Skip to content

وسیلہ قرب الٰہی

ردِّ بدمذہبعقائدِاہلسنت

** ترتیب۔ قاضی محمد غوث ۔ایم، اے(بہاول پور۔ پاکستان) تخریج وتلخیص وترتیب نو۔ خلیل احمدرانا**

دیباچہ

نحمدہٗ ونصلّی ونُسلّم علی رسولہٖ الکریم أما بعد فأعوذ باﷲ من الشیطٰن الرجیم، بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط یآ أیھا الذ ین اٰ منوا اتقوا اﷲ وابتغوآ الیہ الوسیلۃ ( القرآن الحکیم: سورۃ المائدۃ، آیت۳۵ )

محترم حضرات! سیدنا حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کی مبارک یاد کے سلسلہ میں اس تقریب سعید کا اہتمام کیاگیا ہے ، نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ قرآن وحدیث کی روشنی میں گفتگو کروں گا، قبل اس کے کہ میں اس آیت کریمہ کا ترجمہ کروں اور اپنے موضوع پر گفتگو کروں، یہ بتادینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اولیاء اﷲ کی محبت، اﷲ کی محبت سے کوئی جداگانہ چیز نہیں ہے اور اولیاء اﷲ کے کمالات اور ان کے ارشادات اور ان کی مقدس تعلیمات کتاب وسنت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اگر آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ کتاب وسنت کی تعلیمات کا جو خلاصہ ہے وہ حضرات اولیاء اﷲ کی تعلیمات میں پایا جاتا ہے اور کتاب وسنت نے جن امور کو انسانیت کا کمال قرار دیا ہے وہی امور بطور کمالات حضرات اولیاء کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی ذوات قدسیہ میں پائے جاتے ہیں، اولیاء اﷲ کی محبت عین اﷲ کی محبت ہے اور یہ صحیح ہے، اولیاء اﷲ کی تعظیم عین اﷲ کی تعظیم ہے، اولیاء اﷲ کی تعلیمات عین اﷲ کی تعلیمات ہیں اور مجھے کہنے دیجئے کہ اولیاء اﷲ کے کمالات جلوہ ہیں کمالات الوہیت کا ، اور تجلی ہیں جمال الوہیت کی، خدا کے کمال الوہیت اور جمال الوہیت سے الگ مستقل حیثیت میں ہم کوئی چیز اولیاء کے لئے ثابت نہیں کرتے اور ہم تو اولیاء کرام کو کسی اور نسبت کی بنا ء پر تسلیم نہیں کرتے بلکہ اولیاء اﷲ کو ہمارا ماننا ، ان کو تسلیم کرنا، ان سے محبت وعقیدت رکھنا صرف اور صرف اس لئے ہے کہ وہ اولیاء اﷲ ہیں، اور قاعدہ ہے کہ محبوب کا محبوب، محبوب ہوتا ہے۔

اﷲ ہمارا محبوب ہے اور اولیاء، اﷲ کے محبوب ہیں، جب یہ اﷲ کے محبوب ہیں تو ہمارے بھی محبوب ہیں ، دوست کے دشمن کو ہم اپنا دوست نہیں بنا سکتے اور دوست کے محبوب کو ہم اپنا دشمن قرار نہیں دے سکتے، جس شخص کو ہمارے دوست سے عناد ہے وہ کبھی ہمارا محبوب نہیں بن سکتا اور جس شخص کو ہمارے دوست سے محبت اور خلوص ہے وہ کبھی ہمارا دشمن نہیں بن سکتا۔

ہم اولیاء اﷲ کو محض اس لئے مانتے ہیں کہ وہ اﷲ والے ہیں اور ان کا ماننا دراصل اﷲکا ماننا ہے، ان کو اﷲ سے کوئی نسبت نہ ہوتی تو ہمارا ان سے کیا تعلق تھا؟، ہمارا تعلق تو محض اس لئے ہے کہ وہ اﷲ والے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم ان بزرگوں کی یاد مناتے ہیں۔

حضور غوث پاک نہ صرف اﷲ کے ولی ہیں بلکہ اولیاء کے سردار ہیں، اگر ہم ان کی یاد میں کوئی جلسہ منعقد کرتے ہیں، عرس مناتے ہیں، فاتحہ ونیاز کا اہتمام کرتے ہیں، تبرک تقسیم کرتے ہیں، فقط اس لئے کہ یہ اﷲ والے ہیں اور اﷲ سے ان کی نسبت ہے، لہذا اولیاء سے نسبت رکھنا، اﷲ سے نسبت رکھنے کی دلیل ہے، معلوم ہوا کہ اﷲ والے، اولیاء کا دن مناسکتے ہیں اور جو اﷲ والا نہ ہو اس کا اولیاء سے کیا تعلق؟، اولیاء سے تعلق، اﷲ والا ہونے کی دلیل ہے اور اﷲ سے تعلق کی دلیل ہے، اولیاء سے محبت اﷲ سے محبت کی دلیل ہے، اولیاء کی تعظیم خدا کی عظمت کے اعتقاد کی دلیل ہے، اولیاء سے قرب، خدا کے قرب کے حصول کی دلیل ہے، جن لوگوں نے اولیاء سے علیحدگی اختیار کی انہوں نے خدا سے علیحدگی اختیار کرلی، خدا کا قرب اولیاء کا قرب ہے۔

وسیلہ کی ضرورت اور اعتراض کا جواب

بعض لوگ کہتے ہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اﷲ تعالیٰ تو فرماتا ہے’’نَحْنُ أَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ‘‘

( القرآن الحکیم: سورۃ ق ، آیت ۱۶)

ترجمہ ۔ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔

اب ولی کی بیچ میں کیا ضرورت ہوگئی؟ اﷲ تعالیٰ تو فرماتا ہے ہم شہ رگ سے بھی قریب ہیں ، بات ختم ہوگئی، اب ہمیں کیا ضرورت ہے کہ حضور غوث پاک کے ذریعہ، حضرت خواجہ غریب نواز کے ذریعہ، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کے ذریعہ اﷲ کا قرب حاصل کریں، جب اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان’’نَحْنُ أَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ‘‘ ہمارے پیش نظر ہے تو پھر اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے کسی ولی کی ضرورت نہیں، ہمارا خدا خود ہم سے قریب ہے، وہ ہماری بات کو سنتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے، ہماری اور ہمارے دل کی بات کو جانتا ہے، وہ سمیع وبصیر ہے اور ہمارے حالات کا علیم وخبیر ہے اور ہم سے قریب ہے تو ان اولیاء کرام کی درمیان میں کیا ضرورت پڑگئی، یہ ہمیں خدا کے قریب کیسے کریں گے؟۔

بلکہ یہاں تک بات سامنے آگئی کہ یہ مشرکوں کا عقیدہ تھا، وہ کہا کرتے تھے کہ’’ مَانَعْبُدُ ھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اﷲِ زُلْفیٰ‘‘ القرآن الحکیم: سورۃ زمر، آیت ۳

ترجمہ۔ (کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر صرف اس لئے کہ یہ ہمیں اﷲ کے قریب کردیں۔

تو معلوم ہوا کہ کسی کو خدا سے قریب کرنے کا عقیدہ رکھنا یہ تو مشرکوں کا عقیدہ ہے، مسلمانوں کا عقیدہ کہاں ہے؟ ہمارا خدا تو ہم سے قریب ہے، لہذا ہمیں کیا ضرورت ہے کہ کسی کو خدا کے قرب کا وسیلہ اور ذریعہ بنائیں۔

یہاں ایک بات عرض کردوں! سنیے، پہلی بات تو یہ ہے، یہ کہنا کہ مخلوق کسی بندے کو اﷲ کے قریب نہیں کرسکتی، یہ بنیادی طور پر غلط ہے، اگر یہ بات صحیح ہوتی تو اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں کیوں فرماتا! ’’ یَآ أَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِ یْرًاOوَّ دَاعِیًا اِلَی اﷲِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًاO‘‘

القرآن الحکیم: سورۃ الاحزاب، آیت ۴۵،۴۶

ترجمہ۔ اے نبی بے شک ہم نے آپ کو مشاہدہ کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا اور(عذاب سے) ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور اﷲ کی طرف اُس کے حکم سے بلانے والا اور روشن کرنے والا آفتاب۔

اَب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ’’ وَ دَاعِیًا اِلَی اﷲِ بِاِذْنِہٖ ‘‘ حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم جب اﷲ کے بندوں کو اﷲ کے حکم سے اﷲ کی طرف بلائیں گے ، تو اﷲ کے بندوں کو اﷲ کے کے قریب کریں گے یا نہیں؟۔

تو یہاں ’’ وَنَحْنُ أَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ‘‘ آپ کو یاد نہیں آیا، خدا خود سمیع وبصیر ہے وہ خود ہی اپنے بندوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے ۔ ’’ وَدَاعِیًا اِلَی اﷲِ بِاِذْ نِہٖ‘‘ کی کیا ضرورت ہے؟

اگر نبی کا آنا کسی حکمت پر مبنی ہوسکتا ہے تو اولیاء کا وجود بھی حکمت پرمبنی ہوسکتا ہے، معلوم ہوا کہ انبیاء کرام کا تشریف لانا بھی خدا کے قرب کے منافی نہیں اور اولیاء اﷲ کا ہمارے لئے وسیلۂ قربِ خداوندی ہونا بھی اس آیت کے منافی نہیں، اب میں آپ کو مشرکین کے اس قول ’’مَانَعْبُدُ ھُمْ اِلَّالِیُقُرِّ بُوْنَا اِلَی اﷲِ زُلْفٰی‘‘ کی حقیقت بتاتا ہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم ان(باطل) معبودوں کی، لات کی، منات کی، ھبل کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اﷲ کے قریب کردیں، بالکل ٹھیک ہے، مشرکین یہی کہتے تھے۔

ارے کم از کم ’’ مَانَعْبُدُ ھُمْ اِلَّا‘‘ کا ترجمہ تو سمجھو(ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لئے کرتے ہیں) ، کس لئے عبادت کریں، عبادت تو کرتے ہیں ، اور عبادت بھی بتوں کی کرتے ہیں، کس لئے کرتے ہیں یہ علیحدہ چیز ہے کہ ان کی غرض کیا ہے، مقصد کیا ہے، مگر یہ تو ثابت ہے کہ وہ بتوں کی عبادت کے قائل ہیں۔

الحمد ﷲ ہمارا ایمان ہے، ہمارا معبود سوائے اﷲ تعالیٰ کے کوئی نہیں ہے، ہم نہ حضور غوث پاک علیہ الرحمۃ کی عبادت کرتے ہیں، نہ ہم خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ کی عبادت کرتے ہیںاور نہ ہم حضور داتا گنج بخش سیدی علی ہجویری علیہ الرحمۃ کی عبادت کرتے ہیں، ہم کسی ولی کی عبادت نہیں کرتے، ہم کسی نبی کی عبادت نہیں کرتے، اگر خدا کے سوا ہم کسی عبادت کرتے تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عبادت کرتے، مگر ہم ان کی بھی عبادت نہیں کرتے۔

مشرکین کہتے ہیں’’مَانَعْبُدُ ھُم‘‘ ہم ان کی عبادت کرتے ہیں، غیر اﷲ کی عبادت کرنا یہی تو شرک ہے اور ہم کسی کی بھی عبادت نہیں کرتے اور کسی لئے بھی نہیں کرتے۔

یہاں دو باتیں ہیں، ایک تو مشرکین غیراﷲ کی عبادت کرتے تھے، دوسرے اس لئے کہ وہ انہیں خدا سے قریب کردیں، میں پوچھتا ہوں کیا بتوں میں خدا سے قریب کر دینے کی صلاحیت تھی؟ ارے نہ تو ان میں خدا سے قریب کر دینے کی صلاحیت تھی اور نہ وہ معبود ہوسکتے تھے، کیونکہ معبود تو صرف ایک ہی ہے۔

ہم اولیاء اﷲ کی عبادت نہیں کرتے، ہم انہیں اﷲ کی بارگاہ میں قرب کا وسیلہ مانتے ہیں، اب رہی یہ بات کہ ایک مخلوق کیسے وسیلہ ہو پائے گی اور وسیلے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اﷲ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہے، سمیع ہے، بصیر ہے، خبیر ہے، قدیر ہے، قریب ہے، اس کی بارگاہ میں وسیلے کی کیا ضرورت ہے؟، اﷲ تعالیٰ کی ذات تو اس سے بہت بلند ہے کہ اس کے اور اپنے درمیان ہم کسی چیز کو وسیلہ بنائیں، کیونکہ ’’نَحْنُ أَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْد‘‘ اس کی شان ہے۔

یہاں میں عرض کرتا ہوں، قرآن نے صاف کہا:

یَآ أَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوااﷲَ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ

ترجمہ۔ اے ایمان والو اﷲ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔

یہ میری بات نہیں، قرآن ہے، حدیث بھی نہیں ہے جس کو لوگ ضعیف کہہ دیں یا غلط کہہ دیں، یہ تو قرآن کی آیت ہے، اﷲ فرماتا ہے وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ، اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو، تو اب آپ بتائیں کہ اﷲ نے ہمیں وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا یا نہیں؟ ، تو جس چیز کا حکم خود خدا دے تو اس کو شرک کہنے والا پھر کون ہوگا؟

اعمال صالحہ اور اولیاء کا وسیلہ ہونا

رہا یہ امر کہ وسیلے سے مراد یہاں اولیاء اﷲ نہیں ہیں، بلکہ نماز ہے، حج ہے، روزہ ہے، زکوٰۃ ہے، اعمال صالحہ ہیں، تم لوگوں نے اولیاء کو وسیلہ بنا لیا، یہ کیا بات ہوئی؟

اگر یہ بات کہی جائے تو یہ بہت غلط بات ہے، کیونکہ بات تو یہ تھی کہ مخلوق ہمارے اور خالق کے درمیان وسیلہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟ جب اﷲ تعالیٰ نَحْنُ أَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ہونے کی شان رکھتا ہے تو پھر کوئی مخلوق چاہے اولیاء ہوں یا اعمال صالحہ ہوں، ہمارے اور خدا کے درمیان وسیلہ بنے، یہ بات بنتی نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی بھی مخلوق وسیلہ نہیں ہے تو یہ بتائو کہ اعمال مخلوق ہیں یا خالق ہیں ؟اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے!

وَاﷲُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْن

القرآن الحکیم: سورٰ الصَّفت، آیت ۹۶

ترجمہ۔ حالانکہ تمہیں اور تمہارے سب کاموں کو اﷲ ہی نے پیدا فرمایا۔

جب اﷲ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو بھی پیدا کیا، تو ایمان سے کہنا کہ اعمال خدا کی مخلوق ہیں یا نہیں؟، میں بڑی حیرت میں مبتلا ہوں کہ عمل جو مخلوق ہیں وہ وسیلہ ہو سکتے ہیں اور وہ شخص جو اعمال صالحہ کا فاعل ہے یعنی جو اعمال صالحہ کرنے والا ہے وہ وسیلہ نہیں ہوسکتا، یہ عجیب سی بات ہے۔

اعمال صالحہ کو قرآن کی روشنی میں ہم بے شک وسیلہ مانتے ہیں، مگر یاد رکھو عمل تو کوئی چیز نہیں ہے، وہ تو ایک عرض ہے، ایک امر معنوی ہے، وہ خود تو پایا نہیں جاتا، میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ نماز کہیں پائی جاتی ہے؟ ارے بھائی نماز کہیں پائی جائے گی تو وہ نمازی میں پائی جائے گی ، نمازی نماز پڑھے گا تو نماز کا وجود ہوگا، نمازی نہ ہو تو قیام کہاں ہوگا، رکوع کہاں ہوگا، سجود کہاں ہوگا، نمازی کا جسم کھڑا ہے تو قیام ہے، نمازی کا جسم جھکا ہے تو رکوع ہے، نمازی نے سر زمین پر رکھا ہے تو سجدہ ہے، نمازی نہ ہوگا تو نماز کہاں ہوگی؟

ہم اولیاء اﷲ کو وسیلہ اس لئے کہتے ہیں کہ اعمال صالحہ کا وجود عامل کے بغیر نہیں ہوسکتا، ورنہ نمازی سے الگ ہوکر نماز کو ڈھونڈو، روزہ دار تو دنیا میں کوئی نہ ہو اور روزہ آپ کو مل جائے، یہ کیسے ممکن ہے؟سچ بولنے والا کوئی نہ ہو تو سچ آپ کو کہاں ملے گا، قرأتِ قرآن کرنے والا کوئی نہ ہو تو تلاوت آپ کو کہاں ملے گی؟ کوئی بھی نیک عمل آپ کو نہیں مل سکتا جب تک اس نیک عمل کو کوئی کرنے والا نہ ہو، تو عزیزو دوستو اعمال صالحہ کا وجود بغیر عمل کرنے والے کے متحقق نہیں ہوتا۔

ہم اولیائے کرام کی ذواتِ قُدسیہ کو جو وسیلہ مانتے ہیںتو وہ اعمال صالحہ سے الگ متصور کرکے وسیلہ نہیں مانتے، بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ اعمال صالحہ کے لئے عامل ہیں، نمازی ہیں ، حاجی ہیں، روزہ دار ہیں، زکوٰۃ دینے والے ہیں، اﷲکا ذکر کرنے والے ہیں، عبادت گزار ہیں، ہم ان کے اعمال کی وجہ سے ہی تو انہیں وسیلہ مانتے ہیں، اور ان کو وسیلہ ماننا دراصل اعمال ہی کو وسیلہ ماننا ہے، خدا کی قسم یہ وسیلے کا حکم میں نے نہیں دیا بلکہ خود خدا تعالیٰ نے دیا ہے، اعمال صالحہ کو میں اصل اور بنیاد مانتا ہوں، مگر یاد رکھیے کہ اولیاء اﷲ کو وسیلہ قرار دینا انہی اعمال کی بنیاد پر ہے، اگر اعمال کا تصور ہٹا لیا جائے تو پھر اولیاء کا وسیلہ، وسیلہ نہیں۔

ابھی میں نے آپ کو بتایا کہ ہم ولی کو ولی مانتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ اﷲ والا ہے، وہ اﷲ والاکب ہے؟جب وہ روحانیت سے سرشار ہے، جب وہ عبادت گزار ہے، جب وہ اﷲ کی محبت والا ہے، جب ہی تو وہ اﷲ والاہے۔

اﷲ کی محبت نیک عمل ہے، یہ روحانیت، یہ تقویٰ، یہ ریاضت، یہ طہارت، یہ مجاہدہ، یہ شب بیداری، یہ عبادت گزاری، یہ کیا ہے؟، یہ نیک عمل ہے اور یہ نیک عمل کرنے والے اولیاء اﷲ ہیں، ان کا وسیلہ ہونا یہ اعمال صالحہ کی جہت سے ہے، ذرا عقل سے کام لو اور سوچو، اس لئے تو میں کہتا ہوں اﷲ تعالیٰ نے ہمیں خود وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بات تو ثابت ہے کہ کوئی نیک عمل اس وقت تک وسیلہ نہیں ہے جب تک کہ اس کا تعلق کسی نیک اور صالح کی ذات سے نہ ہو۔

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ منافق نماز پڑھتے تھے یا نہیں پڑھتے تھے؟ کلمہ پڑھتے تھے یا نہیں؟ تو میرے پیارے عزیزو کیا ان کی نماز ان کے لئے وسیلہ تھی؟ کیا ان کا کلمہ ان کے لئے وسیلہ تھا؟ نہیں تھا، اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ منافق وہ نماز پڑھتے تھے کہ جس نماز کی کوئی نسبت پیارے مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم سے نہ تھی۔ تو پتہ چلا کہ کلمہ اس وقت تک کلمہ نہیں جب تک اس کی نسبت کلمہ لانے والے کی ذات سے نہ ہو اورنماز اس وقت تک نماز ہی نہیں جب تک کہ نماز لانے والے کی ذات سے اس کا تعلق نہ ہو، ورنہ یہ نقالی ہوگی اور نقالی کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

یہی فرق ہے اتباع اور نقالی میں۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’فَاتَّبِعُوْنِی‘‘ میرے محبوب کی اتباع کرو، اتباع کے معنی ہیں کہ میرے محبوب کی محبت میں اس قدر مستغرق ہوجائو کہ ان کی محبت کے تقاضے کی بنا پر تم ان کی ادائوں کے سانچے میں ڈھل جائو۔

نہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو عمل حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے کیا تم بھی کرلو تو تمہاری نجات ہوجائے گی، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، قیام فرمایا، رکوع فرمایا، سجدہ فرمایا، یہ سارے عمل منافق بھی کرتے تھے، مگر ان کی نجات نہیں ہوئی، کیوں نہیں ہوئی؟ اس لئے کہ منافقین کا کوئی عمل بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت کی بنیاد پر نہ تھا، لہٰذا وہ اعمال صالحہ کی بنیاد بھی قرار نہ پائے، اس لئے منافقین کی نمازوں کو ہم اتباع رسول نہیں کہہ سکتے۔

اتباع رسول میںکس کی نماز تھی؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی، سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی، سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ، سیدنا علی کرّمَ اﷲ وَجْہَہُ الکریم کی، اہل بیت اطہار کی، صحابہ کرام کی، ازواج مطہرات کی، تابعین کی، تبع تابعین کی، سلف صالحین کی، مشائخ کرام کی، اولیاء اﷲ کی۔

ان حضرات کی جو عبادت تھی ، خدا کی قسم وہی عبادت ہے، وہی طاعت ہے، وہی نماز ہے، ان کی سب نیکیاں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی اتباع ہے اور جو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت اور محبت سے خالی ہو وہ اگر قیام بھی کرے، رکوع کرے، سجدہ کرے، کچھ بھی کرے کوئی فائدہ نہیں۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:

۱。 سَیَأْ تِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لاَ یَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّااِسْمُہٗ وَلاَ یَبْقٰی مِنَ الْقُرْآنِ اِلاَّ رَسْمُہٗ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِّن الْھُدٰی ۔۔۔

یہ روایت مشکوٰۃ، کتاب العلم(عربی) مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ص۳۸ پر’’یوشک ان یاتی‘‘ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے، البتہ کنزالعمال میں حدیث نمبر۳۱۱۳۲ میں ’’سیا تی‘‘ کے ہی الفاظ ہیں۔ ترجمہ:عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، اسلام کا صرف نام رہ جائے گا اور قرآن کے صرف نقوش رہ جائیں گے، ان لوگوں کی مسجدیں کھچا کھچ بھری ہونگی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔

۲۔ وفی روایۃ۔۔۔ تَحْقِرُوْنَ صَلَاتَکُمْ مَع صَلَاتِھِمْ وَصِیَامَکُمْ مَع صِیَامِھِمْ وَعَمَلَکُمْ مَع عَمَلِھِمْ وَیَقْرئُ وْنَ الْقُرْآنَ لَایُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ ۔۔۔

صحیح بخاری، باب من رایا بالقرآن، کتاب فضائل القرآن، جلد۲، صفحہ۷۵۶ ترجمہ:(اے میرے صحابہ) تم لوگ اپنی نمازوں کو اُن کی نمازوں کے سامنے ہیچ سمجھوگے اور یوں ہی اپنے روزوں کو بھی اُن کے روزوں کے سامنے اور اپنے اعمال ِ صالحہ کو بھی اُن کے اعمال کے سامنے بے وقعت سمجھوگے، دین سے وہ ایسے خارج ہوجائیں گے جیسے تیر کمان سے۔

۳。وفی روایۃ ’’ فَاِیَّا کُمْ وَاِیَّا ھُمْ لَا یُضِلُّوْ نَکُمْ وَلاَ یَفْتِنُوْنَکُمْ‘‘

صحیح مسلم،مقدمہ، باب :النھی عن الروایۃ عن الضعفاء،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ،کراچی،جلد اول، ص۱۰

ترجمہ: تم اُن سے بچو اور دور رہو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔

وہ لوگ قرآن بھی پڑھیں گے مگر حلق سے نیچے نہیں اُترے گا، اُترے کیسے؟حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت کے بغیر تو قرآن حلق سے نہیں اُترتا۔ نمازیں بھی پڑھیںگے، تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں حقیر سمجھوگے۔ روزے بھی رکھیں گے، ان کی مسجدیں آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔ اس لئے کہ وہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے متبع نہ ہوں گے، صرف نقل کرنے والے ہوں گے۔ نقالی اور چیز ہے، اتباع اور چیز ہے۔ نقالی سے نجات نہیں ہوتی، اتباع سے نجات ہوتی ہے اور اتباع وہ چیز ہے جس میں متبوع کے ساتھ رابطہ ہو، تعلق ہو، لگائو ہو، محبت ہو۔جب کوئی صالح عمل صالح کی ذات سے نسبت کے بغیر عملِ صالح قرار نہیں پاتا تو صالحین کو نظر انداز کرکے اور صرف اعمال کی ظاہری شکل وہیئت کو وسیلہ قرار دے دینا ، میری سمجھ میں تو نہیں آتا۔

اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ اﷲ کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔ اَب آپ کا یہ تصور کہ بھئی جب اﷲ قریب ہے تو پھر اﷲ کے قریب ہونے کے لئے وسیلے کی کیا ضرورت ہے؟

میں عرض کرتا ہوں! خدا سب کے قریب ہے کہ نہیں؟ یہ ہمارا ایمان ہے کہ خدا علماً قدرتاً [علم اور قدرت کے لحاظ سے] سب کے قریب ہے اور کائنات کے ذرے ذرے کو خدا محیط ہے اور کائنات محاط ہے، ازروئے علم، از روئے قدرت، ازروئے احاطہ خدا سب کے قریب ہے اور خدا کسی سے دور نہیں، خدا تو ہر ایک کے قریب ہے مگر خدا کے قریب کوئی کوئی ہے۔

شاید آپ دل میں یہ بات سوچیں کہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ جب خدا سب کے قریب ہے تو پھر سب خدا کے قریب کیوں نہیں ہیں؟ بلکہ کوئی کوئی قریب ہے، یہ عجیب بات ہوئی!

آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں، یہ بتائیے کہ خدا تعالیٰ کافروں کے ساتھ اُن کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے کہ نہیں؟، خدا ابوجہل کے قریب تھا کہ نہیں اور قریب ہے، اسی طرح ابولہب ، عتبہ، شیبہ، کعب بن اشرف، رئیس المنافقین عبداﷲ بن اُبی وغیرہ، یہ جتنے کفارمشرکین اور منافقین ہیں، کیا اﷲ ان کی شہ رگ سے زیادہ قریب نہیں؟، بتائیے کیا یہ سب خدا کے مقربین ہیں؟ کیا ابوجہل کو، عتبہ کو، شیبہ کو، عبداﷲ بن اُبی منافق کو خدا کا مقرب مانو گے؟

نہیں بالکل نہیں، بے شک خدا تو ان کے قریب تھا مگر وہ خدا کے قریب نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خدا تو سب کے قریب ہے مگر ہرایک خدا کے قریب نہیں ہوسکتا۔ لگتا ہے ابھی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ تو میرے پیارے دوستو میں پھر سمجھائے دیتا ہوں۔

خدا کے قرب کا قیاس اپنے قرب پر کرنا ، یہ تو بالکل قیاس مع الفارق ہے، وہ زمان ومکان اور مسافت سے پاک ہے، تَعَالَی اﷲُ عَنْ ذَالِکَ عُلُوًا کَبِیْرًا، خدا کے قرب کے معنی ہی کچھ اور ہیں، یہ نہیں کہ تم میرے ساتھ مکانی طور پر قریب ہوگئے یا قریب آکر بیٹھے تو میرے بدن کے قریب ہوگئے، اﷲ تعالیٰ اس قرب سے پاک ہے، کیونکہ وہ جسم اور جسمانیت سے پاک ہے، جہت علو اور جہت اسفل تمام جہات سے پاک ہے، تو پھر خدا کے قرب کا کیا مفہوم ہوگا؟

خدا کے قرب کے معنی یہ ہیں کہ جس کو خدا کی جتنی معرفت حاصل ہوگی وہ اتنا خدا کے قریب ہوگا، خدا تو سب کے قریب ہے مگر خدا کے قریب صرف وہی ہے جس کو خدا کی معرفت ہے، آپ کلمہ پڑھتے ہیں لاالہَ الااﷲ محمد رسول اﷲ( اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں) ، آپ نے خدا کے معبود ہونے اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کیا ہے۔ یہ آپ کی معرفت ہے اور جو لاالہ الااﷲ پر یقین نہیں رکھتا اُسے خدا کی معرفت نہیں ہے کیونکہ اگر معرفت ہوتی تووہ لاالہ الااﷲ پر یقین رکھتا، لاالہ الااﷲ پر یقین رکھنے والے خدا کی معرفت رکھتے ہیں، لہذا وہ خدا کے قریب ہیں۔

اب خدا کے قرب کے درجات اور اس کی معرفت کے درجات لامتناہی ہیں یعنی اُن کی کوئی انتہا نہیں۔ نہ اس کے درجات معرفت ختم ہوتے ہیں اور نہ اس کے قرب کے درجات ختم ہوتے ہیں۔ جتنے درجات معرفت حاصل ہوتے جائیں گے اتنا ہی قرب میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔اگر تم یہ چاہتے ہو کہ درجات معرفت بڑھیں، بُعد ختم ہو یعنی دُوری ختم ہوتو واﷲ باﷲ ثم تاﷲ!اﷲ والوں کے بغیر تم وہ درجات ِ معرفت طے نہیں کرسکتے۔ اسی لئے تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا وَدَاعِیًا اِلَی اﷲِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا۔

ہم نے جب لاالہ الااﷲ کہا تو خدا کی توحید اور معبودیت کی تصدیق اور زبان سے اقرار کیا۔ یہ خدا کی معرفت ہے۔ چونکہ درجات معرفت لامتناہی ہیں لہذا ان لامتناہی درجات ومعرفت کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں وسیلہ کی ضرورت ہے۔ اسی لئے تو اﷲ تعالیٰ اپنی معرفت کے لئے انبیاء ورُسل کو بھیجتا ہے کہ وہ لاالہ الااﷲ یعنی توحید ورسالت کی تعلیم دیں اور خدا کی معرفت عطا کریں ، لاالہ الااﷲ کہنے کے لئے نبی کی ذات وسیلہ ہے، اس کے بعد اﷲ تعالیٰ کی معرفت کے درجات اور قرب کے مراتب حاصل کرنے کے لئے بھی وسیلہ کی ضرورت ہے۔

اب میں اس حقیقت کو ذرا اور واضح کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ تو ہم سب کے قریب ہے مگر ہم سب اﷲ کے قریب نہیں۔ اﷲ سے قریب کوئی کوئی ہے اور وہی ہے جس کو اﷲ کی معرفت حاصل ہوگئی ہے۔یہاں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ جب خدا ہر ایک کے قریب ہے تو ہر ایک بھی خدا کے قریب ہے۔

مسئلے کی مزید وضاحت کے لئے مثنوی مولانا روم رحمۃ اﷲ علیہ سے ایک تمثیل مختصراً بیان کرتا ہوں، مولانا روم رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:

ایک جوہری کے پاس ایک ایسا بیش بہا لعل تھا جس کی قیمت سوائے بہت بڑے بادشاہ کے کوئی اور ادا نہیں کرسکتا تھا۔ اس جوہری نے سوچا کہ میں لعل کس کے ہاتھ فروخت کروں؟ کوئی اس کی قیمت تو دے نہیں سکتا، کیوں نہ فلاں ملک کے بادشاہ کے پاس چلا جائوں اور اسے جاکر لعل پیش کروں اور قیمت وصول کروں۔ چنانچہ وہ اپنا لعل لے کر اس ملک کی طرف روانہ ہوگیا، دوردراز کا سفر تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک آدمی کو پتہ چل گیا کہ یہ جوہری بیش بہا لعل لئے جارہا ہے اور یہ کسی بادشاہ کے پاس جاکر اس کی قیمت وصول کرے گا، تو کیا ہی اچھا موقع ہے کہ میں اس کے ساتھ ہولوں اور دوران سفر جہاں موقع ملے میں لعل لے کر چلتا بنوں۔ چنانچہ وہ جوہری کے ساتھ ہولیا۔ دوران سفر جب ان کی ملاقات ہوئی تو اس نے کہا بھائی تم بھی مسافر ہو اور میں بھی مسافر، کیوں نہ دونوں ایک ساتھ چلیں؟جوہری نے انکار نہ کیا اور دونوں ایک ساتھ چل پڑے، رات کا وقت آیا تو جوہری نے سوچا، نہ معلو م یہ کون ہے؟کہیں ایسا نہ ہوکہ میرا لعل لے کر چلتا بنے۔ جوہری نے عقل سے کام لیا۔ اس کہا دیکھو بھائی بات یہ ہے کہ ہم دونوں مسافر ہیں اور ایک دو مہینوں کا سفر ہے، ظاہر ہے جاگتے جاگتے تو طے نہیں ہوسکتا۔ بشری تقاضا ہے، سونا ہے، آرام بھی کرنا ہے۔اب اگر ہم دونوں سو جائیں تو دونوں کے لئے خطرہ ہے کہ کوئی تیسرا آکر ہم دونوں کو ختم کردے اور ہمارا سامان لے جائے، تو دونوں کو نقصان ہوگا۔ اور دونوں جاگتے رہیں تو کب تک جاگتے رہیں گے؟ تواب اس کی صورت یہی ہوسکتی کہ آدھی رات تم سوجائو اور میں جاگتا ہوں اور آدھی رات میں آرام کروں گا پھر تم جاگتے رہنا۔بات معقول تھی۔اس کے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ لہذا اسی پر فیصلہ ہوگیا۔ رات ہوئی، سونے کا وقت آیا۔ جوہری نے کہا آدھی رات تم سوجائو جب وقت ہوگا میں تمہیں اٹھا دوں گا اور میں سو جائوں گا۔ جوہری نے اسے سُلادیا۔ تھکا ماندہ تھا، بے ہوش ہوکر سوگیا اور نیند کی آغوش میں چلا گیا۔جوہری نے سوچا آدھی رات کے بعد میں نے اسے اٹھانا ہے اور جب میں سوجائوں گا تو اسی طرح بے خبر سوئوں گا، تو اس بیش قیمت لعل کا کیا کروں؟ کافی سوچ بچار کے بعد جوہری نے لعل کو سوئے ہوئے ساتھی کے کپڑوں میں اس طرح چھپا دیا کہ اسے مطلقاً احساس نہ ہوا۔ جب وہ مطمئن ہوگیا کہ اس نے لعل کو کپڑوں کے اندر محفوظ کردیا ہے، تو آدھی رات گزرنے کے بعد جوہری نے اسے اُٹھادیاکہ بھائی آدھی رات گزر گئی، اب تم جاگو، میں سوتا ہوں۔وہ خوشی خوشی اٹھ بیٹھا۔ اس نے جوہری سے کہا ، ٹھیک ہے اب تم سو جائو۔ جوہری اطمینان سے سو گیا، کیونکہ اس کو لعل کی تو بالکل فکر نہ تھی۔ جوہری جب سوگیا تو اس کے ساتھی نے اس کی تلاشی لینی شروع کردی۔اس کے سارے بدن کو ٹٹولا مگر لعل تو جوہری کے پاس تھا ہی نہیں، ملتا کہاں سے ؟ نہیں ملا، رات گزر گئی۔ دن کوقیلولے کے وقت جوہری نے چپکے سے اپنا لعل نکال لیا۔ یہ بڑا پریشان ہوا مگر یہ سوچ کر مطمئن ہوگیا کہ چلو آج نہ سہی کل رات سہی، کل نہ سہی پرسوں رات سہی، لعل تو مجھے مل ہی جائے گا۔ دن گزر گیا رات آگئی۔ جوہری نے کہا آدھی رات تم سوجائو۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ جوہری نے گہری نیند دیکھ کر لعل پھر اس کے کپڑوں میں چھپا دیا ۔ آدھی رات کے بعد جوہری جب سو گیا تو یہ پھر اس کے کپڑوں میں لعل تلاش کرتا رھا ۔ نہ ملا ۔ صبح ہوگئی۔ دوپہر ہوئی قیلولے کا وقت آیا ، ساتھی آرام کرہا تھا۔ جوہری نے چپکے سے اپنا لعل نکال لیا جو کہ رات اُس کے کپڑوں میں چھپایا تھا ۔ جوہری لعل کو اچھالنے لگا۔ وہ ساتھی بڑا پریشان ہوا کہ ساری رات میں ڈھونڈتا رہا، مجھے نہیں ملا، اب اس کے پاس کہاں سے آگیا؟ اگلی رات ہوئی۔ جوہری نے پھر یہی کام کیا، لعل اس کے کپڑوں میں چھپادیا۔ دوپہر وہ آرام کرنے کے لئے سویا تو پھر نکال لیا۔ نہ لعل رکھنے کا اس کو پتہ چلا نہ نکالنے کا۔ جوہری روزانہ لعل ہاتھوں میں لے کر اچھالتا۔ ساتھی پریشان ہوتا کہ رات کو میں تلاش کر کرکے مر جاتا ہوں، مجھے نہیں ملتا ۔ آخر کیا بات ہے؟ ، روزانہ اسی طرح ہوتا رہا ۔ دو مہینے کا سفر تھا آخر ختم ہوگیا۔ ساتھی بولا بھائی سوداگر !سفر تو بخیر وخوبی ختم ہوگیا لیکن اﷲ کے لئے مجھے یہ تو بتادے کہ وہ لعل تو کہاں رکھتا تھا۔ میں تو بہت تلاش کرتا تھا، نہ جانے لعل کہاں ہوتا تھا؟، جوہری کہنے لگا لعل تو تجھ سے قریب ہوتا تھا مگر تو لعل سے دور ہوتا تھا۔ اس نے کہا یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ لعل تو مجھ سے قریب ہوتا تھا اور میں لعل سے دور ہوتا تھا۔ جوہری نے کہالعل میں تیرے کپڑوں میں چھپا دیتا تھامگر تجھے اس کی معرفت ہی نہیں ہوتی تھی۔ تو اپنے کپڑوں میں، اپنے سامان میں اسے تلاش ہی نہیں کرتا تھا حالانکہ لعل تو تیرے کپڑوں میں تیرے پاس ہوتا تھا۔ تجھے اس کی معرفت نہیں ہوتی تھی یعنی لعل تو تیرے قریب تھامگر تو لعل سے دور تھا۔

مولانا روم اس حکایت کے آخر میں فرماتے ہیں۔اولیاء کا یہی مقام ہے کیونکہ انہیں خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ وہ کہیں بھی ہوں، کسی حال میں میں بھی ہوں، کسی لباس میں ہوں، خدا سے قریب ہوتے ہیں اور جو خدا کے منکرین ہیں وہ کہیں بھی ہوں، کسی صورت میں بھی ہوں، کسی لباس میں ہوں ، خدا ان سے قریب ہے مگر وہ خدا سے دُور ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ حضور سرور دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات پاک کے وسیلہ عظمیٰ کے ہوتے ہوئے آپ اولیاء اﷲ کو درمیان میں بحیثیت وسیلہ کیوں لاتے ہیں، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا وسیلہ ہی کافی ہے۔

سنئے اولیاء اﷲ جو ہیں وہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اور ہمارے درمیان وسیلہ ہیں اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم خدا کے اور ہمارے درمیان وسیلہ ہیں۔ اولیاء کے راستہ پر چل کر ہم بارگاہ رسالت تک پہنچتے ہیں اور بارگاہ رسالت وسیلہ ہے بارگاہ خداوندی تک پہنچنے کا۔

یہاں ایک سوال آیا ہے کہ وسیلہ کے ذریعے آپ کو معرفت خداوندی حاصل ہوگئی یانہیں؟ اگر معرفت خداوندی حاصل ہوگئی تو وسیلے کی اب حاجت نہ رہی، وسیلہ بیکار۔اور اگر معرفت حاصل نہیں ہوئی تو وسیلہ پھر بھی بیکار۔ کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ وسیلہ کسی مقصد کے ْحصول کا ذریعہ ہے جب مقصد حاصل ہوگیا تو وسیلے کی حاجت ختم ہوگئی۔ اب اسے ترک کرنا پڑے گا ۔ مثلاً ہم کراچی سے گاڑی میں بیٹھ کر ملتان آگئے۔ ملتان تک ٹرین وسیلہ تھی ۔ اب جب ملتان کااسٹیشن آیا تو ہم نے سوچا اگر ملتان اُتر جائیں تو وسیلہ ہاتھ سے جاتا ہے۔ اگر نہ اُتریں تو مقصد ہاتھ سے جاتا ہے۔ اب کیا کریں؟، مقصد کو حاصل کریں یا وسیلے کو ؟

قاعدہ تو یہ ہے کہ جب مقصد حاصل ہوجائے تو وسیلے کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا اگر تمہیں خدا کی معرفت حاصل ہوگئی تو اب وسیلے کو چھوڑ دو۔ اگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ تک پہنچ گئے تو اولیاء کے وسیلے کو چھوڑ دو۔ اگر بارگاہ خداوندی کی معرفت حاصل ہوگئی تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وسیلے کو چھوڑ دو۔

میرے دوستو! میں عرض کرتا ہوں اگر مقصد متناہی ہے یعنی مقصد کی کوئی انتہا اور حد ہے تو وسیلہ بھی متناہی اور اگر مقصد غیر متناہی ہے تو وسیلہ بھی غیر متناہی ہوگا۔ آپ نے سوال میں جو کراچی سے ملتان کی مثال دی ہے وہ متناہی مقصد کی مثال ہے۔ اگر مقصد غیر متناہی ہے تو وسیلہ بھی غیر متناہی ہوگا۔ہمارا مقصد خدا کی ذات ہے اور خدا کی ذات لامتناہی ہے، اس کی صفات لا متناہی ہیںبلکہ اس کی معرفت کے درجات بھی لا متناہی ہیں۔ تم خدا کی معرفت کے درجات ختم کردو میں وسیلے کو چھوڑ دوں گا۔ مزید وضاحت کے لئے عرض کرتا ہوں!

ہم ہر نماز میں سورۃ فاتحہ میں یہ کلمات پڑھتے ہیں اھد ناالصراط المستقیم، یا اﷲ ہمیں سیدھی راہ دکھا ، صراط مستقیم پر چلا۔ آپ سے پوچھتا ہوں کیا آج تک آپ کو سیدھی راہ نہیں ملی؟ پھر کوئی شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ایک آدمی موت کے وقت بھی نماز میںیا ویسے ہی اھدناالصراط المستقیم کہہ رہا ہے ، گویا اب تک اسے سیدھی راہ نہیں ملی، کیا آپ اسے مان لیں گے؟ اگر یہ بات تسلیم کرلیں کہ اسے اب تک سیدھی راہ نہیں ملی ، اگر نہیں ملی تو بے ایمان مرا، اور اگر اسے سیدھی راہ مل گئی ہے تو پھر اھدناالصراط المستقیم کی دعا کیوں مانگ رہا ہے؟

عزیزانِ گرا می میں عرض کردوں اھدناالصراط المستقیم کی دعا بھی اس کی معرفت کی راہیں ہیں اور اس کی معرفت کی راہیں کہیں ختم نہیں ہوتیں ، لہذا ہماری دعا بھی کہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہم معرفت کے جس درجے پر پہنچے اس کے بعد ایک اور درجہ ہے، ہم نے کہا مولا! اپنی معرفت کے اس درجے پر پہنچنے کی راہ دکھا۔ نہ اس کی منزلیں ختم ہوں گی ، نہ اس کی راہیں ختم ہو ں گی اور نہ دعائیں ختم ہوں گی، کل یوم ھو فی شان، فبای اٰلائِ ربکما تکذبٰن۔

جسے منزل سمجھتا ہوں وہ پھر منزل نہیں رہتی

حجاب نور کا یہ سلسلہ یارب کہاں تک ہے