمتِ رب کے دروازے ہیں رحمت دروازوں ہی سے ملتی ہے یہی منشائے ایزدی ہے کہ اس کی عطا ء محبوبانِ خدا کے وسیلہ سے ہو چنانچہ ہمارا عقیدہ ہے ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو ساری مخلوق کو ہدایت دے دے فرمایا ہے
لو شاء لھداکم اجمعین
لیکن ہدایت کے لئے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بھیجے تاکہ ان کے وسیلہ سے اس کی ہدایت حاصل ہو یونہی اولیاء و صلحاء اور علماء کو ہدایت کا وسیلہ بنایااسی نہج پر خود رب تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام کے پاس بھیجا حالانکہ موسیٰ علیہ السلام نے خضر علیہ السلام سے جو کچھ حاصل کیا وہ خود بھی عطا کرسکتا تھا لیکن نہیں کیا تاکہ خلق خدا کو یقین ہو کہ محبوبانِ خداعطا ہائے رب تعالیٰ کے اعلیٰ وسیلہ ہیں یونہی قرآن کریم میں ہے
ھنالک دعا زکریا ربہ
یعنی زکریا علیہ السلام نے حضرت مریم کے پاس کھڑے ہوکر بچّے کے لئے دعا کی یعنی نبی نے ولیہ کے پاس دعا کرنا باعث قبول جانا۔ معلوم ہو اکہ قبور اولیاء کے پاس دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔
نکتہ
حضرت زکریا علیہ السلام اعلیٰ نے سیدہ مریم ولیہ ادنیٰ مرتبہ کو وسیلہ بنایا حالانکہ اعلیٰ وسیلہ ہوتا ہے ادنیٰ کا لیکن اللہ نے یہ قانون بدل دیا تاکہ مخلوق محبوبانِ خدا کی شان پہچانے یونہی حضور سرورِ عالم انے دو خلفائے راشدین سیدنا عمر و سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سیدنا اویس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیج کر واضح فرمایا کہ’’ پہلے بن بندے دا بندہ پچھے ملدی ہے سلطانی‘‘یعنی کسی بندۂ خدا کی غلامی اختیار کر پھر سلطانی نصیب ہوگی ۔یہاں مفتی احمد یار خان صاحب گجراتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک عقلی دلیل لاتے ہیں فرمایا کہ ریل اپنی پوری لائن سے گزرتی ہے مگر اس کو حاصل کرنے کے لئے اسٹیشن پر جانا ہوتا ہے اگر اور جگہ لائن پر کھڑے ہوگئے تو ریل گزرے گی مگر تم کو نہ ملے گی ۔ آج دنیاوی مقاصد ،نوکری،تجارت وغیرہ کے لئے سفر کیوں کرتے ہو ،خدا رازق ہے وہ ہر جگہ دے گا طبیب کے پاس بیمارسفر کرکے کیوں آتے ہیںخدا شافی الامراض ہے اور وہ تو ہر جگہ ہے آب و ہوا بدلنے کے لئے پہاڑ اور کشمیر کا سفر کیوں کرتے ہو وہاں آب و ہوا تو تندرستی کو مفید ہو لیکن اولیاء کے مقامات کی آب وہوا ایمان کو مفید نہ ہو؟
تمتہ
ہم اہلسنّت عرس کرنے کرانے کے بڑے شوقین ہیں کسی مولوی کا باپ فوت ہوجائے تو سال کے بعد عرس کی محفل ضرور جمے گی خواہ وہ صاحب عرس کے لائق تھے یا نہ ۔اگر کچھ عرس کی تقریب کے لئے اہل ثروت نے دستِ تعاون بڑھایا تو وہ عرس شریف دھوم دھام سے منایا جائے گا خوب قوالیاں ہونگی لنگر خوب چلے گا دوسرے سال وہ مولوی صاحب خوب عوام میں مقبول نظر ہونگے پھر وہ خود صاحب سجادہ ہونگے ہزاروں نہ سہی درجنوں مرید بنائیں گے تیسرے سال اب وہ بڑے پیر صاحب ہیںاور پرانے درباروں کی محافل تو لازماً ہونگی نمازیں قضا ہوں دوسرے ہزاروں فرائض کی ادائیگی کا تصور نہ ہوگا لیکن عرس شریف کے لئے سال بھر اہتمام و انتظام ضروری اور لازم ہوگا مریدوں میں کسی کے ذمے دنبے ،بکرے کسی کے ذمے چاول وغیرہ وغیرہ عرس شریف کی تاریخ کا انتظام عید کے چاندسے بڑھ کر ہوگا۔ فقیر اویسی غفرلہ بھی اس شوق میں اپنے دوسرے اہلسنّت سے پیچھے نہیں بلکہ ان سے دو گز آگے ہے کیونکہ یہ لوگ صرف شوقین ہیں لیکن فقیر تو منکرین عرس کے ساتھ برسرِ پیکار ہے نہ صرف قلم سے لڑرہا ہے بلکہ مقدمات کے زد میں رہتاہے لیکن مجھے غم نہیں کیونکہ میرے مرشد غوث الجیلانی ص صدیوں پہلے فرماگئے
مریدی لاتخف ورشٍ فانی عزوم قاتل عند القتال
چنانچہ اہل بہاول پور نے دیکھ لیا کہ فقیر پر مقدمات چلانے والے بڑے بڑے فرعونی کمشنر و ڈپٹی کمشنروغیرہ وغیرہ کیسے ذلیل و خوارہوئے اورفقیر اس عقیدہ کا قائل بلکہ ناشر ہے کہ جس بزر گ ولی اللہ کا وصال ہو اس میں ایصالِ ثواب کرنے سے ،خیر اور برکت اور نورانیت اکثر اور وافر ہوتی ہے مگر دوسرے دنوں میں وہ خیر وبرکت و نورانیت حاصل نہیں ہوتی۔چنانچہ
وقد ذکر بعض للمتاْخرین من مشائخ المغرب ان الیوم الذی وصلوا فیہ الی جناب العزۃ و حظائر القدوس یرجی فیہ من الخیر والکرامۃ والبرکۃ والنورانیۃ اکثر واوفر من سائرالایام۔(ماثبت بالسنہ ص۶۹)
مشائخ مغرب نے ذکر کیاہے کہ جس دن کہ وہ ولی اللہ درگاہ الٰہی اور جنت میں پہونچے اسی دن خیر و برکت اور نورانیت کی امید دیگردنوںکی با نسبت زیادہ ہوتی ہے اور آداب الطالبین میں ہے۔
’’اذااردت ان تتخذ ولیمۃ فاجتھد بادراک یوم موتہ والساعۃ التی نقل فیھا روحۃ لان ارواح الموتیٰ یاْتون فی ایام الاعراس فی کل عام فی ذلک الموضع فی تلک الساعۃ فینبغی ان یطعم الطعام والشراب فی تلک الساعۃ فان بذالک یفرح ارواحھم وفیہ تاثیر بلیغ فانماراْواشیئا من الماْ کولات والمشروبات یفرحون ویدعون لھم والایدعون علیھم‘‘۔
یعنی جب تو کسی ولی اللہ یا اللہ کے نیک بندے کا ختم دلانا چاہے تو اس کے انتقال (وصال) کے دن اور اس ساعت کا خیال رکھ کیونکہ موتی کی روحیں ہر سال ایام اعراس (عرس کے دنوں میں)اس مکان میں اسی ساعت میں آتی ہیںجب تو اس دن اور اس ساعت کھانا کھلائے گا اور پانی پلائے گا اور قرآن شریف اور درود پاک اور صحیح و مؤدب کلام باشرع حضرات سے بہ حسن صوت پڑھو اکر ایصالِ ثواب کرے گا اور ان کی ارواح خوش ہونگی اور تمام اہل محفل اور صاحب خانہ کے لئے دعا خیر کریں گی او ر تاریخ اور ساعت میں ایصالِ ثواب کرنے میں تاثیر بلیغ ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اسی عرس میں عمل برعکس ہوگایعنی عرس میں نامشروع امور اور وہ باتیں جو صاحبِ عرس کے مشن کے خلاف ہیں ان سے صاحب عرس نہ صرف ناراض ہونگے بلکہ بد دعا دئیںگے ۔ایسے عرس سے بجائے فائدہ کے دارین کا خسارہ ہوگا۔
گزارش اُویسی غفرلہ
اب اُویسی کی سنئے جن عرسوں پر منتظمین تھیٹر ،سینما و دیگر تماشے کشتی لڑانا ،دنگل ،اونٹوں کا دنگل اور دیگر امورنامشروع کا ارتکاب ہوتا ہے وہ اس صاحب عرس بددعا نہ دیگا توکیا کرے گا۔دَورِحاضرہ میں عرس شریف کے آداب و شرعی امور کی پابندی ضروری ہے۔سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور سلسلہ عالیہ قادریہ کے اکثر اعراس میں قرآن خوانی اور مجالس ذکر و محافل نعت خوانی بالخصوص علمائے کرام کی تقاریر اور شرعی امور کے خلاف سے پرہیز لنگر کا انتظام بھی شرعی اصول کے مطابق ہوتا ہے ۔ سلسلۂ عالیہ چشتیہ بہشتیہ اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ مبارک میں قوالی شریف پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ان حضرات سے بھی گزارش ہے کہ اصول قوالی کا لحاظ آپ حضرات کو نہایت ضروری ہے جو شرائط امام غزالیص اور حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی قدس سرہ نے احیاء العلوم وفوائد الفوائد میں بتائے ہیں اس کے خلاف سرِمو فرق نہ آئے اور قوالی شریف بھی دوائی کے طور پرہے نہ کہ غذا کے۔ عرس کے ایام میں قوالی ہی قوالی ،نہ نماز کی پابندی اور نہ مشروع امور کی ممانعت وغیرہ وغیرہ اور لنگر بھی بعض اوقات غلط صورت اختیار کرجاتا ہے اس سے فقیر صرف عرض کرسکتا ہے ورنہ آپ جانیں اور صاحب عرس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ،ہمارا کام تھا عرض کردینا۔
وما علینا الا البلاغ المبین الحمدللّٰہ علی ذلک وصلی اللّٰہ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وا ٓلہ واصحابہ اجمعین
ابو صالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفرلہ بروز سوموار (پیر)۲۷ جمادی الاول۱ ۱۴۲ھ بہاول پور پاکستان