Skip to content

کیا غوث اعظم وہابی تھے؟

ردِّ غیرمقلدینشخصیات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ الحمدللہ رب العٰلمین ط والصلوٰۃ والسلام علٰی رسولہ الکریم وعلٰی الہ وصحبہ رابنہ الغوث الباھر السلطان محی الدین السید عبدالقادر قدس سرہ النورانی وعلی اولیاء امتہ اجمعین ہ

اما بعد!کسی نے مجھ سے سوال کیا کہ۔

کیا غوث جیلانی وہابی تھے؟

اور خود میں نے بھی اپنے پڑوسی خطیب سے بارہا سنا کہ تمہارے پیر پیران تو ہمارے ہم مذہب یعنی وہابی غیر مقلد تھے۔ (معاذاللہ) میں نے اپنی جماعت اور سائل کو تسلی دی کہ یہ ان کی طفل تسلی ہے بلکہ یہود و نصارٰی کی وراثت کہ وہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے کہتے کہ (معاذاللہ) ابراہیم علیہ السلام یہودی و نصرانی تھے تو جیسے اﷲ نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام میں یہودیت و نصرانیت کا نشان تک نہ تھا اور ابراہیم علیہ السلام نبی و خلیل تھے۔ ایسے ہی ہم کہیں گے کہ غوث اعظم میں وہابیت کا نام تک نہ تھا اور سیدنا غوث اعظم پیران پیر تھے لیکن چونکہ یہ لوگ عوام کو بہکانے کے استاد ہیں کہ جو بات منوانا چاہیں ہزاروں جھوٹ بول کر بھی منوانے کی سعی فام کرتے ہیں کچھ اس مسئلہ میں بھی انکا یہی وطیرہ ہے لیکن ہر زمانہ میں چور ہوتے ہیں تو ساتھ ان کے لئے سرکوب بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ لکل فرعون موسٰی۔ (ہر فرعون کیلئے موسٰی ہوتا ہے) عربی کا مشہور مقولہ ہے۔ اگرچہ شروع میں اس غلط نسبت کو خوب اچھالا گیا لیکن ہمارے علماء مشائخ کو اﷲ خوش رکھے ہر جگہ ان کی ناکہ بندی کردی۔ دلائل سے عوام کو مطمئن کیا کہ حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ چونکہ فقہ میں امام احمد بن حنبل رضی اﷲ عنہ کے مقلد تھے اسی لئے ان کی فقہ کے مطابق رفع یدین کا ذکر غنیۃ الطالبین میں ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جو بھی رفع یدین کرے اور آمین بالجہر کہے وہ وہابی ہے اگر ان کا یہ قاعدہ مان لیا جائے تو کل شیعہ مالکی فقہ پر عمل کرنے والوں کیلئے دعوٰی کریں گے کہ یہ شیعہ ہیں اس لئے کہ یہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں خوب جتنا رنگ کے کالے سب باپ کے سالے۔ اس رسالہ میں وہابیوں غیر مقلدین کے ان تمام سوالات کے جوابات جمع کئے گئے ہیں جو سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کیلئے وہابی ہونے کے ادہام وہابیوں کے دماغ میں جمع ہوئے ہیں اسی لئے اس کا نام ہے، الضربات الاولینیہ اعناق الوہابیہ عرف کیا غوث اعظم وہابی تھے۔

وما توفیقی الا بالعلی العظیم۔ وصلی اللہ علی حبیبہ الکریم الامین وعلی آلہ واصحابہ اولیاء امتہ اجمعین ہ

فقط والسلام الفقیر القادری ابو الصالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفرلہ بہاولپور ۔ پاکستان 27 صفر 1411ھ بروز شنبہ

بڑھیا کا بیڑا نامی رسالہ بڑے عرصہ سے ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوتا چلا آ رہا ہے درجنوں بار چھپا ہے باوجود یکہ مدت سے اس کے ابتداء میں مخالفین کو اس کی تردید کی دعوت بھی دی گئی لیکن بفضلہ تعالٰے مخالفین کی طرف سے کئی قسم کی تردید دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ السکوت من الرضا تائید سمھی جاتی ہے اسی لئے فقیر اس سے بھی تردید کے فکر سے بے فکر ہوگیا لیکن صدی کی تبدیلی پر مخالفین نے رنگ بدل کر پُرانے سوالات ملاکر جدید بے ڈھب اعتراضات شائع کرنے شروع کر دئیے ہیں فقیر ع۔ وہی رفار بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔

کا تصور کرکے اپنے دوسرے مشاغل میں لگا رہا لیکن کارکنان مکتبہ اویسیہ رضویہ نے رسالہ مذکورہ کے جدید ایڈیشن کی اشاعت پر چند ضروری سوالات کے جوابات لکھنے پر مجبور فرمایا۔ اگرچہ یہ سوالات مع جوابات فقیر نے اپنی کتاب ہدیۃ السالکین فی غنیۃ الطالبین میں لکھ دئیے ہیں۔ لیکن رسالہ ہذا کی مناسبت پر چند سوالات مع جوابات یہاں عرض کرتا ہے۔وما توفیق الا باللہ العلی العظیم

سوال

شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ نماز میں رفع یدین کرتے تھے سنی حنفی بریلوی ان کے خلاف کیوں ؟ ان کے اس عمل سے تو ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی اہلحدیث وہابی تھی۔ (معاذاللہ)

جواب

یہ سوال عموماً غیر مقلدین عوام اہلہسنت کے بہکانے کی غرض سے پیش کرتے ہیں۔ اہل علم کے سامنے ایسی بات کرنے سے شرماتے ہیں۔ غیر مقلدین (کو غنیۃ الطالبین)نامی کتاب سے دھوکہ لگا ہے اور وہ دھوکہ صرف کم علمی کی وجہ سے ہے ورنہ محققین علماء کرام رحمہم اﷲ تعالٰی کا فیصلہ ہے کہ یہ کتاب سیدنا غوث اعظم جیلانی رضی اﷲ عنہ کی نہیں۔

1۔ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔

ہرگز نہ ثابت شدہ کہ اس تصنیف آنجناب است اگرچہ اتساب بآنحضرت۔ (دارود 12 حاشیہ نبراس)

بڑی تحقیق کے بعد کہیں سے یہ ثبوت نہیں ملا کہ غنیۃ الطالبین سیدنا غوث اعظم جیلانی کی تصنیف ہے اگرچہ اس کا انتساب ان کی طرف منسوب ہے۔

2۔ حضرت علامہ مولانا عبدالعزیز پرہاروی رحمۃ اﷲ تعالٰے فرماتے ہیں۔

ولا یغرنک وقوعہ فی غنیۃ الطالبین منسوبۃ الی الغوث اعظم عبدالقادر جیلانی قدس سرہ غیر صحیۃ والاحادیث المضوعہ فیھا وافرۃ (شرح العقائد بالنبروس، ص355 و کوثر النبی از موصوف مذکورہ)

ترجمہ:تجھے اس سے دھوکہ نہ ہو کہ بعض مسائل غنیۃ الطالبین میں احناف کے خلاف ہیں اور وہ غنیۃ سیدنا غوث پاک کی طرف منسوب ہے۔ یہ انتساب تو بالکل ہی غلط ہے۔ کیونکہ اس میں بہت سی احادیث من گھڑت و موضوع درج ہیں۔

3۔ مولانا عبدالحی لکھنوی فرماتے ہیں

ان الغنیۃ لیس من تصانیف الشیخ محی الدین رضی اللہ عنہ انہ ط نثبت ان الغنیہ من تصانیفہ وان اشتھر انتسابھا الیہ۔ (الرفع والتکمیل فی الجرح والمتعدیل)

غنیۃ الطالبین حضرت شیخ محی الدین جیلانی ہرگز نہیں ان کی تصانیف میں ان کا نام و نشان نہیں ملتا۔ اگرچہ اس کا انتساب ان کی طرف مشہور ہے۔

4۔ فتاوٰی نظامیہ ص235 ج2 متمولہ جامع الفتاوٰی میں ہے کہ بڑے بڑے علماء دن و مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ کتاب حضرت سید عبدالقادر جیلانی کی نہیں ہے یہ کوئی اور عبدالقادر ہے۔ اگر غنیۃ الطالبین سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کی تصنیف وہابیہ غیر مقلدین کو تسلیم ہے اور صرف اسی کے بل بوتے حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو اپنا ہم مسلک سمجھتے ہیں، تو پھر یہ سودا نہیں گاٹا دیگا کیونکہ غنیۃ الطالبین ان کے مذہب یعنی وہابیہ کے بھی خلاف ہے۔ اس کی تفصیل آئے گی۔ (انشاء اﷲ)

جواب نمبر 2

غنیۃ الطالبین حنبلی فقہ پر لکھی گئی ہے اور امام حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اجتہاد میں رفع یدین اور آمین بالجہر ہے اور ہم ہر امام مجتہد کو حق مانتے ہیں لیکن تقلید میں اپنے امام کے اجتہاد کو ترجیح دیتے ہیں جیسا کہ بحث التقلید میں اس کی تحقیق سے واضح ہے اور صرف رفعیدین اور آمین بالجہر لے لینا اور غنیۃ الطالبین کے باقی مسائل سے منہ پھیرنا کہاں کی دیانتداری ہے کیا تؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں کی بیماری کا دور تو سر نہیں چڑھ گیا۔ سینکڑوں مسائل غنیۃ میں ایسے ہیں جو غیر مقلدین کے لئے تلوار ہیں۔ اگر وہ ہم پر ان رفعیدین اور آمین بالجہر سے اپنے قائل کرنا چاہتے ہیں تو وہ غنیہ کے دوسرے مسائل و عقائد کو مان لیں اور ان پر عمل کر دکھائیں تب ہم سمجھیں کہ اپنے دعوٰی میں سچے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ (غیر مقلدین) زہر کا پیالہ تو پی لینا منظور کرلیں گے لیکن غنیۃ کے ان عقائد و مسائل کو ہرگز تسلیم نہ کریں گے۔ ان مسائل و عقائد کا نمونہ ہم نے اپنی کتاب ہدیۃ السالکین میں لکھ دیا ہے۔

سوال

لوگ غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو اتنا بڑھا چڑھا کر مانتے ہو کہ (نبی علیہ السلام) کے بعد اگر کسی کا مرتبہ ہے تو وہ شیخ عبدالقادر رحمۃ اﷲ علیہ کا ہے یہاں تک کہ ہم نے کسی دیوبندی حنفی سے سنا کہ بریلوی اہلسنت شیخ مذکورہ کو تیسرا خدا مانتے ہیں تو پھر اتنا بہت بڑے پیر کو کسی تقلید کی کیا ضرورت بالخصوص امام احمد حنبلی کی جب کہ تمام آئمہ اربعہ کے چہارم نمبر پر ہیں۔ وہ اتنے بڑے پیر تھے تو انہیں مسائل شرعیہ میں خود اجتہاد کرنا لازمی تھا یا مقلد بننا تھا تو کسی بڑے امام کا۔

جواب

یہ بھی ان کا افترا ہے ورنہ حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کو صرف اولیاء سے افضل مانتے ہیں نہ کہ انبیاء و صحابہ و اہلبیت سے۔

تمہید الجواب

واقعی ہم غوث اعظم کو اس طرح مانتے ہیں۔ غوث اعظم درمیان اولیاء
چوں مصطفٰے درمیان انبیاء
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، علیھم السلام)

لیکن جس دیوبندی نے یہ کہا کہ بریلوی اہلسنت غوث اعظم کو تیسرا خدا مانتے ہیں یہ اس کا منجملہ ان مفتریات کے ہے جس طرح تم ہمارے اوپر افترابازی کرتے ہو جس کا جواب ہمارے ہاں صرف اتنا ہے۔

انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون۔

بیشک جھوٹا افتراء بے ایمان لوگ کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ غوث اعظم رضی اﷲ عنہ جملہ اولیاء کرام سے افضل ہیں اور اولیاء سے عرف شرعی ولایت مراد ہے اس سے صحابہ کرام و اہلبت عظام اور امام مہدی و عیسٰی علیہ السلام مستثنٰی ہیں۔ اس کی تفصیل و تحقیق فقیر کی کتاب قدم غوث اعظم بر اولیائے جملہ عالم میں پڑھئے۔

تحقیق الجواب

ہمارا عقیدہ ہے کہ غوث اعظم رضی اﷲ عنہ ایک انسان اور بشر تھے لیکن ولایت و محبوبیت میں اولیاء کرام میں (باستثناء۔ تفصیل فقیر کی کتاب شرح حدائق میں دیکھئے )سب ہیچ اور آپ سب کے سرتاج جسے ولایت کے درجات و مراتب و کمالات معلوم ہیں وہ متفق ہوکر بارگاہ غوثیت میں عرض کرتے ہیں۔ واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلٰی تیرا

اس بناء پر ہم غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کو ولایت کے جمیع مراتب اور کمالات جامع مانتے ہیں۔ نہ ہم انہیں خدا مانتے ہیں نہ خدا کا شریک نہ جُز ہاں انہیں محبوب خدا ضرور مانتے ہیں اور یہی ایک مسلمان کا عقیدہ رہنا چاہئیے۔ لیکن جن کے دلوں میں مرض ہو تو ان کا علاج ہمارے پاس نہیں۔

باوجود اینہمہ

الحمدللہ وہ مقلد تھے غیر مقلد نہیں تھے اس کی وہی وجہ تھی کہ ائمہ اربعہ کی تقلید پر جمیع است کا اجماع ہو گیا پھر آپ نے اپنے نانا کریم رؤف رحیم علیہ الصلوٰۃ والسلیم کی امت میں افتراق و نفاق کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا۔ تاکہ آنے والی نسل کو یقین ہو کہ جب اتنا بہت بڑا غوث تقلید شخصی کے نہ صرف قائل بلکہ عامل ہیں۔ تو پھر اس سے جو بھی پھریگا وہ شد شذ فی النار۔ کا مصداق ہوگا۔ ورنہ آپ چاہتے تو اپنے اجتہاد سے آیات و احادیث سے ہزاروں مسائل کا استنباط فرماتے لیکن نہیں امت کے حال پر ترس کھاکر شیرازہ بکھارنے کے بجائے تقلید کے باب کو اور مضبوط تر بنا دیا۔ ورنہ بہجۃ الاسرار میں ہے کہ غوث اعظم رضی اﷲ عنہ مجتہد فی المذہب تھے آپ اجتہاد کرتے تھے ان کا اجتہاد کبھی تو مسلک شافعی پر ہوتا اور کبھی مسلک حنبلی پر۔ یہ مشہور ہے کہ آپ مذہب حنبلی پر تھے اور بغداد میں اکثریت علماء حنابلہ کی ہی تھی چونکہ امام احمد بن حنبل بھی بغداد میں رہے اس لئے ان کی تعلیمات کا اثر زیادہ تھا آپ کا مقبرہ بھی بغداد میں ہی ہے۔ پہلے حضرت امام شافعی رضی اﷲ تعالٰے عنہ بھی بغداد میں رہے پھر حضرت امام احمدبن حنبل کو بغداد میں چھوڑ کر خود مصر چلے گئے۔ جناب غوث الاعظم حضرت امام اعظم رضی اﷲ عنہ سے بعض فقہی مسائل میں اختلاف رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ نے اپنی کتاب میں بہت سے مقامات پر لکھا ہے۔قال الامام احمد قال امامنا احمد۔ آپ حضرت امام احمد بن حنبل کے بڑے مداح تھے۔

شیخ قدوہ ابو الحسن علی بن الہیتی نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت سید عبدالقادر جیلانی اور شیخ بقا بن بطور کے ساتھ حضرت امام احمد بن حنبل کی قبر کی زیارت کی میں نے دیکھا کہ حضرت امام حنبل بہ نفس نفیس قبر مبارک سے باہر تشریف لائے اور سیدنا عبدالقادر کو اپنے سینے سے لگایا اور ایک اعلٰی خلعت پہنائی اور کہا۔ عبدالقادر! ابو علمِ شریعت، علمِ طریقت، علم حال و علم فعل الرجال اﷲ تعالٰے نے آپ کے سپرد کر دئیے ہیں۔

صاحبِ بہجۃ الاسرار نے ایک بڑا عجیب واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ عراق کے علماء کی طرف سے ایک فتوٰی آیا جس پر علماء عراق و عجم جواب دینے سے قاصر تھے سورت مسئلہ یہ تھی۔

فتوٰی غوثیہ

کیا فرماتے ہیں علمائے سادات اس انسان کے بارے میں جس نے اس شرط پر اپنی بیوی پر تین طلاق کی قسم کھالی کہ اگر وہ ایسی عبادت خداوندی کرے جس میں ساری کائنات ارضی میں اس کا اس وقت کوئی شریک نہ ہو سکے ایسے حالات میں اسے کون سی عبادت کرنا ضروری ہے اور اگر وہ نہ کر سکے تو کیا اس کی بیوی کو تین طلاق دافع ہو جائیں گی۔

آپ نے فوری طور پر جواب لکھا کہ وہ شخص فوری طور پر مکہ مکرمہ میں آئے مطان کو خالی کرالیا جائے اور وہ تنہا طواف کرے اس طرح اس پر قسم دافع نہیں ہوگی۔ (زہدۃ الآثار)

سوفقہا لاجواب

تفریح الخاطر میں ہے کہ سو فقہائے بغداد آپ کی خدمت میں اس نیت سے آئے کہ آپ پر سوالات کی بوچھاڑ کرکے لاجواب بنائیں گے لیکن جب حاضر ہوئے حضرت غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰے عنہ کی ہیبت چھا گئی آپ نے خود فرمایا کہ فلاں تیرا مسئلہ یہ ہے اس کا جواب یہ ہے اور اے فلاں تیرا مسئلہ یہ ہے اور اس کا جواب یہ ہے اسی طرح تمام کو اس کے سوال کے ساتھ جواب بھی بتایا۔ (ملخصاً)

اسی لئے یہ نہ سمجھئے کہ آپ صرف ولایت کے سرتاج تھے بلکہ آپ میں فقاہت اور درجہء اجتہاد کی استعداد تھی لیکن چونکہ دورِ تقلیدی تھا اسی لئے آپ نے حد سے تجاوز نہ فرمایا تاکہ امت کو تقلید میں پختگی نصیب ہو۔ ورنہ نہ صرف بغداد بلکہ بیرون ممالک سے آپ کے ہاں شرعی فقہی سوالات کے فیوض و برکات سے لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں۔

مؤرخ تاریخ کے اوراق الٹ کر غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰے عنہ کے دور کی کیفیت دیکھے تو کہہ اٹھے گا کہ عالمِ اسلام کو از سر نو بہار نصیب ہوئی تو حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰے عنہ کے دم قدم سے کہ آپ نے رات دن اسلام کیلئے اس کونے سے دوسرے کونے تک دورے کئے اور جگہ جگہ خلفاء بھیجے یہی وجہ ہے کہ آج کہ جملہ سلاسل طیبہ حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰے عنہ کے مرہون منت ہیں۔ کیا خوب ہے۔ بادشاہ ہردو عالم شاہ عبدالقادراست
سرور اولاد آدم شاہ عبدالقادراست

لطائف الغرائب میں حضرت خواجہ گیسودارز لکھتے ہیں کہ جب حضرت غوث اعظم نے بغداد میں یہ کہا کہ میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔ تو سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اس وقت خراسان کے پہاڑوں میں مصروف عبادت تھے آوازِ غوثیہ سن کر آپ نے ایسی گردن جھکا کر پیشانی مبارک زمین سے جا لگی اور فرمایا آپ کا قدم ہمارے سر آنکھوں پر۔ آپ نے فرمایا غیاث الدین کا بیٹا معین الدین تمام اولیاء سے گردن جھکانے میں آگے ہوگا اور وہ جلد ہی ملکِ ہند کا شہنشاہ بنے گا چنانچہ وہی ہوا جو آج ہم سب کو اعتراف ہے۔

سہروردیہ

شیخ ابو النجیب سہروردی رضی اﷲ تعالٰی عنہ آپ ہی کے فیض یافتہ ہیں۔ چنانچہ جب وہ حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اپنے مریدین کو فرماتے کہ وضو کرلو اور اپنے دلوں کو نگاہ میں رکھو کہ اب ہم اس بارگاہ میں حاضر ہونے والے ہیں جن کا دل براہِ راست اﷲ سے علم حاصل کرتا ہے اور سلسلہ سہروردیہ کے بانی سید شیخ الشیوخ عمر شہاب الدین سہروردی رحمہ اﷲ فرمایا کرتے کہ جو کچھ مجھے ملا ہے وہ حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے صدقے ملا ہے کسی نے خوب فرمایا سلسلہ نقشبند اور شہر اجمیر و سہرورد
مخمور ہیں زبادہء فیضان دستگیر

نقشبندیہ

حضرت عارف باللہ عبداللہ بلخی نے خوارق الاحباب فی معرفۃ الاقطاب کے پچیسویں باب میں لکھا ہے کہ جناب غوث الاعظم نے ایک دن بخارا کی طرف رخ مبارک کرکے عام مجمع میں فرمایا کہ مجھے اس طرف سے ایک مزیدار خوشبو آرہی ہے میری وفات کے 157 سال بعد اس جانب سے ایک مرد کامل پیدا ہوگا جس کا نام بہاؤ الدین نقشبند ہوگا وہ میری نعمت خاص سے حصہ لے گا اسی لئے حضور مجدد الف ثانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ بھئی کسی کو روحانی فیض ملا ہے وہ غوث اعظم سے ملا ہے اور آپ ہی مرکز ولایت اور قطبیت ہیں۔ (مکتوبات امام ربانی)

سلسلہء قادریہ

یہ سلسلہ تو ہے بھی آپ سے منسوب۔

خلاصہ یہ کہ آپ امور باطنہ میں مصروفیت کی وجہ سے فقہی امور میں امام احمد حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تقلید اختیار فرمائی اور یہ آپ کے شایان شان کے خلاف بھی نہیں۔ امام حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تقلید کے انتخاب میں دو پہلو علماء کرام نے بیان فرمائے ہیں۔

1۔ چونکہ آپ کے دور علاقہ میں زیادہ تر امام احمد حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی فقہ رائج تھی آپ نے افتراق و تشت سے بچنے کیلئے انہی کا انتخاب فرمایا تاکہ کسی دوسرے امام کی تقلید پر عوام میں انتشار نہ پھیلے۔

2۔ چونکہ امام حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ مسلک و مذہب کی اشاعت اتنا نہ تھی جتنا دوسرے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو رواج ہوا اسی لئے آپ نے عالم ارواح میں غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے استدعاء کی کہ آپ ان کے مسلک کو اختیار فرمائیں تاکہ انہی کی بدولت ان کے مسلک و مذہب کو سرفرازی کا موقع نصیب ہو۔ بہرحال وجہ کچھ بھی ہو غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ مقلد تھے۔ اپنے امام کی تقلید پر آپ نے رفع یدین وغیرہ کیا اس پر غیر مقلدین کو اپنے استدلال پر بجائے خوشی کے رونا چاہئیے کہ غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ مقلد تھے۔ اور یہ بدعتی فرقہ نہ اِدھر کا نہ اُدھر کا۔

صدق اللہ العلی العظیم۔ لاالی ھؤلاء ولا الی ھؤلاء ۔

(اﷲ نے سچ فرمایا کہ یہ لوگ نہ ادھر کے نہ اُدھر کے)

امام احمد حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آرزو

حضرت مولانا علامہ عبدالقادر اربلی رحمہ اﷲ لکھتے ہیں کہ ایک دن آپکے دل میں تقلید مذہب کا خیال پیدا ہوا تو اسی رات دیکھا کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بمع جمیع صحابہ کرام تشریف فرما ہیں اور امام احمد بن حنبل اپنی داڑھی پکڑ کر کھڑے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے عرض کر رہے ہیں۔

یارسول اللہ اپنے پیارے بیٹے محی الدین سید عبدالقادر کو فرمائیے کہ اس بڈھے کی (یعنی میری)حمایت کرے

آپ نے تبسم فرماتے ہوئے کہا اے عبدالقادر اس کی عرض قبول کر تو آپ نے ارشاد نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے ان کی التماس قبول کرلی اور صبح کی نماز مصلے حنبلی پر پڑھی اور اس دن امام کے علاوہ دوسرا کوئی مقتدی نہ تھا کہ جماعت کرائی جا سکتی آپ کے تشریف لانے سے ہی خلقت کا اس قدر ہجوم ہوا کہ تل dھرنے کی جگہ نہ رہی۔ راوی کہتا ہے کہ اگر حضرت غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ اس دن مصلی حنبلی پر نماز نہ پڑھاتے تو حنبلی مذہب صفحہ ہستی سے مٹ جاتا۔

مزار سے نکل کر

ایک دن حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ امام احمد حنبل کی قبر کی زیارت کرنے کو اولیاء کرام کی جماعت کے ساتھ نکلے تو دیکھا کہ امام احمد ہاتھ میں ایک قمیض لئے قبر سے نکلے اور غوث اعظم کو دی اور معانقہ کیا پھر فرمایا سید عبدالقادر علم شریعت و طریقت اور علم حلال جاننے والے ایک آپ ہی ہیں۔ (رضی اﷲ تعالٰے جل شانہ عنہم اجمعین) (تفریح الخاطر، ص89)

فائدہ۔ اس سے ثابت ہوا کہ سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ حنبلی فقہ پر ازخود کاربند نہیں ہوئے بلکہ بحکم حبیبِ خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہوئے ہیں۔

حنفیت سے تعلق

ذکروا ان ابا حنیفۃ رضی اللہ عنہ التقی بالروحانیۃ مع الغوث فقال یا سلطان یا سید عبدالقader ماالسبب انک اخترت فی الشریعۃ مذھب الامام احمد بن حنبل وما اخترک مذھبی وانا ممن استغاض من جدک الامام جعفر الصادق رضی اللہ

منقول ہے کہ عالم ارواح میں سیدنا غوث اعظم سے سیدنا امام اعظم کی ملاقات ہوئی تو فرمایا اے سلطان اے سید عبدالقادر کیا وجہ ہے کہ آپ نے امام احمد حنبل کی تقلید قبول کی اور میری تقلید اختیار نہ فرمائی حالانکہ میں آپ کے دادا امام جعفر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا فیض یافتہ ہوں۔ اس کا جواب آپ نے وہی دیا جو اوپر مذکور ہے کہ نانا کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا حکم یہی ہے۔

ایک مخفی راز کا انکشاف

غیر مقلدین کی ٹولی نہ صرف معمولی دھوکہ کا دھندا کرتی ہے بلکہ چابکدستی سے بڑی بڑی کتابوں کو بزرگوں سے منسوب کر دیتے ہیں۔ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمہ اﷲ کے نام دو کتابیں چھاپیں اور دیگر بزرگوں کی تصانیف میں عبارت گھسیڑیں اور حال ہی میں غیر مقلدوں نے غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی کتاب غنیۃ الطالبین کو اردو ترجمہ میں ڈھال کر مع متن کے چھاپا اور اتنا بہادری فرمائی کہ کتاب میں بیس تراویح کے بجائے آٹھ تراویح لکھ مارا تاکہ عوام سمجھیں کہ غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی ان غیر مقلدین کی طرح آٹھ تراویح پڑھتے تھے چنانچہ ملاحظہ ہو۔

وھی احدی عشرۃ رکعۃ مع الوتر۔

اور تراویح وتر سمیت گیارہ رکعتیں ہیں۔ (غنیۃ الطالبین مکتبہ سعودیہ کراچی، ص739)

حالانکہ غنیۃ الطالبین دنیا کی کثیر الاشاعت مشہور کتاب ہے اور اس میں صاف لکھا ہے کہ صلوٰۃ التراویح سنۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وھی عشرون رکعۃ نماز تراویح سنت ہے اور اس کی بیس رکعت ہیں۔ (غنیۃ الطالبین کے عربی متن اور اس کے فارسی اردو ترجمہ کے ہر نسخہ میں یہ عبارت انہی الفاظ کے ساتھ موجود ہے) لیکن سنگدل اور بدیانت وہابی نے عشرون بیس کا اصل لفظ اڑا دیا اور عبارت میں اپنی طرف سے احدی عشرۃ (گیارہ) لفظ شامل کرکے مع الوتر کا بھی ازخود اضافہ کردیا۔ اس کی تفصیل دیکھئے فقیر کی کتاب ہدیۃ السالکین

سوال

غنیۃ الطالبین میں بدمذہب فرقے لکھے ہیں۔ ان میں یہ بھی لکھا ہے کہ حنفی بد مذہب ہیں اس لئے کہ وہ مرحبہء ہیں۔

الجواب

اولاً کتاب کا انتساب صحیح نہیں جیسا کہ تفصیل سے ہم نے عرض کر دیا ہے اگر ہو تو یہ عبارت کسی متعصب دشمن مذہب حنفی نے اس میں درج کی ہے اس کے متعلق چند شواہد ہیں۔

1۔ حضرت علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی رحمہ اﷲ تعالٰے اس کتاب کا ترجمہ فارسی میں لکھا جب اسی عبارت یعنی مذکورہ سوال کے اعتراض والی عبارت کا ترجمہ لکھا تو اس پر ضروری نوٹ کے طور لکھا کہ ،، یہ عبارت کسی متبدع نے ملا دی ہے۔

2۔ یہی بات قرین قیاس بھی ہے جیسا کہ ہمارے دور میں کراچی کے غیر مقلدین نے غنیۃ الطالبین مترجم چھاپی تو اس میں بیس تراویح کی جگہ پر آٹھ لکھ دی۔

3۔ اسی کتاب غنیۃ میں ہے۔ ایک فصل والذی یؤمر بہ ولا ینکر علی حزbin۔ ص53ج1۔ باندھ کر عوام کو تنبیہہ فرمائی ہے کہ فقیہ اور واعظ پر لازم ہے کہ مسائل اختلافیہ (جنہیں ائمہ اربعہ نے بیان کیا ہے) کا انکار نہ کرے یعنی نہ شافعی المذہب حنفی پع اعتراض کرے اور نہ حنبلی شافعی پر وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے کہ اس طرح سے جماعت میں انتشار پھیلانا ہے اور وہ ناجائز ہے۔ الخ اصل عبارت یہ ہے۔

یکن لاحد ممن ھو علی مذھب الامام احمد والشافعی رحمحما اللہ الانکاں علیہ۔۔۔ولا ینبغی للفقیہ ان یحمل الناس علی مذھبہ ولا یشدد علیھم واذ ثبت ھذا فالانکار انکا یتعین فی خرق الاجماع۔۔۔الخ

اس عبارت سے واضح ہوا کہ پیر پیران میر میران قدس سرہ کے نزدیک امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ صاحب حق اور سچے اور صحیح مذہب والے تھے اور ثابت ہوا کہ مذکورہ بالا عبارت جعلی ہے یہ کسی بدمذہب متعصب کی کاروائی یا مؤدل ہے۔

4۔ جامع الفتاوٰی ص235 ج2 میں مولانا نظام الدین ملتانی مرحوم لکھتے ہیں کہ کتب تواریخ و تصوف میں لکھا ہے کہ پیر صاحب مذہب حنفی کو اعلٰی جانتے تھے اور آخری عمر کے حصہ کو اسی مذہب پر پورا فرمایا۔

5۔ معترض نے اصل عبارت لکھی ہے اور نہ صفحہ کی نشاندہی کی ہے اگر اصل عبارت لکھا تو بات کا بتنگڑ نہ بن جاتا۔

اصل بات یوں ہے واما الحنیفۃ فھم بعض اصحاب ابی حaniۃ ص9 ج بہرحال حنیفہ کے بعض اصحاب ابو حنیفہ مرحبہء تھے اور یہ ہمارے لئے نقصان دہ کب ہے۔ جبکہ اصحاب کا اطلاق دوستوں کے علاوہ مذہبی دم بھرنے والے پر بھی ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب کا دم بھرنے والے دور سابق میں بذ مذہب تھے جیسے زمخشری اور اس کے معتقدین و متعلقین و تلامذہ نہ صرف حنفیت کے مدعی تھی بلکہ بڑی بڑی تصانیف لکھیں جیسے قنیہ وغیرہ اس طرح مرحبہء بھی اور ہمارے دور میں فرقہ دیوبندیہ حنفیۃ کا نہ صرف مدعی ہے بلکہ اصلی ٹھیکیدار بنا ہوا ہے یہاں تک کہ غیر مقلدین جب بھی ہم پر طعن و تشنیع کرتے ہیں تو ہمیں وہی کہتے ہیں حالانکہ ہمارے نزدیک بلکہ وہ خود معترف ہیں کہ وہ وہابی ہیں اور وہابیت خوارج کی شاخ ہے اس سے کوئی اگر خوارج (دیوبندی فرقہ) کے عقائد لکھ کر کہے کہ حنفی یہ کہتے ہیں تو جیسے یہ خوارج (دیوبندی فرقہ) کو لوگ حنفی سمجھیں گے۔ لیکن در حقیقت وہ حنفیت سے کوسوں دور ہیں ایسے ہی وہ اصحاب الحنفیہ بھی ایسے ہی مرحبہء ہونگے جیسے ہمارے دور میں دیوبندی حنفی ہیں۔

معمولات و عقائد کے متعلق ارشادات غوثیہ

سیدنا امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ اگر آل محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا نام رفض تو میں سب سے بڑا رافضی ہوں ایسے ہی سیدنا غوف اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مندرج ذیل عقائد و معمولات کا نام وہابیت ہے تو سب سے بڑا وہابی اویسی ہے۔

وہابی غیر مقلدین ہمارے پیر بھائی

یہ کوئی مزاحیہ عنوان نہیں بلکہ موضوع رسالہ بھی یہی ہے کہ غیر مقلدین وہابی غنیۃ الطالبین سر پر رکھ کر ہر سنی (بریلوی) حنفی کو دکھاتے پھرتے ہیں کہ تمہارے غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نماز میں رفعیدین وغیرہ کرتے تھے لٰہذا وہ وہابی تھے۔ بلکہ حضور قطب الاقطاب غوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے متعلق غیر مقلدین وہابیوں کے سردار اور مقتدی مولوی ثناء اﷲ امرتسری رقمطراز ہیں کہ ہم جماعت اہل حدیث کے افراد یہ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت الشیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ بڑے پکے موحد اور پورے متبع سنت تھے جن کو آج کل کی اصطلاح میں اہلحدیث کہا جاتا ہے۔ (اہل حدیث ص3، 7جون 1940ء)

تبصرہ اویسی غفرلہ

آج کل کی اصطلاح برحق اس لئے کہ وہابی غیر مقلد انہی دنوں میں رجسٹرڈ ہوئی تھی ورنہ یہ اصطلاح تو خیرالقیرون سے چلی آرہی ہے ورنہ یہ وہابی اسی طرح کے اہلحدیث ہیں جیسے پرویزی چکڑالوی (منکرین حدیث) اہلِ قرآن اگر واقعی انہیں حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے سلسلہ میں شمولیت کا شوق ہے تو بسروچشم و دل ماشاد، اگر بقول ان کے غوث اعظم ان کی جماعت کے تھے آئیے ہم سب پیر بھائی بن جائیں۔

فقیر اپنے وہابی پیر بھائیوں کیلئے حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تصانیف سے ان کے عقائد و معمولات مختصراً عرض کرتا ہے۔

اعتقاد

اعتقاد کا درست کرنا واجب ہے کیونکہ یہ بنیاد ہے۔ فیکون علٰے عقیدۃ السلف الصالح اھل السنۃ۔ پس وہ عقیدہ اہلِ سنت ہے جو سلف صالحین کا عقیدہ تھا۔ (غنیۃ الطالبین، ص836)

فرقہ ناجیہ

بہتر فرقوں میں سے نجات پانے والے فرقے کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں الفرقۃ الناجیۃ فھی اھل انسۃ والجماعۃ نجات پانے والا فرقہ اہل سنت و جماعت ہی ہے۔ (غنیۃ الطالبین، ص192)

تبصرہ اویسی

میرے وہابی پیر بھائیوں کو محمد بن عبدالوہاب کے عقائد سے توبہ کرکے اہلسنت کے عقائد کا اعلان کرنا چاہئیے ویسے بھی وہ محمد بن عبدالوہاب سے منسوب ہونا گوارہ نہیں کرتے اسی لئے تو انگریز کو درخواست دی کہ ہم کو وہابی کہنے کے مجرم کو سزا دی جائے۔ اسی طرح بحکم غوث اعظم خود کو اب اہلحدیث کے بجائے اہلسنت کہلوائیں۔

لمبی داڑھی یا ایک مشت داڑھی

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کان یقبض علٰی لحیتہ فما فضل عن لحیتہ جذہ۔ اپنی ڈاڑھی کو مٹھی سے پکڑتے تھے اور مٹھی سے زائد بالوں کو کاٹ دیتے تھے اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے تھے۔ خذوا ما تحت القبضۃ یعنی مشت سے زائد داڑھی کے بال کاٹ دو۔ (غنیۃ الطالبین، ص33)

مونچھیں کٹوانے کا جواز اور منڈوانے کی ممانعت

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لیس منا من خلق الشارب ولان فی ذالک ممثلۃ وذھابا لبھاء الوجہ وجملہ وفی بقاء اصول الشعر زینۃ وجمال۔جس شخص نے مونچھیں منڈوائیں وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس واسطے کہ اس میں بچہ پن ہے اور چہرے کی رونق چلی جاتی ہے اور چہرے کی خوبصورتی اور زینت مونچھوں کی جڑوں کو باقی رکھنے میں ہے یعنی کٹوانے میں ہے مندوانے میں نہیں۔ (غنیۃ الطالبین، ص33)

تبصرہ اویسی

یکمشت سے زائد داڑھی اکثر کی حماقت کی نشانی ہے اور سنت بھی یکمشت ہے اسی لئے ہمارے پیر بھائی وہابیوں کو یکمشت سے زائد داڑھی کٹوانی چاہئیے اس پر جتنا خرچ آئیگا وہ فقیر اویسی ادا کریگا۔ اطلاع دے کر ممنوع فرمائیں۔

داڑھی مبارک

داڑھی کا رکھنا سنتِ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ مرد کیلئے زینت بھی ہے یہی وجہ ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام سے لیکر زمانہ رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تک اس کے خلاف کسی کو اعتراض نہ تھا یہاں تک کہ غیر مسلموں کے پیشواؤں کو بھی داڑھی والا پایا گیا انگریز نے محض اسلام دشمنی میں اس کی مخالفت میں ایڑی چوٹی پر متفق رہے صرف حد بندی میں اختلاف رہا۔ اہل سنت مع فضلائے دیوبند قبضہ کے قائل تھے، غیر مقلدین قبضہ کی پابندی کے خلاف رہے۔ مودودی نے آکر تمام حدیں توڑ دیں اب اس کی تقلید میں اہلسنت کے بعض ٹیڈی مجتہد اس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہے تھے۔ یہ ان کی حرمان نصیبی ہے۔ داڑھی کے متعلق فقیر کے متعدد رسائل شائع ہوئے اور امام اہلسنت مجدد دین و ملت شیخ الاسلام والمسلمین کی کتاب اعفاء اللحیہ سے بڑھ کر کوئی بڑی تحقیق نہیں لا سکتا۔ شائقین اس کا مطالعہ فرمائیں فقیر محض مسئلہ کی توضیح میں عرض کرتا ہے۔

داڑھی کی مقدار

اہلسنت متقدمین و متاخرین متفق ہیں کہ مٹھی بھر داڑھی رکھنا سنت ہے اس کے بعد صرف جائز ہے علماء کرام و مشائخ عظام کی اکثریت اسی مٹھی بھر کی قائل و عامل ہے بعض جواز پر بھی عمل کرتے رہے غیر مقلدین صرف اہلسنت کے ضد میں صرف جواز کے قائل ہیں۔ مودودی نے نیا راستہ نکال کر کہا کہ مٹھی سے کم بھی جائز ہے۔ آج کل فیشنی مولوی اور پیر سنی عموماً اور مودودی جماعت کے افراس اسی کے عامل و قائل ہیں۔یاد رہے کہ کہ کتاب احکام اللحیہ کی روایات میں مطلق اعفوا اللحی داڑھیاں بڑھاؤ اور حضور علیہ السلام کے حلیہ مبارک میں بھی آپ کے لئے کث اللحیہ انبوہ دارداڑھی مبارک والے کا لفظ ہے حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے بارے میں منقول ہے کان کث اللحیہ (استیعاب) حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے بارے میں بھی کان عظیم اللحیہ۔ (اصابتہ) کے الفاظ وارد ہیں۔

مدارج النبوۃ میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں۔

لحیہٰ امیرالمؤمنین علی پُرمی کرد سینہ را۔ و ہمچنیں لحیہء عمر و عثمان۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ اور حضرت عثمان کی داڑھیاں ان کے سینوں کو بھر دیتی تھیں۔

ان تمام روایات و اقوال اور قولی و عملی تصریحات سے داڑھی کا بڑھانا اور لمبا کرنا ایک قبضہ (مشیت بھر)کی تعمیم کرتی ہیں اور مذکورہ احادیث کی تخصیص کیلئے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہ کا ذاتی عمل پیش کرتی ہے جو بخاری شریف باب اللباس میں اس طرح منقول ہے۔

کان ابن عمر اذا حج اواعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل اخذہ۔

ابن عمر جب حج یا عمرہ کرتے تو داڑھی کا جو حصہ ایک قبضے سے زیادہ ہوتا اسے کٹوا دیتے۔

اس کے علاوہ ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے بارے میں ایسا ہی منقول ہے۔ (ابو داؤد و نسائی و ابن ابی شیبہ)

حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مقدار مسنون کی آخری حد کو اپنے عمل سے بیان فرمایا کہ داڑھی کٹوانے کی آخری حد ایک مشت ہے۔ یعنی ایک مشت سے زیادہ کٹوانا جائز ہے اور ایک مشت سے کم کرنا اور کٹوانا بالاتفاق حرام اور خلافِ اجماع ہے کئی علماء و محققین نے حضرت ابن عمر کے اس عمل کو بیانِ جواز پر محمول کیا ہے اور اس طرح تمام روایات میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے، اب اگر کوئی شخص داڑھی کٹوانا چاہے تو مٹھی بھر سے زیادہ بوجہء روایت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کٹوا سکتا ہے اور اس سے کم کٹوانا حرام ہے اور اگر بالکل نہ کٹوائے تو اولی و احسن اور مختار ہے شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص داڑھی کو مٹھی بھر سے زیادہ کٹوانا چاہے تو جائز ہے کیونکہ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ایسا ثابت ہے۔

مسائل فقہیہ اور وہابیہ

پیرصاحب نے نماز میں نیت کرنا زبان سے احسن لکھا ہے چنانچہ (غنیۃ الطالبین، ص86) میں فرماتے ہیں وان تلفظ ذالک بلسانہ کان احسن۔

وضو و تیمم کی نیت کے بارے میں فرماتے ہیں۔ فان ذکر ذلک بلسانہ مع اعتقادہ بقلبہ کان قد اتے بالفضل(ص6)اور نماز جنازہ کی نیت میں فرماتے ہیں۔ وصفتھا ان یقول اصلی علی ھذا المیت فرضا علی الکفایۃ۔پھر غسل کی نیت میں فرماتے ہیں فان تلفظ بہ مع اعتقادہ بقلبہ کان افضل۔

ان سب عبارات کا ماحصل ترجمہ یہ ہے کہ زبان سے نیت کرنا (نماز کی وضو کی تیمم کی جنازہ کی)افضل اور احسن ہے۔

اب دیکھو کس کی نماز موافق تعلیم بڑے پیر کی ہے ہم لوگ زبان سے نیت کرنا افضل اور احسن کہتے ہیں اور یہی پیر صاحب فرماتے ہیں مگر آپ ہیں کہ نیت کو بدعت کہتے ہیں تو آپ ہی انصاف فرمائیں کہ پیر صاحب کے موافق کون ہے۔

2۔ پیر صاحب نے غنیہ میں گردن کا مسح وضو کی سنتوں میں لکھا ہے۔ (دیکھو غنیہ ص8 )

اور آپ ہیں جو اس کو بدعت کہتے ہیں آپ فرمائیے کہ پیر صاحب کے قول کے موافق کون ہے۔ ہاں یہ بھی یاد رہے کہ بدعت کو سنت جاننے والا کون ہوتا ہے اور سنت کو بدعت کہنے والا کون۔ ذرا سوچ سمجھ کر جواب دینا۔

3۔ پیر صاحب غنیہ ص33 میں لکھتے ہیں کہ زائر قبر شرید یوں دعاء کرے اللھم انی اتوجہ الیک بنبیک علیک سلامک نبی الرحمۃ یارسول اللہ وانی اتوجہ بک العربی لیغفرلی ذنوبی۔ اے خدا میں تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں بوسیلہ نبی پاک علیہ السلام جو نبی رحمت ہے یارسول اللہ میں متوجہ ہوتا ہوں تیرے ساتھ اپنے رب کی طرف تاکہ وہ میرے گناہ بخشے۔

پیر صاحب بعد وفات آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو یارسول اللہ کہنا بلکہ آپ کے وسیلہ سے دعا مانگتا سکھاتے ہیں مگر وہابی ہیں جو اسے شرک کہتے ہیں۔ فرمائیے پیر صاحب ہمارے موافق ہوئے یا آپ کے۔

4۔ غنیہ مری ص34 میں فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اسی طرح کہے السلام علیکما یا صاحبی رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علیک یا ابا بکر الصدیق السلام علیک یا عمر الفاروق۔ دیکھو پیر صاحب نے بلفظ یا مخاطب کرکے سلام کہنا درست لکھا ہے کیا آپ اس کے موافق ہیں ؟

5۔ غنیہ ص36 میں پیرصاحب نے قیام تعظیمی مستحب لکھا ہے چنانچہ فرمایا ویستحب القیام الامام العادل اولوالدین واھل الدین والورع واکرم الناس۔ یعنی مستحب ہے کھڑا ہونا مستحب ہے یہ حضرت پیر صاحب کا ارشاد ہے لیکن ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اس قیام کو جائز نہیں سمجھتے پھر انصاف سے فرمائیں کہ وہ پیر صاحب کے موافق ہیں یا مخالف۔

6۔ پیر صاحب جمعہ کیلئے ایسا گاؤں شرطِ صحت جمعہ لکھتے ہیں جس میں چالیس آدمی عاقل بالغ احرار رہتے ہوں چنانچہ فرماتے ہیں فکل من لزمۃ الصلوٰۃ الخمس یاسن مہ فرض الجمعۃ اذا کان مستوطنا مقیما ببلدا وقریۃ حامعۃ فیھا اربعین رجلا عقلاء بلغاء احرار۔

یعنی جس پر پانچ نمازیں فرض ہیں اس پر جمعہ بھی لازم ہے جب وطن میں مقیم ہو شہر میں یا ایسے گاؤں میں جس میں چالیس آدمی، عاقل بالغ احرار ہوں لیکن وہابی ہر جگہ فرض کہتے ہیں۔ چالیس آدمی کو شرط نہیں مانتے تو پیر صاحب کے مخالف ہوئے یا نہیں۔

7۔ پیر صاحب نے غنیۃ میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب کوئی مر جائے اور تم اس پر مٹی برابر کر دو تو چاہئیے کہ تم میں سے ایک اس کی قبر پر کھڑا ہو اور کہے اے فلاں بن فلاں تحقیق وہ مردہ سنتا ہے اور جواب نہیں دیتا دیکھو پیر صاحب تو مردہ کا سننا نقل کرتے ہیں لیکن آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ مردہ نہیں سنتا۔

8۔ غنیہ ص654 میں پیرصاحب فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کو جائز لکھتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں فالرابج من یرفع یدیہ بالدعاء الی اللہ اذا فرغ من الصلوٰۃ المکتوبۃ والخاس ھوالذی حزج من المسجد بلا دعاء کہ نفع اٹھانے والا شخص وہ ہے جس نے نماز فرض کے بعد فراغت حاصل کرکے دعاء کیلئے اللہ تعالٰی کے آگے ہاتھ اٹھائے اور خاسر وہ ہے جو مسجد سے بلا دعاء نکل گیا۔

یہ پیر صاحب کا ارشاد ہے لیکن حضرات غیر مقلدین اسے بے ثبوت جانتے ہیں اب دیکھئے کون اس ارشاد پر عمل کرتا ہے اور کون اس کا مخالف ہے۔

9۔ پیر صاحب غنیہ میں فرماتے ہیں ونومن بان المیت یعرف من تزدرہ اذا تاہ۔ کہ ہمارا ایمان ہے کہ میت کے پاس جب کہ زائر آئے وہ اسے پہچانتی ہے یہ ہے پیر صاحب کا ارشاد لیکن غیر مقلدین نہیں مانتے۔

پیر صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کے دن عرش پر اپنے پاس بٹھائے گا۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ واھل السنۃ یعتقدون ان اللہ یجلس رسولہ ونبیہ المختار علی سائر رسلہ وانبیائہ معہ علی العرش یوم القیمۃ۔ فرمائیے کیا آپ بھی یہ مانتے ہیں ؟ ہرگز امید نہیں۔

10۔ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات اپنے رب کو سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ چنانچہ فرمایا، ونومن بان النبی صلی اللہ علیہ وسلم رای ربہ عزوجل لیلۃ الاسراء یعنی راسہ لا بفوادہ بعلنی راسہ ولا فی المنان ص159 مگر وہابیہ نہیں مانتے۔

11۔ پیر صاحب دعا مانگتے ہیں کہ حق سبحانہ و تعالٰے ان کو ازروئے اعتقاد و عمل امام احمد کے مذہب پر مارے اور اسی پر حشر کرے چنانچہ فرماتے ہیں قال الامام ابو عبداللہ احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی واماتنا علی مذھبہ اصلا وفرحا وحشرنا فی زموتہ (ص871 )

اس سے معلوم ہوا کہ آپ حنبلی تھے۔ اکابر اہلحدیث نے اس امر کا اقرار کیا ہے کہ پیر صاحب حنبلی تھے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ نے امام احمد کے مذہب کے اتباع میں جمعہ کی نماز کا وقت قبل از زوال لکھا ہے تو مقلد ہونے میں وہ ہمارے موافق ہیں وہ اپنے امام کی تقلید میں جو مسئلہ لکھتے ہیں وہ ہم پر حجت نہیں ہے۔ ہم اپنے امام کے مقلد ہیں۔ وہ اپنے امام کے۔ اگر آپ کو پیر صاحب کا اتباع ہے تو مسائل مذکورہ بالا کے علاوہ تقلید میں بھی انکا اتباع کرو۔ امام صاحب کی تقلید اگر ناگوار ہے تو نہ سہی۔ امام احمد حنبل کی ہی کرو۔

12۔ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ جس مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے یعنی ایک شخص امام صاحب کا مقلد ہو کر عاقلہ بالغہ نکاح بغیر دلی کرتا ہے یا نانبیذ پیتا ہے تو امام احمد اور شافعی کے مقلد کو اس پر انکار جائز نہیں چنانچہ فرماتے ہیں اما اذا کان الشئی مما اختلف الفقھاء فیہ وساغ فیہ الاجتھاد کشرب عامی النبیذ مقلد الابی حنیفۃ وتزدج اصرۃ بلادلی ما عرف من مذھبہ لم یکن لاحد ممن ھو علٰی مذھب الامام احمد و شافی الانکار علیہ۔ ص143۔

دیکھو پیر صاحب امام اعظم کے مقلد کو دوسرے امام کی تقلید سے روکنے کو منع فرماتے ہیں اگر ان کے نزدیک تقلید آئمہ جائز ہوتی تو ایسا کیوں لکھتے معلوم ہوا کہ پیر صاحب مقلد کے لئے امام صحیح اور حق سمجھتے ہیں۔

13۔ غنیہ کے ص871 میں پیر صاحب ایک حدیث لکھتے ہیں جس میں حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جب امام تکبیر کہے تو تکبیر کہو جب پڑھے تو چپ رہو۔ جب غیر المغضوب علیہم والاضالین کہے تو آمین کہو۔ حدیث کے لفظ یہ ہیں۔ اذاکبر الامام فکبرو واذا قرء فانصتوا واذا قال غیر المغضوب علیھم ولااضالین فقولو آمین۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تکبیر کے بعد جب امام الحمد پڑھے۔ مقتدی خاموش رہے جب ولاالضالین کہے تو آمین کہے اگر خاموش رہنا بوقت ضم سورۃ ہوتا تو فقولوا آمین کے بعد آتا ہے یہ حکم ولاالضالین پڑھنے سے پہلے آیا ہے اس لئے مقتدی کو خاموش رہنا پیر صاحب کے نزدیک لازم ہوا۔ ہاں پیر صاحب امام احمد بن حنبل کے مقلد تھے اور امام احمد قراۃ سورۃ فاتحہ کو نماز میں فرض قرار نہیں دیتے ملاحظہ ہو جامع ترمذی۔

14۔ پیر صاحب ص105 میں فرماتے ہیں کہ گیارہ بار قل شریف اور قرآن شریف پڑھ کر صاحب قبر کو اس کا ثواب بھیجے چنانچہ فرمایا۔ وقبرء احدی عشرۃ مرۃ قل ھواللہ احد وغیرھا من القرآن ویھدی ثواب ذلک لصاحب القبر۔ لیکن اخبار اہلحدیث میں تصریح ہے کہ محدثین کے نزدیک قرآن کا ثواب مُردہ کو نہیں پہنچتا دیکھو اخبار 6 جولائی 28ء اور 10اگست 28ء اور 29مارچ 29ء مگر پیر صاحب کے نزدیک پہنچتا ہے۔

15۔ پیر صاحب ص567 میں فرماتے ہیں کہ نماز تراویح بیس ہے چنانچہ فرمایا۔ وھی عشرون رکعۃ۔ لیکن آپ ہیں کہ بیس رکعت تراویح نہیں مانتے۔

16۔ پیر صاحب غنیہ صفحہ977میں خدا کے مقبولین کے ذکر میں فرماتے ہیں فیکون من اٰمناء اللہ وشھداء واوارضہ وشحت عبادہ وبلادہ واجائہ واخلائہ۔ وہ شخص اللہ تعالٰے کے امینوں میں سے ہو جاتا ہے اور اس کے گواہوں سے اور اس کے اوتاد سے اور اس کے بندوں اور شہروں اور دوستوں یا ان کا نگہبان ہو جاتا ہے اسی مضمون کو آپ نے فتوح الغیب کے چوتھے مقالہ میں ذکر کیا ہے جہاں فرمایا ہے۔ فتکون شحنۃ البلاد والعباد۔ یہ ہے پیر صاحب کا ارشاد۔ کیا آپ بھی مقبولان بارگاہ الٰہی کو شحنہ البلا والعباد سمجھتے ہیں یا ایسا کہنا آپ کے نزدیک شرک ہے۔

17۔ پھر صاحب فتوح الغیب مقالہ میں فرماتے ہیں بک تنکشف الکروب وبک تسقی الغیوث وبک تنبت الزروع وبک یدفع البلاء والمحن عن الخاص العام۔ کہ تیرے وسیلے سے سختیاں دور ہونگی اور تیرے طفیل مینہ برسیں گے اور زراعتیں ہونگی تیرے ذریعہ سے بلالیں خاص و عدم سے دور ہوں گی۔ آپ لوگوں کا بھی یہی عقیدہ ہے جو پیر صاحب فرماتے ہیں ؟

18۔ پیر صاحب فتوح الغیب مقالہ تیرھواں میں فرماتے ہیں۔ قال اللہ فی بعض کتبہ یا ابن آدم انا للہ لاالہ الا انا اقول مسی کن فیکون اطعنی اجعلک تقول للشی کن فیکون۔ اے ابن آدم میں اللہ ہوں کوئی معبود نہیں مگر میں میں کہتا ہوں کسی شے کو ہو جا وہ ہو جاتی ہے تو میرا تابعدار ہو تو تمہیں بھی ایسا کرودنگا تو بھی کسی شئے کو کہے کہ ہوگا تو وہ ہو جائے گی کیا آپ بھی مانتے ہیں کہ خدا کے مقبول بندہ کو تکوین می دخل ہے۔

19۔ پیر صاحب غنیہ ص997 میں فرماتے ہیں کہ ہر مُرید کیلئے پیر لازم ہے چنانچہ فرماتے ہیں فلا من کن مرید اللہ عزوجل من شیخ علی ما بینا۔ کیا آپ کا بھی کوئی پیر ہے ؟ پھر پیر صاحب فرماتے ہیں کہ مرید کا اپنے پیر کہ حق میں اعتقاد ہونا چاہئیے کہ اس زمانہ میں میرے پیر سے زیادہ کوئی بزرگ نہیں۔ تاکہ اس سے نفع اٹھائے۔

اب فرمائیے کہ موجودہ اہلحدیث کہلوانے والے احباب کس پیر کے مُرید ہیں اگر ہیں تو نعم الوفاق اگر نہیں تو پیر صاحب کے قول کے مخالف۔

غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے دعاوی مبارکہ

سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے بہت سے ایسے دعوے کئے ہیں جنہیں وہابی غیر مقلد کفر و شرک سمجھتے ہیں بلکہ ان کی اہلسنت سے لڑائی بھی غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے ان دعاوی کو حق تسلیم کرنے کی وجہ سے ہے۔ چند دعاوی یہاں عرض کر دوں۔

1۔ شیخ المحدثین سیدنا شاہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ زبدۃ الآثار میں لکھتے ہیں۔

قال رضی اللہ عنہ یا ابطال یا اطفال ھلموا وخذوا عن ھذا البحر الذی لا ساحل لہ وعزۃ ربی ان السعدا والاشقیاء یعرضون علی وان بوبوء ۃ عینی فی اللوح المحفوظ وانا غائض فی بحار علم اللہ۔

اے بہادر والے فرزندو آؤ اور اس دریا سے کچھ لے لو۔ جس کا کنارہ ہی نہیں قسم ہے اپنے رب کی تحقیق نیک بخت اور بدبخت لوگ مجھ پر درپیش کئے جاتے ہیں اور ہمارا گوشہء چشم لوح محفوظ میں رہتا ہے اور میں اللہ کے علموں کے سمندروں میں غوطے لگا رہا ہوں۔

فائدہ:۔ یہ مقولہ سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا بہجۃ الاسرار سے منقول ہے اور بہجۃ الاسرار ملفوظات غوثیہ ایسے ہی مستند ہے جیسے کتب احادیث میں بخاری شریف۔

2۔ قصیدہ غوثیہ میں آپ کا شعر ذیل مشہور ہے۔

نظرت الی بلاد اللہ جمیعا لخردلۃ علی حکم الصالی

ہم نے اللہ کے سارے شہروں کو اس طرح دیکھ لیا جیسے چند رائی کے دانہ ملے ہوئے ہیں۔

3۔اور فرمایا۔

کسانی خلعۃ بطر از عزم وتوجنی بتیجان الکمال

یعنی ذرہ نواز خدائے قدوس نے مجھے الووعزمی کی پوشاک مرحمت فرمائی ہے جس پر نقش و نگار ہیں اور کمالیت کا تاج میرے سر پر رکھا ہے تمام ولیوں اور قطبوں کا مختار بنایا۔ میرا حکم ہر وقت اور ہر حال میں۔

4۔ اور فرمایا۔

افلت شمرس الاولین وشمسنا ابدا علی افق العلی لا تغرب

ہم سے پہلے لوگوں کے سورج غروب ہوگئے اور ہمارا آفتاب ہمیشہ افق پر رہیگا اور کبھی غروب نہ ہوگا۔

انتباہ

وہابی مانے یا نہ مانے غوث پاک رضی اللہ عنہ کا یہ دعوٰی نقد سودا ہے کہ جب سے غوث پاک رضی اللہ عنہ کی ولایت کا غلغلہ چارد انگ عام ہوا تاحال ہر روز نئی آن اور نئی شان سے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ نے فرمایا۔ ورفعنالک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر
یہ گھٹائیں اسے منظور ہے بڑھانا تیرا

ارشادات

آپ کے دیگر ارشادات بھی ملاحظہ ہوں۔

والامناء علی السرائر والخفیات۔

اللہ تعالٰے عزوجل نے اولیاء اللہ کو لوگوں کے دلوں کے بھیدوں اور نیتوں پر مطلع فرمایا ہے کیونکہ میرے نے ان کو دلوں کو ٹٹولنے والا اور پوشیدہ باتوں کا امین بنایا ہے۔ (غنیۃ الطالبین ص831، 832 )

2۔ اور فرمایا۔

ثم یجلس علی کرسی التوحید ثم یرفع عنہ الححب

پھر ولی توحید کی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر اس سے تمام حجابات اور پردے دور کر دئیے جاتے ہیں۔ (غنیۃ الطالبین ص862 )

فائدہ:۔ یہ وہ ارشاد ہے جسے وہابیہ کفر کے فتوٰی جاری کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

3۔ ولایت پر فائز ہونے والے کو فرماتے ہیں۔

فحنیذ تؤمن علٰے الاسرار والعلوم والعلوم المدینۃ وغرئبھا ویرد لیک التکوین وخرق العادات التی ھی من قبیل القدرۃ التی تکون للمؤمنین فی الجنۃ فتکون فی ھذہ الحالۃ کانک احییت بعدا الموت فی الاخرۃ فتکون کلیتک قذرۃ تسمع باللہ وتنطق باللہ وتبصر باللہ قتبطش باللہ وتسعی باللہ وتعطل باللہ۔

پس اس تمام اسرار ہائے خفیہ علم لدنیہ اور اس کے عجائب و غرائب کے امین اور محروم بن جاؤ گے اور تمہیں کائنات کی تکوین اور اس پر تصرف حاصل ہو جائے گا اور تم سے قدرت کی قسم سے وہ خوارق عادات اور کرامات صادر ہوں گی جو مومنین کو جنت میں حاصل ہوں گی پس تم اس حالت میں ایسے ہو جاؤ گے گویا مرنے کے بعد آخرت میں زندہ کئے گئے ہو اور تم کو پوری قدرت حاصل ہوگی تم اللہ تعالٰی کے ساتھ سنو گے اسی کے ساتھ دیکھو گے اسی کے ساتھ بولو گے۔

تراویح

نماز تراویح کے متعلق فرماتے ہیں کہ نماز تراویح نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کی سنت ہے۔ ھی عشرون رکعۃ۔ اس کی تعداد بیس رکعات ہے۔ (غنیۃ الطالبین ص489 )

ہاتھوں کو بوسہ دینا

ان تعانقا وقبل احدھما راء س الاخر ویدہ علی وجہ التبرک والتدین جاز

اگر دو شخص بغلگیر ہوں اور ایک دوسرے کا سر اور ہاتھ دیندار اور متقی ہونے کی بناء پر تبرکاً چومیں تو یہ جائز ہے۔ (غنیۃ الطالبین ص31)

قیام تعظیمی

یستحب القیام للامام العادل والوالدین والورع واکرم الناس۔

عادل بادشاہ، والدین، دیندار، پرہیزگار اور بزرگ آدمی کی تعظیم کیلئے کھڑا ہونا مستحب ہے۔ (غنیۃ الطالبین ص31)

اولیاء اللہ کو علم غیب

اولیاء اللہ کے علم غیب کے متعلق فرماتے ہیں۔

یکشف لھم عن الملکوت تضی لھم الواع العلوم من الجبروت وینقون غراب الحکم والعلوم ویطلعون علٰے ماغاب عنھم الاقسام والحفوظ۔

اولیاء اللہ پر عالم ملکوت منکشف ہو جاتا ہے اور ان پر عالم جبروت کے کئی قسم کے علوم روشن ہو جاتے ہیں عجیب و غریب علوم اور حکمتیں ان پر القاء کئے جاتے ہیں اور کئی قسم کی غیبی خبروں سے مطلع ہوتے ہیں۔ (غنیۃ الطالبین)

اذا طلبت اللہ بالصدق اعطاک مراۃ تبصر فیھا کل شیی من عجائب الدنیا والاخرۃ۔

جب تو اللہ کا سچائی سے طالب ہوگا تو اللہ تعالٰی تجھے ایک باطنی آئینہ عطاء کریگا جس میں تو دنیا اور آخرت کے تمام عجائبات دیکھے گا۔ (غنیۃ الطالبین ص927)

ھو عزوجل اطلعھم علے ما اضمرت قلوب العباد وانطرت علیہ النیات اذ جعلھم ربی جراسیس القرب۔

اسی کے ساتھ پکڑو گے۔ اسی کے ساتھ چلو گے اسی کے ساتھ سوچو گے۔ (فتوح الغیب عربی مقالہ نمبر 40 غنیۃ الطالبین ص833 )

4۔ جب انسان فنافی اللہ ہو جاتا ہے اور یہ ولایت اور ابدالیت کا انتہائی درجہ ہوتا ہے۔

ثم قد یرد الیہ التکوین فیکون جمیع ما یحتاج الیہ باذن اللہ۔

پھر اس کو کائنات پر تصرف کرنے والا بنا دیا جاتا ہے پس وہ جس امر کی خواہش کرتا ہے تو اللہ تعالٰی کے حکم سے اسی طرح ہو جاتی ہے۔ (فتوح الغیب مقالہ نمبر 46)

بک تنکشف الکروب وبک تسقی الغیوث وبک تنبت الزروع وبک تدفع البلایا والمحن عن الخاس والعام۔

تمہاری طفیل لوگوں کے غم، تکالیف اور سختیاں دور ہو جائیں گی اور تیری دعاء اور برکت سے بارش ہوگی۔ تیرے وسیلے سے کھیت اگائے جائیں گے اور تمہاری امداد سے خاص وعام بندوں کے مصائب و آلام اور بلیات دور کی جائیں گی۔ (فتوح الغیب مقالہ نمبر4)

قصیدہ غوثیہ شریف

قصیدہ غوثیہ شریف کا ایک ایک شعر وہابیہ کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں چند اشعار تبرکاً ملاحظہ ہوں۔

واطلعــنی عـلـی سر قــدیم

وقلدنی واعطانی سؤالی

مجھے ہے سر قرآن سے نوازا تاج پہنایا
جوکچھ مانگامجھے دیتارہا خالق اکبر

وولانی ولی الاقطاب جمعا

فحکمی نافذ فی کل حال

مجھے حق نے تمام اقطاب کا حاکم بنایا ہے
مرا ہر حال میں حکم نافذ ہے زمانے پر

فلوا القیت سری فی بحار

لصار الکل غور فی الزوال

جو دریاؤں میں اپنا راز ڈالوں آب ہو غائب
خدا کی شان سے ہر کبر ہونا پید پیدا بر

ولو القیت سری فی جبال

لدکت واختفت بین الرمال

اگر ڈالوں میں اپنا راز پتھر کے پہاڑوں میں
تو ریگ دشت کے ذروں میں گم ہو جائیں پس پس کر

ولو القیت سری فوق نار

لخمدت وانطفت من سر حالی

اگر ڈالوں میں اپنا راز لوگو!جسم بے جان پر
خدائے پاک کی قدرت سے اٹھے زندگی پاکر

وما منھا شھور او دھور

تمر وبنقضی الا اتالی

زمانہ یا مہینہ ایسا دنیا میں نہیں آتا
غلامانہ سلامی جو نہ دے پہلے مرے در پر

وتخبرنی بما یاتی ویجری

او تعلمنی فاقصر عن جدالی

مجھے ماضی و مستقبل سے خود آگاہ کرتا ہے
مرا تابع ہے سara وقت چپ منکر خود سر

مریدی ھم وطب واشطح وغنی

وافعل ما تشا فالاسم عالی

مرے طالب نڈر ہو مست ہوا اور گیت گلاجا
مرے صدقے خدا کا فضل ہے تجھ پر جو چاہے کر

مریدی لاتخف اللہ ربی

اعطانی رفعۃ نلت المنالی

مرے طالب نہ ڈر اللہ میرا رب ہے اور اس نے
وہ دی رفعت کیا ہر آرزو سے مجھ کو بہرہ ور

بلاد اللی ملکی تحت حکمی

ووقتی قبل قلبی قد صفالی

خدا کے شہر میرا ملک ہیں میں ان کا حاکم ہوں
کہ تھا قبل از ولادت بھی مرا دل اوج صفوت پر

نظرت الی بلاد اللی جمعا

کخردلۃ علی حکم اتصال

خدا کے شہر سب کے سب ہیں یوں پیش نظر میرے
کہ جیسے سامنے ہوں رائی کے دانے ہتھیلی پر

مریدی لا تخف واش فانی

عزوم قاتل عند القتال

کہاں مجھ سا عدوکش اور صاحب عزم میدان میں
کسی بدگو سے اے مرے مریدیا صفا مت ڈر

تمت بالخیر