Skip to content

دعوتِ انصاف

ردِّ دیوبندیت

بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمد ہ ونصلی علی رسولہ الصادق الامین الکریم

علمائے دیوبند کے لئے پہلے سے اگر کوئی نرم گوشہ آپ کے دل میں موجود ہے تو اس کتاب کے مطالعہ کا آپ پر قدرتی ردّ عمل یہ ہوگا کہ آپ غصے کی جھنجھلاہٹ میں اسے بند کرکے کہیں ایک طرف رکھ دیں گے۔ لیکن اگر آپ بردبار، معاملہ فہم اور صاحب ِ فکر سلیم ہیں اور واقعات کی تہہ میں اُتر کر حقائق کی تلاش کا جذبہ اعتدال کے ساتھ آپ کے اندر موجود ہے تو آپ یہ جاننے کی ضرور کوشش کریں گے کہ علماء دیوبند ایک ملک گیر محاذ ِ جنگ کی بنیاد آخر کیونکر پڑی۔ بحث ومناظرہ کے وہ حقیقی اسباب وعِلل کیا تھے جن کے زیرِ اثر سالہا سال تک پورے ملک میں یہ معرکے گرم رہے۔

علمائے دیوبند کے سا تھ علمائے اہلسنت کے اختلافات کی تین مظبوط بنیاد یں

کچھ کم ایک صدی سے ساری دنیا میں دیوبند اور بریلی کی مذہبی آویزش کا جو شور برپا ہے اور جس کے ناخوشگوار اثرات پریس سے لے کر اسٹیج تک پوری طرح نمایاں ہیں، وہ بلا وجہ نہیں ہے۔ اگر اس حقیقت کی تلاش کے لئے آپ نے اپنے ذہن کا دروازہ کھلا رکھا ہے، تو ذیل میں اس مذہبی نزاع کی وہ حقیقی بنیادیں پڑھئے جنہوں نے اُمت کو دو ملتوں میں تقسیم کردیا ہے۔

پہلی بنیاد

اپنی مذہبی سرشت کے اعتبار سے مسلمان کا جو والہانہ تعلق اپنے رسول کریم ﷺ کی محترم ذات سے ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ اس کا ایمان اپنے رسول کی بارگاہ میں اتنا مؤدب اور حساس ہے کہ رسول کی حرمت پر ذرا سی خراش بھی اسے برداشت نہیں۔ ناموس رسول کے تحفظ کے لئے ہندوستان کے مسلمانوں نے ہر دور میں جس والہانہ جذبے کے ساتھ اپنی فدا کاریوں کا مظاہرہ کیا ہے وہ تاریخ کا جانا پہچانا واقعہ ہے۔ حُب رسول کی وارفتگی کا یہ رُخ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کسی گستاخ کے خلاف غم وغصہ اور نفرت و غضب کے اظہار کے سوال پر کبھی یہ نہیں دیکھا کہ نشانے پر کون ہے۔ باہر کا ہو یا اندر کا جس نے بھی رسول کی شان میں گستاخانہ جسارت کا اظہار کیا مسلمانوں کی غیرتِ ایمانی کی تلوار اُس کے خلاف بے نیام ہو گئی۔

آج ملعون رشدی کی زندہ مثال آپ کے سامنے ہے۔ رسول کی حرمت پر حملہ کرکے اس نے سارے عالمِ اسلام کو اپنا دشمن بنالیا ہے۔ قابل رشک ہیں وہ شہیدانِ محبت جو رشدی کے خلاف اپنی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آقا کی عزت پر قربان ہو گئے۔

علمائے دیوبند کے خلاف بھی ہمارے غم وغصہ کی سب سے بڑی بنیاد یہی ہے کہ اُن کے اکابر نے اپنی بعض کتابوں میں رسول محترم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں سخت گستاخانہ کلمات استعمال کئے ہیں جس کی مختصر تفصیل یہ ہے۔

{…۱…} علمائے دیوبند کے مذہبی پیشوا مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ’’حفظ الایمان‘‘ میں حضور اکرم سیّد عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے علم پاک کو رزائل اور حیوانات وبہائم کے علم سے تشبیہہ دی ہے جس کے وہ خود بھی اقراری مجرم ہیں۔

اہل علم وادب زبان کے اس محاورے سے اچھی طرح واقف ہیں کہ محترم چیزوں کے ساتھ کسی چیز کی تشبیہہ سے عظمت وتکریم کے معنی پیدا ہوتے ہیں، اور جب رزائل کے ساتھ کسی چیز کی تشبیہہ دی جاتی ہے تو اس سے توہین وتنقیص کے معنی نکلتے ہیں، اُردو زبان کے محاورات میں تشبیہہ وتمثیل کا یہ ضابطہ اتنا شائع اور ذائع ہے کہ کوئی صاحبِ علم اس کے ان معانی ومطالب کے استلزام سے انکار نہیں کرسکتا۔

اس بنیاد پر ہمارا یہ دعویٰ شک وشبہ سے بالا تر ہے کہ مولانا تھانوی بارگاہ رسالت کے گستاخ ہیں۔ انہوں نے رسول پاک کے علم شریف کو رزائل کے علم سے تشبیہہ دے کر اہانت رسول کے خوفناک جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ ضضض

{…۲…}علمائے دیوبند کے دوسرے اور تیسرے مذہبی پیشوا مولانا خلیل احمد انبیٹھوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے’’ براہین قاطعہ‘‘ نامی کتاب میں لکھاہے کہ زمین کے علم محیط کے سوال پرشیطان کا علم رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے علم سے زیادہ ہے۔ شیطان کے مقابلے میں جو شخص رسول کی وسعت علم کا عقیدہ رکھتا ہے وہ مشرک ہے۔ کیونکہ شیطان کے علم وسعت پر قرآن وحدیث ناطق ہیں۔ رسول کے علم کی وسعت پر نہ قرآن میں کوئی دلیل ہے اور نہ حدیث میں۔

اس میں قطعاً دو رائے نہیں کہ شیطان کے مقابلے میں رسول پاک کے علم کی تنقیص ایک کھلا ہوا کفر اور ایک کھلی ہوئی گستاخی ہے۔

اسی طرح یہ کہنا بھی کھلی گستاخی اور کھلا ہوا کفر ہے کہ شیطان کے مقابلے میں جو شخص رسول پاک کی وسعت علم کا عقیدہ رکھتا ہے وہ مشرک ہے، لیکن یہی عقیدہ شیطان کے بارے رکھنا شرک نہیں ہے۔

اسی طرح یہ کہنا بھی رسول پاک کی صریح تنقیص ہے کہ رسول پاک کے علم کی وُسعت پر قرآن وحدیث میں کوئی دلیل نہیں ہے، لیکن شیطان کے علم وسعت پر قرآن میں بھی دلیل ہے اور حدیث میں بھی۔ ضضض

{…۳…}علمائے دیوبند کے سب سے بڑے مذہبی پیشوامولانا قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند نے اپنی کتاب’’تحذیر الناس‘‘ میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے سے انکار کیا ہے، جب کہ حضور کو خاتم النبیین ہونے کی حیثیت سے آخری نبی ماننا قرآن سے بھی ثابت ہے اور حدیث سے بھی۔

بلکہ اپنی کتاب میں انہوں نے یہاں تک لکھ دیا کہ حضور کے زمانے یا حضور کے بعد بھی اگر کسی نئے نبی کا آنا فرض کیا جائے جب بھی حضور کی خاتمیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا، حالانکہ یہ بات آسانی سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کسی نئے نبی کے آنے کی صورت میں حضور کے آخری نبی ہونے کی عقیدہ باطل ہوجاتا ہے، مولانا نانوتوی کی یہی وہ کتاب ہے جسے قادیانی حضرات مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے جواز کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ ختم نبوت کے مسئلے میں علمائے دیوبند کے ساتھ ہمارا اختلاف فروعی نہیں بلکہ اصولی اور بنیادی ہے، اور یہ اختلاف حرمت وحلت کا نہیں بلکہ کفرواسلام کا ہے۔ دعوتِ انصاف

دیوبندی علماء کے ساتھ ہمارے اختلاف کی یہ پہلی بنیاد ہے جو ان کی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ آپ کے سامنے ہے، واضح رہے کہ اس بنیاد کا تعلق اہانت رسول اور انکارِ ضروریات دین سے ہے، جس کے کفر ہونے میں قطعاً کوئی شبہ نہیں ہے، قرآن کی بے شمارآیتیں اس عقیدے پر شاہد عدل ہیں کہ رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں ہلکی سی گستاخی بھی اسلام اور ایمان کے رشتے کو منقطع کردیتی ہے، علم اور عبادت کی کوئی فضیلت گستاخی کے انجامِ بد سے کسی کو ہرگز نہیں بچا سکتی۔

اس موقعہ پر اپنے قارئین سے یہ ضرور عرض کروں گا کہ اکابر دیوبند کی ان اہانت آمیز تحریروں کو آپ اس زاویۂ نظر سے ہر گز مت پڑھئے کہ یہ دیوبند اور بریلی کی ایک مذہبی نزاع ہے، بلکہ مطالعہ کرتے وقت اپنی فکر کو اس نقطے پر مرکوز رکھئے کہ اکابر دیوبند کی ان عبارتوں کی ضرب براہِ راست رسول اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کی عظمت وحرمت پر پڑتی ہے، اُن کے گستاخ قلم کا حملہ علمائے بریلی پر نہیں بلکہ خاص رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذاتِ محترم پر ہے۔

اگر خدا نخواستہ آپ نے ان تحریروں کا مطالعہ اس نقطۂ نظر سے کیا کہ یہ دیوبند اور بریلی کے نام سے دو مکتب فکر کے علماء کا باہمی جھگڑا ہے تو جذبے کا والہانہ تقدس باقی نہیں رہے گا جو اپنے رسول کی حمایت میں کسی کے خلاف دو ٹوک فیصلہ کرنے کے لئے مطلوب ہے۔

میری اس گزارش کا مدعا صرف اتنا ہے کہ اپنی کسی بھی محبوب شخصیت کے مقابلے میں’’رسول‘‘ کو ترجیح دینے کا سوال خود آپ کے اپنے ایمان کا تقاضا ہونا چاہئے، اس لئے علمائے بریلی کو آپ ایک طرف رکھئے، اور خود اپنے’’مومن ضمیر‘‘ سے دریافت کیجئے کہ اکابر دیوبند کی ان تحریروں سے رسول پاک صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی حرمت مجروح ہوتی ہے یا نہیں؟ اور دین کے اصول وضروریات سے انحراف کا پہلو واضح ہوتا ہے یا نہیں؟ ان کی یہ تحریریں کسی اجنبی زبان میں نہیں ہیں کہ آپ کو کسی مترجم کی ضرورت پیش آئے، وہ سیدھی سادھی اُردو زبان میں ہیں جنہیں آپ بھی سمجھنا چاہیں تو سمجھ سکتے ہیں۔ ہماری طرف سے حوالوں کی نشاندہی پر آپ کواعتماد نہ ہو تو اصل کتاب منگوا کر دیکھ لیں وہ آج بھی کتب خانوں سے دستیاب ہو جاتی ہیں۔

اَب رہ گیا علمائے بریلی کا سوال تو اس سلسلے میں ان کا کردار اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے کہ اکابر دیوبند کی ان اہانت آمیز عبارتوں کو پڑھنے کے بعد جو انہیں ناقابل برداشت اذیت پہنچی اور جس روحانی کرب کے اضطراب میں وہ اچانک مبتلا ہوگئے اس کے ردّ عمل کا اظہار انہوں نے برملا کیا۔ تعلقات کی کوئی مصلحت اس راہ میں انہیں حائل نہیں ہوئی۔

اس کے بعد انہوں نے دیوبند کے ان اکابرین سے براہ راست رابطہ قائم کیا اور دلائل کی روشنی میں ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ان کفری عبارتوں سے جو تنقیص شانِ رسالت اور انکار ضروریاتِ دین پر مشتمل ہیں اعلانیہ توبۂ صحیحیہ شرعیہ کریں اور اپنی کتابوں سے ان دل آزار عبارتوں کو نکال دیں، لیکن ان کی جھوٹی عزت وشہرت اس راہ میں حائل ہوگئی اور انہوں نے عار پر نار کو ترجیح دی۔

گستاخانِ رسول کے درمیان ا یک قدرِ مشترک

سلسلہ کلام سے ہٹ کر ایک بات اپنے قارئین کرام کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں، اُمید کہ انتظار کا یہ لمحہ آپ کو بار خاطر نہ ہو گا۔

رسول اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان محترم میں گستاخی کرنے والوں کی تاریخ کا جب آپ مطالعہ کریں گے تو ہر گستاخ کی یہ سرشت قدر مشترک کے طور پر آپ کو ہر جگہ نظر آئے گی کہ دل کے جذبۂ نفاق کے زیر اثر جب نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کا کوئی کلمہ ان کی زبان یا قلم سے نکل جاتا ہے تو باز پرس کرنے پر ایک شرمسار مجرم کی طرح وہ اپنے کلمۂ کفر سے توبہ کرنے کے بجائے اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے غلط سلط تاویل اور سخن پروری کے جذبے کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔

عہد رسالت میں بھی منافقین مدینہ کا یہی رویہ تھا، چنانچہ ایک سفر سے واپسی کے موقعہ پر جب منافقین نے حضور نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا کوئی کلمہ استعمال کیا، جب صحابۂ کرام کے ذریعہ حضور تک یہ بات پہنچی اور حضور نے منافقین سے اس کے متعلق باز پرس فرمایا تو انہوں نے اعتراف جرم اور توبہ و معافی کے بجائے بات بنانے ، تاویل کرنے اور حیلے بہانے تراشنے کا رویہ اختیار کیا۔ چونکہ اس وقت نزولِ وحی کا سلسلہ جاری تھا اس لئے فوراً ان کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی کہ لا تعتذروا قد کفر تم بعد ایمانکم حیلے بہانے مت بنائو تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے۔ اگر نزولِ وحی کا سلسلہ جاری نہ رہتا تو اُن کے جھوٹ کا پردہ فاش نہ ہوتا اور وہ کلمہ پڑھ کر مسلم معاشرے میں اپنے کفر کو چھپائے رکھتے۔

سخن پروری کی تازہ مثال

منافقین مدینہ کا یہ کردار عہد حاضر میں آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے پرووائس چانسلر کا قضیہ پڑھئے، انہوں نے کسی انگلش میگزین کو انٹر ویو دیتے ہوئے سیکولر کہلانے کے شوق میں ملعون زمانہ رشدی کی کتاب کے بارے میں اپنے اس خیال کا اظہار کیا کہ حکومت ہند نے اس کتاب پر جو پابندی عائد کی ہے اُسے اُٹھالینا چاہئے کیونکہ ہر شخص کو اپنی رائے کے اظہار کا بنیادی طور پر حق حاصل ہے۔

اس فقرے کا کھلا ہوا مطلب یہ ہے کہ رشدی نے اپنی ملعون کتاب میں جو اہانت رسول کی ہے اس پر اس سے کوئی مواخذہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسے اپنی رائے کے اظہار کا بنیادی طور پر حق حاصل ہے، دوسرے لفظوں میں اپنے اس فقرے کے ذریعہ مشیر الحسن نے اہانت رسول کی کھلی ہوئی حمایت کی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے غیور اور سرفروش طلبہ قابل تکریم وتحسین ہیں کہ جب انہوں نے یہ انٹر ویو پڑھا تو ایک گستاخ رسول کی حمایت کا بنیاد پر وہ تحفظِ ناموسِ رسالت کے جذبے میں مشیر الحسن کے خلاف پوری طرح صف آرا ہو گئے اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چونکہ گستاخ کا حامی بھی گستاخ ہی ہوتا ہے اس لئے مشیر الحسن کو اس کے منصب سے فوراً ہٹایا جائے، ہم ایسے دل آزار شخص کو کسی قیمت برداشت نہیں کرینگے۔

چونکہ یہ مسئلہ ناموسِ رسول کا تھا اس لئے جامعہ ملیہ کے اساتذہ کی بڑی تعداد نے بھی ہر طرح کے نتائج سے بے پرواہ ہوکر طلبہ کے موقف کی حمایت کا اعلان کردیا، دہلی کے مسلمانوں تک جب اس قضیہ کی تفصیل پہنچی تو ہر طرف مشیر الحسن کے خلاف نفرت و بے زاری کی لہر دوڑ گئی اور طلبہ کے مطالبے میں شہر کے عوام بھی شریک ہوگئے۔ ذاکر نگر کی انجمن رضا نے جس جذبۂ سرفروشی کے ساتھ مشیر الحسن کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا اور جامعہ کے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں صحیح مشورے دئیے وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

لیکن دارالعلوم د یوبند کے علماء ؟

صرف دارالعلوم دیوبند کے علماء جن میں مولوی سالم صاحب ابن قاری طیب صاحب اور مولوی احمد علی قاسمی اور ابناء قدیم دارالعلوم دیوبند کے ورکنگ جنرل سکریٹری مولوی فضیل احمد کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں، ان تمام حضرات کے نزدیک مشیر الحسن کی گستاخی ثابت نہیں ہے۔ جیسا کہ روز نامہ’’قومی آواز‘‘ دہلی کی مورخہ ۱۸؍ مئی ۱۹۹۲ء؁ کی اشاعت میں ان کے مشترکہ بیان کے الفاظ یہ ہیں : ’’ طلبہ کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ دیکھنا چاہئے کہ جس کو شاتمِ رسول(گستاخ رسول) کہا جارہا ہے وہ واقعتاً شاتم رسول ہے یا نہیں‘‘۔

کس قدر افسوس اور قلق کی بات ہے کہ جامعہ ملیہ کے طلبہ کو جو عالم دین نہیں ہیں، جامعہ ملیہ کے اساتذہ کو جو عالم دین نہیں ہیں اور دہلی کے مسلمانوں کو مشیر الحسن کی گستاخی سمجھ میں آگئی، لیکن دارالعلوم دیوبند کے علماء اس کی گستاخی کو سمجھنے سے قاصر رہے۔

حالانکہ قومی آوازکی اسی اشاعت میں اخبار کے آخری صفحہ پر مشیر الحسن کی بابت شیخ الجامعہ مسٹر بشیر الدین احمد کی ایک اپیل شائع ہوئی ہے جس کا یہ حصہ مشیر الحسن کے جرم پر بھر پور روشنی ڈالتا ہے۔ ’’جامعہ کے پرو وائس چانسلر پروفیسر مشیر الحسن نے اس کتاب (رشدی کی کتاب) پر عائد پابندی اُٹھانے سے متعلق جو اظہار خیال کیا ہے وہ چونکہ باعث تکلیف ہے اور اس وجہ سے ناراضگی اور احتجاج کی ایک فضا پیدا ہوگئی ہے‘‘۔

وائس چانسلر کی اس تحریر سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ مشیر الحسن کے خلاف طلبہ کا الزام بے بنیاد نہیں ہے۔کیونکہ پابندی اُٹھانے کی بات انہوں نے اسی بنیاد پر کی ہے کہ ہر شخص کو بنیادی طور پر اظہار خیال کی آزادی حاصل ہے، اس لئے سلمان رشدی نے پیغمبر اسلام کے خلاف جو کچھ لکھا ہے اپنے حق کا جائز استعمال کیا ہے۔ لیکن سخت افسوس ہے کہ اتنی وضاحت کے باوجود دارالعلوم دیوبند کے یہ علماء مشیر الحسن کو بے گناہ سمجھ رہے ہیں۔ ان کے پاس اس کی بے گناہی کی جو سب سے بڑی دلیل ہے وہ یہ ہے، پڑھئے اور خون کا گھونٹ پیجئے۔ ’’جس شخص کو شاتم رسول(گستاخ رسول) کہا جارہا ہے، وہ وضاحت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ وہ اس گناہ سے بری ہے اور حضور کا مکمل احترام اپنے قلب میں رکھتا ہے‘‘۔

دارالعلوم دیوبندکے ان علماء کی کج فہمی پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے کہ انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ کسی دعوے کے ثبوت کے لئے مجرم کا اقرار ضروری نہیں ہے، اس کا بیان اور بیان کے الفاظ دعوے کے ثبوت کے لئے بہت کافی ہیں، ورنہ بتایا جائے کہ اسلامی تعزیرات کی تاریخ میں کس گستاخ کو اقرار جرم کی بنیاد پر سزا دی گئی ہے۔ تاریخ میں جسے بھی کوئی سزا ملی ہے اس کے الفاظ وبیان ہی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ کیا دارالعلوم دیوبند کا دارالافتاء یہ ثابت کرسکتا ہے کہ کلمہ کفر کی بنیاد پر جس کی بھی اس نے تکفیر کی ہے اس سے کفر کا اقرار کروایا ہے، لیکن مشیرالحسن کے بارے میں سوا اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ جذبۂ حب رسول پر مشیر الحسن کی حمایت کا جذبہ اگر غالب نہ آگیا ہوتا تو دارالعلوم دیوبند کے یہ علماایسی کچی بات ہرگز نہ کہتے۔ کس مصلحت نے انہیں مشیر الحسن کے حق میں صفائی کا وکیل بنادیا ہے اسے وہی بتا سکتے ہیں۔

ہم نے یہ قصہ صرف اسی لئے چھیڑا ہے تاکہ ہمارے قارئین اس بات کو سمجھ سکیں کہ جذبۂ حب رسول کسی گستاخ کے خلاف کس طرح اہل ایمان کو متحد کرتا ہے، اور جن لوگوں کا سینہ اس مقدس جذبے سے خالی ہے وہ گستاخ کی حمایت کے لئے کتنی بے حیائی کے ساتھ رکیک اور مضحکہ خیز تاویلوں کا سہارا لیتے ہیں۔

گستاخانِ رسول کی سرشت اور ان کے حامیوں کا ذہن وکردار سمجھانے کے لئے میں اپنے اُٹھائے ہوئے سلسلہ کلام سے بہت دور نکل آیا۔ اب پھر آپ پچھلے اوراق میں اکابر دیوبند کے خلاف اہانت رسول کے الزامات کی بحث سے اپنے ذہن کا رشتہ جوڑ لیں۔

ٹھیک اسی طرح اُس وقت بھی دیوبند کے علماء نے اپنے اکابر کی گستاخیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے معاندکا رویہ اختیار کرلیا اور سخن پروری کے جذبے سے مسلح ہوکر وہ میدان میں اُتر آئے اور پوری قوت کے ساتھ عوام میں اس بات کی تشہیر کرنے لگے کہ اہانت رسول کے الزام سے ہمارا دامن بالکل پاک ہے۔ یہ سارا جھگڑا علمائے بریلی کا کھڑا کیا ہوا ہے۔ انہوں نے ہمارے اکابر کے خلاف اہانت رسول کا جو الزام عائد کیا ہے وہ بالکل جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

ان کے پاس ذرائع ابلاغ اور مالی وسائل کی کمی نہیں تھی، جب ان کے اس جھوٹے پروپیگنڈہ سے عوام متاثر ہونے لگے تو ان کا جھوٹ فاش کرنے کے لئے مجبوراً ہمیں بحث ومناظرہ کا راستہ اختیار کرنا پڑا، تاکہ عوام کی عدالت میں بالکل آمنے سامنے یہ حقیقت آشکار ہوجائے کہ ان کے اکابر کے خلاف اہانت رسول کا الزام جھوٹا نہیں بلکہ امر واقعہ ہے۔

چنانچہ ہر مناظرے کی مجلس میں انہی کے مناظر علماء کے سامنے ان کی کتابوں سے وہ اہانت آمیز عبارتیں صفحہ اور سطر کی نشاندہی کے ساتھ پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی رہیں اور ان کے علماء نے کبھی یہ نہیں کہاکہ یہ کتابیں ہمارے اکابر کی تصنیف کردہ نہیں ہیں اور عبارتیں ان کتابوں میں موجود نہیں ہیں۔

بحث ومناظرہ کے ان معرکوں سے بڑا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ ملک کے عوام کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح اُتر گئی کہ اکابر دیوبند کے خلاف اہانت رسول کا الزام بے بنیاد نہیں ہے، اور یہ بھی لوگوں نے واضح طور پر محسوس کرلیا کہ علمائے اہل سنت کا یہ سارااضطراب اور تحریر وتقریر کے ذریعہ ان کی بے چینیوں کا یہ سارا مظاہرہ صرف تحفظِ ناموس رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے جذبے میں ہے۔

علمائے دیوبند کے ساتھ ہمارے اختلاف کی دوسری بنیاد

علمائے دیوبند کے ساتھ ہمارے اختلاف کی پہلی بنیاد ان کے اکابر کی وہ عبارتیں ہیں جو اہانت رسول اور انکار ضروریات دین پر مشتمل ہیں، جنہیں آپ گذشتہ اوراق میں پوری تفصیل کے ساتھ پڑھ چکے۔ اگر آپ کی نگاہ میں ہمارے ایمانی احساسات کی کوئی قیمت ہے تو آپ نے اچھی طرح اندازہ لگا لیا ہوگا کہ ان اہانت آمیز عبارتوں کے رد عمل میں علمائے دئوبند کے خلاف ہماری نفرت وبے زاری کبھی ختم نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔

یہی ایک بنیاد ان سے ہماری علیحدگی کے لئے بہت کافی تھی جب کہ یہ معلوم کرکے آپ حیران رہ جائیں گے کہ اس کے علاوہ علمائے دیوبند کے کچھ مخصوص عقائد بھی ہیں جو فاصلہ بڑھانے میں نہایت اہم رول ادا کرتے ہیں، ان عقائد کی تفصیل کتابوں کے حوالوں کے ساتھ ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔

(۱) اُمتی عمل میں انبیاء سے بڑھ جاتے ہیں۔(تحذیر الناس)

(۲) صریح جھوٹ سے انبیاء کا محفوظ رہنا ضروری نہیں ہے۔ (تصفیۃ العقائد)

(۳) کذب کو شانِ نبوت کے منافی سمجھنا غلط ہے۔ (تصفیۃ العقائد)

(۴) انبیاء کو معاصی سے معصوم سمجھنا غلط ہے۔ (تصفیۃ العقائد)

(۵) نماز میں حضور اقدس ﷺ کی طرف خیال لے جانے سے نمازی مشرک ہوجاتا ہے۔(صرط مستقیم)

(۶) نمازمیں نبی کا خیال زنا کے خیال اور گدھے اور بیل کے خیال میں ڈوب جانے سے بھی بدتر ہے۔(صراط مستقیم)

(۷) خدکا جھوٹ بولنا ممکن ہے۔(رسالہ یکروزی)

(۸) خدا کو زمان ومکان سے منزہ سمجھنا گمراہی ہے۔ (ایضاح الحق)

(۹) جادوگروں کے شعبدے انبیاء کے معجزات سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔(منصب امامت)

(۱۰) صحابہ کرام کو کافر کہنے والا سنت جماعت ے خارج نہیں ہے۔(فتاویٰ رشیدیہ)

(۱۱) محمد یا علی جس کا نام ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں۔(تقویۃ الایمان)

(۱۲) ہر مخلوق چھوٹا ہو(جیسے عام بندے) یا بڑا(جیسے انبیاء واولیاء) وہ اﷲ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے۔(تقویۃ الایمان)

(۱۳) جو حضور اقدس ﷺ کو قیامت کے دن اپنا وکیل اور سفارشی سمجھتا ہے وہ ابوجہل کے برار مشرک ہے۔(تقویۃ الایمان)

(۱۴) رسول بخش، نبی بخش، غلام معین الدین اور غلام محی الدین نام رکھنا شرک ہے۔ ( تقویۃ الایمان)

(۱۵)’’رحــمۃ للعٰلـــمین‘‘ ہونا حضور ﷺ کے ساتھ مخصوس نہیں ہے، اُمتی بھی رحمۃ للعٰلمین ہو سکتے ہیں۔ (فتاویٰ رشیدیہ)

(۱۶) بزرگان دین کی فاتحہ کا تبرک کھانے سے دل مردہ ہوجاتا ہے۔(فتاویٰ رشیدیہ)

(۱۷) حضور ﷺ ہمارے بڑے بھائی ہیں ہم ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔(تقویۃ الایمان)

(۱۸) یہ کہنا کہ خدا و رسول چاہے گا تو فلاں کام ہو جائے گا شرک ہے۔(بہشتی زیور)

(۱۹) کسی نبی یا ولی کے مزارات کی زیارت کے لئے سفر کرنا، ان کے مزار پر روشنی کرنا، فرش بچھانا، جھاڑو دینا، لوگوں کو پانی پلانا اور ان کے لئے وضو اور غسل کا انتظام کرنا شرک ہے۔(تقویۃ الایمان)

اپنے قارئین سے درخواست کروں گا کہ انصاف ودیانت کے ساتھ آپ دیوبندی مکتب فکر کے ان مخصوص عقائد پر غور فرمائیں۔ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جن سے عقیدۂ توحید کے تقدس کو ٹھیس پہنچتی ہے اور کچھ وہ ہیں جو شانِ منصب رسالت کو مجروح کرتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جنہیں اگر صحیح مان لیا جائے تو دنیا کے نوے کروڑ مسلمانوں کے ایمان واسلام کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے، اور بات یہیں تک نہیں رکتی بلکہ صدیوں پر مشتمل ماضی کے وہ لاکھوں اسلاف کرام بھی زد میں آجاتے ہیں جنہوں نے ان عقائد واعمال کے مخالف سمت کو اسلامی عقائد واعمال کی حیثیت سے قبول کیا ہے۔

تھوڑی دیر کے لئے اہل بریلی کو ایک کنارے رکھیئے اور اپنے مذہبی شعور کی بنیاد پر آپ خود بتائیے کہ کیا ان عقائد واعمال کی صحت سے آپ اتفاق کرتے ہیں اور بغیر کسی تردد کے ہاں یا نہیں میں اس بات کا بھی دوٹوک فیصلہ کیجئے کہ کیا آج کا مسلم معاشرہ انہی عقائد واعمال کی بنیاد پر قائم ہے۔ اگر نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو ان علمائے حق کے بارے میں آپ صاف صاف اپنے خیال کا اظہار کیجئے جنہوں نے علمائے دیوبند کے ان خانہ زاد عقائد واعمال سے اختلاف کیا ہے اور اسلام کے ایک پُر جوش محافظ کی حیثیت سے اُمت کو ان گندے عقائد سے بچانے کی بھرپور جدوجہد کی ہے اور عین اس کے مخالف سمت میں اسلام کے صحیح عقائد کے ساتھ انہیں منسلک رکھا ہے۔

اب جمہور مسلمین کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان علمائے حق کا یہ عظیم کارنامہ ان کے حق میں ہے یا ان کے خلاف ہے اور اپنے ان گراں قدر خدمات کے ذریعہ ان علمائے حق نے اُمت میں تفرقہ ڈالا ہے یا انہیں ٹوٹنے سے بچایا ہے۔

اگر اس حقیقت سے آپ اتفاق کرتے ہیں کہ آج بھی روئے زمین کے جمہور مسلمین کا وہی مذہب ہے جس کی حمایت ان علماء نے اپنی زبان وقلم سے کی ہے تو اس حقیقت سے بھی آپ کو اتفاق کرنا پڑے گا کہ جمہور مسلمین کے صحیح پیشوا بھی یہی علماء ہیں، جو لوگ دشمن کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر ان علماء کے خلاف تفرقہ اندازی کا الزام عائد کرتے ہیں وہ مذہبی تاریخ میں سب سے بڑے احسان فراموش کہلانے کے مستحق ہیں۔ آپ نہ بھی اپنے آپ کو بریلوی کہیں جب بھی آپ کو علمائے بریلی کے اس عظیم الشان کردار کا شکر گزار ہونا پڑے گا کہ انہوں نے آپ کو دیوبند کے غلط مذہب فکر کا شکار ہونے سے بچالیا، اور اُمت مسلمہ کو صحیح عقائد واعمال کے ساتھ منسلک رکھا۔

علمائے دیوبند کے ساتھ ہمارے اختلاف کی تیسری بنیاد

تیسری بنیاد کے ضمن میںعلمائے دیوبند کے وہ فتاویٰ اور تحریرات ہیں جن کے ذریعہ انہوں نے جمہور مسلمین کی مذہبی روایات کو حرام اور بدعت ضلالت قرار دیا ہے، ذیل میں آپ اُن کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں :

(۱) انبیاء واولیاء کے ساتھ توسل کو وہ حرام اور گناہ قرار دیتے ہیں۔

(۲) حضور انور ﷺ کے حق میں بعطائے الٰہی بھی وہ علم غیب کا عقیدہ تسلیم نہیں کرتے۔

(۳) تقویۃ الایمان کی صراحت کے مطابق وہ حضور ﷺ کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں کہ معاذ اﷲ وہ مرکر مٹی میں مل گئے۔

(۴) وہ محافل میلادکے انعقاد اور قیام وسلام کو حرام قرار دیتے ہیں۔

(۵) بزرگان دین اور اموات مسلمین کے لئے ایصال ثواب اور وعرس وفاتحہ کو وہ حرام کہتے ہیں۔

(۶) مجلس ذکر شہادت حسین اور غوث پاک کی فاتحہ گیارہویں اور غیرب نواز کی فاتحہ چھَٹی کو وہ حرام کہتے ہیں۔

(۷) حضور ﷺ کی ولادتِ پاک کے موقعہ پر وہ خوشی منانے اور جلسۂ و جلوس کے انعقاد کو حرام قرار دیتے ہیں۔

(۸) مزاراتِ اولیاء اور مقابر صلحاء پر گنبد کی تعمیر ان کے نزدیک حرام ہے۔

(۹) نعرۂ یارسول اﷲ اور یا نبی سلام علیک کو وہ حرام قرار دیتے ہیں۔

(۱۰) عقیقہ و ختنہ اور بسم اﷲ کی تقریبات میں عزیزو اقارب اور احباب کو جمع کرنا ان کے نزدیک ناجائز ہے۔

(۱۱) تیجہ، دسواں، چالیسواں اور شب برأت کا حلوہ ان کے نزدیک ناجائز ہے۔

(۱۲) شادی، بیاہ، منگنی اور چوتھی میں ان کے نزدیک نہ کسی کو بلانا جائز ہے اور نہ کسی کے یہاں جانا جائز ہے۔

(۱۳) شادی کے موقعہ پر سہرا باندھنے کو وہ مشرکانہ فعل قرار دیتے ہیں۔

(۱۴) جو شخص مزاراتِ اولیاء پر چادر چڑھاتا ہو، بزرگوں کا عرس کرتا ہو اس کے لڑکے کے ساتھ کسی مسلمان لڑکی کے رشتۂ نکاح کو وہ حرام قرار دیتے ہیں، اس کے جنازے میں شریک ہونے ، اس کی بیمار پرسی کرنے اور اسے سلام کرنے سے بھی یہ لوگ منع کرتے ہیں۔

(۱۵) ارواحِ اولیاء سے فیض حاصل کرنے اور مدد طلب کرنے کو بھی یہ لوگ حرام قرار دیتے ہیں۔

(۱۶) حضور اکرم سیّد عالم ﷺ کا نام پاک سن کر انگوٹھے چومنے کو بھی یہ لوگ حرام کہتے ہیں۔

(۱۷) رجب کے مہینے میں امام جعفر صادق کی فاتحہ کو بھی یہ لوگ حرام کہتے ہیں۔

(۱۸) رمضان المبارک میں ختم قرآن کے موقعہ پر مساجد میں چراغاں کرنے کو بھی یہ لوگ حرام کہتے ہیں۔

(۱۹) امواتِ مسلمین کی قبروں پر تاریخِ وفاتر کا پتھر نصب کرنے کو بھی یہ لوگ حرام کہتے ہیں۔

(۲۰) نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنے کو بھی یہ لوگ ناجائز کہتے ہیں۔

(۲۱) عید کے دن معانقہ کرنے اور بغلگیر ہونے کو بھی یہ لوگ حرام کہتے ہیں۔

آپ ہی انصاف کے سا تھ فیصلہ کریں

علمائے دیوبند کے ساتھ ہمارے اختلاف کی یہ تیسری بنیاد بھی آپ کے سامنے ہے۔ اَب آپ ہی انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں کہ کیا آپ علمائے دیوبند کے ان فتوئوں سے متفق ہیں، اور کیا یہ فتوے جمہور مسلمین کی روایات کی مخالفت میں نہیں ہیں؟ ، اور کیا ہمارے معاشرے کا مذہبی اور اجتماعی نظام ان فتوئوں سے مجروح نہیں ہوتا، اگر ہوتا ہے اور یقیناً ہوتا ہے تو آپ ہی فیصلہ کریں کہ ان فتوئوں کے مطابق عام مسلمان صبح سے شام اگر حرام ہی کا ارتکاب کرتے ہیں تو ہمارا اسلامی معاشرہ کہاں ہے ؟

یہی وہ منزل ہے جہاں واضح طور پر آپ کو علمائے دیوبند اور علمائے بریلی کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنی ہوگی کہ علمائے دیوبند کی ساری محنت اس بات پر صرف ہوئی کہ مسلم معاشرے کے ہر فرد کو گنہگار وحرام کار ثابت کیا جائے، اور علمائے بریلی نے اپنے علم کا سارا زور اس بات پر لگادیا کہ جو چیز اﷲ اور اس کے رسول کے نزدیک حرام نہیں ہے اسے کون حرام کہہ سکتاہے۔ جن مذہبی اور اخلاقی روایات پر ہمارا معاشرہ کھڑا ہے انہیں بلا وجہ حرام قرار دینا علم اور فکر کی گمرہی بھی ہے اور مسلم دشمنی بھی۔

ہمارے قارئین جذبۂ انصاف سے کام لیں تو انہیں ماننا پڑے گا کہ علمائے بریلی کی ساری جدوجہد جمہور مسلمین کی حمایت میں ہے، جب کہ علمائے دیوبند کی ساری کوششیں جمہور مسلمین کی مخالفت میں ہیں۔ َٓؓ ٓ َٓاَب سے بڑھ کر ناقدری اور زیادتی کیا ہوگی کہ جو لوگ آپ پر حملہ آور ہیں وہ آپ کے سب سے بڑے خیر خواہ ہوگئے، اور علماء اپنی جان اور آبرو جوکھم میں ڈال کر آپ کا دفاع کررہے ہیں انہیں آپ دشمن سمجھتے ہیں۔

حاصلِ گفتگو

اختلاف کی پہلی بنیاد سے لے کر یہاں تک جو کچھ ہم نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے اس مدعا صرف اتنا ہے کہ آپ اختلافات کی کی نوعیت کو پوری طرح سمجھ لیں اور ہماری برہمی، بیزاری اور علیحدگی کو کسی اور جذبے پر محمول نہ کریں ۔ علمائے دیوبند کے گستاخ قلم کا حملہ ہماری اپنی ذات پر ہوتا تو عفوودرگذر اور مصالحت کی بہت سی راہیں نکل سکتی تھیں، لیکن جب انہوں نے منصبِ رسالت کی عظمتوں کو نشانہ بنا کر اﷲ اور اس کے پیارے رسول کو اذیت پہنچائی ہے تو اب ان کے متعلق جو فیصلہ ہوگا وہیں سے ہوگا۔

کسی بھی عالم کے ساتھ ہمارا رشتہ براہ راست نہیں ہے بلکہ نبی کے توسط سے ہے، جب اپنا رشتہ وہیں سے کوئی کاٹ لے تو ہمارے ساتھ رشتہ جوڑنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نبی پاک ﷺ کے ساتھ وفاداری کے جذبے ہی کا یہ تقاضا ہے کہ جب تک ہمارے جسم میں جان ہے، نہ یہ کہ ان گستاخوں سے ہم اپنا رشتہ منقطع رکھیں گے، بلکہ ہماری کوشش جاری رہے گی کہ ہر مومن وفادار کا رشتہ ان سے منقطع کرتے رہیں۔

ہمارے خلاف علمائے د یوبند کے الزامات

علمائے دیوبند کے ساتھ ہمارے اختلافات کی تاریخ ادھوری رہ جائے گی اگر ان الزامات کا ذکر نہ کریں جو علمائے دیوبند نے ہمارے خلاف عائد کئے ہیں۔

ہمارے خلاف ان کا سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ ہم نے صاحب علم وفضل علماء کی تکفیر کی ہے اور ہم کفر کا فتویٰ دینے میں بہت بے باک اور غیر محتاط واقع ہوئے ہیں اور اپنے مسلک میں ہم بہت شدت پسند اور متعصب ہیں۔ اس الزام کے دفاع میں اس سے زیادہ اور ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے کہ ہماری کتاب’’حسام الحرمین‘‘ میں صرف پانچ اشخاص کے خلاف یہ الزام اہانت رسول وانکارضروریات دین کفر کے فتوے صادر کئے گئے ہیں، جن پر حرمین طیبین اور بلاد عرب کے اکابر علماء اور مشائخ نے بھی اپنی مہر توثیق ثبت فرمائی ہے۔

ان میں چار تو یہی اکابر علماء دیوبند ہیں جن کا تذکرہ پہلی بنیاد کے ضمن میں گذر چکا ہے اور پانچواں مرزا غلام احمد قادیانی کذّاب ہے۔

اب اگر کوئی اپنی شامت اعمال سے ان پانچوں میں سے کسی کے بھی کلمات کفریہ کی حمایت کرتا ہے تو اس کے لازمی نتائج اور واجبی تعزیرات کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ علمائے بریلی کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ بلاوجہ کسی کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے، اہانت رسول اور کلمۂ کفرکی حمایت کرکے اپنی عاقبت برباد کرنے کا انتظام وہ خود کرتے ہیں، کسی اور کو مطعون کرنے سے کیا فائدہ۔

ایک ضروری نکتہ

اس مقام پر اس نکتے کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ جس طرح ایک غیر مسلم کو کلمۂ ایمان واسلام کے اقرار کے بعد مسلم سمجھنا ضروری ہے اسی طرح ایک مسلم کو اگر وہ معاذ اﷲ کفر کا مرتکب ہوجائے تو اسے غیر مسلم سمجھنا بھی دین ہی کا ایک فریضہ ہے۔

مخصوص حالات میں یہ ناخوشگوار فریضہ جس طرح علمائے بریلی کو انجام دینا پڑا ہے علمائے دیوبند بھی اس فرض کی ادائیگی میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں، ثبوت کے لئے مولوی عبدالماجد دریا بادی کی مشہور کتاب’’حکیم الامۃ‘‘ میں مولوی امین احسن اصلاحی کا یہ خط ملاحظہ فرمائیں، یہ خط اس دور کا ہے جب مولانا اصلاحی مدرسۃ الاصلاح سرائے میر ضلع اعظم گڈھ کے منتظم تھے، موصوف کے خط کا یہ حصہ خاص طور پر پڑھنے کے قابل ہے۔ ’’مولانا تھانوی کا فتویٰ شائع ہوگیا ہے کہ مولانا شبلی نعمانی اور مولانا حمید الدین فراہی کافر ہیں، اور چونکہ مدرسہ انہی دونوں کا مشن ہے اس لئے مدرسۃ الاصلاح مدرسہ کفر وزندقہ ہے، یہاں تک کہ جو علماء اس مدرسے کے (تبلیغی) جلسوں میں شرکت کریں وہ بھی ملحد وبے دین ہیں‘‘۔ (حکیم الامۃ : ص۴۷۵)

مولوی عبدالماجد دیا بادی تھانوی صاحب کے مریدوخلیفہ ہیں اس لئے مولوی امین احسن اصلاحی کا خط موصول ہونے کے بعد انہوں نے ایک معتمد کی حیثیت سے تھانوی صاحب کو مفصل خط لکھاجس میں انہوں نے مولوی شبلی نعمانی اور مولوی حمید الدین فراہی کی طرف سے صفائی پیش کرتے ہوئے ان کی عبادت وریاضت ، اُن کی نماز تہجد اور زہد وتقویٰ کو اس کے اسلام وایمان کے ثبوت میں پیش کیا تھا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ایسے متدین لوگوں کے خلاف کفر کا فتویٰ حلق سے نیچے نہیں اُترتا۔

تھانوی صاحب نے ان کے خط کا جو جواب دیا ہے وہ یہ ہے :

’’یہ سب اعمال و احوال ہیں، عقائد ان سے جدا گانہ چیز ہے، صحتِ عقائد کے ساتھ فساد اعمال واحوال اور فساد عقائد کے ساتھ صحت اعمال و احوال جمع ہوسکتا ہے‘‘۔ (حکیم الامۃ : ص۴۷۶)

اس جواب کا سوا ئے اس کے اور کیا مطلب ہے کہ شہرت علم وکمال اور فضل وتقویٰ کے باوجود مولوی شبلی نعمانی اور مولوی حمید الدین فراہی کے خلاف مولوی تھانوی نے کفر کا جو فتویٰ صادر کیاہے وہ درست اور صحیح ہے، تھانوی صاحب کے چاہنے والے معتقدین اس فتویٰ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے یہی تاویل کریں گے کہ مولوی تھانوی نے ان دونوں حضرات کی تحریر یا تقریر میں کفر کی کوئی بات ضرور دیکھی ہوگی، بغیر کسی شرعی وجہ کے انہوں نے کفر کا فتویٰ ہرگز صادر نہیں کیا ہوگا۔

اب یہی بات اگر ہم تھانوی صاحب اور دیگر اکابر دیوبند پر اُلٹ دیں کہ ان حضرات کے خلاف بھی کفر کا جو فتویٰ حرمین طیبین سے صادر ہوا وہ بھی بلا وجہ نہیں تھا، تکفیر کی کوئی شرعی وجہ ان کی نظر میں ضرور ہوگی جیسا کہ پہلی بنیاد میں اس کی ساری تفصیل آپ کی نظر سے گذر چکی ہے۔ اگر مولوی شبلی نعمانی اور مولوی حمید الدین فراہی کے علم وفضل اور زہد وتقویٰ کی شہرت، ان کی تکفیر سے مانع نہیں ہوتی تو اکابر دیوبند کے حق میں آسمان سے کون سی وحی نازل ہوتی ہے کہ کفر اور اہانت رسول کے جرم کے ارتکاب کے باوجود انہیں تکفیر سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔

تصلب اور شدّت پسندی کے الزام کا جواب

ہمارے خلاف علمائے دیوبند کا یہ الزام بھی ہے کہ ہم اپنے مسلک میں نہایت متصلب اور شدّت پسند واقع ہوئے ہیں، اس الزام کا اس سے زیادہ موزوں اور مؤثر جواب کوئی اور نہیں ہوسکتاکہ ہم انہیں آئینہ دکھائیں کہ آپ خود اپنی تصویر اس آئینہ میں دیکھ لیں پھر کسی پر انگلی اُٹھائیں۔

ابھی مولوی امین احسن اصلاحی کے خط میں تھانوی صاحب کا فتویٰ بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ مدرسۃ الاصلاح سرائے میر بھی چونکہ انہی کافروں کا مشن ہے اس لئے وہ بھی مدرسۂ کفرو زندقہ ہے، یہاں تک کہ جو علماء اس مدرسہ میں شرکت کریں وہ بھی ملحد وزندیق ہیں۔

اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ اس سے زیادہ مسلک کی شدت پسندی اور کیا ہوگی، تھانوی صاحب اپنے مسلک میں اتنے شدت پسند ہیں کہ جن لوگوں کو بددین سمجھتے ہیں ان کی تحریر بھی وہ اپنے معتقدین کو نہیں پڑھنے دیتے، ’’کمالات اشرفیہ‘‘ نامی کتاب میں ان کے ملفوظات کا مرتب ان کا یہ ملفوظ نقل کرتا ہے۔ ’’ بددین آدمی اگر دین کی بھی باتیں کرتا ہے تو ان میں ظلمت لپٹی ہوتی ہے، ان کی تحریر کے نقوش میں بھی ایک گونہ ظلمت لپٹی ہوتی ہے، اس لئے بے دینوں کی صحبت اور بے دینوں کی کتابوں کا مطالعہ ہرگز نہ کرنا چاہئے‘‘۔ (کمالات اشرفیہ : ص۵۵)

اب ہماری مظلومی کے ساتھ انصاف کیجئے کہ جن لوگوں کو اہانت رسول اور ضروریات دین کے انکار کے الزام میں ہم بے دین سمجھتے ہیں، اگر ہم بھی ان کی صحبت ، ان کی تقریروں اور ان کی تحریروں کے بارے میں یہی شدت اختیار کریں تو ہم کیوں لائق گردن زنی ٹھہرائے جائیں۔ شریعت کی جو مصلحت ان کے سامنے ہے وہ ہمارے سامنے بھی کیوں نہیں ہونی چاہئے؟

شدت پسندی کی ایک اور مثال

جو لوگ ندوہ کی تاریخ سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دیوبند کے اکابر ندوہ کے سخت مخالف تھے، یہاں تک کہ ندوہ کے ناظم مولوی محمد علی مونگیری جب ندوہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی دعوت لے کر مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب سے ملنے دیوبند گئے تو انہوں نے نہ صرف دعوت قبول کرنے اسے انکار کیا بلکہ ملنے سے بھی انکار کردیا، یہاں تک کہ جب مولوی مونگیری کی طرف سے اصرار ہوا کہ آپ خود شریک نہیں ہوسکتے تو کم از کم اپنے کسی آدمی کو شرکت کی اجازت دے دیجئے، تو اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا : ’’ مجھے معلوم کرایا گیا ہے کہ انجام اس کا بخیر نہیں، اس واسطے میں اپنی طرف سے کسی کو اجازت نہیں دے سکتا‘‘۔ (تذکرۃ الرشید، ج۲، ص۲۰۵)

’’انجام اس کا بخیر نہیں‘‘ اس الہام خداوندی کا اس سے زیادہ واضح ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ آج ندوہ پر دیوبندی فرقے کا تسلط ہوگیا ہے۔

اور انجام کی وحشت ناک تصویراور نمایاں ہو جائے گی اگر اس کا آغاز بھی آپ نظر میں رکھیں۔

مولوی شبلی نعمانی کے بارے میں اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ندوہ کے بانیوں ایک مؤ ثر شخصیت کے مالک تھے، ان کا ایک مضمون مقالاتِ شبلی کے حصہ ششم میں شائع ہوا ہے، یہ مضمون اس وقت کا ہے جب مولوی شبلی سے ندوہ کے ناظم کی چشمک ہوگئی تھی، بتدریج اختلافات یہاں تک بڑھے کہ شبلی کی حمایت میں ندوہ کے طلبہ نے اسٹرائک کردیا، اس کے بعد کی سرگزشت خود شبلی کے قلم سے پڑھئے، لکھتے ہیں کہ :

’’عین اسی حالت میں مولود شریف کا زمانہ آیا اور طلبہ نے جیسا ہمیشہ کا معمول تھا مولود شریف کرنا چاہا، لیکن اس خیال سے کہ مولود شریف میں بیان کروں گا وہ مولود سے روکے گئے اور تین دن تک یہ مرحلہ رہا، آخر لوگوں نے سمجھایا کہ مولود کے روکنے سے شہر میں عام برہمی پھیلے گی مجبوراً شرطوں اور قیدوں کے ساتھ مولودشریف کی منظوری دی گئی‘‘۔ (مقالاتِ شبلی، ج۶، ص۱۳۱)

لیکن کیا آج بھی دارالعلوم ندوۃ العلماء کے احاطے میں محفلِ مولود شریف کے انعقاد کی اجازت مل سکتی ہے؟ کیا آج بھی ہمیشہ کا یہ معمول وہاں کے طلبہ میں زندہ اور باقی ہے، نہیں ہرگز نہیں، کیونکہ اب ندوہ پر اہل دیوبند کا غاصبانہ قبضہ ہوگیا ہے۔

غور فرمائیے ! وہ آغاز تھا اور یہ انجام ہے، اور غضب یہ ہے کہ گنگوہی صاحب کا الہام انجام ہی کے بارے میں ہے، آغاز کے بارے میں نہیں ہے۔

شدت پسندی کا ایک اور مکروہ نمونہ

دیوبندی مذہب کے مشہور پیشوا مولوی رشید احمد گنگوہی اپنے مسلک میں کتنے شدت پسند تھے اس کی ایک مثال ندوہ کے سلسلے میں آپ پڑھ چکے، اب ان کی شدت پسندی، سخت مزاجی کا ایک اور مکروہ نمونہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیے :

بزرگانِ دین اور ان کے مزارات طیبات سے انہیں اتنی سخت نفرت تھی کہ وہ ان کے عرسوں سے بھی سخت نفرت کرتے تھے۔

سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے مشہور بزرگ، قطب عالم حضرت عبدالقدوس گنگوہی کا مزار مبارک اسی گنگوہ میں ہے جو مولوی رشید احمد صاحب کا وطن مالوف ہے، ان کی طرف سے مولوی صاحب کے دل میں کتنی کدورت تھی اور وہ ان کے عرس شریف سے کس قدر نفرت کرتے تھے اس کا اندازہ آپ مولوی زکریا شیخ الحدیث سہارنپور کی اس تحریر سے لگائیے۔

موصوف اپنی کتاب’’تاریخ مشائخ چشت‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’حضرت شاہ عبدالقدوس کا عرس جس کے بند کرنے پر آپ قادر نہ تھے، وہ اس درجہ آپ کو اذیت پہنچاتا تھا کہ آپ کو صبر کرنا دشوار تھا، اوّل اوّل آپ ان دنوں گنگوہ چھوڑ دیتے اور رام پور تشریف لے جاتے، مگر آخر میں اس اذیت قلبی کے برداشت کرنے کی آپ کو تکلیف دی گئی تو یہ زمانہ بھی آپ کو اپنی خانقاہ میں رہ کر گذارنا پڑا۔

موسمِ عرس میں آپ کو اپنے منتسبین کا آنا بھی اس درجہ ناگوار ہوتا تھا کہ آپ اکثر ناراض ہوجاتے اور ان سے بات چیت کرنا بھی چھوڑ دیتے، ایک بار جناب مولوی محمد صالح صاحب جالندھری جو آپ کے خلفاء اور مجازین مین سے تھے، آپ کی زیارت کے شوق میں بیتاب ہوکر گھر سے نکل کھڑے ہوئے، اتفاق سے عرس کا زمانہ تھا، اگرچہ آنے والے خادم کو اس کا وہم بھی نہ گذرا، مگر حضرت امام ربانی نے بجز سلام کا جواب دینے کے ان سے یہ بھی نہ پوچھا کہ روٹی کھائی یا نہیں اور کب آئے اور کیوں آئے۔

مولوی محمد صالح صاحب کو دودن اسی طرح گذر گئے، حضرت کا رُخ پھرا ہوا دیکھنا ان کو اس درجہ شاق گذرتا تھا کہ اس کو انہی کے دل سے پوچھنا چاہئے، آخر اس حالت کی تاب نہ لا کر حاضر خدمت ہوئے اور رو رو کر عرض کیا کہ حضرت مجھ سے کیا قصور ہوا جس کی یہ سزا مل رہی ہے، معذرت کے طور پر عرض کیا کہ حضرت خدا شاہد ہے مجھے تو عرس وغیرہ کے ساتھ ابتداہی سے شوق نہیں، واﷲ نہ میں اس وقت اس خیال سے گنگوہ آیا، اور نہ آجکل یہاں عرس ہونے کا مجھے علم تھا۔

حضرت امام ربانی نے فرمایا کہ اگرچہ تمہاری نیت عرس میں شرکت کی نہیں تھی، مگر جس راستے میں دو آدمی عرس کے آنے والے آرہے تھے اس میںتیسرے تم تھے‘‘۔ (تاریخ مشائخ چشت، ص۲۹۴)

اب قارئین کرام ہی انصاف فرمائیں کہ اس سے بڑھ کر اپنے مسلک میں شدت پسندی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ان کا مرید عرس شریف میں شرکت کی غرض سے گنگوہ نہیں گیا تھا، بلکہ اپنے پیر کی ملاقات کے لئے وہاں حاضر ہوا تھا، لیکن صرف اتنی سی بات پر کہ وہ عرس کے زمانے میں گنگوہ کیوں آیا اسے ایسی ذلت آمیز سزا دی کہ جیسے اس سے کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہو۔

اب سوال یہ کہ مولوی رشید احمد گنگوہی کو قطب عالم کے عرس سے اتنی نفرت تھی تو وہ سلسلہ چشتیہ میں مرید ہی کیوں ہوئے ، جب کہ اس سلسلے کے سارے اکابر جن میں خواجہ خواجگانِ چشت حضرت خواجہ معین الدین چشتی سے لے کر قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار ، بابا فرید شکر گنج، محبوب الٰہی حضرت نظام الدین، حضرت صابر پاک، حضرت چراغ دہلی، حضرت بندہ نواز گیسو دراز، حضرت ترک پانی پتی، حضرت شیخ عبدالحق ردولوی، حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی، حضرت شیخ جلال الدین تھانیسری، حضرت اخی سراج، حضرت علاء الحق پنڈوی اور حضرت سلطان اشرف جہانگیر سمنانی تک کون ایسا بزرگ ہے جس نے اپنے پیروں کا عرس نہ کیا ہو۔

تعجب ہے کہ مولوی رشید احمد گنگوہی صرف اتنی سی بات پر کہ عرس کے زمانے میں ان کا مرید کیوں آیااس سے منہ پھیر لیا، لیکن سلسلۂ چشتیہ کے جو مشائخ کبار ساری زندگی اپنے پیروں کا عرس کرتے رہے انہیں انہیں وہ اپنا پیر دستگیر مانتے ہیں، یہ سوال گنگوہی صاحب کے سر پر تلوار کی طرح لٹک رہا ہے کہ جو پیر گنگوہی صاحب کے مسلک کے مطابق خود محرمات وبدعات میں مبتلا ہو وہ کسی کا ہاتھ پکڑ کر خدا رسی کی منزل تک کیونکر پہنچا سکتا ہے۔

ہمارے خلاف علمائے دیوبند کا دوسرا الزام

جن لوگوں کے اعتقادی مفاسد پر امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے اپنے قلم کا نشتر چلایا تھا وہ زخموں کی تاب نہ لاکر زندگی بھر کراہتے رہے۔ انتقام ہر زخمی کا فطری تقاضا ہے، اور فطرت ہی کا یہ بھی داعیہ ہے کہ جب آدمی دشمن پر قابو نہیں پاتا تو دشنام طرازیوں پر اُتر آتا ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، علم واستدلال کے ذریعہ جو لوگ اپنے خلاف اہانت رسول کے الزام کادفاع نہیں کرسکے انہیں اپنے جذبۂ انتقام کی تسکیںکی یہی صورت نظر آئی کہ جس طرح بھی ممکن ہو ’’مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی‘‘ کی شخصیت کو مجروح کیا جائے۔

علمی جلالت اور کردار کے تقدس پر انگلی رکھنے کی کوئی جگہ نہ مل سکی تو یہ الزام تراشا گیا کہ انہوں نے سنتوں کی بجائے بدعتوں کو زندہ کیا، حالانکہ مجدد ہونے کی حیثیت سے احیائے سنت اور امتیاز میان حق وباطل ہی اعلیٰ حضرت کا اصل کارنامہ ہے جس کی بیشمار مثالیں اُن کے فتاویٰ کی ضخیم مجلدات میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں۔

اس طرح کے الزام تراشنے والوں میں شیخ دیوبند مولوی حسین احمد صاحب صدر جمعیۃ علمائے ہند کا نام سرورق پرہے، انہوں نے اپنی کتاب’’الشہاب الثاقب‘‘ میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کو پانی پی پی کر تقریباً چھ سو گالیاں دی ہیں، انہی میں ایک گالی ’’مجدّد البدعات‘‘ کی بھی ہے، جس سے ان کتاب کا ورق داغدار ہے۔

لیکن اس مقام پر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے کردار کی ارجمندی کو بار بار سلام کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ان کے خلاف کذب بیانی اور الزام تراشی کا کاروبار کرنے والے اپنی ہزار دشمنی کے باوجود اب تک یہ الزام ان پر عائد نہ کرسکے کہ وہ بدعتوں کے موجد بھی ہیں۔

’’مجدّد‘‘ اور ’’ مُوْجِدْ‘‘ کے درمیان جو معنوی فرق ہے وہ اہل علم پر مخفی نہیں ہے، اب جو لوگ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کو’’مجدّد البدعات‘‘ کہتے ہیں انہیں یہ بتانا ہوگا کہ جن بدعات کو انہوں نے زندہ کیا ہے ان کا موجد کون ہے، اور اپنی کارگذاریوں کی یہ رپورٹ بھی پیش کرنی ہوگی کہ علمائے دیوبند نے اُن موجدین کو کتنی گالیاں دی ہیں۔

اس وقت میرا موضوع یہ نہیں ہے ورنہ میرے پاس ان بدعات کی ایک لمبی فہرست ہے جن کی ایجاد کا سہرا خود علمائے دیوبند کے سر بندھتا ہے، وقت اگرچہ نہیں ہے لیکن مقام کی مناسبت سے علمائے دیوبند کی ایجاد کردہ بدعات کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ کرکے گذرجانا چاہتا ہوں تاکہ الزام بغیر سند کے نہ رہے۔ ذیل میں ان بدعتوں کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

(۱) دفع بلا اور قضائے حاجات کے نام پر مدرسہ کی مالی منعفت کے لئے ختم بخاری شریف کی بدعت کا موجد کوئی اور نہیں بلکہ خود دیوبند کا دارالعلوم ہے۔

(۲) نماز جنازہ کے لئے انتظامی مصلحت کی بنیاد پر نہیں بلکہ غلط اعتقاد کی بنیاد پر احاطۂ دارالعلوم میں ایک جگہ مخصوص کرنے کی بدعت کا موجد کوئی اور نہیں بلکہ خوددیوبندکا دارالعلوم ہے۔

(۳) مسلم میت کے کفن کے لئے’’کھدر‘‘ کی شرط لگانے اور کھدر کے بغیر نماز جنازہ پڑھنے اور پڑھانے سے انکار کردینے کی بدعت کا موجد بھی کوئی اور نہیں بلکہ خودشیخ دیوبند مولوی حسین احمد ہیں۔

(۴) وراثت انبیاء کی سند تقسیم کرنے کے لئے اہتمام وتداعی کے ساتھ صد سالہ اجلاس منعقد کرنے اور ایک نامحرم مشرک عورت کو اسٹیج پر بلا کر اسے کرسی پر بٹھانے اور اپنے مذہبی اکابر کو اس کے قدموں میں جگہ دینے کی بدعت سئیہ کا موجد بھی کوئی اور نہیں بلکہ خود دیوبند کا دارالعلوم ہے۔

(۵) دینی درس گاہ کے احاطے میں مشرکانہ الفاظ پر مشتمل قومی ترانہ کے لئے’’قیامِ تعظیمی‘‘ کی بدعت سئیہ کا موجد بھی کوئی اور نہیں بلکہ خود دیوبند کا دارالعلوم ہے۔

(۶) کانگریسی اُمیدوار کو کامیاب بنانے کے لئے انتہائی جدوجہد کو مذہبی فریضہ سمجھنے کی بدعت کا موجد بھی کوئی اور نہیں بلکہ خود شیخ دارالعلوم دیوبند ہیں۔

(۷) اپنے اکابر کی موت پر’’اہتمام وتداعی‘‘ کے ساتھ جلسۂ تعزیت منعقد کرنے اور ضلا لات و اباطیل پر مشتمل منظوم مرثیہ پڑھنے اور پڑھانے کی بدعت کا موجد بھی کوئی اور نہیں بلکہ خود دارالعلوم دیوبند ہے۔

(۸) بالالتزام کسی متعین نماز کے بعد نمازیوں کو روک کر ان کے سامنے تبلیغی نصاب(اب اس کتاب سے فضائل دُرود کا باب نکال کے اس کو فضائل اعمال کے نام سے موسوم کیا گیا ہے)کی تلاوت کرنے کی بدعت کا موجد بھی کوئی اور نہیںبلکہ خود علمائے دیوبند ہیں۔

(۹) کلمہ ونماز کی تبلیغ کے نام پر چلہ اور گشت کرنے اور کرانے کی بدعت کا موجد بھی کوئی اور نہیں بلکہ خود علمائے دیوبند ہیں۔

(۱۰) دارالعلوم دیوبند میںصدر جمہوریہ کی آمد کے موقعہ پرقومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہونے کا حکم صادر کرنے والے بھی اکابر دیوبند ہیں جو اس وقت اسٹیج پر موجود تھے، اب وہی بتائیں کہ یہ بدعت کی کون سی قسم ہے۔

یہ اور اس طرح کی بے شمار بدعات ومنکرات ہیں جن کی ایجاد کا سہرا علمائے دیوبند کے سر ہے، لیکن اس کے باوجود وہ لوگ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کو بدعتی کہتے نہیں تھکتے۔

علمائے دیوبند ہر نو ایجاد چیز پر بے دریغ بدعت ضلالت ہونے کا حکم صادر کردیتے ہیں اور اسے حرام قرار دے کر مسلمانوں میں اختلاف وانتشار کے نئے نئے فتنے برپا کردیتے ہیں۔

مثال کے طور پر محفلِ میلاد ہی کو لے لیجئے، اس کے بدعتِ ضلالت اورحرام ہونے کی ان کے پاس سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ سات سو برس کی نو ایجاد بدعت ہے، موجودہ ہیئت کے ساتھ نہ وہ عہد رسالت میں موجود تھی اور نہ عہد صحابہ وتابعین میں، لیکن جب ان سے دریافت کیا جاتا ہے کہ اگر آپ حضرات کے یہاں صرف نو ایجاد ہونے کی بنیاد پر محفل میلاد بدعت ضلالت ہے تو وہ جن اجزاء پر مشتمل ہے ان میں سے کسی چیز کے بارے میں نشاندہی کیجئے کہ وہ کسی سنت کو مٹاتا ہے یا شریعت کے کسی قاعدہ کلیہ کے تحت ممنوعات کے زمرے میں آتا ہے تو سوائے خاموشی کے ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پر محفلِ میلاد کے اجزاء یہ ہیں :

(۱) اعلانِ عام (۲) فرش وتخت اور شامیانہ (۳) روشنی (۴) بخور وعطریات وگلاب (۵) شیرینی (۶) مجمع مسلمین (۷) ذاکر ومیلاد خواں (۸) ذکر الٰہی و ذکر رسول (۹) قیام وسلام۔

ان سارے اجزاء میں سوائے قیام وسلام کے کوئی جز ایسا نہیں ہے جس پر اُن حضرات کا جلسۂ سیرت، یا جلسۂ وعظ، یا جلسۂ تبلیغ، یا جلسۂ دستار بندی ، یا جلسۂ تنظیم و جماعت پر مشتمل نہ ہو۔ اعلان عام بھی ہے، فرش وتخت اور شامیانہ بھی ہے، روشنی بھی ہے، مجمع بھی ہے، واعظ ومقررین بھی ہیں، اس لئے ان میں سے کسی جز کو بدعت ضلالت کہہ کر اسے حرام قرار دینے کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود اپنے ہی جلسوں کے خلاف حرام ہونے کا فتویٰ دیں۔

اب رہ گیا معاملہ قیام وسلام کا تو یہ بھی ان کے یہاں وجہ حرمت نہیں ہے کیونکہ بدونِ قیام بھی محفل میلاد ان کے یہاں حرام ہے، جیسا کہ فتاویٰ رشیدیہ میں ان کے پیشوا مولوی رشید احمد گنگو ہی نے تحریر فرمایا ہے۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ محفل میلاد کی حرمت وجہ غلط روایتوں کا پڑھنا یا بیان کرنا ہے تو میں عرض کروں گا کہ بروایت صحیحہ بھی محفل میلاد ان کے یہاں حرام ہے، جیسا کہ اپنے فتاویٰ میں مولوی رشید احمد گنگوہی اس کی بھی تصریح کرچکے ہیں۔

میں متعدد مناظروں میں دیوبندی علماء سے سوال کیا کہ جب ہماری محفل میلاد اور آپ حضرات کے جلسۂ وعظ کے اجزاء ایک ہی ہیں تو آپ کا جلسۂ وعظ جائز اور ہماری محفل میلاد حرام کیوں؟ صرف اس وجہ سے تو کوئی چیز حرام یا حلال نہیں ہوسکتی کہ آپ کے جلسہ کا نام جلسۂ وعظ یا جلسۂ سیرت ہے اور ہمارے جلسہ کا جلسۂ میلاد۔

جب ان حضرات سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو میں نے عرض کیا کہ ایک ہی وجہ فرق میری سمجھ میں آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضور سراپا نور ﷺ کی ولادت باسعادت کے موقعہ پر جب ساری کائنات میں خوشی کے ڈنکے بج رہے تھے تو شیطان لعین کے گھر میں ماتم بپا تھا وہ شدت غیظ میں اپنے سر پر خاک ڈال رہا تھا۔

اسے حضور پاک صاحب لولاک ﷺ کی ولادت باسعادت سے تکلیف پہنچی تھی، بہت ممکن ہے کہ اس کی پیروی میں آپ حضرات کو ذکر ولادت سے تکلیف پہنچتی ہو کیونکہ واقعہ تو گذر چکا اب تو صرف اس کا ذکر ہی باقی رہ گیا ہے۔ آپ حضرات دیوبند میں اپنے دارالعلوم کا جشن صد سالہ مناتے ہیں تو شریعت آپ کا ہاتھ نہیں پکڑتی، اور ہمارے جشن عید میلاد النبی پر آپ کا دارالعلوم گرنجے اور برسنے لگتا ہے، سچ کہا ہے کہنے والوں نے کہ جب کسی کی ذات سے دل میں کسی طرح کی جلن ہوجاتی ہے تو اس کے ذکر سے بھی دل جلنے لگتا ہے۔

ایک چبھتا ہواسوال اور اس کا جواب

میری یہ تحریر پڑھنے کے بعد ہر خالی الذہن شخص کے دماغ کی سطح پر یہ سوال ضروراُبھرے گا کہ ہندوستان میں دیوبندی فرقے کے علاوہ اور بھی بہت سارے باطل فرقے ہیں ، لیکن کیا وجہ ہے کہ کسی اور فرقے کیخلاف علمائے اہل سنت اس طرح صف آرا نظر نہیں آتے جیسی صف بندی اُن کے یہاں اہل دیوبند کے مقابلے میں نظر آتی ہے۔

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ بتادینا ضروری سمجھتا ہوں کہ بحمدہٖ تعالیٰ علمائے اہل سنت نے ہر باطل فرقے کے خلاف تحریر وتقریر اور بحث ومناظرہ کے ذریعہ ردّ وابطال کے فرائض جس گرم جوشی اور دیانتداری کے ساتھ انجام دئیے ہیں وہ مہر نیم روز کی طرح روشن ہیں، دین حق کے خلاف اُٹھنے والے فتنے کی سرکوبی کے سلسلے میں ہم نے کبھی اہل زمانہ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے، شیعوں، قادیانیوں اور غیر مقلدین وغیرہ کے ردّ میں امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے بہت سارے رسائل لا کھوں کی تعداد میں شائع ہوئے اور ہو رہے ہیں، اُن کے بعد اُن کے خلفاء ، تلامذہ اور متوسلین ومتبعین نے تحریرات وخطبات کے ذریعہ جو خدمات انجام دی ہیں ان کے اثرات سے زمین کا کوئی خطہ بھی خالی نہیں ہے۔ ایسی بات ہرگز نہیں ہے کہ دوسرے فرقہائے باطلہ کے لئے کوئی نرم گوشہ ہمارے دلوں میں موجود ہے۔

دیوبندی فرقے کے خلاف شدّت پسندی کی وجوہات

اب رہ گئی یہ بات کہ دیوبندی فرقے کے خلاف علمائے اہل سنت کا رویہ اتنا سخت کیوں ہے تو اس کی متعدد وجوہات ہیں، جنہیں ٹھنڈے دل سے پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

پہلی وجہ

تو یہ ہے کہ جن کفریات وضلالات کی وجہ سے دیوبندی فرقے کے ساتھ ہمارا بنیادی اختلاف ہے ان کا تعلق عقائد سے ہے اور وہ عقائد یا تو اُن کے دلوں میں ہیں یا ان کی کتابوں کے اوراق میں چھپے ہوئے ہیں، اب جہاں تک عمل کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں، ظاہر میں بالکل ہماری ہی طرح وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، بالکل ہماری ہی طرح وہ بھی اذان دیتے ہیں، بالکل ہماری ہی طرح وہ بھی تراویح پڑھتے ہیں ، بالکل ہماری ہی طرح وہ بھی عیدین کی نماز پڑھتے ہیں، ظاہری سطح پر اُن کے ظاہر میں کوئی ایسی واضح علامت موجود نہیں ہے جس کے ذریعہ سادہ لوح مسلمانوں کو ان کی شناخت ہوسکے۔ اس لئے ان کے متعلق عوام کا غلط فہمی میں مبتلا ہونا بالکل یقینی امر ہے۔ اسی بنیاد پر یہ ضرورت داعی ہوئی کہ عقیدے کی سطح سے عوام میں اُن کا اتنا واضح تعارف کرایا جائے کہ انہیں پہچاننے میں کوئی دشواری نہ پیدا ہو۔

لیکن جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے تو جہاں انہوں نے اذان دی یا نماز کی نیت باندھی تو فوراً پتہ چل گیا کہ یہ اور ہیں اور ہم اور ہیں۔ یہی حال غیر مقلدین کا بھی ہے، ان کی فرض نمازیں، ان کی وتر اور ان کی تراویح اور ان کی عیدین نمازیں چیخ چیخ کر عوام کو تنبیہہ کردیتی ہیں کہ یہ دوسرے مذہب کے لوگ ہیں، اس لئے عوام کو ان سے خبردار کرنے کی اتنی سخت ضرورت نہیں ہے جتنی سخت ضرورت عوام کو دیوبندی فرقے سے بچانے کی ہے۔

دیوبندی حضرات سُنّی عوام کو کس طرح بدعقیدہ بناتے ہیں؟

یہ گھُس بیٹھئے ہیں جو ہماری صفوں میں گھُس کر اور ہمارا بن کر ہمارے عوام کو مختلف ترکیبوں سے قریب کرتے ہیں، اور جب وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا تیر نشانے پر بیٹھ گیا تو وہ مختلف طریقوں سے انہیں اپنی جماعت کے اکابر کا عقیدت مند بناتے ہیں، اور اس کے بعد انہیں اتنا بدل دیتے ہیں کہ وہ اہل سنت کے ان سارے عقائد وروایات جنہیں وہ ایمان کی طرح عزیز رکھتے تھے اب شرک وبدعت سمجھنے لگتے ہیں، اور کچھ دنوں کے بعد ان کے دلوں پر بد بختیوں کی ایسی مہر لگ جاتی ہے کہ نہ وہ قرآن کی کوئی بات سنتے ہیں نہ حدیث کی۔ واضح رہے کہ یہ ساری باتیں میں مفروضے کے طور پر نہیں لکھ رہا ہوں بلکہ یہ ہمارے دن رات کے مشاہدات ہیں، ان حالات میں اہل سنت کے سادہ لوح عوام انبیاء واولیاء کی جناب میں بدعقیدہ ہونے سے بچانے کے لئے ہمارے پاس سوا اس کے اور کیا یہ راستہ ہے کہ ہم اپنے عوام کو دیوبندیوں کے عقائد اور ان کے مکروفریب کے ہتھکنڈوں سے پوری طرح باخبر رکھیں۔

دوسری وجہ

دیوبندی مذہب کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہوجاتی ہے کہ قرآن حکیم میں منافقین مدینہ کی جو خصلتیں بیان کی گئی ہیں، اُن ساری خصلتوں کے یہ حقیقی وارث ہیں، مثال کے طور پر منافقین کے پاس دو زبانیں تھیں ، ایک تو وہ تھی جو صرف ان کے اپنے لوگوں میں کھلتی تھی، اور دوسری زبان وہ تھی جسے حضور اکرم ﷺ کے جاں نثاروں کے سامنے کھولتے تھے۔ قرآن نے ان کی اس خصلت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

وَإِذَا لَقُواْ الَّذِیْنَ آمَنُواْ قَالُواْ آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْاْ إِلَی شَیَاطِیْنِہِمْ قَالُواْ إِنَّا مَعَکْمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِئُونَ(سورۃ البقرۃ: ۱۴)

’’اور جب وہ نبی کے جاں نثاروں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی تمہاری ہی طرح جاں نثار ہیں اور جب تنہائی میں اپنے شیاطین کے ساتھ ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو حقیقت میں تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو صحابہ کے ساتھ صرف مذاق کررہے تھے‘‘۔

ٹھیک یہی حال دیوبندی فرقے کا بھی ہے، ان کے پاس بھی دو زبانیں ہیں، ایک زبان تو وہ ہے جو انبیاء اولیاء کے وفا داروںاور عقیدت مندوں کے سامنے کھلتی ہے اور دوسری زبان وہ ہے جس زبان میں وہ اپنے گروہ کے لوگوں سے باتیں کرتے ہیں۔

عقیدہ وعمل کے تضاد کا ایک دلچسپ قصہ

اس کی زندہ مثال دیکھنی ہو تو آپ دہلی تشریف لائیے، یہاں جمیل الیاسی نام کے ایک مشہور شخص ہیں جو اپنی پیدائشی سرشت و خمیر کے اعتبار سے کٹر دیوبندی وتبلیغی ہیں، ان کے نام کے ساتھ’’الیاسی‘‘ کا پیوند ہی ان کے اندر کا سارا حال بتا دیتا ہے، ایک طرف دہلی میں وہ دیوبندیت وتبلیغیت کے اتنے سرگرم مبلغ ہیں کہ شاید ہی دہلی میں کوئی مسجد بچی ہو جسے دہلی وقف بورڈ اور وقف کونسل ممبر ہونے کی حیثیت سے انہوں نے تبلیغی جماعت کی چھائونی میں تبدیل نہ کردیا ہو۔

لیکن اب ان کی تصویر کا دوسرا رُخ ملاحظہ فرمائیے اور سر پیٹئے کہ دہلی کے بائیس خواجگان کی شاید ہی کوئی ایسی درگاہ ہو جہاں عرس کے موقعہ پر وہ پیش پیش نہ رہتے ہوں، شری راجیو گاندھی جب پہلی بار وزیر اعظم ہوئے تو ان کی چادر لے کر یہی حضرت اجمیر شریف گئے اور ان کی طرف سے خواجہ کے مزار شریف پر چڑھایا۔

اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ قصہ یہ ہے کہ جس زمانے میں شریمتی اندرا گاندھی وزارت عظمیٰ کی کرسی سے اُتاری گئی تھیں اور اپنی ناکامی کے کرب میں زندگی گذار رہی تھیں تو خوش آئندہ مستقبل کی نشاندہی کرنے والے جوتشیوں کی طرح یہ حضرت بھی ایک دن وہاں پہنچ گئے اور اندرا گاندھی سے کہا کہ دنیا میں صرف ایک ہی ذات ہے جوآپ کا گیا ہوا تخت وتاج واپس دلا سکتی ہے، اور وہ ہے غوثِ اعظم کی ذات جن کا مزار مبارک بغداد شریف میں ہے۔

اندرا گاندھی کو اور کیا چاہئے تھا فوراً بغداد شریف کے سفر کا انتظام کرادیا، اور یہ بغداد شریف کے لئے روانہ ہو گئے ، وہاں مزار شریف پر پندرہ دن تک چلہ کش رہے ، اور واپس آکر اندرا گاندھی کو خوشخبری دی کہ وہاں مجھے مزار شریف سے بشارت ہوئی ہے کہ نو مہینے کے بعد آپ کے دن پلٹ آئیں گے۔

انصاف کیجئے! اپنے عقیدے کے ساتھ اتنی زبردست جنگ سوائے دیوبندی فرزندوں کے اور کون لڑسکتا ہے، دیوبندی زبان کے محاورے میں قبروں کی پرستش بھی کرتے رہے اور مشرک بنانے والوں کو اپنا امام بھی مانتے رہے، اب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ ایسے لوگوں سے بچنا کتنا مشکل ہے جن کے کئی چہرے ہیں، دیوبند اور سہارنپور میں کچھ ہے اور بغداد واجمیر چلے گئے تو کچھ اور بن گئے۔

د یوبندی مذ ہب کا ایک اور جنازہ

جن حضرات نے’’تقویۃ الایمان‘‘ اور ’’بہشتی زیور‘‘ کا مطالعہ کیا ہے وہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ علمائے دیوبند کے نزدیک قبروں سے مدد مانگنی شرک جلی ہے، لیکن اپنے گھر کے بزرگوں کی قبروں کے بارے میں وہ کیاعقیدہ رکھتے ہیں، اُسے سہارنپور کے شیخ الحدیث مولوی زکریا صاحب کی کتاب’’تاریخ مشائخ چشت‘‘ میں ملاحظہ فرمائیے۔

اپنی اس کتاب میں وہ حاجی امداد اﷲ صاحب مہاجر مکی کے پیرو مرشد میاں جی نور محمد جھنجھانوی کے سفرِ آخرت کا ذکر کرتے ہوئے حاجی صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ اپنے مرض الموت میں ان کے پیرومرشد نے ارشاد فرمایاکہ !

’’ میرا ارادہ تھا کہ تم سے مجاہدہ ومشقت لوں گا لیکن مشیت باری سے کوئی چارہ نہیں، پیام سفر آخرت آگیا ہے، جب حضرت نے یہ کلمات فرمائے تو میں پالکی کی پٹی پکڑ کر رونے لگا، حضرت نے تسلی دی اور فرمایا کہ فقیر مرتا نہیں بلکہ ایک مکان سے دوسرے مکان میں انتقال کرتا ہے، فقیر کی قبر سے وہی فائدہ ہوگا جو ظاہری زندگی میں ہوتا تھا۔ (مشائخ چشت ،ص۲۰۴)

میاں جی نور محمد کی قبر سے متعلق ایک عبارت ان کی سوانح حیات سے بھی ملاحظہ فرمائیے جو ادارہ تالیفات اشرفیہ تھانہ بھون (ضلع مظفر نگر۔ یوپی۔ بھارت) سے شائع ہوئی ہے ، اور جس پر قاری طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کی تقریظ ہے، مصنف کتاب لکھتے ہیں کہ : ’’حضرت میانجیو رحمۃ اﷲ علیہ کی وفات کے بعد بھی آپ کی روح پر فتوح سے وہی فیضان وعرفان کا چشمہ جاری اور آپ کے ارشاد کے مطابق آپ کے مزار مقدس سے بھی وہی فیوض وبرکات حاصل ہوتے ہیں جو آپ کی ذات قدسی صفات سے ہوتے تھے‘‘۔ (سوانح حیات میانجیو، ص۷۰)

اب اس دعوے کے ثبوت میں کہ ان کے انتقال کے بعد ان کی قبر سے بھی وہی فائدہ ہوتا ہے جو ان کی ظاہری زندگی میں ہوتا تھا، ان کی سوانح حیات کے مصنف نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ :

’’ایک بار حاجی امداد اﷲ صاحب نے فرمایا کہ میرے حضرت کا ایک جولاہا مرید تھا، بعد انتقال حضرت کے مزار پر حاضر ہوا، اور فاتحہ کے بعد اس نے عرض کی کہ حضرت میں بہت پریشان اور تنگیٔ معاش میں مبتلا ہوں میری کچھ دستگیری فرمائیے، حکم ہوا کہ تم کو ہمارے مزار سے دو آنے روز ملا کریں گے۔

ایک مرتبہ میں زیارت کو گیا وہ شخص بھی حاضر تھا اس نے کل کیفیت بیان کرکے کہا کہ مجھے ہر روز وظیفہ مقررہ قبر کی پائینتی سے ملا کرتا ہے‘‘۔ (سوانح میانجیو: ص۷۹)

انصاف کیجئے !دیوبندی فرقے کی مشہور کتابوں تقویۃ الایمان، بہشتی زیور اور فتاویٰ رشیدیہ میں نہایت صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ کسی قبر پر حاضر ہوکر مدد مانگنا اور مصیبتوں میں ان سے دستگیری کی درخواست کرنا صریح شرک ہے، لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس واقعہ میں شرک کا وہ سارا فتویٰ ایمان کے لباس میں تبدیل ہوگیا۔

اب آپ ہی فیصلہ کیجئے ! کہ جس فرقے کے چہرے پر نفاق کے اتنے دبیز پردے ہوں کہ اپنے ہی مذہب کے عقیدے چھپالیں ، اس کی پہچان کتنی مشکل ہے۔

دیوبندی فرقے کے اسی دورنگی مذہب کے مفاسد سے بچنے کے لئے علمائے اہل سنت کو ضرورت پیش آئی کہ عوام کو ان کے حقیقی چہرے کے خدوخال سے بار بار واقف کرائیں تاکہ وہ ان کے فریب میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں۔

بدعت کی بحث

دیوبندی فرقے کے یہاں بدعت کا لفظ بھی بہت کثیر الاستعمال ہے، بات بات پر اہل سنت کو بدعتی کہنا ان کی عام بول چال ہے، یہاں تک کہ انہوں نے اہل سنت کا نام ہی بدعتی رکھ دیاہے، جیسا کہ اپنی اسی کتاب ’’تاریخ مشائخ چشت‘‘ میں مولوی زکریا نے حاجی امداد اﷲ صاحب کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ : ’’میں کسی کو بیعت کرنے سے اس لئے انکار نہیں کرتا کہ وہ شخص کسی بدعتی کے پنجے میں نہ گرفتار ہوجائے، پھر اﷲ تعالیٰ مجھ سے مواخذہ فرماویں کہ وہ تمہارے پاس گیا تھا تم نے کیوں رد کردیا جس کی وجہ سے وہ ایسی جگہ پھنسا‘‘۔ (تاریخ مشائخ چشت، ص۲۶۶)

اس عبارت کا مطلب سوا اس کے اور کیا نکلتا ہے کہ حاجی صاحب چونکہ دیوبندیوں کے پیرو مرشد ہیں اس لئے تنہا وہی سنت کے طریقے پر ہیں باقی دوسرے مشائخ طریقت تو سرتا سر بدعتی ہیں۔

اب اسی مقام پر تصویر کا دوسرا رُخ بھی آپ کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں، اسی کتاب میںمولوی زکریا نے لکھا ہے کہ حاجی صاحب نے اپنے پیرومرشد میانجی نور محمد جھنجھانوی کے مزار پر پتھر کا ایک کتبہ نصب کیا ہے جس پر یہ اشعار کندہ ہیں ۔

شہرجھنجھانہ ہے اِک جائے ہد یٰ

مسکن وماویٰ ہے جس جا آپ کا

مولیٰ پاک آپ کا ہے اور مزار

اُس جگہ تو جان لے اے ہوشیار

اس جگہ ہے مرقدِ پاک جناب

سرجھکاتے ہیں سب شیخ وشاب

جس کو ہو شوق دیدار خدا

اُن کے مرقد کی زیارت کو وہ جا

دیکھتے ہی اس کے مجھ کو ہے یقیں

اُس کو ہو دیدار رب العٰلمیں

غور فرمائیے ! مرقد پاک کی زیارت کرنے کے لئے جانا اور مرقد پاک کے دیدار سے رب العٰلمین کا دیدار کرنا کیا ساری باتیں دیوبندی مذہب میں جائز ہیں ؟ مولوی زکریا سے لے کر دیوبندی فرقے کے سارے اصاغر واکابر کو میں چیلنج کرتا ہوں کہ تقویۃ الایمان ، بہشتی زیور اور فتاویٰ رشیدیہ میں بیان کردہ عقائد کی روشنی میں وہ ثابت کریں کہ یہ اشعار دیوبندی مذہب کے مطابق ہیں، لیکن بات پھر وہیں پلٹ آتی ہے کہ یہ عمل چونکہ اپنے گھر کے بزرگ کا ہے اس لئے آنکھ بند کرکے اُسے جائز ماننا ہی پڑے گا۔

اپنے بزرگوں کی خاطر اصولوں کا خون کرنا دیوبندی فرقے کا یہی وہ دو رنگی مذہب ہے جن کا پردہ چاک کرنے کے لئے علمائے اہل سنت کو کتابیں بھی لکھنا پڑیں، مناظرہ بھی کرنا پڑا اور اسی کلمۂ حق کو اپنی زندگی کا مشن بھی بنانا پڑا۔ ۱۷؍ محرم الحرام ۱۴۱۳ھ/ ۱۹؍ جولائی ۱۹۹۲ء

ارشدالقادری غفرلہٗ۔ بانی ومہتمم جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء ، نئی دھلی