Skip to content

ایصال ثواب

عقائدِاہلسنت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ َاَمّابَعْدُ فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

سوال 1: مرحومین کو ثواب بھیجنے کو شرعی طور پر کیا کہتے ہیں؟

جواب

اسے ایصالِ ثواب کہا جاتا ہے۔

سوال 2: لفظِ ایصال کا کیا مطلب ہے؟

جواب

ایصال کا مطلب ہوتا ہے ''بھیجنا'' اور ثواب کا مطلب ہے ''اعمال کا بدلہ''…یا…''وہ چیز کہ جس کے باعث انسان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ومغفرت اور رسول اللہ ﷺ کی جانب سے شفاعت کا مستحق ہوجاتا ہے۔'' (کتاب التعریفات للجرجانی)

معلوم ہو اکہ اپنے اعمال کا بدلہ مرحومین کے نامئہ اعمال میں بھیجنے کا نام ''ایصال ِ ثواب'' ہے۔

سوال 3: کیا اس پر کوئی دلیل موجود ہے کہ زندہ لوگوں کی طرف سے مردوں کو دعا وایصال ِ ثواب کی بناء پر کسی قسم کا نفع پہنچتا ہے؟

جواب

جی ہاں، اس پر قرآن کریم اور احادیث ِ مبارکہ میں بے شمار دلائل دئے جاسکتے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔

آیتِ کریمہ سے دلائل

(1) تیرہواں پارہ سورہ ابراہیم (آیت ۴۱) میں ارشاد ہوا:

ربنا اغفر لی والوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب

اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب ہوگا۔ (ترجمہ کنز الایمان)

معلوم ہوا کہ دعا ء سے نہ صرف پہلے گزرے ہوئے فیض یاب ہوتے ہیں بلکہ بعد میں آنے والوں کو بھی اس کی برکات میں حصہ حاصل ہوتا ہے، اگر ایسا نہ ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دعا فرمانا بے کار و لغو جائے گا اور نبی سے بے کار اور لغو کاموں کا صدور نہیں ہوتا۔

(2) چوبیسواں پارہ سورۃالمؤمن (آیت ۷) میں ذکر ہوا:

الذین یحملون العرش ومن حولہ بحمدربھم ویؤمنین بہ ویستغفرون للذین اٰمنو ۔

(3) اٹھائیسواں پارہ، سورۃ الحشر (آیت ۱۰) میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

والذین جائو من بعد ھم یقولون ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقو نا بالایمان

اور وہ جو، ان کے بعد آئے، عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔ (ترجمہء کنزالایمان)

آیت پاک میں ''والذین جائو من بعد ھم'' سے مراد قیامت تک آنے والے مسلمان ہیں۔ اور ان کا مقامِ مدح میں ذکر فرمانا ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس کام سے راضی وخوش ہے اور یہ مسلمہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ بے کار ولغو کاموں سے خوش نہیں ہوتا، لہذا معلوم ہوا کہ ان کا گذر ے ہوئے لوگوں کے لئے دعائے مغفرت فرمانا بے کار نہیں، اور جب یہ بے کار نہیں تو یقیناکارآمد ثابت ہوگی اور جب اس عمل کا کارآمد ہونا قرآن عظیم سے ثابت ہوگیا تو معلوم ہوا کہ زندوں کی دعا سے مردوں کو نفع حاصل ہوتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ سے براہین ودلائل

  1. حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ ''رسول اللہ ﷺ نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا، جس کے ہاتھ، پیر اور آنکھیں سیاہ ہوں، سو قربانی کے لئے ایسا مینڈھا لایا گیا۔ آپ نے فرمایا، ''اے عائشہ! چھڑی لائو۔'' پھر فرمایا، ''اسے پتھر پر تیز کرو۔'' میں نے اس کو تیز کیا۔ پھر آپ نے چھڑی لی، مینڈھے کو پکڑا، اس کو لٹایا اور ذبح فرمانے لگے، پھر فرمایا، ''اللہ کے نام سے، اے اللہ! محمدﷺ، آلِ محمدﷺ اور امتِ محمدﷺ کی طرف سے اسے قبول فرما۔ پھر اس کی قربانی کی۔'' (مسلم، باب استحباب الاضحیۃ وذبحھا مباشرۃ)
  2. حضرت ابراہیم بن صالح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو کہتے سنا کہ ’’ہم حج کے ارادے سے نکلے تو ایک شخص (یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ )‘‘ملے ، فرمانے لگے ’’ تمہاری ایک بستی ہے جس کا نام ’’ابلۃ ‘‘ ہے ؟‘‘ ہم نے کہا ہاں ۔فرمایا ،’’تم میں سے کون مجھے اس بات کی ضمانت دیتا ہے وہ مسجد ِعشار میں دو …یا…چار رکعتیں ادا کرے اور کہے کہ’’اس نماز کا ثواب ابو ہریرہ کے لئے ہے ۔‘‘میں نے اپنے خلیل ابو القاسم ﷺ سے سنا ہے کہ بے شک مسجد ِعشار سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے شہیدوں کو اٹھائے گا کہ سوائے شہدائِ بدر کے اور کوئی ان کا ہم سر نہ ہوگا ۔(ابودائود)‘‘
  3. حضرت ابنِ عباس (رضی اللہ عنھما)فرماتے ہیں کہ ’’ایک شخص نے حاضرِ خدمت ہوکر عرض کی ،’’یارسول اللہ ﷺ !میری والدہ فوت ہوگئی ہیںاور اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کروں تو انہیں فائدہ پہنچے گا ؟ ‘‘فرمایا ’’ہاں !‘‘اس شخص نے عرض کی کہ میرا ایک باغ ہے ،میں آپ لوگوں کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنی ماں کی طرف سے راہِ خدا لمیں دے دیا۔ (ابو دائود)
  4. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی ’’یا رسول اللہ ﷺ !میرے والد فوت ہوگئے ہیں اور انہوں نے مال چھوڑا ہے لیکن کوئی وصیت نہیں کی ۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو ان کے گناہوں کا کفارہ ادا ہوجائے گا ؟‘‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ہاں!‘‘(مسلم)
  5. حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رحمت ِ عالم ﷺ سے دریافت کیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہیں ۔کیا میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کروں ؟‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا ’’ہاں کرو ۔‘‘میں نے عرض کی ’’ کون سا صدقہ افضل ہے ؟ ‘‘ ارشاد فرمایا ’’پانی پلانا۔‘‘ (نسائی)
  6. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے کچھ وصیت کی کہ ’’میرے والد فوت ہوگئے ہیں اور کچھ مال بھی چھوڑا ہے ،لیکن کچھ وصیت کرکے نہیں گئے ۔اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدہق کروں تو یہ صدقہ ان کے لئے کفارہ اور نجات کا سبب بن سکتا ہے یا نہیں ؟‘‘ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا ’’ہاں !بن سکتا ہے ۔‘‘(نسائی)
  7. حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ جب تم میں سے کوئی شخص کچھ نفل خیرات کرے تو چاہئے کہ اسے ماں باپ کی طرف سے کرے کیونکہ اس کا ثواب دونوں کو ملے گا اور اس شخص کے ثواب میں کچھ بھی کم نہ کیا جائے گا ۔(طبرانی اوسط)
  8. مروی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے حاضر ہوکر عرض کی کہ ’’یارسول اللہﷺ!میں اپنی زندگی میں ان کے ساتھ نیک سلوک کیا کرتا تھا ،اب وہ مر گئے ہیں تو ان کے ساتھ نیک سلوک کی کیا راہ ہے ؟‘‘سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ان کے مرنے کے بعد نیک سلوک میں سے یہ ہے کہ تو اپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لئے بھی روزے رکھے ۔‘‘ نوٹ یہاں نماز سے مراد نفل نماز اور روزوں سے مراد نفل روزے مراد ہیں کیونکہ فرض ،نماز ،روزے ایک دوسرے کی طرف سے ادا نہیں کئے جاسکتے ۔
  9. عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاسے روایت ہے کہ ایک عورت نے حاضر ہوکر عرض کی ’’ یا رسول اللہ ﷺ !میری والدہ اچانک وفات پا گئیں ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ضرور صدقہ وخیرات کرتیں ۔اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو کیا انہیں ثواب ملے گا ؟ ‘‘نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ہاں !‘‘ پس اس عورت نے اپنی والدہ کی طرف سے صدقہ وخیرات کی۔‘‘ (ابودائود)
  10. مروی ہے کہ حسنینِ کریمن رضی اللہ عنھما حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کی طرف سے غلام آزاد کیا کرتے تھے ۔(شرح الصدور بشرح الموتی والقبور)
  11. حضرت ِحنش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے ،ایک رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اور ایک اپنی طرف سے ۔آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ،’’مجھے رسول اللہ ﷺ نے اس بات کا حکم فرمایا ہے ، پس میں اسے کبھی نہ چھوڑوں گا ۔‘‘ (ترمذی ۔باب فی الاضحیۃ بکبشین)
  12. مروی ہے کہ عاص بن وائل نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کئے جائیں تو ہشام نے ۵۰ غلام آزاد کردئے ۔اس کے بیٹے عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے۵۰ آزاد کرنے کا ارادہ کیا ۔لیکن انہوں نے سوچا کہ پہلے اس سلسلے میں رسول اللہﷺ سے دریافت کیا جائے۔چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اور بقیہ غلام آزاد کرنے کے بارے میںدریافت کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’اگر تیرا باپ اسلام وایمان کے ساتھ رخصت ہوتا تو پھر تو اس کی طرف سے غلام آزاد کرتا …یا…صدقہ کرتا …یا…حج کرتا تو ان اعمال کا ثواب اس کو پہنچ جاتا ۔‘‘(ابودائود)
  13. حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مردوں کو ان کے عزیز واقارب اور بھائیوں کی طرف سے دعا ، صدقہ اور عبادات کے لئے ترغیب فرماتے رہتے تھے اور فرماتے تھے کہیہ تمام چیزیں مردوں کو نفع دیتی ہیں ۔(کشف الغمہ للامام عبد الوھاب الشعرانی انی المجلد الاول ۱۷۴) مذکورہ احادیثِ کریمہ درجِ ذیل نکات حاصل ہوئے
  • ایصالِ ثواب ،جائز اور پیارے آقاﷺ اور صحابئہ کرام (رضی اللہ عنھم ) کی سنتِ مبارکہ ہے ۔(جیسا کہ تقریباً تمام احادیث سے ثابت ہوا ۔)
  • پیارے آقا ﷺ اور صحابئہ کرام رضی اللہ عنھم نے ایصال ِ ثواب کے لئے ترغیب ووصیت فرمائی ۔(جیسا کہ حدیث نمبر 2، 11اور31سے ثابت ہوا ۔)
  • ایصالِ ثواب جس طرح دنیا سے پردہ کئے ہوئے مسلمانوں کے لئے کیا جاسکتا ہے اسی طرح موجودہ اور آئندہ آنے والوں کے لئے بھی جائز و ممکن ہے ۔(جیسا کہ حدیث نمبر 1سے ثابت ہوا ۔)
  • ایصالِ ثواب صرف مسلمانوں کو کرسکتے ہیں ،کفار کے لئے جائز نہیں اور بالفرض کوئی کرے بھی تو انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔( جیسا کہ حدیث نمبر 12سے معلوم ہوا۔)
  • ایصالِ ثواب کی برکت سے مرحومین کے گناہوں کو مٹادیا جاتا ہے ۔(حدیث نمبر 4سے ثابت ہوا ۔)
  • ایصالِ ثواب مردوں کے لئے نجات کا سبب ہوسکتا ہے ۔(حدیث نمبر 6 ثابت ہوا۔)

سوال 4: ایصالِ ثواب کی برکت سے ثواب ونجات وکفارئہ ذنوب کے علاوہ مردوں کو اور کیا کیا فائدے حاصل ہوتے ہیں؟

جواب
ایصالِ ثواب کی برکت سے ثواب ونجات وکفارئہ ذنوب کے علاوہ مردوں کو اور کیا کیا فائدے حاصل ہوتے ہیں؟ جواب
اس کی برکت سے بے شمار نعمتیں بھی حاصل ہوجاتی ہیں ،جس کی معرفت کے لئے درج ذیل روایات کا مطالعہ فرمائیے ۔

مردے کی خوشی

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ’’جب کوئیمیت کو ایصالِثواب کرتا ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اسے ایک نورانی طباق میں رکھ کر قبر کے کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں ،پھر ارشاد فرماتے ہیں کہ اے گہری قبر کے ساتھی! یہ تحفہ تیرے گھر والوں نے بھیجا ہے ، اسے قبول کرلے ۔‘‘پھر جب وہ ثواب اس کی قبر میں داخل ہوتا ہے تو وہ مردہ اس سے بے حد خوشی محسوس کرتا ہے اور اس کے وہ پڑوسی غمگین ہوجاتے ہیں کہ جن کی طرف کوئی شے ہدیہ نہیں کی گئی ہوتی ۔‘‘(طبرانی)

فسادی کی مغفرت

حضرت عبد اللہ بن صالح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو نواس کو (اس کے مرنے کے بعد) خواب میں دیکھا کہ وہ بڑی نعمتوں میں ہے ۔میں نے اس سے کہا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیامعاملہ کیا ؟‘‘ اس نے جواب دیا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے میری بخشش فرمانے کے ساتھ ساتھ یہ نعمتیں بھی عطا فرمائی ہیں ۔‘‘میں نے دریافت کیا کہ ’’تیری مغفرت کا سبب کیا چیز بنی حالانکہ تو تو فسادی تھا ؟‘‘اس نے کہا کہ ’’دراصل ایک نیک شخص رات کو قبرستان میں آیا اور اپنی چادر بچھا کر اس پر دورکعت نماز پڑھی اور ان دونوں رکعتوں میں دوہزار مرتبہ سورئہ اخلاص یعنی ’’قل ھو اللہ احد‘‘پڑھ کر اس کا ثواب تمام قبرستان والوں کو بخش دیا ۔چنانچہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے تمام قبرستان والوں کی مغفرت فرمادی اور چونکہ میں بھی ان میں شامل تھا ۔لہذا مجھے بخش دیا ۔(شرح الصدور)

ایصالِ ثواب کی برکت

ایک بزرگ ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے خواب میں دیکھا کہ قبرستان کی تمام قبریں پھٹ گئی ہیں اور مردے ان سے بالکل باہر نکل کر جلدی جلدی زمین پر سے کوئی چیز سمیٹ رہے ہیں، لیکن مُردوں میں سے ایک شخص فارغ بیٹھا ہوا ہے ،وہ کچھ نہیں چنتا ۔اس شخص نے اسے جاکر سلام کی اور پوچھا کہ’’یہ لوگ کیا چن رہے ہیں ؟‘‘اس نے جواب دیا کہ ’’زندہ لوگ جو کچھ صدقہ …یا…دعا …یا…درود وغیرہ اس قبرستان والوں کو بھیجتے ہیں ،اس کی برکات سمیٹ رہے ہیں ۔’’اس نے کہا تم کیوں نہیں چنتے ؟‘‘

جواب دیا ’’مجھے اس وجہ سے فراغت ہے کہ میرا بیٹا حافظِ قرآن ہے جو فلاں بازارمیں حلوہ بیچتا ہے روزانہ ایک قرآن پاک پڑھ کر مجھے بخشتا ہے ۔‘‘

یہ شخص صبح اسی بازار میں گیا، دیکھا کہ ایک نوجوان حلوہ بیچ رہا ہے اور اس کے ہونٹ ہل رہے ہیں اس نے نوجوان سے پوچھا’’تم کیا پرھ رہے ہو‘‘اس نے جواب دیا کہ میں روزانہ ایک قرآن پڑھ کر اپنے والدین کو بخشتا ہوں ،اسی کی تلاوت کررہا ہوں۔‘‘ کچھ عرصے بعد اس نے خواب میں دوبارہ اسی قبرستان کے مردوں کو کچھ چنتے ہوئے دیکھا ،اس مرتبہ وہ شخص بھی چننے میں مصروف تھا جس کا بیٹا اسے قرآن پڑھ کر بخشا کرتا تھا ،اسے چنتے دیکھ کر سے بہت تعجب ہوا ،اتنے میں اس کی آنکھ کھل گئی ۔صبح اٹھ کر اسی بازار میں گیا اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ حلوہ بیچنے والے کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔(روض الریاحین)

غمزدہ نوجوان

حضرت صالح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’میں ایک مرتبہ سبِ جمعہ کوجامع مسجدکی طرف جارہا تھا کہ صبح کی نماز وہاں پڑھوں ۔چونکہ صبح ہونے میں ابھی دیر تھی چنانچہ میںراستے میں ایک قبرستان میں داخل ہوکر بیٹھ گیا ۔بیٹھتے ہی میری آنکھ لگ گئی ،میں نے دیکھا کہ سب قبریں پھٹ گئی ہیں اور ان سے مردے باہر نکل کر آپس میں ہنسی خوشی باتیں کررہے ہیں۔اتنے میں ایک نوجوان بھی قبر سے باہر نکلا ،اس کے کپڑے میلے تھے ،وہ غمگین حالت میں ایک جانب بیٹھ گیا ۔ٹھوڑی دیر میں آسمان سے بہت سے فرشتے اترے ، جن کے ہاتھوں میں تھال تھے، جن پر نورانی رومال ڈھکے ہوئے تھے ،وہ ہر مردے کو ایک تھال دیتے جاتے تھے اور جو مردہ تھال لیتا وہ اپنی قبر میں واپس چلاجاتا ۔

جب سب تھالے چکے تو وہ نوجوان خالی ہاتھ قبر میں واپس جانے لگا ۔میں نے اس نوجوان سے دریافت کیا کہ’’تمہارے غمگین ہونے کی کیا وجہ ہے اور یہ تھال کیسے تھے ؟‘‘اس نے جواب دیا کہ ’’یہ تھال ان ہدیوں کے تھے جو زندہ لوگوں نے اپنے اپنے مُردوں کو ایصالِ ثواب کیا ۔میرا ایک ماں کے علاوہ اور کوئی نہیں جو ہدیہ بھیجے اور خود ماں بھی دنیا میں پھنس کر رہ گئی ہے۔اس نے دوسری شادی کرکے اپنی مصروفیت بڑھا لی ہے،اب وہ مجھے کبھی یاد نہیں کرتی ۔‘‘میں نے اس کی ماں کا پتہ کرکے معلوم کیا اور دوسرے دن جاکر اسے پردے میں بلاکر تمام معاملہ بیان کیا ۔اس عورت نے کہا کہ ’’ بے شک وہ میرا بیٹا تھا میرا لختِ جگر تھا ۔‘‘پھر اس نے مجھے دس ہزار درہم دئے اور کہا کہ’’یہ میرے بیٹے کی طرف سے صدقہ کردینا اور میں آئندہ اسے دعا وایصالِ ثواب کے ذریعے یاد رکھوں گی ۔‘‘

میں نے حسبِ ہدایت وہ رقم نوجوان کی طرف سے صدقہ کردی ۔ کچھ عرصہ بعد میں نے خواب میں اس مجمع کو اسی طرح دیکھا ۔اب کی مرتبہ وہ نوجوان بھی اچھی سی پوشاک پہنے ہوئے بہت خوش تھا، وہ تیزی سے میرے جانب آیا اور کہنے لگا کہ’’اے صالح !اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ،آپ کا ہدیہ مجھ تک پہنچ گیا ۔‘‘ (روض الریاحین)

ماں جنت میں

حضرت محی الدین ابنِ عربی رضی اللہ عنہ ایک دعوت میں تشریف لے گئے ۔ وہاں ایک نوجوان بھی موجود تھا کہ کشف کے معاملے میں معروف تھا۔ آپ نے دیکھا کہ کھانے کھاتے ہوئے وہ رفعتاً رونے لگا ۔وجہ معلوم کرنے پر بتایا کہ بذریعہ کشف مجھے معلوم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے میری ماں کو جہنم میں لے جارہے ہیں ۔‘‘آپ فرماتے ہیں کہ ’’میرے پاس ستر ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھا ہوا محفوظ تھا۔ میں نے دل ہی دل میں اس کی ماں کو ایصالِ ثواب کردیا۔‘‘وہ لڑکا فوراً ہنس پڑا ،میں نے سبب پوچھا تو کہنے لگا کہ ’’میں نے ابھی دیکھا ہے کہ فرشتے میری ماں کو جنت کی طرف لے جارہے ہیں ۔(الملفوظ)

سوال 5: فرض وواجب ونفل ومستحب میں سے کس کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے؟ نیز ایک شخص مثلاً زید نے اپنی نیکی، دس مردوں کو ایصال کی تو کیا سب کو وہ ایک ایک ملے گی…یا…وہ ایک نیکی ہی دس ٹکڑے کرکے تقسیم کی جائے گی؟

جواب

ایصال ِثواب کے لئے نفل نماز، روزہ صدقہ وخیرات ہی ضروری نہیں بلکہ ہر فرض وواجب وسنت ومستحب کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے۔ نیز ایصال، شدہ نیکی تقسیم نہیں کی جائے گی، بلکہ ہر ایک کو پوری پوری ایک ملے گی۔ اس پر بطور ِسند فقہہِ حنفی کی مستند ومعتبر کتاب ''رد المختار'' میں درج شدہ یہ مسئلہ بغور پڑھیے۔

مسئلہ: نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور ہر قسم کی عبادت اور ہر نیک عمل فرض ونفل کا ثواب مردوں کو پہنچایا جاسکتا ہے، ان سب کو پہنچے گا اور بھیجنے والے کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ سب مُردوں کو پورا پورا حصہ ملے گا یہ نہیں کہ ثواب تقسیم ہوکر ٹکڑا ٹکرا ملے۔ (رد المختار)

سوال 6: کیا جس طرح پہلے گزرے ہوئوں کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے اسی طرح آنے والوں اور موجود زندہ لوگوں کو بھی کیا جاسکتا ہے؟

جواب
اس کا جواب ضمناً پیچھے گزرچکا ہے کہ تمام مسلمانوں کو ثواب پہنچانا جائز ہے، چاہے موجود زندہ ہوں یا گزر چکے ہوں یا آئیندہ آنے والے ہوں۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں ’’(ایصال ِثواب کرنے والا ایصال میں) حضور ﷺکے طفیل میں تمام انبیا ء علیہم السلام اولیائے عظام رحمہم اللہ اور مؤمنین ومؤمنات جو گزر گئے اور جو موجود ہیں او جو قیامت تک آنے والے ہیں ،سب کو شامل کرسکتا ہے اور یہی افضل ہے ۔صحیحین (یعنی بخاری ومسلم ) میں ہے کہ ’’نبی اکرمﷺ نے دومینڈھوں کی قربانی کی ،جن کے رنگ سفیدی سیاہی ملے ہوئے تھے ۔ایک اپنی طرف سے ،دوسری امت کی طرف سے ۔(فتاویٰ رضویہ جدید) مدنی گذارش: جب ’’رد المختار ‘‘میں مذکورہ مسئلے سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی وسعتِ رحمت سے امید ہے کہ ایصال کیا ہوا ثواب ،مطلوبہ مُردوں تک بغیرٹکڑے کئے پہنچایا جائے گا اور ہر قسم کے مردوں کو ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے تو پھر ثواب بھیجنے والے کو چاہئے کہ اپنی سوچ میں وسعت پیدا کرے اور افضل صورت کو اختیار کرتے ہوئے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ دیگر مؤمنین ومؤمنات کو بھی ایصال ِثواب میں شریک کرنے کو اپنے لئے بہت بڑی سعادت تصور کرے چاہے وہ وفات پاچکے ہوں…یا…موجود ہوں …یا…قیامت تک آنے ہوں ۔

سوال 7: ایصالِ ثواب کا درست ومناسب طریقہ کیا ہے ؟

جواب

اس کا مناسب ترین طریقہ جاننے کے لئے اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے کیا گیا ایک سوال اور آپ کی طرف سے جواب حاضرِ خدمت ہے۔ سوال کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقابر یعنی قبرستان میں ایک شخص سورئہ فاتحہ واخلاص و’’قل یا ایھا الکفرون ‘‘اور ’’قل اعوذ برب الناس ‘‘ وغیرہ پڑھ کر ہاتھ اٹھا تا کر دعا کرتا ہے کہ’’ یا اللہ عزوجل ان آیات کا ثواب روحِ مقدس حضرتﷺ اور صحابہ وتابعین واولیائے امت (رضی اللہ عنھم اجمعین) اور آدم علیہ السلام سے اس وقت تک جو مسلمان مرے ہیں اور جو یہاں مدفون ہیں ،سب کی ارواح کو پہنچے یا پہنچا دے ، اس کی اصلاح فرمائی جائے ۔‘‘ جواب اس میں اتنا اضافہ اور کرنا انسب(یعنی زیادہ مناسب) ہے کہ ’’جتنے مسلمان مرد وعورت اب موجود ہیں اور جتنے قیامت تک آنے والے ہیں، ان سب کی ارواح کو پہنچا دے ۔‘‘ تو اس شخص کو تمام مؤمنین اولین وآخرین سب کی گنتی کے برابر ثواب ملے گا ۔(فتاویٰ رضویہ ۔جلد نہم جدید )

سوال 8: کیا ایصالِ ثواب سے مرحوم کو ثواب ملتا ہے؟

جواب

ہاں !یقینا،یہ اللہ تعالیٰ کا کرم وفضل ہے کہ وہ ایصال ِثواب کی برکت سے نہ صرف مرحومین کو نفع پہنچاتا ہے ،بلکہ اس کارِ خیر میں مشغول شخص کے لئے بھی اپنی رحمت کے مزید دروازے کھول دیتا ہے ،جس کا اندازہ درج ذیل روایات وحکایات سے لگائیے ۔

٭حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو قبرستان سے گزرے پھرسورئہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب مُردوں کو ہدیہ کرے تو اسے مُردوں کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا ۔ (دارِ قطنی)

جنت میں محل

حضرت مالک بن دینارقدس سرہ العزیز ارشادفرماتے ہیں کہ’’ ایک مرتبہ میں جمعۃ المبارک کی رات قبرستان گیا تو وہاں ایک چمک دار نور دیکھا ،پس میں نے کہا کہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ مجھے لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبرستان والوں کی مغفرت فرمادی ہے ۔‘‘

اچانک میں نے دور سے ایک غیبی آواز سنی کہ’’اے مالک ! یہ مؤمنین کی طرف سے اپنے قبرستان والے بھائیوں کے لئے تحفہ ہے ۔‘‘ میں نے کہا اس ذات ِپاک کی قسم جس نے تجھے گویا کیا (یعنی بولنے پر قدرت عطا فرمائی ) تو مجھے خبر دے کہ وہ کیا ہے ؟‘‘ اس نے جواب دیا کہ اسی جمعہ کی رات کو مؤمنین میں سے ایک شخص نے اچھی طرح وضو کرکے دو رکعت نماز ادا کی ، ہر رکعت کے بعد ’’قل یا ایھا الکفرون ‘‘ اورسورئہ ِ اخلاص پڑھی ۔پھر یوں عرض گذار ہوا کہ ’’اے اللہ عزوجل ! میں ان دورکعتوں کا ثواب اس قبرستان کے تمام مسلمان مردوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔’’ پس (اس ایصال ِثواب کی برکت سے) اللہ تعالیٰ نے ہماری قبروں میں نور، روشنی،خوشی ،اور مشرق سے مغرب تک کشادگی عطا فرمائی ۔‘‘

امام مالک قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں کہ اس کے بعد بھی ہر جمعہ کی رات کو وہ دورکعتیں پڑھنا شروع ہوگیا ۔حتی کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺکی زیارت کی۔آپ نے ارشاد فرمایا،’’اے مالک !جتنے نور تونے میری امت کو پیش کئے ہیں ان کی تعداد کے برابر اللہ تعالیٰ نے تیری بخشش فرمادی ہے اور تجھے اس کا ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے جنت میں ایک محل بھی تعمیر فرمایا ہے ۔‘‘(شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور)

سوال 9: کیا ایصالِ ثواب کے لئے کوئی خاص وقت مقرر ہے یا کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے ؟

جواب
شرعی لحاظ سے اس کے لئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ۔ہاں اس سلسلے میں دو باتیں قابلِ توجہ ہیں۔

  1. میت کے دنیا سے چلے جانے کے بعد تین دن تک صدقہ کرنا مستحب ہے۔ امام طائوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مردے اپنی قبور میں سات روز تک آزمائش میں رہتے ہیں ،اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سات روز تک ان مردوں کی طرف سے کھانا کھلایا کرتے تھے ۔(الحاوی للفتاویٰ ۔جلد ۲۔۱۷۸) نوٹ امام طائوس ایک جلیل القدر تابعی گزرے ہیں۔ شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’میت کے دنیا سے جانے کے بعد ساتھ دن تک اس کی طرف سے صدقہ کرنا مستحب ہے ۔‘‘(اشعتہ العمات )
  2. سات دنوں کے بعد ہر شبِ جمعہ ،عید کے دن، عاشوراء (یعنی دس محرم) کے دن اور شبِ برأت میں ایصالِ ثواب بہت بہتر ہے۔ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’شیخ الاسلام ‘‘کشف الغطا ء عما لزم للموتی علی الاحیا ء(یعنی اس چیز سے پردے کا ہٹنا جو زندوں پر مُردوںکے لئے لازم ہے ) کی فصل ہشتم (یعنی آٹھویں فصل ) میں فرماتے ہیں کہ ’’غرائب اور خزانہ میں منقول ہے کہ مؤمنین کی روح غمناک بلند آواز سے ندا کرتی ہے کہ ’’اے میرے گھر والوں !اے میری اولاد ! اے میرے رشتہ داروں !صدقہ کرکے ہم پر مہربانی کرو ۔‘‘(فتاویٰ رضویہ جلد نہم جدید )

سوال 10: پیچھے کہا گیا ہے کہ ایصال ِ ثواب کے لئے من جانبِ شریعت کوئی خاص وقت مقرر نہیں ، تو پھر آج کل تیجہ وچالیسواں وگیارہویں وبارہویں وکونڈے کے نام سے ایصال ِ ثواب کے لئے دن کیوں مخصوص کر لئے گئے ہیں ؟

جواب
جواب سے پہلے یاد رکھئے کہ تعین (یعنی وقت وغیرہ مقرر کرنا) دو طرح ہوتی ہے ۔

  1. عرفی
  2. شرعی
  3. تعینِ شرعی کا مطلب ہے کہ کسی عبادت وغیرہ کے لئے شریعت کی جانب سے وقت مقرر کیا جانا ۔
  4. تعینِ عرفی سے مراد یہ ہے کہ شریعت کی جانب سے تو وقت مقرر نہ ہو لیکن لوگ اپنی اور دیگر مسلمانوں کی سہولت کی خاطر نیک اعمال وافعال کے لئے کوئی وقت مخصوص کرلیں۔ جیسے نماز وں کی جماعت کے لئے مساجد میں وقت مخصوص ہوتا ہے تاکہ لوگ باآسانی خیال رکھ کر شریک ِ جماعت ہوسکیں ۔حالانکہ شریعت کی جانب سے روزانہ ٹھیک اسی وقت نمازِ باجماعت ادا کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں ۔ اب سوال کا جواب یہ کہ’’مذکورہ ایصال ِ ثواب کی صورتوں کے لئے وقت کی تعیین ِ شرعی نہیں بلکہ عرفی ہے ۔‘‘

سوال 11: کیا تعینِ عرفی پر کوئی شرعی دلیل موجود ہے ؟

جواب
جی ہاں! پیارے آقا ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا عمل ِمبارک اس پر واضح دلیل ہیں۔مثلاً

  1. مروی ہے کہ سرکار ﷺ جمعرات کے روز سفر پر روانہ ہونا پسند فرماتے تھے۔(بخاری)
  2. منقول ہے کہ رحمت ِ عالمﷺ ہر ہفتے کے روز مسجد ِ قبا میں پید وسواری کی حالت میں تشریف لے جاتے تھے اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کیاکرتے تھے۔(بخاری)
  3. روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کے روز لوگوں کو وعظ ونصیحت فرمایا کرتے تھے۔(بخاری)

سوال 12: لیکن ان دنوں ایک مقام پرجمع ہوکر ہی عبادات کیوں اختیار کی جاتیں ہیں ؟ کیا اکیلے اکیلے ،اپنے اپنے مقام پر ایصال ِ ثواب ممکن نہیں؟

جواب
اکیلے اکیلے بھی ممنوع نہیں لیکن اجتماعیت اختیار کرنے کی کئی وجوہات ہیں ۔

  1. اجتماعی طور پر عبادت عموماً نفس پر گراں نہیں گزرتی ۔وہی لوگ جو عام حالات میں عبادات کی طرف مائل نہیں ہوتے ،صرف اجتماعیت کی برکت سے عبادت میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ ایسی محافل میں شریک نہ ہوتے تو شاید یہ وقت بھی کسی گناہ میں صرف کررہے ہوتے ۔
  2. اجتماعی طور پر ذکر وعبادت ،اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہونے کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے جیسا کہ اجتماعی ذکر کی فضیلت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ایسی جماعت نہیں جو اللہ کے ذکر کے لئے بیٹھے مگر انہیں فرشتے گھیر لیتے ہیں ،رحمت ڈھانپ لیتی ہے ،ان پر سکینہ اترتا ہے اور اپنے پاس والے فرشتوں میں اللہ تعالیٰ ان کا ذکر کرتا ہے ۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح باب ذکر اللہ )

سوال 13: اکثر دیکھا گیا ہے کہ کھانے وغیرہ کا ایصال ِ ثواب کرتے وقت اسے سامنے رکھا جاتا ہے،کیا اس طرح کرنا ضروری ہے ؟

جواب
جی نہیں ،ضروری تو نہیں ،لیکن چونکہ کئی سنتوں پر عمل کاموقعہ مل جاتا ہے ،لہذا اس طریقے کو اختیار کرنا باعثِ برکت وسعادت ہے ۔مثلاً

  1. ایصالِ ثواب کرنا

  2. کھانا سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔نیز اس سے کھانے میں برکت واضافہ بھی ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت سید نا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت اسلیم (رضی اللہ عنھا )سے فرمایا کہ میںنے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی ہے جو ضعیف معلوم ہوتی ہے ۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟‘‘تو انہوں نے کہا ’’ہاں ۔‘‘ پھر انہوں نے جَو چند روٹیاں نکالیں اور اوڑھنی کے کونہ میں لپیٹ کرکے مجھے پکرائیںاور باقی اوڑھنی مجھے اوڑھا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا ۔جب میں آپ کی خدمت میںحاضر ہوا تو وہاں کافی لوگ موجود تھے ۔میں دوسرے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔

    سرکار ِدو عالم ﷺ نے مجھے فرمایا’’کیا تجھے ابو طلحہ نے بھیجا ہے ؟‘‘میں نے عرض کیا ،’’جی ہاں۔‘‘ تو رسول اکرم ﷺ نے اپنے پاس حاضرین لوگوں سے فرمایا، ’’اٹھو۔‘‘حضرت انس فرماتے ہیں،وہ سب چل پڑے تو میں ان کے آگے آگے چل کر ابو طلحہ کے پاس آکر انہیں اس چیز کی خبر دی تو ابو طلحہ نے امِ سلیم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ’’سرکار ِمدینہ ﷺ کے ہمراہ لوگ بھی آرہے ہیں اور ہمارے پاس کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو ان سب کوکھلاسکیں ؟‘‘

    حضرت اُمِ سلیم نے کہا’’ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ دونوں گھر میں داخل ہوئے ۔

    رسول اکرمﷺ نے فرمایا ،’’اے ام سلیم !تیرے پاس جو کچھ ہے لے آئو ۔‘‘ تو وہ وہی روٹیاں کے کر حاضر ہوئیں۔ رحمتِ دوعالمﷺ نے ان روٹیوں کو توڑنے کا حکم دیا ۔پھر ام سلیم (گھی ) کی کپی اوندھا کرکر روغنی کردیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان ٹکڑوں پر جو چاہا، پڑھا ۔پھر ارشادفرمایا ،’’دس شخصوں کو بلائو ۔‘‘وہ آئے اور سیر ہوکر کھا کر چلے گئے ۔پھر آپ نے ارشاد فرمایا ،’’اور لوگوں کو بلائو۔‘‘وہ بھی آئے سیر ہوکر کھا کر چلے گئے ۔پھر فرمایا ،’’دس اور لوگوں کو بلائو ۔‘‘وہ بھی سیر ہوکر کھا کر چلے گئے ۔غرض سب لوگ سیر ہوگئے اور ستر (70)یا اسی(80)لوگ تھے ۔(بخاری ومسلم)

سوال 14: اگر کوئی ان دلائل کے جاننے کے باوجود ایصالِ ثواب کے لئے مخصوص کھانے کو حرام اور ایصالِ ثواب کرنے والے کو بدعتی قراردیتا ہے تو شرعی لحاظ سے اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

جواب
یقینا جو شخص اس کھانے کو جس پر اللہ تعالیٰ کا پاک کلام پڑھاگیا حرام اور سنت پر عمل پیرا ہونے والے کو گناہگار وبدعتی قراردے وہ خود بدعتی وگناہگار ہے اور اسے روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑیگا ۔ایسے حضرات کو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ کسی کام سے منع نہ فرمائے تو یہ کون ہوتے ہیں منع کرنے والے ؟ کاش ایسے حضرات ذیل آیات پر غور کرنے کی زحمت گوارا کرلیتے ۔

اللہ تعالیٰ قرآن ِپاک میں ارشاد فرماتا ہے:

یا ایھا الذین امنو لا تحرمو طیبت ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا ان للہ لایحب المعتدین

اے ایمان والو !حرام نہ ٹھہرا ؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو ، بے شک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں۔ (ترجمہ کنزالایمان ۔پ ۷ ۔مائدہ ۔آیت ۸۷) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما وحلال ا قل آٰللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون

تم فرمائو ،بھلا تو وہ جو اللہ نے تمہارے لئے رزق اتارا اس میں تم نے اپنی طرف سے حلال وحرام ٹھہرا لیا ،تم فرمائو کیا اللہ نے تمہیں اسکی اجازت دی…یا… اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو ۔‘‘ (ترجمہ کنز الایمان ۔پ۱۱۔یونس ۔آیت ۵۹)

اللہ تعالیٰ ہمیں ایصالِ ثواب کے ذریعے تمام مسلمانوں اور خود اپنے آپ کو بھی فیض یاب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بجاہ النبی الامین ﷺ