Skip to content

مفسّر قرآن الامام الشیخ احمد بن محمد الصاوی المالکی

شخصیاتردِّ دیوبندیت

اََلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اََمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّ حِیْمِِ ط

حضرت عارف باﷲ العلامہ الامام احمد بن محمد الصاوی المالکی الخلوتی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ اپنے دور کے مشہور مفسر، محدّث، فقہ مالکی کے مشہور عالم اور ولی اﷲ تھے، عالمِ اسلام کے علماء ومشائخ اور عام مسلمان آپ کو ’’عارف صاوی‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور آپ کی ولایت پر متفق ہیں۔

آپ کی ولادت ۱۱۷۵ھ/۱۷۶۱ء میں مصر کے مغربی حصہ میں دریائے نیل کے کنارے قصبہ’’صاء الحجر‘‘میں ہوئی، یہیں تعلیم حاصل کی اور تصوف کے طریقۂ خلوتیہ میں حضرت شیخ ابوالبرکات احمد بن محمد بن احمد العدوی المالکی الخلوتی الازہری الشھیر شیخ الدردیر المالکی المصری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ سے بیعت کی، طریقۂ خلوتیہ تصوف کے سلسلہ قادریہ کی ہی شاخ ہے، آپ کا شجرہ طریقت درج ذیل ہے۔

شیوخ طریقت امام احمد صاوی قدس سرہٗ

  1. شیخ ابو نجیب عبدالقاہر بن عبداﷲ سہروردی شافعی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی ۵۶۳ھجری/۱۱۶۸ء)
  2. شیخ قطب الدین محمد بن ابہری رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی۵۹۰ھ/۱۱۹۴ء تقریباً)
  3. شیخ ابوالغنائم رکن الد ین محمد بن فضل زنجانی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی ۶۱۵ھ/۱۲۱۸ء تقریباً)
  4. شیخ شہاب الدین محمد بن محمود تبریزی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی۶۲۹ھ/۱۲۳۲ء تقریباً)
  5. شیخ جلال الد ین تبریزی المعروف بہ ابن صید لانی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ)متوفی ۶۴۰ھ/۱۲۴۲ء)
  6. شیخ تاج الد ین ابراہیم زاہد گیلانی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی۷۰۰ھ/۳۰۰ ۱ ء تقریباً)
  7. شیخ محمد بن نور خوارزمی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی۶۶۵ھ/۱۲۶۷ ء تقریباً) طریقہ خلوتیہ آپ سے منسوب ہے، آپ جب ذکر اﷲ کیا کرتے تھے تو آپ کی آواز چار فرسخ (چار فرسخ) تک پہنچتی تھی۔
  8. شیخ عمر خلوتی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ( ۷۳۰ھ/۱۳۳۰ء تقریباً)
  9. شیخ محمد بیرام خلوتی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ(متوفی۷۸۰ھ/۱۳۷۹ء تقریباً)
  10. شیخ الحاج عزالد ین شروانی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ(متوفی۸۱۵ھ/۱۴۲۹ء) آپ کا مزار قوقاز میں شماخی کے دروازہ میر علی کے قریب واقع ہے۔
  11. شیخ صدرالد ین عمر خیاوی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ(متوفی۸۳۲ھ/۱۴۲۹ء تقریباً) قوقاز کے شہر شروان کے وریب دوجڑواں قریہ خیاوہ مشکی کے باشندے، آپ کا مزار شماخی کے نواح میں ہے۔
  12. شیخ سیّد یحییٰ جلال الد ین بن سید بہاء الد ین شروانی باکوی حنفی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ(متوفی۸۶۷ھ/۱۴۶۳ء)شہر شما خی میں ولادت ہوئی اور قوقاز کے ساحلی شہر باکو میں قبر واقع ہے، آپ کی متعدد تصنیفات ہیں ، جن میں سے’’وردالستار‘‘ مقبول عام ہوئی اور اس کی متعدد شروحات لکھی گئیں۔
  13. شیخ محمد بہاء الد ین ارزنجانی رحمۃ اﷲ علیہ(متوفی ۸۷۹ھ/۱۴۷۴ء)، آپکی پیدائش ارزنجان کے قریب مقام گائوںکثرلیج میں ہوئی اورشہر ارزنجان کی مرکزی مسجد کے قریب مزار واقع ہے، آپ کی تصنیفات میں’’مقامات العارفین ومعارف السالکین‘‘کا مخطوط نسخہ مکتبہ مرادیہ ازمیر(ترکیہ) میں موجود ہے۔
  14. شیخ محمد جمال المعروف چلپی سلطان اقسرائی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ(متوفی۸۹۹ھ/۱۴۹۴ء) آپ ولادت ترکی کے شہر اماسیہ میں ہوئی،اور مرشد کے حکم پر دارالخلافہ استنبول میں خانقاہ قائم کی، خلیفہ عثمانی نے آپ کو چالیس مریدین کے ہمراہ حج وزیارت اور وہاں پر دعا کے لئے حجاز مقدس روانہ کیا تو آپ نے راستہ میں تبوک کے مقام پروفات پائی، آپ کی بیس(۲۰) کے قریب تصنیفات ہیں۔
  15. شیخ خیر الد ین توقادی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی۹۴۰ھ/ ۱۵۳۳ء) ترکیہ کے شہر توقاد کے باشندے جو شہر قونرابا (نیا نام دوزجہ) وہاں مقیم رہے اور شہر اسکد بار میں قبر واقع ہے۔
  16. شیخ شعبان قسطمونی رحمۃ اﷲ علیہ(متوفی۹۷۶ھ/ ۱۵۶۸ء) آپ صوبہ قسطمونی ترکیہ کے قریہ طاش کبریٰ کے باشند ے تھے اور سلسلہ شعبانیہ خلوتیہ آپ سے جاری ہوا، مصر کے شاہی خاندان خدیو کے ایک فرد (رجل) سری باشا جرکسی نے تقریباً ۱۳۱۲ھ میں قسطمونی میں واقع آپ کے مزار کو نئے سرے سے تعمیر کرایا۔
  17. شیخ محی الد ین قسطمونی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی ۱۰۰۰ھ/ ۱۵۹۲ء تقریباً)اپنے شیخ طریقت کے پہلو میں دفن ہیں۔
  18. شیخ عمر فوادی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(۱۰۴۶ھ/۱۶۳۶ء) شیخ شعبان کے احاطہ مزار میں قبر واقع ہے، چند تصنیفات ہیں، جن میں سے ’’مناقب الشیخ شعبان الولی‘‘ ۱۲۹۳ھ میں شائع ہوئی۔
  19. شیخ اسماعیل چوروی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی۱۰۷۰ھ/ ۱۶۶۰ ء تقریباً)ترکیہ کے مقام چوروم کے باشندے اور دمشق میں مزار سیدنا بلال حبشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے احاطہ میں قبر واقع ہے۔
  20. شیخ علی علاء الد ین عربکیری المعروف بہ علی قراباش ولی رحمۃ اﷲتعالی علیہ(متوفی ۱۰۹۷ھ/ ۱۶۸۶ء) ترکی کے مقام عربکیرکے باشندے، جنہوں نے دارالخلافہ استنبول میں تعلیمات تصوف کی خوب اشاعت کی، متعدد تصنیفات ہیں اور سلسلہ قراباشلیہ خلوتیہ آپ سے جاری ہوا۔
  21. شیخ مصطفیٰ معنوی بن علی قراباش رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ(متوفی۱۱۱۴ھ/۱۷۰۵ء) عثمانی خلیفہ سلطان محمد چہارم آپ کے گہرے عقیدت مند تھے، چنانچہ آپ مذکورہ خلیفہ کی وفات ۱۱۰۴ھ تک ان کے پاس اَدرنہ میں مقیم رہے اور رشدوہدایت کا سلسلہ جاری رکھا، پھر استنبول منتقل ہوگئے اور وہیں وفات پائی، آپ کے خلفاء کی تعداد چارسوچالیس(۴۴۰) کے قریب ہے۔
  22. شیخ عبدالطیف بن حسام الدین حلبی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی ۱۱۲۱ھ/۱۷۱۲م تخمیناً)شام کے شہر حلب میں پیدا ہوئے اور دمشق میں قبر واقع ہے، آپ کے احوال وآثار پر آپ کے خلیفہ شیخ مصطفیٰ البکری نے کتاب تصنیف کی۔
  23. شیخ ابوالمعار ف قطب الدین مصطفی بن کمال الدین البکری الصدیقی الحنفی الدمشقی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ(متوفی۱۱۶۲ھ/۱۷۴۹ء) ۱۰۹۹ھ میں دمشق (شام) میں پیدا ہوئے، آپ قطب البکریکے نام مشہور ہیں(الشھیر قطب البکری) تصوف میں آپ کا بڑا مقام ہے، شیخ ابوالفضل خلیل آفندی مرادی(متوفی۱۲۰۶ھ) اپنی تاریخ’’سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر‘‘میں لکھتے ہیں کہ عارف کبیر شیخ مصطفی البکری دمشقی نے دمیاط(مصر) کی جامع بحر میں قیام کے دوران شیخ ابی حامد شمس الدین محمد بن محمد البد یری الحسنی الشافعی الشاذلی الد میاطی المصری رحمہ اﷲ تعالی علیہ(متوفی۱۱۴۳ھ) سے صحاح ستہ پڑھیں اور احادیث مسلسل بالاولیۃ ، مصافحہ اور’’انا احبک‘‘ کے الفاظ کے ساتھ ان تمام مرویات اور تالیفات کی اجازت پائی دوسو بائیس(۲۲۲) کتب کے مصنف ہیں۔
  24. شیخ ابوالمطارم شمس الدین محمد بن سالم حفناوی شافعی خلوتی مصری رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی۱۱۸۱ھ/۱۷۶۸ء)، ۱۱۰۱ھ میںگائوں ’’حفنہ‘‘(مصر) میں پیدا ہوئے، جامعہ ازہر (قاہرہ) میں تعلیم حاصل کی اور یہیں استاذ رہے، چند تصانیف بھی ہیں، آپ کے احوال پر آپ کے شاگردوں شیخ حسن فوی مالکی مصری ثم مکی اور شیخ محمد دمنھوری حلباوی نے کتب تصنیف کیں۔
  25. شیخ ابوالبرکات احمد بن محمد الازہری الخلوتی المالکی المصری المعروف شیخ الدردیر رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی۱۲۰۱ھ/۱۷۸۶ء)، ۱۱۶۷ھ میں مصر میں پیدا ہوئے ، جامعہ ازہر (قاہرہ) میں مدرس، مفتی مالکیہ، مجدد، متعدد تصانیف ہیں، آپ کی تصنیف’’المورد البارق فی الصلوٰۃ علی افضل الخلائق‘‘ مشہور ہے، سلسلہ احمدیہ خلوتیہ آپ سے منسوب ہے، آپ کا مزارمشہور ہے اور لوگ حصول برکت کے لئے وہاں جاتے ہیں۔

امام احمد صاوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے یہ شیوخ شریعت وطریقت کے جامع اور ولی اﷲ تھے، اﷲ تعالیٰ ہمیں ان کی برکات سے نفع عطا فرمائے، آمین۔

العلامۃ الشیخ یوسف بن اسماعیل نبھانی فلسطینی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی۱۳۵۰ھ/۱۹۳۲ء۔ مد فون بیروت)فرماتے ہیں کہ میرے دوست عارف کامل، ولی کبیر، علامہ باکمال، ادیب وشاعر، صاحب تصانیف، قطب زمانہ شیخ سید ابوالاحوال محمد بن مصطفیٰ الجسر حنفی طرابلسی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(پ۱۲۰۸ھ/۱۷۹۳ء، طرابلس، لبنان۔ وفات ۱۲۶۲ھ/۱۸۴۶ء ، مدفون گائوں ’’لُد‘‘ فلسطین)نے جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کی، ان کے اساتذہ میں شیخ سید محمد بن حسین کتبی مصری مہاجر مکی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(متوفی ۱۲۸۰ھ/ ۱۸۶۳ء) خلیفہ مجاز امام احمد صاوی علیہ الرحمہ جیسے فاضل شھیر کا نام آتا ہے، سلوک طریقت میں آپ عارف ربانی شیخ احمد صاوی رحمۃ اﷲ علیہ کے مرید وخلیفہ تھے، شیخ احمد الصاوی علیہ الرحمہ نے ۱۲۳۸ھ میں ان کو سلسلہ احمدیہ خلوتیہ میں اجازت عطا فرمائی، آپ کے صاحبزادے شیخ سید حسین الجسر رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ(متوفی ۱۳۲۷ھ/۱۹۰۹ء۔ مؤلف’’الرسالۃ الحمیدیۃ فی حقیقۃ الدیانۃ الاسلامیۃ) نے آپ کے مناقب میں کتاب ’’نزھۃ الفکر فی مناقب مولانا العارف باﷲ تعالیٰ قطب زمانہ وغوث اوانہ الشیخ محمد الجسر‘‘ تحریر کی، اسی کتاب میں لکھتے ہیں!

’’ ایک مرتبہ میرے والد ماجد شیخ محمد الجسر رحمۃ اﷲ تعالی علیہ اپنے شیخ علامہ احمد صاوی مالکی رحمۃ اﷲ علیہ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ شیخ صاوی علیہ الرحمہ نے حاضرین مجلس کو فرمایا کہ سب حضرات حاجی مصطفی الجسر رحمۃ اﷲ علیہ(میرے دادا) کی فاتحہ پڑھیں ، یہ سن کر میرے والد ماجد رونے لگے، حضرت شیخ صاوی علیہ الرحمہ انہیں تسلی دینے لگے اور ان کی پشت پر اپنا کریم ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا کہ آپ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے جسر(یعنی پل) ہیں، اس واقعہ کے کافی دنوں بعد میرے والد ماجد کو میرے دادا کی وفات کی خبر ملی، امام صاوی رحمۃ اﷲ علیہ نے ان کے وصال کی خبر پہلے دے دی تھی، حالانکہ اس زمانے میں مصر اور شام کے درمیان نہ تو ٹیلی گرام کا سلسلہ تھا اور نہ ہی ڈاک کا ٹھیک طرح انتظام تھا‘‘۔

شیخ یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ احمد الصاوی رحمۃ اﷲ علیہ اس بات کے محتاج نہیں کہ ان کی ولایت و فضیلت کے لئے ان کی کرامات نقل کی جائیں، کل مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ آپ علمائے عاملین اور ہدایت یافتہ و ہادی ائمہ علوم کے قائد اور کامل وعارف اولیاء اﷲ کے شیخ تھے ، اﷲ تعالیٰ آپ کی برکات سے ہمیں نوازے۔

تصانیف امام احمد الصاوی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ

  1. حاشیہ تفسیر جلالین
  2. الاسرار الربانیۃ والفیوضات الرحمانیۃ علی الصلوٰت الدردیریۃ۔
  3. بلغۃ السالک لاقرب المسالک فی فروع فقہ مالکی۔
  4. حاشیۃ انوار التنزیل بیضاوی۔
  5. حاشیۃ علی الخریدۃ البہیۃ الدردیر فی الکلام
  6. حاشیۃ علی جوہرۃ التوحید للقانی۔
  7. حاشیۃ علی شرح الدردیر علی رسالۃ فی علم البیان المساۃ تحفۃ الاخوان۔
  8. الفرائد السنیہ شرح الہمزیہ امام بوصیری

(امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اﷲ علیہ کے نعتیہ قصیدہ ہمزیہ کی شرح ، اس کے قلمی مخطوط مکتبہ حرم مکی اور قومی کتب خانہ قاہرہ، مصرمیں محفوظ ہیں)

آپ اپنے دستخط میں اپنا نام ایسے تحریر فرماتے تھے : ’’الفقیر احمد بن محمد الصاوی المالکی الخلوتی‘‘

وفات

آپ کا وصال ۱۲۴۱ھ/ ۱۸۲۵ء میں مدینہ منورہ میں ہوا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔

امام احمد صاوی علیہ الرحمہ سے بغض

اولیاء اﷲ سے بغض رکھنے والے بعض کو امام احمد صاوی علیہ الرحمہ کے عقائد اور آپ کی تصانیف پسند نہیں، یہ لوگ آپ کا نام سنتے ہی اور آپ کی تالیفات کی عبارت دیکھتے ہی بدک جاتے ہی، دو مثالیں درج ذیل ہیں۔

(۱) اہل سنت کے عالم باعمل مولانا صوفی اﷲ دتہ لاہوری رحمۃ اﷲ علیہ(متوفی ۱۹۸۵ء) اپنی کتاب’’تنویر الخواطر تحقیق الحاضر والناظر‘‘مطبوعہ لاہور ۱۳۹۴ھ کے صفحہ ۶۰ پر لکھتے ہیں: ’’قرآن کریم کی جن آیات یا بعض احادیث سے جو غیر حاضر ناظر مفہوم ہوتا ہے، (یعنی بعض قرآنی آیات میں ہے کہ اے نبی آپ اُس جگہ نہیں تھے) اس کے بارے میں عارف صاوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

(ترجمہ) ’’ یہ عدم موجودگی جسمانی عالم کے اعتبار سے ہے تاکہ مخالف پر حجت قائم کی جا ئے، مگر باعتبار عالم روحانی پس آپ پر رسول کی رسالت اور جو کچھ اس کے ساتھ وقوع میں آیا، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جسم شریف کے ظاہر ہونے تک آپ سب پر حاضر ہیں لیکن اہل عناد سے اس طریق پر خطاب نہیں کیا جاتا‘‘۔ (تفسیر صاوی، مطبوعہ مصر، جلد۳، صفحہ۱۸۲)

اس عبارت کے جواب میں دیوبندی مکتبہ فکر کے ایک مولوی سرفراز خاں صفدر(گوجرانوالہ) اپنی کتاب’’تفریح الخواطر فی ردّ تنویر الخواطر‘‘مطبوعہ گوجرانوالہ ۱۴۱۳ھ طبع دوم کے صفحہ ۱۲۲ پر لکھتے ہیں :

’’ بالکل جدید اور غیر معتبر مفسر صاوی کی کون مانتا ہے، یہاں صاوی اور نیلی پیلی اور ہری کی کچھ نہیں چلتی، ایسے غیر مستند اقوال آپ کو اور آپ کی جماعت کو مبارک ہوں‘‘۔

(۲) حضرت مفتی احمد یار خاں نعیمی بدایونی رحمۃ اﷲ علیہ گجرات، پنجاب(متوفی ۱۹۷۱ء) اپنی شہرہ آفاق کتاب’’جاء الحق‘‘ مطبوعہ گجرات، پاکستان، سن طباعت ندارد، صفحہ۲۱۲ پر لکھتے ہیں :

’’تفسیر صاوی آخر سورہ قصص ولا تدع مع اﷲ الھاًاخر کی تفسیر میں ہے :

(ترجمہ) یعنی یہاں لا تدع کے معنی ہیں نہ پوجو، لہذا اس آیت میں ان خارجیوں کی دلیل نہیں جو کہتے ہیں کہ غیر خدا سے خواہ زندہ ہو یا مردہ، کچھ مانگنا شرک ہے، خارجیوں کی یہ بکواس جہالت ہے کیونکہ غیر خدا سے مانگنا اس طرح کہ رب ان کے ذریعہ سے نفع نقصان دے ، کبھی واجب ہوتا ہے کہ یہ طلب اسباب کا حاصل کرنا ہے اور اسباب کا انکار نہ کرے گا مگر منکر یا جاہل‘‘۔

اس عبارت کے جواب میں مولوی سرفراز خاں صفدرؔ (گوجرانوالہ) اپنی کتاب’’گلدستہ توحید‘‘ مطبوعہ گوجرانوالہ ۱۹۹۴ء کے صفحہ ۱۱۵ پر لکھتے ہیں :

’’مگر مفتی صاحب یہ بتانے کی مطلقاً زحمت گوارا نہیں کرتے کہ صاوی والا تیرھویں صدی کا غیر معتبر اور رطب ویابس اقوال جمع کرنے والا ایک نیم شیعہ مفسر ہے‘‘۔

مولوی سرفراز خاں صفدر دیوبندی نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام کے فضائل ومناقب سے جل بھن کر جو کچھ لکھاہے اورجواب میں حضرت عارف باﷲ امام احمد بن محمد صاوی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کے بارے میں دلی بغض وعناد کا اظہار کیا،خوف خدا سے عاری ہوکر بغیر دلیل کے اہل سنت کے امام احمد صاوی مالکی رحمۃ اﷲ علیہ کو نیم شیعہ کہا اور امام صاوی علیہ الرحمہ کے نام کا کس طرح مذاق اُڑایا ہے، وہ قارئین کے سامنے ہے، سرائیکی اور پنجابی زبان میں لفظ’’ساوی‘‘کا معنی ہری(سبز) ہوتا ہے، مولوی سرفراز صاحب نے غصہ میں عقل سے فارغ ہوکر حرف’’ص‘‘ والے لفظ صاوی کو حرف’’س‘‘ والے لفظ سے ملا دیااور لکھا کہ ’’یہاں صاوی پیلی نیلی اور ہری کی کچھ نہیں چلتی‘‘حالانکہ لفظ صاوی مصر کے ایک قصبہ’’صاء الحجر‘‘ کی نسبت سے ہے، اگر دوسو سال پہلے کے امام احمد صاوی رحمۃ اﷲ علیہ غیر معتبر اور جدید مفسر ہیں اور ان کی معقول بات نہیںمانی جاسکتی تو پندرھویں صدی کے مولوی سرفرازصاحب ان سے بھی زیادہ جدید مولوی ہیں ، تو ایسے جدید اور غیر معتبر مولوی کی بات کون مانتا ہے؟

اب آئیے مولوی سرفراز دیوبندی کے گھر سے ہی امام احمد صاوی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ کے معتبر ہونے کی گواہی ملاحظہ فرمائیے :

مشہور گستاخ دیوبندی مولوی غلام اﷲ خاں، راولپنڈی (متوفی۱۹۸۰ء) نے اپنی تائید میں تفسیر صاوی کا حوالہ نقل کرتے ہوئے لکھا ’’مفسر صاوی لکھتے ہیں‘‘۔ (جواہر التوحید، ترتیب سجاد بخاری، مطبوعہ راولپنڈی، ص۳۲۰)

قاضی محمد زاہد الحسینی خلیفہ مولوی حسین احمد دیوبندی کانگریسی نے اپنی کتاب’’تذکرۃ المفسرین‘‘ میں امام احمد صاوی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ اور ان کی تفسیر صاوی کا تعارف لکھا۔ (تذکرۃ المفسرین‘‘ مطبوعہ اٹک ۱۴۰۱ھ ، صفحہ ۱۷۸ )

دیوبندی مکتبہ فکر مدرسہ خیرالمدارس ملتان کے مفتی عبدالستار نے ایک سوال کے جواب میں اپنی تائید میں تفسیر صاوی کی عبارت نقل کی اور عبارت کے شروع میں لکھا کہ’’علامہ صاوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں‘‘۔(خیر الفتاویٰ، مرتبہ مفتی محمد انور، مطبوعہ مکتبہ الخیر، جامعہ خیر المدارس ،ملتان ۱۴۰۸ھ/ ۱۹۸۷ء، ص۴۵۹)

مولوی دوست محمد قریشی دیوبندی، کوٹ ادّو ،ضلع مظفر گڑھ(متوفی ۱۹۷۴ء) نے بھی اپنی کتاب’’عظمت صحابہ‘‘ میں تفسیر صاوی مطبوعہ مصر کا حوالہ دے کر اپنی تائید میں استدلا ل کیا۔(عظمت صحابہ، مطبوعہ مکتبہ اہل سنت احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور ، ص۲۴)

ماخذ ومراجع

  • اسماعیل باشا بغدادی، ہدیۃ العارفین، مطبوعہ استنبول ( ترکی)
  • عمررضا کحالہ، معجم المؤلفین، مطبوعہ بیروت(لبنان)
  • یوسف بن اسمعٰیل نبھانی، جامع کرامات الاولیاء(اُردو) مطبوعہ لاہور
  • خیر الد ین زرکلی، الاعلام ، مطبوعہ بیروت(لبنان)
  • عبدالحق انصاری، مکۃ المکرمۃ کے کتبی علماء (اُردو) مطبوعہ فقیہ اعظم پبلی کیشنز، بصیر پور، ضلع اوکاڑہ
  • مختلف کتب علمائے دیوبند