بسم اﷲ الرحمن الرحیم
تحریک ختم نبوت کا ایک قلمی مجاہد
پروفیسر محمد الیاس برنی رحمۃ اﷲ علیہ (ایم ۔اے۔ علیگ)
تعارف
ولادت
پروفیسر علامہ سلاح الدین محمد الیاس برنی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ۱۹؍اپریل ۱۸۹۰ء ، یوم شنبہ، بوقت ۹؍بجے شب کواپنے ننھال تحصیل خورجہ ضلع بلندشہر(یو، پی۔ بھارت) میں پیدا ہوئے، ۱۹۰۸ء میں خورجہ ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان امتیازی شان میں پاس کیا، اس کے بعد علی گڑھ کالج میں داخلہ لے لیا۔
(سالنامہ معارف رضا، کراچی، شمارہ ۱۹۸۴ء، ص۲۵۰۔ برنی نامہ، مطبع ابراہیمیہ، حیدر آباد دکن، ۱۹۵۷ء، ص۲)
ابتدائی تعلیم
پروفیسر برنی صاحب لکھتے ہیں:
''قرآن شریف گھر میں پڑھا، فارسی وحساب ، انگریزی والد صاحب سے اس وقت پڑھی جب وہ چند سال کے واسطے حیدر آباد سے تشریف لا کر مکان پر مقیم تھے، اس وقت فارسی پر توجہ زیادہ رہی، عربی کو اتنا موقع نہ مل سکا، جتنا ملنا چاہئے، تاہم قرآن کریم کی برکت سے عربی سے خاصا ربط ہوگیا''۔
(محمد الیاس برنی: صراط الحمید: ج۱:ص۳۳۱)
باپ حیدر آباد میں وکیل تھے، تعطیلات میں کبھی بلند شہر آتے، اس لئے ان کی تربیت ماں کی آغوش میں ہوئی۔
(محمد الیاس برنی: صراط الحمید: ج۱:ص۳۳۱)
وہ بہت دولت مند باپ کی اکلوتی بیٹی تھیں، ساری دولت وجائیداد وغیرہ کی تنہا وارث تھیں، اﷲ کا دیا گھر میں سب کچھ تھا لیکن ان کی طبیعت کا رنگ ڈھنگ ہی کچھ اور تھا، باوجود یکہ کہ کپڑے اچھے سے اچھے موجود ہوتے تھے لیکن سادہ لباس پہنتی تھیں اور موٹا جھوٹا(خود) بھی کھاتی تھیں اور بچوں کو بھی اسی طرح رکھتی تھیں، دکھ درد میں غریبوں کے کام آتیں، دامے درمے سخنے قدمے ان کی مدد کرتی تھیں، اچھا کھانا دوسروں کو کھلاتیں، خود جو کی روٹی اور چٹنی پر گزارا کرتی تھیں، چکی پیسنے سے انہیں عار نہ تھا، بیٹیوں کو چکی پیسنے کی نصیحت کرتی تھیں، چاہتی تھیں کہ بچے عیش پسند نہ ہوں، کھاتے وقت غریبوں کا خیال آتا تو آب دیدہ ہوجاتیں تھیں، بہت نرم دل اور مسکین طبع تھیں، بچوں کی غلطی پر سزا یہ تھی کہ انہیں اپنے ساتھ کھانا نہیں کھلاتی تھیں، پاس نہیں بٹھاتی تھیں، عزیزوں میں ساتھ نہیں لے جاتی تھیں، یہ ایسی سزا تھی کہ وہ رونے آجاتے تھے، غیر کی ڈانٹ ڈپٹ کو اچھا نہیں سمجھتی تھیں، کہتی تھیں کہ اس سے بچوں کی غیرت نکل جاتی ہے، نماز روزے کی پابند تھیں، نقشبندیہ سلسلہ میں بیعت تھیں۔
(صراط الحمید : جلد۱: ص۳۱۸،۳۲۱)
ابتدائی و ثانوی تعلیم
لڑکپن میں والدہ صاحبہ کے زیر اثر تربیت پائی ، ان کا بیان ہے کہ '' میٹرک پاس کیے تک ہم ان کی خدمت میں رہے''۔(صراط الحمید : جلد۱: ص۳۳۲)
والد صاحب حیدرآباد چھوڑ کر چند سال کے لئے چھٹی پر بلند شہر رہے تو یہاں اپنے لڑکوں کو پڑھاتے، حافظ محمد اسماعیل اور اسحاق کو وکالت کی تیاری کراتے تھے ، برنی صاحب قرآن، فارسی، حساب، انگریزی وغیرہ گھر پر انہی سے پڑھی، پھر مڈل کی جماعت میں خورجہ کے ہائی سکول میں داخل کئے گئے۔(صراط الحمید : جلد۱: ص۳۳۲)
برنی صاحب بیان کرتے ہیں:
ابھی میٹرک سال اوّل میں تھے کہ انسپکٹر سید مہدی حسین بلگرامی تشریف لائے ، نوین جماعت کی انگریزی کا امتحان لیا، ہماری باری آئی تو ہم بڑھ چڑھ کر بولے، ہماری جسارت پر وہ چونکے، میٹرک کا طالب علم انگریزی میں دم مارتا ہے، اﷲ کے فضل سے بات رہ گئی، انسپکٹر صاحب نے رپورٹ اچھی لکھی، اسکول کا نام روشن ہوا۔
(صراط الحمید : جلد۱: ص۳۴۲)
خورجہ ہائی اسکول سے ۱۹۰۸ء میں میٹرک کاس امتحان درجہ اوّل میں پاس کرنے کے بعد اسی سال علی گڑھ کالج میں داخلہ لیا، پروفیسر برنی صاحب لکھتے ہیں:
جب ہم پہلی بار علی گڑھ کالج میں داخلہ لیا تو لڑکوں نے ہماری وضع قطع اورخیالات واعتقادات سے یہ اندازہ لگایا کہ ایک مذہبی دیوانہ آگھساہے، اس سے چھیڑ چھاڑ کریں گے اور خوب لطف رہے گا، مگر اﷲ کا فضل اور اﷲ کا شکر ہے اس نے عزت وقار کے ساتھ ہوشیاروں میں بسر کرادی، طالب علمی کے دائرے میں انعام تمغے اور اعزازی عہدے سب کچھ دلائے، حتیٰ کہ سب سے اعلیٰ امتیاز کالج یونین کی صدارت بھی عطا کی۔
۱۹۱۲ء میں جب بی۔ اے کا امتحان پاس کیا تو ان دنوں مسلم یونیورسٹی کی تحریک خوب زور پر تھی، امتحان سے فارغ ہوتے ہی اعزازی مددگار کی حیثیت سے نواب وقارالملک کے ساتھ یونیورسٹی کے کام میں لگ گئے، جہاں کہیں تحریک کی مخالفت ہو یا چندہ میں رکاوٹ ہو یا کارکنوں میں کھٹ پٹ ہو، جاپہنچنا اور جو کچھ بن پڑے کرنا، اس سلسلے میں نواب صاحب وقارالملک نے جو اہم کام تفویض فرمائے، بفضلہٖ وہ خوبی سے انجام پائے، اچھے اچھوں کو تعجب اور بعض کو حسد نہیں تو رشک ضرور ہوا، یوں بھی نواب صاحب خصوصیت سے عنایت واعتماد فرماتے تھے۔
اِن دنوں ڈاکٹر ضیاء الدین احمد بھی کالج میں ایک بڑی شخصیت مانے جاتے تھے، ریاضی میں قابلیت تو مسلّم ٹھہری، مگر ہم فنون (آرٹس) کے طالب علم تھے، ان کے شاگرد نہ تھے، تاہم ڈاکٹر صاحب کی توجہات سے بہت مستفید ہوئے، ڈاکٹر صاحب یونیورسٹی کانسٹی ٹیوشن کمیٹی کے سیکرٹری تھے، ہم اعزازی پرنسپل کی حیثیت سے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کام کرت تھے، دن بھر ان کے بنگلے پر رہتے، ڈاکٹر صاحب خوب کس کر کام لیتے اور خوب دل کھول کر کھلاتے پلاتے۔
سرسید راس مسعود جب تعلیم سے فارغ ہوکر ولایت سے علی گڑھ تشریف لائے تو ہماری تعلیم کا آخری زمانہ تھا، بہر حال شام کو فرصت ہوتی تو راس مسعود صاحب تشریف لاتے ، ڈاکٹر صاحب سے بہت خصوصیت تھی، سید صاحب سے ہماری بھی ملاقات ہوئی دوستی ہوئی اور تعلقات میں اتنی ترقی ہوئی کہ جب علی گڑھ میں مرحوم کی شاندار طریقے سے شادی کی رسم ادا ہوئی، ہندوستان کے گوشے گوشے معزز مہمان آئے اور علی گڑھ کے ممتاز اولڈ بوائے جمع ہوئے، تو اس قابل یادگار تقریب کے ہم مہتمم بنے ، گو بڑے بڑے قدیم دوست اِن کے موجود تھے۔
(عبدالمجید قریشی: ذکر علی گڑھ، مطبوعہ مکتبہ اُردو ڈائجسٹ، لاہور ۱۹۸۲ء، ص۱۰۳، ۱۰۵)
برنی صاحب نے بی۔اے کرنے کے بعد ایم۔اے اور ایل۔ ایل۔ بی بھی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے کیا۔
جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن کے پروفیسر ہارون خاں شیروانی لکھتے ہیں:
'' سنساری جنگ(عالمی جنگ عظیم اوّل) شروع ہونے سے چند ہفتے پہلے میں اپنی تعلیم ختم کرکے ولایت سے واپس آیا، شاید ۱۹۱۶ء کا واقعہ ہے، اولڈ بوائے ایسوسی ایشن کا جلسہ تھا، اس میں شرکت کرکے علی گڑھ کالج کے یونین ہال سے واپس ہورہا تھا کہ میرے ہمراہی نے میرا تعارف ایک خوبرو نوجوان سے کرایا، جو نیم کے ایک درخت کے نیچے(شاید ایک چارپائی پر) بیٹھا ہوا تھا اور کہا کہ یہ الیاس برنی ہیں، جو ایم۔اے میں اعلیٰ امتیاز سے کامیاب ہوئے ہیں اور کالج میں لیکچراری پر مامور ہوئے ہیں، انہیں اعلیٰ تعلیم کا وظیفہ بھی مل گیا ہے، ذرا سے سرپرستانہ انداز سے میں نے دریافت کیا کہ آپ کب ولایت جائیں گے، کس یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے، کون سے مضمون میں اختصاص پیدا کرنے کا ارادہ ہے وغیرہ، جواب جو ملا وہ میرے لئے بڑے تعجب کا باعث تھا، وہ یہ کہ میرا تو بالفعل ولایت جانے کا ارادہ نہیں، اچنبھا ہوا کہ وظیفہ مل گیا تو کون سا امر مانع ہے، دریافت کیا تو جواب ندارد ، تھوڑی بہت اِدھر اُدھر کی گفتگو کے بعد میں آگے بڑھ گیا۔
(مجلہ مرقع جامعہ عثمانیہ، شمارہ ۱۹۹۴ء، شائع کردہ انجمن طلبائے قدیم جامعہ عثمانیہ، کراچی، ص۱۸۰)
جن دنوں برنی صاحب، محمڈن کالج علی گڑھ میں معاشیات کے استاد تھے، بابائے اُردو مولوی عبدالحق سابق ناضم دارالترجمہ جا معہ عثمانیہ ، حیدر آباد ، دکن(متوفی ۱۹۶۱ء۔ کراچی) نے برنی صاحب کو علم معاشیات پر ایک مفصل کتاب لکھنے پر آمادہ کرلیا، برنی صاحب نے ۷۶۸ صفحات پر مشتمل''علم المعیشت'' تصنیف کی، یہ کتاب بڑی مقبول ہوئی اور ۱۹۲۷ء تک اس کے چار ایڈیشن شائع ہوئے۔
(محمد احمد سبزواری، مضمون ''جامعہ عثمانیہ کا شعبہ معاشیات'' مجلہ مرقع جامعہ عثمانیہ، مطبوعہ کراچی۱۹۹۴ء، ص۲۹۰)
شاہ بلیغ الدین(کراچی) لکھتے ہیں:
مولانا الیاس برنی صاحب کی کتاب ''علم المعیشت'' تقسیم ملک سے پہلے بی۔اے کے نصاب میں داخل تھی۔
(شاہ بلیغ الدین ، مضمون''آئینہ ایام'' مرقع جامعہ عثمانیہ(جشن الماس نمبر) ، مطبوعہ کراچی۱۹۹۴ء، ص۲۹۰)
برنی صاحب، جامعہ عثمانیہ، حیدر ا٢باد دکن میں اپنی تقرری کے بارے میں لکھتے ہیں:
اگست ۱۹۱۷ء میں حیدر ا٢باد دکن سے سرسید راس مسعود صاحب کا تار پہنچا کہ جس قدر جلد ممکن ہوچلے آئو، دارالترجمہ میں تمہارا سخت انتظار ہے، ہم علی گڑھ کالج میں کام کررہے تھے، پرنسپل کو عذر ہوا، ہفتے عشرے تار دوڑتے رہے، خط چلتے رہے، آخر کار ہم چل دئیے اورط آخر شریک ہوئے
(عبدالمجیدقریشی، ذکر علی گڑھ، مطبوعہ مکتبہ اُردو ڈائجسٹ، لاہور، ۱۹۸۲ء، ص۱۰۶)
ڈاکٹرمحمد رضی الدین صدیقی، سابق وائس چانسلر جامعہ عثمانیہ، حیدر ا٢باد دکن(متوفی۱۹۹۸ء۔ کراچی ) لکھتے ہیں:
۱۴؍اگست ۱۹۱۷ء کو جامعہ عثمانیہ کے شعبہ تالیف وترجمہ کا قیام عمل میں آیا، اس شعبہ کے لئے جن باصلاحیت اور قابل علماء کا تقرر عمل میں آیا، ان میں جناب پروفیسر محمد الیاس برنی ایم۔ اے(علیگ) بھی شامل تھے۔
(ڈاکٹر محمد رضی الدین صدیقی، جامعہ عثمانیہ، مطبوعہ بہادر یار جنگ اکادمی، کراچی ۱۹۸۴ء، ص۲۲)
برنی صاحب نے دارالترجمہ حیدر آباد میں پرمتھ ناتھ بزجی کی کتاب''معاشیات ھند'' اور مورلینڈ کی کتاب کا ترجمہ''مقدمہ معاشیات'' کے نام سے کیا، اس کے بعد ہندوستان کے معاشی مسائل پر ایک ضخیم کتاب''معیشت ہند'' کے نام سے لکھی، برنی صاحب بڑے اچھے ادیب تھے، قلم میں روانی اور زبان میں شگفتہ بیانی تھی، بے ساختہ لکھتے تھے، خشک مضمون کو زبان کی چاشنی سے دلچسپ بنا دیتے تھے، مثال کے طور پر آخرالذکر کتاب میں جنگلات کا باب دیکھئے جس پر ناول کا گمان گزرتا ہے۔(مجلہ مرقع جامعہ عثمانیہ، مطبوعہ کراچی۱۹۹۴ء، ص۱۰۰)
برنی صاحب ملک کے ان قابل قدر فرزندوں میں سے تھے جن پر کسی قوم کو بجا طور پر ناز ہوسکتا ہے، معاشیات کے متعلق جتنی کتابیں آپ نے لکھی ہیں، ہندوستان میں کسی اور نے نہ لکھیں ، خاموشی کے ساتھ نہایت ٹھوس خدمات انجام دیں، لٹریچر اور ادب کے ایسے ہی لوگ محسن ہوتے ہیں۔
(سید زوار حسین: مصنفین اُردو: فہرست کتب حالی پبلشنگ ہائوس کتاب گھر دہلی، مطبوعہ دہلی۱۹۳۹ء، ص۲۲۶)
۲۸؍اگست ۱۹۱۹ء کو کلیہ جامعہ عثمانیہ کا قیام عمل میں تو برنی صاحب کلیہ جامعہ عثمانیہ سے وابستہ ہوگئے ، تین سال تک برنی صاحب معاشیات کا درس تنہا دیتے رہے، پھر ۱۹۲۲ء میں پروفیسر حبیب الرحمن صاحب ان کے معاون بنے، مگر تھوڑے دنوں بعد پروفیسر حبیب الرحمن تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے ، واپسی پر وہ معاشیات کے پروفیسر اور صدر مقرر ہوئے اور برنی صاحب ناظم دارالترجمہ کی حیثیت سے اپنے شعبہ میں آگئے، برنی صاحب اس شعبہ میں مسجل(رجسٹرار)بھی رہے، ۱۹۴۸، میں وظیفہ حُسن خدمت پر اسی شعبہ سے سبکدوش ہوئے۔
(مجلہ، مرقع جامعہ عثمانیہ(جشن الماس نمبر)، مطبوعہ کراچی۱۹۹۴ء، ص۱۸۰)
برنی صاحب ، مولوی عبدالحق بابائے اُردو کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ناظم دارالترجمہ مقرر ہوئے تھے۔
(نصیر الدین ہاشمی، دکن میں اُردو، مطبوعہ مکتبہ معین الادب ، لاہور ۱۹۵۲ء، ص۶۴۱)
روحانی تربیت
دورانِ تعلیم علی گڑھ یونیورسٹی میں بورڈنگ کے قریب ایک بنگلہ میں عبداﷲ نام کے ایک بزرگ رہتے تھے، ان سے ملاقات ہوئی، تعلق بڑھا، برنی صاحب ان کے متعلق فرماتے ہیں:
یہ سن رسیدہ بزرگ مردانہ حسن کا نمونہ تھے، ان کا تکیہ کلام''جل جلالہٗ'' تھا ، جرمن، فرانسیسی، انگریزی، عربی، اُردو کئی زبانوں پر عبور تھا، قوم کے جرمن تھے، جنات سے بھی رابطہ تھا، باپ ان کے ہندوستان میں ڈاک خانہ جات کے انسپکٹر جنرل رہ چکے تھے، یہ بغداد میں مسلمان ہوئے اور علی گڑھ میں انتقال ہوا تعلیم یافتہ طبقہ میں ان کا خوب فیضان تھا، بہت پہنچے ہوئے بزرگ تھے، دوستی بڑھی، بے تکلفی بڑھی، برنی صاحب کہتے ہیں:
حضرت نے انتہائی محبت سے چاہا کہ خاص خاص شغل مفیدہ سہولت سے طے کراکر بعض نادر کمالات سے سرفراز فرمایا لیکن اپنا ذوق ہے ، کمال کی اکتساب پر طبیعت آمادہ نہیں ہوئی، اگر بے کمالی تحقیق ہوجائے، یہی انسان کا سب سے بڑا کمال ہے، حضرت اصلی منشا پاگئے ، اس کو عالی ہمتی قرار دے کر بہت داد دی، سینہ سے لگایا کہ اب کسی کمال کے حصول کی ضرورت نہیں، ہزار کمالات ہوں، عبدیت ہی اصل اور انتہائی مقام ہے، اس میں خوف وگزند نہیں، حفاظت یقینی ہے۔
(صراط الحمید، جلد ۱، صفحہ ۳۲۳، ۳۲۴)
بیعت وخلافت
برنی صاحب فرماتے ہیں:
''ابتداء میں(۱۹۱۷ء۔ ۱۹۲۱ء) جب محلہ جام باغ ، ترپ بازار میں قیام تھا ، حسن اتفاق کہئے ، مشیت الٰہی کی کسی تحریک کے بغیر ایک دن بعد نماز فجر نادانستہ طور پر کرایہ کے مکان کا خیال آیا، ایک نو تعمیر مکان پر کرایہ کے لئے خالی ، تختی لگی ہوئی تھی، دستک دی، ماما آئی، پھر بحیثیت مکان دار ایک بزرگ آئے، تعارف ہوا، یہ شاہ محمد حسین صاحب تھے… ان سے بات طے ہوگئی، پھر دینی وروحانی روابط بڑھے اور راہ حق کی تعلیم وتربیت کا سلسلہ چلا''۔(برنی نامہ۔ ص ۷)
''حضرت شاہ محمد حسین چشتی قادری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ، چشتی سلسلہ کے ایک صاحب دل بزرگ ، حضرت کمال اﷲ شاہ المعروف بہ مچھلی والے شاہ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کے نامور خلیفہ مجاز تھے، حضرت مچھلی والے شاہ صاحب رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ حیدر ا٢باد دکن میں چادر گھاٹ کی مسجد الٰہی چمن میں رہا کرتے تھے''۔
(ڈاکٹر محمد عبدالستار خاں، سابق صدر شعبہ عربی، جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن، تذکرہ حضرت محدّث دکن، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۸ء، ص۱)
حج بیت اﷲ کی سعادت
برنی صاحب کو دو مرتبہ حج بیت اﷲ کی سعادت نصیب ہوئی، پہلا حج ۱۹۲۷ء میں کیا، دوسری مرتبہ ۱۹۴۳ء میں حج کیا اور مدینہ منورہ، بیت المقدس اور بغداد شریف کی زیارتوں کی بھی سعادت حاصل کی۔
(مجلہ جامعہ عثمانیہ، مطبوعہ کراچی۱۹۹۴ء، ص۱۸۱)
۱۹۲۷ء میں بلاد اسلامیہ کا سفر اور حج وزیارت
برنی صاحب کے مرشد حضرت شاہ محمد حسین چشتی قادری علیہ الرحمہ نے ۱۳۴۴ھ/۱۹۲۵ء میں حج کیا تو آکر انہیں بشارت دی کہ ان شاء اﷲ جلد ہی آپ کو بھی یہ سعادت نصیب ہوگی ، چنانچہ ایسا ہی ہوا، برنی صاحب نے ایک دن فرصت میں مولانا عبدالقدیر حسرت صدیقی قادری حیدرآبادی علیہ الرحمہ(متوفی ۱۳۸۱ھ) سے دوران گفتگو میز سے جنتری اُٹھائی ، تعطیلات پر نظر پڑی تو رخصت ملا کر دیکھا، اتنی مدت ہوگئی، سفر بخوبی کیا جاسکتا ہے۔(صراط الحمید،ج۱، ص۵۱)
عبدالقدیر صاحب، ان کے مرید سید حبیب علی اور مخلص دوست لطف احمد بھی تیار ہوگئے، دو سید، ایک صدیقی اور برنی فاروقی، چاروں کا قافلہ تیار ہگیا، امیر قافلہ برنی کو بنایا گیا۔ (صراط الحمید،ج۱، ص۳۱۱،۳۱۳،۳۱۵)
روداد سفر
''یکم رمضان المبارک /۶؍مارچ۱۹۲۷ء کو روانہ ہوئے اور ۲۹؍ذی الحجہ، مطابق۲۰؍جون۱۹۲۷ء کو گھر لوٹ آئے، چار ماہ میں اﷲ تعالیٰ نے اتنی وسعت وبرکت دی کہ عراق، شام، فلسطین اور حجاز دوردراز کا سفر طے ہوگیا، بغداد شریف وملحقات شریفہ میں دو ہفتے، دمشق میں ایک ہفتہ، بیت المقدس میں ایک ہفتہ، مدینہ منورہ میںتین ہفتے، مکہ معظمہ میں دو ہفتے، غرض قدم قدم پر، لمحہ لمحہ پر، تائید ایزدی اور لطائف غیبی کا جلوہ نظر آتا تھا، جو چشم بصیرت کھولتا اور نور ایمان بڑھاتا تھ''۔
حرم نبوی میں اوقات
شب کی عبادات
''شب کو ڈھائی کے قریب حرم شریف کے دروازے کھلتے ہیں، حاضر رہتے، فرط شوق سے، بڑے ادب سے لمبے لمبے قدم آہستہ ا٢ہستہ رکھتے، گویا دبے پائوں جاتے، روضۃ الجنۃ میں تلاوت کرتے، محراب النبی ﷺ میں نماز پڑھتے، مواجہہ شریف میں درود وسلام پیش کرتے، پھر وظیفہ پڑھتے، فجر کی نماز سے فارغ ہوتے ہی تاروں کی چھائوں میں جنت البقیع میں دوڑ جاتے، نور ظہور کے وقت وہاں بھی یک سوئی ہوتی، سب ہی مزارات پر بلا ناغہ حاضر ہوتے، فاتحہ پڑھتے اور سیدہ خاتون جنت رضی اﷲ عنہا کے مزار پر دیر تک حاضر رہتے، مگر دل نہ بھرتا تھا، طلوع ا٢فتاب کے بعد حجاج کی آمد ہوتی، اس وقت فاتحہ سے فارغ ہوکر حرم شریف واپس پہنچتے''۔
(صراط الحمید،ج۱،ص۱۳)
''یہاں خدام کے ساتھ جھاڑو، بہارو کے کام میں مصروف ہوجاتے، ریاض الجنۃ میں فرش جھاڑتے، جھاڑو دیتے، خدام میں نام شامل کراتے، غیر حاضری پر باز پرس ہوتی تھی، کام دل کھول کرکرتے اور لطف اُٹھاتے''…'' اس میں ایک آدھ گھنٹہ صرف ہوتا، صبح سات، ا٢ٹھ بجے کے قریب فراغت ہوتی تو مکان پر ا٢تا ، ناشتہ کرکے سو جاتا، دوپہر کو اُٹھتا''۔(صراط الحمید،ج۱،ص۱۷۹)
رات کو ٹھہرنے کی سعادت
حرم نبوی میں رات کو ٹھہرنے کے لئے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے، درخواست کی منظوری منتظمین کی صواب دید پر موقوف ہوتی تھی، برنی صاحب اور ان کے دوستوں نے بھی اجازت مانگی تو مل گئی، برنی صاحب اس کی داستان یوں بیان کرتے ہیں:
''۶،۷؍ ذیقعدہ ۱۳۴۵ھ، یوم یک شنبہ، دو شنبہ کی درمیانی شب، حرم شریف میں بسر ہوئی، اس شب کا کیا کہنا، زہے قسمت، زہے نصیب ، عشاء کی نماز پڑھ کر ہم چاروں غوات کے چبوترہ پر بیٹھ گئے، نمازی رخصت ہوئے، پھر خدام رخصت ہوئے، شاید کوئی خادم اندر رہ گیا ہو، مگر نظر نہیں ا٢یا، ضرم شریف کے دروازے بند ہوگئے، روشنی مدھم ہوئی گئی، غرض تخلیہ ہوا تو عجب شان جلالت کے ا٢ثار محسوس ہونے لگے، بے اختیار دل عظمت سے بیٹھا جاتا تھا، ہم چاروں اندر سے اُٹھ کر صحن میں ا٢ بیٹھے ، نوافل، ذکر وفکر، صلوٰۃ وسلام میں ہرکوئی اپنے اپنے ذوقکے مطابق مشغول ہوگیا، شاید نیند ا٢ئے، مگر کیا ممکن ہے کہ پلک جھپکے، البتہ محویت ضرور تھی، رات ڈھلی تو ۲؍ بجے کے قریب دلوں پر جمال چھا گئی، رؤف کا رنگ ا٢گیا، صاف معلوم ہواکہ اَب حاضر ہونا چاہئے۔
الحمد ﷲ ! اس سے بڑھ کر زندگی میں کون سا وقت ا٢سکتا ہے ؟ اُٹھے اور لڑکڑاتے بارگاہ اقدس کی طرف چلے، کسی کے دل میں تخلیہ کی تمنا تھی، خدا کی قدرت تینوں رفیق نماز کے واسطے روضۃ الجنۃ میں ٹھہرگئے اور ایک دیوانہ اپنی دھن میں افتاں وخیزاں پہنچا اور مواجہہ شریف میں ا٢ستانہ معلی کی جالی پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اﷲ اکبر! وہ تنہائی، شب کی خاموشی، پیشی میں صرف دو شمعیں روشن اور بارگاہ اقدس کی حاضری:
یا رب! کجا است محرم رازے کہ یک زماں دل شرح ا٢ں دہد کہ چہ دید وچہا شنید
اتنے میں چاروں رفیق جمع ہوگئے، اپنا اپنا ربط، اپنا اپنا حال۔ ہم ہی ہم ہیں تیری محفل میں کوئی اور نہیں
گھنٹے منٹوں کی طرح گزر گئے، وہی تین بجے حرم شریف کے دروازے کھلے اور تخلیہ برخاست ہوا، اپنے حق میں یہ شب لیلۃ القدر معلوم ہوتی تھی''۔
الحمد ﷲ حمدا کثیرا وصلی اﷲ علیٰ رسول اﷲ وبارک وسلم
خصوصی صلٰوۃ سلام کا القاء
برنی صاحب فرماتے ہیں:
'' مواجہہ شریف میں حضور انور ﷺ کے واسطے سے دعائیں خدا جانے کتنی مانگیں، اﷲ تعالیٰ قبول فرمائیں، لیکن ایک دُعا اوّل ہی مانگی کہ ایک ایسی درود ذہن میں ا٢جائے، جس میں حضور ﷺ کی وہ شان مذکور ہو جو اﷲ تعالیٰ کے علم مسلم ہے، وہ درود نئی ہو، کسی سے ابھی تک منقول نہ ہو، وہی پڑھا کروں اور اس کو حضور کا فیض سمجھوں، اﷲ تعالیٰ کی شان، مجھ جیسے کم علم کے ذہن میں بلا تفکر ایک قرآنی درود شریف معاً اُتر ا٢ئی اور ہمیشہ وہی ورد رہی، واما بنعمۃ ربک فحدث، باتباع امر کو یہاں ظاہر کرتا ہوں، وہ یہ کہ:
اللھم صل وسلم سیدنا محمد طہٰ ویٰس حم حم خاتم النبیین رحمۃ للعالمین بالمومنین رؤف رحیم وانک لعلیٰ خلق عظیم وعلیٰ آلہٖ وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
اس ورد سے عجیب برکات محسوس ہوتے ہیں، اُمید ہے اس سے مومنین کو فائدہ پہنچے گا اور خیر جاریہ کے ثواب میں اﷲ تعالیٰ ہم کو بھی شریک رکھے گا''۔
(صراط الحمید، ج۱، ص۱۸۲۔۱۸۳، بحوالہ ماہنامہ نور الحبیب، بصیر پور، شمارہ محرم ۱۴۳۰ھ، ص،۵۹۔۶۰)
مدینہ منورہ سے روانگی
برنی صاحب کے دو ہفتہ یہاں بہت راحت سے گزرے، لیکن جب رخصت کا خیال آنے لگا تو چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے، بے اختیار آنسو ٹپکنے لگتے، اس میں ہفتہ عشرہ گزر گیا، ۲۲؍ ذیقعدہ کو روانگی پختہ ہوئی اور احرام باندھ کر بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے تو کیفیت یک سر بدل گئی، رخصت کے وقت دل خوشی سے بھر گیا، معلم الوداع یا رسول اﷲ پڑھواتے اور برنی صاحب فرماتے ہیں ہماری زبان سے الوداد یا رسول اﷲ نکلتا تھا۔(صراط الحمید، ج۱،۱۸۱۔۱۸۲)
جدائی کا احساس دل سے غائب تھا، مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کیا جارہے ہیں، گویا محمد رسول اﷲﷺ کے وسیلہ سے لا الہ الااﷲ کی طرف بڑھ رہے ہیں، اَب تک یہ دُعا تھی:
خدایا از تو خواہم مصطفیٰ را
اَب یہ ورد شروع ہوا:
محمد از تو می خواہم خدا را
(صراط الحمید، ج۱،ص۱۹۲۔۱۹۳)
مسلک اور عبادات
برنی صاحب کا مسلک
''گھرانہ دیندار تھا، میلاد ہوتا تھا، برنی صاحب کی والدہ ماجدہ نذرونیاز بہت احتیاط واہتمام سے کرتی تھیں''۔ (صراط الحمید، ج۱،ص۳۱۹)
برنی صاحب صوفی مشرب تھے، مولود برزنجی اور قصیدہ بردہ پڑھا کرتے تھے، میلاد النبی ﷺ کے جلسوں میں شریک ہوتے اور بہت عمدہ تقریر کرتے ، ان کی کتاب''قادیانی مذہب'' ، میلاد کے جلسہ کا مظہر وثمرہ ہے، ان کی کتاب''تحفہ محمدی'' میںدرود تاج باترجمہ شامل ہے،بزرگوں کی فاتحہ کا اہتمام کرتے تھے،برنی صاحب مدینہ منورہ میں قیام کے دنوںمیںاپنے معمولات کے بارے میں فرماتے ہیں:
''۱۲؍ محرم الحرام کو حلیم پر سید الشہداء کی فاتحہ ہوئی ، غرض محرم شریف کی فاتحہ جو اپنا معمول ہے، مدینہ منورہ میں بخیروخوبی انجام پائی''۔ (صراط الحمید: ج۲: ص۲۶،۲۷،۱۵۰)
مشہور واعظ شاہ بلیغ الدین (متوفی ۲۰۰۹ء، کراچی ) لکھتے ہیں:
''پروفیسر محمد الیاس برنی صاحب نے قادیانیت کے خلاف تنہا بہت بڑا جہاد کیا، ان کا جہاد علمی تھا، قادیانییت کیخلاف سب سے پہلے جامع کتابیں انہیں نے لکھیں، وہ انہیں غیر مسلم قرار دینے کی تجویز شروع کرنے والے ابتدائی لوگوں میں سے تھے''۔
(شاہ بلیغ الدین، مضمون''آئینۂ ایام'' ، مرقع جامعہ عثمانیہ(جشن الماس نمبر) مطبوعہ کراچی۱۹۹۴ء، ص۲۹۰)
قادیانیت کے خلاف جدوجہد
برنی صاحب کو ختم نبوت کے مسئلہ پر عبور حاصل تھا اور یہ عبور اجتہاد کی حد کو پہنچ گیا تھا، اس مسئلہ میں متعدد کتابیں لکھیںاور ان میں سے بعض کے کئی کئی ایڈیشن شائع ہوئے، ان کی طرز تحریر دل میں جگہ کرلیتی ہے۔
(پروفیسر ہارون خاں شروانی، مضمون ''پروفیسر محمد الیاس برنی'' مرقع جامعہ عثمانیہ، مطبوعہ کراچی۱۹۹۴ء، ص۱۸۱)
قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ
قادیانیت کے خلاف آپ کی کتاب''قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ'' کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی، اس کتاب کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے اپنی طرف سے عام طور پر سرخیاں ہی لگائی ہیں ، باقی مرزائیوں کی کتابوں کے حوالے بلا تبصرہ ہیں، اگرچہ اس کتاب میں ثبوت ختم نبوت اور قادیانیوں کے اعتراضات کے جوابات نہیں ہیں، مگر خود قادیانیوں کی ہی کتب سے ان کی تردید بڑے جامع انداز میں کی گئی ہے، برنی صاحب تمہید اوّل میں کہتے ہیں:
''اﷲ جل شانہٗ کا فضل وکرم ہے کہ اس پر آشوب زمانے میں حیدرآباد، فرخندہ بنیاد، حب نبی اور عظمتِ رسول کا مسکن بنا ہوا ہے اور کیوں نہ ہو کہ جو یہاں امیرالمومنین ہے وہ سب سے بڑھ کر فدائے سیّد المرسلین ہے۔ چنانچہ ماہ ربیع الاوّل میں جس اہتمام واحترام سے میلاد مبارک کے شاندار جلسے حیدرآباد میں منعقد ہوئے اور ہوتے ہیں ، ہندوستان میں ان کی نظیر کم تر مل سکتی ہے''۔
برنی صاحب آگے چل کر لکھتے ہیں:
''اس کتاب کے لکھنے کی تحریک ایک جلسہ میلاد ہی سے ہوئی''۔ پھر برنی صاحب نے علماء اہل سنت کی چند کتب کے نام اسی سلسلے میں ذکر فرمائے ہیں ، وہ یہ ہیں:
۱۔ ختم نبوت: از سیّد ابوالحسنات مولوی شجاع الدین علی صاحب صوفی قادری۔
۲۔ قادیانی جماعت کے شائع کردہ ٹریکٹ کا مدلل جواب: از قاری محمد تاج الدین صاحب قادری۔
۳۔ ہدایت الرشید للغوی المرید: از سیّد محمد حبیب اﷲ قادری ۔
۴۔ تکذیب مرزا بزبان مرزا صاحب: از سیّد محمد ولی اﷲ صاحب قادری۔
۵۔ ایک رسالہ دربارہ ختم نبوت: از مولوی سیّد درویش محی الدین صاحب قادری۔
۶۔ جماعت احمدیہ کا صریح مغالطہ: از سیّد محمد مولوی القادری۔
۷۔ قادیانی جماعت کی دعوت قادیانیت پر ہمارے استفسارات: از قاری محمد تاج الدین صاحب قادری۔
۸۔ مرزائیوں کے عقائد: از مولانا عبدالقدیر صاحب صدیقی القادری۔
(پروفیسر محمد الیاس برنی: قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ: مطبوعہ شیخ محمد اشرف تاجر کتب کشمیری بازار، لاہور: سن طباعت ندارد: ص۳،۴،۵)
فہرست تالیفات پروفیسر محمد الیاس برنی صاحب
کتابیں اور تصانیفات
۱۔ اسرار حق: حقائق ومعارف قرآنیہ جو بہ اصطلاح قرآن صادق اور عالم اسلامی اصطلاح میں تصوف کہلاتے ہیں، پہلا ایڈیشن مدت سے نایاب ہے اور جدید ایڈیشن باضافہ مضامین طباعت طلب ہے۔
۲۔ تسہیل الترتیل: فن قرأت کی تعلیم وتربیت اور تفہیم جدید، قرآن کی تقریباً تمام آیات متعلقہ اپنے اپنے محل پر بطور مثال درج ہے، تیسرا ایڈیشن باضافہ مضامین طباعت طلب ہے۔
۳۔ حزب اﷲ: دنیا کی اور بالخصوص عالم اسلام کی سیاست پر حالیہ تبصرہ، مع اوراد قرآنی، دوسرا ایڈیشن باضافہ مضامین طباعت طلب ہے۔
۴۔ مالک الملک: اسلامی حکمرانی کے اصول وضوابط از روئے قرآن کریم۔(زیر تالیف)
۵۔ مشکوٰۃ الصلوٰۃ: رسول کریم ﷺ پر درود وسلام، ماخوذ از قرآن کریم وحدیث وکلام اولیاء کرام ، جملہ سات حزبوں کا مجموعہ، چوتھا ایڈیشن طباعت طلب ہے۔
۶۔ تحفہ محمدی: نعتوں اور سلاموں کا مجموعہ، بزبان اُردو، فارسی، چار حصے، تاج کمپنی لاہور، کراچی، ڈھاکہ نے شائع کیا۔
۷۔ معروضہ: حمدونعت، منقبت وفطرت، ایک سو دس نظموں کا مجموعہ، تین ایڈیشن شائع ہوئے، برنی صاحب کا یہ مجموعہ کلام تاج کمپنی لاہور، کراچی، ڈھاکہ سے شائع ہوا۔
۸۔ ہدایت الاسلام: اسلامی عبادات واخلاقیات بموجب قرآن وحدیث (زیر تالیف)
۹۔ فتوح الحکم: حضرت غوث اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ارشادات بہ تنقیح وترتیب خاص(زیر تالیف)
۱۰۔ سلطان مبین: حضرت غوث اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ارشادات، بہ تنقیح وترتیب خاص۔(طباعت طلب)
۱۱۔ مکاتب المعارف: حضرت مرشدی مولانا محمد حسین قادری چشتی نقشبندی قدس سرہٗ کے مکتوبات شریف کا مجموعہ۔(طباعت طلب)
۱۲۔ صراط الحمید(جلد اوّل): عراق، شام، فلسطین، حجاز مقامات مقدسہ اور حرمین شریفین کا سفر نامہ(باتصویر)، مطبوعہ ہے۔
۱۳۔ صراط الحمید(جلد دوم): دوسرے حج کا سفر نامہ، مقامات مقدسہ اور حرمین شریفین کا سفر نامہ(باتصویر) مطبوعہ ہے۔
۱۴۔ قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ: قادیانی مذہب کے عقائد واعمال کی تفصیل خود قادیانی کتابوں سے پیش کی گئی ہے، یہ تالیف قادیانی قاموس مانی جاتی ہے، چھٹا ایڈیشن شیخ محمد اشرف، ناشر کتب کشمیری بازار ، لاہور نے شائع کیا، ادارہ تحفظ ختم نبوت ملتاننے بھی کئی ایڈیشن شائع کئے، اس کتاب کا ایک حصہ ماہنامہ''قومی ڈائجسٹ'' لاہور نے ''قادیانی نمبر'' کے نام سے شائع کیا۔
۱۵۔ مقدمہ قادیانی مذہب: ایڈیشن ششم کا مقدمہ جو بجائے ایک مستقل تالیف ہے ، اس کوشیخ محمد اشرف تاجر کتب کشمیری بازار، لاہور نے ''قادیانی مذہب'' سے علیحدہ شائع کیا ہے۔
۱۶۔ تتمہ قادیانی مذہب: قادیانی کتابوں کے اقتباسات جو قادیانی مذہب اور مقدمہ قادیانی مذہب میں جگہ نہ پاسکے، لیکن جو بجائے خود اہم ہیں، تعداد کثیر میں بہ ترتیب خاص تالیف کئے گئے، یہ مجموعہ بھی لوگوں کو تالیف وتقریر میں بہت کارآمد ثابت ہوگا۔( غیر مطبوعہ)
۱۷۔ قادیانی قول وفعل: اس میں بھی''قادیانی تحریک'' کے خاص خاص پہلو پیش ہوئے ہیں، جو یاد رکھنے کے قابل ہیں، دوسرا ایڈیشن شائع ہوچکا ہے۔
۱۸۔ اسلام(انگریزی): اسلام کی تشریح وتوضیح از روئے قرآن، پہلا ایڈیشن مدت سے نایاب ہے۔
(قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، مطبوعہ لاہور(آٹھواں ایڈیشن)، ص۹۴۳)
۱۹۔ معارف ملت(سلسلہ منتخبات نظم اُردو): چار جلد، جلد اوّل میں حمد، نعت، مناجات اور معرفت کی نظمیں، جلد دوم میں مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کے متعلق نظمیں، جلد سوم میں ہندوستان کی متحدہ قومیت کے متعلق شعراء کا کلام ، جلد چہارم میں اخلاق وحکمت سے متعلق کلام۔ (مطبوعہ)
۲۰۔ جذبات فطرت(چار جلد): جلد اوّل میں میر اور سودا کے کلام کا انتخاب، جلد دوم میں غالب، ذوق، ظفر اور حسرت موہانی کے کلام کا انتخاب۔ (مطبوعہ)
۲۱۔ مناظر قدرت (چار جلد): جلد اوّل میں متعلق اوقات صبح وشام، دن رات، برسات اور بہار کے متعلق نظمیں، جلد دوم میں مقامات یعنی آسمان، زمین، پہاڑ، جنگل اور عمارات کے متعلق کلام، جلد سوم میں پھل، پھول، کیڑے پتنگے اور چرندوں پرندوں کے متعلق نظمیں، جلد چہارم میں عمرانیات یعنی ہندوستان کے تمدن، رسم ورواج کے دلچسپ حالات پر نظمیں۔(مطبوعہ)
(سیّد زوار حسین: مصنفین اُردو: فہرست حالی پبلشنگ ھائوس، دہلی:۱۹۳۹ء:ص۱۶۶)
۲۲۔ جواہر سخن: فارسی شاعری کا انتخاب(زیر تالیف)
۲۳۔ اُردو ہندی رسم الخط: بلحاظ تلفظ تحریروترکیب ، اُردو ہندی حروف کا مطالعہ اور مقابلہ مع اشعار۔(برنی صاحب وفات سے چند روز پہلے اس کی دوسری اشاعت ٹائپ کروارہے تھے)
۲۴۔ اُردو ہندی لپی: رسم الخط کی بحث، بزبان ہندی
۲۵۔ اُردو ہندی اسکپرٹ(انگریزی): رسم الخط کی بحث
۲۶۔ علم المعیشت: اکنامکس یا معاشیات کے اصول کی تفصیلی بحث، عام مطالعہ کے لئے۔
۲۷۔ اصول معاشیات: معاشی مسائل کی بحث ، درس جامعات کے لئے، یہ کتاب جامعہ عثمانیہ (حیدر آباد، دکن)کے نصاب میں شامل ہے۔
۲۸۔ معیشت الہند: معاشی مسائل کا مطالعہ بحوالہ ہندوستان، یہ کتاب بھی جا معہ عثمانیہ کے نصاب میں شامل ہے۔
۲۹۔ مالیات: پبلک فنانس میں سلطنتوں کے مداخل و مخارج کی فنی بحث۔ (زیر تالیف)
۳۰۔ مقدمہ معاشیات: مور لینڈ کی انگریزی میں لکھی ہوئی کتاب کا اُردو میں ترجمہ۔
۳۱۔ معاشیات ہند اور برطانوی حکومت ہند: اِن دونوں انگریزی میں لکھی ہوئی کتابوں کا اُردو ترجمہ جامعہ عثمانیہ کے نصاب میں شامل ہے۔
(قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، مطبوعہ لاہور(آٹھواں ایڈیشن)، ص۹۴۴)
۳۲۔ برنی نامہ: خود نوشت حالات۔(مطبوعہ)
۳۳۔ عطیہ قادریہ: یہ تحفہ ربیع الثانی۱۳۷۸ھ میں یازدہم شریف(گیارہویں شریف)میں بلا قیمت تقسیم ہوا۔
برنی نامہ کا اختتام
برنی صاحب اپنی آخری تصنیف''برنی نامہ''کے دوسرے حصہ کے تعارف کے آخر میں لکھتے ہیں:
جو کام کرنا ہو کرلے، نہ کر کبھی تاخیر یہ اطمینان یہ فرصت رہے، رہے نہ رہے بقا اس کو فقط اور فنا ہے سب کے لئے یہ''برنی''اور یہ خدمت رہے، رہے نہ رہے
اورکتاب کے آخر میں یہ پیش گویانہ نظم ہے
کیسی ہلچل، کیسی چھل بل، کیسی نائو نوش ہے کل جو تھی رونق کی محفل آج کیا خاموش ہے کیا حکومت کیا رعونت کیسی سطوت کیا فروغ زعم کا، عالم کا عالم خاک میں روپوش ہے ہر گڑھی، ہر آن ہرجا، کیا کروڑوں انقلاب کیا انوکھا کھیل ہے، ہر شے فضا بردوش ہے برنی جو باقی ہے، یہ اس کی بقا کا فیض ہے نیستی ہستی کے جلوے سے بہ ہم آغوش ہے
وفات
اپنی زندگی کے آخری بیس برسوں میں حیدر آباد سے باہر نہیں گئے تھے، بیس برس بعد اپنی چھوٹی بہن کی شدید علالت سن کر بلند شہر گئے، جتنے دن بلند شہر میں رہے، ان کی تندرستی بے مثال رہی، حیدر آباد آنے کی تیاری کر رہے تھے کہ یکم فروری ۱۹۵۹ء کو رات دو بجے بیدار ہوئے اور اپنی صاحبزادی کو بلایا، انہوں نے دیکھا کہ ہونٹ ہل رہے ہیں، آنکھیں کھلی ہوئی ہیں، مگرپتھرائی ہوئی ہیں، آپ نے صا حبزادی سے مطلق کلام نہیں کیا، وہ گھبراگئیں، فوراً ڈاکٹر کو بلایا، ڈاکٹر نے أکر نبض دیکھی تو روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون
قاضی کے قبرستان میں جہاں ان کے باپ دادا دفن ہوئے ، وہیں ان کی قبر ہے، تدفین کے وقت ج سینہ پر کافور ملا گیا تو وہ سمٹ کرلا الہ الااﷲ محمد رسول اﷲ کی صورت اختیار کرگیا تھا، جسے دیکھ کر ناظرین حیران وششدر رہ گئے۔
(مجلہ مرقع جامعہ عثمانیہ، مطبوعہ کراچی۱۹۹۴ء، ص۱۸۱۔ ماہنامہ نورالحبیب ، بصیر پور، (پنجاب) ، شمارہ فروری ۲۰۰۹ء ، ص۷۳)
حضرت صابر براری(کراچی) نے تاریخ وفات کہی:
جدا ہوگئے ہم سے الیاس برنی دکن میں کھلے جن کی حکمت کے جوہر تھے مقبول بے حد وہ اہل دکن میں کہ وہ جامعہ میں رہے زندگی بھر ہے علم معیشت میں تصنیف ان کی جو ہے اپنے شعبہ میں انمول گوہر معاً مل گئی ان کی تاریخ صابر ''تھے الیاس برنی سراج سخن ور'' (۱۹۵۹ء)
(مکتوب حضرت صابر براری(کراچی)، بنام راقم الحروف خلیل احمد رانا، محررہ ۳؍مارچ۱۹۹۸ء)
(حضرت صابر براری: تاریخ رفتگان: حصہ دوم: مطبوعہ کراچی۱۹۹۸ء: ص۳۸)
ترتیب: خلیل احمد رانا