Skip to content

روحِ اعظمﷺ کی کائنات میں جلوہ گری

ردِّ بدمذہبعقائدِاہلسنت

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

ہدیہ سپاس وتشکّر

مسئلہ حاضر وناظر کا تعلق، کشف وشہود سے ہے، یہ مسئلہ علمی بھی ہے اور روحانی بھی، پیش نظر مقالہ میں راقم نے جہاں قرآن وحدیث سے دلائل پیش کئے ہیں، وہاں مستند علماء اُمت اور ارباب معرفت کے ارشادات کا حوالہ بھی دیا ہے، مخالفین کے اقوال بھی بطورِ تائید نقل کئے ہیں تاکہ اختلاف کی خلیج ختم ہو اور اتفاق کی راہ ہموار ہو۔

ابتداً میرا خیال تھا کہ اس موضوع پر زیادہ مواد نہیں ملے گا، لیکن جوں جوں مطالعہ کرتا گیا، یہ انکشاف باعث حیرت بنتا گیا کہ اس موضوع پر اتنا زیادہ مواد ہے کہ اسے سمیٹنا مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ مقالہ کسی قدر طویل ہوگیا، مزید کوشش کی جائے تو اس عنوان پر ایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے۔

یہ مقالہ عربی اور اُردو میں لکھا گیا ہے تاکہ اپنا موقف وسیع طور پر علمی دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے، عربی مقالے کا عنوان ہے :

اَلْحَبِیْبُ فِیْ رِحَابِ الْحَبِیْبِ حَاضِرٌ وَّ شَاھِدٌ عَلیٰ اَعْمَالِ الْاُمَّۃِ

یاد رہے کہ یہ مقالہ احسان الٰہی ظہیر کی کتاب ’’البریلویۃ‘‘ کی الزام تراشی کے ازالے کے لئے لکھا گیا ہے، آپ دیکھیں گے کہ اِن کے شرک اور بدعت کے فتووں کی زد میں ملتِ اسلامیہ کے کتنے اکابر ائمہ آرہے ہیں۔

یوں تو راقم نے اس مقالے میں بہت سی مستند کتابوں سے استفادہ کیا ہے جیسے کہ آپ مطالعہ کے دوران ملاحظہ فرمائیں گے، درج ذیل سطور میں چند ان کتابوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، جن میں ہمارے موضوع پر خصوصی طور پر گفتگو کی گئی ہے یا جو اسی موضوع پر لکھی گئی ہیں، جن حضرات کی تصانیف عالیہ سے راقم نے استفادہ کیا ہے، اﷲ تبارک وتعالیٰ ان سب کو اجر جمیل عطا فرمائے۔

۱۔عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی، امام، علامہ: اَلْمُنْجَلِیْ فِیْ تَطَوُّرِ الْوَلِیْ ۔

۲۔ عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی، امام، علامہ:تَنْوِیْرُالْحِلَکِ فِیْ رُؤْیَۃِ النَّبِیِّ وَالْمَلَکَ۔

۳۔ علی نورالدین حلبی، علامہ(صاحبِ سیرت حلبیہ) : تعریف اہل الاسلام والایمان بان محمدا صلی اﷲ علیہ وسلم لا یخلو منہ مکان ولا زمان ۔ (جواہر البحار، عربی: ج۲)

۴۔ محمود آلوسی، علامہ، سیّد : تفسیر روح المعانی:ج۲۳۔۲۲۔۱۷

۵۔ احمد سعید کاظمی، علامہ سیّد : تسکین الخواطر(مکتبہ حامدیہ، لاہور)

۶۔ عطا محمد چشتی گولڑوی، ملک المدرسین : القول السدید فی تحقیق الشاہد والشہید(قلمی)

۷۔ محمد منظور احمد فیضی، علامہ : مقام رسول (مکتبہ محمدیہ، احمد پور شرقیہ)

۸۔ محمد امین، مفتی علامہ : الیوقیت والجواہر اقوال الاکابر فی مسئلۃ الحاضر والناظر(مکتبہ سلطانیہ، محمد پورہ، فیصل آباد)

۹۔ عبدالمنان اعظمی، بحر العلوم مفتی : الشاہد(حق اکیڈمی، مبارکپور، انڈیا)

۱۰۔ محمد عنایت اﷲ قادری، مناظر اہل سنت : مسئلہ حاضر وناظر(سانگلہ ہل)

اﷲ تعالیٰ ان تمام حضرات کو دُنیا وآخرت میں بہترین اجر عطا فرمائے، جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں حضورسیّد عالم، شاہد اعظم ﷺ کی بارگاہِ ناز میں گلہائے عقیدت ونیاز پیش کئے ہیں۔

۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۴ھ / ۹؍ اکتوبر ۱۹۹۳ء محمد عبدالحکیم شرف قادری نقشبندی

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ العلی القدیر، السمیع البصیر، الفعال لما یرید واکمل الصلوٰت واجمل التحیات علیٰ خیر خلق اﷲ وافضل رسلہ سیّدنا ومولانا محمد المصطفیٰ الذی ارسلہٗ ربہ رحمۃ للعالمین وبعثہ شاھدا وّ مبشرا ونذیراوّ داعیاً الی اﷲ باذنہٖ وسراجاً منیرا وعلیٰ ایلہٖ واصحابہٖ واولیاء اُمتہٖ ذوی الکرامات والبرکات السّامیۃ ۔

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو دو قوتیں عطا فرمائی ہیں :

۱۔ قوۃِ نظریہ ، اس کا کمال یہ ہے کہ حقائق کو اس طرح پہچانا جائے جس طرح وہ واقع ہیں۔

۲۔ قوۃ عملیہ ، اس کا کمال یہ ہے کہ افعال کو اس طرح ادا کیاجائے جس طرح انہیں ادا کرنے کا حق ہے، دین اور فلسفہ دونوں کا مقصد یہ ہے کہ ان دونوں قوتوں کی تکمیل کرکے دنیا وآخرت کی سعادت حاصل کی جائے اور مبداء ومعاد (خالقِ کائنات اور آخرت) کی معرفت حاصل کی جائے، فرق یہ ہے کہ عقل دین میں ہدایتِ ربانی کی پیروی کرتی ہے اور فلسفہ میں خواہش نفس کی ۔

مبداء ومعاد کی معرفت کے دو طریقے ہیں :

۱۔ نظرو استدلال

۲۔ ریاضت ومجاہدہ

پہلے طریقے کو اختیار کرنے والے کسی ملت اور دین کے پیروکار ہیں، تو انہیں متکلمین کہا جاتا ہے ، اور اگر کسی ملت کے پیرو کار نہیں، تو انہیں حکماء مشائیہ کہا جاتا ہے جیسے ارسطو، فارابی اور ابن سینا، دوسرے طریقے پر چلنے والے اگر شریعت کے موافق ہیں، تو وہ صوفیہ ہیں، ورنہ وہ حکماء اشراقیہ ہیں جیسے افلاطون اور شیخ شہاب الدین مقتول۔

( عبدالنبی احمد نگری، القاضی: دستور العلماء، طبع بیروت، ج۱، ص۱۱۷)

افلاطون کے شاگرد تین طرح کے تھے :

۱۔ اشراقیہ : یہ وہ لوگ تھے، جنہوں نے اپنی عقلوں کو نفسانی کثافتوں سے اس قدر پاک کرلیا تھا کہ وہ الفاظ اور اشارات کے بغیر براہِ راست افلاطون کے دماغ سے انوارِ حکمت حاصل کرتے تھے۔ (جیسے کہ آج کی اصطلاح میں ٹیلی پیتھی کہا جاتا ہے)

۲۔ رواقیہ : وہ شاگرد تھے جو افلاطون کی مجلس مین حاضر ہوکر اس سے حکمت کا درس لیتے تھے اور اس کے الفاظ اور اشارات سے استفادہ کرتے تھے۔

۳۔ مشائیہ : جب افلاطون سوار ہوکر چلتا تو یہ لوگ اس کے ہمرکاب چلتے اور حکمت کا استفادہ کرتے تھے۔

اس تفصیل کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو جو قوتِ نظریہ عطا فرمائی ہے تو اسے فکرو نظر سے جلا ملتی ہے اور ریاضت ومجاہدہ سے اس کے ادراکات میں ترقی واقع ہوتی ہے، حقائق واقعیہ اس پر منکشف ہوتی ہیں، اس میں شریعت کی پیروی کرنے یا نہ کرنے والے کی کوئی تخصیص نہیں، البتہ حقائقِ واقعیہ تک صحیح رسائی ان ہی لوگوں کا حصہ ہے، جو وحی الٰہی اور سنت نبوی کی اتباع کرتے ہیں ، ان کے لئے عالم غیب کا دروازہ کھل جاتا ہے، آئیندہ ہونے والے واقعات ان پر ظاہر کردئیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ نیند بلکہ بیداری میں بھی ملائکہ اور ارواحِ انبیاء کرام علیہم السلام کی زیارت کا شرف حاصل کرتے ہیں اور ان سے استفادہ کرتے ہیں ۔

امام حجۃ الاسلام ابو حامد غزالی رحمۃاﷲ تعالیٰ علیہ علوم دینیہ حاصل کرنے کے بعد طریقت کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ صفیاء کرام ہی اﷲ تعالیٰ کے راستے پر چلنے والے ہیں، ان کی سیرت، بہترین سیرت،ان کا راستہ ، صحیح ترین راستہ، اور ان کے اخلاقط ، پاکیزہ ترین اخلاق ہیں … ان کے ظاہروباطن کی تمام حرکات وسکنات، مشکوٰۃ نبوت کے نور سے مستفاد ہیں اور روئے زمین پر نور نبوت کے علاوہ کوئی نور نہیں ہے، جس سے روشنی حاصل کی جاسکے، اس کے بعد فرماتے ہیں :

(اور اسی نکتہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں)

’’صوفیاء کرام ہی ہیں، جو بیداری میں ملائکہ اور ارواحِ انبیاء کی زیارت کرتے ہیں، ان کی آوازیں سنتے ہیں اور ان سے فوائد حاصل کرتے ہیں، بھر حال، صورتوں اور مثالوں کی زیارت سے ترقی کرکے اِن مقامات تک پہنچتا ہے، جن کے بیان کرنے سے زبان قاصر ہے‘‘۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی : الحاوی للفتاویٰ، طبع بیروت، ج۲، ص۲۵۷)

(امام محمد بن محمد غزالی : المنقذ من الضلال : طبع ترکیہ: ص۳۲۔۳۳)

راقم نے اس موضوع کے مناسب چند حوالے ’’مدینۃ العلم‘‘ کے آخرمیں نقل کئے ہیں، موقع کی مناسبت سے اس جگہ ان کا نقل کردینا موجبِ بصیرت واطمینان ہوگا۔

امام فخرالدین رازی رحمۃ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ! ہم اپنے رب کے پاس رات گزارتے ہیں، وہ ہمیں کھلاتا اور پلاتا ہے ، اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جس شخص کو عالم غیب کے احوال کا زیادہ علم ہوگا، اس کے دل میں کمزوری کم اور طاقت زیادہ ہوگی … اسی طرح جب بندہ طاعتوں پر مداومت کرتا ہے تو اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اُس کے کان اور آنکھیں ہوتا ہوں ، تو جب اﷲ تعالیٰ کے جلال کا نور کان بن جائے تو وہ قریب اور دُور سے سنے گا اور جب وہ نور بینائی بن جائے تو قریب اور دُور کو دیکھے گا‘‘۔

( امام محمد بن عمر بن حسین رازی: تفسیر کبیر، المطبعۃ البہیۃ، مصر: ج۲۱: ص۹۱)

ملا علی قاری رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا’’مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اﷲ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے‘‘، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی : اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَاتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِینَ (بیشک اس فرست والوں کے لئے نشانیاں ہیں) ، یہ حدیث امام ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔

اس جگہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ فراست کی تین قسمیں ہیں : پہلی صفت فراستِ ایمانیہ ہے، اس کا سبب وہ نور ہے جو اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کے دل میں ڈال دیتا ہے، اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک خیال اس تیزی سے دل پر وارد ہوتا ہے جیسے شیر اپنے شکار پر جھپٹتا ہے، فراست فریسۃٌ ہی سے مشتق ہے، یہ فراست ایمان کی قوت کے مطابق ہوگی، جس کا ایمان زیادہ قوی ہوگا، اُس کی فراست بھی تیز ہوگی، حضرت ابو سلیمان دارانی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : فراست نفس کو حاصل ہونے والا کشف اور غیب کا مشاہدہ ہے اور یہ ایمان کے مقامات میں سے ہے‘‘۔

(علامہ ملا علی بن سلطان محمد قاری: شرح ا لفقہ الاکبر: مصطفیٰ البابی مصر: ص۸۰)

شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی اپنے عروج وکمال اور علوم کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’میں ایک تجلی کے بعد دوسری تجلی کو عبور کرتے ہوئے اصلِ تجلیات اسمِ رحمن تک پہنچ گیا، جب اسمِ رحمن میری ذات میں اُترا اور جلوہ گر ہو، تو میں نے ہر مقام ، ہرعلم، ہرکمال کو دیکھا جو پہلے انسانی فرد کو حاصل ہوا، میں اس آدم کی بات نہیں کرتا، بلکہ پہلے آدم سے لے کر آخر زمانہ تک پائے جانے والے آخری انسان تک جتنے علوم وکمالات حاصل ہوئے، خواہ اس دنیا میں یا قبر میں، روزِ حساب یا جنت میں، میں نے ان سب کا احاطہ کرلیا کہ ان میں کوئی تصادم نہیں(اس کے بعد فرماتے ہیں) میں نے افلاک، معادن، درختوں، چارپایوں، فرشتوں، جنوں لوح وقلم، حضرت اسرافیل اور جو کچھ موجود ہو چکا ہے، سب کے کمالات کا کامل اور مکمل احاطہ کرلیا‘‘۔

(شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی: التفہیمات: حیدر آباد سندھ:ج۲:ص۸۹۔۹۰)

قطب زمانہ حضرت عبدالعزیز دباغ رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’ایک ولی مغرب میں ہو اور وہ سوڈان یا بصرہ کے ولی سے کلام کرنا چاہے تو تُو اسے دیکھے گا کہ وہ اس طرح کلام کرے گاجیسے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کلام کررہا ہو، اور جب تیسرا ان سے کلام کرنا چاہے گا، تو وہ بھی کلام کرے گا … اسی طرح چوتھا، یہاں تک کہ تمام اولیاء کرام کی جماعت کو دیکھو گے، جن میں سے ہر ایک الگ خطے میں ہے اور وہ اس طرح گفتگو کررہے ہوں گے، جیسے ایک جگہ اکٹھے ہوں‘‘۔

(علامہ احمد بن مبارک سلجماسی : الابریز : مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر: ص۱۷)

غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے امام ، شاہ محمد اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں :

’’اسی طرح جب اولیاء کرام کے دل غفلت کے زنگ اور اﷲ تعالیٰ کے ماسوا کی طرف سے پاک ہوجاتے ہیں ، تو حظیرۃ القدس(عالم بالا) کے لئے آئینوں کی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں، مثلاً جب حظیرۃ القدس میں کسی چیز کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اکثر صالحین اس کے واقع ہونے سے پہلے اسے نیند یا بیداری میں دیکھ لیتے ہیں‘‘۔

(محمد اسماعیل دہلوی: صراط مستقیم، فارسی: مکتبہ سلفیہ لاہور:ص۳۷)

دیوبندی مکتب فکر کے علامہ انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں :

’’اولیاء کرام اس جہان میں اشیاء کے موجود ہونے سے پہلے جو کچھ دیکھتے ہیں، ان کے لئے بھی ایک قسم کا وجود ہے، جیسے کہ حضرت ابویزید بسطامی رحمہ اﷲ تعالیٰ کا ایک مدرسہ کے پاس سے گزر ہوا، ہوا کا ایک جھونکا آیا، تو فرمایا: میں اﷲ تعالیٰ کے ایک بندے کی خوشبو محسوس کررہا ہوں، تو وہاں سے حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی پیدا ہوئے اور جیسے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ! ہم یمن سے اﷲ تعالیٰ(کے بندے کی) خوشبو محسوس کرتے ہیں، تو وہاں سے حضرت اویس قرنی پیدا ہوئے‘‘۔

(محمد انور شاہ کشمیری: فیض الباری: مطبوعہ قاہرہ:ج۱:ص۱۸۲)

حافظ شیرازی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

آئینۂ سکندر ، جام جم است بنگر تابر تو عرضہ گر دداحوال ملک دارا

(تیرے پاس آئینہ سکندر اور جام جمشید موجود ہے، اس میں تو دیکھ تو سہی، تجھ پر دارا کے ملک کے حالات منکشف ہوجائیں گے)

اس مقام پر پہنچ کر چند لمحوں کے لئے آپ کو ایک بار پھر پیچھے لے جانا چاہتا ہوں، ترمذی شریف کی حدیث کے مطابق بندۂ مومن(ولی) اﷲ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے اور امام رازی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں، کہ جب اﷲ تعالیٰ کے جلال کا نور کسی کی بینائی بن جائے تو وہ قریب وبعید کو دیکھتا ہے، بقول محمد اسماعیل دہلوی، جب دل کا زنگ دور ہوجائے اور اﷲ تعالیٰ کے ماسوا کی طرف سے بالکل پاک ہوجائے، تو وہ حظیرۃ القدس(عالم بالا) کے لئے آئینہ کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے اور آئندہ پیدا ہونے والی چیزوں کی جھلک اس میں دکھائی دیتی ہے، یہی بات انور شاہ کشمیری نے بھی کہی ہے، شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے تو خود اپنے بارے میں میں بیان کیا: کہ میں یکے بعد دیگرے تجلیات کو طے کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچا کہ جو کچھ معرضِ وجود میں آچکا ہے، اس میں سے ہر ایک کے کمالات کا میں نے احاطہ طے کرلیا ہے۔

اَب آپ خود سوچئے کہ جب ایک ولی کی روحانی اور علمی پرواز کا یہ عالم ہے اور وسعت مشاہدہ کا یہ حال ہے تو اولیاء کاملین، شہداء، صدیقین، صحابہ کرام، اہل بیت عظام، پھر انبیاء کرام اور خصوصاً انبیاء ورُسل کے امام اور تاجدار ﷺ کے علم اور مشاہدہ کی وسعت کا کیا عالم ہوگا؟

سرکار دو عالم ﷺ کی قوت مشا ہدہ

اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم ﷺکو دیگر قوتوں کی طرح قوت مشاہدہ بھی بے مثل عطا فرمائی ہے، حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ؎

لہ ھمم لا منتھیٰ لکبار ھا وھمتہ الصغریٰ اجل من الدھر لہ راحۃ لوان معشار جودھا علی البرکان البر اندی من البحر (علی الاقشہری بن عثمان : مختصر الدسوقی علی مختصر المعانی: طبع قم ایران: ص۲۹۹)

’’نبی اکرم ﷺ کی بڑی ہمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں ہے، آپ کی چھوٹی ہمت بھی زمانے بھر سے بلندوبالا ہے‘‘۔

آپ کے دست اقدس کی سخاوت کا دسواں حصہ بھی خشکی پر تقسیم کردیا جائے تو خشکی سخاوت میں سمندر سے بڑھ جائے۔

آج سائنسی ترقی کا یہ عالم ہے کہ ہزاروں میل دور ہونے والی نقل وحرکت ٹیلی ویژن کی سکرین پر دیکھی جاسکتی ہے اور آوازیں سنی جا سکتی ہیں، اطلاعات نشر کی جاتی ہیں۔

کیا اﷲ تعالیٰ کی قدرت میں یہ بات نہیں ہے؟ کہ تحت الثریٰ سے لے کر عرش تک تمام مخلوقات اپنے حبیب مکرم ﷺ پر منکشف کردے، اﷲ تعالیٰ کے لئے جھوٹ کا امکان ثابت کرنے کے لئے آیۂ کریمہ ’’ان اﷲ علی کل شیئٍ قدیر‘‘ سے استدلال کرنے والوں کو اس وقت یہ آیت مبارکہ کیوں بھول جاتی ہے ؟

چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں:

۱۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز خود پڑھائی، پھر منبر شریف پر جلوہ افروز ہوکر نماز اور رکوع کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا : اِنِّیْ لَاَرَاکُمْ مِنْ وَّرَائِ کَمَااَرَاکُمْ ۔

’’بے شک ہم تمہیں پیچھے سے دیکھتے ہیں جیسے کہ تمہیں(آگے سے) دیکھتے ہیں‘‘۔

(امام محمد بن اسماعیل بخاری : صحیح بخاری شریف: رشیدیہ دہلی: ج۱: ص۵۹)

۲۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پچھلی صفوں میں ایک شخص نے صحیح طرح نماز ادا نہیں کی، سلام پھیرنے کے بعد رسول اﷲ ﷺ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے فلاں! کیا تو اﷲ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا؟ تو نہیں دیکھتا کہ نماز کس طرح پڑھتا ہے ؟

انکم ترون انہ یخفیٰ علی شیٌ مما تصنعون واﷲ انی اریٰ من خلفی کما اریٰ من بین یدی ، رواہ احمد۔

’’اﷲ تعالیٰ کی قسم! آگے کی طرح ہم پیچھے بھی دیکھتے ہیں‘‘۔

(امام محمد بن اسماعیل بخاری: صحیح بخاری، رشیدیہ، دہلی، ج۱، ص۵۹)

۳۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارا گمان ہے کہ ہماری توجہ صرف اس طرف ہے، اﷲ تعالیٰ کی قسم! ہم پر نہ تو تمہارا خشوع پوشیدہ ہے اور نہ ہی رکوع، ہم تمہیں پُشت کے پیچھے (بھی) دیکھتے ہیں۔

(امام محمد بن عبداﷲ الخطیب: مشکوٰۃ المصابیح، ایچ۔ایم سعید کمپنی، کراچی، ص۷۷)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ پشت کے پیچھے کھڑے ہونے والے افراد کو ہی نہیں دیکھتے تھے، بلکہ اُن کے دلوں کی کیفیات بھی ملاحظہ فرماتے تھے، کیونکہ خشوع، دل کی کیفیت کا نام ہے۔

۴۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیںکہ رسول اﷲ ﷺ اندھیرے میں اسی طرح دیکھتے تھے، جس طرح روشنی میں دیکھتے تھے۔ (امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: خصائص کبریٰ ، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ج۱، ص۶۱)

۵۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضور نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا :

اﷲ تعالیٰ کی قسم ! بے شک ہم اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہے ہیں۔

(امام محمد بن اسماعیل بخاری: صحیح بخاری شریف، ج۱،۱۷۹)

۶۔ حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم وہ کچھ دیکھ رہے ہو جو ہم دیکھ رہے ہیں، ہم تمہارے گھروں میں بارش کی طرح فتنوں کے واقع ہونے کے مقامات دیکھ رہے ہیں۔ مستقبل میں آنے والے فتنوں کو ملاحظہ فرمایا۔

(امام محمد بن اسماعیل بخاری: صحیح بخاری شریف، ج۱،۲۵۲)

۷۔ حضرت اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز کسوف پڑھانے کے بعد خطبہ دیا، اس میں ارشاد فرمایا :

جو چیز ہم نے نہیں دیکھی تھی، یہاں تک کہ جنت اور دوزخ، وہ ہم نے اس جگہ دیکھ لی۔

(امام محمد بن اسماعیل بخاری: صحیح بخاری شریف، ج۱،۱۸)

۸۔ ایک دن رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں سلام کہتے ہیں ، حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا : و علیہ السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ! حضور ! آپ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھتی۔

(امام محمد بن اسماعیل بخاری: صحیح بخاری شریف، ج۱،۵۳۲)

۹۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ نے اپنا دستِ قدرت ہمارے کندھوں کے درمیان رکھا، تو میں اُس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی :

فَعَلِمْتُ مَا فِی السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ

اس حدیث کو حضرت عبدالرحمن بن عایش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے روایت کیا۔

(امام محمد بن عبداﷲ الخطیب: مشکوٰۃ المصابیح، مطبوعہ، کراچی، ص۷۰)

۱۰۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنا دستِ قدرت، میرے کندھوں کے درمیان رکھا، یہاں تک کہ میں اس کی ٹھنڈک اپنے دونوں پستانوں کے درمیان محسوس کی ۔

فَتَجَلیّٰ لِیْ کَلّ شیئٍ وعرفتُ۔

’’ہر چیز مجھ پر منکشف ہوگئی اور میں نے پہچان لی‘‘

(امام محمد بن عبداﷲ الخطیب: مشکوٰۃ المصابیح، مطبوعہ، کراچی، ص۷۰)

( امام احمد بن حنبل: مسند امام احمد ، طبع بیروت، ج۵، ص۲۴۳)

۱۱۔ دُنیا اور آخرت کی جو چیز بھی ہونے والی ہے، مجھ پر پیش کی گئی۔

( امام احمد بن حنبل: مسند امام احمد ، طبع بیروت، ج۱، ص۴)

اس حدیث کو حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے روایت کیا۔

۱۲۔ گزشتہ رات میری اُمت اس حجرے کے پاس میرے سامنے پیش کی گئی یہاں تک کہ میں ان میں سے ایک شخص کو اتنا پہچانتا ہوں کہ اس کا ساتھی بھی اتنا نہیں پہچانتا، میری اُمت مٹی کی صورتوں میں پیش کی گئی (طِب۔ والضیاء۔ عن حذیفۃ بن اسید)

(امام علی متقی: کنزالعمال: طبع حلب، ج۱۱، ص۱۰۸)

۱۳۔ حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : اﷲتعالیٰ نے ہمارے لئے زمین کو لپیٹ دیا، تو ہم نے اُس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھا۔

(امام مسلم بن الحجاج القشیری: صحیح مسلم: رشیدیہ دہلی:ج۲:ص۳۹)

۱۴۔ حضرت عبداﷲ بن عمر i سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمای:

اِن اﷲ قد رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا واِلیٰ ما ھوکائنٌ فیھا اِلیٰ یوم القیامۃ کانما انظر اِلیٰ کفِّی ھذہٖ ۔

(امام علی متقی: کنزالعمال: طبع حلب(شام) : ج۱۱: ص۳۷۸)

’’بے شک اﷲ تعالیٰ نے میرے سامنے دنیا کو پیش فرمادیا، تو میں اسے اور اس میں قیامت تک ہونے والی چیزوں کو اس طرح دیکھتا ہوں جس طرح میں اپنی ہتھیلی کو دیکھتا ہوں‘‘۔

’’فانا انظر الیھا‘‘ جملہ اسمیہ ہے، جس کی خبر فعل مضارع ہے اور ایسا جملہ اسمیہ دوام تجددی پر دلالت کرتا ہے، جیسے علم معانی میں بیان کیا گیا ہے، لہذا اس جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی اکرم ﷺ دنیا اور اس میں قیامت تک ہونے والی چیزوں کو دوامِ تجددی کے ساتھ ملاحظہ فرمارہے ہیں، نظر کی یہ وسعتدنیا کی زندگی میں تھی، تو عالم آخرت جو دنیا سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اس میں نظر کی وسعت کا کیا عالم ہوگا؟

امام غزالی رحمہ اﷲ تعالیٰ ایک حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

’’ اس حدیث سے معلوم ہوگیا کہ دنیا کی نسبت آخرت کی وسعت کا وہی حال ہے، جو رحم مادر کی تاریکی کی نسبت دُنیا کی وسعت کا حال ہے‘‘۔

(امام محمد بن محمد غزالی: احیاء العلوم الدین: دارالمعرفۃ، بیروت: ج۴: ۴۹۷)

علامہ زرقانی رحمہ اﷲ تعالیٰ مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

اِن اﷲ قد رفع لی الد نیا ، تحقیق اﷲ تعالیٰ نے ہمارے لئے دنیا کو اس طرح ظاہر ومنکشف فرمادیا کہ اس میں جو کچھ ہے سب کا ہم نے احاطہ کرلیا۔ کانما انظر الی کفی ھذہٖ ، یہ اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ آپ نے حقیقۃً دیکھا اور اس احتمال کو دُور کردیا کہ نظر سے مراد علم ہے۔

(علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی: زرقانی علی المواھب، طبع قدیم، ج۷،ص۲۳۴)

سوال

کنزالعمال (۶/۹۵) میںہے کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ضعیف حدیث سے تو عمل سے متعلق احکام بھی ثابت نہیں کئے جاسکتے، حاضر وناظر ہونے کی عقیدہ کیسے ثابت ہوگا؟

جواب

(۱) اس حدیث کو حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے تین ائمہ محدثین نے روایت کیا : (۱) امام نعیم بن حماد (م۲۲۸ھ) (۲)امام طبرانی(م۳۶۰ھ) (۳)امام ابو نعیم احمد بن عبداﷲ(م۴۳۰ھ) ۔ کنزالعمال میں صرف امام نعیم بن حماد کی روایت ذکر کرکے کہا گیا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ باقی دو سندوں کے بارے میں ضعف کا حکم نہیں لگایا گیا۔

(علامہ علی متقی: کنزالعمال: مطبوعہ حلب: ج۱۱: ۴۲۰)

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے، باقی دو سندیں ضعیف نہیں ہیں۔ حدیث ضیعف تعدد طرق سے قوت حاصل کرکے حسن لغیرہٖ بن جاتی ہے، لہذا یہ حدیث مبارک ایک سند کے اعتبار سے بھی ضعیف نہ رہی، بلکہ ترقی کرکے درجۂ حسن کو پہنچ گئی ہے۔

(۲) اس حدیث کا ضعیف ہونا تسلیم بھی کرلیا جائے، تو ہمارے لئے مضر نہیں، کیونکہ عقیدۂ حاضر وناظر جن آیات واحادیث سے ثابت ہے، اُن کا ذکر آئندہ صفحات میں کیا جارہا ہے۔ پیش نظر حدیث ہمارے عقیدے کی بنیادی اور مرکزی دلیل نہیں، بلکہ تائیدی اور توثیقی دلیل ہے۔

۱۵۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ک رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : جب اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تجلی فرمائی تو وہ تاریک رات میں دس فرسخ(تیس میل) کے فاصلے پر پتھر پر چلنے والی چیونٹی کو دیکھ لیتے تھے۔

(علامہ سید محمود آلوسی: تفسیرروح المعانی: ج۹:ص۵۳)

اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے کوہِ طور پر صفاتی تجلی ڈالی تھی، اُس کے دیکھنے سے بینائی اس قدر تیز ہوگئی کہ تیس میل کے فاصلے پر رات کی تاریکی میں چلنے والی چیونٹی کو دیکھ لیتے تھے، ہمارے آقاومولا ﷺ کو ذات باری تعالیٰ کے دیدار سے مشرف فرمایا گیا، آپ کے بارے میں ارشاد ہے: مازاغ البصر وما طغیٰ ، آپ کی نظر کی وسعت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے؟

مشاہدۂ اعمال

امام ابو عبداﷲ قرطبی ’’التذکرہ‘‘ کے باب ’’ماجاء فی الشھادۃ النبی ﷺ علیٰ اُمتہٖ‘‘ میں فرماتے ہیں :

ابن مبارک فرماتے ہیں کہ ہمیں ایک انصاری نے منہال ابن عمرو سے خبر دی کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہر دن صبح وشام نبی اکرمﷺ کی اُمت آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہے، تو آپ انہیں اُن کی علامتوں اور اعمال سے پہچانتے ہیں، اسی لئے آپ ان کے بارے میں گواہی دیں گے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : فکیف اذا جئنا من کل اُمۃٍ بشھیدٍ وجئنا بک علیٰ ھٰؤُ لائِ شھیدا ۔

(امام محمد بن احمد القرطبی: التذکرۃ: مکتبہ ا لتوفیقیہ: ص۳۳۹)

(امام محمد بن احمد القرطبی: الجامع لاحکام القرآن: طبع بیروت:ص۳۳۹)

علامہ ابن کثیر اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

یہ ایک تابعی کا قول ہے اور منقطع ہے، کیونکہ اس کی سند میں ایک مبہم شخص ہے، جس کا نام نہیں لیا گیا، نیز یہ سعید بن مسیب کا قول ہے، اسے انہوں نے مرفوعاً بیان نہیں کیا۔

تاہم امام قرطبی نے اسے قبول کیا ہے اور اسے بیان کرنے کے بعد فرمایا : اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ اعمال اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر پیر اور جمعرات کو پیش کئے جاتے ہیں، انبیاء کرام، آباء اور مائوں کے سامنے جمعہ کے دن پیش کئے جاتے ہیں۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ ان روایات میں تعارض نہیں ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ہر دن اعمال کا پیش کیا جانا آپ کی خصوصیت ہو اور جمعہ کے دن دوسرے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ بھی آپ کے سامنے اعمال پیش کئے جاتے ہوں۔

(اسمعٰیل بن کثیر القرشی: تفسیر ابن کثیر، مطبوعہ عیسیٰ البابی، مصر: ج۱:ص۴۹۹)

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

تم ہمارے سامنے ناموں اور علامتوں کے ذریعے پیش کئے جاتے ہو، لہذا تم ہماری بارگاہ میں اچھی طرح درود شریف پیش کیا کرو۔

یہ حدیث صحیح ہے، اسے امام عبدالرزاق نے مرسلاً روایت کیا۔

(امام علی المتقی: کنزالعمال، طبع حلب: ج۱: ص۴۹۸)

یہ بھی ارشاد فرمایا:

ہماری(ظاہری) زندگی تمہارے لئے بہتر ہے، تم گفتگو کرتے ہو اور تمہارے ساتھ بات چیت کی جاتی ہے، جب ہمارا وصال ہوجائے گا، تو ہمارا وصال تمہارے لئے بہتر ہوگا، تمہارے اعمال ہمارے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ پس اگر ہم اچھے اعمال دیکھیں گے تو اﷲ کی حمد کریں گے اور اگر بُرے اعمال دیکھیں گے، تو تمہارے لئے بخشش کی دُعا کریں گے، یہ حدیث ابن سعد نے حضرت بکر بن عبداﷲ سے مرسلاً روایت کی۔

(امام علی المتقی: کنزالعمال: طبع حلب: ج۱۱:ص۴۰۷)

حضور نبی اکرم ﷺ کا دُرود شریف پڑھنے والوں کے درود کا سننا بھی مشاہدۂ اعمال میں شامل ہے، امام طبرانی حضرت ابوالدرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

جو بندہ بھی ہماری بارگاہ میں درود شریف پیش کرتا ہے، اُس کی آواز ہمیں پہنچتی ہے، خواہ کہیں بھی ہو، ہم نے عرض کیا کہ آپ کے وصال کے بعد بھی؟ فرمایا : ہمارے وصال کے بعد بھی ، بے شک اﷲ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے اجسام کا کھانا حرام کردیا ہے۔

(علامہ ابن قیم: جلاء الافہام: مطبوعہ مصر: ص۶۳)

امام علامہ سیّد محمد بن سلیمان جزولی رحمہ اﷲ تعالیٰ ، دلائل الخیرات کی فصل فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ میں روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

ہم اپنے محبت والوں کا دُرود سنتے ہیں، دوسروں کا دُرود ہم پر پیش کیا جاتا ہے۔

شیخ محقق شاہ عبدالحق محدّث دہلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

علماء اُمت کے مذاہب اور اختلافات کی کثرت کے باوجود کسی ایک شخص کا بھی اس مسئلے میں اختلاف نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ مجاز کے شائبہ اور تاویل کے وہم کے بغیر، حقیقی حیات کے ساتھ دائم وباقی اور اعمالِ اُمت پر حاضر وناظر ہیں۔

( شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی: مکتوبات بر حاشیہ اخبار الاخیار: طبع سکھر: ص۱۵۵)

عقیدۂ حا ضر و نا ظر

حضور نبی اکرمﷺ کے لئے حاضر وناظر کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں، ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی بشریت مطہرہ اور جسم خاص ہر جگہ ہر شخص کے سامنے موجود ہے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ ، اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے مقام رفیع پر فائز ہونے کے باوجود تمام کائنات کو ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح ملاحظہ فرماتے ہیں۔

حضور نبی اکرم ﷺ اپنی روحانیت اور بشریت کے اعتبار سے بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوسکتے ہیں اور اولیاء کرام خواب اور بیداری میں آپ کے جمال اقدس کا مشاہدہ کرتے ہیں اور حضور نبی اکرم ﷺ بھی انہیں رحمت وعنایت سے مسرورومحظوظ فرماتے ہیں، گویا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اﷲ تعالیٰ کے حرم خاص میں موجود ہونا اور اپنے غلاموں کے سامنے جلوہ فگن ہونا، سرکار کے حاضر ہونے کے معنی ہیں اور انہیں اپنی نظر مبارک سے دیکھنا حضور انور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ناظر ہونے کا مفہوم ہے۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ یہ عقیدہ ظنیہ اور از قبیل فضائل ہے، اس کے لئے دلائل قطعیہ کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ دلائل ظنیہ بھی مفید مقصد ہیں۔

علامہ سعد الدین تفتا زانی رحمہ اﷲ تعالیٰ ، تفصیل رسل کی بحث میں فرماتے ہیں!

مخفی نہ رہے کہ یہ مسئلہ ظنی ہے اور ظنی مسئل میں ظنی دلائل کافی ہوتے ہیں۔

( علامہ مسعد بن عمر تفتازانی: شرح عقائد:طبع لکھنؤ:ص۱۲۶)

علامہ عبدالعزیز پرہاروی رحمہ اﷲ تعالیٰ اس کی شرح میں فرماتے ہیں :

حاصل جواب یہ ہے کہ اعتقادی مسائل دو قسم کے ہیں:

(۱) وہ مسائل جن میں یقین مطلوب ہوتا ہے جیسے واجب الوجود کا ایک ہونا اور نبی اکرم ﷺ کا سچا ہونا۔

(۲) وہ مسائل جن میں ظن کافی ہوتا ہے، جیسے یہ مسئلہ ہے، پہلی قسم میں ظنی دلیل کافی نہیں ہوتی، جب کہ دوسری قسم میں کافی ہوتی ہے۔

(علامہ عبدالعزیز پرہاروی: نبراس شرح شرح عقائد: ص۵۹۸)

آئندہ صفحات میں یہ عقیدہ قرآن وحدیث اور ارشادات سلف وخلف سے پیش کیا جاتا ہے، سرکار دوعالم ﷺ کی وسعت نظر اور مشاہدہ کا بیان کسی قدر صفحات میں پیش کیا جاچکا ہے۔

آیات مبارکہ

۱۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

یا ایھا النبی انا ارسلنک شاھدا(سورۃ الاحزاب: ۲۳/۴۵)

اے غیب کی خبریں دینے والے نبی! بے شک ہم نے آپ کو حاضر ناظر بھیجا۔

علامہ ابوالسعود (م۹۵۱ھ) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

اے نبی ! ہم نے آپ کو ان لوگوں پر شاہد (حاضر وناظر) بنا کر بھیجا، جن کی طرف آپ مبعوث ہیں، آپ ان کے احوال واعمال کا مشاہدہ اور نگرانی کرتے ہیں، آپ ان سے صادر ہونے والی تصدیق وتکذیب اور ہدایت وضلالت کے بارے میں گواہی حاصل کرتے ہیں اور قیامت کے دن آپ ان کے حق میں یا ان کے خلاف جو گواہی دیں گے، وہ مقبول ہوگی۔ (امام ابوسعود محمد بن محمد العمادی: تفسیر ابوالسعود: احیاء التراث العربی، بیروت:ج۷:ص۲۶۶)

علامہ سلیمان جمل نے’’الفتوحات الالٰہیۃ(ج۳،ص۴۴۲) اور علامہ سید محمود آلوسی نے تفسیر’’روح المعانی‘‘ (ج۲۲:ص۴۵) میں یہی تفسیر کی ہے۔

امام محی السنۃ علاء الدین خازن رحمہ اﷲ تعالیٰ (م۷۴۱ھ) نے ایک تفسیر یہ بیان کی ہے :

شاھداعلی الخلق کلھم یوم القیامۃ

(امام علی بن محمد البغدادی الشہیر بالخازن: تفسیر لباب التاویل فی معانی التنزیل: مصطفیٰ البابی، مصر:ج۵:ص۲۶۶)

آپ( ﷺ ) قیامت کے دن تمام مخلوق پر گواہ ہوں گے۔

نبی اکرم ﷺ کی دعوتِ اسلام ، ہر مومن اور کافر کو شال ہے، لہذا اُمتِ دعوت میں ہر مومن اور کافر داخل ہے، البتہ اُمتِ اجابت میں صرف وہ خوش قسمت افراد داخل ہیں جو حضور ﷺ کی دعوت پر مشرف بہ اسلام ہوئے ، آیت مبارکہ کی تفسیر میں علی من بعثت الیھم (جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا) اور علی الخلق کلھم کہہ کر حضرات مفسرین نے اشارہ کیا ہے کہ آپ صرف اہل ایمان ہی نہیں ، بلکہ کافروں کے احوال بھی ملاحظہ فرمارہے ہیں، اسی لئے آپ مومنوں کے حق میں اور کافروں کے خلاف گواہی دیں گے۔

علامہ سید محمود آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

بعض اکابر صوفیہ نے اشارہ کیا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو اپنے بندوں کے اعمال پر آگاہ کیا اور آپ نے اُنہیں دیکھا، اسی لئے آپ کو شاہد کہا گیا۔ مولانا جلال الدین رومی قدس سرہٗ نے فرمایا : درنظر بودش مقامات العباد
زاں سبب نامش خدا شاہد نہاد

بندوں کے مقامات آپ کی نظر میں تھے، اس لئے اﷲ تعالیٰ نے آپ کا نام شاہد رکھا۔

(علامہ سید محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی: ج۲۲: ص۴۵)

امام فخرالدین رازی رحمہ اﷲ تعالیٰ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

اﷲ تعالیٰ کے فرمان شاھدًا میں کئی احتمال ہیں (پہلا احتمال یہ ہے کہ) آپ قیامت کے دن مخلوق پر گواہی دینے والے ہیں جیسے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : ویکون الرسول علیکم شھید ا (اور رسول تم پر گواہ ہوں گے اور نگہبان) اس بنا پر نبی اکرم ﷺ شاہد بنا کر بھیجے گئے ہیں، یعنی آپ گواہ بنتے ہیں اور آخرت میں آپ شہید ہوں گے، یعنی اس گواہی کو ادا کریں گے جس کے آپ حامل بنے تھے۔

(امام محمد بن عمر حسین رازی: تفسیر کبیر : مطبوعہ مصر: ج۲۵:ص ۲۱۶)

علامہ اسمٰعیل حقی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

رسول اﷲ ﷺ کی تعظیم وتوقیر کا مطلب یہ ہے کہ ظاہروباطن میں آپ کی سنت کی حقیقی پیروی کی جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ آپ موجودات کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں، آپ ہی محبوب ازلی ہیں، باقی تمام مخلوق آپ کے تابع ہے، اسی لئے اﷲتعالیٰ نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا۔

چونکہ نبی اکرم ﷺ اﷲ تعالیٰ کی پہلی مخلوق ہیں، اس لئے اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اور ربوبیت کے شاہد ہیں اور عدم سے وجود کی طرف نکالی جانے والی تمام ارواح، نفوس، اجرام وارکان ، اجسام واجساد، معدنیات، نباتات، حیوانات، فرشتوں اور جنات، شیاطین اور انسانوں وغیرہ کے شاہد ہیں تاکہ اﷲ تعالیٰ کے افعال کے اسرار، عجائب صنعت اور غرائب قدرت میں سے جس چیز کا ادراک مخلوق کے لئے ممکن ہو، وہ آپ کے مشاہدہ سے خارج نہ رہے، آپ کو ایسا مشاہدہ عطا کیا کہ کوئی دوسرا اس میں آپ کے ساتھ شریک نہیں ہے۔

اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : علمت ماکان وماسیکون (ہم نے جان لیا ، وہ سب ، جو ہوچکا اور جو ہوگا) کیونکہ آپ نے سب کا مشاہدہ کیا، اور ایک لمحہ بھی غائب نہیں رہے۔آپ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش ملاحظہ فرمائی، اسی لئے فرمایا: ہم اُس وقت بھی نبی تھے، جب کہ آدم علیہ السلام مٹی اور پانی کے درمیان تھے، یعنی ہم پیدا کئے گئے تھے اور جانتے تھے کہ ہم نبی ہیں اور ہمارے لئے نبوت کا حکم کیا گیا ہے جب کہ ابھی حضرت آدم علیہ السلام کا جسم اور رُوح پیدا نہیں کی گئی تھی۔ آپ نے اُن کی پیدائش، اعزاز واکرام کا مشاہدہ کیا اور خلاف ورزی کی بنا پر جنت سے نکالا جانا ملاحظہ فرمایا۔

آپ نے ابلیس کی پیدائش دیکھی اور حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کے سبب اس پر جو کچھ گزرا، اُسے راندۂ درگاہ اور ملعون قرار دیا گیا، سب کچھ ملاحظہ فرمایا۔ ایک حکم کی مخالفت کی بنا ء پر اس کی طویل عبادت اور وسیع علم رائیگاں گیا۔

انبیاء ورُسل اور اُن کی اُمتوںپر وارد ہونے والے حالات کے علوم آپ کو حاصل ہوئے۔ (امام اسماعیل حقی: تفسیر روح البیان:داراحیاء التراث العربی، بیروت: ج۹:ص۱۸)

۲۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ویکون الرسول علیکم شھید ا(البقرہ: آیت ۱۴۳)

’’اور یہ رسول تمہارے گواہ(اور حاضر وناظر) ہیں‘‘

علامہ اسماعیل حقی اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

رسول اﷲ ﷺ کے گواہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نور نبوت کے ذریعے ہر دین دار کے بارے میں جانتے ہیں کہ اس کے دین کا مرتبہ کیا ہے، اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ اور اس کے حجاب کو بھی جانتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کمالِ دین سے روک دیا گیا ہے۔ پس آپ اُمتیوں کے گناہوں، اُن کے ایمان کی حقیقت ، اُن کے اعمال ، نیکیوں برائیوں اور اخلاص ونفاق وغیرہ کو جانتے ہیں ۔

(امام اسماعیل حقی: روح البیان:ج۱:ص۲۴۸)

(حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی: تفسیر عزیزی فارسی:طبع دہلی:ج۱:ص۵۱۸)

علامہ امام ابن الحاج رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

نبی اکرم ﷺ اپنی اُمت کو ملاحظہ فرماتے ہیں، اُن کے احوال، نیتوں اور عزائم اور خیالات کو جانتے ہیں اور اس سلسلے میں آپ کی حیات مبارکہ اور وصال میں کوئی فرق نہیںہے، یہ سب کچھ آپ پر عیاں ہے اور اس میں کچھ خفاء نہیں ہے۔

(امام ابن الحاج: المدخل: داراکتاب العربی، بیروت: ج۱:ص۲۵۲)

(امام احمد بن محمد القسطلانی: مواہب لدنیہ مع زرقانی، مصر۱۲۹۲ھ:ج۸:ص۳۴۸)

۳۔ وجئنا بک علیٰ ھٰؤُلائِ شھیدا (سورۃ النساء: آیت۴۱)

اِن آیات مبارکہ میں نبی اکرم ﷺ کو شاہد اور شہید کہا گیا ہے، ان دونوں کا مصدر شہود اور شہادت ہے۔ آئیے دیکھیں کہ علماء لغت اور ائمہ دین نے اس کا کیا معنی بیان کیا ہے۔

امام راغب اصفہانی رحمہ اﷲ تعالیٰ (م۵۰۲ھ) فرماتے ہیں :

الشہود والشھادۃ الحضور مع المشاہدۃ اما بالبصر اَو بالبصیرۃ… والشھادۃ قولٌ صادرٌ عن علم حصل بمشاھدۃ بصیرۃ اوبصر… واما الشھید فقد یقال للشاھد والمشاھد للشئی… وکذاقولہ فکیف اذا جئنا من کل اُمۃ بشھید و جئنا بک علی ھو لاء شھیدا۔

شہود اور شہادت کا معنیٰ مشاہدہ کے ساتھ حاضر ہونا ہے، مشاہدہ آنکھ سے ہو یا بصیرت سے، شہادت اس قول کو کہتے ہیں جو آنکھ یا بصیرت کے مشاہدے سے حاصل ہونے والے علم کی بناء پر صادر ہو، رہا شہید، تو وہ گواہ اور شئے کا مشاہدہ کرنے والے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان میں یہی معنی ہے(جس کا ترجمہ ہے) کیا حال ہوگا؟ جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے۔

(امام حسین بن محمد راغب اصفہانی: المفردات(نور محمد، کراچی): ص۲۶۹،۲۷۰)

امام فخرالدین رازی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

شہادت، مشاہدہ اور شہود کا معنی دیکھنا ہے، جب تم کسی چیز کو دیکھو تو تم کہتے ہو: شاھدت کذا( میں نے فلاں چیز دیکھی) چونکہ آنکھ کے دیکھنے اور دل کے پہچاننے میں شدید مناسبت ہے، اس لئے دل کی معرفت اور پہچان کو بھی مشاہدہ اور شہود کہا جاتا ہے۔

(امام محمد بن عمربن حسین رازی: تفسیر کبیر: طبع مصر: ج۴:ص۱۱۳،۱۱۴)

امام قرطبی رحمہ اﷲ تعالیٰ (م۶۷۱ھ) فرماتے ہیں :

شہادت کی تین شرطیں ہیں، جن کے بغیر وہ مکمل نہیں ہوتی :

(۱) حاضر ہونا (۲) جو کچھ دیکھا اسے محفوظ رکھنا (۳) گواہی کا ادا کرنا۔

(امام محمد بن احمد القرطبی: التذکرہ : المکتبہ التوفیقیہ: ص۱۸۳)

امام ابوالقاسم قشیری رحمہ اﷲ تعالیٰ(م ۴۶۵ھ) فرماتے ہیں :

ومعنی الشاھد الحاضر فکل ماھو حاضرٌ قلبک فھو شاھدک ۔ (امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن: الرسالۃ القشیریۃ: مصطفیٰ البابی، مصر:ص۴۷)

قرآن پاک سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ شاہد ہیں اور شاہد کا معنی حاضرہے۔ جیسے کہ امام قشیری نے فرمایا ۔ امام اصفہانی کے مطابق شہادت کا معنی مع المشاہدۃ ہے۔ خواہ مشاہدہ سر کی آنکھوں سے ہو یا دل کی بصیرت سے۔ کہنے دیجئے کہ قرآن پاک کی آیات سے یہ ثابت ہوگیا کہ حضور سیّدیوم النشور ﷺ کو اﷲ تعالیٰ نے حاضر وناظر بنایا ہے۔ اس عقیدے کو اپنی نادانی اور جہالت کی بناء پر کوئی شخص نہیں مانتا ، تو بے شک نہ مانے ، لیکن اُسے شرک قرار دینے کا قطعاً جواز نہیں ۔

سیّد عالم ﷺ کس کی نسبت سے حاضر وناظر ہیں؟ اس سے پہلے مستند تفاسیر کے حوالے سے بیان کیا جاچکا ہے۔ امام رازی اور امام خازن نے فرمایا کہ آپ قیامت کے دن تمام مخلوق پر گواہ ہوں گے ، امام ابو سعود نے فرمایا جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے، اُس کا مطلب بھی وہی ہے جو امام رازی نے بیان کیا، کیونکہ حدیث شریف میں ہے : اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ (امام مسلم بن الحجاج القشیری: صحیح مسلم شریف: ج۱:ص۱۹۹)

مخالفین کہتے ہیں کہ شاہد اور شہید کے الفاظ دوسرے لوگوں کے لئے بھی وارد ہوئے ہیں، کیا آپ انہیں بھی نبی اکرم ﷺ کی طرح حاضر وناظر مانیں گے ؟

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہر شاہد اپنی شہادت کے دائرہ کار تک حاضروناظر ہوتا ہے، حضور نبی اکرم ﷺ تو تمام اُمت اور تمام مخلوق کے شاہد ہیں، کوئی شاہد ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا، جس کی شہادت کا دائرہ کار اتنا وسیع ہو، لہذا نبی اکرم ﷺ کی طرح کسی کو حاضروناظر ماننے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

۴۔ النبی اَو لٰی بالمومنین من انفسھم (سورۃ الاحزاب: آیت ۶)

علامہ محمود آلوسی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا :

(النبی اولیٰ) ای احق واقرب الیھم(من انفسھم)

(علامہ سید محمود آلوسی : تفسیر روح المعانی: ج۲۱:ص۱۵۱)

نبی اُن کی جانوں کی نسبت زیادہ حق رکھتے ہیں اور اُن کے زیادہ قریب ہیں۔

شیخ محقق شاہ عبدالحق محدّث دہلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے:

’’پیغمبر نزدیک تراست بمومناں از ذات ہائے ایشاں‘‘۔ ( شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی: مدارج النبوۃ، فارسی: مکتبہ نوریہ رضویہ، سکھر: ج۱:ص۸۱)

پیغمبر مومنوں کے زیادہ قریب ہے، ان کی ذوات سے بھی۔

دیوبندی مکتب فکر کے پہلے امام محمد قاسم نانوتوی کہتے ہیں :

النبی اولیٰ بالمومنین من انفسھم جس کے معنی یہ ہیں کہ نبی نزدیک ہے مومنوں سے بہ نسبت اُن کی جانوں کے، یعنی ان کی جانیں ان سے اتنی نزدیک نہیں، جتنا نبی ان کے نزدیک ہے، اصل معنی اولیٰ کے اقرب ہیں۔

(محمد قاسم نانوتوی: آب حیات: مجتبائی، دہلی: ص۷۳)

(محمد قاسم نانوتوی: تحذیرالناس: مکتبہ امدادیہ، دیوبند: ص۱۰)

اﷲ اکبر ! عقیدہ حاضر وناظر کی یہ کتنی کھلی تائید اور ترجمانی ہے، اَب بھی اگر کوئی شخص نہ مانے ، تو ہمارے پاس اس کا کیا علاج ہے؟

کیا یہ قرب صرف صحابۂ کرام سے خاص تھا یا قیامت تک آنے والے تمام مومنوں کو شامل ہے؟ اس سلسلے میں امام بخاری رحمہ اﷲ تعالیٰ کی ایک روایت ملاحظہ فرمائیں، اور خود فیصلہ کریں۔

مامن مومن الا اولیٰ الناس بہ فی الدنیا والاٰخرۃ۔

(امام محمد بن اسمعٰیل بخاری: صحیح بخاری، مجتبائی، دہلی: ج۲: ص۷۰۵)

’’ہم دینا وآخرت میں دوسرے تمام لوگوں کی نسبت ہر مومن کے زیادہ قریب ہیں‘‘۔

۵۔ وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین(سورۃ الانبیاء: آیت ۱۰۷)

’’اے حبیب ! ہم نے تمہیں نہیں بھیجا ، مگر رحمت تمام جہانوں کے لئے‘‘۔

یہ بھی ارشاد ربانی ہے :

وما یعلم جنود ربک الا ھو (سورۃ المدثر:آیت ۳۱)

’’اور تیرے رب کے لشکروں کو وہی جانتا ہے‘‘۔

اِن آیات کے پیش نظر ماننا پڑے گا کہ اﷲ تعالیٰ کی مخلوقات بے شمارہیں اور ہمارے آقاومولا محمد مصطفیٰ ﷺ ان سب کے لئے رحمت ہیں، یہ تعلق سمجھنے کے لئے درج ذیل تصریحات ملاحظہ ہوں۔

علامہ محمود آلوسی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

نبی اکرم ﷺ کا تمام جہانوں کے لئے رحمت ہونا اس اعتبار سے ہے کہ ممکنات پر ان کی قابلیتوں کے مطابق جو فیض الٰہی وارد ہوتا ہے، سیّد عالم ﷺ اس فیض کا واسطہ ہیں، اسی لئے آپ کا نور سب سے پہلے پیدا کیا گیا حدیث میں ہے: اے جابر ! اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا اور یہ بھی ہے کہ اﷲ تعالیٰ دینے والا ہے اور ہم تقسیم کرنے والے ہیں۔ اس سلسلے میں صوفیاء کرام کا کلام کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔

(علامہ سیّد محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی:ج۱۷:ص۱۰۵)

علامہ اسماعیل حقی (م۱۱۳۷ھ) تفسیر عرائس البیان کے حوالے سے فرماتے ہیں :

اے دانشور! بے شک اﷲ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ اُس نے سب سے پہلے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا نور پیدا کیا، پھر عرش سے لے کر تحت الثریٰ تک تمام مخلوقات کو آپ کے نور کی ایک جز سے پیدا فرمایا، پس آپ کو وجود اور شہود کی طرف بھیجنا ہر موجود کے لئے رحمت ہے، لہذا آپ کا موجود ہونا وجودِ مخلوق اور تمام مخلوق پر اﷲ تعالیٰ کی رحمت کا سبب ہے، پس آپ ایسی رحمت ہیں، جو سب کے لئے کافی ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی سمجھادیا کہ تمام مخلوق فضائے قدرت میں بے رُوح صورت کی طرح پڑی ہوئی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تشریف آوری کا انتظار کررہی تھی، جب حضور اقدس ﷺ تشریف لائے، تو عالم آپ کے وجود مسعود کی بدولت زندہ ہوگیا، کیونکہ آپ تمام مخلوقات کی رُوح ہیں۔

(امام علامہ اسماعیل حقی: تفسیر روح البیان ،طبع بیروت: ج۵ؒ: ص۵۲۸)

(علامہ شیخ روز بہان: تفسیر عرائس البیان:طبع نول کشور، لکھنؤ: ج۲:ص۵۲)

احاد یثِ مبارکہ

پہلی حدیث

حضرت عبداﷲن بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے ایک شخص نماز پڑھے ، تو کہے :

التحیات ﷲ الصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہٗ السلام علینا وعلیٰ عباداﷲ الصالحین۔

فانکم اذا قلتموھا اصابت کل عبدٍ ﷲ صالحٍ فی السماء والارض۔

(امام محمد بن اسماعیل بخاری: بخاری شریف: رشیدیہ، دہلی: ج۱:ص۱۱۵)

تمام عباداتِ قولیہ، فعلیہ اور مالیہ اﷲ تعالیٰ کے لئے، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اور اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور برکتیں ہم پر اور اﷲ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔

جب تم یہ کلمات کہو گے، تو اﷲ تعالیٰ کے زمین وآسمان میں رہنے والے ہر نیک بندے کو پہنچیں گے۔

غور کیجئے کہ نماز پڑھنے والا شرق وغرب، بحروبر، زمین یا فضا جہاں بھی نماز پڑھے، اُس کے لئے سرکاردوعالم ﷺ کا حکم ہے کہ اپنی تمام عبادتوں کا ہدیہ بارگاہِ الٰہی میں پیش کرنے کے بعد بصیغۂ خطاب اور نداء، حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں ہدیۂ سلام پیش کرے۔ یہ خیال ہرگز نہ کیا جائے کہ ہمارا سلام حضور نبی کریم ﷺ کو نہیں پہنچتا، محض خیالی صورت سامنے رکھ کر سلام عرض کیا جارہاہے۔ کیونکہ امام بخاری علیہ الرحمہ الباری کی روایت کردہ حدیث مذکور کے مطابق جب ہر نیک بندے کو سلام پہنچتا ہے، تو اﷲ تعالیٰ کے حبیب اکرم رحمت عالم ﷺ کو کیوں نہیں پہنچتا ؟

اس جگہ سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ روشِ کلام کے مطابق غائب کا صیغہ السلام علی النبی لانا چاہیے تھا ۔ خطاب کا صیغہ(السلام علیک ایھا النبی) کیوں لایا گیا ہے؟ علامہ طیبی شارح مشکوٰۃ نے جواب کہ ہم ان کلمات کی پیروی کرتے ہیں جو رسول اﷲ ﷺ نے صحابہ کرام کو سکھائے۔

دوسرا جواب جسے علامہ بدرالدین عینی، علامہ ابن حجر عسقلانی اور دیگر شارحین حدیث نے نقل فرمایا، حب ذیل ہے:

ارباب معرفت کے طریقے پر کہا جاسکتا ہے کہ جب نمازیوں نے التحیات کے ذریعے ملکوت کا دروازہ کھولنے کی درخواست کی، تو انہیں لا حی لا یموت کے دربار میں حاضر ہونے کی اجازت دی گئی، مناجات کی بدولت ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، انہیں آگاہ کیا گیا کہ یہ سعادت نبی رحمت حضور شفیع اُمت ﷺ اور آپ کی پیروی کی برکت سے ہے، اچانک انہوں نے توجہ کی، تو پتہ چلا کہ الحبیب فی حرم الحبیب حاضرٌ۔ (علیہ الصلوٰۃ والتسلیم) رب کریم کی بارگاہ میں حاضر ہیں، تو السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہٗ کہتے ہوئے آپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔

( علامہ بدرالدین محمود بن عینی: عمدۃ القاری شرح بخاری:احیاء التراث العربی، بیروت: ج۶: ص۱۱۱)

(علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی:فتح الباری :احیاء التراث العربی:ج۲:ص۲۵۰)

(علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی: شرح مواہب لدنیہ: ج۷:ص۲۷۷،۲۷۸)

(علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی:زرقانی علی الموطاء: مکتبہ التجاریۃ، مصر:ج۱:ص۱۹۰) (علامہ محمد عبدالحی لکھنوی:السعایۃ فی کشف شرح الوقایۃ: سہیل اکیڈمی، لاہور: ج۲:ص۲۲۷)

علامہ محمد عبدالحی لکھنوی رحمہ اﷲ تعالیٰ مذکورہ بالا تقریر کے بعد فرماتے ہیں :

میرے والد علام اور استاذِ جلیل(علامہ عبدالحلیم لکھنوی) اپنے رسالہ’’نور الایمان بزیارۃ آثار حبیب الرحمن‘‘ میں فرماتے ہیں کہ التحیات میں صیغہ خطاب(السلام علیک ایھا النبی) لانے کا راز یہ ہے کہ گویا حقیقتِ محمدیہ ہر وجود میں جاری وساری اور ہر بندے کے باطن میں حاضر ہے، اس حالت کا کامل طور پر انکشاف نماز کی حالت میں ہوتا ہے، لہذا محلِ خطاب حاصل ہوگیا۔

(علامہ محمد عبدالحی لکھنوی:السعایۃ : سہیل اکیڈمی، لاہور: ج۲:ص۸ ۲۲)

دراصل یہ رُوحانیت کا مسئلہ ہے، جس شخص کا روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہ ہو، جسے معرفت کے ساتھ کوئی علاقہ ہی نہ ہو، جو شخص بصیرت سے یکسر محروم ہو، وہ اس مسئلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرے گا اور سچی بات یہ ہے کہ ہمارا روئے سخن بھی اُن کی طرف نہیں ہے، ہمارا تو خطاب ان لوگوں سے ہے جو اولیاء کرام اور انبیاء عظام علیہم السلام کی روحانی عظمتوں کو ماننے والے ہیں۔

شیخ محقق شاہ عبدالحق محدّث دہلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

آنحضرت ﷺ ہمیشہ، تمام احوال واوقات میں مومنوں کے پیش نظر اور عبادت گزاروں کی آنکھوں کی ٹھندک ہیں، خصوصاً عبادت کی حالت میں اور(بالخصوص) اس کے آخر میں، کیونکہ ان احوال میں نورانیت اور انکشاف کا وجود ان احوال میں بہت زیادہ اور نہایت قوی ہوتا ہے۔

بعض عارفوں نے فرمایا کہ یہ خطاب اس بناء پر ہے کہ حقیقت محمدیہ موجودات کے ذرّوں اور افراد ممکنات میں جاری وساری ہے، پس آنحضرت ﷺ نمازیوں کی ذات میں موجود اور حاضر ہیں، لہذا نمازی کو چاہئے کہ اس حقیقت سے آگاہ رہے اور نبی اکرم ﷺ کے اس حاضر ہونے سے غافل نہ رہے، تاکہ قرب کے انوار اور معرفت کے اسرار سے منور اور فیض یاب ہو۔ (شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی: اشعۃ اللمعات، فارسی: نوریہ رضویہ، سکھر:ج۱:ص۴۰۱) (علامہ نورالحق محدث دہلوی: تیسیر القاری شرح بخاری:مطبع علوی، لکھنؤ: ج۱:ص۱۷۲،۱۷۳)

لطف کی بات یہ ہے کہ غیر مقلدین کے امام اور پیشوا، نواب صدیق حسن خاں بھوپالی نے’’مسک الختام شرح بلوغ المرام‘‘ ، ج۱، ص۲۴۴ میں بعینہٖ یہی عبارت درج کی ہے۔ اس مقام پر تھوڑی دیر ٹھہر کر ہم غیر مقلدین سے صرف اتنا پوچھنا چاہتے ہیں کہ عقیدۂ حاضر وناظر کی بناء پر بریلویوں کو تو تم مشرک قرار دیتے ہو، کیا ان کے ساتھ نواب بھوپالی کو بھی زمرۂ مشرکین میں شمار کروگے یا نہیں ، اگر نہیں تو کیوں؟

اس جگہ مخالفین یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ تشہد سے حاضر وناظر کے عقیدہ پر استدلال صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی ظاہری حیات میں یہ التحیات پڑھا کرتے تھے، آپ کے وصال کے بعد ہم السلام علی النبی پڑھنے لگے۔ اس کا جواب ، حضرت ملا علی قاری کی زبانی سنئے، وہ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں :

حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمانا کہ ہم رسول اﷲ ﷺ کی حیاتِ ظاہرہ میں السلام علیک ایھا النبی پڑھا کرتے تھے، جب آپ کا وصال ہوگیا تو ہم السلام علی ا لنبی کہتے تھے۔ یہ امام ابوعوانہ کی روایت ہے۔ امام بخاری کی روایت اس سے زیادہ صحیح ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے الفاظ نہیں ہیں ، بلکہ ان کے شاگرد راوی نے جو کچھ سمجھا، وہ بیان کردیا۔

امام بخاری کی روایت میں ہے : فلما قبض قلنا السلام یعنی علی النبی جن نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوگیا، تو ہم نے کہا السلامُ یعنی نبی اکرم ﷺ پر۔ (لفظ یعنی بتا رہا ہے کہ بعد میں کسی نے وضاحت کی ہے۔ قادری) اس قول میں دو احتمال ہیں :

(۱) یہ کہ جس طرح نبی اکرم ﷺ کی ظاہری حیات میں بصیغۂ خطاب سلام عرض کیا کرتے تھے، اس طرح وصال کے بعد بھی کہتے رہے۔

(۲) ہم نے خطاب چھوڑ دیا تھا، جب لفظوں میں متعدد احتمال ہیں، تو (قطعی) دلالت نہ رہی، اسی طرح علامہ ابن حجر نے فرمایا۔ (امام علی بن سلطان القاری: المرقاۃ شرح مشکوٰۃ: مکتبہ امدادیہ، ملتان: ج۲:ص۳۳۲)

علامہ عبدالحی لکھنوی(متوفی ۱۳۰۴ھ) علامہ قسطلانی کے حوالے سے اس روایت کے بارے میں بیان کرتے ہیں :

یہ روایت ، دوسری روایات کے مخالف ہے، جن میں یہ کلمات نہیں ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی نبی اکرم ﷺ کی تعلیم کی بناء پر نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :ہم نے کہا السلام علیٰ۔

       (علامہ محمد عبدالحی لکھنوی: السعایہ، ج۲، ص۲۲۸) 

یہی سبب ہے کہ جمہور صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ نے اس طریقے کو اختیار نہیں کیا، بلکہ وہی تشہد پڑھتے رہے ہیں جس میں السلام علیک ایھا النبی ہے ۔

دوسرا اشکال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ہم نبی اکرم رحمت عالم ﷺ کو خطاب کرکے سلام عرض نہیں کرتے، ہم تو واقعہ معراج کی حکایت اور نقل کرتے ہوئے یہ کلمات ادا کرتے ہیں اور بس، لہذا ہم پر عقیدہ حاضروناظر ماننا لازم نہیں آتا۔

اس اشکال کے کئی جواب ہیں :

۱۔ جس روایت کی بنا ء پر التحیات کے سلام کو واقعہ معراج کی حکایت کہا جاتا ہے، اس کے بارے میں دیوبندی مکتب فکر کے مولوی انور شاہ کشمیری کہتے ہیں کہ مجھے اس کی سند نہیں ملی۔

(محمد انور شاہ کشمیری: عرف الشذی : مکتبہ رحیمیہ، دیوبند: ص۱۳۹)

۲۔ جب التحیات میں حکایت اور نقل ہی مقصود ہے، تو التحیات ﷲ والصلوٰت والطیبات بھی بطور حکایت ہوگا۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں سلام عرض کرنے سے اعراض کا نتیجہ یہ نکلا کہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی ہدیہ عبادت پیش نہ ہوسکا۔ امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ نے کیاخوب فرمایا ہے ؎ بخدا خدا کا یہی ہے در، نہیں اور کوئی مفر مقر
جو وہاں سے ہو یہیں آکے ہو، جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں

۳۔ ابھی بخاری شریف کی حدیث گزری ہے کہ جب تم یہ کلمات کہتے ہو تو زمین وآسمان کے ہر نیک بندے کو سلام پہنچ جاتا ہے، اَب اگر آپ کے قول کے مطابق سلام کہا ہی نہیں گیا ، محض واقعہ معراج کی حکایت اور نقل کی گئی ہے تو ہر بندۂ صالح کو سلام پہنچنے کا مطلب ؟ ماننا پڑے گا کہ ہر نمازی حضور سید عالم نبی اکرم ﷺ اور اﷲ رب العزت کے نیک اور صالح بندوں کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہے اور پیش کرتا ہے، اسی کو انشائِ سلام کہتے ہیں۔

۴۔ ہمارے فقہاء کرام نے تصریح کردی ہے کہ انشاء سلام کا ارادہ ہونا چاہئے نہ کہ حکایت کا۔ تنویر الابصار اور اس کی شرح دُرِ مختار میں ہے :

نمازی تشہد کے الفاظ سے ان معانی کا قصد کرے، جو ان الفاظ سے مراد ہیں اور یہ قصد بطورِ انشاء ہو، گویا وہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں تحفے پیش کررہا ہے اور اﷲ تعالیٰ کے نبی کریم ﷺ، اپنی ذات اور اولیاء اﷲ پر سلام پیش کررہا ہے، اخبار اور حکایتِ سلام کی نیت ہرگز نہ کرے۔

(امام علاء الدین الحصکفی : درمختار، مجتبائی، دہلی:ج۱:ص۴۷۶)

دوسری حدیث

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ! بندے کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس چلے جاتے ہیں، تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سُن رہا ہوتا ہے کہ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں :

ماکنت تقول فی ھذا الرجل لمحمد

(امام محمد بن اسماعیل بخاری: صحیح بخاری: رشیدیہ، دہلی: ج۱: ص۱۸۳۔۱۸۴)

حضرت محمد ﷺ کی طرف اشارہ کرکے کہتے ہیں: تو اس ہستی کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا؟

وجہ استدلال یہ ہے کہ ھذا اسم اشارہ ہے اور اسماء اشارہ کا حقیقی استعمال محسوس اشارہ کے لئے ہوتا، مولانا جامی رحمہ اﷲ تعالیٰ کا فیہ کی شرح میں فرماتے ہیں :

اسماء اشارہ وہ اسماء ہیں جن کی وضع اس چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہوتی ہے، جس کی طرف اعضاء اور جوارح کے ساتھ محسوس اشارہ کیا جائے ذالکم اﷲ ربکم میں محسوس اشارہ نہیں ہے، اس جگہ اسم اشارہ کا استعمال مجازاً ہے۔

(علامہ ملا عبدالرحمن جامی: شرح جامی:مطبع یوسفی، دہلی: ص۲۱۱)

علامہ ابن حاجب فرماتے ہیں : ویقال ذا للقریب۔ ذا کے ساتھ قریب کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

اُصولِ فقہ کا قاعدہ ہے کہ جب تک حقیقت پر عمل ہوسکے ، مجاز ساقط اور ناقابلِ اعتبار ہوگا۔

حدیث شریف میں وارد کلمات ھذا الرجل سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہر قبر والے کے سامنے محسوس اور قریب ہوتے ہیں ، کیونکہ ھٰذَا اسم اشارہ کا حقیقی معنٰی یہی ہے، جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ معلوم ذ ہنی کی طرف اشارہ ہے، انہیں ثابت کرنا پڑے گا کہ اس جگہ ایسا قرینہ پایا گیا ہے جو حقیقت کے مراد لینے سے مانع ہے ودونہ خرط اتقیاد۔ ہمیں بتایا جائے کہ وہ کو نسا قرینہ ہے؟ جب کہ حقیقت مراد لینے کے لئے تو کسی قرینے کی ضرورت نہیںہے۔

مقصد یہ ہے کہ دنیا میں بیک وقت ہزاروں افراد مرتے ہیں اور زیر زمین دفن ہوتے ہیں، سب کو سرکار دوعالم ﷺ کی زیارت ہوتی ہے اور سب سے یہی سوال ہوتا ہے کہ تو اِس ہستی کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا ؟

ایک صاحب کہنے لگے کہ میّت کے سامنے سے پردے اُٹھا دئیے جاتے ہیں اسی لئے اُسے سرکار دوعالم ﷺ کی زیارت ہوجاتی ہے ۔ راقم نے اُن سے گزارش کی کہ اُمتی کے سامنے سے تو عملاً پردے اُٹھا دئیے جاتے ہیں، لیکن اﷲ تعالیٰ کے حبیب اکرم ﷺ کے لئے کون سا امر مانع ہے کہ آپ کے سامنے سے پردے نہیں اُٹھائے جاسکتے ؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اُمتی کے سامنے سے پردے اُٹھ سکتے ہیں ، نبی کے سامنے سے نہیں اُٹھ سکتے ۔ (ﷺ)

امام علامہ نورالدین حلبی، صاحبِ سیرتِ حلبیہ(متوفی۱۰۴۴ھ) فرماتے ہیں :

دو فرشتے قبر والے کو کہتے ہیں کہ تو اس شخصیت کے بارے میں کیا کہتا ہے؟(ماتقول فی ھذاالرجل؟) اور اسم اشارہ کا اصل اور حقیقی معنٰی یہ ہے کہ اس کے ساتھ صرف حاضر کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، بعض علماء کا یہ کہنا کہ ممکن ہے نبی اکرم ﷺ ذہناً حاضر ہوں ، تو اس جگہ گنجائش نہیں ہے، کیونکہ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ کون سی چیز ہے، جس نے تمہیں حقیقت کے چھوڑنے اور مجاز کے اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے، لہذا ضروری ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے جسم شریف(شخص کریم) کے ساتھ حاضر ہوں۔

(علامہ شیخ یوسف بن اسمٰعیل نبہانی: جواہر البحار:مصطفیٰ البابی، مصر: ج۲:ص۱۱۶)

حضور سیّدِ عالم ﷺ کی زیارت

امام بخاری ، مسلم اور ابودائود، حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

من رانی فی المنام فسیرانی فی الیقظۃ ولا یتمثل الشیطن بی۔

(امام محمد بن اسماعیل البخاری: صحیح بخاری: مجتبائی، دہلی:ج۲:ص۱۰۳۵)

’’جس نے خواب میں ہماری زیارت کی، وہ عنقریب بیداری میں ہماری زیارت کرے گا اور شیطان ہماری صورت اختیار نہیں کرسکتا‘‘۔

بیداری میں زیارت سے مراد کیا ہے؟ آخرت میں یا دنیا میں؟ دنیا میں زیارت مراد ہو تو یہ آپ کی حیاتِ ظاہرہ کے ساتھ خاص ہے یا بعد والوں کو بھی شامل ہے؟ پھر کیا یہ حکم ہر اس شخص کے لئے ہے جس کو خواب میں زیارت ہوئی یا اُن لوگوں کے ساتھ ہے، جن میں قابلیت اور سنت کی پیروی پائی جائے؟ اس سلسلے میں محدثین کے اقوال مختلف ہیں، امام ابومحمد ابن ابی جمرہ فرماتے ہیں کہ الفاظ سے عموم معلوم ہوتا ہے اور جو شخص حضور ﷺ کی تخصیص کے بغیر تخصیص کرتا ہے، وہ سینہ زوری کا مرتکب ہے۔

امام جلال الدین سیوطی ، امام ابن ابی جمرہ کا یہ قول نقل کرکے فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا وعدۂ شریفہ پورا کرنے کے لئے خواب میں دیدار سے مشرف ہونے والوں کو بیداری میں بھی دولتِ دیدار عطا کی جاتی ہے، اگرچہ ایک ہی مرتبہ ہو۔

عوام الناس کو یہ دولت گراں مایہ دنیا سے رخصت ہوتے وقت حاصل ہوتی ہے، وہ حضرات جو پابند سنت ہوں، انہیں ان کی کوشش اور سنت کی حفاظت کے مطابق زندگی بھر بکثرت یا کبھی کبھی زیارت حاصل ہوتی ہے، سنت مطہرہ کی خلاف ورزی اس سلسلے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

(امام عبدالرحمن بن ابی ابکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ:طبع بیروت:ج۲:ص۲۵۶)

امام مسلم، حضرت عمران بن حصین صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے سلام کہا جاتا تھا، میں نے گرم لوہے کے ساتھ داغ لگایا، تو یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور جب یہ ترک کیا، تو سلام کا سلسلہ پھر جاری ہوگیا۔ علامہ ابن اثیر نے نہایہ میں فرمایا :

فرشتے انہیں سلام کہتے تھے، جب انہوں نے بیماری کی وجہ سے گرم لوہے سے علاج کیا،تو فرشتوں نے سلام کہنا چھوڑ دیا، کیونکہ گرم لوہے سے داغ لگانا توکل، تسلیم، صبر اور اﷲ تعالیٰ سے شفاء طلب کرنے کے خلاف ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ داغ لگانا ناجائز ہے، ہاں یہ توکل کے خلاف ہے، جو اسباب کے اختیار کرنے کے مقابلے میں بلند درجہ ہے۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکرسیوطی: الحاوی للفتاویٰ: ج۲:ص۲۵۷)

اس سے معلوم ہوا کہ سنت کی خلاف ورزی برکات وکرامات کے حاصل ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہے، امام قرطبی(متوفی۶۷۱ھ) چند احادیث کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

مجموعی طور پر ان احادیث کے پیش نظر یہ بات یقینی ہے کہ انبیاء کرام کی وفات کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہم سے غائب کردئیے گئے ہیں اور ہم ان کا ادراک نہیں کرتے، اگرچہ وہ زندہ موجود ہیں یہی حال فرشتوں کا ہے، کیونکہ وہ زندہ اور موجود ہیں، لیکن ہم میں سے انہیں کوئی نہیں دیکھتا سوائے اولیاء کرام کے، جنہیں اﷲ تعالیٰ اس کرامت کے ساتھ خاص کرتا ہے۔

(امام محمد بن احمد القرطبی: التذکرۃ:المکتبہ التجاریۃ، مصر:ص۱۹۱)

حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گویا ہم موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہے ہیں، جب وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اُترے۔ یہ حدیث امام بخاری نے کتاب المناسک میں روایت کی، نیز نبی اکرم ﷺنے خواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بیت اﷲ شریف کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، یہ حدیث امام بخاری نے کتاب الانبیاء میں روایت کی۔

امام نووی شارح مسلم فرماتے ہیں :

سوال : انبیاء کرام کیسے حج کرتے ہیں اور تلبیہ کہتے ہیں ؟ حالانکہ وہ وصال فرماچکے ہیں اور دارِ آخرت میں ہیں، جب کہ دارِ آخرت، دارِ عمل نہیں ہے ؟

جواب : مشائخِ محدثین اور ہمارے سامنے اس کے کئی جواب آئے ہیں، ایک یہ ہے کہ انبیاء کرام، شہداء کی طرح زندہ ہیں، بلکہ اُن سے افضل ہیں، شہداء اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں، اس لئے بعید نہیں ہے کہ انبیاء کرام حج کریں اور نماز پڑھیں، جیسے کہ ایک دوسری حدیث میں وارد ہے اور یہ بھی بعید نہیں کہ اپنی طاقت کے مطابق اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں، کیونکہ وہ اگرچہ وصال فرماچکے ہیں، تاہم وہ اسی دنیا میں ہیں جو دارالعمل ہے ، یہاں تک کہ جب دنیا کی مدت ختم ہوجائے گی اور اس کے بعد دارِ آخرت آئے گا جو کہ داراجزاء ہے، تو عمل منقطع ہوجائے گا۔

(امام یحییٰ بن شرف نووی: شرح مسلم، بیروت: ج۲:ص۲۲۸)

امام علامہ ابن حجر عسقلانی نے بھی اسی کے قریب بیان فرمایا۔

(امام ابن حجر عسقلانی: فتح الباری، بیروت:ج۶:ص۳۷۸)

قاضی ابوبکر بن العربی فرماتے ہیں :

حضور نبی اکرم ﷺ کا دیدار صفت معلومہ کے ساتھ ہو تو یہ حقیقی ادراک ہے اور اگر اس سے مختلف صفت کے ساتھ ہوتو یہ مثال کا ادراک ہے۔(علامہ سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ بہت عمدہ بات ہے) آپ کی ذات اقدس کا روح اور جسم کے ساتھ دیدار محال نہیں ہے، کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ اور باقی انبیاء کرام زندہ ہیں، وصال کے بعد ان کی روحیں لوٹا دی گئی ہیں، انہیں قبروں سے نکلنے اور علوی اور سفلی جہان میں تصرف کی اجازت دی گئی ہے۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ: ج۲: ص۲۶۳)

جو لوگ اس دنیا میں ہیں، وہ عالم ملک اور عالم شہادت میں ہیںاور جو اِس دنیا سے رحلت کرگئے ہیں، وہ عالم غیب اور عالم ملکوت میں ہیں، عالم ملکوت میں چلے جانے والے ہمیں دکھائی دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں حجۃ الاسلام امام غزالی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

انہیں ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے، انہیں ایک دوسری آنکھ سے دیکھا جاتا ہے، جو ہر انسان کے دل میں پیدا کی گئی ہے، لیکن انسان نے اس پر شہواتِ نفسانیہ اور دنیاوی مشاغل کے پردے ڈال رکھے ہیں، جب تک دل کی آنکھ سے یہ پردہ دُور نہیں ہوتا، اس وقت تک عالم ملکوت کی کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتا۔

چونکہ انبیاء کرام کی آنکھوں سے یہ پردہ دُور ہوتا ہے، اس لئے انہوں نے ضرور عالم ملکوت اور اس کے عجائب کا مشاہدہ کیا ہے، مردے عالم ملکوت میں ہیں، ان کا مشاہدہ بھی کیا اور خبر دی … ایسا مشاہدہ صرف انبیاء کرام کے لئے ہوسکتا ہے یا ان اولیاء کرام کے لئے جن کا درجہ انبیاء کرام کے قریب ہے۔

(امام محمد بن محمد غزالی: احیاء علوم الدین، دارالمعرفۃ، بیروت: ج۴: ص۵۰۴)

خواب میں زیارت

بہت سے خوش قسمت حضرات کو خواب میں یا بیداری میں سرکار دوعالم ﷺ کی زیارت حاصل ہوئی، چند واقعات ملاحظہ ہوں :

۱۔ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، مجھے خواب میں رسول اﷲ ﷺ کی زیارت ہوئی، میں نے دیکھا آپ میری طرف توجہ نہیں فرمارہے، میں عرض کیا : یارسول اﷲ ! میرا کیا حال ہے؟(کہ آپ میری طرف توجہ نہیں فرمارہے) میری طرف آپ نے متوجہ ہوکر فرمایا: کیا تم روزے کی حالت میں بوسہ نہیں لیتے؟ میں نے عرض کیا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں روزے کی حالت میں کسی عورت کا بوسہ نہیں لوں گا۔

(امام محمد بن محمد غزالی: احیاء علوم الدین، دارالمعرفۃ، بیروت: ج۴: ص۵۰۶)

۲۔ ایک شخص(حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ صحابی) نے رمادہ کے سال(۱۸ھ) نبی اکرم ﷺ کے روضہ اقدس پر حاضر ہوکر خشک سالی کی شکایت کی، انہیں سیّد عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی، آپ نے حکم دیا کہ عمر(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کے پاس جائو اور انہیں کہو کہ لوگوں کو لے کر آبادی سے باہر نکلو اور بارش کی دُعا مانگو ۔ علامہ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث زیر بحث مسئلے سے متعلق نہیں ہے، ایسے بہت سے واقعات نبی اکرم ﷺ کے ماسوا کے لئے بھی واقع ہوئے ہیں اور مجھے اس قسم کے بہت سے واقعات کا علم ہے ۔

(علامہ احمد بن تیمیہ: اقتضاء الصراط المستقیم: طبع لاہور: ص۳۷۳)

۳۔ حضرت اُم المومنین اُم سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : مجھے رسول اﷲ ﷺ کی زیارت ہوئی یعنی خواب میں، آپ کے سرِ اقدس اور داڑھی مبارک کے بال گرد آلود تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ (صلی اﷲ علیک وسلم) آپ کی یہ حالت کیوں ہے؟ فرمایا: ہم ابھی حسین(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کی شہادت پر حاضر ہوئے تھے۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت فرمایا اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

( امام محمد بن عبداﷲ الخطیب: مشکوٰۃ المصابیح، طبع کراچی: ص۵۷۰)

۴۔ امام ترمذی نے شمائل ترمذی میں ایک باب’’باب رؤیۃ رسول اﷲ ﷺ فی المنام‘‘ قائم کیا ہے، اور اس میں ان حضرات کی روایات لائے ہیں، جنہیں خواب میں رسول اﷲ و کی زیارت نصیب ہوئی۔

۵۔ قاہرہ،مصرکے حضرت شیخ عبدالمقصودمحمدسالم رحمہ اﷲتعالیٰ(متوفی۱۳۹۷ھ / ۱۹۷۷ء) نے ایک کتاب’’انوار الحق فی الصلوٰۃ علی سید الخلق سیدنا ومولانا محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم‘‘لکھی ہے، جس میں درود پاک کے مختلف حسین وجمیل صیغے درج ہیں، انہیں درود شریف پڑھنے کا اتنا شوق پیدا ہوا کہ ہر روز پانچ ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتے، وہ گورنمنٹ کے ملازم تھے، چھٹیوں میں یہ تعداد چودہ ہزار تک پہنچ جاتی، انہوں نے مقدمہ میں لکھا ہے کہ انہیں خواب میں حضور سرکار دوعالم ﷺ کی بکثرت زیارت ہوتی تھی۔

(شیخ عبدالمقصودمحمد سالم مصری: انوار الحق(عربی): ص۹۰)

بیداری میں زیارت

۱۔ امام عمادالدین اسمعٰیل بن ہبۃ اﷲ اپنی تصنیف’مزیل الشبہات فی اثبات الکرامات‘‘ میں فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے محاصرہ کے دنوں میں فرمایا: مجھے اس کھڑکی میں رسول اﷲ ﷺ کی زیارت ہوئی، فرمایا : عثمان ! ان لوگوں نے تمہارا محاصرہ کررکھا ہے؟ عرض کیا: جی ہاں، فرمایا: انہوں نے تمہیں پیاس میں مبتلا کردیا ہے؟ عرض کیا: جی ہاں! آپ نے ڈول لٹکایا جس میں پانی تھا، میں نے سیراب ہوکر پانی پیا، یہاں تک کہ میں اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں اور دونوں کندھوں کے درمیان محسوس کررہا ہوں، پھر فرمایا: اگر چاہو تو ان کے خلاف تمہیں مدد دی جائے اور اگر چاہو تو ہمارے پاس افطار کرو، میں نے آپ کے پاس افطار کرنے کو ترجیح دی، چنانچہ وہ اسی دن شہید کردئیے گئے۔

علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ مشہور ہے اور کتب حدیث میں سند کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، امام حارث بن اسامہ نے یہ حدیث اپنی مسند میں اور دیگر ائمہ نے بھی بیان کی ہے، امام عمادالدین نے اسے بیداری کا واقعہ قرار دیا ہے۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ: ج۲:ص۲۶۲)

۲۔ امام ابن ابی جمرہ فرماتے ہیں کہ بعض صحابہ(میرا گمان ہے کہ وہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما ہیں۔ سیوطی) کو خواب میں حضور نبی اکرم ﷺ کی زیارت ہوئی، انہیں یہ حدیث یاد آئی(کہ جسے خواب میں زیارت ہوئی، وہ بیداری میں میں بھی زیارت کرے گا) اور اس بارے میں غوروفکر کرتے رہے، پھر ایک روز اُم المومنین(میرا گمان ہے کہ حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ۔ سیوطی) کے پاس حاضر ہوئے اور ماجرا بیان کیا، اُم المومنین نے انہیں حضور نبی اکرم ﷺ کا آئینہ لا کر دیا، صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے آئینہ دیکھا، تو مجھے اپنی صورت نہیں ، بلکہ نبی اکرم ﷺ کی صورت مبارکہ دکھائی دی۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ: ج۲:ص۲۵۶)

۳۔ شیخ سراج الدین بلقینی ، طبقات الاولیاء میں فرماتے ہیں:

شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ العزیز نے ارشاد فرمایا: مجھے ظہر سے پہلے رسول اﷲ ﷺ کی زیارت ہوئی ، آپ نے فرمایا: بیٹے! گفتگو کیوں نہیں کرتے؟ عرض کیا : ابا جان ! میں عجمی ہوں ، فصحاء بغداد کے سامنے کیسے گفتگو کروں؟ فرمایا: منہ کھولو، میں نے منہ کھولا، تو آپ نے سات مرتبہ لعاب دہن عطا فرمایا اور حکم دیا کہ لوگوں سے خطاب کرو اور اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور موعظۂ حسنہ سے دعوت دو، میں نماز ظہر پڑھ کر بیٹھا ہوا تھا، مخلوق خدا بڑی تعداد میں حاضر تھی، مجھ پر اضطراب طاری ہوگیا، میں نے دیکھا کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مجلس میں میرے سامنے کھڑے ہیں اور فرمارہے ہیں : بیٹے! خطاب کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے عرض کیا : کیسے خطاب کروں؟ میری طبیعت پر تو ہیجان طاری ہے، فرمایا منہ کھولو، میں نے منہ کھولا، تو آپ نے مجھے چھ مرتبہ لعاب دہن عطا فرمایا، میں نے پوچھا: آپ نے سات کی تعداد کیوں نہیں پوری کی؟ تو فرمایا: رسول اﷲ ﷺ کے احترام کے پیش نظر۔

(علامہ سیدمحمود آلوسی: تفسیر روح المعانی ، طبع بیروت: ج۲۲:ص۳۵)

۴۔ طبقات اولیاء میں شیخ خلیفہ بن موسیٰ نہر ملکی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

انہیں خواب اور بیداری میں رسول اﷲ ﷺ کی بکثرت زیارت ہوتی تھی، ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے اکثر افعال خواب یا بیداری میںحضور نبی اکرم ﷺ سے حاصل کئے گئے تھے، ایک رات انہیں سترہ مرتبہ زیارت کی سعادت حاصل ہوئی، ان ہی مواقع میں سے ایک موقع پر ارشاد فرمایا خلیفہ ! ہم سے تنگ نہ ہو، بہت سے اولیاء ہمارے دیدار کی حسرت لے کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔

(علامہ سیدمحمود آلوسی: تفسیر روح المعانی ، طبع بیروت: ج۲۲:ص۳۵۔۳۶)

۵۔ شیخ تاج الدین بن عطاء اﷲ اسکندری، لطائف المنن میں فرماتے ہیں:

ایک شخص نے شیخ ابوالعباس مرسی سے عرض کیا: جناب! آپ اپنے ہاتھ کے ساتھ مجھ سے مصافحہ فرمائیں، کیونکہ آپ نے بہت سے شہر دیکھے ہیں اور بہت سے اﷲ والوں سے ملاقات کی ہے، انہوں نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ کی قسم ! میں نے اس ہاتھ سے رسول اﷲ ﷺ کے علاوہ کسی سے مصافحہ نہیں کیا۔

شیخ ابوالعباس مرسی نے فرمایا :

’’ اگر ایک لمحے کے لئے رسول اﷲ ﷺ مجھ سے غائب ہوجائیں تو میں اپنے آپ کو مسلمان شمار نہ کروں‘‘۔

(علامہ سیدمحمود آلوسی: تفسیر روح المعانی ، طبع بیروت: ج۲۲:ص۳۶)

۶۔ علامہ آلوسی بغدادی فرماتے ہیں :

’’ہوسکتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی ملاقات ہوئی ہو اور یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد اس اُمت کے ایک سے زیادہ کاملین کو بیداری کی حالت میں آپ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے استفادہ کیا‘‘۔

(علامہ سیدمحمود آلوسی: تفسیر روح المعانی ، طبع بیروت: ج۲۲:ص۳۵)

۷۔ حضرت سیّد احمد کبیر رفاعی، حج کرنے گئے تو حجرۂ مبارکہ کے سامنے کھڑے ہوکر یہ اشعار پڑھے ؎

فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی وھی نائبتی وھذہ دولۃ الاشباح قد حضرت فامدد یمینک کی تحظی بھا شفتی

ترجمہ۔’’ میں دوری کی حالت میں اپنی روح کو بھیجا کرتا تھا، وہ میری نیابت میں زمین بوسی کیا کرتی تھی اور یہ جسمانی دولت ہے، میں جسمانی طور پر حاظر ہوں، آپ ہاتھ بڑھائیں تاکہ میرے ہونٹ اس سے فیض یاب ہوں‘‘۔

روضۂ اقدس سے دست مبارک باہر نکلا جسے انہوں نے بوسہ دیا۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ: ج۲: ص۲۶۱)

۸۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’یہ حالت ایک مدت تک رہی، پھر اتفاقاً ایک ولی کے مزار شریف کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہوا، اس معاملے میں اس صاحبِ مزار بزرگ کو میں نے اپنا مددگار بنایا(ان سے مدد طلب کی) اﷲ تعالیٰ کی مدد شامل ہوگئی اور معاملے کی حقیقت پوری طرح منکشف کردی، حضرت خاتم المرسلین رحمۃ للعالمین ﷺ کی روح انور رونق افروز ہوئی اور میرے غمگین دل کو تسلی دی‘‘۔

(امام ربانی شیخ احمد سرہندی: مکتوبات امام ربانی: فارسی، دفتر اوّل، مکتوب۲۲۰)

ایک دوسرا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’اتفاقاً آج صبح حلقۂ مراقبہ کے دوران کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر علیٰ نبینا وعلیہما الصلوٰت والتسلیمات روحانیوں کی صورت میںتشریف لائے اور اس روحانی ملاقات میں حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: ہم روحیں ہیں، اﷲ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو قدرتِ کاملہ عطا فرمائی ہے کہ وہ اجسام کی صورت میں متشکل ہوکر جسمانی حرکات وسکنات اور عبادت ادا کرتی ہیں جو اجسام ادا کیا کرتے ہیں‘‘۔

(امام ربانی شیخ احمد سرہندی: مکتوبات امام ربانی: فارسی، دفتر اوّل، مکتوب۲۸۲)

دیوبندی مکتب فکر کے شیخ الحدیث محمد انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں :

’’ میرے نزدیک بیداری میں نبی اکرم ﷺ کی زیارت ممکن ہے، جسے اﷲ تعالیٰ یہ سعادت عطا فرمائے جیسے کہ علامہ سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ سے منقول ہے کہ انہیں بائیس مرتبہ سرکار دوعالم ﷺ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے آپ سے کئی حدیثوں کے بارے میں دریافت کیا، اور آپ کے صحیح قرار دینے پر ان احادیث کو صحیح قرار دیا‘‘۔

(محمد انور شاہ کشمیری: فیض الباری: مطبعۃ حجازی، قاہرہ:ج۱:ص۴)

۱۰۔ یہ بھی ان ہی کا بیان ہے کہ علامہ عبدالوھاب شعرانی نے لکھا ہے کہ انہیں حضور نبی اکرم ﷺ کی زیارت ہوئی، انہوں نے آٹھ ساتھیوں کے ساتھ آپ سے بخاری شریف پڑھی، ان کے نام بھی گنوائے، ان میں سے ایک شیخ محمد حنفی تھا، انہوں نے وہ دعا بھی لکھی جو ختم بخاری کے موقع پر فرمائی ۔

مولوی محمد انور شاہ کشمیری صاحب کہتے ہیں :

فا لرؤیۃ یقظۃ متحققۃ وانکار ھا جھلٌ ۔

ترجمہ ۔ بحالت بیداری زیارت متحقق ہے اور اس کا انکار جہالت ہے۔

(محمد انور شاہ کشمیری: فیض الباری: مطبعۃ حجازی، قاہرہ:ج۱:ص۲۰۴)

۱۱۔ حضرت شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’جب میں مدینہ منورہ میں داخل ہوا اور رسول اﷲ ﷺ کے روضۂ مقدسہ کی زیارت کی، تو آپ کی روحِ انور کو ظاہر وعیاں دیکھاتو فقط عالم ارواح میں نہیں، بلکہ حواس کے قریب، عالم مثال میں، تب مجھے معلوم ہوا کہ عوام الناس جو نمازوں میں نبی اکرم ﷺ کے حاضر ہونے اور لوگوں کو امامت کرانے کا ذکر کرتے ہیں ، اس کی بنیاد یہی دقیقہ ہے‘‘۔

(شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی: فیوض الحرمین: محمد سعید کمپنی، کراچی: ص۸۲)

شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں :

’’ پھر میں چند بار روضۂ مقدسہ کی طرف متوجہ ہوا، تو رسول اﷲ ﷺ نے ایک لطافت کے بعد دوسری لطافت میں ظہور فرمایا، کبھی محض ہیبت وعظمت کی صورت میں اور کبھی جذب، محبت، اُنس اور انزراح کی صورت میں اور کبھی سریان کی صورت میں، یہاں تک کہ میں خیال کرتا تھا کہ تمام فضا رسول اﷲ ﷺ کی رُوح مقدس سے بھری ہوئی ہے، اور روح مبارک فضا میں تیز ہوا کی طرح موجزن ہے‘‘۔

(شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی: فیوض الحرمین: محمد سعید کمپنی، کراچی: ص۸۳)

۱۲۔ امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ جب دوسری دفعہ حرمین شریفین کی حاضری کے لئے گئے تو روضۂ مقدسہ کے سامنے کھڑے ہوکر دُرود شریف پڑھتے رہے اور یہ آرزو دل میں لئے حاضر رہے کہ سرکار دوعالم ﷺ کرم فرمائیں گے اور بیداری کی حالت میں شرفِ زیارت سے مشرف فرمائیں گے، پہلی رات آرزو پوری نہ ہوئی ، تو بے قراری کے عالم میں ایک نعت لکھی جس کا مطلع ہے ؎ وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

مقطع میں اسی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ؎ کوئی کیوں پوچھے ؟تیری بات رضاؔ
تجھ سے کتّے ہزار پھرتے ہیں

یہ غزل مواجہہ عالیہ میں عرض کرکے باادب بیٹھے ہوئے تھے کہ قسمت جاگ اُٹھی، اور سر کی آنکھوں سے بحالت بیداری حضور رحمتِ عالم ﷺ کی زیارت مقدسہ سے مشرف ہوئے۔ ( ملک العلماء ظفر الدین بہاری : حیات اعلیٰ حضرت، مکتبہ رضویہ، کراچی: ج۱: ص۴۴)

۱۳۔ راقم کے مرشد گرامی حضرت شیخ المشائخ اخند زادہ سیف الرحمن پیرارچی مد ظلہ العالی نے بیان کیا کہ مجھے ساڑھے تین سال تک ہر محفل ذکر میں سرکار دوعالم ﷺ کی زیارت ہوتی رہی۔

علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ رسالہ مبارکہ’’تنویر الحلک فی امکان رؤیۃ النبی والملک‘‘ میں متعدد احادیث وآثار نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

’’اِن نقول اور احادیث کے مجموع سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضور نبی اکرم ﷺ اپنے جسم اور روح مبارک کے ساتھ زندہ ہیں اور اطراف زمین اور ملکوتِ اعلیٰ میں جہاں چاہتے ہیں، تصرف اور سیر فرماتے ہیں اور حضور اکرم ﷺ اسی حالتِ مقدسہ میں ہیں جس پر وصال سے پہلے تھے، آپ کی کوئی چیز تبدیل نہیں ہوتی۔

بے شک حضور نبی اکرم ﷺ ظاہری آنکھوں سے غائب کردئیے گئے ہیں، جس طرح فرشتے غائب کردئیے گئے ہیں، حالانکہ وہ اپنے جسموں کے ساتھ زندہ ہیں، جب اﷲ تعالیٰ کسی بندے کو حضور نبی اکرم ﷺ کی زیارت کا اعزاز عطا فرمانا چاہتا ہے، تو اس سے حجاب دُور کردیتا ہے اور وہ بندہ حضور نبی اکرم ﷺ کو اسی حالت میں دیکھ لیتا ہے جس پر آپ واقع ہیں، اس دیدار سے کوئی چیز مانع نہیں ہے اور مثال کے دیدار کی تخصیص کا بھی کوئی امر داعی نہیں ہے‘‘۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ: طبع بیروت: ج۲۲:ص۳۷)

علامہ سیّد محمود آلوسی بغدادی نے بھی یہ عبارت لفظ بلفظ نقل کی ہے۔

(علامہ سیدمحمود آلوسی: تفسیر روح المعانی ، طبع بیروت: ج۲۲:ص۳۷)

شخص واحد متعدد مقامات میں

ایک شخص کا متعددمقامات میں دیکھا جانا نہ صرف ممکن ہے، بلکہ بالفعل واقع ہے، اس کی کئی صورتیں ہیں :

۱۔ درمیان کے پردے اُٹھادئیے جائیں اور ایک شخص ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ سے دیکھا جائے۔

۲۔ ایک شخص موجود تو ایک جگہ ہو، اس کی تصویریں کئی جگہ دکھائی جائیں جیسے ٹی۔ وی میں ہوتا ہے، حاضر وناظر کا مسئلہ سمجھنے کے لئے ٹی۔ وی بہت معاون ہوسکتا ہے، بلکہ اَب تو ایسا ٹیلی فون آگیا ہے کہ آپس میں گفتگو بھی ہورہی ہے اور ایک دوسرے کی تصویر بھی دکھائی دے رہی ہے، جو چیز آلات کے ذریعے سے واقع ہورہی ہے، کیا وہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں ہوگی؟ یقیناً ہوگی، تو استبعاد کیوں؟

۳۔ اﷲ تعالیٰ شخص واحد کے لئے متعدد اجسام مثالیہ مسخر فرمادیتا ہے، ان میں تصرف اور انہیں کنٹرول کرنے والی ایک ہی رُوح ہوتی ہے، اس سے وہ تکثر جزئی لازم نہیں آئے گا جسے مناطقہ محال کہتے ہیں، کیونکہ وحدت اور تعدد کا مدار روح پر ہے، جب روح ایک ہے تو وہ ایک ہی شخص کہلائے گا، چاہے اجسام مختلف اور متعدد ہی ہوں۔

سب سے پہلے ایک حدیث ملاحظہ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بطورِ خرق عادت ایک شخص کے متعدد اجسام ہوسکتے ہیں۔

حضرت قرہ مُزنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی کو اپنے بیٹے سے شدید محبت تھی، قضائے الٰہی سے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، نبی اکرم ﷺ کو اطلاع ملی، توآپ نے ارشاد فرمایا :

اما تحب ان لّا تاتی باباً من ابواب الجنۃ الا وجدتہ ینتظرک

کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم جنت میں جس دروازے پر بھی جائو، اپنے بیٹے کو وہاں انتظار کرتے ہوئے پائو۔ ایک صحابی نے عرض کیا : یا رسول اﷲ (صلی اﷲ تعالیٰ علیک وسلم) کیا یہ اس کے لئے خاص ہے یا ہم سب کے لئے ہے؟ فرمایا ! تم سب کے لئے ہے۔

(امام محمد بن عبداﷲ خطیب تبریزی: مشکوٰۃ المصابیح: رشیدیہ دہلی: ص۱۵۳)

حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں :

’’اس حدیث میں اشارہ ہے کہ بطور خرق عادت، مکتسب اجسام متعدد ہوتے ہیں، کیونکہ صحابی کا بیٹا، جنت کے ہر دروازے پر موجود ہوگا‘‘۔

(علامہ علی بن سلطان محمد القاری: مرقاۃ المفاتیح،مکتبہ امدادیہ ملتان: ج۴:ص۱۰۹)

امام احمد اور امام نسائی سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : جب ہمیں سفرِ معراج پر لے جایا گیا، تو ہم نے مکہ معظمہ میں صبح کی، ہمیں یقینی طور پر معلوم تھا کہ لوگ ہماری تکذیب کریں گے… اہل مکہ نے کہا کہ کیا آپ مسجد اقصیٰ کی صفات بیان کرسکتے ہیں؟ ان میں سے ایسے لوگ بھی تھے، جنہوں نے یہ مسجد دیکھی ہوئی تھی، رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ہم نے اس مسجد کے اوصاف بیان کرنے شروع کئے ، بعض اوصاف کے بارے میں اشتباہ پیدا ہوگیا، ہم دیکھ رہے تھے کہ وہ مسجد حضرت عقیل(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کے گھر کے آگے رکھ دی گئی، چنانچہ ہم نے اسے دیکھ کر اس کے اوصاف بیان کرنے شروع کردئیے۔

امام سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

’’ یاتو مسجد اقصیٰ کی تصویر پیش کی گئی جیسے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے دیوار کی چوڑائی میں جنت اور دوزخ کو ملاحظہ فرمایا، یا درمیانی مسافت سمیٹ دی گئی، میرے نزدیک اس جگہ یہ بہتر توجیہ ہے، کیونکہ یہ طے شدہ بات ہے کہ اس وقت بیت المقدس وہاں کے لوگوں کے سامنے رہا اور غائب نہیں ہوا‘‘۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ: مطبوعہ بیروت: ج۱: ص۲۲۲)

اسی سلسلے میں وہ حدیث ہے جو امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے اپنی تفسیروں میں بیان کی اور امام حاکم نے مستدرک میں روایت کی اور اسے صحیح قرار دیا اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے : لو لا ان رأی برھان ربہ۔

(یوسف علیہ السلام بھی اس عورت کا قصد کرتے، اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتے)

ابن عباس(رضی اﷲ تعالیٰ عنہما) نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ان کے سامنے حضرت یعقوب علیہ السلام کی تصویر لائی گئی، ایسی ہی تفسیر ابن جریر نے سعید بن جبیر، حمید بن عبدالرحمن، مجاہد، قاسم بن ابی بزہ، عکرمہ، محمد بن سیرین، قتادہ، ابو صالح، شمر بن عطیہ اور ضحاک سے روایت کی۔ نیز حضرت حسن بصری سے روایت کیا کہ مکان کی چھت کھل گئی اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیکھا۔ ایک روایت میں حضرت حسن بصری نے فرمایا: انہوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی تصویر دیکھی۔

امام سیوطی علیہ الرحمہ ان آثار کے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

’’ان سلف صالحین کا یہ قول ، مثال کے ثابت کرنے یا زمین کے سمیٹ دینے کی دلیل ہے اور یہ ہمارے زیرِ بحث مچئلہ کے لئے عظیم گواہ ہے، کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر میں ہوتے ہوئے اپنے والد ماجد کو دیکھا جب کہ حضرت یعقوب علیہ السلام شام میں تھے، اس سے حضرت یعقوب علیہ السلام کا ایک وقت میں دو دور دراز جگہوں میں دیکھا جانا ثابت ہوتا ہے اور یہ ہمارے بیان کردہ دو قاعدوں(مثال یا طی مسافت کے ثابت کرنے ) میں سے ایک پر مبنی ہے‘‘۔

( امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ: ج۱: ص۲۲۲)

علامہ علاء الدین قونوی اپنی تالیف الاعلام میں فرماتے ہیں :

’’ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے بعض بندوں ملکی اور مقدس نفوس کو زندگی میں ایسی خاصیت اور قوت عطا فرمادے جس کی بناء پروہ اپنے مخصوص بدن کے علاوہ دوسرے بدن میں تصرف کریں، باوجودیکہ ان کا تصرف پہلے بدن میں بھی جاری رہے … جب جنات کا مختلف صورتوں میں متشکل ہونا جائز ہے ، تو انبیاء کرام، ملائکہ اور اولیاء عظام کے لئے بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا۔

صوفیاء کرام نے عالم اجسام اور عالم ارواح کے درمیان ایک تیسرا عالم ثابت کیا ہے جس کا نام انہوں نے عالم مثال رکھا ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ عالم، عالمِ اجسام کی نسبت زیادہ لطیف اور عالم ارواح کی نسبت کثیف ہے، اسی بنا پر وہ روحوں کے مجسم ہونے اور عالمِ مثال کی مختلف صورتوں میں ظاہر ہونے کے قائل ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد فتمثل لھا بشرًا سویّا(جبرائیل علیہ السلام تندرست، توانا انسان کی صورت میں مریم علیہا السلام کے سامنے آئے) سے اس نظرئیے کی تائید ہوتی ہے، حضرت جبرائیل علیہ السلام کی ایک ہی روح اُن کے اصلی پیکر اور اس مثالی پیکر میں تصرف کرنے والی ہوگی۔

اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام ہیں اور اس میں کوئی بُعد نہیں ہے، کیونکہ جب اُن کے لئے مُردوں کا زندہ کرنا، عصا کو اژدھا بنا دینا جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ اﷲ تعالیٰ انہیں بعید مسافت، مثلاً زمین وآسمان کی درمیانی مسافت ایک لمحے میں طے کرنے کی قدرت عطا فرمادے تو یہ بھی محال نہیں ہے کہ انہیں دو یا دو سے زیادہ جسموں میں تصرف کی خصوصی اجازت عطا فرمادے۔ بہت سے مسائل اس پر مبنی ہیں اور اس قاعدے کی بنا پر بہت سے اشکالات حل ہوجاتے ہیں … اہل علم نے اس قاعدے کی بناء پر مبنی بہت سی حکایات بیان کی ہیں اور ان کے نزدیک یہ اہم ترین قواعد میں سے ہے‘‘۔ (کلام قونوی ملخصاً)

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ: ج۱: ص۲۲۲)

علامہ سید محمود آلوسی بغدادی فرماتے ہیں :

انسانی روحیں جب مقدس ہوجاتی ہیں، تو کبھی اپنے بدنوں سے جدا ہوکر اپنے بدنوں کی صورتوں یا دوسری صورتوں میں ظاہر ہوکر حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرح کہ وہ کبھی حضرت دحیہ کلبی یا بعض بدویوں کی صورت میں ظاہر ہوتے تھے، جہاں اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے ، جاتی ہیں اور ان کا اپنے بدنوں کے ساتھ ایک قسم کا تعلق بھی باقی رہتا ہے جس کی بناء پر رُوحوں کے افعال ان جسموں سے صادر ہوتے ہیں۔

جیسے کہ بعض اولیاء کرام قدست اسراہم کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں متعدد مقامات میں دیکھے جاتے ہیں اور یہ صرف اس لئے ہوتا ہے کہ ان کی روحیں اعلیٰ درجے کا تجرد اور تقدس حاصل کرلیتی ہیں، لہذا وہ خود ایک شکل کے ساتھ ایک جگہ ظاہر ہوتی ہیں اور ان کا اصلی بدن دوسری جگہ ہوتا ہے ؎

لا تقل دار ھا بشر قی نجدٍ کل نجدٍ للعامریۃ دار

(ترجمہ) تم یہ نہ کہو کہ محبوبہ کا گھر نجد کے مشرقی حصے میں ہے، بلکہ تمام نجد عامریہ(محبوبہ) کا گھر ہے۔

(علامہ سید محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی: طبع بیروت: ج۲۳:ص ۱۳)

علامہ سید محمود آلوسی صاحبِ تفسیر روح المعانی مزید فرماتے ہیں :

یہ امر اکابر صوفیا ء کے نزدیک ثابت اور مشہور ہے اور طی مسافت سے الگ چیز ہے، جو شخص ان دونوں کمالوں(طی مسافت اور متعدد مقامات پر موجود ہونے) کا انکار کرتا ہے اُس کا انکار ایسی سینہ زوری ہے جو جاہل اور معاند ہی سے ظاہر ہوسکتی ہے ۔

علامہ تفتازانی نے ابن مقاتل ایسے بعض فقہاء اہل سنت پر تعجب کا اظہار کیا ہے، جنہوں نے اس شخص پر کفر کا حکم لگایا جو اس روایت کو مانتا ہے کہ لوگوں نے حضرت ابراہیم بن ادھم(رحمہ اﷲ تعالیٰ) کو ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ کو بصرہ میں دیکھا اور اسی دن مکہ مکرمہ میں بھی دیکھے گئے، انہوں نے کفر کا فتویٰ اس گمان کی بناء پر دیا کہ بیک وقت کئی جگہوں پر موجود ہونا بڑے معجزات کی جنس سے ہے اور اسے بطورِ کرامت ولی کے لئے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

حالانکہ تم जानते ہو کہ ہم اہل سنت کے نزدیک نبی کا ہر معجزہ ولی کے لئے بطور کرامت ثابت ہوسکتا ہے، سوائے اس معجزہ کے بارے میں دلیل سے ثابت ہوجائے کہ وہ ولی سے صادر نہیں ہوسکتا، مثلاً قرآن پاک کی کسی سورت کا مثل لانا۔

متعدد محققین نے بعد از وصال حضور نبی اکرم ﷺ کی روحِ اقدس کے متمثل ہوکر ظاہر ہونے کو ثابت کیا ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بیک وقت متعدد مقامات پر زیارت کی جاتی ہے، باوجودیکہ آپ اپنی قبر انور میں نماز پڑھ رہے ہیں، اس مسئلہ پر تفصیلی کلام اس سے پہلے گزر چکا ہے۔

(علامہ سید محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی: ج۲۳:ص ۱۴)

اس کے بعد علامہ آلوسی آسمانوں پر حضور نبی اکرم ﷺ کی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء کرام کے ساتھ ملاقات کا ذکر کرکے فرماتے ہیں :

ان انبیاء کرام کی قبریں زمین میں ہیں اور کسی عالم نے یہ نہیں کہا کہ انہیں زمین سے آسمانوں کی طرف منتقل کردیا گیا تھا۔

(علامہ سید محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی: ج۲۳:ص ۱۴)

کہنا پڑے گا کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنی قبروں میں بھی جلوہ فرماتھے اور آسمانوں پر بھی جلوہ گر تھے۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں غروبِ آفتاب کے وقت حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مسجد میں تھا، آپ نے فرمایا : ابوذر ! جانتے ہو سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اﷲ تعالیٰ اور اُس کے رسول اکرم(ﷺ) بہتر جانتے ہیں، فرمایا وہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے۔

(امام محمد اسماعیل بخاری: صحیح بخاری: طبع دہلی:ج۲: ص۷۰۹)

اس حدیث پر اشکال یہ ہے کہ امام الحرمین نے تصریح کی ہے کہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ سورج ایک قوم سے غروب ہوتا ہے ، تو دوسری قوم پر طلوع ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ہر رات عرش مجید کے نیچے کیسے ٹھہرتا ہے اور سجدہ کرتا ہے؟ علامہ آلوسی نے اس اشکال کا جواب دیا ہے :

’’یہ اس قبیلے سے نہیں ہے جسے حکماء نے محال قرار دیا ہے، یعنی ایک نفس کا متعدد جسموں کے ساتھ مشغول ہونا، بلکہ یہ اس سے ماوراء ہے جیسے کہ اس شخص پر مخفی نہیں جسے اﷲ تعالیٰ نے نور بصیرت عطا فرمایا ہے، اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کے مقدس نفوس کی طرح سورج کا بھی نفس ہے جو سورج کو دیکھے جانے والے جسم سے اس طرح جدا ہوجاتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک قسم کا تعلق باقی رہتا ہے، یہ نفس بلا واسطہ عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے، وہاں ٹھہرتا ہے اور اجازت مانگتا ہے، یہ سب کچھ سورج کے معروف جسم کے محو سفر رہنے اور ساکن نہ ہونے کے منافی نہیں ہے جیسے کہ علماء ہیأۃ وغیرہ دعویٰ کرتے ہیں ، کیونکہ سورج کے نفس کا اپنے جسم سے الگ ہوکر اﷲ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق متشکل ہوکر سجدہ کرنا اور عرش مجید کے نیچے ٹھہرنا، اس کے معروف جسم کے سفر کے منافی نہیں ہے۔ اسی طریقے پر اس مسئلے کا حل نکالا جائے گا کہ کعبہ، بعض اولیاء کی زیارت کرتا ہے جیسے کہ بعض علماء نے بیان کیا، اس کا حل یہ ہے کہ کعبہ حقیقتاً اس چیز(پتھروں کی عمارت) کے علاوہ ہے جسے عوام الناس پہچانتے ہیں، کعبہ کی وہ حقیقت بعض اولیاء کی زیارت کرتی ہے اور لوگ پتھروں کی عمارت کو اپنی جگہ برقرار دیکھتے ہیں‘‘۔

(علامہ سید محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی: ج۲۳:ص ۱۴)

ائمہ د ین کے ارشادات

یہ مسئلہ از قبیل واردات ومشاہدات ہے یا تو انسان خود روحانیت کے اس مقام پر فائز ہو کہ انبیاء کرام اور اولیاء عظام کی زیارت سے بہرہ ور ہو یا پھر شریعت وطریقت کے جامع علماء دین کے بیانات کے آگے سر تسلیم خم کردے، ایسا شخص جسے خود دکھائی نہ دیتا ہو اور بینائی والوں کی بات بھی ماننے کے لئے تیار نہ ہو، اُسے کھلی آنکھوں سے نظر آنے والے سورج کے وجود کا بھی قائل نہیں کیا جاسکتا۔

آئیے دیکھیں کہ مستند علماء اُمت اس مسئلے میں کیا کہتے ہیں :

حضرت عمرو بن دینار جلیل القدر تابعی اور محدثین کرام کے امام ہیں، حضرت ابن عباس، ابن عمر اور حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہیں، امام شعبہ ، سفیان بن عیینہ اور سفیان ثوری ایسے عظیم محدّث ان کے شاگرد ہیں، وہ فرماتے ہیں !

جب گھر میں کوئی شخص نہ ہو تو کہو :

السلام علی النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہٗ ۔

حضرت ملا علی قاری رحمہ اﷲ تعالیٰ اس ارشاد کی شرح میں فرماتے ہیں :

اس لئے کہ نبی اکرم ﷺ کی رُوحِ انور مسلمانوں کے گھروں میں حاضر ہے۔

(علامہ علی بن سلطان محمد القاری: شرح شفاء: مکتبہ سلفیہ، مدینہ منورہ:ج۳:ص ۶۴)

حضرت امام بیہقی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

انبیاء کرام علیہم السلام کا مختلف اوقات میں متعدد مقامات میں تشریف لے جانا عقلاً جائز ہے جیسے کہ اس بارے میں خبر صادق وارد ہے۔

(علامہ علی بن سلطان محمد القاری: مرقاۃ المفاتیح: مکتبہ امدادیہ، ملتان: ج۳؛ص۱)

حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

رسول اﷲ ﷺ کو اختیار ہے کہ ارواحِ صحابہ کے ساتھ جہان کے جس حصے میں چاہیں تشریف لے جائیں۔

(امام اسماعیل حقی : تفسیر روح البیان:ج۱۰: ص۹۹)

علامہ سعدالدین تفتا زانی فرماتے ہیں کہ ایل بدعت وہوا جو کرامات کا انکار کرتے ہیں، تو یہ کچھ بعید نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے نہ تو خود اپنی ذات سے کرامات کا صدور دیکھا اور نہ ہی اپنے ان مقتدائوں سے کرامت نام کی کوئی چیز صادر ہوتے ہوئے دیکھی، جن کا گمان یہ ہے کہ ہم بھی کچھ ہیں، حالانکہ انہوں نے عبادات کے ادا کرنے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کی، چنانچہ یہ لوگ اصحاب کرامت اولیاء اﷲ پر نکتہ چینی میں مصروف ہوئے، ان کی کھال اُدھیڑ دی اور اُن کے گوشت چبائے، انہیں جاہل صوفیاء کا نام دیتے ہیں اور انہیں بدعتی قرار دیتے ہیں۔

اس کے بعد فرماتے ہیں :

تعجب تو بعض اہل سنت فقہاء سے ہے، حضرت ابراہیم بن ادھم کے بارے میں مروی ہے کہ لوگوں نے ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ کو انہیں بصرہ میں دیکھا اور اسی دن انہیں مکہ مکرمہ میں دیکھا گیا، ان بعض سُنی فقہاء نے کہا کہ جو اِس کے جائز ہونے کا عقیدہ رکھے کافر ہے، اور انصاف وہ ہے جو امام نسفی نے بیان کیا، ان سے پوچھا گیا کہ کہا جاتا ہے کہ کعبہ بعض اولیاء کی زیارت کرتا ہے ، کیا اس طرح کہنا جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ! اہل سنت کے نزدیک بطور کرامت خلافِ عادت کا واقع ہونا جائز ہے۔ (یعنی اسی طرح ایک شخص کا دو جگہ ہونا بھی بطورِ کرامت جائز ہے)

(علامہ مسعودبن عمر تفتازانی: شرح مقاصد، مکتبہ مدنیہ، لاہور:ج۲:ص۲۰۴)

یہی بات علامہ محمود بن اسرائیل الشہیر بابن قاضی سماونہ نے فرمائی ، وہ فرماتے ہیں :

ایسا عقیدہ رکھنے والے کو کافر اور جاہل نہیں کہنا چاہئے، کیونکہ یہ کرامت ہے، معجزہ نہیں ہے، معجزہ مین چیلنج ضروری ہے، اس جگہ چیلنج نہیں ہے، لہذا معجزہ بھی نہیں ہے، اہل سنت کے نزدیک کرامت جائز ہے۔

( قاضی محمود بن اسرائیل: جامع الفصولین: مطبوعہ مصر ۱۳۰۱ھ: ج۲:ص۳۲)

حضرت ملا علی قاری رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

اولیاء کرام سے بعید نہیں ہے ، ان کے لئے زمین سمیٹ دی گئی ہے اور انہیں متعدد اجسام حاصل ہوئے ہیں، الوگوں نے ان اجسام کو ایک آن میں مختلف جگہوں پر پایا ہے۔

(علامہ علی بن سلطان محمد القاری: مرقاۃ المفاتیح: مکتبہ امدادیہ، ملتان: ج۴: ص۳۱)

امام جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے اس موضوع پر ایک رسالہ لکھا ہے، جس کا نام المنجلی فی تطور الولی(جو کچھ ولی کے مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہونے کے بارے میں ظاہر ہوا) ان کی خدمت میں یہ سوال پیش ہوا کہ دو شخصوں نے طلاق کی قسم کھائی کہ ہمارے شیخ نے ہمارے پاس رات گزاری ہے، کیا ان دونوں میں سے کسی کی قسم جھوٹی ہوگی؟ اور وہ حانث ہوگا؟

امام نے جواب دیا کہ اس کی چند صورتیں ہیں :

(۱) اِن میں سے ہر ایک گواہ قائم کرے۔

(۲) کوئی بھی گواہ پیش نہ کرے۔

(۳) ایک گواہ پیش کرے، دوسرا پیش نہ کرے۔

پہلی دونوں صورتوں میں ظاہر ہے کہ کوئی بھی حانث نہ ہوگا۔

تیسری صورت میں وہ شخص اختلاف کرے گا، جس کا گمان یہ ہے کہ ایک شخص کا ایک وقت میں دو جگہ ہونا ممکن نہیں، بلکہ محال ہے، حالانکہ یہ محال نہیں ہے جیسے کہ اس شخص کا وہم ہے۔ جلیل القدر ائمہ کرام نے تصریح کی ہے کہ یہ جائز اور ممکن ہے۔

میں کہتا ہوں کہ اس کے ممکن ہونے پر بڑے بڑے ائمہ نے تصریح کی ہے۔

اِن میں چند حضرات یہ ہیں، علامہ علاء الدین قونوی، شارح حاوی، شیخ تاج الدین سبکی، کریم الدین آملی، خانقاہ صلاحیہ سعید السعداء کے شیخ، صفی الدین بن ابی منصور، عبدالغفار بن نوح الوصی، صاحب الوحید، عفیف یافعی، شیخ تاج الدین بن عطاء اﷲ ، سراج ملقن، برہان ابناسی، شیخ عبداﷲ منوفی اور اُن کے شاگرد خلیل مالکی، صاحب المختصر، ابوالفضل محمد بن ابراہیم تلمسانی مالکی اور دوسرے بہت سے علماء۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ: ج۱: ص۲۱۷)

اس کے بعد علامہ سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :

ائمہ نے اس کی توجیہ میں جو کچھ فرمایا ہے، اس کا خلاصہ تین امور ہیں :

۱۔ ایک شخص متعدد شکلوں اور صورتوں میں ظاہر ہوجاتا ہے جیسے کہ جنوں میں ہوتا ہے۔

۲۔ زمین اور مسافت سمیٹ دی جاتی ہے اور ایک ہی شخص کو دو افراد، اپنے اپنے گھروں میں دیکھتے ہیں، حالانکہ وہ ایک ہی جگہ ہوتا ہے، لیکن اﷲ تعالیٰ زمین کو سمیٹ دیتا ہے اور پردے اُٹھا دیتا ہے جو دیکھنے سے مانع ہوتے ہیں، اس طرح گمان کیا جاتا ہے کہ وہ شخص دو جگہوں میں موجود ہے، جب کہ وہ حقیقتہً ایک ہی جگہ ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ معراج شریف کی صبح حضور نبی اکرم ﷺ قریش کے سامنے بیت المقدس کا نقشہ بیان فرمارہے تھے، اس وقت آپ کے سامنے بیت المقدس پیش کیا گیا۔ اس حدیث کا بہترین محمل یہ ہے(کہ زمین سمیٹ دی گئی اور پردے اُٹھا دئیے گئے)

۳۔ ولی کا جسم اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ تمام کائنات کو بھر دیتا ہے، لہذا اِسے ہر جگہ دیکھا جاتا ہے، چنانچہ ملک الموت اور منکر نکیر کی بھی یہی شان بیان کی گئی ہے، فرزتہ ایک ہی وقت مشرق ومغرب میں مرنے والوں کی رُوح قبض کرتا ہے اور ایک ہی وقت میں دفن کرنے والوں سے سوال کرتا ہے۔ تینوں جوابوں میں سے یہ بہترین جواب ہے۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ: ج۱:ص۲۱۷۔۲۱۸)

علامہ ابن قیم لکھتے ہیں :

اس جگہ اکثر لوگ غلطی کرتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ جب اجسام ایک جگہ ہوں تو دوسری جگہ نہیں ہوسکتے، یہی حال روح کا ہے اور یہ محض غلط ہے، بلکہ رُوح آسمانوں کے اوپر اعلیٰ علیین میں ہوتی ہے، اسے قبر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، وہ سلام کا جواب دیتی ہے اور سلام کرنے والے کو جانتی ہے، اس کے باوجود وہ اپنی جگہ پر ہوتی ہے، رسول اﷲ ﷺ کی رُوح انور، رفیق اعلیٰ میں ہوتی ہے، اﷲ تعالیٰ اسے قبر کی طرف لوٹا دیتا ہے، وہ سلام کا جواب دیتی ہے اور سلام کرنے والے شخص کا کلام سنتی ہے۔

(علامہ ابن قیم جوزیہ : کتاب الروح: طبع دکن: ص۱۷۳)

امام علامہ عبدالوہاب شعرانی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

معراج کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ ایک جسم(شخص) ایک آن میں دو جگہ حاضر ہوگیا جیسے کہ نبی اکرم ﷺ نے اولادِ آدم کے نیک بخت افراد میں خود اپنی ذاتِ اقدس کو بھی ملاحظہ فرمایا، جب آپ پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ جمع ہوئے جیسے کہ اس سے پہلے گزرا، اسی طرح حضرت آدم وموسیٰ علیہما السلام اور دیگر انبیاء کرام کے ساتھ جمع ہوئے، بے شک وہ انبیاء کرام زمین میں اپنی قبروں میں بھی تشریف فرما تھے اور آسمانوں پر بھی جلوہ افروز تھے، حضور نبی اکرم ﷺ نے مطلقاً فرمایا کہ ہم نے حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کو دیکھا، یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی روح کودیکھا، پھر حضور نبی کریم ﷺ نے چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ گفتگو اور مراجعت فرمائی، حالانکہ وہ بعینہٖ زمین پر اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے جیسے کہ(مسلم شریف کی) حدیث میں وارد ہے۔

پس اے وہ شخص، جو کہتا ہے کہ ایک جسم (شخص)دو مکانوں میں نہیں ہوسکتا، اس حدیث پر تیرا ایمان کس طرح ہوسکتا ہے؟ اگر تو مومن ہے تو تجھے مان لینا چاہئے اور اگر تو عالم ہے تو اعتراض نہ کر، کیونکہ علم تجھے روکتا ہے، تجھے حقیقتِ حال کا علم نہیں ہے، حقیقۃً یہ علم اﷲ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔

تم یہ تاویل بھی نہیں کرسکتے کہ جو انبیاء کرام زمین میںہیں ، وہ ان انبیاء کرام کے مغایر ہیں، جو آسمان میں ہیں، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے مطلقاً فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، اسی طرح دوسرے انبیاء کرام جنہیں آپ نے آسمانوں میں دیکھا، تو نبی اکرم ﷺ نے جن کو موسیٰ فرمایا ، اگر وہ بعینہٖ حضرت موسیٰ علیہ السلام نہ ہوں، تو اُن کے متعلق یہ خبر دینا کہ وہ موسیٰ ہیں، جھوٹ ہوگا۔ (نعوذ باﷲ من ذالک)

(امام عبدالوہاب شعرانی: الیوقیت والجواہر: مصطفیٰ البابی، مصر: ج۲:ص۳۶)

حضرت امام شعرانی رحمہ اﷲ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں :

پھر معترض اولیاء کرام کے مختلف صورتوں میں ظاہر ہونے کا منکر ہے حالانکہ حضرت قضیب البان رحمہ اﷲ تعالیٰ جن صورتوں سے چاہتے تھے، موصوف ہوکر مختلف مقامات پر ہوتے تھے اور جس صورت میں آپ کو پکارا جاتا تھا، جواب دیتے تھے۔ بے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

(امام عبدالوہاب شعرانی: الیوقیت والجواہر: مصطفیٰ البابی، مصر: ج۲:ص۳۶)

علامہ سیّد محمود آلوسی بغدادی(م۱۲۷۰ھ) فرماتے ہیں :

جسے دیکھا جاتا ہے وہ یا تو حضور نبی اکرم ﷺ کی رُوح مبارک ہے جو تجرد اور تقدس میں تمام روحوں سے زیادہ کامل ہے، اس طرح کہ وہ rُوح مبارک ایسی صورت کے ساتھ متصف اور ظاہر ہوئی، جسے اس رؤیت کے ساتھ دیکھا گیا ہے، جب کہ اس روح انور کا تعلق حضور نبی اکرم ﷺ کے اس جسم مبارک کے ساتھ بھی برقرار ہے جو قبر مبارک میں زندہ ہے، جیسے کہ بعض محققین نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ، حضور نبی اکرم ﷺ کے سامنے حضرت دحیہ کلبی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یا کسی دوسرے شخص کی صورت میں ظاہر ہونے کے باوجود سدرۃ المنتہیٰ سے جُدا نہیں ہوتے تھے۔(بیک وقت دونوں جگہ موجود تھے)

یا مثالی جسم نظر آتا ہے جس کے ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کی مجرد اور مقدس روح متعلق ہے اور کوئی چیز اس امر سے مانع نہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے اجسام بے شمار ہوجائیں اور روح مقدس کا ہر ایک کے ساتھ تعلق ہو، اﷲ تعالیٰ کی لاکھوں رحمتیں اور تحائف ان میں سے ہر جسم کے لئے اور یہ تعلق ایسا ہی ہے جیسے ایک رُوح کا ایک جسم کے اجزاء سے ہوتا ہے۔

اس بیان سے اس قول کی وجہ ظاہر ہوجاتی ہے جو شیخ صفی الدین منصور اور شیخ عبدالغفار نے حضرت شیخ ابوالعباس طنجی سے نقل کیا، اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے آسمان، زمین اور عرش وکرسی کو رسول اﷲ ﷺ سے بھرا دیکھا۔

نیز اس بیان سے یہ سوال بھی حل ہوجاتا ہے کہ متعدد لوگ ایک ہی وقت میں دور دراز مقامات پر رسول اﷲ ﷺ کو کس طرح دیکھ سکتے ہیں؟ اس بیان کے ہوتے ہوئے اس جواب کی ضرورت نہیں رہتی جس کی طرف بعض بزرگوں نے اشارہ کیا ہے، ان سے اس دیدار کے بارے میں سوال کیا گیا تو اُنہوں نے یہ شعر پڑھا ؎

کالشمس فی کبد السماء وضوئُ ھا یغشی البلاد مشارقاً ومغارباً

(حضور نبی اکرم ﷺ آسمان کے وسط میں پائے جانے والے سورج کی طرح ہیں، جس کی روشنی مشرق اور مغرب کے شہروں کو ڈھانپ رہی ہے)۔

(علامہ سیّد محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی: ج۲۲: ص۳۵)

امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

جب جنات کو اﷲ تعالیٰ کی عطا ء سے یہ قدرت حاصل ہوتی ہے کہ وہ مختلف شکلوں کے ساتھ متشکل ہوکر عجیب وغریب کام کرلیتے ہیں، اگر کاملین کی روحوں کو یہ قدرت عطا فرمادیں، تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے اور دوسرے بدن کی کیا حاجت ہے؟

اس سلسلے کی کڑی وہ واقعات ہیں، جو بعض اولیاء کرام سے منقول ہیں کہ وہ ایک ہی آن میں متعدد مقامات میں حاضر ہوتے ہیں اور مختلف کام انجام دیتے ہیں، ان کے لطائف مختلف(مثالی) اجسام کی صورت میں متجسم ہوجاتے ہیں اور مختلف شکلیں اختیار کرلیتے ہیں۔

اسی طرح اس بزرگ کا واقعہ ہے جو ہندوستان کے رہنے والے ہیں اور کبھی اپنے ملک سے باہر نہیں گئے، اس کے باوجود ایک جماعت مکہ مکرمہ سے آتی ہے اور کہتی ہے کہ ہم نے اس بزرگ کو حرم کعبہ میں دیکھا ہے اور اُن سے یہ یہ باتیں ہوئی ہیں، ایک دوسری جماعت کہتی ہے کہ ہم نے انہیں روم میں دیکھا ہے، تیسری جماعت نے انہیں بغداد میں دیکھا ہے۔

یہ سب اس بزرگ کے لطائف ہیں جو مختلف شکلوں میں جلوہ گر ہوتے ہیں، بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس بزرگ کو ان تشکلات کی اطلاع نہیں ہوتی…

اسی طرح حاجت مند لوگ زندہ اور وصال یافتہ بزرگوں سے خوف اور ہلاکت کے مقامات میں امداد طلب کرتے ہیں، تو دیکھتے ہیں کہ ان بزرگوں کی صورتیں حاضر ہوتی ہیں اور ان سے مصیبتیں دُور کرتی ہیں، بعض اوقات اِن بزرگوں کو مصیبت دُور کرنے کی اطلاع ہوتی ہے اور بعض اوقات نہیں ہوتی، یہ بھی دراصل ان بزرگوں کے لطائف متشکل ہوتے ہیں، اور یہ تشکل کبھی عالم شہادت میں ہوتا ہے اور کبھی عالم مثال میں۔

چنانچہ ہزار افراد ایک ہی رات ، خواب میں حضور نبی اکرم ﷺ کی مختلف صورتوں میں زیارت کرتے ہیں اور بہت سے فائدے حاصل کرتے ہیں، یہ سب آپ کی صفات اور آپ کے لطائف ہوتے ہیں، جو مثالی صورتوں سے متشکل ہوتے ہیں۔

اسی طرح مرید اپنے پیروں کی مثالی صورتوں سے فوائد حاصل کرتے ہیں اور پیرانِ کرام ان کی مشکلات حل کرتے ہیں۔

(امام ربانی شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی: مکتوبات امام ربانی(فارسی): دفتر دوم: حصہ ہفتم: مطبوعہ رؤف اکیڈمی، لاہورص۲۷)

امام علامہ شیخ علی نور الدین حلبی صاحبِ سیرت حلبیہ(متوفی ۱۰۴۴ھ) نے ایک رسالہ لکھا ہے تعریف اھل الاسلام والایمان بان محمد ﷺ لا یخلو منہ مکانٌ ولازمانٌ (اہل اسلام وایمان کو بتایا گیا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺسے کوئی زمانہ اور کوئی جگہ خالی نہیں ہے) ، ہر جگہ آپ کی جلوہ گری ہے۔ یہ رسالہ امام یوسف بن اسماعیل نبہانی نے ’’جواہر البحار‘‘ کی دوسری جلد میں صفحہ ۱۱۱ سے ۱۲۵ تک نقل کردیا ہے۔

حضرت حاجی محمد امداد اﷲ مہاجر مکی رحمہ اﷲ تعالیٰ جو علماء دیوبند کے بھی پیرو مرشد ہیں، فرماتے ہیں :

’’البتہ وقت قیام کے اعتقاد تولد کا نہ کرنا چاہئے، اگر احتمال تشریف آوری کا کیا جاوے، مضائقہ نہیں، کیونکہ عالم خلق مقید بزمان ومکان ہے لیکن عالم امر دونوں سے پاک ہے، پس قدم رنجہ فرمانا ذات بابرکات کا بعید نہیں ‘‘۔

(حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی: شمائم امدادیہ: قومی پریس، لکھنؤ: ص۳)

یاد رہے کہ یہ کتاب مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کی مصدقہ ہے۔

علامہ سیّد محمد علوی مالکی مکی اپنی معرکۃ الآرا تصنیف’’الذخائر المحمد یہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی روحانیت ہر مکان میں حاضر ہے، آپ کی رُوحانیت ، خیر اور فضیلت کے مقامات اور محفلوں میں حاضر ہوتی ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ رُوح بحیثیت رُوح کے برزخ میں مقید نہیں ہے، بلکہ آزاد ہے اور ملکوتِ الٰہی میں سیر کرتی ہے… برزخ میں رُوح کے آزاد ہونے اور سیر کرنے کی دلیل، حدیث صحیح میںحضور نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے :

مومن کی روح ایک پرندے کی طرح ہے، جہاں چاہتی ہے سیر کرتی ہے۔

یہ حدیث امام مالک نے روایت کی ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ کی رُوح مبارک تمام رُوحوں سے زیادہ کامل ہے، اس لئے حاضر اور شاہد ہونے میں بھی سب سے زیادہ کامل ہے۔

(علامہ سیّد محمد بن علوی مالکی: الزخائر المحمدیہ: مطبعۃ حسان، قاہرہ: ص۲۵۹)

غیر مقلدین کے امام نواب وحیدالزماں، صحاح ستہ کے مترجم کہتے ہیں :

میں کہتا ہوں کہ بیان سابق سے وہ شبہ دُور ہوجاتا ہے جسے کم فہم لوگ پیش کرتے ہیں اور یہ کہ صالحین کی قبروں کی زیارت کرکے اُن کی رُوحوں سے فیوض وبرکات، دل کی ٹھنڈک اور انوار کس طرح حاصل کئے جاسکتے ہیں، جب کہ اُن کی رُوحیں اعلیٰ علیین میں ہیں، جواب یہ ہے کہ رُوح از قبیل اجسام نہیںہے، اجسام کی یہ صفت ہے کہ جب وہ ایک مکان میں ہوں ، تو دوسرے مکان میں موجود نہیں ہوسکتے(بخلاف روح کے کہ وہ دو مکانوں میں موجود ہو سکتی ہے) اور اگر مان لیا جائے کہ روح ایک ہی مکان میں موجود ہوسکتی ہے، تو اُس کی تیز رفتاری کی بناء پر اُس کے لئے آسمان کی طرف چڑھنا اور پھر وہاں سے اُترنا، اور زائر کی طرف متوجہ ہونا، پلک جھپکنے کی بات ہے۔

(نواب وحید الزماں : ہدیۃ المہدی(اسلامی کتب خانہ، سیالکوٹ): ص۶۳)

دو سطروں کے بعد انہوں نے تصریح کردی ہے کہ روح اﷲ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور ایک وقت میں دو جگہوں پر موجود ہوسکتی ہے۔

ا لبریلو یہ کے مو ٔلف کی قسا وت اور غلط بیا نی

گزشتہ صفحات میں قرآن وحدیث اور ارشاداتِ ائمہ کی روشنی میں مسئلہ حاضر وناظر مختصر طور پر بیان کیا ہے، اگر زحمت نہ ہو تو ان ائمہ کرام کے اسماء مبارکہ پر ایک نظر ڈال لیجئے :

حضرت عبداﷲ بن عمر(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) ، امام المحدثین حضرت عمرو بن دینار، امام بیہقی، امام غزالی، امام رازی، امام قرطبی، امام علاء الدین خازن، امام ابن الحاج، امام بدرالدین عینی، امام راغب اصفہانی، علامہ ابن حجر عسقلانی، علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی، امام جلال الدین سیوطی، امام ربانی مجدد الف ثانی، حضرت ملاعلی قاری، امام عبدالوہاب شعرانی، علامہ سیّد محمود آلوسی بغدادی، علامہ اسمٰعیل حقی، شیخ نورالدین حلبی، شیخ محقق شاہ عبدالحق محدّث دہلوی، شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی، شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی،حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی، علامہ سیدّعلوی مالکی، علامہ عبدالحی لکھنوی(رحمہم اﷲ تعالیٰ)

ایک طرف اِن حضرات کے ارشادات پیش نظر رکھئے اور دوسری طرف شقاوت قلبی کا یہ مظاہرہ بھی دیکھئے۔ ظہیر کہتے ہیں :

यह عقائد ہیں خرافات اور بدعت میں مبتلا مشرکوں کے، جنہیں پاک وہند کے علاوہ اسلامی غیر اسلامی ممالک میں شیطان نے گمراہ اور اغوا کیا ہے۔

(احسان الٰہی ظہیر : البریلویۃ(عربی): ص۱۱۲)

اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ غیر مقلدین، بریلویت کی آڑ لے کر دنیا بھر کے مسلمانوں اور ملت اسلامیہ کے مسلم اور مقتدر ائمہ کرام کو اہل بدعت اور مشرک قرار دیتے ہیں، ان سے کوئی شخص اتنا ہی پوچھ لے کہ شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی کو تو امام تم بھی جانتے اور مانتے ہو، کیا انہیں بھی مشرکین کی فہرست میں شامل کروگے؟ نیز کیا نواب صدیق حسن خاں کو بھی مشرکین کی صف میں کھڑا کروگے، جو یہ کہتے ہیں :

بعض عارفوں نے فرمایا کہ یہ خطاب(السلام علیک ایھا النبی) اس بنا ء پر ہے کہ حقیقت محمدیہ موجودات کے ذرّوں اور افراد ممکنات میں جاری وساری ہے، پس آنحضرت ﷺ نمازیوں کی ذات میں موجود اور حاضر ہیں۔ (نواب صدیق حسن خاں بھوپالی : مسک الختام شرح بلوغ المرام:طبع لکھنؤ:ج۱:ص۲۴۴)

نواب وحید الزماں کے بارے میں کیا کہو گے؟ جو یہ کتے ہیں :

رُوح از قبیل اجسام نہیں ہے، اجسام کی یہ صفت ہے کہ جب وہ ایک مکان میں ہوں، تو دوسرے مکان میں موجود نہیں ہوسکتے۔

(نواب وحید الزماں: ہدیۃ المہدی:طبع سیالکوٹ: ص۶۳)

کیا اس عبارت کا صاف مطلب یہ نہیں ہے کہ رُوح ایک سے زائد جگہوں پر موجود ہو سکتی ہے؟ اِن پر کیا فتویٰ لگائو گے؟

بریلوی ، اہل سنت کا علامتی نشان

احسان الٰہی ظہیر کے فتووں اور سب وشتم کا تمام تر رُخ علماء اہل سنت وجماعت کی طرف ہے، البتہ مصلحت کے پیش نظر وہ انہیں بریلوی کا نام دیتے ہیں، درج ذیل سطور میں اہل سنت وجماعت کے ائمہ کرام کے وہ ارشادات پیش کئے جاتے ہیں، جنہیں ظہیر صاحب نے اہل سنت اور بریلوی کو ایک دوسرے کا مترادف سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک وہند میں اہل سنت وجماعت کے مخالفین نے انہیں بریلوی کا نام دیا تاکہ ظاہر ہو کہ یہ نیا فرقہ ہے اور یہ لوگ آسانی کے ساتھ اہل سنت کو گالیاں سکیں اور کوئی شخص ان کے اس ظلم پر گرفت نہ کرے، حالانکہ بریلوی ہر گز کو ئی فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ پوری استقامت کے ساتھ مسلکِ اہل سنت وجماعت پر قائم ہیں۔

ذیل میںائمہ دین کے وہ ارشادات ملاحظہ ہوں جنہیں ظہیر نے بریلویوں کے اقوال قراردیا ہے۔

۱۔ امام علامہ شیخ علی نورالدین حلبی(م۱۰۴۴ھ) نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس کے نام کا اُردو ترجمہ یہ ہے :

’’اہل اسلام وایمان کو بتایا گیا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے کوئی زمانہ اور کوئی جگہ خالی نہیں ہے‘‘۔ ملاحظہ ہو ’’جواہر البحار‘‘ از شیخ یوسف بن اسماعیل نبہانی فلسطینی:جلددوم(عربی):ص۱۱۱تا۱۲۵

۲۔ شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ، حضور نبی اکرم ﷺ کے روضۂ عالیہ پر حاضر ہوئے تو انہیں کشف میں حضور سرور عالم ﷺ کی زیارت ہوئی، اُن کا بیان ہے :

یہاں تک کہ میں خیال کرتا تھا کہ تمام فضا رسول اﷲ ﷺ کی رُوح مقدس سے بھری ہوئی ہے۔

(شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی: فیوض الحرمین، ص۷۳)

۳۔ علامہ سیّد محمود آلوسی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

یا مثالی جسم نظر آتا ہے، جس کے ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کی مجرد اور مقدس رُوح متعلق ہے اور اس سے کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے بے حدوحساب مثالی اجسام ہوجائیں۔

(علامہ سیّد محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی:ج۲۲:ص۳۵)

۴۔ امام غزالی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

رسول اﷲ ﷺ کو ارواحِ صحابہ سمیت تمام عالم میں سیر کرنے کا اختیار ہے، بہت سے اولیاء کرام نے آپ کی زیارت کی ہے۔

(امام اسماعیل حقی: تفسیر روح البیان:ج۱۰:ص۹۹)

۵۔ حضرت ملا علی قاری رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

اولیاء کرام سے بعید نہیں ہے ، اُن کے لئے زمین لپیٹ دی گئی ہے، اور انہیں متعدد(مثالی) اجسام حاصل ہیں، جنہیں ایک آن میں مختلف جگہوں پر پایا گیا ہے۔

(علامہ علی بن سلطان محمد القاری: مرقاۃ المفاتیح: ج۴:ص۳۱)

۶۔ حضرت عمروبن دینار کا ارشاد ہے کہ جب آدمی خالی گھر میں داخل ہو تو کہے السلام علی النبی ، حضرت ملا علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں :

’’اس لئے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی رُوح مبارک مسلمانوں کے گھروں میں حاضر ہے‘‘۔

(علامہ علی بن سلطان محمد القاری:شرح شفاء : طبع مدینہ منورہ:ج۳:ص۴۶۴)

۷۔ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالیٰ رسالہ مبارکہ’’انباء الاذکیاء‘‘ میں فرماتے ہیں کہ عالمِ برزخ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی کچھ مصروفیات اس طرح کی ہیں :

’’ اپنی اُمت کے اعمال ملاحظہ فرماتے ہیں، ان کے گناہوں کے لئے دُعائے مغفرت کرتے ہیں، ان کی مصیبتوں کے دُور ہونے کی دُعا کرتے ہیں، زمین کے اطراف میں برکت عطا کرنے تشریف لے جاتے ہیں، اُمت کے ولی فوت ہونے پر اس کے جنازہ پر تشریف لے جاتے ہیں، برزخ میں آپ کی مصروفیات یہ ہیںجیسے کہ اس سلسلے میں احادیث اور آثار وارد ہیں‘‘۔

(امام عبدالرحمن ابی بکر سیوطی: الحاوی للفتاویٰ:طبع بیروت:ج۲:ص۱۵۲)

۸۔ حضرت علامہ اسماعیل حقی مفسر رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’ آپ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ملاحظہ فرمائی… آپ نے ان کی پیدائش، اعزاز واکرام کا مشاہدہ کیا اور خلاف ورزی کی بناء پر جنت سے نکالا جانا ملاحظہ فرمایا‘‘۔

(امام اسماعیل حقی: تفسیر روح البیان:طبع بیروت:ج۲: ص۱۸)

یہ پوری عبارت گزشتہ صفحات میں پیش کی جاچکی ہے۔

۹۔ علامہ سیّد محمود آلوسی بغدادی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’حضور نبی اکرم ﷺ کے وصال مبارک کے بعد اس اُمت کے بہت سے کاملین کو بیداری میں آپ کی زیارت کا شرف حاصل ہوااور انہوں نے آپ سے استفادہ کیا‘‘۔

     (علامہ سیّد محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی: ج۲۲:ص۳۵) 

۱۰۔ امام علامہ جلال الدین سیوطی، پھر علامہ سید محمود آلوسی اور علامہ عمر بن سعید الفوتی الطوری فرماتے ہیں :

’’ان نقول اور احادیث کے مجموع سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضور نبی اکرم ﷺ اپنے جسم اور رُوح مبارک کے ساتھ زندہ ہیں اور اطراف ِ زمین اور ملکوتِ اعلیٰ میں جہاں چاہتے ہیں تصرف اور سیر فرماتے ہیں‘‘۔

(امام عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی : الحاوی للفتاویٰ: ج۲:ص۲۶۵)

(علامہ سیّد محمود آلوسی: تفسیر روح المعانی: ج۲۲:ص۳۷)

(علامہ عمر بن سعید الفوتی: رماخ حزب الرحیم علیٰ نحور حزب الرجیم: طبع بیروت: ج۱: ص۲۳۰)

۱۱۔ امام علامہ ابن الحاج ، پھر امام قسطلانی فرماتے ہیں :

’’حضور نبی اکرم ﷺ اپنی اُمت کو ملاحظہ فرماتے ہیں، اُن کے احوال، نیتوں، عزائم اور خیالات کو جانتے ہیںاور اس سلسلے میں آپ کی حیاتِ مبارکہ اور وصال میں کوئی فرق نہیں‘‘۔

(امام ابن الحاج: المدخل، طبع بیروت: ج۱:ص۲۵۲) (امام احمد بن محمد قسطلانی: مواہب لدنیہ مع زرقانی: مطبعۃ عامرہ، مصر:ج۸:ص۳۴۸)

یہ ہیں وہ اقوال جو احسان الٰہی ظہیر نے اپنی دانست میں اس انداز سے بیان کئے ہیں کہ بریلوی یوں کہتے ، اپنے اماموں سے یوں نقل کرتے ہیں، اپنے جیسے لوگوں سے یوں نقل کرتے ہیں، پھر آخر میں کہا کہ یہ مشرکوں، بدعتیوں اور خرافات میں مبتلا لوگوں کے عقائد ہیں۔

(ظہیر: البریلویۃ(عربی):ص۱۱۲)

اس کا کھلم کھلا مطلب یہ ہے کہ امام غزالی ، امام ابن الحاج، امام سیوطی، حضرت ملا علی قاری، علامہ اسماعیل حقی، علامہ شہاب الدین قسطلانی اور علامہ سید محمود آلوسی جو مسلم اُمہ کے نزدیک مسلم شخصیات ہیں، سب مشرک اور بدعتی ہیں، بلکہ غیر مقلدین کے نزدیک وہ تمام علماء اور ائمہ بدعتی اور مشرک ہیں، جن کے حوالے اس سے پہلے گزر چکے ہیں، سچی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے سوا سب کو مشرک اور بدعتی قرار دیتے ہیں، نعوذ باﷲ من ذالک۔

ایک مغا لطہ

گزشتہ صفحات میں بیان کیا جاچکا ہے کہ نظریۂ حاضرو ناظر نبی اکرم ﷺ کی بشریت اور خاص جسم اقدس کے اعتبار سے نہیں ، بلکہ نورانیت اور روحانیت کے اعتبار سے ہے۔ احسان الٰہی ظہیر نے اس نکتے کو نہیں سمجھا اور یہ اعتراض کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ حجرۂ شریفہ میں تشریف فرما ہوتے تھے اور صحابہ کرام مسجد میں آپ کا انتظار کیا کرتے تھے، اسی طرح فلاں جگہ ہوتے تھے اور فلاں جگہ نہیں ہوتے تھے۔

(ظہیر: البریلویۃ(عربی):ص۱۱۱)

اسی طرح اس نظرئیے کو قرآن پاک کے مخالف قرار دیتے ہوئے متعدد آیات پیش کی ہیں، مثلاً ارشاد ربانی ہے : وَمَا کُنْتَ بِجَا نِبِ الطُّوْرِ (سورہ القصص ، آیت ۴۵)

ترجمہ ۔ ’’ اور آپ طُور کے کنارے پر نہ تھے‘‘۔

اور یہ نہ سمجھا کہ یہ سب کچھ خاص جسم اقدس کے اعتبار سے تھا، ورنہ آپ کی روحانیت ہر جگہ جلوہ گر ہے۔ علامہ تفتا زانی، بحث تکوین میں فرماتے ہیں :

’’ صاحبِ عقل کو چاہئے کہ ایسے مسائل میں غور کرے اور راسخ العلم علماء اصو۳ل کی طرف ایسی بات منسوب نہ کرے جس کا محال ہونا بدیہی اور معمولی عقل وشعور رکھنے والے پر ظاہر ہو، بلکہ ان کے کلام کا ایسا محل تلاش کرے، جس میں علماء اور عقلاء کے اختلاف کی گنجائش ہو‘‘۔

(علامہ مسعودبن عمر تفتازانی: شرح عقائد: طبع لکھنؤ: ص۵۴)

مشہور عارف باﷲ علامہ احمد بن محمد صاوی (م۱۲۴۱ھ) اسی آیۂ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں :

’’یہ دشمن پر حجت قائم کرنے کے لئے عالمِ جسمانی کے پیش نظر ہے، روحانی عالم کے اعتبار سے تو آپ ہر رسول کی رسالت کے لئے اور جو کچھ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے جسم شریف کے ظاہر ہونے تک واقع ہوا، سب کے لئے حاضر ہیں، لیکن اہل عناد سے یہ بات نہیں کہی جائے گی‘‘۔

(علامہ احمد بن محمد الصاوی المالکی: مطبوعہ مصطفیٰ البابی، مصر ۱۹۴۱ء: ج۳:ص۲۰۶)

امام احمد رضا سنی حنفی بریلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’جو شخص ایسے مسئلہ کو جو قرآن وحدیث سے صحیح وارشاداتِ علماء سے ثابت ہے کفر کہے، وہ اپنے اسلام کی خبر لے‘‘۔

(امام احمد رضا بریلوی: فتویٰ نادرہ: مطبوعہ غوثیہ کتب خانہ، لاہور:ص۱۶)

اختلاف کی بنیاد

عوام وخواص التحیات میں صیغۂ خطاب کے ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں سلام عرض کرتے ہیں، نماز کے علاوہ مصائب کے وقت، اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کا وسیلہ پیش کرنے کے لئے’’یا رسول اﷲ‘‘ کہتے ہیں ، مولوی اسمٰعیل دہلوی نے ان پر سخت ردّ کیا اور لکھا :

’’اور مشکل کے وقت پکارنا اور ہر جگہ حاضر ناظر سمجھنا اور قدرت تصرف کی ثابت کرنی، سو ان باتوں سے شرک ثابت ہوجاتا ہے گو کہ پھر اُس کو اﷲ سے چھوٹا ہی سمجھے اور اسی کا مخلوق اور اسی کا بندہ‘‘۔

(محمد اسمٰعیل دہلوی : تقویۃ الایمان: مطبع فاروقی ، دہلی: ص۸)

علماء اہل سنت نے اس کا ردّ کیا اور بتایا کہ عامۃ المسلمین کا مقصد کیا ہے، اس پر قرآن وحدیث اور سلف صالحین ائمہ کے ارشادات سے دلائل پیش کئے، جن میں کچھ دلائل گزشتہ صفحات میں پیش کئے گئے ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ انہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔

آخر میں جمعیۃ علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری ، مولانا فضل الرحمن کا بیان بھی ملاحظہ ہو، موصوف دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے زیر بحث مسئلے کے متعلق بڑی معقول اور فیصلہ کُن بات کہی ہے، انہوں نے ایک انٹر ویو میں کہا :

’’اگر حضور اکرم ﷺ کو اﷲ کا نور سمجھ کر ہر جگہ سمجھا جائے، تو کوئی جھگڑا نہیں، اور جسم مبارک کو ہر جگہ جانا جائے تو یہ مسئلہ علمائے بریلی بھی بیان نہیں کرتے، تو پھر جھگڑا کس بات پر ہے‘‘۔

(پندرہ روزہ ’’ندائے ملت‘‘ : شمارہ ۱۶ ؍تا ۳۰؍ جون ۱۹۹۳ء: ص۵)

سچی بات یہ ہے کہ اگر اسی انصاف اور دیانت سے کام لیا جائے تو اہل سنت وجماعت کے تمام عقائد اور معمولات پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ وما ذٰلک علی اﷲ بعزیز۔