Skip to content

آئینہ دیوبند

ردِّ دیوبندیت

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَحْدَۂ وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلامُ عَلٰی مِنْ لا نَبِیُّ بَعْدُہٗ

آئینہ دیوبند:آئینہ شیعہ نما و آئینہ مودودی نما فوراً تیار کرلیا گیا تھا لیکن چونکہ عقائد و مسائل فرقہ دیوبندپر فقیر کی دیگرتصانیف شائع ہوچکی تھیں اسی لئے اس کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر ہوئی لیکن یہ تاخیر مضر بھی نہیں اس لئے کہ بیمار کا علاج جب بھی بروقت ہے بے وقت ہے ۔ حوالہ جات:فقیر نے خود اصل کتابوں سے دیکھ کر نقل کرائے ۔اس سے مقصد صرف اتنا ہے کہ دیوبندیوں ،وہابیوں کے مکرو فریب سے عوام محفوظ ہوجائیں ۔اہلِ اسلام کو معلوم ہونا چاہیے کہ دیوبندیوں ،وہابیوں ایسے ہی دیگر جملہ بدمذاہب سے ہمارا ذاتی کوئی اختلاف نہیں، محض دینِ اسلام بالخصوص امام الانبیاء ، حبیب کبریا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس و عزت کی وجہ سے ہے ۔فقیر کے پیش کردہ حوالہ جات اصل کتب سے دیکھ کر فیصلہ فرمائیں کہ کیا یہ بیانات نبوت کی گستاخی ہے یا نہیں اگر ہے اور یقینا ہے تو پھر غیر ت کا ثبوت دیجئے کہ ان سے دور رہنے کی کوشش فرمایئے۔ یہ لوگ دینِ اسلام کی باتوں میں پھنسا کر گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں ۔مختلف روپ دھارتے ہیں ،کبھی بستر اُٹھا کر ،کبھی رجسٹرمیں نام درج کرا کر، کبھی دفتر میں لے جا کر۔ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نشانیاں اور علامات بتاکر اُمت کو بار بار تکرار نہایت اسی شدید تاکید سے ان سے دور رہنے کی تلقین فرمائی ہے ۔تفصیل دیکھئے فقیر کی کتاب دیوبندی وہابی کی نشانی رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہ الْکَرِیْمِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَا بِہٖ اَجْمَعِیْنَ

فقیر اُویسی غفرلہٗ گلزارِ خلیل کی تقریر سے فراغت پا کر حضرت پیر محمد ابراہیم صاحب(مدظلہ)کے مکان پر آرام کے لئے واپس ہو اتو مولوی محمد عظیم صاحب ملے جنہوں نے کنری (سندھ)ضلع تھرپارکر کی دعوت کی کیونکہ ان حضرات کا طریقہ ہے کہ حضرت پیر صاحب کے جلسہ پر جو عالمِ دین تشریف لاتے ہیں وہاںسے تقریر کے لئے کنری جانا پڑتا۔یہاں پر پیر صاحب موصوف کے مرید بکثرت ہیں اور اَہلِ سنت کا غلبہ ہے مولانا محمد صاحب خطیب ہیں ان کے اہتمام سے مدرسہ جاری ہے اور جامع مسجد کے خطیب بھی آپ ہیں ۔یہاں کے نوجوان بہت بڑے بیدار ہیں صبح پہنچتے ہی یہ حالات معلوم ہوئے ۔فقیر نے آرام کیا عشاء کے بعد جامع مسجد کی بالائی منزل پر تقریر ہوئی ۔اسے فقیر نے مرتب کیا تھا اور اس کا خلاصہ حوالہ جات مولانا محمد رمضان چشتی سے لکھوائے ۔

گلزار خلیل حضرت پیر محمد ابراہیم جان مجددی (مدظلہ)کی رہائش گاہ کا نام ہے جس کی تفصیل فقیر نے فیض الجلیل عرف آئینہ شیعہ نمامیں لکھ دی ہے ۔بعض جاہلوں نے فیض الجلیل فیما یتعلق بگلراز خلیل پر اعتراض کیا کہ عربی میں گاف نہیں۔انہیں یہ معلوم نہیں کہ اسماء میں اصلی الفاظ کو باقی رکھنا جائز ہے (وغیرہ)۔ یادرہے کہ اعتراض بہاولپور کے دیوبندی مولویوں نے کیا تھا ایسے ہی فقیر کی ایک عربی تصنیف میں لفظ بہاولپور لکھنے پر ملتان کے بعض علماء نے اعتراض کیا اسے کیا کہا جائے۔ (یہ مولوی عبدالشکور اور اس کے رفقاء تھے ۔فقیر کو اس نے مناظرہ کا چیلنج کیا ہزاری تحصیل علی پور ضلع مظفر گڑھ ۔فقیر نے چیلنج قبول کرلیا وہاں یہ مولوی میدان میں نہ اُترا بُری طرح چوری چھپی نکل گیا ۔ پھر علی پور فقیر پر مقدمہ کرایا چند دنوں کے بعد مرگیا ۔تفصیل دیکھئے مناظرے ہی مناظرے)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

امابعد!خطبہ مسنونہ ، السلام علیکم۔

حضرات!آج مجھے احباب نے موضو ع منتخب کرکے دیا ہے کیا آپ بھی اس موضوع کو چاہتے ہیں وہ ہے دیوبندی فرقہ کے عقائد و مسائل کی بلاتبصرہ تفصیل ۔سب نے ہاں بیک آواز کہا۔ حضرات میں اس موضوع کو آپ کے لئے بیان کرونگا اگرچہ میرا پروگرام کچھ اور تھا لیکن آپ نے مجبور کردیا اسی لئے کچھ عرض کرنا پڑا۔ آپ کی مجبوری بھی بجاکہ آپ کے اسٹیج سیکریٹری نے مجھے ایک تحریر لکھ کردی ہے کہ ان دنوں میں یہاں دیوبندی فرقہ کے چند شر پسندمولوی آئے اور اُنہوں نے اہل سنت کے خلاف زہر اُگلا اور یہ ان کی عادت ہے اور نہ صرف اصاغر بلکہ ان کے اکابرکا بھی یہی حال ہے۔چند حوالہ جات سنیئے ۔

حوالہ جات

نمبرشمارحوالہ جاتنام کتاب مع صفحہ
۱ان (بریلوں )پیٹ کے کتوں نے شروع شروع میں اکبر کے دور میں بھی خوب مزے کئے۔آئینہ صداقت، صفحہ۲۳
۲اگر بریلی میں ایک بھی حقیقی مسلمان ہوتا تو آج تمام بریلی مسلمان ہوتی۔افاضات الیومیہ،جلد۳، صفحہ۱۸۵
۳نبی کو جو حاضر وناظر کہے بلاشکِّ شرع اس کو کافر کہے۔جواہر القرآن ،صفحہ۸۳
۴کوئی قادری کوئی سہروردی کوئی نقشبندی کوئی چشتی ہے۔(الی ان قال) یہودی و نصاریٰ کی طرح۔تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان، صفحہ ۷۹
۵یہ (بریلوی )تو مرزائیوں سے بھی بڑھ گئے۔بریلوی مذہب، صفحہ ۱۸

گالی ہی گالی

یہ لوگ بڑے معصوم بن کر تاثر دیتے ہیں کہ ہم کسی کو کچھ نہیں کہتے ۔لیکن یہ حوالہ جات بتاتے ہیں کہ یہ ایسے سبی ہیں کہ جن کو شیعہ سن کر بھی پناہ مانگتے ہیں۔ نوٹ:ان پانچ حوالوں پر اکتفا کیا جاتاہے ۔تفصیل فقیر کے رسالہ سبی وہابی یا رافضیمیں ہے۔ غورفرمایئے کہ ان پانچ حوالوں میں کیا کیا کہا ہے: (۱)پیٹ کے کتے (۲)غیرمسلم (۳)کافر (۴)یہودی (۵)نصرانی (۶)مرزائیوں سے بڑھ کر انصاف فرمایئے۔

گستاخی تو نہیں

ان کی تحریریں شاہد ہیں یہ لوگ ہمیں مشرک و بدعتی کہتے نہیں تھکتے اس سے ہمارا کچھ نہیں بگڑتا البتہ ان کو مبارک ہو کہ یہی دو گالی گذشتہ زمانہ میں ہمارے آقاؤں یعنی نبی ﷺ اور آپ کے محبوب وارثوں کو بھی کہا گیا۔

حوالہ جات

نمبرشمارحوالہ جاتنام کتاب مع صفحہ
۶منافقین نے نبی اکرمﷺ پر شرک کی تہمت لگائی۔روح البیان ،صفحہ۵، تحت آیت من یطع الرسول الخ
۷کافروں نے نبی اکرمﷺ پر بدعت کی تہمت لگائی۔مظہری ،پارہ ۲۶، تحت آیت قل ماکنت ،خازن وغیرہ
۸شرپسندوں نے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بدعتی کہا۔تاریخ اسلام مصنف حمیدالدین بی ۔ اے مطبوعہ فیروز سنزلاہور، صفحہ۱۸۳
۹خوارج نے حضرت علی و حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہم کو مشرک کہا۔تاریخ مذاہبِ اسلام ،صفحہ ۴۷۸

نوٹ:نمونہ کے طور پر چند حوالے لکھ دیئے ہیں تاکہ ناظرین سوچ سکیں کہ یہ دوگالی پہلے کون اور کن کو دی جاتی تھیں اور آج بھی یہ دیکھ لیں کون اور کس کو یہ گالی دی جارہی ہے کہ منافقین اور شرپسند اور خوارج بھی اپنے آپ کو نہ صرف اسلام کا دعویٰ کرتے تھے بلکہ توحید کے بہت بڑے علمدار تھے اسی لئے اب سوچیں کہ اہل دیوبند اور وہابیوں کو کن کی وراثت ملی اور ہم اہل سنت کو کن حضرات کی وراثت نصیب ہوئی۔

انگریز کا پودا

انگریز کی سیاست سب کو معلوم ہے اس نے ہندوستان میں قدم جماتے ہی مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا ۔ اس طریقہ سے اس نے مرزائی ،وہابی پودے لگائے دیوبند بھی انگریز کا پودا ہے۔ چنانچہ دیوبندی مولوی احسن نانوتوی کے سوانح نگار نے دیوبندی کے مرکزی مدرسہ دیوبندکے متعلق برطانیہ کے لیفٹیننٹ گورنر کے ایک معتمد انگریز پامر(PALMER)نامی کا تاثر اس طرح درج کیا ہے کہ اس مدرسہ (دیوبند)نے یوماً فیوماً ترقی کی ۳۱ جنوری ۱۸۷۵؁ء بروز یکشنبہ لیفٹیننٹ گورنر کے ایک خفیہ معتمد انگریز مسمی پامر نے اس مدرسہ کو دیکھا تو اس نے نہایت اچھے خیالات کا اظہار کیا اس کے معائنہ کی چند سطور درجِ ذیل ہیں۔

جو کام بڑے بڑے کالجوں میں ہزاروں روپیہ کے صرف سے ہوتا ہے وہ یہاں کوڑیوں میں ہورہا ہے جو کام پرنسپل ہزاروں روپیہ ماہانہ تنخواہ لے کر کرتاہے وہ یہاں ایک مولوی چالیس روپیہ ماہانہ پر کررہا ہے ۔مدرسہ خلافِ سرکار نہیں بلکہ موافق سرکار ممدمعاون سرکار ہے۔(مولانا محمد احسن نانوتوی، صفحہ۲۱۷،مطبوعہ مکتبہ عثمانیہ کراچی)

سامعین !جو مرکزی مدرسہ انگریزوں کا پودا ہو تو وہاں سے اکثر فارغ التحصیل ہونے والے بھی یقینا انگریزوں کے پٹھو اور انہی کے پروردہ ہیں اور یہ مکالمۃ الصدرین مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندیوں کے شیخ الاسلام کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ خطبات عثمانی بھی دیوبندیوں کے شیخ الاسلام کی طرف سے شائع ہوئی ہے خطبات عثمانی میں بھی شامل ہے جبکہ اس نے ہندوستانی شیخ الاسلام کو گلہ و شکوہ کے طور لکھوائی یعنی حسین کانگریسی کے متعلق۔

اشرف علی تھانوی انگریزوں کا وظیفہ خوار

حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ہمارے آپ کے مسلم بزرگ و پیشوا تھے ان کے متعلق بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ اُن کو چھ سو روپیہ ماہوار حکومت کی جانب سے دیئے جاتے تھے۔ (مکالمۃ المصدرین ،صفحہ۹،دارالاشاعت دیوبند ضلع سہارنپور)

تبلیغی جماعت کے سرپرست انگریز

مولانا حفظ الرحمن صاحب نے کہا کہ مولانا الیا س صاحب کی تبلیغی تحریک کو بھی ابتداً حکومت(برطانیہ)کی جانب سے بذریعہ حاجی رشیداحمد صاحب کچھ روپیہ ملتا تھا پھر بند ہوگیا۔ (مکالمۃ المصدرین ،صفحہ۸،دارالاشاعت دیوبند ضلع سہارنپور)

جمعیت علمائِ اسلام کو انگریزوں کی مالی امداد

مولانا حفظ الرحمن صاحب کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ کلکتہ میں جمعیۃ العلمائے اسلام حکومت کی مالی امداد اور اس کے ایماء سے قائم ہوئی ہے۔ (مکالمۃ المصدرین ،صفحہ۷،دارالاشاعت دیوبند ضلع سہارنپور)

ملک الموت اور شیطان

الحاصل غور کرنا چاہیے کہ شیطان وملک الموت کاحال دیکھ کر محیط زمین کا فخرعالم کو خلافِ نصوص قطعیہ کے بلادلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں توکون ساایمان کا حصہ ہے ۔ شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کی کو ن سی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتاہے۔ (براہین قاطعہ بجواب انوارِ ساطعہ،صفحہ ۵۵،دارالاشاعت اردوبازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی)

علم شیطان کا ہو علم نبی سے زائد

پڑھوں لاحول نہ کیوں دیکھ کے صورت تیری

شیطان کا علم زیادہ:براہینِ قاطعہ میں ہے` اعلیٰ علیین میں روح مبارک علیہ السلام کی تشریف رکھنا اور ملک الموت سے افضل ہونے کی وجہ سے ہر گز ثابت نہیں ہوتا کہ علم آپ کا ان اُمور میں ملک الموت کے برابر بھی ہو چہ جائیکہ زیادہ۔ (براہین قاطعہ بجواب انوارِ ساطعہ،صفحہ ۵۶،دارالاشاعت اردوبازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی)

نبی علیہ السلام کو اپنے خاتمہ سے بے خبری (معاذ اﷲ)

براہینِ قاطعہ میں ہے : خود فخر عالمﷺ فرماتے ہیں: واللّٰہ لا ادری ما یفعل بی ولابکم

ٰیعنی بخدا مجھے خبر نہیں کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ (براہین قاطعہ بجواب انوارِ ساطعہ،صفحہ ۵۵،دارالاشاعت اردوبازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی) انتباہ: یہ حدیث مع آیت ، وَمَآ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَا بِکُمْ (پارہ۲۶، سورۃالاحقاف، اٰیت۹){ترجمہ: اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا ۔} منسوخ ہے لیکن افسوس ہے کہ دیوبندی فرقہ رسول اﷲﷺ پر کتنی بڑی تہمت لگاتے ہیں۔

نبی علیہ السلام کودیوار کے پیچھے کا علم نہیں

اسی براہینِ قاطعہ میں ہے شیخ عبدالحق محدث دہلوی روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں۔ (براہین قاطعہ بجواب انوارِ ساطعہ،صفحہ ۵۵،دارالاشاعت اردوبازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی)

تبصرہ اُویسی غفرلہ

یہ حضور سرورِ عالمﷺ پر صریح بہتان وافتر اور ایک موضوع حدیث کا سہارا لے کر نبی پاکﷺ کی تنقیص و گستاخی کا مظاہرہ کیا گیا ہے حالانکہ یہی شیخ عبدالحق محد ث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ اپنی کتاب مدارج النبوۃ میں اس روایت کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں،

جوابش آنست کہ ایں سخن اصلے نہ دارد، وروایت بداں صحیح نشدہ است۔ (شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مدارج النبوۃ لاعلم ماورای جداری ایں سنخنے اصل ندارو،جلد۱، صفحہ۷، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر)

یعنی اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور یہ روایت صحیح نہیں۔ ایسی بے اصل روایتوں سے حضور ﷺ کے کمالاتِ علمی کا انکار کرنا بدترین جہالت و ضلالت ہے۔

جانوروں جیسے حضورﷺ کا علم

حفظ الایمان میں ہے :پھر یہ کہ آپ کی ذاتِ مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امرہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب۔اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضورﷺ ہی کی کیا تخصیص(خصوصیت) ہے ایسا علمِ غیب تو زید و عمر ہر صبی(بچہ) و مجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لئے بھی حاصل ہے۔ (معاذاللہ) (حفظ الایمان مع بسط البنان،صفحہ۱۵،دارالکتاب دیوبند،یوپی ) (حفظ الایمان مع بسط البنان وتغییر العنوان،صفحہ ۱۳،قدیمی کتب خانہ آرام باغ، کراچی)

تبصرہ اُویسی:اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ رسول کریمﷺ کا علم تما م کائنات کے علم سے ممتاز ہے اور اس قسم کی تشبیہ شان رسالت کی شدید ترین توہین تنقیص ہے۔

رحمۃ للعلمین مخصوص حضور ﷺ کا خاصہ نہیں

فتاویٰ رشیدیہ میں تحریر ہے : استفتاء :کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ لفظ رحمۃ للعٰلمین مخصوص حضورﷺ سے ہے یا ہر شخص کو کہہ سکتے ہیں؟

الجواب:لفظ رحمت للعالمین صفت خاصۂ رسول اﷲﷺ کی نہیں ہے بلکہ دیگر اولیاء ، انبیاء اور علمائِ ربانیین بھی موجب رحمت عالم ہوتے ہیں اگرچہ جناب رسول اﷲﷺ سب میں اعلیٰ ہیں۔لہٰذا اگر دوسرے پر اس لفظ کو بتاویل بول دیوے توجائز ہے۔ (فتاوی رشیدیہ کامل،کتاب العقائد،صفحہ۲۴۴،دارالاشاعت اردوبازار،ایم اے جناح روڈ، کراچی)

*جس وقت حضرت گنگوہی صاحب کو حضرت حاجی امداد اﷲ صاحب کی وفات کی خبر ملی ہے کئی روز تک حضرت مولانا گنگوہی کو دست آتے رہے اس قدر صدمہ اوررنج ہواتھا۔ بظاہر یہ معلوم نہ تھا کہ اس قدر محبت حضرت کے ساتھ ہوگی ۔ حضرت گنگوہی حضرت کی نسبت بار بار رحمۃ للعالمین فرماتے تھے۔ (الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت ،ملفوظ نمبر ۱۳۵،جلد۱،صفحہ۱۳۸،ناشر ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)

*آج نمازِ جمعہ کے موقع پر جانکاہ سن کر دل پر بے حد چوٹ لگی کہ حضرت قبلہ (مفتی محمد حسن)رحمۃ للعالمین دنیا سے سفر آخرت فرماگئے ۔ (عزیزالرحمن مہتمم مدرسہ امداد العلوم ،ایبٹ آباد ،تذکرہ حسن ،صفحہ۲۰۶)

سامعین!وہ صفت جو اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو خصوصیت سے عطا فرمائی ہے یہ لوگ اسے گھٹانے کے خیال میں کیوں ہیں سوچئے!

دیوبندی حضورﷺ کے اُستاد بننے کے مدعی

براہینِ قاطعہ میں لکھتے ہیں : مدرسہ دیوبند کی عظمت حق تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت ہے کہ صدہا عالم یہاں سے پڑھ کر گئے اور خلقِ کثیر کو ظلمات و ضلالت سے نکالا ۔یہی سبب ہے کہ ایک صالح فخرِ عالم علیہ السلام کی زیارت سے خواب میں مشر ف ہوئے تو آپ کو اُردو میں کلام کرتے دیکھ کر پوچھا کہ آپ کو یہ کلام کہا ں سے آگئی آپ تو عربی ہیں۔فرمایا کہ جب سے علماء مدرسہ دیوبند سے معاملہ ہوا ہم کو یہ زبان آگئی ۔سبحان اﷲاس سے رتبہ اس مدرسہ کا معلوم ہوا (براہین قاطعہ بجواب انوارِ ساطعہ،صفحہ ۳۰،دارالاشاعت اردوبازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی) سامعین غور فرمایئے کیا حضورﷺ اُردو دیوبندیوں سے سیکھے ہیںاس سے بڑھ کر گستاخی اور کیا ہوسکتی ہے!

حضور ﷺ پر بہتان

بلغۃ الحیران میں ہے: اور قبل الدخول طلاق دو تو اس عورت پر عد ت لازم نہ ہوگی جیساکہ زینت کو طلاق قبل الدخول دی گئی اور رسول اﷲﷺ نے اس کو بلاعدت نکاح کرلیا کہ حضور نے عدت گزرنے سے پہلے حضرت زینب سے نکاح کرلیا۔ (بلغۃ الحیران) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حضورﷺ نے ان کی عدت گزرنے سے پہلے پیغامِ نکاح تک نہیں بھیجا۔

جیساکہ مسلم شریف میںحدیث وارد ہے، لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّۃُ زَیْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِزَیْدٍ فَاذْکُرْہَا عَلَیَّ قَالَ فَانْطَلَقَ زَیْدٌ حَتَّی أَتَاہَا وَہِیَ تُخَمِّرُ عَجِینَہَا (صحیح المسلم،کتاب النکاح، الباب زواج زینب بنت جحش ونزول الحجاب واثبات ولیمۃ العرس، الجزء۷، الصفحۃ۲۶۹، الحدیث۲۵۶۷)

یعنی جب حضرت زینب رضی اﷲ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اﷲﷺ نے حضرت زید سے فرمایا کہ تم زینب کو میری طرف سے نکاح کا پیغام دو۔

لہٰذا جو شخص حضورﷺپریہ افتراء کرتاہے وہ بارگاہ رسالت کا سخت دشمن اور بدترین گستاخ ہے۔

تقویۃ الایمان میں مرقوم ہے میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں۔ (تقویۃ الایمان ،الفصل الخامس فی رد الاشراک فی العادات، صفحہ۱۳۲،مکتبۂ خلیل ،یوسف مارکیٹ، غرنی سٹریٹ، اردو بازارلاہور)

تبصرہ اُویسی غفرلہ

مذکورہ بالا جملہ مولوی اسماعیل دہلوی نے رسول اﷲﷺ کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ یہ حضورﷺ پر بہتان ہے اور نبوت پر جھوٹ ۔بہتان تراشنا بدترین ضلالت و گمراہی ہے علاوہ ازیں یہ خود حضور سرور کونین ﷺ کے صریح ارشاد ، إِنَّ اللَّہَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیاء ِ فَنَبِیُّ اللَّہِ حَیٌّ یُرْزَقُ (سنن ابنِ ماجہ،کتاب ماجاء فی الجناء ز، الباب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللہ علیہ وسلم ،الجزء۵، الصفحۃ۱۳۰، الحدیث۱۶۲۷) یعنی بیشک اﷲ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے اجسام کھانا حرام کیا ۔اﷲ کا نبی زندہ ہوتاہے اﷲ تعالیٰ سے رزق دیا جاتاہے۔ لہٰذا حضور ﷺ کے حق میں یہ اعتقاد رکھنا کہ معاذاﷲ حضور مر کر مٹی میں مل گئے صریح گمراہی ہے اور حضورﷺ کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا کہ معاذ اﷲ میں بھی مر کر مٹی میں ملنے والا ہوںرسول اﷲ ﷺ پر افتراء محض اور شانِ اقدس میں توہین صریح ہے لیکن ان گستاخوں اور بے ادبوں سے کون پوچھے ۔اُلٹا چور ی سینہ زوری کے قاعدہ پر دین کی ٹھیکیداری کے دعویدار بھی ہیں ۔

عجب رنگ ہیں زمانے کے

دجال سے تشبیہ

قاسم نانوتوی اپنی کتاب آبِ حیات پرلکھتے ہیں چنانچہ حضور ﷺ کاکلام اس ہیچمدان کی تصدیق کرتاہے ۔فرماتے ہیں، تَنَامُ عَیْنِی وَلَا یَنَامُ قَلْبِی اوکماقال۔یعنی میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔ لیکن اس قیاس پر دجال کا حال بھی یہی ہونا چاہیے اس لئے کہ جیسے رسول اﷲﷺ بوجہ منشائیت ارواح مؤمنین جس کی تحقیق سے ہم فارغ ہوچکے ہیں متصف بحیات بالذات ہوئے ایسے ہی دجال بھی بوجہ منشائیت ارواح کفار جس کی طر ف ہم اشارہ کرچکے ہیں متصف بحیات بالذات ہوگااور اس وجہ سے اس کی حیا ت قابلِ انفکاک (جُداہونے کے قابل)نہ ہوگی اور موت ونوم(نیند) میں استتار ہوگا انقطاع نہ ہوگا(نیند اورموت میں کو ئی فرق نہ ہوگا ) اور شاید یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ ابن صیاد جس کے دجال ہونے کا صحابہ کو ایسایقین تھا کہ قسم کھا بیٹھتے تھے اپنی نوم کا وہی حال بیان کرتاہے جو رسول ﷺنے اپنی نسبت ارشاد فرمایا یعنی بہ شہادت احادیث وہ بھی یہی کہتاتھا کہ تَنَامُ عَیْنِی وَلَا یَنَامُ قَلْبِی (صحیح البخاری،کتاب المناقب، الباب کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم تنام عینہ ولا ینام،الجزء ۱۱، الصفحۃ۴۰۴، الحدیث۳۳۰۴)

یعنی میری آنکھ سوتی ہے دل بیدار ہوتاہے (آبِ حیات،صفحہ۱۹۹،ناشر ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ، بیرون لوہڑ گیٹ،ملتان) انتباہ:حضورﷺ کے خصوصی اوصاف دجال کے لئے ثابت کرنا معاذ اﷲ تنقیص شانِ نعت ہے لیکن دیوبندی تو اس کو اسلام سمجھتے ہیں کہ حضورﷺ ہیں تو ہمارے جیسے آدمی تو پھر انہیں دجال سے تشبیہ دیں یا جانوروں یا پاگلوں سے جیسے قاسم نانوتوی نے اسی کتاب آب حیات میں اور تھانوی نے حفظ الایمان میں ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گستاخی

مولوی اشرف علی تھانوی نے بڑھاپے میں ایک کمسن شاگردنی سے نکاح کیا ۔اس نکاح سے پہلے ان کے کسی مرید نے خواب میں دیکھا کہ مولوی اشرف علی کے گھر حضرت عائشہ صدیقہ آنے والی ہیں جس کی تعبیر مولوی اشرف علی صاحب نے یہ کی کہ کوئی کمسن عورت میرے ہاتھ آئے گی کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ کا نکاح جب حضورﷺ سے ہوا تو آپ کی عمر سات سال تھی وہی نسبت یہاں ہے کہ میں بڈھا ہوں اور بی بی لڑکی ہے۔ (رسالہ الامداد ،مصنف اشرف علی تھانوی ،ماہِ صفر ۱۳۳۵؁ھ)

تبصرہ اُویسی غفرلہ

خواب کا معاملہ کہہ دینا ایک بہانہ ہے ورنہ ایماندار سوچے کہ حضور ﷺ کی ساری بیویاں مسلمانوں کی مائیں ۔ اﷲٍتعالیٰ نے فرمایا،وَ اَزْوَاجُہٓ اُمَّہٰتُہُمْ (پارہ۲۱، سورۃالاحزاب، اٰیت۶)

ترجمہ: اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں ۔

خصوصاًصدیقۃ الکبریٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی وہ شان ہے کہ دنیا بھر کی مائیں ان کے قدم پاک پر قربان ہوں۔ کوئی کمینہ انسان بھی ماں کو خواب میں دیکھ کر زوجہ سے تعبیر نہ دیگا۔ یہ حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی سخت توہین بلکہ ان جناب کے حق میں صریح گالی ہے اس سے زیادہ اور کیا بے ایمانی اور بے غیرتی ہوسکتی ہے کہ ماں کو زوجہ سے تعبیر دی جائے ۔یہ نقد سودا ہے کہ اس طرح کا خواب نہ پہلے کسی نے دیکھا اور نہ تھانوی کے سوا کسی اور نے تاحال دیکھا۔

تھانوی کلمہ

مولوی اشرف علی تھانوی کے ایک مرید نے مولوی صاحب موصوف کو لکھا کہ میں نے خواب کی حالت میں اس طرح کلمہ پڑھا لا الہ الا اﷲ اشرف علی رسول اﷲ (معاذاللّٰہ) چاہتا تھا کہ کلمہ صحیح پڑھوں مگر منہ سے یہی نکلتا تھا ۔پھر بیدار ہوگیا تو درود شرف پڑھا تو یوں اللھم صل علٰی سیدنا ونبینا ومولانا اشرف علی (معاذاللّٰہ) حالانکہ اب بیدار ہوں خواب نہیں لیکن بے اختیار ہوں مجبورہوںزبان اپنے قابو میں نہیں۔ اس کا جواب مولوی اشرف علی صاحب نے یہ دیا کہ اس واقعہ میں تسلی تھی کہ جس طرف تم رجوع کرتے ہو وہ بعونہٖ تعالیٰ متبع سنت ہے۔(۲۴شوال۱۳۳۵؁ھ) (رسالہ الامداد بابت ماہ صفر۱۳۳۶؁ھ ،صفحہ۳۵،مطبع امداد المطابع تھانہ بھون)

درسِ عبرت

غور کرنا چاہیے کہ مولوی اشرف علی صاحب کا کلمہ پڑھ لو اور ان پر درود پڑھو مگر بے اختیاری زبان کا بہانہ کردو سب جائز ہے ۔کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور کہے کہ بے اختیار زبان سے نکل گیا طلا ق ہوجاتی ہے مگر یہاں یہ بہانہ کافی ماناگیااور اس کو پیر کے متبع سنت ہونے کی دلیل قرار دیا گیا۔

حضورباورچی(معاذ اﷲ)

تذکرۃالرشیدمیں ہے کہ حاجی امداد اﷲ صاحب نے خواب میں دیکھا کہ آپ کی بھاوج آپ کے مہمانوں کا کھانا پکارہی ہیں کہ جنابِ رسول کریمﷺ تشریف لائے اور آپ کی بھاوج سے فرمایا کہ اُٹھ تو اس قابل نہیں کہ امداد اﷲ کے مہمانوں کا کھانا پکائے ۔اس کے مہمان علماء(یعنی دیوبندی)ہیں اس کے مہمانوں کا کھانا میں پکاؤں گا۔(معاذاﷲ) (تذکرۃالرشید، جلد۱،صفحہ۴۶،ناشرادارۂ اسلامیات، لاہور۔کراچی)

سامعین ایمان سے کہیے کہیہ نبی کریمﷺ کی گستاخی ہے یا نہیں ؟اس کا دیوبندی یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ خواب کی باتیں ہیں میں کہتاہوں کہ عام آدمی کا خواب پس آنا اور بات ہے حضورﷺ کے لئے یہ تو عقیدہ ہے کہ خواب میں آپ خود ہوتے پھر گستاخی نہیں تواورکیا ہے۔

خدا کے سوا کسی کو نہ مانو

تقویۃ الایمان میں مولوی اسماعیل دہلوی نے صفحہ ۹ پر لکھا: اﷲ کے سوا کسی کو نہ مان اور اس سے نہ ڈر ۔ (تقویۃ الایمان ، صفحہ۹) اورتقویۃ الایمانکے صفحہ ۱۰ پر تحریر کیا:جب ہمارا خالق اﷲ ہے تو ہمیں اپنے مشکل اوقات میں اسی کو پکارنا چاہیے کسی اور سے ہمیں کیا واسطہ ۔ جیسے کوئی کسی بادشاہ کا غلام ہوگیا تو وہ اپنی ہر ضرورت اپنے بادشاہ ہی کے پاس لے کر جائے گااسے دوسرے بادشاہوں سے کیا واسطہ، کسی بھنگی چما ر کا توذکر ہی کیا ہے۔ (تقویۃ الایمان، صفحہ۶۶،ناشر مکتب دعوت وتوعیۃ الجالیات ، ربوہ ریاض ،سعودی عرب)

کیا نبی کریمﷺ کو بھی ؟دیوبندیوں سے پوچھئے ۔ فائدہ:اس عبارت میں اﷲ تعالیٰ کے سوا مثال دے کر انبیاء واولیاء (اس میں حضورﷺ)کو چوہڑے چمار بنادیا۔ (معاذاﷲ)

تقویۃ الایمان میںتحریر ہے کہ اشرف المخلوقات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو اس کے دربار میں یہ حالت ہے کہ ایک گنوار کے منہ سے اتنی بات سے سنتے ہی مارے دہشت کے بے حواس ہوگئے (تقویۃ الایمان معہ تذکیر الاخوان،صفحہ۷۴،شمع بک ایجنسی ،یوسف مارکیٹ غزنی سٹریٹ، اردوبازار لاہور)

تقویۃ الایمان میںلکھتے ہیں : اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سے اگرچاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اورجن و فرشتہ جبرئیل اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کرڈالے (تقویۃ الایمان معہ تذکیر الاخوان،الفصل الثالث فی ذکر ردالاشراک فی التصرف،صفحہ۴۱،شمع بک ایجنسی ،یوسف مارکیٹ غزنی سٹریٹ، اردوبازار لاہور)

انتباہ:یہ عقیدہ دیوبندیوں کا اب بھی جوں کا توں ہے ان سے پوچھ لیں۔

اَہلِ سنت کا عقیدہ

اہل سنت کے نزدیک حضرت محمدمصطفیﷺ کی مثل و نظیر کے پیدا کرنے سے قدرت ومشیت ایزدی کا متعلق ہونا محال عقلی ہے کیونکہ حضورﷺ پیدائش میں تمام انبیاء سے حقیقتاً اول ہیں اور بعثت میں تمام انبیاء سے آخر اور خاتم النبین ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جس طرح اول حقیقی میں تعدد محال بالذات ہے اسی طرح خاتم النبین میں بھی تعدد ممتنع لذاتہٖ ہے اور اس بناء پر قدرت و مشیت خداوندی کا ناقص ہونا لازم نہیں آتابلکہ اسی امرِ محال کا قبیح ومذموم ہونا ثابت ہوتاہے کہ وہ اس بات کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا کہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت و مشیت اس سے متعلق ہوسکے۔

لطیفہ

اہل سنت نے جب یہ دلیل قائم کی کہ اﷲ تعالیٰ اگر اور محمد پیدا کرے تو اس پر جھوٹ کا الزام آئے گا اس لئے کہ وہ ہمارے محمد ﷺ کو خاتم النبین کہہ چکا ہے اگر اور محمد بنائے گا تو جھوٹ ثابت ہوگا ۔دیوبندیوں نے کہا اﷲ تعالیٰ جھوٹ بول سکتاہے۔

باری تعالیٰ کی طرف جھوٹ کی نسبت

امکانِ کذب سے مراد دخول کذب تحت قدرت باری تعالیٰ ہے۔ (فتاوی رشیدیہ کامل،کتاب العقائد،صفحہ۲۳۷،دارالاشاعت اردوبازار،ایم اے جناح روڈ، کراچی)

افعالِ قبیحہ

افعالِ قبیحہ کو مثل دیگر ممکنات ذاتیہ مقدورِ باری جملہ اہلِ حق (علمائے دیوبند)تسلیم فرماتے ہیں۔ (الجہد المقل فی تنزیہ المعزوالمزل، جلد۱،صفحہ۴۱،مصنف مولوی محمود الحسن دیوبندی صدر مدرس دارالعلوم دیوبند،ناشرمکتبہ بلالی ، ساڈھورہ )

فائدہ:یہ امکانِ کذب کا مسئلہ ہے اور نہایت دقیق ہے یہاں صرف اتنا سمجھ لیں کہ دیوبندی نہ صرف نبی کریمﷺ کے گستاخ اور بے ادب ہیں بلکہ یہ خود کی گستاخی اور بے ادبی سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس لئے کہ بے ادبی اور گستاخی ان کی جبلی عادت ہے جیسے بچھو ڈسنے پر مجبور ہے بھلا یہ بھی کوئی عقلمندی ہے کہ خدا تعالیٰ جیسی منزہ ذات کو جھوٹا اور دیگر افعال قبیحہ سے موصوف مانا جائے۔توبہ ،توبہ! تحقیق کے لئے دیکھئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی کتاب سبحان السبوح اور علامہ کاظمی صاحب علیہ الرحمۃ کی کتاب تسبیح الرحمن

نبی علیہ السلام معصوم نہیں(معاذاﷲ)

دروغ صریح بھی کئی طرح پر ہوتاہے ہر قسم کا حکم یکساں نہیں ۔ہرقسم سے نبی کو معصوم ہونا ضروری نہیں بالجملہ علی العموم کذب کو منافی شانِ نبوت بایں معنی سمجھنا کہ یہ معصیت ہے اور انبیاء علیہم السلام معاصی سے معصوم ہیں خالی غلطی سے نہیں ۔ یہ عقیدہ مولوی قاسم نانوتوی نے تصفیہ العقائد میں لکھا: مولوی عیسیٰ لودھرونی ویومدی ثم مودودی نے نام لئے بغیر فتویٰ دیوبندی سے منگوایا وہ بھی سن لیں۔

فتوی 786/41

الجواب:انبیاء علیہم السلام معاصی سے معصوم ہیں ۔ان کو مرتکبِ معاصی سمجھنا العیاذ باﷲ اَہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ نہیں اسکی وہ تحریر خطرناک بھی ہے اور عام مسلمانوں کو ایسی تحریرات پڑھنا جائز نہیں ۔ فقط واﷲ اعلم سید احمد سعید نائب مفتی دارالعلوم دیوبند جواب صحیح ہے ایسے عقیدے والا کافر ہے جب تک وہ تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح نہ کرے اس سے قطع تعلق کرے۔ مسعود احمد عفی اﷲ عنہ مہر دارالافتاء فی دیوبند الہند المشتہر محمدعیسیٰ نقشبندی ناظم مکتبہ اسلامیہ لودھراں ضلع ملتان فائدہ:اگر ہم اَہلِ سنت ایسا جواب لکھتے ہیں دیوبندی ٹولہ ناراض ہوتا لیکن یہ فتویٰ دارالعلوم دیوبند کا ہے۔

عقیدہ دیوبند

تقویۃ الایمان میں ہے،جس کا نام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مالک و مختار نہیں ۔ (تقویۃ الایمان معہ تذکیر الاخوان، صفحہ۵۵،شمع بک ایجنسی، یوسف مارکیٹ غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور)

تبصرہ اُویسی غفرلہ

حالانکہ اﷲ تعالیٰ نے حضورﷺ کو مختار کل بنایا ہے ۔تفصیل کے لئے دیکھئے فقیر کی کتاب اختیار الکل لمختار الکل۔

عقیدہ دیوبندی

تقویۃ الایمان میں ہے ،جیسا کہ قوم کا چودھری اور گاؤں کا زمیندار سوان معنوں میں ہر پیغمبر اپنی اُمت کا سردا رہے ۔ (تقویۃ الایمان معہ تذکیر الاخوان، صفحہ۸۵،شمع بک ایجنسی، یوسف مارکیٹ غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور) غور فرمایئے کہ جن ذہنوں میں نبی علیہ السلام کی قدر و منزلت ایک چودھر ی اور زمیندار جتنی ہو وہ نبی علیہ السلام کی بے ادبی اور گستاخی نہ کریگا تو کیا کریگا۔

تمام مفسرین جھوٹے

مولوی حسین علی صاحب شاگردِ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی (بلغۃ الحیران) میں لکھتے ہیں، وَّادْخُلُواالْبَابَ سُجَّدًا {ترجمہ: اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو}باب سے مراد مسجد کا دروازہ ہے جوکہ نزدیک تھی اور باقی تفسیروں کا کذب ہے(مطلب باقی تفاسیر جھوٹ ہیں) ۔ (معاذاللہ) یہ حوالہ پڑھ کر میں ہنس پڑا اس لئے کہ جس قوم کا عقیدہ ہو کہ خدا تعالیٰ جھوٹ بول سکتاہے تو پھر بیچارے مفسرین کون لگتے ہیں کہ یہ لوگ اُنہیں جھوٹے کہہ دیں تو کون سی بڑی بات ہے۔

چمار سے بھی ذلیل

ہر مخلوق چھوٹا ہو یا بڑا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔ (تقویۃ الایمان معہ تذکیر الاخوان، الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراک،صفحہ۲۰،شمع بک ایجنسی، یوسف مارکیٹ، غزنی اسٹریٹ،اردوبازار لاہور)

نماز میں حضورﷺ کا خیال

نماز میں حضورﷺ کا خیال لانا اپنے گدھے اور بیل کے خیال میں ڈوب جانے سے بدتر ہے۔ (صراط مستقیم مترجم اردو از مولانا اسمعیل ،صفحہ۱۱۸،ادارہ نشریات اسلام، اردو بازار ،لاہور) (صراط مستقیم مترجم،صفحہ۱۴۸،مطبوعہ دارالکتاب دیوبند یوپی ) اس کی تردید فقیر کی کتاب رفع الحجاب میں پڑھیئے مختصر تحقیق آگے آتی ہے۔

حضورﷺ پلِ صراط سے گررہے تھے

میں نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ مجھے آپ پلصراط پر لے گئے اور دیکھا کہ حضورﷺ گرے جارہے ہیں تو میں نے حضورﷺ کو گرنے سے روکا۔(بلغۃ الحیران ) (مبشرات مصنف مولوی حسین علی واں بھچراں ضلع میانوالی پنجاب ،شاگرد مولوی رشید احمد گنگوہی)

تبصرہ اُویسی غفرلہ

اس گستاخی کا پہلو ظاہر ہے حالانکہ حضورﷺ کے بعض غلام پل صراط سے بجلی کی طرح گزر جائیں گے اور پلصراط پر پھسلنے والے لوگ حضورﷺ کی مدد سے سنبھل سکیں گے ۔آپ ﷺ دعافرمائیں گے، رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ ۱ ؎ {یعنی اے رب سلامتی۔}جوکہے میں نے حضورﷺ کو صراط پر گرنے سے بچایا وہ بے ایمان نہیں تو اور کیا ہے ۔ ۱ ؎ (سنن الت...)

امام اہل سنتِ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قد س سرہٗ نے فرمایا :

رضا پل سے وجد کرتے گزریئے

کہ ہے رب سلم صدائے محمد(ﷺ)

انتباہ: خواب والا عذر جھوٹ ہے بلکہ کہہ دو کہ خود خواب جھوٹاہے یہ لوگ اپنی شان بڑھانے کے لئے ایسے خواب گھڑنے کے استاد ہیں ۔دیکھئے فقیر کی تصنیف بلی کے خواب میں چھیچھڑے۔ انتباہ:قیامت میں تو حضور ﷺ کی اُمت کے لئے یہ حال ہوگا کہ نزع میں گور میں میزان پہ سرِ پل پہ

نہ چھٹے ہاتھ سے دامانِِ معلی تیرا میدانِ قیامت کااپنا پتہ سرورِ عالمﷺ نے خود بتایا ہے چنانچہ:حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ حضورﷺ سے عرض کی یارسول اﷲﷺ قیامت کے روز میری شفاعت فرمایئے گا حضور ﷺ نے فرمایاہاں میں کروں گا۔حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا حضورﷺ قیامت کے روز میں آپ کو کہاں تلاش کروں آپ کہاںملیں گے؟حضورﷺ نے فرمایا، اَطْلُبْنِی أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِی عَلَی الصِّرَاطِ یعنی سب سے پہلے مجھے پلِ صراط پر تلاش کرنا۔ عرض کیا حضورﷺ اگر آپ وہاں نہ مل سکیں توپھر کہاں تلاش کروں؟فرمایا،فَاطْلُبْنِی عِنْدَ الْمِیْزَانِ یعنی پھر مجھے میزان پر تلاش کرنا۔ عرض کیا حضورﷺ!اگر وہاں بھی آپ نہ مل سکیں تو؟فرمایا، فَاطْلُبْنِی عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّی لَا أُخْطِئُ ہَذِہِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ (سنن الترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ والرقائِقِ والورع عن رسول اللہ، الباب ماجاء فی شان الصراط،الجزء ۸، الصفحۃ۴۶۶، الحدیث۲۳۵۷) یعنی پھر مجھے حوضِ کوثر پر تلاش کرنا کہ ان تینوں مقامات سے کسی نہ کسی مقام پر میں ضرور ملونگا۔

اُمتی نبی سے بڑھ جاتاہے

انبیاء اپنی اُمت سے ممتا ز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیںباقی رہا عمل اس میں بسا اوقات اُمتی مساوی ہوجاتے ہیں بلکہ بڑھ جا تے ہیں۔ (تحذیر الناس مصنف مولوی محمد قاسم نانوتوی ، صفحہ۵،کتب خانہ رحیمہ دیوبندسہارنپور)

حضور ﷺ جیسے اور

اور حضورﷺ کا مثل ونظیر ممکن ہے ۔ (یکروزی مصنف مولوی اسمعیل صاحب دہلوی، مطبوعہ فاروقی، صفحہ۱۴۴)

حضورﷺ ہمارے بھائی

حضورﷺ کو بھائی کہنا جائز ہے کیونکہ آپ بھی انسان ہیں۔ (براہین قاطعہ بجواب انوارِ ساطعہ،صفحہ ۷،دارالاشاعت اردوبازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی)

تبصرہ اُویسی غفرلہ

والد صاحب کو بھائی اور والدہ اور زوجہ صاحبہ کو بھائی بہن کہا کریں کیونکہ یہ بھی مسلمان ہیں جائز ہونے میں کوئی شک بھی نہیں!

ضروری گزارش

مخالفین عوام میں تاثر دیتے ہیں کہ اہل سنت انہیں گالیاں دیتے ہیں ہم گالیاں دینے کو گناہ سمجھتے ہیں لیکن افسوس کہ وہ حضورﷺ کی جی بھر کر گستاخیاں کرتے ہیں ہم ان کی گستاخیاں عوام کو بتاتے ہیں اگر اس کا نام گالی ہے تو بے شک مخالفین شور مچائیں ہم تو عوام کو ان کی گستاخیوں سے آگاہ کرتے رہیں گے تاکہ عوام ان کے دام و تزویر میں پھنس نہ جائیں۔ سنیئے دیوبندی اور غیرمقلد وہابیوں کے امام اور مجدد اسماعیل قتیل نے اپنی کتاب صراط مستقیم میں سرورِ عالمﷺ سے کینہ اور بغض کا ثبوت اپنے مندرجہ بالا عقیدے میں روزِ روشن کی طرح دیا ہے جوکہ درج ہے۔

عقیدہ

از وسوسہ زنا خیال مجامعت زوجہ خود بہتر است و صرف ہمت بسوئے شیخ وامثاں آں از معظمین گوجناب رسالتمآب باشند بچندیں مرتبہ بدتر از استغراق در صورت گاؤ خود است۔ (صراط مستقیم فارسی، ہدایت ثانیہ درذکر مخلات عبادات الخ،افادہ نمبر۱،صفحہ ۸۶،المکتبۃ السلفیہ لاہور) یعنی (نماز میں)زنا کے وسوسہ سے اپنی بیوی کی مجامعت(ہم بستری) کا خیال بہتر ہے اور شیخ یا اسی جیسے بزرگوں کی طرف خواہ رسالت ما ب ہی ہوں اپنی ہمت (خیال)کو لگادینا اپنے بیل اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے زیادہ بُرا ہے ۔

ناظرینِ کرام ! ابوالوہابیہ اسماعیل دہلوی قتیل کا مندرجہ بالا نظریہ اور عقیدہ کس قدر دلسوز اور عشاقِ رسول کے جذبات کو چھلنی کردینے والا ہے اسلاف کا عقیدہ تو یہ ہوکہ جب میں تشہد پڑھتے وقت بارگاہ رسالتمآب میں ہدیہ سلام اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَاا لنَّبِیُّ (تم پر سلامتی ہو اے غیب بتانے والے (نبی)۔)پیش کرے تو اُس وقت یہ سمجھتے ہوئے پڑھے کہ امام الانبیاء حبیب کبریا محمد مصطفی ﷺ کی بارگاہ اقدس میں بالمشافہ سلام عرض کررہا ہے۔(سبحان اللہ عزّوجل)

علامہ عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی نے لکھا ہے کہ میں نے اپنے سردار علی خواص علیہ الرحمۃ کو سنا کہ فرماتے تھے کہ نمازی کو تشہد میں نبی پاکﷺ پر درود وسلام عرض کرنے کا اس لئے حکم دیاگیا ہے کہ جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے دربار میں غفلت کے ساتھ بیٹھتے ہیں انہیں آگاہ فرمادے کہ اس حاضری میں اپنے نبی اکرمﷺ کو بھی دیکھیں ،اس لئے حضورﷺ کبھی بھی اﷲ تعالیٰ کے دربارسے جدا نہیں ہوتے۔

فیخا طبونہ بالسلام مشافھۃ

یعنی پس حضورﷺ پر بالمشافہ سلام عرض کریں۔ (کتاب المیزان،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،جلد۲،صفحہ۷۴،مطبوعہ عالم الکتب بیروت) امام غزالی علیہ الرحمۃ کا ارشاد ہے کہ جب تشہد کے لئے بیٹھو اور تصریح کرو کہ جتنی چیزیں تقرب کی ہیں خواہ صلوٰۃ ہو یا طیبات یعنی اخلاق ظاہرہ۔ وہ سب اﷲ تعالیٰ کے لئے ہیں اسی طرح ملک خدا کے لئے ہے اور یہی معنیٰ التحیات کے ہیں اور نبی پاکﷺ کے وجود باوجود کو اپنے دل میں حاضر کرو اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَاا لنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرِکاتُہٗ (تم پر سلامتی ہو اے غیب بتانے والے(نبی) اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔)کہو۔

(احیاء علوم الدین،بیان تفصیل ما ینبغی أن یحضر فی القلب عند کل رکن وشرط من أعمال ، جلد۱،صفحہ۱۶۹،داراالمعرفۃ بیروت)

شیخ المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ القوی نے شرح مشکوٰۃ میں تحریر فرمایا ہے کہ بعضے عرفا گفتہ اندکہ ایں خطاب بجہت سریاں حقیقت محمدیہ است درذرائر موجودات وافراد ممکنات پس آنحضرت در ذرات مصلیاں موجود و حاضر است پس مصلی رابایدکہ ازیں معنے آگاہ باشد وازیں شہود غافل نہ بود تا انوار قرب و اسرارِ معرفت منور وفائز گردد۔ (اشعۃاللمعات ، باب التشہد، جلد۱، صفحہ۴۰۱) (مدارج النبوۃ ، باب پنجم ذکر فضائل آنحضرت، جلد۱، صفحہ۱۳۵)

یعنی بعض عارفین فرماتے ہیں کہ ایھاالنبی کا خطاب اس لئے ہے کہ حضورﷺ کی حقیقت محمدیہ موجودات کے ذرہ ذرہ اور ممکنات کے میں موجود و حاضر ہے ۔مصلی(درود پڑھنے والے پر) پر لازم ہے کہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہو ایسے شہود سے غفلت نہ برتے تاکہ اس پر انوارِ قرب و اسرارِ معرفت منور و روشن ہوں ۔ مزید تحقیق فقیر کی کتابرفع الحجاب میں پڑھیئے۔

دیوبندیوں کے امام اسماعیل دہلوی نے لکھا کہ جو کوئی انہیں (انبیاء واولیاء) کو اپنا وکیل اور سفارشی سمجھے اور نذر و نیاز کرے گو اس کو اﷲ تعالیٰ کا بندہ مخلوق ہے سمجھے سو ابو جہل اور وہ شرک ہے میں برابر ہے۔ (تقویۃ الایمان، صفحہ۴۵،ناشر مکتب دعوت وتوعیۃ الجالیات ، ربوہ ریاض ،سعودی عرب)

سوا ب بھی جو کوئی کسی مخلوق کو عالم میں تصرف ثابت کرے اور اپنا وکیل ہی سمجھ کر اس کو مانے سو اس پر شرک ثابت ہوجاتا ہے۔ (تقویۃ الایمان)

انبیاء اور اولیاء اﷲ تعالیٰ کی عطا سے تصرف فرماتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمارے سفارشی اور وکیل ہیں یہ سب کچھ شرک اور خرافات ہیں۔ (تقویۃ الایمان)

انتباہ:دیوبندیوں وہابیوں کو اس لئے ہم شفاعت کے منکر کہتے ہیں کہ ان کے امام اسماعیل قتیل نے صاف لکھ دیا ہے یا یہ مولوی اسماعیل سے برأت کا اظہار کریں یا مان جائیں کہ وہ شفاعت کے منکر ہیں ۔افسوس سے کہنا پڑتاہے !

قیامت میں حضورﷺ شفاعت کی وجہ سے بے چین ہونگے

جب تک اُمت کا ایک فرد بھی بہشت سے باہر ہوگا آپ بے قرار رہیں گے۔

قیامت کے روز جو کچھ ہونے والا ہے اور حضورﷺ اپنی اُمت کی جس طرح شفاعت فرمائیں گے اس کی تفصیل خود حضورﷺ ہی کی زبانِ انور سے سنیئے:حضورﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز جب لوگ حیران و مضطرب ہونگے اور ان میں کھلبلی مچی ہوگی اور سب متحیر ہونگے کہ آج کے دن کون ہماری مدد کرے تو سب لوگ آدم علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہونگے اور شفاعت کے لئے عرض کریں گے تو حضرت آدم علیہ السلام شفاعت کرنے سے انکار فرمادیں گے اور فرمائیں گے ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤکہ وہ اﷲ کے خلیل ہیں ۔لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو آپ بھی انکار فرمادیں گے اور فرمائیں گے موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اﷲ کے کلیم ہیں۔

لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ بھی انکار فرمادیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی انکار فرمادیں گے اور فرمائیں گے کہ شفاعت مطلوب ہے تو محمد رسول اﷲﷺ کے پاس جاؤ ۔حضورﷺ فرماتے ہیں پھر لوگ میرے پاس آئیں گے اس کے بعد شفاعت کا دروازہ کھل جائیگا تو تمام انبیاء و اولیاء ، علماء و حفاظ نیک نمازی شفاعت کریں گے۔

مزید احادیث شفاعت

(۱) شَفَاعَتِی لِأَہْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِی (سنن ابی داود ،کتاب السنۃ، الباب فی الشفاعۃ،الجزء ۱۲، الصفحۃ۳۵۱، الحدیث۴۱۱۴) (سنن الترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ والرقائِقِ والورع عن رسول اللہ، الباب منہ،الجزء۸، الصفحۃ ۴۷۰ ، الحدیث۲۳۵۹) یعنی حضورﷺ نے فرمایا کہ میری شفاعت میری اُمت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہے۔

(۲) قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَانِی آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّی فَخَیَّرَنِی بَیْنَ أَنْ یُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِی الْجَنَّۃَ وَبَیْنَ الشَّفَاعَۃِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَۃَ وَہِیَ لِمَنْ مَاتَ لَا یُشْرِکُ بِاللَّہِ شَیْئًا (سنن الترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ والرقائِقِ والورع عن رسول اللہ، الباب منہ،الجزء ۸، الصفحۃ۴۷۸، الحدیث۲۳۶۵) یعنی حضرت عوف ابن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے اُنہوں نے کہا فرمایا رسو ل اﷲ ﷺ نے میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیااو رمجھے میری اُمت جنت میں نصف داخل ہوکر اور شفاعت کو اختیار کیا اور وہ ہر ہر اس شخص کے لئے جو شرک پر نہ مرا ہو۔

دیوبند اور شیعہ کا گٹھ جوڑ

دیوبندی وہابی اہل سنت کو بدنام کرنے کے استاد ہیں عوام کو بھی تقریروں اور تحریروں میں سمجھاتے ہیں کہ یہ سنی بریلوی شیعہ ہیں حالانکہ ہم نے شیعوں کے رد میں بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ فقیر کی تصانیف درجنوں چھپ چکی ہیں لیکن دیوبندیوں کا اپنا حال یہ ہے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اور شیعہ:ابو اورعمر نے غدیر کے روز کیا پھر علی کو سلام کیا پھر جب رسول اﷲﷺ دنیا سے چلے گئے تو وہ کافر ہوگئے۔ (صافی شرح اُصول کافی،جلد۲،جلد۳، صفحہ۹۸، مطبوعہ نول کشور)

صحابہ کرام کو کافر کہنے والے اور دیوبندی

سوال:صحابہ کرا م کو مردُود و ملعون کہنے والا اپنے اس کبیرہ گناہ کی وجہ سے سنت وجماعت سے خارج ہوجائے گا یانہیں؟ جوابـ:وہ اپنے اس کبیرہ کے سبب سنت جماعت سے خارج نہیں ہوگا۔(ملخصاً) (فتاوی رشیدیہ، جلد۲، صفحہ ۱۳۰مطبوعہ دہلی)

(۱)میں ایک مجمع کے ساتھ ان کی تبلیغ کے لئے وہاں گیا تھا ادھار سنگھ سے بھی اس کا ذکر آیا تو اس نے جواب میں کہا کہ ہم آریہ کس طرح ہوسکتے ہیں ہمارے یہاں تو تعزیہ بنتاہے ۔میں نے کہا تعزیہ بنانا مت چھوڑنا۔(الافاضات الیومیہ)

(۲)اس نے کہا کہ میرے یہاں تعزیہ بنتاہے پھر ہم ہندو کاہے کو ہونے لگے میں نے اس کو تعزیہ بنانے کی اجازت دے دی ......اور میری اس اجاز ت کا ماخذ ایک دوسرا واقعہ تھا کہ اجمیر میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے اہلِ تعزیہ کی نصرت کا فتویٰ دے دیا تھا۔ (الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت ،ملفوظ نمبر ۲۰۲،جلد۴،صفحہ۱۶۲،ناشر ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)

صحابہ کرام پر تبرا(لعن)

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جو غالی شیعہ ہیں اور صحابہ کرام پر تبرا کرتے ہیں کیا یہ کافر ہیں؟فرمایا کہ محض تبرے پر تو کفر کا فتویٰ مختلف فیہ ہے۔(الافاضات الیومیہ)

رافضی کا ذبیحہ حلال

سوال:ذبیحہ رافضی کے ہاتھ کا جائز ہے یا نہیں؟ الجواب:شیعہ کے ذبیحہ کی حلت میں علمائے اَہلِ سنت کا اختلاف ہے راجح اور صحیح یہ ہے کہ حلال ہے۔ (امداد الفتاوی،کتاب الذبائح والاضحیہ وغیرہ،جلد۳، صفحہ۶۰۸،مکتبہ دارالعلوم کراچی)

بندیہ عورتیں شیعہ کے نکاح میں

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ سنی المذہب عورت بالغہ کا نکاح زید شیعی مذہب کے ساتھ برضائے شرعی باپ کی تولیت میں ہوگیا ..........دریافت طلب یہ امر ہے کہ سنی و شیعہ کا بہ تفریق مذہب نکاح جیساکہ ہندوستان میں شائع ہے عند الشرع صحیح ہوتاہے یا نہیں؟

الجواب: نکاح منعقد ہوگیا لہٰذا اولاد سب ثابت النسب اور صحبت حلا ل ہے ۔ (امداد الفتاوی،کتاب النکاح،جلد۲، صفحہ۲۵۱و۲۵۲،مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فائدہ: رفض و دیوبند یت کی جانی و روحانی یگانگت اور ظاہری واعتقادی رشتہ داری کے وسیع پروگرام سے صرف یہ مندرجہ بالا چند نمونے ناظرین کرام کے لئے کافی ہوسکتے ہیں جس سے صاف طور پر عیاں ہے کہ رفض و تشنیع کی اصل محرک صرف دیوبندی جماعت ہے مگر افسو س دیوبندی رافضیوں کو بڑی خوشی سے رشتے دیں ،دیوبندی بوقت ذبح روافض سے پاک وحلال کرائیں دیوبندی اور یہ سب پاپڑ بیلنے کے بعد شیعت کی حمایت کی ڈگری کردی جائے ۔سنی علماء پر اُلٹاچور کوتوال کو ڈانٹے۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کہ ان کے بڑوں کے فتوے کچھ بولتے ہیں اور ان کے اصاغر شیعہ کافر شیعہ کافر کی رٹ لگاتے ہیں بلکہ ان کے قتل وغارت کو جہاد سے تعبیر کریں۔ عقائد دیوبندیہ کا یہ ایک نمونہ ہے اگر تمام عقائد بیان کئے جائیں تو اس کے لئے دفتر چاہیے ۔حق یہ ہے کہ رافضیوں اور خارجیوں نے تو صحابہ کرام یا اہل بیت عظام ہی پر تبراکیا مگر دیوبندیوں کے قلم سے نہ خد اکی ذات بچی نہ رسول اﷲ ﷺ اور نہ صحابہ کرام کی نہ ازواج مطہرات کی نہ اولیائے کرام سب ہی کی اہانت کی گئی ۔اگر کوئی شخص کسی عام آدمی کو ان کی عبارات کا مصداق بنائے تو وہ اس کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ہم ان کے غلامانِ غلام ہیں ہمیں تو برداشت نہیں ہم اور تو کچھ نہیں کرسکتے صرف قلم ہاتھ میں ہے اس لئے مسلمانوں کو مطلع کردیتے ہیں کہ مسلمان ان سے علیحدہ رہیں یا وہ لوگ ان عقائد سے توبہ کریں۔

دیوبندیوں کی میلاد دشمنی

دیوبندی بیماروں حکیم الامت اشرف علی تھانوی نے لکھاتھا: (۱)میلا دشریف و قیام یہ ساری بیوقوفی ہے۔ (الافاضات الیومیہ) تبصرہ اُویسی غفرلہ`:لاکھوں کروڑوں اولیاء محدثین اور فقہاء میلاد کرتے رہے اور کررہے ہیں ان پر فتویٰ کا کیا حال ہے؟بالخصوص ان کے اس فتویٰ ان کے اپنے پیرو مرشد حاجی امداد اﷲ صاحب بیوقوف تھے یا کیونکہ جب کہ وہ میلاد اور سلام و قیام کے عاشق تھے ۔ (فیصلہ ہفت مسئلہ)

(۲)بلکہ یہ (میلاد شریف)شرع میں حرام ہے اس وجہ سے یہ قیام حرام ہوا۔ (براہین قاطعہ بجواب انوارِ ساطعہ،صفحہ ۱۵۲،دارالاشاعت اردوبازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی) یہ فتویٰ مولوی رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد انبیٹھوی کا ہے میں کہتاہوں کہ گنگوہی کا یہ فتویٰ براہ راست حاجی امداداﷲ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ پر چلے گاتو اس کی زدمیں آکر دیوبندکا ستیاناس ہوجائے گا کیونکہ حاجی صاحب دیوبند کے تو بڑوں کے پیرومرشد ہیں۔

(۳)یہ مجلس(میلاد)بدعتِ ضلالہ ہے۔ (فتاوی رشیدیہ کامل،کتاب البدعات،صفحہ۲۵۴،دارالاشاعت اردوبازار،ایم اے جناح روڈ، کراچی) پڑھیئے : بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ وَکُلُّ ضَلَالَۃٍ فِی النَّارِ (سنن النسائی،کتاب صلاۃ العیدین، الباب کیف الخطبۃ،الجزء ۶، الصفحۃ۲۷، الحدیث۱۵۶۰) یعنی (بُری )بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حاجی امداد اﷲ مرتکب البدعۃ وھوفی النار(معاذ اﷲ)

(۴)اَہلِ بدعت کی مثال ایسی ہے جیسے شیطان کی۔ (مزید المجید از اشرف علی تھانوی) انتباہ:دیوبندیوں کے نزدیک میلاد بدعت اور اس بدعت کا ارتکاب ان کے پیرومرشد و نے کیا تو وہ اہل بدعت ہوئے اور اہل بدعت شیطان ۔نتیجہ یہ نکلا کہ بقول ان کے حاجی صاحب شیطان ہوئے ۔(معاذ اﷲ)

(۵)مدارات تو حضور ﷺ نے کافروں تک فرمائی ہے وہ توبدعتی نہ تھے ۔کافرکی مدارات میں فتنہ نہیں بدعتی کی مدارات (تعظیم)میں فتنہ ہے ۔ (الافاضات الیومیہ) قول:مسلمانو! غور کرو کہ دیوبندیوں نے کمال کردیا کہ اپنے پیرو مرشد کو پہلے بدعتی کہا پھر شیطان پھر کافر بھلا بتایئے اب دیوبندیوں کے پیر ومرشد کیا ہوئے اور وہ اس سزا کے مستوجب کیوں ہوئے صرف اس لئے کہ اُنہوں نے میلاد شریف میں کیوں شمولیت کی اور اس میں سلام و قیام کیوں کیا۔

(۶)بلکہ یہ لوگ اس قوم(کفار)سے بھی بڑھ کر ہوئے ۔ (براہینِ قاطعہ) تبصرہ اُویسی:لیکن اب دیوبندی میلاد کے جلسے کرنے لگ گئے ہیں ان سے کوئی پوچھے کہ تمہارے اکابر کیا کہتے تھے اور تم کیا کررہے ہو شترمرغ تو نہیں ہو!

دیوبندیوں کے نرالے خواب

(۱)برخورداری خاتون سلمہا کا کارڈ بھی میرے نام آیا جس میں برخورداری نے ایک خواب درج کرکے درخواست کی ہے کہ حضرت والا کی خدمت مبارکہ میں عرض کر دیا جائے۔ لہٰذا ذیل میں نقل کی جاتی ہے ۔وھو ھذا (وہ یہی ہے۔) ایک جنگل ہے اورمیں اس میں ہوں ایک تخت ہے اُونچا سا۔ اس پر زینہ ہے ایک میں اور دوتین آدمی ہیں ہم سب کھڑے ہیں ۔حضرت رسول اکرمﷺ کے انتظار میں۔ اتنے میں ایسا معلوم ہوا کہ جیسے بجلی چمکی تھوڑی دیر میں حضرت محمدﷺ تشریف لائے اور زینے پر چڑھ کر میرے سے بغلگیر ہوئے اور مجھ کو زور سے بھینچ دیا جس سے سار ا تخت ہل گیا۔الخ (اصدق الرؤیا)

(۲)حضور ﷺ بس اشرف علی جیسے ہی تھے ۔ آپ کاقدمبارک اور چہرہ شریف اور تن شریف حضرت مولانااشرف علی جیسا تھا۔ (اصدق الرؤیا) حضور ﷺ ہمارے مولانا تھانوی کی شکل میں ہیں۔ (اصدق الرؤیا) شکل ایسی ہی ہے جیسے ہمارے مولانا تھانوی کی۔ (اصدق الرؤیا) اُنہوں نے جواب دیا کہ آپ کے پیر حاجی امداد اﷲ صاحب ہیں پھر باجی سے سن کر میں نے بھی یہی کہا ۔پھر دریافت فرمایا کہ حاجی صاحب کے پیچھے کون ہیں ؟باجی نے فرمایا کہ حضرت محمد رسول اﷲﷺ الخ۔(اصدق الرؤیا) یاد رہے کہ یہ باجی مولوی اشرف علی تھانوی کی بوڑھی بیوی تھی ۔

(۳)قرآن پر پیشاب کرنا:میں نے ایسا خواب دیکھا ہے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ میرا ایمان نہ جاتارہے حضر ت نے فرمایاان صاحب نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ قرآن مجید پر پیشاب کررہا ہوں ۔حضرت نے فرمایا یہ تو بہت اچھا خواب ہے۔ (مزید المجید ازاشرف علی تھانوی، افاضات الیومیہ )

فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ایک دیوبندی مولوی کو سینے سے لگایا(استغفر اللّٰہ)

(۴)ہم نے خواب میں حضر ت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کو دیکھا اُنہوں نے ہم کو اپنے سینے سے لگایا ۔(افاضات الیومیہ )

تبصرہ اُویسی غفرلہ

ایمان سے بولو کیا یہ سیدہ خاتونِ جنت کی توہین ہے یا نہیں اگر نہیں تو مرزا قادیانی نے اس قسم کی تو پھر دیوبندیوں نے اسے کیوں گستاخ و بے ادب کہا۔

(۵)ولایت مآب حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم اور جناب سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو خواب میں دیکھا پس جنا ب علی المرتضیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ مبارک سے غسل دیا اور آپ کی خوب اچھی طرح شست و شوکی جس طرح والدین اپنے بیٹوں کو نہلاتے اور شست وشو کرتے ہیں اور جناب فاطمۃ الزہرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے نہایت عمد ہ اور قیمتی لباس اپنے ہاتھ مبارک سے آپ کو پہنایا ۔ (صراط مستقیم)

(۶)میں نے گھر میں ایک عجیب خواب دیکھا کہ مدینہ منورہ کی مسجد قبا میں حاضر ہیں ۔جناب (اشرف علی )کی چھوٹی بیوی صاحبہ بھی ہیں یہ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں ۔ اُنہوں نے دریافت فرمایا رسول اﷲﷺ کی تصویر دیکھو گی اُنہوں نے بڑے اشتیاق کے ساتھ کہا کہ ضرور ۔اتنے میں کسی نے کہا کہ یہ تو عائشہ صدیقہ ہیں اب بڑے غور اور حیر ت سے اس کی طرف دیکھ رہی ہیں کہ صورت و شکل وضع ولباس چھوٹی بیوی صاحبہ کا ہے یہ حضرت صدیقہ کیسے ہوئیں۔(اصدق الرؤیا)

(۷) ایک مولوی صاحب نے عرض کیا حضرت عقد ثانی کا داعی کیا پیش آیا تھا فرمایااُن کی سادگی ،دینداری اور بے نفسی ۔ جی چاہتا تھا کہ ایسی اچھی طبیعت کا آدمی گھر میں رہے .......ان کے گھر میں رہنے کی بجز عقد کے اور کوئی صورت نہ تھی نیز اس کے متعلق میں نے ایک یہ بھی خواب دیکھا تھاکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا میرے مکان میں تشریف لانے والی ہیں اس سے میں یہ تعبیر سمجھا کہ جو نسبت عمر کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو بوقت نکاح حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی وہی نسبت ان کو ہے۔ (الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت ،ملفوظ نمبر ۱۱۲،جلد۱،صفحہ۹۹،ناشر ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان) ماں کے ساتھ نکاح ۔توبہ ، توبہ اور تعبیر واہ،واہ ،سبحان اﷲ۔

(۸)صحابہ کرام میں سے کسی کو خواب میں دیکھے مثلاً حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ، حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان حضرات کی صورت میں شیطان آسکتاہے۔ (الافاضات الیومیہ) فائدہ:اپنی شکل خواب بے نظیر محبوب خدا کے مطلوب حضرت محمد مصطفی ﷺ سے ملا کر بتایا اور اس کے پیارے یاروں اور قیامت کے ساتھیوں کو شیطان سے۔ إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

ایسے بُرے مذہب پر لعنت کیجئے

(۹)حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نے خواب میں دیکھا کہ جنت ہے اور اس میں ایک طرف چھپر کے مکان بنے ہوئے ہیں فرماتے تھے کہ میں نے دل میں کہا کہ اے اﷲ!یہ کیسی جنت ہے جس میں چھپر ہیں ۔ جس وقت صبح کو مدرسہ آیا مدرسے کے چھپرنظرپڑے تو ویسے ہی چھپر تھے۔ (الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت ،ملفوظ نمبر ۱۰۹،جلد۴،صفحہ۹۶،ناشر ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان) گویا دیوبند بہشت ہی ہے تو پھر سارے ملک کے دیوبندی وہاں جاکر ٹھہریں ان کو فائدہ یہی کہ وہ اپنی بہشت میں چلے جائیں اور ہمارا فائدہ یہ کہ ان کی شرارتوں سے ہمیں نجات مل جائے گی۔

انتباہ:یہ لوگ من گھڑت خواب تیار کرنے کے بڑے ماہر ہیں وہ صرف اسی لئے کہ لوگ (عوام)ان کے معتقد ہوں ورنہ ایسے بے تکے خواب صرف انہی کو کیوں آتے ہیں پھر یہ ان کے عقید ہ کے بھی خلاف ہے ۔ فقیر نے ان کے دیگر بے شمار خواب اور اس کی تعبیریں اور وضاحتیں تصنیف بلی کے خواب میں چھیچھڑے میں لکھے ہیں۔

وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْن وَصَلَی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلیٰ حَبِیْبِہِ الْکَرِیْمِ وَعَلیٰ آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعَیْنِ وَعُلَمَائِ مِلَّتِہٖ وَاَوْلِیَائِ اُمَّتِہٖ اَجْمَعِیْنَ

الفقیر القادری ابوالصالح محمد فیض احمد اُویسی رضوی غفرلہ` ۲۹ ج ۲، ۱۳۹۴ ؁ھ ۔ بہاول پور، پاکستان