Skip to content

امام احمد رضا بریلوی اور حدائق بخشش حصہ سوم

ردِّ بدمذہبشخصیات

اََلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اََمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّ حِیْمِِ ط

امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ پر ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے عشق رسول کا لبادہ اوڑھ کر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی شان میں گستاخانہ اور فحش اشعار کہے۔

اللھم سبحنک ھذا بھتان عظیم، لا تزروازرۃ وزراُخریٰ، دوسرے کی غلطیٔ ترتیب کی ذمہ داری امام احمد رضا علیہ الرحمہ پر زبردستی ڈالتے ہیں جن کی وفات کے بعد یہ شائع ہوا، غلطیٔ ترتیب والے نے بھی اپنی غفلت کی معافی مانگ لی ، صحیح ترتیب بھی بعد میں شائع ہوگئی، لیکن خوف خدا سے عاری یہ جہلاء صرف فتنہ چاہتے ہیں۔

امام احمد رضا بریلوی کا نعتیہ دیوان’’حدائق بخشش‘‘ دو حصوں پر مشتمل ہے، یہ ۱۳۲۵ھ/ ۱۹۰۷ء میں مرتب اور شائع ہوا، ماہ صفر ۱۳۴۰ھ/ ۱۹۲۱ء کو امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا وصال ہوا، وصال کے دو سال بعد ذوالحجہ ۱۳۴۲ھ/ ۱۹۲۳ء میں مولانا محبوب علی قادری لکھنوی نے آپ کا کلام متفرق مقامات سے حاصل کرکے حدائق بخشش کے نام سے شائع کردیا، انہوں نے مسودہ نابھہ سٹیم پریس، نابھہ( ریاست پٹیالہ۔ہندوستان )کے سپرد کردیا، پریس والوں نے کتابت کروائی اور کتاب چھپ دی۔

کاتب بد مذہب تھا، اُس نے دانستہ یا نا دانستہ چند ایسے اشعار ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی مدح میں شامل کردئیے جو اُم زرع وغیرہ مشرکہ عورتوں کے بارے میں تھے، ان عورتوں کی ذکر حدیث کی کتابوں مسلم شریف، ترمذی شریف اور نسائی شریف وغیرہ میں موجود ہے۔

اس کتاب کی اشاعت کے بتیس برس بعد۱۳۷۴ھ/ ۱۹۵۵ء میں دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے پورے شدومد سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ مولانا محبوب علی خاں نے حضرت ام المومنین رضی اﷲ عنہا کی بارگاہ میں گستاخی کی ہے، لہذا انہیں بمبئی کی سنی جامع مسجد سے نکال دیا جائے۔

مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضاخاں تحریر فرماتے ہیں : ’’ مجھے جہاں تک معلوم ہوا، غالباً کاظم علی دیوبندی نے نے کانپور میں اپنی تقریر میں اسے ذکر کرکے فتنہ اُٹھانا چاہا، پھر جگہ جگہ وہ اور اس سے سُن کر اور وہابی اسے دہراتا رہا‘‘ ۔(محمد عزیز الرحمن بہاؤپوری ، فیصلہ مقدسہ شرعیہ قرآنیہ، مطبوعہ مرکزی مجلس رضا لاہور ۱۹۸۴ء،ص۸۱)

روز نامہ انقلاب بمبئی اس معاملے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا،اور دیوبندی اشتعال اور ہیجان پھیلا رہے تھے۔

اعلان توبہ

بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور حدیث کی دوسری کتابوںمیں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے ایک حدیث مروی ہے کہ گیارہ مشرکہ عورتوں نے باہمی طور پر طے کیا کہ ہر ایک اپنے شوہر کے اوصاف بیان کرے گی اور کچھ چھپائے گی نہیں ، ان میں ایک ام زرع تھی، جس نے اپنے شوہر کی دل کھول کر تعریف کی، پھر ساتھ ہی ابوزرع کی بیٹی کاذکر کرتے ہوئے کہا:

طوع ابیھا وطوع امھا وملٌ کسائھا(مسلم شریف، مطبوعہ نور محمد، کراچی، ج۲، ص۲۸۸)

وہ اپنے ماں باپ کی فرنبردار ہے اور اس کا جسم اس کی چادر کو بھرے ہوئے ہے۔

اس حدیث کے آخر میں ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو فرمایا : کنت لک کا بی زرع لام زرع ، یعنی میں تم پر اس طرح مہربان ہوں جیسے ا بوزرع ام زرع کے لئے تھا ۔

مولانا محبوب علی خاں نے جس بیاض سے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شان میں قصیدہ نقل کیا، اسی بیاض سے سات شعر وہ نقل کئے جو ان گیارہ مشرکہ عورتوں کے بارے میں تھے، ان سات شعروں پر بھی لفظ’’ علیحدہ‘‘ لکھ دیا، لیکن کاتب نے دانستہ یا نادانستہ انہیں ام المومنین کے مدحیہ قصیدہ میں مخلوط کردیا اور کتاب اسی طرح چھپ گئی، مولانا محبوب علی خاں کو اطلاع ہوئی تو ان کا خیال تھا کہ دوسرے ایڈیشن میں تصحیح کردی جائے گی اور قارئین خود محسوس کرلیں گے کہ یہ اشعار غلطی سے اس جگہ درج ہوگئے ہیں، خطیب مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ (مصنف خون کے آنسو) نے بمبئی کے ایک ہفت روزہ اخبار میں مراسلہ شائع کرادیا اور حضرت مولانامحبوب علی خاں کو اس غلطی کی طرف توجہ دلائی۔

مولانا محبوب علی خاں کے دل میں کوئی ایسی بات نہیں تھی، لہذا انہوں نے ماہنامہ ’’سُنی‘‘ لکھنؤ ، شمارہ ذوالحجہ ۱۳۷۴ھ/ ۱۹۵۵ء میں ’’توبہ نامہ‘‘ شائع کرایا، اس توبہ نامہ کا خلاصہ مفتی اعظم دہلی مولانا مفتی محمد مظہر اﷲ دہلوی کے الفاظ میں ملاحظہ ہو:

’’ وہ ماہنامہ پاسبان(الٰہ آباد) کے ایڈیٹر کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ آج ۹؍ ذیقعدہ ۱۳۷۴ھ کو بمبئی کے ہفتہ وار اخبار میں آپ کی تحریر حدائق بخشش حصہ سوم کے متعلق دیکھی، جواباً پہلے فقیر حقیر اپنی غلطی اور تساہل کا اعتراف کرتے ہوئے اﷲ تبارک وتعالیٰ کے حضور میں اس خطا اور غلطی کی معافی چاہتا ہے اور استغفار کرتا ہے، خدا تعالیٰ معافی بخشے۔ آمین‘‘

اس کے بعد اس غلطی کے واقع ہونے کی وجہ بتلائی، جس کا خلاصہ یہ ہے:

قصیدہ مدحیہ سیدتنا حضرت ام المومنین رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اور سات اشعار قصیدہ اُم زرع والے ، مصنفہ حضرت علامہ بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ ، پُرانی قلمی بوسیدہ بیاض سے نہایت احتیاط کے ساتھ نقل کئے، لیکن اُمّ زرع والا قصیدہ چونکہ پورا دستیاب نہ ہوا تھا، ان سات شعروں کے کے تین حصہ کرکے ہر حصہ پر لفظ ’’علیحدہ‘‘ جلی قلم سے لکھ دیا تھا کہ ہر حصہ کا مضمون علیحدہ تھا، جب حدائق بخشش حصہ سوم کی طباعت کا ارادہ کیا تو بعض مجبوریوں کی بنا پر اپنے مقام (پٹیالہ) پر اس کا بندوبست نہ کرسکا ، ناچار نابھہ سٹیم پریس والے سے معاملہ کرنا پڑا(اس مقام پر انہوں نے تفصیل کے ساتھ اپنی مجبوریوں کا بیان کیا ہے)

پریس والے نے یہ شرط کی کہ اس کی کتابت بھی یہیں ہوگی، ناچار یہ شرط بھی منظور کی اور اس کے سپرد کردیا، اتفاق سے کاتب اور مالک پریس دونوں بد مذہب تھے، ان لوگوں سے قصداً یا سہواً یہ تقدیم وتاخیر اور تبدیل وتغیر ظہور میں آئی، بہت روز کے بعد جب میں اس کتاب کی غلطیوں پر واقف ہوا تو خیال ہوا کہ کہ طباعت دوم میں اس کی اصلاح ہوجائے گی ، لیکن حافظ ولی خاں نے بغیر مجھے اطلاع دئیے پھر چھپوا دیا، غرض اس میں جو تساہل مجھ سے ہوا ، اس پر ہی اپنی غفلت اور غلطی پر خدا تعالیٰ کے حضور میں معافی چاہتا ہوں، وہ غفور ورحیم مجھے معاف فرمائے۔(ماہنامہ سُنی، لکھنؤ ، ص۱۷)(مفتی محمد مظہر اﷲ دہلوی، فتاویٰ مظہری، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی، ج۲، ص ۳۹۳)

پھر یہ اعلان بھی شائع کیا:

نکات

ضروری اعلان: حدائق بخشش حصہ سوم ص۳۷ وص ۳۸ میں بے ترتیبی سے اشعار شائع ہوگئے تھے، اس غلطی سے بار بار فقیر اپنی توبہ شائع کرچکا ہے، خدا ورسول جل جلالہٗ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم فقیر کی توبہ قبول فرمائیں ، آمین ثم آمین! اور سنی مسلمان بھائی خدا ورسول کے لئے معاف فرمائیں، جل جلالہٗ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم۔

فقیر نے اس ورق کو صحیح ترتیب سے چھپوا دیا ہے، جن صا حبوں کے پاس حدائق بخشش حصہ سوم ہو، وہ مہربانی فرماکر اس میں سے ص۳۷ وص۳۸ والا ورق نکال کر فقیر کو بھیج دیں اور صحیح چھپا ہوا ورق فقیر سے منگواکر اپنی کتاب میں لگالیں اور جو صاحب کتاب واپس کرنا چاہیں، وہ فقیر کے پاس پہنچا کر فقیر سے قیمت واپس لے لیں۔ والسلام علی اہل الاسلام

فقیر ابوالظفر محب الرضا محمد محبوب علی خاں قادری برکاتی رضوی مجددی لکھنوی غفرلہٗ ، پتا یہ ہے: جامع مسجد مدن پورہ ، بمبئی نمبر۸ (محمد عزیز الرحمن بہائو پوری، فیصلہ مقدسہ شرعیہ قرآنیہ، ص۳۲، ۳۱)

مولانا محبوب علی خاں نے اس غلطی پر کئی بار زبانی اور تحریری طور پر صریح توبہ کی، چنانچہ ۱۰؍جولائی ۱۹۵۵ء کو ان کا توبہ نامہ شائع ہوگیا، پھر رسالہ سُنی لکھنؤ اور روزنامہ انقلاب بمبئی میں بھی چھپا۔(رضائے مصطفیٰ، بمبئی، شمارہ اگست ۱۹۵۵ء، ص۱۷)

کیا توبہ کا دروازہ بند ہوگیا ہے؟

حدائق بخشش حصہ سوم کے مرتب مولانا محبوب علی خاں کو توہین کا مرتکب اور ناقابل امامت قرار دینے والے صراط مستقیم، حفظ الایمان، الخطوب المذیبہ اور ایسی دوسری کتابوں اور ان کے مصنفین پر بھی وہی فتویٰ لگاتے اور سب سے توبہ کا مطالبہ کرتے،تو ان کا خلوص شک وشبہ سے بالا تر ہوتا، لیکن مولانا محبوب علی خاں چونکہ اپنی جماعت کے فرد نہیں ہیں، اس لئے تمام فتوے ان پر لاگو ہورہے ہیں، باقی حضرات چونکہ اپنی جماعت کے بزرگ ہیں، اس لئے نہ تو قلم ان کے خلاف حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی ان کے لئے کوئی فتویٰ جاری ہوتا ہے، ثابت ہوا کہ مخالفین کا یہ سارا واویلا اخلاص پر مبنی نہیں تھا۔

مولانا محبوب علی خاں کا اعلان توبہ لائق تعریف تھا، باوجودیکہ حضرت ام المومنین کی شان میں نہ تو گستاخانہ اشعار لکھے اور نہ ان کی طرف منسوب کئے، صرف اتنا ہی ہوا نا کہ وہ کتاب کی طباعت پر بوجوہ پوری نگرانی نہ کرسکے اور اشعار غلط ترتیب سے چھپ گئے، پھر بھی انہوں نے اعلانیہ توبہ کی اور اسے متعدد رسائل واخبارات میں چھپوایا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان کے اس ا قدام کی پیروی کی جاتی اور علماء دیوبند حفظ الایمان، تحذیر الناس اور براھین قاطعہ وغیرہ کتاب کی عبارات سے توبہ کا اعلان کرکے مسلمانوں کو افتراق وانتشار سے بچا لیتے، لیکن افسوس کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ خود توبہ کا اعلان نہیں کیا بلکہ مولانا محبوب علی خاں کی صاف اور صریح توبہ کو بھی قبول نہ کیا اور بڑے بڑے اشتہار شائع کئے کہ’’توبہ قبول نہیں‘‘اوریہ اس لئے کیا گیا کہ امت میں انتشار ہو، اگر ان سے کہا جائے کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں؟ تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

ماہنامہ رضائے مصطفیٰ بمبئی نے لکھا: ’’(روز نامہ) انقلاب (بمبئی) کو چاہیے تھا کہ وہ مولانا موصوف کو مبارک باد دیتا کہ واقعی مولانا موصوف نے مثال قائم کردی کہ دیوبندیوں کی طرح اپنی لغزش اڑے نہیں رہے بلکہ اظہار ندامت کرکے اپنی ساری غلطیوں کو توبہ کے پانی سے دھو ڈالا اور شرعی الزام سے قطعی پاک ہو گئے‘‘۔ (ماہنامہ رضائے مصطفیٰ بمبئی، شمارہ اگست ۱۹۵۵ء ، ص۱۷)

فیصلہ مقدسہ شرعیہ قرآنیہ

اگر کسی نے اس واقعہ کی تفصیل دیکھنی ہو تو رسالہ’’ فیصلہ مقدسہ شرعیہ قرآنیہ‘‘ کا مطالعہ کیا جائے، اٹھاون صفحات پر مشتمل یہ رسالہ اسی واقعہ سے متعلق استفتاء اور اس کے جوابات پر مشتمل ہے، ابتداء میں محدث اعظم ہند مولانا سید محمد اشرفی کچھو چھوی کا فتویٰ ہے، اس کے بعد علماء کے تصدیقی دستخط ہیں، اس فتوے میں اس امر کی تحقیق کی گئی ہے کہ مولانا مولانا محبوب علی خاں کی توبہ شرعی طور پر مقبول ہے، لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اسے دل سے قبول کریں۔

ص۸ سے ۱۱ تک مفتی اعظم دہلی مولانا محمد مظہر اﷲ دہلوی کا فتویٰ ہے، ص۱۲ سے ۱۸ تک مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں کا فتویٰ ہے، ص۲۲ سے ۲۶ تک مفتی اعظم دہلی کا دوسرا فتویٰ ہے، ص۳۰ سے ۳۴ تک ملک العلماء مولانا ظفرالدین بہاری کے دو فتوے ہیں، ص۳۹ سے ۴۶ تک مولانا عبدالباقی برہان الحق قادری جبلپوری کا فتویٰ ہے، مفتی اعظم ہند بریلوی سے دوبارہ استفتاء کیا گیا، جس کا جواب ص۴۷ سے ۵۲ تک ہے، فیصلہ مقدسہ میں ایک سو انیس علماء کے فتاویٰ اور تصدیقی دستخط ہیں۔

ص۵۳ سے ۵۶ تک مسلم شریف کی وہ حدیث عربی مع ترجمہ نقل کی گئی ہے جس میں گیارہ کافرہ مشرکہ عورتوں کا ذکر ہے، ص۵۶ سے ۵۸ تک اشعار قصیدہ صحیح ترتیب سے نقل کئے گئے ہیں ۔ ( کتاب ’’ فیصلہ مقدسہ ‘‘ کے آخری صفحات کا عکس اس مضمون کے آخر میں دے دیا گیا ہے)

یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ حدائق بخشش حصہ سوم، امام احمد رضا بریلوی کے وصال کے بعد مرتب اور شائع ہوا، کیونکہ ان کا وصال ۱۳۴۰ھ/ ۱۹۲۱ء میں ہوا اور حصہ سوم ذوالحجہ ۱۳۴۲ھ/ ۱۹۲۳ء میں مرتب ہوا۔

پھر کتاب کے ٹائٹل پر بھی واضح طور پر لکھا ہوا ہے :

’’الشاہ عبدالمصطفیٰ محمد احمد رضا خاں صاحب فاضل بریلوی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ، ورحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ‘‘ ۔

تعصب اور عناد سے ہٹ کر غور کیا جائے توکسی طرح بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کا الزام امام احمد رضا بریلوی پر عائد کرنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔