بسم اﷲ الرحمن الرحیم
تبلیغی جماعت
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کہ شہروں اور دیہاتوں کی مساجد میں پیش امام کے سلام پھیرتے ہی کچھ لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں اور نمازیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ’’آپ نماز کے بعد کچھ دیر کے لیے مسجد میں ہی بیٹھ جائیں تاکہ ہم مل جل کر اللہ اور رسول کی باتیں کرسکیں۔ پھر نماز کے بعد ان میں سے کوئی صاحب ’’تبلیغی نصاب‘‘ (فضائلِ اعمال) نامی کتاب پڑھتا ہے اور پھر چند افراد پر مشتمل یہ گروہ گلی کوچوں میں گھوم کر تبلیغ کرتا ہے۔ یہ جماعت عرف عام میں تبلیغی جماعت کے نام سے مشہور ہے۔ ابتدائی طورپر اس جماعت کے جو پروگرام پیش کیے جاتے ہیں وہ کچھ اس طرح ہے کہ
- لوگوں سے کلمہ پڑھواکر اللہ جل شانہ کا ذکر کیا جائے۔
- انہیں مسجد میں جمع کرکے اللہ کی باتیں کی جائیں۔
- ان کو نماز کا پابند بنایا جائے اور دیگر مسلمانوں میں تبلیغ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
ظاہر ہے کہ ان مقاصدِ حسنہ سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔ لیکن ؎ ہیں کو اکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
کے مصداق تبلیغی جماعت کا حقیقی روپ ان ہی کے بزرگوں کے اقوال و افعال کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ لیکن اس حقیقی روپ کے مطالعہ سے پہلے قارئین کرام ذیل کی چند مثالوں کو پڑھ کر ایک مسلّمہ اصول ذہن نشین فرمائیں۔
- کیا کسی کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا جاسکتا ہے کہ آئیے صاحب میں آپ کو دھوکہ دے رہا ہوں۔ نہیں, بلکہ دھوکے باز پہلے ہمدردی اور محبت کی بات کرکے بعد میں دھوکہ دیتا ہے۔
- کیا کبھی کسی نے کسی آدمی کو یہ کہہ کر زہر دیا ہے کہ لیجیے صاحب زہر کھاکر ہمیشہ کے لیے میٹھی نیند سو جائیے۔ نہیں, بلکہ زہر دینے والا زہر کو کسی میٹھی چیز میں چھپا کر دے گا۔
- جب شکاری کسی پرندے کو شکار بنانا چاہتا ہے تو وہ اسی کی بولی بولتا ہے, حالانکہ شکاری انسان ہوتا ہے لیکن وہ اپنے مقصد کے لیے پرندہ بن جاتاہے۔
- مشہور مقولہ ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کے ذہن میں پروگرام کچھ اور ہوتا ہے لیکن زبان سے کچھ اور بتاتے ہیں۔
- اسلام میں نیا فرقہ پیدا کرنے والا شخص کیا یہ کہہ کر نیا فرقہ بناسکتا ہے کہ آئیے مسلمانو! مَیں اسلام میں نیا فرقہ بنارہا ہوں, آپ میرا ساتھ دیجیے۔ نہیں, بلکہ وہ شخص فرقہ بندی کی مخالفت کرے گا, لیکن اندرونِ خانہ وہ ایک نیا فرقہ بنائے گا۔
- کیا ہمارے دشمن ملک کا جاسوس آکر ہمیں یہ بتا دے گا کہ مَیں جاسوسی پر متعین ہوں۔ نہیں,بلکہ وہ ہمارا بن کر ہماری جڑیں کاٹے گا۔
- کیا احادیثِ رسول کے منکر مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملانے کی دعوت دینے کے وقت یہ کہیں گے کہ وہ احادیثِ رسول کے منکر ہیں؟ (ہرگز نہیں) بلکہ وہ غلام احمد قادیانی کی طرح اپنے رسالوں کے صفحۂ اوّل پر حدیث شائع کرکے فریب دیںگے۔
- کیا کوئی شخص اپنا مال یہ کہہ کر فروخت کرے گا کہ میرا مال خراب ہے۔ ہرگز نہیں, بلکہ اپنے مال کو دنیا کے سارے دکان داروں کے مال سے اچھا بتائے گا۔ ان روزمرّہ کے مشاہدات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اگر کوئی جماعت یا فرد اگر بظاہر اچھی اور میٹھی باتیں کرے, اور نیک مقاصد کا اظہار کرے تو یہ ضروری نہیں کہ ہم بغیر سوچے سمجھے اور بغیر پرکھے اس کے ساتھ ہولیں۔ بلکہ ہمیں پوری تحقیق کرکے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں وہ رہبر کے لباس میں رہزن تو نہیں ہے۔ اسی لیے کسی شاعر نے خوب کہا ہے۔
لباسِ خضر میں یاں سیکڑوں رہزن بھی پھرتے ہیں
اگر جینے کی خواہش ہے تو کچھ پہچان پیدا کر
اب آپ تبلیغی جماعت کا حقیقی روپ ان ہی کی کتابوں کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے۔ کسی بھی مذہب یا تحریک کے مقاصد معلوم کرنے کا اہم ترین ذریعہ اس تحریک کے بانی اور اکابرین کی کتابوں سے ہوتا ہے۔ تبلیغی جماعت کے بانی مولوی الیاس دہلوی ہیں۔ ان کے علاوہ مولوی یوسف, مولوی زکریا اور مولوی منظور نعمانی تبلیغی جماعت کے اہم ستون تصور کیے جاتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے اکابرین میں مولوی اسماعیل دہلوی, مولوی اشرف علی تھانوی, مولوی رشیداحمد گنگوہی, مولوی قاسم نانوتوی وغیرہ شامل ہیں۔ خود مولوی الیاس لکھتے ہیں کہ:
’’حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت بڑا کام کیا ہے۔ بس میرا دل چاہتا ہے کہ تعلیم تو ان کی ہو اور طریقۂ تبلیغ میرا ہو, کہ اس طرح کی تعلیم عام ہوجائے گی۔‘‘ (ملفوظاتِ مولانا الیاس) اسی طرح دوسری جگہ مولوی الیاس لکھتے ہیں کہ : ’’حضرت گنگوہی (رشید احمد گنگوہی) اس دور کے قطب ارشاد اور مجدّد تھے۔‘‘(ملفوظاتِ الیاس) یہی رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں کہ مولوی اسماعیل دہلوی کی کتاب ’’تقویت الایمان‘‘ ہر گھر میں رکھنا عین اسلام ہے۔
مولوی قاسم نانوتوی کے بارے میں صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ وہ مدرسۂ دیوبند کے بانی ہیں, جہاں سے برصغیر کے مسلمانوں کے قلوب سے عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ ختم کرنے کی تحریک شروع ہوئی۔
یہ تو تھے تبلیغی جماعت کے اکابرین لیکن ہوسکتا ہے کہ تبلیغی جماعت کا کوئی شخص ان حضرات کو اکابر ماننے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ ان حضرات نے اپنی کتابوں میں حضور اکرم ﷺکی شان میں گستاخیاں کی ہیں۔ لیکن اس انکار سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ اوّل تو خود مولوی الیاس بانیِ تبلیغی جماعت کے مرکزی اجتماع گاہ کے باہر لگائے جانے والے بُک اسٹالوں سے ان اکابرینِ تبلیغی جماعت کی کتابیں فروخت کی جاتی ہیں۔ قبل اس کے کہ تبلیغی جماعت کے ان اکابرین کی تعلیمات کا اصل نقشہ ہدیۂ قارئین کیا جائے ایک اور وضاحت یہ کرنی ہے کہ اگر صحیح العقیدہ سُنّی سے پوچھا جائے کہ آپ اپنے اکابرین کے نام بتائیے تو وہ فوراً امام حسین, امام حسن, امام ابوحنیفہ, حضرت غوث الاعظم, حضرت خواجہ اجمیری, حضرت مجدّد الف ثانی اور حضرت امام احمدرضا بریلوی رضوان اللہ علیہم اجمعین کانام گنوا دے گا, لیکن چونکہ تبلیغی جماعت کے اکابرین کی کتابیں رسولِ اکرم ﷺ کی شان میں گستاخیوں سے بھری پڑی ہیں۔ اس لیے وہ اپنے اکابرین کا نام بتانے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ خیر یہ تو اپنی اپنی قسمت کی بات ہے۔ اب آئیے اکابرینِ تبلیغی جماعت کی کتابوں سے ان کی تعلیمات ملاحظہ فرمائیے۔
مولوی اسمٰعیل دہلوی کی تعلیمات
- نماز میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خیال لے جانا اپنے گدھے اور بیل کے خیال میں ڈوب جانے سے بدرجہا بدتر ہے۔ (صراط مستقیم)
- ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا, اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے۔ (تقویت الایمان, ص۴۴)
- حضور نے فرمایا کہ مَیں بھی مرکر مٹّی میں ملنے والا ہوں۔ (تقویت الایمان)
- جس کا نام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مالک و مختار نہیں۔ (تقویت الایمان, ص۳۲)
- حضور کی تعظیم بڑے بھائی کے برابر کرنا چاہیے کیونکہ آپ بھی انسان ہیں۔ (تقویت الایمان, ص۴۸)
- روضۂ مطہرہ کا فقط زیارت کے لیے سفر کرنا شرک ہے۔ (تقویت الایمان)
- انبیاء کی تعریف بشر کی سی کرو۔ سو اس میں بھی کمی کرو۔ (تقویت الایمان)
مولوی قاسمِ نانوتوی کی تعلیمات
- انبیاء اپنی اُمّت میں اگر ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں۔ باقی رہا عمل تو اس میں بسا اوقات بظاہر اُمتی مساوی ہوجاتے ہیں۔ بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔ (تحذیر الناس)
- عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابقین کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں, مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدّم یا تاخّر زمانی میں بالذّات کچھ فضیلت نہیں, پھر مقامِ مدح ولٰکن رسول اللّٰہ و خاتم النبین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی کوئی اور نبی آبھی جائے تو اس سے خاتمیتِ محمدی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ (تحذیر الناس, ص۲۸)
مولوی قاسم نانوتوی کی اس عبارت کو قادیانی بھی بطور حوالہ پیش کرتے ہیں کہ اگر بالفرض کسی نبی کے آنے سے خاتمیتِ محمدی میں فرق نہیں پڑتا, تو مرزا غلام احمد کے آنے سے کیا فرق پڑے گا؟ مولوی قاسم نانوتوی کی ان عبارتوں سے مولوی الیاس کی کس قدر حوصلہ افزائی ہوئی, اس کو آئندہ صفحات پر ملاحظہ فرمائیے گا۔
مولوی رشید احمد گنگوہی کی تعلیمات
- لفظ’’رحمت للعالمین‘‘ صفت خاصہ رسول اللہ نہیں ہے۔ (فتاویٰ رشیدیہ, جلد دوم) یعنی حضور اکرم ﷺ کے علاوہ بھی کسی کو رحمۃ للعالمین لکھا جاسکتا ہے۔ نعوذباللہ۔ (فتاویٰ رشیدیہ, جلددوم)
- انعقادِ مجلس مو لود ہر حال ناجائز ہے۔
- وہ شخص جو صحابہ کرام ہی کی تکفیر کرے (کافر قرار دے) وہ ملعون ہے ۔ ایسے شخص کو امام مسجد بنانا حرام ہے اور وہ اپنے اس کبیرہ کے سبب سنت جماعت سے خارج نہ ہوگا۔ (فتاویٰ رشیدیہ) حالانکہ اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہے تو وہ خود کافر ہوجاتا ہے لیکن افسوس کہ مولوی صاحب صحابہ کرام کی دشمنی میں اس قدر ضدّی ہوگئے ہیں کہ صحابہ کرام کو کافر کہنے والے کو سنت جماعت سے خارج بھی نہیں کہتے۔
- سُن لو! کہ حق وہی ہے جو رشید احمد کی زبان سے نکلتا ہے اور بقسم کہتا ہوں کہ مَیں کچھ نہیں ہوں مگر اس زمانے میں ہدایت و نجات موقوف ہے میری اتباع پر۔ (تذکرۃ الرشید, جلد دوم) یہ وہ دعویٰ ہے جو صرف نبی ِ کریم کرتے رہے ہیں۔ لیکن رشید احمد گنگوہی اپنے متعلق یہ دعویٰ کررہے ہیں۔ کیوں؟ یہ فیصلہ قارئین خود فرمالیں۔
- محرم میں ذکرِ شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کرنا اگر بہ روایت صحیحہ ہو, سبیل لگانا, شربت پلانا, چندہ سبیل و شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب نادرست اور تشبّہ روافض کی وجہ سے حرام ہے۔ (فتاویٰ رشیدیہ) لیکن اس کے برعکس اسی فتاویٰ رشیدیہ میں مولوی رشید احمد گنگوہی نے لکھا ہے کہ ہندو جو پیائو لگاتے ہیں, اس کا پانی پینا جائز ہے۔
- بذریعہ منی آرڈر روپیہ بھیجنا نا درست اور داخلِ ربوٰ (سود) ہے۔ (فتاویٰ رشیدیہ) حالانکہ ان مولوی صاحب کے گھر نذرانے کے طور پر بطور عطیہ کچھ رقم روانہ کی جائے۔ تو بسر وچشم قبول کرلیں گے۔
- عیدین میں معانقہ کرنا بدعت ہے۔ (فتاویٰ رشیدیہ)
احادیث کی روشنی میں بدعتی کی سزا جہنم ہے۔ اگر مولوی صاحب کا فتویٰ صحیح مان لیا جائے تو عید تو کیا ہوئی مسلمانوں کے لیے مصیبت ہوگئی کہ ہر سال لاکھوں مسلمان جہنمی بن جائیں۔ خود تبلیغی جماعت والے بھی عید کے روز گلے ملنے سے ان کے سارے تبلیغی گشتوں کا ثواب چلا جاتا ہے اور بقول مولوی گنگوہی وہ جہنم کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
مولوی اشرف علی تھانوی کی تعلیمات
یہ بات تو زبانِ زد عام ہے کہ مولوی اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ’’حفظ الایمان‘‘ میں حضور اکرم ﷺ کے علمِ غیب کو جانوروں, پاگلوں کے علم سے تشبیہ دی تھی جس پر سُنّی علمائے حجاز و برصغیر نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ مولوی اشرف علی تھانوی کی تعلیمات کے کچھ اور حوالے بھی پیش خدمت ہیں جن کو پھیلانے کے لیے مولوی الیاس نے تبلیغی جماعت بنائی تھی۔
- ایک مرتبہ کسی مرید نے مولوی (تھانوی) صاحب کو لکھا کہ : مَیں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ لاالہ الا اللّٰہ کے بعد اشرف علی رسول اللّٰہ منہ سے نکل جاتا ہے, جب بیدار ہوکر کوشش کرتا ہوں کہ صحیح کلمہ اور صحیح درود پڑھوں لیکن زبان قابو میں نہیں ہے, ہر جگہ محمد رسول اللّٰہ کے بجائے اشرف علی رسول اللّٰہ نکلتا ہے۔
مولوی اشرف علی نے اس کو جواب لکھا کہ ’’اس واقعہ میں تسلی ہے, اس لیے کہ میں سُنّت کی اتباع کرتا ہوں۔ (رسالہ الامداد ماہ صفر ۱۳۳۶ ھ, برہان فروری ۵۲ء)
ملاحظہ فرمایا آپ نے! لکھنا تو یہ چاہیے تھا کہ جلدی توبہ کرو اور صحیح کلمہ پڑھو, ورنہ مسلمان نہیں رہوگے۔ لیکن چونکہ دارالعلوم دیوبند کے بانی مولوی قاسم نانوتوی نے دروازۂ نبوت کھول رکھا ہے اس لیے یہاں تو ہر شخص مدّعیِ نبوت ہے۔ اگر یہی واقعہ مرزا غلام احمد قادیانی سے منسوب کرکے کسی تبلیغی جماعت کے فرد کو سنا یا جائے تو وہ برملا کہے گا کہ یہ کفر ہے اور اس کا کہنا بھی صحیح ہے۔ لیکن اگر اسے یہ بتایا جائے کہ یہ مولوی اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے تو ٹال مٹول سے کام لے گا۔ تف ہے ایسی اندھی عقیدت مندی پر۔
- اپنی کتاب ’’قصد السبیل‘‘ میں مولوی اشرف علی تھانوی مندرجہ ذیل امور کو ناجائز قرار دے رہے ہیں اور عوام کو اس سے بچنے کی تلقین کررہے ہیں۔ ذرا اس فہرست کو ملاحظہ فرمائیے اور سوچیے کہ دنیا کے تمام مسلمانوں اور تبلیغی جماعت کے اکابرین کے عقیدے میں کتنا فرق ہے۔
- مُردے کا تیجہ, دسواں, بیسواں اور چالیسواں کرنا, عرس میں جانا, بزرگوں کی منّت ماننا, فاتحہ , نیاز, گیارہویں شریف وغیرہ متعارف طورپر کرنا, رواج کے موافق مولود شریف کرنا, تبرکات کی زیارت کے لیے عرس کا انتظام کرنا, شب برأت کا حلوہ پکانا, رمضان شریف میں ختم قرآن کے موقع پر شیرینی ضرور کرکے بانٹنا۔ (قصدالسبیل)
تبلیغی جماعت سے سادگی کے سبب وابستہ ہونے والے افراد بتائیں گے کہ اگر وہ مولوی الیاس کی خواہش کے مطابق تھانوی کی تعلیمات کو عام کریں گے تو مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوگا یا نہیں اور اس کا ذ مہ دار کون ہوگا؟ جب دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت صدیوں سے ان کاموں کو نیک سمجھ رہی ہے تو پھر تبلیغی جماعت کے اکابر کون ہوتے ہیں ان کاموں کو ناجائز بتانے والے۔
قارئین خود ہی انصاف کریں کہ اگر شب برأت کو حضور ﷺ کی پسندیدہ غذا حلوہ پکایا جائے, خود بھی کھایا جائے اور فقرا و مساکین کو بھی کھلایا جائے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ اسی طرح اگر مرُدے کو ثواب پہنچانے کے لیے کسی دن بھی فاتحہ کرائی جائے تو اس میں کون سا شرک ہے؟ اور پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ہی تھانوی صاحب کے عزیز مولوی احتشام الحق تھانوی صرف سرمایہ داروں میں اپنی پوزیشن کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے یہ سارے ناجائز کام کرتے ہیں۔ حالاں کہ کوئی بھی غیرت مند مسلمان اگر کسی چیز کو ناجائز سمجھتا ہے تو اس سے دور رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر بے غیرت ہو تو بھی چھپ کر ناجائز کام کرتا ہے۔ لیکن مولوی احتشام الحق تھانوی کسی بھی بااثر شخص کے مرتے ہی سارے ناجائز کام کچھ اس ترکیب سے کرتے ہیں کہ دوسرے دن اخبارات میں تصویریں بھی آجاتی ہیں۔
جب اشرف علی تھانوی کانپور کے مدرسہ جامع العلوم میں پڑھایا کرتے تھے, تو ایک دن انہوں نے اہلِ محلّہ سے صاف صاف کہہ دیا کہ بھائی! یہاں وہابی رہتے ہیں, یہاں فاتحہ کے لیے کچھ مت لایا کرو۔ (اشرف السوانح, جلد اوّل)
ہے کوئی تبلیغی جماعت والا جو اس حوالے کے بعد بھی کہہ دے کہ ہم وہابی نہیں ہیں۔ اسی سلسلے میں مولوی رشید احمد گنگوہی کا فتویٰ بھی موجود ہے کہ ’’محمد ابن عبدالوہاب‘‘ کے مقتدیوں کو وہابی کہتے ہیں۔ ان کے عقائد نہایت عمدہ تھے۔ (فتاویٰ رشیدیہ, جلد اوّل)
لگے ہاتھوں محمد ابن عبدالوہاب کا ایک ہی عقیدہ ان کی ہی زبانی سُن لیجیے۔
- حضور ﷺ کے مقبرے کا دیکھنا ایسا گناہ ہے جیسے بُتوں کا دیکھنا۔ (کتاب التوحید) یہ تو ہیں تبلیغی جماعت کے اراکین کے عقائد۔ جب یہ حضرات ان عقائد کو عام کرنے کے لیے گلی کوچوں میں نکلتے ہیں تو نتیجہ کیا نکلتا ہے اس کو ایک مثال سے سمجھ لیجیے۔ ایک صاحبِ نماز جمعہ کے بعد بارگاہِ رسالت میں ہدیہ درود و سلام پیش کررہے تھے, تبلیغی جماعت کے ایک صاحب نے انہیں سلام پڑھنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ مولوی اشرف علی تھانوی نے ’’بہشتی زیور‘‘ میں سلام پڑھنے کو شرک لکھا ہے۔ بس اس بات پر ہنگامہ ہوگیا, لوگوں نے تبلیغی جماعت والوں سے کہا کہ آپ خود نہیں پڑھنا چاہیں تو نہ پڑھیں, لیکن اتنی رواداری کا مظاہرہ تو کریں کہ جو پڑھنا چاہے اس کو پڑھنے دیں۔ قارئین کرام غور فرمائیں کہ اگر تبلیغی جماعت والے سلام پڑھنے سے منع کرتے تو یہ انتشار برپا ہوتا؟ اگر پوری دیانت داری سے جائز لیا جائے تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ تبلیغی جماعت کے عقائد ہی ایسے ہیں کہ جن کی اشاعت ہی موجبِ انتشار ہے۔
اب آیئے, مَیں آپ کے سامنے تبلیغی جماعت کے اکابرین کی تضاد بیانیوں اور اوٹ پٹانگ دعوؤں کی چند مثالیں پیش کروں تاکہ ان کی صحیح تصویر ابھر کر سامنے آجائے۔
- کسی بھی تبلیغی جماعت والے سے یہ پوچھیے کہ یہ طریقۂ تبلیغ جو آپ نے اختیار کیا ہوا ہے وہ کس کا ہے؟ فوراً جواب ملے گا کہ یہ طریقہ صحابۂ کرام کا ہے, لیکن مولوی الیاس کی بھی سنیے۔ آپ نے (مولوی الیاس )نے فرمایا کہ: ’’اس تبلیغ کا طریقہ بھی مجھ پر خواب میں منکشف ہوا۔‘‘ (ملفوظاتِ الیاس) مولوی الیاس لکھتے ہیں کہ حق تعالیٰ اگر کسی سے کام کو نہیں لینا چاہتے تو چاہے انبیاء بھی کتنی کوشش کرلیں تب بھی ذرّہ نہیں ہل سکتا اور کرالینا چاہے تو تم جیسے ضعیف سے بھی وہ کام لے لیں جو انبیاء سے بھی نہ ہوسکے۔ (مکاتیبِ الیاس)
الامان والحفیظ! کارکنوں میں گستاخیِ رسول کا کیسا مکروہ جذبہ پیدا کیا جارہا ہے اور یہ کوئی اتفاقی جملہ نہیں ہے۔ مولوی الیاس کے شیخ الاسلام مولوی حسین احمد مدنی نے بھی یہی بات کہی ہے۔ ’’پیغمبر کو عمل کی وجہ سے فضیلت نہیں۔ عمل میں تو بعض اُمتی پیغمبر سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ (رسالہ مدینہ, بجنور جولائی ۱۹۵۸ء)
اسی سلسلے کے دو حوالے اور ملاحظہ فرمائیں تاکہ آپ کو یہ معلوم ہوسکے کہ تبلیغی جماعت کے افراد مولوی الیاس کو نبی کا درجہ دیتے ہیں یا اس سے کچھ کم۔
- آپ (مولوی الیاس) نے فرمایا کہ اللہ کا ارشاد > کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَامُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَِر کی تفسیر خواب میں القا ہوئی کہ تم مثلِ انبیاء کے لوگوں کے واسطے ظاہر کیے گئے ہو۔ (ملفوظاتِ الیاس)
- ایک بار (مولوی الیاس) نے فرمایا, خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ بعض کو خواب میں ایسی ترقی ہوتی ہے کہ ریاضت و مجاہدے سے نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کو خواب میں علومِ صحیحہ القا ہوتے ہیں جو نبوت کا حصہ ہے, پھر ترقی کیوں نہ ہو۔ علم سے معرفت بڑھتی ہے اور معرفت سے قرب بڑھتا ہے۔ اسی لیے ارشاد ہے: > قُلْ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا پھر فرمایا آج کل خواب میں مجھ پر علومِ صحیحہ کا القا ہوتا ہے اس لیے کوشش کرو کہ مجھے نیند زیادہ آئے۔ (ملفوظاتِ الیاس)
بات دراصل یہ ہے کہ عیسائیوں نے مسلمانوں کو صلیبی جنگوں کے ذریعہ ختم کرنے کی کوشش کی, لیکن جب وہ ناکام رہا تو اس نے منصوبہ بنایا کہ مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کی صورت میں صرف یہی ہے کہ مسلمانوں سے جذبۂ جہاد اور جذبۂ عشقِ رسول ختم کردیا جائے۔ ظاہر ہے کہ انگریز براہِ راست مسلمانوں سے ان جذبوں کے ختم کرنے کی اپیل نہیں کرسکتا تھا, اس لیے اس نے جہاں مرزا غلام احمد قادیانی اور پرویز کو استعمال کیا, وہیں کچھ اور لوگوں کو بھی اس نے اپنا آلۂ کار بنایا۔ وہ کون لوگ تھے؟ ان کی نشاندہی ہم خود نہیں کرتے بلکہ بلا تبصرہ کچھ حوالے پیش کرتے ہیں۔ تاکہ قارئین خود فیصلہ کریں کہ انگریز نے کس کو آلۂ کار بنایا۔ مولوی رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں:
’’بعض کے سروںپر موت کھیل رہی تھی, انہوں نے کمپنی (انگریز) کے عافیت کے زمانے کو قدر کی نگاہ سے نہ دیکھا اور رحمدل گورنمنٹ کے سامنے بغاوت کا علم قائم کیا۔‘‘ (تذکرۃ الرشید)
- یہی مولوی رشید احمد گنگوہی جن کو بانیِ تبلیغی جماعت, قطبِ ارشاد یا مجدّد کہتے ہیں, ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ :
- جب میں حقیقت میں سرکار (برٹش گورنمنٹ) کا فرماں بردار ہوں تو ان جھوٹوں سے میرا بال بھی بیکا نہ ہوگا۔ اور اگر مارا بھی گیا توسرکار مالک ہے, اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔ (تذکرۃ الرشید) مولوی شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں کہ : دیکھیے مولوی اشرف علی تھانوی ہمارے اور آپ کے مُسلّم بزرگ اور پیشوا ہیں, ان کے متعلق بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سُنا گیا کہ ان کو چھ سو روپے ماہوار حکومت (انگریز) کی جانب سے دیئے جاتے تھے۔ (مکالمۃ الصدرین)
- مولانا تھانوی کے بھائی محکمہ سی آئی ڈی میں بڑے عہدہ دار آخر تک رہے, ان کا نام مظہر علی تھا۔ (مکتوباتِ شیخ, جلد دوم)
- مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ناظم جمعیت علمائے ہند دہلی نے کہا کہ الیاس صاحب کی تبلیغی حرکت کو ابتداء ً حکومت (انگریز) کی جانب سے بذریعہ حاجی رشید احمد کچھ روپیہ ملتا تھا۔‘‘ (مکالمۃ الصدرین) قارئین خود فیصلہ فرمالیں کہ انگریز کا ایجنٹ کون تھا۔ ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ جب اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا کہ عیسائی تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ تو پھر کسی بھی مولوی صاحب کے کہنے پر ہم انگریز کو مسلمان کا خیر خواہ یا رحم دل نہیں کہہ سکتے۔ رہا یہ سوال کہ وہ اپنے ایجنٹوں کے حق میں رحمدل تھا یا نہیں تو اس کا فیصلہ ایجنٹوں نے اپنی کتابوں میں کردیا ہے۔انگریز کو بھلا کیا ضرورت ہے کہ وہ تبلیغ اسلام کے لیے فنڈ دے, اس نے تو اُلٹا مجاہدینِ اسلام کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ علامہ فضلِ حق خیر آبادی, مولانا فضلِ رسول بدایونی, مولانا لطف اللہ علی گڑھی, مفتی عنایت احمد کاکوری, مولانا احمد اللہ مدراسی, مفتی عبدالکریم دریا بادی, (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) یہ سارے انگریز کی جارحیت, سفا کی اور درندگی کے نشان بن چکے ہیں۔
یہ تو خیر واضح حقیقت ہے کہ انگریز تبلیغ اسلام کے لیے فنڈ فراہم نہیں کرسکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مولوی الیاس کا مقصد بھی تبلیغ تھا۔ ہم خود اگر اس پر رائے زنی کریں تو بات جانب دارانہ کہلائے گی۔ اس لیے اس مسئلے پر الیاس صاحب ہی روشنی ڈالیں توبہتر ہوگا۔ چلیے ان ہی کی رائے سن لیجیے کہتے ہیں کہ :
ظہیرالحسن میرا مدّعا کوئی پاتا نہیں, لوگ سمجھتے ہیں کہ (تبلیغی جماعت) تحریکِ صلوٰۃ ہے, مَیں قسم سے کہتا ہوں کہ یہ ہرگز تحریکِ صلوٰۃ نہیں ہے۔ بڑی حسرت سے فرمایا کہ میاں ظہیرالحسن ایک نئی قوم پیدا کرنی ہے۔ (دینی دعوت)
کیوں پیدا کرنی ہے؟ کیا انگریز اسی غرض سے تو مالی اعانت نہیں کرتا تھا؟ اب تک ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کی تصدیق کے لیے ہم تبلیغی جماعت کے گھر کے بھیدی کی شہادت پیش کرتے ہیں۔ تاکہ بھولے بھالے مسلمانوں کو یہ کہکر ٹالا نہ جاسکے کہ لکھنے والے تبلیغی جماعت کے دشمن ہیں, ان کا کام ہی مخالفت کرنا ہے۔
مولوی عبدالرحیم شاہ صاحب جو کہ کافی عرصہ سے تبلیغی جماعت کا کام کرتے رہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ تبلیغی جماعت والے علماء کی قدر نہیں کرتے اور خود جاہل ہونے کے باوجود درس دینے لگتے ہیں تو انہوں نے تبلیغی جماعت سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور ایک کتاب بنام (اصولِ دعوت و تبلیغ) لکھی جس میں صاف صاف لکھا کہ:
’’غور کا مقام ہے کہ کوئی شخص بغیر سند کے کمپونڈر تک نہیں بن سکتا۔ مگر لوگوں (تبلیغ جماعت والوں نے) دین کو اتنا آسان بنالیا ہے کہ جس کا جی چاہے وعظ و تقریر کرنے کھڑا ہوجائے۔ کسی سند کی ضرورت نہیں۔ ایسے ہی موقع پر یہ مثال خوب صادق آتی ہے کہ ’’ نیم حکیم خطرئہ جان۔ نیم مُلاّخطرئہ ایمان۔‘‘ (اصولِ دعوت و تبلیغ)
آخر میں ایک غلط فہمی کا ازالہ اور کروں کہ بعض سیدھے سادے مسلمان اس الجھن کا شکار ہوئے ہیں کہ تبلیغی جماعت والے بڑے پکّے نمازی ہیں انہیں کیسے گمراہ قرار دیا جائے۔ اس کا جواب انہیں کے اشرف علی تھانوی کی زبانی سنیے۔ جن کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے مولوی الیاس نے تبلیغی جماعت بنائی۔ لیجیے جواب حاضر ہے:
’’جب مولوی اشرف علی تھانوی نے شبلی نعمانی کو کافر قرار دیا تو مولوی عبدالماجد دریا بادی نے اشرف علی تھانوی کو خط لکھا کہ ’’شبلی تو بڑے نمازی, پرہیزگار اور تہجد گذار ہیں۔‘‘ اس پر مولوی اشرف علی تھانوی نے جواب دیا کہ … ’’بددین آدمی اگر دین کی باتیں بھی کرتا ہے تو ان میں ظلمت لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔ (کمالاتِ اشرفیہ)
قادیانی بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ تبلیغ ہم کرتے ہیں لیکن ان کے عقائد کی بنا پر ان کو دنیا کے سارے مسلمان کافر قرار دیتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کا حقیقی روپ بالکل بے نقاب ہوکر آپ کے سامنے آچکا ہے۔ اب آپ سے ہماری درخواست ہے کہ آپ فیصلہ کریں کہ حق پر کون ہے۔ روزِ محشر کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ وہاں تو ہر اُمتی نفسی نفسی پکارتا ہوا بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں پہنچے گا۔ تبلیغی جماعت والے یا سادگی سے اُن کے دام میں پھنسنے والے بھولے بھالے لوگ سوچ لیں کہ آج اگر انہوں نے اس جماعت کا ساتھ دیا جس کے اکابرین نے حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی ہیں تو کل میدانِ حشر میں کملی والے آقا ﷺ کے سامنے کیا منہ لیکر جائیں گے؟… لیکن ہاں! ابھی تو توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ بہتری اسی میں ہے کہ گستاخانِ رسول کے گروہ سے نکل کر غلامانِ رسول کی صف میں شامل ہوجایا جائے۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے خوب فرمایا ہے:
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
مسلمانوں کو تبلیغی جماعت سے کیوں الگ رہنا چاہیے ؟
ایک بنیادی سوال
کوئی بھی غیرت مند مسلمان کسی ایسی تحریک کو ہرگز قبول نہیں کرسکتا جس سے ایمان و عقیدے کے جذبے کو ٹھیس پہنچتی ہو۔ بے عمل رہنا یقینا بدنصیبی کی بات ہے لیکن عمل کے نام پر بدعقیدہ بن جانا آخرت کا اتنا بڑا نقصان ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔
ذیل میں تبلیغی جماعت کی معتبر کتابوں کے حوالے سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ وہ دین کے نام پر مسلمانوں کو بے دین بنانے والی ایک نہایت چالاک جماعت ہے۔ کلمہ اور نماز کے نام پر مسلمانوں کو اپنے رسول کی طرف سے بدعقیدہ بنانا, اولیا ء اللہ کی عظمت گھٹانا اور مذہبِ اہلِ سُنّت کو مٹاکر دنیا میں وہابیت پھیلانا تبلیغی جماعت کا بنیادی نصب العین ہے۔ چلّہ, گشت اور چلت پھرت کا طریقہ انہوں نے اسی لیے نکالا ہے کہ حق پرست مسلمانوں کا ذہن تبدیل کرنے کے لیے سفر کی حالت میں انہیں تنہائی اور اعتماد کے لمحے میسر آسکیں۔
ہم اپنے دینی بھائیوں سے ایمان کی سلامتی کی خواہش کی بنیاد پر مخلصانہ التماس کرتے ہیں کہ وہ تبلیغی جماعت کی آواز پر قدم اُٹھانے سے پہلے ایک بار انصاف کی نظر سے ہماری اس تحریر کا مطالعہ فرمالیں۔ جس میں تبلیغی جماعت سے الگ رہنے کی معقول وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہماری بات آپ کے دل میں اُتر جائے اور مذہبِ اہلِ سُنّت کے خلاف آپ وقت کے سب سے بڑے فتنے سے ہوشیار ہوجائیں۔ تبلیغی جماعت کی اس دھونس میں ہرگز نہ آئیے گا کہ اس کے ساتھ بڑے بڑے انجینئر, ڈاکٹر, پروفیسر اور لکھ پتی و کڑورپتی تاجر ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو پھر بھی کم حیثیت کے ہیں ہمارا دعویٰ تو یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ نجد کے بادشاہ امیر فیصل ہیں۔ پوری نجدی حکومت ہے اور نجد کے ریال پر ان کا سارا کاروبار چل رہا ہے۔ تاکہ جس طرح نجدی قوم نے مکّے اور مدینے میں بڑے بڑے صحابہ اور اہلِ بیت کے مزارات اور رسولِ پاک کی یادگار میں بنائی ہوئی مسجدوں کو توڑ کر کھنڈر بنادیا ہے, ہندوستان میں بھی خواجہ اور صابر محبوب اور مخدوم شہید اور قطب کے مزاروں کے ساتھ وہی کھیل کھیلا جائے اور اس طرح شیطان کی وہ سازش کامیاب ہوجائے کہ روئے زمین پر خدا کے محبوب بندوں کی کوئی نشانی باقی نہ رہے۔
ایک عظیم خوشخبری
ذیل کے مضمون میں جتنے حوالے دیئے گئے ہیں وہ سب تبلیغی جماعت کی کتابوں سے اخذ کیے گئے ہیں۔ ایک حوالہ بھی غلط ثابت کرنے پر ایک ہزار روپے نقد انعام کا اعلان کیا جاتا ہے۔ (ناشر)
’’تبلیغی جماعت کی موجودہ تحریک قرآن و حدیث کے خلاف ہے‘‘
مولانا الیاس کے خلیفہ و معتمدد مولانا احتشام الحسن صاحب کا اعلان
تبلیغی جماعت کے سلسلے میں ہماری یہ رائے شاید کسی غلط جذبے پر مبنی سمجھی جائے لیکن اسے کیا کہیے گا کہ مولانا احتشام الحسن صاحب جو مولانا الیاس کے برادر نسبتی اور ان کے خلیفۂ اوّل اور ان کے معتمد خصوصی ہیں, خود ان کا بیان ہے:
’’نظام الدین کی موجودہ تبلیغ میرے علم و فہم کے مطابق نہ قرآن و حدیث کے مطابق ہے اور نہ حضرت مجدّد الف ثانی اور حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی اور علمائے حق کے مسلک کے مطابق ہے۔‘‘ (اصولِ دعوت و تبلیغ کا آخری ٹائٹیل پیج)
اب آپ ہی ایمان و انصاف کو درمیان میں رکھ کر فیصلہ کیجیے کہ جب نظام الدین کی موجودہ تبلیغ قرآن و حدیث کے بھی خلاف ہے, علمائے حق کے مسلک کے بھی خلاف ہے تو اتنی دلیری کے ساتھ مسلمانوں کو ایک گناہ کی دعوت کیوں دی جارہی ہے۔ آخر ایک غیر اسلامی فعل کے لیے … کیوں ان کا قیمتی وقت, ان کے پسینے کی کمائی اور ان کی صلاحیتوں کا دن دھاڑے خون کیا جارہا ہے۔
موصوف کا اعتراف کہ موجودہ تبلیغی تحریک بدعت و گمراہی ہے۔
اس کے بعد لکھتے ہیں:
’’میری عقل و فہم سے بہت بالا ہے کہ جو کام حضرت مولانا الیاس صاحب کی حیات میں اصولوں کی انتہائی پابندی کے باوجود صرف بدعتِ حسنہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کو اب انتہائی بے اصولیوں کے بعد دین کا اہم کام کس طرح قرار دیا جارہا ہے۔ اب تو منکرات کی شمولیت کے بعد اس کو بدعتِ حسنہ بھی نہیں کہا جاسکتا۔‘‘ (اصولِ دعوت و تبلیغ کا آخری ٹائٹیل پیج)
اس بیان میں تو موصوف نے تبلیغی جماعت کی بساط ہی اُلٹ کر رکھ دی ہے۔ جب مولانا الیاس ہی کی زندگی میں یہ بات طے پاگئی ہے کہ تبلیغی جماعت کی موجودہ تحریک سُنّت نہیں بدعت ہے تو مسلمانوں کو اتنے عرصے تک کیوں دھوکہ میں رکھا گیا کہ یہ انبیا کا طریقہ ہے, یہ صحابہ کی سُنّت ہے۔ اور اب اس کا حال یہ ہے کہ بدعتِ حسنہ بھی نہیں رہی بلکہ بدعتِ ضلالت کے خانے میں چلی گئی جس کے مرتکب کو حدیث میں جہنم کی بشارت دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ہمارے گھر کا نہیں ہے بلکہ تبلیغی جماعت کے ان پرانے رہنمائوں کا ہے جو تبلیغی جماعت کی گمراہیوں سے بیزار ہوکر الگ ہوگئے ہیں۔
اب انصاف و دیانت کا تقاضہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے موجودہ قائدین یا تو مولانا احتشام الحسن کے ان لزامات کی صفائی پیش کریں یا پھر سادہ لوح مسلمانوں کو ایک گناہ کی طرف دعوت دینے کا یہ سلسلہ بند کریں۔
میوات میں تبلیغی جماعت کا فریب
مولوی عبدالرحیم شاہ دیوبندی جو تبلیغی جماعت کے پرانے کارکن ہیں انہوں نے اپنی کتاب ’’(اصولِ دعوت و تبلیغ)میں انکشاف کیا ہے کہ آج کل میوات میں تبلیغی جماعت کے لوگ کلمہ و نماز کی تبلیغ کے بجائے مسلمانوں کو کافر و مرتد بنانے کی مہم میں مصروف ہیں۔ جیسا کہ موصوف کے الفاظ یہ ہیں: ’’ہمارے میوات والے ماشاء اللہ عرب و عجم میں مسلمانوں بناتے بناتے اُکتا گئے, جی بھر گیا۔ اس لیے میوات کے بعض سرگرم مبلغین و علماء نے مسلمانوں کو کافر و مرتد بنانا شروع کردیا ہے۔‘‘ (اصولِ دعوت و تبلیغ ص۶۱ مطبوعہ الجمعیۃ پریس دہلی)
اس کتاب میں دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’مَیں حیران ہوں کیا کہوں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ پتہ نہیں کب سے تبلیغی جماعت کا مرکز بھی ایمانیات میں داخل ہوگیا اور اس کا مخالف کافر قرار پاتاہے۔‘‘ (اصولِ دعوت و تبلیغ ص۶۱مطبوعہ الجمعیۃ پریس دہلی)
اسی کتاب کے حاشیے پر ایک دوسرے تبلیغی کارکن مولوی نور محمد چندینی لکھتے ہیں: ’’اگر ذرا بھی طاقت حاصل ہوجائے اور جو مرکز نہ آئے تو اسے بالکل مرتد کے درجہ میں سمجھتے ہیں۔‘‘ (اصولِ دعوت و تبلیغ ص۶۰مطبوعہ الجمعیۃ پریس دہلی)
تبلیغی جماعت کے ان پرانے کارکنوں کے یہ بیانات سامنے رکھ کر فیصلہ کیجیے کہ اپنے مفتوحہ علاقے میں تبلیغی جماعت تفریق بین المسلمین کی یہ جو مہم چلارہی ہے, کیا ایک لمحے کے لیے بھی آپ یہ برداشت کرسکیں گے کہ آپ کے محفوظ علاقے میں بھی تبلیغی جماعت داخل ہوکر اسی طرح کا فتنہ برپا کرے؟ اگر آپ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو خطرے کاشکار ہونے سے پہلے خطرے کا سدّباب کیجیے ۔
اپنے بارے میں تبلیغی جماعت والوں کا خود اقرار کہ
وہ بڑے سخت وھابی ہیں۔
زمانۂ حال کے فرقوں میں فرقۂ وہابیہ نے اسلام کی حرمت اور انبیا, اولیا کی عظمت پر جس بے دردی سے حملہ کیا ہے وہ تاریخ کا ایک نہایت المناک واقعہ ہے۔ اسی فرقۂ وہابیہ نجدیہ کے ساتھ تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا زکریا شیخ الحدیث سہانپور اور مولانا منظور نعمانی کا وہ تعلق ملاحظہ فرمائیے جسے سوانح مولانا یوسف کاندھلوی کے مصنف کے بیان کے مطابق مولانا الیاس کے انتقال کے بعد ان کی جانشینی کا مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا منظور نعمانی نے ظاہر کیا تھا کہ : ’’ہم بڑے سخت وہابی ہیں۔ ہمارے لیے اس بات میں کوئی خاص کشش نہ ہوگی کہ یہاں حضرت کی قبر مبارک ہے۔ یہ مسجد ہے جس میں حضرت نماز پڑھتے تھے۔‘‘ (سوانح مولانا یوسف, ص۱۹۲) مولانا زکریا نے اس کے جواب میں فرمایا :
’’مولوی صاحب مَیں خود تم سے بڑا وہابی ہوں۔ تمہیں مشورہ دوں گا کہ حضرت چچا جان کی قبر اور حضرت کے حجرہ اور دیوار کی وجہ سے یہاں آنے کی ضرورت نہیں۔‘‘(سوانح مولانا یوسف, ص۱۹۳)
اپنے وہابی ہونے کا خود اپنی زبان سے یہ کھلاہوا اور اقرار ملاحظہ فرمائیے۔ کوئی دوسرا ان کے بارے میں کہتا تو الزام سمجھاجاتا لیکن خود اپنے اقرار کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ یہ حضرات حقیقتاً وہابی ہیں۔ اور ان کے پاس اعتقاد و عمل کا جو کچھ بھی سرمایہ ہے وہ مدینے کا نہیں بلکہ نجد کا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ابن عبدالوہاب نجدی کا مذہب جب انہیں خود پسند ہے تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ جس تبلیغی قافلے کی وہ قیادت کررہے ہیں اسے وہ کس طرف لے جانا چاہیں گے۔
نجدی حکومت کے ساتھ تبلیغی جماعت کا معاہدہ
بات اتنے ہی پر ختم نہیں ہوگئی ہے بلکہ نجد کے وہابی فرقے کے ساتھ تبلیغی جماعت کا ذہنی اور فکری تعلق اب ایک معاہدے کی شکل میں ہمارے سامنے آگیا ہے۔ جیسا کہ تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنی کتاب ’’مولانا الیاس اور ان کی دینی دعوت ‘‘ میں لکھا ہے کہ ۱۴؍مارچ ۱۹۳۸ء کو بانیِ تبلیغ مولانا الیاس اپنا ایک وفد لیکر سلطانِ نجد کے دربار میں حاضر ہوئے۔ اور اس کے سامنے تبلیغی جماعت کے اغراض و مقاصد کو پیش کیا, جس پر سلطان نے اپنی خوشنودی کا اظہار کیا۔ اخیر میں یہ وفد نجدی حکومت کے شیخ الاسلام کے پاس گیا اور ان کے سامنے مقاصدِ تبلیغ کا کاغذ پیش کیا۔ جس کی بابت مولانا ابوالحسن علی ندوی نے لکھا ہے کہ
’’انہوں نے بہت اعزاز و اکرام کیا اور ہربات کی خوب خوب تائید کی اور زبانی پوری ہمدردی و اعانت کا وعدہ کیا۔ (دینی دعوت, ص۱۰۱)
اب آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں سونے اور چاندی کی نہریں بہہ رہی ہیں, وہ کہاں سے آتی ہیں؟ یہ وہی نجدی حکومت کا ریا ل ہے جو معاہدہ کے مطابق انہیں دیا جارہا ہے تاکہ ہندوستان کے سادہ لوح مسلمانوں کا ایمان غارت کرکے انہیں نجدی و ہابیوں کی طرح رسولِ عربی ﷺ اور اولیاء کرام کی طرف سے بدعقیدہ اور گستاخ بنادیا جائے۔ یہ نجدی حکومت کے ایجنٹ ہیں جو کلمہ اور نماز کے نام پر سادہ لوح مسلمانوں کو اکٹھا کرکے ان کے عقیدہ و ایمان کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔
تبلیغی جماعت احادیث کی روشنی میں
نجد کے وہابی مذہب کو دنیامیں پھیلا کر مسلمانوں کو بدعقیدہ بنانے والی یہی وہ تبلیغی جماعت ہے جس کے متعلق رسولِ عربی ﷺ نے نہایت واضح نشانیوں کے ساتھ چودہ سو برس پیشتر اپنی اُمت کو خبردار کیا ہے کہ جب تم ان کا زمانہ پائو تو ان سے دور رہنا اور ان کے خلاف جہاد کرنا۔ اس مضمون کی حدیثیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مَیں نے حضور انور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا کہ اخیر زمانہ میں نو عمر اور کم سمجھ لوگوں کی ایک جماعت نکلے گی, باتیں بظاہر اچھی کہیں گے لیکن ایمان اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ پس تم انہیں جہاں پانا قتل کردینا کہ قیامت کے دن اُن کے قاتل کے لیے بڑا اجر و ثواب ہے۔ (بخاری شریف, ج۲)
حضرت شریک ابن شہاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضوانور ﷺنے فرمایا کہ ایک گروہ نکلے گا, وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اُترے گا۔ وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔ اُن کی خاص پہچان سر منڈانا ہے, وہ ہمیشہ گروہ در گروہ نکلتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ اُن کا آخری دستہ مسیح دجّال کے ساتھ نکلے گا۔ جب تم ان سے ملوگے تو طبیعت اور سرشت کے لحاظ سے بدترین پائو گے۔ (مشکوٰۃ شریف)
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت انس بن مالک سے مشکوٰۃ شریف میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں اختلاف و تفریق کا واقع ہونا مقدر بن چکا ہے۔ پس اس سلسلے میں ایک گروہ نکلے گا جس کی باتیں بظاہر دل فریب و خوشنما ہوں گی لیکن کردار گمراہ کن اور خراب ہوگا۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر سے شکار نکل جاتا ہے۔ پھر دین کی طرف واپس لوٹنا انہیں نصیب نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ تیر اپنے کمان کی طرف لوٹ آئے۔ وہ اپنی طبیعت اور سرشت کے لحاظ سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ وہ لوگوں کو قرآن اور دین کی طرف بلائیں گے حالانکہ دین سے ان کا کچھ بھی تعلق نہ ہوگا۔ جو اُن سے قتال کرے گا وہ خدا کا مقرب ترین بندہ ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ان کی خاص پہچان کیا ہوگی یارسول اللہ ﷺ۔ فرمایا, سرمنڈانا۔ (مشکوٰۃ , ص۳۰۸)
ضمیرکا فیصلہ
ان حالات میں اب مومن کا ضمیر ہی اس کا فیصلہ کرے گا کہ رسولِ پاک کی خوشنودی تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہونے میں ہے یا اس سے علیحدہ رہنے میں۔ سوال ان لوگوں سے ہے جنھیں صرف خدا اور رسول کی خوشنودی کا جذبہ تبلیغ کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے۔ باقی رہ گئے وہ لوگ جو کسی مادّی منفعت کی لالچ یا مذہبی شقاوت کے جذبے میں ساتھ ہوگئے, ان کی واپسی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔