دیباچہ
امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کا ترجمہ
امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے لفظ نبی کا ترجمہ "غیب کی خبریں دینے والا" کیوں کیا؟
مقدمہ
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ` (القرآن)
ترجمہ قرآن "کنزالایمان" میں "النبی" کے ترجمہ "غیب کی خبریں دینے والا" پر معاندین کے تمام اعتراضات کے مدلّل اور مسکت جوابات
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَىٰ آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ
معاند کے اعتراضات
ابھی چند روز پہلے اسی رمضان شریف (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶ء) میں فیصل آباد سے ایک پمفلٹ کی فوٹو کاپی بذریعہ ڈاک موصول ہوئی، اس پمفلٹ کا لکھنے والا کوئی شدید معاند معلوم ہوتا ہے، جسے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ سے انتہائی بُغض ہے، وہ اعلیٰ حضرت کے معتقدین کو ملتِ بریلویہ سے تعبیر کرتا ہے۔
معاند مذکور نے مسئلہ علم غیب کے ضمن میں لکھا ہے:
پہلا اعتراض
اصطلاحی نبی کے معنی غیب کی خبردینے والے کے نہیں۔
دوسرا اعتراض
اصطلاحی نبی نبأٌ سے ماخوذ نہیں، بلکہ اصطلاحی نبی نَبْوَۃٌ یا نباوَۃٌ سے ماخوذ ہے، اُس نے اپنی تائید میں ائمۂ لغت کی جو عبارات نقل کیں، سب میں قطع و برید اور انتہائی خیانت سے کام لیا اور بعض مقامات پر اپنی جہالت کا بھی مظاہرہ کیا جس کی تفصیل قارئین کے سامنے آرہی ہے۔
اعرابی کی روایت کا جائزہ
پمفلٹ مذکور میں بروایت حاکم ایک اعرابی کا یہ واقعہ بھی نقل ہے کہ اُس نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہمزہ کے ساتھ نَبِيءُ اﷲِ کہا، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر انکار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا! میں ہمزہ کے ساتھ نَبِيءُ اﷲِ نہیں، بلکہ بغیر ہمزہ کے نَبِيُّ اﷲِ ہوں۔
معاند کی تحریف
معاند نے اس کے معنی بیان کرنے میں انتہائی خیانت سے کام لیا اور اس بارے میں محدّثین اور اہل لغت کے اقوال اور بالخصوص یہ قول کہ اعرابی کی یہ روایت صحیح نہیں، بلکہ ضعیف اور منقطع ہے، از روئے خیانت نقل نہیں کیا اور حاکم کے متساہل ہونے کو بھی نظر انداز کردیا، ان شاء اﷲ ہم ان سب حقائق کو دلائل کے ساتھ بیان کریں گے۔ اس معاند نے اپنی جہالت کا ثبوت دیتے ہوئے ہمزہ کے ساتھ لفظ نبیٌٔ کو لغت ردی بمعنی غیر فصیح قرار دیا۔
پھر مزید جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر ہمزہ لفظ نبیٌّ کو نبیٌٔ ٌٔ بالہمزہ سے بلاغت کے اعتبار سے زیادہ بلیغ کہا، صرف یہی نہیں ، بلکہ بعض ائمّہ کے کلام میں لفظ ’’اجود‘‘نقصان جودت کے معنی میں سمجھا اور ہمزہ کے ساتھ لفظ نبیٌٔ کی فصاحت کے خلاف بطور استدلال کہا کہ قرآن مجید میں نبیٌ بلا ہمزہ آیا ہے اور یہ نہ دیکھا کہ ہمزہ کے ساتھ نبیٌٔ پورے قرآن میں حضرت امام نافع کی قرأۃ ہے اور یہ قرأۃ اُن سات قرأ توں میں سے ہے جو سب متواتر ہیں اور اُن کے متواتر ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں، جس کی تفصیل آرہی ہے۔ علاوہ ازیں اس معاند نے امام راغب اصفہانی اور صاحب روح المعانی پر بہتان باندھا کہ اعرابی کا منشاء حضورصلی اﷲ علیہ وسلم پر کہانت کا الزام لگانا تھا، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ تنکیر فرما کر غیب دانی اور کہانت کے الزام سے اپنی بریت کا اعلان فرمادیا۔
اس عبارت میں انکار کی بجائے تنکیر کا لفظ معاند کی جہالت ہے اور اس مضمون کا امام راغب اور صاحب روح المعانی کی طرف منسوب کرنا، ان دونوں بزرگوں پر بہتان تراشی ہے، نہ امام راغب نے اعرابی کی روایت مذکورہ کا یہ مفہوم بیان کیا اور نہ صاحب ِ روح المعانی نے وَاذْ کُرْ فِی الْکِتٰبِ مُوْسیٰ کے تحت اس کہانت اور غیب دانی کا کوئی ذکر کیا۔ عبارات علماء میں اس معاند کی قطع و بُرید اور خیانت کے ساتھ اس کی جہالت کی تفصیل میں جانے سے پہلے نبی اور رسول کی تعریف علمائے متکلمین کی زبان سے سُن لیجئے، اُس کے بعد لفظ’’غیب‘‘ اور لفظ’’نبی‘‘ پر مفسرین و محدّثین اورائمّہ لُغت کی عبارات ملاحظہ فرمائیے، معاند کی خیانت آپ کے سامنے بے نقاب ہوکر آجائے گی۔ (۱) نبی اور رسول کی تعریف کرتے ہوئے شرح عقائد نسفی میں علامہ تفتازانی نے فرمایا: هُوَ إِنْسَانٌ بَعَثَهُ اﷲُ إِلَى الْخَلْقِ لِتَبْلِيغِ الْأَحْكَامِ (نبی اور رسول وہ انسان ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے تبلیغ احکام کے لئے مخلوق کی طرف مبعوث فرمایا)۔ احکام عملی ہوں جیسے عبادات ومعاملات وغیرہ، یا اعتقادی، مثلاً مرنے کے بعد اُٹھنا، فرشتوں، جنت، دوزخ پر یقین رکھنا اور وہ تمام امور جو لوگوں سے غائب ہیں، وہ سب غیب ہیں، جن کی تبلیغ کے لئے نبی مبعوث ہوتا ہے اور ان سب امور ِ غیبیہ کی انہیں خبر دیتا ہے، اس تعریف سے ظاہر ہوگیا کہ غیب کی خبر دینے والے کو نبی اور رسول کہتے ہیں، اب لفظِ غیب پر مفسرین کی عبارات ملاحظہ فرمائیے: (۲) امام نسفی نے ’’بالغیب‘‘کے تحت فرمایا:
مَا غَابَ عَنْهُمْ مِمَّا أَنْبَأَهُمْ بِهِ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مِنْ أَمْرِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ وَالْحِسَابِ وَغَيْرِ ذَلِكَ (مدارک، جلد۱، صفحہ۲۱)
(یعنی غیب سے مراد ہر وہ چیز ہے جو لوگوں سے غائب ہو، جس کی خبر حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اُن کو دی، مرنے کے بعد اُٹھنا، حشر ونشر، حساب اور اس کے علاوہ)۔ (۳) امام قرطبی نے اَلَّذِیْنَ یُؤْ مِنُوْنَ بِالْغَیْبِمیں لفظ غیب کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کرتے ہوئے فرمایا:
وَقَالَ آخَرُونَ الْقُرْآنُ وَمَا فِيهِ مِنَ الْغُيُوبِ وَقَالَ آخَرُونَ الْغَيْبُ كُلُّ مَا أَخْبَرَ بِهِ الرَّسُولُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مِمَّا لَا تَهْتَدِي إِلَيْهِ الْعُقُولُ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَالْحَشْرِ وَالنَّشْرِ وَالصِّرَاطِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ
(ایک قول یہ ہے کہ یہاں الغیب سے مراد قرآن اور اُس کے غیوب ہیں، دوسرے علماء نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دی ہوئی غیب کی وہ سب خبریں مراد ہیں جو انسانی عقول سے بالاتر ہیں جیسے علاماتِ قیامت، عذاب قبر، حشر ونشر، پُل صراط، میزان، جنت اور دوزخ)۔ تمام اقوال کے بعد ابن عطیّہ کا محاکمہ نقل فرماتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں:
وَهَذِهِ الْأَقْوَالُ لَا تَتَعَارَضُ بَلْ يَقَعُ الْغَيْبُ عَلَى جَمِيعِهَا (قرطبی، جلد۱، صفحہ۱۶۳)
(یعنی ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں، بلکہ ان سب چیزوں کو غیب کہا جاتا ہے۔ انتہیٰ) (۵) بیضاوی میں یُؤْ مِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے تحت ہے:
وَالْمُرَادُ بِهِ الْخَفِيُّ الَّذِي لَا يُدْرِكُهُ الْحِسُّ وَلَا يَقْتَضِيهِ بَدَاهَةُ الْعَقْلِ (بیضاوی، صفحہ۱۸)
(یعنی غیب سے مراد ہر وہ پوشیدہ چیز ہے جو ادراک، حواس اور عقل سے بالاتر ہو۔ انتہیٰ) اس کے بعد لفظِ غیب پر ہم ائمۂ لغت کی عبارات نقل کرتے ہیں: (۶) لغت قرآن کے عظیم وجلیل امام شیخ ابوالقاسم الحسین الراغب الاصفہانی’’الغیب‘‘ کے تحت فرماتے ہیں:
وَالْغَيْبُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ مَا لَا يَقَعُ تَحْتَ الْحَوَاسِّ وَلَا تَقْتَضِيهِ بَدَاهَةُ الْعُقُولِ وَإِنَّمَا يُعْلَمُ بِخَبَرِ الْأَنْبِيَاءِ انتہیٰ (مفردات امام راغب، صفحہ۳۷۳)
یُوْمِنُوْنَ بَالْغَیْبِ میں الغیب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو حواس اور عقول سے بالاتر ہوں، انبیاء کی خبر کے بغیر اُن کا علم حاصل نہ ہوسکے۔ (۷) لغت عرب کے امام الائمۃ ابوالفضل جمال الدین محمد بن مکرّم بن منظور الافریقی المصری اپنی شہرۂ آفاق تصنیف’’لسان العرب‘‘ میں اور شارح قاموس امام لغت، الامام محب الدین ابوالفیض سید محمد مرتضیٰ الحسینی الواسطی الزبیدی الحنفی اپنی عظیم وجلیل تصنیف’’تاج العروس‘‘ میں فرماتے ہیں:
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الذَّجَّاجُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ أَيْ بِمَا غَابَ عَنْهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اﷲُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِ الْبَعْثِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَكُلِّ مَا غَابَ عَنْهُمْ مِمَّا أَنْبَأَهُمْ بِهِ فَهُوَ غَيْبٌ (لسان العرب، جلد۱، صفحہ۶۵۴۔ تاج العروس، جلد۱، صفحہ۴۱۶)
(یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کی تفسیر میں ابواسحاق زجاج نے کہا، وہ ہر اس غیب پر ایمان لاتے ہیں جس کی خبر نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں دی، مرنے کے بعد اُٹھنے، جنت اور دوزخ کی اور ہر وہ چیز جو اُن سے غائب ہے، حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس کی انہیں خبر دی، وہ غیب ہے)۔
لفظ "نبی" کی لغوی اور اصطلاحی تعریف
ائمۂ تفسیر اور ائمۂ لغت کی ان تمام عبارات سے ثابت ہوگیا کہ غیب کی خبر دینے والے کو نبی ورسول کہتے ہیں۔
اب ہم لفظ النَّبِيِّ پر علماء مفسرین اور علمائے لغت کی عبارات پیش کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے:
خازن کی عبارت
(۸) الامام محی السنّہ علاء الدین علی بن محمد المعروف بالخازن وَيَقْتُلُوْنَ النَّبِيِّيْنَ کے تحت فرماتے ہیں:
اَلنَّبِيُّ مَعْنَاهُ اَلْمُخْبِرُ مِنْ اَنْبَاءَ يُنْبِئُ، وَقِيْلَ هُوَ بِمَعْنَى الرَّفِيْعِ مَا خُوْذٌ مِنَ النَّبُوَةِ وَهُوَ الْمَكَانُ الْمُرْتَفِعُ انتہیٰ (خازن، جلد۱، صفحہ۵۴)
یعنی "النّبیّ" کے معنی ہیں (خبر دینے والا) یہ أَنْبَاءَ، يُنْبِئُ سے ماخوذ ہے اور کہا گیا کہ وہ الرفیع (بلند رتبہ) کے معنی میں ہے، النَّبْوَةِ سے ماخوذ ہے جس کے معنی بلند جگہ کے ہیں۔ انتہیٰ۔
(۹) علامہ نسفی نے وَيَقْتُلُوْنَ النَّبِيِّيْنَ کے تحت فرمایا: بِالْهَمْزَةِ نَافِعٌ وَكَذَا بَهٗ انتہیٰ (مدارک، ج۱، ص۵۴) یعنی النَّبِیَٔیْنَ ہمزہ کے ساتھ ہے اور یہ نافع کی قرأۃ ہے۔
نافع نے لفظ النّبیٔ کو پورے قرآن کریم میں ہمزہ کے ساتھ پڑھا، خواہ مفرد ہو یاجمع۔
مظہری کی عبارت
(۱۰) شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ کے شاگرد قاضی ثناء اﷲ پانی پتی رحمۃ اﷲ علیہ نے اسی آیت کے تحت فرمایا:
قَرَأَنَا فِعٌ بِهَمْزَةِ ''النَّبِيِّيْنَ'' ''وَالنَّبِيِّ'' ''وَالْأَنْبِيَاءِ'' ''وَالنُّبُوَّةِ'' وَتَرَكَ الْقَالُوْنُ الْهَمْزَةَ فِي الْأَحْزَابِ ''لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ'' ''وَبُيُوْتَ النَّبِيِّ إِلَّا'' (الْآيَةُ) فِي الْوَصْلِ خَاصَّةً بِنَاءً عَلَى أَصْلِهِ فِي الْهَمْزَتَيْنِ الْمَكْسُوْرَتَيْنِ وَإِذَا كَانَ مَهْمُوْزًا فَمَعْنَاهُ الْمُخْبِرُ مِنْ أَنْبَاءَ يُنْبِئُ وَنَبَّأَ يُنَبِّئُ وَالْبَاقُوْنَ بِتَرْكِ الْهَمْزَةِ فَحِيْنَئِذٍ تَرْكُ الْهَمْزَةِ إِمَّا أَنْ يَكُوْنَ لِلتَّخْفِيْفِ لِكَثْرَةِ الِاسْتِعْمَالِ أَوْ يَكُوْنَ مَعْنَاهُ الرَّفِيْعُ مِنَ النَّبْوَةِ وَهِيَ الْمَكَانُ الْمُرْتَفِعُ انتہیٰ (تفسیر مظھری، جلد۱، ص۷۶)
امام نافع نے ’’اَلنَّبِیَِْٔیْنَ ‘‘ اَلنَّبِیِْٔ‘‘ اَلْاَنْبِأَٓئَ ‘‘ اور’’ اَلنَّبُوْئَ ۃَ‘‘ کوہمزہ کے ساتھ پڑھا، اُن کے شاگرد قالون نے سورۂ احزاب کی دو آیتوں ’’لِلنَّبِیّ اِنْ اَرَادَ‘‘ اور’’ بُیُوْتَ النَّبِیّ اِلَّا‘‘میں خاص حالتِ وصل میں ہمزہ ترک کردیا،اپنے اس قاعدہ کے مطابق کہ جب دو ہمزہ مکسور جمع ہوجائیں، تو پہلے کو ’’یَا‘‘ سے بدل دیا جاتا ہے، (چونکہ یہاں اس سے پہلے ’’یَا‘‘ تھی، اس لئے اُسے’’یا‘‘ میں مدغم کردیا) تو جب لفظ’’ نبی‘‘ مہموز یعنی ہمزہ کے ساتھ ہو تو اُس کے معنی’’مخبر‘‘ ہیں، اَنْبَأَ، یُبْنِیُٔ، نَبَّأَ، یُنَبِّیُٔ سے ماخوذ ہے اور ائمہ قرّأ نے ترکِ ہمزہ کے ساتھ پڑھا، اُس وقت ترکِ ہمزہ کثرت ِ استعمال کی وجہ سے تخفیف کے لئے ہوگا یا اس کے معنی الرّفیع (بلند مرتبہ) ہوں گے، نبوۃ سے ماخوذ ہوگا اور اس کے معنی بلند مقام کے ہیں۔ انتہٰی۔
قرطبی کی عبارت
(۱۱) امام قرطبی فرماتے ہیں:
وَقَرَأَنَافِعٌ ''النَّبِيِّيْنَ'' بِالْهَمْزِ حَيْثُ وَقَعَ فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فِي مَوْضِعَيْنِ فِي سُورَةِ الْأَحْزَابِ ''إِنْ وَهَّبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ'' وَ''لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ'' فَإِنَّهُ قَرَأَ بِلَا مَدٍّ وَلَا هَمْزٍ، وَإِنَّمَا تَرَكَ هَمْزَ هَذَيْنِ لِاجْتِمَاعِ هَذَيْنِ مَكْسُورَتَيْنِ وَتَرَكَ الْهَمْزَةَ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ الْبَاقُونَ، فَأَمَّا مَنْ هَمَزَ فَهُوَ عِنْدَهُ مِنْ أَنْبَاءَ إِذَا أَخْبَرَ وَاسْمُ فَاعِلِهِ مُنْبِئٌ وَقَدْ جَاءَ فِي جَمْعِ نَبِيءٍ نُبَاءُ
وَقَالَ الْعَبَّاسُ بِنْ مِرْدَاسِ السُّلَمِیُّ یَمْدَحُ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
يَا خَاتَمَ النُّبَاءِ إِنَّكَ مُرْسَلٌ بِالْحَقِّ كُلُّ هُدَى السَّبِيلِ هُدَاكَا
هَذَا مَعْنَى قِرَاءَةِ الْهَمْزِ، وَاخْتَلَفَ الْقَائِلُونَ بِتَرْكِ الْهَمْزِ، فَمِنْهُمْ مَنِ اشْتَقَّ اشْتِقَاقَ مَنْ هَمَزَ، ثُمَّ سَهَّلَ الْهَمْزَ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ هُوَ مُشْتَقٌ مِنْ نَبَا يَنْبُو إِذَا ظَهَرَ، فَالنَّبِيُّ مِنَ النَّبُوَّةِ وَهُوَ الِارْتِفَاعُ فَمَنْزِلَةُ النَّبِيِّ رَفِيعَةٌ
آگے چل کر فرمایا:
وَيُرْوَى أَنَّ رَجُلًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اﷲُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيءُ اﷲِ وَهَمَزَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اﷲُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ بِنَبِيءِ اﷲِ وَهَمَزَ وَلَكِنَّنِي نَبِيُّ اﷲِ وَلَمْ يَهْمِزْ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ ضُعِّفَ سَنَدُ هَذَا الْحَدِيثِ وَمِمَّا يُقَوِّي ضُعْفَهُ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَدْ أَنْشَدَهُ الْمَادِحُ يَا خَاتَمَ النُّبَاءِ وَلَمْ يُؤْثَرْ فِي ذَلِكَ إِنْكَارٌ
مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اﷲ علیہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کہا: السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَٔ اﷲِ اور لفظ نبی کو ہمزہ سے ادا کیا، تو نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا! میں ہمزہ کے ساتھ نبیَٔ اﷲ نہیں، بلکہ میں ہمزہ کے بغیر نبیّ اﷲ ہوں، ابو علی نے کہا اس حدیث کی سند ضعیف ہے، امام قرطبی نے فرمایا اس حدیث کے ضعیف ہونے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حضور کی مدح کرنے والے شاعر(صحابی) نے حضور کو مخاطب کرکے یَا خَاتَمَ النُّبَأٓئُ کہا(جب کہ نُبَأٓء ُ صرف ہمزہ کے ساتھ لفظ نبیٌٔ کی جمع کے لئے آتا ہے) اور اس میں حضور کا انکار منقول نہیں ہوا، انتہٰی (قرطبی، ج۱، ص۴۳۱)
امام قرطبی کی اس عبارت سے لفظ نبیٔ کی قرأۃ بالہمزہ اور انباء سے اس کے مشتق ہونے پر روشنی پڑنے کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آگئی کہ وہ مخبر کے معنی میں ہے اور لفظ انبیاء نبی بالہمزہ اور بغیر ہمزہ دونوں کی جمع ہے اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ صحابی نے نبی کو مخاطب کرکے ہمزہ کے ساتھ'' خَاتَمَ النُّبَأٓء'' کہا ہے، اگر یہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ناپسند ہوتا تو فوراً انکار کردیتے، سب سے اہم بات جو امام قرطبی کی اس عبارت سے ثابت ہوئی یہ ہے کہ جس روایت میں رجل اعرابی کا حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا انکار فرمانا منقول ہے، صحیح نہیں، بلکہ ضعیف ہے اور اس کے ضعف کی دلیل حضرت عبّاس بن مرداس کا مذکورہ بالا شعر ہے۔
مخفی نہ رہے کہ امام قرطبی کے مطابق اعرابی کی روایتِ مذکورہ کو دیگر علماء بالخصوص ائمّۂ لغت نے بھی امام حاکم کی تصحیح کے باوجود ضعیف قراردیاہے، کیونکہ امام حاکم محدثین کے نزدیک تصحیح میں متساہل ہیں جیسا کہ ان شاء اﷲ ائمّۂ لغت کی عبارات کے ضمن میں ہم اس پر دلائل قائم کریں گے۔
معاند کی یہ انتہائی خیانت ہے کہ اُس نے ائمّۂ لُغت کی عبارات سے وہ حصہ نقل کیا جو اُسے مفید ِ مطلب نظر آیا، حالانکہ وہ ہر گز اُسے مفید نہیں، جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ (۱۲) امام اثیر الدین ابو عبداﷲ محمد بن یوسف الشہیر بأبی حیان (اندلسی) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
وَقَرَا َٔ نَافِعٌ بِھَمْزِ اَلنَّبِیِٔیْنَ وَالنَّبِیِٔ وَالْاَنْبِیَائِ وَالنُّبُوْئَ ۃُ اِلَّا اَنَّ قَالُوْنَ اَبْدَلَ وَاَدْغَمَ فِی الْاَحْزَابِ فِیْ’’وَھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنَّبِیِّ‘‘ وَ فِیْ ’’ لَا تَدْ خُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ‘‘ فِی الْوَصْلِ وَقَرَأَ جُمْھُوْرٌ بِغَیْرِ ھَمْزِ۔ انتھٰی۔(البحر المحیط، ج۱، ص۳۷)
یعنی نافع نے النَّبِیٔین اور النّبیٔ اور الانبیاء اور النبؤۃ سب کو ہمزہ کے ساتھ پڑھا، لیکن قالون نے سورۂ احزاب کی دو آیتوں’’وَھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنّبی‘‘ اورلَا تَدْ خُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِی میں حا لتِ وصل میں ابدال اور ادغام کیا اور جمہور نے بغیر ہمزہ کے پڑھا۔ انتہی۔ حضرات محدثین اور ائمہ لُغتِ حدیث نے بھی لفظِ نبی کو نبأٌ سے ماخوذ مانا ہے اور نبی کے معنٰی مخبر عن اﷲ اور نبوۃ کے معنٰی اطلاع علی الغیب لکھتے ہیں۔ (۱۳) محدّثِ جلیل امام لُغتِ حدیث علّامہ الشیخ محمد طاہر صاحبِ’’مجمع بحار الانوار‘‘ لفظِ نبی اﷲ کے تحت فرماتے ہیں:
ھُوَ بِمَعْنٰی فَاعِلٌ مِنَ النَّبَأ’’ اَلْخَبْرِ لِاَنَّہٗ اَنْبَأَ عَنِ اﷲِ یَجُوْزُ تَخْفِیْفُ ھَمْزَتِہٖ وَتَحْقِیْقُھَا۔
(یعنی لفظِ نبی اﷲ میں نبی فاعل کے معنی میں ہے نَبَأٌ سے ماخوذ ہے، نَبَأٌ خبر کو کہتے ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی، لفظِ نبی کے ہمزہ کی تخفیف وتحقیق دونوں جائز ہیں)۔ اس کے بعد فرمایا:
وَقِیْلَ ھُوَ مُشْتَقٌ مِّنَ النَّبَاوَۃِ وَھُوَ الشَّیْیُٔ اَلْمُرْتَفَعُ وَمِنَ الْمَھْمُوْزِ شِعْرُ ابْن ِ مِرْدَاسٍ’’یَاخَاتَمَ النُّبَأٓئِ اِنَّکَ مُرْسَلٌ‘‘ انتھٰی (مجمع بحارالانوار، ج۳، ص۳۲۹)
(یعنی بعض نے کہا نباوۃ سے مشتق ہے اور وہ شئے مرتفع ہے اور مہموز سے عباس بن مرداس کا یہ شعر ہے:یَاخَاتَمَ النُّبَأٓ اِنَّکَ مُرْسَلٌ’’اے خاتم النبیین! بے شک آپ اﷲ کے رسول ہیں) یہ پورا شعر ہم قرطبی کے حوالہ سے نقل کرچکے ہیں، جس کو انہوں نے ایک اعرابی کے یَا نَبِیَٔ اﷲ کہنے اور نبیٔ بالہمزہ پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے انکار کی روایت کے ضعیف ہونے کی تائید میں نقل کیا ہے، صاحب مجمع بحار الانوار نے بھی نقل کرکے اس روایت کے ضعف کی طرف اشارہ کردیا، جس کی تائید مزید وضاحت کے ساتھ ان شاء اﷲ تعالیٰ ’’تاج العروس‘‘ کی عبارات سے قارئین کے سامنے آرہی ہے۔ (۱۴) متکلمین نے بھی نبیاصطلاحی کو نَبَأٌ سے مشتق مانا ہے، شرح مواقف میں ہے:
النَّبِيُّ وَاشْتِقَاقُهُ مِنَ النَّبَاءِ فَهُوَ حِينَئِذٍ مَهْمُوزٌ لَكِنَّهُ يُخَفَّفُ وَيُدْغَمُ وَهَذَا الْمَعْنَى حَاصِلٌ لِمَنِ اشْتَهَرَ بِهَذَا الِاسْمِ لِإِنْبَائِهِ عَنِ اﷲِ تَعَالَى وَقِيلَ النَّبِيُّ هُوَ مُشْتَقٌّ مِنَ النَّبُوَّةِ وَهُوَ الِارْتِفَاعُ انتہیٰ (شرح مواقف، ج ۸، ص۲۱۷)
(اَلنَّبِیُّ کا اشتقاق نبأٌ سے ہے، ایسی صورت میں وہ مہموز ہے، لیکن اسے مخفف اور مدغم کردیا جاتا ہے اور یہ معنٰی ہر اُس مقدّس انسان کے لئے حاصل ہیں جو نبی کے نام سے مشہور ہوا، کیونکہ وہ اﷲ تعا لیٰ کی طرف سے خبر دیتا ہے، اور کہا گیا کہ النَّبِی، النبوۃ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں بلند ہونا۔ انتہٰی۔) (۱۵) شرح عقائدِ نسفی کے شارح علامہ عبدالعزیز پرہاروی رحمۃ اﷲ علیہ(متوفی ۱۲۳۹ھ) نے لفظ نبی کے اشتقاق میں متعدد اقوال نقل کرنے کے بعد بطورِ محاکمہ ’’شرح الشافیہ‘‘ کی عبارت نقل کرتے ہوئے فرمایا:
جَاءَ النَّبِيُّ مَهْمُوزًا فِي الْقِرَاءَاتِ السَّبْعِ وَالثَّانِي بِأَنَّ الْحَدِيثَ غَيْرُ صَحِيحٍ وَإِنْ رَوَاهُ الْحَاكِمُ لِأَنَّ فِي سَنَدِهِ حَمْرَانَ مِنْ غُلَاةِ الشِّيعَةِ وَلَوْ سُلِّمَ فَلَعَلَّ الْأَعْرَابِيَّ أَرَادَ اشْتِقَاقَهُ مِنْ نَبَأَتِ الْأَرْضِ إِذَا خَرَجْتَ مِنْهَا إِلَى الْأُخْرَى (نبراس، ص۸)
(یعنی لفظ’’ النّبی‘‘ ہمزہ کے ساتھ قراء اتِ سبعہ میں سے ہے اور دوسرے یہ کہ اعرابی کی حدیث صحیح نہیں، اگرچہ اسے حاکم نے روایت کیا، کیونکہ اس کی سند میں حمران ہے، جو غلاۃ شیعہ سے ہے اور اگر بالفرض اس روایت کو تسلیم بھی کرلیا جائے، تو اعرابی کے نبیٔ اﷲ کہنے پر حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا انکار اس لئے نہیں تھا کہ لفظِ نبی مہموزنہیں، بلکہ اعرابی نے عرب کے ایک محاورے’’نَبَائْ تُ الْاَرْضِ‘‘ (میں ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف نکلا) سے اخذ کرکے خَارِجٌ کے معنٰی میں ہمزہ کے ساتھ حضور کو نبیٌٔ ٌٔ کہا تھا، جس پر حضور نے انکار فرمایا۔ انتھٰی ) اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ نبیٌٔ ہمزہ کے ساتھ نبأ سے ماخوذ ہے اور یہ قراء اتِ سبعہ میں سے ہے، اعرابی کی حدیث سے اس کے خلاف استدلال صحیح نہیں، کیونکہ وہ حدیث اپنی سند کے اعتبار سے خود غیر صحیح ہے۔
(۱۶) لُغتِ قرآن کے امام علّامہ راغب اصفہانی ’’نبوۃ‘‘ کے معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
النُّبُوَّةُ سِفَارَةٌ بَيْنَ اﷲِ وَبَيْنَ ذَوِي الْعُقُولِ مِنْ عِبَادِهِ بِإِزَاحَةِ عِلَّتِهِمْ فِي أَمْرِ مَعَادِهِمْ وَمَعَاشِهِمْ وَالنَّبِيُّ لِكَوْنِهِ مُنَبِّئًا بِمَا تَسْكُنُ إِلَيْهِ الْعُقُولُ الذَّكِيَّةُ وَهُوَ يُصِحُّ أَنْ يَكُونَ فَعِيلًا بِمَعْنَى الْمَفْعُولِ لِقَوْلِهِ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ` (مفردات، ص۴۹۹)
(نبوۃ اﷲ تعالیٰ اور اُس کے ذوی العقول بندوں کے درمیان سفارت کا نام ہے جو اُن کے تمام دنیوی اور اُخروی امور سے ہر قسم کی خرابی دُور کرنے کے لئے ہوتی ہے، اور اس کو نبی اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ایسی خبریں دیتا ہے جن کی وجہ سے پاکیزہ عقول کو تسکین وطمانیت حاصل ہوتی ہے، لفظِ نبی کا فَعِیْلٌ بمعنی فَاعِلٌ ہونا بھی صحیح ہے، جس کی دلیل یہ دو آئیتیں ہیں:’’ نَبِیّْٔ عِبَادِیْ‘‘ (میرے بندوں کو خبر دیجئے) اور قُلْ اَؤُ نَبِّئُکُم(فرمادیجئے کیا میں تمہیں خبر دوں؟)اور بمعنی مفعول بھی ہوسکتا ہے جس کی دلیل ’’نَبَّانِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْر‘‘ ہے (یعنی علیم، خبیر نے مجھے خبر دی) اس کے بعد فرماتے ہیں:
وَقَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ هُوَ مِنَ النُّبُوَةِ أَيِ الرِّفْعَةِ وَسُمِّيَ نَبِيًّا لِرِفْعَةِ مَحَلِّهِ عَنْ سَائِرِ النَّاسِ الْمَدْلُولِ عَلَيْهِ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا فَالنَّبِيُّ بِغَيْرِ أَبْلَغُ مِنَ النَّبِيءِ بِالْهَمْزِ لِأَنَّهُ لَيْسَ كُلُّ مُنَبِّئٍ رَفِيعَ الْقَدْرِ وَالْمَحَلِّ
(بعض علماء نے کہا کہ لفظِ نبی نبوۃ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں’’رفعۃ‘‘ اور وہ نبی کے نام سے اس لئے موسوم ہوا کہ باقی سب لوگوں سے اس کا مقام بلند ہے، جس پر اﷲ تعالیٰ کا قول’’ وَرَفَعْنَاہُ مکاناً عَلِیًّا‘‘دلالت کرتا ہے، لہذا نبی بغیر ہمزہ کے ہمزہ کے ساتھ لفظ نبیٔ سے ابلغ ہے، کیونکہ ہر مُنَبِّیَٔ (خبر دینے والا) رفیع القدر والمحل نہیں ہوتا۔ انتہٰی)۔ (مفردات، ص۵۰۰) یہاں زیادۃ معنی کی وجہ سے لفظ’’ابلغ‘‘ استعمال ہوا ہے، بلاغت کے اعتبار سے نہیں، جیسا کہ معاند نے سمجھا، کیونکہ بلاغت کلمہ کی صفت نہیں، بلکہ کلام کی صفت ہے۔ (۱۷) دیکھئے قاضی بیضاوی نے الرحمن کو الرحیم سے محض زیادۃِ معنی کی وجہ سے ابلغ کہا ہے۔ (بیضاوی، ص۵) اس کے بعد لفظ’’النّبی‘‘ کے ماخذ اشتقاق اور اس کے معنٰی کی وضاحت کے لئے ہم ائمہّ لغت عرب کی عبارات ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔ (۱۸) امام لغت صاحبِ قاموس فرماتے ہیں :
وَالنَّبِيءُ الْمُخْبِرُ عَنِ اﷲِ تَعَالَى وَتَرْكُ الْهَمْزِ الْمُخْتَارُ جَمْعُهُ أَنْبِيَاءُ وَنُبَاءُ وَأَنْبَاءُ وَالنَّبِيُّونَ وَالِاسْمُ النَّبُوَّةُ انتہیٰ (القاموس المحیط، ج۱، ص۲۹)
(یعنی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والے کو’’نبیٌٔ‘‘ کہتے ہیں اور ہمزہ کا ترک مختار ہے، اس کی جمع اَنْبِیَائُ ونُبَآئُ واَنْبَائُ اور اَلنَّبِیُٔوْنَ اور اسم اَلنَّبُوْئَ ۃُ ہے۔ انتھٰی۔ صاحب قاموس کے علاوہ بعض دیگر علماء اور ائمۂ لغت نے بھی ترکِ ہمزہ کو مختار کہا ہے جس کے معنی معاند نے غلط سمجھے، ترکِ ہمزہ کا مختار ہونا محض کثرتِ استعمال میںتخفیف کی وجہ سے ہے، ورنہ تواتر کے اعتبار سے لفظ النّبی بالہمزہ اور بلا ہمزہ دونوں مختار ہیں، کیونکہ دونوں قرأتِ سبعہ متواترہ میں سے ہیں، جیسا کہ ائمّہ مفسرین کی عبارات سے ہم ثابت کرچکے ہیں اور اس پر مزید کلام آگے بھی آرہا ہے۔ تنبیہ ضروری ؛ قاضی بیضاوی نے مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ میں مَالِکِ کی قرأۃ پر مَلِکِ کی قرأۃ کو ترجیح دیتے ہوئے’’وَھُوَ الْمُخْتَارُ‘‘ کہا۔ (۱۹) جس پر محشی نے علّامہ شہاب الدین خفاجی سے نقل کرتے ہوئے لکھا :
اَلْاَوْلٰی اَنْ لَّا یُوْصَفَ اَحَدُ ھُمَا بِالْمُخْتَارِ لِمَا یُوْھِمُ اَنَّ الْاُخْرٰی بَخِلَافِہٖ مَعَ اَنَّ الْقِرَائَ تَیْنِ مُتَوَاتِرَتَانِ۔
(یعنی بہتر یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک قرأۃ کو مختار نہ کہا جائے، کیونکہ اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ دوسری قرأۃ مختار نہیں، باوجودیکہ دونوں قرأتیں متواترہ ہیں۔ (بیضاوی حاشیہ۵، ص۷) (۲۰) شیخ زادہ نے بھی قاضی بیضاوی کے قول وھو المختار پر کلام کرتے ہوئے لکھا کہ مصنف نے اپنی قرأۃ مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْن کو مختار کہہ کر اُسے ترجیح دی اور اسی طرح مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کی قرأۃ والوں نے اپنی قرأۃ کو دوسری قرأۃ پر ترجیح دی اور ایسی ترجیح جس سے دوسری قرأۃ کا ساقط ہونا ظاہر ہوتا ہے: ’’وَھٰذَا غَیْرُ مَرْضِیِِّ لِاَنَّ کلْتَیْھِمَا مُتَوَاتِرَۃٌ‘‘ یعنی یہ ناپسندیدہ ہے، اس لئے کہ دونوں قرأتیں متواتر ہیں۔ معلوم ہوا کہ دو متواتر قرأتوں میں سے ایک قرأۃ کو اس طرح ترجیح دیتے ہوئے مختار کہنا کہ دوسری قرأۃ کا غیر مختار ہونا ظاہر ہوتا ہو یا اس کا وہم پیدا ہوتا ہو، پسندیدہ نہیں۔ معاند کی جسارت ملاحظہ فرمائیے کہ اُس نے نبیٌٔ ، بِالْھَمْزہ کی قرأۃ متواترہ کو فصاحت وبلاغت کے خلاف سمجھا، یہاں تک کہ نعوذباﷲ اُسے لُغت ِردی قرار دے کر بالکل ہی ساقط کردیا، جب کہ نبیٌٔ بالہمزہ اور بلا ہمزہ دونوں قرأتیں متواترہ ہیں۔ ہمزہ کے ساتھ النَّبِیُٔ امام نافع کی قرأۃ ہے جوقراء آتِ سبعہ متواترہ سے ہے، جیسا کہ ہم تفسیر قرطبی، تفسیر مدارک، تفسیر مظہری اور تفسیر بحرِمحیط کی عبارات سے ثابت کرچکے ہیں۔ (۲۱۔۲۲) ائمّۂ قُرّاء سبعہ اور اُن کی قراء آت کا بیان اور یہ کہ امام نافع قُرّاء سبعہ میں شامل ہیں اور اہل مدینہ نے ان کی قرأۃ کو اختیار کیا، نہایت بسط وتفصیل کے ساتھ تفسیرِ اتقان، جزء اوّل ، ص۸۲ اور مناہل العرفان ، جزء اوّل، ص۴۰۹ میں مرقوم ہے۔ (۲۳) تفسیر اتقان، جزء اوّل، ص۸۳ میں یہ تصریح بھی موجود ہے: لِاَنَّ السَّبْعَ لَمْ یُخْتَلَفْ فِیْ تَوَاتُرِھَا (یعنی قراء آتِ سبعہ کے متواتر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ (۲۴۔۲۵) لسان العرب، جلد۱، ص۱۶۳، تاج العروس، جلد۱، ص۱۲۲ میں ہے :
وَقَالَ الْفَرَّائُ النَّبِیُّ ھُوَ مَنْ اَنْبَأَ عَنِ اﷲِ فَتُرِکَ ھَمْزُہٗ قَالَ وَ اِنْ اُخِذَتْ مِنَ النُّبُوَّۃِ وَالنَّبَاوَۃِ وَھِیَ الْاِرْتِفَاعُ اَیْ اَنَّہٗ اَشْرَفَ عَلٰی سَائِرِ الْخَلْقِ فَاَصْلُہٗ غَیْرُ الْھَمْزِ۔ انتھٰی
سیبویہ کے نزدیک بھی لفظِ ’’نبی‘‘ اصل میں مہموز اللام ہے۔ (۲۶) دیکھئے شرح شافیہ میں ہے :
وَکَذَا النَّبِیُّ اَصْلُہٗ عِنْدَ سِیْبُوَیہ اَلْھَمْزُ (شرح شافیہ، جلد اوّل، ص۲۱۲، طبع بیروت)
(نبی کی ا صل سیبویہ کے نزدیک ہمزہ کے ساتھ ہے) (۲۷) صاحبِ نبراس نے بھی فرمایا کہ سیبویہ اور دیگر محققین کا مذہب یہ ہے کہ نبی (بالہمزۃ) مہموز اللام ہے(نبراس، ص۸) سیبویہ کا یہ مذہب مذکور کہ لفظِ نبی ماخذ نبأٌ ہے اور مہموز اللام ہے۔ (۲۸۔۲۹) لسان العرب، جلد اوّل، ص۱۶۳، تاج العروس، ج۱، ص۱۲۱۔۱۲۲ میں تفصیل کے ساتھ مرقوم ہے، اسی وضاحت کے ضمن میں علامہ زبیدی نے فرمایا :
’’قَالَ سِیْبُوَیہِ لَیْسَ اَحَدٌ مِّنَ الْعَرَبِ اِ لَّا وَیَقُوْلُ تَنَبَّأَ مُسَیْلَمَۃُ بِالْھَمْزِ غَیْرَ اَنَّھُمْ تَرَکُوْا فِیْ النَّبِیِّ الْھَمْزِ‘‘۔
(یعنی سیبویہ نے کہا کہ عرب کا ہر شخص’’ تَنَبَّأَ مُسَیْلَمَۃُ‘‘ہمزہ کے ساتھ کہتا ہے، بجز اُس کے کہ انہوں نے’’النبی‘‘ میں ہمزہ ترک کردیا ہے۔ معاند نے ’’تاج العروس ‘‘سے سیبویہ کا مذہب نقل کرتے ہوئے انتہائی خیانت اور عبارت میں قطع بُرید سے کام لیا۔ (۳۰) تاج العروس کی اصل عبارت یہ ہے :
’’وَقَالَ سِیْبُوَیْہِ اَلْھَمْزُ فِی النَّبِیِّ لُغَۃٌ رَدَیَّۃٌ یَعْنِی لِقِلَّۃِ اِسْتِعْمَالِھَالَالِانَّ الْقِیَاسَ یَمْنَعُ مِنْ ذٰ لِکَ۔ انتھٰی (تاج العروس، ج۱، ص۱۲۲)
یعنی سیبویہ نے کہا کہ لفظ نبیٔ میں ہمزہ لغتِ ردیہ ہے، یعنی اس کی قلّت استعمال کی وجہ سے ، نہ اس لئے کہ قیاس اس سے روکتا ہے۔ معاند نے لُغتِ ردیہ کے بعد کی عبارت نقل نہیں کی اور ازروئے خیانت اُسے چھوڑ دیا، کیونکہ لفظِ ردیہ کے معنی پر اُس سے روشنی پڑتی تھی۔
صاحبِ تاج العروس نے’’یعنی لقلّۃ استعمالھا‘‘ کہہ کر سیبویہ کی مراد ظاہر کی کہ صرف قلّتِ استعمال کی بنا پر اُسے لغتِ ردیہ کہا گیا ہے، یہ نہیں کہ قیاس اُس سے روکتا ہو۔ (۳۱) لسان العرب میں بھی یہی عبارت بلفظہا مرقوم ہے (لسان العرب، ج۱، ص۱۶۲) معاند کے ہاتھ کی صفائی دیکھئے کہ دونوں کتابوں کی عبارتِ منقولہ نقل نہیں کی، بلکہ صرف لغت ردیہ کا لفظ نقل کردیا، محض یہ تاثر دینے کے لئے کہ ہمزہ کے ساتھ لفظ نبیٌٔ ردی ہونے کی وجہ سے لُغتِ قرآن نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح زَجَّاج کے قول میں’’وَالْاَجْوَدُتَرْکُ الْھَمْزِ‘‘ کے معنی بھی یہ نہیں کہ ہمزہ کے ساتھ’’اَلنَّبِیُٔ‘‘ جیّد نہیں ہے، بلکہ یہ لفظ اجود محض کثیر الاستعمال ہونے کے معنٰی میں ہے۔ سیبویہ اور زجاج دونوں کے قول کی مراد ظاہر ہے، سیبویہ نے ہمزہ کے ساتھ النِّبِیُٔ ُٔ کو قلیل الاستعمال کہا اور زجاج نے بغیر ہمزہ کے لفظ نبیٌ کو اجود کہہ کر کثیر الاستعمال قرار دیا جسے معاند نے اپنی جہالت سے جیّد کے خلاف سمجھا اور یہ نہ دیکھا کہ زجاج نے خود وضاحت کے ساتھ یہ بات کہی کہ اہل مدینہ کی ایک جماعت نے ہمزہ کے ساتھ’’النبیُٔ‘‘ پڑھا اور پورے قرآن میں اُن کی ’’قرأۃ النبیُٔ‘‘ کے ہمزہ کے ساتھ ہے۔
(۳۲) علّامہ زبیدی تاج العروس میں النبیُٔ کے تحت فرماتے ہیں :
وَ فِی النِّھَایَۃِ فَعِیْلٌ بِمَعْنٰی فَاعِلِِ لِلْمُبَالَغَۃِ مِنَ النَّبَأَ ’’الْخَبَرِ لِاَنَّہٗ ‘‘اَنْبَائَ عَنِ اﷲِ اَیْ اَخْبَرَ قَالَ وَیَجُوْزُ فِیْہِ تَحْقِیْقُ الْھَمْزِ وَتَخْفِیْفُہٗ یُقَالُ نَبَائَ وَأَنْبَائَ۔ انتھٰی۔ (تاج العروس، ج۱، ص۱۲۱)
(یعنی نہایہ میں ہے کہ نبیٌٔ، فعیلٌ کے وزن پر فَاعِلٌ کے معنی میں ہے، مبالغہ کے لئے یہ نَبَأَ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں خبر، اس لئے کہ نبی نے اﷲ کی طرف سے خبر دی، صاحب نہایہ نے کہا کہ لفظِ نبی میں ہمزہ کی تحقیق اور تخفیف دونوں جائز ہیں، محاورۂ عرب میں کہا جاتا ہے : نَبَأَ، وَنَبَّأَ، وَأَنْبَائَ یعنی اُس نے خبر دی۔ انتہٰی)
معاند کی ایک اور خیانت ملاحظہ فرمائیے: کنزالعمال سے حدیثِ اعرابی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اعرابی نے حضور اکرم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے کہا’’اے غیب داں! حضور نے فرمایا ! میں غیب داں نہیں، میں تو رفیع المنزلۃ ہوں‘‘۔
کنزالعمال اُٹھا کر دیکھ لیجئے، اس میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ اعرابی نے حضور کو’’غیب داں‘‘ کہا اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر انکار فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں تو’’رفیع المنزلۃ‘‘ ہوں، یہ وہی حدیث ہے جس کا ذکر بار بار آچکا ہے اور اعرابی نے یَا خَارِجُ مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ کے معنٰی مراد لے کر حضور کو ہمزہ کے ساتھ نبیَٔ اﷲ کہا تھا، اسی معنی کے مراد لینے کی بنا پر حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر انکار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا تھاکہ میں ہمزہ کے ساتھ نبیٔ اﷲ نہیں، بلکہ میں ہمزہ کے بغیر نبیّ اﷲ ہوں۔ اگر معاند نے طنزاً ایسا لکھا ہے، تب بھی واقعہ کے اعتبار سے یقیناً یہ بہتان ہے، کیونکہ اس کا یہ لکھنا قطعاً خلافِ واقع ہے۔
معاند کو معلوم ہونا چاہئیے کہ آج تک کسی بھی اہلِ حق نے نبی کا ترجمہ’’غیب داں‘‘ کے لفظ سے نہیں کیا، نبی اس مقدّس انسان کو کہتے ہیںجو مبعوث من اﷲ ہوکر غیب کی خبریں دینے والا بلند مرتبہ ہو۔
اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے لفظِ نبی کا ترجمہ فرماتے ہوئے جہاں بھی غیب کی خبریں دینے والا ارقام فرمایا، تو ان ہی مرادی معنی کے لحاظ سے ہے اور ان معنی کے پیشِ نظر اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ کا یہ ترجمہ صحیح ہے، اگرچہ ہم نے اپنے ترجمہ(البیان) میں محض اختصار کے پیشِ نظر یہ ترجمہ نہیں لکھا، لیکن قرآن مجید میں جہاں بھی لفظِ نبی آیا ہے، ہمارے نزدیک اس کے مرادی معنٰی یہی ہیں جن کی صحت پر ہماری منقولہ عبارات اور اُن کے علاوہ قرآنی آیات شاہدِ عادل ہیں۔ (۳۳) اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
ذٰ لِکَ مِنْ اَنْبَآ ء الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی فرمارہے ہیں۔ (۳۴) اسی طرح تِلْکَ مِنْ اَنْبَآ ئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْھَا اِلَیْکَ ، یعنی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی فرماتے ہیں، نیز ارشاد فرمایا : (۳۵) نَبِیّْٔ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَاالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ میرے بندوں کو خبر دے دیجئے کہ میں ہی غفورٌرَّحیم ہوں۔ معاند نے ہماری تمام عباراتِ منقولہ اور ان آیاتِ قرآنیہ کو نظر انداز کرکے کہہ دیا کہ اصطلاحی نبی نَبَأَ سے ماخوذ نہیں اور نبی اصطلاحی کے معنی مخبر عن اﷲ نہیں، بلکہ اس کے معنی رفیع المنزلۃ ہیں اور یہ نہ سوچا کہ نبی کا رفیع المنزلۃ ہونا اور اُس کا ایسا بلند مرتبہ والا ہونا کہ اس کے علاوہ اور کوئی انسان اس کے مرتبہ کو نہ پہنچ سکے، اسی امر پر مبنی ہے کہ وہ مبعوث من اﷲ ہوکر مخبر عن اﷲ ہے، اسی لحاظ سے نبی ایسا رفیع المنزلۃ ہے کہ کوئی غیر نبی اس کے مقام کو نہیں پاسکتا، ورنہ محض مرتبہ کے اعتبار سے بلند ہونانبی کا خاصّہ نہیں غیر نبی کے لئے بھی رفعتِ منزلت قرآن مجید سے ثابت ہے۔ (۳۶) اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یَرْفَعِ اﷲُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوالْعِلْمَ دَرَجَات۔ یعنی اﷲ تعالیٰ تم میں سے مومنین کاملین اور اہل علم کے درجے بُلند فرمائے گا اور اس میں شک نہیں کہ مومنین کاملین اور اہل علم اﷲ تعالیٰ کے نزدیک دنیا وآخرت میں بلند درجے رکھتے ہیں، دیکھئے صالحین اور اولیائے کرام کے درجے عامۃ المسلمین سے بُلند ہیں اور شہید کا درجہ بھی غیر شہید سے بُلند ہے، صدّیقین کے مراتب اور درجات شہداء سے بھی بلند ہیں، اور رفعتِ منزلت ان سب کے لئے ثابت ہے، لیکن نبی کی رفعتِ منزلت کو غیر نبی نہیں پاسکتا، اسی لئے ہم نے بار بار تنبیہ کی ہے کہ نبی کے مخبر عن اﷲ اور رفیع المنزلۃ ہونے میں کوئی تعارض نہیں ، بلکہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔
مگر افسوس کہ معاند نے نبی کے مخبر عن اﷲ ہونے کی نفی کرتے ہوئے اسے صرف رفیع المنزلۃ قرار دے کر گویا اس کی رفعتِ منزلت کی بنیاد ہی کو ختم کردیا۔ معاند نے نبی کے مخبر عن اﷲ ہونے کی نفی بڑے شدّومد سے کی ہے اور اس نفی پر حدیث ِ اعرابی کا سہارا لیا ہے اور اس حدیث کے بارے میں ،مستدرک سے امام حاکم کا یہ قول بھی نقل کیا ہے’’صَحِیْحٌ عَلیٰ شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ‘‘ لیکن اپنے اس کلام میں ہر جگہ جہالت اور خیانت کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بارے میں ہم تفسیر قرطبی سے نقل کرچکے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے، صاحب نبراس کی عبارت بھی ہم نے نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا اور ’’عَلیٰ شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ‘‘ اسے صحیح لکھا، لیکن سند کے اعتبار سے یہ حدیث ضعیف ہے، اس کے راویوں میں ایک راوی حمران ہے جو غلاۃ شیعہ سے ہے۔
(۳۷) علاوہ ازیں امام زبیدی صاحبِ تاج العروس نے اسی حدیثِ اعرابی کے بارے میں فرمایا :
’’وَیَنْبَغِیْ اَنْ تَکُوْنَ رِوَایَۃُ اِنْکَارِہٖ غَیْرَ صَحِیْحَۃِِ عَنْہُ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ لِاَنَّ بَعْضَ شُعَرَائِہٖ وَھُوَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسِ السُّلِمَیُّ قَالَ یَاخَاتَمَ النُّبَآئِ وَلَمْ یَرِدْ عَنْہُ اِنْکَارُہٗ لِذَالِکَ۔
(یعنی مناسب یہ ہے کہ اعرابی کی حدیث جس میں نبی بالہمزہ کا انکار رسول اﷲ صاﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے مروی ہے، اسے غیر صحیح قرار دیا جائے، اس لئے کہ حضور کے شعراء میں سے عباس بن مرداس سُلمی نے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے کہا : یَا خَاتَمَ النُّبَآئِ اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اس کا انکار وارد نہیں ہوا (جب کہ نُبَأَئَ نَبِیّ کی جمع نہیں، بلکہ نبیٌٔ بالہمزہ کی جمع ہے)
اس سے کچھ پہلے یہی امام زبیدی اس روایت کے بارے میں فرماچکے ہیں کہ (۳۸) اس حدیث کے رواۃ میں حسین جعفی ہے جو شیخین کی شرط پر نہیں۔
وَلَھٰذَا ضَعَّفَہٗ جَمَاعَۃٌ مِنَ الْقُرَّائِ وَالْمُحَدِّثِیْنَ وَلَہٗ طَرِیْقٌ اٰخَرٌ مَنْقَطِعٌ۔ انتھٰی
یعنی اسی لئے قُرّاء ومحدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، اس حدیث کا ایک دوسرا طریق بھی ہے جو منقطع ہے۔ (تاج العروس، جلد۱، ص۱۲۲) رہا یہ امر کہ امام حاکم نے اس کو صحیح علیٰ شرط الشیخین کہا، تو یہ امام حاکم کا تساہل ہے۔ (۳۹) امام نووی تقریب میں فرماتے ہیں : وَاعْتَنَی الْحَاکِمُ بِضَبْطِ الزَّائِدِ عَلَیْھِمَا وَھُوَ مُتَسَاھِلٌ یعنی امام حاکم نے مستدرک میں کوشش کی کہ وہ شرطِ شیخین پر زائد حدیثیں ضبط کریں اور وہ حدیث کی تصحیح میں متساہل ہیں۔ (۴۰) امام سیوطی نے اس کے تحت تدریب الراوی میں فرمایا : قَالَ شَیْخُ الْاِسْلَامِ وَاِنَّمَا وَقَعَ لِلْحَاکِمِ التَّسَاھُلُ لِاَنَّہٗ سَوَّدَ الْکِتَابَ لَیُنَقِّحَہٗ فَاَ عْجَلَتْہُ الْمَنِیَّۃُ ا ھ یعنی شیخ الاسلام(حافظ ابن حجر عسقلانی) نے کہا کہ حاکم کے تساہل کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب مستدرک کا مسودہ تیار کیا تاکہ اس کی تنقیح کریں، لیکن اس سے پہلے ہی ان کی موت واقع ہوگئی۔(تدریب مع التقریب، ص۵۲)
معاند نے ان تمام عبارات و تصریحاتِ علماء کو نظر انداز کر کے اپنی جہالت اور خیانت کا مظاہرہ کیا۔ وَاِلَی اﷲِ الْمُشْتَکیٰ بالفرض حدیث اعرابی کو تسلیم بھی کرلیا جائے، تب بھی وہ معاند کا سہارا نہیں بنتی ، اس لئے کہ ہم علماء کی عبارات نقل کرکے بار بار تنبیہ کرچکے ہیں کہ اعرابی کے یَا نَبِیَٔ اﷲ ہمزہ کے ساتھ کہنے پر اس لئے حضورنے انکار نہیں فرمایا کہ اُس نے مخبر عن اﷲ کے معنٰی مراد لے کر حضور کو ہمزہ کے ساتھ نبیٔ اﷲ کہا تھا، بلکہ صرف اس بناء پر حضور نے انکار فرمایا کہ اُس نے یَاخَارِجُ مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ کے معنی مراد لے کر حضور کو ہمزہ کے ساتھ یا نبی اﷲ کہا تھا۔
بعض علماء نے کہا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ لفظِ نبیٔ بالہمزہ لُغتِ قریش سے نہ تھا۔ (۴۱) یہ محض توہم ہے، امام زبیدی ’’تاج العروس ‘‘میں فرماتے ہیں :
وَ الَّذِیْ صَرَّحَ بِہِ الْجَوْھَرِیُّ وَالصَّاغَانِیْ بِاَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا اَنْکَرَہٗ لِاَنَّہٗ اَرَادَ یَا مَنْ خَرَجَ مَنْ مَّکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ ، لَا لِکَوْنِہٖ لَمْ یَکُنْ مَنْ لُغَتِہٖ کَمَا تَوَھَّمُوْا وَیُؤَیِّدُہٗ قَوْلُہٗ تَعَالٰی لَا تَقُوْلُوْارَعِنَا فَاِنَّھُمْ اِنَّمَا نُھُوْا عَنْ ذٰالِکَ لِاَنَّ الْیَھُوْدَ کَانُوْا یَقْصُدُوْنَ اِسْتِعْمَالَہٗ مِنَ الرَّعُوْنَۃِ لَا مِنَ الرِّعَایَۃِ قَالَہٗ شَیْخُنَا اھ
یعنی حدیث اعرابی میں ہمزہ کے ساتھ نبیٔ اﷲ کہنے پر حضور کا انکار جوہری اور صاغانی کی تصریح کے مطابق صرف اس لئے تھا کہ اعرابی نے یَامَنْ خَرَجَ مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ کا معنی مراد لے کر صرف’’خَارِجٌ‘‘ کے معنٰی میں حضور کو نبیٔ اﷲ کہا تھا، حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا انکار اس بناء پر نہ تھا کہ نبیٔ بالہمزہ حضور کی نعت میں نہیں تھا، جیسا کہ لوگوں نے وہم کیا، اس تصریح کی تائید اﷲ تعالیٰ کے قول لَاتَقُوْلُوْ رَاعِنَا سے ہوتی ہے، کیونکہ راعنا کہنے کی نہی صرف اس وجہ سے تھی کہ یہود رعایت کی بجائے رعونت سے مشتق کرکے حضور کو رَاعِنَا کہتے تھے، یہ بات ہمارے شیخ نے فرمائی اھ ۔ (تاج العروس، ج۱، ص۱۲۲)
اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ اگر حدیثِ اعرابی کو تسلیم بھی کرلیا جائے، تب بھی وہ معاند کا سہارا نہیں بنتی، کیونکہ جس معنی پر حضور نے انکار فرمایا، ان معنی میں لفظِ نبی قرآن وحدیث میں مستعمل نہیں ہوا، آخر میں معاند کا یہ کہنا کہ جوہری نے اپنی صحاح میں نبی کو فعیل بمعنی مفعول نہ کہ بمعنی فاعل فرماکر ہماری تائید فرمائی، عجیب مضحکہ خیز ہے۔
جب اس لفظ نبیٔ کو غیر جیّد غیر فصیح اور لُغتِ ردی کہہ کر اِسے ساقط کردیا، تو اب جوہری کی عبارت سے اسے کیا فائدہ پہنچا؟ پھر یہ کہ جوہری نے فعیل بمعنٰی مفعول ضرور کہا، لیکن بمعنٰی فاعل کی نفی نہیں کی اور دیگر ائمّۂ لُغت کی تصریحات ہم اس سے پہلے نقل کرچکے ہیں کہ انہوں نے بمعنی فاعل بھی کہا جو معاند کے مسلک کی نفیِ صریح ہے۔
اس کے بعد ہم معاند کی ایک اور جہالت وخیانت کا پردہ بھی چاک کردینا چاہتے ہیں جس کا مظاہرہ اس نے ہمزہ کے ساتھ لفظِ نبیٔ کی نفی کی تائید میں کیا ہے،کہتا ہے کہ قرآن مجید میں نبیٔ بلا ہمزہ آیا ہے، نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی نبی بلا ہمزہ فرمایا، حدیث کی بحث تو ابھی تفصیل کے ساتھ قارئین کے سامنے آچکی ہے، رہا یہ امر کہ صحائفِ قرآنیہ میں نبی بلا ہمزہ آیا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں صرف مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن آیا ہے، مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْن نہیں آیا، اسی طرح خَاتَمَ النَّبِیِّیْن آیا ہے، خَاتِمَ النَّبِیّیْن نہیں آیا، لیکن جب یہ ثابت ہوگیا کہ مَالِکِ اور مَلِکِ دونوں قرأتیں متواتر ہیں، نیز خَاتَم اور خَاتِم بھی ہر دو متواتر قرأتیں ہیں ، تو اس کے بعد محض اس بنا پر کہ صحائف ِ قرآنیہ میں صرف ایک قرأۃ لکھی ہے، دوسری متواتر قرأۃ کا انکار کسی اہل علم ، بلکہ عام مسلمان کے نزدیک بھی جہالت کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔
ہم ثابت کرچکے ہیں نبی بالہمزہ اور بلا ہمزہ دونوں قرأتیں ہیں ، ایسی صورت میں معاند کا لفظِ نبی بلا ہمزہ کا انکار جہالت وخیانت نہیں تو کیا ہے؟ ہمارے اپنے مسلک کی تائید کے لئے اختصار کے ساتھ دلائل کا پیش کردینا بھی کافی تھا، لیکن ائمّۂ مفسرین ومحدّثین علماء لغت قرآن وحدیث و متکلمین اور ائمّہ لُغت عرب کی ان تفصیلی عبارات کو محض اس لئے نقل کیا گیا کہ معاند کی خیانت واضح ہوکر قارئین کے سامنے آجائے۔ ہماری منقولہ عبارات کو پڑھنے کے بعد قارئین کرام پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ہر جگہ ہماری تائیدی عبارات پہلے مذکور ہیں، جمہیں معاند نے ازروئے خیانت نقل نہیں کیا، صرف قولِ مؤخّر کو اپنی تائید میں سمجھ کر نقل کردیا جو فی الواقع اس کے مفید مطلب نہیں، جیسا کہ ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں۔
معاند نے اپنی ساری قوت اس غلط نظریہ کو ثابت کرنے میں صرف کردی کہ اصطلاحی نبی نبأ سے ماخوذ نہیں اور اصطلاحی نبی کے معنٰی خبر دینے والا نہیں، بلکہ اس کے معنی صرف رفیع المنزلۃ ہیں۔ ہم نے دلائل کی روشنی میں ثابت کردیا کہ لفظ’’نبی‘‘ کے اصلاحی معنٰی مبعوث من اﷲ ہوکر’مُخْبَرْ یا مُخْبِرْ عن اﷲ‘‘ ہیں، یعنی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے خبر پانے والا یا خبر دینے والا، اور اُس کا رفیع المنزلۃ ہونا اسی امر پر مبنی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوکر خبر پانا یا خبر دینا صرف نبی کی شان ہے، غیر نبی کا یہ مرتبہ نہیں، اسی لئے علماء نے لفظِ نبی کے اصطلاحی معنٰی خبر پانے یا خبردینے والا تحریر کئے ہیں، جیسا کہ ہم تفصیلی عبارات ابھی نقل کرچکے ہیں۔
خلاصہ
خلاصۃ الکلام کے طور پر ناظرین کرام معاند کے تینوں دعاوی ذہن نشین فرمالیں: (۱) ایک یہ کہ نبی،نَبأ بمعنی خبر سے مشتق نہیں اور اس کے معنی’’خبر دینے والا‘‘ ہر گز نہیں، بلکہ وہ نَبْوَۃٌ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں’’ بلندی‘‘، لہذا نبی کے معنی ہیں بلند رتبہ۔ (۲) یہ کہ لفظ’’نبی‘‘ ہمزہ کے ساتھ قرآن مجید میں نہیں آیا۔ (۳) یہ کہ ایک اعرابی نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہمزہ کے ساتھ’’نبیٔ اﷲ‘‘ کہا، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہمزہ کے ساتھ نبیٔ اﷲ نہیں، بلکہ ہمزہ کے بغیر’’نبی اﷲ‘‘ ہوں، ہم نے اس کے تینوں دعووں کو دلائل کے ساتھ رد کردیا اور ثابت کردیاکہ : ۱۔ لفظ نَبْوَۃٌ خود’’اِنْبَائٌ سے ماخوذ ہے اور لفظ’’نبی‘‘ کا ماخذ نَبَأٌہے اور نبی کے معنی ہیں خبر دیا ہوا، اور’’خبر دینے والا‘‘اور اس کا بلند رتبہ ہونا اسی لئے ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مُخْبَرْ اور مُخْبِرْ ہوتا ہے۔ ۲۔ اور ہم نے اچھی طرح واضح کردیا کہ قرآن مجید کی قرأت ِ متواترہ میں ہمزہ کے ساتھ نبیٌٔ وارد ہے۔
۳۔ ہم نے اس حقیقت کو بھی بے نقاب کردیا کہ اعرابی والی وہ روایت قابلِ اعتماد نہیں ہے۔
امام ابن تیمیہ کی تائید
اس کے بعد ہم وہابیوں، دیوبندیوں کے مقتداء اور امام ابنِ تیمیہ کی وہ عبارات نقل کرتے ہیں، جنہوں نے معاند کے ان دعؤوں کو ھبائً منثوراً کرکے رکھ دیا اور معاند کے لئے ذلّت وخواری کے سوا کچھ نہ چھوڑا، ملاحظہ فرمائیے، معاند کے امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
پہلی عبارت
(۱) وَالنُّبُوَّةُ مُشْتَقَّةٌ مِنَ الْإِنْبَاءِ وَالنَّبِيُّ فَعِيلٌ وَفَعِيلٌ قَدْ يَكُونُ بِمَعْنَى فَاعِلٍ أَيْ مُنْبِئٌ وَبِمَعْنَى مَفْعُولٍ أَيْ مُنْبَأٌ وَهُمَا هُنَا مُتَلَازِمَانِ (کتاب النبواۃ، طبع بیروت، ص۳۳۳)
اور’’ نَبْوَۃْ‘‘۔ اِنْبَاء‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں خبر دینا اور’’نبی‘‘ فعیل کے وزن پر ہے اور فعیل کبھی اسم فاعل کے معنی میں آتا ہے، یعنی خبر دینے والا اور کبھی اسم مفعول کے معنی میں یعنی’’خبر دیا ہوا‘‘ اور یہاں یہ دونوں آپس میں لازم وملزوم ہیں، یعنی خبر دینے والا ہونے کے لئے لازم ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے خبر دیا ہوا ہو۔ آگے چل کر لکھتے ہیں :
(۲) وَهُوَ مِنَ النَّبَاءِ وَأَصْلُهُ الْهَمْزَةُ وَقَدْ قُرِئَ بِهِ وَهِيَ قِرَاءَةُ نَافِعٍ يَقْرَأُ النَّبِيءَ لَكِنْ لِكَثْرَةِ اسْتِعْمَالِهِ لَيَّنَتْ هَمْزَتُهُ كَمَا فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الذُّرِّيَّةِ وَفِي الْبَرِيَّةِ وَقَدْ قِيلَ هُوَ مِنَ النَّبْوَةِ وَهُوَ الْعُلُوُّ فَمَعْنَى النَّبِيِّ الْمَعْلِيُّ الرَّفِيعُ الْمَنْزِلَةِ وَالتَّحْقِيقُ أَنَّ هَذَا الْمَعْنَى دَاخِلٌ فِي الْأَوَّلِ فَمَنْ أَنْبَأَهُ اﷲُ وَجَعَلَهُ مُنْبِئًا عَنْهُ فَلَا يَكُونُ الْأَرْفَعُ الْقَدْرِ عَلِيًّا` (کتاب النبواۃ، ص۳۳۶)
’’نبی‘‘ ’’نَبَأ‘‘ سے ماخوذ ہے، اس کی اصل ہمزہ ہے اور ہمزہ کے ساتھ اُسے پڑھا گیا ہے اور وہ نافع کی قرأۃ ہے جو اسے ہمزہ کے ساتھ ’’نبیٔ ‘‘ پڑھتے ہیں، لیکن کثرتِ استعمال کی وجہ سے اس کے ہمزہ کو لین کے ساتھ یعنی’’نَبِیٌْٔ‘‘ کی بجائے’’نَبِیٌّ‘‘ پڑھا گیا جیسے ذُرِّیۃَُّْ اور بَرِیَّۃ کہ دونوں ہمزہ کی بجائے یا کے ساتھ پڑھے گئے، ایک قول یہ ہے کہ لفظِ نبی نَبْوَۃْ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں’’بلندی‘‘ ، ایسی صورت میں نبی کے معنی ہیں’’اونچا اور بُلند رتبہ‘‘۔ اور تحقیق یہ ہے کہ یہ معنی پہلے معنی میں داخل ہیں ، کیونکہ جسے اﷲ تعالیٰ نے خبر دی اور اُسے اپنی طرف سے خبر دینے والا بنایا، وہ وہی ہوتا ہے جو بُلند رتبہ اور اونچا ہو۔ (کتاب النبوات، طبع بیروت، ص۳۳۶) (۳) پھر اعرابی کی روایت کے بارے میں لکھتے ہیں :
وَمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اﷲُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَنَا نَبِيُّ اﷲِ وَلَسْتُ نَبِيءَ اﷲِ فَمَا رَأَيْتُ لَهُ إِسْنَادًا مُسْنَدًا وَلَا مُرْسَلًا وَلَا رَأَيْتُ فِي شَيْءٍ مِنْ كُتُبِ الْحَدِيثِ وَلَا السِّيَرِ الْمَعْرُوفَةِ وَمِثْلُ هَذَا لَا يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ (کتاب النبوات، للامام ابن تیمیۃ، طبع بیروت، ص۳۳۶/۳۳۷)
اور حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے جو روایت کی گئی کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا(میں ہمزہ کے ساتھ) نبیٔ اﷲ نہیں، بلکہ(بغیر ہمزہ کے) نبیُّ اﷲ ہوں ، میں نے اس کی کوئی اسناد نہیں دیکھی ، نہ مسند اور نہ مرسل اور نہ میں نے کتبِ حدیث میں سے کسی کتاب میں یہ حدیث دیکھی اور نہ سِیٔر معروفہ میں اس روایت کو میں نے دیکھا، اس جیسی روایت پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا۔ ناظرین کرام ! یہی وہ ابن تیمیہ ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے كُلُّ حَدِيثٍ لَا يَعْرِفُهُ ابْنُ تَيْمِيَّةُ فَهُوَ لَيْسَ بِحَدِيثٍ یعنی جس حدیث کو ابن تیمیہ نہیں پہچانتے وہ حدیث نہیں، آپ نے دیکھ لیا کہ معاند کے اسی امام ابن تیمیہ نے اُس کے تینوں دعاوی کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دیں اور ان کا ابطال کرکے ہماری تصدیق وتوثیق کردی، سچ ہے الْحَقُّ يَعْلُو وَلَا يُعْلَى عَلَيْهِ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ اب اس بحث کے اختتام پر ہم معاند کے قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی کی ایک فیصلہ کُن عبارت پیش کررہے ہیں، آپ نے ’’تحذیر الناس‘‘ میں تحریر کیا : (۴۲) ’’جیسے نبی کو نبی اس لئے کہتے ہیں کہ خبر دار یا خبر دار کرنے والا ہوتا ہے، صدیق کو صدیق اس لئے کہتے ہیں کہ اُس کی عقل بجز قولِ صادق قبول نہیں کرتی۔ ا ھ (تحذیر الناس، مطبوعہ قاسمی پریس دیوبند، ص۵۔۶) مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری تحذیر الناس کی اس عبارت کے بعد بھی معاند کا یہ کہنا کہ ’’اصطلاحی نبی کے معنی خبر دینے والا نہیں، بلکہ اس کے معنی رفیع المنزلۃ ہیں‘‘ اپنے قاسم العلوم والخیرات کی تکذیب نہیں تو کیا ہے؟ ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ بانیٔ مدرسہ دیوبند نے اس کا سب کیا دھرا خاک میں ملا کر رکھ دیا۔ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ
تاریخ تحریر
۲۴؍ رمضان المبارک ۱۴۰۵ھ / ۱۴؍ جون ۱۹۸۵ء
سیّد احمد سعید کاظمی غفرلہ