Skip to content

شہر یارِ علم

ردِّ بدمذہبعقائدِاہلسنت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ َاَمّابَعْدُ فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

تمام تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لئے، جو ظاہر اور پوشیدہ کا جاننے والا ہے، اسی کے لئے آسمانوں اورزمین کے غیب کا علم ہے، اﷲ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو غیب کی جو خبریں چاہیں بذریعہ وحی عطا فرمائیں، اور صلوٰۃ وسلام ہو اس کے برگزیدہ رسول ﷺ اور اُمیدوں کے مرکز نبی ﷺ اور آپ کی پیکر تقویٰ وطہارت آل پاک اور اصحاب پر۔

اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو بے شمار فضائل وکمالات سے نوازا، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو تمام اوّلین وآخرین کے علوم سے زیادہ علوم عطا فرمائے، اور آپ کو بہت سی مخفی چیزوں پر آگاہی فرمائی، اور یہ اﷲ تعالیٰ کی عادت شریفہ ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں یعنی انبیاء کرام اور اولیاء عظام پر مخفی چیزیں منکشف فرماتا ہے۔

غیب کی تعریف

دلائل کے بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ غیب کی تعریف کی جائے، تاکہ مقصد واضح طور پر سامنے آجائے، علامہ بیضاوی فرماتے ہیں :

غیب سے مراد وہ چیز ہے جس کا ادراک حواس کرسکیںاور نہ ہی یہ بداہتِ عقل سے معلوم ہوسکے، اس کی دو قسمیں ہیں ۔

۱۔ وہ غیب ہے جس پر کوئی دلیل قائم نہ ہو، اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان مبارک’’وَعِندَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُوَ ‘‘(سورۃ الانعام، آیت ۵۹) ’’اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیںجنہیںاس کے سوا کوئی نہیں جانتا‘‘ سے مراد یہی ہے۔

۲۔وہ غیب ہے جس پر دلیل قائم کی گئی ہو، جیسے خالق کائنات اور اس کی صفات، قیامت اور اس کے حالات، اور اس آیت’’یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْب‘‘ میں یہی مراد ہے۔

(قاضی عبداﷲ بیضاوی، تفسیر بیضاوی، بر حاشیہ سیالکوٹی، ص۱۲۸)

اﷲ تعالیٰ کے ارشاد’’یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْب‘‘کی تفسیر میں علامہ بیضاوی لکھتے ہیں :

’’لغت میں ایمان کا معنی تصدیق ہے… بعض اوقات اس کا اطلاق وثوق کے معنی پر بھی ہوتا ہے، اور اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان’’یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْب‘‘ میں دونوں معنی مناسب ہیں۔

(قاضی عبداﷲ بیضاوی، تفسیر بیضاوی، بر حاشیہ سیالکوٹی، ص۲۴۔۱۲۳)

ان دونوں تصریحات سے واضح ہوگیا کہ عام مومن اس غیب کو جانتے ہیں، جس پر دلیل قائم ہو، کیونکہ جب ایمان کا معنی تصدیق ہے اور تصدیق علم کی قسم ہے تو اﷲ تعالیٰ کے فرمان’’یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْب‘‘ کا معنی یہ ہوا کہ مسلمان غیب کو جانتے ہیںاور وہ اس غیب کوجان سکتے ہیں جس پر دلیل قائم ہو، اور اﷲ تعالیٰ کا بتانا اس کی سب سے قوی دلیل ہے۔

علامہ زرقانی فرماتے ہیں :

’’اﷲ تعالیٰ نے ہمیں غیب پر ایمان لانے کا اسی صورت مکلف کیا ہے، جب کہ وہ ہمارے لئے بعض اوقات غیب کے دروازے کھول دیتا ہے، امام غزالی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے’’احیاء العلوم‘‘ کے حواشی میں اسی طرف اشارہ فرمایا ہے‘‘۔(علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی، شرح مواہب لدنیہ، ج۷، ص۲۲۹)

غور کا مقام ہے کہ جب عام مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ(وہ غیب جانتے ہیں) تو سوچئے کہ اولیاء کرام اور انبیاء کرام اور خصوصاً حضور سید عالم ﷺ کے علم غیب کا کیا عالم ہوگا؟

قرآنی آیات

قرآن کریم کی بہت سی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو بہت سے مخفی امور کا علم عطا فرمایا ہے، ہم ان میں سے چند آیات کا ذکر کرتے ہیں ۔

۱۔ َمَا کَانَ اللّہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْْبِ وَلَکِنَّ اللّہَ یَجْتَبِیْ مِن رُّسُلِہِ مَن یَشَائُ (سورۃ آل عمران، آیت ۱۷۹)

’’اﷲ تعالیٰ کی شان نہیں کہ تمہیں غیب پر آگاہ کردے، ہاں ! اﷲ تعالیٰ چن لیتا ہے جسے چاہے، اوروہ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں‘‘۔

۲۔عَالِمُ الْغَیْْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْْبِہِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضَی مِن رَّسُولٍ(سورۃ الجن، آیت۲۶)

’’وہی ذاتی طور پر ہر غیب کا جاننے والا ہے، تو وہ اپنے غیب خاص پر اپنے پسندیدہ رسولوں کے علاوہ کسی کو کامل اطلاع نہیں دیتا‘‘۔

۳۔ تِلْکَ مِنْ أَنبَاء الْغَیْْبِ نُوحِیْہَا إِلَیْْک (سورۃ ہود ، آیت۴۹)

’’اے نبی (ﷺ) یہ غیب کی خبریںہیں جنہیں ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں‘‘۔

۴۔وَمَا ہُوَ عَلَی الْغَیْْبِ بِضَنِیْن(سورۃ التکویر،آیت۲۴)

’’ اور یہ نبی (محمد مصطفیٰ ﷺ) غیب کی خبر دینے میں بخیل نہیں‘‘۔

۵۔وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَکَانَ فَضْلُ اللّہِ عَلَیْْکَ عَظِیْما(سورۃ النساء آیت۱۱۳)

’’ اور آپ کو وہ علوم غیبیہ اور احکام شرع سکھائے جن کو آپ خود نہیں جان سکتے تھے اور آپ پر اﷲ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے‘‘۔

۶۔الرَّحْمَنُ (۱)عَلَّمَ الْقُرْآنَ (۲)خَلَقَ الْاِنسَانَ (۳)عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (۴)(سورۃ الرحمٰن )

’’رحمان نے(اپنے محبوب محمد مصطفیٰ ﷺ ) کو قرآن سکھایا اسی نے انسان کامل(محمد مصطفیٰ ﷺ) کو پیدا کیا(اور) ان کو ماکان ومایکون(یعنی جو کچھ ہوا طاور جو کچھ ہوگا) کا بیان سکھایا‘‘۔

احاد یث مبا رکہ

اس موضوع پر کثیر احادیث وارد ہیں، ہم اختصار کے پیش نظر اس جگہ صرف چند احادیث پیش کرتے ہیں، حضرت معاذ ابن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز حضور اقدس ﷺ کو صبح کی نماز میں تاخیر ہوگئی، پھر آپ ﷺتشریف لائے اور نماز پڑھانے کے بعد فرمایا !

’’ بے شک ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ آج صبح تمہارے پاس آنے سے ہمیں کس چیز نے روکا، ہم رات کو کھڑے ہوئے اور جس قدر اﷲ تعالیٰ نے چاہا ہم نے نماز پڑھی، پس نماز میں اونگھ آگئی، یہاں تک کہ ہم بیدار ہوئے تو ہم اپنے رب کی بارگاہ میں بہترین حالت میں حاضر تھے، اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : اے محمد(ﷺ) کیا آپ جانتے ہیں؟ کہ مقربین فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑ رہے تھے؟ میں نے عرض کیا : اے میرے رب میں نہیں جانتا، پس ہم نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنا دست رحمت ( وضاحت۔ حدیث شریف میں اﷲ تعالیٰ کے لئے یَدْ اور اَنَامِلْ کا اثبات ہے، اور یہ از قبیل متشابہات ہے، جس کی حقیقت تک ہماری عقل کی رسائی نہیں ہے، اﷲ تعالیٰ جسم، ہاتھ اور پوروں سے پاک ہے ۔ شرف قادری)ہمارے کاندھوں کے درمیان رکھا، یہاں تک کہ ہم نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، پس ہمارے لئے ہر چیز روشن ہوگئی اور ہم نے اسے پہچان لیا‘‘۔

(امام احمد بن حنبل، مسند امام احمد بن حنبل۔ مطبوعہ دار الفکر، بیروت، ج۵، ص۲۴۳)

’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے صبح کی نماز پڑھی، پھر اپنی جگہ تشریف فرما رہے، یہاں تک کہ جب چاشت کا وقت ہوا، رسول اﷲ ﷺ اپنی جگہ تشریف فرما رہے، یہاں تک کہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء ادا فرمائی، اس دوران آپ نے کسی سے گفتگو نہیں فرمائی، پھر آپ اُٹھ کر گھر تشریف لے گئے، حضرت ابوبکر صدیق نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ہاں! ہمارے سامنے دنیا اور آخرت میں ہونے والے تمام امور پیش کئے گئے‘‘۔

(امام احمد بن حنبل، مسند امام احمد بن حنبل۔ مطبوعہ دار الفکر، بیروت، ج۵، ص۲۴۳)

’’طارق ابن شہاب روایت کرتے ہیںکہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے تو ہمیں مخلوق کی ابتدا سے لے کر جنتیوں کے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ میںداخل ہونے کی خبر دی، اسے جس نے یاد رکھا سو یاد رکھا، جو بھول گیا سو بھول گیا‘‘۔

(امام محمد بن اسمٰعیل بخاری، صحیح بخاری،مجتبائی دہلی، ج۱،ص۴۵۳)

’’حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے درمیان حضور نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے، آپ نے مجلس میں قیامت تک ہونے والی کوئی چیز نہیں چھوڑی جسے بیان نہ فرمادیا ہو ، جس نے اِسے یاد رکھا، یاد رکھا اور جس نے بھلادیا، بھلادیا، میرے ساتھیوں کو اس واقعہ کا علم ہے، ان میں سے کوئی چیز پائی جاتی ہے جسے میں بھول چکا ہوتا ہوں، اسے میں دیکھتا ہوں تو وہ یاد آجاتی ہے، جیسے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے چہرے کو یاد کرتا ہو ، جب وہ اس سے غائب ہوجاتا ہے، پھر جب اسے دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے‘‘۔

(امام مسلم بن حجاج قشیری، مسلم شریف، مجتبائی دہلی، ج۲، ص۳۹۰)

’’حضرت ابوزید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیںکہ رسول اﷲ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ، اور منبر پر تشریف فرما ہوکر ہمیں خطاب فرمایا، یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا، چنانچہ آپ اُترے اور نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہمیں عصر تک خطاب فرمایا ، پھر اُترے اور نماز ادا فرمائی اور پھر منبر پر جلوہ افروزہوئے اور ہمیں خطاب فرمایا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا،پس آپ نے ہمیں گزشتہ اور آنے والے واقعات کی خبر دی، پس ہم میں سے سب سے بڑا عالم وہ ہے جو زیادہ حافظے والا ہے‘‘۔

(امام مسلم بن حجاج قشیری، مسلم شریف، مجتبائی دہلی، ج۲، ص۳۹۰)

’’حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

بے شک اﷲ تعالیٰ نے ہمارے لئے زمین کو سمیٹ دیا، یہاں تک کہ ہم نے اس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا ہے‘‘۔

(امام مسلم بن حجاج قشیری، مسلم شریف، مجتبائی دہلی، ج۲، ص۳۹۰)

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے حضور نبی اکرم ﷺسے بکثرت سوال کئے، پس ایک دن آپ تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوکر فرمایا :

’’پوچھو ہم سے ! تم جس چیز کے بارے میں بھی سوال کروگے ہم جواب دیں گے(یہاں تک کہ حضرت انس بن مالک نے کہا) ایک آدمی جس کی نسبت اس کے باپ کے علاوہ دوسرے شخص کی طرف کی جاتی تھی، اس نے عرض کیا! اے اﷲ تعالیٰ کے نبی میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا! تیرا باپ حذافہ ہے‘‘۔

( امام مسلم بن حجاج قشیری، مسلم شریف، مجتبائی دہلی، ج۲، ص۳۹۰)

ہم کہتے ہیں کہ اگر اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو وسیع علم نہ عطا فرمایا ہوتا تو حضور نبی اکرم ﷺ بطور چیلنج مطلقاً یہ نہ فرماتے کہ جو چاہو پوچھو۔

مشہور مفسر سُدَی کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے سامنے ہماری اُمت مٹی کی مورتیوں کی شکل میں پیش کی گئی، جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کی گئی تھی، ہمیں بتایا گیا کہ ان میں سے کون ہم پر ایمان لائے گا اور کون ہمارا انکار کرکے کافر ہوگا، یہ بات منافقین کو پہنچی تو انہوں نے بطور استہزاء کہا کہ محمد(ﷺ) کا خیال ہے کہ جو لوگ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ان کے بارے میں جانتے ہیں کہ ان میں سے کون ان پر ایمان لائے گا اور کون انکار کرے گا، حالانکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں پہچانتے نہیں، جب یہ بات رسول اﷲ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے منبر پر کھڑے ہوکر اﷲ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا :

ان لوگوں کا کیا حال ہے ، جنہوں نے ہمارے علم پر اعتراض کیا ہے، تم قیامت تک واقع ہونے والی کسی بھی چیز کے بارے میں سوال کرو ہم تمہیں اس کی خبر دیں گے، حضرت عبداﷲ بن حذافہ سہمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! میرا باپ کون ہے؟ (کیونکہ لوگ ان کے نسب میں شک کرتے تھے) فرمایا ! تمہارا باپ حذافہ ہے، پھر حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا رسول اﷲ ! ہم اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، قرآن کے امام ہونے اور آپ ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں، آپ ہمیں معاف فرمائیں کہ اﷲ تعالیٰ آپ سے درگزر فرمائے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ! کیا تم باز رہوگے ؟ کیا تم باز رہوگے؟ ۔

( امام علی بن محمد ابراہیم بغدادی : تفسیر خازن، مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر : ج۱، ص۳۸۲)

امام بخاری، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ایسی اشیاء کے بارے میں سوال کیا گیا جنہیں آپ نے ناپسند فرمایا، جب لوگوں نے اس قسم کے بکثرت سوالات کئے تو آپ ﷺ جلال میں آگئے اور لوگوں سے فرمایا کہ تم جو چاہو ہم سے پوچھو، پس ایک شخص نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟ فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے، پھر ایک دوسرے شخص نے اُٹھ کر عرض کیا، میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ! تیرا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔

(امام محمد بن اسمٰعیل بخاری، بخاری شریف، مجتبائی دہلی، ج۱، ص۲۰۔۱۹)

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بھیڑیا چرواہے کے پاس آیا اور اس کی ایک بکری اُٹھا کر لے گیا، چرواہے نے اس کا تعاقب کرکے اس سے بکری چھڑالی، حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھا اور اپنی دُم پائوں کے نیچے دبا کر بیٹھ گیا، اور کہنے لگا : اﷲ تعالیٰ نے مجھے رزق عطا فرمایا، تونے اس کا قصد کیا اور مجھ سے چھین لیا، چرواہے نے کہا ، اﷲ کی قسم میں نے آج کی طرح کبھی بھیڑئیے کو کلام کرتے ہوئے نہیں دیکھا، بھیڑئیے نے کہا : اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ ایک مرد کامل دو پتھریلے میدانوں اور کھجوروں کے درمیان(مدینہ منورہ) میں موجود ہے، جو تمہیں ماضی اور مستقبل کی خبریں دیتا ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ چرواہا یہودی تھا، وہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ واقعہ عرض کیا، نبی اکرم ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی اور وہ مسلمان ہوگیا(شرح السنۃ) ۔

(خطیب ابوعبداﷲبن محمدعبداﷲ تبریزی ، مشکوٰۃ شریف،مطبوعہ کراچی، ص۵۴۱)

علامہ شہاب الدین احمد قسطلانی، شارح بخاری فرماتے ہیں :

امام طبرانی، حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ! بے شک اﷲ تعالیٰ نے ہمارے لئے دنیا کو بلند کیا، پس ہم دنیا اور اس میں قیامت تک ہونے والے واقعات کو اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کہ ہم اپنی ہتھیلی کو دیکھتے ہیں۔

(امام شہاب الدین احمد بن محمد قسطلانی، مواہب لدنیہ مع شرح زرقانی، مطبوعہ مصر۱۲۹۲ھ، ج۷، ص۲۳۴)

علامہ زرقانی حدیث شریف کے ان الفاظ’’ان اﷲ قد رفع لی الدنیا‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں :

’’اس طرح کہ ہم نے دنیا کی تمام چیزوں کا احاطہ کرلیا‘‘۔

نیز لکھتے ہیں :

’’پھر چونکہ آپ سچے ہیں اور آپ کے ارشاد پر عقیدہ رکھنا واجب ہے، اس لئے معلوم ہوا کہ آپ کی وفات کے بعد لوگوں کے سامنے جو واقعات بھی رونما ہوں وہ ان ہی واقعات میں سے ہیں جنہیں آپ نے اسی وقت ملاحظہ فرمایا، جب دنیا آپ کے لئے پیش کی گئی‘‘۔

(علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی، شرح مواہب، ج۷، ص۲۳۴)

صحابی رسول حضرت سواد بن قارب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں اشعار پڑھ کر سنائے جن میں سے ایک شعر یہ تھا ؎

فاشھدان اﷲ لا رب غیرہ وانک مامون علی کل غائب

(عبداﷲ بن محمد بن عبدالوہاب نجدی، مختصر سیرت رسول، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ، لاہور، ۶۹)

(پس میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور بے شک آپ کو ہر غیب کا امین بنایا گیا ہے)

اب یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہر غیب کے امین تب ہی ہو سکتے ہیں کہ آپ اس کے عالم بھی ہوں، اور اگر یہ کہنا شرک ہوتا جیسا کہ وہابی کہتے ہیں تو حضور ﷺ اس کا سخت انکار فرماتے، حالانکہ آپ نے انہیں منع نہیں فرمایا، تو معلوم ہوا کہ یہ شرک نہیں۔

ابن ہشام روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب حضور ﷺ بیت اﷲ شریف کا طواف کررہے تھے تو فضالہ بن عمر لیثی نے حضور کو شہید کرنے کا ارادہ کیا، پس جب وہ قریب ہوئے تو آپ نے فرمایا کیا تم فضالہ ہو؟ کہنے لگے ہاں یا رسول اﷲ !میں فضالہ ہوں، فرمایا تو اپنے دل میں کیا منصوبہ تیار کررہا تھا؟ کہنے لگے کچھ بھی نہیںمیں تو اﷲ تعالیٰ کا ذکر کررہا تھا، آپ ﷺ نے مسکراتے ہو ئے فرمایا! اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگو، پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک ان کے سینے پر رکھا تو ان کا دل پر سکون ہوگیا، فضالہ کہتے تھے کہ اﷲ کی قسم حضور ﷺ نے اپنا دست مبارک ابھی میرے سینے سے اُٹھایا نہیں تھا کہ میری یہ کیفیت ہوگئی کہ اﷲ تعالیٰ کی کوئی مخلوق بھی میرے نزدیک حضور ﷺ سے زیادہ محبوب نہ تھی۔

( ڈاکٹر محمد سعید رمضان البوطی، فقہ السیرۃ، مطبوعہ دارالفکر، بیروت، ص۳۶۳)

(امام عبدالملک بن ھشام، السیرۃ النبویۃ مع الروض الانف، ، طبع ملتان، ج۲، ص۲۷۶)

مغیّبات خمسہ اور روح

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

إِنَّ اللَّہَ عِندَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِیْ الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْنَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (سورۃ لقمان : آیت۳۴)

’’بے شک قیامت کا علم اﷲ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتاہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا، اور کوئی نہیں جانتا ہے کہ اُسے کہاں موت آئے گی ، بے شک اﷲ تعالیٰ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے‘‘۔

کیا یہ آیۂ کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم اﷲ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اس کے سوا ان کا علم کسی کو حاصل نہیںہو سکتا؟ حق یہ ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم بلکہ ہر غیب کا علم اﷲ تعالیٰ کے لئے خاص ہے، اﷲ تعالیٰ جسے چاہتا ہے تعلیم فرما دیتا ہے، اسے علم عطا فرمانے سے روکنے والا کوئی نہیں، اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَلاَ یُحِیْطُونَ بِشَیْْء ٍ مِّنْ عِلْمِہِ إِلاَّ بِمَا شَاء (سورۃ البقرۃ : آیت ۲۵۵)

’’اور وہ (بندے) اس کے علم میں سے کچھ نہیں پاتے، مگر جتنا وہ چاہے‘‘۔

قیامت کا علم

اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :

عَالِمُ الْغَیْْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْْبِہِ أَحَداً ، إِلَّا مَنِ ارْتَضَی مِن رَّسُولٍ (سورۃ الجن : آیت ۲۶۔ ۲۷)

’’(وہی) ذاتی طور پر ہر غیب کا جاننے والا ہے، تو وہ اپنے غیب خاص پر سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کسی کو کامل اطلاع نہیں دیتا‘‘۔

علامہ زمحشری معتزلی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :

’’مِنْ رّسُوْلٍ ‘‘ سے ان لوگوں کا بیان ہے جو کو اﷲ تعالیٰ نے چُن لیا ہے یعنی اﷲ تعالیٰ نے اپنے غیب خاص پر انہی لوگوں کو مطلع فرماتا ہے جنہیں اس نے خاص طور پر منصبِ نبوت کے لئے چُن لیا ہے، ہر پسندیدہ اور برگزیدہ شخص مراد نہیں ہے‘‘۔

پھر فرماتے ہیں :

’’اس آیت میں کرامات کے بطلان کا بیان ہے کیونکہ جن لوگوں کی طرف کرامات کی نسبت کی جاتی ہے وہ رسول نہیں ہیں، اﷲ تعالیٰ نے غیب پر مطلع کرنے کے لئے پسندیدہ بندوں میں سے فقط رسولوں کو خاص کیا ہے‘‘۔(جاراﷲ محمود بن عمر زمخشری: تفسیر الکشاف: مطبوعہ انتشارات آفتاب، تہران، ج۴، ص۱۷۲)

علامہ زمحشری چونکہ معتزلی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کی طرف سے کرامات کا انکار ان کے مذہبِ اعتزال پر مبنی ہے جس کا کثیر مفسرین نے رد فرمایا ہے۔

امام رازی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے فلا یظھر علیٰ غیبہٖ احدا وہ اپنے غیب خاص پر کسی کو مسلط نہیں کرتا، اس ارشاد میں ’’غیب‘‘ سے مراد عام نہیں ہے، پس اس کو ہم وقوعِ قیامت کے وقت پر محمول کرتے ہیں، ہماری اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے، کہ یہ آیت اﷲ تعالیٰ کے فرمان’’اِنْ اَدْرِیْ أَ قَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ‘‘ کے بعد واقع ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں وقوعِ قیامت کے وقت کو (از خود) نہیں جانتا پس اس آیت میں اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ اﷲ تعالیٰ غیوب(پوشیدہ چیزوں) میں سے کسی غیب کو کسی پر ظاہر نہیں فرماتا، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس غیبِ خاص(وقت وقوعِ قیامت) کسی پر ظاہر نہیں فرماتا(سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے)‘‘

اس کے بعد فرماتے ہیں :

’’اگر یہ سوال کیا جائے کہ جب تم نے اس غیب کو وقوعِ قیامت پر محمول کیا ہے تو اﷲ تعالیٰ نے یہ کیسے فرمایا اِلَّا مَنِ ارْ تَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ مگر پسندیدہ رسولوں کو، حالانکہ یہ غیب تو اپنے رسولوں میں سے کسی پر بھی ظاہر نہیں فرماتا، تو ہم کہیں گے کہ اﷲ تعالیٰ قیامت کے قریب ظاہر فرمادے گا اور یہ کیسے نہیں ہوسکتا جب کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ وَ یَوْمَ تَشَقَّقَ السَّمَا ئُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰئِکَۃُ تَنْزِیْلاً‘‘ (اور جس دن آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ پڑیں گے اور فرشتے جوق در جوق خوب اُتارے جائیں گے) اور بلا شبہ فرشتوںکو اس وقت قیامت کے برپا ہونے کا علم ہوجائے گا‘‘۔

( امام محمد بن عمر رازی : تفسیر کبیر، مطبعہ بہیہ، مصر، ج۳۰، ص۱۶۸)

بعض آیتوں میں جو درایت کی نفی واقع ہوئی ہے، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے ’’وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی کوشش اور حیلے سے معلوم نہیں کرسکتا کہ وہ کل کیا کرے گا، اور زمین کے کس خطے میں مرے گا، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اﷲ تعالیٰ چاہے بھی تو ان چیزوں کا علم کسی کو نہیں دے سکتا۔

علامہ بدرالدین عینی شرح بخاری میں لفظِ درایت کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ اَ لدِّ رَایَۃُ اِکْتِسَابُ عِلْمِ الشَّیْء ِبِحِیْلَۃٍ‘‘

یعنی درایت حیلے کے ساتھ کسی چیز کے علم حاصل کرنے کو کہتے ہیں۔

(علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی : عمدۃ القاری : مطبوعہ احیا التراث العربی، بیروت: ج۱: ص۲۹۳)

متقدمین کا اس میں اختلاف رہا ہے کہ کیا نبی اکرم ﷺ کو اﷲ تعالیٰ کے بتلانے سے وقوعِ قیامت کا وقت معلوم ہے یا نہیں ۔ اس بارے میں دو مذہب ہیں :

(۱) بعض علماء کا مذہب یہ ہے کہ حضور ﷺ کو یہ نہیں بتلایا گیا کہ قیامت فلاں وقت آنی ہے، لیکن خوب ذہن نشین رہے کہ یہ بات انہوں نے اپنی تحقیق کے مطابق اور اپنی نظر کی رسائی کے لحاظ سے کہی ہے، اور ایسا ہر گز نہیں ہے کہ(نعوذ باﷲتعالیٰ) انہوں نے شانِ مصطفیٰ ﷺ کی تنقیص کے ارادے سے یہ بات کہی ہے۔

(۲) دوسرا مذہب اس سلسلہ میں یہ ہے کہ حضور ﷺ کو وقوعِ قیامت کے وقت کا علم بھی اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے، اور کسی فریق پر کوئی طعن نہیں ہے۔

معتزلہ فرقہ نے اﷲ تعالیٰ کے ارشاد’’ِ فَلَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْْبِہِ أَحَداً ، إِلَّا مَنِ ارْتَضَی مِن رَّسُولٍ (اﷲ تعالیٰ غیب خاص پر اپنے پسندیدہ رسولوں کے سوا کسی کو مسلط نہیں فرماتا) سے دو چیزوں کی نفی پر دلیل قائم کی ہے، ایک تو کراماتِ اولیاء کی نفی اور دوسری یہ کہ اﷲ تعالیٰ ولیوں کو غیب پر مطلع نہیں فرماتا، اس کا ماحاصل یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں’’غیب‘‘ سے مراد وقوعِ قیامت کا وقت لیا گیا ہے، اور جائز ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس پر اپنے بعض رسولوں کو مطلع فرمادے۔

علامہ تفتازانی نے ان کا ردّ کرتے ہوئے فرمایا :

’’اس جگہ’’غیب‘‘ عموم کے لئے نہیں بلکہ مطلق ہے یامعین غیب مراد ہے، اور وہ سیاق(یعنی روشِ کلام اور سلسلۂ آیات کے ربط) کے قرینے سے وقوعِ قیامت کا وقت ہے، اور کچھ بعید نہیں ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس غیب پر بعض رسولوں کو مطلع فرمادے خواہ وہ رسلِ ملائکہ ہوں یا رسلِ بشر‘‘۔

(علامہ مسعود بن عمر تفتازانی : شرح مقاصد، مطبوعہ دارالمعارف نعمانیہ، لاہور: ج۲، ص۲۰۵)

علامہ سیّد محمود آلوسی رحمہ اﷲ تعالیٰ علمِ قیامت کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’یہ امر جائز ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو قیامت قائم ہونے کے وقت کی کامل طور پر اطلاع دی ہو، لیکن اس طریقے سے نہیں کہ آپ کا علم، علمِ الٰہی کے مشابہ ہو، اور اﷲ سبحانہٗ تعالیٰ نے کسی حکمت کی وجہ سے حضور ﷺ پر اس کا اخفاء واجب کردیا ہو کہ اس کے علم کو پوشیدہ رکھیں اور یہ علم حضور ﷺ کے خواص میں سے ہو، تاہم مجھے اس پر کوئی قطعی دلیل حاصل نہیں ہوئی‘‘۔

(علامہ محمود آلوسی : تفسیر روح المعانی، مطبوعہ تہران، ج۲۱، ص۱۰۱)

علامہ قرطبی فرماتے ہیں :

’’جس شخص نے حضور ﷺ کے واسطہ کے بغیر ان پانچ چیزوں میں سے کسی چیز کے علم کا دعویٰ کیا تو وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے‘‘۔

(الف۔ علامہ احمد بن علی قسطلانی، فتح الباری، مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر، ج۱، ص۱۳۲)

(ب۔ علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی ، عمدۃ القاری، مطبوعہ احیاء التراث العربی، بیروت، ج۱، ص۲۹۰)

(ج۔ علامہ علی بن سلطان محمد القاری، مرقاۃ، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ، ملتان، ج۱، ص۶۵)

(د۔ علامہ سید محمود آلوسی، روح المعانی، ج۲۱، ص۱۰۰)

اس کا مفاد اس کے سوا کچھ نہیں کہ جس شخص نے ان پانچ چیزوں میں سے کسی چیز کے علم کا دعویٰ حضور ﷺ کے واسطے سے کیا وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے، وگرنہ حضور ﷺ کے واسطے کے بغیر کی قید لگانے کا کوئی مطلب نہیں رہے گا۔

علامہ سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’بعض علماء کا مذہب یہ ہے کہ حضور ﷺ کو پانچ چیزوں کا علم بھی دیا گیا ہے اور آپ وقتِ قیامت کو بھی جانتے ہیں اور آپ کو روح کا بھی علم ہے مگر آپ کو اس کے پوشیدہ رکھنے کا حکم ہے‘‘۔

(علامہ عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی : خصائص کبریٰ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ج۲، ص۹۵)

علامہ عبدالباقی زرقانی مالکی فرماتے ہیں :

’’اﷲ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو پانچ غیبوں کی چابیوں کے سوا دوسرے علوم عطا فرمائے ہیں، اور کہا گیا ہے کہ ان کا علم بھی عطا کیا گیا ہے اور دوسروں کو بتلانے کا حکم نہیں ہے، جیسے کہ خصائص کبریٰ میں ہے‘‘۔

( علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی، شرح مواہب لدنیہ، مطبوعہ عامرہ، مصر، ج۱، ۱۰)

علامہ محمد عبدالرؤف مناوی، جامع صغیر کی شرح فیض القدیر میں فرماتے ہیں :

’’خَمْسٌ لَایَعْلَمُھُنَّ الَّا اﷲ ان پانچ چیزوں کو کوئی نہیں جانتا، یعنی ان کا احاطہ کوئی نہیں کرسکتااور اس طرح کوئی نہیں جانتا کہ اس کا علم ایک ایک کلی اور ہر ہر جزی کا شامل اور محیط ہو، اور یہ اس کے منافی نہیں کہ اﷲ تعالیٰ اپنے بعض خواص کو بہت سی غیب چیزوں یہاں تک کہ ان پانچ میں سے بعض پر مطلع کردے ، اس لئے کہ یہ چند جزئیات ہیں اور معتزلہ کا انکار دعویٰ بلا دلیل ہے اور محض سینہ زوری ہے‘‘۔

(امام عبدالرؤف مناوی : فیض القدیر :مطبوعہ بیروت: ج۳: ص۴۵۸)

اپنے زمانے کے غوث سیّدی عبدالعزیز دباغ رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’حضور ﷺ سے ان پانچ چیزوں کا علم کیسے مخفی رہ سکتا ہے جب کہ آپ کی اُمت کے اکابر اولیاء سے بھی ان کا علم پوشیدہ نہیں اور اس وقت تک اولیاء ِ اُمت اس کائنات مین تصرف نہیں کرسکتے جب تک ان پانچ چیزوں کا علم انہیں حاصل نہ ہو‘‘۔

(علامہ ابن المبارک سلجماسی : الابریز : مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر: ص۲۸۳)

امام احمد رضا قادری بریلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’کیا آیاتِ مذکورہ(۳۱۔۳۴) اس بات کی دلیل ہیں کہ امور خمسہ کا علم اﷲ تعالیٰ کی ذات میں منحصر ہے اور اسی کے ساتھ مخصوص ہے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے امام احمد رضا خاں بریلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں !

’’ان آیات کی دلالت تو مطلق اختصاص پر بھی نہیں ہے چہ جائیکہ یہ خصوصی اختصاص پر دلالت کرتی ہوں، آپ نے دیکھا نہیں کہ ان پانچ میں سے بعض میں تو کوئی چیز ایسی نہیں جو تخصیص پر دلالت کرتی ہو، اس لئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ(وہ بارش برساتا ہے) اور فرماتا ہے : وَیَعلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ(اور جو کچھ رحموں میں ہے وہ جانتا ہے) اور ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ان امور کے محض مقامِ حمد میں وارد ہونے سے مطلقاً یہ لازم آتا ہے کہ ان امور کا علم اﷲ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اﷲ تعالیٰ نے وصفِ سمع، بصراور علم سے اپنی تعریف فرمائی ہے اور اپنے بندوں کے لئے بھی یہ اوصاف بیان کئے ہیں، چنانچہ فرمایا :

َجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَۃ

تمہارے فائدے کے لئے کان، آنکھیں اور دل پیدا فرمائے۔

ثانیاً اگر اختصاص پر دلالت تسلیم بھی کرلی جائے تو سوال یہ ہے کہ اس میں پانچ کی ایسی کون سی خصو صیت ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے بتلانے کی کوئی سبیل باقی نہ رہے‘‘۔

(امام احمد رضا قادری : الدولۃ المکیۃ : مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی : ص۳۱۰)

با رش کا علم

علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے خصائص کبریٰ میں ایک باب قائم کیا ہے’’باب اخبارہ صلی اﷲ علیہ وسلم عن السحابۃ التی مطرت بالیمن‘‘ حضور ﷺ نے یمن میں برسنے والے بادل کی خبر دی۔ (اس کے بعد فرمایا)

’’امام بیہقی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ بارش ہوئی تو حضور ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا بادل پر مقرر فرشتہ ابھی میرے پاس آیا، اس نے سلام کے بعد مجھے خبر دی کہ وہ یمن میں واقع صریح نامی وادی کی طرف بادل لے جارہا ہے، اس کے بعد ایک سوار ہمارے پاس آیا، ہمارے دریافت کرنے پر اس نے بتلایا کہ اس روز ان کے ہاں بارش ہوئی تھی۔

امام بیہقی فرماتے ہیں اس کی تائید حضرت بکر بن عبداﷲ مزنی کی روایت سے ہوتی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ﷺ نے بتلایا کہ میرے پاس بادل کا فرشتہ فلاں شہر سے آیا جہاں فلاں دن بارش ہوئی تھی، حضور سرور عالم ﷺ نے اس فرشتہ سے دریافت فرمایا کہ ہمارے شہر میں کب بارش ہوگی؟ تو اس نے کہا : فلاں دن ، حضور ﷺ کی بارگاہ میں اس وقت کچھ منافق بھی موجود تھے انہوں نے یہ بات یاد رکھی ، پھر انہوں نے اس واقعہ کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ واقعی اس شہر میں بارش ہوئی تھی تو وہ ایمان لے آئے، اور انہوں نے اس واقعہ کا ذکر نبی کریم ﷺ کے پاس بھی کیا، آپ نے ان کے لئے دعا کی کہ اﷲ تعالیٰ تمہارے ایمان میں مزید پختگی عطا فرمائے‘‘۔

(علامہ عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی : خصائص کبریٰ: مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد:ج۲: ص۱۰۳)

علامہ آلوسی بغدادی فرماتے ہیں :

’’امام قسطلانی نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ جب بادلوں پر مقرر فرشتوں کو مختلف شہروں اور مقامات کی طرف باد ل لے جانے کا حکم دیتا ہے تو ان فرشتوں کو علم ہوجاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا ہے بارش کا علم عطا فرمادیتا ہے‘‘۔

(علامہ سید محمود آلوسی : تفسیر روح المعانی: مطبوعہ تہران: ج۲۱: ص۱۰۰)

اﷲ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام کی بات کو حکایۃً بیان فرماتا ہے :

قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَأَباً فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوہُ فِیْ سُنبُلِہِ إِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تَأْکُلُونَ، ثُمَّ یَأْتِیْ مِن بَعْدِ ذَلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَأْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَہُنَّ إِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ، ثُمَّ یَأْتِیْ مِن بَعْدِ ذَلِکَ عَامٌ فِیْہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیْہِ یَعْصِرُون(سورۃ یوسف: آیت ۴۷ تا۴۹)

(اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ) سات برس تک تم لگاتار کھیتی کرتے رہو گے(اور پیداوار خوب ہوگی) تو جو کچھ کھیتی کاٹو اس کو اس کے خوشوں ہی میں رہنے دو(تاکہ خراب نہ ہو) مگر کھانے کی مقدار تھوڑا سا الگ کرلیا کرو، پھر اس کے بعد سات سال بڑے سخت مصیبت کے آئیں گے کہ وہ سب ذخیرہ کھا جائیں گے جو تم نے پہلے جمع کررکھا ہوگا مگر تھوڑا سا جو تم بچا کر رکھوگے(وہی بچ رہے گا) پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا کہ لوگوں پر خوب بارش بھیجی جائے گی، لوگ اس میں (پھلوں اور دانوں سے رس اور تیل) نچوڑیں گے۔

غور کیجئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے کیسے قحط پڑنے کے بعد خوشحالی وشادابی کی خبر دی، اور یہ سب اﷲ تعالیٰ جل مجدہٗ کے ان کو بتلانے سے ہوا۔

مافی الارحام کا علم

(۱) ام فضل بنت حارث رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ وہ رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا : یارسول اﷲ ! میں نے آج رات عجیب خواب دیکھا ہے، آپ نے فرمایا ! کیا خواب ہے؟ اُ م فضل نے اپنا خواب بیان کیا تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا :

تو نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے(اس کی تعبیر یہ ہے) کہ فاطمہ(حضور ﷺ کی لختِ جگر رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) کے ہاں ان شاء اﷲ تعالیٰ ایک لڑکے کی پیدائش ہوگی جو تیری گود میں آئے گا، (اُم فضل کہتی ہیں) پس ایسے ہی ہوا کہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے ہاں حضرت حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے، اور حضور کے بیان کے مطابق وہ میری گود میں آئے۔(امام بیہقی نے اسے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے)

(ولی الدین محمد بن عبداﷲ خطیب: مشکوٰۃ المصابیح : مطبوعہ نور محمد، کراچی : ص۵۷۲)

(۲) امام ابو نعیم(اپنی سند کے ساتھ) حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ اُم فضل رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا حضور کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے پیٹ میں ایک لڑکا ہے، جب وہ پیدا ہوتو اسے میرے پاس لے کر آنا، آپ فرماتی ہیں کہ جب میرے ہاں وہ لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ نے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور اپنے دہن اقدس کے لعاب سے اسے گھٹی عطا فرمائی اور اس کا نام عبداﷲ رکھا، اور فرمایا ! خلفاء کے باپ کو لے جا، فرماتی ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت عباس کو بتلائی تو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے پاس آئے اور اس بات کا ذکر کیا، حضور ﷺ نے فرمایا کہ اُم فضل نے جو تمہیں خبر دی ہے وہ حقیقت ہے، یہ خلفاء کا باپ ہے، ان میں سے سفاح ہوگا اور ان میں سے مہدی ہوگا اور ان میں سے وہ ہوگا جو عیسیٰ ابن مریم کو نماز پڑھائے گا‘‘۔

( علامہ احمد بن محمد قسطلانی : مواہب لدنیہ مع شرح، مقصد ثامن، ج۷، ص۲۵۴)

(۳) امام محمد رحمہ اﷲ تعالیٰ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی ہیں وہ فرماتی ہیں کہ انہیں حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ’’آج وہ وارثوں کا مال ہے اور وہ(وارث) تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ، تم یہ مال قرآن کریم کے مطابق تقسیم کرلینا‘‘ حضرت اُم المومنین عائشہ عفیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کیا : ابا جان ! اﷲ کی قسم : اگر وہ مال اتنا اتنا ہوتا تو میں اسے بھی چھوڑ دیتی، میری ایک ہمشیر تو اسماء ہے دوسری میری ہمشیر کون سی ہے؟ فرمایا ! خارجہ (حضرت ابوبکر صدیق کی اہلیہ محترمہ) کی بیٹی، کیونکہ میرا خیال ہے کہ خارجہ کے شکم میں لڑکی ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ لڑکی پیدا ہوئی۔

(امام محمد بن حسن شیبانی : مؤطا امام محمد: مطبوعہ نور محمد، کراچی: ۳۴۹۔۳۵۰)

(۴) امام مسلم رحمہ اﷲ تعالیٰ حضرت حذیفہ بن اسید سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نطفہ رحم میں چالیس یا پینتالیس دن قرار پاتاہے تو اس کے بعد فرشتہ اس کے پاس جاتا ہے اور عرض کرتا ہے: اے رب ! یہ بچہ بدبخت ہے یا نیک بخت؟ حکم کے مطابق لکھ دیتا ہے، پھر عرض کرتا ہے : اے رب کیا یہ نر ہے یا مادہ؟ یہ بھی لکھ دیتا ہے، پھر اس کا عمل، اثر، عمر اور رزق لکھتا ہے، پھر صحیفے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔

(امام مسلم بن حجاج قشیری : صحیح مسلم: مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ، دہلی: ج۲،ص ۳۳۳)

یہ تمام علم اﷲ تعالیٰ کے اپنے نبی کریم ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق اور رحموں پر مقرر فرشتے کو اطلاع دینے سے ہوتا ہے اور جدید طب تو آج کے دور میں اتنی ترقی کرچکی ہے کہ ماہرینِ طب جدید آلات کے ذریعے یہاں تک معلوم کرلیتے ہیں کہ عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی، پھر یہی نہیں بلکہ بچے کے سلیم الخلقت ہونے اور اس کے تمام نقوش اور اعضاء کے بارے میں معلومات حاصل کرلیتے ہیں، برطانیہ کی لیڈی ڈیانا کی مثال سب کے سامنے ہے، مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اگر اپنے خاص بندوں کو اطلاع دے دے کہ عورت کے رحم میں لڑکا ہے یا لڑکی، تو اسے آج کے دور میں محال کہنا کسی طرح درست نہیںہے۔

اس بات کا علم کہ کل کیا ہوگا

حضور ﷺنے مستقبل سے متعلق بہت سی چیزوں کے بارے میں خبر دی، جو تفصیل کے ساتھ دیکھنا چاہے اسے الشفاء ، مواہب لدنیہ اور دوسری سیرت طیبہ کی کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہئے، اس جگہ ہم صرف چند باتوں کا تذکرہ کرنے پر اکتفاء کریں گے جن کا تعلق مستقبل کی خبروں سے ہے :

(۱) امام مسلم رحمہ اﷲ تعالیٰ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے زمین پر ہاتھ رکھ کر فرمایا! یہاں فلاں کافر مرے گا اور یہاں فلاں، جس جس جگہ حضور ﷺ نے نشان دہی فرمائی تھی کوئی کافر اس سے اِدھر اُدھر نہیں گرا۔

(امام مسلم بن حجاج قشیری: صحیح مسلم: مکتبہ رشیدیہ، دہلی: ج۲: ص۱۰۲)

دیکھئے حضور انور ﷺ نے مستقبل میں واقع ہونے والے واقعات کی کیسی سچی خبر دی اور اسی طرح ہوا جیسے آپ نے اطلاع دی۔

امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

’’اس حدیث میں دو معجزے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضور ﷺ نے سردارانِ کفار کے جس جگہ گرنے کی خبر دی اس سے ذرا اِدھر اُدھرمتجاوز نہیں ہوئے‘‘۔

( امام یحییٰ بن شرف النووی : شرح مسلم ، ج۲، ص۱۰۲)

(۲) امام مسلم رحمہ اﷲ تعالیٰ حضرت سلمہ بن الاکوع سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ غزوۂ خیبر میں آشوب چشم کی وجہ سے حضور ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے، دل میں خیال آیا کہ میں حضور ﷺ سے پیچھے رہ جائوں گا، چنانچہ وہ نکلے اور نبی کریم سے جا ملے، پس جب وہ رات آئی جس کی صبح کو اﷲ تعالیٰ نے خیبر کی فتح عطا فرمائی، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا یا جھنڈا وہ شخص پکڑے گا(راوی کو شک ہے) جس سے اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کا رسول محبت کرتے ہیں، یا فرمایا کہ وہ اﷲ اور رسول سے محبت کرتا ہے، اﷲ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائے گا، پس اچانک ہم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ، حالانکہ اُن کے آنے کی ہمیں اُمید نہ تھی، لوگوں نے کہا : یہ رہے علی، پس رسول اﷲ ﷺ نے حضرت علی کو جھنڈا عطا فرمایا اور اﷲ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ سے فتح نصیب فرمائی۔

(امام مسلم بن حجاج قشیری : صحیح مسلم : ج۲، ص۲۷۹)

(۳) امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ تعالیٰ ابو طفیل عامر بن واثلہ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضرت معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تبوک کے سال نکلے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا! تم ان شاء اﷲ کل تبوک کے چشمے پر پہنچوگے، اور تم اس چشمہ کے پاس چاشت کے وقت ہی آئوگے، تو جو بھی آئے وہ اس چشمہ کے پانی کو میرے آنے سے پہلے ہاتھ نہ لگائے۔

(امام احمد بن حنبل : مسند احمد : ج۵: ص۲۳۷)

(۴) حضرت عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ؎

اَرَانَا الْھُدٰی بَعْدَالْعَمٰی فَقُلُوْبُنَا بِہٖ مُوْ قِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعٗ

حضور نے ہمیں ایسے میں راہِ منزل دکھائی جب ہم اندھوں کی طرح بھٹکتے پھر رہے تھے، پس ہمارے قلوب نبی اکرم ﷺ پر یقین رکھتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔

(امام محمد بن اسماعیل بخاری : صحیح بخاری :مطبوعہ مجتبائی، دہلی: ج۱: ص۱۵۵ )

حضرت عبداﷲ بن رواحہ کے اس کلام کی شرح کرتے ہوئے علامہ قسطلانی شارح بخاری فرماتے ہیں :

’’ہمارے دل حضور ﷺ پر یقین رکھتے ہیں کہ آپ نے جو بھی غیب کی خبریں دی ہیں وہ یقیناً واقع ہوں گی‘‘۔

(امام احمد بن محمد قسطلانی : ارشاد الساری شرح بخاری: مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت: ج۲: ص۳۳۰)

جب عبدالرحمن بن رواحہ نے یہ اشعار حضور ﷺ کی بارگاہ میں پڑھے جن میں ایک شعر اس جگہ بیان کیا گیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

’’ تمہارا بھائی کوئی باطل اور فحش بات نہیں کہہ رہا‘‘۔

(علامہ محمود احمد عینی : عمدۃ القاری شرح بخاری : ج۷ : ص۲۱۴)

حضور ﷺ نے حضرت عبداﷲ بن رواحہ کے اس قول کی تصدیق فرمائی کہ نبی کریم ﷺ نے جو غیب کی باتیں بتلائی ہیں وہ لا محالہ واقع ہوکر رہیں گی، اور یہ کل اور مستقبل کی خبریں ہیں ۔

(۵) حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ؎

نَبِیٌ یَّرٰی ما لَا یَرٰی النَّاسُ حَوْلَہٗ وَیَتْلُوْ کِتَابَ اﷲِ فِیْ کُلِّ مَشْھَدٖ فَاِنْ قَالَ فِیْ یَوْمٍ مَّقَالَۃَ غَائِبٍ فَتَصْدِ یْقُھَا فِیْ ضَحْوَۃِ الْیَوْمِ اَوْغَدٖ

(علامہ احمد بن محمد قسطلانی : مواہب لدنیہ شرح زرقانی، مقصد ثامن: ج۷: ص۲۳۰)

’’نبی کریم ﷺ اپنے ارد گرد وہ کچھ(ملائکہ وغیرہ) دیکھتے ہیں جو دوسرے نہیں دیکھتے، اور وہ ہر مقام پر کتاب اﷲ کی تلاوت کرتے ہیں، اگر آپ کسی دن غائب کی بات کہہ دیں تو اس کی تصدیق اسی دن چاشت کے وقت ہوجاتی ہے‘‘۔

جا ئے موت کا علم

(۱) اس سے پہلے امام مسلم کی روایت گزر چکی کہ نبی کریم ﷺ نے مشرکین کے بارے میں خبر دے دی تھی کہ اس جگہ فلاں کافر گرے گا، اور آپ نے زمین پر ہاتھ مبارک رکھ کر نشان دہی فرمائی کہ اس جگہ فلاں اور اس جگہ فلاں مرے گا۔

(امام مسلم بن حجاج قشیری : صحیح مسلم : ج۲ : ص۱۰۲)

(۲) نبی کریم ﷺ نے انصار سے فرمایا :

وَالْمَحْیَا مَحْیَا کُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ

(امام مسلم بن حجاج قشیری : صحیح مسلم : ج۲ : ص۱۰۳)

میری زندگی اور موت تمہارے پاس ہوگی۔

اور اس حدیث میں تو بالکل صراحت ہے کہ حضور ﷺ کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے علم تھا کہ آپ ﷺ کا مزار پرانوار مدینہ منورہ(زادہا اﷲ شرفاً) میں ہوگا۔

امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

’’یعنی میں زندگی بھی تمہارے پاس گزاروں گا اور میرا وصال بھی تمہارے پاس ہوگا اور یہ بھی حضور کے معجزات میں سے ہے‘‘۔

(امام یحیٰی بن شرف نووی : شرح مسلم : ج۲ : ص۱۰۳ )

(۳) علامہ قسطلانی فرماتے ہیں :

’’حضور ﷺ کے علوم غیب میں ایک یہ واقعہ بھی ہے کہ آپ نے بتلادیا تھا کہ حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ’’ طُف‘‘ میں شہید ہوں گے اور اپنے ہاتھ مبارک سے مٹی نکال کر بتلایا کہ اس زمین میں حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی آخری آرامگاہ ہوگی۔

اس حدیث کو بغوی نے کبیر ، حافظ ابوالقاسم عبداﷲ بن محمد نے اپنی معجم میں انس بن مالک کی حدیث سے ان الفاظ سے روایت کیا ہے کہ بارش پر مقرر فرشتے نے اپنے رب کریم سے نبی کریم ﷺ کی زیارت کے لئے اجازت مانگی، چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، حضور اس دن اُم سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے یہاں تشریف رکھتے تھے، نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اے اُم سلمہ ! دروازے کا دھیان رکھنا ہمارے پاس کوئی داخل نہ ہو، پس اُم سلمہ دروازے پر ہی تھیں کہ اچانک امام حسین(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) آئے اور بلا روک ٹوک سیدھے اندر داخل ہوگئے اور حضور کے پاس پہنچ گئے، نبی اکرم ﷺ امام حسین کو پیار سے چومنے لگے، تو فرشتے نے کہا آپ انہیں محبوب رکھتے ہیں؟ حضور نے فرمایا : ہاں ، فرشتے نے کہا کہ بے شک آپ کی اُمت ان کو شہید کرے گی اور آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا دوں جہاں امام حسین شہید کئے جائیں گے، چنانچہ فرشتے نے آپ کو وہ جگہ دکھائی اور وہاں سے ریت یا سرخ رنگ کی خاک بھی لایا جسے اُم سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے لے کر کپڑے میں باندھ کر رکھ لیا، حضرت ثابت کہتے ہیں کہ ہم اس جگہ کو کربلا کہتے تھے‘‘۔

(علامہ احمد بن محمد قسطلانی : مواہب لدنیہ مع شرح زرقانی : ج۷ : ص۲۵۰)

اسے امام حافظ ابو حاتم محمد بن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ علامہ زرقانی آپ کے قول ’’اِسْتَأَذ َنَ مَلِکُ الْقَطَرِ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

’’ملک القطر سے مراد اسرافیل علیہ السلام ہیں جو کہ بارش اور نباتات پر مقرر ہیں جیسے کہ امام بیہقی وغیرہ کے نزدیک عبدالرحمن بن سابط سے اور امام احمد اور ابن سعد کے نزدیک حضرت علی سے اور طبرانی کے نزدیک حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ عفیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے ثابت ہے کہ اس سے مراد اسرافیل علیہ اسلام ہیں‘‘۔

( علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی : شرح مواہب لدنیہ : ج۷: ۲۵۰)

(۴) امام احمد بن حنبل حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ جب رسول اﷲ ﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو حضور سرور عالم خود حضرت معاذ کے ساتھ باہر نکلے اور جب آپ حضرت معاذ کو وصیت وغیرہ کرکے فارغ ہوئے تو فرمایا !

’’اے معاذ ! اس سال کے بعد شاید تمہاری ہم سے ملاقات نہ ہوسکے، اور ہو سکتا ہے کہ تمہارا گزر ہماری مسجد اور ہماری قبر کے پاس سے ہو‘‘۔

(امام احمد بن حنبل : مسند امام احمد : مطبوعہ بیروت : ج۵ : ص۲۳۵)

اس حدیث پاک میں تصریح ہے کہ آپ ﷺ کی قبر انور مسجد نبوی کے پاس مدینہ منورہ میں ہوگی(اور آپ کو اپنے وصال کا بھی علم تھا) ۔

(۵) امام بخاری نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے کہ جب جنگ اُحد کا واقعہ پیش آیا تو میرے والد گرامی نے مجھے رات کو بلایا اور فرمایا :

’’مجھے تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ حضور کے صحابہ کرام میںسے سب سے پہلے شہید ہوں گا اور میں اپنے بعد حضور ﷺ کے علاوہ اپنے پسماندگان میں تم سے زیادہ عزیز کوئی نہیں چھوڑ کر جارہا، میرے ذمہ کچھ قرض ہے وہ ادا کردینا اور اپنی ہمشیرگان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا‘‘۔

حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ’’جب ہم نے صبح کی تو وہی سب سے پہلے شہید تھے‘‘۔

(امام محمد بن اسماعیل بخاری : صحیح بخاری : مطبوعہ مجتبائی : ج۱ : ص۱۸۰)

غور فرمائیے کہ صحابی رسول ﷺ نے کس طرح کل کے واقعہ اور اپنی شہادت گاہ کی خبر دی، اور پھر اسی طرح ہوا جیسے انہوں نے خبر دی تھی۔

روح کا علم

جس طرح قیامت کے بارے میںگزرا کہ اس میں اختلاف ہے، اسی طرح یہ مسئلہ بھی مختلف فیہ ہے، اور ایک بڑی جماعت نے ثابت کیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے بتلانے سے نبی کریم ﷺ کو روح کا بھی علم حاصل ہے۔

(۱) امام فخرالدین رازی رحمہ اﷲ تعالیٰ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں :

’’اور تیسری بات یہ ہے کہ عام فلاسفہ اور متکلمین بھی مسئلہ روح کو جانتے ہیں، پس اگر رسول اﷲ ﷺ یہ فرمائیں کہ میں روح کو نہیں جانتا، تو یہ آپ کی شان کے خلاف ہے اور لوگوں کو آپ سے دُور کرنے کا باعث ہے، بلکہ رُوح کے مسئلہ سے لا علمی تو ایک عام انسان کے لئے بھی حقارت کا سبب ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اﷲ ﷺ جو تمام علماء سے بڑھ کر عالم اور تمام فضلاء سے بڑھ کر فاضل ہیں، انہیں مسئلہ روح کا علم نہ ہو۔

اور چوتھی بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کے حق میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمََ الْقُرْاٰنَ رحمان نے قرآن کا علم دیا، نیز فرمایا وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمْ وَکَانَ فَضْلُ اﷲِ عِلِیْکَ عَظِیْماً اور آپ کو ان چیزوں کا علم عطا کیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کا آپ پر عظیم فضل ہے، اور فرمایا کہ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْماً آپ اﷲ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اے میرے رب ! مجھے زیادہ علم عطا فرما۔ اور قرآن کی صفت میں فرمایا کہ ہر خشک وتر چیز کا علم قرآن پاک میں ہے وَلَا رَطْبٍ وَّ یَا بِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ، پس جس ذات اقدس کا یہ حال اور یہ شان ہو اُن کے بارے میں کیسے خیال کیا جاسکتا ہے کہ انہیں روح کا علم نہ ہو‘‘۔

(امام محمد بن عمر رازی : تفسیر کبیر : مطبوعہ المطبعۃ البہیہ، مصر : ج۲۱ : ص۳۷)

امام غزالی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’اور رہی وہ رُوح جو اصل ہے، جس کے فساد سے بدن فاسد ہو جاتا ہے، وہ اﷲ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے،(یہاں تک کہا کہ) اس لئے عقل سے روح کا علم نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کا علم ایک نور سے حاصل ہوگا، جو نور، عقل سے اعلیٰ اور اشرف ہے، یہ نور صرف عالمِ نبوت وولایت میں درخشاں ہوتا ہے اور اس نور کی نسبت عقل کے ساتھ ایسی ہے جیسی عقل کی نسبت وہم اور خیال کے ساتھ‘‘۔

(امام محمد غزالی : احیا ء العلوم : مطبوعہ دارالمعرفۃ، بیروت : ج۴ : ص۱۱۵)

علامہ بدرالدین عینی رحمہ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :

’’میں کہتا ہوں کہ حضور ﷺ کا مرتبہ اس سے بلند وبالا ہے کہ آپ کو روح کا علم نہ ہو، اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ آپ اﷲ تعالیٰ کے محبوب اور اس کی تمام مخلوق کے سردار ہیں، اور اﷲ تعالیٰ نے یہ کہہ کر آپ پر احسان جتلایا ہے کہ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمْ وَکَانَ فَضْلُ اﷲِ عِلِیْکَ عَظِیْماً آپ کو وہ سب کچھ سکھادیا جو آپ نہ جانتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کا آپ پر بڑا فضل ہے۔

اکثر علماء نے بیان کیا ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت میں اس امر پر دلیل نہیں ہے کہ رُوح کا علم حاصل ہی نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی قرآن کریم کی کسی آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو رُوح کا علم نہیں ہے‘‘۔

(علامہ بدرالدین محمود بن احمد العینی : عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری : مطبوعہ احیاء التراث العربی، بیروت : ج۲ : ص۲۰۱)

علامہ سید محمود آلوسی رحمہ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :

’’حضرت عبداﷲ بن بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اس حال میں وصال فرماگئے کہ آپ رُوح کو نہیں جانتے تھے، غالباً حضرت عبداﷲ کا خیال تھا کہ رُوح کا علم ناممکن ہے، ورنہ جس چیز کا علم ممکن تھا وصال سے پہلے حضور ﷺ کو اس کا علم حاصل ہوگیا تھا، جیسا کہ اس بات پر امام احمد اور ترمذی کی یہ حدیث دلالت کرتی ہے جسے امام بخاری نے بھی صحیح کہا ہے، حضرت معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں رات کو اُٹھا اور میں نے جتنی اﷲ تعالیٰ کو منظور تھی نماز پڑھی، پس نماز میں مجھے اُونگھ آگئی یہاں تک کہ میں نے بہت گرانی محسوس کی، پس اچانک دیکھتا ہوں کہ میں بہترین صورت میں اپنے رب کے پاس ہوں(یہاں تک کہ) پس میں نے اپنے رب کریم کو دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنا دستِ رحمت میرے کندھوں کے درمیان رکھا حتیٰ کہ میں نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی اور میرے لئے ہر چیز روشن اور منکشف ہوگئی اور میں نے اسے جان لیا‘‘۔

(علامہ سید محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی : مطبوعہ تہران: ج۱۵ : ص۱۴۲)

مسئلہ علم غیب میں ائمہ کے ارشادات

امام علامہ قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمہ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :

’’کہا گیا ہے کہ نبی اور رسول میں ایک لحاظ سے فرق ہے اس لئے کہ ان دونوں کا وصفِ نبوت میں اجتماع ہے جس کا معنٰی غیب پر مطلع ہونا ہے‘‘۔

(امام قاضی عیاض بن موسیٰ یحصبی: الشفاء : فاروقی کتب خانہ، ملتان : ج۱ : ص۱۶۱)

نیز فرماتے ہیں :

’’اور حضور ﷺ کے کمالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ یعنی ماضی اور مستقبل کے غیبوں پر مطلع ہیں، اور اس باب میں اتنی کثیر احادیث وارد ہیں کہ ایک سمندر ہے کہ جس کی گہرائی کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا، اور یہ بھی آپ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے، جو قطعی طور پر معلوم ہے اور ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچا ہے، کیونکہ اس کے راوی کثیر ہیں، اور یہ احادیث معنوی طور پر اطلاع علی الغیب پر متفق ہیں‘‘۔

(امام قاضی عیاض بن موسیٰ یحصبی: الشفاء : فاروقی کتب خانہ، ملتان : ج۱ : ص۲۲۱)

امام غزالی علیہ الرحمہ نبوت کے خصائص بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ اور نبوت کی چوتھی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ(نبی) نیند یا بیداری کے عالم میں غیب کے مایکون(آئندہ کے واقعات وحوادث) کا ادراک کرلیتا ہے، کیونکہ اس صفت کے ساتھ وہ لوحِ محفوظ کا مطالعہ کرتا ہے اور لوح میں جو امور غیبیہ ہیں ان کو دیکھ لیتا ہے‘‘۔

نیز لکھتے ہیں :

’’اور جب باطن صاف ہو تو دل کی آنکھ میں مستقبل میں ہونے والے امور منکشف ہوجاتے ہیں جیسے کہ رسول اﷲ ﷺ کے لئے دخول مکہ کا معاملہ خواب میں منکشف ہوگیا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی لَقَدْ صَدَقَ اﷲُ رَسُوْلَہُ الرُّؤُیَا بِالْحَقِِّّ ‘‘۔

(امام محمد بن محمد غزالی : احیاء علوم الدین : مطبوعہ دارالمعرفۃ، بیروت : ج۴ : ص۱۹۴)

محی السنّہ علامہ بغوی، ابن کیسان کے حوالے سے اﷲ تعالیٰ کے فرمان خَلَقَ الْاِنْسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

’’اس آیت میں انسان سے مراد حضور ﷺ ہیں اور بیان سے مراد ماکان وما یکون(یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ ہوگا) کا بیان ہے (یعنی اﷲ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ماکان ومایکون کا علم عطا فرمایا ہے) کیونکہ حضور ﷺ نے تمام اولین وآخرین اور قیامت کے دن تک کی خبریں بیان فرمائی ہیں‘‘۔

(الف۔علامہ الحسین الفراء بغوی : معالم التنزیل : مطبعۃ التقدم العلمیۃ، مصر، ج۷، ص۲)

(ب۔علامہ علی بن محمد بغدادی المعروف بالخازن: لباب التاویل فی معانی التنزیل، ج۷، ص۲)

علامہ قسطلانی فرماتے ہیں :

’’حضور ﷺ کے علم غیب کا معاملہ صحابۂ کرام یہاں تک کہ منافقوں اور کافروں کے درمیان بھی اس قدر مشہور اور عام تھا کہ باہم کوئی بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے، چپ رہو، اﷲ کی قسم ! اگر اور کوئی حضور کے پاس مخبری کرنے والا نہ بھی ہوا تو وادیٔ بطحا کے یہ سنگریزے ہی ہماری باتیں حضور سے کہہ دیں گے‘‘۔

(امام احمد بن محمد قسطلانی : مواہب لدنیہ مع شرح زرقانی : ج۷: ص۲۲۹)

علامہ زرقانی فرماتے ہیں :

’’علامہ قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالیٰ کے بقول حضور ﷺ کے غیب پر مطلع ہونے پر اخبار متواتر ہیں اور ان کے معانی اس امر پر متفق ہیں‘‘۔

(علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی ؛ شرح زرقانی علی المواہب: ج۷: ص۲۲۸)

امام ابن الحاج مکی کا بیان ہے :

’’حضور ﷺکی ظاہری زندگی اور وفات اس معاملے میں برابر ہے کہ آپ بدستور اپنی اُمت کا مشاہدہ فرمارہے ہیں اور ان کی نیّتوں، ارادوں، خیالوں اور حالوں کو جانتے ہیں، اور یہ سب کچھ آپ کے پاس اُجالے میںہے، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ‘‘۔

( الف، امام ابن الحاج مکی: المدخل : دارالکتاب العربی، بیروت: ج۱، ص۲۵۲)

(ب، امام احمد بن محمد قسطلانی: المواہب ا للدنیہ مع شرح: ج۸: ص۳۴۹)

علامہ بیضاوی رحمہ ا ﷲتعالیٰ، اﷲ تعالیٰ کے فرمان اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقیْمَ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

’’اﷲ تعالیٰ کی ہدایت کی اَن گنت اَنواع ہیں جن کا شمار نہیں ہوسکتا، لیکن انہیں ترتیب وار اجناس میں منحصر کیا جاسکتا ہے(یہاں تک کہ فرمایا) ہدایت کی چوتھی قسم یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان کے قلوب پر وحی یا الہام اور سچے خوابوں کے ذریعے اسرار کو منکشف فرمادیتا ہے اور اشیاء کی واقعی حقیقتوں کا ان کو مشاہدہ کرادیتا ہے، اور یہ قسم صرف نبیوں اور ولیوں کے ساتھ خاص ہے، اسے فقط وہی حاصل کرسکتے ہیں، اور اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان’’ اُولٰئِکََ الَّذِیْنَ ھَدَی اﷲُفَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ‘‘سے یہی مراد ہے‘‘۔

(علامہ عبداﷲ بن عمر بیضاوی : تفسیر بیضاوی : مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ، دیوبند: ص۹۔۱۰)

علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں :

’’نبی کریم ﷺ کو ایک ایسی صفت حاصل ہے کہ جس کے ذریعے آپ مایکون کے غیب کا ادراک کرلیتے ہیں، اور اسی صفت سے لوحِ محفوظ میں جو امور ہیں ان کا مطالعہ کرتے ہیں جس طرح ایک صفت کے ذریعے دانا آدمی بیوقوف سے ممتاز ہوتا ہے، پس یہ صفاتِ کاملہ ہیں جو حضور ﷺ کے لئے ثابت ہیں‘‘۔

(امام احمد بن علی بن محمد عسقلانی : فتح الباری : مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر: ج۱۶: ص۲۱)

حضرت ملا علی قاری فرماتے ہیں :

’’جب پاکیزہ روح منور ہوجاتی ہے اور عالم محسوسات کی تاریکیوں سے اعراض کی وجہ سے اس کی نورانیت اور روشنی بڑھتی ہے، اور اسی طرح جب دل کا آئینہ طبعی کدورتوں کے زنگ سے پاک اور صاف ہوجاتا ہے، علم وعمل پر ثابت قدمی اور انوار الٰہیہ کے پیہم فیضان کے سبب یہ نور قوی ومستحکم ہوجاتا ہے، اور دل کی فضائوں میں انبساط وکشادگی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، تو اس وقت لوح محفوظ میں لکھے ہوئے نقوش دل میں منعکس ہونا شروع ہوجاتے ہیں، اور انسان مغیبات پر مطلع ہوجاتا ہے اور عالم اسفل کے اجسام میں تصرف کرنے لگتا ہے بلکہ جب خود فیاض اقدس جل مجدہٗ اس پر جلوہ فرماتا ہے جو سب سے اعلیٰ واشرف عطیہ ہے ، تو دوسری چیزیں کیسے منکشف نہ ہوں گی‘‘۔

(علامہ علی بن سلطان محمد القاری: مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح: مطبوعہ مکتبہ امدادیہ، ملتان: ج۱: ص۶۲)

حضرت ملا علی قاری حضور ﷺ کی حدیث پاک فَعَلِمْتُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کی شرح میں لکھتے ہیں :

’’علامہ ابن حجر نے فرمایا حضور ﷺ تمام کائنات کو جو آسمانوں میں ہے بلکہ آسمانوں کے اوپر بھی ہے جانتے ہیں ، جیسے کہ واقعۂ معراج سے ثابت ہوتا ہے، اور اسی طرح زمین کہ جس سے مراد جنس ہے یعنی ساتوں زمینوں میں جو کچھ ہے حضور کو ان سب کا علم ہے، جیسا کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے بیل اور مچھلی کے بارے میں بتلایا کہ تمام زمینیں ان دونوں کے اوپر ہیں‘‘۔

(علامہ علی بن سلطان محمد القاری: مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح: مطبوعہ مکتبہ امدادیہ، ملتان: ج۲: ص۲۱۰) حضرت محقق علی قاری، علامہ بوصیری رحمہ اﷲ تعالیٰ کے قصیدہ بردہ شریف کے اس مصرع : وَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمٖ میں لکھتے ہیں :

’’لوح اور قلم کا علم حضور ﷺکے علم کی سطور میں سے ایک سطر اور حضور ﷺ کے علم کے سمندروں میں سے ایک دریا ہے‘‘۔

(علامہ علی بن سلطان محمد القاری : الزبدۃ العمدۃ : مطبوعہ سندھ (پاکستان) : ص۱۱۷)

شیخ عبدالحق محدّث دہلوی حضور ﷺ کے قول فَعَلِمْتُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کی شرح میں رقمطراز ہیں کہ :

’’اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کو تمام کلی اور جزی علوم حاصل ہیں اور آپ نے ان کا احاطہ کیا ہے‘‘۔

(شیخ عبدالحق محدّث دہلوی : اشعۃ اللمعات(فارسی): مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، سکھر:ج۱:ص۳۳۳)

علامہ آلوسی بغدادی رحمہ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ :

’’قیامت کا معاملہ مذکورہ امور میں سب سے زیادہ مخفی ہے، اور اﷲ تعالیٰ نے جو اپنے نبی مکرم ﷺ کو قیامت کے وقت پر مطلع فرمایا ہے تو اس میں انتہائی اجمال ہے، اگرچہ دوسروں کی نسبت سے حضور ﷺکا علم اتم اور اکمل ہے، اور رہا حضور ﷺ کا یہ فرمان’’ بُعِثْتُ اَنَا وَ السَّا عَۃُ کَھَا تَیْنِ‘‘ کہ میں اس حال میں مبعوث ہوا ہوں کہ میں قیامت (دو انگلیوں کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے) اس طرح قریب قریب ہیں، تو اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو وقتِ قیامت کا اجمالی علم ہے، اور میں نہیں سمجھتا کہ خواص ملائکہ کو وقتِ قیامت کا علم حضور ﷺ سے زیادہ ہو، اور میری اس بات کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے جسے حمیدی نے اپنی نوادر میں امام شعبی سے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نے حضرت جبریل علیہ السلام سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنے پروں کو حرکت دے کر کہا کہ ’’جس سے پوچھا جارہا ہے وہ سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ اس بارے میں دونوں کا علم برابر ہے، یعنی وقوعِ قیامت کے وقت کا کامل علم صرف اﷲ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور دوسروں کو اس نے اجمالی علم عطا فرمایا ہے جیسے کہ قیامت کی علامتوں کے بیان کرنے سے پتا چلتا ہے۔

جائز ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو وقوعِ قیامت کے وقت پر کامل طور پر مطلع کردیا گیا ہو، مگر اس طریق پر نہیں کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے علم کے مماثل ہو، تاہم اﷲ تعالیٰ نے کسی حکمت کے پیشِ نظر حضور ﷺ پر اس کا مخفی رکھنا واجب کردیا ہو، اور یہ علم حضور ﷺ کے خواص میں سے ہو، تاہم مجھے اس پر کوئی قطعی دلیل نہیں مل سکی‘‘۔

(علامہ سید محمود آلوسی ؛ تفسیر روح المعانی، مطبوعہ تہران: ج۲۱، ص۱۰۰)

قا ضی شوکا نی :

یاد رہے کہ قاضی شوکانی کی شخصیت وہ ہے جس پر برصغیر پاک وہند کے تمام غیر مقلددوں کا اعتماد اور سہارا ہے، قاضی موصوف اﷲ تعالیٰ کے فرمان ’’فَلَا یُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖ اَحَدًا‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

’’اگر یہ کہا جائے کہ جب دلیل قرآنی سے یہ ثابت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ رسولوں کو غیب کے جتنے علم پر چاہا مسلط فرمایا ہے، تو کیا رسول کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اس علمِ غیب میں سے جو اﷲ تعالیٰ نے اس پر ظاہر فرمایا ہے اپنی اُمت کے بعض افراد کو بتلا دے؟ تو میں کہتا ہوں ہاں! اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں، اور یہ چیز رسول اﷲ ﷺ سے ثابت ہے، جیسا کہ سنت مطہرہ کے عالم پر پوشیدہ نہیں ہے، (پھر اس کے بعد قاضی شوکانی نے ایسی متعدد احادیث کا ذکر کیا جن میں یہ بیان ہے کہ حضور ﷺ نے امور غیبیہ کی خبریں دی ہیں، پھر لکھتے ہیں کہ) جب یہ ثابت ہو گیا تو اس بات سے کوئی مانع اور رکاوٹ نہیںہے کہ اﷲ تعالیٰ اس اُمت کے بعض نیک بندوں کو غیب کی ایسی خبروں کے لئے خاص فرمالے جو اس نے اپنے رسول مکرم پر ظاہر فرمائی ہیں، اور اﷲ تعالیٰ کے رسول نے بھی بعض افرادِ اُمت کے لئے ظاہر کی ہیں اور اُنہوں نے دوسروں کو بتلائی ہیں، پس صالحین کی کرامات اسی قبیل سے ہیں، اور یہ تمام جناب رسالت کے واسطہ سے اﷲ تعالیٰ ہی کا فیضان ہے‘‘۔

( محمد بن علی شوکانی : فتح القدیر : مطبوعہ دارالمعرفۃ، بیروت : ج۵: ص۳۱۲)

علم غیب کے بارے میں دیوبندیوں کا عقیدہ

مولوی خلیل احمد انبیٹھوی لکھتے ہیں :

’’ہم زبان سے قائل اور قلب سے معتقد اس امر کے ہیں کہ سیّدنا رسول اﷲ ﷺ کو تمامی مخلوقات سے زیادہ وہ علوم عطا ہوئے ہیں جن کا ذات وصفات اور تشریعات یعنی احکامِ عملیہ و حکم نظریہ اور حقیقت ہائے حقّہ اور اسرارِ مخفیہ وغیرہ سے تعلق ہے جن تک مخلوق میں سے کوئی بھی نہیں پہنچ سکا، نہ مقرب فرشتہ اور نہ نبی رسول۔ اور بے شک آپ کو اولین وآخرین کاعلم عطا ہوا اور آپ پر حق تعالیٰ کا فضل عظیم ہے ، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کو زمانہ کی ہر آن میں حادث وواقع ہونے والے واقعات میں سے ہر ہر جزئی کی اطلاع اور علم ہو‘‘۔

پھر چند سطور کے بعد لکھتے ہیں :

’’ہاں کسی جزئی حادثہ ٔ حقیر کا حضرت کو اس لئے معلوم نہ ہونا کہ آپ نے اس کی جانب توجہ نہیں فرمائی آپ کے اعلم ہونے میں کسی قسم کا نقصان پیدا نہیں کرسکتا جب کہ ثابت ہو چکا کہ آپ ان شریف علوم میں جو آپ کے منصب اعلیٰ کے مناسب ہیں ساری مخلوق سے بڑھے ہوئے ہیں‘‘۔

(خلیل احمد انبیٹھوی : المہنّد : کتب خانہ رحیمیہ، دیوبند : ص۲۴۔۲۵)

ع حقیقت خود کو منوالیتی ہے مانی نہیں جاتی

دیکھئے ! مولوی صاحب موصوف بھی واشگاف الفاظ میں اعتراف کر گئے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کا علم شریف اگلی پچھلی تمام مخلوق سے بڑھ کر ہے، اور آپ( ﷺ) حقائق حقہ، اسرار مخفیہ( غیبیہ) کے عالم ہیں، اور بعض چھوٹے موٹے قسم کے واقعات اور حوادث کا علم نہ ہونا صرف عدم التفات کی وجہ سے ہوتا ہے, اس سے آپ کے اعلم ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

نوٹ : یاد رہے کہ یہ کتاب ’’المھنّد‘‘ وہ ہے جس پر دیوبند کے تمام بڑوں کا ایکا ہے ، یعنی اس کتاب پر تمام اکابر علماء دیوبند کا اتفاق ہے اور یہ بیس سے زیادہ دیوبندی علماء کی تصدیقات سے آراستہ ہے، جن میں سے بعض یہ ہیں : مولوی محمود حسن، اشرف علی تھانوی اور مفتی کفایت اﷲ وغیرہ۔

استدراک(ایک وہم کا ازالہ)

یہ تو معلوم ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ رسولوں اور خصوصاً سیّد الانبیاء والمرسلین حضور خاتم النبیین ﷺکو علم غیب عطا فرمایا ہے جیسے کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے کہ اس پر قرآن کریم کی بہت سی آیات ، احادیث مبارکہ اور اقوالِ سلف دلالت کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف اﷲ تعالیٰ نے اپنے غیر سے علم غیب کی نفی فرمائی، جیسے ان آیاتِ طیبات سے ظاہر ہوتا ہے جو ابھی ہم آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں ۔

مثلاً اﷲ جل شانہٗ نے فرمایا :

قُل لَّا یَعْلَمُ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَیْْبَ إِلَّا اللَّہُ (سورۃ نمل: آیت۶۵)

ترجمہ :تم فرمائو غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر اﷲ۔

وَلِلّہِ غَیْْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِلَیْْہِ یُرْجَعُ الأَمْرُ کُلُّہُ (سورۃ ھود: آیت ۱۲۳)

ترجمہ : اور اﷲ ہی کے لئے ہیں آسمانوں اور زمین کے غیب اور اسی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے۔

وَعِندَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُو (سورۃ الانعام : آیت ۵۹)

ترجمہ۔ اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی، انہیں وہی جانتا ہے۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں ۔

احاد یث

حدیث جبرئیل علیہ السلام میں ہے :

وقوع قیامت کا علم ان پانچ غیب کی چیزوں میں سے ہے جس کو اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ آیت تلاوت فرمائی اِنَّ اﷲَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ( قیامت کا علم اﷲ تعالیٰ ہی کے پاس ہے) ۔

(امام مسلم بن حجاج قشیری : صحیح مسلم : مطبوعہ دہلی:ج۱:ص ۲۹)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ عفیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :

اور جو شخص یہ کہے کہ حضور ﷺ کل ہونے والے امور کی خبر دیتے تھے تو اس نے اﷲ تعالیٰ پربہت بڑا جھوٹ باندھا کیونکہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ فرمادیجئے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ غیب ہے اس کو اﷲ تعالیٰ کے ماسوا کوئی نہیں جانتا۔

(امام مسلم بن حجاج قشیری : صحیح مسلم : مطبوعہ دہلی:ج۱:ص ۹۸)

کسی مومن کی یہ مجال نہیں کہ وہ علم غیب کے اثبات اور نفی کی آیات میں سے کسی کا بھی انکار کرے، اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم( اہل سنت وجماعت) تمام آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور ان(نفی واثبات کی) آیات کے درمیان حقیقت میں کوئی تناقض اور منافات نہیں ہے، کیونکہ اﷲ تعالیٰ کا کلام تناقض سے بری اور پاک ہے، اﷲ جل مجدہٗ فرماتا ہے :

وَلَوْ کَانَ مِنْ عِندِ غَیْْرِ اللّہِ لَوَجَدُواْ فِیْہِ اخْتِلاَفاً کَثِیْراً (سورۃ النساء : آیت ۸۲)

(اور اگر وہ قرآن اﷲ تعالیٰ کے غیر کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے)

مسئلہ علم غیب کے دلائل میں جو بظاہر منافات اور تناقض نظر آتا ہے اس کو دُور کرنے کے لئے علامہ سیّد یوسف ہاشم رفاعی ، جو علمائے کویت سے ہیں، فرماتے ہیں :

دیکھئے ! ہمارے رب تبارک وتعالیٰ نے ایک طرف تو دو ٹوک الفاظ میں مخلوق سے علم غیب کی نفی فرمادی ہے، ارشاد ہے : لَّا یَعْلَمُ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَیْْبَ إِلَّا اللَّہُ(اﷲ تعالیٰ کے سوا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں میں سے کوئی غیب نہیں جانتا) اور دوسری آیت میں اپنے برگزیدہ پیغمبروں کے لئے علم غیب ثابت کیا ہے، جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : اِلَّا مَنِ ارْتَضٰٰی مِنْ رَّسُوْلٍ (مگر اپنے پسندیدہ رسول کو) یہ تمام آیات برحق ہیں اور ان سب پر ایمان لانا واجب ہے، اور جو شخص علم غیب کی نفی اور اثبات پر مشتمل ان دو قسم کی آیات میں سے کسی آیت کا بھی انکار کرے وہ قرآن کریم کا منکر ہے، لہذا جو مطلقاً نفی کرتا ہے اور کسی طریق سے بھی علم غیب کو نہیں مانتا وہ آیات اثبات کا منکر ہے اور جو مطلقاً ثابت کرتا ہے اور کسی وجہ سے بھی نفی نہیں کرتا وہ آیات نفی کا منکر ہے، اور مومن وہ ہے جو تمام آیتوں پر ایمان رکھتا ہے اور تفریق کی روش نہیں اپناتا کہ بعض کو مانے اور بعض کو نہ مانے۔

( سید یوسف ہاشم رفاعی: ادلۃ اہل السنۃ والجماعۃ: مطبوعہ کویت ۱۹۸۴ء: ص۳۰۔۳۱)

علامہ ابن حجر مکی یوں رقمطراز ہیں :

’’اور ہم نے اس آیت کی تفسیر میں جو کچھ لکھا ہے تو علامہ نووی نے اپنے فتاویٰ میں اس کی تصریح فرمائی ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمام معلومات کا احاطہ کرنا اور غیب کو مستقل اور از خود ذاتی طور پر جاننا اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کے لئے ثابت نہیں ہے (مطلب یہ ہے کہ ایسا علم جو تمام معلومات کا احاطہ کرے اور بذاتِ خود مستقل طور پر ہو اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کے لئے ثابت نہیں ہے) اور رہے معجزات اور کرامات، تو وہ انہیں اﷲ تعالیٰ کے بتلانے سے حاصل ہوتے ہیں‘‘۔

(علامہ احمد بن حجر مکی: فتاویٰ حدیثیہ: مطبوعہ مصطفیٰ ابابی، مصر:ص۲۶۸)

نیز فرماتے ہیں کہ :

’’ یہ آیت اﷲ تعالیٰ کے اس قول مِنْھُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ کے منافی نہیں ہے، پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس میں اﷲ تعالیٰ نے صرف ان انبیاء کی خبر دی ہے جن کا بیان نبی اکرم ﷺ کے لئے کیا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد تمام انبیاء کرام کا بیان نبی اکرم ﷺ کے لئے کردیا گیا‘‘۔

(علامہ احمد بن حجر مکی: فتاویٰ حدیثیہ: مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر: ص۱۵۳)

علامہ شہاب الدین خفاجی فرماتے ہیں :

’’اور یہ ان آیتوں کے منافی نہیں ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیںکہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو غیب کا علم نہیںہے اور اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان ’’ لَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا اسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ ‘‘ میں بغیر واسطہ کے جاننے کی نفی ہے ، لیکن اﷲ تعالیٰ کے بتلانے سے حضور ﷺ کا غیب پر مطلع ہونا ایک امر متحقق ہے جس پر اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان شاہد ہے’’ ِ فَلَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْْبِہِ أَحَداً ، إِلَّا مَنِ ارْتَضَی مِن رَّسُول‘‘ وہ اپنے غیب خاص پر اپنے پسندیدہ رسولوں کے سوا کسی کو کامل اطلاع نہیں دیتا‘‘۔

’’ابن عطاء اﷲ اسکندری نے’’لطائف المنن‘‘ میں فرمایا کہ بندے کا نور فراست سے اﷲ تعالیٰ کے غیوب میں سے کسی غیب پرمطلع ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے، اس کی دلیل یہ حدیث ہے کہ ’’ اِتَّقُوْ فَرَاسَۃَ الْمُؤمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اﷲِ ‘‘ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اﷲ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے، اور یہی نبی اکرم ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب ہے : ’’میں اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے‘‘ کیونکہ جس کی آنکھ حق تعالیٰ ہو اس کا ْغیب پر اطلاع پانا کوئی مستبعد نہیں ہے‘‘۔

( علامہ شہاب الدین احمد خفا جی: نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض: مطبوعہ دارالفکر، بیروت: ج۳: ص۱۵۰)

اور یہی بات بعینہٖ علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں کہی ہے ۔

(علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی : شرح مواہب لدنیہ : ج۷ : ص۲۲۸۔ ۲۲۹)

علامہ محمود بن اسرائیل معروف بابن قاضی سماونہ فرماتے ہیں :

’’ان آیات کریمہ میںاس طرح تطبیق ہوسکتی ہے کہ جس علم کی نفی کی گئی ہے وہ مستقل علم ہے( جو از خود معلوم ہو اور بتلانے سے جو علم ہو اس کی نفی نہیںہے) یا یہ کہا جائے کہ نفی علم قطعی کی ہے نہ کہ ظنی کی، اور اس تائید اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا ، کیونکہ یہ غیب ہے ، اور فرشتوں نے اپنے گمان کے مطابق یا اﷲ تعالیٰ کے بتلانے سے اس کی خبر دی(یعنی یہ کہ بنی آدم زمین میں فساد پھیلائیں گے) لہذا اگر کوئی شخص مستقل طور پر جاننے کا دعویٰ کرے تو اسے کافر قرار دیا جانا چاہئے، اور اگر اس بناء پر دعویٰ کرے کہ اسے نیند یا بیداری میں کشف کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے تو اسے کافر نہیں کہیں گے، کیونکہ اس کے دعوے اورآیت میں کوئی مخالفت نہیں ہے جیسے کہ اس سے پہلے تطبیق کا بیان ہوا ہے‘‘۔

( علامہ محمود بن اسرائیل: جامع الفصولین: مطبوعہ المطبعۃ الکبریٰ المیریۃ، مصر: ج۲: ص۲۲۰)

ان تصریحات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ نفی ذاتی طور پر جاننے کی گئی ہے جو بلا واسطہ اور بغیر بتلانے کے ہو، لیکن اﷲ تعالیٰ کے بتلانے سے جو علم غیب حاصل ہو وہ ثابت ہے، اس کی نفی نہیں ہے۔

علامہ محمود آلوسی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’اوریہ بات جائز ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو ان پانچ امور غیبیہ میں سے کسی پر اطلاع دیدے اور اپنے خاص بندے کو اس کا کسی قدر علم عطا فرمادے، اور وہ علم جو صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے خاص ہے وہ ایسا علم ہے جو تمام احوال اور تفصیلات کو شامل ہے اور ہر قسم کی معلومات کا احاطہ کرتا ہے، جامع صغیر کی شرح مناوی کبیر میں حدیث بریدہ کی بحث میں لکھا ہے کہ خَمْسٌ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اﷲُ (پانچ چیزوں کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا) کا مطلب یہ ہے کہ ایسا علم جو تمام معلومات کو کامل طور پر محیط ہو اور ہر کلی اور ہر جزی کو شامل ہو وہ صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے ثابت ہے، اس کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اور یہ اس چیز کے منافی نہیں ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بعض مغیبات پر مطلع کردے یہاں تک کہ ان پانچ میں سے بھی بعض پر، کیونکہ یہ تو چند جزئیات ہیں، رہا معتزلہ کا انکار، تو محض ہٹ دھرمی اور سینہ زوری ہے(امام مناوی) ، ہمارے اس بیان سے ان احادیث میں تطبیق معلوم ہوگئی جو علم غیب کے اﷲ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہونے پر دلالت کرتی ہیں، اور جو اس کے خلاف پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً مغیبات سے متعلق نبی اکرم ﷺ کی بعض خبریں اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہیں، اس سلسلے میں شفاء شریف اور مواہب لدنیہ کا مطالعہ مفید رہے گا‘‘۔

(علامہ سیّد محمود آلوسی : تفسیر روح المعانی : مطبوعہ طہران : ج۲۱ : ص۱۰۰)

اﷲ تعالیٰ اور مخلوق کا علم مساوی نہیں

اس سے پہلے جو تفصیل گزری ہے اس سے حضور ﷺ کے علم کی وسعت کا کسی قدر اندازہ ہوتا ہے، اﷲ جل مجدہٗ نے حضور ﷺ کو تمام اولین وآخرین کا علم عطا فرمایا ہے یہاں تک کہ آپ نے ایک ہی مجلس میں کائنات کی پیدائش سے لے کر جنتیوں اور دوزخیوں کے اپنے اپنے ٹھکانوں میں جانے تک کی خبر دی، اس کے باوجود حضور کا علم اﷲ تعالیٰ کے علم کے مساوی نہیں ہے بلکہ تمام مخلوق کا علم بھی علم الٰہی کے برابر نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مساوات کا امکان ہی نہیں ہے۔

اﷲ تعالیٰ اور مخلوق کے علم میں مساوات کی تحقیق کرتے ہوئے امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں :

’’ ہماری اس تقریر سے ظاہروباہر ہوگیا ہے کہ تمام کائنات کا علم ایک طرف ہو تو کسی مسلمان کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزر سکتا کہ وہ علم الٰہی کے مساوی ہوسکتا ہے، کیا اندھوں کو نظر نہیں آتا کہ علم الٰہی اور علم رسول(بلکہ پوری کائنات) کے علم میں کتنی وجوہ سے فرق ہے؟‘‘

(۱) اﷲ تعالیٰ کا علم ذاتی اور مخلوق کا علم عطائی ہے۔

(۲) اﷲ تعالیٰ کے علم کا ثبوت ذاتِ باری تعالیٰ کے لئے ضروری ہے اور مخلوق کے لئے علم کا ثبوت ممکن ہے۔

(۳) اﷲ تعالیٰ کا علم ازلی ، سرمدی، قدیم، حقیقی ہے اور مخلوق کا علم حادث ہے کیونکہ تمام مخلوق حادث ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ صفت موصوف سے پہلے نہیں پائی جاسکتی۔

(۴) علم الٰہی غیر مخلوق ہے اور مخلوق کا علم مخلوق ہے۔

(۵) علمِ الٰہی غیر مقدور ہے اور مخلوق کا علم مقدور مقہور ہے۔

(۶) علمِ الٰہی واجب البقاء ہے اور مخلوق کا علم جائز الفناء ہے۔

(۷) علمِ الٰہی میں تغیر ممتنع ہے اور مخلوق کا علم تغیر پذیر ہے۔

(امام احمد رضا بریلوی : الدولۃ المکیۃ : مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی: ص۲۱۲)

مساوات کا وہم اسی شخص کو لاحق ہوسکتا ہے جو اﷲ تعالیٰ کے علم کی وسعتوں سے جاہل ہے ، حقیقت یہ ہے کہ تمام مخلوق کے علم کی نسبت اﷲ تعالیٰ کے علم سے وہ بھی نہیں ہے جو ایک قطرے کو ساتوں سمندروں سے ہے، اگر یہ بات کہی بھی جائے تو محض سمجھانے کے لئے ہوگی، کیونکہ قطرہ اور سمندر دونوں متناہی ہیں، ان کی باہمی نسبت، متناہی کی متناہی سے نسبت ہے، جب کہ اﷲ تعالیٰ اور مخلوق کے علم میں یہ نسبت نہیں ہے، کیونکہ مخلوق کاعلم متناہی اور اﷲ تعالیٰ کا علم غیر متناہی ہے، ان کے درمیان وہ نسبت ہے جو متناہی کو غیر متناہی سے ہے۔

حافظ ابو عبداﷲحاکم نیشا پوری ، حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

جب موسیٰ علیہ السلام کی خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو ایک پرندہ آیااور اس نے اپنی چونچ پانی میں ڈالی ، حضرت خضر علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے ، غور کیجئے کہ یہ پرندہ کیا کہہ رہا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا وہ کیا کہہ رہا ہے؟ حضرت خضر علیہ السلام نے بتایا کہ پرندہ یہ کہتا ہے کہ اے خضر علیہ السلام ! تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا علم اﷲ تعالیٰ کے علم کے سامنے ایسے ہی ہے جیسے میں نے اپنی چونچ کے ذریعے اس پانی سے کچھ حصہ لے لیا ہے۔

یہ حدیث امام مسلم اور بخاری کی شرائط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیاہے۔

( حافظ حاکم نیشاپوری: مستدرک حاکم : مطبوعہ دارالفکر، بیروت: ج۲: ص۳۶۹)

علامہ خفاجی، علامہ طیبی(شارح مشکوٰۃ) سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’اﷲ تعالیٰ کی معلومات کی کوئی انتہا نہیں ہے، آسمانوں اور زمین کے غیب اور جو کچھ فرشتے ظاہر کرتے ہیں اور جو کچھ چھپاتے ہیں، سب اﷲ تعالیٰ کے علم کا ایک قطرہ ہے‘‘۔

(علامہ شہاب الدین خفاجی: عنایۃ القاضی، طبع بیروت: ج۲: ص۱۲۹)

علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی نے بھی یہی تصریح فرمائی ہے۔

(علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی : حاشیہ تفسیر بیضاوی : مطبوعہ کوئٹہ : ص۳۰۱)

اﷲ تعالیٰ کے علم کی وسعت کو بیان کرتے ہوئے علامہ سیالکوٹی فرماتے ہیں :

’’مروی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک لاکھ قندیلیں پیدا فرمائیں اور انہیں عرش کے ساتھ معلق فرمایا(جن کی وسعت کا یہ عالم ہے )کہ تمام آسمان اور زمین اورجو کچھ ان میں ہے یہاں تک کہ جنت اور دوزخ سب کچھ ایک قندیل میں ہے، اور اﷲ تعالیٰ ہی جانے باقی قندیلوں میں کیا ہے، اور کعب الاحبار نے فرمایا کہ جہانوں کی تعداد کا شمار اﷲ ہی بہتر جانتا ہے وَ مَایَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوَ (تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا)‘‘۔

(علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی: حاشیہ تفسیر بیضاوی: مطبوعہ کوئٹہ: ص۵۹)

خلاصۂ کلام

اہل سنت وجماعت کا مسلک یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کو ماکان وما یکون کا علم تدریجاً عطا فرمایا ہے اور حضور ﷺ کا یہ علم جو ابتدائِ آفرینش سے لے کر جنتیوں اور دوزخیوں کے اپنی اپنی منزلوں میں داخل ہونے تک تمام ماکان ومایکون کو محیط ہے، جیسا کہ سابق ابحاث میں قرآن وحدیث اور اقوالِ ائمہ سے ثابت ومعلوم ہوا ہے، نزولِ قرآن کے ساتھ ساتھ اپنی ارتقائی منازل کو طے کرتا ہوا مکمل ہوا، اور جو اس کا انکار کرے اس پر لازم ہے کہ وہ دلیل قطعی سے ثابت کرے کے پورے قرآن کریم کے نازل ہو جانے کے بعد حضور ﷺ کو فلاں چیز کا علم نہیں ہے، امام اہلسنت حضرت محدّث امام احمد رضا قادری قندھاری ثم بریلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ کا یہی عقیدہ ومسلک ہے، اور اہل سنت وجماعت کے کثیر فقہائِ کرام، محدثین، مفسرین اور صوفیاء کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اس پر متفق ہیں۔

حضرت امام احمد رضا بریلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’ان تمام اجماعات کے بعد ہمارے علماء میں اختلاف ہوا کہ بیشمارعلوم غیب جو مولیٰ عزوجل نے اپنے محبوب اعظم ﷺ کو عطا فرمائے آیا وہ روزِ اوّل سے یومِ آخر تک تمام کائنات کو شامل ہیں جیسا کہ عموم آیات اور احادیث کا مفاد ہے ، یا ان میں تخصیص ہے، بہت اہل ظاہر جانب خصوص گئے ہیں ، کسی نے کہا متشابہات کا، کسی نے خمس کا، کثیر نے کہا ساعت کا، اور علماء باطن(صوفیاء کرام) اور ان کے اتباع سے بکثرت علمائِ ظاہر نے آیات واحادیث کو ان کے عموم پر رکھا، ماکان ومایکون(یعنی تخلیقِ کائنات کے آغاز سے لے کر قیامت تک کا علم) بمعنی مذکور میں از آنجا کہ غایت میں دخول وخروج دونوں محتمل ہیں، ساعت داخل ہو یا نہیں بہر حال یہ مجموعہ بھی علوم الٰہیہ سے ایک بعض خفیف ہے‘‘۔

اس کے بعد فرماتے ہیں :

یہ خاص مسئلہ جس طرح ہمارے علماء اہل سنت میں دائر(گردش کناں) ہے مسائلِ خلافیہ اشاعرہ اور ماتریدیہ کے مثل ہے کہ اصلاً محلِ لَوم (اور جائے ملامت) نہیں، ہاں! ہمارا مختار، قولِ اخیر ہے جو عام عرفائِ کرام اور بکثرت اعلام کا مسلک ہے، اور اس بارے میں بعض آیات واحادیث اور اقوالِ ائمہ، حضرت(سوال کرنے والے بزرگ) کو فقیر کے رسالے ’’انباء المصطفیٰ‘‘ میں ملیں گے، اور اللؤ لؤ المکنون فی علم البشیر ماکان ومایکون وغیرہ رسائلِ فقیر میں بحمد اﷲ تعالیٰ کثیرووافرہیں‘‘۔

(امام احمد رضا بریلوی : خالص الاعتقاد(اُردو) ؛ مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی، لاہور: ص۲۶۔۲۷ )

وجہِ اختلاف

اس مسئلہ میں اختلاف دراصل اس قسم کی باتوں سے واقع ہوا، جیسے مولوی اسمٰعیل دہلوی نے لکھ دیا کہ :

’’ جو کوئی یہ بات کہے کہ پیغمبرِ خدا یا کوئی امام یا کوئی بزرگ غیب کی بات جانتے تھے اور شریعت کے ادب سے منہ سے نہ کہتے تھے سو وہ بڑا جھوٹا ہے، بلکہ غیب کی بات اﷲ کے سوا کوئی جانتا ہی نہیں‘‘۔

(محمد اسماعیل دہلوی: تقویۃ الایمان(اُردو): مطبع فاروقی دہلی: ص۲۶)

اس نے ان تمام آیتوں اور حدیثوں کی طرف توجہ نہ کی جن میں سے بعض ہم نے سابقہ سطور میں ذکر کی ہیں۔

مولوی خلیل احمد انبیٹھوی نے لکھا ہے :

’’ الحاصل غور کرنا چاہئے کہ شیطان وملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے، شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر دوعالم کی وسعتِ علم کی کون سی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رَدّ کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے‘‘۔

(خلیل احمد انبیٹھوی : براہین قاطعہ : کتب خانہ امدادیہ، دیوبند: ص۵۵)

اس عبارت کا مفاد یہ ہے کہ شیطان کا علم(نعوذ باﷲ من ذٰلک) حضور نبی کریم ﷺ کے علم سے زیادہ ہے کیونکہ اس نے کہا ہے کہ شیطان کا علم روئے زمین کو محیط ہے اور یہ نص سے ثابت ہے، اور نبی کریم ﷺ کا علم ایسا نہیں ہے بلکہ حضور ﷺ کے لئے علم محیط ثابت کرنا شرک ہے اور نصوص کے خلاف ہے، کیسی عجیب بات ہے کہ ہم اگر حضور ﷺ کے لئے علم محیط ثابت کریں تو اس سے شرک لازم آئے اور مولوی صاحب موصوف اگر یہی علم ابلیس لعین کے لئے ثابت کریں تو نہ صرف شرک لازم نہیں آتا بلکہ وہ نص سے ثابت ہے(اﷲ تعالیٰ کی پناہ) اپنے اپنے نصیب کی بات ہے۔

مزید سنئے مولوی اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں :

’’ پھر یہ کہ آپ کی ذاتِ مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے ایسا علم تو زید وعمرو بلکہ ہر صبی ومجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لئے بھی حاصل ہے‘‘۔

(اشرف علی تھانوی : حفظ الایمان : کتب خانہ اعزازیہ، دیوبند : ص۸)

قارئین کرام ! یہ اور اس طرح کی دوسری بہت سی باتیں تھیں جو برصغیر ہند میں افتراق کا سبب بنیں، اور علماء اہل سنت وجماعت نبی کریم ﷺ کے حقوق، جن کا ادا کرنا ان پر واجب تھا، کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور ان نظریات کا بھر پور ردّ فرمایا، انہی علماء اہل سنت میں سے ایک امام احمد رضا قادری بریلوی بھی ہیں جنہوں نے عظمت شان الوہیت اور مقام مصطفیٰ ﷺ اور شان رسالت کے تحفظ کے لئے متعدد کتابیں تصنیف فرمائیں، اور شان الوہیت وشان رسالت میں تنقیص کرنے والوں کا ردّ بلیغ فرمایا، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ امام احمد رضا بریلوی سے بغض رکھتے ہیں اور اُن پر ایسے ایسے جھوٹ باندھتے ہیں جن سے ان کا دامن پاک ہے۔

اولیاء کرام ا ور علم غیب

امام ابن حجر مکی سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مومن غیب جانتا ہے تو کیا وہ اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے’’قُل لَّا یَعْلَمُ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَیْْبَ إِلَّا اللَّہُ ‘‘ (تم فرمائو کوئی غیب نہیں جانتے آسمانوں اور زمینوں میں سے مگر اﷲ) کافر ہوجائے گا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کے کلام میں احتمال کی وجہ سے اس کو مطلقاً کافر نہیں کہا جائے گا، چنانچہ علامہ امام ابن حجر لکھتے ہیں :

’’ جب کوئی شخص کہے کہ مومن غیب جانتاہے تو اس سے اس کی تفصیل معلوم کی جائے گی اور اگر وہ یہ کہے کہ اس قول سے میری مراد یہ ہے کہ بعض اولیاء اﷲ کو اﷲ تعالیٰ بعض مغیبات کا علم عطا فرماتا ہے تو اس کا یہ قول مقبول ہوگا، کیونکہ یہ بات عقلاً جائز ہے اور نقلاً ثابت اور واقع ہے، کیونکہ یہ اولیاء اﷲ کی ان کرامات میں سے ہے جو شمار سے باہر ہیں، پس بعض اولیاء اﷲ خطاب سے غیب کا علم رکھتے ہیں، بعض کے لئے پردہ اُٹھا دیا جاتا ہے اور بعض کے لئے لوحِ محفوظ منکشف کردی جاتی ہے اور وہ لوحِ محفوظ کو دیکھ لیتے ہیں‘‘۔

(مولانا روم فرماتے ہیں:

لـــــوحِ مــحفوظ اسـت پیشِ اولــیاء آنچہ محفوظ است محفوظ از خطا)

اس سلسلے میں حضرت خضر کے بارے میں قرآن پاک کا بیان کافی ہے، اس بنا پر کہ انہیں ولی مانا جائے جیسے کہ جمہور علماء اور تمام عرفاء سے منقول ہے، اگرچہ زیادہ صحیح یہی ہے کہ وہ نبی تھے، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے متعلق روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ محترمہ کے بارے میں خبر دی کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا، چنانچہ اسی طرح ہوا۔

(مؤطا کے حوالے سے یہ بات گزر چکی ہے کہ انہوں نے لڑکی کی خبر دی تھی اور لڑکی ہی پیدا ہوئی۔شرف قادری)

اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ہے کہ انہوں نے حضرت ساریہ اور ان کے لشکر کے بارے میں انکشاف کیا جب کہ ملک عجم میں تھے، اور حضرت امیر المؤمنین اس وقت مدینہ منورہ میں منبر پر جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو آپ نے یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل(اے ساریہ! پہاڑ کی طرف سے بچو) کہہ کر حضرت ساریہ کو دشمن کی کمین گاہوں سے بروقت خبردار کردیا جہاں سے وہ حملہ کرکے مسلمانوں کی بیخ کنی کرنا چاہتے تھے، اور حضور ﷺ نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ میری اُمت کے مُحَدَّث ہیں جنہیں الہام کیا جاتا ہے۔

اور رسالہ قشیریہ اور عوارف المعارف امام سہروردی وغیرہ کتابیں ایسے بے شمار واقعات سے بھری ہوئی ہیں جن میں اولیاء اﷲ کے بارے میں ایسے واقعات ہیں جن کا تعلق غیب سے ہے، مثلاً بعض اولیاء اﷲ کا یہ قول کہ میں کل ظہر کے وقت فوت ہو جاؤں گا اور ایسا ہی ہوا، اور جب دفن کرنے کے بعد ان کی دونوں آنکھیں کھولنے پر دفن کرنے والے نے پوچھا کہ کیا تم مرنے کے بعد زندہ ہوگئے ہو؟ تو اس اﷲ کے ولی نے جواب دیا کہ میں زندہ ہوں اور اﷲ تعالیٰ کا ہر محب زندہ ہوتا ہے‘‘۔ ؎

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق ثبت است برجریدۂ عالم دوامِ ما

قاضی شوکانی لکھتے ہیں(جیسا کہ پہلے بھی ان کا بیان گزرا ہے ) کہ :

’’ جب یہ ثابت ہوگیا تو اَب کوئی رکاوٹ اور مانع نہیں ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے بعض نیک بندوں کو بعض غیبوں کے بتلانے کے لئے خاص فرمالے جو اس نے اپنے رسول کے لئے ظاہر کئے ہیں اور رسول ﷺ نے اُمت کے بعض افراد کے لئے ظاہر فرمائے اور بعض افراد نے دوسرے حضرات کو یہ امور بتلائے، پس صالحین کی کرامات اسی قبیلے سے ہیں، اور سب بواسطۂ رسالت رب تعالیٰ کا فیض ہے‘‘۔

(محمد بن علی شوکانی : فتح القدیر : مطبوعہ دارالمعرفۃ : ج۵ : ص۳۱۲)

بلکہ یہ تو آج بھی ممکن ہے کہ اﷲ رب العزت حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے واسطے سے مختلف علوم کا فیضان اپنے بعض نیک بندوں پر فرمادے کیونکہ اس میں کوئی شرعی اور عقلی استحالہ نہیں ہے۔

امام فخر الدین رازی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’حضور ﷺ نے فرمایا میں اپنے رب کے پاس رات بسر کرتا ہوں، وہ مجھے کھلاتا پلاتا ہے، اس معنی کے اعتبار سے ہمارا عقیدہ ہے کہ جو شخص عالم غیب کے احوال کا زیادہ علم رکھتا ہے اس کا قلب زیادہ قوی ہوتا اور اس میں کمزوری کم ہوتی ہے اسی لئے حضرت علی بن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ الکریم نے فرمایا : واﷲ ! میں نے خیبر (کا دروازہ) قوت جسمانی سے نہیں بلکہ قوت ربانی سے اُکھاڑا تھا، اور یہ اس لئے تھا کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نظر اس وقت عالمِ اجسام کی طرف نہیں تھی اور فرشتے عالم کبریا کے انواروتجلیات آپ کے دل پر ڈال رہے تھے اور آپ کی روح کو ملکوتی ارواح کے جواہر کے ساتھ مشابہت سے قوت حاصل ہوگئی اور اس میں عالم قدس کی روشنی چمکنے لگی ، تو لازماً آپ ایسے ایسے کاموں پر قدرت رکھتے تھے جن پر دوسرا شخص قادر نہیں تھا۔

مزید لکھتے ہیں :

’’اور ایسے ہی جب بندہ طاعات پر پابندی اور مواظبت کرتا ہے تو اس مقام کو پالیتا ہے جس کے متعلق اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے میں اُس کے کان اور آنکھ بن جاتا ہوں، اور جب جلالِ خداوندی کا نور اُس کی آنکھ ہوجاتا ہے تو پھر وہ دُور ونزدیک کو یکساں سنتا ہے، اور جب اﷲ کا نور اس کی آنکھ بن جاتا ہے تو قریب اور بعید کو دیکھتا ہے، اور جب یہ نور اس بندے کے ہاتھ بن جاتا ہے تو وہ مشکل اور آسان سب میں تصرف پر قادر ہوجاتا ہے‘‘۔

( محمد بن عمر بن حسین رازی : تفسیر کبیر : مطبعہ بہیہ، مصر : ج۲۱ : ص۹۱)

حضرت ملا علی بن سلطان قاری رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’ جاننا چاہئے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ’’مومن کی فراست سے ڈرو اس لئے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے‘‘ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی’’ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَاتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ ‘‘ (اور اس میں متوسمین یعنی ارباب فراست کے لئے نشانیاں ہیں) ترمذی نے اسے ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے، موقع کی مناسبت سے یہاں اس بات پر آگاہ کرنا بھی ضروری ہے کہ فراست کی تین قسمیں ہیں، فراستِ ایمانیہ اور یہ اس نور کے سبب حاصل ہوتی ہے جسے اﷲ تعالیٰ بندے کے دل میں ڈال دیتا ہے، جس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ایسا امر ہے جو دل پر اس طرح تیزی سے وارد ہوتا ہے جیسے شیر اپنے شکار پر جست لگا کر حملہ آور ہو، اسی مناسبت سے اس کو فراست کہتے ہیں، اور یہ فراست قوتِ ایمانی کے مطابق قوی اور ضعیف ہوتی ہے، اور جس قدر کسی کا ایمان مظبوط ہوگا اسی قدر وہ فراست میں یکتا ہوگا، ابو سلیمان دارانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ فراست مکاشفۂ نفس اور معائنہ غیب سے عبارت ہے اور وہ ایمان کے مقامات میں سے ایک مقام ہے، انتہیٰ۔‘‘

(علی بن سلطان محمد قاری : شرح فقہ اکبر : مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر: ص۸۰)

شیخ مشائخ ہند حضرت شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی فرماتے ہیں :

’’ جب اس نفس کی ملکوتی قوت کا غلبہ ہوتا ہے اور حیوانی قوت مغلوب بلکہ فنا ہوجاتی ہے تو قلب میں یہ انقلاب برپا ہوتا ہے کہ وہ رُوح بن جاتا ہے اور مجاہدہ سے نجات پا لیتا ہے، چنانچہ دل کو قبض کے بغیر بسط اور بغیر قلق(اضطراب وپریشانی) کے اُلفت حاصل ہوتی ہے، بندے کی عقل سراپا کمال بن جاتی ہے اور عام طریقے سے ہٹ کر فراست، کشف اور الہام وغیرہ کے ذریعے کمالات اور علوم غیبیہ حاصل کرتی ہے‘‘۔(ترجمہ فارسی عبارت)

( شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی : ہمعات : مطبوعہ شاہ ولی اﷲ اکادمی، حیدر آباد(سندھ): ص۱۰۹)

نیز لکھتے ہیں :

’’ اور نقشبندیہ کے عجیب تصرفات ہیں مثلاً کسی مطلوب پر توجہ کا مرکوز کرنا اور اس مقصد کا توجہ کے موافق ہونا، طالب کے دل میں اثر کرنا، مریض سے بیماری دُور کرنا، گنہگار پر توبہ کا القا کرنا، لوگوں کے دلوں میں تصرف کرنا تاکہ وہ محبت واحترام کرنے لگیں، اور ان کی عقلوں میں کاروائی کرنا کہ ان میں بڑے بڑے واقعات نقش ہوجائیں، زندوں اور وصال فرمانے والے اہل قبور بزرگوں کی نسبت پر مطلع ہونا، لوگوں کے دلی خطرات اور دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات پر آگاہ ہونا، مستقبل کے واقعات کو منکشف کرنا اور آئندہ پیش آنے والے مصائب وبلیات کو دور کرنا وغیرذلک ، لیکن ہم بطور نمونہ چند باتوں کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں‘‘۔

(شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی: قول الجمیل : مطبوعہ کراچی: ص۱۰۲، ۱۰۳)

اور سب سے بڑھ کر عجیب بات وہ ہے جو شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی نے ’’تفہیمات‘‘ میں لکھی ہے، فرماتے ہیں :

’’ پس میں آج خاموشی کے باوجود گویا ہوں، خلاصۂ کلام یہ ہے کہ میں یکے بعد دیگرے اسرار وتجلیات اور علم ومعرفت کے میدانوں کو عبور کرتا ہوا اسم رحمن تک پہنچا جو کہ تمام تجلیات کا اصل اور مرکز ہے، سو میں اس(اسم رحمن) کے ذریعے بلند ترین مقام پر پہنچا، اور جب یہ اسم گرامی میری ذات میں جلوہ گر ہوا تو میں نے ہر علم، ہر مقام اور ہر وہ کمال دیکھا جو پہلے انسانی فرد کو حاصل ہوا، میری مراد صرف یہ آدم ہی نہیں بلکہ پہلے آدم سے لے کر اخیر تک جب دنیا فنا ہوجائے گی اور آسمان پھٹ جائیں گے، اِن تمام انسانوں نے جو جو علوم، کمالات اور مقامات اور مراتب حاص کئے، خواہ اِس دنیا میں حاصل ہوئے یا قبر میں، روز حساب یا جنت میں، میں نے ان تمام کمالات کا اس طرح احاطہ کرلیا کہ کوئی امر کسی امر سے مزاحم نہیں ہے،(یہاں تک کہا کہ) میں نے تمام افلاک، معادن، اشجار، بہائم، ملائکہ، جن، لوح وقلم، اسرافیل، تمام موجودات کے کمالات کا مکمل احاطہ کرلیا۔

(پھر یہاں تک فرمایا) پس جس نے مجھے جانچا پرکھا اس نے میرے لئے کوئی کمال نہیں پایا بلکہ میں خود کمال ہوں اور مجھ میں کمال ہے میرے ہاتھ، پائوں، چہرہ اور سینہ سب کمال ہی تو ہیں، میں اپنے کمال کے مطابق قبر میں داخل ہوا اور میں ہرکمال کو اپنے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھنے کا منتظر ہوں، شاید میرا وجود قیامت ہے جو کمالات کے لئے قائم ہوئی ہے، اور ہمیں ایسے اسرارورموز معلوم ہیں جنہیں ہم بیان کرنے کے نہیں، میں کہتا ہوں : ؎

وَعِنْدِیْعُلُوْمٌ لَّّ یَکَادُ یُحِیْطُھَا سَمَائٌ وَلَا بَرٌّ وَّ بَحْرٌ وَّ سَاحِلٗ وَلٰکِنَّ اَبْنَائَ الزَّمَانِ وَ جَدْتُّھُمْ تُساوِیْ لَدَ یْھِمْ عَاقِلٌ ثُمَّ غَافِلٗ

(اور میرے پاس اتنے علوم ہیں کہ آسمان، خشکی، سمندر اور کوئی ساحل ان کا احاطہ نہیں کرسکتا، لیکن میں نے اہل زمانہ کو ایسا پایا کہ ان کے نزدیک عالم اور جاہل برابر ہیں)

(شاہ ولی اﷲ دہلوی : تفہیمات : حیدر آباد، سندھ : ج۲: ص۹۸۔ ۹۰)

ہاں ! جو لوگ اولیاء بلکہ انبیاء کرام علیہم السلام کے علوم میں تنقیص کرتے رہتے ہیں، کہاں ہیں؟ ہم پوچھتے ہیں کہ وہ حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی پرکیا حکم لگائیں گے؟ اُنہوں نے اپنی ذات کے لئے ایسے علم کا دعویٰ کیا ہے جو تمام اشیاء کو احاطۂ تامہ کے ساتھ محیط ہے، اگر اس کے باوجود شاہ ولی شاہ صاحب تمہارے نزدیک موحد ہیں تو پھر دریافت طلب امر یہ ہے کہ (اس طرح کا علم) اگر امام احمد رضا بریلوی اور ان کے پیروکار بلکہ تمام علمائے اسلام حضور نبی کریم ﷺ کے لئے ماکان ومایکون کا علم ثابت کرتے ہیں(اور وہ بھی مستقل اور ذاتی نہیں بلکہ) اﷲ تعالیٰ کے بتلانے سے، تو انہیں کیوں مشرک قرار دیا جاتا ہے؟

شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی وہ شخصیت ہیں جن کے علم وفضل اور بزرگی کے علماء اہل سنت، دیوبندی اور لامذہبی(یعنی غیر مقلدین) سبھی معترف ہیں، شاہ اسماعیل دہلوی ان کے متعلق لکھتے ہیں :

’’ قبلۂ ارباب تحقیق اور کعبۂ اصحابِ تدقیق، میری مراد حضرت شاہ ولی اﷲ قدس سرہٗ سے ہے‘‘۔

(محمد اسماعیل دہلوی : صراط مستقیم(فارسی): مکتبہ سلفیہ، لاہور: ص۱۱)

نیز لکھتے ہیں :

’’ قدوۃ الاولیاء اور زبدۂ ارباب صفاء یعنی حضرت شاہ ولی اﷲ‘‘۔

(محمد اسماعیل دہلوی : صراط مستقیم(فارسی): مکتبہ سلفیہ، لاہور: ص۱۴)

اَب علم غیب کے متعلق سراج الہند شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی کا بیان بھی پڑھ لیجئے، وہ فرماتے ہیں :

’’موجوداتِ نفس الامر یہ پر اطلاع خواہ وہ لوحِ محفوظ کے نقوش کا مطالعہ کرنے سے حاصل ہو یا اس کے بغیر، بہر صورت اﷲ تعالیٰ کے ولیوں کو حاصل ہے، اور لوحِ محفوظ کے نقوش کا مطالعہ بعض اولیاء کرام سے تواتر کے ساتھ منقول ہے‘‘۔ (ملخصاً)

(شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی : تفسیر فتح العزیز: ج تبارک الذی: طبع دہلی: ص۲۶)

برصغیر پاک وہند کے دیوبندیوں اور لامذہبوں(غیر مقلدوں) کے امام شاہ اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں :

’’ اور اس طرح جب پارسا لوگوں کے قلوب ماسویٰ اﷲ سے منہ پھیر لیتے ہیں اور غفلت کے زنگ سے پاک صاف ہوجاتے ہیں تو ان کی مثال آئینوں کی طرح ہوتی ہے، مثلاً جب کوئی شئے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہِ اقدس میں مقدر ہوتی ہے تو اسے اکثر صالحین واقع ہونے سے پہلے ہی نیند یا بیداری میں دیکھ لیتے ہیں‘‘۔

( محمد اسماعیل دہلوی : صراط مستقیم(فارسی) : مطبوعہ مکتبہ سلفیہ، لاہور: ص۳۷)

مولوی انور شاہ کشمیری دیوبندی لکھتے ہیں :

’’ پھر جاننا چاہئے کہ اولیاء کرام جن چیزوں کو اس دنیا میں موجود ہونے سے پہلے ہی دیکھ لیتے ہیں ان اشیاء کا بھی ایک قسم کا وجود ہوتا ہے، جیسے حضرت بایزید بسطامی ایک مدرسہ کے پاس سے گزررہے تھے اور ہوا جھونکا آیا تو فرمایا اس ہوا میں مجھے اﷲ تعالیٰ کے کامل بندے کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، چنانچہ وہاں سے شیخ ابوالحسن خرقانی پیدا ہوئے، اور جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ! میں یمن سے اﷲ تعالیٰ کی خوشبو پاتا ہوں، چنانچہ وہاں سے حضرت اویس قرنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے‘‘۔

( محمد انور شاہ کشمیری : فیض الباری : مطبعہ حجازی، قاہرہ: ج۱: ص۱۸۲)

ایک منصف مزاج قاری سے اُمید ہے کہ وہ ان نصوص کو دیکھنے کے بعد جو آیاتِ مبارکہ، احادیث طیبہ اور اہل سنت اور دیوبندیوں غیر مقلدوں کے اماموں کے اقوال سے پیش کی گئیں، یہ فیصلہ کرے کہ امام احمد رضا بریلوی علم غیب کے مسئلہ میں کوئی الگ اور منفرد رائے نہیں رکھتے بلکہ ان کی دلیل قرآن وحدیث اور بڑے بڑے جلیل القدر صوفیاء کرام، فقہائے عظام، محدثین اور مفسرین کی تصریحات ہیں۔

احسان الٰہی ظہیر نے جو اپنی کتاب(البریلویہ) میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ امام احمد رضاکی ایجاد کردہ بدعت ہے اور وہ اس میں منفرد ہیں، قارئین نے خود فیصلہ کرلیا ہوگا کہ کیسا صریح بہتان ہے اور وہ شخص انصاف کی حدوں کو کس طرح پھلانگ گیا۔

حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

’’ میں علم کا شہر ہوںاور ابوبکر اس کی بنیاد ہیں، عمر اس کی چار دیواری ہیں، عثمان اس کی چھت ہیں، اور علی اس کا دروازہ ہیں، ان چاروں(خلفائے راشدین علیہم الرضوان) کے حق میں کلمہ خیر ہی کہو‘‘۔

(حافظ شیرویہ بن شہردار دیلمی: فردوس الاخبار: مطبوعہ بیروت: ج۱: ص۷۶)