Skip to content

آئینۂ مودودی

ردِّ بدمذہب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد اللہ و کفی و الصلواۃ والسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی وآلہ المجتبیٰ و اصحابہ البرر التقی والمنقی

امّابعد! فقیر اُویسی نے ’’آئینہ شیعہ ُنما‘‘ کتابچہ حوالہ جات مع صفحات نقل کرکے اہلِ اسلام سے اِستدعا کی کہ اس مذہب کے ان حوالہ جات کو پڑھ کر انصاف فرمائیں کہ یہ فرقہ اسلام میں کس قدر قابلِ قبول ہے۔ الحمد اللہ اس کتاب سے اہلِ اسلام نے یقین کردیا کہ یہ فرقہ اسلام کا سیاہ داغ ہے بلکہ بدنما سخت قسم کا دھبّہ۔

اب اس کے بعد ہمیں اس نئے فرقے کی نشاندہی کرنی ہے جس کا لباس اسلامی ہے لیکن اوڑھنا غیر اسلامی ۔ جس کا بانی ہمارے ملک میں ہے لیکن اس کی جڑیں امریکہ اور نجد میں ہیں۔ اس کی تحریریں بظاہر میٹھی مگر دَر حقیقت زہر ِقاتل ہیں۔ اس کے ماننے والے بظاہرمٹّھی بھر ہیں لیکن اس کے مدّاح غیر ملکی و غیر اسلامی ہے۔ جس کی تحریں بتاتی ہیں کہ ان کا دعویٰ ا سلامی ہے۔ لیکن قوعد و ضوابطِ غیر اسلامی۔تفصیلی گفتگو تو ہم نے ایک ضخیم کتاب میں کی ہے۔ یہاں نمونے کے طور پر چند حوالہ جات پیش کئے جاتے ہیں۔ تاکہ منصف مزاج حقیقت تک پہنچ سکیں۔ وما توفیقی الا باللہ

برادرانِ اسلام ! یاد رہے کہ ہمیں جماعتِ اسلامی یا اس کے مفکّر اور امیر ابو علیٰ مولانا مودودی سے کوئی ذاتی عنّاد و عداوت نہیں ۔ہماری دوستی اور دشمنی کا معیار صرف اور صرف الحب للہ و البغض للہ کے اصول پر مبنی ہے ۔ہم کسی پر الزام تراشی گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ اظہارِ حقیقت اور عوام کی بھلائی مقصود ہے تاکہ حقیقتِ حال اور امر واقعہ کسی سے مخفی نہ رہے اور ہر شخص کا ایمان و عقیدہ محفوظ رہ سکے۔

جناب مودودی کے نظریات و افکار اور ان کے عقائد ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ہر مکتبِ فکر کے علماء نے ان نظریات و معتقدات کی مذمّت کی ہے اور کررہے ہیں ۔ مودودی صاحب کے بے باک قلم اور گستاخانہ تحریروں نے ایک مومن سے لے کر اولیاء کرام اور صحابہ کبار اہل ِبیت اطہار، انبیاء عظام حتیٰ کہ سید الانبیاء جناب محمد رسول ﷺ پر ایسے ایسے رکیک جملے کہے ہیں کہ جس کہ جسارت ماضی میں کسی بھی دردیدہ ذہن نے نہ کی ہوگی ۔ مودودی صاحب کی کتب کی مختصر عبارات بلا تبصرہ ہدیۂ ناظرین کی جاتی ہے۔ تاکہ ناظرین خود فیصلہ کریں کہ اس قسم کے عقائد و نظریات کا حامل مسلمانوں کی جماعت کا اہل ہوسکتا ہے یقینا جواب نفی میں ہوگا۔تو عوام کو چاہیے کہ ایسے گستاخوں سے بچیں اور ایسے علماء کا ساتھ رکھیں جو عقائد و نظریات کے اعتبار سے صحیح ہوں جن کے قلوب محبتِ مصطفی ﷺسے لبریز ہوں۔

بمصطفیٰ بریساں خویش کہ دین ہمہ ادست
گر یہ ا و ر نہ سیدی تما م بو لہب است

نوح علیہ السلام میں جذبۂ جاہلیت تھا

لیکن جب اللہ تعالیٰ نے انہیں متنبہ فرمایا کہ جس بیٹے نے حق چھوڑ کر باطل کا ساتھ دیا اس کو محض اس لئے اپنا سمجھنا کہ وہ تمہاری صلب سے پیدا ہوا ہے۔ محض ایک جاہلیت کا جذبہ ہے۔ ( تفہیم القرآن، ص ۳۴۴، جلد ۲، ۶۴ء؁)

موسیٰ علیہ السلام ملنگ ہیں

یہ کیا بات ہوئی کہ ایک ملنگ ہاتھ میں لاٹھی لئے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ ( ترجمان القرآن، ص ۳۴ مئی ۶۵ء؁)

یونس علیہ السلام سے فریضہ ٔرسالت میں کوتائی ہوئی

تاہم قرآن کے ارشادات اور صحیفۂ یونس کی تفصیلات پر غور کرنے سے اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت یونس کے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہوگئیں ہیں۔ ( تفہیم القرآن، سورہ یونس ، جلد ۲، حاشیہ ص ۳۱۲)

ہر شخص خدا کا بندہ ہے جس طرح ایک نبی اسی طرح شیطان رجیم بھی

ہر شخص خدا کا عبد ہے مومن بھی اور کافر بھی۔ جس طرح ایک نبی اسی طرح شیطان رجیم بھی۔

موسیٰ علیہ السلام کا گناہ

بنی ہونے سے پہلے حضرت موسی علیہ السلام سے ایک بہت بڑا گناہ ہوگیا تھا۔ ( رسائل و مسائل، ص ۳۱، مطبوعہ بار دوئم ۱۹۵۴ء؁)

نبی ہر وقت بلند ترین معیار پر قائم نہیں رہتا

انبیاء بھی انسان ہوتے ہیں اور کوئی انسان بھی اس پر قادر نہیں ہوسکتاکہ ہر وقت اس بلند ترین معیار ر قائم رہے جو مومن کیلئے مقرر کیا گیا ہے ۔بسا اوقات کسی نازک نفسیاتی موقع پر نبی جیسا اعلیٰ اشرف انسان بھی تھوڑی دیر کیلئے اپنی بشری کمزوری سے مغلوب ہوجاتا ہے۔ (ترجمان القرآن ،ص ۳۴، جون ۱۹۴۶ء؁)

انبیاء کے فیصلے غلط ہوتے تھے

انبیاء کرام علیہ السلام رائے اور فیصلے کی غلطی بھی کرتے تھے اور بیمار بھی ہوتے تھے۔ آزمائشوں میں بھی ڈالے جاتے تھے ۔حتیٰ کہ قصور بھی ان سے ہوتے تھے اور انہیں سزا بھی دی جاتی تھی۔ ( ترجمان القرآن ، ص۱۵۸، مئی ۱۹۵۵ء؁ )

نبی ان پڑھ چرواہا

یہ قانون جو ریگستان کے اَن پڑھ چرواہے نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ( پردہ ص ۱۵۰)

انبیاء کو نفسِ شریرکے خطرے پیش آئے

اور تو اور بسا اوقات پیغمبر وں تک کو اس نفسِ شریر کی رہزنی کے خطرے پیش آئے۔ ( تفہم القرآن، ص ۱۶۱، جلد ۱ طبع پنجم)

شیطان کا سدِّباب انبیاء بھی نہیں کرسکے

شیطان کی شرارتوں کا ایسا سدِّباب کہ اسے کسی طرح گھس آنے کا موقع نہ ملے انبیاء علیہ السلام بھی نہ کرسکے توہم کیا چیز ہیںکہ اس میں پوری طرح کامیاب ہونے کا دعویٰ کرسکیں۔ ( ترجمان القرآن، ص ۵۷، جون ۱۹۴۶ء؁ )

نبی کریم ﷺکچھ نہیں جانتے تھے

آپ کا یہ حال تھا کی جب تک وحی نے رہنمائی نہ کی آپ ﷺ ٹھٹھکے کھڑے تھے اور کچھ نہیں جانتے تھے کہ راستہ کدھر ہے۔ (ترجمان القرآن، جلد ۹ ۳عدد ۱)

حضور ﷺ کو ایمان کا حل معلوم نہ تھا

تم کچھ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے؟ (رسائل و مسائل ص ۲۶)

حضور ﷺ کا اندیشہ صحیح نہ تھا

حضور ﷺ کو اپنے زمانے میں اندیشہ تھا کہ شاید دجال آپکے عہد میں ظاہر ہو جائے یا آپ کے بعد کسی قریبی زمانہ میں ظاہر ہو لیکن ساڑھے تیرہ سو برس کی تاریخ نے یہ ثابت نہیں کردیا کہ حضور ﷺ کا اندیشہ صحیح نہ تھا۔ (ترجمان القرآن فروری ۱۹۲۶ء؁)

محمد اسلامی تحریک کا لیڈر

اسلامی تحریک کے تمام لیڈروں میں محمد ﷺ ہی وہ تنہا لیڈر ہیں ۔ (اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے ص ۲۳)

محمد خدا کا ایلچی

محمد ﷺ وہ ایلچی ہیں جن کے ذریعے خدا نے اپنا قانون بھیجا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اطراف کے ممالک کو اپنے اصول و مسلک کی طرف دعوت دی مگر اس کا انتظار نہ کیا کہ یہ دعوت قبول کی جاتی ہے یا نہیں۔ بلکہ قوت حاصل کرتے ہی رومی سلطنت سے تصادم شروع کردیا۔ آنحضرت کے بعدحضرت ابوبکر پارٹی کے لیڈر ہوئے تو انہوں نے روم اور ایران دونوں کی غیر اسلامی حکومت پر حملہ کیا ۔ اور حضرت عمر نے اس حملہ کو کامیابی کے آخری مرحلے تک پہنچایا۔

علم نبی نبوت سے پہلے عام انسانی علوم کی طرح ہوتا ہے

انبیاء علیہ السلام وحی آنے سے جو علم رکھتے تھے اس کی نوعیت عام انسانی علوم سے کچھ مختلف نہ تھی ۔ ان کے پاس نزولِ وحی سے پہلے کوئی ایسا ذریعۂ علم نہ ہوتا تھا جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہ ہو۔ (رسائل و مسائل ص ۲۶ج ۱)

حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شرک کا ارتکاب

جب ابراہیم علیہ السلام نے تارے کو دیکھ کر کہا کہ یہ میرا رب ہے اور جب چاند سورج کو دیکھ کر انہیں اپنا رب کہا وہ اس وقت عارضی طور ر سہی شرک میں مبتلا نہ ہوگئے تھے؟ (تفہیم القرآن نومبر ، ص۵۵۸)

افعالِ صحابہ ہمارے لئے مرجع ورہبر نہیں

کسی مقام پر بھی صحابہ کے انفرادی افعال اور اعمال کو ہمارے لئے مستقل اُسوہ اور مرجع قرار نہیں دیا گیا۔ (ترجمان القرآن نومبر ۳ ۶ء؁)

صحابی کا قول و فعل حجّت شرعی نہیں

یہ روایت با العموم اس طرح بیان کی جاتی ہے۔ میرے اصحاب ستاروں کے مانند ہیں۔ ان میں جس کی بھی اقتداء کروگے راستہ پائو گے۔ اگرچہ اصول فقہ کی کتابوں میں اس کا جابجا ذکر کیا جاتا ہے لیکن میرے علم میں کوئی ایک صوفی یا فقہی بھی ایسا نہیں ہے جس نے اس روایت سے صحابی کے قول و فعل کو مطلقاََ حجت ثابت کرنے کی کوشش کی ہو۔ (ترجمان القرآن ، نومبر ۶۳ء؁)

رسول کے سوا کوئی معیار حق نہیں

رسول ِ خدا کے سواء کسی انسان کو معیارِ حق نہ بنا ئے کسی کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھے۔ (دستور جماعت اسلامی، ص ۱۴)

اس امّت میں کوئی مجدّد کامل نہیں ہوا

تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کوئی مجدّد کامل پیدا نہیں ہوا ہے۔ قریب تھا کہ اس منصب پر فائز ہوتے مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ (تجدید و احیاء دین، ص ۴۹)

عام صحابہ عہد نبوی میں بھی مسلمان نہ تھے

حقیقت یہ ہے کہ عامی لوگ نہ کبھی عہد نبوی میں معیاری مسلمان تھے اور نہ اس کے بعدکبھی ان کو معیاری مسلمان ہونے کا فخر حاصل ہوا۔ (تفہیمات ص ۳۰۹،ج ۱)

مترجم قرآن کریم روحِ قرآن سے خالی ہیں

ترجمے کو پڑھتے وقت تو بسا اوقات آدمی یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ کیا واقعی یہی وہ کتاب ہے جس کی نظیر لانے کیلئے دنیا بھر کو چیلنج دیا گیا تھا۔ (تفہیم القرآن، ص ۷، ج۱)

قرآن کیلئے کسی تفسیر کی ضرورت نہیں

قرآن کیلئے کسی تفسیر کی حاجت نہیں ۔ایک اعلیٰ درجہ کا پروفیسر کافی ہے جس نے قرآن کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا ہو اور جو طرزِ جدید پر قرآن پڑھانے اور سمجھانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ (تنقیحات، ص ۳۴۲)

قرآنی تعلیم تفسیر و حدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں ہونی چاہے

قرآن اور سنتِ رسول کی تعلیم سب پر مقدّم ہے مگر تفسیر و حدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں ان کے پڑھانے والے ایسے ہونے چاہئیں جو قرآن و سنت کے مغز کو پا چکے ہوں۔ (تنقیحات، ص ۱۳۳ و ترجمان القرآن ۱۹۳۹ء؁)

سجدۂ ملائکہ سے تسخیر ملائکہ مراد ہے

فسجدوا الا ابلیس کی تفسیر میں سجدہ ملائکہ سے دنیا کی آئندہ زندگی میں نوح انسان کیلئے فرشتوںکا مسخر ہونا مراد لیا ہے ۔ (تفہیم القرآن ص ۶۵)

نبی اسرائیل پر رفع طور محض ایک کیفیت تھی

ورفعنا فوقکم الطور کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ’’ پہاڑ کے دامن میں میثاق لیتے وقت ایسی خوفناک صورتحال پیدا کردی تھی کہ ان کو ایسا معلوم ہوتا کہ گویا پہاڑ ان پر آگریگا۔‘‘ (تفہیم القرآن ،ص۸۳)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھایا جانا قرآن سے ثابت نہیں

ماقتلوہ کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ یہ سوال کہ اُٹھانے کی کیفیت کیا تھی تو اس کے متعلق قرآن میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی اس لئے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جاسکتی ہے اور نہ اثبات۔ (تفہیم القرآن ص ۴۲۰، ج۱)

احادیث سے علم یقینی حاصل نہیں ہوسکتا

احادیث پر ایسی کسی چیزکی بناء نہیں رکھی جاسکتی جسے مدار کفر و ایمان قرار دیا جائے احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچ آئی ہیں۔ جن سے حد سے حد اگر کوئی چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ گمانِ صحت ہے نہ علم الیقین۔ (ترجمان القرآن مارچ تا جون ۱۹۴۵)

جو سند کے اعتبار سے صحیح ہو اسے حدیث ِرسول ماننا ضروری نہیں ہے

آپ کے نزدیک ہراس روایت رسول مان لینا ضروری ہے جسے محدثین سند کے اعتبار ے صحیح قرار دیں۔ لیکن ہم سند کی صحت و حدیث کی صحت کی لازمی دلیل نہیں سمجھتے ہمارے نزدیک سند کسی حدیث کی صحت معلوم کرنے کا واحد ذریعہ نہیں اس کے ساتھ ہم یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ متن پر غور کیا جائے۔ (رسائل و مسائل ص ۲۶۰)

بخاری شریف کی احادیث جوں کی توں ہمارے لئے قبول نہیں ہیں

یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے کہ بخاری میں جتنی احادیث درج ہیں ان کے مضامین کو بھی جوں کا توںبِلا تنقید قبول کرنا چاہیے۔ کسی روایت کی سنداََ صحیح ہونے سے یہ لازمی نہیں آتا کہ اس کا نفسِ مضمون بھی ہر لحاظ سے صحیح اور جوں کا توں قابلِ قبول ہو۔ (ترجمان ُالقرآن اکتوبر ، نومبر۱۹۵۲ء؁ یا ص ۱۱۷)

احادیث اور راویان ِ احادیث پر کلیتہََ اعتماد نہیں کیا جاسکتا

کلیۃََ ان پر اعتماد کرنا کہاں درست ہے ۔بہر حال تھے تو انسان ہی ۔انسانی علم کی جو حدیں فطرۃََ اللہ نے مقرر کرر کھی ہیں ان سے آگے تو وہ نہیں جاسکتے ۔ انسانی کاموں میں جو نُقص فطری طور پررہ جاتا ہے اس سے تو وہ کام محفوظ نہ تھے۔ (تفہیمات ص ۳۱۹، ج۱)

اسماء الرّجال میں غلطی کا امکان ہے

ان میں کونسی چیز ہے جس میں غلطی کا امکان نہ ہو۔ (تفہیمات ص۲۹۴، ج۱)

اسناد جرح و تعدیل کے علم کو کلیۃََ صحیح نہیں سمجھا جاسکتا۔

(تفہیمات ، ص ۲۹۴،ج۱)

حج نہ کرنے والا مسلمان نہیں

پھر بھی حج کا ارادہ تک ان کے دل میں نہیں گزرتا وہ قطعاََ مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں۔ اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور وہ قرآن سے جاہل ہے جو انہیں مسلمان سمجھتا ہے۔ (خطبات ص ۳۱۸)

بے نمازی مسلمان نہیں

نماز نہ پڑھ کر اور زکوٰۃ نہ دے کر بھی یہ مسلمان رہتے ہیں مگر قرآن صاف الفاظ میں تردید کرتا ہے ۔ قرآن کی رو سے کلمہ کا اقرا ر بے معنی ہے۔ اگر آدمی اس کے ثبوت میں نماز اور زکوٰۃ کا پابند نہ ہوں۔ (خطبات ، ص ۲۳۲)

زکوٰۃ کے بغیر نماز روزہ اور ایمان کی شہادت سب بیکار ہے

اس سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کے بغیر روزہ اور ایمان کی شہادت سب بیکار ہیں۔ کسی چیز کا بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ (خطبات ، ص ۱۲۷)

علماء، مشائخِ اسلام کی حقیقت سے نا واقف ہیں

خواہ ان پڑھ عوام ہوں یا دستار بند علماء یا خرقہ پوش مشائخ یا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ حضرات ان سب کے خیالات اور طور طریقے ایک دوسرے سے دَرجہا مختلف ہیں مگر اسلام کی حقیقت اور اس کی روح سے نا واقف ہونے میں سب یکساں ہیں۔ (تفہیمات ، ص۳۶، ج ۱)

علماء دین و مفتیان ِشرع متین گم کردہ راہ ہیں

سیاسی لیڈرز ہوں یا علماء دین و مفتیان شرع متین دونوں قسم کے رہنما اپنے نظریہ اور اپنی پالیسی کے لحاظ سے یکساں گم کردہ راہ ہیں دونوںراہ حق سے ہٹ کر تاریکیوں میں بھٹک رہیں ہیں۔ (سیاسی کشمکش، ص ۷۷، ج۱)

بزرگوں کے طور طریقوںسے اجتناب کرائیں جیسے مرض ذیابیطس کو شکر سے

اب مجدّدین کیلئے کوئی کام کرتا ہواِس کیلئے لازم ہے کہ متصوفین کی زبان اور اصطلاحات سے ،رموز و ا شارات سے ،لباس و اطوار سے، پیری مریدی سے اور ہر اس چیز سے جو اس طریقے کی یاد تازہ کرنے والی ہو ، مسلمان کو اس طرح پرہیز کروائیں جس طرح ذیابیطس کے مریض کو شکر سے پر ہیز کروایا جاسکتا ہے۔ (تجدید و احیائے دین، ص ۱۱۹تا ۱۲۲)

تصوّف بیماری ہے

پہلی چیز جو مجھ کو حضرت مجدّدِ اَلفِ ثانی کے وقت سے شاہ صاحب اور ان کے خلفاء تک کے تجدیدی کاموں میں کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تصوّف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا اور دانستہ ان کو پھر وہی غذا دے دی جس سے مکمل پر ہیز کرانے کی ضرورت تھی (تجدید و احیاء دین ص ۱۱۲)

فاتحہ زیارت و عرس پوجا پاٹ

ایک طرف مشرکانہ پوجا پاٹ کی جگہ فاتحہ ،زیارت ،نیاز، نذر، عرس، صندل ،چڑھاوے ،نشانِ عَلَم تعزیے اور اسی قسم کے دوسرے مذہبی اعمال کی ایک نئی شریعت تصنیف کر لی گئی۔ (تجدید و احیاء دین ص ۱۹، ۲۰)

یومِ ولادت وفات منانا ، بزرگوں کی کرامت توسل و استمداد مشرکانہ اعمال ہیں

دوسری طرف بغیر کسی ثبوتِ علمی کے ان بزرگوں کی ولادت ،وفات ،ظہور ،کشف، کرامت،خوارق، اختیارات و تصرفات اور اللہ کے ہاں ان کے تقرّب کی کیفیت کے متعلق ایک پوری میتھا لوجی تیار ہوگئی۔ جو بُت پرست مشرکین کی میتھالوجی سے ہر طرح لگّا کھا سکتی ہیں(مطا بقت رکھ سکتی ہے)۔ تیسری طرف توسّل اور استمدادِ ِروحانی اور کتابِ فیض وغیرہ کے خوشنما پردوں اور وہ تمام معاملات جو اللہ اور بندوں کے درمیان ہیں ،ان بزرگوں سے متعلق ہوگئے۔ (تجدید و احیاء دین ، ص ۱۹،۲۰)

موجودہ معاشرہ میں حدود کا نفاذ ظلم ہے

جہاں معیارِ اخلاق اتنا پست ہو کہ نا جائز تعلقات کو کچھ معیوب نہ سمجھا جاتا ہو ایسی جگہ زنا کی شرعی حد جاری کرنا بلا شبہ ظلم ہوگا۔ (تفہیمات، ص ۲۸۱)

جہاں اسلامی نظامِ معیشت نہ ہوں، وہاں چور کے ہاتھ کاٹنا دہرا ظلم ہے۔

کنز الدقائق ۔ ہدایہ اور عالمگیری کے مصنفین کے دامن ہیں

قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ دینی پیشوائوں سے جواب طلبی فرمائے گا تم نے قرآن کے سوا فقہ کے احکام کی تعمیل پر لوگوں کوکیوں مجبور کیا تھا۔یہاں تک کہ وہ تنگ آکر سرے سے دین چھوڑنے پہ آمادہ ہوگئے اور تم نے ان کے واسطے احکامِ دین میں تغیر و تبدیل کرکے ان کو آسان کیون نہ بنایا ؟ تو امید نہیں کہ کسی عالمِ دین کو کنز الدقائق اور ہِدایہ اور عالمگیری کے مصنّفین کے دامنوں میں پناہ مل سکے گی۔ (حقوق الزوجین۔ ص ۷۲)

اسلامی اصول اور فقہ کی پرانی کتابیں پڑھانا بالکل بے سود ہیں

جدید کتابیں لکھنا ضروری ہیں کیونکہ قدیم کتابیں اب درس و تدریس کے لئے کار آمد نہیں ہیں۔ اربابِ اجتہاد کیلئے تو بلاشبہ ان میں اچھا مواد مل سکتا ہے مگر ان کا جوں کا توں لے کر موجودہ زمانے کے طلباء کو پڑھانا بے سود ہے۔ (تنقیہات، ص ۳۴۴)

پرانے اسلامی محقّقین اور مفکّرین کا سرمایہ بیکار ہے

اسلام میں ایک نشاۃ جدید کی ضرورت ہے۔ پرانے اسلامی مفکّر ین و محقّقین کا سرمایہ اب کام نہیں دے سکتا۔ (تفہیمات ص ۱۶)

مزید تفصیل فقیر کی کتاب ’’آئینہ مودودیت ‘‘ میں دیکھو۔ ویسے تو فقیر مودودی کے عقائد کے بارے میں بہت کچھ لکھ سکتا ہے۔ مگر سمجھدار کیلئے اتنا ہی کافی ہے اور نا سمجھ کیلئے حوالوں کے ڈھیر بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ الفقیر القادری ابو الصالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفرلہ‘ بہاولپور پاکستان