ترجمہ: مفتی محمد خان قادری
کتاب کی اہمیت
اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت ہی قیمتی کتاب ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے حبیب ﷺ کے فضائل و کمالات پر مشتمل ہے جن کی معرفت آپ کے ساتھ ایمان اور محبت و عقیدت میں اضافہ کا سبب ہے۔شیخ عبداﷲ سراج الدین شامی آپ کے فضائل و شمائل کی علمی ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
قال اﷲ تعالیٰ ام لم یعرفوا رسولھم فھم لہ منکرون
ترجمہ: اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے ۔ کیا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں تو وہ اس کے منکر ہو۔
ان حقا علی جمیع العقلاء المکلفین ان یتعرفوا الی ھذا الرسول الکریم و شمائلہ الحمیدۃ و خصائلہ المجیدۃ وذالک لوجوہ متعددۃ الوجہ الاول ان اﷲ تعالیٰ امر العباد ان یومنوا بھذا الرسول الکریم ﷺ فقال امنوا باﷲ ورسولہ والنور الذی انزلنا واﷲ بما تعلمون خبیر والایمان بہ ﷺ یتطلب من العبادان یعرفوا فضل ھذا النبی الکریم ورفعۃ مستواہ علی غیرہ وما اسبغ اﷲ تعالیٰ علیہ من الکمالات النفسیۃ وما ادبہ من الاداب الکریمۃ الرضیۃ وما وھبہ من الخلق العظیم والخلق الحسن الکریم وما ابدع فیہ سبحانہ من المحاسن و جمع فیہ مجامع الکمالات، فجعل جوھرہ الکریم عالیا علی سائرالا فراد والا جناس بحیث لاینقاس بغیرہ من الناس
ترجمہ: تمام اہل عقل و بلوغ پر لازم ہے و فرض ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس اور آپ کے شمائل حمیدہ اور خصائل مجیدہ سے آگاہ ہوں اس کی متعدد وجوہ ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو رسول کریم ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے۔ ایمان لائو اﷲ پر، اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل فرمایا اور اﷲ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ آپ پر ایمان لانا یہ تقاضا کرتا ہے کہ بندے آپ کے فضائل اور بلند درجات سے آگاہ ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو جو ظاہری کمالات ذاتیہ،باطنی آداب و کمالات، خلق عظیم اور حسن خلق، عمدہ محاسن، تمام کمالات کا جامع بنایا ہے ان تمام کو جاننا اور تسلیم کرنا ضروری ہے۔ آپ کو اﷲ تعالیٰ نے تمام افراد اور مخلوقات پر اس طرح بلند فرمادیا ہے کہ کسی دوسرے کو آپ کے مقابل نہیں لایا جا سکتا۔
(سیدنا محمد رسول اﷲ‘ ۴)
شیخ ناصرا لدین البانی نے ان الفاظ میں اسی بات کی تصریح کی ہے۔
اننی اعتقد ان کل مسلم صادق فی اسلامہ لابدلہ من ان یتعرف علی جملۃ طیبۃ من المکارم النبی اکرم اﷲ بھانبیۃ والفضائل التی فضلہ بھا علی العالمین من الجن والناس اجمعین بل والملائکۃ المقربین بادلۃ ثابتۃ فی الکتاب والسنۃ والنظر السلیم فیھما وٰلاستنباط منھما فان ذلک ممایزیدہ بلاشکہ ایمانا وحیا مخلصا لنبی ﷺ ھذا الحب الذی ھو شرط اساسی ان یستقر فی قلب المومن مقرونا بحب اﷲ تعالیٰ الذی تفضل بارسالہ الینا وامتن ولہ المنۃ بذلک علینا فقال تبارک و تعالیٰ ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیانہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین
ترجمہ: میرا یہ عقیدہ ہے کہ مخلص مسلمان کے لئے لازم و ضروری ہے کہ کتاب و سنت کے دلائل اور ان میں صحیح نظر و فکر کے ساتھ اسے ان تمام پاکیزہ مکارم کا علم ہو جن سے اﷲ تعالیٰ نے اﷲ کو نوازا ہے اور ان فضائل سے اگاہ ہو جن کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے آپ کو تمام جہاں انس و جن بلکہ تمام مقرب فرشتوں پر فضیلت بخشی ہے کیونکہ یہ آگاہی یقینا انسان کے لئے آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت میں حسن اخلاص کا ذریعہ ہے اور محبت کے بارے میں بنیادی شرط ہے کہ وہ مومن کے دل میں اس طرح راسخ ہو جائے کہ اس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی نسبت متصل ہو اس بنا پر کہ اس ذات نے آپ کو فضیلت بخشی اور ہم میں مبعوث فرما کر احسان فرمایا اس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے ۔ھوالذی بعث فی الامیین رسولہ منھم۔(مقدمہ‘ ۴)
کتاب کی ثقاھت
شیخ ناصر الدین اس کتاب کی ثقاھت کے بارے میں رقم طراز ہیں۔
انھا رسالۃ لطیفۃ جداً جمع فیھا المؤلف رحمہ اﷲ تعالیٰ اکثر من اربعین فضیلۃ من فضائل النبی ﷺ وما اکژھا وقداستقصاھا السیوطی رحمہ اﷲ فی الخصائص الکبری فی ثلاث مجلدات کبار قسم کبیر منھا من دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصیھانی ودلائل النبوۃ لامام البیہقی وفی ھذا الکتب الثلاثۃ بخاصۃ الاول منھا کثیر من الاحادیث الفعیفۃ والموضوعۃ بخلاف رسالۃ المؤلف ھذہ فانھانخبۂ ممتازہ لیس فیھا بفضل اﷲ مایمکن القطع بضعنہ بل جلہ ان لم اقل کلہ صحیح ثابت۔
ترجمہ: یہ رسالہ نہایت ہی خوبصورت ہے اس میں مصنف رحمۃ اﷲ تعالیٰ نے آپ کے چالیس سے زائد فضائل کو جمع کیا ہے۔ امام سیوطی نے اس موضوع پر الخصائص الکبری تین جلدوں میں لکھی ہے۔ اسی طرح اس موضوع پر دو ضخیم کتب امام ابو نعیم کی دلائل النبوۃ اور امام بیہقی کی دلائل النبوۃ بھی ہیں ان تینوں کتب خصوصاً پہلی میں بہت سی احادیث ضعیف اور موضوع ہیں،بخلاف اس رسالہ کے کیونکہ یہ اس حوالے سے نہایت ہی ممتاز ہے اس میں اﷲ کے فضل سے کوئی ایسی حدیث نہیں جسے یقینی طور پر ضعیف کہا جاسکے بلکہ (اگر البانی نہیں کہتا) اس کی تمام روایات صحیح اور ثابت ہیں۔(مقدمہ‘ ۴)
کچھ ترجمہ کے بارے میں
اﷲ تعالیٰ کی توفیق و رسول اﷲ ﷺ کی نظر عنایت سے کافی عرصہ سے یہ کوشش جاری ہے کہ جو بھی عربی کتاب آپ کے شمائل و فضائل اور کمالات پر ملے اسے اردو زبان میں ڈال لیا جائے تاکہ اردو خوان حضرات اس سے استفادہ کرسکیں۔ سلطان العلما کی یہی کتاب شیخ ناصر الدین البانی کی تحقیق کے ساتھ ۱۹۸۳ ء میں شائع ہوئی۔ ۱۹۹۱ ء میں بندہ کو یہ حاصل ہوئی اس کا ترجمہ ایک ساتھی کے ذمہ لگایا لیکن وہ توجہ نہ دے سکے‘ اس عرصہ میں کافی دفعہ خیال آیا کہ چند دنوں کا کام ہے اسے ہونا چاہیے مگر ہوتا ہے وہی جو اﷲ تعالیٰ کو منظور ہو۔ اسی صفر کے آخری دنوں جامعہ اسلامیہ لاہور میں بندہ کو فون پر اطلاع ہوئی کہ محترم الحاج محمد عارف قادری ضیائی نے مدینہ منورہ سے آپ کے لئے کچھ کتب بھیجیں ہیں وہ آپ کو کہاں پہنچائی جائیں۔بندہ نے شادمان کا اپنا پتہ دے دیا۔ایک دن جامعہ سے گھر واپس آیا تو محترم قادری صاحب کا تحفہ موصول ہوا جس میں دیگر کتب کے علاوہ یہ کتاب بھی تھی۔ عصر کے بعد جب میں دفتر بیٹھا تو خیال آیا کیوں نہ اس کتاب کا ترجمہ کردیا جائے بس شروع ہونے کی دیر تھی چند گھنٹوں میں اﷲ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمادی۔ یکم ربیع الاول ۱۴۱۷ کی رات کو سونے سے پہلے کچھ فجر کی نماز کے بعد اور تقریباً ڈیڑھ صفحہ کے قریب جامعہ میں جاکر ترجمہ کیا۔ اس طرح یہ کام مکمل ہوگیا۔ محمد خاں قادری جامعہ اسلامیہ لاہور
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
اﷲ تعالیٰ نے ہمارے بنی ﷺ پر احسان و کرم اور اپنے ہاں آپ کا جو مقام ہے اس سے آگاہ فرماتے ہوئے فرمایا۔
وانزل ﷲ علیک الکتاب والحکمۃ وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اﷲ علیک عظیما (النساء)
ترجمہ: اور اﷲ نے تم پرکتاب اور حکمت اتاری اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اﷲ کا تم پر بڑا فضل ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے بعض رسولوں پر بعض کو فضیلت عطا فرمائی ہے۔
منھم من کلم اﷲ ورفع بعضم درجات (البقرہ ۲۵۲)
ترجمہ: ان میں کسی سے اﷲ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند کیا۔
پہلی فضیلت در فضیلت کی تصریح ہے۔ دوسری کو درجات کے ساتھ تعبیر کرتے ہوئے نکرہ رکھا جو کثرت تعظیم و درجات پہ دال ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو متعدد وجوہ کے اعتبار سے فضیلت عطا فرما رکھی ہے۔
آپ تمام کے سردار ہیں
پہلی فضیلت یہ ہے کہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے سردار و سربراہ ہیں۔ آپ کا فرمان ہے۔
اناسید ولد آدم ولافخر (صحیح ابن حبان ۶۲۳۲)
ترجمہ: میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں مگر اس پر فخر نہیں۔
سربراہ وہی شخص ہوسکتا ہے جو تمام سے بلند صفات اور اخلاق عالیہ سے متصف ہو۔ یہ فرمان بتارہا ہے کہ آپ دونوں جہانوں میں افضل ہیں۔ دنیا میں اس لیے کہ آپ اخلاق مذکورہ سے متصف ہیں اور آخرت میں اس لئے کہ وہاں جزا اوصاف و اخلاق کے مطابق ہوگی۔ جب اﷲ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں مناقب و شمائل اور آخرت میں مراتب و درجات میں فضیلت بخشی تو آپ نے فرمایا ’’اناسید ولد آدم ولافخر‘‘ تاکہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں جو آپ کا مقام و مرتبہ ہے اس سے امت آگاہ ہوجائے۔
چونکہ اکثر طور پر انپے مناقب بیان کرنے والے لوگ بطور فخر بیان کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ’’ ولا فخر‘‘ فرما کر اس بات کا قلمع قمع فرما دیا کہیں کوئی جاہل یہ وہم نہ کرے کہ آپ نے بطور فخر ایسا فرمایا۔
حمد کا جھنڈا میرے ہاتھوں میں ہوگا
آپ ﷺ نے فرمایا۔
وبیدی لواء الحمد یوم القیامۃ (سنن ترمذی ۳۱۴۸)
ترجمہ: روز قیامت حمد کا جھنڈا میرے ہاتھوں میں ہوگا مگر مجھے فخر نہیں۔
حضرت آدم اور تمام لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے
آپ ﷺ نے فرمایا۔
آدم فمن دونہ تحت لوائی یوم القیامۃ ولا فخر (مسند احمد ۲۶۸۷)
ترجمہ: حضرت آدم اور تمام انسان روز قیامت میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔
یہ تمام خصائص بتا رہے ہیں کہ آپ ﷺ مرتبہ میں سیدنا آدم اور دیگر انبیاء سے بلند ہیں اور فضیلت کا معنی یہی ہوتا ہے کہ انسان مناقب و مراتب میں خصوصی مقام رکھتا ہو۔
مغفرت کی خوشخبری
آپ ﷺ پر اﷲ تعالیٰ کا یہ انتہائی کرم ہے کہ اس نے آپ ﷺ کو دنیا میں ہی بشارت عطا فرما دی کہ آپ ﷺ کے اگلے پچھلے تمام معاملات پر مغفرت و بخشش ہے۔ باقی کسی نبی کے بارے میں ایسی کوئی خوشخبری منقول نہیں بلکہ ظاہر یہی ہے کہ انہیں اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا کیونکہ روز محشر جب ان سے شفاعت کی درخواست کی جائے گی تو ہر کوئی اپنی لغزش کا تذکرہ کرتے ہوئے نفسی نفسی کہے گا، اگر انہیں کسی ایسی بات کی اطلاع دی گئی ہوتی تو وہ کبھی لوگوں کی غمخواری میں تاخیر نہ فرماتے۔
واذا استشفعت الخلائق بالنبی ﷺ فی ذلک المقام قال انا لما
ترجمہ: جب اس مقام پر تمام مخلوق نبی اکرم ﷺ سے شفاعت چاہے گی تو آپ ﷺ فرمائیں گے میں اسی لئے ہوں۔
سب سے پہلے شفاعت کرنے والے ہیں
آپ ﷺ سب سے پہلے شفاعت کریں گے اور آپ کی شفاعت مقبول ہوگی یہ چیز بھی آپ کی تخصیص و تفضیل پر شاہد ہے۔
دعا میں ایثار
ہر نبی کے لیے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا تم جو دعا کرو میں اسے قبول کروں گا، ہر نبی نے اسی دنیا میں وہ دعا کرلی مگر ہمارے نبی ﷺ نے وہ دعا امت کی شفاعت کی خاطر محفوظ رکھ لی۔
اﷲ تعالیٰ نے آپ کی زندگی کی قسم اٹھائی
اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تمام زندگی کی قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا۔
لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون (الحجر،۷۲)
ترجمہ: اے محبوب تیری عمر کی قسم وہ یقیناً آپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں۔
کسی کی زندگی کی قسم اٹھانا شاہد ہے کہ قسم اٹھانے والے کے ہاں اس کی کتنی عزت و وقار ہے۔آپ ﷺ کی حیات مبارکہ واقعتا اس لائق ہے کہ اس کی قسم اٹھائی جائے کیونکہ جو عمومی و خصوصی برکات اس میں ہیں وہ کسی اور کے لیے کہاں ثابت ہیں ؟
اعلیٰ خطاب کے ساتھ عزت بخشی
اﷲ تعالیٰ نے جب آپ ﷺ کو خطاب فرمایا تو اس میں آپ ﷺ کے پیارے پیارے اسما اور القاب سے نوازا مثلاً یایھا النبی‘ یایھا الرسول یہ خصوصیت صرف آپ کو حاصل ہے کسی اور کے لیے ثابت نہیں بلکہ دیگر انبیاء علیہم اسلام کو ان کے ناموں سے بلایا گیا ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
یا آدم اسکن انت و زوجک‘ یا عیسیٰ ابن مریم اذاکر نعمتی علیک یا موسیٰ انی انااﷲ ‘یانوح اھبط بسلام‘یا داؤد انا جعلناک خلیفۃ فی الارض‘ یاابرھیم قدصدقت الرویا‘یالوط اناارسل ربک‘یا ذکر یا انا نبشرک‘ یایحییٰ خذالکتابo
اور یہ بات ہر ایک پر آشکار ہے جب کوئی آقا اپنے بندوں میں سے کسی کو افضل صفات و اعلیٰ القابات سے بلائے اور اور دوسروں کو ان کے ایسے ناموں سے جن میں کوئی اہم فضیلت نہ ہو تو جسے افضل و ااعلیٰ القابات سے بلایا جا رہا ہے اس کا آقا کے ہاں مقام زیادہ ہے اور یہ عرفا معلوم ہے کہ جسے اس کے افضل اوصاف سے بلایا جاتا ہے بلانے والے کے ہاں اس کی بہت عزت و احترام ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ کسی شاعر نے خوب کہا ۔
لا تدعنی الا بیا عبدھا
فانہ احسن اسمائی
ترجمہ: اے آقا مجھے تو اپنا بندہ کہہ کر بلالے کیونکہ مجھے یہ نام سب سے پسند ہے۔
آپ کا زندہ معجزہ قرآن ہے
ہر نبی کا معجزہ ختم ہوگیا مگر سید الاولین ولاخرین کا معجزہ قرآن مبین تا قیامت زندہ اور باقی ہے۔
پتھر کا سلام اور کھجور کا رونا
آپﷺ کی خدمت میں پتھر نے سلام کیا۔ آپﷺ کے فراق میں کھجور کا تنا رویا اور یہ چیز کسی اور نبی کے لیے ثابت نہیں۔
خذمانراہ و دع شیئا سمعت بہ
ترجمہ: جسے تو نے اپنے آنکھوں سے دیکھا اسے مضبوطی سے تھام لے اور جو سنا ہوا ہے اسے چھوڑ دے۔
اکمل معجزات
آپ ﷺ کو جو معجزات عطا ہوئے وہ دوسروں کے معجزات سے اعجاز میں بڑے کامل ہیں مثلاً انگلیوں سے چشمہ کا جاری ہونا‘ پتھر سے پانی ہونے افضل ہے کیونکہ پتھروں سے چشمے جاری ہوتے رہتے ہیں لہٰذا آپ ﷺ کا معجزہ انگلیوں سے پانی جاری ہونا یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ سے اعلیٰ ہے جس میں پتھر سے پانی جاری ہوا۔
آنکھوں کی بینائی لوٹانا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام مادر زاد اندھوں کو بینائی عطا کرتے لیکن وہاں آنکھ اپنے مقام پر ہوتی تھی لیکن رسول اﷲ ﷺ کی یہ شان و عظمت ہے کہ آپ ﷺ نے رخسار پر بہہ جانے والی آنکھ کو واپس لوٹادیا۔ اس میں دو طرح کا معجزہ ہے۔(۱) آنکھ کے بہہ جانے کے بعد اسے اپنے مقام پر جوڑ دینا۔(۲) بینائی ختم ہوجانے کے بعد بینائی کا واپس لوٹانا۔
ایمان کی زندگی عطا کرنا
جتنی اموات کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بدنی زندگی عطا کی اس سے کہیں زیادہ رسول اﷲ ﷺ نے مردہ کفار کو ایمان جیسی دولت عطا کی۔ حیات ایمان اور حیات میں جو فرق ہے وہ واضح ہے۔
سب سے زیادہ اجر و ثواب آپ کو حاصل ہوگا
اﷲ تعالیٰ نے ہر نبی کے بارے میں یہ لکھ دیا ہے کہ اسے اس کی امت کے اعمال‘احوال اور اقوال کے مطابق اجر ملے گا۔آپ ﷺ کی امت ‘ اہل جنت کا نصف ہوگی۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی امت کے بارے میں فرمایا ہے یہ امت بہتر امت جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے کیونکہ یہ معارف‘ احوال ‘اقوال اور اعمال کے ساتھ منصف ہونے کی وجہ سے تمام سے بہتر ہے۔
کوئی معرفت‘حال‘عبادت‘قول اور پرورش جو اﷲ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنتی ہے ایسی نہیں جس پر رسول اﷲ ﷺ نے رہنمائی نہ فرمائی ہو اور آپ نے اس کی دعوت نہ دی ہو‘ تاقیامت اس کا اجر اور اس پر عمل کرنے والے کا اجر آپ ﷺ کو حاصل ہوگا۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے۔
من دعا الی ھدی کان لہ اجرہ واجر من عمل بہ الی یوم القیامۃ (المسلم ۲۶۷۴)
ترجمہ: جس نے کسی نیکی کی طرف رہنمائی کی اس کے لیے اس کا اجر ہے اور ہر اس شخص کا اجر بھی اسے ملے گا جس نے روز قیامت تک اس پر عمل کیا۔
حضرت انبیاء علیہم السلام میں سے کوئی بھی اس مقام و مرتبہ تک نہیں پہنچا۔
حدیث میں یہ بھی آیا ہے۔
الخلق کلھم عیال اﷲ فاحبھم الیہ انفعھم لعیالہ (مجمع الزوائد ۸'۱۹۱)
ترجمہ: تمام مخلوق اﷲ تعالیٰ کا خاندان ہے اﷲ کو وہ سب سے محبوب ہے جو اس کے خاندان کو زیادہ نفع پہنچائے۔
آپ ﷺ نے اہل جنت کے نصف کو جبکہ دیگر انبیاء میں سے پر نبی نے دوسرے نصف کے ایک جز کو نفع بخشا ہے۔ آپ کا مقام قرب الٰہی میں اس قدر بلند ہے جس قدر نفع میں بلند ہیں۔
امت کے پر عارف کی معرفت حضور ﷺ کے معارف کی طرف منسوب ہوگی اور اس کا آپ کو اجر حاصل ہوگا۔
امت کے ہر صاحب حال کا حال ‘ آپ ﷺ کی احوال کی برکت سے ہے‘ اس کا اجر آپ ﷺ کو ملے گا۔ امت کا کوئی صاحب مقال ایسا نہیں جس کا قول اﷲ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنے اور وہ آپ ﷺ کے مقالات اور رتبلیغ کا فیضان نہ ہو۔ اس کا اجر آپ کو ضرور حاصل ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بننے والے اعمال‘ نماز‘زکوۃ‘ غلاموں کی آزادی‘جہاد‘نیکی‘معروفِذکر‘صبر‘عفو اور درگزر میں کوئی ایسا عمل نہیں جس پر اجر آپ ﷺ کو حاصل نہ ہوامت آپ ﷺ کے ارشادات عالیہ اور راہنمائی کی وجہ سے بھی ہوگا‘ جبکہ آپ کی امت میں جس نے کسی دوسرے کی رہنمائی کی اسے بھی عمل کرنے والوں کے مطابق اجر ملے گا اور آپﷺ کو تو اس عمل کرنے اور رہنمائی کرنے والے دونوں کا اجرملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام رو پڑے
اسی لیے معراج کی رات رشک کرتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام رو پڑے کہ آپ ﷺ کی امت‘ ان کی امت سے کثرت سے جنت میں جائے گی۔ بطور ھسد نہ روئے جیسا کہ بعض جہاں نے گماں کیا ہے‘ آپ کو تو اس پر رشک آیا کہ میں یہ مقام نہ پاسکا۔
تمام جن و انس کے رسول
اﷲ تعالیٰ نے پر نبی کو ایک خاص قوم کی طرف بھیجا مگر آپ ﷺ کو تمام جن و انس کا نبی بنایا ‘ ہر نبی نے امت کو جو تبلیغ کی اس کا ثواب اسے ملے گا۔ ہمارے کریم آقا کو ان تمام کا ثواب نکے جن کی طرف آپ ﷺ مبعوث ہوئے خواہ انہیں آپ نے بلا واسطہ تبلیغ فرمائی یا بالواسطہ اس لیے احسان جتلائے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔
ولوشئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیرا (الفرقان ۵۱)
ترجمہ: اورہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈر سنانے والا بھیجتے۔
احسان یوں بنتا ہے کہ اگر اﷲ تعالیٰ پر قریہ میں الگ الگ نبی بھیج دیتے تو آپ ﷺ کو اسی قریہ والوں کا ثواب ملتا جس کی طرف آپ نبی ہوتے۔
سدرۃ المنہتی پر کلام
اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوہ طور اور وادی مقدس میں کلام سے نوازا مگر ہمارے بنی ﷺ سے سدرہ المنہتی کے مقام پر کلام کا شرف عطا فریا۔
بعد میں آکر جنت میں پہلے
آپ ﷺ نے فرمایا ہم دنیا میں آخر آئے ہیں‘ قیامت میں پہلے ہوں گے۔ ہمارا حساب تمام مخلوق سے پہلے ہوگا ہم جنت میں میں سب سے پہلے داخل ہوں گے۔(سنن ابن ماجہ‘۱۰۸۳)
سب سے پہلے روضہ اقدس سے اٹھنا
آپ نے اپنی سربراہی کا تذکرہ کرتے ہوئے روز قیامت کا ذکر کیا اور کہا میں روز قیامت اولاد آدم کا سربراہ بنوں گا۔
اول من ینشق عنہ البقر واول شافع واول مشفع (المسلم ۲۲۷۸)
ترجمہ: سب سے پہلے میں روضہ انور سے اٹھوں گا اور سب سے پہلے شفاعت کروں گا اور میری شفاعت سب سے پہلے قبول کی جائے گی۔
ہے خلیل اﷲ کو حاجت رسول اﷲ کی
آپ نے یہ بھی فرمایا روز قیامت تمام خلق خدا حتیٰ کہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام بھی میری طرف رجوع کریں گے۔
وسیلہ آپ کا مقام ہے
آپ نے فرمایا جنت میں وسیلہ نامی مقام کسی اﷲ کے بندے کو ملے گا امید کرتا ہوں وہ میں ہوں گا جس نے میرے لیے وسیلہ کی دعا کی اس کے لیے شفاعت ہے۔(المسلم‘۳۸۴)
ستر ہزار امتی بلا حساب جنت میں
آپ کی امت میں سے ستر ہزار افراد بلا حساب جنت میں جائیں گے اور یہ چیز کسی اور کے لیے ثابت نہیں۔
حوض کوثر اور حوض قیامت کی ملکیت
آپ کو جنت میں حوض کوثر کا اور میدان محشر میں حوض کا مالک بنا دیا ہے۔
مناقب میں افضل و اعلیٰ
آپ نے فرمایا ہم آخری مگر سابق ہیں یعنی زمانہ کے لحاظ سے آخری اور مناقب و فضائل کے اعتبار سے پہلے ہیں۔
مال غنیمت کا حلال ہونا
آپ کی خاطر مال غنیمت کو حلال کردیا گیا حالانکہ پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ امت کی صفوں کو ملائکہ کی صفیں اور آپ کی خاطر تمام زمین کو سجدہ گاہ اور مٹی کو پاکیزگی عطا کردی گئی۔ یہ تمام خصائص آپ کی بلند مرتبت اور امت پر رحمت و شفقت پر دال ہیں۔
۲۵۔اخلاق عظیمہ کے مالک
اﷲ تعالیٰ نے آپ کے سیرت و کردار کی مدح فرماتے ہوئے فرمایا۔
وانک لعلی خلق عظیم (القمل ۴)
ترجمہ: بلاشبہ آپ عظیم اخلاق کے مالک ہیں۔
جب کوئی بڑا کسی شی کو بڑا کہتا ہے تو یقینا اس کی بڑائی میں خوب عظمت ہوگی اور جب سب سے بڑا کسی کو بڑا کہے تو اس وقت اس بڑائی کا کیا عالم ہوگا ؟
بلا واسطہ کلام کا شرف
اﷲ تعالیٰ نے آپ سے تین طرح کلام فرمایا۔
۱۔ سچے خوابوں کی صورت میں۔
۲۔ بلا واسطہ کلام فرمایا۔
۳۔ جبریل امین کے ذریعہ سے ۔
سب سے جامع کتاب
آپ ﷺ کو ایسی کتاب عطا فرمائی جو تمام کتب تورات‘انجیل اورزبور پر جامع اور ان کے تمام مضامین کو انپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ افضل کو افضل ہی عطا کیا جاتا ہے۔
عمل کم ‘ اجر زیادہ
آپ ﷺ کی امت نے پہلوں سے عمل کم کیا ہے مگر اجر ان سے زیادہ پائے گی۔جیسا کہ حدیث صحیح میں موجود ہے۔
زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں
اﷲ تعالیٰ نے زمین کے تمام خزائن کی چابیان آپ ﷺ کو دیں اور اختیار دیا کہ آپ ﷺ چاہیں تو بادشاہ بن جائیں یا نبی عبد ‘ آپ نے جبریل سے مشورہ کیا انہوں نے تواضع کی طرف اشارہ کیا آپ نے عرض کیا میں نبی عبد بننا چاہتا ہوں۔
اجوع یوما واشبع یوماً فاذا جعت دعوت اﷲ واذا سبعت دعوت اﷲo(سنن الترمذی‘۲۳۴۸)
ترجمہ: ایک دن میں بھوکا رہوں اور ایک دن سیر ہوجائوں جب بھوک لگے تو میں اﷲ سے مانگوں اور جب سیر ہو جائوں تو اﷲ کا شکر ادا کروں۔
یعنی آپ ﷺ نے چاہا کہ میں ہر حال میں اپنے رب کے ساتھ مشغول رہوں خواہ وہ حالت تکلیف ہویا خوشی ‘ وہ حالت نعمت ہویا حالت پریشانی۔
رحمۃ للعالمین کی شان
اﷲ تعالیٰ نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کے گناہ گاروں کو مہلت دی ہے‘ بخلاف گزشتہ انبیاء کی امتوں کے جیسے ہی انہوں نے جھٹلایا ان پر عذاب آگیا۔
رہا آپ کے اخلاق کا معاملہ‘ تو آپ ﷺ حلم‘عفو‘درگزر‘صبر‘شکر‘نرمی وغیرہ میں درجہ کمال پر فائز ہیں۔
آپ ﷺ کے خشوع و خضوع‘کھانے پینے‘ پہننے ‘رہائش‘معاشرت و میل جول میں سادگی اور تواضع‘ امت کے لیے خیر خواہی‘ لوگوں کے ایمان پر حریص‘رسالت کا بوجھ‘ اہل ایمان کے ساتھ شفقت‘ کفار پر سختی اور شدت‘ دین الٰہی کی مدد اور اس کی سربلندی کے لیے تکالیف برداشت کرنا مثلاً وطن چھوڑنا‘ ہجرت کرنا وغیرہ۔تو ان میں بعض کا تذکرہ کتاب اﷲ میں ہے اور بعض کا تذکرہ کتب شمائل و سیرت میں ہے۔ آپ کی نرمی کا بیان ہے۔
فبما رحمۃ من اﷲ لنت لھم (آل عمران ۱۵۹)
ترجمہ: تو کیسی کچھ اﷲ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لئے نرم دل ہوئے۔
کفار پر سخت اور اہل ایمان کے لیے سراپا رحمت کا تذکرہ یوں ہے۔
محمد رسول اﷲ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماٗ بینھم (الفتح ۲۹)
ترجمہ: محمد اﷲ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔
امت کے ایمان پر حریص‘ تمام اہل ایمان پر راحت و شفقت کا ذکر اس آیت میں ہے۔
لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیە ماعنتم حریص علیکم بالموٗمنین رؤوف رحیم (التوبہ ۱۲۸)
ترجمہ: بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان۔
ادائیگی رسالت میں آپ ﷺ کی حسن نیت اور اخلاص یہ ہے۔
فنول عنھم فماانت بملوم (الذاریات ۵۴)
ترجمہ: تو اے محبوب تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کچھ الزم نہیں۔
امت عادل حکام کے درجہ پرفائز
اﷲ تعالیٰ نے آپﷺ کی امت کو عادل حکام کا درجہ عطا فرمایا ہے جب اﷲ تعالیٰ روز قیامت بندوں کا فیصلہ فرمائے گا تو سابقہ امتیں اپنے انبیاء کی تبلیغ کا انکار کردیں گی اس پر آپ کی امت لایا جائے گا جو اس بات کی گواہی دے گی کہ انبیاء علیہم السلام نے انہیں تبلیغ کی تھی یہ خصوصیت کسی اور نبی کی امت کو حاصل نہیں۔
امت گمراہی پر جمع نہیںہوسکتی
آپ ﷺ کی امت کو یہ درجہ عصمت عطا فرمایا کہ وہ کسی گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی خواہ وہ فروع ہو یا اصل۔
کتاب اﷲ کی حفاظت
حضور کو عطا کردہ کتاب کی حفاظت اﷲ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لی اگر تمام کائنات مل کر اس میں اضافہ یا کمی کرنا چاہے تو نہیں کر سکتی حالانکہ تورات و انجیل میں تبدیلی واقع ہوچکی ہے۔
عدم قبولیت عمل پر پردہ
پہلے جس کا عمل و قربانی قبول ہوتی آسمان سے آگ آکر اس قربانی کو کھا جاتی اور جس کی قبول نہ ہوتی اسے ذلیل کرنے کے لیے ویسی ہی چھوڑ دی جاتی لیکن اﷲ تعالیٰ نے آپ کی امت پر کرم فرماتے ہوئے نہ قبول ہونے والے عمل پر بھی پردہ ڈال دیا ہے۔ اسی لیے اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمینo(الانبیاء‘۱۰۷)
ترجمہ: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لیے۔
آپ ﷺ کا ارشاد ہے۔
انما انا رحمۃ مھداۃo(دلائل النبوۃ‘۱:۱۵۸)
ترجمہ: میں سراپا رحمت ہوں۔
دوسرے مقام پر فرمایا۔
انا نبی الرحمۃo(المسلم‘۲۳۵۵)
ترجمہ: میں نبی رحمت ہوں۔
۔جامع کلمات سے نوازا گیا
آپ ﷺ کو اﷲ تعالیٰ نے جامع کلمات سے نوازا‘ گفتگو میں اختصار مگر تمام عرب سے فصاحت و بلاغت میں فوقیت حاصل ہوگئی جیسا کہ تمام انبیاء و رسل پر بھی اسی طرح اس رسل پر بھی جنہیں اہل سما اور ملائکہ میں سے منتخب کیا گیا ہے کیونکہ افضل بشرملائکہ سے بھی افضل ہوتے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔
ان الذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک ھم خیر البریۃo(البینہ‘۷)
ترجمہ: بے شک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی تمام مخلوق سے بہتر ہیں۔
اور ملائکہ بھی مخلوق میں سے ہیں کیونکہ لفظ بریہ ’’برا اﷲبحلو‘‘ سے ماخوذ ہے یعنی اﷲ نے ان کی تخلیق فرمائی ہاں ان کے اندر یہ دونوں اوصاف موجود ہونے کے باوجود لفظ ’’امنوا وعملوا الصلحت‘‘ میں وہ شامل نہیں کیونکہ ان کے اطلاق سے مفہوم انسان ہی ہوتے ہیں لہٰذا یہ الفاظ اس کے ساتھ مختص ہیں۔
سوال۔ البریہ براء سے مشتق ہے معنی یہ ہوگا جو ایمان لائے نیک عمل کیے وہ خیرالبشر ہیں۔
جواب۔ (۱)۔ آئمہ لغت نے ’’ البریہ‘‘ کو ان الفاظ میں شامل کیا ہے جن میں عرب ہمزہ نہیں پڑھتے۔ (۲)۔امام نافع نے اسے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دنوں قراتیں کلام اﷲ ہیں‘اگر ایک قرات اہل ایمان و عمل کو باقی انسانوں پر افضل قرار دے رہی ہے تو دوسری اسے تمام مخلوق سے افضل بتارہی ہے۔
جب یہ ثابت ہوگیا کہ افضل بشر ملائکہ سے افضل ہوتا ہے تو انبیاء علیہم السلام اہل ایمان وعمل سے بالیقین افضل ٹھہرے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے جماعت انبیاء کے تذکرہ کے بعد فرمایا۔
وکلا فضلنا علی العالمینo(الانعام‘۸۶)
ترجمہ: اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔
یہ آیت کریمہ واضح کرہی ہے کہ حضرات انبیاء علیہم اسلام بشروں اور ملائکہ سے افضل ہیں کیونکہ عالمین میں ملائکہ بھی شامل ہیں خواہ یہ علم سے مشتق ہو یا علامت سے جب انبیاء ملائکہ سے افضل ٹھہرے تو رسول اﷲ ﷺ ملائکہ کے سرداروں کے بھی سردار ہوئے تو آپ ملائکہ سے دو درجہ افضل و اعلیٰ ہوئے‘ ان مراتب کی قدر و منزلت اور بلندی اس ذات مبارکہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا جس نے خاتم النبین اور سید المرسلین کو تمام زمانوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔
ہم اﷲ تعالیٰ سے اس کے کرم و فضل کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم اپنے اس مقدس رسول کی سنت‘ طریقہ اور تمام اخلاق ظاہرہ و باطنہ میں اہتمام کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں آپ کے خدام و معاونین میں شام فرمائے۔
والحمدﷲ وحدہ تم الکتاب بحمد الملک الوہاب
نوٹ:یہ ترجمہ بروز بدھ ۳۰ صفر ۱۴۱۷ بعد نماز عصر جامع رحمانیہ شادمان میں شروع ہوا۔یکم ربیع الاول۱۴۱۷ بروز جمعرات جامعہ اسلامیہ لاہور میں اختتام پذیر ہوا یعنی اﷲ تعالیٰ نے فقط ایک رات میں اس ترجمہ کی توفیق عطا فرمائی۔