Skip to content

تحریفات

ردِّ بدمذہب

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

تفسیر روح البیان میں تحریف

حضرت مولانا ابوالنور محمد بشیر کوٹلوی مدظلہٗ(سیالکوٹ)لکھتے ہیں!

تفسیر روح البیان عر بی زبان میں ایک مشہور مستند تفسیر ہے،اس کے مؤ لف حضرت شیخ علامہ اسماعیل حقی بن مصطفیٰ الخلوتی الحنفی البرسوی رحمتہ اﷲ علیہ (متوفی ۱۱۳۷ھ) ہیں، اہل علم حضرات کی لائبریریوں کی زینت ہے، بڑے بڑے جید علماء اس سے مستفید ہوتے ہیں، اس ایمان افروز تفسیر میں جابجا حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلمکے فضائل و کمالات، مسلک حق کی تائید اور نجدیت کی تردید میں ٹھوس مواد ملتا ہے۔

نجدیوں کے اشارے پر مکہ مکرمہ کے مدرسہ کے ایک استاد شیخ محمد علی صابونی نجدی نے ’’تفسیر روح البیان‘‘ کی ہر وہ عبارت جس سے ان کے مسلک پر زد پڑتی تھی، نکال ڈالی ہے اور اس قسم کی ساری عبارتیں نکال کر ایک مصنوعی’’روح البیان‘‘ شائع کردی ہے۔

عزیزم محمد افضل نے اس سال مجھے وہ مصنوعی روح البیان مکہ مکرمہ سے بھیجی ہے، اس کا مطالعہ کرنے سے ان نجدیوں کی اس یہودیانہ حرکت کا علم ہوا، جس کے تحت جبرائیل امین کی یہ حکایت بھی روح البیان سے نکال دی گئی ہے کہ!

’’ ایک مرتبہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا اے جبرائیل تمہاری عمر کتنی ہے، جبرائیل نے عرض کیا حضور اتنا جانتا ہوںکہ چوتھے حجاب میں ایک نورانی تارا ستر ہزار برس کے بعد چمکتا تھا اور میں نے اسے بہتر ہزار مرتبہ دیکھا ہے، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا وعزۃ ربی انا ذالک الکواکب، یعنی میرے رب کی عزت کی قسم میں ہی وہ نورانی تارا ہوں‘‘۔(تفسیر روح البیان، ج۱، ص۶۷۴)

اور سنئیے اسی روح البیان میں حضرت امام واسطی کا یہ ارشاد بھی نکال دیا ہے کہ اس آیت یداﷲ فوق ایدیھم میں اﷲ نے یہ خبر دی ہے کہ میرے نبی کی بشریت عارضی واضافی ہے، حقیقی نہیں ۔ (روح البیان، ج۴، ص۵)

مسند امام احمد بن حنبل میں تحریف

مسند امام احمد میں یہ حدیث موجود ہے کہ ایک شخص حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا ! میں اس شرط پر مسلمان ہوتا ہوں کہ نمازیں صرف دو پڑھوں گا، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے منظور فرمایا فاسلم علی انہ لا یصلی الا صلاتین فقبل ذالک منہٗ(مسند امام احمد، جلد۵، ص۲۵)

اس حدیث سے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا اختیار ثابت ہوتا ہے کہ پانچ نمازیں فرض ہونے کے باوجود حضور نے اپنے اختیار سے اس شخص کی صرف دو نمازیں پڑھنا قبول فرمالیں۔

ایک مرتبہ محدث اعظم پاکستان حضرت شیخ الحدیث مولانا سردار احمد صاحب رحمتہ اﷲ علیہ نے فیصل آباد سے مجھے ایک خط بھیجا، جس میں آپ نے فرمایا کہ میں نے حیدرآباد دکن کی مطبوعہ ’’ مسند امام احمد‘‘ خریدی ہے ، ساری کتاب چھان ماری ہے، مگر دو نمازوں والی حدیث اس میں مجھے نہیں ملی، حضرت شیخ الحدیث نے مجھے فرمایا کہ میں اپنے کتب خانہ کی مسند امام احمد کو دیکھوں، حضرت والد ماجد فقیہ اعظم مولانا محمد شریف محدث کوٹلوی رحمتہ اﷲ علیہ نے اس حدیث کی بابت ضرور نشان دہی کی ہوگی ، اگر یہ مل جائے تو میں انہیں لکھوں کہ کون سی جلد اور کون سے صفحہ پر یہ حدیث ہے، چنانچہ میں نے مسند امام احمد کو دیکھا تو پانچویں جلد کے بیرونی صفحہ پر حضرت والد ماجد علیہ الرحمتہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی نشان دہی مل گئی، لکھا تھا کہ یہ حدیث اس جلد کے صفحہ ۲۵ پر ہے، میں نے حضرت محدث اعظم کو پورا حوالہ لکھ دیا ، حضرت نے جواب دیا کہ ظالموں نے اس حدیث کو اصل کتاب سے نکال دیا ہے ، نجدیوں نے صرف یہ حدیث نکالنے کے لئے اتنی ضخیم کتاب چھاپنے پر اتنا خرچ کرڈالا ، اس کو کہتے ہیں رسول دشمنی۔

ترکیوں نے روضئہ اقدس کی سنہری جالیوں کے اوپر حجرہ مقدسہ کی پیشانی پر یہ آیت لکھی تھی،

ولوانھم اذ ظلمواانفسھم جائوک فاستغفرواﷲ واستغفرلھم الرسول لوجدواﷲ توابا رحیم

(اور اگر انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اے محبوب تیرے حضور حاضر ہوں پھر اﷲ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اﷲ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے)اس آیت شریفہ میں چونکہ گناہ گاروں کو حضور کی بارگاہ عالیہ میں حاضر ہونے کا حکم الٰہی ہے ، اور اﷲ تعالیٰ سے مغفرت پانے کے لئے حضور کے وسیلہ وشفاعت کی ضرورت کا بیان ہے اس لئے نجدیوں نے حجرہ مقدسہ کی پیشانی سے اس آیت کو مٹا کر اس کی جگہ آیت ما کان محمد ابا احد من رجا کم ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین لکھ دی ، میں جب ۱۹۵۴ء میں حج کے لئے گیا تو ترکیوں کی لکھی ہوئی یہ آیت موجود تھی، پھر ۱۹۶۰ء میں حج کے لئے گیا تو یہ آیت موجود نہ تھی ، اس کی جگہ مندرجہ بالا آیت لکھ دی گئی تھی، اہل سنت کا تو سارے قرآن پر ایمان ہے ، مگر نجدیوں نے شفاعت والی آیت مٹا کر اپنی رسول دشمنی کا ثبوت دیا، کچھ آیات پر ایمان لانا اور کچھ پر ایمان نہ لانا مومن ہونے کی نشانی نہیں ، قرآن مجید کی حفاظت اﷲ تعالیٰ کے ذمہ ہے ، ورنہ ان کا بس چلے تو قرآن میں بھی تحریف وخیانت سے باز نہ آئیں۔

مدارج النبوت میں تحریف

علامہ مفتی محمد عباس رضوی (گوجرانوالہ) لکھتے ہیں کہ!

عالم اسلام کی نامور علمی شخصیت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب’’مدارج النبوت‘‘(فارسی) کاترجمہ کسی دیوبندی مولوی سعید الرحمن علوی نے مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور سے شائع کیا ہے، جس میں اکابر دیوبند کی عادت کے مطابق علمی ڈکیتی ، بددیانتی اور رسول دشمنی کی انتہا کردی ہے مثلاً!

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے وھو بکل شئی علیم کے تحت فرمایا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ’’ شیونات ذات الہٰی واحکام صفات حق کے جاننے والے ہیں، اور آپ نے جمیع علوم ظاہر وباطن اول وآخر کا احاطہ فرمایا ہے‘‘۔(مدارج النبوت، جلد۱، ص۱)

مگر دیوبندی مترجم نے حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کے علم شریف کی دشمنی کے باعث آپ کے جمیع علوم ظاہر وباطن اول وآخر کے احاطہ فرمانے کی عبارت کو ’’مدارج النبوت‘‘ کے مضمون وعبارت سے بالکل ہی خارج کردیا۔

مذکورہ مضمون سے کچھ آگے شیخ محقق علیہ الرحمہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسماء والقاب شریفہ کا ان الفاظ سے ذکر کیا ہے کہ’’ آں سرور انبیاء، امام اولیاء، فخر رسل، استاذ کل، معدن علوم اولین وآخرین، منبع فیض انبیاء مرسلین، واسطہ بہر فضل وکمال، مظہر ہر حسن وجمال، ہم شاہد ومشہود، ہم وسیلہ وہم مقصود‘‘۔(صلی اﷲ علیہ وسلم)

چونکہ یہ ایمان افروز اسماء مبارکہ ، القاب شریفہ دیوبندی وہابی عقیدہ باطلہ کے خلاف تھے اس لئے اس ظالم مترجم نے ان اسماء مبارکہ سے سارا مضمون ہی عبارت سے خارج کردیا ، یہ ہے اس جھوٹے مذہب کی رسول دشمنی اور علمی دنیا میں ڈکیتی اور بددیانتی۔

شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے لکھا کہ اول ما خلق اﷲ نوری کہ سب سے پہلے اﷲ نے میرا نور پیدا کیا، لیکن دیوبندی مولوی نے مدارج النبوت ، جلد۲، ص۱۱ پر اس کا ترجمہ نہیں کیا، حالانکہ بطور مترجم حدیث کا ترجمہ کرنا اس کی ذمہ داری تھی، اور مدارج النبوت ، جلد۱، ص۷۱ پر اگر ترجمہ لکھا ہے تو آگے بریکٹ میں (یعنی نور نبوت وہدایت) کی قید لگا کر اپنے خبث باطن کے تحت یہ تأثر دیا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نور مجسم نہیں اور آپ کی اصل وذات نور نہیں بلکہ آپ کا صرف ’’وعظ وہدایت ‘‘ فرمانا نور ہے ، حالانکہ نہ حدیث میں کوئی قید ہے اور نہ شیخ محقق نے اس کا کوئی ذکر کیا ہے، بلکہ حدیث نور کے بعد کا مضمون اس خود ساختہ ’’بریکٹ‘‘ کا متحمل ہی نہیں، کیونکہ اس میں تو آپ کے نور مجسم اور نورالانوار ہونے کی تفصیل ہے۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے ابولہب کے ثوبیہ لونڈی آزاد کرنے کی خوشی میں تخفیفِ عذاب کے واقعہ پر شب ولادت میلادشریف منانے والوں کی جو تحسین فرمائی ہے، اور انہیں بشارت دی ہے، دیوبندی مترجم نے میلاد دشمنی میں یہ سارا مضمون ہی کلیتہً نکال دیا ہے۔(مدارج النبوت، جلد۱، ص۳۵)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں!

’’حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا سایہ نہ سورج کے وقت ہوتا نہ چاند کے وقت، حکیم ترمذی نے ذکوان رضی اﷲ عنہ سے نوادر الاصول میں ایسے ہی بیان کیا ہے‘‘۔ (مدارج النبوت، جلد۱، ص۵۱)

دیوبندی مترجم نے بالکل اس کے الٹ لکھا کہ’’ صحیح بات یہ ہے کہ نبی علیہ السلام کا سایہ مبارک تھا‘‘(صفحہ مذکورہ)۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے لکھا کہ’’ بعض روایات میں ہے کہ گلاب کا پھول آپ کے پسینہ سے پیدا ہوا‘‘۔(مدارج النبوت، جلد۱، ص۵۵)

دیوبندی مترجم نے ترجمہ میں شامل کردیا کہ’’یہ محض خوش عقیدگی کی باتیں ہیں‘‘(یعنی حقیقت و صحت کچھ نہیں)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے لکھا کہ’’ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے فضلات (بول وبراز شریف) کی طہارت پر بہت دلائل قائم ہیں‘‘۔(مدارج النبوت، جلد۱، ص۵۷)

دیوبندی مترجم نے لکھا کہ’’ لیکن ان چیزوں کے پینے پلانے کی باتیں مقدس تعلیمات کے مجموعی مزاج اور روح کے خلاف ہیں‘‘۔

اہل علم وانصاف غور فرمائیں کہ یہ دیوبندی مترجم ، ترجمہ کررہا ہے یا ساتھ ساتھ تردید واصلاح کررہا ہے، اگر شان رسالت برداشت نہیں ہوتی تو اپنے دیو بندی خیالات کو ’’ مدارج النبوت پر تنقید‘‘یا مدارج النبوت کی تردید وجواب‘‘ کے نام سے علیحدہ کتاب شائع کرتا ، ترجمہ کے نام دھوکہ نہیں دینا چاہئیے۔[۱]

مکتوبات شیخ عبدالحق میں تحریف

مولانا ابو دائود محمد صادق رضوی، گوجرانوالہ لکھتے ہیںکہ!

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں!

’’ بکثرت فقہی مذاہب و کئی اختلاف کے باوجود علماء امت میں کسی ایک عالم کا بھی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بحقیقت حیات بے شائبہ مجاز سائم وقائم ہیں، اعمال امت پر حاضر و ناظر ہیں اور طالبان ِ حقیقت و متوجہان ِ آنحضرت کو فیض پہنچاتے اور ان کی تربیت فرماتے ہیں‘‘۔ (مکتوب نمبر ۱۸، سلوک اقرب السبل بالتوجہ الیٰ سید الرسل صلی اﷲ علیہ وسلم)

مگر دیوبندی مترجم مولوی محمد فاضل ، دارالعلوم کراچی نے شیخ محقق علیہ الرحمہ کی عبارت’’وبر اعمال امت حاضر ناظر‘‘ کا ترجمہ یہ کیا کہ’’ اپنی امت کے اعمال آپ پر پیش کئے جاتے ہیں‘‘یعنی خود تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم روحانی طور پر حاضر ناظر نہیں ، بس فرشتوں کے ذریعے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، کوئی بتلائے کہ ’’حاضر ناظر‘‘کا ترجمہ ’’ اعمال پیش کئے جانا‘‘ کونسی زبان، لغت اور اصول کے تحت ہے؟۔

مولوی محمد فاضل دیوبندی نے تشہد میں السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اﷲ وبرکاتہٗ کے تحت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی عبارت کا ترجمہ یوں لکھا کہ!

’’ اگر کوئی سوال کرے کہ اس جگہ خطاب تو حاضر کے صیغہ سے ہے، اور نبی علیہ السلام حاضر(ناظر) نہیں تو پھر اس کا مطلب کیا ہوگا۔ جواب اعتراض کا یہ ہے کہ اصل میں ورود اس کلمہ کا شب معراج میں ہوا ہے، اور اس وقت نبی علیہ السلام کے لئے خداوند کریم نے صیغہ ٔ حاضر سے خطاب فرمایا تھا ، انہی الفاظ کو بعینہٖ رکھا گیا ہے’’ اور مراد خطاب سے نبی علیہ السلام کا حاضر ہونا نہیں… اس سے معلوم ہوا کہ شاہ عبدالحق صاحب نبی علیہ السلام کے حاضر و ناظر ہونے کے قائل نہیں ورنہ اس توجیہ کی ضرورت ہی نہ تھی۔ از مترجم ، ص۱۸۸)

مترجم مولوی محمد فاضل دیوبندی نے اس ترجمہ والی عبارت میں ’’ اور مراد خطاب سے نبی علیہ السلام کا حاضر ہونا نہیں‘‘کے الفاظ از خود مضمون میں داخل کرکے یہ افتراء کیا ہے کہ’’ شاہ عبدالحق صاحب نبی نبی علیہ السلام کے حاضر و ناظر ہونے کے قائل نہیں‘‘۔

مترجم نے یہ اس لئے کیا کہ مترجم کی نقل کردہ جس بات کو شیخ علیہ الرحمہ نے ابتداًء اور ضمناً بیان کیا ہے وہ تو اس نے ترجمہ میں لکھ دی ہے ، اور اس میں اپنی طرف سے حاضر وناظر کا انکار بھی شیخ کے ذمہ لگادیا ہے، لیکن حضرت شیخ علیہ الرحمہ کا آخری تحقیقی اور فیصلہ کن جواب مترجم نے سرے سے نقل ہی نہیں کیا، جس پر اس بحث اور حضرت شیخ کے عقیدہ و مسلک کا دارومدار ہے۔

اہل علم وفہم بخوبی جانتے ہیں کہ اس قسم کی بحث کے موقع پر بالعموم آخری بات ہی فیصلہ کن اور حاصل بحث ہوتی ہے، اب شیخ کی عبارت میں ’’اہل تحقیق‘‘ کا لفظ ملحوظ رکھ کر آپ کا آخری جواب اور اس پر آپ کا قلبی واعتقادی تأ ثر ملاحظہ فرمائیں ، لکھتے ہیں !

’’بعض اہل تحقیق عارفین باﷲ نے فرمایا، چونکہ حقیقت محمدیہ(صلی اﷲ علیہ وسلم) موجودات کے ذرہ ذرہ میں جاری وساری ہے اور آپ کی ذات بابرکات نے تمام ممکنات کا احاطہ فرمایا ہوا ہے، لہذا اس اعتبار سے آپ نمازی کی ذات میں بھی حاضر وشاہد ہیں اور السلام علیک ایھا النبی میں صیغۂ خطاب در حقیقت آپ کے اس حضور وشہود( حاضر ناظر) ہونے کے لحاظ سے ہے صلی اﷲ علیک یا رسول اﷲوسلم‘‘۔

یہ ہے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا آخری تحقیقی جواب واہل تحقیق عارفین کے حوالہ سے پوری عبارت اور حاضر ناظر ہونے کا مسلک جس پر اعتقاد ویقین رکھتے ہوئے شیخ محقق نے عبارت کے اختتام پر نداء یا رسول اﷲ کے ساتھ صلوٰۃ و سلام پیش کیا ہے، دوران بحث ضمناً وہ توجیہ ہے جو مترجم مولوی محمد فاضل دیوبندی نے نقل کی ہے، جو کہ شیخ محقق کی تحقیق نہیں ہے، تحقیق اور فتویٰ یہ ہے جو’’ اہل تحقیق ومعرفت‘‘ کے لفظ سے نقل کیا ہے اور پھر صلی اﷲ علیک یا رسول اﷲ لکھ کر اس کی تائید کی ہے۔

دنیا کا کوئی پڑھا لکھا عالم فاضل انسان، شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی مذکورہ عبارت کا اوّل آخرایک ایک لفظ وجملہ بغور پڑھ کر انصاف کرے کہ اس تمام بحث کا حاصل رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فی الواقعہ حاضر ناظر جاننا اور براہ راست آپ سے رابطہ و توجہ اور حصولِ فیض و تربیت ہے، یا دیوبندی مترجم کے بقول فرشتوں کے وسیلہ و توسط سے اعمال پیش کیا جانا ہے؟۔ افسوس ہے ایسی منافقت اور تحریف وبد دیانتی پر۔[۲]

نشرالطیب میں تحریف

مولانا محمد علی مصطفوی ، پکا ڈیرہ وڑائچاں، تحصیل و ضلع شیخوپورہ(پنجاب، پاکستان)لکھتے ہیں!

دیوبندی کتب کے ناشر ادارہ ’’ دارالاشاعت کراچی‘‘ نے مولوی اشرف علی تھانوی کی کتاب ’’نشرالطیب فی ذکر النبی الحبیب‘‘ کا جو ایڈیشن شائع کیا ہے اس کا مقدمہ حذف کردیا ہے، جس میں تھانوی صاحب نے ’’قصیدہ بردہ ‘‘کی وجہ تصنیف لکھی تھی کہ ’’صاحب بردہ (امام بوصیری) کو مرض فالج ہوگیا تھا، جب کوئی تدبیر موثرٔ نہ ہوئی تو بقصد برکت تالیف کیا اور حضور (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی زیارت سے مشر ف ہوئے ، آپ نے دست مبارک پھیر دیا اور فوراً شفاء ہوگئی‘‘۔(نشرالطیب، مطبوعہ تاج کمپنی کراچی، ص۲)

چونکہ اس سے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا ’’دافع البلاء والوباء‘‘ ہونا ثابت ہوتا ہے، اس لئے اسے حذف کردیا گیا۔

نشر الطیب میں پہلی فصل نور محمدی (صلی اﷲ علیہ وسلم)کے بیان میں لکھی ہے، جو دیوبندیت کی تکذیب اور مسلک حقہ اہل سنت وجماعت کی حقانیت کی واضح دلیل ہے، اس فصل کی احادیث مبارکہ کے نیچے تھانوی صاحب نے جو حاشیہ لکھا تھا، چونکہ وہ دیوبندی دھرم کے خلاف تھا، اس لئے دیوبندی مکتبہ فکر کے ناشر دارالاشاعت(کراچی) نے اپنے اڈیشن سے یہ حاشیہ بھی غائب کردیا ۔

نشر الطیب کے اصلی اڈیشنوں میں کتاب کی ۱کیسویں فصل میں تھانوی صاحب نے مفتی الٰہی بخش کاندھلوی کا رسالہ’’ شمیم الحبیب‘‘ نقل کیا تھا ، جس کے آخر میں عربی اشعار بھی ہیں ، جن کا تھانوی صاحب نے منظوم ترجمہ بھی کیا ہے، ان اشعار میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے ان الفاظ میں توسل واستغاثہ کیا ہے!

دستگیری کیجئے میرے نبی
کشمکش میں تم ہی ہو میرے ولی
جز تمہارے ہے کہاں میری پناہ
فوج کلفت مجھ پہ آ غالب ہوئی
ابن عبداﷲ زمانہ ہے خلاف
اے میرے مولا خبر لیجئے میری
میںہوں بس اور آپ کا در یا رسول
ابر غم گھیرے نہ پھر مجھ کو کبھی

چونکہ دیوبندی مذہب میں ان اشعار والے عقیدہ کو کفر وشرک سے تعبیر کیا جاتا ہے ، لہذا دیوبندی دارالاشاعت نے اپنے اڈیشن میں اس پورے اکیسویں باب کا صفایا کردیا، یہ تو دیوبندیوں نے اپنے اکابر کی مشہور کتاب میں خیانت کی ہے ،یہیں سے اندازہ لگالیں کہ یہ لوگ دوسری کتابوں اور غیر مشہور کتابوں میں کیا کچھ نہ کرتے ہوں گے، اسے کہتے ہیں شان رسالت کو چھپانا اور اسے کہتے ہیں رسول دشمنی۔

شکر النعمۃ میں تحریف

مولوی اشرف علی تھانوی کا ایک وعظ ’’ شکر النعمۃ بذکر الرحمۃ‘‘ مرتبہ مولوی ظفر احمد تھانوی، جسے کئی سال پہلے مکتبہ تھانوی، دفتر الابقاء ، متصل مسافر حانہ بندر روڈ کراچی نمبر۱ نے شائع کیا تھا ، اس کے صفحہ ۱۸ کے حاشیہ میں مرتب مولوی ظفر احمد تھانوی نے مولوی اشرف علی تھانوی کی بابت لکھا ’’ یوں جی چاہتا ہے کہ آج درود شریف زیادہ پڑھوں ، وہ بھی ان الفاظ سے کہ الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اﷲ ‘‘۔

اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اﷲ درود شریف ہے ، اور ان دیوبندیوں کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ درود شریف ابراہیمی کے علاوہ کوئی درود نہیں ، اب قارئین خود سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کیسے برداشت ہوسکتا تھا، لہذا دیوبندیوں کے ادارہ تالیفات اشرفیہ چوک فوارہ ملتان نے حال ہی میں مولوی اشرف علی تھانوی کے وعظ کئی جلدوں میں شائع کئے ہیں ، ایک جلد میں یہ واعظ’’ شکر النعمۃ ‘‘ بھی شامل ہے ، مگر حاشیہ ہاتھ کی صفائی سے غائب کردیا ہے ، کیونکہ اسی حاشیہ میں جامع واعظ نے یہ درود شریف لکھا تھا ۔

تحفہ اثناء عشریہ میں تحریف

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی مشہور کتاب’’تحفہ اثناء عشریہ‘‘میں لکھتے ہیں!

’’حضرت امیر وذریت ورا تمام امت بر مثال پیران ومرشدان می پرستند وامور تکوینیہ را با یشاں وابستہ می دانند و فاتحہ و درودوصدقات ونذر منت بنام ایشاں …رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ با جمیع اولیاء اﷲ ہمیں معاملہ است‘‘ (شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، تحفہ اثناء عشریہ(فارسی)مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵ء، ص۲۱۴)

ترجمہ۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کی اولاد پاک کو تمام افراد امت پیر وں اور مرشدوں کی طرح مانتے ہیں ، امور تکوینیہ کو ان حضرات کے ساتھ وابستہ جانتے ہیں اور فاتحہ ودرود وصدقات اور نذرونیاز ان کے نام کی ہمیشہ کرتے ہیں جیسا کہ تمام اولیاء اﷲ کا یہی طریقہ ومعمول ہے۔

حضرت مولا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی ’’نذرو نیاز‘‘ سے الرجی کی بنا پر مشہور دیوبندی ناشر نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی نے ’’تحفہ اثناء عشریہ‘‘کا جواُردو ترجمہ شائع کیا ہے اس میں اس عبارت کا ترجمہ غائب کردیا ہے۔

اعلیٰ حضرت کے فتویٰ میں تحریف

امام احمد رضا خاں بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کا ایک فتویٰ قلمی بیاض میں ہے، سوال یہ ہے کہ’’ تین برس کے بچے کی فاتحہ دوجے کی ہونی چاہئیے یا سوم کی ‘‘۔ اس کا جواب اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے یہ تحریر فرمایا تھا!

’’ شریعت میں ثواب پہنچانا ہے، دوسرے دن یا تیسرے دن، باقی یہ تعین عرفی ہیں ، جب چاہیں کریں، انہیں دنوں کی گنتی ضروری جاننا جہالت ہے، واﷲ تعالیٰ اعلم‘‘۔

یہ فتویٰ فتاویٰ رشیدیہ مبوب حصہ اول مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز ناشران وتاجران کتب کراچی کے صفحہ ۱۰۱،۱۰۲ پر چھپا ہے، خوف آخرت سے بے خوف ان لوگوں نے اس فتویٰ کے آخر میں لفظ’’جہالت ‘‘ کے بعد لفظ’’بدعت‘‘ بڑھا دیا ہے، اس کے اوپر لکھا ہے!

’’فتویٰ مولوی احمد رضا خانصاحب بریلوی موصولہ از مولوی عبدالصمد صاحب رامپوری مجموعہ فتاویٰ قلمی مولوی احمد رضا خانصاحب منقولہ از جلد رابع کتاب الحظر والاباحتہ ص۳۰۱‘‘۔

قصہ یہ ہے کہ یہی مذکورہ بالا مولوی عبدالصمد صاحب رامپوری، اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ مسائل لکھوائے، انہیں واپسی کی جلدی تھی، اس وقت اتفاق سے کوئی نقل کرنے والا نہ تھا، یہ صاحب بظاہر مولوی صورت ، مقدس سیرت تھے، لہذا ان پر شبہ بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، انہیں فتاویٰ مبارکہ کی وہ جلد جو کتاب الحظر کے ان مسائل پر مشتمل تھی دے دی گئی کہ جو فتاویٰ آپ کو لکھوائے ہیں ، نقل کردیں، ان صاحب نے گنگوھی صاحب سے اپنی نیاز مندی کا ثبوت دیتے ہو ئے فتویٰ مذکورہ میںاپنے ہاتھ سے بین السطور لفظ’’جہالت‘‘ کے بعد لفظ’’وبدعت‘‘ ہے بڑھادیا یہ تحریف بریلی شریف میں آج بھی فتاویٰ مبارکہ جلد ہشتم کتاب الحظر ص۴۱۰ پر موجود ہے، کوئی بھی دیکھ کر بخوبی معلوم کرسکتا ہے کہ الفاظ’’وبدعت‘‘ دوسرے قلم سے کسی اور کا اضافہ ہے، یہ لوگ اپنے حریف کے گھر جاکر اس کے گھر بیٹھ کر اس کی قلمی کتابوں میں اضافہ کرسکتے ہیں تو انہوں نے اپنے خود ساختہ مذھب کے لئے اپنی کتابوں میں کیا کچھ نہ کیا ہوگا۔

اب اس فتویٰ کے بارے میں نئی تحریف کے متعلق بھی سنیئے!

فتاویٰ رشیدیہ کامل مبوب و بطرز جدید مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱۹۹۲ء کے صفحہ ۱۵۵ پر مولوی رشید احمد گنگوھی کا ایک فتویٰ اسی سوم کے مسئلہ پر لکھ کر آخر میں لکھ دیا ’’ فتویٰ مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی موصولہ از مولوی عبدالصمد صاحب رامپوری مجموعہ فتاویٰ قلمی مولوی احمد رضا خاں صاحب منقولہ از جلد رابع کتاب الحظر والاباحتہ ص۲۶‘‘ لیکن آگے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا فتویٰ درج نہیں کیا ، تاکہ پڑھنے والا یہی سمجھے کہ جو فتویٰ اوپر لکھا گیا ہے آخر میں مولانا احمد رضا خاں کا نام اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ نے اس اوپر والے فتویٰ کی تائید کی ہے ۔

یہ سراسر دھوکا ہے ، امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا تحریف کیا گیا فتویٰ جس میں لفظ’’و بدعت‘‘ بڑھایا گیا ہے اسے فتاویٰ رشیدیہ کے اسی اڈیشن کے صفحہ ۱۶۴، ۱۶۵ پر علیحدہ شائع کیا گیا ہے، قارئین کرام جانتے ہیں کہ دیوبندی مذہب کی ساری عمارت ہی جھوٹ اور دھوکہ فریب پر کھڑی ہے۔بہر حال کتاب پڑھیں ، سوچیں، تحقیق فرمائیں اور اپنا ایمان بچائیں۔

دیوبندی و غیر مقلدین کی تحریف و خیانت

غیر مقلدین وہابیہ کے ترجمان ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘لاہور ، شمارہ ۵؍نومبر۱۹۷۶ء کی اشاعت میں اس بات پر سخت احتجاج کیا ہے کہ ’’دیوبندی حضرات کے اہتمام میں طبع ہونے والی حدیث کی ایک کتاب سنن ابی دائود میں ایک لفظ(عشرین لیلۃً کی بجائے عشرین رکعۃً) تحریف شدہ چھپ رہا ہے‘‘۔

جہاں تک دیوبندی وہابی حضرات کی تحریف وخیانت کا تعلق ہے، ان کا یہ کوئی پہلا کارنامہ نہیں، ان کے اصاغر واکابر شروع سے ایسے کارنامے سر انجام دے رہے ہیں، اور ان کے ایک نامور مولوی سرفراز خاں صفدر گکھڑوی(گوجرانوالہ) اس سلسلے میں غیر مقلدین سے’’رئیس المحرفین‘‘ کا خطاب بھی حاصل کرچکے ہیں، لیکن دیوبندیوں کی تحریف پر واویلا کرنے والے ا ن غیر مقلدین کا کردار بھی دیوبندیوں سے کچھ مختلف نہیں ، غیر مقلدین کے کتب خانہ سعودیہ کراچی نے حضور غوث اعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ کی شہرہ آفاق کتاب’’غنیۃُ الطالبین‘‘ مترجم شائع کی ہے، جس میں مسئلہ تراویح کی بحث میں وھی عشرون رکعۃً (تراویح بیس رکعت ہیں) میں بدترین بددیانتی سے کام لیتے ہوئے لفظی ومعنوی تحریف کرکے لکھا ہے وھی اِحدیٰ عشرۃرکعۃً مع الوتر (اور تراویح وتر سمیت گیارہ رکعتیں ہیں) ۔ (غنیۃ الطالبین، مطبوعہ کتب خانہ سعودیہ حدیث منزل کراچی، ص۷۳۹)

(ماہنامہ رضائے مصطفیٰ، گوجرانوالہ، شمارہ دسمبر ۱۹۷۶ء، ص۱۰)

القول البدیع میں تحریف و خیانت

دیوبندیوں کے ’’ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، ۴۳۷ ڈی گارڈن ایسٹ نزد لسبیلہ چوک کراچی کی طرف سے رضی الدین احمد فخری کی ترتیب وپیشکش کے ساتھ’’القول البدیع‘‘ کا جو ترجمہ شائع کیا گیا ہے ، اس میں جھوٹے مذہب کے خائن مترجم کی تحریف وبددیانتی کی چند مثالیں درج ذیل ہیں :

پہلی مثال: علامہ سخاوی، ابوبکر بن محمد سے نقل کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر بن مجاہد کے پاس تھا کہ اتنے میں شیخ المشائخ حضرت شبلی رحمۃ اﷲ علیہ آئے، ان کو دیکھ کر ابوبکر بن مجاہد کھڑے ہوگئے ان سے معانقہ کیا ، ان کی پیشانی کو بوسہ دیا، میں نے ان سے عرض کیا کہ میرے سردار آپ شبلی کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں حالانکہ آپ اور سارے علماء بغداد یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ دیوانے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے وہی کیا جو حضور اقدس ﷺ کو کرتے دیکھا، پھر انہوں نے انا خواب بتایا کہ مجھے حضور اقدس ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی کہ حضور ﷺ کی خدمت میں شبلی حاضر ہوئے، حضور اقدس ﷺ کھڑے ہوگئے اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا اور میرے استفسار پر حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ہر نماز کے بعد لقد جاء کم رسول من انفسکم آخر سورۃ(توبہ) تک پڑھتا ہے … اور کے بعد تین مرتبہ صلی اﷲ علیک یا محمد، صلی اﷲ علیک یامحمد، صلی اﷲ علیک یا محمد پڑھتا ہے‘‘۔ (القول البدیع(عربی) ، ص۱۷۳) مختصراً۔

دیوبندی مترجم نے اس روایت کے آخر میں درود شریف بصیغۂ نداء(صلی اﷲ علیک یا محمد) حذف کردیا ہے، کیونکہ دیوبندی دھرم میں یہ شرک ہے۔ع شرم ان کو مگر نہیں آتی۔

دوسری مثال: امام سخاوی رحمۃ اﷲ علیہ نے’’القول البدیع‘‘ میں لکھا ہے کہ بعد از اذان صلوۃ وسلام پڑھنے کی بقاعدگی سے ابتداء سلطان الناصر صلاح الدین ایوبی رحمۃ اﷲ علیہ کے حکم سے ہوئی، اس سے پہلے حاکم بن العزیز قتل ہوا تو اس کی بہن نے چھ دن بعد حکم دیا کہ لوگ اس کے لڑکے ظاہر پر سلام کیا کریں، اس کے بعد بھی خلفاء پر اسی طرح سلام پڑھا ے لگا، یہاں تک کہ سلطان صلاح الدین نے اپنے زمانہ حکومت میں اسے باطل کرکے نبی اکرم ﷺ پر درود وسلام بعد از اذان پڑھنے کا حکم دیا، جس کی اسے جزاء خیر نصیب ہو… والصواب انہ بدعۃ حسنہ یوجر فاعلہ بحسن نیتہٖ (اور صحیح یہ ہے کہ بدعت حسنہ ہے اور ایسا کرنے ولے کو نیک نیتی کا اجر ملے گا)۔(القول البدیع(عربی)، ص۱۹۲۔۱۹۳)۔

دیوبندی مترجم نے بدعت حسنہ کا ترجمہ صرف بدعت کیا ہے اور اور لفظ حسنہ اور اگلی عبارت کا ترجمہ گول کرگیا ہے کہ یوجر فاعلہ بحسن نیتہٖ ، یہ ہے اس بد نیت مترجم کی کارستانی کہ اذان کے ساتھ صلوۃ وسلام پڑھنے کا صدیوں پہلے کا مستند حوالہ اپنی شان رسالت سے عداوت اور درود شریف سے بیزاری کی نذر کردیا۔

تیسری مثال: حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہ کا پائوں سُن ہوگیا تو ایک شخص نے ان سے کہا کہ جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اس کا ذکر کریں، انہوں نے پکارا یا محمد ﷺ ، پس اسی وقت پائوں ٹھیک ہوگیا۔ (القول البدیع، عربی، ص۲۲۵)

دیوبندی مترجم نے اس روایت کو بھی حذف کردیا اور اس ترجمہ نہیں کیا، اس لئے کہ اس سے بوقت ضرورت وحاجت صحابہ کرام سے رسول اﷲ ﷺ کو پکارنے اور فریاد کرنے کا ثبوت ملتا ہے، جب کہ دیوبندی وہابی مذہب میں صحابہ کرام کے اس عقیدے کو شرک ٹھہرایا گیا ہے ۔

(ماہنامہ رضائے مصطفیٰ، گوجرانوالہ، شمارہ نومبر ۱۹۹۲ء، ۸،۹)

ماخذ ومراجع

  • ماہنامہ رضائے مصطفیٰ، گوجرانوالہ، شمارہ جمادی الآخریٰ ۱۴۱۱ھ/ جنوری ۱۹۹۱ء ، ص۱۴
  • ایضاً۔ حسام الصادق علی الشقی الکاذب، مطبوعہ گوجرانوالہ، سن طباعت ندارد، ص۹۲
  • دیوبندی حقائق، از مولانا محمد صادق رضوی، مطبوعہ گوجرانوالہ، طبع ثانی ۱۹۸۸ء،ص۶۰،۶۳
  • ماہنامہ ، رضائے مصطفیٰ، گوجرانوالہ، شمارہ ذوالقعدہ ۱۴۱۵ھ/ اپریل ۱۹۹۵ء ، ص۳،۴
  • مجموعہ رسائل مولوی ا شرف علی تھانوی، مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ، چوک فوارہ ملتان
  • تحفہ اثناء عشریہ(اردو ترجمہ) مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی